Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    اللہ تعالی ٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے ۔یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اسکے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔

    جامع ترمذی کی ایک حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا  جن لوگوں کو غصہ نہیں آتا اور جو اپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں میرے نزدیک اس نے اپنی زندگی جیت لی وہ جیسے چاہئے اپنی زندگی کو اپنے طور پر گزار سکتا ہے دنیا میں دو لوگ کامیاب زندگی گزارتے ہیں ایک جو صبر کرتے ہیں اور دوسرا جن کے دل میں رحم ہوتا ہے جن میں یہ دونوں صفات نہ پائ جائیں وہ غصے میں نہ تو صبر کر پاتے ہیں اور نہ ہی کسی پہ رحم  اور نتیجتاً جذباتی اور غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کی کیونکہ غصے میں انسان کو ہوش ہی نہیں ہوتا اپنے نفس پر قابو پانا سیکھئے خدا سے ڈریئے  اور اگر آپ کے کہئے ہوئے الفاظ سامنے والے کو برے لگے تو اور اس نے صبر کر لیا تو معاملہ پھر آپ کے اور خدا کے درمیان آ جائے گا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے مجھے جب خود غصہ آتا ہے تو میں قابو نہیں رکھ سکتا لڑائ قطع تعلقی کے ساتھ ساتھ گالم گلوچ پر بھی اتر آتا ہوں میں نے گزشتہ 22 رمضان کو ایک خبر پڑھی اخبار میں پشاور میں ایک شخص نے رمضان میں اپنی 6 سالہ بھتیجی کو صرف اس بات پہ فائرنگ کر کے قتل کر دیا کے وہ سو رہا تھا اور بچی شور کر رہی تھی اس کے آرام میں خلل پڑ رہا ہو گا جس کا اتنا غصہ آیا اس کو کے اس نے پھول جسیی ننھی معصوم کلی کو چار گولیاں تک مار دیں اور اپنے لیے رحمتوں اور مغفرتوں کے مہینے میں ایک فرض کی تکمیل کرتے ہوئے جہنم خرید لی آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا یار مجھے غصہ بہت آتا ہے اپنے غصے پر قابو پانا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ غصہ آگ ہے یہ دماغ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھوڑی دیر کیلئے چھین لیتا ہے غصے کا آغاز حماقت اور انجام پچھتاوا ہے غصے میں انصاف ہر گز نہیں ہو سکتا اور غصے میں کئے گئے فیصلے کبھی درست ثابت نہیں ہوتے یہ ہنستے بستے گھر اجاڑ کے رکھ دیتا ہے گھر میں کوی بے قاعدگی ہو جائے تو آپکو شدید غصہ آتا ہے اچھا خاصہ گھر پانی پت کا میدان بن جاتا ہے لیکن آپ اگر دفتر میں کوے غلطی کریں تو آپ کو جھاڑ پلائ جائے تو آپ برداشت کر لیتے ہیں اس انتہائ ناپسندیدہ صورتحال میں بھی آپ اپنے غصے پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا سیدھا اور صاف جواب یہی ہے کے غصہ آتا نہیں بلکہ کیا جاتا ہے غصہ آئے یہ کیا جائے دونوں صورتحال میں غصہ اچھی چیز نہیں ہے بزرگوں نے اس سے بچنے کی تلقین کی آدمی کس کس بات کا رونا روئے غصہ تو بہت ساری باتوں پر آتا ہے آج وطن عزیز میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں بہت سے سقراط بقراط اور ارسطو اپنے نام نہاد زریں خیالات سے قوم کو نواز رہے ہیں لیکچر پہ لیکچر دئے جا رہے ہیں الکٹرانک میڈیا پہ لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں دانشوریاں بکھیری جاتی ہیں پاکستان کی زبوں حالی پر مگر مچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اس کی ترقی کے حوالے سے اپنے سستے جذبات کی تشہیر کی جاتی ہے ان لوگوں کی باتیں سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کے پاکستان اور اس کی مظلوم عوام کے غم میں یہ بے چارے گھلے جا رہے ہیں اور ان کے شب وروز اسی سوچ میں گزرتے ہیں کبھی غور کیجئے کتنے لوگ جن کے پاس وسائل بھی ہیں اقتدار بھی ہے اگر وہ پسماندہ  عوام کی بہتری کیلئے کچھ کرنا چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں چند ماہ پہلے ایک عالمی سروے  سے معلوم ہوا ہر تیسرا شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے  عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی گیلپ گلوگل ایموشنز  رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آیا ہے یوں کہئے پوری قوم اس وبا میں مبتلا ہو چکی ہے نائ حلوائی قصائ نانبائی غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا نشے میں اپنے ہوش و حواس کھو چکا ہے کچھ لوگوں نے غصہ آنے کی ایک بڑی وجہ  ظلم اور ناانصافی کو قرار دیا ہے  یقینا  ہمارے  معاشرے میں جھوٹ کا چلن بہت عام ہو چکا ہے یہ ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑے بگاڑ اور بے برکتی کا سبب ہے ظالمانہ مناظر تو ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سکہ تو یہاں خوب چلتا ہے ایک مشہور چینی کہاوت ہے ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں ہمارے ہاں بھی یہی دستور ہے قانون کی پکڑ صرف غریب کیلئے ہے بڑے چوروں کو ہماری جیلوں میں وہ سہولتیں میسر ہیں جس کا غریب آدمی اپنے گھر میں بھی نہیں سوچ سکتا کچھ لوگوں کو دوسروں کی بدتمیزی اور غیر ذمہ داری پر بھی غصہ آتا ہے لوگ گلیوں میں گندگی پھینک دیتے ہیں جس طرف نظر اٹھتی ہے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں اگر کوئ روکنے یہ سمجھانے کی کوشش کریے تو تو آگے سے کہا جاتا ہے یار یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے یہ جملہ یقینا بہت زیادہ غصہ دلانے والا ہے ہم اپنے مادر وطن کی تحقیر ہر ہر وقت آمادہ نظر آتے ہیں اپنے پیارے وطن کی ہماری نظروں میں کوی وقعت ہوتی تو ہم ایسی بات کبھی بھی نہ کہتے معاشرتی اخلاقیات کا فقدان ہے بڑی بڑی شاہراوں پر ٹریفک پولیس کی موجودگی میں قانون توڑے جاتے ہیں مک مکا کی وجہ سے قانون کو کھیل سمجھا جاتا ہے قانوں کے رکھوالوں کی مٹھی گرم کرنے کا عام رواج ہے یہ سب وہ مذموم حرکتیں ہیں جنہیں دیکھ کر ہر شریف شہری کا خوں کھول اٹھتا ہے اس سب کچھ کے باوجود یہ بات بڑی خوش آئند ہے جنوبی ایشیا میں بسنے والے ایک ارب اسی کروڑ لوگوں میں سے ہم بائیس کروڑ پاکستانی سب سے ذیادہ خوش اور مطمئن ہیں اس خوشی اور اطمینان کی وجوہاٹ میں سے ایک بہت بڑی وجہ اللہ کی ذات پہ مکمل یقین اور بھروسہ ہے

    @saadakram_   twiter handle 

  • سفید پوشی, خود داری اور یہ مجبوریاں ..تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سفید پوشی, خود داری اور یہ مجبوریاں ..تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    خود داری بہترین انسانی صفت ہے اور آج تک خوددار انسان کبھی ناکام نہیں ہوا.
    ہر انسان خود دار رہنا پسند کرتا ہے اور اپنی خودداری پہ کبھی سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتا. مگر بعض اوقات اُسے ایسی مجبوریاں جکڑ لیتی ہیں جو اسکی خودداری کو جھکنے پر مجبور کردیتیں ہیں.
    آپ نے کبھی ایسے مجبور باپ کو دیکھا ہوگا جو اپنی اولاد کے لئے دن رات محنت کرتا ہے اسے طرح طرح کی مصیبتیں جھیلنی پڑتیں ہیں اور کئی لوگوں کی ڈانٹ اور گالیاں بھی سننی پڑتی ہیں. اسکے باوجود وہ اپنی محنت سے کام کرتا ہے کیونکہ اس نے اپنا گھر چلانا ہوتا ہے. اپنے بچے پالنے ہوتے ہیں.
    ایک ریڑھی والے کو جب 1500 کا چالان تھما دیا جاتا ہے تو اسکی حالت کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو خود مزدور ہو,
    مگر جیسے تیسے کرکے اس نے چالان بھی بھرنا ہوتا ہے چاہے اسکے لئے اسے خود بھوکا سونا پڑ جائے…
    باپ جو اپنے بچوں کے لئے کسی ہیرو سے کم نہیں ہوتا وہ اپنے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھنے کے لئے اپنا آپ بھول جاتا ہے. اس کے لئے اپنی صحت اپنی ہمت معنی نہیں رکھتی وہ اپنے آپ کو کمزور کرتا ہے تاکہ اُسکی اولاد کسی قابل بن سکے.
    وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے دکھ اپنے چہرے سے ظاہر نہ دے کیونکہ وہ اپنی اولاد کو ہر وہ خوشی دینا چاہتا ہے جو اسکے اختیار میں ہوتی.
    اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اسکو اپنی خود داری کو دفن کرنا پڑتا جاتا ہے. اسے کئی طرح کے طعنے سننے پڑتے ہیں مگر اُسے سب برداشت کرنا پڑتا ہے.

    اللہ کا قانون ہے کسی کو آسائشیں دے کے آزماتا ہے تو کسی کو ان آسائشوں سے محروم رکھ کے آزماتا ہے.
    اچھا اور برا وقت ہر کسی پہ آتا ہے اچھے وقت میں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور بُرے وقت میں صبر. اور صبر اور شکر دونوں اللہ کو بہت پسند ہے.
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اندھیرے میں اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے مطلب کے بُرے وقت میں کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا.. مگر بُرا وقت اچھے برے اور اپنے پرائے کی تمیز ضرور کرا دیتا ہے.
    بُرے وقت میں اگر ہم کسی کو کچھ دے نہیں سکتے مگر تسلی کے دو بول تو دے سکتے ہیں اسکے ساتھ کھڑے رہ کر اسے حوصلہ تو دے سکتے ہیں.
    آج اس دور میں غمِ روزگار نے سب کو پریشان کر رکھا ہے. ایک طرح سے اپنے رشتے داروں سے بھی دور کردیا ہے. اور یہ انکی مجبوری بھی ہے
    انسان جب کسی کو کسی تکلیف میں دیکھتا ہے تو کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ اسکی تکلیف دور کرسکے.
    میں جب کسی کو سڑک پہ ٹھیلہ لگائے دھوپ میں کھڑا ٹھنڈا شربت پی لو… کی آوازیں لگاتے دیکھتی ہوں یا کوئی اپنے کندھے پہ کسی کا سامان لادے اسکے پیچھے چلتا ہوا دیکھتی ہوں تو سوچنے پہ مجبور ہوجاتی ہوں کہ مالک انکی آزمائش واقعی کٹھن ہے.
    میرا جانا راولپنڈی کے ایک مشہور اسپتال ہوا
    وہاں میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو لگ بھگ 70 سال کے تھے.
    بہت تکلیف میں تھے پر انکے ساتھ کوئی نہیں تھا.
    مجھ سے رہا نہیں گیا میں اُن کے پاس چلی گئی, پوچھا بابا جی کیا ہوا ہے آپکو..
    تو کانپتے ہاتھ سے اشارہ کِیا کہ سینے میں درد ہے.
    میں ڈاکٹر کو بُلا کے لائی, ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد کچھ ٹیسٹ لکھے اور نرس کو انجکشن لگانے کی ہدایت کرکے چلا گیا
    دل میں طرح طرح سوال تھے کہ انکے ساتھ کوئی کیوں نہیں, یہ کون ہیں کہاں کے ہیں وغیرہ
    میں اسی سوچ میں تھی کہ اُن بزرگ نے مجھے آواز دی
    بیٹی آپکے بیٹے کو کیا ہوا ہے ؟
    میں نے انھیں بتایا کہ اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو چیک کروانے آئی ہوں. اب رپورٹس کا انتظار کررہی ہوں..
    میں نے پوچھا : بابا جی آپ کہاں سے آئے ہیں؟
    تو بولے میں چکوال سے ہوں.
    آپ کے ساتھ کوئی نہیں ہے ؟؟ میں نے پھر سوال کیا.
    تو اُنکی آنکھوں میں آ نسو آ گئے, بولے میرے ساتھ بس میرا اللہ ہے.
    جوان بیٹا ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگیا اب اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں, انکے لئے میں یہاں آیا ہوں مزدوری کرنے..
    میں نے پوچھا بابا جی کیا کام کرتے ہیں ؟
    تو بولے ریڑھے پہ سامان لاد کے لے جاتا ہوں اور ایک پھیرے کا 30 روپے مل جاتے ہیں, کبھی کبھی طبیعت خراب ہوتی ہے تو لوگوں کی گالیاں بھی سنتا ہوں کیونکہ انکو کام چاہیے ہوتا ہے.
    جیسے جیسے وہ بتا رہے تھے میرے لئے کسی دکھ سے کم نہ تھا کہ وہ اس حالت میں, اس عمر میں مزدوری کررہے کیونکہ انکا سہارا کوئی نہیں اور اب بھی وہ کسی کا سہارا بنے ہوئے ہیں
    میں نے بابا جی کو تسلی دی کہ اللہ پاک آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور کچھ مدد کرنی چاہی پر بابا جی نے میرا ہاتھ روک دیا کہ میری بیٹی ہوتی تو آج وہ تمھاری عمر کی ہوتی اور باپ بیٹیوں سے پیسے نہیں لیتے.
    میں نے جب اصرار کیا تو کہنے لگے پتر مینوں شرمندہ نہ کر.
    کتنی خودداری تھی انکی آواز میں کہ میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کردیا.
    بابا جی کی آنکھوں میں آنسو تھے پھر آنکھیں بند کردی
    اور دھیمی آواز میں کہنے لگے اللہ تمھیں اپنے بچے کی خوشیاں نصیب کرے. بچوں کو اللہ ماں باپ کے لئے زندہ رکھے. اللہ تمھارے بچے کو زندگی دے..
    پتا نہیں کیوں میری آنکھیں بھیگنے لگیں
    میں دل سے دعا کررہی تھی کہ اے اللہ مجھے اتنی طاقت دے کہ میں لوگوں کی زندگی سے انکی تکلیفیں دور کرسکوں کسی کی آنکھوں میں آنسو آ نے نہ دوں اور نہ کبھی کسی کی آنکھ میں آنسو آنے کی وجہ بن سکوں.
    آمین

    @Rehna_7

  • اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟   تحریر: زاہد کبدانی

    اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟ تحریر: زاہد کبدانی

    ذہنی صحت صحت مند ، متوازن زندگی گزارنے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔

     ( نیشنل الائنس آف مینٹل بیماری ) کے مطابق ، ہر پانچ میں سے ایک ذہنی صحت کے مسائل کا تجربہ کرتا ہے جو کہ سالانہ 40 ملین سے زائد بالغوں میں ترجمہ کرتا ہے۔

    ہماری ذہنی صحت ہماری نفسیاتی ، جذباتی اور سماجی بہبود کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہم ہر روز کیسا محسوس کرتے ہیں ، سوچتے ہیں اور برتاؤ کرتے ہیں۔ ہماری ذہنی صحت ہمارے فیصلہ سازی کے عمل میں بھی کردار ادا کرتی ہے ، ہم کس طرح تناؤ کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہم اپنی زندگی میں دوسروں سے کیسے تعلق رکھتے ہیں۔

    جذباتی صحت کیوں ضروری ہے؟

    جذباتی اور ذہنی صحت اہم ہے کیونکہ یہ آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور آپ کے خیالات ، طرز عمل اور جذبات کو متاثر کرتا ہے۔ جذباتی طور پر صحت مند ہونا کام ، اسکول یا دیکھ بھال جیسی سرگرمیوں میں پیداوری اور تاثیر کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ آپ کے رشتوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، اور آپ کو اپنی زندگی میں تبدیلیوں کو اپنانے اور مشکلات سے نمٹنے کی اجازت دیتا ہے۔

    آپ اپنی جذباتی صحت کو روزانہ کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟

    ایسے اقدامات ہیں جو آپ اپنی ذہنی صحت کو روزانہ بہتر بنانے کے لیے اٹھا سکتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے ورزش کرنا ، متوازن اور صحت مند کھانا کھانا ، اپنی زندگی میں دوسرے لوگوں کے لیے کھولنا ، جب آپ کو ضرورت ہو تو وقفہ لینا ، کسی ایسی چیز کو یاد رکھنا جس کے لیے آپ شکر گزار ہوں اور اچھی نیند لینا آپ کی جذباتی صحت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ .

    مدد کے لیے پہنچنے کا اچھا وقت کب ہے؟

    ذہنی صحت سے متعلق مسائل مختلف لوگوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی مجموعی خوشی اور رشتوں میں تبدیلیاں دیکھنا شروع کردیتے ہیں تو ، ہمیشہ آپ کی مدد حاصل کرنے کے طریقے موجود ہیں۔ یہاں کچھ طریقے ہیں جن سے آپ مدد حاصل کر سکتے ہیں:

    دوسرے افراد ، دوستوں اور کنبہ کے ساتھ رابطہ قائم کریں – اپنی زندگی کے دوسرے لوگوں تک پہنچنا اور ان سے رابطہ کرنا جذباتی مدد فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    ذہنی صحت کے بارے میں مزید جانیں – جذباتی صحت کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بہت سے وسائل ہیں جن کی طرف آپ رجوع کر سکتے ہیں۔ کچھ مثالوں میں سائیکالوجی ٹوڈے ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ ، اور بے چینی اور ڈپریشن ایسوسی ایشن آف امریکہ شامل ہیں۔

    ذہنی صحت کا جائزہ لیں – ایک تشخیص اس بات کا تعین کرنے میں مدد کر سکتی ہے کہ تناؤ ، اضطراب یا ڈپریشن آپ کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر آن ڈیمانڈ ایک مفت اور نجی آن لائن ذہنی صحت کی تشخیص پیش کرتا ہے جسے آپ کسی بھی وقت لے سکتے ہیں۔

    کسی پیشہ ور سے بات کریں – اگر آپ محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں کہ آپ کی جذباتی صحت آپ پر اثرانداز ہونے لگی ہے تو ، اضافی مدد کے لیے پہنچنے کا وقت آسکتا ہے۔ ڈاکٹر آن ڈیمانڈ کے ساتھ ، آپ ایک ماہر نفسیات یا ماہر نفسیات کو دیکھ سکتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

    آخر میں ، آپ ہمارے بلاگ پر اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں۔ اپنی جذباتی تندرستی کے لیے صحت مندانہ انداز اپنانے کے طریقے دریافت کریں، نیز ڈپریشن جیسے مسائل کو سمجھیں اور یہ مردوں اور عورتوں کو مختلف طریقے سے کیسے متاثر کر سکتے ہیں۔ 

    @Z_Kubdani

  • فیصلہ  پارٹ نمبر 1 تحریر سکندر علی 

    فیصلہ پارٹ نمبر 1 تحریر سکندر علی 

    Twitter @CikandarAli

    یہ بہار کے انتہائی خوب صورت موسم میں ایک اتوار کی صبح تھی ۔ ایک نوجوان تا جر جارج بینڈ مان دریا کے کنارے

    کنارے بنے چھوٹے اور خستہ حال گھروں، جو اپنی بلندی اور رنگ سے ایک دوسرے سے مختلف معلوم نہیں ہوتے ہیں، کی

    طویل قطار میں سے ایک گھر کی پہلی منزل میں اپنے ذاتی کمرے میں بیٹا ہوا تھا۔ وہ ابھی اپنے ایک دیرینہ دوست کو، جو

    اب دیار غیر میں رہتا تھا، خط لکھ کر فارغ ہوا تھا اور پھر اس نے خط کو سختی کے ساتھ سوچوں میں کھوئے ہوئے انداز میں

    الناس میں ڈالا اور اب لکھنے کی میز پر کہنیاں ٹکائے کھڑکی سے با مردم با پل اور پر لے گٹار سے پر آنکھوں کو بھی معلوم

    ہونے والی ہریالی والی پہاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔

    وہ اپنے دوست کے بارے میں سوچ رہاتھا جوحقیقت میں چند سال پہلے روس بھاگ گیا تھا۔ یہاں دو اپنے حالات

    سے غیرمطمئن رہتا تھا۔ اب وہ سینٹ پیٹرز برگ میں اپنا کاروبار چلارہا تھا جو شروع میں تو خوب پکا لیکن اب طویل ع سے

    سے پہلی حالت میں تھا اور جس کی شکایت وہ سلسل بے قاعدگی کا شکار ہو جانے والے اپنے یہاں کے دوروں کے دوران

    کیا کرتا تھا۔ وہ دیار غیر میں بے کارهای خود کو تک رہا تھا۔ اس کی بڑی داڑھی اس چہرے کو پوری طرح نہیں جب پانی کی ہے

    جارج چین سے جانا تھا اور اس کی جلد کی رنگت اتنی زرد ہو چکی تھی کہ اس کے جسم میں پلنے والی کی باری کا پت دی۔

    جیسا کہ اس نے خود بتایا اس کا وہاں مقیم اپنے ہم وطنوں سے کوئی باقاعدہ رابط نہیں تھا، نہ ہی مقائی روی کنبوں سے اس

    کے تعلقات بہتر تھے اور یوں اس نے مستقل کنوار پن پر قناعت کر رکھی تھی۔

    اپنے ان کو آخر کیا لکھا جاسکتا ہے جوخو بدحالی کا کار ہوں۔ جس کی حالت پرافسوس تو کیا جا سکتا تھا لیکن اس کی دو کرتا

    ممکن نہیں تھا۔ کیا اسے نصیحت کی جانی چاہیے کہ وہ واپس آجائے ، یہاں اپنی زندگی کی شروعات کرے، تمام پرانے

    دوستانہ تعلقات کی تجدید کرے، یہاں اس کے لیے رکاوٹ بھی کوئی نہیں ہوگی اور پھر موی طور پر اپنے دوستوں کی اعانت پر

    بھروسہ رکھے لیکن بیتو اس سے یہ کہنے کے مترادف ہوگا اور یہ کہ یہ بات بھی نرمی سے کہی جائے اتنی ہی تکلیف دہ ہوتی

    تھی کہ اس کی بھی کوششیں لے کر گئی تھیں ، یہ کہ اسے اب یہ سب کچھ چھوڑ و یا اپنے ملک لوٹ آنا اور لوگوں کی نظروں کا

    سامنا کرنا چاہے جواسے سب کچھ نا کر آنے والے کے طور پر دیکھیں گی اور یہ کہ اصل مجھ بوجھ تو اس کے دوستوں کی کو

    حامل ہے جب کہ وہ خود ایک بڑا بچہ ہی ہے جسے وہی کچھ کرنا چاہیے جو اس کے کامیاب اور گھر بار والے دوست اس کے

    لیے تجویز کریں۔

    پھر بھی کیا یقینی تھا کہ جس مقصد کے لیے اسے یہ اذیت پہنچائی جائے گی، وہ پورا ہو سکے گا۔ شاید ممکن نہیں تھا کہ

    اسے واپس وطن لایا جائے۔ اس نے خود سے کہا کہ اپنے ملک کے تجارتی معاملات سے اب اس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

    یوں وہ اس اجنبی سرزمین پر دوستوں کے صلاح مشورے سے عاجز اور ان سے علیحدہ رہ کر ایک اجنبی کی زندگی گزارے

    گا لیکن اگر ایسا ہو کہ وہ دوستوں کا مشورہ بھی قبول کرے اور پھر یہاں جم کر کوئی کام بھی نہ کر پائے کسی کی دشمنی کی وجہ سے

    نہیں بلکہ حالات ہی اسے اس نے پر لے آئیں تو دوستوں کے ساتھ بیان کے بغیر وہ نہیں چل پائے گا، بکی محسوس کرے گا

    اور یہ کہنے جوگا بھی نہیں رہے گا کہ اس کے کچھ دوست ہیں اور اس کا اپنا بھی کوئی وطن ہے ۔ تو کیا ہی بہتر نہیں ہے کہ جیسے بھی

    حالات میں وہ غیر ملک میں رہ رہا ہے، ویسے ہی رہے۔ ان سب باتوں کے پیش نظر کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا تھا

    کہ یہاں آنے کے بعد وہ ایک کامیاب زندگی گزارنے لگے گا۔

    ان وجوہات کے تحت اگر کوئی اس سے خط و کتابت جاری رکھے تو وہ اسے ایسی خبریں نہیں بتائے گا جو دور دراز رہنے

    والے دوستوں کو بے تکلفان سمجھی جاتی ہیں۔ پچھلی بار وہ تین سال پہلے یہاں آیا تھا۔ اس نے بیعذر پیش کیا تھا کہ روس کے

    سیاسی حالات دگرگوں تھے جس کی وجہ سے اس جیسے معمولی تا جر کو بھی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ملک سے باہر جانے کی

    مہلت حاصل نہیں تھی، جب کہ حقیقت اس دوران میں لاکھوں روی سہولت کے ساتھ دوسرے ملکوں میں گھوم پھر رہے تھے۔

    ان تین برسوں میں جارج کی اپنی زندگی بہت کی تبدیلیوں کی زد میں آئی تھی۔ دو سال پہلے اس کی ماں فوت ہوگئی۔

    اس کے بعد سے وہ اپنے باپ کے ساتھ کر گھر داری کی ذمہ داریاں پوری کر رہا تھا۔ اس کے دوست کو بھی بلاشبہان

    سانحے کے اطلاع دی گئی تھی لیکن اس نے جواب میں ایسے روکھے انداز میں اظہار ہمدردی کیا تھا جس سے پینتیجہ نکالا جاسکتا

    تھا کہ اس سانحے سے پیدا ہونے والا دکھ دور دراز کسی ملک میں محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ اسی سانحے کے بعد سے جاری زیاده

    پختہ ارادے کے ساتھ اپنے کاروباری معاملات اور دیگر امور میں پہلے سے زیادہ مصروف ہو گیا تھا۔

    ماں زند تھی تو کاروباری معاملات میں وہ شاید اس لیے بھی زیادہ ذوق و شوق سے کام نہیں کر سکا کہ اس کا باپ اپنی

    من مانی کرنے کا شائق تھا۔ شاید اپنی بیوی کی وفات کے بعد اس کے باپ کا مزاج گم جارحانہ ہو گیا تھا۔ حالاں کہ وہ

    کاروباری معاملات میں اب بھی دخیل تھا۔

    جاری ہے 

  • فیصلہ کرنے کی صلاحیت :: تحریر محمّد اسحاق بیگ 

    فیصلہ کرنے کی صلاحیت :: تحریر محمّد اسحاق بیگ 

    کیا میں اتنا برا ہوں ۔ ” یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب میں اپنے بارے میں،  اپنے آپ کو کہتا ہوں ؟ ”

     "میں ایک کمزورانسان  ہوں۔ میں کبھی بھی کہیں نہیں جا سکتا۔”

     "میں بہت بیوقوف ہوں۔ مجھے اس وقت اس محفل  میں شامل ہونا چاہیے تھا۔”

     "میں فٹ نہیں ہوں۔ میرے پاس ان افراد کے ساتھ کوئی جگہ نہیں ہے۔”

     "میں کبھی بھی کافی نہیں ہوں گا۔ میں اسے کبھی بھی مناسب طریقے سے نہیں کروں گا۔”

     "میں ہر وقت حقیقی طور پر نقصان پہنچا رہا ہوں۔ میں کبھی ٹھیک نہیں ہوں گا۔”

     "کوئی بھی مجھے پسند نہیں کر سکتا۔ میں پیارا نہیں ہوں۔”

     … ، وغیرہ ، وغیرہ

     کیا یہ سچ ہے کہ آپ اپنے فیصلوں کو ذہن میں رکھتے ہیں؟  کیا یہ سچ ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ آپ کتنی بار اپنے آپ کو خوفناک ، غلط ، یا کسی  کمی کا فیصلہاپنے بارے میں کرتے ہیں؟  کیا یہ سچ ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ آپ اپنے فیصلوں کی وجہ سے اپنے احساسات کو کیسے ختم کرتے ہیں؟

     افراد کے ساتھ اپنی  رہنمائی کے کام میں ، میں یہ جانتا ہوں کہ خود فیصلہ کرنا ،  خوف ، غصہ ، بے چینی اور بدحالی کی ایک اہم وجہ ہے۔  تاہم بہت سارے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ مشکل احساسات  ان کے اپنے جذبات ، ان کے اپنے فیصلوں کے اثرات ہیں۔  زیادہ تر نہیں ، جب میں ایک بے چین انسان  سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس اچھی وجہ سے بے چینی محسوس کر رہے ہیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ان کے ساتھ ہونے والی کسی چیز کا براہ راست نتیجہ ہے۔  وہ ایک اصول کے طور پر قبول کرتے ہیں کہ ایک موقع یا فرد ان کے تناؤ کا سبب بنتا ہے۔  تاہم جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ کیا تصور کر رہے ہیں جو ان کی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں تو وہ مجھے خود فیصلہ کرنے دیتے ہیں ، مثال کے طور پر ، "مجھے یہ حق کبھی نہیں ملے گا” یا وہ مجھ پر اپنا فیصلہ تھونپ رہے ہیں اور بتا رہے ہیں  خود ، ” میری بیوی  پرواہ نہیں کرتی ،” یا "میری بیوی  میرے ساتھ بے چین ہو رہی ہے۔”  جب وہ خود فیصلہ کرتے ہیں یا فیصلہ کرتے ہیں کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کر رہا ہوں تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔  واقعی کچھ نہیں ہو رہا ہے جو ان کے اپنے خیالات کے علاوہ ان کے تناؤ کا سبب بن رہا ہے۔

     ان کے سامنے لانا کہ وہ اپنے نفس کے فیصلے سے تناؤ کا باعث بن رہے ہیں واقعی فیصلے کو نہیں روکتے ہیں۔  یہ اس بنیاد پر ہے کہ خود فیصلہ اکثر درست ہوتا ہے۔  فکسشن ایک جاری طرز عمل ہے جس سے عذاب سے محفوظ رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔  محض اذیت کیا ہے جس کے خلاف فیصلے کی توقع کی جاتی ہے؟

     زیادہ تر لوگوں  میں ، خود فیصلہ کرنے کی خواہش برخاستگی اور مایوسی سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔  دھوکہ یہ ہے کہ ، "یہ فرض کرتے ہوئے کہ میں خود فیصلہ کرتا ہوں ، دوسرے مجھ پر فیصلہ نہیں دیں گے اور مجھے مسترد کردیں گے۔ میں پہلے اپنے آپ پر فیصلہ دے کر دوسروں کے فیصلے سے محفوظ رہ سکتا ہوں ،” یا پھر دوبارہ "اس صورت میں جب میں خود فیصلہ کرتا ہوں ،  میں اپنے آپ کو چیزوں کو صحیح کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کر سکتا ہوں۔ پھر ، اس وقت ، مجھے سیکورٹی کا احساس ہو گا اور دوسروں کی طرف سے اس کی قدر اور تعریف کی جائے گی۔ ”

     کسی بھی صورت میں ، اسی طرح اسکول میں جہاں تک تجزیہ کے مقابلے میں تسلی کے ساتھ بہتر ہے ، اسی طرح ہم بھی بڑے ہو گئے ہیں۔  تجزیہ کار  عام طور پر گھبرائے گا اور ہمیں متحرک کرے گا۔  ہمیں حوصلہ دینے کے بجائے ، یہ کثرت سے کشیدگی کو بڑھا دیتا ہے کہ ہم منجمد ہو جاتے ہیں اور اپنے لیے مناسب اقدام کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔  زیادہ خود فیصلہ سرگرمی کی عدم موجودگی کے بعد ہوتا ہے ، جس سے زیادہ گھبراہٹ اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ہم ایسے حالات کا سبب بنیں جہاں ہم مکمل طور پر پھنسے ہوئے اور ناامید ہو جائیں۔

     اس سے باہر نکلنا خوف ، بے چینی ، غم و غصہ یا اداسی کے احساسات کو ذہن میں رکھنا ہے اور اس کے بعد اپنے آپ سے پوچھیں ، "میں نے اپنے آپ کو کیا بتایا جو اس ذہنی تناؤ  کو بنا رہا ہے؟”  ایک بار جب آپ خود فیصلہ کرنے کے بارے میں ذہن نشین ہوجائیں گے ، تب آپ اپنے آپ سے پوچھ سکیں گے ، "کیا مجھے یقین ہے کہ جو میں خود کہہ رہا ہوں وہ درست ہے؟”  اگر آپ کو 100٪ یقین نہیں ہے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے ، تو آپ اپنے اعلی ، سمجھدار خود یا بصیرت کی گہرائی سے پوچھ سکتے ہیں ، "حقیقت کیا ہے؟”  اگر آپ حقیقت کے بارے میں جاننے کے لیے واقعی بے چین  ہیں تو ، حقیقت آپ کے دماغ میں بس جائے گی ، اور یہ اس سے بہت مختلف ہوگا جو آپ خود بتا رہے ہیں۔

     مثال کے طور پر ، "میں ایک برا انسان  ہوں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں نے یہ کہا ہوتا؟”  بن جاتا ہے "ہم بطور مجموعی طور پر گڑبڑ کرتے ہیں۔ غلطیوں کا ارتکاب کرنا ٹھیک ہے – انسان ہونے کے لیے یہ ضروری ہے۔ غلطی کا ارتکاب اس بات کا مطلب نہیں ہے کہ آپ برے  ہیں۔”  جب ہم حقیقت کے سامنے کھلتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو مخاطب کرنے کا ایک طرح کا اور دیکھ بھال کرنے والا طریقہ ڈھونڈیں گے ، ایک ایسا طریقہ جس کی وجہ سے ہم بے چین ، غصے یا حوصلہ شکنی کے بجائے پیارے اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

     نشے کا تعین کرنا مسلسل مشکل ہے ، اور خود فیصلہ پر انحصار کوئی خاص معاملہ نہیں ہے۔  لہذا اپنے ساتھ مہربانی کریں ، اور اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے اپنے آپ پر فیصلہ نہ کریں!  اس کے لیے کچھ سرمایہ کاری اور عزم کی ضرورت ہوگی تاکہ آپ اپنے فیصلوں کو ذہن میں رکھیں اور یہ جان سکیں کہ اپنی دیکھ بھال کیسے کی جائے ، تاہم نتیجہ کام کے قابل ہے!

     میں آپ سب کا بہت۔ مشکور ہوں کے آپ مجھ خشک ذہنی مریض کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں کبھی کبھی مجھے بھی یہی لگتا ہے کے میں ایک پاگل انسان ہوں ۔

     ہاہاہا ۔

     پتا نہیں آپ میرے بارے میں کیا راۓ رکھتے ہیں خیر یہ ایک الگ داستان ہے اس پر پھر کبھی کچھ لکھوں گا ۔

     امید ہے آج کا آرٹیکل بھی آپ کو پسند اے گا ۔

     آپ سب کی دعاؤں کا طلب گار 

     

    @Ishaqbaih___

  • ہمیں آگے جانا ہے یا پیچھے تحریر: سید شاہ میر علی

    آپ نے اکثر سنا ہوگا پاکستان دنیا سے 10 15 سال پیچھے چل رہا ہے مطلب دنیا جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ہوتی جارہی لیکن ہم دنیا سےپیچھے ہیں. مجھے اس بات کا دکھ نہیں کہ پاکستان پیچھے ہےبلکہ خوشی ہےپاکستان ابھی بےحیائی میں دنیا سے پیچھے ہے. ہمارےملک میں اب بھی ‏اسلامی تہذیب موجود ہے. چند دن پہلے خیبر پختونخواہ حکومت نے خواتین طالبہ کے لیےبرقہ اور پردہ لازمی قرار دیا تو ہمارےلبرلز اور موم بتی مافیا جاگ اٹھے اور اس فیصلہ کی خوب تنقید کی. جی ہاں، یہ وہ ہی لبرل مافیا ہے جو ابھی کشمیر میں انسانیت کےقتل پر سو رہی تھی. لیکن ایک اسلامی تہذیب کے ‏نفاز پر یہ لوگ ایسے جاگ گئے جیسے حکومت نے دہشتگردی کی اجازت دے دی ہو یا پھر اور کوئی بہت بڑی غلطی کردی ہو. اور ان لبرلز کی تنقید کے سامنے ہماری حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور پھر وہ فیصلہ واپس لے لیا. یہ انتہائی شرمناک شکست تھی حکومت کی. کیا لبرلز اس حکومت سےزیادہ طاقتور ہیں. پاکستان ‏ایک اسلامی ریاست ہے. پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہونا چاہیے. لیکن ہم مغربی روایت کی طرف زیادہ متوجہ ہیں. عمران خان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کی سب نے حمایت کی اور جیسے ہی مدینہ والے اصول نافذ ہوئے تو سب کو تکلیف شروع ہوگئی. اسلام میں ‏عورت کو پردہ کا حکم ہے. لیکن یہ فیمنیسٹ اس کے خلاف ہیں. بقول ان کے عورت کیسے بھی کپڑے پہنے مرد ان کو گھورتے ہیں. یہ قطعاً غلط ہے. ایسا بلکل نہیں ہاں چند کچھ انسانی شکل کے درندے ہیں جو ایسی گھٹیا حرکات کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہے. اگر عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے تو کوئی نہیں ‏گھورتا انہیں بلکہ عورتوں کے باپردہ ہونے پر مرد بھی اپنی آنکھوں کا پردہ کرتے ہیں. اب اگر عورتیں چھوٹےچھوٹےکپڑوں میں گھروں سے نکلیں تو تقریباً ہر شخص اسےگھورے گا، ہمیں اگر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا ہےتو پھر ہمیں مدینہ والے اصول بھی لاگو کرنے ہونگے. اور یہ کام ہمیں خود کرنا ‏ہے. اور اس کے لیے ہمیں آگے نہیں پیچھے جانا ہوگا. اگر ہم دنیا کی طرح آگے گئے تو پھر آگے صرف فحاشی اور بے حیائی ہے. ہمیں اب ہمیں واپس پیچھے جانے کی ضرورت ہے. پردہ عورت کی کمزوری نہیں بلکہ ایک پروٹیکشن ہوتی ہے. اگر آپ تحقیق کریں تو آپکو ایسی خواتین انجینیرز ڈاکٹرز اور سائنٹسٹ بھی ‏‏ملیں گی جنہوں نے باپردہ ہوکر اپنے خواب پورے کرے. اب وقت ہے ان لبرل مافیا اور موم بتی مافیا کو چپ کرنے کا جو پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنا چاہتے ہیں اور مغربی روایت نافذ کرنا چاہتے ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر بنا اب پاکستان میں اسلامی ریاست بنانا ہوگا. بس اب بہت ہوا.

    Twitter: @Shah_Meer_Ali

  • حصول رزق میں حلال اور حرام کی تمیز  تحریر : فہد شکور

    حصول رزق میں حلال اور حرام کی تمیز تحریر : فہد شکور

    بےعملی بے روزگاری اور گداگری کو سخت نا پسند کیا گیا ہے اور اس پر سخت وعید سنائی گئی ہے

    حدیث مبارکہ میں ہے کہ

    ” حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ تم سے کسی شخص کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور رزق مہ تلاش نہ کرے اور کہتا رہے کہ اللّٰہ مجھے رزق عطا فرما”

    ہمیں حصول رزق کیلئے جدوجہد بھی کرنی چاہیے کیونکہ ہم جانتے ہیں آسمان سونا چاندی نہیں برساتا جو ہم گھر بیٹھے رہے اور کہیں کہ ہمارے پاس رزق نہیں ہے

    خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے

    "کہ جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو اپنے رزق کی تلاش سے غافل ہو کر سوتے نہ رہو”  (کنزالعمال)

    اسلام نے ساری زمین کو انسان کیلئے میدان عمل قرار دیا یے اور انسان کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے معاش کے حصول کیلئے زیادہ سے زیادہ جدوجہد کرے۔ اسلام نے انسان کو مختلف طریقوں سے محنت اور معاشی جدوجہد جے حصول کئیلے اکسایا ہے۔ اسلامی معاشیات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام انسانوں کو معاشی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کو ترقی دی جائے ۔ تمام انسانوں کو معاشی جدوجہد کے مساوی مواقع فراہم کئے جائے کیونکہ فقروفاقہ انسان کو کفر کی طرف لے جاتا ہے۔

    اسلام حصول رزق کیلئے اس بات کی شرط عائد کرتا ہے کہ آمدنی جائز ذرائع سے حاصل ہو اور ہر وہ نفع جو جو غلط طریقہ یعنی حرام ذرائع سے حاصل ہو دوزخ کی آگ قرار دیتا ہے

    ارشاد باری تعالیٰ ہے

    "اے لوگوں جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے حلال اور پاک چیزیں کھاؤ”  (بقرہ 168)

    حرام سے کمائی ہوئی روزی کے متعلق ارشاد نبوی ہے

    "حرام روزی سے پرورش پایا ہوا گوشت اسکا زیادہ مستحق ہے کہ آگ میں ڈالا جائے”

    الجامع الترمذی 614

    حصولِ رزق میں سے ایک ذریعہ سود ہے جو معاشی ظلم کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسلام نے سود کو اور سکی ہر شکل کو حرام قرار دیا ہے پھر چاہے یہ مفرد یا مرکب یا ذاتی قرضوں پر لیا جائے ۔ تجارتی اور پیداواری قرضوں پر حرام ہے۔ اسکو لینے والے کو خدا اور اسکے رسول کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے

    ارشادِ ہے

    "اے ایمان والو !سود کے کئی کئی حصے بڑھا چڑھا کر نہ کھاؤ اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ”

    (آل عمران 130)

    اسلام ںے تجارت کو حلال اور جائز قرار دیا ہے تجارت میں امانت اور دیانت کو ہمیشہ واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے

    "امانت دار تاجروں کا حشر قیامت کے دن صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا”

    اسلام تجارت میں بددیانتی، دھوکا اور وعدہ خلافی کو رد کرتا ہے اس طرح ناپ طول کو درست رکھنا تجارت کا اہم حصہ ہے۔ اسلام ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر لعنت بھیجی گئی ہے۔

    اسلام دولت کے ارتکاز کو پسند نہیں کرتا اور یہ چاہتا کہ جائز طریقہ سے دولت کی تقسیمِ زیادہ ست زیادہ اور منصفانہ ہو اور پورے معاشرے میں دولت گردش کرے

    سودی نظام اور حرام ذرائع سے حاصل کردہ رزق سے ںچنے کیلئے ضروری ہے کہ

    حرام طریقے سے کمانے والے رزق کی شدید مخالفت کی جائے۔ حرام ذرائع روزگار پر پابندی عائد کی جائے۔ جہاں کہیں رزق میں شک ہو اسے ترک کیا جائے ۔ حرام کی کمائی کرنے والے کی کوئی بھی چیز قبول نہ کی جائے ۔اگر ہم ‏‎‎اللّٰہ تعالیٰ کے نظام معیشت پر غور کریں تو سودی نظام ختم ہو سکتا ہے۔ ارشاد ہے۔ صاحب حیثیت لوگ مال کو جمع نا کریں؟ گردش میں رکھیں؟اگر مال گردش میں رہیے گا تو روزگار پیدا ہو گا؟ زراعت اور صنعت ترقی کرے گا؟ کہیں نا کہیں تو پیسہ خرچ ہو گا گردش کے لئے؟ حلال رزق کے زیادہ سے زیادہ او بہتر مواقع فراہم کئے جائے۔ حلال طریقے سے رزق کے راستے آسان کئے جائے تاکہ لوگ حرام کی بجائے حلال طریقے سے رزق حاصل کریں

    اور سود اور حرام کا خاتمہ ہو سکے۔

    جزاک اللّہ

    @Malik_Fahad333

  • خود کو بدلیں اپنی سوچ کو بدلیں تحریر عبدالوحید

    خود کو بدلیں اپنی سوچ کو بدلیں تحریر عبدالوحید

    ہمارا نظام کیوں نہیں بدل رہا ہے ہمارے ملکی حالات کیوں نہیں بدل رہے حکومت نے آتے ہی نظام کو بدلنے کا کہا لیکن تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے ملکی حالات کیوں نہیں بدل رہے ۔ اگرچہ وزیرِ اعظم نے ملک کا چارج سنبھالتے ہی اعلان کیا اس نظام کو بدلو گا پھر بھی حالات جوں کے توں ہیں ۔ 

    ایک منٹ کے لیے ہمیں ملکی حالات کو بالاتر رکھ کر خود اپنے گریبان میں جھانکیں کیا ہم نے ان تین سالوں میں اپنے اندر کوئی تبدیلی لے کر آئے ۔ اگر ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں ناکہ ہمارے حکمران ۔ ذخیرہ اندوزی ، سفارش ، رشوت خوری ہم خود کریں اور ہم حکمرانوں سے نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہوں ۔ ایسا کسی بھی ملک یا معاشرے میں ممکن نہیں ۔ 

    آپ سب کو اچھی طرح یاد ہے جب کووڈ انیس آیا تھا تو ہرطرف ماسکوں کی مانگ میں اضافہ ہوگیا تھا پھر دیکھتے دیکھتے ماسک کی شارٹیج پیدا ہوگی کیونکہ سب ماسک لوگوں نے ذخیرہ کرلیے۔ اب اس چیز کا ذمہ دار کون ہے ۔ اسی طرح آپ چینی کی مثال لے سکتے ہیں ۔ یہ سب چیزیں ہم خود کریں اور تبدیلی کی توقع رکھیں دوسروں پر جوکہ ناممکن ہے ۔ میرے خیال میں اس چیز کا واحد حل یہ جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ان کو سخت سے سخت سزائیں ہونی چاہیے کیونکہ اس ذخیرہ اندوزی سے ناصرف ملک پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوام بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے جس سے کسی بھی حکومت کی مقبولیت میں کمی ہو جاتی ہے اور اس چیز کا فائیدہ اپوزیشن والے بھرپور طریقے سے اٹھاتے ہیں اور عوام کو مزید گمراہ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں یا حکومت کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ جس پر مقدمات ہوتے ہیں وہ لوگ ہمیشہ ان چیزوں کی ہی تلاش میں رہتے ہیں ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نا جانے دیا جائے جس سے ہمارے مشکلات میں کمی ہوجائے۔اس لیے اس بات کا ہم سب پر بھی فرض بنتا ہے کہ جو شخص ناجائز و غیر مناسب طریقے سے ذخیرہ اندوزی میں لگا ہوا اس کے خلاف آواز بلند کریں یا چپکے سے حکومت تک اطلاع کو کردیں تاکہ حکومت ایسے لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لے اور اس پر چیز پر قانون سازی بھی لازمی ہے اس لیے ہمیں چاہیے ہم سب سے پہلے خود کو بدلیں اپنی سوچ بدلیں ۔ جب اس چیز کا شعور ہر انسان میں آجائے گا کہ ملک بدلنے کے لیے ضروری ہے ہم خود کو بدلیں اس دن سے ناصرف ہمارے بلکہ ملکی حالات بھی بدلانا شروع ہو جائینگے ۔ 

    آؤ آج اس بات کا عہد کریں کہ ہمارے راستے میں جو روکاوٹیں ہیں ان کو دور کریں ان روکاوٹیوں کو کچل ڈالیں جو ہمارے نظام کو بدلنے سے روک رہے ہیں جس دن ہم اپنے اندر اس چیز کا احساس پیدا کریں اس دن سے ناصرف ہمارے بلکہ ملکی حالات بھی بدلنا شروع ہوجائیں گے ۔ 

    ایک حکمران جتنی مرضی کوشش کرے ، جتنا مرضی زور لگائے پھر بھی اس نظام کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک پوری قوم اس کا ساتھ نہیں دیتی ۔ ایک لیڈر آپ کو ایک سوچ تو دے سکتا ہے لیکن آپ کی مدد کے بغیر آپ کو ایک بدلا ہوا نظام نہیں دے سکے گا ۔ اس لیے ضروری ہے اس نظام کو بدلنے کے لیے پوری قوم کو اس حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ہم جلد از جلد ناصرف اپنے حالات بلکہ ملکی حالات کو بھی بدل دیں۔ اور ہمارا ملک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو۔

    @Wah33d_B

  • بابل کے آنگن میں مہکتی چڑیاں تحریر ۔فرزانہ شریف

    بابل کے آنگن میں مہکتی چڑیاں تحریر ۔فرزانہ شریف

    کہتے ہیں جب دو انسانوں کا نکاح ہوتا ہے تو اللہ تعالی ان دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے اٹوٹ محبت ڈال دیتا ہے جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔نکاح کے بولوں میں برکت ہی ایسی ہوتی ہے ۔۔
    نئی شادی شدہ لڑکی کو جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے ظاہر ہے اس کے لیے سسرال کا ماحول ٹوٹل مختلف ہوتا ہے اس کے میکے سے
    اگر تو لڑکی اکلوتے بیٹے کی بیوی بنتی ہے پھر تو اس کو اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی ایڈجسٹ ہونے میں کیونکہ گھر میں صرف ساس سسر اور شوہر کے کام خوشی خوشی انجام دے کر ان کی آنکھوں کا تارا بننا بہت آسان کام ہے لیکن۔بعض لڑکیوں کو بھرا سسرال ملتا ہے جہاں شوہر کے بہین بھائی ماں باپ سب مل کے رہ رہے ہوتے ہیں تو لڑکی کو سب کے مزاج سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ایسے وقت میں دونوں کی برداشت کا امتحان ہوتا ہے کہ خوش اسلوبی سے ایک دوسرے کے نظریات عادات کو سمجھنا ۔عزت دینا ۔عزت لینا دونوں طرف سے اس کا عملی مظاہرہ ہوتب ہی بات بنتی ہے ورنہ شروع دن سے اگر نئی آنے والی دلہن کو پریشر میں رکھ لیا جائے تو پھر نہ صرف وہ ذہنی طور پر کبھی آپ کے قریب نہیں آسکتی بلکہ اسے جب بھی موقع ملتا ہے جب وہ کچھ خودمختار ہوتی ہے اس کے دل میں آپکے ساتھ گزارا ہوا وقت ذہین کے ایک کونے میں کسی فلم کی طرح محفوظ ہوجاتا ہے جو وہ خود بھی کوشش کے باوجود نہیں نکال پاتی تو لڑکی کے دل میں ایک ایسی گانٹھ سی لگ جاتی ہے کہ پھر آپکا خلوص محبت بھی اس کو دکھاوا نظر آتا ہے۔۔تو کوشش یہ کرنی چاہئیے شروع دن سے لڑکی کو یہ احساس دینا چاہئیے کہ آپ اس گھر کی بہو ہو ہم بہت خوشی چاو سے آپکو اپنے بیٹے سے بیاہ کر لائے ہیں یہ آپکا گھر بھی اتنا ہی ہے جتنا یہاں رہنے والے باقی لوگوں کا ہے تو یقین کیجئے یہ چند الفاظ اس لڑکی کے لیے جینے کی وجہ بن جائیں گے پھر پوری ذندگی اس کے دل سے آپکی محبت عزت قدر کم نہیں ہوگی ۔
    اسے بیٹی جیسا پیار دیں کہ اپنی بیٹیاں تو دوسرے گھر چلی جاتی ہیں بہو ہی اصلی بیٹی ہے اگر تو وہ نسلی ہوئی آپکی دی گی عزت محبت خلوص آپکو دگنا کرکے لوٹائے گی
    بقول شاعر کے
    "میں نے ہر حال میں مخلوق کا دل رکھا ہے
    کوئی پاگل بھی بنائے تو میں بن جاتی ہوں…”
    اور اگر خدانخواستہ کم ظرف ہوئی تو ایک سبق کی طرح آپکو کبھی نہیں بھولے گی ۔۔
    لڑکی کو بھی چاہئیے جب اس کی شادی ہوجاتی ہے اگلے گھر کو اپنا گھر سمجھے شوہر کے والدین بھائی بہین سے اتنی ہی عزت پیار سے پیش آئے جیسے اپنے والدین اور بہین بھائیوں کے ساتھ پیش آتی ہے پھر ان شاءاللہ کوئی کم ظرف ہی ہوگا جو اس لڑکی کی قدر عزت نہیں کرے گا۔۔
    شوہر کو چاہئیے لڑکی کے والدین بہین بھائیوں سے اتنی محبت پیار سے پیش آئے جتنی وہ چاہتا ہے اس کی بیوی اس کے ماں باپ بہین بھائیوں کے ساتھ پیش آئے ۔تو کوئی وجہ نہیں دشمن بھی اختلافات ڈالنے آپکے درمیان آنے کی جرآت نہیں کرسکے گا ۔۔ویسے بھی کہتے ہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف غلط فہمی ڈالنے والا شیطان ہوتا ہے اللہ ایسے شیطانوں سے ہر مسلمان کو پناہ دے۔۔
    یورپ کی بات نہیں کرتی یہاں عورت کو اتنی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی ذندگی آسان بنانے کے لیے سب کچھ کرسکتی ہے مرد دو بیویاں نہیں رکھ سکتا اگر رکھے تو اس پر کیس بن جاتا ہے اور جیل کی ہوا کھانی پڑجاتی ہے اس وجہ سے اس معاملے میں عورت کو کوئی ٹینشن نہیں ہوتی کسی بھی قسم کی ۔۔ یہاں کا قانون بہت سخت ہے عورت کی ذندگی بنسبت پاکستان کے بہت آسان ہے ۔۔پاکستان میں لڑکی ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتی ہے مشکل سے مشکل وقت بھی اپنے سسرال میں گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہے بعض اوقات اور مشکل حالات میں بھی شوہر سے علیحدگی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔ اگر قسمت میں اچھا سسرال لکھا ہو تو وہ الگ بات ہے ورنہ سب تو نہیں کچھ لڑکیاں اپنی ساری ذندگی درد تکلیف برداشت کرتے گزار دیتی ہے اپنی ضروری خواہشات کے اصول کے لیے اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ انھیں پورا کرسکے اور شوہر کا دوسری شادی کا ڈر اسے آدھ موا کرکے رکھ دیتا ہےاس سب کے باوجود اپنے والدین بہین بھائیوں کے سامنے اف بھی نہیں کرتی کہ مذید مسائل نہ پیدا ہوجائیں اس کی ذندگی میں ۔۔ایسی لڑکیوں کے لیے میرا مشورہ ہے اپنے ساس سسر کو سب سے پہلے اپنا گرویدہ بنائے اپنے لیے ایک مضبوط ترین قلعہ بنائے آزمودہ بات ہے آپ جب ساس سسر کا دل جیت لیں گی آپکو کوئی بندہ پھر تنگ کرنے کی جرآت نہیں کرسکے گا گھر میں دو مضبوط ووٹ آپکے حامی ہوں گے تو شوہر جتنا مرضی رشتہ داروں کے پریشر کی وجہ سے آپ سے دور ہوا گا پلٹ کر آپکی طرف آجائے گا پھر باقی لوگ بھی آپکی خوبیوں کی تعریفیں کرتے نظر آئیں گے جو چراغ سے بھی آپکو خود میں نظر نہیں آئیں گی ۔۔
    اگر آپکا شوہر مالی طور پر کمزور ہے آپ اس کا ہاتھ بٹانے کے لیے کوئی جاب کرلیں یا پھر گھر میں ایسے کام لینے شروع کردیں جن سے آمدن ہونی شروع ہوجائے اگر آپ پڑھی لکھی ہیں لیکن شوہر نہیں چاہتا آپ باہر جاکر کام کریں تو گھر میں اپنی تعلیم کے حساب سے لوگوں کوٹیوشن دینی شروع کردیں۔اگر آپ تعلیم یافتہ نہیں کوئی ہنر ہے آپکے ہاتھ میں تو اپنے ہاتھ کے ہنر سے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائیں یاد رکھیں مشکل وقت ٹھہرتا نہیں لیکن اپ کا مشکل وقت میں اپنے شوہر کا ساتھ دیا ہوا وہ کبھی نہیں بھولے گا اپ کا ہوکر رہ جائے گا کبھی آپ سے بےوفائی نہیں کرے گا ۔بس اپنی نیک نیتی سے اپنا مشن جاری رکھیں کامیابی اللہ سبحان تعالی دیں گے ان شاءاللہ پانچ وقت کا خود کو عادی بنالیں کوشش کریں با وضو ہوکر بسمہ اللہ پڑھ کر اپنے صاف ستھرے ہاتھوں سے اپنی فیملی کے لیے کھانا بنائیں وہ کھانا نہ صرف مزیداراور برکت والا ہوگا بلکہ وہ کھانا جب آپکی فیملی کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے دلوں میں آپکے لیے محبت پیار پیدا ہوگا اور ایک خاتون خانہ کے لیے یہ پیار محبت کسی اعزاز سے کم نہیں ہوگا ۔۔
    میرے لکھے ہوئے پچھلے آرٹیکل کے حوالے سے دل میں کچھ خلش سی ہے اس کی تصحیح کرنا چاہتی ہوں کہ شادی کے حوالے سے جو میں نے الفاظ لکھے تھے

    "لوگ کیا کہیں گے "کے خوف نے معاشرے میں جہاں اور بہت سی مشکلیں پیدا کی ہوئیں ہیں وہاں دوسری شادی کرنے کو کچھ لوگ جرم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم کردیا تو لوگ باتیں کریں گے ۔میں کہتی ہوں کرنے دیں باتیں جو آپ کے پیارے ہوں گے آپ کے مخلص ہوں گے وہ آپکو دوسری شادی سے کبھی منع نہیں کریں گے بلکہ اس نیک کام میں آپکی مدد کریں گے ایک شرعی رشتہ اپنانے میں آپکی مدد کریں گے۔۔یہ ان لوگوں کے لیے الفاظ لکھے تھے جن کی ایک شادی ٹوٹ گی ہے یا پھر ان کی بیوی فوت ہوگی ہے یا شوہر فوت ہوگیا ہے تو لوگوں کی باتوں کے ڈر سے وہ دوسری شادی کرنے سے ڈرتے ہیں ۔۔جبکہ نکاح کرنا سنت ہے ذندگی ایک انسان پر ختم نہیں ہوجاتی کہ جان کا روگ بناکر اپنی ذندگی ہی تیاگ دی جائے۔اگر اپ کی کسی وجہ سے شادی کامیاب نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذندگی کی خوشیوں کے دروازے خود پر بند کرلو یہ اللہ کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے ذندگی بہت خوبصورت ہے اس کا ایک ایک پل انجوائے کرنے کا ہر انسان کا حق ہے اور انجوائے کرنی بھی چاہئیے کون سا ہم نے روز روز دنیا میں آنا ہے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ذندگی بھرپور انجوائے بھی کرنی۔ چاہئیے۔۔!!!

  • ڈپریشن تحریر : اقصٰی صدیق 

    ڈپریشن تحریر : اقصٰی صدیق 

     

    ڈپریشن کے لفظی معنی پچکاؤ، دبی ہوئی جگہ، بددلی، افسردگی اور ذہنی اضمحلال وغیرہ میں ملتے ہیں۔

     لیکن عام زندگی میں یہ لفظ عموماً اس وقت استعمال ہوتے ہیں جب کوئی فرد اپنے موڈ میں بہت زیادہ گراوٹ یا خود کو قابل رحم محسوس کرتا ہے۔ تاہم معالجین اس موڈ میں گراوٹ کی علامت بیان کرنے یا کسی مخصوص بیماری کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

     لیکن اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کسی دکھ پر فطری طور پر غمزدہ ہونے والی اور بیماری والی آزردگی میں فرق کرنا پڑے۔ 

    دنیا بھر میں ہر سال 10 اکتوبر کو دماغی صحت کے حوالے سے خصوصی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے ہے کہ عوام الناس کو کو ذہنی و دماغی امراض سے متعلق ضروری معلومات پہنچائی جائیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق 350 ملین سے زائد افراد جن میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں جو کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بستے ہیں ڈپریشن کی شدید کیفیت کا شکار ہیں۔

     یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ڈپریشن جیسے عارضے کو مرض نہیں سمجھا جاتا بلکہ مریض اس عارضے کے ساتھ ہی اپنی گزر اوقات کرتا رہتا ہے۔

    ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریبا 15 فیصد سے زائد افراد ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ تین فیصد سے زیادہ شیزوفرینیا کا شکار ہیں۔

    جبکہ چھ فیصد سے زائد افراد بدسلوکی اور 1 سے 2 فیصد افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اور عموماً خودکشی کے واقعات میں اضافہ کی ذمہ داری معاشرتی برائیوں کے علاوہ ان بیماریوں پر بھی ہے، اس ضمن میں ڈپریشن اور اس سے پیدا ہونے والی دوسری بیماریاں اور پیچیدگی اول نمبر پر ہیں۔

    یہ ایک حقیقت ہے ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہر انسان رنج و غم، مصبیت وتکلیف، آفت و ناکامی اور نقصان سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

     البتہ دانشمند اور کم عقل کے انداز فکر اور طرز عمل میں ایسے مواقع پر ایک نمایاں فرق ہوتا ہے۔

    کم عقل رنج و غم کے ہجوم میں پریشان ہوکر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے، اور مایوسی کا شکار ہو کر ہاتھ پیر چھوڑ دیتا ہے۔ اور بعض اوقات تو غم کی تاب نہ لا کر خودکشی بھی کر لیتا ہے۔

     اس کے مقابلے میں دانشمند کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ ہوا تقدیر الٰہی کے مطابق ہوا، اور اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی کام اور حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا، یقینا اس میں بھی میرے لیے کوئی خیر اور بہتری کا پہلو ہوگا۔

    عقل مند کا یہ عقیدہ اسے ایسا روحانی سکون و اطمینان بخشتا ہے، جس سے ہر مشکل آسان لگنے لگتی ہے اور بڑے سے بڑے سانحے کو بھی مقدر کا فیصلہ سمجھتے ہوئے اپنے غم کا علاج پالیتا ہے اور پریشان نہیں ہوتا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ” مومن کا معاملہ بھی خوب ہے وہ جس حال میں بھی ہوتا ہے خیر ہی سمیٹتا ہے، اگر وہ دکھ بیماری اور تنگ دستی سے دوچار ہوتا ہے تو اُسے سکون اور صبر کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔اور یہ آزمائش اس کے حق میں خیر ثابت ہوتی ہے، اور اگر اس کو کو خوشی و خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ خوشحالی اس کے لیے خیر کا سبب بنتی ہے۔(صحیح مسلم) 

    جدید تحقیق کے مطابق بے خوابی کی پُرانی شکایت ذہنی پستی کی علامت قرار دی جا سکتی ہے،

     حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے ہے کہ اچھی نیند سونے والوں کے مقابلے میں نیند اچاٹ ہونے والوں کے ڈپریشن یا پستی کا شکار ہونے کے امکانات 6 گناہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس مرض سے متاثرہ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو بظاہر خوب سوتے ہیں لیکن اس کے باوجود آرام کے احساس سے محروم ہوتے ہیں بعض افراد کو بھوک پیاس نہیں لگتی جس کی وجہ سے وہ روز بروز کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح کے مریض توانائی سے محروم ہو کر کرسی یا بستر سے اٹھنے سے بھی مجبور ہو جاتے ہیں اور انہیں کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔

    اور ڈپریشن کا شکار مریض کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے میں پریشانی کا سبب بنتا ہے۔وہ اپنے آپ کو ناکارہ تصور کرنے لگتا ہے، اور زندگی اس کے لیے ایک بے مقصد شے بن کر رہ جاتی ہے۔

    پستی کے عارضے سے متعلق یہ بات بھی صحیح ہے کہ اس مرض سے متاثرہ افراد خود کو عموماً لاعلاج تصور کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے علاج کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔

    جس کی وجہ سے وہ روز بروز اس مرض کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جاتے ہیں، ایسے افراد کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ اور ایسے واقعات کو یاد کرنا چاہیے جو ان کے لیے مشعل راہ ہوں۔کیوں کہ بے شمار کام لوگوں کے پیچھے بھی کئی ناکامیاں چھپی ہوئی ہیں۔

    ڈپریشن یا پستی کی کیفیت بالعموم دو قسم کی ہوتی ہے۔ ماہرین کی بیان کردہ یہ دو اقسام کچھ اس طرح ہیں۔

    حیاتیاتی پستی: حیاتیاتی پستی کراچی جسم میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کے ثواب ہوتی ہے یہ کیفیت بعض اوقات نفسیاتی عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے ہے اس لئے اس کا علاج بالعموم پستی رفع کرنے والی ادویات سے کیا جاتا ہے طور پر استعمال سے یہ کیفیت دور ہو جاتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس قسم کی پستی کے مریضوں کے علاج میں سب سے بڑی دقت یہ ہوتی ہے۔ کہ اس کے مریض دافع پستی ادویہ کے استعمال کے لیے آمادہ نہیں ہوتے، وہ خود کو صحت مند خیال کرکے اس مرض کا مکمل طور پر علاج نہیں کرا پاتے۔

    نفسیاتی پستی: یہ بیرونی اسباب کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ دراصل کسی غم اور دُکھ کی بڑھی ہوئی صورت ہوتی ہے بعض اوقات یہ غم اور دُکھ اس قدر نازک ہوتا ہے، کہ اس کی نشاندہی مشکل ہوتی ہے۔بعض اوقات عمر میں تبدیلی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ جیسے بچپن اور جوانی کے رخصت ہونے پر بعض لوگ شدید پستی کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں پر یہ کیفیت محبت میں ناکامی کے باعث پیدا ہوجاتی ہے۔

    بعض اوقات فوری طور پر کس معزوری کے طور پر بھی نفسیاتی پستی لاحق ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ جیسے کہ پستی کے مریضوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جنہیں "مسکراتے مریض” کہا جاتا ہے۔

     یہ مریض اپنے غم کو اپنے اندر دبائے رکھتے ہیں اور اوپر سے خوش باش نظر آتے ہیں۔ ایسے مریض اپنے آپ کو بہت مشکل سے مریض مانتے ہیں، بعض اوقات ماحول اور حالات بھی لوگوں کو پستی میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں میں یہ کیفیت موروثی بھی پائی جاتی ہیں۔

    یاد رہے کہ پستی کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کا علاج نہ کیا جا سکے۔ اس مسئلہ کو مناسب علاج معالجے کے ساتھ ساتھ مضبوط قوت ارادی کی بدولت مات دی جاسکتی۔ پستی کا شکار افراد جب اپنی پستی کو دور کرنے یا کم کرنے کے لیے شراب یا دیگر نشہ آور اشیاء کا سہارا لیتے ہیں تو وہ نہ صرف اس مرض کو بڑھانے کا موجب بنتے ہیں بلکہ دیگر کئی خطرناک امراض جیسے کہ دل کا دورہ وغیرہ کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔

    دماغی اور نفسیاتی بیماریوں میں تشویش ناک حد تک اضافے کی وجوہات غربت، بے روزگاری سیاسی عدم استحکام، تشدد اور دیگر سماجی برائیاں ہیں۔ کچھ خرابیاں پیدائشی بھی ہوتی ہیں، جب کہ کچھ انسان کے جسمانی نظام میں موجود ہوتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطالعاتی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ تمام نفسیاتی امراض میں ڈپریشن سرفہرست ہے۔ اس کے بعد ڈپریشن سے متعلق شدید ذہنی امراض شیزوفرینیا، بےچینی، فکر یا تشویش اور جسمانی نظام سے پیدا ہونے والی نفسیاتی بیماریاں، بدسلوکی اور اذیت رسانی وغیرہ شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ درج ذیل کیفیات میں مبتلا افراد زیادہ تر ڈپریشن کے عارضے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

     بہت زیادہ غمگین رہنے والے افراد، باطن پسند افراد، خود تنقیدی افراد، کوتاہی کرنے کی طویل و گہری سوچ رکھنے والے افراد، بہت زیادہ تنقید کرنے والے اور گہری پریشانیوں میں رہنے والے افراد، اور اضطراری کیفیت کے شکار افراد وغیرہ۔

    لہذا میں یہی کہنا چاہوں گی کہ” نفسیاتی مریض ” کہلوانے سے نہیں بلکہ ہونے سے ڈریں، ہر قسم کا ذہنی اضمحلال قابلِ علاج ہے۔

    @_aqsasiddique