Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • جنسی ہراسگی اور جنسی زیادتی کیسی روکی جائے  تحریر اکرام اللہ نسیم

    جنسی ہراسگی اور جنسی زیادتی کیسی روکی جائے تحریر اکرام اللہ نسیم

    پاکستان میں جنسی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ناقابل یقین درجے تک بڑھ چکے ہیں
    بچوں کے ساتھ زیادتی کو روکنا عام آدمی کے لئے کیا حکومت وقت کے لئے بھی روکنا کسی چیلنج سے کم نہیں
    صرف اگر ہم حال ہی کے مینار پاکستان واقعہ کو لے لیں اسپر غور و فکر کریں تب جاکرسمجھ آسکتا کہ معاشرے میں بستے انسانوں کے آنکھوں سے حیا دل سے ایمان اور انسانیت پر رحم کھانے کا حس مردہ ہوچکا
    کسی کے دل میں رحم باقی نہیں رہا انسانیت صرف نام کی حد تک رہ گئی دلوں کو زنگ لگ چکے زبان سے غلاظتوں کے تیر نکل رہے ہیں خوف خدا ختم ہو چکا
    جنسی ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے روک تھام کے لیے سب سے پہلے والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ذہن سازی کریں کہ بیٹا اگر کوئی عام آدمی آپکو پکڑتا ہے آپ کو پیار کرتا ہے مطلب چمی وغیرہ لیتا ہے اس آدمی کا کوئی حق نہیں کہ وہ آپ کو پیار کرے یہ صرف والدین کا حق ہے کسی دوسرے بندے کا حق نہیں
    دوسری بات والدین اپنے بچوں کو سمجھائیں ذہن سازی کریں اگر بیٹا ہے اسے سمجھائیں کہ کسی کی ماں بہن بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا کیوں کہ اسلام نے اس طرح کے افعال منع کیا ہے اس میں گناہ ہے اللہ ناراض ہوتا
    اور اگر بیٹی ہے تو اسے بھی سمجھائیں کہ بیٹی کسی غیر محرم مرد کے ساتھ باتیں نہ کرنا اسکی طرف نگاہیں اٹھا کر نہ دیکھنا اسلام نے ان چیزوں کو سختی سے منع کیا ہے
    اور یہ ذہن سازی اگر بچوں کی بچپن سے کی جائے تو اسکا بہت فائدہ ہوتا ہے
    جب بچہ اور بچی ان غیر شرعی افعال سے بچ جائیں گے اور معاشرے کے اندر جو موجودہ بگاڑ بچوں کے ساتھ زیادتی کی صورت میں سامنے آرہا ہے بلکل کم ہو جائے گا
    اسکے بعد ذمہ داری استاد کی بنتی ہے کہ استاد بچوں کو سمجھائیں انکو اس بارے میں لیکچر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مردوں اور عورتوں کے لئے احکامات بھیجیں ہیں
    قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)
    ترجمہ
    مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے ۔
    اسی طرح نگاہیں جھکا کر رکھنے اور حرام چیزوں کو دیکھنے سے بچنے کی ترغیب دیں استاد
    اکثر احادیث مبارکہ میں بھی مسلمان مردوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے بچنے کا حکم دیاگیا ہے
    اور اسی طرح کا حکم عورتوں کے لیے بھی اللہ نے سورت النور کے اندر بیان فرمایا
    وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اَخَوَاتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التَّابِعِيْنَ غَيْـرِ اُولِى الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّـذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرَاتِ النِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ ۚ وَتُوْبُـوٓا اِلَى اللّـٰهِ جَـمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُـوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
    اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
    اگر یہی ترغیب استاد ہفتہ وار بچوں کو دیں
    تو ان شاءاللہ اللہ رب العزت سے قوی امید ہے کہ معاشرے میں جو آئے روز جنسی زیادتیوں کے واقعات رونما ہوتے ہیں اس میں کافی حد تک کمی آجائے گی مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نہ تو بچوں کی اس بارے میں ذہن سازی کی جاتی ہے اور نہ ہی انکو قرآن مجید اور احادیث میں ان افعال سے روکنے کے لئے ذکر کردہ احکام کی تعلیم دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں جسکی وجہ سے جنسی ہراسگی کے واقعات تیزی سے بڑھتے چلے جارہے ہیں
    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل
    @realikramnaseem

  • مُضَرصحت”  (تمباکونوشی) تحریر:افشین

    مُضَرصحت” (تمباکونوشی) تحریر:افشین

    اس جَدید دور میں اب ایک عام انسان کے پاس بھی اتنی معلومات ہوتی ہے کہ اب ہر کوئی جانتا ہے تَمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے پھر بھی کچھ افراد اپنی صحت کا نہیں سوچتے اور اسکا استعمال مسلسل کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ۔ تمباکو میں ایک کیمیائی مادہ نکوٹین شامل ہوتا ہے جو کہ زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہوتا ہے جس سے وقتی طور پہ تسکین حاصل ہوتی ہے مگر یہ انتہائی زہریلا ہوتا ہے اس سے گردے بھی متاثر ہوتے ہیں اور زیادہ استعمال سے گردے فیل ہوجاتے ہیں ۔ اسکے علاوہ بھی بلڈ پریشر ،ہارٹ اٹیک انجائنا جیسی بیماریاں گھر کر لیتی ہیں ۔ پھیپھڑوں پہ بھی برا اثر پڑتا ہےسب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کتنا مضر زہر ہے سب یہ زہر خود خوشی سے خریدتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے دشمن کیوں ؟ کیا لوگ یہ سب شوق سے کرتے ہیں ؟ انکی اس حالت کا ذمہ دار کون؟ یہ خود یا ان سے جڑے افراد یا پھر حکومت ؟؟بعض اوقات انسان اپنی زندگی کے مسئلوں میں اس کدھر الجھ جاتا ہے اسکو سکون تک میسر نہیں ہوتا افراتفری کا یہ عالم ہے کہ مصروفیت کے باعث اب انسان خود کے لیے بھی ٹائم نکال نہیں پاتا بعض افراد خود کو پریشانیوں کا گھر سمجھ کے تمباکو نوشی کا استعمال کر کے خود کو مسئلوں سے دور کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں انکو لگتا ہے اسکے استعمال سے انکے ذہن کو سکوں میسر ہوگا ۔جبکہ کچھ افراد دیکھا دیکھی میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ایسے دوستوں کے ساتھ بیٹھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں یہ کام صیحح سمجھ کے انکی نقل کرتے ہیں مگر کیا یہ صیحح عمل ہے ؟؟جب ایک بار یہ لت لگ جائے اس سے چھٹکارا آسانی سے نہیں ملتا بروقت روک تھام سے علاج سے ممکن ہے کہ وہ انسان صحت یاب ہوجاتا ہے پر جو پوری طرح سے اس دلدل کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں نشہ انکے اندر اس قدر سرایت کر چکا ہوتا ہے کہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے نشہ نا ملنے پہ وہ انسان گھر والوں سے جھگڑا کرتا ہے مار پیٹ کرتا ہے پیسے ادھار لیتا رہتا ہے نا صرف گھروالے گردونواح والے بھی اس سے تنگ آجاتے ہیں۔ ایسے افراد بہت سے جرائم کی وجہ بننے لگتے ہیں ۔یہ سب خریدنے کے لیے وہ گھروں میں چوری بھی کرنے لگتے ہیں اپنے بال بچوں کا بھی نہیں سوچتے ۔اسکی روک تھام جلد از جلد ہونی چاہیے حکومت کو ایسے افراد کو پکڑ کے سزا دینی چاہیے تاکہ وہ ان چیزوں کی فروخت نہ کرسکیں اور نوجوان نسل کو اس راہ پہ ڈال کے اس ملک کے نوجوانوں کو گمراہ نہ کر سکیں ۔ ایسے اقدام زیادہ تر سکول کالجز میں زیادہ ہوتے ہیں اساتذہ بچوں پہ نظر رکھیں اور والدین بھی اپنے بچوں پہ نظر رکھیں اور تمباکو نوشی سے بچا کے رکھیں -جو لوگ دوسروں کو نشہ لگانے میں مصروف ہوتے ہیں ایسے لوگ ایک ایماندار آفیسر کو تو ٹکنے نہیں دیتے جو بھی انکے راستے میں آئے یا انکے خلاف بولنے لکھنے کی کوشش بھی کردے اسکو نقصان ہی ملتا ہے حکومت سے اپیل ہے اس مسئلے پہ نظرِ ثانی کریں ۔تمباکو نوشی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہےنوجوان نسل کو پوری طرح سے تباہ کرنے میں یہ تمباکو نوشی ایک ہتھیار بنا ہوا ہے ۔ماوں کے لاڈلے بچوں کو اس راہ پہ چلا کے ان ماوں کا سہارا چھین لیا جاتا ہے پیسہ کی خاطر ضمیر فروش افراد اپنی ہی نسل کے دشمن بنے ہوئے ہیں احتیاط ضروری ہے بچوں پہ دھیان دیں ایسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں ۔ اور ایسے افراد کو گرفتار کیا جائے جو نوجوان نسل کو نشے میں لگانے کی کوشش میں سرگرم ہیں ۔ خود پہ خیال رکھیں ایسے میل جول سے پرہیز کریں۔ جو اپکی ذات کو نقصان پہنچائے ۔

    #افشین
    @Hu__rt7

  • تمباکو نوشی اپنوں اور دین سے دوری کا سبب ہے!!!  تحریر عقیل احمد راجپوت

    تمباکو نوشی اپنوں اور دین سے دوری کا سبب ہے!!! تحریر عقیل احمد راجپوت

    تمباکو نوشی کرنے والوں کو اپنے پیاروں سے بچھڑنے کا کچھ احساس ہو تو وہ پیسے بربادی اور اپنی موت کی جانب تیزی سے پیش قدمی چھوڑ کر اپنی زندگی میں خوشیاں لا سکتے ہیں تمباکو نوشی پیسوں کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے گینگرین دل کی بیماری، سانس کی بیماری اور کینسر جیسے مہلک ترین مرض تمباکو نوشی کرنے والوں میں عام انسانوں کی نسبت زیادہ ہونے کا خدشہ ہوتے ہیں مگر ہماری نوجوان نسل میں یہ بیماری بہت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے پوری دنیا اس وبا کے باعث لاکھوں لوگوں کو روز نگل رہی ہے اور ہنستے ہوئے چہرے چند ہی لمحوں میں بے جان لاشوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پیچھے پچھتاوا چھوڑ جاتے ہیں نوجوان نسل اس عمل کو فیشن کے طور پر استعمال کرنا شروع کرتی ہے اور دھیرے دھیرے وہ اس کے عادی ہوجاتے ہیں جس کو چھوڑنے کی لاکھ کوشش کے باوجود یہ لت چھوڑنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے پاکستان میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑے کیس سامنے آرہے ہیں جو حکومت کے لئے سوچنے کا مقام ہے سگریٹ کے پیکٹ پر موجود وارننگ کے باوجود عام عوام میں رہنمائی نا ہونے کی وجہ سے بچوں تک کو بآسانی دستیاب ہے ایک نوجوان دن میں ایک سے دو پیکٹ سگریٹ پینے والوں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر کروڑوں میں پہنچ چکی وزارت صحت اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کے پاس چلی گئی صحت وفاق اور صوبوں میں ایسی بٹی کے ملک کے مریضوں کو آدھا تیتر آدھا بٹیر بنا دیا گیا چھوٹے چھوٹے بچوں میں تمباکو نوشی سراہیت کرتی جارہی ہے جس کا ادراک کرنا بہت ضروری ہے ورنہ معاشرے میں صحت مند معاشرے کا قیام انتہائی ناگزیر ہو جائے گا مسلمان ہونے کے ناطے ویسے بھی نشہ حرام ہے مگر ہمارے معاشرے میں نشہ اور فضول خرچ پر اربوں روپے ضائع ہو جاتا ہے مگر دوسرا تاثر یہ بھی ہے کہ لوگ اسی کاروبار سے پیسے کمانا جائز سمجھتے ہیں ورنہ دیکھا جائے تو تمباکو نوشی کا کام کرنے والوں کا پیسہ جائز ہے یا نہیں اس پر بحث شروع ہوجائے گی تمباکو نوشی سے منسلک ملازمین جو تنخواہیں وصول کرتے ہیں اس پیسے سے صدقے اور حج کرتے ہیں وہ جائز ہے ان پیسوں سے دی جانے والی زکوٰۃ خیرات اللہ بہتر جانتا ہے مگر دین میں نشہ حرام ہے تو نشے کا کاروبار حلال کیسے ہوگیا میرا ذہن قبول نہیں کرتا انتباہ کا نوٹس لگا کر زہر کا کاروبار کرنے والی کمپنی اگر اپنے دل میں یہ سوچ کر مطمئن ہو کہ ہم نے تو لوگوں کا آگاہ کردیا ہے کیا انکے اپنے دل اس بات کو قبول کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ سہی عمل کے ذریعے رزق کمارہیں ہے یہ فیصلہ ان مالکان کے ظمیر کی آواز بن کر ان کے کانوں میں ضرور گونجتا ہوگا بحرحال چھوٹے سے کیبن سے لیکر بڑی بڑی فیکٹریاں اس زہر کو بیچنے کی زمہ دار تو ہیں اس بات سے کوئی لاتعلقی نہیں کرسکتا ہمارے معاشرے میں اس چیز کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہمارے مفتیانِ کرام اور علماء حضرات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خطابات اور پیغامات کے زریعے لوگوں کو اس چیز سے بچنے کی تلقین کریں تاکہ جن لوگوں کو معلومات نہیں ہیں وہ اس عمل سے دور ہوسکیں اور انجانے میں سرزد ہونے والی ان غلطیوں سے خود کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں معاشرے میں آگاہی فراہم کرنا جن کا فرض ہے وہ بھی اس معاملے پر اجتماعات اور سیمینارز منعقد کریں تاکہ لوگوں کو گناہ سے توبہ اور بچانے اور اپنی آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا وسیلہ مل جائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوجائیں

  • منشیات کی لت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ   تحریر: زاہد کبدانی

    منشیات کی لت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں منشیات کا استعمال 2013 سروے رپورٹ ، نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن ، پاکستان شماریات بیورو اور اقوام متحدہ کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 7.6 ملین منشیات کے عادی ہیں ، جن میں سے 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں۔

    بھنگ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا ہے ، جس میں تقریبا 40 لاکھ لوگ بطور صارف درج ہیں۔ افیون ، یعنی افیون اور ہیروئن ، کل منشیات استعمال کرنے والوں کا تقریبا  ایک فیصد استعمال کرتے ہیں ، 860،000 دائمی ہیروئن استعمال کرنے والے۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ منشیات پر منحصر افراد کو پیشہ ورانہ علاج کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم ، بحالی کا دستیاب ڈھانچہ مدد کے محتاج افراد کے ایک حصے سے زیادہ مدد نہیں کر سکتا۔

    ایک قدامت پسند اندازے کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافے کی شرح سالانہ 40،000 ہے۔ سروے کے ذریعے سامنے آنے والی سب سے پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ہیروئن کے عادی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ صارفین کی اوسط عمر 24 سے کم ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ، مرد بنیادی طور پر بھنگ اور افیون کا استعمال کرتے ہیں ، جبکہ خواتین ٹرانکلیوائزرز ، سیڈیٹیوٹس اور تجویز کردہ امفیٹامائنز پر انحصار کرتی ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس رپورٹ نے ملک بھر میں نسخہ ادویات کے غیر طبی استعمال کا زیادہ پھیلاؤ (1.6 ملین) ظاہر کیا ، خاص طور پر خواتین میں۔ رپورٹ میں پایا گیا کہ تقریبا all تمام سروے کی گئی خواتین نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اوپیئڈ پر مبنی درد کش ادویات (مورفین وغیرہ) کا غلط استعمال کیا اور کچھ حد تک پرسکون اور دواؤں کو استعمال کیا جو کہ فارمیسیوں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔

    زیادہ تر منشیات افغانستان سے آتی ہیں ، جو دنیا کی کم از کم 75 فیصد ہیروئن کی پیداوار اور رسد کا ذمہ دار ملک ہے۔ یو این او ڈی سی کا حساب ہے کہ 15 سے 64 سال کی عمر کے 800،000 سے زائد پاکستانی باقاعدگی سے ہیروئن استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 44 ٹن پروسیسڈ ہیروئن استعمال کی جاتی ہے ، استعمال کی شرح جو امریکہ سے دو یا تین گنا زیادہ ہے۔ افغانستان سے مزید 110 ٹن ہیروئن اور مارفین پاکستان کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں اسمگل کی جاتی ہے۔ ایک قدامت پسند اندازے کے مطابق ، خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں منشیات کی غیر قانونی تجارت سے سالانہ دو ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

    منشیات کے استعمال کرنے والوں کی تعداد خاص طور پر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں زیادہ ہے ، جہاں تقریبا 11 11 فیصد آبادی منشیات کی لپیٹ میں ہے۔ 2013 میں بلوچستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 280،000 تھی۔ حالیہ برسوں میں انجکشن کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2007 میں ، پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 90،000 منشیات استعمال کرنے والے تھے ، لیکن یہ تعداد 2014 تک بڑھ کر 500،000 تک پہنچ گئی۔

    یہ اضافہ ایچ آئی وی مثبتیت میں اضافے کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق 2005 میں 11 فیصد پاکستانی منشیات استعمال کرنے والے ایچ آئی وی پازیٹو تھے۔ یہ تعداد 2011 میں بڑھ کر 40 فیصد ہو گئی تھی۔

    سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کے عادی افراد کی اکثریت عام طور پر نرم منشیات جیسے چھالیہ ، گٹکا اور پان سے شروع ہوتی ہے ، اور پھر ہیروئن ، افیون اور کوکین وغیرہ جیسی سخت ادویات کی طرف بڑھتی ہے۔ ‘ایجنٹ’ ، جو صرف ایک فون کال کے فاصلے پر ہیں۔ ان کے نمبر آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ رابطہ نمبر بھی بڑے پیمانے پر ہوسٹلوں ، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر تقسیم کیے جاتے ہیں جو عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں سے چھپے ہوتے ہیں۔

    منشیات کے استعمال اور اس کے متاثرین کے خلاف معاشرے کا ردعمل ناقص اور ناکافی رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ، علاج اور ماہر کی دیکھ بھال کی کمی ہے۔ 30،000 سے کم منشیات استعمال کرنے والوں کو علاج دستیاب ہے۔ سروے سے ظاہر ہوا کہ 64 فیصد جواب دہندگان نے علاج کروانے میں مشکلات کی اطلاع دی۔ بھاری اکثریت (80 فیصد) کے لیے علاج ناقابل برداشت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی سہولیات کی کمی کو 23 فیصد جواب دہندگان نے علاج میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ 44 فیصد نے اپنی زندگی کے کسی مرحلے پر منشیات کے مسئلے کا علاج حاصل کیا ، اور 96 فیصد کا علاج ہیروئن کی علت کے لیے کیا گیا۔

    ماہرین کے مطابق سب سے آسان اور موثر حل یہ ہوگا کہ نشے کے عادی افراد کو بحالی مرکز میں بھیج دیا جائے۔ منشیات کے عادی افراد سے نمٹنے کے لیے علاج کی ایک انسانی شکل سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ لیکن ، سب سے پہلے ، آگاہی اور روک تھام گھر سے شروع ہونا چاہیے ، والدین کے ساتھ۔ والدین کو چوکس رہنا چاہیے اور ان کے بچوں کی کمپنی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سکولوں کی سطح پر بھی منشیات کے تباہ کن اثرات پر بات ہونی چاہیے ، اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ اس علم میں محفوظ کہ انہیں چھوا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ان سے حساب لیا جا سکتا ہے ، منشیات کے کارٹیل ان کی تجارت کو معافی کے ساتھ چلاتے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس حکومت کا ایک وفاقی ایگزیکٹو بازو ہے جسے پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال سے نمٹنے کا کام سونپا گیا ہے ، لیکن اس کا سکور کارڈ بہترین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری ادارے منشیات کے کارٹلز پر سختی سے اتریں ، جو ملک میں منشیات کے استعمال کے واقعات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

    @Z_Kubdani

  • سگریٹ زہر ہے جو پی رہا ہے انسان  تحریر  : حشام صادق

    سگریٹ زہر ہے جو پی رہا ہے انسان تحریر : حشام صادق

    میرے دادا جان اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین دادا جان کو لوگ استاد کہ کر پکار کرتے تھے 80 کی دہائی میں دادا جان کے پاس اپنی ویگن تھی اور اس زمانے میں ویگن بہت بڑی سواری تھی۔ دادا جان اسی ویگن سے اپنی حق ہلال کی روزی روٹی کماتے تھے ۔ مطلب پبلک ٹرانسپورٹ۔

    دادا جان کے بارے یہ بات سارے علاقے میں مشہور تھی کہ استاد کسی بھی سواری کو گاڈی میں سگریٹ نوشی نہیں کرنے دیتے تھے بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ اگر کوئی سگریٹ نوشی کرنا چاہتا تو دادا جان گاڑی روک کر اس بندے کو اتار دیتے تھے۔ ہمیں بھی ہمارے والدین نے بچپن ہی سے اس چیز سے دور رکھا الحمدللہ اللہ پاک کا شکر ہے کہ میرے نہ تو دادحال نہ ننہال میں کوئی ایسا ہے جو سگریٹ نوشی کرتا ہو۔ میں اگر اپنی بات کروں تو مجھے بچپن سے ہی سگریٹ کی ناخوشگوار سی خوشبو بلکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی
    سکول کالج کے دور میں بھی اللہ پاک کی کرم نوازی رہی میرا کوئی دوست بھی ایسا نہ تھا جو سگریٹ نوشی کرتا ہوں۔

    کالج کے ٹائم پے ایک تجسس تھا کہ لوگ آخر سگریٹ نوشی کرتے ہی کیوں ہیں؟
    مجھے آچھی طرح یاد ہے ہم نے کالج کے دور میں ایک کیمپ بھی کیا تھا اس ہوالے سے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہے۔آج پھر سے باغی ٹی وی نے یہ کیمپین چلا کے مجھے میرے کالج کے دن یاد دلا دیئے جس کی وجہ سے میں بہت شکرگزار ہو باغی ٹی وی والوں کا اللہ پاک آپ کو بہت ترقیاں نصیب فرمائے اور آپ اسی طرح اپنے ملک کے لیے کام کرتے رہیں۔آمین

    قارئین سگریٹ نوشی اس قدر جان لیوا نشہ ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اور اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا
    سگریٹ نوشی کرنے والا وقتی سکون کے لیے یہ جان ہی نہیں پاتا کہ وہ کتنے گھاٹے کا سودا کررہا ہوتا ہے۔ یہ ایک زہر ہے۔اور وہ یہ زہر نہ صرف خود اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے بلکہ انجانے میں اپنی نسلوں کو بھی اس تباہی میں شامل کرلیتا ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والا بندہ یہ سمجھتا ہے بس وہ خود سگریٹ پیتا ہے تو باقی گھر والے اس کے نقصانات سے بچے رہیں گے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔سگریٹ کے دھویں سے آپ کے گرد جو بھی ہو گا وہ لازم متاثر ہو گا۔چھوٹے بچوں سے لیکر بیوی بہین بھائی والدین اس دھویں سے متاثر ہورہے ہوتے ہیں اتنا ہی ان کے پھیپھڑوں پر اثر پڑرہا ہوتا ہے جتنا سگریٹ نوشی کرنے والے کے پھیپھڑوں پر

    میرے نزدیک سگریٹ نوشی کسی بھی نشے کی پہلی سیڑھی ہے اور یہاں سے ہی ایک آچھے بھلے انسان کی تبائی کی بنیاد شروع ہوتی ہے سگریٹ کا عادی انسان اس نشے کا اتنا عادی ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ اس سے پھر اور کوئی بھاری نشے کی تلاش میں نکل پڑھتا ہے لا شعوری طور پر نسوار، گھٹکا،پان سے ہوتا ہوا ایک دن خدانخواستہ ہیروئن تک جا پہنچتا ہے۔اسے لگتا ہے یہ بھی سگریٹ کی طرح سکون دے گی لیکن پھر انسان کی واپسی کے سب راستے بند ہوجاتے ہیں انسان اپنی تباہی کو خود انتظام کرتا ہے تو ایسے لوگوں کی منزل پھر اندھیرے راستوں اور موت کی وادی کے سوا کچھ نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے نشے کے لیے تڑپتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے۔ ایسے بھی لوگ دیکھے جو اپنا گھر باربیچتے پر مجبور ہوئے اس نشے کی وجہ سے زلیل رسوا ہوتے رہے ۔ایک انسان کے نشے کی لت سے پورا خاندان اجڑ جاتا ہے آج کل کے حالات و وقیات دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اب تو سکول کالج اور یونیورسٹی میں یہ عام ہوتا جا رہا ہے ۔

    میں موجودہ حکومت سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ حکومت اس جان لیوا نشے کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرئے ۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس زہر سے دور رکھا جا سکے۔ایک بار پھر سے باغی ٹی وی اور اس کے عملے کا شکریہ ادا کرنا چاہوں اور دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے جو پاکستان میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو۔آمین

    @No1Hasham

  • جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش  تحریر : اقصٰی صدیق

    جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش تحریر : اقصٰی صدیق

    ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں بیٹی جب باپ کے کندھے تک پہنچنے لگتی ہے تو والدین کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
    آج مہنگائی کے اس دور میں جب اخراجات میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، تو اس ترقی یافتہ اور جدید دور میں بھی متوسط طبقہ والدین شادی بیاہ میں بیٹیوں کو بھاری بھر کم جہیز اور سونے کے زیورات دینے کی فکر میں وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
    موجودہ دور میں چند تولے زیورات کی قیمت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    اس لیے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سونے کے زیورات دینا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔
    مہنگائی کے اس دور میں اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عام آدمی کا جینا مرنا محال کر دیا ہے۔
    اور مہنگائی کے اس دور میں شادی کے اخراجات بیس، پچیس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔
    ایسے میں والدین بیچارے بیٹیوں کی شادی کے اخراجات کے بارے میں سوچ سوچ کر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہیز اور غیر ضروری رسموں کے سبب بابل کی دہلیز پر بیٹھے لڑکیوں کے بالوں میں سفیدی آ جاتی ہے۔
    کم جہیز یا جہیز نہ دینے پر بنت حوا تشدد و جبر کا نشانہ بنتی آ رہی ہے، سسرال میں ساری زندگی طعنہ زنی کا شکار ہوتی رہتی ہے، اور کبھی تو جہیز کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے، اور کبھی تیزاب پھینک کر جلا دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر جہیز کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
    انہیں صرف یہی فکر رہتی ہے، کہ کسی طرح بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔
    والدین بیٹی کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے جوان ہونے تک اس کیلئے جہیز جمع کرتے ہیں، تاکہ آنے والے وقت میں ان کی اور ان کی اولاد کی عزت میں آنچ نہ آئے۔
    ایک زمانہ تھا جب شادی کرنا بہت آسان تھا، بیٹی کو جہیز میں دیا جانے والا سامان محض چند سکوں یا زیادہ سے زیادہ ہزاروں روپوں میں ہوتا تھا، اگرچہ مہنگائی کا اس وقت بھی رویا جاتا تھا۔لیکن اس دور میں اتنے فضول رسم و رواج نہیں تھے، جو آج کل کے دور میں والدین کے لئے وبال جان بن گئے ہیں۔
    رنگ برنگے پکوان تیار نہیں کیے جاتے تھے، صرف ایک ہی کھانا بنتا تھا۔
    اور بیٹی والے جہیز میں اتنا قیمتی سامان بھی نہیں دیتے تھے، جتنا آج کل لڑکی کے سسرال والے فرمائشیں کر کے مانگتے ہیں۔سادہ لوح لوگ تھے، ہر طرح کی بناوٹ سے عاری۔
    والدین حسب استطاعت بیٹی کو جہیز اور زیورات دے کر خوشی خوشی رخصت کر دیتے تھے۔پرانے وقتوں میں ایک کنبہ میں درجنوں افراد کی کفالت صرف گھر کا ایک فرد جو گھر کا کفیل ہوا کرتا تھا، اس کی ذمہ داری ہوتی تھی۔اس وقت تقریباً لڑکی لڑکے کا تناسب برابر تھا جبکہ روپے پیسے کی اتنی ریل پیل نہ تھی۔
    اور نہ ہی موجودہ دور کی طرح آسائشیں میسر تھی، کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی انسان کو ذہنی سکون میسر تھا۔
    دور جدید میں ہر کام میں تیزی آ گئی ہے، آج جدید دور میں داخل ہونے کی وجہ سے ہم نمود و نمائش میں پڑ گئے ہیں۔ہم نے بہت سی غیر اسلامی اور غیر ضروری رسومات اپنا لی ہیں۔
    جوں جوں بیٹیاں جوان ہوتی ہیں، انہیں دیکھ کر والدین کی کمر جکھتی جاتی ہے۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ حکومتی سطح پر بے تحاشا مہنگائی ہوئی ہے، لیکن اس کے برعکس یہ بات بھی قابل قبول ہے کہ ہم نے معاشرے میں اعلٰی مقام کی خاطر کئی فضول رسمیں اپنا رکھی ہیں۔
    نفسا نفسی کے اس دور میں ہم سادگی کو بھول کر آگے نکلنے کی کوشش میں دلی سکون کھو بیٹھے ہیں۔
    ہم نے یہ بات ذہن میں بٹھا لی ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو شادی پر اتنا جہیز دیا ہے تو ہم کیونکر پیچھے رہیں،
    دھاگہ ڈالنے والی سوئی سے لے کر گاڑی تک جہیز میں دے کر اپنی حیثیت کا لوہا منواتے ہیں۔

    لڑکے والے بھی اپنا حق سمجھ کر سب کچھ رکھ لیتے ہیں، چاہے گھر میں رکھنے کے لیے جگہ ہی نہ ہو۔
    ہمارا مذہب ہب اسلام بھی ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے،اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔
    عورت کا بہترین زیور اس کی تعلیم و تربیت ہے،
    فضول رسم و رواج کو ترک کر کے ہم شادی بیاہ پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں۔
    لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہل کون کرے گا؟

    اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ امراء لوگ جنہوں نے شادی کے دنوں کو ہفتوں میں تبدیل کر دیا ہے انہیں چاہیے کہ وہ غیر ضروری اور غیر اسلامی رسومات کی نفی کریں، انسان کی اصل حیثیت اس کا روپے پیسہ نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔جہیز سے ہٹ کر آج کل پارلر آنے جانے کے چکروں میں بھی ایک کثیر رقم ضائع کر دی جاتی ہے۔
    یہ بات بھی حقیقت ہے کہ روپے پیسے کی فراوانی اور جہیز کی زیادتی سے آپ اپنی بیٹی کی قسمت تو نہیں بدل سکتے۔لڑکی نے اپنا گھر خود بسانا ہے، اس لیے اچھی تربیت اور عادات و اطوار ہی اس کے لیے اس کا قیمتی زیور اور اثاثہ ہیں۔جسے اپنا کر وہ اپنا گھر بسا سکتی ہے، اور اسی سے ہی آگے چل کر ایک اچھا گھرانہ، اور اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    بے شک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سادگی کو پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میانہ روی کی تلقین کی۔بحثیت مسلمان ہمیں روز محشر ہر چیز کا حساب دینا ہے، یہ ظاہری نمود و نمائش کہیں ہمارے لیے باعث فخر کی بجائے باعث عذاب ہی نہ بن جائے، لہٰذا اس بارے میں ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی بیحد ضرورت ہے۔ کیوں کہ بات محض جہیز کی ممانعت پر تبصرے کرنے کی نہیں ہے، بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کی ہے۔

    @_aqsasiddique

  • جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    حال ہی میں جنسی جرائم کے بہت سے واقعات رونما ہوئے اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،
    کچھ دن پہلے پیرودھائی کا واقعہ ایک مدرسہ کی طالبہ کو استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانا بنایا گیا،
    اس کی والدہ کے مطابق مدرسہ والوں نے گھر فون کر کے کہا کہ ان کی بیٹی مدرسے میں بے ہوش ہو گئی ہے اسے آ کے لے جائیں، والدین جب بیٹی کو گھر واپس لائے تو بیٹی نے ماں سے کہا کہ اسے استاد نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور وہ پہلے بھی کئی مرتبہ میرے ساتھ نازیبا حرکات کر چکا ہے،
    ایسے میں پولیس استاد کو پکڑتی استاد نے عدالت سے 30 آگست تک عبوری ضمانت منظور کروا لی،
    یہ نا سمجھ آنے والی بات ہے کہ ایسے افراد کو کیسے رعایت دی جاتی ہے لیکن حیرت کی بات بھی نہیں ہم قانون اور انصاف کے معاملے میں بہت سستی سے کام لیتے ہیں خاص کرکے جب کسی غریب کو انصاف فراہم کرنا ہو،
    اور حال ہی ایک اور خبر سننے کو ملی کہ 65 سالہ شخص نے سات سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کی ہے،
    دیکھئے ذرا غور تو کیجئے کہ 65 سالہ شخص نے سات سال کی بچی کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنا دیا ایسے لوگوں کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے جو معصوموں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں میں تو کہتا ہوں انہیں معاشرے میں عبرت کا نشان بنا دیا جائے لیکن میں اکیلا کیا کروں جب تک یہ سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کے لیے سخت سے سخت قانون اور اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوتا شاید تب تک ان جرائم میں اضافہ ہوتا رہے گا،
    ہمیں ملک بھر روزانہ ایسے بیسوں واقعات سننے کو ملتے ہیں یہ تو وہ واقعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں ایسے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں تم میڈیا تک یا آس پاس کے محلے تک یا پولیس تک نہیں پہنچ سکتے ہمارا ہاں ایک اور دستور ہے جو بہت زیادہ عام ہے کہ اگر کسی بیٹی کی عزت چلی بھی جائے تو گھر والے اپنی عزت بچانے کے لیے اس واقعے کو دبا دیتے ہیں کہ پورے خاندان میں ہماری بدنامی ہوگی اور بیٹی کو خاموش کرو دیتے ہیں،
    اس میں اس بچاری کا تو کوئی قصور نہیں وہ تو معصوم تھی اور رہے گی اس میں ایسے درندوں کا قصور ہے جو معاشرے میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں خاندان اور گھر والوں کی طرف سے سخت ردعمل ان لوگوں کی عقل کو ٹھکانے لگا سکتا ہے بیٹی کی عزت چلے جانے پر خاموشی ایسے درندے اور بھیڑیوں کو مزید طاقت گویا حوصلہ فراہم کرتی ہے کہ چلو کوئی بات نہیں کسی اور کی بیٹی کے ساتھ ظلم کریں گے وہ بھی خاموش ہو جائیں گے، یہ لوگ کڑی سے کڑی سزا کے مستحق ہیں اور ان لوگوں کی تعلیم و تربیت میں ان کے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،
    کم سے کم انہیں معاشرے کے آداب تو سکھانے چاہیے کہ کسی کی بیٹی کسی کی بہن اپنی بہن اور بیٹی جیسی ہے جو ظلم وہ کوئی اپنی بہن کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا وہ ظلم کسی دوسرے کی بہن کے ساتھ کیوں کرے،
    اور ایک اور خبر کے متعلق بات کروں گا جو سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں رپورٹ ہوئی ڈکیتی کرنے والوں نے اس خاتون کے تمام اہل خانہ کے سامنے ایک عورت کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنایا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ظلم یہ درندگی ایک تو ان کے گھر میں گھس کے ان کا مال لوٹا دوسرا ان کی عزت بھی لوٹ لی،
    یہ ہو کیا رہا ہمارے ہاں کون ایسے واقعات کو ہونے سے روکے گا؟ ریاست کو ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر قانون سازی کرنی پڑے گی میری اپنی رائے ہے کہ ایسے ظلم کرنے والوں کو کم سے کم موت کی سزا مختص کرنی چاہیے،
    اور انہیں موت کی سزا بھی ایسی عبرتناک دینی چاہیے انہیں پھانسی دے کر چوکوں اور چوراہوں میں لٹکا دیا جائے ان کی لاشیں چوکوں اور چوراہوں میں لٹکی رہیں جب تک ان کا گوشت چیل کوے نوچ نوچ کر کھا نا لیں،
    ان کے اہل خانہ کے لیے بھی عبرت ہو جو ایسے درندوں کی پشت پناہی کرتے ہیں انہیں ایسے کام کرنے سے روکتے نہیں جب وہ قانون کی گرفت میں آئیں تو انہیں بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں،
    جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم اہل خانہ کے علم ہوتے ہیں مگر وہ انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتے،
    دعا ہے کہ ہمارا معاشرہ ہمارا ملک ایسے جرائم سے پاک ہو جائے جو ہماری تباہی کا سبب بن سکتے ہیں،

    @zsh_ali

  • دیکھ ٹک اپنے گریبان میں منہ ڈال کے!!! تحریر ؛ علی خان

    سال رواں بھی قوم نے یوم آزادی مکمل جوش و خروش سے منایا۔ اس سے قبل یوم پاکستان، یوم یکجہتی کشمیر، یوم استحصال کشمیر اور دیگر کئی قومی دن بھی اس جوش و خروش سے منائے گئے۔، آزادی کا یہ ولولہ نہایت خوش کن ہونے کے ساتھ ایسے سوال چھوڑ گیا کہ جو کئی سال سے پوچھے جارہے لیکن جواب یا تو ملتا نہیں اور اگر ملے تو تشنگی باقی رہتی ہے ،، ہر ذی شعور ذہن یہ ضرور یہ سوچتا ہے کہ کیونکر یہ قوم آزادی کی ساڑھے سات دہائیوں بعد بھی دنیا میں وہ مقام نہیں حاصل کرسکی کہ جسکا خواب اسکے بانیان دیکھتے تھے؟؟؟کیوں وطن عزیز کا شمار ترقی پذیر یا کچھ صورتوں میں پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے؟؟؟ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایسے ان گنت سوالات ہیں جو اذہان میں گونجتے ہیں
    وطن عزیز میں ان مسائل کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا روایت بن گئی ہے۔ لیکن شاید حکومتوں اور حکمرانو ں کا شکوہ کرتے، انکی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک شہری یہ بھول جاتا ہے کہ باقی چار انگلیوں کا رخ اپنی ہی جانب ہے۔ آئیے کچھ دیر کے لیے خود احتسابی کرتے ہوئے ایمانداری ان سب خرابیوں اور مسائل میں اپنا حصہ تلاش کرتے ہیں۔ پہلی ذمہ داری جس سے عوام غفلت برتتے ہیں وہ انتخابات میں ووٹ دالنے کا عمل ہے۔ ہر قسم کے انتخابات میں ایماندار، تعلیم یافتہ، عوامی مسائل کا شعور رکھنے والے امیدواروں کی جگہ ذات برادری، ذاتی فائدے، تعلق داری اور تھانے کچہری میں مدد جیسے امور کو مد نظر رکھ کر امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور پھر بعد میں اسی نمائندے سے مسائل حل نہ کرنے، بدمعاشی اور ترقیاتی کام نہ کروانے جیسے شکوے سامنے آتے ہیں
    یہاں ایک اور دلچسپ دلیل دی جاتی ہے کہ مسائل کی اصل ذمہ دار تو نوکر شاہی المعروف بیوروکریسی ہے جو سرکاری و حکومتی ڈھانچے کا مستقل حصہ ہے۔ انکے انتخاب میں تو عوام کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔ حضور والا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ جب بھی ہمارا واسطہ کسی سرکاری ادارے یا اہلکار سے پڑتا ہے تو ہم کتنی بار اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ریلوے ٹکٹ خریدنے سے لے کر ریلوے پھاٹک تک کہیں بھی انتظار ہمیں گوارہ نہیں ہوتا۔ لائن توڑ کرشناختی کارڈ، ڈومیسائل پاسپورٹ بنوانا، بل بھرنا، بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا، ٹکٹ خریدنا گویا من حیث القوم ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کاموں کے لیے رشوت دینے والے، سفارش ڈلوانے والے اور کسی بڑے افسر کا حوالہ دینے والے بھی ہم ہی ہوتے ہیں
    یہ لاقانونیت اور بے حسی صرف انفرادی سطح پر نہیں پائی جاتی بلکہ پیشے ذات برادری کی بنیاد پر اسکا تحفظ بھی کیا جاتا ہے۔ بار وکلا کی قانون شکنی کا محافظ بن جاتا ہے۔ کم تولنے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے مرتکب تاجر کی مدد کے لیے انجمن آڑھتیان اور تاجران میدان میں آجاتے ہیں ۔ یہ سلسلہ ہر شعبے، ہر شہر غرضیکہ چہار سو پھیلا ہوا ہے
    قصہ مختصر یہ کہ اگر ہمیں اس ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا ہے تو ابتدا خود سے ہی کرنا ہوگی۔ ووٹ ایمانداری سے ڈالنا ہوگا۔ خود کو برائیوں سے دور کرنا ہوگا۔ رشوت کی بجائے قانون کی ماننا ہوگی۔ اس سرزمین کو اپنے گھر کی طرح صاف رکھنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ جس روز ہماری اکثریت اس پر عمل پیرا ہوگئی تو یقین مانیے حکمرانوں پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر ہمارا یہی وطیرہ رہا تو بقول شاعر
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

    تحریر ؛ علی خان
    @hidesidewithak

  • سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟ تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جو لوگ کہتے ہیں کہ سگریٹ کی لت اگر ایک دفعہ لگ جاۓ تو چھوڑی نہیں جا سکتی۔

    میرے خیال سے وہ غلط کہتے ہیں۔

    یہ خیالات اُن لوگوں کے تو ہو سکتے ہیں،

     جو کمزور قوت فیصلہ کا شکار ہوں۔

    مگر جن لوگوں کو اپنی قوت ارادی یا

    Will power 

    پر یقین ہوتا ہے،

    وہ ایسا نہیں سمجھتے ہیں۔

    مضبوط قوت ارادی سے اس گورکھ دھندے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    جب بھی آپ سگریٹ نوشی ترک کریں گے،

    شروع شروع میں آپ بے چینی سی محسوس کریں گے۔

    اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی دوسرے کام میں مصروف کر لیں،

    اپنا دھیان سگریٹ سے ہٹا کر کچھ ایسا سوچنا شروع کر دیں،

    جو آپ کو سگریٹ کی طلب سے دور لے جاۓ۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ رمضان المبارک میں کئی چین سموکر قسم کے لوگ بھی روزے رکھتے ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ہر پانچ دس منٹس کے بعد سگریٹ پھونکنے کے عادی ہوتے ہیں،

    وہ روزے کی وجہ سے گھنٹوں،پہروں اس مُوذی لت سے دور رہتے ہیں۔

    بے شک رمضان المبارک چونکہ ایک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہوتا ہے،

    اسی وجہ سے بندے کے ساتھ روزے کی حالت میں خداۓ بزرگ و برتر کا خاص کرم شامل حال رہتا ہے،

    جو سگریٹ نوشی کے عادی افراد کو بھی صبر عطا کر دیتا ہے۔

    مگر اسکے ساتھ ساتھ انسان کی اپنی فیصلہ کرنے کی قوت یعنی قوت ارادی کا مرکزی طور پر عمل دخل ضرورہوتا ہے۔

    انسان کو اللہ پاک نے 

    اشرف المخلوقات بنایا ہے۔

    وہ اگر چاہے تو اپنی مستقل مزاجی اور فیصلوں پر ڈٹ جانے کی صلاحیت سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

    ایسے میں سگریٹ نوشی ترک کرنا کونسی بڑی بات ہے؟

    سگریٹ چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ تک شائد آپ کبھی کبھار مضطرب ہونے کے عمل سے گُزریں۔

    مگر یہ کیفیت میرے پروردگار نے چاہا توآہستہ آہستہ ختم ہوتی جاۓ گی۔

    اس جان لیوا عادت سے چھٹکارے کے بعد آپ اپنے اندر ایک نئی سرشاری محسوس کرنے لگیں گے۔

    آپ اپنے آپ کو پہلے سے کہیں بہتر چاک و چوبند،تازہ اورترو توانا پانے لگیں گے۔

    سگریٹ سے نجات پانے کے بعد آپ کے پاس کچھ ایکسٹرا رقم بھی بچنا شروع ہو جاۓ گی۔

    سگریٹ چھوڑنے سے آپکی زندگی سے کئی ادویات بھی خود بخود کم ہونا یا ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں،

    جو رقم بچنے کا زریعہ بنتا ہے۔

    آپ اس بچی ہوئ رقم سے چاہیں تو اپنے بچوں،ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لئے پھل وغیرہ یا کچھ اور قسم کے تحائف بھی گھر لاسکتے ہیں۔

    ایسا کرتے وقت آپ اُن لذتوں اور خوشگوار ساعتوں سے آشناس ہوں گے،

    جو منحوس سگریٹ نے آپ کو کبھی نہیں دی ہوں گی۔

    سگریٹ چھوڑنے کے لئے مصمم ارادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

    اپنے کئے گئے فیصلے کے آگے اپنے آپ کو کبھی کمزور نہ پڑنے دیں۔

    سگریٹ چھوڑیں تو ایسا چھوڑیں کے آپ کے ہاتھ میں کبھی یہ بدبُو دار چیز نظر نہ آۓ۔

    سگریٹ نوش حضرات کو خود تو اس کی گندی بدبُو  محسوس بھی نہیں ہوتی،

    مگر جب وہ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں ،

    جو سموکر نہیں ہوتا،

    تو ایسے افراد کو طبیعت پہ سخت گراں گزرنے والی یہ ناگوار بُو ضرور محسوس ہوتی ہے۔

    ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ مروت کے مارے اپنی ناگواری کا اظہار نہ کریں۔

    مگر اس لت کی وجہ سےآپ کی شخصیت ان کے نزدیک پسندیدہ ترین نہیں رہتی،

    وہ لوگ آپ سے ملاقات کو بوجھ سمجھ کر کر تو لیتے ہیں،

    مگر دل سے وہ آپ کے جلدجانے کی دعائیں کر رہے ہوتے ہیں۔اُنہیں آپ سے مجبورا” ملنا پڑتا ہے،

     انہیں اندر سے کراہت کے باوجود بعض دفعہ آپ کواپنے فرائض منصبی  کی بدولت برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    انتہائ معذرت کے ساتھ یہ میرا زاتی تجربہ ہے کہ میں جب بھی کبھی کسی ایسے شخص سے ملوں جو سگریٹ پیتا ہو تو میری کوشش ہوتی ہے کہ جلد باۓ باۓ کے لمحات نصیب ہوں۔

    میرا اس پر اختیار نہیں،کئی دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی سگریٹ کے دھوئیں اور بُو سے الرجی ہے۔

    ان باتوں کے علاوہ ایک سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی اوسط” آپکی عمر دس سال کم کر دیتی ہے،

    کیا یہ بہت بڑا المیہ نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا چراغ گُل کرنے کے درپے ہوتے ہیں،؟

    کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں،

    اپنے خون پسینے کی کمائ سے موت خرید رہے ہوتے ہیں ؟

    ایک اور سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی ،دل،سانس،بلڈ پریشرشوگر اور کئی قسم کے سرطان کے علاوہ مردوں میں جنسی قوت میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے،

    جبکہ سگریٹ نوش خواتین دوران حمل کئی بیماریوں،

    بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی اور لاغر و بیمار بچوں کی ولادت جیسے مسائل سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

    سگریٹ نوشی کے بارے میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ عادت آپ کو غیر محسوس طریقے سے ایک خوشگوار زندگی سے دور کرتی جاتی ہے۔

    آپ سگریٹ پی پی کر آپ اپنے آپ کو ایک ایسے دلدلی کنوئیں میں گرا رہے ہوتے ہیں،

    جس سے نکلنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دشوار تر ہوتا جاتا ہے۔

    قبل اس کے وہ جان لیوا اور ہمارے پیاروں کے لئے وہ مشکل گھڑی آن پہنچے۔

    اپنا فیصلہ ابھی کیجیے !

    ابھی جناب اعلی

    بلکل اسی گھڑی کہ 

    آپ نے اللہ پاک کی دی گئی زندگی جیسی عظیم نعمت کو سگریٹ نوشی کی نظر نہیں ہونے دینا۔

    ابھی فیصلہ کیجیے !

    اور اُس فیصلے پر ڈٹ جائیے ایک 

    مرد آہن کی طرح !#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    (گزشتہ کیساتھ پیوستہ)
    ضروری نہیں ہم جس سے محبت کرے اس سے ہماری شادی بھی ہو جائے جائے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جس سے ہماری شادی ہو گئی اس سے ہمیں محبت بھی ہو جائے محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں اور کچھ خاص انسان بھی میں جانتی تھی کہ عادی کسی لالچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتا کتا مگر کسی بھی بات پہ سہی
    مجھے تو اس کو ذلیل ہی کرنا تھا تھا
    اس کے بعد جب مجھے موقع ملا میں نے اسے خوب بےعزت کیا
    میں نے زندگی میں کوئی دکھ نہیں دیکھا تھا
    تھا شاید اس لیے مجھے کسی کے دکھ کا احساس بھی نہیں تھا
    میں بہت بے حس تھی
    دولت کی فراوانی نے مجھ میں تکبر، انا اور نخرہ حد سے زیادہ تھا
    پھر ایک دن میں نے اپنے دوستوں سے کہہ کر اسے یونی میں بے عزت کرایا
    میری دوست اس کی محبت اور غربت پہ طنز کرتی رہی عادی نے سب ہمت سے سنا اور فقط اتنا کہا تھا کہ کزن۔۔۔۔۔۔!!!
    کسی کی محبت کا مذاق نہیں اڑاتے اگلا بندہ اپنی محبت میں واقعہ سچا اور مخلص ہے تو محبت کی بد دعا لگ جاتی ہے مذاق اڑانے والوں کا ایک دن اپنا مذاق بن سکتا
    اور ہم نے اس بات پر بھی اس کا خوب مذاق اڑایا تھا میرا یونی میں آخری سال تھا ابو کو میرے لیے ایک لڑکا پسند آگیا
    اعلی تعلیم یافتہ اور امیر ترین گھرانا تھا ان کی بھی ہماری طرح فیکٹریاں اور دیگر کاروبار تھا
    لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے اور پسند کر گئے ہمارے گھر والوں کو بھی لڑکا پسند آگیا
    منگنی کی تاریخ مقرر کردی گئی منگنی سے ایک دن پہلے ہی عادی بہانہ بنا کر اپنے گاؤں چلا گیا شاید اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مجھے کسی اور کے نام ہوتے دیکھ سکتا وہ تین چار دن بعد واپس آیا
    اس کے آتے ہی میں نے اسے اپنے منگیتر سعد کی تصویر دکھائے اور کہا کہ دیکھو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے اور جو کسی قابل بھی ہوتے ہیں
    یہ سب میں نے فقط اسے جلانے کے لئے کہا تھا اسے تڑپانے کا ایک نیا طریقہ میرے ہاتھ آ گیا تھا
    میں جان بوجھ کر موبائل کان سے لگا کر عادی کے قریب سے گزرتی قدرے اونچی آواز میں نہیں جانو جان وغیرہ کہتی ہاں یار میں جانتی ہوں تو میرے لئے جان بھی دے سکتے ہو سعد مجھے جتاتا رہتا تھا کہ میں اسے بے حد پسند ہو اور وہ میرے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے
    کمال کا حوصلہ تھا عادی کا بھی اس نے کبھی مجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا تھا بس کبھی کوئی شعر سنا دیتا یا پھر دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے رکھتا پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ میری ایک ٹانگ میں مستقل درد رہنے لگا بہت علاج کرایا ملک اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھایا مگر کسی کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا
    ایک دن پڑوسن امی سے کہہ رہی تھی کہ نوش کو کسی عامل کے پاس لے جاؤ ہو سکتا ہے کسی نے کوئی جادو ٹونہ کرا دیا ہوگا پتہ کسی نے کالا جادو گرا دیا ہو پڑوسن کی امی سے کالا جادو کا سن کر میرے ذہن میں پہلا خیال یہی عادی کا آیا تھا اور ضرور اسی کمینے نے حسد میں ایسا کیا ہوگا مجھے اپنی طرف مائل کرنے کے لئے میرے دماغ نے کہا تھا
    اور میں بنا سوچے سمجھے اس بات پر ایمان لے آئی تھی میری عادی سے نفرت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا تھا اب میں اسے اپنے گھر سے ذلیل کرکے نکالنے کا بہانہ ڈھونڈ نے لگی میں اب اس کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی
    چھ سات ماہ کے بعد ٹانگ کا درد ختم ہو گیا تھا مگر بے تحاشہ پین کلر کھانے سے میرے گردے ناکارہ ہوگئے تھے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ دونوں گردے ختم ہیں نکالنے پڑیں گے کہیں سے ایک گردے کا بندوبست کر لیجئے
    گردہ خریدنا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں تھا مگر مجھے یقین تھا کہ میرا منگیتر سعد مجھے اپنا ایک گردہ دے گا وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ وہ میرے لئے جان دے سکتا ہے
    ابو نے اپنے جاننے والوں سے بات کی کہ وہ جتنے پیسوں میں بھی ہو سکے کہیں سے ایک گردے کا انتظام کریں
    سعد میرے لئے بہت پریشان تھا
    مجھے یقین تھا کہ وہ کہے گا نوشی میری جان پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
    میں ابھی زندہ ہوں میں دوں گا اپنا گردہ تمھیں
    مگر سعد نے ایسی کوئی بات نہیں کی سعد نے اتنا ضرور کہا تھا کہ پریشان نہیں ہونا
    ہم کوشش کر رہے ہیں جلد ہی کوئی انتظام ہو جائے گا
    پھر
    میں نے ایک رات فون پر خود ہی اسے کہہ دیا کہ جانی اپنا ایک گردہ مجھے دے دو نا ۔۔۔؟؟؟
    میں نے بڑے مان سے کہا تھا مجھے یقین تھا کہ سعد کہے گا کہ گردہ کیا چیز ہے تم جان بھی مانگو تو حاضر ہیں
    سعد کچھ پل کے لیے چپ ہو گیا تھا

    نوشی یار۔۔۔۔۔ میں تمہیں کیسے اپنا گردہ دے سکتا ہوں۔۔۔؟
    کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے کہا
    تو میرے مان اور بھروسے کا محل زمین بوس ہوگیا
    دو دن بعد مجھے ہسپتال داخل کرلیا گیا گردے کا انتظام ہو گیا تھا
    مجھے پتا تھا ابو کروڑوں خرچ کر کے بھی گردے کا انتظام کر لیتے اور انہوں نے لیا تھا
    جب سے میری ٹانگ میں درد شروع ہوا تھا عادی بہت پریشان رہنے لگا تھا
    مگر میں جانتی تھی وہ مجھے صرف دکھانے کے لئے پریشان ہونے کا ڈرامہ کرتا تھا تاکہ مجھے اس پہ شک نہ ہو ورنہ اندر سے تو یہ بہت خوش ہوگا

    پھر میرے گردوں کے ناکارہ ہونے کا سن کر تو مزید پریشان ہو گیا تھا
    شاید اس نے جو عمل مجھ سے کرایا تھا اسے اس کی اس حد تک توقع نہیں تھی۔۔۔؟
    عادی میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھے تسلی دی تھی
    کہ پریشان نہیں ہونا اللہ بہتر کرے گا
    مجھے اس کی شکل سے بھی الجھن ہونے لگی تھیں میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ کچھ دیر بیٹھا رہا میں نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا پھر وہ خود ہی اٹھ کر چلاگیا
    آپریشن کامیاب ہوا تھا ہسپتال میں سعد اور اس کے گھر والے میرے عیادت کو آئے تھے
    عادی تو پہلے دن سے ہی ہسپتال میں تھا وہ میرے لئے سفید پھول لے کر آیا تھا وہ جانتا تھا کہ مجھے سفید پھول بہت پسند ہے مگر میں نے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لیے اس کے لائے پھولوں کو اسی کے سامنے توڑ کر پھینک دیا تھا
    میں جس حال میں تھی اس کا ذمہ دار عادی ہی تھا اگرچہ میرے پاس اس کا ثبوت نہیں تھا مگر عادی کے سوا اور کوئی ایسا نہیں تھا جو مجھ سے انتقام لینا چاہتا ہوں میری ہر بےعزتی کو اس میسنے انسان نے ہنس کر اسی لئے سہا تھا کہ بعد میں وہ مجھے روتا ہوا دیکھے گا
    عادی نے اپنے لائی بھولوں کا حشر دیکھ کر بس اتنا ہی کہا تھا
    کزن یار غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا بلاوجہ کسی سے اتنی نفرت بھی نہ کرو کہ آپ کی نفرت سے کسی کے دل پر لگے زخم بعد میں آپ کے لئے ناسو بن جائے
    عادی کہ الفاظ سے مجھے لگا جیسے وہ مجھے جاتا رہا ہوں کے مجھے اس حال تک لانے والا وہی ہے
    میں ہسپتال سے گھر آئی تو عادی کی امی یعنی میری مما نے مجھ سے ملنے آئیں یہ دو تین بار پہلے بھی میری عیادت کو آ چکی تھیں
    کچھ ہی دنوں میں میں مکمل ٹھیک ہو چکی تھی مجھے بس ایسے موقع کی تلاش تھی کہ عادی کو سب کی نظروں میں ذلیل کرکے اس گھر سے نکلو سکوں ۔ اس نے مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور ایک دن مجھے اچانک ہی ایک شیطانی خیال سوجھا

    ہمارے گھر کام کرنے ایک بیس بائیس سال کی لڑکی آتی تھی میں نے اسے 10ہزار دیا اور کہا میں تمہیں جو کچھ کہونگی وہی سب ابو کے پوچھنے پر ان کے سامنے دوہرا دینا
    دس ہزار کی رقم دیکھ کر وہ فورا تیار ہو گئی تھی میں نے رات کو ابو کے کان بھر دی ہے کہ کام کرنے والی لڑکی نے کہا ہے کہ وہ یہاں کام نہیں کرے گی
    جب تک عادی اس گھر میں ہے
    کیونکہ وہ اسے پیسے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ رات گزارنے کا کہتا ہے
    دو تین بار تو اس نے دست درازی بھی کی ہے اگلے دن کام والے آئی تو میں اسے ابو کے پاس لے گئی اس نے بھی وہی کچھ کہا جو میں رات کو ابو کو بتا چکی تھی
    ابو نے عادی سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا اور اسے بلایا اور گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا
    عادی ہکا بکا رہ گیا تھا تم نے ہم پر نیکی کی اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو مرضی کرتے پھرو
    ابو نے عادی سے کہا میں نے کیا کیا ہے۔۔۔؟
    عادی نے سوال کیا تھا
    تم نے جو کچھ کیا وہ کوئی بے شرم اور بے غیرت ہی کر سکتا ہے اس سے پہلے کے ابو کچھ بولتے میں نے عادی کو جواب دیا تم بس اور اس گھر سے دفع ہو جاؤ میں نے بڑی بڑی اکڑسے اس سے کہا
    عادی نے مزید کچھ نہ پوچھا اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور چپ چاپ گھر سے نکل گیا
    جانے سے پہلے وہ مجھے کہہ گیا تھا
    نوشی۔۔۔۔!!! مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اس حد تک چلے جاؤ گے کیونکہ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کو یہاں سے نکلوانے میں میرا ہاتھ ہے
    میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا
    عادی نے کہا
    تو میں نے ہنس کر تکبر سے کہا تھا تم سے معافی کون مانگ رہا ہے۔۔۔۔؟
    اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور چلا گیا
    (جاری ہے)

    @BismaMalik890