Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    معاشرے میں جھگڑوں سے اپنے آپ کو کیسا بچایا جائے؟ | تحریر :عدنان یوسفزئی

    دین و دنیا کے لئے سب سے خطرناک چیز جھگڑے ہیں جو آدمی کی صلاحیت کو دیمک لگادیتے ہیں ۔

    معاشرہ انسانوں کے باہم مل جل کر رہنے کا نام ہے جس میں ہنسی خوشی کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ہر انسان کامزاج اللہ تعالیٰ نے مختلف بنایا ہے ۔ایک دوسرے کے ساتھ رہنے یا معاملہ کرنے میں اونچ نیچ ہوجاتی ہے جو بعض اوقات جھگڑے کی شکل اختیار کرجاتی ہے ۔

    زندگی کو پرسکون بنانے کیلئے شریعت میں ایسے مواقع پر ہمیں جھگڑوں سے بچنے اور صلح صفائی کیساتھ معاملہ کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے ۔

    اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے کے امین مسلمان جنہوں نے پوری دنیا کی قیادت کرنی تھی ہماری زبوں حالی کا یہ حال ہے کہ آج ہم گھریلو خاندانی کاروباری چھوٹے بڑے جھگڑوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔

    ایک حدیث میں حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جو جو نماز، روزے اور صدقہ سے بھی افضل ہے؟ 

    جھگڑے دین کو مونڈنے والے ہیں۔یعنی مسلمانوں کے درمیان آپس میں جھگڑے کھڑے ہوجائیں فساد برپا ہوجائے ایک دوسرے کا نام لینے کے روادارانہ رہیں، ایک دوسے سے بات نہ کریں، بلکہ ایک دوسرے سے زبان اور ہاتھ سے لڑائی کریں ۔یہ چیزیں انسان کے دین مونڈدینے والی ہیں ۔

    ہماری وہ صلاحیت جو خدمت دین میں صرف ہوتی تھیں وہ آج باہمی جھگڑوں کی نذر ہورہی ہیں ۔آج ہمارے معاشرے میں جھگڑوں کی شرح کس قدر ہے اس کا اندازہ حضرات مفتیان کرام سے پوچھے جانیوالے روزمرہ کے سوالات سے لگایا جا سکتا ہے یا وکلاء کے لفافوں میں زیرسماعت مقدمات کو دیکھا جاسکتا ہے ۔

    بے صبری اورجلد بازی ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے جس کا مشاہدہ آئے دن سڑکوں اور بازاروں پر کیا جاسکتا ہے ۔معمولی کوتاہی یا رنجش پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریبان ہوجاتے ہیں ۔صاحب زور مارپیٹ کرکے اپنی آگ بجھا دیتا ہے تو زبردست گالم گلوچ کرکے دوسرے کی عزت نیلام کررہا ہے ۔

    یوں معمولی رنجش پر جھگڑوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ہماری عدالتوں، کچہریوں اور تھانوں میں مقدمات کی بہتات ہمارے قومی مزاج کی آئینہ دار ہے ۔خاندانی یا کاروباری جھگڑوں کے حل کیلئے اگر انگریزی قانون کا سہارا لیا جائے تو عمریں بیت جاتی ہیں لیکن انصاف ملنا مشکل ہے ۔

    خدابیزار قوموں کے بنائے ہوئے اصول وقوانین سے ایک خدارسیدہ مسلمان کو کب اور کہاں انصاف مل سکتا ہے کاش قیام پاکستان کے بعد حقیقتاً قرآن وحدیث کی بالادستی ہوتی اور یہ ملک کلمہ طیبہ کی عملی تصویر پیش کرتا ۔

    لیکن ان حالات میں بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں نہیں، ہر وقت ہر جگہ ایسے بزرگ خدارسیدہ علماء حضرات موجود ہیں ۔جن کی خدمت میں حاضر ہو کر ہر مسلمان دینی اور اخروی مشکلات کیلئے دعا اور جھگڑوں میں تصفیہ کراسکتا ہے ۔

    حدیث شریف میں جھگڑا چھوڑنے کی یہاں تک فضیلت آئی ہے کہ جو شخص باوجود غلطی پر ہونے کے پھر بھی جھگڑا چھوڑ دے تو اسے جنت کنارے میں جگہ ملنے کی بشارت ہے ۔

    جن لوگوں نے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے اپنا جائز حق بھی چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ نے انہیں ضائع نہیں کیا بلکہ اس حق کا بدل نعم البدل کی صورت میں عطا فرمایا ۔

    ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے اپنی کروڑوں کی جائیداد کے سلسلہ میں دس سال تک مقدمہ لڑا ۔لیکن انصاف نہ ملا بالآخر بزرگوں کے مشورہ پر مقدمہ سے دستبردار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے سکون کی ایسی دولت بخشی جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔

    اس لئے اپنی دنیا کو پرسکون اور آخرت کو سنوارنے کیلئے جھگڑوں سے بچا جائے اور صبر اوردرگزر کرنا مسلمانوں کا دینی واخلاقی شیوہ ہے ۔جھگڑوں کو چھوڑیئے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجئے ۔

    اپنا حق معاف کیجئے اور دوسروں کے حق ادا کرنے کی فکر کیجئے پھر دیکھئے کیسی پرلطف زندگی گزرتی ہے ۔

    یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ روزانہ کچہریوں کے چکر لگ رہے ہیں اور خدا کے دشمن انگریز کے قانون سے انصاف کی بھیک مانگی جارہی ہے بھلا مسلمان کو دشمن خدا سے انصاف ملے گا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • بے جا آزادی تحریر : شاہ زیب

    بے جا آزادی تحریر : شاہ زیب

    موبائل فون دور حاضر کی اہم ترین ایجاد اور ضرورت ہے یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس نے بہت کم عرصہ میں انسانی زندگی پر قبضہ کر لیا ہے، جی ہاں ! آج کل ہر کوئی چاہے وہ بوڑھا ہو جوان ہو یا بچہ اس کے سحر میں گرفتار ہے، اج کے معاشرے میں تقریباً ہر شخص نے اپنی حثیت کے مطابق موبائل فون رکھا ہے، کسی کے پاس مہنگا ہے تو کسی کے پاس سستا ہے ، لیکن اس ٹیکنالوجی سے استفادہ سب لوگ حاصل کر رہے ہیں۔۔

    رکیئے!! کیا ہم صرف اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں ؟ یا اس کا غلط استعمال بھی کر رہے ہیں۔؟

    کسی بھی ایجاد کے بعد یہ انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس کا کس طرح استعمال کرتا ہے جہاں موبائل فون کے بے انتہا فوائد ہیں وہیں اس کے غلط استعمال بھی ہیں۔

    اج بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی میں اس ایجاد سے فائدہ حاصل کرنے کی بجائے نقصان زیادہ حاصل کیا جا رہا ہے 

    لوگوں کی ہر قسم کے مواد تک رسائی اور نوجوان نسل پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ بری عادتوں میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں۔۔

    والدین نے بچوں کو سمارٹ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت تو مہیا کر دی ہے لیکن ان کو اس کا درست استعمال نہیں بتایا ، نوجوان نسل صحت مندانہ سرگرمیوں کی بجائے سارا وقت اس کی وجہ سے ضائع کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ بہت تیزی سے مختلف نقصانات کا شکار ہو رہے ہیں

    سب سے بڑا نقصان تو جسمانی بیماریوں میں بے تحاشہ اضافہ ہے ماہرین طب کے مطابق موبائل فون کے بے جا استعمال سے لوگوں میں زہنی دباؤ، پریشانی، سر درد، نظر کا کمزور ہونا، اور دل کی بیماریوں کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں شامل ہیں، کسی بھی چیز کی زیادتی ہمیشہ نقصان کا باعث بنتی ہے اسی طرح موبائل فون ہے اس کے غلط استعمال نے ہماری نوجوان نسل کی اخلاقی لحاظ سے نہایت گراوٹ کا شکار کر دیا ہے، اس انٹرنیٹ کی سہولت جواب پر ایک کو میسر ہے اور سوشل میڈیا تک رسائی جس کا جو دل چاہتا وہ پوسٹ کر دیتا ہے کسی کو کسی کی عزت کا خیال نہیں کوئی بھی غلط الزام لگاتا ہے اور بجائے اس بات کے ثابت ہونے کے انتظار کرنے کے ، لوگ خود سے فیصلہ کر کے اس انسان کو مجرم قرار دے دیتے ہیں اور اس کی عزت نفس کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔،

    اگر اپ کے پاس کسی بھی قسم کا اختیار ہے آزادی ہے تو یہ اپ کا امتحان ہے کہ اپ اس کا استعمال کسی طرح کرتے ہیں؟ یہ اپ پر منحصر ہے کہ اپ اس آزادی کا درست استعمال کر کے اپنے ملک کی عزت بڑھاتے ہیں یا پھر غلط استعمال سے اپنی بے وقوفی کے ہاتھوں ملک کی بدنامی میں حصہ دار بنتے ہیں۔۔۔

    @shahzeb___

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو تحریر سیدہ ام حبیبہ

    ظلم رہے اور امن بھی ہو

    قائین محترم جہالت کی ضد علم ہے

    تاریکی روشنی کو مات دیتی ہے

    صبح و شام ایک ساتھ ضم نہیں ہو سکتے.

    ہماری قوم کی یاداشت کمزور ہے یا ہماری جمہوریت کے پیچھے متحرک قوتیں ملک کے وسیع تر مفادات میں قوم کو ذہنی ہیجان سے گزارنے میں اور یاداشت کو مسخ کرنے میں ماہر ہیں.

    اور ہم بھی ایسی قوم ہیں کہ یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ

    چلو اچھا ہوا ہم بھول گئے

    ہماری قوم جابجا یہ بھی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے.

    ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں .

    مگر ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ ان ہی دہشت گردوں کی عام معافی کے اعلانات کیے جائیں؟ کس سے پوچھ کر ؟

    کیا اس ماں سے پوچھا گیا جسکا نازوں سے پالا نوخیز جوان ذبح کر کے اس کے سر سے فُٹ بال کھیلا گیا؟

    اس بہن سے پوچھا جسکا اکلوتا بھائی سہرا سجانے اے چند دن پہلے وردی میں ہی دفنانا پڑ جائے؟

    اس قوم سے پوچھا جس نے دہشت گردی کے لیبل کے ساتھ گلی گلی اور ملکوں ملکوں رسوائی برداشت کی پابندیاں برداشت کیں؟

    ملک کا ایسا کونسا مفاد ہے کہ اے پی ایس کے شہداء کے قاتل ہنس ہنس کر آپ کے ٹی وی چینل پہ بیٹھے ہوں اور شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے ہنستے قاتل کو دیکھ کر خون رو رہی ہوں.

    کل نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے عین پہلے دورہ ختم کر کے نکل جاتی ہے. قوم تڑپ اٹھتی ہے کہ 18 سال بعد کرکٹ کے رنگ وطن لوٹے ہی تھے کہ سب ایکا ایکی ختم ہو گیا.

    تمام تبصرے قابلِ بحث نہیں ..کچھ آستین کے سانپ زہر اگلتے رہے اور کچھ نمک حلال اپنے نہ ہو کر بھی ہمت بنے رہے.

    مدعے کے بات یہ تھی کہ دورے کی منسوخی میں کہیں نہ کہیں طالبان کی حمایت وجہ بن رہی تھی اور سر دھنیے افغان طالبان نہیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور وہ بھی عام معافی جیسی بات وہ بھی ان درندوں کے لیے جن کے سر پہ ستر ہزار پاکستانیوں کا بے گناہ خون ہو.

    دشمن وار جانے نہیں دیتا مگر ان کا کیا کریں جو دارالحکومت کے دامن میں دہشتگردی کی دکان سجائے بیٹھے ہیں.اور آج اسلام آباد کی پولیس کو لیکچر دیتا مہتمم کہتا ہے

    "پاکستانی طالبان آئیں گے تمہارا حشر نشر کریں گے”

    ریاستی ادارے کو دہشتگردوں کی دھمکی پہ وزیرِ داخلہ خاموش وزیرِ دفاع ناپید ؟

    ہمارے وطن کے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں ناں کہ مقتولین کے حق میں بھی نغمات جاری کر لیں اور قاتلوں کو بھی معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیں تو ان اے کہدیجیے…

    ظلم رہے اور امن بھی ہو

    کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    اپنے ہونٹ سیے تم نے

    میری زباں کو مت روکو

    تم کو اگر توفیق نہیں

    مجھکو ہی سچ کہنے دو

    ظلم رہے اور امن بھی ہو…

    @hsbuddy18

  • پاکستانی ثقافت تحریر : تعمیر حسین

    پاکستانی ثقافت تحریر : تعمیر حسین

    پاکستانی رہن سہن،تہذیب اور بدوباش کو پاکستانی ثقافت کہتے ہیں۔ پاکستانی قومی لباس شلوار قمیض ہے اور پاکستان کے دیہی علاقوں میں  سادہ کھانا پینا پسند کیا جاتا ہے۔

     دیسی کھانے بالخصوص مکھن ساگ کے ساتھ   ہر کوئ خوشی سے کھانا پسند کرتا ہے ۔ سبزیاں گھروں میں اگائ جاتی ہیں اور ایسی تازہ سبزیاں صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہوتی ہیں کیونکہ ان میں مصنوعی کھادوں کا کم سے کم استعمال کیا جاتا ھے  ۔ کیونکہ ثقافت  دنیا میں پہچان کا باعث ھوتی ھے اس لیے ھمیں پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لیے کوشاں رہنا چاہیے ۔مغربی طور طریقے اپنانے سے ہم اپنی ثقافت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، جس کا ادراک ھمیں مستقبل قریب میں ھو جاے گا۔ 

     پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جو پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کے تمامی صوبوں میں  الگ الگ زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جیسے کہ بلوچستان میں بلوچی ، سندھ میں سندھی ، خیبر پختونخواہ میں پشتو اور پنجاب میں پنجابی،  لیکن اردو زبان ہر صوبے میں بولی جاتی ہے۔

     چاروں صوبوں کے رہن سہن میں فرق ہے۔ ہر صوبے کا منفرد لباس اور کھانے پینے کے طور طریقے اور رسم ورواج مختلف ہیں ۔ دیہی علاقوں میں کچے مکان اب بھی موجود ہیں وہاں کی طرز زندگی شہروں سے بہت مختلف ہے۔ گاوں کے سادہ سے لوگ اور انکا مل جل کے رہنا انتہائ متاثر کرتا ہے شہروں میں ہر سہولت موجود ہے مگر اتنی مصروف زندگی ہوگئ ہے کہ ہر کوئ بس اپنی زندگی میں مگن ہے۔ مغربی طور طریقے اپنائے جا رھے ھیں  اور اپنی ثقافت کو بھولایا جا رھا ھے ، اگر ایسا ہی رہا تو مغربی طور طریقہ غلبہ پا لے گا اور ہماری اپنی پہچان ختم ہو جائے گی۔ اپنی ثقافت کو اپنائیں یہی ہمارا کلچر ہے ۔ ہمیں انگریزوں سے آزادی  اس لیے نہیں دلوائ گئ کہ ہم انکے نقشے قدم پہ چلیں  ہم کو اپنی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے ۔ اپنی پہچان کو زندہ رکھیں تا کہ ھمارا شمار زندہ اقوام میں ھو ۔

    قبائلی علاقوں میں پشتو زبان بولی جاتی ہے خیبرپختون خواہ کے زیادہ تر علاقوں میں پشتو بولی جاتی ہے۔ پٹھان لوگ بہت محنتی جفاکش اور جنگجو ہوتے ہیں۔ اپنا کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ھیں۔ دھنبے اور بکرے کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ مہمان نوازی میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ھیں۔ خوشی کے موقع پر خوشی کا اظہار ہوائ فائرنگ سے کرتے ہیں۔

    پاکستانی کھانے دنیا بھر میں  اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اور بہت زیادہ پسند کیے جاتے ہیں جیسا کہ بریانی ،مچھلی کباب تکے وغیرہ وغیرہ۔

     ہر علاقے کی شادی بیاہ کی رسمیں بھی الگ ہیں ۔ ہر قوم کے شادی بیاہ کا انداز ہی نرالا ھے۔ پنجاب میں شادی کا اہتمام زور و شور سے کیا جاتا ھے۔ شادی کے دن سے پہلے ہی گھر میں مختلف تقاریب کا آغاز ھو جاتا ھے اور دور دراز کے رستہ دار شادی میں شرکت کے لیے پہلے ہی آ جاتے ھیں۔ ڈھولک رکھی جاتی ھے ۔ پرات پر ٹپے ماہیے گاے جاتے ھیں جو کہ بے حد پسند کئیے جاتے ھیں۔ پرات لڑکیاں رکھتی ھیں اور اپنے فن کا اظہار کرتی ھیں ۔ ٹپے ماہیے پنجاب کی شان ھیں ۔

    پاکستان کے ہر علاقہ میں شادی بیاہ کا انداز ہی نرالہ ھے۔

     ہر علاقے کا اپنا کھیل ہے جیسا کہ پنجاب میں دیہات میں  گلی ڈنڈا  بہت زیادہ کھیلا جاتا ھے۔ شٹاپو، لکن میٹی  اور بہت سے کھیل کھیلے جاتے ھیں۔ لیکن   کرکٹ ہر علاقے میں پائی جاتی ھے اور اس کو نوجوان نسل بڑے شوق سے کھیلتی ھے۔

    غرض کھیل سے لے کر زندگی کے تمام پہلوئوں کے متعلق ھماری ثقافت ھماری راہنمائی کرتی ھے اور ھماری پہچان بنتی ھے۔

    اگر ہم کسی ملک میں جا کے بھی اپنا طور طریقہ نہیں بدلتے اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں تو یہی ملک سے محبت ہے۔ ہمیں اپنی پہچان، اپنی ثقافت کو ہر حال میں زندہ رکھنا چاہیے تا کہ ھماری آنے والی نسلوں کو اپنی ثقافتی ورثے کا پتہ ھو۔ یہ ثقافتی ورثہ آئندہ آنے والی نسلوں کی امانت ھے جو کہ ھمیں ان تک پہنچانا ھے۔ ہماری پہچان ہمارا ملک پاکستان ہے دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں اپنی شناخت قائم رکھیں۔

    پاکستان پائندہ باد

    Official Twitter Account @J_Tameer 

  • سعادت حسن منٹو تحریر عزیزالرحمن

    سعادت حسن منٹو تحریر عزیزالرحمن

    سعادت حسن منٹو کے بارے میں کچھ کہنا یا لکھنا میرے
    لئے بہت مشکل ہے ۔یہ تو منٹو سے محبت اور عقیدت کا تقاضا ہے کہ اس کے اظہار میں قلم اٹھانے کی جسارت کر رہاہوں ۔
    سعادت حسن اور منٹو دو الگ اورعلیحدہ قسم کی شخصیات ہیں اسے حسن اتفاق کہیے کہ خالق نے منٹو کو تخلیق کرتے وقت سعادت حسن کو بھی پیدا کر دیا۔ منٹو چونکہ ایک بہت غیر معمولی قسم کا کردار تھا اور اس کو سنبھالنے اس کا بوجھ اٹھانے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کے لئے بھی بہت ہی منفرد قسم کا فرد درکار تھا چنانچہ یہ خدمت سعادت حسن کے مقدر میں لکھ دی گئی۔
    سعادت حسن متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر کے کوچہ وکیلاں میں پیدا ہوا۔ اس کے والد پیشے کے اعتبار سے جج اور ذات کے حوالے سے کشمیری تھے۔ غلام حسن منٹو نے دوشادیاں کی تھیں۔ دوسری شادی ایک افغان خاتون سردار بیگم سے ہوئی اور اسی خاتون نے سعادت حسن کو جنم دیا۔ اس کی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد ہی غلام حسن منٹو نے ملازمت چھوڑ دی جس سے گھر کی کمزور مالی حالت پر ایک بڑے کنبے کا گزارہ کرنا کافی مشکل ہو گیا۔ اسی مشکل کے باعث سعادت حسن جس کے کندھوں پر منٹو بھی سوار تھا اسے مناسب توجہ نہ مل سکی جس کا وہ حقدار تھا۔ چنانچہ اپنے سوتیلے بھائیوں کی نسبت تعلیمی میدان میں وہ بہت پیچھے رہ گیا اور بچپن سے ہی امرتسر کے آوارہ مزاج لوگ اور پوشیدہ و پیچیدہ گلی کوچے سعادت حسن کے ہم سفر بن گئے۔ میٹرک کے امتحان میں متعدد بار ناکام ہونے کے بعد بڑی مشکل سے تھرڈ ڈویثرن میں پاس ہوا، اس کے بعد امرتسر کے ہی ایک کالج ’’ہندوسبھا‘‘میں داخلہ لیا، کچھ عرصہ فیض احمد فیض کے سامنے زانو تہہ کئے مگر جلد ہی طبیعت لکھائی پڑھائی سے اچاٹ ہو گئی اور عاشق علی فوٹو گرافر اور فضلو کمہار کی دکانیں اس کے لئے عظیم مکتب ٹھہریں۔ یہیں سے سعادت حسن کے ہمزاد منٹو نے جوا بازی اور شراب نوشی کے دھندے اختیار کئے۔ اسی اثناء ایک دوست کے کہنے پر علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں تقریباََ تین ماہ کے قیام کے بعد بیماری کے سبب کوچ کر گیا۔ اسی دوران منٹو کی مشہور اشتراکی ادیب باری علیگ سے ملاقات ہوئی جو اس وقت امرتسر سے شائع ہونے والے ایک اخبار ’’مساوات‘‘کے ایڈیٹر تھے، یاد رہے باری علیگ کا ’’’عسرت کدہ‘‘آج بھی پرانی انار کلی لاہور کے ایک مختصر سے مکان میں قائم ہے ۔
    باری علیگ کی صحبت نے منٹو کو سنجیدگی سے ادب کی طرف راغب کیا باری علیگ کے ایماء پر منٹو نے مشہور روسی تصینف’’ایک اسیر کی سرگذشت اورویرا‘‘ کے تراجم کئے جو آج بھی اپنی ہیت اور روانی بیان میں بے مثل ہیں۔ امرتسر میں سعادت حسن کی مالی بدحالی جب حد سے بڑھ گئی اور اسے چھوٹے سے شہر میں اسے کوئی چارہ اور چارہ کار دکھائی نہ دیا تو وہ دہلی چلا آیا، جہاں وہ آل انڈیا ریڈیو کے لئے پروگرام لکھا کرتا تھا۔یہیں پر اس نے ریڈیو کے لئے ڈرامے بھی لکھنا شروع کر دئیے۔ منٹو دہلی سے بھی جلد ہی اکتا گیا اور اگلی منزل سر کرنے کے لئے بمئبی کو ٹھکانہ بنا لیا۔ بمئبی منٹو کی حیات میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے اسی شہر میں رہتے ہوئے منٹو کو فلمی زندگی کے فراڈ سمجھنے کا موقع ملا۔ معروف ادیب، محقق اور نقاد اینس ناگی لکھتے ہیں کہ ممبئی میں منٹو کے شب و رزو مختلف فلم کمپنیوں میں بسر ہونے لگے، ممبئی میں قیام کے دوران منٹو کی ادبی شہرت مسلم ہو چکی تھی۔
    انیس ناگی لکھتے ہیں قیام پاکستان کے بعد منٹو کی زندگی ایک نئی کشمکش سے دوچار تھی، اس نے جہاں سے زندگی شروع کی تھی وہ اسی مقام پر کھڑا تھا۔جب وہ ممبئی گیا تو نوجوان تھا، نادار تھا، جب وہ پاکستان آیا تو مشہور تھا ،ادھیڑ عمر شروع ہونے والی تھی، وہ نادار تھا۔چند ہی برسوں میں اس کی صحت شراب اور غربت کی نذر ہو گئی۔ قیام پاکستان کے بعد منٹو نے امروز، وفاق اور احسان میں مضامین لکھنے شروع کئے۔اس کی پندرہ کتابیں شائع ہوئیں۔ فحاشی کے الزام میں اس پر تین مقدمات بھی دائر ہوئے۔ منٹو کی مالی حالت بد سے بد تر ہوتی گئی صفیہ منٹو کی بیوی اس کے عزیز واقارب منٹو کے گھر، اور اس کی تین بچیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ منٹو نے ’’ کفن‘‘ میں اپنی صور تحال کے بارے فریاد کی لیکن کوئی ادبی بورڈ یا ثقافتی ادارہ حرکت میں نہ آیا ،جسم کا زوال ،فن کا زوال،مالی زوال منٹو نرغے میں تھا۔ اس کا جواز حیات ختم ہو چکا تھا۔اس کے لئے ایک ہی راستہ تھا چنانچہ اس نے وہی راستہ اختیار کیا۔ منٹو موت کے وقت بھی خوف وہراس سے مغلوب نہیں تھا، نہ وہ اپنی مغفرت کا طلبگار تھا، اس نے نہ کوئی وصیت کی تھی نہ ہی اپنے پسماندگان کے لئے کسی بوکھلاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ جو شخص زندگی بھر بیمار رہا ہو، تنگ دستی کا شکار ہو۔ جسے اپنے ہنر کی داد نہ ملی ہو۔ جو ہمیشہ معتوب رہا ہو اور جس نے امید کے بغیر زندگی بسر کی ہو۔ اس کے لئے موت کوئی خطرہ نہیں ہے۔ منٹو کے لئے زندگی کو اپنی منطق کے مطابق بسر کرنا موت سے زیادہ تکلیف وہ عمل تھا،کیونکہ زندہ رہنے کے لئے اسے ایک پورے نظام سے متصادم ہونا تھا منٹو کی زندگی کا آغاز بھی بدترین حالات میں ہوا اس کا انجام بھی بدترین حالات میں ہوا۔ اس نے امر تسر کے کوچہ وکیلاں سے لکشمی میشن لاہور تک پہنچتے پہنچتے انسان کی پوری نفسیات کا سفر کیا، وہ اپنے لئے خود موضوع بھی تھا اور معروض بھی۔
    منٹو کے بارے دنیا میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، بہت ساری یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی سطح کے مقالمے لکھے جا چکے ہیں اور مزید تحقیق جاری ہے۔چنانچہ میں منٹو کے فن اس کی سوچ، اس کے طرز تحریر ، اسلوب یا افسانوی سے متعلق کچھ لکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا، میرے نزدیک تو وہ اُردو افسانوی ادب میں کسی بھی طور سے استاد سے کم نہیں ہے، وہ پہلا قلمکار ہے جس نے اپنے قلم سے جدید اُردو افسانے کے لئے زمین کھودی۔ اسے ہموار کیا، اسے نرم کیا، اس میں جدید افسانے کا بیج بویا اور پھر عمر بھر اس بیج سے نکلنے والی کونپلوں کو درخت بنتا دیکھتا رہا۔
    افسوس کہ وہ اس کی چھاؤں میں بیٹھ نہ سکا۔

    @The_Pindiwal

  • مرد بنو تحریر   زوہیب خٹک

    مرد بنو تحریر زوہیب خٹک

    ۔

    بچپن سے سنتے آئے ہیں مرد ہو بہادر بنو مرد روتے نہیں مرد کو درد نہیں ہوتا مرد کو ٹھنڈ نہیں لگتی وغیرہ وغیرہ ۔۔ ان سب باتوں میں بیچارا مرد اپنی انا کی تسکین کا غلام بن جاتا ہے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی پہلا مشن ہوتا ہے ماں باپ کا سہارا بننا بہنوں کی شادی کوئی چھوٹا موٹا زمین کا ٹکڑا پھر اس پر گھر کی تعمیر الغرض اپنی خواہشات اور ضرورتوں کا گلا گھونٹ کر وہ اپنے فرائض پورے کرتا جاتا ہے پھر کہیں خوش قسمتی سے اچھا جیون ساتھی مل جائے تو اس کی خدمت میں دن رات ایک کر دیتا ہے بوڑھے ماں باپ کا خیال اور اپنی ازدواجی زندگی دونوں کو متوازن رکھ کر چلنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے ۔ ساس بہو کے جھگڑوں میں پِستا ہے تو سمجھ نہیں پاتا کس کے حقوق پورے کرے ایک طرف ماں باپ دوسری طرف جیون ساتھی ۔وہ پھر بھی مرد بن کر سب جھیلتا ہے ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ دونوں کے حقوق میں کوئی کوتاہی نا ہو ۔ زمانے بھر کی ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن کبھی شکوہ نہیں کرتا کہ میں تھک گیا ہوں کیونکہ وہ مرد ہے۔ جب بہن کا بھائی ہوتا ہے تو اس کی حفاظت کرتا ہے جب بیوی کا شوہر بنے تو اس پر اپنی جان قربان کرتا ہے ۔بچوں کی پرورش میں جی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ اور اس سب میں وہ کوئی احسان بھی نہیں جِتاتا اس نے اپنے باپ دادا کو بھی یہی کرتے دیکھا اور وہ خود بھی یہی سب اپنا فرض سمجھ کر کرتا ہے ۔ دکھ میں ہو تو رو نہیں سکتا تکلیف میں ہو تو اظہار نہیں کر سکتا کیونکہ اسے یہی پڑھایا سمجھایا گیا ہے تم مرد ہو ۔۔ یہی میرے معاشرے کے بیشتر مردوں کی کہانی ہے جو اپنے اپنے فرائض بخوبی نبھا بھی رہے ہیں ۔اور یہی ہمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ہاں آج بھی ماں بہن بیٹی بہو جیسے رشتے عقیدت کی حد تک محبت سے دیکھے جاتے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ برے مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر اور اس نمک برابر تعداد پر کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ میرا جسم میری مرضی ۔ اس نعرے کا سب سے پہلا شکار کون ہوا ؟ جی ہاں "مرد” جسے ظالم جابر سفاک بھیڑیا بنا کر پیش کیا گیا سڑکوں اور چوراہوں میں اس مرد کا تمسخر اڑایا گیا ننگی گالیاں دی گئیں بغاوت کے شادیانے بجائے گئے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتی نوجوان نسل بیٹیاں چیختی چلاتی پائیں گئیں "باپ سے لیں گے آزادی” یعنی باپ نے آزادی دی تھی تو آج سڑک پر اسی کی پرورش پا کر اسی کے خلاف اعلانِ بغاوت کر دیا گیا ۔ پورے ملک کو دکھایا گیا کہ ہمارا مرد ہماری پیروں کی زنجیر بن چکا ہے ہمیں آزادی چاہئیے ۔ بھلا کون سی آزادی ۔۔؟ وہ جہاں ماں بہن بیٹی بہو کے رشتے بے معنی ہیں ۔۔؟ امریکہ کی کونڈولیزا رائس کا بیان تاریخ کا حصہ ہے کہ "پاکستان کی عورت بہت محفوظ ہے جسے بچپن سے بھائی اور باپ تحفظ دیتے ہیں اور پھر جوانی سے تا مرگ شوہر اس کی حفاظت کرتا ہے۔ پاکستان کی طاقت خاندانی نظام ہے جسے ہم امریکہ میں کھو چکے ہیں”۔ یہ اسی آزاد معاشرے کی سب سے بڑے عہدے پر فائز عورت کا کہنا ہے ۔ لیکن کیا کہئیے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا ۔ مرد جو خاندانی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اسے توڑ دیا گیا تو ہم اپنے خاندانی نظام کو بچا نہیں پائیں گے ۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • ھماری سو کالڈ سوسائٹی تحریر ہما عظیم

    ھماری سو کالڈ سوسائٹی تحریر ہما عظیم

    ھماری سو کالڈ سوسائٹی
    سگریٹ کے ڈبی پہ لکھوا لیتی ھے
    کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ھے
    زھریلی ادویات پہ لکھوا لیتی ھے
    کہ بچوں سے دور رکھئیے
    صحت کے لئے مضر ھے وغیرہ وغیرہ
    لیکن گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ جیسے
    نامحرم تعلقات کے بعد پیدا ھونے والے
    خطرات و حالات کے بارے میں بات نہیں کرتی۔۔مگر
    زرا سا ان نا محرم نا جائز و حرام رشتوں پہ
    سچ بات کہہ دو سچ کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دو
    تو بڑے بڑے اعلی تعلیم یافتہ لنڈے کے لبڑلز
    کو آگ لگ جاتی ھے ۔۔
    نور مقدم کیس کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔
    بچپن سے جوانی تک کا ساتھ تھا ظاھر جعفر کا اور نور مقدم کا۔۔
    آپس میں دونوں فیمیلیز کی اتنی انڈرسٹینڈنگ تھی
    کہ نور کو رات گزارنے تک کی آزادی تھی جعفر کے گھر میں۔۔
    اس دن بھی نور اپنے والدین کو یہ بتا کر گئی کہ
    وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تین چار دن کے لئے ناردرن ایریاز میں جا رھی ھے۔۔۔
    اتنے عرصہ کے تعلقات کے باوجود ایسا کیا ھو گیا کہ جعفر نے اس بے دردی سے اس بندی کا قتل کیا ؟؟
    جو بھی ھوا ؟
    جو بھی وجوھات تھیں؟
    غلط ھوا ؟
    لیکن سب اسی بات پہ شور مچا رھے ھیں کہ یہ کیوں ھوا ؟
    ” یہ کیوں ھوا ” کہ علاوہ یہ سوال بھی ہونا چاہئیے کہ "ایسا کیوں ہوا……؟”
    ہم جب جب اپنے محرم رشتوں کی بنی حفاظتی زنجیر سے باہر نکلیں گے تب تب انسانی شکل میں موجود بھیڑیوں کو اپنے انتظار میں پنجے تیز کئیے تیار پائیں گے۔بظاہر یک کھڑے آپ کے لئیے نعرے لگارہے ہونگے آپ کو باہر کی آزادی کگ سبز باغ دیکھائیں گے مگر اصل میں خود بھوکے حوس کی پیاس لیئے اپنے شکار کو رجھا رہے ہوتے ہیں۔ہماری معصوم لڑکیاں جب ان کے جھانسے میں آجاتی ہیں تو یہ نفسیاتی انسان یا تو انہیں نورمقدم کیس کی طرح مار دیتے ہیں یا پھر کمزور کر کے کسی اور کے شکار کے۔ لئیے چھوڑ دیتے ہیں
    اور زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان جنگلی بھیڑیوں کے ساتھ عورت کی دشمنی میں عورت ہی میدان میں نکل آئی ہے۔ عورت جو عورت کا آئینہ ہے۔کہا جاتا تھا عورت ہی عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہے۔اب ظلم یہ ہو گیا ہے عورت ہی عورت کی دشمن بن چکی ہے۔وہ بھی معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر جھوٹے خواب دکھا کر مردوں کی سوسائٹی میں لاکر تر نوالہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔
    مقصد بات کا یہ ہے کہ
    کل اپنی بچیوں کو صرف یہ نہ بتائیں کہ
    نور مقدم کے ساتھ ظلم ھوا۔۔
    یہ بھی بتائیں کہ نور کے ساتھ ایسا ظلم صرف اس لئے ھوا
    کیونکہ نا محرم کے ساتھ تعلقات کا ایسا ھی انجام ھوتا ھے
    تحریر ہما عظیم
    @DimpleGirl_PTi

  • زہر کا گھونٹ  تحریر بسمہ ملک

    زہر کا گھونٹ تحریر بسمہ ملک

    میرے ہاتھ میں زہر کا پیالہ تھا۔ میں نے دھندلی نگاہوں سے اردگرد دیکھا، تو چند لوگ میرے آس پاس موجود تھے، مگر ان میں سے کوئی بھی میرے قریب نہیں آیا ، سب مجھے دور کھڑے دیکھ رہے تھے۔ زہر تو مجھے پینا ہی تھا ، پھر کیوں کسی کا انتظار کرتی۔ جیسے ہی میں نے پیالہ منہ سے لگایا۔ایک چیخ نما آواز آئی عائشہ۔۔۔۔۔۔۔!!! اور میری آنکھ کھل گئی ، اسی کے ساتھ میرے جسم کو جھٹکا سا لگا تھا۔ ہوش کی دنیا تک آتے آتے میں سوچ رہی تھی کہ شاید کسی نے وہ پیالہ مجھ سے چھین لیا تھا ، وہ شاید ابو تھے۔ ذہن پر زور دیتے خواب کے منظر کو دہراتے میں آٹھ گئی تو دیکھا امی سرہانے ہی کھٹی تھیں ” بے وقت کیوں سوئیں…..؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ؟ ” انہوں نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ جی ٹھیک ہوں ۔ بچے کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟ اسی لیے تو تمہیں آواز دے رہی تھی ، اب تو انہیں کچھ کھلا پلا دو،، دوپہر میں بھی انہوں نے صحیح طرح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ "جی اچھا” میں بال سمیٹتے ہوئے بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی اور امی بھی پاس ہی بیٹھ گئی ۔ پھر ریحان سے تمہاری کوئی بات ہوئی ؟ کئی دن ہوگئے عضے بھرے انداز سے کہا ۔ کیا کہا اس نے ؟؟ امی آپ کو بتایا تو تھا ، پھر کیوں ایک ہی سوال بار بار پوچھتی ہیں۔ میں بے زاری سے بولی میری تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ نہ جانے کیوں باربار وہی بات سنن،ئا چاہتی ہیں، جسے سن کر خود آپ کو تکلیف اور مجھے اذیت محسوس ہوتی ہے میں نے قدرے مغمول لہجے میں کہا۔ "کہہ رہے تھے خود گئی ہو ، تو خود ہی آجاو ۔ مجھ سے توقع مت رکھنا کہ واپس لینے آوں گا۔”
    ” ویسے میں سوچ رہی تھی کہ اس میں بھی کوئی حرج تو نہیں ہے جیسے آئی تھیں، ویسے ہی جاسکتا ہو اور میاں ، بیوی کے بیچ تو جھگڑے ہوتے ہی رہتے ہیں، اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ ساری زندگی میکے میں گزار دی جائے ۔ ویسے بھی تم بیوی ہو اس کی اور دو بچوں کی ماں بھی ۔” وہ بے گانگی سے بولیں۔ ” لیکن ابو کا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو پتا ہے ناں ، ابو ان سے بات کرنا چاہتے ہیں، انہیں ان کی ذمے داریوں کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ آپ خود سوچیں امی کہ آخر میں اور میرے بچے کب تک سسرال والوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ میں نے تو پھر جیسے تیسے گزارہ کر لیا ، لیکن بچوں کا کیا ۔۔۔۔۔وہ کیوں دوسروں کے احساس تلے دبے رہیں؟ چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لیے دوسروں پر انصار کرتے رہے تو ان کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچے گی ، عزت نفس ختم ہوجائے گی اور انہیں بھی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی عادت پڑ جائے گی ، جو میں ہر گز نہیں چاہتی ۔” ایک تو مجھے تمہارے ابو کی بھی سمجھ نہیں آتی ۔ انہیں اب ریحان سے کیا بات کرنی ہے ۔ ہم نے تمہاری شادی کردی ، تمہیں رخصت کرکے ہماری ذمے داری ختم ۔ اب نبھانا تم نے ہے ، تم پہ فرض ہے کہ شوہر کا مزاج سمجھو ۔ اس کے دکھ ، سکھ میں ساتھ دو، اس کے مطابق زندگی گزارو۔”
    اتنے سالوں سے برداشت ہی تو کرتی آئی ہوں ۔ بیوی ہوں تو کیا ہوا ، ان کا کوئی فرض نہیں ہے ۔۔ وہ مجھے کتنا کچھ کہہ گئے ، بچوں تک کی پروا نہیں کی ، چلو میں ماں لیتی ہوں میں بڑی ہوں ، لیکن بچے تو ان کے اپنے ہے ناں ، ایک بار بھی پلٹ کر بچوں کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کیسے ہیں کس حال میں ہیں۔ الٹا یہ کہا کہ بچوں کی بھی ضرورت نہیں رکھ لے تمہارے امی ابو مجھے پروا نہیں ۔ ایک آدمی شوہر چاہے کیسا بھی ہو ، لیکن باپ کے روپ میں تو بچوں کا سائبان ہوتا ہے مگر میرے بچوں کا سائبان ہی ان سے بیزار ہے ” میں ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی اور آنسو بہنے لگے۔ سینے میں چبھے تیر تکلیف دے رہے تھے میں سوچتی رہی کہ ریشم کی ڈوری کی طرح میں ہی پاوں سے لپٹ رہی ہوں۔
    (جاری ہے ۔۔۔۔)

    @BismaMalik890

  • ریلیشن شپ   تحریر: شھریار سیالوی

    ریلیشن شپ  تحریر: شھریار سیالوی

    ریلیشن شپ آجکل کے دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ ہے اور آجکل میں دیکھتا ہوں کہ یہ لفظ ریلیشن شپ بچوں کا کھیل بن چکا ہے۔ کل تک جو پچیس سال کی عمر میں جو کہ ایک میچور بندہ ہوتا ہے وہ بھی اپنی پسند تک کے بارے میں بتانے سے ڈرتا تھا مگر آجکل کا نوجوان، میں یہ بلکل نہیں کہہ رہا کہ اظہار کرنا غلط ہے، پیار کرنا غلط ہے، مگر ایسے پیار کرنا بےشک گناہ ہے۔ یہاں یہ آجکل جو بچہ اپنے پاوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا وہ اپنی جان کو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کی باتیں کرتا ہے اور عجیب و غریب قسم کے سپنے دکھا رہا ہوتا ہے۔ دس سال کی لڑکی صرف اس بات پر پریشان ہوتی یے کہ اسے اسکا بوائے فرینڈ وقت نہیں دیتا۔ بارہ سال کی عمر کی بات جائے تو اسے یہ پریشانی ہوتی یے کہ میری جان کسی اور سے تو بات نہیں کرتی۔ مختصر یہ کہ پیار اور ریلشن شپ مذاق بن کر رہ گیا یے۔ یہاں پر تو وہ لوگ بھی پیار کا دعوی کررہے ہوتے ہیں جنھیں نہ تو پیار کا پتہ ہوتا ہے اور نہ ہی رشتہ نبھانا آتا ہے۔ یاد رکھیں ہمیشہ کہ ان لوگوں کیساتھ تو گزارا ہوسکتا ہے جنکی طبعیت خراب ہو لیکن اس کے ساتھ بلکل گزارا نہیں ہوسکتا ہے جنکی تربیت خراب ہو۔ یہاں پہ پیار کا مطلب پتا نہیں اور دعوی سچے پیار کا کیا جاتا ہے۔ اپنی پسند کو پیار کا نام دیا جاتا ہے، ارے نہیں نہیں اپنے ٹائم پاس کو سچے پیار کا نام دیا جاتا ہے۔پیار تو نہیں یہاں ٹائم پاس کرتے ہیں لوگ، کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جس ٹائم پاس کو محبت کا نام دے کر استعمال کرکے چھوڑ جانے کے بعد اس انسان پر کیا گزرتی ہے، انسان بکھر جاتا ہے، جو انسان کل تک ہنستا کھیلتا تھا وہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور اسے اپنی زندگی بےمعنی لگنے لگ پڑتی یے۔

     یہی وہ سب سے بڑی غلطی ہے جو ہم کرتے ہیں۔ یاد رکھیں پیار اور پسند دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ہم اپنی پسند کو اکثر پیار کا نام دے دیتے ہیں اور پسند کبھی مستقل نہیں ہوتی اور اس پسند کو ایک نہ ایک دن ناپسند  ہونا ہوتا ہے اور ایسے انسان کیلئے رونا اور اپنی زندگی ضائع کردینا دانشمندی نہیں ہے۔ محبت منتیں کرنے کا نام نہیں ہے اور منتیں کی بھی کس سے جارہی یے جو نہ رشتوں کو نبھانا جانتا ہے اور نہ ہی اسے رشتوں کی کوئی قدر ہے تو آپ خود بتائیں ایسے انسان سے کس چیز کی توقع کی جاسکتی یے۔ محبت اس چیز کا نام نہیں کہ اپنی ذات کو بےمول کر دیا جائے۔ محبت اس چیز کا نام نہیں کہ اپنی عزت ایسے انسان کے ہاتھوں میں دے دی جائے جو صرف آپکو کھلونا سمجھتا ہو، محبت اس کا نام نہیں کہ اپنے وقار کو گرا دیا جائے۔ لوگوں کو کھونے سے کبھی نہ ڈرو، ڈرو اس بات سے کہ لوگوں کو خوش کرتے کرتے خود کو نہ کھو بیٹھو اپنا وجود ختم نہ کر ڈالو۔ ہمارے معاشرے میں وجہ سے نہیں وجہ بنا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور ہم اس کیلئے رو رہے ہوتے ہیں جسکو نہ تو ہماری کبھی پرواہ تھی اور نہ ہی کبھی ہوگی۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کسی کی بھی زندگی میں رہنے کیلئے بھیک نہ مانگو۔ ایک دفعہ اسے بلاو بات کرو، مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرو اور اگر نظر انداز کردئیے جاو تو خاموشی سے علیحدگی اختیار کرلو۔ 

    اپنی زندگی میں ایک ایسا اصول بنالیں کہ جو چیز آپکو چھوڑ کر چلی جائے اور ایسی چیز جو کبھی آپکی تھی ہی نہیں اسے بھول جاو کیونکہ بھول جانے کی عادت انسان کو بہت سی چیزوں سے بچا لیتی ہے۔ محبت کرنے والے کبھی بھی بےادب نہیں ہوتے، کبھی پتھر دل نہیں ہوتے۔ ہمیشہ ایسے شخص کا چناو کرو جو آپکو عزت دے کیونکہ عزت محبت میں بہت خاص ترین ہوتی ہے۔ جو شخص آپکو عزت نہیں دے سکتا وہ آپ سے کبھی محبت نہیں کرسکتا۔ جو بھی پیار کا دعوی کرتا ہے تو وہ بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ نہیں بلکہ میاں بیوی بن کر رہیں۔ اظہار کرتے ہو تو نکاح کیساتھ کروں۔ یہ سب میری آپ سے گزارش ہے کہ سچا پیار کبھی بھی بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ نہیں بنے گا۔ جب بھی بنے گا محرم بنے گا۔ جب کسی سے محبت کرو تو اسے پردے میں رکھو کیونکہ محبت پردے میں ہی اچھی لگتی ہے۔ یہ نمائش کی چیز نہیں ہے۔ اندھی محبت ہو یا اندھا اعتماد دونوں گہرائی میں گرا دیتے ہیں۔ محبت کا مزہ ہی تب ہے جب محبوب محرم بن کر ملے اور جب آپ ایک دوسرے کیساتھ پاکیزہ  رشتے میں بندھ جاتے ہیں تو کوشش کی جائے کہ۔اس رشتے کو مضبوطی سے تھاما جائے اور جب اس رشتے سے عزت و احترام چلا جائے تو رشتے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ جن رشتوں کو ہم بہت آسان سمجھتے ہیں تو جان لیجیئے پیار کرنا آسان نہیں ہوتا  خود کو دکھ دینا بھی پڑتا ہے دوسروں کی خوشی کیلئے اور ہاں یاد رہیں کبھی بھی آپکو آپ کا پیار دکھ نہیں دے گا۔ یہاں پر اچھا انسان ٹٹول رہے ہوتے ہیں۔ ایک اچھا انسان ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ دنیا میں کبھی بھی اچھے انسان کی تلاش مت کرنا بلکہ خود کو اچھا اور بہترین بن کر دکھانا شاید کسی اچھے انسان کی تلاش ختم ہوجائے۔  ہم اکثر اوقات بہتر کی تلاش میں بہترین کو کھو دیتے ہیں۔ یہاں پہ سب سے بڑی وجہ جو رشتے ٹوٹنے کی بنتی ہے وہ ہے غلط فہمی ہے اور اسے سن کے چپ ہوجاتے ہیں اور ان سب باتوں کو پی جاتے ہیں تو وہ باتیں ہمیں اندر ہی اندر سے کھا جاتی ہیں۔ ختم ہوجاتے ہیں وہ رشتے جن کیلئے ہم جی رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھئیے بھروسہ ہی تو ایک رشتے کی اہم چیز ہوتی ہے جب وہی نہیں رہے گا تو رشتے میں بچے گا کیا؟ اس دنیا میں سب سے خوبصورت رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ یہی سب رشتوں کی بنیاد ہے۔ پیار کو نکاح میں بدلو۔ اظہار کرو تو نکاح۔ دنیا کی ابتداء بھی میاں بیوی اور انتہا بھی۔ جنت میں بھی سب میاں بیوی کے رشتے سے ہی رہیں گے تو تمہارا پیار بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ سے کیسے شروع ہوسکتا ہے؟؟؟ لہذا کوشش کریں نکاح کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں تاکہ معاشرے سے زنا جیسی لعنت کا خاتمہ ہوجائے تاکہ ایک مثالی معاشرہ وجود میں آسکے۔ اللہ ہم سبکو دین کی سمجھ عطا فرمائے (آمین )۔

  • لبرلز بمقابلہ لبرلز   تحریر : فیصل فرحان

    لبرلز بمقابلہ لبرلز تحریر : فیصل فرحان

     

    لبرل کے اصطلاحی معنی ہیں کہ مخالف کی رائے کو تحمل سے سننا اور اس کی بھی قدر کرنا۔ المختصر کہ صرف خود کو ہی عقل قل نہ سمجھنا۔ یقینً لبرل کوئی برا لفظ نہیں ہے بلکہ لبرل ہونا تو اچھی بات ہے کیونکہ یہ بندے کے اعلی شعور کی علامت ہے۔ لیکن جناب ایشیاء خاص طور پر انڈیا اور پاکستان میں لبرلز کی نایاب قسم پائی جاتی ہے جو لبرل لفظ کے معنی تک سے ناواقف ہے۔ ان لوگوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اپنے ملک اور اپنے مزہب کی ہر حال میں مخالفت کرنی ہے تاکہ وڈے دانشور ثابت ہو سکے۔

    یہ بات میں اپنے پاس سے نہیں کہہ رہا بلکہ مکمل ثبوت ہیں۔ویسے تو یہ لوگ ہر اہم دن پر ملک میں اتشار پھیلاتے ہے لیکن چند ایک کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ 6 ستمبر کو پاکستان کا یوم دفاع تھا جو 65 کی جنگ کی جیت کی یاد میں منایا جاتا ہے اس جنگ کو دونوں ملک بھارت اور پاکستان اپنی جیت بتاتے ہیں۔ تو دونوں ملکوں کے لبرلز حضرات نے وکھرا سیاپا ڈال دیا۔ پاکستان کے جتنے لبرلز تھے انہوں نے ٹویٹر اور فیسبک پر انڈیا کو فاتح قرار دیا ہوا تھا اور جھوٹے دلائلوں کے انبار لگائے ہوئے تھے۔ میں بڑا حیران تھا کہ کیا واقعہ ہی پاکستان یہ جنگ ہار گیا تھا پھر اچانک سے دو تین انڈین صحافیوں کے ٹویٹس نظر آئے جس میں وہ پاکستان کو فاتح قرار دے رہے تھے اور انڈیا کی شکست کو عبرتناک شکست کہہ رہے تھے۔ اور نیچے عام انڈینز انہیں گالیاں نکال رہے تھے اور آئی ایس آئی فنڈڈ کہہ رہے تھے۔ میں نے جب ان صحافیوں کے اکاونٹس چیک کیے تو انہوں نے بائیوں میں لبرل، سیکولر جیسے لفظ لکھے ہوئے تھے۔ پھر جب ان کی ٹائم لائن پر ریٹویٹس چیک کیے تو بے شمار انڈین لبرلز کے پاکستان کی جیت والے ٹویٹس تھے۔ اب میں حیرانگی کی حد کو چھو رہا تھا۔

    کافی دیرسوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ کو ان دونوں ملکوں کے لبرلز جھوٹے اور مفاد پرست ہے۔ ان لوگوں کو جہاں سے پیسہ ملتا ہے یہ لوگ صرف انہی کی زبان بولتے ہے۔ ہمارے ملک کے لبرلز ہمارے اداروں، ہمارے ملک اور ہمارے مزہب پر بلاوجہ تنقید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور انڈیا والے اپنے ملک کے خلاف۔ اب بندہ ان دونوں میں سچا کن کو سمجھے؟ پاکستانی لبرلز کو یا انڈین؟ میں تو دونوں کو نہیں سمجھتا۔

    ایک سب سے اہم بات جو میں نے ان دو ملکوں کے دانشوروں اور لبرلز حضرات میں نوٹ کی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ خود کو اعلی شعور یافتہ ثابت کرنےکیلیے ہر اکثریتی اور اچھے فیصلے کی مخالفت کرتے ہے۔ اور بلاوجہ کی تنقید کر کے ملک میں انتشار پھیلاتے ہے۔ اور پاکستانی لبرلز کی اکثریتی تعداد تو بیرونی این جی اوز سے منسلک ہے جو خود بھی باہر کے ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہے اس لیے اپنا روزگار چلانے کیلیے ہر وقت ملک پر نقطہ چینیاں کرتے رہتے ہیں۔

    اب آخر میں آتے ہے اس سوال کی طرف کہ 65 کی جنگ کون جیتا تھا؟ تو اس کے جواب کیلیے نہ تو انڈینز کی سنیں اور نہ پاکستانیوں کی بلکہ دنیا کے باقی ممالک کی سنیں۔ آسٹریلیاء، انگلینڈ، امریکہ سمیت متعدد ملکوں کے اخباروں نے پاکستان کو اس جنگ کا فاتح قرار دیا۔ اب آتے ہے عقلی دلائل کی طرف، تو جناب انڈیا نے خود پاکستان پر رات کے اندھیرے میں حملہ کیا اور یہ ارادہ کر کے کیا کہ دوپہر کی چائے لاہور میں پیے گے اور بھاٹی گیٹ پر انڈین ترنگا لہرائے گے۔ لیکن آخر میں ہوا کیا؟ وہ ایک انچ بھی پاکستان کا حصہ نہیں لے سکے بلکہ شکست خوردہ پیچھے بھاگ گئے۔ تو جب کوئی ملک اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر جنگ سے پیچھے چلا جاتا ہے تو یہ اس کی شکست ہوتی ہے۔ 

    Twitter handle: @Farhan_Speaks_