Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • لہجے میں سچائی کی مہک اور اصلاح تحریر: علی حمزہٰ 

    سچ کا مقصد اپنی خود نمائی، خود کو صادق اور امین ظاہر کرنے سے زیادہ کسی کی اصلاح ہے تو مناسب الفاظ نرم لب و لہجہ ہونا ضروری ہے۔ سامنے والے کو بھی آپ کی اصلاح سے تکلیف نہ ہو اور وہ سچ کا قائل بھی ہو جائے۔ اور غیر محسوس طریقے سے سامنے والا اپنی اصلاح بھی کر لے۔ "مقصد دستک دینا ہوتا ہے دروازہ توڑنا نہیں”

    سچ بولنے کی عادت بچوں کو بچپن سے ہی سکھائی جاتی ہے اور سکھائی بھی جانی چاہیے۔ بچوں کو چھوٹے ہوتے سے ہی جھوٹ بولنے پر سزا دینی چاہیے لیکن ہم لوگوں کا علمیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو بچپن سے ہی جھوٹے کسے کہانیاں سنا سنا کر انہیں جھوٹ بولنے اور سننے کی عادت ڈال رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ سچ تو یہی ہے کہ سچ نجات دیتا ہے اور جھوٹ ہلاک کر دیتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں چاہیے کہ ہم بولیں تو ہمارے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سچائی کی گواہی دے رہا ہو۔

    دنیا میں واحد ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی کی ہے جنہوں نے 63 برس عمر مبارک پائی اور زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لب مبارک سے نکلنے والا ایک ایک لفظ سچ تھا اور سچائی کی گواہی دیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ کے لہجے میں سچائی کی مہک پائی جاتی تھی۔ میں یہاں ایک واقعہ مختصر بیان کرتا چلوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آتے ہی سب سے پہلے معراج کا واقع حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے واقع سنتے ہی یہی فرمایا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے سچ فرمایا۔

    سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت پر زور ہر ایک مزہب نے دیا ہے اور اس اہمیت کو یکساں طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہے شریعت اسلامیہ میں اس کی طرف خاص توجہ دلائی گئی ہے اور اس کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ اس لیے رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی اور جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہ ماننے والوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور ایمان داری کی گواہی دی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور ایمانداری سے متاثر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور امین کے القاب سے نوازا تھا۔ آپ ﷺ کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل اور ابولہب جیسے بھی آپ ﷺ کی سچائی کو تسلیم کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ تمام انبیاء کرام علیہ السلام نے بھی ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بھی پوری انسانیت کو متعدد مرتبہ سچ بولنے کی تعلیم دی ہے:

    ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔” (التوبۃ: ۱۱۹)

    اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:

    ”آج وہ دن ہے کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔” (المائدۃ: ۱۱۹)

    چونکہ جھوٹ کے نتائج بہت مہلک اور خطرناک ہو سکتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ بولنے والوں کے لیے بہت سخت وعیدیں سنائی ہیں۔

    ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

    ”سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی یکساں طور پر سچ کہتا ہے اور سچائی کی کوشش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کی نظر میں اس کا نام سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچے رہو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ اور فجور ہے اور فجور دوزخ کی راہ بتاتا ہے، اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے اور اسی کی جستجو میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اس کا شمار جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔” (بخاری ومسلم)

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 

    ”جو تاجر سچا اور امانت دار ہو وہ قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔”

    لہذا ہمیں اپنے کاروبار میں بھی ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔ پیارے حبیب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بول کر مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

    جس طرح دنیا میں رہنے کے لئے پانی ضروری ہے اس طرح دنیاوی معاملات میں سچائی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جس طرح پانی کی بغیر زندگی ممکن نہیں اسی طرح سچ کے بغیر نظام عالم کا کاروبار بھی ممکن نہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    ہماری پولیس ! تحریر: علی مجاہد۔ 

    پاکستان میں پولیس کا ایک الگ ہی رول ہے سمجھ نہیں آتی یہ پولیس ہماری دیکھ بال کے لیے ہے یا کسی اور مقصد کے لیے دوسرے ملکوں میں آپ کسی سنسان علاقوں سے گزر رہیں ہوں گے تو اگر وہاں پولیس موجود ہو گی تو آپ بلا جھجک وہاں سے چلے جائیں گے پر ہمارے پاکستان میں پولیس کا سسٹم اتنا خراب ہے آپ اگر پاکستان میں کسی سنسان علاقے سے گزریں گے اور اگر وہاں پولیس کھڑی ہوگی تو آپ اگر زرا برابر بھی غلط نہیں ہوں گے تو پھر بھی آپ وہاں سے گزرنا پسند نہیں کریں گے، اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور آپکی آمدن اچھی نہیں تو آپکے پاس رقم ہوگی تو آپکو چوروں اور ڈکیتوں سے زیادہ پولیس سے ڈر لگے گا ایسا بلکل ہماری پولیس خراب ہے مگر ہاں اچھے بڑے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انکو ڈنڈا دینے والوں کو یعنی وزیراعظم، پولیس انسپکٹر اور دوسرے وہ لوگ جن کے انڈر ہوتی ہے پولیس انکو بھی چاھیے کہ وہ بھی ایکٹیو ہوں، قصور میں ایک پولیس کانسٹیبل نے نوجوان حافظ قرآن سمیع الرحمان کو اس بنا پر گولی مار کر قتل کر دیا کے اس نے پولیس والے کے ساتھ بدفعلی کرنے سے انکار کیا اسلامی معاشرے میں انصاف کی فراہمی یقینی بنانا حکومت وقت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کچھ دنوں پہلے میں اور میرے دو دوست رات 9 بجے باہر ہوٹل پر چائے پینے جا رہے تھے تو ہم نے (ایم اے جناح روڈ کراچی) پر موٹر سائیکل روکی پیٹرول چیک کرنے کےلئے اتنے میں پولیس آتی ہے ہم سے پوچھا کیا کر رہے ہو بتایا تو ہماری تلاشی لی گئی بائک کے پیپر چیک کیے اسکے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ ہمیں چھوڑ دیں پر انہوں نے بولا ہمیں رپورٹ ہے تین لوگ یہاں ڈکیتی کرتے ہیں اور اولیاء آپ لوگوں جیسا بتایا گیا ہے پھر بہت بدتمیزی کرنے کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے بعد بولا 500 روپے دو تو میں آپ کو چھوڑ دوں گا اور یہ کیس کسی اور پر ڈال دوں گا کیا ہماری پولیس کا اب صرف یہ کام رہے گیا ہے اور ساتھ ساتھ جو دوسرے پولیس والے تھے موبائل میں ان میں سے ایک بار بار ہمارے پاس آرہا تھا اور یہ کنفرم کر رہا تھا کہ تمھارا کوئی جانے والا تو نہیں پولیس میں اگر ہے تو انکو فون کرلو ہم نے 1 سے 2 بار منا کیا پھر آیا تو میں موبائل انسپکٹر جو تھا اس کے پاس گیا اور بولا سر میرا ایک جاننے والا رینجرز میں ہے اس سے بات کرواؤں تو پہلے تو چلایا پھر بولا کرواؤ تو جب میں کسی کو فون لگانے لگا تو بولا چھوڑو اور یہاں سے چلے جاؤ اور ساتھ میں یہ بھی کہنے لگا کہ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا، انکا برتاؤ دیکھ کر ایسا لگا جیسے ہم کوئی کریمنل ہیں یا چلتے پھرتے کسی کا بھی قتل کرتے ہوں اور جو لوگ کریمنل ہیں کرپٹ ہیں ان کو خلاف پولیس کی کوئی کارکردگی نہیں یا تو یہ انکے ساتھ ملے ہوئے ہیں یا انکو اس بات پر فورس کیا جاتا ہے کہ عام لوگوں کو تنگ کرنا ہے۔

    تو کیا یہ ہماری پولیس ہے؟

    کیا یہ ادارہ اس لیے بنایا ہے؟

    آخر کب تک ہم اس طرح اپنے ہی ملک میں ڈر ڈر کر جئیں گے؟

     آپ نے سنا ہوگا بہت سے ایماندار پولیس والوں کی کہانیاں وہ بھی اسی پولیس میں ہوتے ہیں پر فرق صرف اتنا ہے انکو معلوم ہوتا ہے کہ انکا کام کیا ہے وہ وردی کا ناجائز استعمال نہیں کرتے اور وہ لوگوں کہ دلوں میں بھس جاتے ہیں۔ 

    "محسوس یہ ہوتا ہے یہ دور تباہی ہے

    شیشے کی عدالت ہے پتھر کی گواہی ہے”

  • بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    بنیادی صحت کے اداروں کی اہمیت اور معاشرے پہ اثرات۔ تحریر:روشن دین

    @Rohshan_Din

    صحت انسان کی بیسک نیڈ ہے جو ہر ریاست کو اپنے ہر شہری کے لے فری فیسر کرنا چاے۔ اور صحت کے شعبے میں بیسک ہیلتھ کیئر کے ادارے کا مضبوط ہونا سب سے ضروری ہے۔ 

    ۔ کوئی بھی ملک اپنے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط کیے بغیر اپنے صحت کے شعوبے کو بہتر نہیں بنا سکا ہے۔ ۔ پاکستان میں صحت کے اشارے پریشان کن ہیں۔ پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان بلوچستان اندرون سندھ جنوبی پنجاب اور کے پی کے کے علاقوں میں صحت کا نظام تباہ حال ہے

    پی ایچ سی کمیونٹی ہیلتھ سروسز کا ایک مجموعہ ہے ، یعنی لیڈی ہیلتھ ورکرز ، دائیوں ، ویکسینیٹرز وغیرہ کے ذریعے فراہم کردہ گھریلو سطح پر ، اور پی ایچ سی کی سہولیات کی سطح پر ایمبولریٹری مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات۔ فی الحال پاکستان میں ، کمیونٹی ہیلتھ سروسز تقریبا entirely مکمل طور پر پبلک سیکٹر کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں جبکہ سہولت کی سطح کی سروسز پبلک اور پرائیویٹ دونوں شعبے فراہم کرتے ہیں۔ پی ایچ سی کی خدمات فراہم کرنے والے سرکاری شعبے کی سہولیات میں بنیادی ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) ، ڈسپنسری ، ماں اور بچے کے مراکز ، دیہی صحت کے مراکز (آر ایچ سی) اور شہروں کے ہسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ محکمے شامل ہیں۔ نجی شعبے میں ، پی ایچ سی عام معالجین اور شہروں کے نجی اسپتالوں کی او پی ڈی فراہم کرتے ہیں۔ لوگ کمزور کنٹرول والے نجی شعبے میں ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز ، حکیموں اور علاج معالجے کے دیگر طریقوں سے بھی بنیادی دیکھ بھال چاہتے ہیں۔

    1980 اور 1990 کی دہائی میں ، پاکستان نے بی ایچ یو اور آر ایچ سی کا ایک قومی نیٹ ورک بنایا اس خیال کے ساتھ کہ ہر یونین کونسل میں 5 سے 25 ہزار کی آبادی کے ساتھ ایک بی ایچ یو ہونا ضروری ہے۔ اس سارے کام میں ایک مسلہ ہمیشہ درپیش ایا وہ یہ کہ کوئی بھی ڈاکٹر بیک ورڈ ایرز دیھاتوں میں ڈیوٹی کرنا پسند نہی کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر دہاتوں میں ڈسپنسر کام کرتے ہیں یا وہ اکثر وہ بھی موجود نہی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی سطح پہ بیمارویوں کا اعلاج ناممکن ہوا ہے۔ 

    کمیونٹی ہیلتھ سروسز فراہم کرنے کے لیے ، ایک قومی LHW پروگرام قائم کیا گیا۔ فی الحال ، کچھ 90،000 LHWs تقریبا 115 ملین لوگوں کو پورا کرتے ہیں۔ 

    پی ایچ سی صرف مریضوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ہر عمر کے صحت مند افراد کے لیے اتنا ہی ہے جتنا انہیں بیماری اور چوٹ اور ان کی صحت کے خطرات سے بچانے کے لحاظ سے۔ خطرات بنیادی طور پر ماحولیاتی ہیں – ہوا کا معیار ، پانی جو ہم استعمال کرتے ہیں ، وغیرہ – اور رویے – تمباکو نوشی ، بیٹھے ہوئے طرز زندگی وغیرہ۔ اسی طرح ، معذور افراد اور صحت یاب افراد کے لیے بحالی کی خدمات پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ عارضی طور پر بیمار افراد کی گھر پر دیکھ بھال یعنی علاج کی خدمات بھی پی ایچ سی کا حصہ ہیں۔ صحت کی خدمات پر تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ تقریبا 70 70 فیصد ضروری صحت کی خدمات پی ایچ سی کی سطح پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔اگر اس فارمولے پہ مکل کنڑول کے چلایا جاے تو۔ ۔

    انفرادی خدمات کے علاوہ ، صحت عامہ کے کچھ ضروری کام ہیں جن میں بیماریوں کی نگرانی ، صحت سے متعلق معلومات جمع کرنا ، ہنگامی تیاری ، صحت کے مواصلات اور تحقیق شامل ہیں۔ یہ افعال پی ایچ سی کی سطح پر بھی انجام دیے جاتے ہیں۔ آخر میں ، چونکہ صحت بھی ان عوامل سے متاثر ہوتی ہے جو کہ براہ راست وزارت صحت کے کنٹرول میں نہیں ہیں مثلا nutrition غذائیت ، پینے کا صاف پانی ، سیوریج کا نظام ، تعلیم وغیرہ ، مقامی سطح پر دیگر شعبوں کے ساتھ تعاون بھی PHC کا حصہ ہے۔ چھوٹی بیماریوں اور زخموں کا بروقت علاج ، نوجوان خواتین کو تولیدی صحت سے متعلق رہنمائی ، قبل از پیدائش کی دیکھ بھال ، خاندانی منصوبہ بندی ، ضروری ویکسینیشن ، بچوں کی نشوونما کی نگرانی ، بیماریوں کی اسکریننگ ، غذائیت سے متعلق رہنمائی ، بستر پر بزرگوں کی گھر کی دیکھ بھال وغیرہ سب پی ایچ سی کی سطح پر ہوتے ہیں۔

    پی ایچ سی صرف صحت کی دیکھ بھال کی سطح نہیں ہے۔ یہ دیکھ بھال اور سماجی بہبود کا فلسفہ بھی ہے۔ یہ گھریلو اور کمیونٹی کی سطح پر دیگر محکموں کے تعاون سے اور لوگوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی سہولیات کی فراہمی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں لوگوں کی فعال شمولیت کو یقینی بنانا ، اس کے وسیع معنوں میں ، اہم ہے۔ لوگوں کو مطلع کیا جانا چاہیے ، ان سے مشورہ کیا جانا چاہیے اور ان پر نظر رکھنی چاہیے۔ مقامی حکومتوں کے تناظر میں صحت کمیٹیوں کے ذریعے ادارہ جاتی کمیونٹی کی شمولیت بہترین اور پائیدار طریقہ ہے۔

    اس کی اہم اہمیت کے باوجود ، کسی نہ کسی طرح پاکستان میں پی ایچ سی کو غریبوں کے لیے دوسرے درجے کی صحت کی سہولیات سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں معیاری پی ایچ سی نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ اشرافیہ ذہنیت ہے۔ امیر اور طاقتور بڑے شہروں میں بڑے ، مہنگے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور بی ایچ یو اور ایل ایچ ڈبلیو دیہی پیری شہری غریبوں کے لیے ہیں۔ کمزور پی ایچ سی سسٹم کی وجہ سے ، زیادہ تر مریض معمولی بیماریوں کے لیے بھی براہ راست تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور اسی وجہ سے بڑے اسپتالوں کی بھیڑ اور گھٹن کا شکار او پی ڈی۔بڑھ جاتے ہے ۔اس کے مثال اپکو ایبٹ اباد میڈیکل کمپکس ۔پیمز اسلام اباد اور پشاور میں ایل ار ایچ لاہور لاہور میں میو ہسپتال وغیرہ وغیرہ۔ ایوب میڈیکل کمپکس میں گلگت بلتستان ے لیکر ہزارہ تک تمام لوڈ اجاتا جس کی وجہ سے وہاں ہمیشہ مسائل ہوتے۔ 

    ایک اچھی طرح سے کام کرنے والے صحت کے نظام میں ، ایمرجنسی مریضوں کے علاوہ دیگر تمام مریضوں کو ڈیجیٹل طور پر صحت کی اعلی سطح کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ پی ایچ سی اس لحاظ سے ثانوی اور تیسری سطح کی دیکھ بھال کے لیے ایک دربان سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا میڈیکل ایجوکیشن سسٹم ، پبلک اور پرائیویٹ دونوں ، میڈیکل کے طلباء کو پی ایچ سی کی سیٹنگز کے سامنے نہیں لاتا۔ جب تک یہ تصورات اور طریقہ کار تبدیل نہیں ہوتے ، ایک متحرک اور فعال PHC کی توقع کرنا مشکل ہے۔بلکہ ناممکن ہے۔ 

    صحت میں اشرافیہ پالیسی کی سطح پر بھی موجود ہے۔ ہمارے قومی اور صوبائی بجٹ دستاویزات کا جائزہ لینے میں صرف ایک سرسری ہے ، اگر کوئی ہے تو ، پی ایچ سی کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان شماریات بیورو کی طرف سے متواتر ‘نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس’ پی ایچ سی پر اخراجات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے اگر پی ایچ سیز کو مضبوط بنایا جاے تو سرمایاداروں کے پروئیوٹ ہسپتال بند ہوجاے گے ۔وہ لوگ اس لے ان اداروں کو مکمل طور تباہ کر چکے ہیں۔ 

    اگر ہم واقعی یونیورسل ہیلتھ کیئر کو آگے بڑھانے چاہتے ہیں ، صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے اور ملک میں ہمارے صحت کے اشارے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ہمیں PHC کی طرف سخت تبدیلی لانی ہوگی۔ اس کے لے ہمیں ادارں کو مضبوط کرنا ہوگا ۔میرٹ پہ لوگوں کو لانا ہوگا ۔ان تمام اداروں اکا ڈیٹ ہونا چاے ۔یہ لوگ روزانہ بنیاد پہ کام لر رہے رہے ہیں کہ بھی نہیں ۔اس کام کے عوامی شعور کا بھی ضروری ہے۔

  • گھریلو مسائل تحریر : فرح بیگم

    گھریلو مسائل تحریر : فرح بیگم

    ہر انسان کو زندگی میں پریشانیاں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے ۔ان مشکلات اور پریشانیوں سی نکلنے کے لیے کھبی کھبی حکمت عملی کرنی پڑھتی ہے تو کھبی صبر سے کام لینا پڑھتا ہے ۔ یہاں ہر شخص جنگ لڑ رہا ہوتا ہے کھبی گھریلو حالات سے، کھبی اندرون سے، کھبی بیرون سے ، کھبی اپنی سوچ سے ،کھبی معاشی حالات سے تو کھبی اپنے آپ سے ۔ زندگی جینے کے لیے مسائل کا سامنا تو کرنا پڑھتا ہے اور انکو سلجانے کے لیے کوئی نہ کوئی ترگیب تو کرنی پڑھے گی ۔ایک انسان کامیابی کا دعویٰ تب کر سکتا ہے جب وہ راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کر کے اپنے لیے سکون حاصل کرے ۔ دنیا میں کچھ ہی لوگ ہوں گے انکو پریشانیوں اور مصبیتوں کا سامنا نا کرنا پڑھے ۔ کسی فرد کو مسائل توڑ دیتے یا اسکو نا امید کر دیتے ہیں۔ تو کسی کو اگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔ یا کسی کو اتنا تباہ اور برباد کر دیتے ہیں کہ انسان مرنے کی دعا کرنے لگتا ہے ۔ ہر دفع اسکا دل پریشان رہتا ہے ۔نا کام کا ہوش ہوتا ہے، نا کھانے کا ہوش ہوتا ہے ،نا لباس کا ہوش ہوتا ہے اور نا ہی رشتوں کا ہوش ہوتا ہے جس سے انسان کو خوشی ملتی ہے ۔ مسائل نے انسان کو توڑ کر رکھ دیا ہے کہ اسکے دل میں زندہ رہنے کی خوائش ہی مر جاتی ہے ۔ بہت سے لوگ ان مسائل کا سامنا نہیں کرتے اور ذہنی مریض بن جاتے ہیں ۔
    ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں یہ بڑا مشکلات سے دو چار ہے ۔ہر فرد کے گرد پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں ۔ صرف ایک فرد نہیں گھروں کے گھر مسائل میں مبتلا ہیں ۔ ہر گھر میں لڑائی جھگڑے اور رشتوں میں دوری عام بن گئی ہے ۔ برداشت کرنے کی قوت اتنی کم رہ گئی ہے کہ ایک آدمی دوسری کی بات برداشت نہیں کرتا ۔اب نا کوئی بزرگ کی نصیحت سنتا ہے نا ماں باپ کا کہنا مانتا ہے ۔ گھر میں اے روز تلخیوں نے انسان کو ذہنی ،جسمانی مفلوج کر دیا ہے ۔ انسان کو جس طرح ہوا پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ذہنی راحت بھی درکار ہوتی ہے ۔ اگر ان تنازعات کو روکا نہ جائے تو انسان سنگین قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ گھر تنازعات کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں. یہ تنازعہ میاں بیوی ، بھن بھائی ،ساس بہو ، والدین اولاد کا بھی ہو سکتا ہے۔ ہر جھگڑے کی نویت الگ ہے لیکن کام ایک ہی ہے ینی ذہنی مریض بنانا ، شدید پرشانی میں مبتلا کرنا ۔ لگاتار سوچتے رہے تو بندا پرشانی سے پاگل ہو جاتا ہے ۔مثبت سوچنے کی صلاحیت میں کمی آ جاتے ہے ۔کوئی کام کرنے کو دل نہیں کرتا انسان کا ۔ عجیب و غریب حالت ہو جاتی ہے ۔اپنی اصل حالت میں واپس آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے تو کھبی نا ممکن دیکھی دیتا ہے ۔زیادہ تر لوگوں کے مسائل اور پریشانی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ انسان کی زندگی کو سنوارنے میں ایک عورت اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اگر عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو صرف مرد نہیں بلکہ پورا گھرانہ تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند ہوگا ۔اسکے ذھن میں فتور ، فریب اور لڑائی جھگڑا کچھ نہیں ہوگا ۔اسکے بر عکس ان پڑھ عورت پورے معاشرے کو تباہ اور برباد کر دیتی ہے وہ گھر کو دوزخ بنا دیتی ہے ۔اور سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے ۔تعلیم ضروری ہے لیکن ایک عورت کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ بھی ہوا چاہیئے تا کہ کوئی مسائل نا جنم لے ۔ گھر میں جیسے ہی مسائل سر اٹھاییں تو انکا فوری طور پر حل نکالیں۔ ہر مسئلے کا حل مفاہمت نہیں کہیں بار مزمت سے بھی حل ہو سکتے ہیں ۔

    Twitter ID : @iam_farha

  • نفسیاتی الجھنیں اور ہمارا معاشرہ تحریر : وسیم سید 

    نفسیاتی الجھنیں اور ہمارا معاشرہ تحریر : وسیم سید 

    twitter / @S_paswal 

     

    ‏جب سے زندگی وجود میں آئی تب سے ہی جسمانی بیماریاں بھی زندگی کا حصہ ہیں ۔ جیسے کوئی گاڑی یا کوئی بھی مشین ہو ۔ تو اس میں بھی کوئی نہ کوئی خرابی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔اسی طرح انسان بھی کبھی جسمانی کبھی روحانی اور کبھی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔ مگر افسوس کا مقام ہے ہم جسمانی بیماریوں کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں مگر نفسیاتی الجھنوں کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 

    ‏نفسیاتی الجھنوں پہ اکثر لکھاری قلم آزمائی کرتے رہتے ہیں مگر میرے نزدیک اس پہ جتنا بھی لکھا جائے کم ہے ۔ نفسیاتی بیماریاں ایسی بیماریاں ہیں جن کے بارے میں معاشرے میں ابھی اتنی آگاہی ہی نہیں ۔ اس لئے خود مریض کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس نفسیاتی مرض کا شکار ہے ۔ اپنے اردگر نظر دوڑانے سے آپکو معلوم ہوگا کہ بہت سے لوگ ان نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں ۔ اور اس مرض کے زیر اثر وہ لوگ ایڑیا رگڑ رگڑ کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔

    ‏نفسیاتی الجھنوں نے پورے معاشرے کو ایسے ہی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جیسے کرونا وائرس جیسے مہلک وبا نے پورے معاشرے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ۔ نفسیاتی بیماری کا مطلب پرگز یہ نہیں کہ آپ پاگل ہیں ۔ جسمانی بیماریوں کی طرح نفسیاتی بیماری بھی ایک مرض ہے ۔ جیسے ہم اپنی جسمانی بیماری کیلئے ڈاکٹر کے پاس جا کر مکمل علاج کر واتے ہیں ۔ ویسے ہی نفسیاتی الجھنوں کا بھی علاج ممکن ہے ۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس پہ بات کرنا بھی ایسا ہے جیسے کوئی اچھوت بیماری جو نام لینے سے بھی نقصان پہنچائے گی ۔ 

    ‏نفسیاتی مسائل میں ایک مرض شیزو فرینیا ہے ۔ یہ ایک خطرناک ذہنی مسئلہ ہے ۔ جس میں مریض کو لگتا ہے کہ ہر بات کے دو مطلب ہیں اور وہ مریض ہمیشہ بات کے منفی پہلو پہ نظر رکھتا ہے ۔ اور اسے لگتا ہے کہ ہر بات میں طنز چھپا ہے ۔ اس مرض نے بہت سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس مرض کی زد میں آنے والوں میں ہر طبقے اور ہر شعبہ زندگی کے لوگ شامل ہیں ۔ جنہیں ہر وقت یہ خوف ہوتا ہے کہ ان کا مالی نقصان ہوجائے گا اور یا پھر اس کے ادرگرد کے لوگ اسے مارنا چاہتے ہیں اور اسکے خلاف سازشوں میں شریک ہیں ۔

    ‏ایک ذہنی بیماری اور بھی ہے جسے نفسیات کی زبان میں ”بائی پولر” کہا جاتا ہے عام بان میں اسے خود پرستی بھی کہا جا سکتا ہے ۔اس کی زد میں آنے والے شخص کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ وہ مافوق الفطرت قوتوں کا مالک ہے اس جیسا اور کوئی نہیں، وہی خود پرستی ۔ چنانچہ وہ مختلف دعوے کرتا نظر آتا ہے۔ ذہنی امراض کے ایک اسپتال میں ایک مریض نے دوسرے مریضوں کو اونچی  بلند مخاطب کر کے کہا ”آپ سب کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مجھے اوتار بنا کر آپ کی طرف بھیجا گیا ہے” اس پر بائی پولر کا دوسرا مریض اپنی جگہ سے اٹھا اور اتنی ہی بلند آواز میں کہا ”لوگو، اس کی باتوں میں نہ آنا، یہ جھوٹا ہے کیونکہ میں نے اسے اوتار بنا کر نہیں بھیجا”۔ یہ محض لطیفہ نہیں ہے اگر آپ کسی بھی منٹل ہاسپٹل کا ایک چکر لگائیں گے تو آپکو معلوم ہوگا کہ یہ تو حقیقت پہ مبنی بات ہے ۔ 

    ‏یہ بیماری فقط آپ ذہنی امراض کے ہسپتال میں نہیں دیکھیں گے بلکہ ایسے مریض آپکو جگہ جگہ نظر آئیں گے جو خود پرستی کے مرض میں مبتلا ہیں ۔ جیسے کوئی شاعر اسے ایسا لگتا ہے جیسے اس جیسا کوئی اور شاعر تو دنیا میں موجود ہی نہیں ۔ کوئی منصف ہے تو وہ یہ سوچے بیٹھا ہوتا ہے کہ اس جیسا تو کوئی اور لکھ ہی نہیں سکتا ۔ یہی حال ہمارے سیاست دانوں کا ہے انہیں لگتا ہے ان جیسا صادق اور امین کوئی نہیں اور دوسروں پہ کیچڑ اچھانے میں وہ کوئی کمی نہیں چھوڑتے ۔ 

    ‏نفسیاتی اور  ذہنی بیماریاں ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ ان بیماریوں میں صرف شیزو فرینیا یا بائی پولر ہی شامل نہیں بلکہ اس کی بیسیوں اقسام ہیں جن میں سے کچھ تو موروثی  ہیں یعنی والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہیں ۔ اور کچھ حالات کے تحت جنم لیتی ہیں۔ انسان کی عمر کا خطرناک دور اس کی زندگی کے ابتدائی دن ہوتے ہیں، ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کی شخصیت سات سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے اور کچھ تحقیق کے مطابق انسان کی شخصیت دو سال میں مکمل ہو جاتی ہے ۔ اور اس پر مثبت یا منفی اثرات کے متعدد محرکات ہیں جن میں گھریلو ماحول، والدین کا برتاو ، دوست اور معاشرے کا مجموعی ماحول شامل ہیں۔ 

    ‏جیسے باقی جسمانی صحت کے مسائل اہم ہیں ویسے ہی ذہنی مسائل بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ اب ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے وہاں یہ مسائل وبا کی طرح پھیل چکے ۔ ہر دوسرا شخص ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہے ۔ حتی کہ چھوٹے چھوٹے بچے شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر اپنی جان کی بازی ہارتے نظر آتے ہیں ۔ ضرورت امر کی ہے کہ اس پہ خاص توجہ دی جائے ۔ بچوں اور بچیوں کیلئے کونسلنگ کی کلاسسز کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے ۔ 

    ‏کسی عام فرد کے ذہنی بیماری کا شکار ہونے اور کسی ریاست کے اس کی زد میں آنے کے اثرات بہت مختلف ہیں۔ کاش ہم لوگ اپنے بچوں، بچیوں کے طرز عمل پر ان کے بچپن ہی سے نظر رکھیں اور اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں ان کی کونسلنگ کا اہتمام بھی کریں اور اپنی آنے والی نسل کو ڈپریشن اور ذہنی دباؤ سے نکال کر ایک خوبصورت زندگی کی طرف لائیں جس میں لاپرواہ ہنسی کا راج ہو اور ہماری نسل تتلیوں کے سنگ اپنے رنگوں کو نکھارے 

  • سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    پاکستان میں ہر تیسرا شخص سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔ ساتھ ہی ہمارے ملک میں کچھ ایسے بھی ہیں۔ جن کے پاس تین وقت کا کھانا کھانے کی اسطاعت نہیں ہوتی۔ لیکن وہ سگریٹ ضرور پیتے ہیں۔ ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 90 لاکھ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے پاکستان میں سستے سگریٹس کی دستیابی۔

    ۔ مثال میں آپکو دے دیتا ہوں پاکستان میں 20 سگریٹ کے پیکٹ کی اوسط قیمت 38 روپے ہے یعنی تقریباً دو روپے کا ایک سگریٹ۔ اندازہ لگائیں کہ روٹی 10 روپے کی ہے۔ یعنی پاکستان میں روٹی سگریٹ سے پانچ گنا زیادہ مہنگی ہے۔ اگر ملٹی نیشنل برانڈز کی مہنگی سگریٹس کی بات کی جائے تو وہ بھی ایک سگریٹ دس روپے میں مل جاتا ہے یعنی مہنگا ترین سگریٹ بھی روٹی کی قیمت میں مل جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں چھ سے پندرہ سال کی عمر کے بارہ سو بچے روزانہ تمباکو نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔ پھر نوجوان میں خاص طور پر یونیورسٹی کے طلباء میں یہ لت بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ان میں تمباکو نوشی کی شرح 15 فیصد ہے۔ زیادہ تر مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ پھر ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے
    19 فیصد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ ۔ فی الحال تمباکو نوشی سے صحت کے نظام پر اضافی بوجھ پڑنے کے علاوہ نوجوانی کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔

    ۔ پھر برطانیہ کی آکسفورڈ اکانومی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 78 ارب سے زائد سگریٹ کی اسٹکس اسموک کی جاتی ہیں۔ جن میں 33 ارب سگریٹ اسٹیکس غیر قانونی ہیں۔ ان غیر قانونی سگریٹ اسٹیکس میں سے ساڑھے 8 ارب اسٹکس اسمگل کی جاتی ہیں جبکہ تقریباً 33 ارب اسٹکس ملک میں غیر قانونی طور پر تیار ہوتی ہیں۔۔ پھر صحت کے حوالے سے دیکھیں تو اتنا تمباکو نوشی سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہوتا جتنے اخراجات ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔PAKISTAN INSTITUTE OF DEVELOPMENT ECONOMICSکی اسٹڈی کے مطابق تمباکو نوشی سے متعلقہ تمام بیماریوں اور 2019 میں ہونے والی اموات کی وجہ سے ہونے والے کل3.85بلین ڈالرز کے اخراجات ہوئے ۔ جو کہ پاکستان کے GDP کا 6.1 فیصد ہے۔
    جبکہ تمباکو نوشی کی کل ٹیکس collection120بلین روپے تھی جو کہ تمباکو نوشی سے ہونے والے خرچے کا تقریباً 20فیصد بنتا ہے ۔ پھر اس وقت پاکستان میں کینسر ، دل ، شوگر ، بلڈ پریشر اور سانس کی بیماریوں کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے ۔ جو کہ تقریباً 71فیصد بنتی ہے ۔ صرف ان بیماریوں کے علاج پر پاکستان 2.74بلین ڈالرز خرچ کرتا ہے ۔

    ۔ میں آپکو خطے کے ممالک اور مختلف اشیاء کے ساتھ comparisonکرکے بتاتا ہوں تاکہ آپکو بات سمجھ میں آجائے ۔۔ اس وقت پاکستان میں گولڈ فلیک نامی سگریٹ سستا ہے اور تقریباً 50
    سینٹ میں پیکٹ دستیاب ہے جبکہ یہی سگریٹ بھارت میں چار ڈالر، بحرین میں 4.16 اور متحدہ عرب امارات میں 4.36 ڈالر میں دستیاب ہے۔ اب مہنگے سگریٹ کی قیمت دیکھیے۔ گولڈ لیف سگریٹ کا پیکٹ پاکستان میں 1.13 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1.90،بھارت میں 2.48، سعودی عرب میں 3.47 اور سری لنکا میں 6.71 ڈالر میں دستیاب ہے۔ یعنی پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا میں یہ سگریٹ تقریباً پانچ ڈالر زیادہ مہنگا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں 2019 سے 2021 تک گوشت 32 فیصد، چکن 168 فیصد، انڈے 83 فیصد، دودھ 51 فیصد تک مہنگے ہوئے لیکن اسی عرصہ میں سگریٹ ایک فیصد بھی مہنگے نہیں ہوئے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ تمباکو کی صنعت بہت ٹیکس دیتی ہے ۔ صرف سکے کا ایک رخ ہے ۔ ۔ پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح کا پانچ گنا سختی سے تجویز کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں میں 60 فی صد افراد سگریٹ نوشی سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں تاہم ان میں سے محض30 فیصد ہی کو ترک تمباکو نوشی کے مراحل میں ضروری سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں صرف 23 ممالک میں تمباکونوشی چھوڑنے کے خواہش مندوں کا ان کی حکومتیں ساتھ دیتی ہیں۔

    ۔ اب عالمی ادارہ صحت کی طرف سے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہاگیا ہے کہ وہ ٹوبیکو فری ماحول قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے لئے لوگوں کو شعور فراہم کریں، سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مندوں کا ساتھ دیں ، انھیں ایسے ہتھیار فراہم کریں کہ وہ اسے بہ آسانی ترک کرسکیں۔۔ دنیا بھر میں چھ لاکھ افراد ایسے بھی ہیں جو سگریٹ کے دھوئیں سے بیمار ہوتے ہیں حالانکہ وہ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ ان کے قریب کوئی دوسرا فرد سگریٹ پیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق ہلاک ہونے والے 70لاکھ افراد تمباکو نوش ہوتے ہیں جبکہ دس لاکھ بیس ہزار افراد بلواسطہ طور پر تمباکونوشی سے متاثر ہوکر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً سات ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔ ویسے سگریٹ چھوڑنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے۔ دراصل ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ہم فیصلہ کر لیں تو ترک سگریٹ نوشی مشکل نہیں ہے۔ زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں جو سگریٹ نہیں پیتے۔۔ جب سگریٹ کی طلب ہو تو خود سے عہد کریں میں قوت ارادی کا مضبوط ہوں ،میرا فیصلہ ہے میں سگریٹ نہیں پیوں گا ۔ اس کے ساتھ خود ترغیبی کے ذریعے خود کو ہی سگریٹ کے خلاف لیکچر دیں۔ ۔ مراقبہ ، یوگا اور پابندی سے ورزش کرنے سے سگریٹ نوشی سے نجات مل جاتی ہے کیونکہ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے ۔ لیکن سب سے اہم آپ کی قوت ارادی ہی ہے ۔

    ۔ ایک تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق سے تمباکو نوشی کے عادی افراد کیلئے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ چاہے آپ اسے چھوڑنے کی کوشش نہ بھی کر رہے ہو۔ جو افراد آغاز پر سگریٹ نوشی سے گریز کرنے کی کوشش شروع کرتے ہیں ان کی کامیابی کا کافی زیادہ امکان ہوتا ہے۔ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے۔ ۔ یاد رکھیں آپ کے پھیپھڑوں میں ایسی ’حیران کن‘ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے نقصان کی مرمت کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو سگریٹ نوشی کو ترک کرنا پڑے گا۔ اگر معاشرے کے سنجیدہ اور باشعور طبقہ نے اس طرف توجہ نہ کی تو شاید کوئی گھر اس تباہی سے نہ بچ سکے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ ڈاکٹرز ، پروفیسرز، ٹیچرز ، علماء سب کے سب عوامی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کریں۔ تعلیمی اداروں میں مباحثے اور سیمینار منعقد کروائے جائیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی سگریٹ اور دیگر منشیات کے تباہ کن اثرات سے عوام کو آگاہ کرے۔۔ ایسے نعرے اور سلوگن عام کئے جائیں کہ سگریٹ جلتا ہے تو کینسر پلتا ہے۔ نشہ کے عادی افراد سے نفرت کی بجائے ہمدردی کی جائے اور ان کا علاج کرکے انھیں زندگی کی طرف واپس لوٹایا جائے۔ ہمارا دین بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی ، اس نے ساری انسانیت کو بچالیا۔

  • خواجہ سرا اور ہمارا معاشرہ تحریر:وسیم اکرم

    خواجہ سرا اور ہمارا معاشرہ تحریر:وسیم اکرم

    ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کو صرف ناچ گانے کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن اس کے برعکس پاکستانی قانون میں متجنس افراد ایکٹ 2018 کی شمولیت کوئی چھوٹی کامیابی نہیں۔ یہ قانون جنوبی ایشیاء میں متجنس افراد کیلئے اٹھائے جانے والے ترقی پسند ترین قانون میں سے ایک ہے کیوں کہ یہ قانون جنسی شناخت کی بنیاد اور  تمہاری منشاء کے مطابق شناخت کو قبول کرنے اور اس سے متعلق اظہار کی آزادی دیتا ہے۔۔۔

    یہ قانون بلاشبہ خواجہ سرا اکٹوسٹوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکیلوں، مذہبی رہنماؤں اور پارلیمنٹ کے اراکین کی محنتوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے متجنس افراد کی عزت اور وقار کیلئے اکٹھے ہوکر جدوجہد کی اور متجنس افراد کی اس حیثیت کو بحال کرنے کی کوشش کی جو ان سے اس ظالم معاشرے نے چھین لی تھی۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب پوری مسلم دنیا میں متجنس افراد بھی عام شہریوں کی طرح معاشرے کا ایک اہم حصہ تھے انہیں جنوبی ایشیاء میں خواجہ سراء اور ہیجڑا جبکہ ملائشیا اور انڈونیشیا میں "مت نئیا” کہا جاتا تھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خواجہ سرا روایتی ثقافتی تقریبات میں اہم کردار تھے۔ شادی اور جنم دن کی تقریبات سے لے کر صوفی اور ہندو مذہب کی رسومات تک نہ صرف خواجہ سراؤں کو قبول کیا جاتا تھا بلکہ یہ اپنے معاشرے کا ایک حصہ تھے اور انہیں نہ تو چھپایا جاتا تھا اور نہ ہی آبادی سے دور کیا جاتا تھا۔ لیکن انیسویں صدی نے اس سامراج کو ختم کرنے کی کوشش کی اور خواجہ سراؤں کو قابل احترام معاشرے سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔۔۔

    پہلے کبھی جنس کی بنیاد پر اس قسم کی تقسیم کو قانونی حیثیت نہیں دی گئی تھی لیکن اب اس دنیا میں جنوبی ایشیاء کے خواجہ سرا ایک واضح خطرہ قرار دیئے گئے۔ ہندوستانی تاریخ اور معاشرے میں ان کے مقام اور احترام کو کافی نقصان پہنچایا گیا اور سامراج کی نظر میں ان کا رہن سہن فحش بنا دیا گیا جہاں تک کہ خواجہ سرا شادی بیاہ کی تقریبات میں جنوبی ایشیاء کا سفر طے کرتے تھے اس کو بھی ان کے خلاف جرم بنا دیا گیا۔ 1871 کے قانون کرائم ایکٹ کے دوسرے حصے کے مطابق جنسی اعتبار سے مختلف گروہ یونک قرار دیئے گئے۔ اس قانون کے مطابق خواجہ سرا پیدائشی طور پر ہی مجرم ہوتے ہیں اس لیئے ان کی عوامی مقامات پر جانے کی بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ سامراج سمجھتا تھا کہ ان کے یہ قانون صدیوں سے قائم ثقافت اور خواجہ سراؤں کی حیثیت کو ختم کر دیں گے لیکن ابھی تک پاکستان میں جنسی طور پر متنوم معاشرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سامراج کا یہ منصوبہ ناکام رہا اور اب پوری دنیا میں متجنس افراد سامراج کے ہاتھوں ختم ہونے والا مقام واپس حاصل کر رہے ہیں جس میں سب سے بنیادی چیز برابر شہری کا حق ہے۔۔۔

    ترکی میں اب متجنس افراد الیکشن میں بھی حصہ لے رہے ہیں اور ان کی اس آئینی آزادی کو اعلی عدالتوں نے بھی برقرار رکھا ہے۔ انڈونیشیا میں ایک متجنس عورت نے ایک سیٹ بھی جیتی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران میں جنسی سرجری پر خصوصی رعایت دی گئی ہے جب کہ پاکستانی قانون بغیر کسی جسمانی یا ذہنی معائنے کے آپ کی مرضی کی شناخت قبول کرتا ہے لیکن ابھی مزید بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے ابھی بہت سے مسائل باقی ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔۔۔

    2018 کا متجنس افراد ایکٹ اور 2021 میں بنائے گئے اس کے رولز تفصیل سے تمام شعبوں میں متجنس افراد کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے کی ضمانت دیتے ہیں جیسا کہ تعلیم، صحت، جائیداد اور روزگار کی فراہمی وغیرہ۔ بدقسمتی سے اس طرح کے امتیازی سلوک روکنے کیلئے یہ ایکٹ مناسب طریقہ کار واضح نہیں کرتا اور دوسرا مسئلہ یہ کہ تعلیم اور صحت صوبائی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے اس لیئے اس ایکٹ پر عمل کیلئے صوبائی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں کوئی واضح امتیاز مخالف قانون موجود نہیں جس کے تحت لوگ سول یا فوج داری مقدمات کر سکیں۔ اسی وجہ سے متجنس کمیونٹی میں بہت تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ تاریخی اور موجودہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ متجنس افراد کو ریاستی اور غیر ریاستی افراد سے شدید خطرات لاحق ہیں خاص طور پر پولیس سے کیونکہ متجنس افراد ایکٹ کے مطابق خواجہ سرا کا بھیک مانگنا جرم ہے اور اب پولیس والوں کے پاس بھیک کو روکنے کیلئے خواجہ سراؤں کو تنگ کرنے کا بہانہ موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی بھیک کو جرم قرار دے چکا ہے اور اب اس کو خواجہ سراؤں کے ساتھ جوڑنا سراسر غیر ضروری اور امتیازی سلوک ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ متجنس افراد کو بااختیار بنایا جائے جس کیلئے موجودہ حفاظتی قوانین کو صوبائی سطح پر بھی اپنا کر ان پر عمل کروانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ امتیازی سلوک کو جرم قرار دے کر اس پر سزا مقرر کرنا صرف متجنس افراد ہی نہیں بلکہ ملک میں موجود مذہبی اور نسلی اقلیتوں کیلئے بھی فائدہ مند ہوگا۔۔۔

    سو سالا سامراجی دور نے متجنس افراد کے خلاف جو منفی سوچ پیدا کی ہے قانونی طور پر اس کو ختم کیا جائے۔۔۔ قانون کو کسی صورت ان تعصبات کو فروغ دینے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے بلکہ متجنس افراد کی ثقافتی سرگرمیوں کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں بھیک اور آوارہ گردی جیسے قوانین کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ بلاشبہ پاکستانی قوانین متجنس افراد کو قبول کرنے کے حوالے سے ترقی پسند ترین قانون ہے لیکن پاکستانی ریاست کو متجنس افراد کیلئے محفوظ جگہ بنانے کیلئے ابھی بھی بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔۔۔

    @PatrioticWsi

  • منافقت آخر کیوں ؟”  تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    منافقت آخر کیوں ؟” تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 


    ایک ایسا موضع جس پر شائد بات کرنے یا یہ تحریر لکھنے پر مجھ بھی تنقید ہو لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کی منافقت اور دوہرا معیار دیکھ کر میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس پر بات کرنی چاہیے 

    سب سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور آئین پاکستان میں یہ واضع لکھا ہے کہ ہم ایسا کوئ قانون نہیں بنائیں گے جو شریعت کے خلاف ہو ،اسی لئے ہمارے ملک میں قانون شریعت کے عین مطابق ہیں ،دوسری بات زنا بالجبر ہو یا زنا بالرضا یا زنا کی کوئ بھی قسم ہو قانون وشریعت کی مطابق ہر طرح اس کی سزا بنتی ہے ہاں سزا میں تھوڑی بہت کمی بیشی ضرور ہے لیکن بہرحال سزا بنتی ضرور ہے ،تیسری بات یہ بھی اسلامی تعلیمات سے ہی ہم نے سیکھا ہے کہ کسی کا راز فاش نہیں کرنا چاہیے یا جتنا ہوسکے کسی کے راز پر پردہ رکھیں اس کی بھی کئ مثالیں اسلامی تعلیمات میں ہمیں ملتی ہیں 

    اب آجاتے ہیں اصل معاملہ پر ہمارے معاشرے میں کئ انسان نما وحشی درندے موجود ہیں جن کے چھوٹی بچیوں ،بچوں ،خواتین ،لڑکیوں ،لڑکوں اور یہاں تک جانوروں سے بھی ذیادتی کرنے کے کئ واقعات رونما ہوتے ہیں اور پوری قوم ایسے بد بخت لوگوں کو سخت سے سخت سزا دینی پر مکمل طور پر متفق نظر آتی ہے کوئ ایسی گھٹیا حرکت کرنے والوں کی حمایت کرتا نظر نہیں آئے گا 

    لاہور مینار پاکستان کا واقعہ ہو،اسلام آباد موٹروے کا واقعہ ہو ،کسی مدرسے میں بچے/بچی سے ذیادتی کا واقعہ ہو ،مفتی عبدالعزیز کی بچے سے ذیادتی کی ویڈیو کا واقعہ ہو ہم سب نے پوری قوم سمیت تمام مکاتب فکر اور ہر پیشہ سے وابستہ لوگوں نے کھل کر ان واقعات کی مذمت کے ساتھ سخت سزا کا بھی مطالبہ کیا اور یہ مطالبہ کرنا بھی چاہیے ایسے درندوں سے اس وطن کو پاک کرنا ہم سب پر فرض بنتا ہے 

    لیکن کچھ روز پہلے سابق گورنر سندہ،نواز شریف کے ترجمان زبیر عمر  کی کچھ ویڈیوز وائرل ہوئ جب تک ویڈیو نہیں آئ تب تک اس راز پر پردہ تھا لیکن ویڈیوز آگئ سب نے دیکھ لی تو اب اس میں پردے والی کوئ بات رہ نہیں جاتی تو اس ویڈیوز آنے کے بعد امید تھی پوری قوم تمام مکاتب فکر کے لوگ یک زبان ہوکر اس کی نا صرف مذمت کرے گی بلکہ اس کے لئے بھی سخت سزا کا مطالبہ کرے گی ،لیکن یہاں تو عجیب ہی دیکھنے کو ملا جسے دیکھو وہ بجائے زبیر عمر کے اس واقعے پر بات کرنے والوں کو برا بھلا کہتے نظر آئے ،راز رہنے دو ،نجی زندگی ہے ،ایسی باتوں میں سیاست نا کریں ،میڈیا کوئ ذکر تک نا کرے سب لوگ ایسے خاموش دکھائ دیئے جیسے ذیادتی زبیر عمر کے ساتھ ہوئ ہو 

    چند لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر بلیک میلنگ کا عنصر موجود ہو تو احتساب کریں ورنہ وہ اس کی نجی زندگی کا معاملہ ہے اس لئے بات نا کریں ،سوچیں یہی ویڈیو اگر pti کے کسی بندے ،کسی مدرسے کے مولوی،مزدور یا اسی گورنر ہاوس کے کسی گارڈ،چوکیدار وغیرہ کی ہوتی تو کیا یہ لوگ تب بھی اس طرح خاموش رہتے؟جو غلط کام غریب بندہ کرے تو پھانسی اور امیر پیسہ والا بندہ کرے تو پھانسی تو دور اس موضوع پر بات کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھا جائے 

    میرے خیال میں ہمیں ایسی منافقت ختم کرنی چاہیے ،قانون سزا و جزا ،عزت غیرت امیر غریب ،گورنر مولوی سب کے لئے ایک ہونی چاہیے 

    اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم فرمائیں آمین 

    ‎@MajeedMahar4

  • کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں – تحریر: یاسر اقبال خان

    کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں – تحریر: یاسر اقبال خان

    جھوٹ کا مطلب کے کسی کو دھوکہ دینا ہے۔ جھوٹ بولنے کو دنیا کے تمام مذاہب میں برا سمجھا جاتا ہے اور ہمارے مذہب اسلام میں جھوٹ کو گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ کسی کو دھوکہ دے کر اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا کے ہر معاشرے اور مذہب میں جھوٹ کو ایک اخلاقی جرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ جھوٹ بول کر لوگ اپنی کوئی کمزوری چھپاتے ہیں یا سزا سے بچنے کیلئے جھوٹ بولتے ہیں یا کسی کے ساتھ کوئی وعدہ توڑنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جھوٹ بولنا جب کسی معاشرے میں عام ہوجاتا ہے تو اس معاشرے پر دنیا کا کوئی فرد و قوم بھروسہ نہیں رکھتا اور نہ کوئی جھوٹ بولنے والوں سے دوستی رکھنا پسند کرتا ہے۔ جو بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اسکی اپنی شخصیت اور کردار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کسی بھی محفل میں جھوٹ بولنے والے کو دھوکے باز سے یاد کیا جاتا ہے۔

    دنیا کے تمام مذاہب میں جھوٹ بولنے کو برا سمجھا جاتا ہے جھوٹ بولنے والے انسان کو رفتہ رفتہ کسی بھی دوسرے شخص کے جذبات واحساسات کی کوئی پرواہ نہیں رہتی، جھوٹ بولنے والے اس انسان کا دماغ ہر وقت کسی کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ بڑے سے بڑے دھوکا دینے کے لئے تیار رہتا ہے اور جھوٹ اس کے لئے ایک معمولی سی بات ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ اس شخص پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی میں سوائے اپنے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اسکے قریبی رشتہ دار مثلاً اس کی بیوی، شوہر، بچے، ماں، باپ ، بہن ، بھائی، دوست پڑوسی کی بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ ایسے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے بھی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کے دور میں ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بولنے لگا کہ میں اسلام لانا چاہتا ہوں لیکن مجھ میں بہت سی برائیاں ہیں جنہیں میں چھوڑ نہیں سکتا اگر رسول ﷺ مجھے ان میں سے کوئی ایک برائی چھوڑنے کا کہے تو وہ میں چھوڑ دوں گا رسول ﷺ نے اس شخص کو فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو جس پر اُس بندے نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کر لیا جھوٹ چھوڑنے کے سبب اُس کی تمام برائیاں چُھٹ گئیں۔ اِس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جھوٹ بولنا کتنی بڑی برائی ہے اگر ہم اس کو ترک کرے تو بہت سی برائیوں سے بندہ بچ سکتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے سچ بولنے سے متعلق ایک ارشاد فرمایا ہے: ”سچ بولنے کی عادت بناؤ کیونکہ سچائی نیکی کی راہ دکھاتی ہے اورنیکی جنت میں لے جاتی ہے”۔

    (صحیح مسلم:۱۳؍۱۶حدیث: ۴۷۲۱)

    قرآن میں اللّه پاک نے فرمایا ہے کہ جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللّه پاک قرآن میں فرماتے ہیں:

    "اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو۔”   [9-التوبة:119]

    اسی طرح قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمانِ الٰہی ہے: 

    ”آج وہ دن ہے کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔”  (المائدۃ: ۱۱۹)

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ایک آیت میں جھوٹ بولنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: 

    ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتے جو اسراف کرنے والے ہیں اور جھوٹے ہیں۔” (المؤمن :۲۸)

    جھوٹ ایک برا عیب اور سب سے بڑا گناہ ہے بہت سے برے اور غیر پسندیدہ کاموں کا سرچشمہ ہے۔ سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت ہر مذہب اور ہر دور میں یکساں طورپر تسلیم کی گئی ہے، اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی۔ جھوٹ کا بازار کتنا ہی گرم ہو لیکن ہمیں کوئی ذاتی فائدے کیلئے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہئے اور سچ بول کر ہم دنیا و آخرت دونوں میں عزت اور کامیابی پا سکتے ہیں۔ 

    کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں

    نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں

    سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر

    یہی ہے موقع اظہار، آؤ سچ بولیں

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • مردہ کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں”  صرف ایک یاد دہانی … تحریر مدثر حسن ‎

    مردہ کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں” صرف ایک یاد دہانی … تحریر مدثر حسن ‎


    انااللہ واناالیہ راجعون !!!

    موت جسے ہر انسان چاہے وہ جس فرقے سے تعلق رکھتا ہے چاہے وہ جس مذہب سے تعلق رکھتا ہے جانتا ہے کہ وہ جتنا بھی اس دنیا میں جی لے جہاں بھی جائے لیکن اس نے موت کا ذائقہ تو لازمی چکھنا ہے۔ اور روح پرواز کرنے کا وقت بڑا ہیبت ناک ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ گنہگار کی روح جسم سے ایسے نکلتی ہے جیسے مخمل کا کپڑا جھاڑیوں پہ ڈال کر پھر زور سے کھینچا جائے جبکہ مومن کی موت گویا آٹے سے بال نکالنے کے مترادف ہے۔ وہ لمحہ جب روح جسم سے نکل رہی ہوتی ہے اس لمحے کو "عالم سقرات” کہتے ہیں جو بڑا ہی کربناک منظر ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو عالم شروع ہوتا ہے اسے "عالمِ برزخ” کہتے ہیں یعنی قبر۔

    سب سے پہلے اسکی روح پاؤں سے نکلنا شروع ہو جاتی ہے اور آخر میں سر سے نکلتی ہے اگرچہ دماغ کچھ لمحیں زندہ رہتا ہے۔ جب انسان مر جاتا ہے یا اسکی روح پرواز ہو جاتی ہے تو اسے یوں لگتا ہے وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اسکے ساتھ جو جو ہوتا اسے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ خواب میں ہے۔ اسے نہلایا جاتا ہے کفن پہنایا جاتا ہے نماز جنازہ پڑھایا جاتا ہے اسے بس اتنا پتہ ہوتا ہے کہ جو سب کچھ ہو رہا ہے وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد عالم برزخ شروع ہو جاتا ہے اس کے اہل و عیال اس کے جسم خاکی کو قبر میں دفن کر کے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں تب دو فرشتے آتے ہیں اور ایک اسے کاندھے سے ہلائے گا تاکہ وہ اٹھ بیٹھے تو اس کا جو خواب تھا اب وہ اس سے بیدار ہو چکا ہوتا ہے اور سب سے پہلے وہ اپنے کفن کو ہاتھ لگا کر کہتا ہے کہ میرا لباس کہاں ہے؟ اور میں کہاں ہوں اس وقت تب اسے ایک فرشتہ بتاتا ہے کہ وہ مر چکا ہے اور اب وہ اپنی قبر میں بیٹھا ہے۔ وہ فرشتے جو اسکی قبر میں اتارے جاتے ہیں انہیں "منکر نکیر” کہتے ہیں۔۔ جب اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ مر چکا ہے تو تب وہ چیختا چلاتا ہے اور خدا کے حضور گڑگڑاتا ہے۔ کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما دے مجھے آپکی رحمت اور فضل کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ تیرے سوا میرا کوئی نہیں ہے میری مدد فرما۔
    اگر وہ مسلمان ہوگا ایمان والا ہوگا اور اس نے اچھے اعمال کیے ہونگے تو اسے بخش دیا جائے گا اور وہی قبر اس کیلیے باغِ بہشت بن جائے گی۔۔۔ اگر اس نے برے اعمال کیے ہونگے اور لوگوں کو ستایا ہوگا یا گناہ کبیرہ کرتا رہا ہوگا تو اسے سخت سزا دی جائے گی اور اس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور قیامت تک وہ اس سزا کی بھٹی میں جلتا رہے گا جب تک اللہ کا فضل نہیں آن پہنچتا۔۔۔
    یہ وہ عالم ہوتا ہے جب انسان کے پاس کچھ نہیں ہوتا سوائے سلامتی والے دل اور نیک اعمال کے۔ جو وہ دنیا میں کر کے آ چکا ہوتا ہے۔ ہاں البتہ صدقہ جاریہ جو وہ اپنی زندگی میں کرتا ہے اس کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے۔ صدقہ جاریہ جیسا کہ مسجد بنانا، نلکا لگانا، درخت لگانا وغیرہ۔۔ ہو سکتا ہے یہی صدقہ جاریہ اسکی بخشش کا ذریعہ بھی ہو۔
    اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں انسان پر۔ دنیا میں مرتے دم تک انسان کو مہلت ہوتی کہ وہ اپنے اعمال پہ نادم ہو کر خدا کے حضور توبہ کر لے لیکن جب موت آ جائے اس پر تب یہ دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اس لیے ابھی وقت ہے توبہ کر لی جائے۔
    اسلام میں بھائیوں اور بہنوں ، یہاں آپ کے پاس دو آپشن ہیں:
    1۔ یہ چھوٹا سا علم صرف یہاں پڑھا جائے اور کچھ نہ ہو۔
    2۔ اپنے خاندان کے لیے دعا کریں۔
    اس کے علاوہ حکم ہے کہ اہل و عیال میں سے جو فوت ہو جائے تو اس کیلیے مغفرت کی دعا کرتی رہنی چاہیے کہ اللہ کا کرم ہو جائے اور بندے کی بخشش ہو جائے۔
    اے اللہ ، میری جان مت لینا جب تک میں اپنی پوری طرح نہ ہوں اور تم سے ملنے کے لیے تیار نہ ہوں آمین،
    تحریر مدثر حسن