Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • مینٹل ہیلتھ  تحریر: خالد عمران خان

    مینٹل ہیلتھ تحریر: خالد عمران خان

    ذہنی پسماندگی ہمارے ہاں بڑھتی چلی جارہی ھے اور سب سے بڑی جہالت یہ ھے کہ ہمارے ہاں زہنی مرض کو بیماری سمجھنے کی بجائے لوگ دیگر عوامل کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ جہالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ھے کہ زہنی مریض کو اکثر جنات کے زیر اثر قرار دے دیا جاتا ھے جس کی وجہ سے زہنی مریض کو باقاعدہ علاج کی بجائے پیری فقیری کے چکروں میں ڈال دیا ھے جاتا ھے جو کہ انتہا درجے کی جہالت کا واضع ثبوت ھے۔

    اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے بہت سے ایسے معاشروں اور تہذیبوں کی مثالیں آتی ہیں جس سے ہمیں پتہ چلتا ھے کہ بہت سے معاشرے اور تہذیبیں گردش وقت میں گم ہوگئیں، ہمارے معاشرے میں جو دن بہ دن بگاڑ سامنے آرہا ھے اس میں سب سے بڑا مسئلہ انسانی رویوں کا خوفناک حد تک بگاڑ ھے جو کہ تشویش کی بات ھے۔اب اگر ہم ایشائی ممالک کا تجزیہ کرتے ہیں تو اول تو زیادہ تر کو زہنی امراض سے آگاہی ہی نہیں ھے بالفرض اگر معلوم ہو بھی جائے تو ہمارے ہاں چیزوں کو چھپانے کا رواج عام ھے یہاں لوگ زہنی امراض کو چھپا کر رکھتے ہیں، زہنی امراض کو باعث شرمندگی قرار دیا جاتا ھے اگر نوجوانوں میں یہ مسئلہ ہو تو اس لئے بھی خفیہ رکھا جاتا ھے کہ اگر کسی کو پتہ چل جاتا ھے ان کی زینی بیماری کا تو بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں اور اہم مسئلہ یہ کہ ان کی شادی بھی ناممکن ہوجائے گی۔ اصل میں ڈپریشن کے لئے کوئی مخصوص لفظ نہیں ھے اس سے متاثرہ لوگوں کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ھے کہ انہیں زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا ھے۔ عالمی ادارہ صحت اپنی ایک رپورٹ میں بتاتا ھے کہ دنیا بھر میں تقریباً 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی بیماری میں مبتلا ہیں۔ذندگی کے سہل پسند معاملات نے انسانی جسم کو خاصا متاثر کیا ھے وہیں ہمارے معاشرتی رویوں نے غربت پر بہت گہرا اثر ڈالا ھے اسی وجہ سے پیچدہ ذہنی مسائل جنم لینا شروع ہوگئے ہیں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ھے کہ روزمرہ کے معمولات جیسے کہ کسی کی زندگی میں غم و خوشی یا خوف وغیرہ کی کوئی ظاہری وجہ وقع پذیر نہ ہونے کے باوجود دماغ میں کیمیکلز عدم توازن کے باعث ایک انسانی دماغ ان تمام کیفیات میں مبتلا ہوسکتا ھے۔

    ایسے مواقعوں پر ضروری ھے کہ ذہنی مرض میں مبتلا مریض کی مکمل کونسلنگ کروائی جائے تاکہ مریض کے طرز زندگی اور سوچ میں مثبت تبدیلی لائی جاسکے اس کے علاوہ ذہنی مریض کے تجویز کردہ ادویات بھی عصبی کیمیائی مادوں کو واپس اپنی جگہ پر لانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
    دنیا بھر میں اس وقت زہنی ڈپریشن دنیا بھر میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ھے کچھ افراد اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں کہ خودکشی تک کرلیتے خصوصاً نوجوانوں میں یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ھے گزشتہ کچھ واقعات ایسے بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ امتحانات میں ناکامی کے خوف کی وجہ سے طلباء نے خودکشی جیسا انتہائی اقدام اٹھایا، ایک محتاط اندازے کے مطابق آدھے سے ذیادہ زہنی مریضوں کی عمر چودہ سال سے شروع ہوتی ھے محکمہ صحت کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ھے کہ پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک فرد زہنی مرض میں مبتلاء ھے۔
    طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ زہنی امراض کے تدارک کے لئے یہ ضروری ھے کہ عوام میں علاج معالجہ کے ساتھ اس بیماری سے متعلق شعور بھی اجاگر کیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ھے کہ زیادہ تر ہمارے ہاں زہنی امراض کا علاج کروانے سے کتراتے نظر آتے ہیں، انسان خواہ کتنا ہی اندر سے مضبوط کیوں نہ ہو یہ بیماری کسی کو بھی لاحق ہوسکتی ھے زہنی مریض خاص طور پر خصوصی توجہ کا مستحق ہوتا ھے، خاص توجہ سے ہی ایسے مریض واپس نارمل زندگی کی طرف آسکتے ہیں نا کہ ہنسی مذاق اڑانے سے اسی لئے اگر خدانخواستہ کسی کے گھر میں بھی کوئی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ھے تو اس کے لئے یہ ضروری ھے کہ ایسے مریضوں کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آئیں جائیں تاکہ وہ جلد صحتیاب ہوکر معاشرے کے معزز شہری بن سکیں

    Twitter ID :‎@KhalidImranK

  • ادھورے خط  تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    ادھورے خط تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    السلام علیکم!

    آج گرمی اپنے شباب پر ہے اپنے تمام تر جاہ و جاللال کے ساتھ ، گرم کر دینے کے عمل سے ، گرمی کی اتنی شدت اور میرا بوائلر  روم سب سے گرم ہے۔ اتنی شدید گرمی میں میرا بوائلر  روم جہنم کا ایک گوشہ معلوم ہوتا ہے ۔اور جب بوائلر  روم کے اندر جانا پڑتا ہے تو گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اور پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔جسے  پچلھے سال کیمسٹری لیب میں کیمسٹری کے پریکٹیکل کرنے میں آتا تھا ۔

      اتنی گرمی کے باوجود لیب کوٹ پہننا ضروری ہوتا لیب کوٹ جلتی ہوئی گیس جلاتی ہوئی دھوپ اور لیب کی بند کھڑکیاں ،لڑکیوں کے لال ہوتے سرخ سیب کی طرح رخسار ،ماتھوں پر بالوں کا لٹ کی صورت میں ٹھہر  جانا کتنا بھلا لگتا تھا۔

      مجے یہاں کی گرمی دیکھ کر وہ سب یاد أگیا

      کیمسٹری لیب، فزکس لیب ( Y) بس کا سفر،  اور تم  لوگوں کو بہت گرمی محسوس ہوتی تھی اور  مجے مزہ آتا تھا   یہاں بھی لوگوں کو گرمی محسوس ہوتی ہے اور میں لطف اندوز ہوتا ہوں کیونک میری فطرت  میں گرمی سردی ،خزاں، بہار ہر  موسم لطف اندوز ہونے کی عادت ہے۔

      

    ١٩مَی 1993ء

    اوپر کی سطور میں تقریبا” ١٥ دن پہلے لکھ چکا ہوں ۔١٨ مئی کو تمہارا خط مجے ملا حالات سے اگاہی ہوئی میں تم لوگوں کے خطوط کا ہی انتظار کر رہا تھا اسد کا رویہ قابلٔ افسوس تھا کہ اس نے خط تم لوگوں کو تک نہ پہنچاۓ۔

     تمہارا خط مجے مل گیا تھا۔ افسوس ہے کہ تم نے پنسل سے لکھا ہے خط لکھنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ خط لکھنا ایک مہذب  کام ہے تم لوگ کب اپنا آپ مکمل کرو گے توقیر ، تم سب جتنے بھی ہو میرے حلقہ احباب  میں ، کام  میں اپنی زندگی کے  اصل رخ دیکھنا جانتے ہو کیا اسا ممکن نہیں ہے کہ میں اپنے ملنے والوں سے تم دوستوں کی تعریف کرتا ہوں ممکن ہے ان کو لگتا  ہو کہ میرے دوست عام راستوں پر چلنے کے عادی نہیں ہیں۔ اور تم لوگ ہو کہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جاتے ہو  جس سے میری ناک چڑھ کر ماتھے سے جا لگتی ہے۔ بھلا سوچو میری چڑھی ہوئی ناک دیکھ لاہور والے کیا  سوچیں  گے۔ 

     کچھ تو خیال کرو خیر چھوڑو ان باتوں کو کہیں ایسا نہ ہو کہ خط اپنی باتوں کی نذر  ہو جاۓ۔

    ہاں میں پنجاب کا رہنے والا پنجاب کا پنجابی ہوں  مجے اکثر جامعہ ملیہ کالج کا  کلاس روم پریکٹیکل  لیب یاد آتا ہے۔خاص طور پر ان گرمیوں  میں جو آج کل لاہور پر مسلط ہے ۔

     پچھلے سال کراچی میں بھی  شدید گرمی تھی۔اندازہ پریکٹیکل کرنے کے دوران یا  Y بس کا سفر کرنے  پر ہوتا تھا۔یا چند  جو ہماری کلاس میں گوری چٹی لڑکیوں کے سرخ ہوتے ہوۓ گالوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا۔

    یہ وہ باتیں ہیں جو میں اکثر یہاں اپنے بوائلر  روم میں بیٹھ کر سوچتا ہوں کیونکہ یہاں سوچنے اور لکھنے کے علاوہ کچھ اور کام نہیں ہوتا عجیب نوکری ہے پندرہ دن ہو گئے ہیں ،آتا ہوں ، سوچتا ہوں شام چار بجے گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہوں۔اور  رات گئے تک آوارہ گردی کرتا ہوں اور صبح پھر ڈیوٹی پر آ کر سو جاتا ہوں۔

    ویسے مجھے یہ اپنی ڈیوٹی بہت اچھی لگتی ہے۔کیونکہ اس ڈیوٹی کی وجہ سے میں صبح سورج کے ساتھ خواب سے حقیقت کی طرف طلوع ہوتا ہوں۔یعنی صبح ٥ بجے اور مغرب کی طرف جاتی رات دیکھتا ہوں۔اور مشرق سے دبے پاؤں آتی  خوشگوار صبح دیکھتا ہوں۔جب میں پہلی بار اٹھا تو کچھ پہر انکشاب ہوا کہ سورج میرے گھر سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پر رہتا ہے۔

    رات تمہارا خط ملا اور آج میری ماں نے دو پراٹھے اور آلو ٹماٹر کے ساتھ بھون کر مجھے دیے لے بیٹھ جا۔دوپہر جب بھوک لگے تو باہر سے کھانے کی بجائے یہ کھانا۔میں نے کھایا۔مجھے انڈوں کا صفر یاد آیا۔میں آپ ہی آپ مسکرا پڑا۔پھر تمہیں خط کا جواب دینے بیٹھ گیا۔

    پرسوں والے دن مجھے بتانا جب رزلٹ آئے ، اور پرسوں والا  دن ہمارے کالج کی چھت پر رہتا  ہے۔تمہیں اتنا نہیں پتا تمہاری غفلت پر افسوس ہے لیکن نظر بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔پرنسپل کو نظر آتا ہے۔یا اسحاق  کو۔ پنسل  سے لکھنے والوں کو تو بالکل نظر نہیں آتا۔اور نہ ہی انگلش ٹیچر کو نظر آتا ہے۔اور کل ٹیکنیکل کالج کی چھت پر رہتا ہے۔ اور سورج میرے گھر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔

    آہ یہ چیزیں تمھیں نظر نہیں آیئں گیں ۔

    آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں۔

    اچھے اور پیارے لڑکے۔

    اؤ چند لمحوں ، چند سالوں ، چند صدیوں کے لئے میرے پاس آؤ۔

    میرے قریب بیٹھو

    میں تمہیں کچھ سمجھاؤں میں تمہں ایک سچی اور کھڑی لیہ پر لگاؤں۔اور تم سمجو گے ان حقیقتوں کو جو بہت  اکلیت میں ہیں۔جن تک ہر دور میں چند انسان پہنچ پاتے ہیں ۔ سب زندہ ہیں ، سب مردے ہیں مرے ہوۓ۔ آؤ پیارے میرے پاس بیٹھو۔تم محسوس کرو گے جو مر چکے ہیں۔وہ موجود ہیں۔اور جو زندہ ہیں۔وہ کہی چلے گئے ہیں جو مر جاتے ہیں وہ اپنے وجود میں آ جاتے ہیں۔اور زندہ غائب ہو جاتے ہیں۔ہا۔ہا۔ہا۔تم نہ سمجھ پاؤ گے۔کیونکہ تم محض ایک سایہ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔جو ہوتا ہے لیکن  کچھ نہیں کرتا۔

    تم کیا کرتے ہو؟کیا کیا ہےآج تک؟ جو گزر گۓ وہ کچھ کر گۓ۔ جو کچھ گزار رہے ہیں وہ بھی کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔اور تم_____۔

    تم کو اپنی ذات کا نہیں پتہ__ محض ایک ساۓ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔آؤ ۔ گھبراؤ مت۔اٹھ کھڑے ہو۔ابھی سفر بہت لمبا ہے۔اور کھٹن۔اور تم مسافر۔

    اب تک ان راستوں پر چلتے آۓ ہو۔جو پامال ہو چکے ہیں۔جن پر کتنے ہی انسان محض کیڑے مکوڑے کی طرح سفر کرتے ہیں۔اور تم بھی ان میں محض ایک کیڑے کی حیثیت رکھتے ہو۔

    اب بھی وقت ہے۔چھوڑو ان پامال راستوں کو۔آو۔ ادھر آؤ ۔اس وحشت میں۔پر منظر جنگل میں۔اس وادی میں۔نیلی جھیل کے کنارے۔جہاں کئی  انسان کے قدم اب تک نہیں پہنچ سکے ۔  آؤ سفر اب بھی طویل ہے۔ اور بالکل اجنبی۔نئ راہوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہو۔عام انسانوں کی صف میں سے نکل آؤ ۔پھر دیکھو تم کو یہ انسان محض سایوں کی طرح نظر آئے گے۔اور سائے کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟

    گرمی نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے لیکن میں ___

    سب کنٹین کی طرف جا رہے  ہیں کھانے کے لئے میں بھی جاؤں گا اب کچھ ہی دیر بعد۔شہتوت کی چھاؤں میں شیخ کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کھاؤں گا۔شہتوت کی چھاوں بہت سکون بخش ہے۔کھانے کے بعد ٹھنڈا پانی ‏پیؤنگا۔سکون سے آنکھیں بند کروں گا گرمی سے پیاری کوئل کی صدا سنوں  گا۔چڑیوں کی چوں ۔چوں اور کوؤں کی کائیں کائیں۔

     سورج جادوگر ہے پیارے۔

      

     @Ishaqbaig___

     

  • چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    سگریٹ نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے انسانی معاشرے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ سگریٹ نوشی کے کئی جسمانی اور ذہنی نقصانات سےواقف ہونے کے باوجود سگریٹ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ، سگریٹ نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر مکمل قابو پانے کے لیے  بہت  سی تحریرلکھی جاچکی ہیں اور
    حکومت نے تمباکو نوشی کے خاتمے کیلئے کئی اقدامات کئے، اس کے نقصانات سے آگاہ کیا ، لیکن سگریٹ نوشوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی

    سگریٹ باظاہر دیکھنے میں ایک چھوٹی سی شے ہے مگر جان لیوا امراض اور بےشمار نقصانات کا موجب ہیں۔سگریٹ میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جسے نکوٹین کہتے ہیں جب ایک فرد سگریٹ کا دھواں اپنے اندر کھینچتے ہیں تو اپنے پھیپھڑوں کی تہیں اس دھوئیں سے نکوٹین لینا شروع کر دیتی ہیں، چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ پر حاوی ہوجاتا ہے، جس کے بعد ہمارا دماغ ڈوپامائن نامی کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت تسکين ملتی ہے اور ، ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے والا ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو خوشی ، تسکين اور راحت فراہم کرتا ہے

    ڈوپاماٸن ڈوپاماٸن کیمیکل خوشی کے حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو سگریٹ اور اس میں شامل ہونے والا نکوٹین مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان تمام عادات کو چھوڑنا کسی بھی فرد کے لئے بہت کٹھن ہوتا ہے کیونکہ انسانی جسم میں نکوٹین کی کمی سے متاثرین افراد کی طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے، نکوٹین کی اسی طاقت کا بھرپور فاٸدہ اٹھایا جاتا ہے سگریٹ بنانے والی كمپنياں اسی عادی کے بدولت نوجوان نسل کو سگریٹ کی لت لگوا دیتی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان اور مرض کی حقیقت بھی چھپاتی ہیں

    سگریٹ نوشی بہت آہستگی کے ساتھ انسانی جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو چند سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات سے ناآشنا ہوتاہے اور جب یہ نقصانات رونما ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک انسانی جسم سگریٹ کے جان لیوا نشے کا مکمل طور پر عادی بن جاتا ہے اور متاثرہ شخص کو سگریٹ سے جان چھڑانا بہت دشوار ہو جاتا ہے

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک فرد موت کی گہری نیند سورہا ہے، اس طرح دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔سگریٹ نوشی سے متاثرہ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ سگریٹ اور اسکے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب جسمانی و ذہنی صحت کیلئے نہایت نقصان ہے اور پچاس سے زائد ایسے زہریلے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو مختلف سرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس کیوجہ سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے جو ہارٹ اٹیک کا موجب بنتاہے۔ سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہیمرج سٹروک ہوجاتاہے جودماغ میں موجود خون کی شریانیں کا پھٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا سب سے زیادہ اور خطرناک و سنگین نقصان انکے پھیپھڑوں کو ہوتا ہے، کیونکہ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افرا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔ ایک انسان جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا سرطان ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے متاثرہ افراد سانس کی بیماریوں ،ہارٹ اٹیک ،فالج، اسٹروک ہیمرج ، گلا، پھیپھڑے کا، خوراک کی نالی ، معدہ، دانتوں، جگر، گردے، مثانہ، لبلبہ اور گردے کے سرطان کا موجب بنتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا پچاس فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے اور فیصد امکان فالج کا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کی متاثرہ خواتین دل کی بیماریاں، بریسٹ کینسر ، جگر ، گردے معدہ، مثانہ لبلبہ کے سرطان کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات مرد سے پچیس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگر پاکستان کےمستقبل کو بچانا چاہتے ہیں تو سگریٹ نوشی پر روک تھام پر سختی سے عمل کیا جاٸے۔ والدین سے التماس گزارش ہے کہ اپنےبچوں کو سگریٹ نوشی جیسے لت سے دور رکھے اور متاثرہ افراد کو چھٹکارا حاصل کرنے میں انکی مدد کریں۔ متاثرہ انسان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح اور مستی کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ہمارے بچوں کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے

    ‎@HamxaSiddiqi

  • گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلائزیشن دنیا کے خیالات ، مصنوعات اور ثقافت کے دیگر پہلوؤں کے تبادلے کے ذریعے مختلف قوموں کے لوگوں ، کمپنیوں اور حکومتوں کا بین الاقوامی انضمام ہے۔ یہ جغرافیائی حدود کو پسماندہ کرتا ہے اور ایک انتہائی مربوط دنیا بناتا ہے۔ انجن ، ٹیلی کمیونیکیشن اور حال ہی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون جیسی ٹیکنالوجیز کے متعارف ہونے سے ، دنیا معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کے باہمی انحصار کی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے اور ایک گلوبل ولیج بن گٸی ہے۔ گلوبلاٸزیشن کی وجہ سے بہت سی تبدیلیاں جیسے کہ آبادیاتی تبدیلیاں ، مواصلات اور ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجیز میں بہتری ، سرمایہ داری اور معاشی لبرلائزیشن ، ڈی ریگولیشن اور پرائیویٹائزیشن وغیرہ شامل ہیں۔
    ادارہ جاتی یا دوسری صورت میں ، ‘گلوبلائزیشن پوری دنیا کے لوگوں کی زندگیوں پر کثیر اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ نہ صرف علاقوں کی معاشیات کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کی ثقافتی ، سیاسی اور سماجی معاملات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ، دنیا کا طاقت کا ڈھانچہ یورپیوں سے امریکیوں کی طرف منتقل ہوا ، اور اقتدار بہت کم قوموں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے دنیا بھر
    میں طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین زیادہ خلیج پیدا کی۔ لہذا ، اس دور کے بعد گلوبلائزیشن کے اثرات ہم آہنگ نہیں تھے۔ پوری دنیا میں ، اس نے ہر خطے کو مختلف طریقے سے متاثر کیا اور پاکستان بھی مختلف نہیں ہے۔ دیگر تمام اقوام کی طرح اس پر بھی معاشی اور ثقافتی طور پر اثر پڑا ہے۔
    معاشی طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے پاس محدود وسائل ہیں محدود وساٸل اور موجودہ وساٸل کا بہتر طور پہ استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ہماری معیشت بہت کمزور ہے۔ نظریاتی طور پر ، لبرلائزیشن ، گلوبلائزیشن کا ایک اور بنیادی اصول ، ایک ایسا عمل ہے جس کا مقصد بالآخر مقابلہ کی حوصلہ افزائی ، معیار کو بہتر بنانے اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے ایکسپورٹ مارکیٹ کو منافع بخش بنانا ہے۔ عالمی تجارتی برآمدات میں پاکستان کا حصہ گر گیا ہے۔ دوسری طرف امپورٹ لبرلائزیشن ایک بتدریج عمل ہے جہاں 1990 کی دہائی سے درآمدی ٹیرف کی شرح میں کمی کا رجحان نظر آتا ہے جس سے درآمد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہےجبکہ ہمیں ایسی پالیسیز بنانی تھی کہ ہماری درآمدات کم سے کم ہوں ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایسی پالیسیاں اتنی کارآمد ثابت نہیں ہوئیں۔ ملک کا تجارتی توازن مزید وسیع ہو گیا ہے اور اس عمل کے دوران بہت سی گھریلو صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ گھریلو صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح1990-1981کے دوران اوسط% 3.5 فیصد سے بڑھ کر 2015 میں %6.0 فیصد ہو گئی۔
    پاکستان کی غربت پچھلے سالوں میں 2002 میں 36 فیصد سے کم ہو کر2011 میں11 فیصد ہو گئی تھی لیکن پچھلے کچھ سالوں میں غربت اور بے روزگاری اوربین الاقوامی قرضے میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
    ، گلوبلائزیشن کا خیال ترقی پذیر ممالک میں پھیلنے سے پہلے ، یہ صرف یورپ ، شمالی امریکہ اور جاپان میں تھا۔ ان تینوں بلاکس کے پاس پالیسیوں کو مربوط کرنے اور عالمی اقتصادی منڈیوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار تھا۔ بالآخر ، ترقی یافتہ ممالک سے چھوٹے سرمایہ کی منتقلی کی وجہ سے ، عالمگیریت نے عدم مساوات کو بڑھایا۔ دنیا کے اس سماجی ، جسمانی اور ثقافتی تانے بانے ، آبادیاتی تبدیلیوں ، شہریاری ، ثقافتی اثرات اور استحصالی ہتھکنڈوں نے دنیا کو مثبت اور منفی دونوں طرح متاثر کیا۔منڈیوں کی لبرلائزیشن کے خیال نے مقامی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سامان ، مزدور ، خیالات اور خدمات کی آزاد نقل و حرکت کا راستہ دیا۔ نتیجے کے طور پر ، جیسے جیسے مقابلہ بڑھتا گیا ، ملک میں مزید تعلیمی اور پیشہ ور ادارے ابھرے اور تعلیم کا معیار بہتر ہوا۔لیکن ابھی بھی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک مکمل طور پر گلوبلاٸزیشن سے فاٸدہ اٹھانے سے قاصر ہیں ۔ گلوبلائزیشن سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو سیاسی استحکام ، جمہوریت کے استحکام اور اپنی پالیسیوں کے تسلسل پر مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
    پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو کہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کوریج کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔

    @b786_s

  • سید علی شاہ گیلانی کی میراث؛ کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ   تحریر: محمد اختر

    سید علی شاہ گیلانی کی میراث؛ کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ تحریر: محمد اختر

    بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سید علی شاہ گیلانی کا انتقال ایک بہت بڑا نقصان ہے، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں پختہ یقین ہے کہ ہم سب قادر مطلق ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے۔مزید یہ کہ وہ نظریہ اور مزاحمت کا نام تھا۔ حریت رہنما مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف ایک نہ سمجھوتہ کرنے والا مہم جو تھے۔ آج، انہوں نے ہمیں پیچھے چھوڑ دیا، لیکن ان کی میراث کشمیر کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ  ہے۔ آپ دنیا کے کئی نوجوانوں سے زیادہ بہادر تھا۔ حریت رہنماسید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ گھر میں نظربندی میں گزارا، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ بھارتی افواج کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ سید علی شاہ گیلانی کی آواز کشمیریوں کی تحریک آزادی کی علامت تھی، وہ خود ساری زندگی آزادی کے نعرے لگاتے رہے، انہوں نے نوجوانوں کے خون کو گرمایا، بھارتی افواج کو للکارتے رہے۔سید علی شاہ گیلانی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن انہوں نے نوجوان نسل کو آزادی اور جوش کا جو پیغام دیا ہے وہ کشمیری نوجوانوں کی رگوں میں رہے گا۔ تحریک آزادی کی جو فصل آپ نے بوئی ہے وہ کشمیریوں کی آئندہ نسلوں کے لیے آزادی کا پھل ضرور لائے گی۔سید علی شاہ گیلانی بلند حوصلہ، عزم، آزادی سے محبت اور آزادی کی قدر کو سمجھنے والے انسان تھے۔ انہیں دیکھ کر کبھی ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ بوڑھے ہیں،اُنکی آنکھوں میں ہمیشہ آزادی کی چمک دیکھی گئی۔وہ واقعی ایک تاریخی شخصیت تھے۔ 14 اگست 2020 کو حکومت پاکستان نے انہیں مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے لیے ان کی قابل ذکر خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ”نشانِ پاکستان” سے نوازا۔سید علی شاہ گیلانی کو بھارتی فوج نے بارہا حراست میں لیا اور زندگی کا ایک طویل عرصہ نظر بند رکھا۔، لیکن پھر بھی بھارت کے یہ اوچھے ہتکھنڈ ے ان کی آواز کو خاموش نہیں کر سکے، ان کی سوچ کو محدود نہیں کر سکے، ان کے خیالات کو بھی قید نہیں کر سکے، اور نا ہی آزادی کے جذبہ کی سختی کو کم کر سکے۔ آج،سید علی شاہ گیلانی دم توڑ چُکے ہیں،مگر اُن کی وفات نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں زندگی کا ایک نیا باب شروع کر دیا ہے۔سید علی شاہ گیلانی 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے۔ وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے رکن بھی رہے۔ بعدازاں انہوں نے تحریک حریت کے نام سے اپنی پارٹی بنائی۔وہ کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے۔ انہیں ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کا مضبوط مخالف اور مظلوم کشمیریوں کی طاقتور آواز سمجھا جاتا تھا۔ انہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی کا روشن چہرہ اور آزادی کی حقیقی آواز سمجھا جاتا تھا۔سید علی شاہ گیلانی نے اپنی پوری زندگی جدوجہد آزادی میں صَرف کی۔ سید علی شاہ گیلانی کشمیر کو پاکستان کے ساتھ الحاق ہوتے نہیں دیکھ سکے،مگر انہوں نے کشمیریوں کو آزادی کے حقیقی معنی سے آشناء کر دیا۔ان شاء اللہ! کشمیر آزاد ہو گا، سید علی شاہ گیلانی کا خواب پورا ہو گا۔ وہ اپنی زندگی میں کشمیر کی آزادی کو نہیں دیکھ سکے، لیکن جس ثابت قدمی سے کشمیری آزادیِ جدوجہد جاری ہے اِس یہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کشمیری یقینا جلد آزادی کی منزل ِ مقصود تک ضرور پہنچیں گے۔ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کو روک نہیں سکتی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کی زندگی بتاتی ہے کہکشمیری قیادت پر بھارتی مظالم عام کشمیریوں سے زیادہ ہیں مگر غیور کشمیری قیادت آج بھی اپنی زمین پر ثابت قدمی سے کھڑی ہے اور پہلے سے زیادہ جرات کے ساتھ آزادی کا نعرہ بلند کر رہی ہے۔ اللہ رب العزت سید علی شاہ گیلانی ؒ کو دائمی امن عطا فرمائے،جنت میں ان کے درجات بلند کر ے اور کشمیریوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے۔ (آمین)

    @MAkhter_

  • کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ : سوئم تحریر : اے ار کے

    مسلم باغ میں کرومائیٹ کی روایتی کانکنی صرف اندازوں کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔ جس سے پیداواری لاگت زیادہ اتی ہے۔
    جدید مشینوں و اوزاروں کا مسلم باغ میں کوئی تصور ہی نہیں انسانی جسم کو  بطور مشین استعمال میں لایا جاتا ہے۔
    کرومائٹ کی پرسنٹیج معلوم کرنے کے لیے کوئی سسٹم موجود نہیں۔کرومائیٹ پرسنٹیج معلوم کرنے کیلیے مسلم باغ میں سائنسی لیبارٹری کا قیام لازمی ہے۔
    اب بھی بیوپاری کرومائیٹ جانچنے کیلیے ایس جی ایس لیبارٹری کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ جس سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تاجروں کو یہ سودے کئی گناہ مہنگا پڑتے ہیں۔ 

    حکومتی سطح پر کوئی بھی ایسا طریقۂ کار موجود نہیں کہ کانکنی کے احاطوں کا تعین ہو یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ یہاں ہر وقت مسائل پیداہوتے ہیں۔
    کرومائٹ کے کانوں میں کسی ایمرجینسی یا پھر خدانخواستہ کسی کان کے منہدم ہونے کی صورت میں ریسکیو کا کوئی ذریعہ موجود نہیں۔
    مسلم باغ کے سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چھیر کرکرومائٹ کے کانوں میں کام کرنے اور کرومائیٹ نکالنے والے لیبر کے بھی کچھ  بنیادی حقوق ہوتے  ہیں
    یہاں لیبر کی نہ کوئی رجسٹریشن ہے اور نہ ہی اسی حوالے سے کوئی متبادل  نظام موجود ہے۔کانوں سے کرومائیٹ کو نکالنے کیلیے جیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے  وضع کر دہ مخصوص یونیفارم اور سیفٹی کے آلات ، جو محنت کشوں  کے بنیادی حقوق کے زمرے میں اتے ہیں ،مائن مالکان کانکنی کے ان اصولوں سے خود کو بری الذمہ تصور کرتے ہیں ۔ان اصولوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
    کرومائیٹ کانکنی کے لئے بارودی مواد کا استعمال کیا جاتا ہے اور کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث محنت کش ہمہ وقت حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
    کرومائیٹ کانکنی  انتہائی کٹھن، مشکل اور جان لیوا ہوتا ہے مگر محنت کشوں کو اپنے چولہے جلائے  رکھنے کیلئے انتہائی کم اجرتوں اور غیر ضروری و غیر قانونی طریقے سے  بغیر حفاظتی سامان کے ، ان کانوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ کرومائیٹ کی کانوں میں کام کرنے والے یہ محنت کش بارہ گھنٹے کے طویل اور غیر قانونی اوقات کار کے مطابق کام کرتے ہیں۔ محکمہ محنت اور افرادی قوت کے اہلکاران سالوں سال یہاں وزٹ نہیں کرتے جو قابلِ تشویش امر ہے ۔
    سائینٹیفک اصولوں اور جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھا جائے تو یہاں پر بڑی بڑی مشینوں کو استعمال میں لایا جانا چاہیے تھا۔
    جدید مشینری کو اس علاقے میں لانے سے کرومائٹ کی یہ تجارت کافی تیزہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں زندگی کا ہر شعبہ ترقی پاسکتا ہے۔ کرومائیٹ ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں
    کانکنی کے لیے بجلی،اور بارود کی عدمِ دست یابی ،انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی جو اس وقت ہر لحاظ سے کافی کٹھن ہے
    کرومائٹ کو صاف کرنے کے لیے جدید مشینری اور پانی کی شدید قلت ہے۔
    مسلم باغ کے کرومائیٹ کی صنعت ملکی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر حکومت درجہ بالا مسائل حل کرنے میں مقامی تاجروں کی مدد کرتی ہے۔
    لہٰذا صوبائی اور وفاقی حکومت اپنی ترجیحات میں مسلم باغ کو شامل کر لیں اور اگر تاجر برادری کے ساتھ تعاون شروع کر دیں تو بے شک یہ علاقہ  معیشت و مجموعی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا  کرسکتا ہے اور ملک کے ہزاروں بے روزگار افراد کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرسکتی ہیں۔
    اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی تجارت کے علاقے میں امن وامان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ تاجر برادری اس حوالے سے بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں ہر لمحہ اپنے جان و مال کی فکر رہتی ہے۔
    امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے حکومتی اداروں کا کردار سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔یہاں اغواہ برائے تاوان کے کہیں گروہ منظم ہیں  کہیں لوگوں کو اغواہ کرنے کے بعد کروڑوں روپے تاوان کی مد میں مغویان سے وصول کر کے مغویان کو چھوڑ دیا جاتا  ہے کہیں جرائم پیشہ اور اغواہ کار گروہ مسلم باغ میں سر گرم عمل ہیں۔ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت نے انھیں کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی ہے،اور نہ ہی ان کے جان و مال کے تحفظ کو  یقینی بنایا ہے۔

    ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan

  • وقت کی پابندی تحریر:‏نشاء خان

    وقت کی پابندی تحریر:‏نشاء خان

    ‏وقت کی پابندی

    ہر کام کو وقتِ مقررہ پر کرنے کا نام وقت کی پابندی ہے۔ ہم گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہیں، آنے والے وقت کے لئے ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں مگر حال کو بلکل فراموش کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں گزرے ہوئے وقت پر افسوس کرنے کی بجائے موجودہ وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ اس کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنی چاہیئے اور اس سے کام لے کر اپنے حال اور مستقبل کو روشن بنانے کی جدوجہد کرنی چاہیئے۔

    اکثر لوگ وقت کی قدر و قیمت کا احساس نہیں رکھتے، کاش وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کر لیں کہ وقت ایک انمول خزانہ ہے، اسے مفت میں نہیں گنوانا چاہیئے کیونکہ گزرا ہوا وقت کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتا۔ ہم محنت سے روپیہ کما سکتے ہیں، دوا،پرہیز اور عمدہ خوراک سے کھوئی ہوئی صحت واپس لا سکتے ہیں، تعلیم ، نیک چلنی اور رفاہِ عامہ کے کاموں سے عزت اور شہرت حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم اپنی تمام تر فہم و فراست ، اثر و رسوخ اور دولت و ثروت کے باوجود گزرے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی واپس نہیں لا سکتے۔
    ایک قول مشہور ہے کہ سکندر اعظم نے مرتے وقت کہا تھا ” کوئی میری تمام سلطنت لے لے اور مجھے جینے کے لئے چند لمحے اور دے دے ” لیکن ایسا کون کر سکتا تھا ؟

    اگر ہم غور سے دیکھیں تو کائنات کا پورا نظام ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ دن اور رات اپنے مقررہ وقت پر آتے جاتے ہیں۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتے ہیں۔ چاند اپنے مقررہ وقت پر گھٹتا اور بڑھتا ہے ۔ سورج اپنے متعین وقت پر طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ فطرت کے ان عناصر کے پروگرام میں کبھی کوئی بے قاعدگی نہیں دیکھی گئ۔
    وقت کی پابندی زندگی کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔ دنیا کا کوئی شخص خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو جب تک وقت کا پابند نہیں ہوگا کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکے گا۔

    مختصر یہ کہ جن لوگوں نے وقت کی قدر نہ کی، زمانہ ان سے روٹھ گیا۔ دولت اور حکومت ان سے منہ موڑ گئ۔ وہ خاشاک کی طرح بحرِ زندگانی میں بے مقصد بہتے رہے اور پھر اسی حالت میں ختم ہو گئے۔ عقل مند انسان وہی ہے جو وقت کی قدر و قیمت کو سمجھے اور کوئی لمحہ بیکار نہ گزارے۔ انسان کو بیکار رہنے کے لئے نہیں بنایا گیا ، بلکہ فطرت بھی اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی کام اپنے وقتِ مقررہ پر کرتا رہے۔

    گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
    سدا عیشِ دوراں دکھاتا نہیں

  • بچوں پر ماں باپ کی طلاق کے اثرات حصہ 1 تحریر خالد عمران خان

    ایک مشکل فیصلہ ماں باپ کے لیے الگ ہونا اور اس وقت اور مشکل جب میاں بیوی اور خاندان میں بچے بھی ہوں تو اس قسم کا فیصلہ آپ میاں بیوی کی زندگی کے علاوہ سب سے زیادہ اثرات آپ کے بچوں پر چھوڑ دیتا ہے اور ایسے اثرات جن کا سدباب آپ ساری عمر نہں کر سکتے۔
    طلاق خاندان کے لیے مشکل وقت ہوسکتا ہے۔ والدین صرف ایک دوسرے سے تعلق بہتر بنانے کے طریقے پے توجہ دیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا اس طرح کے فیصلوں سے ،اور کافی سارے ادارے بھی اس مسئلے کے بہتر حل کے لیے کام کر رہے ہیں ان سے مشورہ کریں. جب والدین طلاق دیتے ہیں بچوں پر طلاق کے اثرات مختلف قسم کے ہو سکتے ہیں۔ کچھ بچے فطری اور سمجھنے والے انداز میں طلاق پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں ، جبکہ کچھ بچے اس کی وجہ سے مشکلات میں
    آجاتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ جدوجہد کر تے ہیں

    بچے لچکدار ہوتے ہیں اور ان کو سمجھاتے ہوئے اِنکی مدد کے ساتھ طلاق معاملات کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ایسے وقت میں انکو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جو کے ماں پاب اپنے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے نہں دے پا رہے ہوتے اور یہ بچے کے مستقبلِ کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں اور اس کے معاشرتی رویئے کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے ایسے وقت بچوں پر بھی خاص وجہ دیں اور بدلتے حالات میں ان کو ساتھ ساتھ سمجھاتے رہیں.ان کو طلاق سے پیدا ہونے والے بحران سے کچھ حد تک بچایا جہ سکتا ہے.اور انکو دما غی طور پر تھوڑا بہت تیار کیا جا سکتا ہے اس بحران سے نکلنے یہ اس کو قبول کرنے لیے ۔ چونکہ طلاق ہونے کی عورت میں بچوں کے رویے بھی مختلف ہوتے ہیں (مختلف مزاج ، مختلف عمریں) ، بچوں پر طلاق کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بچے خاندان کے حالات کو سمجھتے ہیں اور انکی طبیعت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں تفصیل سے سمجھیں.

    ماں باپ کا کے ہونے والے اختلاف بچوں کے لیے ، خاندان کی بدلتی ہوئی حرکیات کو سمجھنے کی کوشش کرنا انہیں پریشان اور الجھا کر رکھ سکتا ہے۔ ماں باپ کی سوچ اس طرف نہں جاتی جب گھر میں جھگڑے کا ماحول رہے اور بچوں سے توجہ ہٹ رہی ہو ایسے صورت میں جو توجہ آپ ان کی روز مرہ ان بچوں پے دیا کرتے ہیں وہ آپکے لڑائی جھگڑے پے صرف ہو رہی تو یہ چیز بچوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے. بچے اپنے والدین کی توجہ ہٹنے کو محسوس کرتے ہیں۔ اور لڑائی جھگڑے کے ماحول کی وجہ سے نے خوش رہتے ہیں بچوں کے مزاج میں خطرناک حد ٹک تبدیلی بچوں میں لڑائی جھگڑے کی عادت کا پر جانا اور اس کی وجہ سے جو سب سے اہم مسئلہ کھڑا ہوتا ہے وہ ہے بچوں کی تعلیم پر پڑنے والے برے اثرات بچوں پر طلاق کے اثرات میں سے اھم ترین مسئلہ اِنکی تعلیمی کارکردگی میں دیکھا جا سکتا ہے بچے جتنے زیادہ پریشان ہوتے ہیں اپنی توجہ پڑھیں پے مرکوز نہں کر پا تے صحیح طرح، اتنا ہی امکان ہوتا ہے کہ وہ اپنے اسکول کے کام پر توجہ نہ دے پائیں اور اسکول میں اور بچوں کے ساتھ بھی انکا رویہ تبدیل ہورہا ہوتا ہے بچہ اس چیز کا بہت زیادہ اثر لے رہا ہوتا ہے ہمیں یہ سب سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    وطنِ عزیز پاکستان 14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آیا۔ پاکستان بننے کے لیے مسلمانانِ ہند نے ایک طویل جدوجہدکی اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اور طرح طرح کے ظلم و ستم سہے۔ پھر کہیں جاکر اللّٰہ پاک نے اس عظیم نعمت سے نوازا۔ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں آتا۔

    بظاہر تو تقسیم کے وقت وطنِ عزیز کے مسلمانوں کے ہاتھ کچھ خاص زر و دولت نہ آیا۔ بلکہ یہاں آکر بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اللّٰہ پاک کے خاص کرم اور فضل کی بدولت کئی مسائل اور جنگوں کے باوجود پاکستان قائم ہے اور انشاءاللہ تاقیامت قائم رہے گا۔ 40 سال کے قریب ملک پر فوج نے حکمرانی کی اور 34 سال یہ ملک جمہوری حکمرانوں کے زیرِ تسلط رہا۔

    اب ہم پاکستان کے محل وقوع پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان براعظم ایشیا میں ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک لوکیشن پر واقع ہے۔ جس پر ہر ملک کی نظر ہے۔ پاکستان دنیا میں دفاعی اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اب پاکستان کے ہمسایہ ممالک کی بات کرتے ہیں۔

    (1) پاکستان کے ایک طرف ہندوستان ہمارا ایک بڑا ہمسایہ ملک واقع ہے۔ جو رقبے میں پاکستان سے سات گنا بڑا ہے اور آبادی میں بھی پاکستان سے بہت بڑا ہے۔ جس کے ساتھ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک امن قائم نہیں ہوسکا۔ کیونکہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اور کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اس لیے جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس مسئلے کا جلد سے جلد حل ضروری ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس کی وجہ سے کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ اس مسئلے کا سب سے آسان اور پرامن حل ریفرنڈم ہے کہ کشمیر کے عوام کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ہندوستان یہ کرنے پر راضی نہیں کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں۔ 

    (2) پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا ہمسایہ افغانستان ہے دونوں ملکوں کی سر حد تقریباً 2500 کلومیٹر طویل ہے۔ جیسا کہ افغانستان کی تاریخ کا سب کو علم ہے کہ یہ ملک تقریباً پچھلے 45 سال سے حالت جنگ میں ہے اور پاکستان نے اتنے سالوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور 50 لاکھ افغان مہاجرین کو گھر کا فرد بنا کے رکھا ہے لیکن افغان جنگ صرف ان تک محدود نہ رہی بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص خیبر پختونخواہ اور پورے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ملک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو لیکن شرپسند عناصر نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ اب افغانستان کے حالات پہلے کی نسبت بہت حد تک ٹھیک ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی توقع کی جارہی ہے۔ 

    (3) تیسری جانب ایران ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً پوری دنیا کی طرف سے پابندیوں کا شکار ہے۔ حالانکہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن عالمی پالیسیوں کی وجہ سے ہم ایران کے ساتھ زیادہ اچھے تجارتی تعلقات استوار نہیں کر سکتے اور ہماری خوشحالی میں بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ حالانکہ اگر ہمارے اچھے تعلقات قائم ہوں تو دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہوگا۔ پچھلے چند سالوں ایران اور ایران کے تعلقات میں کافی بہتری آرہی ہے۔

    (4) چوتھا ہمسایہ ملک چین ہے جو پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ اور ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کی مدد بھی کرتا ہے۔ بلکہ ایک محاورہ بھی بنا ہوا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ پاکستان اور چین کے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور دونوں ملکوں کے مفادات کیلئے بہت اہم اور ضروری ہے اور پاکستان کیلئے امید کی کرن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اس کوریڈور کی تکمیل کے بعد پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا۔ انشاءاللہ 

    اگر آپ کا ہمسایہ اچھا ہو تو یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ان کے ہر طرح کا لین دین اور تعلقات ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ممالک کے بھی تعلقات ہوتے ہیں۔ اصل میں خارجہ پالیسی اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی ملک کی سفارت کاری بہترین ہوگی تو اس ملک کے تعلقات بھی بہترین ہوں گے۔جب بھی پاکستان کے کسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ 

    اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ پاک وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور اسے اسلام اور امن کا گہوارہ بنائے۔ ہمیں بھی اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے دن رات کوشش کرنی چاہیئے اور اللّٰہ سے امید رکھنے چاہیئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ 

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد۔۔!!

    @RanaFurqan313

  • ‏پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟  (از قلم محمد وقاص شریف

    ‏پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟ (از قلم محمد وقاص شریف

    ایک حاجی صاحب بہت ہی دیندار، نماز کے پابند، ہر وقت ذکر کرنے والے تھے,اور ہر ایک سے محبت سے پیش آتے، یہاں تک کہ سب ان سے محبت کرتے اور انکی باتیں توجہ، دھیان سے سنتے اور انکی ہر بات مانتے تھے۔

    حاجی صاحب نے لوگوں سے کہا: کہ ہم سب مسلمان ہیں، اس علاقے میں اکثر ہندو ہیں اور ہمارے علاقے میں قریب کوئی مسجد نہیں، ہمیں اپنے علاقے میں ایک مسجد کی ضرورت ہے تاکہ اپنے علاقے میں ہی ہم پانچ وقت نماز پابندی سے پڑھ سکیں،اور ہمارے بچے بھی دینی تعلیم حاصل کریں،جس کے لیے آپ سب کو اس کام میں ہمارا ساتھ دینا ہوگا،کیونکہ یہ ایک بندے کا کام نہیں۔

    تمام لوگوں نے حاجی صاحب کا ساتھ دیا، اور حاجی صاحب کے پاس اتنی طاقت آگئی کہ وہ مسجد بناسکیں،لیکن انہی دنوں حاجی صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی، اور حاجی صاحب نے اس کام 

    میں اپنے ساتھ ایک کمیٹی بنالی۔

    حاجی صاحب نے کئی دفعہ اپنی کمیٹی کو صاف الفاظ میں کہا : کہ لوگوں کے پیسے ہمارے پاس امانت ہیں،لوگ چاہے ہم سے مطالبہ نہ بھی کریں لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم نے جس مقصد کے لیے لوگوں سے مدد مانگی، اور لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا ہم وہ کام پوری ایمانداری سے سر انجام دیں۔

    حاجی صاحب کا کچھ ہی دنوں بعد انتقال ہوگیا اور پھر کمیٹی کا صدر ایک لالچی اور مفاد پرست شخص بن گیا،اور حاجی صاحب کے آخری رسومات میں بہت سا وقت گذر گیا۔

    کمیٹی کے کچھ لوگوں نے کہا بھی کہ اب ہمیں کام شروع کرا دینا چاہیے، لیکن صدر ٹال مٹول کرتا رہا، اور اس طرح کے لوگوں کو کمیٹی سے نکال کر اپنے مطلب کے لوگوں کو کمیٹی میں رکھ لیا جو اس کی ہر بات میں ہاں ملاتے ہوں۔

    اب وہ مسجد کی جگہ بھی موجود ہے، کمیٹی بھی موجود ہے لیکن مسجد نہیں بن رہی، لوگوں نے جب اس معاملے کو اٹھایا تو صدر نے بڑے طریقے سے کاغذات اپنے نام کراکر انہیں ہی فساد کرنے والا ثابت کرکے ڈنڈے مرواے۔

    صدر نے کچھ پیسے کھلا کر وہ مسجد کا پلاٹ اپنے نام کرالیا، اور اس پر اپنی کوٹھی اور بنگلہ بنالیا۔

    لیکن عوام کو جب یہ معلوم ہوا کہ اندر ہی اندر کام خراب ہوچکا ہے عوام اس صدر کے خلاف کھڑی ہوگئی، صدر نے عوام کو تھانوں سے ڈرایا اور ان پر لاٹھی چارج بھی کروائی۔

    اب آپ مجھے بتائیں! 

    کہ مسجد کے پلاٹ پر صدر نے جو اپنا ذاتی بنگلہ بنالیا اور کاغذات وغیرہ سب اپنے نام کرالیے لیکن یہ دھوکے سے کیا، کیا یہ صحیح ہے اسے عوام تسلیم کرلے؟ 

    یا عوام جنہوں نے مسجد کے لیے چندہ دیا، جنہوں نے لوگوں کو اس کے لیے راغب کیا، وہ اب تک بھی موجود ہیں، وہ اپنے حق کے مطالبہ پر ہیں کہ پلاٹ مسجد کا ہے،اسے وقف کرنے والوں نے مسجد کے لیے وقف کیا، اور ہر ایک نے مسجد کے نام پر مسجد کے لیے جو ہوسکا دیا۔ 

    وہ کہتے ہیں کہ ہم پر جو تشدد کروانا ہے کروا لو، جو ظلم کرنا ہے کرلو، اور جو نام دینا ہے دیدو! لیکن ہم مسجد کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

    بظاہرا چاہے وہ صدر کمٹی طاقتور ہے لیکن وہ غلط ہے، اور 

    بظاہرا یہ عوام چاہے کمزور ہیں، اور کوئی بھی حق کے لیے انکا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں لیکن یہ حق پر ہیں! 

    اب آپ بتائیں! 

    آپ کس کا ساتھ دینگے!

    سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا!

    کیونکہ اگر صدر کمیٹی کاساتھ دو گے تو قیامت کے دن اسی ظالم کے ساتھ جاو گے۔

    اور اگر عوام کا ساتھ دو گے تو ہوسکتا ہے تمھیں بھی ظلم کا نشانہ بنایا جاے تم پر بھی تشدد کیا جاے؟؟؟

    جی اگر آپ نے فیصلہ کرلیا ہے تو اب پورے غور و توجہ سے سنیں۔

    مسلمانوں کو پاکستان کا مطلب کیا

    لاالہ الہ الا اللہ کے نام پر اپنے ساتھ کیا گیا۔

    اسی کے نام پر ان سے قربانیاں مانگیں گئیں۔

    اور اسی کے نام پر مسلمانوں نے اتنی بڑی قربانیاں دیں۔مسلمانوں نوجوان بیٹیوں کی عزتیں اسی کلمہ کے لیے تار تار کی گئیں۔

    اسی کلمہ کے لیے شہیدوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

    اسی کلمہ کے لیے اپنے بچے قربان کیے۔

    اسی کلمہ کے لیے اپنے گھر بار،کاروبار،زمین، خاندان اور وطن تک قربان کیا گیا۔

    لیکن پھر ہوا کیا؟ 

    یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ صرف قائد اعظم کا صرف سیاسی نعرہ تھا۔ لیکن قائد اعظم کی سچائی ایمانداری، ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اس طرح کرسکتے ہیں۔ 

    بلکہ ان کے بعد والوں نے اس وطن کو جو کلمہ کے نام پر بنا۔

    جس کا مطلب ہی لا الہ الا اللہ تھا۔

    اس لاالہ کے دیس کو اس کے مقصد سے دور کردیا۔

    اس پاک سرزمین پر پلید انگریزوں کے قانون کو نافذ کیا اور جاری رکھا۔

    اس وقت سے اب تک علماء کرام بتاتے آرہے ہیں کہ یہ 

    اللہ سے عہد شکنی ہے۔

    اور تمام مسلمانوں سے جنہوں نے پاکستان کی آزادی کے لیے لالہ کے نام پر قربانیاں دیں، ان سے وعدہ خلافی ہے۔

    شہیدوں کی روحوں سے بے وفائی ہے۔

    اور اسی وجہ سے اللہ ناراض ہے اور اسی وجہ سے ہم پر دنیاوی عذاب بھی آئے ہیں، اور جب تک ہم واپس اپنے وعدے کو پورا نہیں کرتے ہمارے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

    لیکن ان انگریز کے کتے نہلانے والوں کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی۔

    افسوس اس بات کا نہیں کہ آج تک اس ملک میں اسلامی نظام کیوں نافذ نہیں ہوا؟

    افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے اپنی قربانیاں بھلادیں۔

    ہم مسلمانوں نے صرف نوکری، مال و دولت کے لیے یہ یہ قربانیاں نہیں دی تھی، اس سے زیادہ مال و دولت تو مسلمان وہاں چھوڑ کر کلمہ کے نام پر آگئے تھے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ

     اسلامی نظام کی کوشش میں رکاوٹ بننے والے بھی مسلمان ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک کا آئین اسلامی ہو اسی ملک میں اسلام کے نفاظ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتیں ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے

    جو ہمیں ہمارا بھولا سبق یاد دلاتے ہیں ہم انہیں ہی برا سمجھتے ہیں بلکہ انہی کو غدار کہا جاتا ہے۔

    آپ مجھے نظریہ پاکستان، لاالہ الاللہ اور شریعت کاغدار کیا پاکستان کا غدار نہیں!

    افسوس اس بات کا ہے

    لاالہ کے دیس میں بے حیائی جان بوجھ کر پھیلائی جارہی ہے۔ کوئی کہنے والا نہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ 

    لاالہ کے دیس میں شراب خانوں کی اجازت باقاعدہ حکومت دیتی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ لاالہ کے دیس میں

    رنڈی خانوں،لال بازار اور چکلوں کی باقاعدہ اجازت، سرپرستی اور حفاظت کی جاتی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ

    لاالہ کے دیس میں آئے روز قادیانیوں کے لیے راہیں ہموار کی جارہی ہیں، انہیں عہدے دیے جارہےہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ لاالہ کے دیس میں

    گستاخوں کو عدالتوں سے سزا ہوجانے کے بعد بھی یہودیوں کے کہنے پر عزت سے رہا کردیا جاتا ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ 

    لاالہ کے دیس میں بڑے بڑے نامور علماء کرام پر خود کش حملے کیے جاتے ہیں اور انہیں شہید کردیا جاتا ہے اور پھر انکے قاتل یا تو ملتے ہی نہیں یا پھر انہیں سزا نہیں ملتی۔

    میں عوام اور وقت کے حکمرانوں سے صاف صاف،علی الاعلان، ببانگ دھل،ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے اللہ سے کیے گئے وعدے،شہیدوں کی قربانیوں کو دیکھو!

    اور اپنے مقصد کے لیے جو بھی ہوسکے کرو،تم کمزور ہو نہیں کرسکتے تو جو کررہا ہے جو اس کے لیے آواز بلند کرے اس کا ساتھ دو!

    ورنہ ہم اللہ سے عہد شکنی کے مجرم ہیں۔ شہیدوں کی روحوں سے وعدہ خلافی کے مجرم ہیں۔

    اور جن کو کلمہ کے نام پر قربانیوں کے لیے تیار کیا تھا۔ ان سے بے وفائی کے مجرم ہیں۔

    اور جب تک اس مقصد پر نہیں آتے جس کے لیے یہ ملک حاصل کیا تھا،تمھاری نمازیں،تمھارے روزے تمھارے وظیفے اور تمھاری نیکیاں خود سوچو کہ اللہ کے پاس انکا کیا وزن ہوگا۔

    @joinwsharif