Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی تحریر : وسیم سید 

    ‏توَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (39)

    ‏اور انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہی 

    ‏اللہ تعالی نے انسان کو زمیں پر اپنا نائب اور اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے ۔ ہمیں عقل سے نوازا اور بے تحاشہ صلاحیتیں دیں ۔ اگر غور کیا جائے تو صرف انسان ہی نہی ہر ذی روح اپنے survival کے لیے کوشش کرتا ہے ۔ انسان ہو یا حیوان چرند ، پرند ہر کوئی اپنے سر چھپانےکے لیے چھت بناتا اور اور روزی کی تلاش میں نکلتا ہے ۔ خود کو موسموں کی سردی گرمی سے بچانا یہ سب survival کی کوششیں ہی ہیں ۔ 

    ‏تو پھر سوچیں صرف انسان ہی اشرف المخلوقات کیوں؟ 

    ‏اس لیے کہ انسان کو اللہ نے عقل سے نوازا ہے اور یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے لیے غلط اور سہی کا تعین کر سکے ۔ اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھتے ہوئے اپنے لیے کوشش کرنے والا ہی اشرف المحلوقات ہے 

    اللہ تعالی نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے اور ہمیں اس ذات نے بے مناہ صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے ۔ عقل دی تاکہ اپنے لیے صحیع راستے کا انتحاب کر سکیں اور کوشش کی خوبی سے نوازا تاکہ اس کے دی گئی نعمتوں میں اپنے حصے کی نعمتین کوشش سے حاصل کریں ۔ 

    اللہ نے ہمیں ہمت اسقلال بردباری اور عرفان سے نوازا تاکہ اس کوشش کہ راستے  میں آنے والی پریشانیوں کا مقابلہ ہمت اور حوصلے سے کر سکیں ۔ اللہ نے ہمارے حود متعین کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوۓ ہم کوشش سے بہت کُچھ کر سکتے ہیں ۔ او ر ان حدود سے آگے کچھ بھی نہی  ۔ میرے مطابق غریبی اور امیری بھی الل نے انسان کے ہاتھ میں دی ہے ۔ انسان کے ہاتھ میں ہے جس نے کوشش کی اور عمل کیا اس نے ترقی کی راہ کو پا لیا ۔ 

     علامہ اقبال کاا ایک شعر ہے۔۔۔” عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی، یہ خاکی اپنی فطرت میں نا نوری ہے نا ناری ہے”۔ اس شعر میں انسان کی زندگی کو مکمل طور پر بیان کردیا گیا ہے کہ انسان اگر اچھے عمل کرے گا تو کامیابی اُس کے قدم چومے گی اور اگر انسان غلط راہ پر گامزن رہا تو زندگی بھی کانٹوں بھری سیج ہوگی اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ یہ زِندگی کیسے گزارتا ہے۔۔۔۔ بےشک زندگی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، انسان اس چیز کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ زندگی شروع کہاں سے ہوئی اور آخرت کی زندگی کیا ہے، ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ اس وقت جو ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ کیا ہے۔۔۔ کیا رنگوں کے ساتھ بھری زندگی یہ ہے—-؟؟؟ یہ پھر رنگوں سے مزین زندگی مرنے کے بعد والی ہے۔۔۔؟؟

    زندگی بیشک رنگوں بھری ہے اب یہ انسان پر منحصر کرتا ہے وہ اس میں کس طرح کے رنگ بھرتا ہے۔۔۔ قوس و قزح کی مانند خوبصورت رنگ جو آنکھوں کو ٹھنڈک دیں یا پھر سیاہ تاریکی میں ڈوبے رنگ جن سے وحشت ہو۔۔؟

    اگر ہم کو اپنی اصل زندگی میں رنگ بھرنے ہیں تو ہمیں اس زندگی میں بہت خوبصورت رنگوں میں ڈوبنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اب یہ کیسے ہو؟ یہ ایسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی کے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہونا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر عمل کرنا ۔۔۔۔۔ جب انسان کو یہ سمجھ آجائے گا کہ یہ دُنیا عارضی قیام گاہ ہے اور اصل دُنیا اور زندگی اس کے بعد کی ہے تو اس دنیا سے رغبت خودبخود ختم ہوجاتی ہے لیکن اس کام مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس دنیا میں موجود ہم اپنے حقوق و فرائض سے بے خبر ہوجائیں ہرگز نہیں ۔۔۔اس چیز کی اسلام میں سختی سے معمانیت ہے۔

    ‏اکثر یہ بات سُننے کو ملتی ہے اگر مقدر میں ہوا تو مل جائے گا ۔ بے شک یہ بات درست ہے کہ ہماری زندگیوں میں قسمت اور تقدیر کا بہت بڑا کردار ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کہ ہم قسمت کا انتظار نہی کر سکتے کہ وہ آئے اور ہمارے حلق میں نوالہ ڈالے ۔ اگر ماضی پہ ایک نظر دوڑائیں تو تمام کامیاب لوگوں کی ترقی کا زینہ عمل ، مسلسل جد وجہد اور کوشش میں پنہاں ملے گا ۔ یہ کہنا غلط نہی ہو گا کہ قسمت انسان خود بناتا ہے ن۔ نیک ارادہ ، صحیع سمت ، دیانت داری اور لگن کے ذریعے  وہ اپنی منزل تک پُہنچتا ہے اور اس میں خدا بھی اس کا حامی و ناصر ہوتا ہے ۔ 

    ‏میرا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ انسان کوشش سے وہ سب حاصل کر لیتا ہے جس کا اس نے خواب دیکھا ہو ۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے 

    ‏”Nothinh is impossible under this blue sky ” 

    ‏اور اگر کوشش کی جائے تو ہے بھی ایسا ہے ۔ 

    ‏اس تحریر کا مقصد یہ بات اپنی نوجوان نسل تک پُہنچانا ہے کہ اسقلال اور ہمت سے وہ اپنے لیے ستاروں سے آگے کے جہاں کے راہ بھی ہموار کر سکتے ہین۔ عزت ، شہرت ۔ شان و شوکت سب کچھ جہد مسلسل اور عمل پیہم سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ زندگی میں مشکلات کا آنا معمول کی بات ہے لیکن ان مشکلات اے گھبرا کہ خود پہ ترس کھانا اور کود بیچارہ سمجھ لینا الل کی سی گئی اس خوبصورت نعمت کی تذلیل ہے ۔ 

    ‏جیسا کہ مشہور شاعر ظفر علی خان نے فرمایا 

    ‏خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

    ‏نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالتبدلنے کا 

    ‏ ⁦‪@S_paswal‬⁩

  • اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی کمزوری تحریر:رضوان۔

    اخلاقی
    پاکستان میں اخلاقی اقدار دن بدن کمزور ہو رہی ہیں  یہ ہماری گھریلو ترتیب کا نہ ہونا ہے’ ہمیں گھروں میں اچھے اخلاق سکھائیں جائیں گے تو ہم  دوسرے لوگ کا احترام کریں گے اخلاقی گراوٹ کسی بھی قوم کی تباہی کا باعثِ خیمہ ہے ہمارے اخلاق کا کمزور ہو جانا ہمارے ایمان کی کمزوری ہے ہم بحیثیت مسلمان دوسرے لوگوں کی عزت و توقیر کا خیال رکھیں ان کی زاتی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے بد قسمتی سے اخلاق گراوٹ کی کوئی قانونی سزائیں نہیں اگر کچھ سزائیں ہیں بھی صحیح تو ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے اگر کسی کی کوئی بے عزتی کرتا ہے تو اس کو شاباش دی جاتی ہے یہ باعث شرمندگی ہے تو پھر اس کے جواب میں بھی جواب اس سے زیادہ گندی زبان استعمال کرکے دیا جاتاہے  بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماضی میں بھی اور موجود دور میں بھی خواتین بچوں سے جنسی زیادتیاں ہوتی تھی ان کی سزائیں جرگہ طے کرتے تھے کبھی کسی کے جرم میں کوئی اور سزائیں کے طور پر گندے عمل کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے مثلاً جب کوئی مرد کسی عورت سے زیادتی کرتا تو جرگہ میں زیادتی کرنے والے شخص کی عزیز کو جرگہ زیادتی ہونے والی عورت کے بھائی سے شادی (ونی) کر دیتے تھے  یہ بھی کسی کی بغیر رضا مندی ظاہر کئے شادی کر دی جاتی تھی  پھر دیہاتوں میں امیر وڈیروں کے جرگہ میں کچھ رقم زیادتی ہونے والا کو دی جاتی تھیں یہ حقیقت تھی  اب اگر آن جیسے واقعات کو قانون کے شکنجے میں لایا جاتا ہوتا تو کسی زینب کو قتل نہ کیا گیا ہوتا موٹر ویز پر خاتون کی عزت کو نقصان نہ پہنچا ہوتا  اب ملا میں ایسے گندے دھندوں کی ویڈیو بنائی جاتیں ہیں لیکن ان میں سے اکثر Fake ہوتی ہے جو بلیک میل کرنے یا دوسرے کی عزت اچھالنے کا سستا ترین طریقہ ہے’ مدارس میں ویڈیو آئے تو پورے مدارس کو بدنام کرنے کے لیے پراپیگنڈا کیا گیا عزیر کا انفرادی فعل تھا اس میں مدارس کا کوئی کردار نہیں ہے  اگر کسی کالج یونیورسٹی کے شعبہ میں غیر اخلاقی سکینڈل ہوتا ہے تو انفرادی ہوتا ہے ادارے کا کردار نہیں نہ ہی سکول کالج یونیورسٹی مدرسے میں غیر اخلاقی تربیت دی جاتی ہے یہاں تو تعلیم تربیت اخلاقی تربیت کے ساتھ زہن کی تربیت خدمت کی جاتی ہے کسی یونیورسٹی میں سیکنڈل کا کہہ کر سینکڑوں آنے والی لڑکیوں کو روکا جائے گا مدرسے میں جانے سے روکا جائے گا  پھر مزید جہالت کا بازار گرم ہوگا  اگر کسی معزز خاتون ممبر اسمبلی کی عزت اچھال رہے ہیں تو جو بے گناہ کی عزت اچھال رہے ہو اللّہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے گا  اگر مان لیا جائے ممبر اسمبلی سابق گورنر یا کسی اور کی ویڈیوز کو ایشو بنانا چاہتے ہیں تہمیں کیا حاصل ہوگا ہم لوگ عزت دار لوگوں کی عزت بلاوجہ اچھال رہے ہیں یہ ہماری بداخلاقی ناقص تربیت کا نتیجہ ہے ویڈیو پر معزز شخص نے تردید بھی کی اس کو جھوٹ پر مبنی ان کے خلاف اوچھا ہتھکنڈا کہا اگر کوئی شخص بدکار ہے’ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم ان کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل دو برے لوگوں کو بھی پردہ رکھنا اچھے اخلاق والے لوگوں کا کام ہوتا ہے پر منگھڑت تہمات نہیں لگانی چاہیے ہم لوگ بھی عزت دار تب ہونگے جب دوسروں کی عزت و تکریم کا خیال رکھیں گے اگر کوئی برا ہے’ تو برا سہی لیکن اس کی برائی کا پرچار کرنا ہرگز آسلام کی تعلیمات میں نہیں اسلام دوسروں کے راز دل میں رکھنے کی تلقین کرتا ہے ہمیں بس موقع چاہیے کسی کی بھی سالوں کی بنائی ہوئی عزت منٹوں میں خاک میں مل دیتے ہیں لیکن یاد رکھو عزت و زلت بے شک اللّہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلیل کراتا ہے 

    Twitter @RizwanANA97

  • سماجی مسائل اور ان کے سدباب  تحریر : ماہ رخ اعظم

    سماجی مسائل اور ان کے سدباب تحریر : ماہ رخ اعظم

    ‏سماجی مسائل اور ان کے سدباب

    مسئلہ، دراصل منفی اثرات ،افراد کے رویوں ، رکاوٹوں اور انحراف کی ایسی صورت ہے جس سے افراد اور معاشرے کی اقدار متاثر ہوتی ہے.معاشرتی مسئلہ۔ ایک ایسی حالت ہے جو معاشرہ کی اعلی اقتدار کے زوال کا آئینہدار ہوتا ہے اگر معاشرہ کوشش کرے تو یہ حالت سدھر سکتی ہے. سماجی مسئلہ ایسی صورت حال کا نام ہے جس میں کثرت آبادی ناپسندیدہ صورت حال سے دوچار ہو. سماجی مسائل اور برائیاں معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں.پاکستان ایک فلاحی مملکت کے طور پر قائم کیا گیا تھا. فلاحی مملکت سے مراد ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں شہروں کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہوں. جہالت ، غربت اور نا انصافی کا خاتمہ ہو.نیز لوگ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مساوی مواقع حاصل کرسکیں. ہمارے ہاں بہت سے معاشرتی مسائل موجود ہیں، جو ایک فلاحی مملکت بننے کی راہ میں حائل ہیں.سب سے ضروری چیز جو کسی قوم کے لیے ترقی کے زینے کا پہلا قدم قرار پاتی ہے وہ اس کی اخلاقی حالت ہے قول وفعل کے تضاد ، جھوٹ ، دھوکادہی اور مکروفریب ایسے اخلاقی رذائل ہیں جن کی موجودگی میں کوئی قوم خواہ کتنے ہی سے بہرور ہو، کتنے ہی ذمینی وسائل سے مالامال ہواور کتنی ہی افرادی قوت کی حامل ہو، ترقی سے ہم کنار نہیں ہو سکتی. معاشرتی مسائل زوال کو دعوت دیتے ہیں. دنیا کی بہترین کپاس پیدا کرنے والی قوم اگر اسے برآمد کرتےہوئے اس میں پھتر چھپاکر برآمد کرے گی تو یہ عمدہ کپاس آیندہ کاروبار ختم کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس اپنی بندرگاہ پر پہنچ جائے گی.ہمارا ایک نہایت اہم مسئلہ جدید علوم سے ناواقفیت اور جہالت ہے جدید ترین علوم اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر کیسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ آج دنیا کی قیادت ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو جدید علوم و فنون پر دستگاہ رکھتے ہیں سری لنکا، کوریا، اور ملائیشیا جیسے ممالک اپنے شعبہ تعلیم کے لیے قومی پیداوار کا پانچ سے سات فیصد تک خرچ کررہے ہیں جبکہ ہم صرف تقریبا دو فیصد خرچ کررہے ہیں علم کرنے کے بعد ہی لوگ اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہوسکتے ییں نیز اپنے مسائل اور خرابیوں کے حل کی تدبیر کرسکتے ہیں

    جذبہ قومیت کا فقدان بھی ہمارا نہایت اہم مسئلہ ہے یہ حقیقت ہے کہ جن مقاصد کے لیے ہم پاکستان حاصل کیا تھا ہم انھیں آج تک نہیں پاسکے ہمارے ہاں علاقائی مسائل کو ترجیح دینا فرقہ بندی صوبائی عصبیت ملک و قوم کو پس پست ڈال کر اپنی ذاتی اغراض کو اولیت دینا عام ہے جو قوت ہم قومی تعمیر میں خرچ کرسکتے تھے اسے آج تخریب میں بروئے کار لارہے ہیں.غربت بھی ہمارا ہمارا نہایت اہم سماجی مسئلہ ہے. پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہےاس لحاظ سے اس کی معیشت بھی ترقی پذیر ہے اپنی ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اپنے قیام کے آغاز سے ہی پس ماندہ حالت میں تھا.پاکستان کی ابتدائی مشکلات میں سے ایک اہم مشکل اقتصادی ناہمواری تھی کیونکہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل پاکستان کے علاقہ میں ہندو ہی زراعت، تجارت، کاروباری اداروں اور بنکوں وغیرہ پر قابض تھے. تقسیم ہند کے وقت ہندو اپنا تمام سرمایہ سمیٹ کر ہندوستان لے گئے.جس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور معیشت کمزور تر ہوتی چلی گئی.آج ہماری پستی کا سب سے بڑا سبب اپنے آباواجداد کے سنہری اصولوں سے انحراف ہے. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پیرا ہونے میں ہی تمام سماجی برائیوں کا علاج مضمر ہےاگر ہم اپنی کھوئی ہوئی قوتوں کو مجتمح کرلیں اور فراموش کردہ اسباق کو ازسر نو ذہین نشین کرلیں تو کوئی شک نہیں کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں.

    بقول اقبال
    یقین، افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
    یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

    ازقلم : ماہ رخ اعظم
    ‎@_MahrukhAzam

  • دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    دنیا میں اسلامی نظام کیسے نافذ ہوگی؟ تحریر : شاہ عزت

    اسلامی نظام سے مراد دنیا میں ایک ایسی عظيم نظام جس میں صرف اور صرف اللہ کے حکم  اور نبی کریمﷺ کے بتاۓ ہوۓ طریقوں سے بننی ہو اور ساتھ ساتھ غلط کاموں پر سزا بھی وہی مختص ہو جو اللہ اور رسول اللہﷺ نے حکم دیا ہو۔ آج کل کی دنیا میں جب بھی کوٸی بدفعلی ، غلط کام کرے تو فورا ہمارے لبوں پر یہی ایک جملہ آتا ہے کہ کاش دنیا/ملک میں السلامی نظام نافذ ہو تاکہ کوٸی بھی ایسے غلط کام نہ کر سکے اور کرے بھی تو اُس کو وہی سزا دی جاۓ جو عبرت کا نشان بننے اور دوسروں میں ایسے غلط کام کرنے کی جرت تک نہ ہو۔ 

    وارڈو میٹر کے مطابق ستمبر 2021 میں دنیا کی کل آبادی 7.9 ارب ہیں جس میں مسلمانوں کی کل آبادی تقریبا 1.9 ارب ہے تو ظاہر ہے کہ کفار ہم سے زیادہ ہیں  ہم مسلمان آج کی دور میں کیوں بے بس ہیں ان کفاروں کے آگۓ کیوں ہمارے مسلمان بھاٸیوں پر ظلم و بربریت ہو رہا ہے (کشمیر ، فلسطين وغیرہ)؟۔

    "اکثر ہمارے ذہنوں میں یہی آرہا ہے کہ کفار زیادہ ہیں اور ہم کم ہیں اس لیے ہم انکے سامنے بے بس ہیں”

    نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے تو کیوں؟

    کیونکہ ہمارے اندر وہ ایمان وہ جذبہ نہیں ہے جو  313 مسلمانوں کے اندر تھا نے جنگ بدر میں کفار کے ایک ہزار لشکر کو شکست دی تھی۔ اور اسطرح سے ہمیشہ کم تعداد میں ہی مسلمانوں نے فتح حاصل کی ہے کیونکہ جو اکیلا ہوتا ہے اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ حضرت خالید بن ولید (عظيم سپہ سالار تھے جن کی بے مثال کامیابیوں کی وجہ سے رسول اللہﷺ نے "سیف اللہ” یعنی اللہ کی تلوار کے لقب سے نوازا تھا ) کے بارے میں آتا ہے کہ جس جنگ میں بھی جاتے تھے تو فتح یاب لوٹتے تھے وہ ہمیشہ کفاروں کو مردہ (جو اللہﷻ کا زکر نہیں کرتے ہیں) سمجھتے تھے (اللہ کا ذکر کرنے والا اللہ کے سامنے زندہ ہے اور اللہ کا ذکر نہ  کرنے والا اللہ کے سامنے مردہ ہے) کفار حیران تھے کہ یہ کیوں اتنا طاقتور ہیں ان پاس کچھ بھی نہیں ہے کھانے پینے کے اشیإ اور جنگ سامان بھی بہت کم ۔ اور ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ہرطرح کی طاقت ہے لیکن انہیں کیا معلوم کے اصلی طاقت تو ایمان کا ہوتا ہے جن کے دل میں اللہ اور رسولﷺ کی فرمانبداری چھا جاۓ تو پوری دنیا کی طاقت بھی مل کر کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے  انکی ایمان مضبوط تھی۔ اور وہ صرف اور صرف اللہ اور رسول اللہﷺ کی تابع تھے آج ہماری بے بسی کا نتیجہ یہی ہے کہ ہمارے ایمان کمزور ہیں آج کی دور میں لوگ پیسہ، گاڑی ، اچھی نوکر اور عمدہ گھر کو طاقت سمجھتے ہیں اصلی طاقت ایمان کا ہوتا ہے کہتے ہے نا ” جب پیٹ بھر جاۓ تو اللہ کو بھول جاتے ہیں” آج ہم دنیاوی زندگی کے پیچھے مصروف ہیں آخرت کی زندگی کا کوٸی سوچتا بھی نہیں ہے ہماری اصلی زندگی آخرت کی زندگی ہے دنیاوی زندگی محض ایک مختصر وقت ہے۔ 

    سوشل میڈیا ہر صبح  اچھی اچھی پوسٹوں سے بھرا رہتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم صرف سوشل میڈیا میں پکے مسلمان ہیں اصلی زندگی میں نہیں۔ میں حیران ہوں کہ اگر اتنے پکے اور سچ مسلمان سوشل میڈیا پر ہیں؟ تو یہ مساجد کیوں ترس رہے ہیں نمازیوں کے لیے یہ مظلوم کیوں ترس رہے ہیں انصاف کے لیے وغیرہ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم محض دوسروں کے لیے اچھے پوسٹ لگاتے ہیں اور خود عمل کرنے سے قاصر ہیں۔

    اب اگر ہم دنیا میں اسلامی نظام چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں آپنے اندر اسلامی نظام لانا ہوگا جب ہم آپنی اس چھ  فٹ جسم پر السلامی طور طریقے اپناٸینگے تو اسلامی نظام ہمارے اندر خود بخود نافذ ہوگی اور یوں یہ السلامی نظام ہم سے ہمارے گھر پھر سارے دنیا کو متاثر کرے گی بالاآخر دنیا میں اگر اسلامی نظام نافذ کرنا ہے تو یہ طریقہ آپنا ہوگا ورنہ صرف لبوں اورذہنوں پر رکھنے سے نہیں ہوگا۔

    یہ میرا پہلا آرٹیکل ہے پڑھے اور فیڈ بیک ضرور دیجیۓ گا۔

  • مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    مایوسی کے درخت کی پھیلتی ہوئ جڑیں. تحریر: امان اللہ

    ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور پہلو مایوسی، ناامیدی بن چکا ہے اس درخت کی اتنی جڑیں پھیل چکی ہیں کہ ہر طبقہ ہاے زندگی میں اس کی شاخیں موجود ہیں بچوں سے لیکر بوڑھوں تک مردوں سے لیکر عورتوں تک عوام سے لیکر خواص تک حکمران سے لیکر رعایا تک سر سے لیکر پاوں تک فرد سے لیکر خاندان تک گھر سے لیکر کاروبار تک ہر جگہ مایوسی کے بادل چھاے ہوے ہیں. نوجوان اپنے مستقبل اور کیرئر کے بارے میں ناامید نوکری کاروبار ملازمت معاش زندگی سب کے بارے کمزور کھوکھلی باتیں کرتا نظر آتا ہے. ریڑھی بان سے پوچھو یا نان بائ سے مزدور سے پوچھو یا مستری سے بزنس مین سے پوچھو یا دہاڑی دار سے ایم این اے سے پوچھو یا اس کی رعایا سے اے سی میں بیٹھنے والے سے پوچھو یا چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ٹریفک پولیس کے اہلکار سے ہر کسی کی زبان پر ملک پاکستان اور اس کے مستقبل کے بارے میں مایوس، غیرمہذب، کمزور، معیوب جملے ملیں گے.

    جب ہر کسی کی یہی حالت ہو تو سب ایک ہی تلاب میں نہانے والے نظر آتے ہیں تو امید و رجاء کی کرن کہاں سے پیدا ہو گی ، اور یہ تو عین فطرت ہے جو سوچ و افکار میں آتا ہے گمان و خیال میں جنم لیتا ہے وہی عین الیقین اور حق الیقین بنتا ہے یعنی وہی کچھ ہوتا ہے جو سوچا جاتا ہے . میری قوم کے اجتماعی جملے اور چند مایوس کن بول . ستر سال میں پاکستان نے کچھ نہیں کیا آگے کیا کریگا ایک دہائ سے کشمیر آزاد نہیں ہوا اب تو آزاد ہو گا ہی نہیں کیونکہ پاکستان ان کےلیے کچھ نہیں کرتا اب تک مہنگائ میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ ستر سال میں ترقی نہیں کی تو آگے بھی امکان نہیں بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں ہوئ پاکستان دنیا میں دہشت گرد ملک ہے
    دنیا میں تنہا ملک ہے کوئ ساتھ نہیں ہے پاک فوج دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتی اگر لڑ سکتی تو کشمیر آزاد کیوں نہیں کراتی پڑھائ کر کے کیا کرنا جب نوکری رشوت اور سفارش سے ملتی ہے پاکستانی قوم دنیا میں بدنام ہے کوئ ٹیلنٹ نہیں ہے سب ادارے تباہ ہوگے ہیں خسارے میں ہیں پاکستان آئ ایم ایف ورلڈ بینک کا غلام ہے یہود و نصاری کی ایجنٹ حکومت ہے پاکستان میں اسلام کا نفاذ ممکن ہی نہیں یہ اسلام کےلیے نہیں بنا اس کو بنانے والا بھی مسلمان نہیں تھا مایوسی کا شور ہے منافقین کا دور ہے .معاملات کبھی حل نہیں ہوں گے .جھگڑے ہمیشہ رہیں گے اولاد کبھی نہیں سدھرے گی .مسلہ کا حل طلاق ہی ہے کاروبار تو اب ہو ہی نہیں سکتا معیشت کمزور ہو رہی ہے امریکہ ، روس جنگ میں پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا کوئ فائدہ نہیں ہوا .اور کئ قسم کے جملے .

    ھکذا تاکہ تحریر لمبی نہ ہو .مایوسی پیدا ہونے کے اسباب : لوگوں کے حالات دیکھ کر خود ناامید ہو جانا میڈیا سے منفی پروپگنڈے سے متاثر جانا تجربات میں ناکامی پر مستقل مایوس ہو جانا امتحان میں نا کامی یا تھوڑے نمبر پر معاشی مسائل کی مسلسل کمزوری کی بنا پر ناامید کاروبار میں بہتر منافع نہ ہونے پر ناامید بچوں کی بگڑتی صورت حال پر نا امید ہونا مایوس لوگوں کی صحبت اور مجلسیں ناکام لوگوں کے تذکرے ناکام.اور مایوس کن باتوں اور موضوعات میں دلچسپی یقینی کیفیت کا فقدان میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات میں کمزوری ظاہری مادی اسباب پر یقین اور اعتماد وغیرھم کثیرہ

    اس دیمک سے اپنے آپ کو بچانے کےلیے قرآن کا سہارا لیں اور اپنے رب کا سہارا لیں سب سے بڑا سہارا ہمارا اللہ ہے اور یقین اور امید اللہ کی ذات ہے اس دلدل سے کیسے نکلا جاے .لا تقنطوا من رحمة الله اللہ کی رحمت جو ہر کسی کو شامل حال ہے اس سے کائنات کی کوئ چیز اور مخلوق بھی بعید نہیں ہے الا کہ کفر کرنے والا انسان بھی اللہ کی اس رحمت کی چھتری کے نیچے ہے کہ وہ اپنی نافرانی اور شراکت کو دیکھنے کے باوجود اور شدید غیض و غضب رکھنے کے باوجود بھی رزق و روٹی کی عنایت جاری رکھتا ہے اور گناہوں کے پہاڑوں کو ذرے بنا کر مٹا دیتا ہے یہاں اس آیت سے ہم سمجھتے ہیں کہ صرف گناہ سے معافی مانگنے میں مایوس نہیں ہونا چاھیے یہ کامل مفہوم نہیں ہے بلکہ کسی بھی کام کے کرنے پانے حصول پر اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاھیے .

    مایوسی کفر ہے.
    ولا تائسو من روح اللہ انہ لا ییئس من روح اللہ الا القوم الکافرون .
    یہ آیت واضح پیغام ہے کہ اسلام میں مایوسی ہے ہی نہیں اور جو مسلمان اور مومن ہے اس میں یہ چیز پیدا ہی نہیں ہوتی . اگر ماہوسی پیدا ہو رہی ہے تو سمجھ لیں ہمارا اسلام اور ایمان کمزور ہے اس کو بہتر کرنا چاھیے .
    گویا یہ بات سمجھ آئ مایوسی و الے جملے کفریہ جملے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہیں .
    یقین والوں کی صحبت .
    لا تصاحب الا مومنا
    مومن تو کامل یقین والا ہوتا ہے اس کی صحبت ناامیدی کو دور کرتی ہے .
    فضولیات اور مسموعات کو کان نہ دینا .
    کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع .
    محنت اور کوشش پر یقین اور اللہ پر توکل .
    وان لیس للانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یری .
    ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ
    کامیاب لوگوں کو پڑھنا اور تاریخ ماضی میں سب سے کامیاب لوگ انبیاء تھے اور وہ یقین کا منبع و مظھر تھے .
    لقد کان گی قصصھم عبرة لاولي الألباب
    صبر کا دامن نہ چھوڑنا .
    بے صبری بداعتمادی پیدا کرتی ہے اور بے یقینی مایوسی پیدا کرتی ہے بعض اوقات اللہ کے فیصلے ہمارے لیے بہتر ہوتے ہیں لیکن ذرا فاصلے پر ہوتے ہیں اس فاصلے کو طے کرنے کا صبر توکل و یقین سے ہو سکتا ہے اور مستقل مزاجی سے ہو سکتا ہے .
    فاصبر ان وعد اللہ حق
    سلامتی بہت پیار
    تحریر لمبی ہے لیکن وقت ضائع نہیں جاے گا .

    @Amanullah6064

  • امن کا نشان ہمارا پاکستان تحریر: سحر عارف

    امن کا نشان ہمارا پاکستان تحریر: سحر عارف

    امن ایک ایسی نایاب چیز ہے جس کی طلب ہر انسان کو ہوتی ہے پر یہ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آتی۔ امن کچھ محنت، جتن اور قربانیاں مانگتی ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان نے ہمیشہ امن و امان کی تمنا کی ہے پر آج تک مکمل طور پر اسے حاصل نہیں کر پایا۔ جہاں پوری دنیا میں آج سب سے بڑا مسئلہ ہی امن کے حصول کا ہے وہیں ہمارا ملک پاکستان بھی امن و امان کا دلی خواہش مند یے۔

    کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ امن کا گہوارہ بن جائے۔ ہمارے دشمنوں نے جب کبھی بات کی تو ہمیشہ جنگ و جدل کی ہی بات کی۔ ان کی ہر چھوٹی بڑی بات اور اختلاف اسی جنگ جیسی چیز پر آکر رکتا ہے۔ کبھی جنگ وجدل کی دھمکیاں دیتا ہے تو کبھی پورے غرور کے ساتھ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے معصوم جانوں کے خون سے کھیلتا ہے۔

    ان کا یقین اس بات پر ہے کہ جب وہ خوف و ہراس پھیلا کر پاکستان کو ہر محاذ پر شکست دے سکتے ہیں تو پھر امن م کی جانب آئیں ہی کیوں ۔ پر اس کے برعکس پاکستان کا اس بات پر کامل یقین ہے کہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب سے اہم چیز امن و آشتی ہے۔ لڑائی جھگڑوں، نفرتیں پھلانے اور جنگ وجدل جیسی چیزوں سے سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی وجہ سے آج پوری دنیا اس بات کی چشم دید گواہ ہے کہ پاکستان کو جب، جہاں اور جیسے موقع ملا اس نے امن کا پیغام دینے میں پہل کی۔

    کبھی جنگ و جدل میں پہل نہیں کی بلکہ ہمیشہ اس کا اختتام ضرور کیا۔ جب کبھی دشمن نے پاکستان کی پیٹھ پیچھے وار کرنا چاہا تو ہمارے ملک کے محافظوں نے اس کا مقابلہ بھی کیا پر ساتھ ہی امن کو فروغ دینے کی بھی بات کی۔ ابھی دو سال قبل 2019 کی ہی مثال لے لیں کہ کس طرح بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن وردھمان کا جہاز فضائی حملے کے دوران پاکستان کی حدود میں آکر گرا تو پاک فوج نے اس پائلٹ کی کس قدر مہمان نوازی کی۔

    یہ جانتے ہوئے بھی کہ خدا نخواستہ اگر ایسا کچھ پاکستانی فضائیہ کے کسی پائلٹ کے ساتھ ہوتا تو بھارت اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتا۔ جو کبوتروں اور غباروں تک کو نہیں بخشتا وہ اس معصوم کے ساتھ ناجانے کیا کیا کرتا۔ خیر تین دن تک ابھی نندن کی مہمان نوازی کرنے کے بعد اسے باعزت طریقے سے بھارت کے حوالے کر دیا گیا جہاں پہنچتے ہی ابھی نندن نے ناصرف چائے کی تعریف کی ساتھ ہی اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان واقع ہی امن کا حقیقی خواہش مند ہے۔

    بے شک یہ تمام مناظر پوری دنیا نے دیکھے اور پاکستان کے اس اقدام کو دنیا بھر میں سراہا بھی گیا۔ بات صرف یہی ختم نہیں ہوتی پاکستان نے تو امن کے لیے بھارت کی طرف ایک اور قدم بھی بڑھایا جس کی وجہ سے سکھوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھول دیا گیا اور انھیں بغیر کسی ویزے اور پریشانی کے گرودوارہ میں آنے کی اجازت دے دی گئی۔ جس کے لیے سکھ یاتریوں نے برسوں انتظار کیا تھا۔

    پاکستان کے اس اقدام سے سکھوں میں خوشی کی ایک نئ لہر دوڑی تو وہیں انھوں نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان درحقیقت خطے میں امن و سلامتی چاہتا یے۔ اس کے علاؤہ کشمیر کے مسئلے پر بھی بھارت کو پاکستان کی جانب سے بار بار یہ پیغام دیا جاتا رہا اور ابھی بھی دیا جارہا ہے کہ وہ آئیں اور مل بیٹھ کر اس مسئلے کے حل کی بات کریں۔ کیونکہ ہم خطے میں امن و امان چاہتے ہیں۔ پر افسوس بھارت اب بھی چپ سادھے ہوئے ہے اور کسی بھی حوالے سے امن کی بات کرنے سے گریزاں ہے۔

    @SeharSulehri

  • بیروزگاری، ایک معاشرتی بیماری  تحریر : وسیم سید 


    ‏پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیروزگاری کا ریٹ 5.1 سے 5.7 تک پہنچ چکا ہے اور مزید آگے بڑھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ بیروزگاری کی بیماری ہمارے معاشرے میں کافی گہرائی تک اپنے قدم جما نے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

    ‏اکثر سننے میں آتا ہے کہ ہمارے نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ان کے پاس موجود ہے لیکن ان کو کوئی مناسب نوکری نہیں مل رہی۔

    ‏کیا یہ ساری ذمہ داری حکومت کی ہے یا ہمارے معاشرے میں پڑھائی کی کوئی قدر نہیں؟

    ‏اس بڑھتے ہوئے رجحان کو سمجھنے کے لئے لیے ہمیں اسے گہرائی سے جانچنے کی ضرورت ہے ۔ 

    ‏سب سے پہلی اور اہم وجہ ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی کے رجحان کو پس پشت ڈال کر بہت زیادہ تعداد میں بچے پیدا کرنے سے ایک خاندان کے اندر تعلیم کو برابری کے طور پر تقسیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کو بہت زیادہ فوقیت حاصل ہے کہ لیکن ہم بہترین تعلیم اچھے طریقے سے تبھی دے سکیں گے جب ہمارے پاس وسائل موجود ہوں گے

    ‏لہذا سب سے پہلے ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کے روشن پہلو کو سمجھنا ہو گا ایک ہی خاندان میں ایک بیٹے کی پیدائش کے لیے لیے بہت زیادہ بچوں کو جنم دینے سے بھی بےروزگاری پر جہان بڑھ رہا ہے اور اسی سلسلے میں لڑکیوں کی تعلیم پر کم دھیان کیا جاتا ہے۔

    ‏دوسری سب سے اہم وجہ جو بیروزگاری کا سبب ہے وہ معاشی بدحالی ہے جیسا کہ آپ سب کے علم میںہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے ہر سال لاکھوں ارب کے قرضے لے کر اپنی معاشی ضروریات کو پورا کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہمیں انٹرسٹ کی شکل میں ان کو پیسے واپس کرنے ہوتے ہیں اور ان کی بہت ایسی پالیسیاں بھی ماننی پڑتی ہے ہے جو بظاہر معاشرے کے لیے اچھی ہے لیکن اندرونی طور پر ہمارے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    ‏تیسرا ایک اہم مسلہ ہمارے ملک میں کرپشن کا ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے کے اس طبقے کو اہمیت دیتے ہیں جو حقیقت میں اس چیز کا حقدار نہیں ہوتا بظاہر چند ہزار روپے کی رشوت لے کر ایک اچھی جگہ پر ایک کم پڑھے لکھے انسان کو دے دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک پڑھا لکھا انسان اچھی پوسٹ پر اوپر جانے سے رہ جاتا ہے ہے جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان اس بے روزگاری کی وجہ سے اور موقع

    ‏نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ‏جب زندگی کے سولہ سال اتنی زیادہ محنت کرنے کے بعد آپ کو سامنے والا اس بات پر ریجیکٹ کر دیتا ہے کہ آپ کے پاس تجربہ کم ہے تو یقینن آپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔جب ایک غریب باپ مزدوری کرکے اپنے بچے کا پیٹ پالے اور اس کے بعد اس کو اچھی تعلیم دلوا یے یقینا اس کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنی اولاد کو کامیاب ہوتا دیکھے لیکن جب ہمارا معاشرہ ایسے ٹیلنٹ کی قدر نہیں کرے گا تو اس کے لیے مسئلہ پیدا ہو گا۔

    ‏ہر نوجوان کی یہ خواہش ہوتی ہے ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کا سہارا بنے اور اپنی تمام خوابوں کو پورا کرے جو اس نے اتنے سال انتک محنت کر کے پورے کرنے کرنے کی لگن اپنے دل میں بسا رکھی ہے۔

    ‏اس کے ساتھ ہمارے ملک میں روپے کی قدر میں بھی بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے تنخواہ کم اور تعلیم کی اہمیت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔

    ‏آخری جو بہت اہم وجہ ہمارے ملک میں ہمسایہ ممالک کا مختلف مواقع پر انتشار پیدا کرنا ہے ہمارے ہمسائے مخالف ممالک یہ نہیں چاہتے کہ ہم ترقی کرے مجھے حال ہی میں نیوزی لینڈ کی ٹیم جو کہ دورہ پاکستان کے لئے آئی تھی عین  ایک دن پہلے وہ ٹیم واپس روانہ ہوگی اور وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے بہت ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد یہ انکشاف کیا گیا کہ کہ ہمسائے ممالک نے پاکستانی ای میل کے ذریعے ایک پیغام بھیجا تھا تاکہ وہ پاکستان کے اندر ہونے والی معاشی خوشحالی کو روک سکیں۔

    ‏بظاہر انتشار پھیلانے والے بہت سے لوگ ہمارے اپنے ہی ملک میں موجود ہیں لیکن یہ مسئلے مسائل تب تک حل نہیں ہوسکتے جب تک ہم خود اپنے ملک کے ساتھ ساتھ ایمانداری نہیں دکھائیں گے۔کرپشن جیسا سنگین جرم ہمارے معاشرے میں اسی لئے پھیل رہا ہے کیوں کہ ہم صرف اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔

    ‏اسی طرح اکثر نوجوانوں کو جب مناسب نوکری کے لیے بلایا جاتا ہی تو یہ کہ کر انکار کر دیا جاتا ہے ک ان کے پاس تجربہ نہیں ہے ۔یہ تجربہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ان کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

    ‏ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ نظر آتا ہے ہے یہ بے روزگاری اتنی آسانی سے ختم نہیں کئے جاسکتے بلکہ ہمیں اس کے لئے ایک مکمل پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

    twitter : 

    @s_paswal

  • کیا لبرل بھی انتہا پسند ہوتے ہیں؟ ایک مولانا سے گپ شپ تحریر  : جواد خان یوسفزئی

    "ایک لبرل خستہ حال اگر انتہا پسند ہو بھی گیا تو وہ آپ کا کیا بگاڑ لے گا مولانا صاحب؟ آپ اس کے قلم کی سیاہی میں بہہ جائیں گے کیا؟ زبانی گولہ باری سے شہادت کا مقام پا لیں گے کیا؟ اس ڈرپوک مخلوق کو نہ توپ زنی آتی ہے اور نہ جنگ و جدل کے قرینوں سے یہ واقف۔ اس کا حال تو وہی ہے جس کا نقشہ اقبال نے کھینچا ہے؎

    کافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دل

    یہ ٹڈی دل مخلوق نہ مار سکتی ہے۔ نہ مروا سکتی ہے۔ اس کے دست میں نہ تیغ ہے نہ تفنگ۔ یہ معرکہء حق و باطل میں بھی فولادی نہیں ہوتے۔ تو ایسے گئے گزرے آپ سے اختلاف ہی کرسکیں گے۔ اپنا موقف پیش کریں گے۔ دلائل دیں گے۔ آپ کو سنیں گے۔ پلیٹ فارم میسر آگیا تو بولیں گے۔ مکالمہ ہوگا اور آخر میں سگریٹ کا کش لگا، یہ جا وہ جا۔”

    مولانا نے داڑھی پہ ہاتھ پھیرا اور اطمیان سے بولے "لبرل بھی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ یہ بھی قلمی اور زبانی دہشت گردی کرتے ہیں۔”
    "ایسی دہشت گردی؟ خدا کرے یہ انتہا پسند اور دہشت گردی اپنی تحریک طالبان سے لے کر تہاڈی تحریک لبیک تک، ہر گروہ، ہر ہر مزہبی انتہا پسند مسلمان کو نصیب ہو جائے۔ اس دن یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اصطلاحات ہی ڈکشنری سے نکال دئے جائیں گے۔”

    گفتگو یہاں تک ہوئی تھی اور مولانا مسلسل نفی میں سر ہلا رہے تھے۔ مگر ہم نے نظر انداز کیا، اور بات جاری رکھنے کی کوشش کی۔ مگر مولانا نے دائیں ہاتھ سے جھنجھوڑا اور دھکا دے کر منع کیا۔ وہ اپنی رائے پیش کرنے لگے۔
    "یہ جو تمھارا باپ امریکہ ہے۔ یہ لبرل سیکولر ہے۔ عراق شام، افغانستان، ہر جگہ خون کی ہولیاں جو کھیلتا ہے، آپ کو وہ نظر نہیں آئیں؟”

    "اے مولانا۔ خدارا اتنی چھوٹی سی بات دستار سے ہو کر کھوپڑی میں کیوں نہیں اتر رہی۔۔۔۔۔۔”
    "دیکھ اگر دستار زبان پر لائی۔۔۔” وہ ہاتھ اٹھاتے اٹھاتے رہ گیا۔ میں نے بات جاری رکھی۔

    "دیکھ۔ ممالک اور ریاستوں کے مفادات ہوتے ہیں۔ ان میں "ازم” بہت بعد کی بات ہوتی ہے۔ ہر ملک میں پاور پالٹکس ہوتی ہے۔ طاقت کا توازن، خطرات کا خوف، کسی ملک کے وسائل پر نظر جمانا، اپنی عسکری اور معاشی قوت کا اظہار کرنا، یہ سب ہر زمانے میں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے مغرب کا رخ کیا تو اسپین تک جا پہنچے۔ ادھر بائیں ہاتھ چلنا شروع ہوئے تو انڈونیشیا کو مسلم آبادی کا سب سے بڑا ملک بنا کر رہے۔ آس پاس ہاتھ پیر مارنے شروع کئے تو پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ جما لیا۔ یہ شوقِ جہاں بینی تو نہ تھا، جہاں بانی ہی تھا۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہاتھ کسی ایک انسان کا خون نہیں بہا اور فاتح عالم ٹہرے۔ یہ ممکن ہی نہیں۔۔۔۔

     بیک ٹو مائی ڈیڈ امریکہ۔ تو جناب امریکہ نے بےشک معصوم انسانون کا خون بہایا مگر وہ اس لئے  نہیں کہ سیکولر اور لبرل ولیوز اس کو یہ سکھا رہی تھیں۔ ہر گز نہیں۔ وہ اس لئے کہ پاور پالٹکس میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ جب سے دنیا بنی، کبھی چنگیز کی طرح صرف کھوپڑیوں کے مینار بنانے کے شوق نے چرایا تو کبھی سکندر اعظم کو فتح کا نشہ ملکوں ملکوں سیر کراتا رہا۔ کبھی امریکہ کو القاعدہ کا خوف لاحق ہوا تو کبھی مشرق وسطٰی کے قدرتی ذخائر پر نظر ٹک کر رہ گئیں۔ محمود غزنوی کو سومنات میں ہیرے اور جواہرات دکھائی دئے تو ہٹلر کے نسلی تفاخر نے یہودیوں کا قتل عام کروایا۔ یہ تاریخ کا سبق ہے۔ اس سے نہ میں انکاری ہو سکتا ہوں۔ نہ آُپ جھٹلا سکتے ہیں۔۔۔۔

     "بحث لبرل کے ہاں انتہا پسندی کی ہو رہی ہے۔ تو سرکار۔ جنگ عظیم دوئم کے دوراں کبھی لبرل حضرات کو پڑھئے۔ انہوں نے ناگاساکی اور ہیروشیما پر بم گرانے پر شادیانے نہیں بجائے تھے بلکہ ماتم کیا تھا۔ برٹرینڈ رسل لبرل تھا۔ وہ دونوں جنگ عظیم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ وہ دیکھنے کی شے ہے۔
    امریکہ کا نوم چومسکی ایک لبرل ہے۔ جب عراق پر امریکہ نے چڑھائی کی تو انہوں نے اسے مسلم کا خون نہیں سمجھا انسانیت کا خون سمجھ کر ماتم کنان ہوگیا تھا۔ کتابوں پر کتابیں لکھیں۔ لیکچر دئے اور ثابت کیا کہ صدر بش نے جو عراق میں حملے کا جواز دیا ہے، وہ بےبنیاد ہے اور کوئی "ماس ڈسٹرکشن ویپنز” نہیں ہیں۔

    دور کیوں جائیں۔ حق مغفرت کرے۔ عاصمہ جہانگیر ایک لبرل تھیں اور اسامہ بن لادن کی نظریاتی مخالف۔ جب ایبٹ آباد واقعہ ہوا تو اسامہ بن لادن کی بیویوں کو زیرحراست لیا گیااور تفتیش شروع ہوگئ۔ تب یہ لبرل ہی تھیں جو اسامہ کی بیویوں کی وکیل بن بیٹھیں اور ان کا دفاع کیا کہ امریکہ یا کوئی بھی ملک ایک بے گناہ شہری کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ وہ انڈیا مخالف نہ تھی مگر کشمیریوں پر مودی کی بربریت کے خلاف ایک توانا آواز تھی۔ ہندوستان مودی سرکار کو للکارنے والی اور کشمیریوں کے پامال حقوق کی جنگ لڑنے والی ارندھتی رائے لبرل ہیں۔
    یہ ایک طویل لسٹ ہے۔ آپ نے "لبرل انتہا پسند” اور لبرلزم کو سیاسی و ریاستی طاقتوں کے مراکز سے جوڑنے کی کوشش کی تو پیش کی۔ کل کلاں یہ نہ کہنا کہ امریکہ اور ہندوستان لبرلز ہیں اور انسانوں کا خون کر رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ رسل، نوم چومسکی، عاصمہ اور ارندھتی رائے لبرل تھے اور وہ انسانوں اور مسلمانوں کے حقوق کے لئے لڑتے رہے ہیں۔”

    وہ بولے "کیا آپ کے نذدیک صرف خون بہانا ہی انتہا پسندی ہے؟ زبان اور قلم ہتھیار نہیں ہیں جو لبرل آئے روز آزماتے ہیں؟”

    عرض کیا "اس کا جواب شروع میں دیا جا چکا ہے۔ اب کوئی اور بات کر۔ ایک کپ چائے پلا۔ آج ڈنر میں کیا کھلاؤ گے؟”
    "زہر”

    "آپ کی روایت رہی ہے۔ ہمارا ایک سقراط نامی بزرگ بھی پی چکا ہے۔ لائے۔”

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail

  • طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

    طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

     معاشرے میں طلاق کی بڑھتی شرح کا ذمہ دار کون؟

     آئےروز یہ بات سننے میں آتی کہ پڑھی لکھی خواتین میں طلاق کا تناسب اسلئے زیادہ کیونکہ ان میں صبر وبرداشت کی کمی ہوتی اور وہ اپنی تعلیم اور ملازمت کی اکڑ میں شوہروں کی محتاج ہو کر رہنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی حقیقت ہے؟ یا پھر ہمارے پدرشاہی معاشرہ نے ہمیشہ کی طرح مردوں کا جرم چھپانے کیلئے عورت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

     آج کل کے زیادہ تر شوہر بیوی تو خوبصورت، اعلیٰ تعلیم یافتہ، ملازمت پیشہ چاہتے لیکن سلوک نوکرانی سے بھی بدتر کرتے۔ ایسی مثالی بیوی ہوجو سارا دن چپ چاپ سسرال والوں کی خدمت کرے، بچے پالے، شوہر کی مار پیٹ و گالیاں برداشت کرے اور دنیا کے سامنے اپنے شوہر کو آئیڈیل شوہر کے روپ میں بھی پیش کرے۔ اور اگر زیادہ نافرمانی کرے تو تیل چھڑک کر جھلسا دی جائے اور بعد میں چولہا پھٹنے کا بہانہ بنا کر دنیا کے سامنے خودکو بے قصور ثابت کر دیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹی کو یہ کہہ کر رخصت کیا جاتا کہ اب ڈولی نکلی تو جنازہ ہی واپس آئے وگرنہ نہیں۔ اگر بدقسمتی سے شوہر یا سسرال خراب نکل آئے تو پہلے تو بیٹی کو مجبور کیا جاتا کہ وہ سمجھوتہ کرے کبھی بچوں کے نام پر، کبھی والدین کی عزت کے نام پر تو کبھی سماج کےخوف سے۔ لیکن اگر کوئی چارہ نہ باقی رہے اور نوبت طلاق تک آجائے تو والدین ایسے برتاؤ کرتے جیسے مر ہی گئے ہوں۔ بیٹی جو پہلے سے ہی ذہنی دباؤ اور جسمانی تشدد کا شکار ہوتی نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو مجرم سمجھنے لگتی۔ ایسے والدین کو نبی کریم ﷺ کا ارشاد پاک یاد رکھنا چاہیے کہ "میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اس کا نہ ہو۔” (ابن ماجہ) رہی سہی کسر عزیز رشتہ دار ہمسایے پوری کر دیتے کہ یقیناً لڑکی میں کوئی خامی ہوگی جو شوہر نے طلاق دی۔ کبھی چال چلن پر انگلی اٹھائی جاتی تو کبھی تنک مزاجی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا۔ اور آخر میں یہ کہہ کر زخموں پر نمک چھڑکا جاتا کہ ہماری بیٹیاں بھی تو ہیں اسی کو بسنے کا سلیقہ نہ تھا. شوہر کا نکما پن، متشدد مزاج، آوارگی، دوسری عورتوں سے ناجائز تعلقات غرض ہر بات کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا۔ طلاق یافتہ لڑکی کی زندگی تو جو جہنم بنتی سو بنتی لیکن اگر کوئی شوہر کےمظالم سے تنگ آ کر خلع کا فیصلہ کر لے تو اس کو سیدھا سیدھا خودسری و آزاد خیالی کا سرٹیفیکیٹ تھما دیا جاتا۔ خاندانی نام نہاد عزت خاک میں مل جاتی کیونکہ کورٹ کچہری کے چکر لگانے پڑتے اور اگر شوہر کمین فطرت ہو تو بدچلنی بھی ثابت کر دی جاتی۔ ان سب سے بچنے کیلئے آج بھی والدین بیٹی کو ہر قیمت پر اس کے گھر بسانا چاہتے پھر چاہے وہ اور اس کے بچے سسک سسک کر باقی ماندہ زندگی گزاریں، میکے والے خرچہ بھی اٹھائیں اور لڑکی خود بھی کولہو کا بیل بنے۔ یہ ہمارے معاشرے کی اس عورت کی ہلکی سی جھلک ہے جس کی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہوتی ہے۔ شوہر تو کیونکہ مجازی خدا ہوتا اسلیے اس سے تو غلطی ہو ہی نہیں سکتی ہاں بیوی کی معمولی غلطی پر وہ ضرور اسے دھنک کر بھی رکھ سکتا اور اسکے سر پر سوکن بھی لا سکتا۔

     لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں اس دور جدید میں بھی ایسی مظلوم عورت کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔ ہمارا معاشرہ جہاں مذہبی ٹھیکیدار ہوں یا فیمینزم کے علمبردار، پڑھے لکھے پروفیشنل ہوں یا ان پڑھ مزدور طبقہ، امیر ترین ہوں یا متوسط گھرانے، عملی طور پر عورت کیساتھ سلوک میں سب یکساں ہیں۔

     زبانی کلامی اعلی ترین مذہبی و سماجی اقدار کا حامل معاشرہ، عملی طور پر طلاق کا حقیقی تصور اور اسکی مذہبی و سماجی اہمیت سمجھنے سے تاحال قاصر ہے۔ ہم جانتے بوجھتے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے کہ طلاق ناپسندیدہ ترین لیکن جائز عمل ہے۔ جس کو مکمل رد نہیں کیا جاسکتا۔ طلاق کو شجر ممنوعہ سمجھنے والے کیا اس حقیقت سے واقف ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی دو صاحب زادیاں جو ابو لہب کے بیٹوں کے نکاح میں تھیں انہیں رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی تھی اور بعد میں یہ دونوں صاحب زادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمانؓ کےنکاح میں آئیں۔ اگر طلاق یافتہ ہونے کا مطلب داغ لگنا ہوتا تو کیا آنحضرت ﷺ کی بیٹیوں پر یہ داغ کبھی نعوذ باللہ لگتا؟

     کیا طلاق یافتہ عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺکی دو ازواج مطہرات مطلقہ تھیں۔ جن میں سے حضرت زینب بنت جحشؓ نےحضرت زیدؓ سے خود خلع لی تھی۔ کیا ہماری جرآت کہ ہم امہات المومنین کی کردار کشی کرسکیں یا یہ کہہ سکیں کہ وہ گھر بسانا نہیں جانتی تھیں؟ عورت کو اللّٰہ تعالیٰ نے مکمل انسان بنایا ہے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا

     "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے”

     زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی امانت ہے اسے ناقدر شناس کے ہاتھوں تباہ کرکے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ جو عورتیں بچوں کی خاطر گھٹ گھٹ کر سمجھوتہ کرتیں، شوہر کی ماریں کھاتیں انکےبچے گھریلو متشدد ماحول کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن جاتے اور بالآخر اپنی ماؤں کو ہی مورد الزام ٹھہراتے۔ ذندگی، رزق اور قسمت اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ان چیزوں کا مالک شوہر یا معاشرے کو سمجھنا نہ صرف جہالت بلکہ شرک ہے۔ ایک عورت انہی باتوں پر بلیک میل ہوتی اور اپنا نقصان کر بیٹھتی۔ یاد رکھیے اللّٰہ تعالیٰ ظالم نہیں نہ طلاق کوئی حرام یا پلید فعل ہے اگر ایسا ہوتا تو کبھی بھی قرآن کی پوری ایک سورت طلاق کے نام سے نہ ہوتی جس میں تمام احکامات پوری وضاحت کیساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ عورت کی شادی کا یہ مطلب نہیں کہ اسے بلی چڑھا دیا جائے اور وہ تاعمر اذیتیں سہتی رہے۔ اسلام عورت کو طلاق، خلع، علیحدگی کی صورت میں مکمل اختیارات دیتا ہے جن میں نان نفقہ سے لیکر بچوں کی سرپرستی تک تمام احکامات واضح ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستانی قانون بھی اس معاملے میں شرعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا۔ لیکن اس کیلئے اصل ہمت عورت کو کرنی ہو گی کہ اس نے ذہنی و جسمانی تشدد سہہ کر جینا یا باعزت و باوقار طریقے سے زندگی گزارنی!

    "جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے” (سورۃ الطلاق:03)

     لیکن یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بیشک میاں بیوی میں علیحدگی پر شیطان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا؛

     "جو عورت سخت مجبوری کے بغیر خود طلاق طلب کرے، اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے”(ابو داؤد) اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو ہر دور، ہر انسان اور ہر طبقہ فکر کیلئے مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ بحیثیت مجموعی ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یقیناً اسلام میں ہر فرد کے ہر حیثیت میں جامع ترین حقوق و فرائض متعین ہیں جن پر عمل کرکے ہی ایک بہترین عائلی زندگی اور مثالی معاشرہ کی بنیاد ڈالی جا سکتی

    "Syed Ghazi Ali Zaidi ”

  • ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    سیرت فرزندہا از امہات
    جوہر صدق و صفا از امہات
    (فرزندوں کی سیرت اور روش زندگی ما ؤں سے ورثے میں ملتی ہے۔صدق و خلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے۔ علامہ اقبال)

    ماں ایسا لفظ جو ہر زبان میں خوبصورت اور سکون و شفقت کا احساس دل میں جگاتا ہے۔ بچےکی پہلی درسگاہ ماں کی آغوش۔
    دور جدید کی چائلڈ سائیکالوجی ہو یا زمانہ قدیم کے اقوال زریں، ماڈرن تحقیقی مقالات ہوں یا مذہبی صحیفے، یورپین "ارلی چائلڈ ہوڈ ڈویلپمنٹ” کی بات ہو یا مشرقی تہذیب میں بچوں کی نشوونما، ماں کا کردار ہر حال میں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ جدیدیت و مادیت پرستی کی آڑ میں بچوں کی پرورش و تربیت میں ماں کے کردار میں کمی کرنا یا اسے متبادل طریقے اپناکر کم کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف ماں و بچے کیساتھ زیادتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بنیادی سبب بھی ہے۔

    "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا” نپولین بوناپارٹ
    تمام جدید سائنس و نفسیات اس بات پر متفق ہے کہ کسی بھی بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے جس میں بچے کی نہ صرف بنیادی جسمانی نشوونما ہوتی بلکہ ذہنی، نفسیاتی و شعوری نشوونما بھی تشکیل پاتی۔ اس عمر میں بچے کو سب سے زیادہ توجہ، محبت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی اگر کوئی کمی رہ جائے تو وہ مناسب سدباب نہ کرنے کی صورت میں تاعمر کیلئے روگ بن سکتی۔

    لیکن ہماری سماجی بدقسمتی کہیں یا ماڈرن و لبرل نظر آنے کی احمقانہ خواہش کہ ہم بغیر سوچے سمجھے اپنی نسلوں کو بگاڑ رہے اور ہمیں اس خسارے کا احساس تک نہیں۔ وہ ماں جس کی بدولت پورا معاشرہ تشکیل پاتا وہ جدیدیت و لبرل ازم کی رو میں بہہ کر اپنا اصل مقصد فراموش کر بیٹھی ہے۔ ذریعہ معاش و پیشہ ورانہ زندگی کیلئے تگ ودو کرتی مائیں اپنی اولاد یعنی اصل سرمایہ حیات کو جانے انجانے میں بے توجہی کی نذر کر رہی ہیں جبکہ گھریلو خواتین کا مرکز ارتکاز بھی اب اولاد کی پرورش سے ہٹ کر سماجی روابط اور سوشل و الیکٹرانک میڈیا تک محدود ہو گیا ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آج کل کی ماؤں میں اپنی اولاد کیلئے محبت و شفقت میں کمی آئی ہے۔ نہیں، ہرگز نہیں بس اب ترجیحات بدل گئی ہیں۔ان کے لیے بچے کے برانڈڈ کپڑے، امپورٹڈ کھلونےو مشینری، مہنگی تعلیم کا حصول زیادہ اہم ہے۔ مائیں ہلکان ہو جاتی ہیں کہ بچے مقابلے میں کسی دوسرے بچے سے پیچھے نہ رہ جائیں لیکن صد افسوس یہ مسابقت و مقابلہ بازی صرف اور صرف مادیت پرستی تک محدود ہے۔ آکسفورڈ و کیمبرج کی کتابیں تو فراہم کردیتی ہیں اور پڑھا بھی دیتی لیکن بنیادی اخلاقی اقدار سکھانے کا وقت نہیں۔ فروزن اور فاسٹ فوڈ تو کھلا دیں گی لیکن کھانے کے آداب نہیں سکھا سکتی کہ کون اپنے مصروف لائف سٹائل سے وقت نکال کر اس جھنجھٹ میں پڑے۔ بچے تھکے ہارے سکول سے آتے اور کھانا لیکر ٹی وی یا وڈیو گیم کے سامنے بیٹھ جاتے۔ نہ پتا کیا کھا رہے نہ پتا کیسے کھا رہے۔

    لیکن اس ساری صورتحال میں صرف ورکنگ وومن کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ گھریلو خاتون خانہ بھی برابر کی شریک کار ہے۔
    کیا آج سے تیس سال یا بیس سال پہلے ورکنگ وومن نہیں تھیں؟
    بالکل ہوتی تھیں اور ان کے بچے زیادہ منظم اور تمیزدار ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی ایک مخصوص نظم و ضبط کے مطابق بسر ہوتی تھی۔ جبکہ گھریلو خواتین کا کیونکہ مکمل دھیان بچوں کی پرورش پر ہوتا تھا اسلئے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوجاتا تھا۔ ہر دو قسم کی مائیں اپنی اولاد کیلئے ہمہ وقت موجود ہوتی تھیں۔ بچوں کی بھی بہترین و اولین دوست و رہنما ان کی ماں ہوتی تھی۔ ہر تکلیف، پریشانی، مسئلہ ماں کو بتانا لازمی ہوتا تھا۔اولاد جوان ہونے کے بعد بھی ماں کی نہ اہمیت کم ہوتی تھی نہ مقام میں کوئی فرق آتا تھا۔ لیکن کیا آج کل بھی ایسا ہے؟

    بیشک نہیں۔ معذرت و افسوس کیساتھ آج کل کے بچوں کا اولین رہنما ٹی وی اور بہترین دوست موبائل ہے۔ اخلاق باختہ مواد، بیہودہ زبان اور ہندی میں ڈب کیے گئےکارٹون ان کی تربیت کررہے اور معصوم بچوں کو پیارو محبت کے نام پر جنس زدہ کررہے۔ وہ والدین جو بچوں کو مکمل طور پرملازمین کے حوالے کر جاتے جو ان معصوموں کو ذہنی و جسمانی طورپر پامال کرتے ان کے کچے ذہنوں کو جنسی طور پر آلودہ کرتے اور پھر ہم حیران ہوتے جب ایک دس سال کا بچہ چار سال کی بچی کا ریپ کر دیتا۔ جب ایک چھ سال کا بچہ سکول کی اسمبلی میں نیکر اتار کر ننگا ہوجاتا یا بارہ سال کی بچی محبت کے نام پر حاملہ ہو جاتی۔

    یہ سب نہ توافسانوی قصے ہیں نہ ہی کسی ایک طبقے کی کہانی۔ بلکہ غریب ترین طبقے سے لیکر امیر ترین طبقے تک کے سچے واقعات ہیں جن کی تعداد ہر روز خطرناک طور پر بڑھ رہی اور ہم صرف ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے۔ ماڈرن اور مذہبی اقدار و تعلیمات کی جنگ میں ہم ان بچوں کو بھول گئے ہیں جو ہمارا مستقبل ہیں۔
    ماڈرن ماؤں کو احساس دلاؤ تو عورت مارچ والے شاہراؤں پر بینرز لیکر آجاتے اور قدامت پسند خواتین کو اصلاح کا کہو تو مذہبی ٹھیکیدار سڑکیں بلاک کردیتے۔ ہر دو اپنی اپنی جگہ بالکل ٹھیک لیکن پھر بھی بچے بگڑتے جارہے۔ یہ بگاڑ اب واضح ہو کر ایک بھیانک مستقبل کی نشاندہی کر رہا لیکن کوئی نہ سمجھنے کو تیار ہے نہ ذمہ داری لینے کو الٹا نشاندہی کرنے والے کو ہی لعن طعن کیا جاتا۔
    کیا یہ کھلی حقیقت نہیں کہ پہلے بچوں کو سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھائی جاتی تھی اور اب سٹوری بکس یا نرسری رائمز؟ سات سال کے بچے کو فجر کیلئے اٹھایا جاتا تھا لیکن اب بچے کی نیند خراب ہوگی یہ کہہ کر بڑے بچوں تک کو فجر کا نہیں پتا۔
    کیا یہ ہمارا المیہ نہیں؟پھر ہمیں ریاست مدینہ بھی چاہیے۔ کیا یہ بھی حکمرانوں کے کرنے کا کام ہے؟

    ماں کی تربیت کا مقابلہ دنیا کا مہنگے سے مہنگا تعلیمی ادارہ نہیں کر سکتا۔ ماڈرن ترین ماؤں کو یہ حدیث تو ازبر ہے کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے” لیکن ماں کی کونسی ذمہ داریاں ہیں جن کو پورا کرنے پر جنت کی بشارت ہے اس سے انجان ہیں۔ ماں کا کام اولاد کو پیدا کر کے پھینک دینا نہیں بلکہ اس کی تربیت کرنا ہے۔اولاد کو خوراک فراہم کرنا ماں کا کام نہیں بلکہ اسلام میں ایک ماں اپنے شوہر سے اپنے ہی بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ لینے میں بھی حق بجانب ہے۔ لیکن تربیت کرنا ماں کا اولین فرض ہے جس کیلئے وہ اللّٰہ تعالیٰ کو جوابدہ ہے۔

    ’’تم میں سے ہر کوئی نگران ہے اور اپنی رعایا اور ماتحتوں کے بارے میں تم سے جواب طلبی کی جائے گی‘‘۔ (صحیح بخاری)
    بچوں کا ذہن تو کورا کاغذ ہوتا ہے جس پر مستقبل کی بنیاد ہوتی۔ پھر چاہے اسے بہترین تربیت سے رنگیں و خوشنما بنا دیں یا ناقص و بدتر تربیت سے سیاہ کردیں۔ فیصلہ ماؤں کے ہاتھ میں ہے!
    خشت اول جوں نہد معمار کج
    تاثریا می نہد دیوار کج
    (اگر معمار پہلی اینٹ غلط اور ٹیڑھی رکھ دے تو دیوار کو بلندی تک ٹیڑھا ہونے سے کیسے روکا جا سکے گا)

    @once_says