Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • بس بات میری سمجھ میں آ گئی — ہمایوں تارڑ

    بس بات میری سمجھ میں آ گئی — ہمایوں تارڑ

    میں نے دیکھا ۔۔۔ کہ ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے کچھ بونس پوائنٹس یا coins وغیرہ کی آفر ملتی ہے۔ اُنہیں پاکٹ کر لینے سے آپ کی قوت و طاقت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اِس اضافی قوت کے استعمال سے آپ کوئی بڑی گھاٹی، بڑی رکاوٹ زیادہ بڑا جمپ لے کر عبور کر جاتے ہیں۔

    پرسوں رات کیا ہوا؟ ۔۔۔ میرے بڑے بھائی لاہور سے اسلام آباد سفر کے دوران ایک جان لیوا حادثے میں بال بال بچ گئے۔

    یہاں پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی کے آس پاس والے علاقے میں ایک جگہ سڑک زیرِ تعمیر ہے۔ ایک جگہ road divider کا کچھ حصہ ایسی ایبنارمل حالت میں پڑا ہے کہ وہاں ہر روز ایک نیا حادثہ جنم لیتا ہے۔

    اندھیرے میں میرے بھائی کی گاڑی کا ٹائر بھی ذرا سا سلِپ ہو کر اوپر چڑھا تو گاڑی بے قابو ہو کر ڈِیوائیڈر پر چڑھ دوڑی۔ اب قریب تھا کہ گاڑی وَن وے سڑک کے دوسری جانب اتر کر فاسٹ ٹریک پر چڑھ جاتی اور بیسیوں تیز رفتار گاڑیاں اُس کا کچومر بنا دیتیں، گاڑی یکلخت رُک گئی۔ رکتے ہی، حیرت انگیز طور، کوئی پانچ درجن افراد نے گاڑی کو گھیر لیا۔ یعنی مدد اور حال احوال پوچھنے کی غرض سے۔

    بھائی کہتے ہیں، پہلے تو میں یہ دیکھ کر حیران کہ رات گئے اتنے لوگ ! ۔۔۔ وہ بھی ایکدم سے!! ۔۔۔ اور دردمندی کا ایسا اظہار، اور پھر گاڑی نکال لے جانے میں مدد۔۔!! ۔۔۔ بتایا گیا، "آپ سے پہلے ہم دو ڈَیڈ باڈیز اٹھا چکے ہیں۔ اُن دونوں حضرات کی گاڑیاں بھی مکمل تباہ ہو گئی تھیں۔ حیرت ہے آپ کو خراش تک نہیں آئی، اور آپکی گاڑی بھی صحیح سلامت۔ ورنہ اِس صورتحال میں بچت کا امکان تقریباً صفر برابر ہے۔”

    میں نے بھائی سے پوچھا آپ یہاں اسلام آباد وارد ہونے سے قبل لاہور کیا لینے گئے تھے، کس کام سے؟

    جواب ملا، ماموں کے جس بیمار بیٹے کا لاہور سے علاج کروایا تھا، لاہور میں ہی اس کی جاب کروا دی تھی۔ اب مہینہ بھر گذر چکا تو اُسے گھر والوں سے ملوانے خود لاہور سے لا کر گاؤں میں ڈراپ کیا تھا۔ ساتھ میں اُن کے گھر تیس چالیس ہزار روپے کا راشن بھی ڈال آیا کہ مہنگائی بہت ہے ۔۔۔

    بس بات میری سمجھ میں آ گئی۔

    کتابِ تقدیر میں درج شیڈول کے مطابق قضا نے اپنا پنجہ مار کر بھائی کو اُچک لینا چاہا تھا۔ مگر "ویڈیو گیم پلیئر” نے راستے میں میسر آئے کچھ بیش قیمت coins پاکٹ کر رکھے تھے۔ چنانچہ گیم پلئیر اپنی اضافی قوت سے تقدیر کی بچھائی اِس موت کی گھاٹی کو بڑا جمپ لے کر عبور کر گیا تھا۔

    ایک بار پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کی زبان سے سنا کہ تقدیر کوئی اتنی بھی اٹل شے نہیں ہے۔ شطرنج کی بساط کی طرح اِدھر سے اُدھر ہو جانے والے راستے موجود ہیں۔ اِن کے واضح اشارات قرآن و حدیث میں ہمیں مل جاتے ہیں۔ جیسے ایک حدیثِ رسولؐ کے مطابق اگر کسی شخص کی رخصتی کا وقت قریب آن پہنچا ہے مگر اُس کی زندگی کے حق میں ڈھیر سارے لوگ مل کر دُعا کر دیں تو ایسی دُعا کو honour کیا جاتا ہے۔ اُس شخص کے حق میں ایکسٹینشن دے دی جاتی ہے ۔۔۔ تو گویا یہ بھی coins مل جانے والا معاملہ ہوا۔

    بنی اسرائیل کی اُس فاحشہ عورت نے کنویں کنارے پیاس سے ہانپتے کتے کو پانی پلایا تھا۔ اپنے جوتے کو ڈول بنا کر کنویں میں اتارا، پانی بھر کر باہر لائی، پانی پلایا ۔۔۔ اس کے عوض اُسے بہشت والی گاڑی کا ٹکٹ تھما کر بہشتی گاڑی میں بٹھا دیا گیا ۔۔۔۔ تو گویا یہ بھی coins مل جانے والا معاملہ ہوا۔

    بس نظر رکھیں، ایسے coins ہمارے گردوپیش میں بکھرے پڑے ہیں۔ یہ کبھی ہمارے دروازے پر براہ راست دستک دیتے ہیں، تو کبھی راستے میں پڑے ملیں گے ۔۔۔ گاہے فون پر کوئی اطلاع ملنے کی صورت ۔۔۔ کمفرٹ زون سے قدرے باہر آ کر اِنہیں اُچک لینا ضروری ہے۔

  • سندھ کے سکولوں میں کلچرل ڈے منیایاگیا،رنگارنگ پروگرام منعقد کئے گئے

    سندھ کے سکولوں میں کلچرل ڈے منیایاگیا،رنگارنگ پروگرام منعقد کئے گئے

    سندھ کے سکولوں میں کلچرل ڈے منیایاگیا،رنگارنگ پروگرام منعقد کئے گئے
    کندھ کوٹ سے مختیار اعوان کی رپورٹ کے مطابق کندھ کوٹ کے علاقے غوث پور کے پرائمری اسکول میں سندھی کلچر ڈے پروگرام منعقد کیا گیا پروگرام میں اساتذہ طلبہ وہ طالبات کے ساتھ دیگر لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ثقافتی پروگرام میں ٹوپی اور اجرک پہن کر طلبہ اور طالبات نے سندھی گیتوں پر رقص کیا ثقافتی تقریب میں آئے ہوئے مہمانوں کو سندھ کی ثقافت ٹوپی اور اجرک کے تحفے دیئے گئے اس موقع پر تقریب کے شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ سندھ کی ثقافت ٹوپی اور اجرک پانچ ہزار سال پرانی تہذيب ہے سندھی قوم اپنے روایات برقرار رکھی ہوئی ہے اور ہمیشہ کے لیے یہ کلچرل ڈے کو عید کی طرح منایا جاتا ہے، سندھ کی ثقافت ٹوپی اور اجرک سندھی لوگوں کی پھچان ہے ہم سندھی قوم اپنی پھچان دنیا کو بتاتے ہوئے آئے ہیں۔

    ٹھٹھہ سے نامہ نگار راجہ قریشی کی رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اگھیمانی سے ثقافتی دن کی ریلی نکالی گئی، ریلی میں ڈیسنٹ پبلک ھائی سکول داتار نگر پیر جو گوٹھ ۔گورمنٹ بوائز ہائی سکول اگھیمانی ۔گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول محمد جمن ولھاری کے اساتذہ اور طلباہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس کے علاوہ بگھاڑموری کے عوام نے بہی ریلی میں شرکت کی، ریلی ہائی سکول سے نکالی گئی اور بگھاڑ اسٹاپ پر اختتام پزیر ہوئی، ریلی میں سکول کے طلباہ اور اساتذہ نے سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنےکے لئے تقریریں کی گئیں،مختلف اسکولوں کے اساتذہ ۔امیر محمد ولھاری۔محمد الیاس میمن۔ یار محمد ملاح۔ جمال ناصر میمن۔ نیاز احمد میمن۔ جمیل میمن۔شھزاد میمن۔ عبدالرحمان عباسی۔ انور میمن ۔طفیل میمن۔عبدالرحمن شورو۔ منیر ولھاری ۔حسن علی شورو اور سماجی دوست غلام نبی چوہان ۔غلام میرانخور۔منیر میرانخور ۔سینئر صحافی ملک منظور خاصخیلی سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی.

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    2 دسمبر کو ہم متحدہ عرب امارات کا قومی دن منانے کے لیے تیار ہیں! اس سال۔ آئیے اس اہم دن کی تاریخی نسبت کو یاد کریں اور ان لوگوں کا احترام کریں جو متحدہ عرب امارات کی تشکیل کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ آئیے اس دن کی تاریخی اہمیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ:
    متحدہ عرب امارات ہمیشہ اتنا طاقتور ملک نہیں تھا جتنا آج ہے۔ درحقیقت یہ ملک مختلف قبائل کے جھگڑوں کی بدولت مختلف ریاستوں میں تقسیم اور بکھرا ہوا تھا۔ 1820 میں، برطانیہ اس ملک کے تاریخی منظر میں داخل ہوا اور تحفظ دینے کے وعدے پر اس سر زمین کا کچھ کنٹرول مانگا۔ امن کے لیے بے چین، متعدد قبائل نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور برطانیہ کو اپنے تنازعات کو حل کرنے کا ذمہ دار بنا دیا۔ لیکن 1968 میں، برطانیہ نے جنگ عظیم اول اور دوم کے بعد ہوئے مالی نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد خود کو اس ملک کے منظر سے ہٹا دیا۔

    منظر نامے سے برطانیہ کے نکلنے کے بعد ابوظہبی، دبئی، عجمان، العین، شارجہ اور ام القوین کے حکمرانوں نے متحد ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2 دسمبر 1971 کو امارات نے برطانیہ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور متحدہ عرب امارات (UAE) بن گیا۔ بعد میں، راس الخیمہ ساتویں امارت نے بھی اس یونین میں شمولیت اختیار کی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بہترین حصہ کیا ہے؟ یہ انضمام اور نوآبادیاتی راج سے ان کی آزادی بغیر کسی تشدد کے حاصل کی گئی تھی!

    سات امارات کے اتحاد اور متحدہ عرب امارات کے اعلان کو نشان زد کرنے کے لیے، متحدہ عرب امارات کا جھنڈا جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج بلند کیا گیا، اور متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر کا انتخاب کیا گیا — شیخ زید بن سلطان النہیان, شیخ زید ابوظہبی کے امیر تھے اور سات امارات میں سب سے امیر تھے۔ آج، متحدہ عرب امارات کو ایک درمیانی طاقت اور ایک بااثر قوم کے طور پر پہچانا جاتا ہے جس کی ترقی کرتی ہوئی معیشت، تیل کے ذخائر، دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد اور دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے کچھ اس کی پہچان ہے۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کے تمام شہری تسلیم کرتے ہیں کہ آج جو طاقت ان کے پاس ہے وہ صرف اس وجہ سے موجود ہے کہ ساتوں امارات نے 1971 میں متحد ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ایک تاریخی موقع ہے جو اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تشکیل کیسے ہوئی۔ اس دن کو منانا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس قوم کی تاریخ یاد دلائی جائے جس میں وہ رہتے ہیں۔ ماضی کو یاد کرنے سے اکثر نوجوانوں کے دلوں میں وطن کے لیے محبت پیدا ہوتی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کی مثال ہیں کہ تشدد اور جنگ کے بغیر آزادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ دن سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے اور ترقی پسند بات چیت کا انتخاب کرنے کے لیے ایک تحریک کا کام بھی کرتا ہے۔آپ نے ‘تقسیم اور فتح’ کے بارے میں سنا ہے۔ ٹھیک ہے، متحدہ عرب امارات کی تشکیل بالکل ظاہر کرتی ہے کہ مخالف میں کتنی ہی طاقت ہو لیکن ایک دن اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے اور اتحاد سے بڑی طاقت نہیں جو مخالف کو چاروں شانے چت کردے, لہذا ہر سال یو اے ای کا قومی دن منانا اسی طاقت کی یاد دہانی ہے۔

    متحدہ عرب امارات آج امن،ترقی اوربہترین حکمرانی کی پہچان کے طورپراقوام عالم میں فخرکے ساتھ کھڑاہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں فقیدالمثال پیش رفت کی ہے جوکہ ملک کوایک جدید ریاست اورترقی کرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے نظریہ اورعزم کامنہ بولتا ثبوت ہے متحدہ عرب امارات نے تجارت، مالیاتی خدمات،سیاحت،ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کیلئے عالمی معیارکے مرکزکے طورپر ابھرنے کیلئے شاندار پیش رفت کی ہے۔ یہ متاثرکن ترقی رواداری،جامع اقتصادی ترقی اور اختراع کوفروغ دینے سے ممکن ہوئی پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کی موجودہ دوراندیش قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے کومضبوط بنانے میں کئی دہائیوں کے دوران نمایاں کردارادا کیا ہے۔

    پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ اور دائمی ہیں، 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اسے آگے بڑھ کر نہایت پرجوش انداز میں نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ اس کی جانب دست تعاون بھی دراز کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے دوستی کے اس رشتے کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی ہے پاکستانی کمیونٹی تب سے لے کر آج تک یو اے ای کی ترقی اور تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ دونوں ممالک میں تاریخی، ثقافتی اور معاشی رشتے قائم ہیں

    باغی ٹی وی انتظامیہ اپنے مسلم برادر ملک متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر اس برادر ملک کو قیام کی 51 ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ اس ملک کو اس ملک کے باسیوں کو ہمیشہ متحد رکھے اور یہ سرزمین دنیا بھر میں امن وبھائی چارہ کا باعث بنے ، کل 2 دسمبرکی مبارک تاریخ کو ریاست ہائے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر باغی ٹی وی انتظامیہ بھی یہ دن منائے گی اور متحدہ عرب امارات کے لیے کامیابیوں کے لیے دعا گو بھی ہوگی ،

  • ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    اپنے یہاں اگر کسی کو زُکام ہوجائے تو وہ ایک ہی سانس میں "انکشاف” کرتا ہے کہ یہ ایک "بین الاقوامی سازش” ہے۔ اِسی طرح اگر اپنی ہی لاپرواہی سے کسی کی گائے گُم ہوجائے تو وہ اس کو فوری طور "خطرناک سازش” قرار دیتا ہے۔ سازشی مسئلہ(Conspiracy Theory) گھڑ لینے میں ہم بڑے ماہر واقع ہوئے ہیں۔ کوئی عام سا پرابلم بھی ہو جب تک نہ ہم اسے "گہری سازش” قرار دیں تب تک ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا ہے۔

    ہمارے سماجی پیرہن کو اتنے داغ لگ چُکے ہیں کہ اس کی ہیئت(Shape) مسخ ہونے کا خدشہ نظر آتا ہے۔ جی ہاں مُنشیات کے داغ، ڈرگ ٹریفک کے داغ، چرس، گانجا، افیون، ہیروین اور مےخواری کے داغ، خودکُشی، خود سوزی اور بہوؤں کو زندہ نذر آتش کرنے کے داغ، شادیوں پر بے پناہ اسراف کے داغ، چوری و سرقہ بازی کے داغ، بےحسی، بددیانتی اور رشوت خوری کے داغ وغیرہ، وغیرہ۔ یہ داغ ہمارے سوشل فِیبرِک پر اتنے سخت گہرے ہوچکے ہیں کہ اس پیرہن میں اب ان کی وجہ سے بڑے بڑے چھید ہونے لگے ہیں۔ اگر معاشرتی برائیوں کا یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا تو ہمارا سماجی پیرہن ایک چیتتھڑا بن کر رہ جائے گا۔

    ایک دل خراش خبر کے مطابق جُمعہ کو حکام نے بتایا کہ بڈگام ضلع میں پولیس نے دو خواتین سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے بُردہ فروشی گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا 14 مظلوم خواتین کو بچا لیا گیا جبکہ اور مزید گرفتاریاں ہوسکتی ہیں۔

    ضلع میں خواتین اغوا کاری کے مذموم فعل کی اطلاع پر بروقت اور قابلِ تحسین کارروائی کرتے ہوئے، بڈگام پولیس کی فعال ٹیم نے موضع ڈلی پورہ میں ایک مخصوص جگہ پر چھاپہ مار کر شمیم ​​احمد بٹ کے گھر سے 14 بے بس خواتین (جن میں کئی نابالغ بچیاں بھی تھیں) کو محفوظ بنا لیا۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ گرفتار ملزمان بشری اغوا کاری میں ملوث تھے اور اس کے ذریعے خواتین کو مختلف جگہوں سے اغوا کرکے ضلع بڈگام اور وادی کی دوسری جگہوں میں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔

    سماجی اعتبار سے یہ ایک باعث شرم اور سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن اس انسانی سمگلنگ میں جو ملوث افراد ہیں وہ بڈگام ضلع کے مقامی باشندے ہیں۔ نہ وہ غیر ریاستی ہیں اور نہ ہی غیر ملکی ہیں۔ لہٰذا اس قبیح فعل کو ہم کیسے کوئی "خطرناک سازش” قرار دے سکتے ہیں(جو کہ ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے)۔

    اصل معاملہ یہ ہے کہ کشمیر میں اب زیادہ تر لوگوں کو راتوں رات امیر بننے کا آسیب سوار ہو گیا ہے۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے دولت سمیٹے۔ اس میں اگر کسی کا حق مارا جائے، کسی کا گلا کاٹنا پڑے، کسی کو لوٹنا پڑے اور کسی کے یہاں ڈاکہ ڈالنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سماجی بدعات، معاشرتی برائیوں، جہیز، اسراف، حق ماری، استحصال، بلیک میلنگ، منشیات سمگلنگ، ڈرگ ایڈکٹنگ اور اس نوعیت کی قبیح برائیوں سے باز آجائیں۔ اس کے لیے ہمیں دوسروں کے نقائص نکالنے کے بجائے خود احتسابی کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ ورنہ سازشی تھیوریاں تخلیق کرنے سے ہمارا معاشرہ صحیح ڈگر پر کبھی نہیں آسکتا ہے۔

  • کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام دیکھنے کے لئے آپ کو ہالی وڈ کی ایک فلم سیریز دیکھنا پڑے گی جس کا نام Star Wars ہے۔ اس کے انڈر دس موویز اور چار سیزن ہیں۔

    اس سیریز میں آپ صرف مختلف کلچرز کو نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ کیسے بائیولوجیکلی مختلف سپی شیز ایک دوسرے کیساتھ امن و امان کیساتھ رہ رہی ہے۔ اور مختلف مواقعوں پہ کیسے ایک دوسرے کے کلچر کا احترام کر رہی ہیں۔

    اگر آپ کو یہ لگاتا ہے کہ آپ دنیا کی سب سے خاص قوم میں پیدا ہوئے ہیں یا آپ کا کلچر حد سے زیادہ اہم ہے یا کسی اور قوم کا آپ سے بہتر ہے اور آپ کے کلچر کا اظہار غلط ہے تو آپ کو اپنے ذہنی علاج کے لئے ایسی فکشن ضرور دیکھنی چاہیے وہیں پر اپنا کلچرل ایکسپوژر وسیع کرنا چاہیے۔

    ہندوستان یا عرب کے کلچر میں کسی بدیسی کو مکمل شارٹ لباس پہن کر نہیں گھومنا چاہیے وہیں پر یورپ میں برقعے پہن کر گھومنا بھی انکے کلچر کی خلاف ورزی ہے سو ان چیزوں کو اپنی جگہ رکھ کر ہر جگہ کے کلچر اور روایات کا احترام کرکے زندگی انجوائے کرنی چاہیے۔

    ہماری قوم سمیت پوری دنیا میں موجود وسیع آبادی کا مسئلہ یہی ہے کہ انہوں نے ایک سے دوسری سٹیٹ نہیں دیکھی 9/5 جاب کر کر کے زندگی ختم کرنیوالوں کو چھوٹی چھوٹی بات بھی چبھتی ہے۔

    حالانکہ

    قطر میں لباس پہ لگی ممانعت سمیت کسی اور ملک میں چہرہ ڈھانپنے والے حجاب پہ لگی ممانعت تک سب کچھ مقامی کلچرل ویلیوز کے لحاظ سے درست ہے اور وہاں وزٹ کے دوران انکا احترام کرنا چاہیے اور اگر اپنا کلچرل زیادہ عزیز ہے تو ایسی جگہوں کو وزٹ ہی نہیں کرنا چاہیے ۔

  • دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    دعوت کا اسلوب — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    سلیمان علیہ السلام نے ھدھد کے ذریعے ملکۂ سبا کو خط بھیجا جو پیغام رسانی کے طریقوں سے بالکل ہٹ کر تھا۔

    اس کی آمد سے پہلے اسکا عظیم الشان تخت منگوا لیا۔۔۔

    اسے اپنے عظیم الشان محل کی سیر کروائی جہاں وہ شیشے کے فرش کو پانی کا حوض سمجھ بیٹھی۔۔۔

    مقصد کیا تھا؟

    یہ بتانا کہ اگر تو ملکہ ہے اور تیرے پاس دنیاوی عیش و عشرت کا سامان ہے تو ہمیں اللہ نے اس سے کئی گنا زیادہ دے رکھا ہے۔۔۔۔ لیکن یہ زندگی کا اصل مقصد نہیں اور اصل مقصد کے آگے ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ اصل تو توحید ہے۔ لہذٰا بہتر یہی ہے کہ جس نے یہ سب عطا کیا ہے، اسے پہچان لو اور اکیلے اس ایک ہی کی عبادت کرو۔۔۔۔

    یہ دعوت کا ایک اسلوب تھا کہ ظاہری جاہ و جلال کے متوالوں کو دکھایا جائے کہ یہ چیزیں ہمارے پاس تم سے زیادہ ہیں، لیکن ہمارے نزدیک انکی کوئی اہمیت نہیں۔ اور پھر اصل اہمیت کی حامل دولت، یعنی توحید کی طرف دعوت دی جائے۔

    ظاہر ہے کہ یہ ایک اسلوب ہے، پر واحد اسلوب نہیں۔ داعی اپنے دور کے تقاضوں اور اپنی استعداد کے مطابق حکمت کے ساتھ کوئی بھی اسلوب اختیار کر سکتا ہے جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہو کہ یہ پیغام کو زیادہ مؤثر طریقے سے سامعین تک پہنچا دے گا۔

    اصحاب الاخدود والے واقعے میں اس لڑکے نے ظالم اور مشرک بادشاہ پر واضح کر دیا کہ وہ اسے نہیں مار سکتا۔ ہاں اگر اللہ کا نام لے کر تیر چلائے تو کامیاب ہو جائے گا۔ اور یوں اس نے حق کا پیغام ایسے پہنچایا کہ پوری قوم مسلمان ہو گئی۔۔۔۔ اور ایسا ایمان لائی کہ آگ کی خندقوں میں چھلانگ لگا دی پر ایمان سے دستبردار ہونا گوارا نہ کیا۔

    اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور ید بیضاء کے معجزات خاص طور پر فرعون کو مرعوب کرنے کیلئے عطا فرمائے۔ موسی علیہ السلام نے پوری قوم کے سامنے اپنے معجزے کے اظہار کا مطالبہ کیا تاکہ (اللہ کی عطا کردہ) اپنی اس طاقت سے پوری قوم کو متاثر کریں۔ جادو گروں پر ثابت کیا کہ میرے پاس تم سے بڑی طاقت ہے، پر یہ اصل چیز نہیں۔۔۔۔ اصل تو وہ ذات ہے جس نے یہ عطا کی اور اسکا پیغام ہے جو میں لایا ہوں۔۔۔ اور ہم نے دیکھا کہ جادوگر ایسے متاثر ہوئے کہ مصلوب ہونا قبول کر لیا پر ایمان کو چھوڑنا گوارا نہ کیا۔۔۔

    ہمارے سطحی سوچ والے اس دور میں ہوتے تو کہتے کہ سلیمان علیہ السلام، موسی علیہ السلام اور وہ مومن و موحد لڑکا محض شو مار رہے ہیں۔۔۔۔ (نعوذباللہ)….

    اگر کوئی یہ بتا رہا ہے کہ میرے پاس تم سے بہتر بائیک ہے اور تم سے بہتر سٹائل ہے، لیکن یہ اصل نہیں۔ اصل وہ ہے جو میں تمہیں بتانے آیا ہوں۔۔۔۔

    لیکن:

    اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں
    غیروں نے آ کے پھر بھی اسے تھام لیا ہے ۔۔۔!!!

    یہ وہ لوگ ہیں جو دعوت کے مزاج کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ انہیں پتہ ہی نہیں کہ آجکل کے نوجوان کے مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے متاثر کرنا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان دن بدن مولوی سے متنفر ہوتا جا رہا ہے۔

    میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ ہر کوئی، ہر جگہ اور ہر وقت ایسا ہی طریقہ اختیار کرے۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ آپ جس طریقے کو مؤثر سمجھتے ہیں اور جس میں مہارت سے ابلاغ کر سکتے ہیں، اسے اختیار کریں۔۔۔۔ لیکن خدارا، پورے سیناریو کو سمجھے بغیر بلاوجہ کی تنقید سے باز آ جائیں۔ اس سے آپ جدید ذہن کو مزید اپنے سے دور ہی کریں گے اور یہ دین کی کوئی خدمت نہیں۔۔۔!!!

  • آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے  دی گئی

    آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے دی گئی

    آسکر نامزد جوئے لینڈ کے خلاف شکایت کی تحقیقات؛ کمیٹی تشکیل دے دی گئی
    وزیراعظم شہبازشریف نے آسکرکے لیے نامزد کی جانے والی فلم ’جوائے لینڈ‘ کیخلاف شکایات کی تحقیقات اورپاکستان میں نمائش پرپابندی سے متعلق مطالبے کا جائزہ لینے کیلئےاعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد سمیت دیگرحلقوں سے کیے جانے والے مطالبے کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ فلم واقعی اخلاقی ومعاشرتی اقدار سے متصادم ہے یا نہیں۔

    جوائے لینڈ کو مئی 2022 میں دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کانزمیں ’کانز:کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو بالخصوص ہم جنس پرستوں یا پھر مخنث افراد پرمبنی فلموں کو دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس فلم کی ریلیز 18 نومبرکے لیے شیڈول تھی تاہم اس سے قبل ہی جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد نے موضوع کی بنیاد پر فلم پرپابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسی فلموں کے ذریعے پاکستان کے معاشرتی اقدار پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کی رہائشگاہ پر 90 لاکھ روپے کے بلٹ پروف شیشے لگائے جائیں گے
    میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ
    چین اور ایران امریکہ میں مخالفین کی جاسوسی کرارہے ہیں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن


    دوسری جانب سینسربورڈ کی جانب سے فلم کو سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا تاہم 11نومبرکو وفاقی وزارت اطلاعات نے اسے یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیاکہ فلممیں ’قابل اعتراض مواد‘ موجود ہے۔ اب وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے اپنے آفیشل ٹوئٹرہینڈل پربتایا ہے کہ جوائےلینڈ کی نمائش پرپابندی کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو متعلقہ شکایات کے علاوہ پاکستان میں نمائش کے میرٹس کا بھی جائزہ لے گی۔


    وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق فلم کیخلاف شکایات موصول ہونے کے بعد وزیر قانون کی نگرانی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ، چیئرمین پی ٹی اے اور پیمرا، وزراء برائے کمیونیکیشن، سرمایہ کاری، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اوروزیر اعظم کے مشیربرائے امور گلگت بلتستان شامل ہوں گے۔
    https://twitter.com/sethimirajee/status/1591689511091965952
    ممکنہ طور پرکمیٹی اپنی سفارشات آج 15 نومبرکوپیش کرے گی۔ لیکن فلم کی ریلیز کی اجازت ملنے کے بعد جوائے لینڈ کے ڈائریکٹرصائم صادق وزارت اطلاعات کے اس اقدام کوغیرقانونی قراردے رہے ہیں۔ اس اقدام پرشوبزسمیت کئی معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پرتنقید کرتے ہوئے حکومت سے فلم پرپابندی عائد نہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اداکارہ میراسیٹھی نے مریم اورنگزیب کیلئے لکھا کہ ، ’فلم پرپابندی کا کوئی جوازنہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ خود کوجمہوریت پسند قراردیں اورآرٹ پرپابندی عائد کردیں‘۔ علاوہ ازیں ہمایوں سعید نے کہا کہ جوائے لینڈ نےکانزمیں ایوارڈ جیت کرہمارا سر فخرسے بلند کیا، یہ ہمارے اپنے لوگوں کی کہانی ہے ، امید ہے کہ فلم دیکھنے کو ملے گی۔


    اداکارہ نادیہ جمیل نے بھی سوال اٹھایا کہ، ’اس پابندی کے پس پردہ کون سے چہرے ہیں اور وہ کس بات سےخوفزدہ ہیں، کب تک منافقین پاکستان کا گلا گھونٹتے رہیں گے جوخود مغربی دنیا کے تمام فائدے حاصل کرتے ہیں لیکن دوسروں پرزمانۂ جاہلیت کےنظریات مسلط کرتے ہیں‘۔


    خود وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے بھی ٹویٹ میں مریم اورنگزیب سے اس پابندی پرنظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہو تو فلم کی ٹیم سے ملاقات کرلیں۔


    یاد رہے کہ ہدایت کار صائم صادق کی اس فلم کی کاسٹ میں سرمد کھوسٹ، ثروت گیلانی، علینا خان، سہیل سمیر، سلمان پیر، ثانیہ سعید، کنول کھوسٹ، زویا احسن، ثنا جعفری اور قاسم عباس سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

  • بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    بین جوائے لینڈ مہم پر اعتراض اور جواب :از طہ منیب

    گزارش ہے کہ آج کی جدید دنیا نے شخصی و انفرادی آزادی کے نام پر خلاف فطرت و شرع معاملات جیسا کہ ہم جنس پرستی و دیگر کو نا صرف اپنے ہاں قانونی حیثیت دی ہے بلکہ ڈیجیٹل میڈیا و اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں باقاعدہ تمام قسم کی موویز و سیزنز میں اس ایجنڈے کی (جسے LGBTQ+ کہا جاتا ہے) ترویج سے مشروط کیا ہے کہ کچھ نا کچھ اس مسئلہ کو لازمی ہائی لائٹ کیا جائے۔ باقاعدہ طور پر بننے والا مواد اس سے ہٹ کر ہے۔ پہلے پہل مغربی سینما جو ہالی ووڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اس نے اس گند کو پھیلانے کا کام کیا بعد ازاں بھارتی سینما بالی ووڈ اور اب یہ جرات پاکستانی فلم انڈسٹری کو بھی ہوگئی ہے۔ سرمد کھوسٹ پاکستانی سینما میں متنازعہ موویز بنانے کے حوالے سے معروف ہیں جنکی اکثر موویز سینسر بورڈ میں آکر پھنس جاتی تھیں اور اکثر نکل بھی جاتی تھیں۔ لیکن حیران کن طور جوائے لینڈ نامی مووی جو دو لڑکوں کی محبت و شادی پر مبنی سٹوری ہے یہ نا صرف بن گئی بلکہ باہر کے سینما سے متعدد ایوارڈز لینے کے بعد بغیر کسی تردد کے سینسر بورڈز سے اپروول کے بعد 18 نومبر کو پاکستانی سینماؤں میں ریلیز کیلئے تیار ہے۔

    اللہ کی بغاوت اور غیض و غضب کا شکار قوم لوط کا عمل غلیظ (جسکے مرتکب فاعل و مفعول کی سزا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حدیث کے مطابق قتل ہے) کی ترویج پر مبنی یہ مووی کی ریلیز لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بنے ملک جسکے آئین کے دیباچہ میں قرارداد مقاصد کے مطابق اس ملک میں قرآن و سنت و آئین سے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا وہاں پہلے ٹرانس جینڈر بل کے نام پر آئین و قانون میں نقب اور اب سرعام اسکی ترویج کی جرات یقینا سینسر بورڈ و حکومت اور اسکے بعد مذہبی جماعتوں کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ اس فتنے کے سدباب کیلئے #BanJoyland مہم پلان کی تو الحمد اللہ پوسٹرز و ویلاگز کے ساتھ ٹویٹر پر ٹرینڈ بھی پینل ہوگیا ،کچھ نا کچھ سوشل میڈیا پر آگاہی و ٹویٹر سپیس بھی ہوگئی، یقینا یہ ناکافی ہے اسکی روک تھام کیلئے سوشل میڈیا سے بڑھ کر عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے اور سڑکوں پر نوجوانوں کے ہمراہ احتجاج کے ذریعے اس بد فعلی کو روکنے کی پوری کوشش اسکے بین ہونے تک کی جائے گی ان شا اللہ۔

    اب اس مہم پر کافی احباب کا اعتراض آیا ہے کہ آپ تو بذات خود اسکی پروموشن کا باعث بن رہے ہیں تو گزارش یہ کہ ہمارے نا کرنے سے مووی ریلیز ہو کر رہے گی اور اسکے بعد اسکی ویوورشپ یقیناً لاکھوں میں ہوگی۔ اگر اس سے قبل ہی اسکی روک تھام کر لی جاتی ہے تو یقیناً یہ فائدہ مند ہوگا۔ اس مہم سے زیادہ سے زیادہ چند سیکنڈ کے پرومو تک پہنچ ہوگی لیکن اصل گند مووی کی ریلیز سے بچا جا سکتا ہے۔ خلاف قانون و آئین و اسلام مووی کی روک تھام کی مہم کوئی پہلی مہم نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اس طرز کی مہمات کامیاب ہوئی ہیں جن میں اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر بھارتی و دیگر فلمز کی نمائش پر پابندی لگی۔
    باقی ہر برے کام کے بارے میں یہ سوچا جانے لگے پھر تو اچھائی کی ترویج اور برائی روک تھام ناممکن ہو جائے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ برائی کو ہوتا دیکھیں تو استطاعت کے مطابق ہاتھ یا زبان سے روکیں اور اگر ممکن نہیں تو پھر کم از کم دل میں برا جانیں۔ امید ہے کچھ نا کچھ کلئر کر پایا ہوں گا۔ شکریہ

    الحمد اللہ یہ تحریر لکھنے کے دوران ہی یہ خوشخبری ملی کہ یہ فلم بین ہو چکی ہے۔ یقیناً یہ معمولی کاوش اللہ کی مدد یہ سے یہ کامیابی ملی۔ تمام احباب کا خصوصی شکریہ۔ جزاک اللہ خیر

  • "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    ایک صاحب کسی ہوٹل پر تیتر کا گوشت کھانے گئے۔ کھاتے ہوئے انھے ملاوٹ کا شک ہوا تو ویٹر سے پوچھا کہ یہ خالص تیتر کا گوشت ہے؟۔ ویٹر نے کہا جی سر۔ مگر کھانے والا خود شکاری تھا اور تیتر کے گوشت سے اچھی طرح واقف تھا۔ آخر کار ویٹر نے بتا ہی دیا کہ صاحب! دیکھا دیکھی لوگ کھانے تو تیتر آتے ہیں ہمارے پاس مگر بیشتر لوگوں کو بیٹر کا ذائقہ ہی زیادہ پسند ہے ۔ سو مجبوراً مسکسینگ کرتے ہیں ۔ بات تو ٹھیک ہے ویٹر کی ہمیں مسکسینگ کی تو عادت ہو چکی ہے ۔ خالص کچھ بھی ہمیں اب اچھا نہیں لگتا۔

    ہمارے گھروں میں ڈبوں والے دودھ استعمال ہوتے ہیں کیونکہ اب خالص بھینس کے دودھ سے ہمیں بو جو آتی ہے ۔ خالص گندم کی روٹی ہمارے معدے ہضم نہیں کرتے مگر نان، پیزا تو معدے میں ڈالتے ہی ہضم ہو جاتا ہے ۔

    کوئی لیکوڈ ہمارے گلوں سے تب تک نہیں اترتا جب تک اس کا رنگ نیلا ، سبز ، کالا نہ ہو ، سفید لیکوڈ (دودھ) تو پینے کا ہم اب سوچ بھی نہیں سکتے ۔ اگر کوئی پیے بھی گا تو مسکسینگ کے ساتھ ، سپرائٹ ، سیون اپ کے تڑکے کے ساتھ ۔ (صرف) دودھ تو شاید اب پینڈو پیتے ہیں۔ ہم تو اب ماڈرن ہو چکے ہیں۔ اتنے ماڈرن کے گھر والے کے ساتھ سلام دعا کا وقت نہیں ، اور سمندر پار لوگوں سے چوبیس گھٹنے رابطوں میں ہیں۔

    اتنے ماڈرن ہوگئے ہیں کہ ہمیں اب ماں بولی پنجابی گالی لگنے لگ گئی ہے۔ ہمارے گھروں میں اب کوئی بچہ پنجابی بول کر تو دیکھائے، صرف اردو اور انگریزی۔۔۔۔۔۔ فارسی ،عربی تو ویسے ہی ہم نے مدرسے والوں کے ذمے کر رکھی ہے۔ ہمارا کیا لینا دینا، وہ پڑھیں اور ان کا کام جانے، ہمیں کیا ۔

    اور اسی انگریزی کے چکر میں ہم کہیں کے نہیں رہے۔ سیکھو بھئی انٹرنیشنل زبان ہے، مگر یہ کہاں کا قاعدہ قانون ہے کہ اپنی بالکل ہی چھوڑ دو ۔ ہم نے تو صرف چھوڑی ہی نہیں دھتکاری ہے اپنی زبان ۔ جب تک ہم انگریزی کے دو چار جملے نہ بول لیں تو ہم پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھتے خود کو۔ کل ہی ایک دوست نے بتایا کہ اس سے اپنے گاؤں کے کسی شخص نے پوچھا کہ کونسی کلاس میں پڑھ رہے ہو۔ اس کے جواب پر فوراً انگریزی کا ایک عدد غلط جملہ اس کے منہ پر دے مارا کہ اس کا ترجمہ بتاؤ ۔ یعنی تعلیم یافتہ ہونے کےلیے ، انگریزی سند ہے تو بھئی! اس آدھی تیتر آدھی بیٹر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

  • تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    تھوکیے مت!!! — عبدالقدیر رامے

    یار یہ لوگوں کو پاس بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر تھوکنے کی کیا بیماری ہے؟

    چند روز قبل ایک سیفٹی سیشن کیلئے میٹنگ روم گئے.. پتہ چلا کہ ٹرینر ابھی آیا نہیں باہر بیٹھ کر ہی انتظار کرنا پڑے گا.. سب بندے درختوں کے نیچے دو دو تین تین ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ گئے.. مجھے معلوم تھا کہ یہ یہاں بیٹھ کر اور کچھ کریں نہ کریں.. ایک سگریٹ لازمی پئیں گے جس کا دھواں مجھے تنگ کرے گا، دوسرا تمباکو اور چونے کا مکسچر لازمی رگڑیں گے جسے پھونک سے اڑا کر چھانیں گے تو سانس کے ساتھ ناک کو چڑھے گا اور تیسرا تھوک لازمی پھینکیں گے..

    یہ باتیں میری میموری میں پکی پکی فٹ ہیں.. لہٰذا میں بندوں سے زیادہ تر دور ہو کر بیٹھتا ہوں.. وجہ نفرت نہیں.. وجہ یہ ہے کہ میں ان تینوں چیزوں سے الرجک ہوں..

    لہٰذا حسبِ عادت میں ان سے قدرے فاصلے پر درخت کے نیچے بلاک رکھ کر بیٹھ گیا..

    کچھ دیر ہی گزری ہو گی.. ان دور بیٹھے ہوئے بندوں کو نادیدہ طاقت نے اکسایا اور وہ میرے پاس دائیں بائیں آ کر بیٹھ گئے.. ایک نے سگریٹ جلا لیا.. دوسرے نے تمباکو کی ڈبی نکالی، وہ تمباکو بنانے لگا تو دو دوسروں نے بھی مانگ لیا.. تینوں نے تمباکو بنا کر اس کی پھک اڑائی اور تمباکو منہ میں رکھ کر زمین کو تھوکو تھوک کرنا شروع کر دیا.. دل میں گالیاں دیتے ہوئے اٹھا اور پرے جا کر کھڑا ہو گیا..

    اب اس وقت فون کال کرنے کیلئے روم سے باہر بینچ پر بیٹھا ہوں ایک میرا رومیٹ ہی نکلا اور یہاں کھڑے ہو کر برش کرنا شروع کردیا.. تھوک پر تھوک پھینکی جا رہا ہے..

    مجبور ہو کر اسے کہا یار واش بیسن پر چلا جا.. تیری مہربانی کیوں مجھے آوا ذار کر رہا ہے…

    ریفائنری میں جاب کی جگہ پر میٹل سٹرکچر کے بنے ہوئے گیارہ فلور ہیں.. پتہ اس وقت لگتا ہے جب اوپر والے فلور کی گریٹنگز سے تھوک نیچے آ کر گرتا ہے.. کچھ بندے تو یہ حد کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی فلور پر ہیں ریلنگ پر آئیں گے وہاں سے گراؤنڈ پر تھوک پھینکیں گے اپنی طرف سے وہ اچھا کر رہے ہوتے ہیں کہ نیچے والی گریٹنگ پر کام کرنے والوں پر تھوک نہ گرے لیکن گراؤنڈ فلور والوں کا کوئی خیال نہیں.. اب گیارہویں فلور سے زمین تک تھوک پہنچنے میں جو وقت لگے گا عین ممکن ہے اس دوران کوئی گزرتا ہوا بندہ اسی جگہ پہنچ جائے اس پر گر جائے.. یا پھر ہوا سے اس کے ذرات کہاں تک جائیں کچھ معلوم نہیں..

    پاکستان میں ہم جیسا بندہ موٹر سائیکل کی سواری ہی عام طور پر کرتا ہے کاروں والے کار کا شیشہ کھول کر تھوک کی فائرنگ کر رہے ہوتے ہیں.. آگے والے موٹر سائیکل سوار پیچھے آنے والوں کا خیال کیے بغیر تھوک پھینک رہے ہوتے ہیں

    کسی بندے کے ساتھ بات کرنے کیلئے کہیں رک جائیں تو وہ پانچ منٹ کی بات کرتے ہوئے دس مرتبہ تھوک پھینکتا ہے..

    خاص طور پر کراچی والوں نے حد ہی کی ہوئی ہے.. کراچی میں کیا اردو سپیکنگ، کیا مہاجر، کیا پنجابی، کیا کشمیری، بلوچی، پٹھان، سندھی یا ہزارہ وال، کیا مرد اور کیا عورتیں .. کوئی بھی گٹکے سے محفوظ نہیں، بس میں بیٹھیں گے تو شیشے والی سائیڈ گٹکا مین کی ہی ہو گی.. اور اس نے وہیں سے باہر والوں کو منور کرتے رہنا ہے.. پھر اچھی اچھی صاف ستھری عمارتوں میں جگہ جگہ دیواروں پر لال رنگ کا گند ہی گند نظر آتا ہے..

    پچھلے سال کراچی میں ایک مارکیٹ میں گیا.. نیا رنگ و روغن بتا رہا تھا کہ مالک نے اچھا خاصا خرچہ کیا ہے.. وہاں سیڑھیوں میں اوپر نیچے تک گٹکے اور پان کے انتخابی نشانات لگے ہوئے تھے..

    پوچھنا یہ ہے کہ یہ بیماریاں عربوں، انڈونیشین، چائنیز، جرمنز، فلپینی، کورینز اور برطانوی باشندوں میں نہیں دیکھی، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے ان میں ایسی کوئی معیوب حرکت یا بیماری نہیں دیکھی ..پاکستانیوں اور انڈینز میں یہ حرکات اور بیماریاں کیوں ہیں؟