Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • زندگی میں ہمیں وہی ملتا ہے جو ہم مانگتے ہیں۔ تحریر:محمد اسحاق بیگ 

     اب آپ ضرور سوچیں گے کہ یہ سچ نہیں ہے۔  آپ کہتے ہیں کہ آپ  اپنے لیے آزادی اور خوشی مانگتے ہیں  پر آپ کو جو کچھ ملا وہ اس کے بر عکس ہے  اور آپ اسے برا محسوس کر رہے ہوتے ہیں اپنے آپ کے لیے ۔

     آئیے اس پر گہری نظر ڈالتے ہیں کہ تخلیق کیسے کام کرتی ہے اور ہمارا لاشعوری ذہن کیسے کام کرتا ہے۔  کیونکہ یہ ایک ہی ہے۔

     ہر چیز جو موجود ہے کسی کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔  ہر چیز ایک سوچ سے شروع ہوتی ہے۔  سوچ ایک توانائی ہے۔  توانائی خود کو ظاہر کرنا چاہتی ہے۔  ایک ہی سمت میں بہت سارے خیالات ، یہ یقینی طور پر ، حقیقی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور ایسا ہی چلتا رہے گا ۔

     یہ تخلیق کا عمل ہے۔

     ہم اسی عمل سے پیدا ہوئے ہیں۔  ہم تخلیق کے اس عمل کو ہر وقت استعمال کرتے ہیں ،

     اسے جانے بغیر

     جب ہم ہوش میں نہیں ہوتے ، تب ہم زیادہ تر لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور اس طاقت کو منفی زندگی بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔   جب ہم منفی سوچ رکھتے ہیں  تو منفی نتائج حاصل کرتے ہیں۔ اتنا تو ہر ذی شعور انسان بہت اچھے سے جانتا ہے ۔

     ایک بار جب ہم مثبت خیالات سوچنا سیکھ لیں گے تو ہم اپنی زندگی میں مثبت نتائج حاصل کریں گے۔

     کس طرح آیا؟  ہمارا لاشعور۔۔۔۔۔۔

     

      دماغ زمین کی طرح ہے۔  جو ہم بوتے ہیں اس میں مداخلت نہیں کرتا۔  زمین یہ نہیں کہتی: ” میرے پاس ان گاجروں کی کافی مقدار ہے ، یہ ہر بار  ہم جب بھی گاجر لگایئں گے زمین گاجر ہی دے گی  یہ ایک ہی چیز ہے ، میں اس کے آلو بناؤں گا!”  زمین یہ نہیں کہتی: ” مجھے سرخ پھول پسند نہیں ، میں ان گلابوں کے لیے سرخ کو نیلے رنگ میں بدل دوں گا!”  زمین مداخلت نہیں کرتی۔  زمین صبر کرتی ہے ، خاموشی سے کام کرتی ہے اور ہمیں وہی دیتی ہے جو ہم اس میں ڈالتے ہیں۔  اور ہم یہ جانتے ہیں! 

      ہم جانتے ہیں کہ ہمیں وہی ملے گا جو ہم زمین میں ڈالتے ہیں۔  جب ہم اس میں پیلے رنگ کے پھول ڈالتے ہیں ، ہم توقع نہیں کرتے کہ جب وہ کھلیں گے تو وہ سرخ ہوں گے۔  جب ہم باغ میں گلاب بوتے ہیں تو ہم توقع نہیں کرتے کہ موسم بہار میں پیاز نکل آئے گا!

     اور پھر بھی ہم حقیقی زندگی میں اسی طرح کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔  ہم پیاز بوتے ہیں اور گلاب کی توقع کرتے ہیں۔  ہم اپنے ذہن (پیاز) میں منفی خیالات بوتے ہیں اور اچھی چیزیں (گلاب) نکلنے کی توقع رکھتے ہیں!  

     ہم خود کو بیوقوف بناتے ہیں!  اور ہم دوسروں پر الزام لگاتے ہیں۔  ہم تلاش کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس کا قصور کون ہو سکتا ہے (عام طور پر ہم والدین یا شوہر/بیوی کو ہماری زندگی میں جو غلط ہو رہا ہے اس کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں)۔  اور پھر ہم روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں کوئی قسمت نہیں ہے۔  ہم پڑوسی کی طرف دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہے کیونکہ اس کے باغ میں گلاب ہیں ، اور ہم حیران ہیں کہ ہم نے اپنے باغ میں صرف پیاز کے مستحق ہونے کے لیے دنیا کے ساتھ کیا کیا!

     جب آپ کے خیالات کا مرکزی دھارا منفی ہے ، تو آپ جتنی بھی کوشش کر لیں جب تک آپ اپنے ذہن سے منفی سوچ کو نکال باہر نہیں کر لیتے تب تک  نتیجہ منفی  ہی ہوگا۔  

     

     آپ کے خیالات آپ کے لاشعوری ذہن میں آتے ہیں ، جو آپ اس میں ڈالتے ہیں۔  یہ زمین کی طرح ہے۔  یہ کمپیوٹر کی طرح ہے۔  جب آپ اپنے کمپیوٹر میں ٹائپ کرتے ہیں: "میں بیوقوف ہوں ، میں موٹا ہوں ، میں بدصورت ہوں ، کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا” ، کیا آپ اپنے پرنٹر سے ناراض ہیں جب کاغذ باہر آتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ

      "میں بیوقوف ہوں ،

       میں موٹا ہوں ،

       میں بدصورت ہوں”

        کوئی مجھ سے محبت نہیں کرتا”؟

        کیا آپ اپنے کمپیوٹر پر جوتا پھینکتے ہیں اور کیا آپ اس پر چیختے ہیں کہ وہ ہر اس چیز کا قصور ہے جو غلط ہو رہی ہے؟  نہیں ، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اس معلومات کو اس میں ڈال دیا ہے اور آپ کا کمپیوٹر مداخلت نہیں کرتا ہے۔  آؤٹ پٹ بالکل ان پٹ سے مماثل ہے۔

     یہ ہمارے لاشعوری ذہن پر کام کرتا ہے۔  اگر آپ کو آؤٹ پٹ پسند نہیں ہے تو ، ان پٹ کو تبدیل کریں۔  آپ کو وہی ملتا ہے جو آپ مانگتے ہیں 

     جو آپ پورے دن کے بارے میں سوچتے ہیں۔  اپنی زندگی سے ناراض نہ ہوں۔  آپ پیاز سے ناراض تو نہیں ہیں؟  کیا آپ اپنے کمپیوٹر سے ناراض نہیں ہیں؟  ناراض ہونے کے بجائے ، یہ سیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے اور اپنی زندگی میں مثبت نتائج حاصل کرنا سیکھیں۔  مثبت سوچ سوچنا شروع کریں۔  صرف وہی سوچیں جو آپ حقیقی زندگی میں ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔  صرف وہی سوچیں جو آپ سچ بننا چاہتے ہیں۔  اور تھوڑی دیر انتظار کرو ، صبر کرو۔  ایک دن آپ اپنی سلائی کی فصل کاٹ لیں گے ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین آپ کو وہ چیز واپس دے گی جو آپ نے اس میں ڈالی ہے۔  یہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔

       بس انتظار کرو اور دیکھو.

    آپ سب کی محبتوں کا شکریہ جو آپ میری تحریر کو پڑھتے ہیں ۔آپ سب سے دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں

     

    @Ishaqbaig___

  • ارفع کریم،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں پر نصب کریں گئے۔ عاصمہ اعجاز چیمہ

    ارفع کریم،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں پر نصب کریں گئے۔ عاصمہ اعجاز چیمہ

    فیصل آباد(عثمان صادق) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے وفد نے ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی عاصمہ اعجاز چیمہ سے پی ایچ اے کے مرکزی دفتر میں ملاقات کی اور شہر کی سر سبز و شادابی و خوبصورتی کے حوالے سے مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔چیمبر آف کامرس کے وفد کی طرف سے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے جاری کاموں کوسراہا اور مستقبل میں ادارے کی معاونت کی یقین دہانی کرائی گئی۔ڈی جی نے وفد کو شہر کی خوبصورتی کے حوالے سے بنائے گئے ماسٹر پلان کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ارفع کریم رندھاوا،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں اور چوراہوں پر نصب کرانے کا پلان ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈسٹریل اور کاروباری شخصیات کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناطے چیمبر کو شہر کی تعمیر اور ترقی کے حوالے سیآئندہ بھی بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ شہر کو کلین اینڈ گرین بنایا جا سکے۔

  • سب زبانیں محبت کی ہیں تحریر: محمد تنویر

    سب زبانیں محبت کی ہیں تحریر: محمد تنویر

    یہاں بات ہورہی تھی کہ دراصل عاصمہ جہانگیر پر بولنے کے لیے آئی اے رحمان صاحب کو آنا تھا۔ تو شاید وہ عاصمہ کے حوالے سے اور انسانی حقوق کے حوالے سے اور زبانوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار جس پیمانے پر بھی کرتے وہ تو ناممکن ہے لیکن ظاہر ہے کہ میں بھی چاہوں گی کہ اس سوچ کے گرد بات کر سکوں۔ مجھے خیال آیا کہ واقعی آئی اے رحمان صاحب کو اس جگہ بلانایوں بھی ضروری ہے خاص طور پر اس ملک میں جہاں انسانی حقوق کاز بانوں کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن اس وقت ہم پاکستانی معاشرے کو جس طرح دیکھ رہے ہیں جو شہبیہ ہمارے سامنے ابھر کر آرہی ہے اس میں ہم لوگوں کو مختلف حصوں میں بٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں اگر ہم کاٹنا شروع کر دیں میں لفظ کاٹنا جان بوجھ کر استعمال کر رہا ہوں۔

    لیکن اگر آپ اس کو باند ھنا شروع کر دیں تو وہ باقی کتنا بچتا ہے۔ کسی کو زبان کی بنیاد پر کاٹا جاتا ہے پھر مذہب کی بنیاد پر کاٹا جاتا ہے، پھر فرقوں کے حصے سے کوئی کٹتا ہے ۔ پھر سیاسی سوچ اور اختلاف کی وجہ سے وہ کٹتا ہے تو انسان باقی اتنا زراسا بچ جاتا ہے۔ اس معاشرے میں جو اتناسا انسان بچ جاتا ہے اگر اس کے حقوق کی ہم بات کر رہے ہیں آج اس کو جس طرح سے دیکھ رہے ہیں انسان کو پیروں تلے کچلنا بھی بہت آسان ہے انسان کو زندہ جلا دینا بھی بہت آسان ہے سب کچھ بہت آسان ہے۔ گولی و غیر ہ تو کوئی چیز ہی نہیں ہے پھر یہی انسان اس کو اور بھی باٹنا شروع کریں تو یہ عورت اور مرد میں بھی بٹ جاتا ہے، یہ بٹا کٹا، باقی بچا ہوا تھوڑا سابچ گیا انسان ہے ۔

    اس تھوڑے سے بچ گئے انسان کو اگر دوبارہ سے تخلیق کرنا ہے تو ہمیشہ سے میری سوچ یہ رہی ہے، میرا یقین یہ رہا ہے کہ انسان دو بار تخلیق ہوتا ہے ایک بار جب وہ پیدا ہوتا ہے اور تخلیق ہو کر دنیا میں آتا ہے اور دوسری بار جب وو خود کو دوبارہ تخلیق کرتا ہے۔ اور جب وہ دوبارہ خود کو تخلیق کرتا ہے تو وہ تنہا خود کو تخلیق نہیں کرتا ہے، اپنے ساتھ کئی انسانوں کو اپنے ارد گرد کے کئی انسانوں کو وہ ری کریٹ از سر نو تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

    سچی بات تو یہ ہے کہ ان ساری چیزوں میں زبان ایک ہے۔ وہ ہے محبت کی زبان۔ انسان کی انسان سے محبت کی زبان۔ ڈیپنڈ کرتا ہے کہ اظہار کرنے والا جس کے سامنے محبت کا اظہار کر رہا ہے اس کی زبان کیا ہے میں اگر سامنے والے انسان سے بلا تفریق محبت کا اظہار کرتا ہوں تو مجھے اس سے غرض نہیں ہونی چاہیے کہ وہ میرا ہم زبان ہے کہ نہیں۔ ڈپینڈ کرتا ہے کہ ہم دے کسے رہے ہیں سو بنیادی طور پر ہماری زبان محبت کی ہے مگر اس محبت کی زبان کو زندہ رکھنے کے لیے جو زبان کا معاملہ آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کی زبان کا احترام کیا جاۓ ،ایک دوسرے کی زبان کو تسلیم کرنا۔

    پاکستان میں زبانوں کی بنیاد پر بڑے مسائل کھڑے ہوئے۔ اور ہم نے تو سندھ میں بیٹھ کر دیکھا ہے بڑے جھگڑے ہوئے ہیں، بڑی کشمکش ہوئی ہے بڑا اضطراب رہا ہے۔ بڑی ان سیکورٹی رہی ہے بڑے سوالات اٹھے ہیں۔ ۷۰ سال اس ساری کشمکش سے گزر کر آج جب ہم دیکھتے ہیں تو بات وہیں آکر رک گئی ہے کہ محبت کی کمی ہے۔ ورنہ اردو ایک عالی شان زبان ہے

    سندھی ایک کمال کی زبان ہے اور اسی طرح باقی تمام زبانیں جو ہیں وہ اپنے اپنے اندر اپنے اپنے اظہار کا کمال رکھتی ہیں لیکن ۷۰ سال کے بعد پتہ چلا کھویا کیا کھوئی محبت کھویا کیا انسان کی انسان سے محبت انسان کا انسان کے لیے احترام انسانی حقوق کا احترام، زبانوں کا احترام کھودیا۔ آج ہم وہاں سندھ میں بیٹھ کر بھی کم سے کم میرے جیسے کچھ لوگ اور، ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم اس محبت کو جو زبان کی بنیاد پر اس کشمکش میں کھو گئی دوبارہ زبانوں کے احترام کے ساتھ حاصل کر سکیں۔ اور ہم دوبارہ آپس میں اسی طرح جڑ سکیں۔

    اسی طرح پورے پاکستانی معاشرے کو صوبائی سطح پر شہر شہر ہر سطح پر اس سماج کی جو کشمکش ہے جو اضطراب ہے، جو زہر ہے جو نفرت ہے اس وقت ہم جو ابال دیکھ رہے ہیں اس کے لیے ہمیں محبت کی زبان سیکھنا پڑے گی اور زبانوں کا احترام کر نا پڑے گا۔ وہ زبان جس میں اظہار راۓ ہو رہی ہے۔ وہ زبان جس میں سوال اٹھایا جارہا ہے۔ وہ زبان جس میں جواب دینا ہے ان ساری زبانوں کے امتزاج کے ساتھ اس سوسائٹی کا بد نما چہرہ شاید آپ سب ہم سب اپنی اپنی سوچ رکھنے والے، اپنی اپنی سوچ کے مطابق کام کرنے والے شاید اس کو دوبارہ خوبصورت کر سکیں

    بہت حساس موضوع ہے مادری زبان میں ابھی یہ اعداد وشمار دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ یہ دھرتی جہاں پاکستان ہے یہ پوری دھرتی مادری زبانوں سے بھر پور اور آباد دھرتی۔ جہاں کی مائیں اپنے بچوں کے ساتھ اپنی اپنی زبانیں بولتی رہی ہیں۔ اس دھرتی کی اچانک ایک باہر کے شخص کے ساتھ شادی کر دی گئی اور کہا گیا کہ اب یہ زبان بولو حاکموں کی زبان بولو، اور یہاں کی مادری زبانوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا اور ایک بہت ہی خوبصورت زبان اردو زبان۔ اس کو حکمرانوں کا لبادہ اوڑھا کر کھڑا کر دیا گیا کہ صاحب کو سلام کرو۔ اور اس کے بعد اختلافات، تضادات، تلخیوں اور یہ ساری کشمکش شروع ہو گئی۔ حالانکہ ہم دنیامیں دیکھتے ہیں، ہندوستان کو اپنے قریب دیکھتے ہیں کہ اپنی علاقائی زبانوں مادری زبانوں ، قومی زبانوں ان سب پر بڑا فخر کیا جاتا ہے، بڑی ترویج کی جاتی ہے

    لیکن جیسے کہ ڈاکٹر طارق رحمان صاحب کہہ رہے تھے کہ اگر یہ اجلاس کسی اور علاقے میں ہورہا ہوتا بد نصیبی سے حاکم کو سلام کرنے کی خاطر جس طرح زبانوں کو یہاں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ اس میں اب جو صور تحال سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جیسے بہت سی زبانیں وجود ہی نہیں رکھتی ہیں۔ اس دھرتی کے اوپر ان کا ذکر ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ان زبانوں میں لکھے جانے والے ادب کا نہ ترجمہ ہوتا ہے نہ اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ 

    بڑے بڑے لٹریری فیسٹول ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت کی وہاں موجود گی ہوتی ہے، وہ انوائٹیڈ نہیں ہوتے ہیں یہ وہ سب چیزیں ہیں جو اردو زبان اور باقی لوگوں کی قومی زبان کی درمیان فاصلے کے طور پر بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ یہ بہت اچھی کوشش ہے۔ ایسا پلیٹ فارم ضروری ہے اور اچھا ہے کہ یہ حکمرانوں کے بیچ ان کے صحن میں اس طرح کا میلہ منعقد کیا جاۓ، جس میں مادری زبانوں سے محبت کرنے ان کی اہمیت کو سمجھنے والے وہ تمام لوگ موجود ہوں جو ان پر کام کرتے ہوں انہیں بولتے بھی ہیں اور ان میں لکھتے بھی ہیں

    ٹوئٹر اکاؤنٹ @GoBalochistan

  • ناشکری کرنے سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں تحریر احمد محمود

    ناشکری کرنے سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں تحریر احمد محمود

    ‏ہمارے معاشرے کا ایک تلخ ترین پہلو ناشکری کا ہے کہ ہر چیز موجود ہے اور کہہ رہے ہیں کہ ہم تنگی میں ہیں،

    کیا ہمارے رب نے کبھی ہمیں بھوکا سلایا ہے؟

    کیا کبھی ایسا ہوا کہ پہننے کو کپڑے نہیں ہیں؟

    کیا گھر کا ہر کونا اللہ پاک کے فضل سے بھرا نہیں ہے؟

    تو کیوں ناشکری

    ‏یاد رکھیں!

    اللہ پاک ناشکروں سے نعمتیں چھین لیتا ہے،

    شکر گزار بنیں اور اللہ پاک کے محبوب بن جائیں،

    آج انسان اپنے رب سے شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ فلاں چیز ہمارے پاس نہیں ہے فلاں چیز ہماری ضروریات ہیں ہم لوگ ہمیشہ اپنی ذاتی حیثیت سے بڑھ کر جو ہم سے زیادہ مالدار ہو اس سے اپنا موازنہ کرتے ہیں کہ اسکے پاس فلاں چیز ہے اور ہمارے پاس نہیں اسکے پاس وہ چیزیں بھی موجود ہیں جو اسکے کسی کام کی نہیں اور ہمارے پاس وہ چیزیں بھی نہیں جو ہماری ضروریات زندگی ہیں،

    ایک شخص جس کے پاس دنیا کا سب کچھ موجود ہے دولت عزت شہرت بنگلہ گاڑی بینک بیلنس اس کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں پڑھائی کرنے ملک سے باہر رہتے ہیں اور خاندان کے فرد سیر و تفریح کیلئے دنیا گھومنے جاتے ہیں اور وہ بیچارہ جس نے کتنی محنت لگائی ہوتی ہے کہ کس طرح سے یہ سب کچھ حاصل کیا وہ گھر میں اکیلا قیدی بن کر رہتا ہے اور ایک دن مر جاتا ہے تو جس اولاد کے لیے بندہ سب کچھ کرتا ہے وہ اولاد جب انسان کی آخری رسومات ادا ہو رہی ہوتی ہیں تو وہ شرکت بھی نہیں کرتے کہ پڑھائی نہیں ہو سکے گی بزنس میں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا گا،

    اور ایک شخص ایسا بھی ہے کے جس کے پاس نہ تو دولت ہوتی ہے اور نہ ہی شہرت اس کے پاس صرف عزت ہوتی ہے جو اسکا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے حلال رزق اور ہر ہال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہے اور جب وہ اس دنیا سے جاتا ہے تو صرف اس کا خاندان نہیں بلکہ اہل علاقہ افسوس میں ہوتا ہے اور لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں،

    کیا آپ لوگوں نے کبھی ان لوگوں سے اپنا موازنہ کیا ہے جو آپ سے کم حیثیت رکھتا ہے ہر جگہ ہر بار خود سے بڑے لوگوں کے ساتھ برابری نہ کیا کریں صرف ایک بار ان لوگوں سے اپنا موازنہ کریں جو آپ سے کم حیثیت رکھتے ہیں،

    تو آپ لوگوں کو سمجھ آجاۓ گی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے، اپنے رب کی ناشکری کرنے والوں سے مشورہ ہے کہ وہ ایک ورق لیں اور ایک مہینے تک روز مرہ کی زندگی لکھیں اور جو جو اللہ پاک کی طرف سے ان کو نعمتیں عطا کی گئی ہیں، اور جو چیز نہیں ملی اسکو بھی لکھیں اور ایک مہینے تک مسلسل لکھتے رہیں اور تیس دنوں کے بعد آپ خود دیکھیں گے کہ جو چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں وہ زیادہ ہیں یا جو چیزیں جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہوئی ہیں وہ زیادہ ہیں،

    یقیناً اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا جتنی شکر ادا کریں وہ کم ہے،

    شکر گزار بنیں اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے رہیں،

    اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین پاکستان ذندہ باد!!!

    @ahmad_mahmood3

  • زندگی کیا ھے   تحریر :سریر عباس 

    زندگی کیا ھے  تحریر :سریر عباس 

    زندگی ایک کتاب ھے جسکے پہلے صفحے پر پیدائش اور آخری صفحے پر موت لکھا ھوتا ھے. بیچ کے سارے صفحات خالی ھوتے ھیں آپ جو چاہیں لکھیں. لیکن لکھتے وقت یہ ضرور سوچیں کہ احکام الحاکمین جب دیکھیں تو دیکھتے وقت شرمندگی نہ ھو. 

    مولانا روم علیہ السلام نے ایک بڑا خوبصرت واقعہ لکھا آپ لکتھے ھیں کہ ایک شخص کو قیمتی ھیرا ملا انمول ھیرا وہ اسے لے کر جوھری کے پاس گیا. اور اسکی قیمت وچھی تو جوہری نے ہیرا دیکھا اور کہا کہ میں اپنی پوری دکان بیچ دوں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گی اس پورے بازار میں اسکی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا. تم ایسا کرو یہ ھیرا بادشاہ وقت کے پاس لے جاؤ کیا پتا انکے پاس اسکی قیمت ھو وہ شخص ھیرا لے کر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا. بادشاہ نے جب وہ ھیرا دیکھا تو وزیر سے کہا اسکی قیمت کیا ھو گی. تو بادشاہ کو بتایا گیا کہ اگر ھم اپنا تخت و تاج بھی بیچ دیں تو اسکی قیمت ادا نہیں ھو گیبادشاہ نے مجھےکسی صورت میں یہ ھیرا چاہیے تو وزیر نے کہا. آپ یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں اس نے اسے کہا آپ یہ ہیرا مجھے دے دیں. اور صبح سورج طلوع سے غروب آفتاب تک آپ محل سے جو چاھو لے کر جا سکتے ھو وہ شخص چلا گیا. ساری رات اسکو نیند نہیں آئی صبح صبح طلوع آفتاب سے پہلے وہ محل داخل ھو گیا. اسکو کسی نے بھی نہیں روکا وہ جب پہلے کمرے میں داخل ھوا تو ادھر شاھی لباس ٹانگے ھوئے تھے اس نے پہلے کبھی شاھی لباس نہیں پہنا تھا. اس نے سوچا ابھی صبح کا وقت ھے اس نے ایک لباس پہنا شیشے میں دیکھا پھر دوسرا پہنا بڑی دیر کے بعد اسکو ایک لباس پسند آیا اس نے کہا واہ بھائی میں تو شہزادہ لگ رھا ھوں پھر وہ دوسرے کمرے میں داخل ھوا وہاں طرح طرح کے کھانے بنے ھوئے تھے وہ بیچارہ رات کا بھوکا تھا اس نے کھانہ شروع کر دیا کبھی یہ کھا رھا ھے. کبھی وہ کہا رہا ھے پھر اس نے اسیر بھر کر کھانا کھایا پھر وہ تیسرے کمرے میں داخل ھوا ادھر شاھی بستر لگا ھوا تھا. کنیزیں پنکھے ہاتھ میں لیےکھڑی تھیں اس نے ابھی بہت وقت ھے تھوڑا آرام کر لوں وہ رات کا سویا ھوا نہیں تھا جیسے ھی لیٹا سو گیا. پھر وقت ختم ھو گیا دربان نے آکر اسے اٹھایا جیسے ھی اسکی آنکھ کھلی انہوں نے کہا اٹھو بھائی ٹائم ختم ھو گیا. وہ اٹھتے ھے چیزیں اٹھانے لگا دربان نے بولا ابھی تم ایک سوئی بھی نہیں لے کر جا سکتے اس نے کہا میں نے تو کچھ بھی نہیں اٹھایا انہوں نے اسے محل کے باھر پھینک دیا. 

    مولانا روم علیہ السلام فرماتے اس نے قیمتی ھیرے کو ضائع کر دیا وہ اگر معقول لباس پہنتا مختصر کھانا کھاتا بجائے اچھا کھانا کھانے کے اور وہ نہ سوتا دن بھر سمان نکال کے محل سے باھر رکھتا شام تک اسکا اپنا محل تیار ھو چکا ھوتا. 

    ھم اپنی زندگی بھی یونہی اچھے اچھے لباس پہننے اور اچھے اچھےکھانہ کھانے میں اور سونے میں گزار دیتے جب موت کا فرشتہ آتا ھے تو ھم کہتے ھیں کہ تھوڑی سی مولت دے دو میں دو رکعت نفل ادا کر لوں موت کا فرشتہ کہتا ھے اب نہیں وہ بولتا ھے ایک بار الحمد للہ سبحان اللہ کہ لینے دے لیکن موت کا فرشتہ کہتا ھے اب تمہارا ٹائم ختم ھو گیا علمند  انسان وہ ھے.  وہ دنیاکی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے دنیا میں رہنا ھے اور آخرت کی اتنی تیاری کرے جتنا اس نے آخرت میں رہناھے

    @1sareer

  • دوہرا معیار اور معاشرتی بگاڑ  تحریر: نصرت پروین

    دوہرا معیار اور معاشرتی بگاڑ تحریر: نصرت پروین

    ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ تمام مذہبی اور معاشرتی تعلیمات سب کے لئے مساوی ہوں اور حکمران اور نوکر سب کے لئے ان تعلیمات کا نفاذ بلا تفرہق ہو۔ مذہبی اور معاشرتی تعلیمات اور اصول و ضوابط کسی بھی معاشرے میں وہی مرکزی حثیت رکھتے ہیں جو انسانی جسم میں قلب رکھتا ہے۔ کسی بھی انسانی معاشرے میں بہترین زندگی گزارنے کی عملی صورت وہاں کی مذہبی اور معاشرتی تعلیمات کی پیروی ہے۔ اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔ اور اصول و ضوابط امیر، غریب، حکمران، نوکر، سب کے لئے مساوی ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا نظام اس کے برعکس ہے ہماری مذہبی و معاشرتی تعلیمات اصول و قوانین صرف غریب کے گرد گھومتے ہیں جبکہ حکمران اور سیکولر طبقے کا ان سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ تمام برائیوں کا گہوارہ بنتا جارہا ہے۔ اور صورتِ حال کافی تشویشناک ہے۔ آج سے کچھ سال قبل اخبارات میں جرائم اور برائی سے متعلق خبریں پڑھ کر یا سوشل میڈیا پر برائی کا سن کر اطمینان ہوتا تھا اور اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ الحمدللہ ہمارے مسلم افراد کا نام نہیں ہے۔ لیکن آج مسلم معاشرے میں بے حیائی کی ایسی وبا پھیلی کہ اب اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے جرائم کی خبروں کا صفحہ کھولا جاتا ہے یا سوشل میڈیا پہ جہاں کہیں برائی اور جرائم کی خبر ملتی ہے تو مسلمان ملوث نظر آتا ہے۔ وہ تمام برائیاں جو پہلی قوموں میں تھیں اور ان کی بناء پر انہیں اللہ کے غضب نے گھیرا آج کا مسلم معاشرہ ان تمام برائیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اصول و ضوابط اور سزا کا نظام صرف غریب اور نچلے طبقے کے لئے، یا مذہب سے بیزار ہوکر مولوی تک محدود کر دیا گیا ہے جب کہ سیکولر اور امیر طبقہ ان اصول و ضوابط اور سزاؤں کو نظر انداز کر کے بہیمانہ افعال انجام دیتا ہے تو اس کا دفاع کیا جاتا ہے بلکہ اسے سراہا جاتا ہے۔ کوئی مولوی یا غریب کوئی برائی کرے تو اس پر قانون لاگو کر کے فوراً سزا دی جاتی ہے اس کے بر عکس اگر یہ ہی جرم کوئی حکمران، اور سیکولر طبقے کا کوئی فرد کرے تو اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس سب کی جیتی جاگتی مثال گزشتہ دنوں میں محمد زبیر کی وائرل ہونے والی ویڈیو اور پھر ان پر انکے حکمرانوں کا انکا دفاع کرنا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کی ٹوہ میں نہیں لگنا چاہیے اس طرح کسی کے برے عمل کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا بہر حال گناہ ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر انسان کسی کا ایسا کوئی عیب دیکھے تو خود اس شخص سے شئیر کرے اور اسے اس گناہ سے بچنے کی ترغیب دے لیکن ہمارا معاملہ یہاں بھی المناک ہے سوشل میڈیا پر ایک طبقہ ایسا ہے جو اسلام کی تعلیمات کے مطابق کہ "برائی کو نشر نہ کیا جائے بلکہ برا سمجھا جائے اور روکا جائے” کو نظر انداز کر کے اس برائی کو پھیلانا اور دکھانا اپنا بہترین مشغلہ سمجھتا ہے۔ اس طرح دوسرے لوگوں تک ایسی ویڈیوز کو گناہ جاریہ کے طور پر شئیر کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً معاشرے میں فحاشی عام ہوجاتی ہے اور پھر ہمارے حکمران ایسے ہیں جو اپنی تنگ نظری کی بدولت تمام انسانیت کے مساوی تقاضوں کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ ایسے حکمران مصالح کلیہ سے نظریں چرا کر جزوی مصلحتوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اور پھر فحش اعمال پر اپنے ساتھیوں کا دفاع کرتے ہیں۔ پھر حکمرانوں کے ان اعمال کے سبب معاشرے میں بگاڑ پھیل جاتا ہے۔ لہذا بگاڑ سے بچنے کے لئے حکمرانوں کو اس معاملے میں ایکشن ضرور لینا چاہیے بطور مسلم معاشرہ ہمارے حکمرانوں کو مذہبی تعلیمات کا بہترین علم ہونا چاہیے اور ان کا نفاذ بھی کرنا چاہیے۔ لیکن اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پھر لوگ قیادت میں آکر ایسے فحش اعمال انجام دیتے ہیں جن کے سبب معاشرے میں بگاڑ پروان چڑھتا ہے۔ ایسی صورت میں معاشرے کا اخلاقی نظام بلکل پست ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حکمرانوں کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے گمراہی کے گڑھے میں گر جاتے ہیں۔ حکمران اور اونچے طبقے کے لوگ عیش و عشرت میں اتنا مگن ہوجاتے ہیں کہ انہیں مادی دنیا سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں معاشرے کے افراد اخلاقی اور روحانی تقاضوں سے بے توجہ ہوجاتے ہیں۔ ان حالات میں معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ زائد مال و دولت کا مالک بن کر فحش اعمال کا عادی جاتا ہے اس کے مقابلے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد فاقے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس طرح مالدار طبقے کو مال کی زیادتی اور محتاج طبقے کو اس کی کمی نکما کر دیتی ہے۔ دونوں گروہ اخلاقی عیوب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ تشوشناک صورتِ حال آج ہماری ہے۔
    ان سارے حالات کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم سب ہیں جہاں ہمارے حکمران غلطی کرتے ہیں ہم بھی ان کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں۔ اور پھر ان کا دفاع کیا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ دوہرے معیار کو ترک کرتے ہوئے کوئی بھی فرد جرم کرے اسے ضرور سزا دی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی قومیں اسی لئے برباد ہوئی کہ جب کوئی بڑے طبقے کا فرد جرم کرتا تو اسے معاف کر دیا جاتا اور اگر نچلے طبقے کا کوئی فرد جرم کرتا تو اس سزا دی جاتی۔ یہ ہی دوہرا معیار آج ہمارا ہے۔ ہم سب جہاں بھی ہوں دوہرے معیار کو اپناتے ہیں جزوی مصلحتوں کو اپناتے ہیں۔ اگر ہم معاشرے میں بگاڑ کا خاتمہ اور امن کا قیام چاہتے ہیں تو ہم سب کو بطور فردِ واحد دوہرا معیار چھوڑنا ہوگا تب ہی معاشرے کی بقا ممکن ہے۔
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    از قلم نصرت پروین
    @Nusrat_writes

  • لہجے میں سچائی کی مہک اور اصلاح تحریر: علی حمزہٰ 

    سچ کا مقصد اپنی خود نمائی، خود کو صادق اور امین ظاہر کرنے سے زیادہ کسی کی اصلاح ہے تو مناسب الفاظ نرم لب و لہجہ ہونا ضروری ہے۔ سامنے والے کو بھی آپ کی اصلاح سے تکلیف نہ ہو اور وہ سچ کا قائل بھی ہو جائے۔ اور غیر محسوس طریقے سے سامنے والا اپنی اصلاح بھی کر لے۔ "مقصد دستک دینا ہوتا ہے دروازہ توڑنا نہیں”

    سچ بولنے کی عادت بچوں کو بچپن سے ہی سکھائی جاتی ہے اور سکھائی بھی جانی چاہیے۔ بچوں کو چھوٹے ہوتے سے ہی جھوٹ بولنے پر سزا دینی چاہیے لیکن ہم لوگوں کا علمیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو بچپن سے ہی جھوٹے کسے کہانیاں سنا سنا کر انہیں جھوٹ بولنے اور سننے کی عادت ڈال رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ سچ تو یہی ہے کہ سچ نجات دیتا ہے اور جھوٹ ہلاک کر دیتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں چاہیے کہ ہم بولیں تو ہمارے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سچائی کی گواہی دے رہا ہو۔

    دنیا میں واحد ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی کی ہے جنہوں نے 63 برس عمر مبارک پائی اور زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لب مبارک سے نکلنے والا ایک ایک لفظ سچ تھا اور سچائی کی گواہی دیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ کے لہجے میں سچائی کی مہک پائی جاتی تھی۔ میں یہاں ایک واقعہ مختصر بیان کرتا چلوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آتے ہی سب سے پہلے معراج کا واقع حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے واقع سنتے ہی یہی فرمایا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے سچ فرمایا۔

    سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت پر زور ہر ایک مزہب نے دیا ہے اور اس اہمیت کو یکساں طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہے شریعت اسلامیہ میں اس کی طرف خاص توجہ دلائی گئی ہے اور اس کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ اس لیے رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی اور جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہ ماننے والوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور ایمان داری کی گواہی دی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور ایمانداری سے متاثر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور امین کے القاب سے نوازا تھا۔ آپ ﷺ کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل اور ابولہب جیسے بھی آپ ﷺ کی سچائی کو تسلیم کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ تمام انبیاء کرام علیہ السلام نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بھی پوری انسانیت کو متعدد مرتبہ سچ بولنے کی تعلیم دی ہے:

    ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔” (التوبۃ: ۱۱۹)

    اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:

    ”آج وہ دن ہے کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔” (المائدۃ: ۱۱۹)

    چونکہ جھوٹ کے نتائج بہت مہلک اور خطرناک ہو سکتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ بولنے والوں کے لیے بہت سخت وعیدیں سنائی ہیں۔

    ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

    ”سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی یکساں طور پر سچ کہتا ہے اور سچائی کی کوشش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کی نظر میں اس کا نام سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچے رہو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ اور فجور ہے اور فجور دوزخ کی راہ بتاتا ہے، اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسی کی جستجو میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اس کا شمار جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔” (بخاری ومسلم)

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 

    ”جو تاجر سچا اور امانت دار ہو وہ قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔”

    لہذا ہمیں اپنے کاروبار میں بھی ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔ پیارے حبیب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بول کر مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

    جس طرح دنیا میں رہنے کے لئے پانی ضروری ہے اس طرح دنیاوی معاملات میں سچائی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جس طرح پانی کی بغیر زندگی ممکن نہیں اسی طرح سچ کے بغیر نظام عالم کا کاروبار بھی ممکن نہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    پاکستان میں پولیس کا ایک الگ ہی رول ہے سمجھ نہیں آتی یہ پولیس ہماری دیکھ بال کے لیے ہے یا کسی اور مقصد کے لیے دوسرے ملکوں میں آپ کسی سنسان علاقوں سے گزر رہیں ہوں گے تو اگر وہاں پولیس موجود ہو گی تو آپ بلا جھجک وہاں سے چلے جائیں گے پر ہمارے پاکستان میں پولیس کا سسٹم اتنا خراب ہے آپ اگر پاکستان میں کسی سنسان علاقے سے گزریں گے اور اگر وہاں پولیس کھڑی ہوگی تو آپ اگر زرا برابر بھی غلط نہیں ہوں گے تو پھر بھی آپ وہاں سے گزرنا پسند نہیں کریں گے، اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور آپکی آمدن اچھی نہیں تو آپکے پاس رقم ہوگی تو آپکو چوروں اور ڈکیتوں سے زیادہ پولیس سے ڈر لگے گا ایسا بلکل ہماری پولیس خراب ہے مگر ہاں اچھے بڑے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انکو ڈنڈا دینے والوں کو یعنی وزیراعظم، پولیس انسپکٹر اور دوسرے وہ لوگ جن کے انڈر ہوتی ہے پولیس انکو بھی چاھیے کہ وہ بھی ایکٹیو ہوں، قصور میں ایک پولیس کانسٹیبل نے نوجوان حافظ قرآن سمیع الرحمان کو اس بنا پر گولی مار کر قتل کر دیا کے اس نے پولیس والے کے ساتھ بدفعلی کرنے سے انکار کیا اسلامی معاشرے میں انصاف کی فراہمی یقینی بنانا حکومت وقت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کچھ دنوں پہلے میں اور میرے دو دوست رات 9 بجے باہر ہوٹل پر چائے پینے جا رہے تھے تو ہم نے (ایم اے جناح روڈ کراچی) پر موٹر سائیکل روکی پیٹرول چیک کرنے کےلئے اتنے میں پولیس آتی ہے ہم سے پوچھا کیا کر رہے ہو بتایا تو ہماری تلاشی لی گئی بائک کے پیپر چیک کیے اسکے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ ہمیں چھوڑ دیں پر انہوں نے بولا ہمیں رپورٹ ہے تین لوگ یہاں ڈکیتی کرتے ہیں اور اولیاء آپ لوگوں جیسا بتایا گیا ہے پھر بہت بدتمیزی کرنے کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے بعد بولا 500 روپے دو تو میں آپ کو چھوڑ دوں گا اور یہ کیس کسی اور پر ڈال دوں گا کیا ہماری پولیس کا اب صرف یہ کام رہے گیا ہے اور ساتھ ساتھ جو دوسرے پولیس والے تھے موبائل میں ان میں سے ایک بار بار ہمارے پاس آرہا تھا اور یہ کنفرم کر رہا تھا کہ تمھارا کوئی جانے والا تو نہیں پولیس میں اگر ہے تو انکو فون کرلو ہم نے 1 سے 2 بار منا کیا پھر آیا تو میں موبائل انسپکٹر جو تھا اس کے پاس گیا اور بولا سر میرا ایک جاننے والا رینجرز میں ہے اس سے بات کرواؤں تو پہلے تو چلایا پھر بولا کرواؤ تو جب میں کسی کو فون لگانے لگا تو بولا چھوڑو اور یہاں سے چلے جاؤ اور ساتھ میں یہ بھی کہنے لگا کہ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا، انکا برتاؤ دیکھ کر ایسا لگا جیسے ہم کوئی کریمنل ہیں یا چلتے پھرتے کسی کا بھی قتل کرتے ہوں اور جو لوگ کریمنل ہیں کرپٹ ہیں ان کو خلاف پولیس کی کوئی کارکردگی نہیں یا تو یہ انکے ساتھ ملے ہوئے ہیں یا انکو اس بات پر فورس کیا جاتا ہے کہ عام لوگوں کو تنگ کرنا ہے۔

    تو کیا یہ ہماری پولیس ہے؟

    کیا یہ ادارہ اس لیے بنایا ہے؟

    آخر کب تک ہم اس طرح اپنے ہی ملک میں ڈر ڈر کر جئیں گے؟

     آپ نے سنا ہوگا بہت سے ایماندار پولیس والوں کی کہانیاں وہ بھی اسی پولیس میں ہوتے ہیں پر فرق صرف اتنا ہے انکو معلوم ہوتا ہے کہ انکا کام کیا ہے وہ وردی کا ناجائز استعمال نہیں کرتے اور وہ لوگوں کہ دلوں میں بھس جاتے ہیں۔ 

    "محسوس یہ ہوتا ہے یہ دور تباہی ہے

    شیشے کی عدالت ہے پتھر کی گواہی ہے”

  • بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    @Rohshan_Din

    صحت انسان کی بیسک نیڈ ہے جو ہر ریاست کو اپنے ہر شہری کے لے فری فیسر کرنا چاے۔ اور صحت کے شعبے میں بیسک ہیلتھ کیئر کے ادارے کا مضبوط ہونا سب سے ضروری ہے۔ 

    ۔ کوئی بھی ملک اپنے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط کیے بغیر اپنے صحت کے شعوبے کو بہتر نہیں بنا سکا ہے۔ ۔ پاکستان میں صحت کے اشارے پریشان کن ہیں۔ پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان بلوچستان اندرون سندھ جنوبی پنجاب اور کے پی کے کے علاقوں میں صحت کا نظام تباہ حال ہے

    پی ایچ سی کمیونٹی ہیلتھ سروسز کا ایک مجموعہ ہے ، یعنی لیڈی ہیلتھ ورکرز ، دائیوں ، ویکسینیٹرز وغیرہ کے ذریعے فراہم کردہ گھریلو سطح پر ، اور پی ایچ سی کی سہولیات کی سطح پر ایمبولریٹری مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات۔ فی الحال پاکستان میں ، کمیونٹی ہیلتھ سروسز تقریبا entirely مکمل طور پر پبلک سیکٹر کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں جبکہ سہولت کی سطح کی سروسز پبلک اور پرائیویٹ دونوں شعبے فراہم کرتے ہیں۔ پی ایچ سی کی خدمات فراہم کرنے والے سرکاری شعبے کی سہولیات میں بنیادی ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) ، ڈسپنسری ، ماں اور بچے کے مراکز ، دیہی صحت کے مراکز (آر ایچ سی) اور شہروں کے ہسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ محکمے شامل ہیں۔ نجی شعبے میں ، پی ایچ سی عام معالجین اور شہروں کے نجی اسپتالوں کی او پی ڈی فراہم کرتے ہیں۔ لوگ کمزور کنٹرول والے نجی شعبے میں ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز ، حکیموں اور علاج معالجے کے دیگر طریقوں سے بھی بنیادی دیکھ بھال چاہتے ہیں۔

    1980 اور 1990 کی دہائی میں ، پاکستان نے بی ایچ یو اور آر ایچ سی کا ایک قومی نیٹ ورک بنایا اس خیال کے ساتھ کہ ہر یونین کونسل میں 5 سے 25 ہزار کی آبادی کے ساتھ ایک بی ایچ یو ہونا ضروری ہے۔ اس سارے کام میں ایک مسلہ ہمیشہ درپیش ایا وہ یہ کہ کوئی بھی ڈاکٹر بیک ورڈ ایرز دیھاتوں میں ڈیوٹی کرنا پسند نہی کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر دہاتوں میں ڈسپنسر کام کرتے ہیں یا وہ اکثر وہ بھی موجود نہی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی سطح پہ بیمارویوں کا اعلاج ناممکن ہوا ہے۔ 

    کمیونٹی ہیلتھ سروسز فراہم کرنے کے لیے ، ایک قومی LHW پروگرام قائم کیا گیا۔ فی الحال ، کچھ 90،000 LHWs تقریبا 115 ملین لوگوں کو پورا کرتے ہیں۔ 

    پی ایچ سی صرف مریضوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ہر عمر کے صحت مند افراد کے لیے اتنا ہی ہے جتنا انہیں بیماری اور چوٹ اور ان کی صحت کے خطرات سے بچانے کے لحاظ سے۔ خطرات بنیادی طور پر ماحولیاتی ہیں – ہوا کا معیار ، پانی جو ہم استعمال کرتے ہیں ، وغیرہ – اور رویے – تمباکو نوشی ، بیٹھے ہوئے طرز زندگی وغیرہ۔ اسی طرح ، معذور افراد اور صحت یاب افراد کے لیے بحالی کی خدمات پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ عارضی طور پر بیمار افراد کی گھر پر دیکھ بھال یعنی علاج کی خدمات بھی پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ صحت کی خدمات پر تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ تقریبا 70 70 فیصد ضروری صحت کی خدمات پی ایچ سی کی سطح پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔اگر اس فارمولے پہ مکل کنڑول کے چلایا جاے تو۔ ۔

    انفرادی خدمات کے علاوہ ، صحت عامہ کے کچھ ضروری کام ہیں جن میں بیماریوں کی نگرانی ، صحت سے متعلق معلومات جمع کرنا ، ہنگامی تیاری ، صحت کے مواصلات اور تحقیق شامل ہیں۔ یہ افعال پی ایچ سی کی سطح پر بھی انجام دیے جاتے ہیں۔ آخر میں ، چونکہ صحت بھی ان عوامل سے متاثر ہوتی ہے جو کہ براہ راست وزارت صحت کے کنٹرول میں نہیں ہیں مثلا nutrition غذائیت ، پینے کا صاف پانی ، سیوریج کا نظام ، تعلیم وغیرہ ، مقامی سطح پر دیگر شعبوں کے ساتھ تعاون بھی PHC کا حصہ ہے۔ چھوٹی بیماریوں اور زخموں کا بروقت علاج ، نوجوان خواتین کو تولیدی صحت سے متعلق رہنمائی ، قبل از پیدائش کی دیکھ بھال ، خاندانی منصوبہ بندی ، ضروری ویکسینیشن ، بچوں کی نشوونما کی نگرانی ، بیماریوں کی اسکریننگ ، غذائیت سے متعلق رہنمائی ، بستر پر بزرگوں کی گھر کی دیکھ بھال وغیرہ سب پی ایچ سی کی سطح پر ہوتے ہیں۔

    پی ایچ سی صرف صحت کی دیکھ بھال کی سطح نہیں ہے۔ یہ دیکھ بھال اور سماجی بہبود کا فلسفہ بھی ہے۔ یہ گھریلو اور کمیونٹی کی سطح پر دیگر محکموں کے تعاون سے اور لوگوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی سہولیات کی فراہمی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں لوگوں کی فعال شمولیت کو یقینی بنانا ، اس کے وسیع معنوں میں ، اہم ہے۔ لوگوں کو مطلع کیا جانا چاہیے ، ان سے مشورہ کیا جانا چاہیے اور ان پر نظر رکھنی چاہیے۔ مقامی حکومتوں کے تناظر میں صحت کمیٹیوں کے ذریعے ادارہ جاتی کمیونٹی کی شمولیت بہترین اور پائیدار طریقہ ہے۔

    اس کی اہم اہمیت کے باوجود ، کسی نہ کسی طرح پاکستان میں پی ایچ سی کو غریبوں کے لیے دوسرے درجے کی صحت کی سہولیات سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں معیاری پی ایچ سی نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ اشرافیہ ذہنیت ہے۔ امیر اور طاقتور بڑے شہروں میں بڑے ، مہنگے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور بی ایچ یو اور ایل ایچ ڈبلیو دیہی پیری شہری غریبوں کے لیے ہیں۔ کمزور پی ایچ سی سسٹم کی وجہ سے ، زیادہ تر مریض معمولی بیماریوں کے لیے بھی براہ راست تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور اسی وجہ سے بڑے اسپتالوں کی بھیڑ اور گھٹن کا شکار او پی ڈی۔بڑھ جاتے ہے ۔اس کے مثال اپکو ایبٹ اباد میڈیکل کمپکس ۔پیمز اسلام اباد اور پشاور میں ایل ار ایچ لاہور لاہور میں میو ہسپتال وغیرہ وغیرہ۔ ایوب میڈیکل کمپکس میں گلگت بلتستان ے لیکر ہزارہ تک تمام لوڈ اجاتا جس کی وجہ سے وہاں ہمیشہ مسائل ہوتے۔ 

    ایک اچھی طرح سے کام کرنے والے صحت کے نظام میں ، ایمرجنسی مریضوں کے علاوہ دیگر تمام مریضوں کو ڈیجیٹل طور پر صحت کی اعلی سطح کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ پی ایچ سی اس لحاظ سے ثانوی اور تیسری سطح کی دیکھ بھال کے لیے ایک دربان سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا میڈیکل ایجوکیشن سسٹم ، پبلک اور پرائیویٹ دونوں ، میڈیکل کے طلباء کو پی ایچ سی کی سیٹنگز کے سامنے نہیں لاتا۔ جب تک یہ تصورات اور طریقہ کار تبدیل نہیں ہوتے ، ایک متحرک اور فعال PHC کی توقع کرنا مشکل ہے۔بلکہ ناممکن ہے۔ 

    صحت میں اشرافیہ پالیسی کی سطح پر بھی موجود ہے۔ ہمارے قومی اور صوبائی بجٹ دستاویزات کا جائزہ لینے میں صرف ایک سرسری ہے ، اگر کوئی ہے تو ، پی ایچ سی کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان شماریات بیورو کی طرف سے متواتر ‘نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس’ پی ایچ سی پر اخراجات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے اگر پی ایچ سیز کو مضبوط بنایا جاے تو سرمایاداروں کے پروئیوٹ ہسپتال بند ہوجاے گے ۔وہ لوگ اس لے ان اداروں کو مکمل طور تباہ کر چکے ہیں۔ 

    اگر ہم واقعی یونیورسل ہیلتھ کیئر کو آگے بڑھانے چاہتے ہیں ، صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے اور ملک میں ہمارے صحت کے اشارے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ہمیں PHC کی طرف سخت تبدیلی لانی ہوگی۔ اس کے لے ہمیں ادارں کو مضبوط کرنا ہوگا ۔میرٹ پہ لوگوں کو لانا ہوگا ۔ان تمام اداروں اکا ڈیٹ ہونا چاے ۔یہ لوگ روزانہ بنیاد پہ کام لر رہے رہے ہیں کہ بھی نہیں ۔اس کام کے عوامی شعور کا بھی ضروری ہے۔

  • گھریلو مسائل تحریر : فرح بیگم

    گھریلو مسائل تحریر : فرح بیگم

    ہر انسان کو زندگی میں پریشانیاں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے ۔ان مشکلات اور پریشانیوں سی نکلنے کے لیے کھبی کھبی حکمت عملی کرنی پڑھتی ہے تو کھبی صبر سے کام لینا پڑھتا ہے ۔ یہاں ہر شخص جنگ لڑ رہا ہوتا ہے کھبی گھریلو حالات سے، کھبی اندرون سے، کھبی بیرون سے ، کھبی اپنی سوچ سے ،کھبی معاشی حالات سے تو کھبی اپنے آپ سے ۔ زندگی جینے کے لیے مسائل کا سامنا تو کرنا پڑھتا ہے اور انکو سلجانے کے لیے کوئی نہ کوئی ترگیب تو کرنی پڑھے گی ۔ایک انسان کامیابی کا دعویٰ تب کر سکتا ہے جب وہ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کر کے اپنے لیے سکون حاصل کرے ۔ دنیا میں کچھ ہی لوگ ہوں گے انکو پریشانیوں اور مصبیتوں کا سامنا نا کرنا پڑھے ۔ کسی فرد کو مسائل توڑ دیتے یا اسکو نا امید کر دیتے ہیں۔ تو کسی کو اگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔ یا کسی کو اتنا تباہ اور برباد کر دیتے ہیں کہ انسان مرنے کی دعا کرنے لگتا ہے ۔ ہر دفع اسکا دل پریشان رہتا ہے ۔نا کام کا ہوش ہوتا ہے، نا کھانے کا ہوش ہوتا ہے ،نا لباس کا ہوش ہوتا ہے اور نا ہی رشتوں کا ہوش ہوتا ہے جس سے انسان کو خوشی ملتی ہے ۔ مسائل نے انسان کو توڑ کر رکھ دیا ہے کہ اسکے دل میں زندہ رہنے کی خوائش ہی مر جاتی ہے ۔ بہت سے لوگ ان مسائل کا سامنا نہیں کرتے اور ذہنی مریض بن جاتے ہیں ۔
    ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں یہ بڑا مشکلات سے دو چار ہے ۔ہر فرد کے گرد پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں ۔ صرف ایک فرد نہیں گھروں کے گھر مسائل میں مبتلا ہیں ۔ ہر گھر میں لڑائی جھگڑے اور رشتوں میں دوری عام بن گئی ہے ۔ برداشت کرنے کی قوت اتنی کم رہ گئی ہے کہ ایک آدمی دوسری کی بات برداشت نہیں کرتا ۔اب نا کوئی بزرگ کی نصیحت سنتا ہے نا ماں باپ کا کہنا مانتا ہے ۔ گھر میں اے روز تلخیوں نے انسان کو ذہنی ،جسمانی مفلوج کر دیا ہے ۔ انسان کو جس طرح ہوا پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ذہنی راحت بھی درکار ہوتی ہے ۔ اگر ان تنازعات کو روکا نہ جائے تو انسان سنگین قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ گھر تنازعات کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں. یہ تنازعہ میاں بیوی ، بھن بھائی ،ساس بہو ، والدین اولاد کا بھی ہو سکتا ہے۔ ہر جھگڑے کی نویت الگ ہے لیکن کام ایک ہی ہے ینی ذہنی مریض بنانا ، شدید پرشانی میں مبتلا کرنا ۔ لگاتار سوچتے رہے تو بندا پرشانی سے پاگل ہو جاتا ہے ۔مثبت سوچنے کی صلاحیت میں کمی آ جاتے ہے ۔کوئی کام کرنے کو دل نہیں کرتا انسان کا ۔ عجیب و غریب حالت ہو جاتی ہے ۔اپنی اصل حالت میں واپس آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے تو کھبی نا ممکن دیکھی دیتا ہے ۔زیادہ تر لوگوں کے مسائل اور پریشانی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ انسان کی زندگی کو سنوارنے میں ایک عورت اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اگر عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو صرف مرد نہیں بلکہ پورا گھرانہ تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند ہوگا ۔اسکے ذھن میں فتور ، فریب اور لڑائی جھگڑا کچھ نہیں ہوگا ۔اسکے بر عکس ان پڑھ عورت پورے معاشرے کو تباہ اور برباد کر دیتی ہے وہ گھر کو دوزخ بنا دیتی ہے ۔اور سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے ۔تعلیم ضروری ہے لیکن ایک عورت کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ بھی ہوا چاہیئے تا کہ کوئی مسائل نا جنم لے ۔ گھر میں جیسے ہی مسائل سر اٹھاییں تو انکا فوری طور پر حل نکالیں۔ ہر مسئلے کا حل مفاہمت نہیں کہیں بار مزمت سے بھی حل ہو سکتے ہیں ۔

    Twitter ID : @iam_farha