کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی کئی تحریریں اور خبریں نظر سے گزریں جنہوں نے دل کو بے حد بوجھل کر دیا۔ واقعی بعض سانحات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر تک اتر جاتے ہیں، روح کو زخمی کر دیتے ہیں اور دل کے نہاں خانوں میں ایک مستقل درد چھوڑ جاتے ہیں۔ دو دن سے طبیعت سخت بیزار رہی۔ دل عجیب سی اداسی اور شکستگی کا شکار رہا۔ آج ارادہ کیا تھا کہ کسی ادبی گروپ کی سرگرمی میں حصہ نہیں لوں گی۔ دل کے دروازے پر ایک نوحہ مسلسل دستک دے رہا تھا، اور قلم خودبخود ہاتھ میں آ گیا۔
"میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”
چھ سال قبل، مختار راٹھور صاحب کے کم سن فرزند معصوم عمر راٹھور جن کی عمر پانچ سال سے بھی کم تھی، 21 دسمبر کو اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو میں اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اغوا کر لیے گئے۔ اغوا کا مقصد تاوان وصول کرنا تھا۔مرکزی ملزم حمزہ جہانگیر، جو عمر راٹھور کا قریبی کزن تھا اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ اس گھناؤنے جرم میں شریک تھا۔ ظلم کی انتہا دیکھیے کہ یہ سفاک لوگ چار دن تک اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر بچے کو تلاش کرنے کا ڈھونگ کرتے رہے۔ وہ والدین کے ساتھ ہمدردی جتاتے رہے جبکہ حقیقت میں انہی کے ہاتھ معصوم کلی کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔
شدید سردی کے موسم میں عمر کو ایک کرائے کے مکان میں رکھا گیا۔ جب معصوم بچہ خوف اور تکلیف سے رونے لگا تو ظالموں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے، منہ پر ٹیپ لگا دی، اور اسے الماری میں بند کر دیا۔ اندھیرے، گھٹن اور خوف کے اس عالم میں وہ ننھا فرشتہ دم گھٹنے سے اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔
سوچیے وہ بچہ کس قدر خوفزدہ ہوگا۔ اس نے اپنی ماں کو پکارا ہوگا، اپنے باپ کو یاد کیا ہوگا، اور شاید آخری لمحوں میں یہ امید بھی کی ہوگی کہ کوئی آ کر اسے اس اندھیرے سے نکال لے گا۔ مگر افسوس! اس کی معصوم صدائیں الماری کی بند دیواروں میں دفن ہو گئیں۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ عمر کے والدین نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ برسوں کی پیشیاں، انتظار، امید اور آنسوؤں کے بعد جون 2023ء میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو دو، دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔ یوں محسوس ہوا کہ شاید اب انصاف کا سورج طلوع ہو گا، شاید عمر کی بے بسی کا حساب لیا جائے گا شاید ایک ماں کے دل کو کچھ قرار ملے گا۔لیکن دو دن قبل سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ یہ خبر سن کر دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور ذہن میں بار بار یہی سوال گونجتا رہا کہ آخر ایک معصوم جان کی قیمت کیا ہے؟ کیا چند برس قید کاٹ لینا اس ظلم کا کفارہ ہو سکتا ہے؟ کیا ایک ماں کے خالی آغوش اور ایک باپ کے اجڑے ہوئے خوابوں کا کوئی نعم البدل ہے؟
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے

ہمارا نظامِ عدل اس قدر کھوکھلا، فرسودہ اور دیمک زدہ محسوس ہوتا ہے کہ مظلوم کو انصاف کی امید بھی ایک خواب لگتی ہے۔ آج وہ والدین، جن کے زخموں پر مرہم رکھا جانا چاہیے تھا، ایک ایسے فیصلے کے سامنے کھڑے ہیں جس نے ان کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔چھ سال تک ہر صبح انصاف کی امید اور ہر رات آنسوؤں کے ساتھ گزارنے والے ماں باپ پر کیا گزری ہوگی؟ کتنی بار انہوں نے اپنے بیٹے کی تصویروں کو سینے سے لگایا ہوگا؟ کتنی بار اس کے کھلونوں کو دیکھ کر سسکے ہوں گے؟ کتنی بار دروازے کی طرف بے اختیار دیکھا ہوگا کہ شاید عمر دوڑتا ہوا آ جائے۔
مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ کاش! ہمارے معاشرے میں ایسا نظامِ انصاف نافذ ہو جو مجرم کے دل میں جرم سے پہلے ہی خوف پیدا کر دے۔ ایسی سزائیں ہوں کہ کوئی درندہ کسی معصوم بچے کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے سو بار سوچے۔
اللہ تعالیٰ عمر راٹھور کے درجات بلند فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین کو صبرِ جمیل دے۔ آمیناور اللہ ہمارے نظامِ انصاف کو حقیقی معنوں میں انصاف کا گہوارہ بنائے،کیونکہ جب معصوم بچوں کے قاتل رعایت پانے لگیں تو معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ پھر ہر ماں اپنے بچے کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف زدہ رہتی ہے، اور ہر باپ کے دل میں ایک انجانا سا ڈر جاگ اٹھتا ہے۔
آخر میں دل سے بس یہی صدا نکلتی ہے:
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟
ظالم کی رسی دراز ہے اور ڈھیل بھی دے دی جاتی ہے ۔منصفو کا منصف بھی موجود ہے ۔جب عمر اپنے رب سے شکایت کرے گا تو یہ ڈھیل بھی ختم ہو جائے گی ۔اللہ پاک بہترین انصاف کرنے والے ہیں۔
