Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    دنیا بھر سے میل ملن کی منفرد رسومات!!! — ستونت کور

    عام طور پر ملاقات کے وقت سلام دعا ، مصافحہ یا معانقہ کرنا میل ملن کا مروج دستور ہے ۔۔۔ تاہم دنیا بھر کے مختلف ممالک اور اقوام میں ملتے وقت کچھ الگ اور عجیب و غریب رسومات بھی موجود ہیں :

    1- تبت میں ملاقات کے وقت اپنی زبان باہر نکالنا احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    2- کینیاء کے معروف "مسائی” قبیلے کے لوگ ملاقات کے وقت ایک دوسرے کے منہ پر تھوک کر جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں۔

    3- ننیدرلینڈز کے "ماؤری” قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ملاقات کے وقت اپنی ناک، دوسرے کی ناک سے رگڑ کر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں ۔

    4- لائبیریا اور بینن کے قبائلی لوگ آپس میں ملتے وقت اپنی انگلیوں سے چٹکی بجا کر سلام دعا کرتے ہیں ۔

    5- فلپائن میں لوگ عمر میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت ان کا ہاتھ تھام کر ان کے ہاتھ کی پشت کو اپنے ماتھے سے مَس کرتے ہیں ۔

    6- ٹریڈشنل عرب کلچر میں ملاقات کے وقت دوسرے کے ہاتھ یا گال پر بوسہ دینا مروج ہے۔

    7- موزمبیق میں مقامی قبائلی ملاقات کے وقت تین مرتبہ تالی بجا کر گرمجوشی کا ثبوت دیتے ہیں۔

    8- ہندوستان میں لوگ عمر یا مرتبے میں خود سے بڑے احباب سے ملتے وقت چرن سپرش کرتے ہیں یعنی ان کے پیر چھوتے ہیں۔

    9- جاپان میں ملاقات کا دستور یہ ہے کہ دونوں افراد ایک دوسرے کے سامنے جھک کر احترام پیش کرتے ہیں۔

    10- ملائشیا میں لوگ ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے کے بعد ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر الفت کا اظہار کرتے ہیں ۔۔۔ یہ رسم کچھ حد تک ہندوستان میں بھی مروج ہے مسلمانوں میں ۔

  • مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    اس وقت مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز بہت ٹرینڈنگ ہیں جس میں ان بچوں کو جو اپنی بائیولوجیکل جنس سے ہم آہنگ نہیں ہیں انہیں سرجری سے گزارا جاتا ہے یا ہارمون بلاکر لگائے جاتے ہیں۔

    مطلب؟

    مطلب یہ کہ نو عمر بچے جو شروع سے ٹی وی پہ بار بار lgbtq+ چیزیں دیکھ رہے ہیں مطلب انہیں بچپن سے سکھایا جا رہا ہے کہ مرد کا مرد ہونا اسکے لئے جرم ہے عورت کا عورت ہونا، تو وہ اس بات کو سیریس لے کر اپنی بلوغت سے پہلے اپنے جسمانی جنسی اعضا کی نمو روکنے کے لئے ہارمون بلاکر لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پہلے بچوں کو برین واش کیا جاتا ہے اور پھر پراڈکٹ بیچی جا رہی ہے۔ اور اس پر میڈیکل ایتھکس بھی اپلائی نہیں کی جا رہیں اور جو اس پر بات کرتا ہے اس کو خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ ہارمون بلاکر کیا کرتے ہیں؟

    یہ ہارمون بلاکر بچیوں میں انکی چھاتیوں کو بڑھنے سے روکتے ہیں، بچوں میں ان کے مردانہ خصائص کے اظہار کو روکتے ہیں۔

    اور اس بارے میں حد سے زیادہ تنگ نظری پائی جا رہی ہے اگر آپ اس عمل کو غلط مانتے ہیں تو آپ ٹرانس فوبک کہلوائے جاتے ہیں، آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے گا، باہر کے ملک سے آئے ہیں تو امیگریشن کینسل کرکے ملک سے بیدخل کر دیا جائے گا۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہیں، سائنسدان ہیں یا صحافی، بلاتفریق اس پر زبان بندی کروا دی جاتی ہے۔

    اور واقعی میں ایسا ہو رہا ہے۔

    حالانکہ میڈیکل سائنس میں کسی قسم کے بھی جسمانی آرگن کو ٹرانسپلانٹ تک کرنے کے سخت سے سخت قانون ہیں مگر آپ ہارمون بلاکرز اور بریسٹ ریموول سرجری کے لئے ایک اپائنٹمنٹ لیکر سب کچھ کروا سکتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ زور اس بات پہ دیا جاتا ہے کہ کم عمری میں ہی لڑکے اپنی ویسکٹومی کروا لیں مطلب خود کو ناکارہ کروائیں۔

    ہمارے ملک میں ٹرانسجینڈر بل امریکہ اور مغربی ممالک کا لال منہ دیکھ کر اپنا منہ لال کرنے کی طرف ایک قدم تو ہے ہی وہیں اسکے کلچرلی بہت بھیانک نتائج ہونگے۔

    کیوں؟

    کیونکہ ہمارے ہاں پہلے ہی مخلوط تعلیم اور رہن سہن پر پابندی ہے ایسے میں جب کم عمر ذہنوں کو بار بار بتایا جائے گا کہ ایک ہی جنس میں کشش محسوس کرنا اور اپنی جنس کو مخالف سمجھنا نارمل ہے تو یہ تباہی مغرب سے زیادہ بھیانک ہوگی۔

    ٹرانسجینڈر ایکٹ جس دن پاس ہوا تھا اس دن اس پہلو پہ بات کرتے ہوئے ہمارے کان لال ہو گئے تھے مگر کچھ سال بعد ان لوگوں کے لال ہونگے جو ابھی خاموش ہیں مگر انکا بیٹا جب صائم سے صائمہ بنے گا اور اپنی اصل بائیولوجیکل جنس قبول کرنے سے انکاری ہو جائے گا۔

    ہمارے ہاں ٹرانسجینڈ ایکٹ کے اثرات مغرب سے برے ہونگے اور آپ یہ بات نوٹ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے یہ پوسٹ ٹرانس فوبک ہرگز نہیں بلکہ کلچرل اور میڈیکل پہلوؤں کو بتا رہی ہے۔

  • خانقاہ ڈوگراں:انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے – مولانا محمد نور المجتبے

    خانقاہ ڈوگراں:انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے – مولانا محمد نور المجتبے

    باغی ٹی وی ،خانقاہ ڈوگراں (علی رضا رانجھا) انسانیت کی خدمت شیوہ پیغمبری ہے ، گلشن شیخ الحدیث خانقاہ ڈوگراں میں بزم چشتیہ رضویہ کے زیر اہتمام ہر ماہ ابو الفیض فری میڈیکل کیمپ کا دو بار انعقاد کیا جاتا ہے ،گلشن شیخ الحدیث کے مہتمم حضرت مولانا محمد نور المجتبے چشتی نے بتایا کہ ہر ماہ مستحق اور نادار مریضوں کے علاج کے لئے ملک کے ماہر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم آ کر سینکڑوں مریضوں کو چیک کرکے مفت ادویات دی جاتی ہیں ، جس سے انسانیت کی خدمت کر کے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ، آج موہروں اور پٹھوں کے ڈاکٹر حامد ناصر کمبوہ نے سینکڑوں مریضوں کو چیک کرکے مفت ادویات دیں اور انشاء اللہ یہ سلسلہ ہر ماہ جاری رہے گا،ڈاکٹر حامد ناصر نے ابو الفیض فری میڈیکل کیمپ کے بارے میں اپنے بیان میں کہا کہ یہاں پر مریضوں کو چیک کرنے سے جو تسکین ملی ہے وہ تسکین مجھے اپنے کلینک میں نہیں ملی میرے لئے گلشن شیخ الحدیث میں خدمت کرنا بہت بڑا اعزاز اور ثواب کا عمل ہے ، اللّٰہ پاک اس ادارے کے وسیلے سے اپنی شفا کا فیض جاری رکھے

  • گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    تعلیم کی کمی یا تربیت کا فقدان ۔ دین سے دوری یا غلط صحبت کا شکار ہمارا معاشرہ ظلم و بربریت کی جیتی جاگتی مثال بنتا جا رہا ہے۔ اور اس ظلم و جبر کا نشانہ ہمیشہ عورت ہی بنی ۔ مرد اپنی ہر بات، لین دین کاغصہ بیچاری اس عورت پہ نکالتا ہے جو اس کے گھر میں بیٹھی ہوتی ہے ۔اسلامی معاشرہ نے، دین اسلام نے عورت کو عزت دی ۔ اس کا مقام بلند کیا ۔ماں کا روپ دیا اور قدموں میں جنت رکھ دی ۔ بیٹی کا درجہ دیا اور رحمت بنا ڈالا ،بہن کا درجہ دیا تو محبت کا گہوارہ بنا دیا ۔بیوی کا درجہ دیا گھر کے مرد کے دل کا سکون بنا دیا ۔ مگر یہی مرد جب عورت پہ مار پیٹ ظلم وجبر اور تشدد کی انتہا تک چلا جاتا ہے یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ بھی انسان ہے اس کے اندر بھی روح ہے ۔

    ہمارے معاشرے عورت کو ہمیشہ چپ کا سبق دیا جاتا ہے ۔رخصت کرتے وقت یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اب یہی تمہارا گھر ہے ۔ جو بھی ہو واپسی کا سوچنا بھی مت ۔ اب اس گھر سے صرف تمہارا جنازہ ہی نکلے گا ۔ کبھی سننے میں آتا ہے شوہر نے جھگڑے کے دوران مار پیٹ کی اور بیوی کا بازو ٹوٹ گیا ۔کبھی جھگڑے میں سر پھوڑ دیا جاتا ہے تو کبھی جسم میں لال نیلے نشان پڑ جاتے ہیں ۔

    ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے کئے گئے سروے میں بتایا گیا پاکستان میں 10سے 20 فیصد عورتیں کسی نا کسی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں ہر دن 19 سے 20 گھریلو تشدد کے واقعات رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور بہت سے تشدد کے واقعات ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے ۔ پاکستان میں ہر سال 5000 عورتیں گھریلو تشدد میں قتل کی جاتی ہیں ۔ یہی نہیں آئے روز سوشل میڈیا پہ نت نئی گھریلو تشدد کی ویڈیوز سامنے اتی رہتی ہیں جہاں کبھی شوہر بیوی پہ بہمانہ تشدد کر رہا ہوتا ہے تو کہیں بھائی وراثت میں حصہ مانگنے پر طاقت کے بل پر بہن کا منہ بند کرتا نظر آتا ہے ۔ہر روز ایک ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے جسٹس فار قرات العین ۔جسٹس فار صائمہ جسٹس فار بشری فلاں فلاں ۔جو ہمارے معاشرے کی بے حصی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ گھریلو تشدد میں عورتیں مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اور یوں وہ خود کیلئے بھی دوسروں کی محتاج ہو جاتی ہیں ۔

    گھریلو تشدد میں عورتیں ڈیریشن اضطرابی کیفیات سے دو چارنظر آتی ہیں۔گھریلو تشدد کا اثر بچوں کی صحت پہ بھی پڑتا ہے وہ زندگی کے کی میدان میں باقیوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں تعلیمی لحاظ سے بھی کمزور ہوتے ہیں ۔خدارا عورتوں پہ ظلم و زیادتی کی انتہا کی بجائے انہیں وہ درجہ دیں جو انکا حق ہے جو اسلام نے انکو دیا۔ بحیثیت خاندان پر امن قوم بنیں اور پر امن زندگی گزاریں ۔ گھریلو تشدد جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے .مرد حضرات کو چاہئے کہ ہر بات کا غصہ بیوی پر نکالنے کی بجائے اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے .دین اسلام کی تعلیمات کو خود بھی اپنی زندگی میں نافذ کرکے اپنے گھر کو ایک مثالی خاندان بنایا جائے اس کے بغیر ہم مضبوط، پرسکون اور جنت نظیر خاندان اور گھر کا تصور نہیں کرسکتے،یہی آخری آپشن ہے

    کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

    کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

    کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    گائے ذبیحہ کے نام پر بھارت میں مسلمانوں کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں زنجیرمیں جکڑ کر زندہ جلا دیا گیا

  • لسبیلہ ـ پی ٹی آئی ضلع لسبیلہ کی سینئر قیادت کا میرغلام حسین لاشاری کی ساس کی وفات پر اظہار تعزیت

    لسبیلہ ـ پی ٹی آئی ضلع لسبیلہ کی سینئر قیادت کا میرغلام حسین لاشاری کی ساس کی وفات پر اظہار تعزیت

    باغی ٹی وی : لسبیلہ .پاکستان تحریک انصاف ضلع لسبیلہ کے سینئر رہنما میر رضا خان نتھوانی زہری سینئر رہنما شاہنواز محمد حسنی نے پاکستان تحریک انصاف ضلع لسبیلہ کے سینئر رہنما میر غلام حسین لاشاری کے ساس کی وفات پر ان کے رہائشگاہ لاشاری ہاؤس حیدرآباد میں تعزیت فاتحہ خوانی کی ہے اس موقے پر لاشاری برادری کی معزز شخصیت وڈیرہ میھوں خان لاشاری ، عنایت اللّه لاشاری، صدام حسین لاشاری، بشام الدین لاشاری پاکستان تحریک انصاف حیدرآباد لطیف آباد نمبر یوسی 137 کے نامزد امیدوار برائے یو سی چیئرمین سیف الرحمن خان یوسی 138 پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار برائے یو سی چیئرمین سلمان خان بھی تعزیت فاتحہ خوانی میں موجود تھے اور مرحومہ کے لئے دعا کی ہے کہ اللّه پاک مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر و جمیل عطا فرمائے آمین

  • دوسروں کی آواز بننے والا  آج خود مدد کے لیے پکار رہا ہے

    دوسروں کی آواز بننے والا آج خود مدد کے لیے پکار رہا ہے

    باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں(شاھدکھرل)صحافی جو دوسروں کے لیے آواز اٹھاتا ہے جب اس پر برا وقت آتا ہے تو اس کی مدد کو بہت کم لوگ سامنے آتے ہیں حافظ آباد کا معظم علی جو مختلف ٹی وی چینل ویب چینلز اخبارات کے لیے رپوٹنگ کرتا رہا ہے عرصہ تین سال سے دل کے عارضہ میں مبتلا ہو کر چارپائی تک محدود ہو گیا متعدد مرتبہ سوشل میڈیا پر آواز بھی اٹھائی گی معظم علی کا کہنا ہے گھر کا سارا سامان بک چکا ہے ایک ماہ 25000 ہزار کے قریب ادویات آتی ہیں 6 ہزار بجلی کا بل ہے گھر کے لیے دیگر اخراجات ہیں اگر کوئی مدد کر جاتا ہے تو گھر میں کھانا پکتا ہے ورنہ فاقے کرنے پڑتے ہیں میں روز روز اپیل کر کے تنگ آچکا ہوں بیماری کی وجہ سے بہن بھائی دوست رشتہ دار چھوڑ گے ہیں ہزاروں روپے کا مقروض ہوں جن سے قرضہ لے کر معاملات چلاتا رہا وہ بھی غریب لوگ ہیں مالی حالات خراب ہیں اب وہ قرض کی واپسی کا تقاضا کرتے ہیں معظم علی کا کہنا ہے مجبوراً حالات سے تنگ آکر خود کشی کے بارے میں سوشل میڈیا پر میسج شئیر کیا ہے معظم علی کا کہنا ہے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سارے صاحب استطاعت لوگ کوبھی بھی شخص کوئی چھوٹا موٹا کاروبار، آٹورکشہ وغیرہ بنا دے میں اپنی بیٹی کی مدد سے اپنا نظام زندگی خود چلا لوں گا معظم علی کی مدد کے لیے سرکاری محکموں سمیت سماجی، صحافتی تنظیمیں آگے بڑھ کر ایک جان بچائیں اس سے قبل کہ دیر ہو جائے معظم علی کی مدد کے لیے دیے گے نمبر 03112982071 پر رابطہ کر کے مدد کی جاسکتی ہے

  • کندھ کوٹ : سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی امدادی سرگرمیاں جاری

    کندھ کوٹ : سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی امدادی سرگرمیاں جاری

    باغی ٹی وی : کندھکوٹ ( نامہ نگار) سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان علامہ سعد حسین رضوی کی حکم پر تحریک لبیک گمبٹ کے رہنمائوں کی جانب سے پی اے سیکریٹری گمبٹ کے گائوں خانڑ ناریجو اور دیگر گائوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری
    تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم کئے گئے مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں گمبٹ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے تمام مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تحریک لبیک پاکستان تعلقہ گمبٹ کی جانب سے راشن اور ادویات سمیت دیگر امدادی سامان متاثریں میں تقسیم کرنے کا عمل جاری تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بستر کمبل پانی اودیات اور دیگر ضروریات کے سامان غریب مستحق برسات متاثرین میں تقسیم تحریک لبیک پاکستان تعلقہ گمبٹ میں بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں میں مصروف عمل اس موقع پر تحریک لبیک کے سرپرست اعلیٰ علامہ تاج محمّد ضلع امیر قادری برکت علی میمن حفاظ امیر احمد ناریجو نے کہا کہ ہم اعلیٰ قیادت کے حکم پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے رانی پور اور گمبٹ کے مختلف علاقوں میں راشن اور فری میڈیکل کیمپ لگائی ہیں تحریک لبیک کے امیر قادری برکت علی میمن نے کہا کہ راشن اور فری میڈیکل کیمپ کا مقصد یہ ہے کہ ضلع کے بارانی علاقوں میں عوام کو ڈیلی ویجز پر کہانے پینے اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی وبائی امراض کو روکا جا سکے۔

  • ہندستان بمعنی پاکستان — علی منورؔ

    ہندستان بمعنی پاکستان — علی منورؔ

    ہندستان آغاز سے ہی تہذیب و تمدن کا مسکن رہا ہے۔جہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں وجود میں آئیں، وہیں پہ لوگوں نے بولنا سیکھا۔زبان کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار سیکھا۔ دنیا میں سب سے پہلے زبانوں کے لیے رسم الخط بھی یہیں پہ وجود میں آئے۔ ہندستان لفظ کا اطلاق دراصل جہاں دریائے سندھ کے مشرقی سمت تمام علاقوں پر ہوتا ہے وہیں پہ عربوں نے فارس اور عرب کے مشرقی سمت علاقے کو ہند کا نام دیا۔مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں کے زیر اثر ہند کی سرحدیں بدلتی رہیں، مغل مسلمانوں کے پروقار دور میں ہندستان میں موجودہ افغانستان ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کے کچھ حصے شامل رہے تو انگریز کے دور میں موجودہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش, ہندستان کہلائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ ہندو قوم کی وجہ سے یہ سرزمین ہندستان نہیں کہلائی بلکہ ہندستان کی مناسبت سے یہاں کے لوگوں کو ہندو کہا گیا اور بعد از ایک مخصوص مذہب کے پیروکار ہندو کہلائے۔

    بہرحال یہ بحث الگ اور مستقل موضوع کی متقاضی ہے۔ عموما تقسیم ہند سے قبل کے ملک کو "ہندستان” جب کہ تقسیم کے بعد والے ملک بھارت کو "ہندوستان” کہا جاتا ہے۔ درحقیقت اس سرزمین کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سندھو پکارا گیا مگر جب کم و بیش 600 سال قبل مسیح کے زمانے میں ایرانی شہنشاہ نے سندھو ندی اور آگے کی زمینوں پہ قبضہ کیا تو اس سرزمین کو ہند یا ہندو کہہ کر پکارا، کیونکہ ان کی زبان میں حرف "س” نہیں تھا۔بعض احادیث میں بھی اس سرزمین کا نام "ہند” کے نام سے ہی آیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس پورے خطے کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سکندر اعظم کے زمانے تک ایک ہی نام سے پکارا گیا پھر بعد میں آنے والے فاتحین نے اسے اپنی زبانوں کے لحاظ سے سند، ہند، انڈ کہہ کر پکارا، موجودہ لفظ انڈیا اسی سے نکلا ہے۔ س، ہ اور الف کا استعمال اپنی زبانوں کے حروف کے اعتبار سے کیا۔اور یہاں کے لوگ بھی اسی اعتبار سے سندھو، انڈو یا انڈوس اور ہندو کہلائے۔مغلوں کے دور میں جب ایرانی دربار سے رشتہ داریاں عام ہوئیں تو اس ہند کو فارسی لفظ ستان کے ساتھ ملا کر ملک کا نام ہندستان کر دیا گیا جو صدیوں تک چلتا رہا۔

    انگریزوں کے دور میں معاملات کچھ اس طرح خلط ملط ہوئے کہ ہندستان کو انجانے اور غلط فہمیوں کے ساتھ ہندوستان لکھا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سرزمین کو تاریخی کتب میں کبھی بھی ہندوستان نہیں لکھا گیا، بلکہ ہر جگہ اس کا نام ہندستان ہی ہے۔ موجودہ دور میں بہت کم لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس لفظ کی ہئیت کو برقرار اور قائم و دائم رکھا جائے کیونکہ تقسیم کے بعد پاکستانی ہونے کی حیثیت سے بہت سے معاملات اس لفظ کی درستی کے ساتھ جڑے ہیں۔ دنیا بھر میں جب بھی کسی بھی میدان میں تاریخی اعتبار سے کچھ بھی لکھا یا پڑھا جاتا ہے تو ہندستان لفظ کا اطلاق صرف موجودہ بھارت پر نہیں بلکہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر ہوتا ہے۔ جیسے کسی درخت، جانور یا جڑی بوٹیوں کے حوالے سے جب بھی کوئی بات ہندستان کے ساتھ خاص کر کے کہی جاتی تو مراد پورے خطے سے ہوتی ہے نہ کہ صرف موجودہ بھارت سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا ذکر چھیڑا جائے تو موہن جوداڑو اور ہڑپہ کے بنا بات آگے نہیں بڑھ سکتی اور یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب سرزمین ہندستان پر وجود میں آئی، جبکہ یہ دونوں تہذیبیں موجودہ پاکستان میں ہیں۔

    اسی طرح وہ جگہیں جو موجودہ بھارت میں موجود ہیں مگر ان پر لفظ ہندستان بول دیا جائے تو اطلاق پاکستان ، بنگلہ دیش اور موجودہ بھارت پر بھی ہو گا بلکہ بعض معاملات میں تو نیپال اور افغانستان کو بھی شامل کرنے پڑتا ہے کیونکہ بہت سے ادوار میں یہ دونوں ممالک بھی ہندستان میں شامل رہے۔گویا کسی بھی تاریخی معاملے پر حق صرف پاکستان یا بھارت کا نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے الگ رہ کر اور دشمنی نبھانے کے باوجود ہر تاریخی چیز پر مشرکہ حق رکھتے ہیں۔

    زمینی حقائق کو سامنے رکھیں تو تقسیم ہند کے بعد صرف لوگ اور زمینیں ہی تقسیم نہیں ہوئیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب و تمدن اور ثقافت بھی تقسیم ہوئی ۔جہاں کھجور اور اردو مسلمان ٹھہریں وہیں پہ ناریل اور سنسکرت ہندو بن گئیں۔ غرض یہ بٹوارہ کسی ایک چیز کا نہیں تھا ہر ہر چیز بانٹ لی گئی، راتوں رات معیار تبدیل ہوئے اور دونوں ممالک ایک ساتھ الگ الگ راہوں پر نئی دنیا کے سفر میں نکلے۔

    اب دونوں ممالک کو خود طے کرنا تھا کہ وہ دنیا میں اپنا مقام کہاں بناتے ہیں۔مگر افسوس کہ پڑوسی ملک نے اس سفر میں ہمیں کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔بھارت نے اس سفر میں جہاں خود کو آگے پڑھایا وہیں ساتھ ہی ساتھ ہمیں بھی پیچھے دھکیلا۔ کبھی انگریز وائسرائے کے ساتھ مل کر بے ایمانی سے خطے کو اس طرح کاٹا کہ ہماری شہ رگ کشمیر ان کے پنجے میں چلی گئی اور ہم کشمیر کے ساتھ ساتھ اپنے ہی پانی کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ کبھی تقسیم کے محض ایک سال بعد ہی ہماری ایک پوری ریاست حیدرآباد دکن کو عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ہم سے چھین کر کاٹ ڈالا اور ہم ان سے سامنے ممنا بھی نہ سکے۔ بھارت نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ پاکستان کو ہر ممکن دباتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اور تو اور خود بھارت میں علیحدگی پسند تنظیمیں دراصل ہندو کے تشدد کا ہی تو رد عمل ہیں۔

    پاکستان بھر میں بھارت کی طرف سے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیش بھی کسی سے ڈھکی چھپیں نہیں۔ سقوط ڈھاکہ کا غم آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں کا درد ہے اور سقوط سرینگر ہماری نیم رضا مندی سے وجود پا رہا ہے، ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت ایک الگ المناک باب ہے۔ ایسے تمام حالات میں ہم پر بحیثیت قوم کچھ اضافی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن سے عہدہ برا ہونا ہماری آنے والی نسلوں کا ہم پر قرض ہے۔

    اپنے تاریخی ورثے سے ہاتھ ہٹا لینا صدیوں تک کا وہ نقصان ہے جس کی بھرپائی کبھی ممکن نہیں۔ نوجوان طالب علم نسل کبھی کسی جگہ یہ پڑھ کر احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں کہ فلاں چیز یا جاندار کا مسکن انڈیا ہے، کوئی یہ نہ سوچے کہ شاید بھارت کے پاس کوئی ایسی خاص چیز ہے جس سے پاکستانی محروم ہیں۔ایمانداری کا تقاضا ہے کہ یہ بات پاک و ہند اور بنگال کے ہر فرد کے ذہن میں راسخ ہو کہ لفظ "ہندستان” یا "انڈیا” سے مراد بھارت نہیں بلکہ 1947 سے قبل والا برصغیر ہے۔

    اقبال کے اشعار "سارے جہاں سے اچھا، ہندستاں ہمارا” اور داغ کے اشعار "ہندستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے” پورے برصغیر کے لیے تھے۔
    اپنی اصل سے محبت اور وفا داری کا تقاضا ہے کہ اپنے درد کو سینے میں زندہ رکھتے ہوئے اپنے حق کو سب سے مقدم رکھا جائے۔

  • محسن انسانیت  ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق

    محسن انسانیت ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق

    محسن انسانیت ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق
    تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
    اگر آپ اقوام متحدہ کے ”انسانی حقوق کا عالمی علامیہ“ اور جمہوری ممالک خصوصا پاکستان کے آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کا مطالعہ کریں تو آپکو انتہائی خوشگوار حیرت محسوس ہوگی کہ زمانہ جدید میں بنیادی انسانی حقوق طے کرتے وقت نبی کریم ﷺ کے خطبہ حجتہ الوداع سے رہنمائی لی گئی ہے۔ آپ کی صحبت میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے 10 ہجری میں حج اداکیا۔9 ذوالحجہ کو نبی کریم ﷺ نے وادی عرفات میں خطبہ حجتہ الوداع ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ نبی کریم ﷺ کا آخری وعظ تھا۔ درحقیقت 14 صدیاں پہلے یہ خطبہ محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کی جانب سے بنی نوع انسان کے لئے بنیادی انسانی حقوق کا اجراء تھا۔ اس عظیم خطبہ میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    ہاں! میں نے آج جاہلیت کے تمام دستوروں کو اپنے پاؤں تلے کچل دیا ہے۔ اللہ عزوجل نے تم سے جاہلیت کی گمراہیاں دور کردیں۔ نسبی فخر مٹا دیئے۔ مومن متقی اور فاجر شقی ہے۔ آج کے بعد عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کسی قسم کی فضلیت نہیں۔ انسان سب آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدمؑ مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تمام مسلمان ایک ہی برادری ہیں۔ اے لوگو! اپنے غلاموں کا خیال کرو جو خود کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ۔ جو خود پہنو وہی انکو پہناؤ۔ جاہلیت کے خون کے دعوے سب کے سب باطل کردئیے گئے۔ سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا خون یعنی ربیعہ بن الحارث کے بیٹے کا خون باطل کرتا ہوں۔ جاہلیت کے تمام سود بھی باطل کرتا ہوں۔ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔ تمہارا خون اور تمہارا مال اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں حرام ہے تاآنکہ تم (بروز قیامت) اپنے پروردگار سے جاملو۔ میں تم میں ایک چیز چھوڑ رہا ہوں اگر تم نے اسکو مضبوطی سے پکڑا تو تم کبھی گمراہ نہ ہوگے وہ چیز اللہ عزوجل کی کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ اللہ نے ہر حق دار کو ازروئے قانون وراثت اسکا حق دے دیا۔ اب کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اسکا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا۔ زانی کے لئے پتھر ہے اسکا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے نسب سے ہونے کا دعویٰ کرے اور جو غلام اپنے مولا کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اس پر اللہ کی لعنت۔ ہاں عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اسکی اجازت کے بغیر کچھ لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ ادھار واپس دیا جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے اور ہاں! میرے بعد گمراہ نہ ہوجاناکہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ تم کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ ہاں! مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا ذمہ دار بیٹا اور بیٹے کے جرم کا ذمہ دار باپ نہیں۔ اگر کوئی ناک کٹا حبشی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو اللہ کی کتاب کے مطابق لیکر چلے تو اسکی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔ ہاں! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا کہ تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں قیامت تک پھر کبھی اسکی پرستش نہیں کی جائے گی۔لیکن تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اسکی پیروی کروگے اور وہ اس پر خوش ہوگا۔ اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ پانچوں وقت کی نماز پڑھو۔ مہینے(رمضان) کے روزے رکھا کرو اور میرے احکام کی اطاعت کرو، اللہ کی جنت میں داخل ہوجاؤگے۔مذہب میں غلو اور مبالغے سے بچے رہنا کیونکہ تم سے پہلی قومیں اسی سے برباد ہوئیں۔ خطبہ دینے کے بعد رسول اکرم ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہوکر پوچھا: ”ہاں! کیامیں نے اللہ کا پیغام سنا دیا؟“۔ لوگوں نے جواب دیا: ”ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہیو۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”تم سے اللہ کے ہاں میری بابت پوچھا جائے گا تم کیا کہوگے؟“۔مسلمانوں نے عرض کیا کہ ہم کہیں گے کہ آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کیا اسکے بعد آپ ﷺ نے آسمان کی طرف تین دفعہ انگلی اُٹھا کر تین دفعہ کہا کہ ”اے اللہ تو گواہ رہیو“۔ جس روز نبی کریم ﷺ نے عرفات میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا اسی دن اللہ کی طرف سے انہیں وحی کے ذریعے حسب ذیل پیغا م ملا: ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کرلیا (پارہ 6، سورۃ المائدہ آیت نمبر 3)“۔ حج ادائیگی کے بعد مدینہ کی طرف لوٹتے وقت آپ ﷺ نے غدیر خم کے مقام پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے سامنے ایک مختصر سا خطبہ دیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں بھی بشر ہوں ممکن ہے اللہ کا فرشتہ جلد آجائے اور مجھے قبول کرنا پڑے، میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑتا ہوں، ان میں سے ایک تو کتاب اللہ ہے جس کے اندر ہدایت اور روشنی ہے، پس اللہ کی کتاب کومضبوطی سے پکڑو اور اس سے چمٹے رہو۔ دوسری چیزمیرے اہل بیت ہیں۔ اپنے اہل بیت کے بارے میں، میں تم کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔
    نبی کریم ﷺ کی جانب سے عطا کردہ بنیادی انسانی حقوق روز قیامت تک آنے والی بنی نوع انسانی اور خصوصا مسلمانوں کے لئے ذریعہ نجات ہیں۔ اللہ کریم سب مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر من و عن پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں نبی کریم ﷺ پر آپ کی اہل بیت پر اور آپ کے اصحاب کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین پر۔آمین ثم آمین (بحوالہ تاریخ اسلام)

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ، خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا؟ — اعجازالحق عثمانی

    ٹرانس جینڈر ایکٹ، خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہمارے معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کا تو نام و نشان تک نہیں پایا جاتا،اور جو رویہ بطور معاشرہ ہمارا خواجہ سراؤں کے ساتھ ہے وہ تو پوچھیے ہی مت۔ خواجہ سرا انتہائی قابل رحم جنس اس لیے بھی ہیں۔ کہ ہم نے انھیں ایک الگ جنس تسلیم کرنے پر آج تک تسلیم ہی نہیں کیا ۔ پیدا ہوتے ہی یہ طبقہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    ہمارے ہاں خواجہ سراؤں کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیاں ہیں ، شاید انہی غلط فہمیوں کو وجہ سے معاشرہ اس تیسری جنس کو قبول نہیں کرتا۔خواجہ سرا ہوتا کیا ہے ؟ اس بات کا جواب سائنسی بنیادوں پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔شناخت کا سب سے زیادہ موثر طریقہ ڈی این اے ہے۔

    ڈی این اے میں موجود "ایکس” اور "وائے” کروموسومز جنسی شناخت کرتے ہیں۔فرٹیلائزیشن سے پہلے صرف "ایکس” کروموسوم ہی پایا جاتا ہے ۔جبکہ سپرم میں یا تو "ایکس” کروموسوم ہوتا ہے، یا پھر "وائے”۔ "ایکس” کروموسوم سے جنم لینے والی جنس لڑکی جبکہ "وائے” کروموسومز کی فرٹیلائزیشن ہو تو پیدا ہونے والی جنس لڑکا ہوگا۔

    لیکن بعض دفعہ کسی لڑکے میں لڑکیوں کی خصوصیات جبکہ لڑکیوں میں لڑکوں کی خصوصیات آجاتی ہیں ۔ظاہری جسمامت لڑکیوں والی ،اور بعض افراد میں خصوصیات لڑکوں والی آجاتی ہیں ۔ ایسی جنس کو خواجہ سرا کہتے ہیں ۔

    2018ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پیش ہوتا ہے۔ جس کے تحت ٹرانس جینڈر کو ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ جنسی ہراسانی سے تحفظ کی فراہمی اور ان سے بھیک منگوانے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا متعین ہوتی ہے۔یہاں تک تو بات ٹرانس جینڈر طبقے کے حق میں تھی اور ان سارے حقوق کا یہ طبقہ حقدار بھی ہے۔ مگر اس ایکٹ کی چند ایک کلاز ایسی ہیں، جن کے بعد میں تو کم از کم اس کو ایکٹ کو خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا کہوں گا۔

    کیونکہ معاشرے سے اٹھ کر کوئی بھی مرد یا عورت کہے کہ وہ خواجہ سرا ہے تو بغیر کسی طبعی روپوٹس اور تحقیق کے مان لیا جائے تو یہ دراصل خواجہ سرا طبقے کے حق پر ڈاکا ہے۔اس ایکٹ کے تحت کوئی بھی شخص خود اپنی جنس کا تعین کر سکتا ہے ۔اور بغیر کسی میڈیکل رپورٹ کے، یعنی کوئی بھی شخص نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس مرد سے تبدیل کروا کے عورت یا عورت سے مرد کروا سکتا ہے۔ خواجہ سراؤں کو حق ہے کہ وہ خود اپنی جنس کا تعین کریں ۔

    کیونکہ بعض خواجہ سرا بچوں کے جنسی اعضا بچپن سے نہیں پہچانے جاسکتے ۔ بلوغت سے پہلے جنسی غدود فعال نہیں ہوتے اور جنسی ہارمونز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔اس لیے جسمانی ساخت سے پہچان خاصا پیچیدہ عمل ہوتا ہے ۔ ایسے میں وہ بچے اپنی جنس کا تعین خود ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں ۔

    مگر۔۔۔۔۔۔ایسے کھلا کھلم آزادی کہ جس کا جی چاہے اپنی جنس کا تعین خود کرنے بیٹھ جائے ، کسی طور پر بھی بڑی تباہی اور بربادی سے کم نہیں،معاشرے کی ان کالی بھیڑوں کو لگا کیسے اور کون ڈالے گا جو اس ایکٹ کی آڑ میں، اسے ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون بنا لیں گے۔