Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • فیصلہ کرنے کی صلاحیت :: تحریر محمّد اسحاق بیگ 

    فیصلہ کرنے کی صلاحیت :: تحریر محمّد اسحاق بیگ 

    کیا میں اتنا برا ہوں ۔ ” یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب میں اپنے بارے میں،  اپنے آپ کو کہتا ہوں ؟ ”

     "میں ایک کمزورانسان  ہوں۔ میں کبھی بھی کہیں نہیں جا سکتا۔”

     "میں بہت بیوقوف ہوں۔ مجھے اس وقت اس محفل  میں شامل ہونا چاہیے تھا۔”

     "میں فٹ نہیں ہوں۔ میرے پاس ان افراد کے ساتھ کوئی جگہ نہیں ہے۔”

     "میں کبھی بھی کافی نہیں ہوں گا۔ میں اسے کبھی بھی مناسب طریقے سے نہیں کروں گا۔”

     "میں ہر وقت حقیقی طور پر نقصان پہنچا رہا ہوں۔ میں کبھی ٹھیک نہیں ہوں گا۔”

     "کوئی بھی مجھے پسند نہیں کر سکتا۔ میں پیارا نہیں ہوں۔”

     … ، وغیرہ ، وغیرہ

     کیا یہ سچ ہے کہ آپ اپنے فیصلوں کو ذہن میں رکھتے ہیں؟  کیا یہ سچ ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ آپ کتنی بار اپنے آپ کو خوفناک ، غلط ، یا کسی  کمی کا فیصلہاپنے بارے میں کرتے ہیں؟  کیا یہ سچ ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ آپ اپنے فیصلوں کی وجہ سے اپنے احساسات کو کیسے ختم کرتے ہیں؟

     افراد کے ساتھ اپنی  رہنمائی کے کام میں ، میں یہ جانتا ہوں کہ خود فیصلہ کرنا ،  خوف ، غصہ ، بے چینی اور بدحالی کی ایک اہم وجہ ہے۔  تاہم بہت سارے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ مشکل احساسات  ان کے اپنے جذبات ، ان کے اپنے فیصلوں کے اثرات ہیں۔  زیادہ تر نہیں ، جب میں ایک بے چین انسان  سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس اچھی وجہ سے بے چینی محسوس کر رہے ہیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ان کے ساتھ ہونے والی کسی چیز کا براہ راست نتیجہ ہے۔  وہ ایک اصول کے طور پر قبول کرتے ہیں کہ ایک موقع یا فرد ان کے تناؤ کا سبب بنتا ہے۔  تاہم جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ کیا تصور کر رہے ہیں جو ان کی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں تو وہ مجھے خود فیصلہ کرنے دیتے ہیں ، مثال کے طور پر ، "مجھے یہ حق کبھی نہیں ملے گا” یا وہ مجھ پر اپنا فیصلہ تھونپ رہے ہیں اور بتا رہے ہیں  خود ، ” میری بیوی  پرواہ نہیں کرتی ،” یا "میری بیوی  میرے ساتھ بے چین ہو رہی ہے۔”  جب وہ خود فیصلہ کرتے ہیں یا فیصلہ کرتے ہیں کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کر رہا ہوں تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔  واقعی کچھ نہیں ہو رہا ہے جو ان کے اپنے خیالات کے علاوہ ان کے تناؤ کا سبب بن رہا ہے۔

     ان کے سامنے لانا کہ وہ اپنے نفس کے فیصلے سے تناؤ کا باعث بن رہے ہیں واقعی فیصلے کو نہیں روکتے ہیں۔  یہ اس بنیاد پر ہے کہ خود فیصلہ اکثر درست ہوتا ہے۔  فکسشن ایک جاری طرز عمل ہے جس سے عذاب سے محفوظ رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔  محض اذیت کیا ہے جس کے خلاف فیصلے کی توقع کی جاتی ہے؟

     زیادہ تر لوگوں  میں ، خود فیصلہ کرنے کی خواہش برخاستگی اور مایوسی سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔  دھوکہ یہ ہے کہ ، "یہ فرض کرتے ہوئے کہ میں خود فیصلہ کرتا ہوں ، دوسرے مجھ پر فیصلہ نہیں دیں گے اور مجھے مسترد کردیں گے۔ میں پہلے اپنے آپ پر فیصلہ دے کر دوسروں کے فیصلے سے محفوظ رہ سکتا ہوں ،” یا پھر دوبارہ "اس صورت میں جب میں خود فیصلہ کرتا ہوں ،  میں اپنے آپ کو چیزوں کو صحیح کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کر سکتا ہوں۔ پھر ، اس وقت ، مجھے سیکورٹی کا احساس ہو گا اور دوسروں کی طرف سے اس کی قدر اور تعریف کی جائے گی۔ ”

     کسی بھی صورت میں ، اسی طرح اسکول میں جہاں تک تجزیہ کے مقابلے میں تسلی کے ساتھ بہتر ہے ، اسی طرح ہم بھی بڑے ہو گئے ہیں۔  تجزیہ کار  عام طور پر گھبرائے گا اور ہمیں متحرک کرے گا۔  ہمیں حوصلہ دینے کے بجائے ، یہ کثرت سے کشیدگی کو بڑھا دیتا ہے کہ ہم منجمد ہو جاتے ہیں اور اپنے لیے مناسب اقدام کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔  زیادہ خود فیصلہ سرگرمی کی عدم موجودگی کے بعد ہوتا ہے ، جس سے زیادہ گھبراہٹ اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ہم ایسے حالات کا سبب بنیں جہاں ہم مکمل طور پر پھنسے ہوئے اور ناامید ہو جائیں۔

     اس سے باہر نکلنا خوف ، بے چینی ، غم و غصہ یا اداسی کے احساسات کو ذہن میں رکھنا ہے اور اس کے بعد اپنے آپ سے پوچھیں ، "میں نے اپنے آپ کو کیا بتایا جو اس ذہنی تناؤ  کو بنا رہا ہے؟”  ایک بار جب آپ خود فیصلہ کرنے کے بارے میں ذہن نشین ہوجائیں گے ، تب آپ اپنے آپ سے پوچھ سکیں گے ، "کیا مجھے یقین ہے کہ جو میں خود کہہ رہا ہوں وہ درست ہے؟”  اگر آپ کو 100٪ یقین نہیں ہے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے ، تو آپ اپنے اعلی ، سمجھدار خود یا بصیرت کی گہرائی سے پوچھ سکتے ہیں ، "حقیقت کیا ہے؟”  اگر آپ حقیقت کے بارے میں جاننے کے لیے واقعی بے چین  ہیں تو ، حقیقت آپ کے دماغ میں بس جائے گی ، اور یہ اس سے بہت مختلف ہوگا جو آپ خود بتا رہے ہیں۔

     مثال کے طور پر ، "میں ایک برا انسان  ہوں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں نے یہ کہا ہوتا؟”  بن جاتا ہے "ہم بطور مجموعی طور پر گڑبڑ کرتے ہیں۔ غلطیوں کا ارتکاب کرنا ٹھیک ہے – انسان ہونے کے لیے یہ ضروری ہے۔ غلطی کا ارتکاب اس بات کا مطلب نہیں ہے کہ آپ برے  ہیں۔”  جب ہم حقیقت کے سامنے کھلتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو مخاطب کرنے کا ایک طرح کا اور دیکھ بھال کرنے والا طریقہ ڈھونڈیں گے ، ایک ایسا طریقہ جس کی وجہ سے ہم بے چین ، غصے یا حوصلہ شکنی کے بجائے پیارے اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

     نشے کا تعین کرنا مسلسل مشکل ہے ، اور خود فیصلہ پر انحصار کوئی خاص معاملہ نہیں ہے۔  لہذا اپنے ساتھ مہربانی کریں ، اور اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے اپنے آپ پر فیصلہ نہ کریں!  اس کے لیے کچھ سرمایہ کاری اور عزم کی ضرورت ہوگی تاکہ آپ اپنے فیصلوں کو ذہن میں رکھیں اور یہ جان سکیں کہ اپنی دیکھ بھال کیسے کی جائے ، تاہم نتیجہ کام کے قابل ہے!

     میں آپ سب کا بہت۔ مشکور ہوں کے آپ مجھ خشک ذہنی مریض کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں کبھی کبھی مجھے بھی یہی لگتا ہے کے میں ایک پاگل انسان ہوں ۔

     ہاہاہا ۔

     پتا نہیں آپ میرے بارے میں کیا راۓ رکھتے ہیں خیر یہ ایک الگ داستان ہے اس پر پھر کبھی کچھ لکھوں گا ۔

     امید ہے آج کا آرٹیکل بھی آپ کو پسند اے گا ۔

     آپ سب کی دعاؤں کا طلب گار 

     

    @Ishaqbaih___

  • ہمیں آگے جانا ہے یا پیچھے تحریر: سید شاہ میر علی

    آپ نے اکثر سنا ہوگا پاکستان دنیا سے 10 15 سال پیچھے چل رہا ہے مطلب دنیا جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ہوتی جارہی لیکن ہم دنیا سےپیچھے ہیں. مجھے اس بات کا دکھ نہیں کہ پاکستان پیچھے ہےبلکہ خوشی ہےپاکستان ابھی بےحیائی میں دنیا سے پیچھے ہے. ہمارےملک میں اب بھی ‏اسلامی تہذیب موجود ہے. چند دن پہلے خیبر پختونخواہ حکومت نے خواتین طالبہ کے لیےبرقہ اور پردہ لازمی قرار دیا تو ہمارےلبرلز اور موم بتی مافیا جاگ اٹھے اور اس فیصلہ کی خوب تنقید کی. جی ہاں، یہ وہ ہی لبرل مافیا ہے جو ابھی کشمیر میں انسانیت کےقتل پر سو رہی تھی. لیکن ایک اسلامی تہذیب کے ‏نفاز پر یہ لوگ ایسے جاگ گئے جیسے حکومت نے دہشتگردی کی اجازت دے دی ہو یا پھر اور کوئی بہت بڑی غلطی کردی ہو. اور ان لبرلز کی تنقید کے سامنے ہماری حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور پھر وہ فیصلہ واپس لے لیا. یہ انتہائی شرمناک شکست تھی حکومت کی. کیا لبرلز اس حکومت سےزیادہ طاقتور ہیں. پاکستان ‏ایک اسلامی ریاست ہے. پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہونا چاہیے. لیکن ہم مغربی روایت کی طرف زیادہ متوجہ ہیں. عمران خان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کی سب نے حمایت کی اور جیسے ہی مدینہ والے اصول نافذ ہوئے تو سب کو تکلیف شروع ہوگئی. اسلام میں ‏عورت کو پردہ کا حکم ہے. لیکن یہ فیمنیسٹ اس کے خلاف ہیں. بقول ان کے عورت کیسے بھی کپڑے پہنے مرد ان کو گھورتے ہیں. یہ قطعاً غلط ہے. ایسا بلکل نہیں ہاں چند کچھ انسانی شکل کے درندے ہیں جو ایسی گھٹیا حرکات کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہے. اگر عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے تو کوئی نہیں ‏گھورتا انہیں بلکہ عورتوں کے باپردہ ہونے پر مرد بھی اپنی آنکھوں کا پردہ کرتے ہیں. اب اگر عورتیں چھوٹےچھوٹےکپڑوں میں گھروں سے نکلیں تو تقریباً ہر شخص اسےگھورے گا، ہمیں اگر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا ہےتو پھر ہمیں مدینہ والے اصول بھی لاگو کرنے ہونگے. اور یہ کام ہمیں خود کرنا ‏ہے. اور اس کے لیے ہمیں آگے نہیں پیچھے جانا ہوگا. اگر ہم دنیا کی طرح آگے گئے تو پھر آگے صرف فحاشی اور بے حیائی ہے. ہمیں اب ہمیں واپس پیچھے جانے کی ضرورت ہے. پردہ عورت کی کمزوری نہیں بلکہ ایک پروٹیکشن ہوتی ہے. اگر آپ تحقیق کریں تو آپکو ایسی خواتین انجینیرز ڈاکٹرز اور سائنٹسٹ بھی ‏‏ملیں گی جنہوں نے باپردہ ہوکر اپنے خواب پورے کرے. اب وقت ہے ان لبرل مافیا اور موم بتی مافیا کو چپ کرنے کا جو پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنا چاہتے ہیں اور مغربی روایت نافذ کرنا چاہتے ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر بنا اب پاکستان میں اسلامی ریاست بنانا ہوگا. بس اب بہت ہوا.

    Twitter: @Shah_Meer_Ali

  • حصول رزق میں حلال اور حرام کی تمیز  تحریر : فہد شکور

    حصول رزق میں حلال اور حرام کی تمیز تحریر : فہد شکور

    بےعملی بے روزگاری اور گداگری کو سخت نا پسند کیا گیا ہے اور اس پر سخت وعید سنائی گئی ہے

    حدیث مبارکہ میں ہے کہ

    ” حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ تم سے کسی شخص کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور رزق مہ تلاش نہ کرے اور کہتا رہے کہ اللّٰہ مجھے رزق عطا فرما”

    ہمیں حصول رزق کیلئے جدوجہد بھی کرنی چاہیے کیونکہ ہم جانتے ہیں آسمان سونا چاندی نہیں برساتا جو ہم گھر بیٹھے رہے اور کہیں کہ ہمارے پاس رزق نہیں ہے

    خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے

    "کہ جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو اپنے رزق کی تلاش سے غافل ہو کر سوتے نہ رہو”  (کنزالعمال)

    اسلام نے ساری زمین کو انسان کیلئے میدان عمل قرار دیا یے اور انسان کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے معاش کے حصول کیلئے زیادہ سے زیادہ جدوجہد کرے۔ اسلام نے انسان کو مختلف طریقوں سے محنت اور معاشی جدوجہد جے حصول کئیلے اکسایا ہے۔ اسلامی معاشیات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام انسانوں کو معاشی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کو ترقی دی جائے ۔ تمام انسانوں کو معاشی جدوجہد کے مساوی مواقع فراہم کئے جائے کیونکہ فقروفاقہ انسان کو کفر کی طرف لے جاتا ہے۔

    اسلام حصول رزق کیلئے اس بات کی شرط عائد کرتا ہے کہ آمدنی جائز ذرائع سے حاصل ہو اور ہر وہ نفع جو جو غلط طریقہ یعنی حرام ذرائع سے حاصل ہو دوزخ کی آگ قرار دیتا ہے

    ارشاد باری تعالیٰ ہے

    "اے لوگوں جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے حلال اور پاک چیزیں کھاؤ”  (بقرہ 168)

    حرام سے کمائی ہوئی روزی کے متعلق ارشاد نبوی ہے

    "حرام روزی سے پرورش پایا ہوا گوشت اسکا زیادہ مستحق ہے کہ آگ میں ڈالا جائے”

    الجامع الترمذی 614

    حصولِ رزق میں سے ایک ذریعہ سود ہے جو معاشی ظلم کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسلام نے سود کو اور سکی ہر شکل کو حرام قرار دیا ہے پھر چاہے یہ مفرد یا مرکب یا ذاتی قرضوں پر لیا جائے ۔ تجارتی اور پیداواری قرضوں پر حرام ہے۔ اسکو لینے والے کو خدا اور اسکے رسول کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے

    ارشادِ ہے

    "اے ایمان والو !سود کے کئی کئی حصے بڑھا چڑھا کر نہ کھاؤ اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ”

    (آل عمران 130)

    اسلام ںے تجارت کو حلال اور جائز قرار دیا ہے تجارت میں امانت اور دیانت کو ہمیشہ واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے

    "امانت دار تاجروں کا حشر قیامت کے دن صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا”

    اسلام تجارت میں بددیانتی، دھوکا اور وعدہ خلافی کو رد کرتا ہے اس طرح ناپ طول کو درست رکھنا تجارت کا اہم حصہ ہے۔ اسلام ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر لعنت بھیجی گئی ہے۔

    اسلام دولت کے ارتکاز کو پسند نہیں کرتا اور یہ چاہتا کہ جائز طریقہ سے دولت کی تقسیمِ زیادہ ست زیادہ اور منصفانہ ہو اور پورے معاشرے میں دولت گردش کرے

    سودی نظام اور حرام ذرائع سے حاصل کردہ رزق سے ںچنے کیلئے ضروری ہے کہ

    حرام طریقے سے کمانے والے رزق کی شدید مخالفت کی جائے۔ حرام ذرائع روزگار پر پابندی عائد کی جائے۔ جہاں کہیں رزق میں شک ہو اسے ترک کیا جائے ۔ حرام کی کمائی کرنے والے کی کوئی بھی چیز قبول نہ کی جائے ۔اگر ہم ‏‎‎اللّٰہ تعالیٰ کے نظام معیشت پر غور کریں تو سودی نظام ختم ہو سکتا ہے۔ ارشاد ہے۔ صاحب حیثیت لوگ مال کو جمع نا کریں؟ گردش میں رکھیں؟اگر مال گردش میں رہیے گا تو روزگار پیدا ہو گا؟ زراعت اور صنعت ترقی کرے گا؟ کہیں نا کہیں تو پیسہ خرچ ہو گا گردش کے لئے؟ حلال رزق کے زیادہ سے زیادہ او بہتر مواقع فراہم کئے جائے۔ حلال طریقے سے رزق کے راستے آسان کئے جائے تاکہ لوگ حرام کی بجائے حلال طریقے سے رزق حاصل کریں

    اور سود اور حرام کا خاتمہ ہو سکے۔

    جزاک اللّہ

    @Malik_Fahad333

  • خود کو بدلیں اپنی سوچ کو بدلیں تحریر عبدالوحید

    خود کو بدلیں اپنی سوچ کو بدلیں تحریر عبدالوحید

    ہمارا نظام کیوں نہیں بدل رہا ہے ہمارے ملکی حالات کیوں نہیں بدل رہے حکومت نے آتے ہی نظام کو بدلنے کا کہا لیکن تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے ملکی حالات کیوں نہیں بدل رہے ۔ اگرچہ وزیرِ اعظم نے ملک کا چارج سنبھالتے ہی اعلان کیا اس نظام کو بدلو گا پھر بھی حالات جوں کے توں ہیں ۔ 

    ایک منٹ کے لیے ہمیں ملکی حالات کو بالاتر رکھ کر خود اپنے گریبان میں جھانکیں کیا ہم نے ان تین سالوں میں اپنے اندر کوئی تبدیلی لے کر آئے ۔ اگر ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں ناکہ ہمارے حکمران ۔ ذخیرہ اندوزی ، سفارش ، رشوت خوری ہم خود کریں اور ہم حکمرانوں سے نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہوں ۔ ایسا کسی بھی ملک یا معاشرے میں ممکن نہیں ۔ 

    آپ سب کو اچھی طرح یاد ہے جب کووڈ انیس آیا تھا تو ہرطرف ماسکوں کی مانگ میں اضافہ ہوگیا تھا پھر دیکھتے دیکھتے ماسک کی شارٹیج پیدا ہوگی کیونکہ سب ماسک لوگوں نے ذخیرہ کرلیے۔ اب اس چیز کا ذمہ دار کون ہے ۔ اسی طرح آپ چینی کی مثال لے سکتے ہیں ۔ یہ سب چیزیں ہم خود کریں اور تبدیلی کی توقع رکھیں دوسروں پر جوکہ ناممکن ہے ۔ میرے خیال میں اس چیز کا واحد حل یہ جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ان کو سخت سے سخت سزائیں ہونی چاہیے کیونکہ اس ذخیرہ اندوزی سے ناصرف ملک پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوام بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے جس سے کسی بھی حکومت کی مقبولیت میں کمی ہو جاتی ہے اور اس چیز کا فائیدہ اپوزیشن والے بھرپور طریقے سے اٹھاتے ہیں اور عوام کو مزید گمراہ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں یا حکومت کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ جس پر مقدمات ہوتے ہیں وہ لوگ ہمیشہ ان چیزوں کی ہی تلاش میں رہتے ہیں ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نا جانے دیا جائے جس سے ہمارے مشکلات میں کمی ہوجائے۔اس لیے اس بات کا ہم سب پر بھی فرض بنتا ہے کہ جو شخص ناجائز و غیر مناسب طریقے سے ذخیرہ اندوزی میں لگا ہوا اس کے خلاف آواز بلند کریں یا چپکے سے حکومت تک اطلاع کو کردیں تاکہ حکومت ایسے لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لے اور اس پر چیز پر قانون سازی بھی لازمی ہے اس لیے ہمیں چاہیے ہم سب سے پہلے خود کو بدلیں اپنی سوچ بدلیں ۔ جب اس چیز کا شعور ہر انسان میں آجائے گا کہ ملک بدلنے کے لیے ضروری ہے ہم خود کو بدلیں اس دن سے ناصرف ہمارے بلکہ ملکی حالات بھی بدلانا شروع ہو جائینگے ۔ 

    آؤ آج اس بات کا عہد کریں کہ ہمارے راستے میں جو روکاوٹیں ہیں ان کو دور کریں ان روکاوٹیوں کو کچل ڈالیں جو ہمارے نظام کو بدلنے سے روک رہے ہیں جس دن ہم اپنے اندر اس چیز کا احساس پیدا کریں اس دن سے ناصرف ہمارے بلکہ ملکی حالات بھی بدلنا شروع ہوجائیں گے ۔ 

    ایک حکمران جتنی مرضی کوشش کرے ، جتنا مرضی زور لگائے پھر بھی اس نظام کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک پوری قوم اس کا ساتھ نہیں دیتی ۔ ایک لیڈر آپ کو ایک سوچ تو دے سکتا ہے لیکن آپ کی مدد کے بغیر آپ کو ایک بدلا ہوا نظام نہیں دے سکے گا ۔ اس لیے ضروری ہے اس نظام کو بدلنے کے لیے پوری قوم کو اس حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ہم جلد از جلد ناصرف اپنے حالات بلکہ ملکی حالات کو بھی بدل دیں۔ اور ہمارا ملک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو۔

    @Wah33d_B

  • بابل کے آنگن میں مہکتی چڑیاں تحریر ۔فرزانہ شریف

    بابل کے آنگن میں مہکتی چڑیاں تحریر ۔فرزانہ شریف

    کہتے ہیں جب دو انسانوں کا نکاح ہوتا ہے تو اللہ تعالی ان دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے اٹوٹ محبت ڈال دیتا ہے جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔نکاح کے بولوں میں برکت ہی ایسی ہوتی ہے ۔۔
    نئی شادی شدہ لڑکی کو جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے ظاہر ہے اس کے لیے سسرال کا ماحول ٹوٹل مختلف ہوتا ہے اس کے میکے سے
    اگر تو لڑکی اکلوتے بیٹے کی بیوی بنتی ہے پھر تو اس کو اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی ایڈجسٹ ہونے میں کیونکہ گھر میں صرف ساس سسر اور شوہر کے کام خوشی خوشی انجام دے کر ان کی آنکھوں کا تارا بننا بہت آسان کام ہے لیکن۔بعض لڑکیوں کو بھرا سسرال ملتا ہے جہاں شوہر کے بہین بھائی ماں باپ سب مل کے رہ رہے ہوتے ہیں تو لڑکی کو سب کے مزاج سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ایسے وقت میں دونوں کی برداشت کا امتحان ہوتا ہے کہ خوش اسلوبی سے ایک دوسرے کے نظریات عادات کو سمجھنا ۔عزت دینا ۔عزت لینا دونوں طرف سے اس کا عملی مظاہرہ ہوتب ہی بات بنتی ہے ورنہ شروع دن سے اگر نئی آنے والی دلہن کو پریشر میں رکھ لیا جائے تو پھر نہ صرف وہ ذہنی طور پر کبھی آپ کے قریب نہیں آسکتی بلکہ اسے جب بھی موقع ملتا ہے جب وہ کچھ خودمختار ہوتی ہے اس کے دل میں آپکے ساتھ گزارا ہوا وقت ذہین کے ایک کونے میں کسی فلم کی طرح محفوظ ہوجاتا ہے جو وہ خود بھی کوشش کے باوجود نہیں نکال پاتی تو لڑکی کے دل میں ایک ایسی گانٹھ سی لگ جاتی ہے کہ پھر آپکا خلوص محبت بھی اس کو دکھاوا نظر آتا ہے۔۔تو کوشش یہ کرنی چاہئیے شروع دن سے لڑکی کو یہ احساس دینا چاہئیے کہ آپ اس گھر کی بہو ہو ہم بہت خوشی چاو سے آپکو اپنے بیٹے سے بیاہ کر لائے ہیں یہ آپکا گھر بھی اتنا ہی ہے جتنا یہاں رہنے والے باقی لوگوں کا ہے تو یقین کیجئے یہ چند الفاظ اس لڑکی کے لیے جینے کی وجہ بن جائیں گے پھر پوری ذندگی اس کے دل سے آپکی محبت عزت قدر کم نہیں ہوگی ۔
    اسے بیٹی جیسا پیار دیں کہ اپنی بیٹیاں تو دوسرے گھر چلی جاتی ہیں بہو ہی اصلی بیٹی ہے اگر تو وہ نسلی ہوئی آپکی دی گی عزت محبت خلوص آپکو دگنا کرکے لوٹائے گی
    بقول شاعر کے
    "میں نے ہر حال میں مخلوق کا دل رکھا ہے
    کوئی پاگل بھی بنائے تو میں بن جاتی ہوں…”
    اور اگر خدانخواستہ کم ظرف ہوئی تو ایک سبق کی طرح آپکو کبھی نہیں بھولے گی ۔۔
    لڑکی کو بھی چاہئیے جب اس کی شادی ہوجاتی ہے اگلے گھر کو اپنا گھر سمجھے شوہر کے والدین بھائی بہین سے اتنی ہی عزت پیار سے پیش آئے جیسے اپنے والدین اور بہین بھائیوں کے ساتھ پیش آتی ہے پھر ان شاءاللہ کوئی کم ظرف ہی ہوگا جو اس لڑکی کی قدر عزت نہیں کرے گا۔۔
    شوہر کو چاہئیے لڑکی کے والدین بہین بھائیوں سے اتنی محبت پیار سے پیش آئے جتنی وہ چاہتا ہے اس کی بیوی اس کے ماں باپ بہین بھائیوں کے ساتھ پیش آئے ۔تو کوئی وجہ نہیں دشمن بھی اختلافات ڈالنے آپکے درمیان آنے کی جرآت نہیں کرسکے گا ۔۔ویسے بھی کہتے ہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف غلط فہمی ڈالنے والا شیطان ہوتا ہے اللہ ایسے شیطانوں سے ہر مسلمان کو پناہ دے۔۔
    یورپ کی بات نہیں کرتی یہاں عورت کو اتنی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی ذندگی آسان بنانے کے لیے سب کچھ کرسکتی ہے مرد دو بیویاں نہیں رکھ سکتا اگر رکھے تو اس پر کیس بن جاتا ہے اور جیل کی ہوا کھانی پڑجاتی ہے اس وجہ سے اس معاملے میں عورت کو کوئی ٹینشن نہیں ہوتی کسی بھی قسم کی ۔۔ یہاں کا قانون بہت سخت ہے عورت کی ذندگی بنسبت پاکستان کے بہت آسان ہے ۔۔پاکستان میں لڑکی ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتی ہے مشکل سے مشکل وقت بھی اپنے سسرال میں گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہے بعض اوقات اور مشکل حالات میں بھی شوہر سے علیحدگی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔ اگر قسمت میں اچھا سسرال لکھا ہو تو وہ الگ بات ہے ورنہ سب تو نہیں کچھ لڑکیاں اپنی ساری ذندگی درد تکلیف برداشت کرتے گزار دیتی ہے اپنی ضروری خواہشات کے اصول کے لیے اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ انھیں پورا کرسکے اور شوہر کا دوسری شادی کا ڈر اسے آدھ موا کرکے رکھ دیتا ہےاس سب کے باوجود اپنے والدین بہین بھائیوں کے سامنے اف بھی نہیں کرتی کہ مذید مسائل نہ پیدا ہوجائیں اس کی ذندگی میں ۔۔ایسی لڑکیوں کے لیے میرا مشورہ ہے اپنے ساس سسر کو سب سے پہلے اپنا گرویدہ بنائے اپنے لیے ایک مضبوط ترین قلعہ بنائے آزمودہ بات ہے آپ جب ساس سسر کا دل جیت لیں گی آپکو کوئی بندہ پھر تنگ کرنے کی جرآت نہیں کرسکے گا گھر میں دو مضبوط ووٹ آپکے حامی ہوں گے تو شوہر جتنا مرضی رشتہ داروں کے پریشر کی وجہ سے آپ سے دور ہوا گا پلٹ کر آپکی طرف آجائے گا پھر باقی لوگ بھی آپکی خوبیوں کی تعریفیں کرتے نظر آئیں گے جو چراغ سے بھی آپکو خود میں نظر نہیں آئیں گی ۔۔
    اگر آپکا شوہر مالی طور پر کمزور ہے آپ اس کا ہاتھ بٹانے کے لیے کوئی جاب کرلیں یا پھر گھر میں ایسے کام لینے شروع کردیں جن سے آمدن ہونی شروع ہوجائے اگر آپ پڑھی لکھی ہیں لیکن شوہر نہیں چاہتا آپ باہر جاکر کام کریں تو گھر میں اپنی تعلیم کے حساب سے لوگوں کوٹیوشن دینی شروع کردیں۔اگر آپ تعلیم یافتہ نہیں کوئی ہنر ہے آپکے ہاتھ میں تو اپنے ہاتھ کے ہنر سے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائیں یاد رکھیں مشکل وقت ٹھہرتا نہیں لیکن اپ کا مشکل وقت میں اپنے شوہر کا ساتھ دیا ہوا وہ کبھی نہیں بھولے گا اپ کا ہوکر رہ جائے گا کبھی آپ سے بےوفائی نہیں کرے گا ۔بس اپنی نیک نیتی سے اپنا مشن جاری رکھیں کامیابی اللہ سبحان تعالی دیں گے ان شاءاللہ پانچ وقت کا خود کو عادی بنالیں کوشش کریں با وضو ہوکر بسمہ اللہ پڑھ کر اپنے صاف ستھرے ہاتھوں سے اپنی فیملی کے لیے کھانا بنائیں وہ کھانا نہ صرف مزیداراور برکت والا ہوگا بلکہ وہ کھانا جب آپکی فیملی کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے دلوں میں آپکے لیے محبت پیار پیدا ہوگا اور ایک خاتون خانہ کے لیے یہ پیار محبت کسی اعزاز سے کم نہیں ہوگا ۔۔
    میرے لکھے ہوئے پچھلے آرٹیکل کے حوالے سے دل میں کچھ خلش سی ہے اس کی تصحیح کرنا چاہتی ہوں کہ شادی کے حوالے سے جو میں نے الفاظ لکھے تھے

    "لوگ کیا کہیں گے "کے خوف نے معاشرے میں جہاں اور بہت سی مشکلیں پیدا کی ہوئیں ہیں وہاں دوسری شادی کرنے کو کچھ لوگ جرم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم کردیا تو لوگ باتیں کریں گے ۔میں کہتی ہوں کرنے دیں باتیں جو آپ کے پیارے ہوں گے آپ کے مخلص ہوں گے وہ آپکو دوسری شادی سے کبھی منع نہیں کریں گے بلکہ اس نیک کام میں آپکی مدد کریں گے ایک شرعی رشتہ اپنانے میں آپکی مدد کریں گے۔۔یہ ان لوگوں کے لیے الفاظ لکھے تھے جن کی ایک شادی ٹوٹ گی ہے یا پھر ان کی بیوی فوت ہوگی ہے یا شوہر فوت ہوگیا ہے تو لوگوں کی باتوں کے ڈر سے وہ دوسری شادی کرنے سے ڈرتے ہیں ۔۔جبکہ نکاح کرنا سنت ہے ذندگی ایک انسان پر ختم نہیں ہوجاتی کہ جان کا روگ بناکر اپنی ذندگی ہی تیاگ دی جائے۔اگر اپ کی کسی وجہ سے شادی کامیاب نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذندگی کی خوشیوں کے دروازے خود پر بند کرلو یہ اللہ کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے ذندگی بہت خوبصورت ہے اس کا ایک ایک پل انجوائے کرنے کا ہر انسان کا حق ہے اور انجوائے کرنی بھی چاہئیے کون سا ہم نے روز روز دنیا میں آنا ہے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ذندگی بھرپور انجوائے بھی کرنی۔ چاہئیے۔۔!!!

  • ڈپریشن تحریر : اقصٰی صدیق 

    ڈپریشن تحریر : اقصٰی صدیق 

     

    ڈپریشن کے لفظی معنی پچکاؤ، دبی ہوئی جگہ، بددلی، افسردگی اور ذہنی اضمحلال وغیرہ میں ملتے ہیں۔

     لیکن عام زندگی میں یہ لفظ عموماً اس وقت استعمال ہوتے ہیں جب کوئی فرد اپنے موڈ میں بہت زیادہ گراوٹ یا خود کو قابل رحم محسوس کرتا ہے۔ تاہم معالجین اس موڈ میں گراوٹ کی علامت بیان کرنے یا کسی مخصوص بیماری کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

     لیکن اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کسی دکھ پر فطری طور پر غمزدہ ہونے والی اور بیماری والی آزردگی میں فرق کرنا پڑے۔ 

    دنیا بھر میں ہر سال 10 اکتوبر کو دماغی صحت کے حوالے سے خصوصی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے ہے کہ عوام الناس کو کو ذہنی و دماغی امراض سے متعلق ضروری معلومات پہنچائی جائیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق 350 ملین سے زائد افراد جن میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں جو کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بستے ہیں ڈپریشن کی شدید کیفیت کا شکار ہیں۔

     یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ڈپریشن جیسے عارضے کو مرض نہیں سمجھا جاتا بلکہ مریض اس عارضے کے ساتھ ہی اپنی گزر اوقات کرتا رہتا ہے۔

    ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریبا 15 فیصد سے زائد افراد ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ تین فیصد سے زیادہ شیزوفرینیا کا شکار ہیں۔

    جبکہ چھ فیصد سے زائد افراد بدسلوکی اور 1 سے 2 فیصد افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اور عموماً خودکشی کے واقعات میں اضافہ کی ذمہ داری معاشرتی برائیوں کے علاوہ ان بیماریوں پر بھی ہے، اس ضمن میں ڈپریشن اور اس سے پیدا ہونے والی دوسری بیماریاں اور پیچیدگی اول نمبر پر ہیں۔

    یہ ایک حقیقت ہے ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہر انسان رنج و غم، مصبیت وتکلیف، آفت و ناکامی اور نقصان سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

     البتہ دانشمند اور کم عقل کے انداز فکر اور طرز عمل میں ایسے مواقع پر ایک نمایاں فرق ہوتا ہے۔

    کم عقل رنج و غم کے ہجوم میں پریشان ہوکر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے، اور مایوسی کا شکار ہو کر ہاتھ پیر چھوڑ دیتا ہے۔ اور بعض اوقات تو غم کی تاب نہ لا کر خودکشی بھی کر لیتا ہے۔

     اس کے مقابلے میں دانشمند کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ ہوا تقدیر الٰہی کے مطابق ہوا، اور اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی کام اور حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا، یقینا اس میں بھی میرے لیے کوئی خیر اور بہتری کا پہلو ہوگا۔

    عقل مند کا یہ عقیدہ اسے ایسا روحانی سکون و اطمینان بخشتا ہے، جس سے ہر مشکل آسان لگنے لگتی ہے اور بڑے سے بڑے سانحے کو بھی مقدر کا فیصلہ سمجھتے ہوئے اپنے غم کا علاج پالیتا ہے اور پریشان نہیں ہوتا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ” مومن کا معاملہ بھی خوب ہے وہ جس حال میں بھی ہوتا ہے خیر ہی سمیٹتا ہے، اگر وہ دکھ بیماری اور تنگ دستی سے دوچار ہوتا ہے تو اُسے سکون اور صبر کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔اور یہ آزمائش اس کے حق میں خیر ثابت ہوتی ہے، اور اگر اس کو کو خوشی و خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ خوشحالی اس کے لیے خیر کا سبب بنتی ہے۔(صحیح مسلم) 

    جدید تحقیق کے مطابق بے خوابی کی پُرانی شکایت ذہنی پستی کی علامت قرار دی جا سکتی ہے،

     حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے ہے کہ اچھی نیند سونے والوں کے مقابلے میں نیند اچاٹ ہونے والوں کے ڈپریشن یا پستی کا شکار ہونے کے امکانات 6 گناہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس مرض سے متاثرہ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو بظاہر خوب سوتے ہیں لیکن اس کے باوجود آرام کے احساس سے محروم ہوتے ہیں بعض افراد کو بھوک پیاس نہیں لگتی جس کی وجہ سے وہ روز بروز کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح کے مریض توانائی سے محروم ہو کر کرسی یا بستر سے اٹھنے سے بھی مجبور ہو جاتے ہیں اور انہیں کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔

    اور ڈپریشن کا شکار مریض کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے میں پریشانی کا سبب بنتا ہے۔وہ اپنے آپ کو ناکارہ تصور کرنے لگتا ہے، اور زندگی اس کے لیے ایک بے مقصد شے بن کر رہ جاتی ہے۔

    پستی کے عارضے سے متعلق یہ بات بھی صحیح ہے کہ اس مرض سے متاثرہ افراد خود کو عموماً لاعلاج تصور کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے علاج کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔

    جس کی وجہ سے وہ روز بروز اس مرض کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جاتے ہیں، ایسے افراد کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ اور ایسے واقعات کو یاد کرنا چاہیے جو ان کے لیے مشعل راہ ہوں۔کیوں کہ بے شمار کام لوگوں کے پیچھے بھی کئی ناکامیاں چھپی ہوئی ہیں۔

    ڈپریشن یا پستی کی کیفیت بالعموم دو قسم کی ہوتی ہے۔ ماہرین کی بیان کردہ یہ دو اقسام کچھ اس طرح ہیں۔

    حیاتیاتی پستی: حیاتیاتی پستی کراچی جسم میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کے ثواب ہوتی ہے یہ کیفیت بعض اوقات نفسیاتی عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے ہے اس لئے اس کا علاج بالعموم پستی رفع کرنے والی ادویات سے کیا جاتا ہے طور پر استعمال سے یہ کیفیت دور ہو جاتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس قسم کی پستی کے مریضوں کے علاج میں سب سے بڑی دقت یہ ہوتی ہے۔ کہ اس کے مریض دافع پستی ادویہ کے استعمال کے لیے آمادہ نہیں ہوتے، وہ خود کو صحت مند خیال کرکے اس مرض کا مکمل طور پر علاج نہیں کرا پاتے۔

    نفسیاتی پستی: یہ بیرونی اسباب کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ دراصل کسی غم اور دُکھ کی بڑھی ہوئی صورت ہوتی ہے بعض اوقات یہ غم اور دُکھ اس قدر نازک ہوتا ہے، کہ اس کی نشاندہی مشکل ہوتی ہے۔بعض اوقات عمر میں تبدیلی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ جیسے بچپن اور جوانی کے رخصت ہونے پر بعض لوگ شدید پستی کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں پر یہ کیفیت محبت میں ناکامی کے باعث پیدا ہوجاتی ہے۔

    بعض اوقات فوری طور پر کس معزوری کے طور پر بھی نفسیاتی پستی لاحق ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ جیسے کہ پستی کے مریضوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جنہیں "مسکراتے مریض” کہا جاتا ہے۔

     یہ مریض اپنے غم کو اپنے اندر دبائے رکھتے ہیں اور اوپر سے خوش باش نظر آتے ہیں۔ ایسے مریض اپنے آپ کو بہت مشکل سے مریض مانتے ہیں، بعض اوقات ماحول اور حالات بھی لوگوں کو پستی میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں میں یہ کیفیت موروثی بھی پائی جاتی ہیں۔

    یاد رہے کہ پستی کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کا علاج نہ کیا جا سکے۔ اس مسئلہ کو مناسب علاج معالجے کے ساتھ ساتھ مضبوط قوت ارادی کی بدولت مات دی جاسکتی۔ پستی کا شکار افراد جب اپنی پستی کو دور کرنے یا کم کرنے کے لیے شراب یا دیگر نشہ آور اشیاء کا سہارا لیتے ہیں تو وہ نہ صرف اس مرض کو بڑھانے کا موجب بنتے ہیں بلکہ دیگر کئی خطرناک امراض جیسے کہ دل کا دورہ وغیرہ کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔

    دماغی اور نفسیاتی بیماریوں میں تشویش ناک حد تک اضافے کی وجوہات غربت، بے روزگاری سیاسی عدم استحکام، تشدد اور دیگر سماجی برائیاں ہیں۔ کچھ خرابیاں پیدائشی بھی ہوتی ہیں، جب کہ کچھ انسان کے جسمانی نظام میں موجود ہوتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطالعاتی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ تمام نفسیاتی امراض میں ڈپریشن سرفہرست ہے۔ اس کے بعد ڈپریشن سے متعلق شدید ذہنی امراض شیزوفرینیا، بےچینی، فکر یا تشویش اور جسمانی نظام سے پیدا ہونے والی نفسیاتی بیماریاں، بدسلوکی اور اذیت رسانی وغیرہ شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ درج ذیل کیفیات میں مبتلا افراد زیادہ تر ڈپریشن کے عارضے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

     بہت زیادہ غمگین رہنے والے افراد، باطن پسند افراد، خود تنقیدی افراد، کوتاہی کرنے کی طویل و گہری سوچ رکھنے والے افراد، بہت زیادہ تنقید کرنے والے اور گہری پریشانیوں میں رہنے والے افراد، اور اضطراری کیفیت کے شکار افراد وغیرہ۔

    لہذا میں یہی کہنا چاہوں گی کہ” نفسیاتی مریض ” کہلوانے سے نہیں بلکہ ہونے سے ڈریں، ہر قسم کا ذہنی اضمحلال قابلِ علاج ہے۔

    @_aqsasiddique

  • غربت اور اس سے جڑے نفسیاتی مسائل  تحریر: نعمان سرور

    غربت اور اس سے جڑے نفسیاتی مسائل  تحریر: نعمان سرور

    چند دن قبل ایک خبر میڈیا کی زینت بنی کے ایک شخص نے اپنے تین بچوں کو کنویں کے اندر پھینک کر قتل کر دیا اور پھر خود بھی خودکشی کر لی جب اس بات کی حقیقت سامنے آئی تو وجہ غربت نکلی، آجکل ایسے واقعات بہت زیادہ سنائی دیتے ہیں

    سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تھرپارکر میں خودکشی اور ذہنی امراض کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے تھرپارکر کا شمار پاکستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں غربت بہت زیادہ ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ چونکا دینے والی ہے اس میں انکشاف کیا گیا ہے کے اس علاقے میں خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی اوسط عمر 10-20 سال ہے جبکہ ملک کے دوسرے حصوں میں یہی شرح 20-35 ہے اب سوچنے کی بات یہ ہے کے  غریب طبقہ کے نوجوان اپنی جان کیوں لے رہے ہیں اور ہم اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟

    ایشیائی ترقیاتی بینک کا اندازہ ہے کہ تقریبا ایک چوتھائی پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

    یہ لوگ اپنے حالات سے تنگ آ کر ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ تعلیم کا نہ ہونا اور ان کو معاشرتی اور معاشی انصاف نہ ملنا ہے جب معاشرے میں ایسی تقسیم ہوتی ہے جو کے انصافی پر مبنی ہو تو اس کے اثرات بچوں کی نفسیات پر پڑتے ہیں جس پر آج تک توجہ نہیں دی گئی، وزیراعظم پاکستان نے بچوں کو خوراک کی فراہمی پر توجہ دینے کے لئے اقدامات کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر اب وقت ہے عملی اقدامات کرنے کا۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ غربت سے وابستہ افراد جب معاشرے میں ناانصافی دیکھتے ہیں تو اس کا بڑا اثر ان کی ذات پر پڑتا ہے سوشل میڈیا تک رسائی نے اس فرق کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے سوشل میڈیا کے زریعے ایکٹر،مشہور لوگ،سیاستدان اپنی نجی زندگی کی آسائشوں سے بھری تصاویر جب اپلوڈ کرتے ہیں تو یہ انٹرنیٹ کے ذریعے غریب لوگوں تک جاتی ہے جس سے ان میں احساس کمتری ، ناراضگی ، مایوسی کو جنم دیتی ہیں۔ اور وہ نوجوان اس کا موازنہ اپنی زندگی سے کرنے لگتے ہیں اگر ان کو اچھی تعلیم دی جائے تو ان کو سوچ ان چیزوں پر مثبت طریقے سے غوروفکر کرے۔

    نفسیاتی مسائل کے نتیجے میں غربت میں رہنے والے نوجوانوں کے لیے بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 

    جب غربت میں ڈوبا شخص یہ تمام عیش و عشرت دیکھتا ہے جو اسے میسر نہیں ہوتی لیکن دوسروں کو میسر ہوتی ہے تو اس کی سوچ کا دائرہ محدود ہوجاتا ہےجس کے نتیجے میں ناقص تعلیمی کارکردگی ، ابتدائی اسکول چھوڑنے اور مثبت سرگرمیوں کی دوری جنم لیتی ہے۔

    جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کی سوچ منفی ہو جاتی ہے اور وہ روزگار اور آسائش حاصل کرنے کے ہر اچھے برے طریقے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں خراب معاشی حالات اور روزگار کے مواقع کی کمی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

    انہیں وجوہات کی بنا پر نوجوان اکثر غیر صحت مندانہ رویوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے نشہ آور چیزیں ، جو کہ وقت کے ساتھ مسلسل بڑھ رہی ہیں مبینہ طور پر پاکستان میں منشیات روزانہ 700 جانیں لیتی ہیں ، اور خودکشی اس کے علاوہ ہے۔

    جو نوجوان ان مسائل کا شکار ہو جاتا ہے اس میں غصہ بڑھ جاتا ہے جس سے گھریلو تشدد اور طلاق کے مسائل دن بدن دیکھنے میں آ رہے ہیں یہ سب نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

    ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جیلوں میں 85 فیصد مرد قیدی ڈپریشن کا پائے گئے ۔ 

    ان کا حل کیسے ممکن ہے ؟؟

    حکومت وقت کی زمہ داری ہے کے وہ ان غریب نوجوانوں کو مالی بااختیار بنانے میں اپنا کردار ادا کرے، غربت کے خاتمے کے پروگراموں کو شروع کیا جائے، زہنی صحت کے حوالے سے تعلیم دی جائے اور بچوں کو سکول لیول پر ہی ان کی دماغی جانچ کی جائے کے وہ کیا سوچ رہے ہیں کیسے حالات سے گزر رہے ہیں۔

    نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کا بہترین وقت جلد از جلد ہے۔ ابتدائی سراغ لگانا اور جلد حل کرنا ہی اس کا علاج ہے ، پاکستان میں پہلے سے ہی بنیادی ہیلتھ یونٹس کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو دیہی علاقوں میں بنیادی دیکھ بھال فراہم کرتا ہے۔ اگر ذہنی صحت کی خدمات کو اس نظام میں شامل کیا جاتا ہے تو بہت سے نوجوان ان ہیلتھ یونٹس کے زریعے اپنے مسائل کا حل پا سکتے ہیں اور سکولوں کی سطح پر بھی بچوں کی دماغی نشونما کی جانچ کی اشد ضرورت ہے۔

    مزید برآں ، تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو ملک اپنے نوجوانوں کی نفسیات پر ایک 1000 روپے خرچ کرتا ہے یہی نوجوان بعد میں ملک کی پیداواری صلاحیت میں 5000 روپے کا اضافہ کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خرچہ کسی قوم پر بوجھ نہیں بلکے آمدن ہے اور نیکی بھی ہے۔

    اللہ تعالی ہم سب کو ہامی و ناصر ہو آمین۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    @Nomysahir

  • شادی اور فضول رسم و رواج  تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    شادی اور فضول رسم و رواج تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    Twitter Handle: @IamYasif

    پاکستان میں اکتوبر سے مارچ شادیوں کا موسم ہوتا ہے، ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی شادی طے ہوتی ہے۔ اکتوبر کا مہینہ آتے ہی ہر طرف سے شادی کارڈ آنے شروع ہوجاتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے "جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں” لیکن یہ لکھتے وقت ہمارا معاشرہ بھول جاتا ہے کہ جوڑے بے شک آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن مشکلات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ تقسیم ہند سے پہلے کئی صدیاں مسلمان، سکھ اور ہندو ایک ساتھ رہے، یوں ایک دوسرے کے رسم و رواج بھی اپنا لئے گئے۔ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا لیکن بدقسمتی سے ہندووانہ رسم و رواج آج بھی ہماری شادی بیاہ میں قائم و دائم ہیں۔

    شادیوں پر لاکھوں اڑانے کے بجائے سادگی سے نکاح کرکے بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے لیکن ایک جملہ آڑے آجاتا ہے اور وہ ہے "لوگ کیا کہیں گے”۔ آج اسی جملے پر بات کرتے ہیں اور غور کرتے ہیں کہ یہ جملہ کہاں کہاں ہمیں فضول رسم و رواج کی طرف دھکیل رہا ہے

    پہلی رسم کا نام ہے منگنی جس پر ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق ہزاروں سے لے کر کروڑوں روپے لگاکر جھوٹی شان و شوکت قائم کرتا ہے، اگر یہ رسم نہ کریں اور سادگی سے رشتہ طے کریں تو "لوگ کیا کہیں گے” جیسے جملے سنائی دینے لگتے ہیں۔ منگنی کے بعد اکثر اوقات معمولی اختلاف پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور پھر خاندان کئی کئی سال ایک دوسرے سے ناراض رہتے ہیں۔

    منگنی کے بعد الگ سے شادی کی تاریخ رکھنے کے لئے ایک فنکشن ہوتا ہے جس میں خاندان بھر کے لوگ اکٹھے کرکے دوبارہ سے کھانا پینا کیا جاتا ہے، عام طور پر یہ رسم لڑکی کے گھر کی جاتی ہے، جس سے لڑکی کے خاندان پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، حالانکہ شادی کی تاریخ دونوں کے والدین سادگی سے طے کرسکتے ہیں لیکن یہاں بھی لوگ کیا کہیں گے؟ کی وجہ سے سب خاموش ہوجاتے ہیں۔

    شادی کی شروعات ڈھولکی سے ہوتی ہے، جہاں کئی دن ڈھول اور اونچی موسیقی لگاکر ہمسایوں کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے، مہندی سے قبل سنگیت اور اُبٹن جیسی ہندووانہ رسمیں بھی شادی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں، مہندی کی رسم عموماً دو دن ہوتی ہے پہلے لڑکی کی مہندی اور پھر لڑکے کی مہندی۔ آج کل کئی شادیوں پر مشترکہ شادیوں کا رجحان بھی آچکا ہے۔

    ایک اور رسم جس کا نام گھڑولی ہے جو بارات والے دن کی جاتی ہے، سر پر پانی کا گھڑا رکھ کر خواتین کسی رشتہ دار کے گھر سے پانی بھر کر لاتی ہیں، یقینا یہ رسم بھی ہمیں بھارت سے ہی ملی ہے۔ بارات کی رسم سے شروعات سے قبل جہیز کے معاملات طے ہوجاتے ہیں، لڑکی کو فرنیچر، برتن اور الیکٹرانک مصنوعات سمیت بعض لوگ گاڑی اور گھر تک دیتے ہیں۔ جہیز سے متعلق واقعات تو ہم اکثر پڑھتے اور دیکھتے ہیں کہ کیسے لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ساری عمر کنواری بیٹھی رہتی ہیں لیکن لڑکوں کے ساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ حق مہر کے علاوہ دلہن کے سونے کے زیورات اور رشتے داروں کے مہنگے لباس کی رسم بھی موجود ہے۔ بارات کے آتے ہی دولہا کو صوفے پر جگہ دینے کے نام پر رقم بٹوری جاتی ہے، اسکے بعد جوتا چھپائی اور دودھ پلائی جیسی متعدد رسومات کے نام پر دولہے کی جیب خالی کی جاتی ہے۔ ولیمہ کی رسم میں کو بھی شاہانہ طرز دینے کی وجہ سے نوبیاہتا جوڑے پر مالی دباو آتا ہے، مہنگے شادی ہال اور لذیز پکوان ضروری تصور کئے جاتے ہیں

    نیچے دی گئی چند احادیث کی روشنی میں نکاح کی اہمیت کا اندازہ کریں

    حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی سنت میں سے ہیں:حیاء ،خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور نکاح‘
    (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ابن ابی نجیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ: مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ وہ بہت مال والا ہو، پھر فرمایا: مسکین ہے، مسکین ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو، لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ بہت مالدار ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ مال والی ہو‘‘۔
    (مجمع الزوائد ،ج:۴،ص:۳۲۸،بحوالہ معجم طبرانی اوسط )

    حضور اکرم ا کا ارشاد ہے:
    ’’اے جوانو!تمہیں نکاح کرلیناچاہیے، کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والا اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے،اور جو اس کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے‘‘۔ (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ’’جو شخص نکاح کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود نکاح نہ کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے(یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)‘‘۔ (مجمع الزوائد،ج:۴،ص:۳۲۷)

    ہمیں سوچنا چاہیئے کہ نکاح کو ہم نے آخر کیوں مشکل بنادیا ہے، اگر ہم اسلامی احکامات پر عمل کریں تو ان فضول رسومات سے بچ سکتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نکاح میں تاخیر سے معاشرے میں بےراہ روی بڑھی ہے۔ اللہ پاک ہمیں سادگی اور میانہ روی احتیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

    Chaudhry Yasif Nazir is a freelance journalist, Columnist, Writer and social media activist who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter

    account @IamYasif

    https://twitter.com/IamYasif

  • الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف

    الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف


    سن 1936ء کو بھارت کے شہر بھوپال میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبدالقدیر خان رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہوکر سانئس دان بنے گا۔ ایک ایسا سانئس دان جو پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے آباؤ اجداد کا تعلق بھوپال سے تھا۔ مگر سن 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد جب پاکستان وجود میں آیا تو ان کا پورا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان میں آکر آباد ہوگیا۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کی اور سن 1960ء میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری لینے کے بعد وہ مزید علم کے حصول کی خاطر جرمن کے دارالحکومت برلن چکے گئے۔ کافی عرصہ وہاں قیام پذیر رہے اور پھر اسی عرصے کے دوران انھوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

    پھر 1971ء کی جنگ میں پاکستان کو جن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو ان درپیش مسائل سے نکالنے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی تھان لی۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے 1974 میں ذولفقار علی بھٹو کو ایک پیغام بھجوایا کہ وہ جوہری قوت کے حصول اور پاکستان کو ایک مضبوط ایٹمی قوت بنانے کے لیے بھرپور مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

    پھر اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976 کو مستقل طور پر اپنی اہلیہ ہنی خان اور دو بیٹیوں کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوگئے۔ کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کے لیے ان کے وطن کو ان کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ یہ کام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا۔ یہ وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہی تو تھا کہ جس کی بدولت آپ ہالینڈ میں اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر پاکستان واپس چلے آئے۔

    اس اہم فیصلے میں ان کی اہلیہ ہنی خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اندر پاکستان کے لیے عشق کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے ساتھ ہی پاکستان آگئیں۔ وطن واپس آتے ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 1976 کے وسط میں ای آر ایل یعنی کہ "انجنیرنگ ریسرچ لیبارٹری” کی بنیاد رکھی۔ بعد میں 1981 کو اس لیبارٹری کا نام "خان ریسرچ لیبارٹری” رکھ دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو جوہری طاقت بنانے کے لیے انتھک محنت کرتے ہوئے اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔

    اور پھر 28 مئ 1998 کا وہ تاریخی دن تو سب کو یاد ہی ہوگا جب بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب کے طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں چاغی کے مقام پر کامیاب ترین ایٹمی تجربہ کرتے ہوئے بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی تو وہ ہستی ہیں جن کی بدولت آج ہم اپنے ملک میں بغیر کسی خوف و خطر کے کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

    آج اگر بھارت ہمیں جنگ کی دھمکی دیتا ہے تو ہمارے چہروں پر خوف کا سایہ نہیں لہراتا بلکہ ہم پر سکون ہوکر انھیں جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص وہ "محسن پاکستان” جس کی بدولت آج پاکستان بھارت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے اب سے کچھ گھنٹے قبل شدید علالت کے بعد رحلت فرما گیا ہے۔ یاں یوں کہوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ اب سے کچھ گھنٹے قبل پاکستان نے اپنا سب سے قیمتی اثاثہ کھو دیا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر جہاں پوری قوم اشکبار ہے وہیں آج پاکستان کے اتنے بڑے نقصان پر قومی پرچم کو بھی سرنگوں کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود تو اس دنیا سے چلے گئے پر ان کا نام اور ان کا کام رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ الوداع "محسن پاکستان” الوداع

    مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
    جب بھی اس شہر کی تاریخ وفا لکھے گی
    میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
    میرا نوحہ انھیں گلیوں کی ہوا لکھے گی !!!

    ‎@SeharSulehri

  • ثقافت کے چوراہے پر تحریر: محمد تنویر

    ثقافت کے چوراہے پر تحریر: محمد تنویر


    ماه فروری پاکستان میں ادبی گہما گہمی کا مہینہ تھا کراچی اور لاہور ادبی میلے اپنے عمومی طریقے سے منعقد کیے گئے۔ ان دو ادبی تقاریب نے ملک کے ادبی منظر نامے میں شہرت حاصل کر لی ہے ۔ان اعلی پیانے کے میلوں کے درمیان مادری زبانوں کے ادبی میلے کا ایک قابل ذکر آغاز ہوا۔ یہ اپنی قسم کا پہلا میلہ تھا، وفاقی دار لحکومت میں منعقدہ اس میلے میں متفرق افراد نے ملک کے ہر کونے سے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنی زبان و ثقافت سے آراستہ ومزین کیا۔

    مادری زبانوں کے میلے میں ملک بھر کے طول و عرض کی مختلف زبانوں کے مصنفین، شاعروں، گلوکاروں اور شائقین نے شرکت کی۔ ایک سو پچاس سے زائد لکھاریوں نے چوبیس ادبی مزاکروں میں بارہ سے زائد زبانوں میں ہونے والے ادبی کام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مادری زبانوں کا مشاعرہ اور مختلف زبانوں کی شام موسیقی کی شاندار پرفارمنس میلے کے رنگارنگ پروگرام اور دلچسپیاں تھیں۔

    یہ میلہ انڈس کلچرل فورم نامی ایک نئی تنظیم نے پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ، لوک ورثہ اور ادارہ استحکام شرکتی ترقی کے تعاون سے منعقد کیا۔ لوک ورثہ نے میلے کے لیے اپنی پر فضا جگہ فراہم کی جہاں رنگارنگ ثقافتوں اور ثقافتی تنوع کا جشن منایا گیا۔

    میلے کے ادبی سیشن اور پر فارمنس صرف بڑی زبانوں اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، سرائیکی بلوچی، تک محدود نہیں تھے بلکہ ان میں براہوی، پہاڑی، چترالی، بروشسکی، شینا،کشمیری، وخی، توروالی بلتی، گوجری، دری، ہزارگی، ہندکو اور پوٹھوہاری کو بھی خاطر خواہ شمولیت دی گئی تھی۔ متنوع ثقافوں کے اس اجتماع سے ایک سیاسی پیغام بھی واضح ہو کر سامنے آیا کہ طویل عرصے سے اگرچہ بیدخل نہیں کئے گئے تاہم نظر انداز کی گئی ملکی ثقافتیں اور زبانیں ملک کے سیاسی و ثقافتی منظر نامے میں اپنے حقوق اور جائز حصہ مانگ رہی ہیں۔

    میلے کی تقریبات اقوام متحدہ کے مادری زبانوں کے عالمی دن کے ساتھ منعقد کی گئیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کی مادری زبانیں جن کو اکثر ” مقامی زبانوں ” کے نام سے پکار کر ان کی حیثیت کم کی جاتی ہے، اپنے اندر علم و دانش اور تخلیق کے بے بہا اور بے مثل خزانے رکھتی ہیں۔

    اپنے وجود کی سات دہائیوں کے بعد بھی ملک نے تاحال ان زبانوں کو قومی زبانیں تسلیم نہیں کیا ہے، اور اس کی وجہ ایک خود ساختہ حب الوطنی کا راگ الاپنے والے اس عمل کو قومیت کی فریبی نعرے کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے سازشی نظریات پیش کرنے کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے اور یقین مستحکم رکھتے ہیں کہ ایک سے زائد قومی زبانیں قومی کجہتی کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔ حس پر مبنی اس افسانوی بات نے لاکھوں افراد کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے۔

    ترقی یافتہ دنیا، ثقافتی تنوع کا احترام کرتے ہیں اور اس کے وسیع ثبوت پیش کرتے ہیں اور ان کو فروغ دیتے ہیں جو متنوع معاشرے میں مختلف گروہوں کے مختلف افراد کے درمیان جڑت پہنچاتا ہے پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس، یک ثقافتی اقدار کو فروغ دینا سماجی ہم آہنگی کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے

    مختلف قوموں کی فیڈریشن میں ان سب کو ایک زبان اور ثقافت کے ساتھ زبردستی جوڑ نے سے متحد نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مصنوعی قوم کی ترویج کا تجر بہ 1971 میں تباہ کن نتیجے کی شکل میں سامنے آیا۔ عمومی خیال یہی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پیچ 1948ءاس وقت بوۓ گئے جب نوزائیدہ مملکت میں بنگالی زبان کو قومی زبانوں کے طور پر رائج کرنے کے حق کو مسترد کر دیا گیا۔

    کچھ تنگ نظر سیاسی عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی اس لیے سرکاری حکم ناموں کے ذریعے ایک متحد قوم بھی بنائی جاسکتی ہے ۔ قومیت کو ریاستی امور کے بجاۓ ذاتی معاملے کے طور پر جانچا جانے لگا۔ یہ مفروضہ بنایا گیا کہ قومیں، جن کی شناخت اور ورثہ ہزاریوں میں تشکیل پایا، ایک رات بھر اپنا تشخص پس پشت ڈال کر ایک نئی بنائی گئی شناخت اختیار کر لیں گی۔ کسی بھی سرکاری حکم نامے پر اعتراض یا اس کی تعمیل سے انکار کو غداری اور حب الوطنی کے خلاف قرار دے دیا گیا، یہ سب نا صرف غیر حقیقی تھا بلکہ ناجائز حد تک غیر منصفانہ بھی تھا۔ اسی باعث اس کا بھیانک نتیجہ نکلنا یقینی تھا۔ ۱۹۷۱ میں اس دیوانگی کے انجام نے ہر ایک کو حیران و پریشان کر دیا۔

    حقائق سے انکار ہمارا قومی رویہ ہے جس نے ہمیشہ ہم کو تاریخ سے سکھنے سے محروم رکھا ہے۔ اور ماضی کی غلطیاں دھرانے کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ایک راس جانچ کی شدید اور فوری ضرورت ہے جس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے

    ہمارے سفر کا راستہ اس کے آغاز سے ہی غلط سمت میں اختیار کیا گیا۔ ثقافتی طور پر متنوع اور سیاسی طور پر مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کے لئے اسلام اور اردو کو جڑت کے عناصر کے طور پر استعمال کیا گیا انتظام اور وجوہات سے قطع نظر سندھ اور بنگال کے لئے سکولوں عدالتوں وصول دین اور دیگر سرکاری معاملات میں دھائیوں سے رائج تھیں۔

    بنگال اور سندھ میں زبان کی نقل و حرکت کے نتیجے میں دونوں صوبوں میں قوم پرست تحریکوں کی تقسیم کے نتیجے میں۔ غیر مطلوب حکمرانی شعار اردو نے پاکستانی قوم پرستی کے ٹائل کا نشان لگایا اور اس طرح ملک میں دیگر قوموں کی دوسری زبانوں کے خلاف اسے گھیر لیا۔

    اگر چہار دو مختلف لسانی قومیتوں اور علاقوں کے درمیان رابطے کی زبان کے طور اپنی صلاحیت رکھتی تھی، یہ تنازعے کا مرکز اور پاکستان کے آبادی کی زیادہ تر آبادی پر عائد ثقافتی حاکمیت کی ایک علامت بنادی گئی۔ جب اقتدار کے مراکز نے اردو کو پاکستان کی وسیع آبادی پر ثقافتی یک رنگی کی علامت کے طور پر تھوپا تو اس نے پورے ملک میں اردو کے خلاف ایک غیر ضروری کے جذبے کو ہوادی اور قوم پرستی ایک رد عمل کے طور پر سامنے آئی کہ وہ ریاست میں اپنا حصہ دوبارہ لینے کے لئے ایک نقطہ نظر اپناۓ۔

    دنیا میں متعدد ممالک ہیں جہاں ایک سے زائد زبان کو قومی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے اور ان کی قومی سالمیت کو بھی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ کچھ ایسی مثالیں یہاں بیان کی گئی ہیں۔ عربی اور بربر الجزائر کی قومی زبانیں ہیں فن لینڈ میں دو قومی زبانیں ہیں۔ فینیش اور سویڈش۔ پڑوسی بھارت میں 23 قومی زبانیں ہیں۔ نائجیریا نے تین اکثریتی یا قومی زبانوں کو تسلیم کیا۔ ہوسا، اگبو، اور یوروبا۔ سنگا پور میں چار چار سرکاری زبانیں ہیں۔ انگریزی، چینی، ارٹی اور تامل۔ جنوبی افریقہ میں 11 قومی اور سرکاری زبانیں ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور رومانش سمیت چار قومی زبانیں ہیں۔ ہانگ کانگ میں انگریزی اور چینی سرکاری زبانیں ہیں۔ سری لنکا میں سنہالا اور تمل سرکاری زبانیں ہیں۔ ان ممالک میں سے پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب کوئی بھی ایک سے زیادہ قومی زبانوں کی وجہ سے سیاسی اور قومی سالمیت کو خطرہ محسوس نہیں کرتا۔ ان میں سے کچھ ہم سے کہیں زیادہ مستحکم اور بہتر مر بوط ہیں۔

    تقریباً سات دہائیوں کے بعد ایک زبان کے ساتھ مخاصمت اب بھی موجود ہے اور باقی ماندہ اتحاد کے پارہ پارہ ہونے تک جاری رہے گی۔ دو سال قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے پاکستان کی زبانوں کی حیثیت کے حوالے سے ایک بل کور دکر دیا۔

     پاکستان مسلم لیگ ن کی قانون ساز ماروی میمن نے پیش کیا تھا۔ صرف چند مہینے قبل ہی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ نے ایک قرار داد منظور کی جس میں پاکستان کی 13 زبانوں کو قومی زبانوں کادرجہ دیا گیا ہے۔ اس اجلاس کے کچھ شرکاء نے اس کوشش کو پاکستانی قوم کو باٹنے کی کوشش قرار دیا ان کی تخیل کی پیداوار ہے۔

    ملک کو دہشت گردی اور سیاسی انتشار کا نتیج در پیش ہے ایسے موقع پر زبانوں اور ثقافتوں کی کثرت و امتزاج کے ذریعے ہمدردی اور اتفاق رائے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کی تاریخی شناخت کو تسلیم کر کے ان کے مابین رابطے بہتر بنائے جا سکتے ہیں اور اس سے عوام اور ریاست کے درمیان مستقل پل کا کام لیا جاسکتا ہے۔

    ایک کثیر ثقافتی اور لسانی معاشرے کو ثقافتی طور پر حساس پالیسی کے ماحول کی ضرورت ہے۔ قوم کی تعمیر ایک نامیاتی عمل ہے جو سرکاری اعلامیے کے ذریعے تیز نہیں کیا جاسکتا اور باقی سب زبانوں اور ثقافتوں کے بدلے ایک زبان اور ثقافت کی ترویج میں کرنا ممکن ہے۔ ایک مذہب اور ایک زبان کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر کا غلط نسخہ بالاخر مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے اردو زبان جو اتحاد کا عنصر ہو سکتی تھی کسی طرح نفاق کی وجہ بن گئے تمام زبانوں کو ختم کیے جانے کی کوشش کے مقابلے میں ان کا احترام اور تسلیم کیے جانے کے سیاسی اثرات کہیں بہتر نتائج دیں گے

    سات دہائیوں سے یک قومی یکجہتی پر مبنی مصنوعی عقیدے نے ملک کو انتہاپسندی کی دلدل میں و تھکیل دیا ہے۔ ایک زبان اور ایک قوم کے نعروں نے لوگوں کے درمیان نہ صرف نفاق پیدا کیا ہے بلکہ ہر قسم کی نفرت بھی پروان چڑھی ہے۔ ثقافتوں کے تنوع کا جشن منانا اور ان کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک متبادل بیانیے کے طور پر اپنایا جاسکتا ہے۔

    قدیم زبانوں کے لوک ادب، امن، محبت اور ہم آہنگی کے پیغامات سے بھرپور ہیں۔ انسانیت ان ثقافتوں کی بنیاد ہے، عوامی ثقافتوں کی بحالی اور ترویج ہماری آئینی اور پالیسی سازی کی مشینری کو معاشرے کے ثقافتی تنوع کے ساتھ دوبارہ ہم آہنگ کر کے درست سمت میں سفر کیا جاسکتا ہے۔

    ٹوئٹر اکاؤنٹ ‎@GoBalochistan