Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    انسان اپنی تمام ضروریات اپنے آپ پوری نہیں کرسکتا۔ اسے اپنی خواہشات، اپنی ضروریات اور اپنا مدعا دوسروں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ پہنچانے کے عمل کو "ابلاغ” کہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جو موجودہ دور کے معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاؤ انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہار رائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرائع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال اگر ضروریات کے تحت مثبت طریقے سے کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے میں نعمت سے کم نہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ایسے ٹول کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے معاشرے میں مثبت و منفی اثرات کے بے انتہا نقوش چھوڑے ہیں۔ سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا خصوصاً نوجوانوں کو اپنے سحر اور رنگینیوں میں جکڑے ہوئے ہے۔ 12 سال سے 35 سال کے افراد میں سوشل میڈیا کے استعمال کا رجحان بے انتہا حد تک بڑھ چکا ہے۔ جن نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو اپنا کر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے وہ اس سے بے پناہ مالی و معاشرتی فوائد حاصل کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوان مرد و عورتیں لاکھوں کروڑوں روپے کما کر اپنے روزگار کا ذریعہ حاصل کر چکے ہیں۔ ہر آتے دن کے ساتھ ہی فری لانسرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کے معاشی فوائد کو کھول کھول کر بیان کررہے ہیں۔

    پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہو رہا ہے اور نوجوان بڑھ چڑھ کر اس کا استعمال کرتے اور اس سے متاثر ہوتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ با آسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ٹرولز یعنی سوشل میڈیا کے ایسے گمنام یا اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز و مزاح کی آڑ میں انتشار پھیلانا ہوتا ہے، بڑے متحرک ہیں۔ ہم سب اس سنگین صورتحال سے آگاہ تو ہیں لیکن سدباب کیلئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔ اس حوالے سے شاید مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ ہونا ہوگا۔ تاکہ وہ اپنی اولاد اور شاگردوں کی تربیت کرتے قت اس اہم مگر بڑی حد تک نظر انداز معاملے پر مناسب توجہ دے سکیں۔ اس حوالے سے والدین کی اولین اور اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کس عمر میں انٹرنیٹ اور سمارٹ فون تک رسائی دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پھر رسائی سے پہلے اور رسائی کے دوران ان کی مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی نہایت ضروری ہے۔

    سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی جانب ایک نگاہ دوڑائی جائے تو فکر انگیز حد تک یہ نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر چکا ہے۔ نوجوان فحاشی و عریانی کے بدمست کھیل میں کود کر اپنا مستقبل داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی دشمن بھی اپنی چال چلتے ہوئے نوجوانوں کے ذہنوں میں شیطانیت کا پرچار کرتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وارفیئر بھی سوشل میڈیا پر لڑی جانے والی جنگ ہے جو آج کل سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور جنسی بے راہ روی تحریر: روبینہ۔

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور جنسی بے راہ روی تحریر: روبینہ۔

    موجودہ زمانے میں فحاشی اور جنسی بے راہ روی کے جس طوفان نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اب وہ ہمارے دروازے پر ہی دستک نہیں دے رہا بلکہ ہمارے گھروں کے اندر بھی داخل ہو چکا ہے ۔ ٹی وی ، ڈش ، انٹرنیٹ اور دیگر مخرب اخلاق پرنٹ میڈیا کے ذریعے ہماری نوجوان نسل جس انداز میں اس کا اثر قبول کر رہی ہے ، اس کے پیش نظر یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ ہم بھی یورپ اور امریکا کے نقش قدم پر نہایت تیزی کے ساتھ چلے جارہے ہیں ، جس پر وہ عیسائی مذہبی رہنماؤں کی غلط تعلیمات و نظریات کے نتیجے میں آج سے ایک ڈیڑھ صدی قبل رواں دواں ہوئے تھے ۔ امریکا اور یورپ اس جنسی بے راہ روی کی وجہ سے بن بیاہی ماؤں ، طلاقوں کی بھرمار ، خاندانی نظام کی تباہی اور جنسی امراض بالخصوص ایڈز کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں ۔ کیا مسلمان ممالک بھی انھی نتائج سے دوچار ہونا چاہتے ہیں ؟ یہ اور اس قسم کے چند سوالات ہیں جنھوں نے اس ملک کے سوچنے سمجھنے والے طبقے کو پریشان کیا ہوا ہے ۔ اس کا علاج ایک طرف امریکا ، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے ایک جال ہم رنگ زمیں کے ذریعے مسلمان ممالک کو اسی رنگ میں رنگنے کے لیے کوششوں سے ہو رہا ہے ۔ تاہم اس کا دوسرا یقینی اور قابل اعتماد حل وہ ہے جو ہمیں قرآن اور اسلامی تعلیمات کے ذریعے دیا گیا تھا ، جسے نظرانداز کرنے اور بھلانے سے ہم آج اس دوراہے پر کھڑے ہیں ۔

    عورتیں بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں ہیں۔ جسم فروشی کا دھندہ بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ ہم جنس پرست عورتوں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے۔ سیکس ورکرز کی تعداد ہمارے ملک میں، ایک سروے کے مطابق، اس وقت 3 لاکھ کے قریب ہے۔ جس میں میل اور فی میل دونوں ہیں۔ ہم جنس پرستی کے حوالے سے ایک سروے اور تحقیق کے مطابق ایسے ایسے لوگوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ جن کے بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا اور اگر ان کے نام لئے جاتے ہیں تو شاید کفر کے فتوے شروع ہو جائیں اور بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے بھی ہوں۔

    اعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رہائش پذیر بڑے بڑے نام والے "معززین” اور ان کے بچے اور بچیاں نہ صرف ہم جنس پرستی کی دلدادہ ہیں بلکہ جنسی بے راہ روی کے فروغ کے لئے بھی خدمات انجام دے رہی ہیں جنسی فاقہ کشی کا یہ عالم ہے کہ معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انٹر نیٹ میں ننگی فلمیں اور تصاویر دیکھنے والے دنیا بھر میں پاکستانیوں کا پہلا نمبر ہے۔ بچوں سے زیادتیاں، کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ریپ، زنا بالجبر جیسے واقعات سے اخبارات بھرے ہوتے ہیں۔

    جنسی بے راہ روی کی وقتی لذت خاندان کی مضبوط اساسات کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ مرد و عورت کا رشتہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹتا اور خاندان کا ادارہ ریت کے گھروندے کی طرح بکھر جاتا ہے۔ جوان مرد و عورت اس طرح کے حادثات سے وقتی طور پر متاثر ہوتے ہیں اور پھر زندگی اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے، مگر بچوں کی شخصیت اس عمل میں بکھر جاتی ہے۔ والدین کی علیحدگی انھیں اپنی زندگی کے سب سے بڑے سکون سے محروم کر دیتی ہے۔ ان کی زندگی قربانی، ایثار و محبت کے بجائے خود غرضی، جھگڑے، فساد اور بے صبری کا نمونہ بن جاتی ہے۔

    جنسی بے راہ روی بظاہر ایک خوشنما چیز ہے۔ مگر اس کے نتائج معاشرے کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں۔ انسانیت نے یہ بات نہ سمجھی تو انسانوں کا مستقبل بہت خوفناک ہوگا۔

    From: Rubina

    @RubinaViews

  • بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    جواز اور دلیل دی جاتی ہے کہ عوام ٹک ٹاکرز کو پسند کرتی ہے ۔۔ اس لیے حکومت بھی ٹک ٹاکرز کو سراہتی ہے ۔۔۔

    عوام کی ایک کثیر تعداد مجرے بھی پسند کرتی ہے تماش بینی ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے عوام کی ایک کثیر تعداد چرس بھی بہت پسند کرتی ہے ۔ کھول دیں بازار ۔۔؟؟ عوام کا اتنا خیال ہے تو عوام کو جو پسند ہے سب کھول دیں پھر پابندیاں قوانین اخلاقیات کا کیا لینا دینا ہمارے معاشرے سے۔۔؟؟ جب ہم نے یہی دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ جو جتنا مشہور ہے اتنا قابلِ عزت ہے تو پھر مجرے کرنے والیوں کو کنجر کہنا بند کریں وہ سٹیج پر ناچتی ہیں اور آج کل کی جدید طوائفیں موبائل سکرین پر عوام کا من و رنجن کرتی ہیں۔ یہ دوہرا معیار کیوں کہ سٹیج پر ناچنے والی کنجر طوائف نا جانے کیا کیا اور ٹک ٹاک پر ناچنے والی سٹار سلیبرٹی انفلووینسر ۔۔؟

    جب ایسے لوگوں کو عزت و وقار اور شہرت ملتے کم عمر بچے دیکھتے ہیں تو وہ ان کو اپنا رول ماڈل بنا لیتے ہیں کہ مجھے بھی بڑے ہو کر یہی بننا ہے اور یہی سب کرنا ہے ۔ معزرت میں زرا دقیانوسی خیالات کا مالک ہوں ٹک ٹاک پر ناچنے کو ماڈرن کوٹھا سمجھتا ہوں اور ناچنے والوں کو اداکار فنکار نہیں بلکہ کنجر سمجھتا ہوں ۔ اپنی آنے والی نسل کی فکر کریں جو تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ہم نوے کی دہائی کی پیدائش ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے زمانے کو کروٹ بدلتے دیکھا اس لیے کچھ تربیت اثر کر گئی تو کچھ اخلاقیات کے دائرے میں خود کو قید رکھا ۔ ورنہ شہرت کون سا مشکل کام ہے ؟ صرف ایک سکینڈل کی مار ہے یہ شہرت آج کہیں منہ کالا کرائیں کل پورے ملک میں مشہور ۔۔

    ہمیں تربیت ملی کہ بیٹا ذلت کی شہرت سے عزت کی گمنامی بہتر ہے ۔ لیکن کیا کیجیے کہ چند سالوں میں زمانہ ایسا بدلا کہ اس بات سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی وجہہِ شہرت کیا ہے ۔ بس مشہور ہیں یہی کافی ہے ۔۔ وہ کہتے ہیں نہ بدنام ہونگے تو کیا نام نا ہوگا ۔؟؟ یہ جن ناچنے والیوں کو ہم آج سٹار سلیبرٹی رول ماڈلز اینفلونسر کہتے ہیں انہیں چند سال پہلے لکھنئو اور لاہور کے بازارِ حسن میں طوائفیں کہا جاتا تھا۔ اب تو بس نام ہونا چاہئیے پھر آپ سٹار بھی ہیں سیلبرٹی ہیں اور اداکار فنکار بھی ۔۔

    بد قسمتی سے ایسے لوگوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے والے بھی ہم ہی میں سے ہیں ۔ اور اس کا خمیازہ ہماری آنے والی نئی نسل بھگتے گی ۔۔ ہم کتابیں پڑھتے بڑے ہوئے بزرگوں کی ڈانٹ ڈپٹ استادوں کی اخلاقیات والدین کی تربیت نے زندگی کا مقصد بنایا اچھا انسان اور باوقار شہری بننا ہے ۔ آج کے والدین پر بھی حیرت ہے جن کی عقل پر پردے پڑے ہیں اور وہ اس فہاشی و عریانی کو نیا دور سمجھ کر قبول کر بیٹھے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں ماشااللہ اللہ نے بچے کو بہت عزت دی ہے۔ اور کیوں نہیں جب حکومت بھی ایسے لوگوں کو سراہے گی میڈیا بھی مارنگ شوز میں بلائے گا تو پھر عزت شہرت تو ہو گئی نا ۔۔

    اپنی آنے والے نسل کی تباہی و بربادی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں ۔۔ شکوہ نا کیجیے گا ہمیں کوئی بتانے سمجھانے یا بولنے والا نا تھا کیونکہ میں اپنا فرض پوری طرح نبھا رہا ہوں اور اس جدید دور میں بھی فیشن اور فہاشی کا فرق عوام کو بتا کر کر گالیاں کھا رہا ہوں ۔۔ خیر وہ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کرتے رہیں گے ۔ یہی سوچ کر ۔۔ "شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات”

    Twitter @zohaibofficialk

  • خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خودکشی تحریر:فاروق زمان

    خود کشی ایک حرام فعل ہے، ایسا قبیح فعل جس میں انسان غیر قدرتی طریقے سے اپنی جان لے لیتا ہے اور خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ مردوں میں خودکشی کی شرح زیادہ یے، جبکہ خواتین میں خودکشی کی شرح کم ہے۔  مردوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان بڑھتا ہے اور خواتین میں عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کا رجحان کم ہو کر  تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کامیاب سمجھے جانے والے لوگ بھی خودکشی کرتے ہیں جن میں شاعر، اداکار، ادیب، بزنس مین وغیرہ شامل ہیں۔ خودکشی کرنے والا چاہے جتنا بھی اچھا انسان ہو اس کی شخصیت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ خودکشی کی موت خاندان اور خودکشی کرنے والے سے منسلک ہر شخص پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ لوگ خاندان والوں کا دکھ درد سمجھنے کی بجائے عجیب رویہ اپناتے ہیں، کھوج میں لگ جاتے ہیں۔ خاندان کے لوگ بھی خود کشی کی وجوہات ہر بات نہیں کرنا چاہتے،  خود کشی کو حادثاتی موت کا رنگ دیا جاتا ہے۔ اس لئے خودکشی کی روک تھام کے لیے اس حد تک آگاہی نہیں ہوپاتی جتنی ضرورت ہے۔
    خودکشی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنی زندگی اور خود سے مایوس ہو جاتے ہیں انہیں سب کچھ بے مقصد لگتا ہے۔ زندگی سے کوئی امید باقی نہیں رہتی۔  لوگ گھریلو جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں۔ لوگ غربت، معاشی مسائل، بےروزگاری، خود اعتمادی کا فقدان، احساس کمتری، وجود کا بحران، تعلیم میں ناکامی، ذہنی دباؤ، زہنی الجھنیں، ٹینشن، کاروبار، محبت میں ناکامی اور کئی معمولی وجوہات کی بنا پر بھی موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
    پچھتاوا بھی خودکشی کی وجہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہو کر بھی لوگ خود کشی کر لیتے ہیں۔
    ڈپریشن خودکشی کی سب سے بڑی وجہ میں سے ایک ہے۔ ڈپریشن میں منفی خیالات دماغ پر قابو پا لیتے ہیں اور کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ڈپریشن میں خودکشی کے خیالات متواتر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ تنہائی، ذہنی دباؤ، پریشانی وغیرہ خودکشی کی سر فہرست وجوہات میں سے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لوگ ذہنی بیماریوں اور ان کے علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک یہ خود بہ خود ہی ٹھیک ہو سکتی ہیں۔ لوگ اپنے متعلق ذہنی بیماریوں کا کسی کو نہیں بتاتے۔ اپنی تکالیف کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ دماغی بیماریوں کو شرمندگی اور ندامت کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح معمولی نوعیت کی بیماریاں جو تھوڑی سی توجہ اور کوشش سے ٹھیک ہو سکتی تھی وہ پیچیدگیی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اگر ڈیپریشن کے مرض کی ابتدا ہی سے اس کے علاج کے لئے سدباب کیا جائے تو یہ علاج کے زریعے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اور  بات خودکشی تک پہنچے ہی نہ۔ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی امراض کے علاج کے لیے لیے ذرائع کافی محدود ہیں۔
    مذہب سے دوری خودکشی کی اہم وجہ ہے۔ اگر لوگ مذہب کے مطابق زندگی بسر کریں،تو وہ خود کو خودکشی سے باز رکھ سکتے ہیں۔ اسلام میں خودکشی کو حرام اور ناپسندیدہ ترین فعل قرار دیا گیا ہے۔ اسلام امن وامان، برداشت، درگزر اور امن سلامتی کا درس دیتا ہے۔زندگی ایک نعمت ہے اور اپنی جان لینا نعمت کو ضائع کرنا اور اللہ کی خوشنودی سے محروم ہونے کے مترادف ہے۔
    خود کشی کی روک تھام
    بہت ضروری ہے۔ ہمیں اس میں اپنا کردار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے مثبت رویہ اپنائیں اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ۔ کسی کے ساتھ برا رویہ نہ رکھیں ۔کبھی کسی کو ایسے کلمات  نہ کہیں جو کسی کو خودکشی کی طرف مائل کر سکتے ہوں۔ خود پر بھی توجہ دیں اگر آپ کے دماغ میں منفی خیالات آتے ہیں تو حتی الامکان ان سے بچنے کی کوشش کریں اور ان سے چھٹکارہ پائیں۔ بے جا سوچوں کو دماغ میں جگہ نہ دیں۔ صحت مندانہ طرز زندگی اپنائیں۔ خود کو وقت دیں۔ زندگی بہت خوبصورت ہے آپ کا ، ہم سب کا اس پر حق ہے۔ ناامیدی کفر ہے۔ غربت، پریشانی، نامسائد حالاتِ اللّٰہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر آتے ہیں۔کوئی بھی تکلیف دائمی نہیں ہوتی۔ جیسے بھی حالات ہوں آپ صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔  برداشت اور تحمل مزاجی کو اپنائیں۔ اپنے جذبات پر قابو پائیں اور اپنے آپ کو پرسکون رکھیں۔ زہنی دباؤ کا مقابلہ کریں۔ زندگی سے مایوس ہو کر موت کو گلے لگانے کی بجائے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں روشنی پیدا کریں۔ اچھے کام کریں، دوسروں کے کام آئیں۔ با مقصد زندگی گزاریں۔ نیکی کے کام کریں اور انہیں پھیلائیں۔ نماز پنجگانہ ادا کریں۔ قرآن کریم کی تلاوت کریں، یقینا اس میں دلوں کا سکون ہے۔
    اپنے جذبات و احساسات اپنے سے قریبی لوگوں کے سے شیئر کریں۔ ان پر اعتبار کریں۔ خود  کو پہچانیں اور خود کو موت کے حوالے کرنے کے بجائے زندگی کی طرف قدم بڑھائیں
    متوازن سوچ کے ساتھ کے ساتھ اچھی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، اگر کوئی ذہنی دباؤ کا شکار ہے یا توجہ کا مستحق ہے تو اسے وقت دیں۔ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور زندگی سے مایوس لوگوں کو زندگی کی طرف واپس لائیں اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
    حکومت کو چاہیے کہ ذہنی امراض کے علاج معالجے کے لئے ہسپتال اور کاونسلنگ مراکز  قائم کریں۔ ذہنی امراض کے شکار مریضوں کے علاج معالجے کے لیے فنڈز  کی رقوم مختص کریں۔ ذہنی اور دماغی امراضِ کے علاج کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اگر آپ کو کوئی ذہنی بیماری ہے تو لازما ڈاکٹر کے پاس جائیں اور مکمل علاج کروائیں۔
    کوئی بھی خودکشی کرے تو اس کے قاتل اس کے اردگرد بسنے والے تمام لوگ ہوتے ہیں۔ اس کا قاتل پورا معاشرہ ہوتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اس کی خودکشی کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں ہر ممکن حد تک خودکشی سے بچاؤ کی تدابیر کرنا ہوں گی، تاکہ ہم بہت سی جانوں کو حرام طریقے سے لقمہ اجل بننے سے بچا سکیں۔

    @FarooqZPTI

  • اخلاقیات تحریر: فروا نذیر

    اخلاقیات تحریر: فروا نذیر

    اللہ تعالیٰ نے انسان کیلیے بے شمار نعمتیں پیدا کیں تا کہ اسکی ہر ضرورت کو پورا کیا جا سکے
    پوری دنیا و کائنات اس واحد لاشریک کی ہے اور انسان خوش قسمت ہے جسے اشرف المخلوقات بنایا فرشتوں کو بھی اللہ بناسکتا تھا لیکن اللہ نے صرف انسان کو یہ چصاہمیت اور مرتبہ دیا۔

    اللہ نے انسان کیلیے کچھ حقائق رکھے
    جہاں اللہ نے انسان کو نعمتوں سے نوازا وہی انسان پر کچھ ذمہ داریاں ہیں

    میں آج اخلاق پر بات کرو گی اپنی اس تحریر میں
    انسان کو اپنے آپ کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیسا ہے کیا ہے اور کہاں کھڑا ہے۔۔۔؟

    انسان چاہے دنیا کی ساری ڈگریاں حاصل کرلیں لیکن اگر اس کے پاس اچھا اخلاق نہیں تو وہ دنیا کا سب سے ناکام ترین انسان ہے

    یہ دنیا فانی ہے سب نے ایک دن فنا ہوجانا ہے آج نہیں تو کل۔۔کل نہیں تو پرسوں لیکن اس فانی دنیا سے سبکو ہی کوچ کرنا ہے
    انسان کے ساتھ سب کچھ ختم ہوجاتا ہے سب کچھ دفن ہوجاتا ہے سوائے ایک چیز کے اور وہ یے ۔۔۔*اخلاق*

    اخلاق ہمیشہ قائم رہے گا

    آجکل انسان چاہے ترقی کرگیا ہے لیکن انسانوں میں اخلاقیات کی کمی ہے

    اخلاق کیسا ہونا چاہیے!!!!
    تمہارے اخلاق عالیشان ہونے چاہیے تمہیں درگزر کرنا اتا ہے سب کو منانا آتا ہو سب کو برداشت کرنا آتا ہو
    ہر انسان کی بات چاہے کڑوی ہو برداشت کرنا سیکھو
    اگر کوئی تمہارے خلاف ہوگیا یے تو اسے معاف کرو
    ہمیشہ بات میں پہل کرو
    لوگوں سے اختلاف نہ کرو
    اختلاف کے باوجود تم اسے معاف کردوں
    تمہیں اپنی رائے سے ہٹنا آتا ہو
    تمہیں دوسروں کا انکار سننا آتا ہو
    تمہیں لوگوں کی تلخیوں کو برداشت کرنا آتا ہے

    اسلام میں صرف نماز روزہ زکوۃ ہی نہیں ہیں یہ تو دین کی عمارت ہیں لیکن یہ اخلاق تمہارے ایمان کا بہترین جزو ہے
    معاف کرنے والی ذات بیشک اللہ کی ہے
    لیکن اس دنیا میں رہتے ہوئے تم دوستوں کو معاف کردوں چاہے بہت بڑی غلطی ہو یا کوئی بڑا بول کہہ دیں

    تم اپنے اندر صبر کی طاقت کو پیدا کرو برداشت پیدا کرو تمہارا اخلاق بہترین ہے اگر تم لوگوں ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو چاہے وہ دشمن ہی ہو
    تم ہر کام میں صبر سے کام لیتے ہو تو تم کامیاب انسان ہو

    اور جو یہ سب نہیں کرتا وہ بیشک ناکام انسان ہے

    اپنے اخلاق کو بہتر بنا لوں
    جو لوگوں ساتھ برا سلوک کرتا کلمہ پڑھنے والا جنت اور دوزخ پر ایمان رکھنے والا یہ کرتا تو اللہ معاف نہیں کرتا

    اپنے اخلاق کو اپنی پہچان بناو کہ مرنے کے بعد تمہیں یاد رکھاجائے
    اپنے اندر آس پاس لوگوں کو آزمائش میں صبر کرنے کا عمل بتاؤ

    بیشک صبر انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے
    چپ رہنا سیکھو خاموش رہنا سیکھو
     
    صبر کو اپنا کر تم ایسی طاقت بن جاؤ گے کہ کوئی تمہیں ہرا نہیں سکتا

    لیکن اگر میں حقیقت بیان کرو تو سب کچھ اس کے برعکس ہورہا ہے ہر انسان ایک دوسرے کو سمجھے اور جانے بغیر برا کہہ رہا ہے انسان میں صبر ختم ہوچکا ہے

    کیا ہمارے نبی نے یہ سب مسلمانوں کو اپنی امت کو تعلیمات دی جو اب سب نے اپنا رکھی ہیں!!!

    ابھی بھی وقت ہے ٹھہر جاؤ رک جاؤ اپنے آپ کو سدھار لو
    صبر کا اپنی طاقت بنالو میرے رب کی قسم!! اتنا سکون حاصل کرو گے کہ سب پیسہ چیزیں بھول جاؤ گے
    یاد ہو گا تو بس اللہ اس کے لاتعداد نعمتیں؛؛؛

    میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد کسی کی دل ازاری نہیں کسی کو مشکل میں ڈالنا نہیں ہے

    بس اتنا کہوں گی کہ اپنے آپ کو پہچانو
    اپنے اخلاق کو خوبصورت کرلو
    تاکہ دنیا اور آخرت سنور جائے!!!!!!

    اللہ پاک سے دعا یے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اخلاق کو دوسروں کیلئے راحت کا باعث بنادیں
    سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دیں

    آمین ثمہ آمین

  • بے حیائی معاشرے کا زوال تحریر : محسنؔ خان

    بے حیائی معاشرے کا زوال تحریر : محسنؔ خان


     

    اسلامی معاشرہ ہونے کے باوجود صورتحال اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ کوئی ہم میں فرق کرے تو ایک پل میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ملا دے ہم اپنی اخلاقی و دینی روایات کھوچکے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پہ رسوائی ہمارا مقدر بن چکی ہے دنیاوی لحاظ سے تو ہم خود کو ماڈرن کہہ لیں گے مگردینی لحاظ سے بدترین لوگوں میں شمار ہوں گے اور عذاب الٰہی کو دعوت دیے رہے ہیں

    پاکستان ایک مسلم مملکت ہے اور اسے اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے مگر اسلام دشمن ایجنڈوں نے مسلم قوم کو ذہنی عیاشی اور عورت کی حوس کے اسباب پیداکر دیے ہیں جو بظاہر تو کچھ بھی نہیں مگر ان کے درپردہ خطرناک حد تک منصوبہ بندی کی گئی ہے.

    اکثر و پیشتر واقعات ایسے ہیں جن کی وجہ سے دین اسلام اور پاکستان کی بدنامی عالمی سطح پر ہوئی اور اسلام مخالف لوگوں کو اسلام پہ بھونکنے کا موقع مل گیا جہاں پر سوشل میڈیا کا فائدہ ہے اس سے زیادہاس کے نقصانات ہیں 

    مسلم قوم کو عریانی و بے حیائی کا دلدادہ کرنے کیلیے چند ایک موبائل ایپلیکشنز متعارف کروائی گئی ہیں جہاں مرد و عورت بنا کسی لحاظ کے ناچتے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں, ٹک ٹاک, سنیک ویڈیو, اور لائیکی جیسی ایپلیکیشنز قابلِ ذکر ہیں نوجوان نسل کو سستی شہرت اور چند پیسے دینے کے عوض ان کا کردار خراب کیا جا رہا ہے ان میں سے تو اکثرایسے لوگ ہیں جن کے گھر والے بھی ان کو اس قبیح فعل سے بعض نہیں رکھتے بلکہ ان کے ساتھ ملکر ویڈیوز بناتے ہیں اور ساتھ سپورٹ کرتے ہیں اس ناسور کا شکار ناکہ نوجوان نسل بلکہ ان کے والدین بھی ہیں 

    اور یہی وجوہات معاشرے میں بدفعلی, بد امنی, اور زنا کا باعث بنتی ہیں اور اسلام بدنامی کا سبب بنتی ہیں 

    ہر طرف مسلم دشمن مسلم قوم کے کردار پہ وار کرتے نظر آتے ہیں بے حیائی کا بڑا ثبوت ہمارے معاشرے میں گردش کرنے والے فلمیں, ڈرامے ,اشتہارات اور فحش ٹاک شوز اور مارننگ شوز ہیں جن میں سرعام بے حیائی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے 

    یہ سچ ہے کہ اخلاقی اقدار کی کمی مردوں میں بے حیائی کا باعث بنتی ہے مگر جہاں مرد قصور وار ہیں وہیں عورتیں بھی قصور وار ہیں اسی لیے اسلام مرد ہو یا عورت دونوں کو حیا کی پاسداری کی تلقین کرتا ہے 

    قرآن مجید میں سورۃ النور کی آیت نمبر 19 میں بے حیائی پھیلانے والوں کیلیے کھلی وعید سنائی گئی ہے

    اِنَّ الَّـذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِى الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُـمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (19)

    ترجمہ :

    "بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔”

    اسی طرح حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ 

    "حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں پہنچاتا ہے جبکہ بے حیائی و بدکلامی سنگدلی ہے اور سنگدلی جہنم میں پہنچاتی ہے”

    فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی رح کا مشہور قول ہے کہ 

    "اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہو تو، اُس قوم کے جوانوں میں بے حیائی پھیلا دو۔۔!!”

    حاکمِ وقت کو ان تمام برائیوں پہ کنٹرول ہونا چاہیے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے سارے اشتہارات, ڈرامے, فلمیں, اور مارننگ شو بند کریں جو اسلام مخالف ایجنڈے کی مدد کر رہے ہیں یعنی بے حیائی پھیلا رہے ہیں 

    اللّہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا کرے آمین ثم آمین

    Twitter name : alpha_zairo

  • ‏مسائل کا حل ہے؟ کیا خودکشی ہی ہمارے تحریر:نثاراحمد تحریر

    ‏مسائل کا حل ہے؟ کیا خودکشی ہی ہمارے تحریر:نثاراحمد تحریر

    یہ زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عظیم ترین تحفہ ہے جس کا شکر ہم جتنی بار ادا کرے گے کم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس دنیا فانی میں لایا۔ ہر انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ اب کسی کو کم دولت دی تو کسی کو ذیادہ ، کسی کو ذیادہ خوبصورتی بجشی تو کسی کو اسے کم لیکن ہر چیز کو اسکی خوبیاں اور خامیاں بخشی۔ کسی میں ایک خوبی رکھی تو کسی میں دوسری۔ اب اس زندگی کی حفاظت کرنا اسکو صحیح طریقے سے گزارنا ہمارا فرض ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پیارا وہی ہے جو اس کے طریقے پر چلے اور اس کی آزمائشوں پر صبر سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتے ہے اسی لیے انکو اتنی ہی آزمائشوں سے گزارتا ہیں۔ آزمائشوں کا سلسلہ آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ انکو جنت دی گئی تو وہ بھی انکے لیے ایک آزمائش تھی۔ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ وسلم کو جنت کے ذریعے آزمایا گیا اسی طرح ہر ایک پیغمبر کو آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ اور انہی آزمائشوں پر صبر کرکے وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن گے۔ اسی طرح ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کتنی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، کتنے ہی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اس بات کا پتہ ہمیں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے۔
    غرض ہر انسان کی زندگی میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں کبھی مال کی صورت میں، کبھی صحت تو کبھی کچھ اور۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتے رہتے ہیں اسلیے نہیں کہ وہ کمزور ہوکر زندگی کو چھوڑ کر موت کو گلے لگاے بلکہ اس لیے تاکہ انکا ایمان اور زیادہ مضبوط ہو اور وہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن جاہیں۔ جو لوگ ان آزمائشوں میں صبر اور شکر کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جو دونوں جہانوں میں کامیاب ہوتے ہیں اور جو لوگ بے صبری اور ناشکری کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جو دونوں جہانوں میں ناکام رہتے ہیں۔
    مشکلات، تکالیف، دکھ، درد یہ سب زندگی کا ایک حصہ ہے نہ کہ پوری زندگی۔ یہ سب چیزیں صرف وقتی ہیں ابدی نہیں۔ آج اگر مشکل ہے تو کل آسانی بھی ہوگی۔ جس طرح ہر رات کے بعد دن ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ مشکلات کے بعد آسانی بھی پیدا کرتے ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہے اور اللہ تعالیٰ ایک بندے کو سب کچھ اسکی وسعت کے مطابق دیتا ہے چاہے وہ خوشی ہو یا غم۔ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی ہے۔ جس طرح آسمان میں ہمیشہ بادل نہیں رہتے اسی طرح زندگی میں بھی ہمیشہ مشکلات نہیں رہتی۔
    جس طرح ہر سوال کا جواب ڈھونڈنے سے ملتا ہے اسی طرح ہمارے ذہنوں میں پیدا شدہ سوالات کا جواب بھی ہمیں تلاش کرنے چاہئیں۔ اگر ہمیں کسی سوال کا جواب نہ ملے اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال کو ہی مٹا دیا جائے سوال کو مٹانا سوال کا حل نہیں بلکہ اس کا جواب تلاش کرنا ہی اسکا حل ہیں۔ اسی طرح زندگی میں آنے والی پریشانیوں کا حل تلاش کرنا چاہیے نا کہ خودکشی کر کے زندگی کو ہی ختم کرنا چاہیے خودکشی کرنا ہمارے مسائل کا ہرگز حل نہیں۔
    اگر ہم دیکھیں گے تو آج کل کے دور میں ہر کوئی اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں۔ خاص کر ہمارے نوجوان جو اپنے مستقبل کو لے کر اتنے فکر مند ہیں کہ اب وہ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے، مستقبل کا مالک کون ہے تو جو چیز ہمارے بس میں نہیں اسکے بارے میں پریشان ہونے سے کیا ملے گا۔ ہمارے مستقبل میں جو کچھ بھی ہے نہ ہم اسکو وقت سے پہلے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کو بدلنے کی طاقت ہم میں ہے۔ اسکا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے بس ایک انسان کو کوشش کرنی ہے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہے۔ کتنے ہی لوگوں نے صرف مستقبل کے بارے میں پریشان ہو کر زندگی کو چھوڑ کر موت کو گلے لگا لیا تو کیا اسے انکا مستقبل سنور گیا نہیں بلکہ اس سے وہ ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں چلے گئے۔ ہو سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انکے مستقبل میں کچھ ایسا لکھا ہوتا جس سے انکی پوری زندگی سنور جاتی۔ اگر ہم یہ سوچھ کر محنت کرے کہ مستقبل اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں ہے وہ جو کریں گے بہترین کریں گے تو ہم کبھی زندگی سے ناامید نہیں ہونگے۔
    ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس پر صرف اسی کا حق ہے۔ خودکشی کر کرنے والا شرک کرتا ہے اور مشرک کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اگر خودکشی کرنے والا ایک بار یہ بات ذہن میں لاے کہ اس دنیا کی اذیتوں سے کہی گناہ زیادہ اذیت ناک اس دنیا کا عذاب ہوگا اگر وہ ایک بار عذاب قبر کو یاد کرے گا، جہنم کے عذاب کو یاد کرے گا تو وہ کبھی مرنا نہیں چاہیے گا۔ آج کل کے سماج میں خودکشی ایک کھیل سا بن گیا ہے ہر کوئی مرنا چاہتا ہے لیکن موت کے بعد اسکے ساتھ کیا ہوگا اس بات سے ہر کوئی انجان بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو انسان اس دنیا کی ذرہ سی تکلیف برداشت نہیں کر سکا وہ آخر قبر کی ہولناکیوں کو کیسے برداشت کر سکے گا، جہنم کی ان چنگاریوں کو کیسے برداشت کر پاے گا۔ وہاں تو موت کا سہارا بھی نہیں ہوگا نہ کوئی بچنے کا طریقہ ہوگا تو کیسے بچے گا وہاں۔
    یہ بات بھی ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہمیں دماغ دیا سوچنے سمجھنے کے لیے اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے اگر ہمارا کوئی بھائی کسی پریشانی میں مبتلا ہے تو اس کی مدد کرنی چاہیے نا کہ اسکی پریشانی کی وجہ بنے۔ آج انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن بن گیا ہے اگر کسی انسان کی وجہ سے کوئی انسان اپنی زندگی ختم کرتاہے تو دوسرا بھی اسکے گناہ میں برابر کا حصہ دار ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری وجہ سے دوسروں کی زندگی سنور جائے ناکہ ہم انکی موت کی وجہ بن جائے۔ ہم آے دن دیکھتے ہیں کہ ہر روز دو چار خودکشیاں ہوتی رہتی ہے اور وہ خودکشی کرنے والے کوہی انپڑ جاہل لوگ نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ کرتے ہیں آخر کیوں کس چیز کی کمی ہے ہمارے سماج میں؟ کمی ہے تو اخلاقی تعلیم کی، کمی ہے تو قرآن مجید اور سنتوں کو سمجھنے کی جن کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت میں کوئی کمی نہ رکھے تاکہ انکا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط ہو اور انکو خودکشی جیسے سنگین گناہ کا سہارا نہ لینا پڑے۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے اور ہمارے ایمان کو بلندی بخشے اور ایمان والی عزت والی موت دیں۔ آمین

  • تمباکو نوشی کے نقصانات | رانا سعد صابری

    تمباکو نوشی کے نقصانات | رانا سعد صابری

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں۔ جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جن میں سے اسی فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چائنہ کے ساٹھ فیصد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ نوش آبادی میں بارہ فیصد خواتین شامل ہیں جب کہ روزانہ ایک لاکھ بچے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔ایک امریکی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال کرنے والے لڑکوں کے اخلاق پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ابتداء میں پینے والے کے رگ و ریشہ میں ایک خمار سا محسوس ہوتا ہے اس کے بعد ان میں سستی پیدا ہوجاتی ہے۔ اکثر طلباء کو بکثرت سگریٹ نوشی سے سیل یعنی تپ محرقہ (ٹی بی) کی بیماری ہونے لگتی ہے۔والدین، استادوں اور سماج کے معزز لوگوں کو مل کر حقہ نوشی اور سگریٹ نوشی کے خلاف موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر ہونہار اور اچھے لڑکے سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکو نوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔اگر ہمارے وطن پاکستان کو اچھا مستقبل چاہیئے تو سگریٹ نوشی پر روک تھام کرنی چاہیئے۔ والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کو تمباکو نوشی جیسے لت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ان کی مدد کریں۔ ان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ان کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے۔ سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا جیسی تمام عادات خطرناک ہوتی ہیں۔ تمباکو میں موجود نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح بڑھادیتا ہے جس کی وجہ سے نشہ کی عادت پڑ جاتی ہے۔ یہ کیمیکل خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو تمباکو مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان عادات کو ترک کرنا کسی بھی فرد کے لئے بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ جسم میں نکوٹین کی کمی سے طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان ہوجاتا ہے۔ تمباکونوشی بہت آہستگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کردیتی ہے اور ایک فرد کو کئی سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات واضح نہیں ہوپاتے اور جب یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک جسم تمباکو کے نشے کا مکمل طور پر عادی ہوچکا ہوتا ہے اور اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے نہایت نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ان میں سے چھ کیمیکل بینزین (پٹرولیم کی پروڈکٹ)، امونیا (ڈرائی کلیننگ اور واش رومز میں استعمال)، فارمل ڈی ہائیڈ (مُردوں کو محفوظ کرنے کا کیمیکل)اور تارکول شامل ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث ہوتا ہے۔ سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے جس میں برونکائٹس (COPD) اور ایفی زیما (Emphysema) قابل ذکر ہیں۔ ایفی زیما میں پھیپھڑوں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں اس سے سانس لینے میں دشواری اور انفیکشن یعنی نمونیہ ہونے کاخطرہ رہتا ہے۔ اس حالت میں پھیپھڑوں کے ٹشو ہمیشہ کے لئے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں جس سے مریض کو شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دمہ کی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔ پھیپھڑوں کا نمونیہ ہونے کی صورت میں پھیپھڑوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے دوسرے اعضاء خاص طور پر دماغ بہت متاثر ہوتا ہے اور مریض کا سانس بند ہونے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورہ (ہارٹ اٹیک) ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ تمباکو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے دماغ کے سٹروک (Isechemic Stroke) جس میں دماغ کو خون کی فراہمی کم ہوجاتی ہے اور ہیمرج (Hemorrhagic Stroke) جس میں دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں، کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کے دیگر نقصانات بھی ہیں جیسا کہ ہڈیوں کا کمزور ہوکر کولہے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا، معدہ کا السر، چہرے اور جسم کی جلد پر جھریاں پڑجانا۔ تمباکونوشی کا سب سے زیادہ اورخطرناک نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ تمباکو نوش ہوتے ہیں۔ جتنے زیادہ آپ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی بریسٹ کینسر ہونے کا احتمال بہت بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی منہ گلا خوراک کی نالی (ایسوفیگس) کا کینسر، معدہ کا کینسر ، جگر کا کینسر ،مثانہ کا کینسر،لبلبہ اور گردے کا کینسرکا باعث بھی بنتا ہے۔ دل کی بیس فیصد بیماریاں سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ دماغ کی کچھ نفسیاتی اور دیگر بیماریوں کا تعلق بھی تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو چبانے اور سونگھنے والے افراد کو منہ، مسوڑھوں اور گلے کا کینسر ہونے کا بہت امکان ہوتا ہے۔ تمباکونوش وقت سے پہلے مرجاتے ہیں، جس سے جہاں ان کے خاندان اپنوں کی قربت سے محروم ہوجاتے ہیں وہیں وہ ان کی آمدنی سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح تمباکونوش افراد کے خاندان کے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور ملکی طور پر بھی صحت کے اخراجات میں اضافہ ہونے سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ تمباکو کے دھوئیں سے تمباکونوش کے ساتھ رہنے والے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ سگریٹ نوش کی طرح اُس کے گھر اور ساتھ کام کرنے والوں میں بھی سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے اُن بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جن کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ بچوں کی صحت تمباکو کے دھوئیں سے شدید متاثر ہوتی ہے اور ان میں دمہ، سائی نیس انفیکشن، برونکائٹس اور دماغی معذوری کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

    مذکورہ بالا تمام منفی وجوہات کے سبب ایک فرد کو یہ سوچنا چاہئے کہ تمباکونوشی کی عادت سے نہ صرف اُس کی اپنی صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اُس کے ساتھ رہنے والے بھی اُتنا ہی متاثر ہورہے ہیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ وہ فوری طور پر تمباکونوشی کو ترک کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ اس کے لئے فزیشن سے مدد لی جاسکتی ہے جو مختلف ادویات اور کونسلنگ سے نکوٹین کی عادت سے مرحلہ وار آزادی دلاسکتا ہے۔ اگر کوئی تمباکو نوشی ترک کرنا چاہ رہا ہے تو دوسرے لوگوں کو بھی کوشش کرنا چاہئے کہ وہ اُس کی اخلاقی مدد کریں اور اُس کا حوصلہ بڑھاتے رہیں کہ وہ تمباکونوشی ترک کرسکتا ہے۔جس تمباکو نوش کو اس کے نقصانات سے آگاہی ہو جائے اُس کی یہ عادت ترک کرنے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے ۔ اس طرح ہمارے ملک میں شہری، مختلف سماجی اور حکومتی ادارے سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی پھیلا کر ترقی یافتہ ممالک کی طرح تمباکونوشی کی شرح کم کرسکتے ہیں۔
    حکومتی اعداد وشمار کے مطابق حکومت جتنا ٹیکس تمباکو کی مصنوعات سے حاصل کرتی ہے اُتنا ہی اُس کے نقصانات کی وجہ سے صحت کی ضروریات پر خرچ کردیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں تمباکو کے نقصانات کے حوالے سے زیادہ آگہی موجود نہیں ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کی مہم کو جارحانہ طور پر چلایا جائے جس میں حکومت، عوام، میڈیا، بزنس کمیونٹی، سکول کالج یونیورسٹی کے طلباء بھرپور حصہ لیں۔ سکول کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات اور دیگر سماجی برائیوں کے حوالے سے مضامین شامل کرنے چاہئیں تاکہ یہ بچے بچپن سے ہی ان اہم معلومات سے آگاہ ہوں اور وہ اپنے والدین، رشتہ داروں اور محلے داروں کو مجبور کرسکیں کہ وہ یہ عادات ترک کریں۔ اس طرح یہ بچے بڑے ہوکر معاشرے میں اہم صحتمندانہ تبدیلی لانے کا باعث بھی بن جائیں گے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ شہری مقامات پر تمباکونوشی کے قانون کو سختی سے نافذ کروائے، تمباکونوشی کی مصنوعات پر مزید ٹیکس لگائے اور تمباکو نوشی کو ترک کرنے کے اداروں کا قیام عمل میں لائے ۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری کاموں میں مصروف رکھنے کے لئے بہت سے نئے صحتمندانہ منصوبے شروع کرنا ہونگے تاکہ یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت طور پر کام میں لائیں جس سے نہ صرف اُن کی صحت کا معیار بہتر ہوگا بلکہ یہ ملکی ترقی کا باعث بھی ہوگا۔
    @SaadSabriPTI

  • ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے لگتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی طاقت اسے بچا لیتی ہے۔ یہ ان دیکھی طاقت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس طاقت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مصیبت سے نجات دلا سکے؟؟
    پیارے دوستو! یہ طاقت ہوتی ہے صدقہ و خیرات کی طاقت، اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت، ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طاقت۔ یہ طاقت ہوتی ہے غیب کی مدد۔ جب انسان تباہی کے دہانے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اللّٰہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالٰی کی اپنے بندے سے محبت ہوتی ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کا اپنے بندے پر احسان ہوتا ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے۔ انسان بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا۔ دور ہمیشہ ہم آتے ہیں اللّٰہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا فاصلے ہم پیدا کرتے ہیں اور اسے مٹانا بھی ہمیں چاہئے. صدقہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ صدقہ کیا ہوتا ہے؟ صدقہ وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ انسان برے وقت،برے حالات اور بری موت سے بچ جاتا ہے۔ ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ پودے اور درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔راہ چلتے ہوئے کی مدد کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں پتھر کانٹے ہٹانا صدقہ ہے۔ مسجد میں قرآن پاک رکھوانا، اس کی تعمیر و مرمت میں اپنی استطاعت کے مطابق حصّہ ڈالنا صدقہ ہے۔ پانی پلانے کو احادیث مبارکہ میں صدقہِ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ثواب اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے ۔ پیاسوں کو پانی پلانا،  تشنہ لبوں کی سیرابی کا کام کرنا اور انسانوں کی پانی کی تکمیل کر نا صدقہ ہے جس کا ثواب اللّٰہ تعالٰی آخرت میں خود دے گا۔ تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانے میں صدقہ دینا افضل ہے۔ صدقہ دینے سے اور اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔ اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے. دراصل
    ہم دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنی اس مصروف ترین زندگی میں ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔ معاشرہ تو دور کی بات ہے ہم تو اس قدر بے ہوش ہیں کہ ہمارے ہمسائے میں آج کیا ہوا، کون بیمار ہے کس کا انتقال ہوا ہمیں کسی کی کوئی خبر نہیں۔انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ اگر انسان سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور عبادت کے لئے اللّٰہ تعالٰی کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں۔
    ذرا سوچئے جس مسجد میں ہم روزانہ نماز ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، روشنی کے لیے لائٹس، جنریٹر، کارپٹ، امام اور مؤذن کی سہولت حاصل ہوتی ہے تاکہ میں نماز میں آسانی ہو۔ جبکہ ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں؟دس روپے؟ زیادہ سے زیادہ بیس روپے۔ جبکہ ہم ٹی وی کیبل 300 اور انٹرنیٹ 1300 کی فیس ہر ماہ ادا کرتے ہیں۔ موبائل پر بے تحاشا لوڈ کرواتے ہیں۔ناچ گانا پارٹی ہلہ گلہ اور بے فضول کی نمود و نمائش میں بے تحاشا پیسہ اڑاتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم مسلمانوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ہم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر کے ہی بڑے آدمی بن سکتے ہیں لیکن اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے لئے چھوٹے چھوٹے اچھے عمل ہی بہت ہیں۔ انسان اپنے اوصاف سے عظیم ہوتا ہے عہدے سے نہیں کیونکہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھنے سے کوا کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتا۔
    دعا ہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

  • توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے فوراً بعد توبہ کر لیں، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ سے اپنے گناہ کی معافی طلب کریں۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے خود پر لازم کر رکھا ہے کہ وہ اپنے بندے کے اس رجوع کو قبول کر لے گا۔
    بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جس میں کوئی دوسرا بندہ بھی متاثر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں صرف زبان کی حد تک یا ارادے کی حد تک توبہ کر نا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کی تلافی کریں اور اس شخص سے معافی مانگیں۔ اگر آپ نے اس کا کوئی حق مار لیا ہے تو اس کو ادا کرنا ہو گا۔ اسی کو قرآن مجید اصلاح کرنے سے تعبیر کرتا ہے۔
    اصلاح کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ آئندہ کے لیے آپ وہ کام نہیں کریں گے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو آپ نے غلطی کی ہے اس کی تلافی کریں گے۔ مثال کے طور پر کسی شخص نے کسی خاتون کے مکان پر قبضہ کر لیا ہے، اب وہ شخص سوچتا ہے کہ اس نے یہ غلط کیا ہے اور وہ اپنے اس گناہ پر توبہ کر لیتا ہے لیکن مکان نہیں چھوڑتا۔۔۔۔ تو یہ توبہ نہیں ہوئی۔اُسے چاہیے کہ وہ توبہ کے ساتھ ساتھ مکان بھی خاتون کے حوالے کر کے اپنے گناہ کی تلافی کرے۔
    بعض ناقابلِ تلافی گناہ ہوتے ہیں جس میں سنگین صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ناقابلِ تلافی گناہ کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو قتل کر دیا، وہ آدمی تو اب دنیا میں موجود نہیں رہا۔ اب اس سے جو کچھ معاملہ ہونا ہے وہ آخرت میں جا کر ہو گا۔ اس صورتحال میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آخرت میں معاف کرتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔ اُس وقت تو آپ کے پاس لینے اور دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہو گا، تو اس کا ازالہ کیسے ہو گا؟
    اس چیز کو حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر اُس کے کہنے پر آپ کو اپنی نیکیاں اس کے حصہ میں ڈالنی ہوں گی اور اس کی بُرائیاں اپنے کھاتے ہیں لینی پڑیں گی۔
    اسی طریقے سے اگر آپ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کرتے ہیں، کوئی ظلم کرتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب ازالے کی کوئی صورت موجود نہیں رہی ہے تو پھر آپ اس کے لیے استغفار کریں، اس کے اہل و عیال، اس کے رشتے دار اگر دنیا میں موجود ہیں تو ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کریں۔ یعنی ازالے کی کوئی نہ کوئی صورت آپ کو اختیار کرنی ہے۔ اگر اس کا بھی موقع نہ ملا تو یہ طے ہے کہ آخرت میں ہر حال میں اس شخص کے ساتھ آپ کا معاملہ پڑے گا۔
    گناہوں کی دونوں صورتوں میں، ایک وہ جو خدا کی بارگاہ میں ہم سے سرزد ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو بندوں کے حقوق سے متعلق ہیں، تو خدا کی بارگاہ میں ہونے والے گناہوں سے بھی ہمیں ڈرنا چاہیے اس لیے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو پھر بھی غفور و رحیم ہے پر بندوں کے معاملے میں آپ کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا رویہ وہاں کیا ہو گا، اس لیے اس معاملے میں اور بھی زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
    کوئی شخص اگر بددیانتی کرتا ہے، خیانت کرتا ہے، کم تولتا ہے یا ملاوٹ کرتا ہے تو وہ اصل میں حقوق العباد کے متعلق گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ خدا کا بھی مجرم ہے اور اس بندے کا بھی مجرم ہے۔ ایک وہ خیانتیں ہیں جو فرد کی حیثیت سے ہوتی ہیں اور ایک وہ ہیں جو ریاست کی سطح پر ہوتی ہیں تو اس صورتحال میں خیانت کرنے والا پوری قوم کا مجرم بن جاتا ہے۔ اگر کسی نے قومی خزانے میں خیانت کی تو وہ پوری قوم کا جوابدہ ہو گا، پوری کی پوری قوم قیامت کے دن اس سے حساب لینے کا حق رکھتی ہے۔ اس وجہ سے حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے۔ اس میں توبہ بھی کرنی ہو گی، گناہ کو چھوڑنا بھی ہو گا اور اس کی تلافی بھی کرنی ہو گی۔
    آپﷺ نے صحابہ کرام کو ایک روایت سنائی تھی، جس میں ایک شخص نے سو قتل کر دیے تھے۔ ظاہر ہے وہ جو سو مقتولین تھے ان سے اُس نے معافی نہیں مانگی تھی لیکن  اس نے اللہ سے سچے دل سے معافی مانگی تواللہ نے اسے معاف کر دیا تھا۔
    اس روایت میں بھی خدا کی معافی کی بات کی گئی ہے، یہ یاد رہے کہ بندے کی طرف سے خدا کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔ قتل کا جرم ایک ایسا جرم ہے جس میں انسان خدا کا بھی مجرم ٹھہرتا ہے، معاشرے کا بھی اور مقتول کا بھی مجرم ہوتا ہے۔ یہ معمولی جرم نہیں ہے اس لیے اس پر ابدی جہنم کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس کو ایک آسان سی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ہمارے معاشرے میں قتل اتنا عام ہو گیا ہے کہ نہ مرنے والے کو پتا ہے کہ کیوں مر رہا ہے اور نہ مارنے والے کو پتا ہے کہ وہ کیوں مار رہا ہے۔
    یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں ایک فتنہ پیدا ہو جائے گا  تو صحابہ کرام نے پوچھا وہ کیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کا قتل جس میں نہ مارنے والے کو پتا ہو گا اور نہ مرنے والے کو پتا ہو گا۔
    ہمیں اب معلوم ہے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے تو ہمیں  توبہ کرنی چاہیے، اس بارے میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا توبہ کرنے کے لیے بھی کوئی مہلت دی گئی ہے؟
    اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں اور اللہ نے اپنے بندوں کو موت تک کی مہلت دی ہے کہ آپ کسی بھی وقت اپنے گناہوں کی بخشش کی دعا کر سکتے ہیں، لیکن اگر فوراً آپ نے اپنے گناہ کی توبہ کر لی ہے، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ آپ کی توبہ قبول کر لے گا، اور اگر آپ نے توبہ کرنے میں تاخیر کی ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اُسی آیات میں آگے فرمایا ہے کہ اگر موت تک موخر کر دیا ہے تو پھر اللہ توبہ قبول نہیں کریں گے۔ یعنی سقراطِ موت طاری ہو گئی ہے، آپ کو معلوم ہو گیا ہے کہ اب دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں، اس وقت اگر توبہ توبہ کا ورد شروع کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ میں یہ توبہ قبول نہیں کروں گا۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ جو درمیان کا عرصہ ہے، یعنی  فوراً توبہ بھی نہیں کی اور موت تک بھی موخر نہیں کیا، لیکن درمیان میں کسی وقت اللہ نے توفیق دی اور رجوع کر لیا تو اس میں خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ یہ خاموشی خوف بھی پیدا کرتی ہے اور یہ خاموشی امید بھی پیدا کرتی ہے۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری توبہ قبول فرمائیں اور تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف کریں۔آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal