Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • غربت اور اس سے جڑے نفسیاتی مسائل  تحریر: نعمان سرور

    غربت اور اس سے جڑے نفسیاتی مسائل  تحریر: نعمان سرور

    چند دن قبل ایک خبر میڈیا کی زینت بنی کے ایک شخص نے اپنے تین بچوں کو کنویں کے اندر پھینک کر قتل کر دیا اور پھر خود بھی خودکشی کر لی جب اس بات کی حقیقت سامنے آئی تو وجہ غربت نکلی، آجکل ایسے واقعات بہت زیادہ سنائی دیتے ہیں

    سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تھرپارکر میں خودکشی اور ذہنی امراض کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے تھرپارکر کا شمار پاکستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں غربت بہت زیادہ ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ چونکا دینے والی ہے اس میں انکشاف کیا گیا ہے کے اس علاقے میں خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی اوسط عمر 10-20 سال ہے جبکہ ملک کے دوسرے حصوں میں یہی شرح 20-35 ہے اب سوچنے کی بات یہ ہے کے  غریب طبقہ کے نوجوان اپنی جان کیوں لے رہے ہیں اور ہم اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟

    ایشیائی ترقیاتی بینک کا اندازہ ہے کہ تقریبا ایک چوتھائی پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

    یہ لوگ اپنے حالات سے تنگ آ کر ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ تعلیم کا نہ ہونا اور ان کو معاشرتی اور معاشی انصاف نہ ملنا ہے جب معاشرے میں ایسی تقسیم ہوتی ہے جو کے انصافی پر مبنی ہو تو اس کے اثرات بچوں کی نفسیات پر پڑتے ہیں جس پر آج تک توجہ نہیں دی گئی، وزیراعظم پاکستان نے بچوں کو خوراک کی فراہمی پر توجہ دینے کے لئے اقدامات کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر اب وقت ہے عملی اقدامات کرنے کا۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ غربت سے وابستہ افراد جب معاشرے میں ناانصافی دیکھتے ہیں تو اس کا بڑا اثر ان کی ذات پر پڑتا ہے سوشل میڈیا تک رسائی نے اس فرق کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے سوشل میڈیا کے زریعے ایکٹر،مشہور لوگ،سیاستدان اپنی نجی زندگی کی آسائشوں سے بھری تصاویر جب اپلوڈ کرتے ہیں تو یہ انٹرنیٹ کے ذریعے غریب لوگوں تک جاتی ہے جس سے ان میں احساس کمتری ، ناراضگی ، مایوسی کو جنم دیتی ہیں۔ اور وہ نوجوان اس کا موازنہ اپنی زندگی سے کرنے لگتے ہیں اگر ان کو اچھی تعلیم دی جائے تو ان کو سوچ ان چیزوں پر مثبت طریقے سے غوروفکر کرے۔

    نفسیاتی مسائل کے نتیجے میں غربت میں رہنے والے نوجوانوں کے لیے بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 

    جب غربت میں ڈوبا شخص یہ تمام عیش و عشرت دیکھتا ہے جو اسے میسر نہیں ہوتی لیکن دوسروں کو میسر ہوتی ہے تو اس کی سوچ کا دائرہ محدود ہوجاتا ہےجس کے نتیجے میں ناقص تعلیمی کارکردگی ، ابتدائی اسکول چھوڑنے اور مثبت سرگرمیوں کی دوری جنم لیتی ہے۔

    جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کی سوچ منفی ہو جاتی ہے اور وہ روزگار اور آسائش حاصل کرنے کے ہر اچھے برے طریقے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں خراب معاشی حالات اور روزگار کے مواقع کی کمی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

    انہیں وجوہات کی بنا پر نوجوان اکثر غیر صحت مندانہ رویوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے نشہ آور چیزیں ، جو کہ وقت کے ساتھ مسلسل بڑھ رہی ہیں مبینہ طور پر پاکستان میں منشیات روزانہ 700 جانیں لیتی ہیں ، اور خودکشی اس کے علاوہ ہے۔

    جو نوجوان ان مسائل کا شکار ہو جاتا ہے اس میں غصہ بڑھ جاتا ہے جس سے گھریلو تشدد اور طلاق کے مسائل دن بدن دیکھنے میں آ رہے ہیں یہ سب نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

    ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جیلوں میں 85 فیصد مرد قیدی ڈپریشن کا پائے گئے ۔ 

    ان کا حل کیسے ممکن ہے ؟؟

    حکومت وقت کی زمہ داری ہے کے وہ ان غریب نوجوانوں کو مالی بااختیار بنانے میں اپنا کردار ادا کرے، غربت کے خاتمے کے پروگراموں کو شروع کیا جائے، زہنی صحت کے حوالے سے تعلیم دی جائے اور بچوں کو سکول لیول پر ہی ان کی دماغی جانچ کی جائے کے وہ کیا سوچ رہے ہیں کیسے حالات سے گزر رہے ہیں۔

    نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کا بہترین وقت جلد از جلد ہے۔ ابتدائی سراغ لگانا اور جلد حل کرنا ہی اس کا علاج ہے ، پاکستان میں پہلے سے ہی بنیادی ہیلتھ یونٹس کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو دیہی علاقوں میں بنیادی دیکھ بھال فراہم کرتا ہے۔ اگر ذہنی صحت کی خدمات کو اس نظام میں شامل کیا جاتا ہے تو بہت سے نوجوان ان ہیلتھ یونٹس کے زریعے اپنے مسائل کا حل پا سکتے ہیں اور سکولوں کی سطح پر بھی بچوں کی دماغی نشونما کی جانچ کی اشد ضرورت ہے۔

    مزید برآں ، تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو ملک اپنے نوجوانوں کی نفسیات پر ایک 1000 روپے خرچ کرتا ہے یہی نوجوان بعد میں ملک کی پیداواری صلاحیت میں 5000 روپے کا اضافہ کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خرچہ کسی قوم پر بوجھ نہیں بلکے آمدن ہے اور نیکی بھی ہے۔

    اللہ تعالی ہم سب کو ہامی و ناصر ہو آمین۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    @Nomysahir

  • شادی اور فضول رسم و رواج  تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    شادی اور فضول رسم و رواج تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    Twitter Handle: @IamYasif

    پاکستان میں اکتوبر سے مارچ شادیوں کا موسم ہوتا ہے، ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی شادی طے ہوتی ہے۔ اکتوبر کا مہینہ آتے ہی ہر طرف سے شادی کارڈ آنے شروع ہوجاتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے "جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں” لیکن یہ لکھتے وقت ہمارا معاشرہ بھول جاتا ہے کہ جوڑے بے شک آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن مشکلات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ تقسیم ہند سے پہلے کئی صدیاں مسلمان، سکھ اور ہندو ایک ساتھ رہے، یوں ایک دوسرے کے رسم و رواج بھی اپنا لئے گئے۔ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا لیکن بدقسمتی سے ہندووانہ رسم و رواج آج بھی ہماری شادی بیاہ میں قائم و دائم ہیں۔

    شادیوں پر لاکھوں اڑانے کے بجائے سادگی سے نکاح کرکے بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے لیکن ایک جملہ آڑے آجاتا ہے اور وہ ہے "لوگ کیا کہیں گے”۔ آج اسی جملے پر بات کرتے ہیں اور غور کرتے ہیں کہ یہ جملہ کہاں کہاں ہمیں فضول رسم و رواج کی طرف دھکیل رہا ہے

    پہلی رسم کا نام ہے منگنی جس پر ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق ہزاروں سے لے کر کروڑوں روپے لگاکر جھوٹی شان و شوکت قائم کرتا ہے، اگر یہ رسم نہ کریں اور سادگی سے رشتہ طے کریں تو "لوگ کیا کہیں گے” جیسے جملے سنائی دینے لگتے ہیں۔ منگنی کے بعد اکثر اوقات معمولی اختلاف پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور پھر خاندان کئی کئی سال ایک دوسرے سے ناراض رہتے ہیں۔

    منگنی کے بعد الگ سے شادی کی تاریخ رکھنے کے لئے ایک فنکشن ہوتا ہے جس میں خاندان بھر کے لوگ اکٹھے کرکے دوبارہ سے کھانا پینا کیا جاتا ہے، عام طور پر یہ رسم لڑکی کے گھر کی جاتی ہے، جس سے لڑکی کے خاندان پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، حالانکہ شادی کی تاریخ دونوں کے والدین سادگی سے طے کرسکتے ہیں لیکن یہاں بھی لوگ کیا کہیں گے؟ کی وجہ سے سب خاموش ہوجاتے ہیں۔

    شادی کی شروعات ڈھولکی سے ہوتی ہے، جہاں کئی دن ڈھول اور اونچی موسیقی لگاکر ہمسایوں کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے، مہندی سے قبل سنگیت اور اُبٹن جیسی ہندووانہ رسمیں بھی شادی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں، مہندی کی رسم عموماً دو دن ہوتی ہے پہلے لڑکی کی مہندی اور پھر لڑکے کی مہندی۔ آج کل کئی شادیوں پر مشترکہ شادیوں کا رجحان بھی آچکا ہے۔

    ایک اور رسم جس کا نام گھڑولی ہے جو بارات والے دن کی جاتی ہے، سر پر پانی کا گھڑا رکھ کر خواتین کسی رشتہ دار کے گھر سے پانی بھر کر لاتی ہیں، یقینا یہ رسم بھی ہمیں بھارت سے ہی ملی ہے۔ بارات کی رسم سے شروعات سے قبل جہیز کے معاملات طے ہوجاتے ہیں، لڑکی کو فرنیچر، برتن اور الیکٹرانک مصنوعات سمیت بعض لوگ گاڑی اور گھر تک دیتے ہیں۔ جہیز سے متعلق واقعات تو ہم اکثر پڑھتے اور دیکھتے ہیں کہ کیسے لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ساری عمر کنواری بیٹھی رہتی ہیں لیکن لڑکوں کے ساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ حق مہر کے علاوہ دلہن کے سونے کے زیورات اور رشتے داروں کے مہنگے لباس کی رسم بھی موجود ہے۔ بارات کے آتے ہی دولہا کو صوفے پر جگہ دینے کے نام پر رقم بٹوری جاتی ہے، اسکے بعد جوتا چھپائی اور دودھ پلائی جیسی متعدد رسومات کے نام پر دولہے کی جیب خالی کی جاتی ہے۔ ولیمہ کی رسم میں کو بھی شاہانہ طرز دینے کی وجہ سے نوبیاہتا جوڑے پر مالی دباو آتا ہے، مہنگے شادی ہال اور لذیز پکوان ضروری تصور کئے جاتے ہیں

    نیچے دی گئی چند احادیث کی روشنی میں نکاح کی اہمیت کا اندازہ کریں

    حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی سنت میں سے ہیں:حیاء ،خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور نکاح‘
    (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ابن ابی نجیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ: مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ وہ بہت مال والا ہو، پھر فرمایا: مسکین ہے، مسکین ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو، لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ بہت مالدار ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ مال والی ہو‘‘۔
    (مجمع الزوائد ،ج:۴،ص:۳۲۸،بحوالہ معجم طبرانی اوسط )

    حضور اکرم ا کا ارشاد ہے:
    ’’اے جوانو!تمہیں نکاح کرلیناچاہیے، کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والا اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے،اور جو اس کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے‘‘۔ (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ’’جو شخص نکاح کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود نکاح نہ کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے(یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)‘‘۔ (مجمع الزوائد،ج:۴،ص:۳۲۷)

    ہمیں سوچنا چاہیئے کہ نکاح کو ہم نے آخر کیوں مشکل بنادیا ہے، اگر ہم اسلامی احکامات پر عمل کریں تو ان فضول رسومات سے بچ سکتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نکاح میں تاخیر سے معاشرے میں بےراہ روی بڑھی ہے۔ اللہ پاک ہمیں سادگی اور میانہ روی احتیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

    Chaudhry Yasif Nazir is a freelance journalist, Columnist, Writer and social media activist who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter

    account @IamYasif

    https://twitter.com/IamYasif

  • الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف

    الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف


    سن 1936ء کو بھارت کے شہر بھوپال میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبدالقدیر خان رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہوکر سانئس دان بنے گا۔ ایک ایسا سانئس دان جو پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے آباؤ اجداد کا تعلق بھوپال سے تھا۔ مگر سن 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد جب پاکستان وجود میں آیا تو ان کا پورا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان میں آکر آباد ہوگیا۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کی اور سن 1960ء میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری لینے کے بعد وہ مزید علم کے حصول کی خاطر جرمن کے دارالحکومت برلن چکے گئے۔ کافی عرصہ وہاں قیام پذیر رہے اور پھر اسی عرصے کے دوران انھوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

    پھر 1971ء کی جنگ میں پاکستان کو جن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو ان درپیش مسائل سے نکالنے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی تھان لی۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے 1974 میں ذولفقار علی بھٹو کو ایک پیغام بھجوایا کہ وہ جوہری قوت کے حصول اور پاکستان کو ایک مضبوط ایٹمی قوت بنانے کے لیے بھرپور مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

    پھر اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976 کو مستقل طور پر اپنی اہلیہ ہنی خان اور دو بیٹیوں کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوگئے۔ کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کے لیے ان کے وطن کو ان کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ یہ کام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا۔ یہ وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہی تو تھا کہ جس کی بدولت آپ ہالینڈ میں اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر پاکستان واپس چلے آئے۔

    اس اہم فیصلے میں ان کی اہلیہ ہنی خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اندر پاکستان کے لیے عشق کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے ساتھ ہی پاکستان آگئیں۔ وطن واپس آتے ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 1976 کے وسط میں ای آر ایل یعنی کہ "انجنیرنگ ریسرچ لیبارٹری” کی بنیاد رکھی۔ بعد میں 1981 کو اس لیبارٹری کا نام "خان ریسرچ لیبارٹری” رکھ دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو جوہری طاقت بنانے کے لیے انتھک محنت کرتے ہوئے اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔

    اور پھر 28 مئ 1998 کا وہ تاریخی دن تو سب کو یاد ہی ہوگا جب بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب کے طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں چاغی کے مقام پر کامیاب ترین ایٹمی تجربہ کرتے ہوئے بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی تو وہ ہستی ہیں جن کی بدولت آج ہم اپنے ملک میں بغیر کسی خوف و خطر کے کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

    آج اگر بھارت ہمیں جنگ کی دھمکی دیتا ہے تو ہمارے چہروں پر خوف کا سایہ نہیں لہراتا بلکہ ہم پر سکون ہوکر انھیں جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص وہ "محسن پاکستان” جس کی بدولت آج پاکستان بھارت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے اب سے کچھ گھنٹے قبل شدید علالت کے بعد رحلت فرما گیا ہے۔ یاں یوں کہوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ اب سے کچھ گھنٹے قبل پاکستان نے اپنا سب سے قیمتی اثاثہ کھو دیا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر جہاں پوری قوم اشکبار ہے وہیں آج پاکستان کے اتنے بڑے نقصان پر قومی پرچم کو بھی سرنگوں کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود تو اس دنیا سے چلے گئے پر ان کا نام اور ان کا کام رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ الوداع "محسن پاکستان” الوداع

    مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
    جب بھی اس شہر کی تاریخ وفا لکھے گی
    میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
    میرا نوحہ انھیں گلیوں کی ہوا لکھے گی !!!

    ‎@SeharSulehri

  • ثقافت کے چوراہے پر تحریر: محمد تنویر

    ثقافت کے چوراہے پر تحریر: محمد تنویر


    ماه فروری پاکستان میں ادبی گہما گہمی کا مہینہ تھا کراچی اور لاہور ادبی میلے اپنے عمومی طریقے سے منعقد کیے گئے۔ ان دو ادبی تقاریب نے ملک کے ادبی منظر نامے میں شہرت حاصل کر لی ہے ۔ان اعلی پیانے کے میلوں کے درمیان مادری زبانوں کے ادبی میلے کا ایک قابل ذکر آغاز ہوا۔ یہ اپنی قسم کا پہلا میلہ تھا، وفاقی دار لحکومت میں منعقدہ اس میلے میں متفرق افراد نے ملک کے ہر کونے سے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنی زبان و ثقافت سے آراستہ ومزین کیا۔

    مادری زبانوں کے میلے میں ملک بھر کے طول و عرض کی مختلف زبانوں کے مصنفین، شاعروں، گلوکاروں اور شائقین نے شرکت کی۔ ایک سو پچاس سے زائد لکھاریوں نے چوبیس ادبی مزاکروں میں بارہ سے زائد زبانوں میں ہونے والے ادبی کام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مادری زبانوں کا مشاعرہ اور مختلف زبانوں کی شام موسیقی کی شاندار پرفارمنس میلے کے رنگارنگ پروگرام اور دلچسپیاں تھیں۔

    یہ میلہ انڈس کلچرل فورم نامی ایک نئی تنظیم نے پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ، لوک ورثہ اور ادارہ استحکام شرکتی ترقی کے تعاون سے منعقد کیا۔ لوک ورثہ نے میلے کے لیے اپنی پر فضا جگہ فراہم کی جہاں رنگارنگ ثقافتوں اور ثقافتی تنوع کا جشن منایا گیا۔

    میلے کے ادبی سیشن اور پر فارمنس صرف بڑی زبانوں اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، سرائیکی بلوچی، تک محدود نہیں تھے بلکہ ان میں براہوی، پہاڑی، چترالی، بروشسکی، شینا،کشمیری، وخی، توروالی بلتی، گوجری، دری، ہزارگی، ہندکو اور پوٹھوہاری کو بھی خاطر خواہ شمولیت دی گئی تھی۔ متنوع ثقافوں کے اس اجتماع سے ایک سیاسی پیغام بھی واضح ہو کر سامنے آیا کہ طویل عرصے سے اگرچہ بیدخل نہیں کئے گئے تاہم نظر انداز کی گئی ملکی ثقافتیں اور زبانیں ملک کے سیاسی و ثقافتی منظر نامے میں اپنے حقوق اور جائز حصہ مانگ رہی ہیں۔

    میلے کی تقریبات اقوام متحدہ کے مادری زبانوں کے عالمی دن کے ساتھ منعقد کی گئیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کی مادری زبانیں جن کو اکثر ” مقامی زبانوں ” کے نام سے پکار کر ان کی حیثیت کم کی جاتی ہے، اپنے اندر علم و دانش اور تخلیق کے بے بہا اور بے مثل خزانے رکھتی ہیں۔

    اپنے وجود کی سات دہائیوں کے بعد بھی ملک نے تاحال ان زبانوں کو قومی زبانیں تسلیم نہیں کیا ہے، اور اس کی وجہ ایک خود ساختہ حب الوطنی کا راگ الاپنے والے اس عمل کو قومیت کی فریبی نعرے کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے سازشی نظریات پیش کرنے کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے اور یقین مستحکم رکھتے ہیں کہ ایک سے زائد قومی زبانیں قومی کجہتی کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔ حس پر مبنی اس افسانوی بات نے لاکھوں افراد کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے۔

    ترقی یافتہ دنیا، ثقافتی تنوع کا احترام کرتے ہیں اور اس کے وسیع ثبوت پیش کرتے ہیں اور ان کو فروغ دیتے ہیں جو متنوع معاشرے میں مختلف گروہوں کے مختلف افراد کے درمیان جڑت پہنچاتا ہے پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس، یک ثقافتی اقدار کو فروغ دینا سماجی ہم آہنگی کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے

    مختلف قوموں کی فیڈریشن میں ان سب کو ایک زبان اور ثقافت کے ساتھ زبردستی جوڑ نے سے متحد نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مصنوعی قوم کی ترویج کا تجر بہ 1971 میں تباہ کن نتیجے کی شکل میں سامنے آیا۔ عمومی خیال یہی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پیچ 1948ءاس وقت بوۓ گئے جب نوزائیدہ مملکت میں بنگالی زبان کو قومی زبانوں کے طور پر رائج کرنے کے حق کو مسترد کر دیا گیا۔

    کچھ تنگ نظر سیاسی عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی اس لیے سرکاری حکم ناموں کے ذریعے ایک متحد قوم بھی بنائی جاسکتی ہے ۔ قومیت کو ریاستی امور کے بجاۓ ذاتی معاملے کے طور پر جانچا جانے لگا۔ یہ مفروضہ بنایا گیا کہ قومیں، جن کی شناخت اور ورثہ ہزاریوں میں تشکیل پایا، ایک رات بھر اپنا تشخص پس پشت ڈال کر ایک نئی بنائی گئی شناخت اختیار کر لیں گی۔ کسی بھی سرکاری حکم نامے پر اعتراض یا اس کی تعمیل سے انکار کو غداری اور حب الوطنی کے خلاف قرار دے دیا گیا، یہ سب نا صرف غیر حقیقی تھا بلکہ ناجائز حد تک غیر منصفانہ بھی تھا۔ اسی باعث اس کا بھیانک نتیجہ نکلنا یقینی تھا۔ ۱۹۷۱ میں اس دیوانگی کے انجام نے ہر ایک کو حیران و پریشان کر دیا۔

    حقائق سے انکار ہمارا قومی رویہ ہے جس نے ہمیشہ ہم کو تاریخ سے سکھنے سے محروم رکھا ہے۔ اور ماضی کی غلطیاں دھرانے کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ایک راس جانچ کی شدید اور فوری ضرورت ہے جس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے

    ہمارے سفر کا راستہ اس کے آغاز سے ہی غلط سمت میں اختیار کیا گیا۔ ثقافتی طور پر متنوع اور سیاسی طور پر مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کے لئے اسلام اور اردو کو جڑت کے عناصر کے طور پر استعمال کیا گیا انتظام اور وجوہات سے قطع نظر سندھ اور بنگال کے لئے سکولوں عدالتوں وصول دین اور دیگر سرکاری معاملات میں دھائیوں سے رائج تھیں۔

    بنگال اور سندھ میں زبان کی نقل و حرکت کے نتیجے میں دونوں صوبوں میں قوم پرست تحریکوں کی تقسیم کے نتیجے میں۔ غیر مطلوب حکمرانی شعار اردو نے پاکستانی قوم پرستی کے ٹائل کا نشان لگایا اور اس طرح ملک میں دیگر قوموں کی دوسری زبانوں کے خلاف اسے گھیر لیا۔

    اگر چہار دو مختلف لسانی قومیتوں اور علاقوں کے درمیان رابطے کی زبان کے طور اپنی صلاحیت رکھتی تھی، یہ تنازعے کا مرکز اور پاکستان کے آبادی کی زیادہ تر آبادی پر عائد ثقافتی حاکمیت کی ایک علامت بنادی گئی۔ جب اقتدار کے مراکز نے اردو کو پاکستان کی وسیع آبادی پر ثقافتی یک رنگی کی علامت کے طور پر تھوپا تو اس نے پورے ملک میں اردو کے خلاف ایک غیر ضروری کے جذبے کو ہوادی اور قوم پرستی ایک رد عمل کے طور پر سامنے آئی کہ وہ ریاست میں اپنا حصہ دوبارہ لینے کے لئے ایک نقطہ نظر اپناۓ۔

    دنیا میں متعدد ممالک ہیں جہاں ایک سے زائد زبان کو قومی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے اور ان کی قومی سالمیت کو بھی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ کچھ ایسی مثالیں یہاں بیان کی گئی ہیں۔ عربی اور بربر الجزائر کی قومی زبانیں ہیں فن لینڈ میں دو قومی زبانیں ہیں۔ فینیش اور سویڈش۔ پڑوسی بھارت میں 23 قومی زبانیں ہیں۔ نائجیریا نے تین اکثریتی یا قومی زبانوں کو تسلیم کیا۔ ہوسا، اگبو، اور یوروبا۔ سنگا پور میں چار چار سرکاری زبانیں ہیں۔ انگریزی، چینی، ارٹی اور تامل۔ جنوبی افریقہ میں 11 قومی اور سرکاری زبانیں ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور رومانش سمیت چار قومی زبانیں ہیں۔ ہانگ کانگ میں انگریزی اور چینی سرکاری زبانیں ہیں۔ سری لنکا میں سنہالا اور تمل سرکاری زبانیں ہیں۔ ان ممالک میں سے پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب کوئی بھی ایک سے زیادہ قومی زبانوں کی وجہ سے سیاسی اور قومی سالمیت کو خطرہ محسوس نہیں کرتا۔ ان میں سے کچھ ہم سے کہیں زیادہ مستحکم اور بہتر مر بوط ہیں۔

    تقریباً سات دہائیوں کے بعد ایک زبان کے ساتھ مخاصمت اب بھی موجود ہے اور باقی ماندہ اتحاد کے پارہ پارہ ہونے تک جاری رہے گی۔ دو سال قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے پاکستان کی زبانوں کی حیثیت کے حوالے سے ایک بل کور دکر دیا۔

     پاکستان مسلم لیگ ن کی قانون ساز ماروی میمن نے پیش کیا تھا۔ صرف چند مہینے قبل ہی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ نے ایک قرار داد منظور کی جس میں پاکستان کی 13 زبانوں کو قومی زبانوں کادرجہ دیا گیا ہے۔ اس اجلاس کے کچھ شرکاء نے اس کوشش کو پاکستانی قوم کو باٹنے کی کوشش قرار دیا ان کی تخیل کی پیداوار ہے۔

    ملک کو دہشت گردی اور سیاسی انتشار کا نتیج در پیش ہے ایسے موقع پر زبانوں اور ثقافتوں کی کثرت و امتزاج کے ذریعے ہمدردی اور اتفاق رائے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کی تاریخی شناخت کو تسلیم کر کے ان کے مابین رابطے بہتر بنائے جا سکتے ہیں اور اس سے عوام اور ریاست کے درمیان مستقل پل کا کام لیا جاسکتا ہے۔

    ایک کثیر ثقافتی اور لسانی معاشرے کو ثقافتی طور پر حساس پالیسی کے ماحول کی ضرورت ہے۔ قوم کی تعمیر ایک نامیاتی عمل ہے جو سرکاری اعلامیے کے ذریعے تیز نہیں کیا جاسکتا اور باقی سب زبانوں اور ثقافتوں کے بدلے ایک زبان اور ثقافت کی ترویج میں کرنا ممکن ہے۔ ایک مذہب اور ایک زبان کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر کا غلط نسخہ بالاخر مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے اردو زبان جو اتحاد کا عنصر ہو سکتی تھی کسی طرح نفاق کی وجہ بن گئے تمام زبانوں کو ختم کیے جانے کی کوشش کے مقابلے میں ان کا احترام اور تسلیم کیے جانے کے سیاسی اثرات کہیں بہتر نتائج دیں گے

    سات دہائیوں سے یک قومی یکجہتی پر مبنی مصنوعی عقیدے نے ملک کو انتہاپسندی کی دلدل میں و تھکیل دیا ہے۔ ایک زبان اور ایک قوم کے نعروں نے لوگوں کے درمیان نہ صرف نفاق پیدا کیا ہے بلکہ ہر قسم کی نفرت بھی پروان چڑھی ہے۔ ثقافتوں کے تنوع کا جشن منانا اور ان کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک متبادل بیانیے کے طور پر اپنایا جاسکتا ہے۔

    قدیم زبانوں کے لوک ادب، امن، محبت اور ہم آہنگی کے پیغامات سے بھرپور ہیں۔ انسانیت ان ثقافتوں کی بنیاد ہے، عوامی ثقافتوں کی بحالی اور ترویج ہماری آئینی اور پالیسی سازی کی مشینری کو معاشرے کے ثقافتی تنوع کے ساتھ دوبارہ ہم آہنگ کر کے درست سمت میں سفر کیا جاسکتا ہے۔

    ٹوئٹر اکاؤنٹ ‎@GoBalochistan

  • زندگی میں ہمیں وہی ملتا ہے جو ہم مانگتے ہیں۔ تحریر:محمد اسحاق بیگ 

     اب آپ ضرور سوچیں گے کہ یہ سچ نہیں ہے۔  آپ کہتے ہیں کہ آپ  اپنے لیے آزادی اور خوشی مانگتے ہیں  پر آپ کو جو کچھ ملا وہ اس کے بر عکس ہے  اور آپ اسے برا محسوس کر رہے ہوتے ہیں اپنے آپ کے لیے ۔

     آئیے اس پر گہری نظر ڈالتے ہیں کہ تخلیق کیسے کام کرتی ہے اور ہمارا لاشعوری ذہن کیسے کام کرتا ہے۔  کیونکہ یہ ایک ہی ہے۔

     ہر چیز جو موجود ہے کسی کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔  ہر چیز ایک سوچ سے شروع ہوتی ہے۔  سوچ ایک توانائی ہے۔  توانائی خود کو ظاہر کرنا چاہتی ہے۔  ایک ہی سمت میں بہت سارے خیالات ، یہ یقینی طور پر ، حقیقی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور ایسا ہی چلتا رہے گا ۔

     یہ تخلیق کا عمل ہے۔

     ہم اسی عمل سے پیدا ہوئے ہیں۔  ہم تخلیق کے اس عمل کو ہر وقت استعمال کرتے ہیں ،

     اسے جانے بغیر

     جب ہم ہوش میں نہیں ہوتے ، تب ہم زیادہ تر لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور اس طاقت کو منفی زندگی بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔   جب ہم منفی سوچ رکھتے ہیں  تو منفی نتائج حاصل کرتے ہیں۔ اتنا تو ہر ذی شعور انسان بہت اچھے سے جانتا ہے ۔

     ایک بار جب ہم مثبت خیالات سوچنا سیکھ لیں گے تو ہم اپنی زندگی میں مثبت نتائج حاصل کریں گے۔

     کس طرح آیا؟  ہمارا لاشعور۔۔۔۔۔۔

     

      دماغ زمین کی طرح ہے۔  جو ہم بوتے ہیں اس میں مداخلت نہیں کرتا۔  زمین یہ نہیں کہتی: ” میرے پاس ان گاجروں کی کافی مقدار ہے ، یہ ہر بار  ہم جب بھی گاجر لگایئں گے زمین گاجر ہی دے گی  یہ ایک ہی چیز ہے ، میں اس کے آلو بناؤں گا!”  زمین یہ نہیں کہتی: ” مجھے سرخ پھول پسند نہیں ، میں ان گلابوں کے لیے سرخ کو نیلے رنگ میں بدل دوں گا!”  زمین مداخلت نہیں کرتی۔  زمین صبر کرتی ہے ، خاموشی سے کام کرتی ہے اور ہمیں وہی دیتی ہے جو ہم اس میں ڈالتے ہیں۔  اور ہم یہ جانتے ہیں! 

      ہم جانتے ہیں کہ ہمیں وہی ملے گا جو ہم زمین میں ڈالتے ہیں۔  جب ہم اس میں پیلے رنگ کے پھول ڈالتے ہیں ، ہم توقع نہیں کرتے کہ جب وہ کھلیں گے تو وہ سرخ ہوں گے۔  جب ہم باغ میں گلاب بوتے ہیں تو ہم توقع نہیں کرتے کہ موسم بہار میں پیاز نکل آئے گا!

     اور پھر بھی ہم حقیقی زندگی میں اسی طرح کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔  ہم پیاز بوتے ہیں اور گلاب کی توقع کرتے ہیں۔  ہم اپنے ذہن (پیاز) میں منفی خیالات بوتے ہیں اور اچھی چیزیں (گلاب) نکلنے کی توقع رکھتے ہیں!  

     ہم خود کو بیوقوف بناتے ہیں!  اور ہم دوسروں پر الزام لگاتے ہیں۔  ہم تلاش کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس کا قصور کون ہو سکتا ہے (عام طور پر ہم والدین یا شوہر/بیوی کو ہماری زندگی میں جو غلط ہو رہا ہے اس کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں)۔  اور پھر ہم روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں کوئی قسمت نہیں ہے۔  ہم پڑوسی کی طرف دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہے کیونکہ اس کے باغ میں گلاب ہیں ، اور ہم حیران ہیں کہ ہم نے اپنے باغ میں صرف پیاز کے مستحق ہونے کے لیے دنیا کے ساتھ کیا کیا!

     جب آپ کے خیالات کا مرکزی دھارا منفی ہے ، تو آپ جتنی بھی کوشش کر لیں جب تک آپ اپنے ذہن سے منفی سوچ کو نکال باہر نہیں کر لیتے تب تک  نتیجہ منفی  ہی ہوگا۔  

     

     آپ کے خیالات آپ کے لاشعوری ذہن میں آتے ہیں ، جو آپ اس میں ڈالتے ہیں۔  یہ زمین کی طرح ہے۔  یہ کمپیوٹر کی طرح ہے۔  جب آپ اپنے کمپیوٹر میں ٹائپ کرتے ہیں: "میں بیوقوف ہوں ، میں موٹا ہوں ، میں بدصورت ہوں ، کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا” ، کیا آپ اپنے پرنٹر سے ناراض ہیں جب کاغذ باہر آتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ

      "میں بیوقوف ہوں ،

       میں موٹا ہوں ،

       میں بدصورت ہوں”

        کوئی مجھ سے محبت نہیں کرتا”؟

        کیا آپ اپنے کمپیوٹر پر جوتا پھینکتے ہیں اور کیا آپ اس پر چیختے ہیں کہ وہ ہر اس چیز کا قصور ہے جو غلط ہو رہی ہے؟  نہیں ، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اس معلومات کو اس میں ڈال دیا ہے اور آپ کا کمپیوٹر مداخلت نہیں کرتا ہے۔  آؤٹ پٹ بالکل ان پٹ سے مماثل ہے۔

     یہ ہمارے لاشعوری ذہن پر کام کرتا ہے۔  اگر آپ کو آؤٹ پٹ پسند نہیں ہے تو ، ان پٹ کو تبدیل کریں۔  آپ کو وہی ملتا ہے جو آپ مانگتے ہیں 

     جو آپ پورے دن کے بارے میں سوچتے ہیں۔  اپنی زندگی سے ناراض نہ ہوں۔  آپ پیاز سے ناراض تو نہیں ہیں؟  کیا آپ اپنے کمپیوٹر سے ناراض نہیں ہیں؟  ناراض ہونے کے بجائے ، یہ سیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے اور اپنی زندگی میں مثبت نتائج حاصل کرنا سیکھیں۔  مثبت سوچ سوچنا شروع کریں۔  صرف وہی سوچیں جو آپ حقیقی زندگی میں ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔  صرف وہی سوچیں جو آپ سچ بننا چاہتے ہیں۔  اور تھوڑی دیر انتظار کرو ، صبر کرو۔  ایک دن آپ اپنی سلائی کی فصل کاٹ لیں گے ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین آپ کو وہ چیز واپس دے گی جو آپ نے اس میں ڈالی ہے۔  یہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔

       بس انتظار کرو اور دیکھو.

    آپ سب کی محبتوں کا شکریہ جو آپ میری تحریر کو پڑھتے ہیں ۔آپ سب سے دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں

     

    @Ishaqbaig___

  • ارفع کریم،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں پر نصب کریں گئے۔ عاصمہ اعجاز چیمہ

    ارفع کریم،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں پر نصب کریں گئے۔ عاصمہ اعجاز چیمہ

    فیصل آباد(عثمان صادق) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے وفد نے ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی عاصمہ اعجاز چیمہ سے پی ایچ اے کے مرکزی دفتر میں ملاقات کی اور شہر کی سر سبز و شادابی و خوبصورتی کے حوالے سے مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔چیمبر آف کامرس کے وفد کی طرف سے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے جاری کاموں کوسراہا اور مستقبل میں ادارے کی معاونت کی یقین دہانی کرائی گئی۔ڈی جی نے وفد کو شہر کی خوبصورتی کے حوالے سے بنائے گئے ماسٹر پلان کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ارفع کریم رندھاوا،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں اور چوراہوں پر نصب کرانے کا پلان ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈسٹریل اور کاروباری شخصیات کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناطے چیمبر کو شہر کی تعمیر اور ترقی کے حوالے سیآئندہ بھی بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ شہر کو کلین اینڈ گرین بنایا جا سکے۔

  • سب زبانیں محبت کی ہیں تحریر: محمد تنویر

    سب زبانیں محبت کی ہیں تحریر: محمد تنویر

    یہاں بات ہورہی تھی کہ دراصل عاصمہ جہانگیر پر بولنے کے لیے آئی اے رحمان صاحب کو آنا تھا۔ تو شاید وہ عاصمہ کے حوالے سے اور انسانی حقوق کے حوالے سے اور زبانوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار جس پیمانے پر بھی کرتے وہ تو ناممکن ہے لیکن ظاہر ہے کہ میں بھی چاہوں گی کہ اس سوچ کے گرد بات کر سکوں۔ مجھے خیال آیا کہ واقعی آئی اے رحمان صاحب کو اس جگہ بلانایوں بھی ضروری ہے خاص طور پر اس ملک میں جہاں انسانی حقوق کاز بانوں کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن اس وقت ہم پاکستانی معاشرے کو جس طرح دیکھ رہے ہیں جو شہبیہ ہمارے سامنے ابھر کر آرہی ہے اس میں ہم لوگوں کو مختلف حصوں میں بٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں اگر ہم کاٹنا شروع کر دیں میں لفظ کاٹنا جان بوجھ کر استعمال کر رہا ہوں۔

    لیکن اگر آپ اس کو باند ھنا شروع کر دیں تو وہ باقی کتنا بچتا ہے۔ کسی کو زبان کی بنیاد پر کاٹا جاتا ہے پھر مذہب کی بنیاد پر کاٹا جاتا ہے، پھر فرقوں کے حصے سے کوئی کٹتا ہے ۔ پھر سیاسی سوچ اور اختلاف کی وجہ سے وہ کٹتا ہے تو انسان باقی اتنا زراسا بچ جاتا ہے۔ اس معاشرے میں جو اتناسا انسان بچ جاتا ہے اگر اس کے حقوق کی ہم بات کر رہے ہیں آج اس کو جس طرح سے دیکھ رہے ہیں انسان کو پیروں تلے کچلنا بھی بہت آسان ہے انسان کو زندہ جلا دینا بھی بہت آسان ہے سب کچھ بہت آسان ہے۔ گولی و غیر ہ تو کوئی چیز ہی نہیں ہے پھر یہی انسان اس کو اور بھی باٹنا شروع کریں تو یہ عورت اور مرد میں بھی بٹ جاتا ہے، یہ بٹا کٹا، باقی بچا ہوا تھوڑا سابچ گیا انسان ہے ۔

    اس تھوڑے سے بچ گئے انسان کو اگر دوبارہ سے تخلیق کرنا ہے تو ہمیشہ سے میری سوچ یہ رہی ہے، میرا یقین یہ رہا ہے کہ انسان دو بار تخلیق ہوتا ہے ایک بار جب وہ پیدا ہوتا ہے اور تخلیق ہو کر دنیا میں آتا ہے اور دوسری بار جب وو خود کو دوبارہ تخلیق کرتا ہے۔ اور جب وہ دوبارہ خود کو تخلیق کرتا ہے تو وہ تنہا خود کو تخلیق نہیں کرتا ہے، اپنے ساتھ کئی انسانوں کو اپنے ارد گرد کے کئی انسانوں کو وہ ری کریٹ از سر نو تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

    سچی بات تو یہ ہے کہ ان ساری چیزوں میں زبان ایک ہے۔ وہ ہے محبت کی زبان۔ انسان کی انسان سے محبت کی زبان۔ ڈیپنڈ کرتا ہے کہ اظہار کرنے والا جس کے سامنے محبت کا اظہار کر رہا ہے اس کی زبان کیا ہے میں اگر سامنے والے انسان سے بلا تفریق محبت کا اظہار کرتا ہوں تو مجھے اس سے غرض نہیں ہونی چاہیے کہ وہ میرا ہم زبان ہے کہ نہیں۔ ڈپینڈ کرتا ہے کہ ہم دے کسے رہے ہیں سو بنیادی طور پر ہماری زبان محبت کی ہے مگر اس محبت کی زبان کو زندہ رکھنے کے لیے جو زبان کا معاملہ آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کی زبان کا احترام کیا جاۓ ،ایک دوسرے کی زبان کو تسلیم کرنا۔

    پاکستان میں زبانوں کی بنیاد پر بڑے مسائل کھڑے ہوئے۔ اور ہم نے تو سندھ میں بیٹھ کر دیکھا ہے بڑے جھگڑے ہوئے ہیں، بڑی کشمکش ہوئی ہے بڑا اضطراب رہا ہے۔ بڑی ان سیکورٹی رہی ہے بڑے سوالات اٹھے ہیں۔ ۷۰ سال اس ساری کشمکش سے گزر کر آج جب ہم دیکھتے ہیں تو بات وہیں آکر رک گئی ہے کہ محبت کی کمی ہے۔ ورنہ اردو ایک عالی شان زبان ہے

    سندھی ایک کمال کی زبان ہے اور اسی طرح باقی تمام زبانیں جو ہیں وہ اپنے اپنے اندر اپنے اپنے اظہار کا کمال رکھتی ہیں لیکن ۷۰ سال کے بعد پتہ چلا کھویا کیا کھوئی محبت کھویا کیا انسان کی انسان سے محبت انسان کا انسان کے لیے احترام انسانی حقوق کا احترام، زبانوں کا احترام کھودیا۔ آج ہم وہاں سندھ میں بیٹھ کر بھی کم سے کم میرے جیسے کچھ لوگ اور، ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم اس محبت کو جو زبان کی بنیاد پر اس کشمکش میں کھو گئی دوبارہ زبانوں کے احترام کے ساتھ حاصل کر سکیں۔ اور ہم دوبارہ آپس میں اسی طرح جڑ سکیں۔

    اسی طرح پورے پاکستانی معاشرے کو صوبائی سطح پر شہر شہر ہر سطح پر اس سماج کی جو کشمکش ہے جو اضطراب ہے، جو زہر ہے جو نفرت ہے اس وقت ہم جو ابال دیکھ رہے ہیں اس کے لیے ہمیں محبت کی زبان سیکھنا پڑے گی اور زبانوں کا احترام کر نا پڑے گا۔ وہ زبان جس میں اظہار راۓ ہو رہی ہے۔ وہ زبان جس میں سوال اٹھایا جارہا ہے۔ وہ زبان جس میں جواب دینا ہے ان ساری زبانوں کے امتزاج کے ساتھ اس سوسائٹی کا بد نما چہرہ شاید آپ سب ہم سب اپنی اپنی سوچ رکھنے والے، اپنی اپنی سوچ کے مطابق کام کرنے والے شاید اس کو دوبارہ خوبصورت کر سکیں

    بہت حساس موضوع ہے مادری زبان میں ابھی یہ اعداد وشمار دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ یہ دھرتی جہاں پاکستان ہے یہ پوری دھرتی مادری زبانوں سے بھر پور اور آباد دھرتی۔ جہاں کی مائیں اپنے بچوں کے ساتھ اپنی اپنی زبانیں بولتی رہی ہیں۔ اس دھرتی کی اچانک ایک باہر کے شخص کے ساتھ شادی کر دی گئی اور کہا گیا کہ اب یہ زبان بولو حاکموں کی زبان بولو، اور یہاں کی مادری زبانوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا اور ایک بہت ہی خوبصورت زبان اردو زبان۔ اس کو حکمرانوں کا لبادہ اوڑھا کر کھڑا کر دیا گیا کہ صاحب کو سلام کرو۔ اور اس کے بعد اختلافات، تضادات، تلخیوں اور یہ ساری کشمکش شروع ہو گئی۔ حالانکہ ہم دنیامیں دیکھتے ہیں، ہندوستان کو اپنے قریب دیکھتے ہیں کہ اپنی علاقائی زبانوں مادری زبانوں ، قومی زبانوں ان سب پر بڑا فخر کیا جاتا ہے، بڑی ترویج کی جاتی ہے

    لیکن جیسے کہ ڈاکٹر طارق رحمان صاحب کہہ رہے تھے کہ اگر یہ اجلاس کسی اور علاقے میں ہورہا ہوتا بد نصیبی سے حاکم کو سلام کرنے کی خاطر جس طرح زبانوں کو یہاں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ اس میں اب جو صور تحال سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جیسے بہت سی زبانیں وجود ہی نہیں رکھتی ہیں۔ اس دھرتی کے اوپر ان کا ذکر ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ان زبانوں میں لکھے جانے والے ادب کا نہ ترجمہ ہوتا ہے نہ اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ 

    بڑے بڑے لٹریری فیسٹول ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت کی وہاں موجود گی ہوتی ہے، وہ انوائٹیڈ نہیں ہوتے ہیں یہ وہ سب چیزیں ہیں جو اردو زبان اور باقی لوگوں کی قومی زبان کی درمیان فاصلے کے طور پر بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ یہ بہت اچھی کوشش ہے۔ ایسا پلیٹ فارم ضروری ہے اور اچھا ہے کہ یہ حکمرانوں کے بیچ ان کے صحن میں اس طرح کا میلہ منعقد کیا جاۓ، جس میں مادری زبانوں سے محبت کرنے ان کی اہمیت کو سمجھنے والے وہ تمام لوگ موجود ہوں جو ان پر کام کرتے ہوں انہیں بولتے بھی ہیں اور ان میں لکھتے بھی ہیں

    ٹوئٹر اکاؤنٹ @GoBalochistan

  • ناشکری کرنے سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں تحریر احمد محمود

    ناشکری کرنے سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں تحریر احمد محمود

    ‏ہمارے معاشرے کا ایک تلخ ترین پہلو ناشکری کا ہے کہ ہر چیز موجود ہے اور کہہ رہے ہیں کہ ہم تنگی میں ہیں،

    کیا ہمارے رب نے کبھی ہمیں بھوکا سلایا ہے؟

    کیا کبھی ایسا ہوا کہ پہننے کو کپڑے نہیں ہیں؟

    کیا گھر کا ہر کونا اللہ پاک کے فضل سے بھرا نہیں ہے؟

    تو کیوں ناشکری

    ‏یاد رکھیں!

    اللہ پاک ناشکروں سے نعمتیں چھین لیتا ہے،

    شکر گزار بنیں اور اللہ پاک کے محبوب بن جائیں،

    آج انسان اپنے رب سے شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ فلاں چیز ہمارے پاس نہیں ہے فلاں چیز ہماری ضروریات ہیں ہم لوگ ہمیشہ اپنی ذاتی حیثیت سے بڑھ کر جو ہم سے زیادہ مالدار ہو اس سے اپنا موازنہ کرتے ہیں کہ اسکے پاس فلاں چیز ہے اور ہمارے پاس نہیں اسکے پاس وہ چیزیں بھی موجود ہیں جو اسکے کسی کام کی نہیں اور ہمارے پاس وہ چیزیں بھی نہیں جو ہماری ضروریات زندگی ہیں،

    ایک شخص جس کے پاس دنیا کا سب کچھ موجود ہے دولت عزت شہرت بنگلہ گاڑی بینک بیلنس اس کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں پڑھائی کرنے ملک سے باہر رہتے ہیں اور خاندان کے فرد سیر و تفریح کیلئے دنیا گھومنے جاتے ہیں اور وہ بیچارہ جس نے کتنی محنت لگائی ہوتی ہے کہ کس طرح سے یہ سب کچھ حاصل کیا وہ گھر میں اکیلا قیدی بن کر رہتا ہے اور ایک دن مر جاتا ہے تو جس اولاد کے لیے بندہ سب کچھ کرتا ہے وہ اولاد جب انسان کی آخری رسومات ادا ہو رہی ہوتی ہیں تو وہ شرکت بھی نہیں کرتے کہ پڑھائی نہیں ہو سکے گی بزنس میں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا گا،

    اور ایک شخص ایسا بھی ہے کے جس کے پاس نہ تو دولت ہوتی ہے اور نہ ہی شہرت اس کے پاس صرف عزت ہوتی ہے جو اسکا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے حلال رزق اور ہر ہال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہے اور جب وہ اس دنیا سے جاتا ہے تو صرف اس کا خاندان نہیں بلکہ اہل علاقہ افسوس میں ہوتا ہے اور لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں،

    کیا آپ لوگوں نے کبھی ان لوگوں سے اپنا موازنہ کیا ہے جو آپ سے کم حیثیت رکھتا ہے ہر جگہ ہر بار خود سے بڑے لوگوں کے ساتھ برابری نہ کیا کریں صرف ایک بار ان لوگوں سے اپنا موازنہ کریں جو آپ سے کم حیثیت رکھتے ہیں،

    تو آپ لوگوں کو سمجھ آجاۓ گی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے، اپنے رب کی ناشکری کرنے والوں سے مشورہ ہے کہ وہ ایک ورق لیں اور ایک مہینے تک روز مرہ کی زندگی لکھیں اور جو جو اللہ پاک کی طرف سے ان کو نعمتیں عطا کی گئی ہیں، اور جو چیز نہیں ملی اسکو بھی لکھیں اور ایک مہینے تک مسلسل لکھتے رہیں اور تیس دنوں کے بعد آپ خود دیکھیں گے کہ جو چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں وہ زیادہ ہیں یا جو چیزیں جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہوئی ہیں وہ زیادہ ہیں،

    یقیناً اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا جتنی شکر ادا کریں وہ کم ہے،

    شکر گزار بنیں اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے رہیں،

    اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین پاکستان ذندہ باد!!!

    @ahmad_mahmood3

  • زندگی کیا ھے   تحریر :سریر عباس 

    زندگی کیا ھے  تحریر :سریر عباس 

    زندگی ایک کتاب ھے جسکے پہلے صفحے پر پیدائش اور آخری صفحے پر موت لکھا ھوتا ھے. بیچ کے سارے صفحات خالی ھوتے ھیں آپ جو چاہیں لکھیں. لیکن لکھتے وقت یہ ضرور سوچیں کہ احکام الحاکمین جب دیکھیں تو دیکھتے وقت شرمندگی نہ ھو. 

    مولانا روم علیہ السلام نے ایک بڑا خوبصرت واقعہ لکھا آپ لکتھے ھیں کہ ایک شخص کو قیمتی ھیرا ملا انمول ھیرا وہ اسے لے کر جوھری کے پاس گیا. اور اسکی قیمت وچھی تو جوہری نے ہیرا دیکھا اور کہا کہ میں اپنی پوری دکان بیچ دوں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گی اس پورے بازار میں اسکی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا. تم ایسا کرو یہ ھیرا بادشاہ وقت کے پاس لے جاؤ کیا پتا انکے پاس اسکی قیمت ھو وہ شخص ھیرا لے کر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا. بادشاہ نے جب وہ ھیرا دیکھا تو وزیر سے کہا اسکی قیمت کیا ھو گی. تو بادشاہ کو بتایا گیا کہ اگر ھم اپنا تخت و تاج بھی بیچ دیں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گیبادشاہ نے مجھےکسی صورت میں یہ ھیرا چاہیے تو وزیر نے کہا. آپ یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں اس نے اسے کہا آپ یہ ہیرا مجھے دے دیں. اور صبح سورج طلوع سے غروب آفتاب تک آپ محل سے جو چاھو لے کر جا سکتے ھو وہ شخص چلا گیا. ساری رات اسکو نیند نہیں آئی صبح صبح طلوع آفتاب سے پہلے وہ محل داخل ھو گیا. اسکو کسی نے بھی نہیں روکا وہ جب پہلے کمرے میں داخل ھوا تو ادھر شاھی لباس ٹانگے ھوئے تھے اس نے پہلے کبھی شاھی لباس نہیں پہنا تھا. اس نے سوچا ابھی صبح کا وقت ھے اس نے ایک لباس پہنا شیشے میں دیکھا پھر دوسرا پہنا بڑی دیر کے بعد اسکو ایک لباس پسند آیا اس نے کہا واہ بھائی میں تو شہزادہ لگ رھا ھوں پھر وہ دوسرے کمرے میں داخل ھوا وہاں طرح طرح کے کھانے بنے ھوئے تھے وہ بیچارہ رات کا بھوکا تھا اس نے کھانہ شروع کر دیا کبھی یہ کھا رھا ھے. کبھی وہ کہا رہا ھے پھر اس نے اسیر بھر کر کھانا کھایا پھر وہ تیسرے کمرے میں داخل ھوا ادھر شاھی بستر لگا ھوا تھا. کنیزیں پنکھے ہاتھ میں لیےکھڑی تھیں اس نے ابھی بہت وقت ھے تھوڑا آرام کر لوں وہ رات کا سویا ھوا نہیں تھا جیسے ھی لیٹا سو گیا. پھر وقت ختم ھو گیا دربان نے آکر اسے اٹھایا جیسے ھی اسکی آنکھ کھلی انہوں نے کہا اٹھو بھائی ٹائم ختم ھو گیا. وہ اٹھتے ھے چیزیں اٹھانے لگا دربان نے بولا ابھی تم ایک سوئی بھی نہیں لے کر جا سکتے اس نے کہا میں نے تو کچھ بھی نہیں اٹھایا انہوں نے اسے محل کے باھر پھینک دیا. 

    مولانا روم علیہ السلام فرماتے اس نے قیمتی ھیرے کو ضائع کر دیا وہ اگر معقول لباس پہنتا مختصر کھانا کھاتا بجائے اچھا کھانا کھانے کے اور وہ نہ سوتا دن بھر سمان نکال کے محل سے باھر رکھتا شام تک اسکا اپنا محل تیار ھو چکا ھوتا. 

    ھم اپنی زندگی بھی یونہی اچھے اچھے لباس پہننے اور اچھے اچھےکھانہ کھانے میں اور سونے میں گزار دیتے جب موت کا فرشتہ آتا ھے تو ھم کہتے ھیں کہ تھوڑی سی مولت دے دو میں دو رکعت نفل ادا کر لوں موت کا فرشتہ کہتا ھے اب نہیں وہ بولتا ھے ایک بار الحمد للہ سبحان اللہ کہ لینے دے لیکن موت کا فرشتہ کہتا ھے اب تمہارا ٹائم ختم ھو گیا علمند  انسان وہ ھے.  وہ دنیاکی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے دنیا میں رہنا ھے اور آخرت کی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے آخرت میں رہناھے

    @1sareer

  • دوہرا معیار اور معاشرتی بگاڑ  تحریر: نصرت پروین

    دوہرا معیار اور معاشرتی بگاڑ تحریر: نصرت پروین

    ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ تمام مذہبی اور معاشرتی تعلیمات سب کے لئے مساوی ہوں اور حکمران اور نوکر سب کے لئے ان تعلیمات کا نفاذ بلا تفرہق ہو۔ مذہبی اور معاشرتی تعلیمات اور اصول و ضوابط کسی بھی معاشرے میں وہی مرکزی حثیت رکھتے ہیں جو انسانی جسم میں قلب رکھتا ہے۔ کسی بھی انسانی معاشرے میں بہترین زندگی گزارنے کی عملی صورت وہاں کی مذہبی اور معاشرتی تعلیمات کی پیروی ہے۔ اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔ اور اصول و ضوابط امیر، غریب، حکمران، نوکر، سب کے لئے مساوی ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا نظام اس کے برعکس ہے ہماری مذہبی و معاشرتی تعلیمات اصول و قوانین صرف غریب کے گرد گھومتے ہیں جبکہ حکمران اور سیکولر طبقے کا ان سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ تمام برائیوں کا گہوارہ بنتا جارہا ہے۔ اور صورتِ حال کافی تشویشناک ہے۔ آج سے کچھ سال قبل اخبارات میں جرائم اور برائی سے متعلق خبریں پڑھ کر یا سوشل میڈیا پر برائی کا سن کر اطمینان ہوتا تھا اور اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ الحمدللہ ہمارے مسلم افراد کا نام نہیں ہے۔ لیکن آج مسلم معاشرے میں بے حیائی کی ایسی وبا پھیلی کہ اب اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے جرائم کی خبروں کا صفحہ کھولا جاتا ہے یا سوشل میڈیا پہ جہاں کہیں برائی اور جرائم کی خبر ملتی ہے تو مسلمان ملوث نظر آتا ہے۔ وہ تمام برائیاں جو پہلی قوموں میں تھیں اور ان کی بناء پر انہیں اللہ کے غضب نے گھیرا آج کا مسلم معاشرہ ان تمام برائیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اصول و ضوابط اور سزا کا نظام صرف غریب اور نچلے طبقے کے لئے، یا مذہب سے بیزار ہوکر مولوی تک محدود کر دیا گیا ہے جب کہ سیکولر اور امیر طبقہ ان اصول و ضوابط اور سزاؤں کو نظر انداز کر کے بہیمانہ افعال انجام دیتا ہے تو اس کا دفاع کیا جاتا ہے بلکہ اسے سراہا جاتا ہے۔ کوئی مولوی یا غریب کوئی برائی کرے تو اس پر قانون لاگو کر کے فوراً سزا دی جاتی ہے اس کے بر عکس اگر یہ ہی جرم کوئی حکمران، اور سیکولر طبقے کا کوئی فرد کرے تو اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس سب کی جیتی جاگتی مثال گزشتہ دنوں میں محمد زبیر کی وائرل ہونے والی ویڈیو اور پھر ان پر انکے حکمرانوں کا انکا دفاع کرنا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کی ٹوہ میں نہیں لگنا چاہیے اس طرح کسی کے برے عمل کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا بہر حال گناہ ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر انسان کسی کا ایسا کوئی عیب دیکھے تو خود اس شخص سے شئیر کرے اور اسے اس گناہ سے بچنے کی ترغیب دے لیکن ہمارا معاملہ یہاں بھی المناک ہے سوشل میڈیا پر ایک طبقہ ایسا ہے جو اسلام کی تعلیمات کے مطابق کہ "برائی کو نشر نہ کیا جائے بلکہ برا سمجھا جائے اور روکا جائے” کو نظر انداز کر کے اس برائی کو پھیلانا اور دکھانا اپنا بہترین مشغلہ سمجھتا ہے۔ اس طرح دوسرے لوگوں تک ایسی ویڈیوز کو گناہ جاریہ کے طور پر شئیر کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً معاشرے میں فحاشی عام ہوجاتی ہے اور پھر ہمارے حکمران ایسے ہیں جو اپنی تنگ نظری کی بدولت تمام انسانیت کے مساوی تقاضوں کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ ایسے حکمران مصالح کلیہ سے نظریں چرا کر جزوی مصلحتوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اور پھر فحش اعمال پر اپنے ساتھیوں کا دفاع کرتے ہیں۔ پھر حکمرانوں کے ان اعمال کے سبب معاشرے میں بگاڑ پھیل جاتا ہے۔ لہذا بگاڑ سے بچنے کے لئے حکمرانوں کو اس معاملے میں ایکشن ضرور لینا چاہیے بطور مسلم معاشرہ ہمارے حکمرانوں کو مذہبی تعلیمات کا بہترین علم ہونا چاہیے اور ان کا نفاذ بھی کرنا چاہیے۔ لیکن اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پھر لوگ قیادت میں آکر ایسے فحش اعمال انجام دیتے ہیں جن کے سبب معاشرے میں بگاڑ پروان چڑھتا ہے۔ ایسی صورت میں معاشرے کا اخلاقی نظام بلکل پست ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حکمرانوں کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے گمراہی کے گڑھے میں گر جاتے ہیں۔ حکمران اور اونچے طبقے کے لوگ عیش و عشرت میں اتنا مگن ہوجاتے ہیں کہ انہیں مادی دنیا سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں معاشرے کے افراد اخلاقی اور روحانی تقاضوں سے بے توجہ ہوجاتے ہیں۔ ان حالات میں معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ زائد مال و دولت کا مالک بن کر فحش اعمال کا عادی جاتا ہے اس کے مقابلے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد فاقے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس طرح مالدار طبقے کو مال کی زیادتی اور محتاج طبقے کو اس کی کمی نکما کر دیتی ہے۔ دونوں گروہ اخلاقی عیوب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ تشوشناک صورتِ حال آج ہماری ہے۔
    ان سارے حالات کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم سب ہیں جہاں ہمارے حکمران غلطی کرتے ہیں ہم بھی ان کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں۔ اور پھر ان کا دفاع کیا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ دوہرے معیار کو ترک کرتے ہوئے کوئی بھی فرد جرم کرے اسے ضرور سزا دی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی قومیں اسی لئے برباد ہوئی کہ جب کوئی بڑے طبقے کا فرد جرم کرتا تو اسے معاف کر دیا جاتا اور اگر نچلے طبقے کا کوئی فرد جرم کرتا تو اس سزا دی جاتی۔ یہ ہی دوہرا معیار آج ہمارا ہے۔ ہم سب جہاں بھی ہوں دوہرے معیار کو اپناتے ہیں جزوی مصلحتوں کو اپناتے ہیں۔ اگر ہم معاشرے میں بگاڑ کا خاتمہ اور امن کا قیام چاہتے ہیں تو ہم سب کو بطور فردِ واحد دوہرا معیار چھوڑنا ہوگا تب ہی معاشرے کی بقا ممکن ہے۔
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    از قلم نصرت پروین
    @Nusrat_writes