Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • سگریٹ زہر ہے جو پی رہا ہے انسان  تحریر  : حشام صادق

    سگریٹ زہر ہے جو پی رہا ہے انسان تحریر : حشام صادق

    میرے دادا جان اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین دادا جان کو لوگ استاد کہ کر پکار کرتے تھے 80 کی دہائی میں دادا جان کے پاس اپنی ویگن تھی اور اس زمانے میں ویگن بہت بڑی سواری تھی۔ دادا جان اسی ویگن سے اپنی حق ہلال کی روزی روٹی کماتے تھے ۔ مطلب پبلک ٹرانسپورٹ۔

    دادا جان کے بارے یہ بات سارے علاقے میں مشہور تھی کہ استاد کسی بھی سواری کو گاڈی میں سگریٹ نوشی نہیں کرنے دیتے تھے بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ اگر کوئی سگریٹ نوشی کرنا چاہتا تو دادا جان گاڑی روک کر اس بندے کو اتار دیتے تھے۔ ہمیں بھی ہمارے والدین نے بچپن ہی سے اس چیز سے دور رکھا الحمدللہ اللہ پاک کا شکر ہے کہ میرے نہ تو دادحال نہ ننہال میں کوئی ایسا ہے جو سگریٹ نوشی کرتا ہو۔ میں اگر اپنی بات کروں تو مجھے بچپن سے ہی سگریٹ کی ناخوشگوار سی خوشبو بلکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی
    سکول کالج کے دور میں بھی اللہ پاک کی کرم نوازی رہی میرا کوئی دوست بھی ایسا نہ تھا جو سگریٹ نوشی کرتا ہوں۔

    کالج کے ٹائم پے ایک تجسس تھا کہ لوگ آخر سگریٹ نوشی کرتے ہی کیوں ہیں؟
    مجھے آچھی طرح یاد ہے ہم نے کالج کے دور میں ایک کیمپ بھی کیا تھا اس ہوالے سے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہے۔آج پھر سے باغی ٹی وی نے یہ کیمپین چلا کے مجھے میرے کالج کے دن یاد دلا دیئے جس کی وجہ سے میں بہت شکرگزار ہو باغی ٹی وی والوں کا اللہ پاک آپ کو بہت ترقیاں نصیب فرمائے اور آپ اسی طرح اپنے ملک کے لیے کام کرتے رہیں۔آمین

    قارئین سگریٹ نوشی اس قدر جان لیوا نشہ ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اور اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا
    سگریٹ نوشی کرنے والا وقتی سکون کے لیے یہ جان ہی نہیں پاتا کہ وہ کتنے گھاٹے کا سودا کررہا ہوتا ہے۔ یہ ایک زہر ہے۔اور وہ یہ زہر نہ صرف خود اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے بلکہ انجانے میں اپنی نسلوں کو بھی اس تباہی میں شامل کرلیتا ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والا بندہ یہ سمجھتا ہے بس وہ خود سگریٹ پیتا ہے تو باقی گھر والے اس کے نقصانات سے بچے رہیں گے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔سگریٹ کے دھویں سے آپ کے گرد جو بھی ہو گا وہ لازم متاثر ہو گا۔چھوٹے بچوں سے لیکر بیوی بہین بھائی والدین اس دھویں سے متاثر ہورہے ہوتے ہیں اتنا ہی ان کے پھیپھڑوں پر اثر پڑرہا ہوتا ہے جتنا سگریٹ نوشی کرنے والے کے پھیپھڑوں پر

    میرے نزدیک سگریٹ نوشی کسی بھی نشے کی پہلی سیڑھی ہے اور یہاں سے ہی ایک آچھے بھلے انسان کی تبائی کی بنیاد شروع ہوتی ہے سگریٹ کا عادی انسان اس نشے کا اتنا عادی ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ اس سے پھر اور کوئی بھاری نشے کی تلاش میں نکل پڑھتا ہے لا شعوری طور پر نسوار، گھٹکا،پان سے ہوتا ہوا ایک دن خدانخواستہ ہیروئن تک جا پہنچتا ہے۔اسے لگتا ہے یہ بھی سگریٹ کی طرح سکون دے گی لیکن پھر انسان کی واپسی کے سب راستے بند ہوجاتے ہیں انسان اپنی تباہی کو خود انتظام کرتا ہے تو ایسے لوگوں کی منزل پھر اندھیرے راستوں اور موت کی وادی کے سوا کچھ نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے نشے کے لیے تڑپتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے۔ ایسے بھی لوگ دیکھے جو اپنا گھر باربیچتے پر مجبور ہوئے اس نشے کی وجہ سے زلیل رسوا ہوتے رہے ۔ایک انسان کے نشے کی لت سے پورا خاندان اجڑ جاتا ہے آج کل کے حالات و وقیات دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اب تو سکول کالج اور یونیورسٹی میں یہ عام ہوتا جا رہا ہے ۔

    میں موجودہ حکومت سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ حکومت اس جان لیوا نشے کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرئے ۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس زہر سے دور رکھا جا سکے۔ایک بار پھر سے باغی ٹی وی اور اس کے عملے کا شکریہ ادا کرنا چاہوں اور دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے جو پاکستان میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو۔آمین

    @No1Hasham

  • جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش  تحریر : اقصٰی صدیق

    جہیز اور فضول رسومات محض ایک نمائش تحریر : اقصٰی صدیق

    ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں بیٹی جب باپ کے کندھے تک پہنچنے لگتی ہے تو والدین کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
    آج مہنگائی کے اس دور میں جب اخراجات میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، تو اس ترقی یافتہ اور جدید دور میں بھی متوسط طبقہ والدین شادی بیاہ میں بیٹیوں کو بھاری بھر کم جہیز اور سونے کے زیورات دینے کی فکر میں وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
    موجودہ دور میں چند تولے زیورات کی قیمت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے تک پہنچ گئی ہے۔
    اس لیے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سونے کے زیورات دینا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔
    مہنگائی کے اس دور میں اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عام آدمی کا جینا مرنا محال کر دیا ہے۔
    اور مہنگائی کے اس دور میں شادی کے اخراجات بیس، پچیس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔
    ایسے میں والدین بیچارے بیٹیوں کی شادی کے اخراجات کے بارے میں سوچ سوچ کر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہیز اور غیر ضروری رسموں کے سبب بابل کی دہلیز پر بیٹھے لڑکیوں کے بالوں میں سفیدی آ جاتی ہے۔
    کم جہیز یا جہیز نہ دینے پر بنت حوا تشدد و جبر کا نشانہ بنتی آ رہی ہے، سسرال میں ساری زندگی طعنہ زنی کا شکار ہوتی رہتی ہے، اور کبھی تو جہیز کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے، اور کبھی تیزاب پھینک کر جلا دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر جہیز کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
    انہیں صرف یہی فکر رہتی ہے، کہ کسی طرح بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔
    والدین بیٹی کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے جوان ہونے تک اس کیلئے جہیز جمع کرتے ہیں، تاکہ آنے والے وقت میں ان کی اور ان کی اولاد کی عزت میں آنچ نہ آئے۔
    ایک زمانہ تھا جب شادی کرنا بہت آسان تھا، بیٹی کو جہیز میں دیا جانے والا سامان محض چند سکوں یا زیادہ سے زیادہ ہزاروں روپوں میں ہوتا تھا، اگرچہ مہنگائی کا اس وقت بھی رویا جاتا تھا۔لیکن اس دور میں اتنے فضول رسم و رواج نہیں تھے، جو آج کل کے دور میں والدین کے لئے وبال جان بن گئے ہیں۔
    رنگ برنگے پکوان تیار نہیں کیے جاتے تھے، صرف ایک ہی کھانا بنتا تھا۔
    اور بیٹی والے جہیز میں اتنا قیمتی سامان بھی نہیں دیتے تھے، جتنا آج کل لڑکی کے سسرال والے فرمائشیں کر کے مانگتے ہیں۔سادہ لوح لوگ تھے، ہر طرح کی بناوٹ سے عاری۔
    والدین حسب استطاعت بیٹی کو جہیز اور زیورات دے کر خوشی خوشی رخصت کر دیتے تھے۔پرانے وقتوں میں ایک کنبہ میں درجنوں افراد کی کفالت صرف گھر کا ایک فرد جو گھر کا کفیل ہوا کرتا تھا، اس کی ذمہ داری ہوتی تھی۔اس وقت تقریباً لڑکی لڑکے کا تناسب برابر تھا جبکہ روپے پیسے کی اتنی ریل پیل نہ تھی۔
    اور نہ ہی موجودہ دور کی طرح آسائشیں میسر تھی، کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی انسان کو ذہنی سکون میسر تھا۔
    دور جدید میں ہر کام میں تیزی آ گئی ہے، آج جدید دور میں داخل ہونے کی وجہ سے ہم نمود و نمائش میں پڑ گئے ہیں۔ہم نے بہت سی غیر اسلامی اور غیر ضروری رسومات اپنا لی ہیں۔
    جوں جوں بیٹیاں جوان ہوتی ہیں، انہیں دیکھ کر والدین کی کمر جکھتی جاتی ہے۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ حکومتی سطح پر بے تحاشا مہنگائی ہوئی ہے، لیکن اس کے برعکس یہ بات بھی قابل قبول ہے کہ ہم نے معاشرے میں اعلٰی مقام کی خاطر کئی فضول رسمیں اپنا رکھی ہیں۔
    نفسا نفسی کے اس دور میں ہم سادگی کو بھول کر آگے نکلنے کی کوشش میں دلی سکون کھو بیٹھے ہیں۔
    ہم نے یہ بات ذہن میں بٹھا لی ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو شادی پر اتنا جہیز دیا ہے تو ہم کیونکر پیچھے رہیں،
    دھاگہ ڈالنے والی سوئی سے لے کر گاڑی تک جہیز میں دے کر اپنی حیثیت کا لوہا منواتے ہیں۔

    لڑکے والے بھی اپنا حق سمجھ کر سب کچھ رکھ لیتے ہیں، چاہے گھر میں رکھنے کے لیے جگہ ہی نہ ہو۔
    ہمارا مذہب ہب اسلام بھی ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے،اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔
    عورت کا بہترین زیور اس کی تعلیم و تربیت ہے،
    فضول رسم و رواج کو ترک کر کے ہم شادی بیاہ پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں۔
    لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہل کون کرے گا؟

    اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ امراء لوگ جنہوں نے شادی کے دنوں کو ہفتوں میں تبدیل کر دیا ہے انہیں چاہیے کہ وہ غیر ضروری اور غیر اسلامی رسومات کی نفی کریں، انسان کی اصل حیثیت اس کا روپے پیسہ نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔جہیز سے ہٹ کر آج کل پارلر آنے جانے کے چکروں میں بھی ایک کثیر رقم ضائع کر دی جاتی ہے۔
    یہ بات بھی حقیقت ہے کہ روپے پیسے کی فراوانی اور جہیز کی زیادتی سے آپ اپنی بیٹی کی قسمت تو نہیں بدل سکتے۔لڑکی نے اپنا گھر خود بسانا ہے، اس لیے اچھی تربیت اور عادات و اطوار ہی اس کے لیے اس کا قیمتی زیور اور اثاثہ ہیں۔جسے اپنا کر وہ اپنا گھر بسا سکتی ہے، اور اسی سے ہی آگے چل کر ایک اچھا گھرانہ، اور اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    بے شک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سادگی کو پسند فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میانہ روی کی تلقین کی۔بحثیت مسلمان ہمیں روز محشر ہر چیز کا حساب دینا ہے، یہ ظاہری نمود و نمائش کہیں ہمارے لیے باعث فخر کی بجائے باعث عذاب ہی نہ بن جائے، لہٰذا اس بارے میں ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی بیحد ضرورت ہے۔ کیوں کہ بات محض جہیز کی ممانعت پر تبصرے کرنے کی نہیں ہے، بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کی ہے۔

    @_aqsasiddique

  • جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    حال ہی میں جنسی جرائم کے بہت سے واقعات رونما ہوئے اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،
    کچھ دن پہلے پیرودھائی کا واقعہ ایک مدرسہ کی طالبہ کو استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانا بنایا گیا،
    اس کی والدہ کے مطابق مدرسہ والوں نے گھر فون کر کے کہا کہ ان کی بیٹی مدرسے میں بے ہوش ہو گئی ہے اسے آ کے لے جائیں، والدین جب بیٹی کو گھر واپس لائے تو بیٹی نے ماں سے کہا کہ اسے استاد نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور وہ پہلے بھی کئی مرتبہ میرے ساتھ نازیبا حرکات کر چکا ہے،
    ایسے میں پولیس استاد کو پکڑتی استاد نے عدالت سے 30 آگست تک عبوری ضمانت منظور کروا لی،
    یہ نا سمجھ آنے والی بات ہے کہ ایسے افراد کو کیسے رعایت دی جاتی ہے لیکن حیرت کی بات بھی نہیں ہم قانون اور انصاف کے معاملے میں بہت سستی سے کام لیتے ہیں خاص کرکے جب کسی غریب کو انصاف فراہم کرنا ہو،
    اور حال ہی ایک اور خبر سننے کو ملی کہ 65 سالہ شخص نے سات سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کی ہے،
    دیکھئے ذرا غور تو کیجئے کہ 65 سالہ شخص نے سات سال کی بچی کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنا دیا ایسے لوگوں کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے جو معصوموں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں میں تو کہتا ہوں انہیں معاشرے میں عبرت کا نشان بنا دیا جائے لیکن میں اکیلا کیا کروں جب تک یہ سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کے لیے سخت سے سخت قانون اور اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوتا شاید تب تک ان جرائم میں اضافہ ہوتا رہے گا،
    ہمیں ملک بھر روزانہ ایسے بیسوں واقعات سننے کو ملتے ہیں یہ تو وہ واقعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں ایسے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں تم میڈیا تک یا آس پاس کے محلے تک یا پولیس تک نہیں پہنچ سکتے ہمارا ہاں ایک اور دستور ہے جو بہت زیادہ عام ہے کہ اگر کسی بیٹی کی عزت چلی بھی جائے تو گھر والے اپنی عزت بچانے کے لیے اس واقعے کو دبا دیتے ہیں کہ پورے خاندان میں ہماری بدنامی ہوگی اور بیٹی کو خاموش کرو دیتے ہیں،
    اس میں اس بچاری کا تو کوئی قصور نہیں وہ تو معصوم تھی اور رہے گی اس میں ایسے درندوں کا قصور ہے جو معاشرے میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں خاندان اور گھر والوں کی طرف سے سخت ردعمل ان لوگوں کی عقل کو ٹھکانے لگا سکتا ہے بیٹی کی عزت چلے جانے پر خاموشی ایسے درندے اور بھیڑیوں کو مزید طاقت گویا حوصلہ فراہم کرتی ہے کہ چلو کوئی بات نہیں کسی اور کی بیٹی کے ساتھ ظلم کریں گے وہ بھی خاموش ہو جائیں گے، یہ لوگ کڑی سے کڑی سزا کے مستحق ہیں اور ان لوگوں کی تعلیم و تربیت میں ان کے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،
    کم سے کم انہیں معاشرے کے آداب تو سکھانے چاہیے کہ کسی کی بیٹی کسی کی بہن اپنی بہن اور بیٹی جیسی ہے جو ظلم وہ کوئی اپنی بہن کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا وہ ظلم کسی دوسرے کی بہن کے ساتھ کیوں کرے،
    اور ایک اور خبر کے متعلق بات کروں گا جو سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں رپورٹ ہوئی ڈکیتی کرنے والوں نے اس خاتون کے تمام اہل خانہ کے سامنے ایک عورت کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنایا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ظلم یہ درندگی ایک تو ان کے گھر میں گھس کے ان کا مال لوٹا دوسرا ان کی عزت بھی لوٹ لی،
    یہ ہو کیا رہا ہمارے ہاں کون ایسے واقعات کو ہونے سے روکے گا؟ ریاست کو ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر قانون سازی کرنی پڑے گی میری اپنی رائے ہے کہ ایسے ظلم کرنے والوں کو کم سے کم موت کی سزا مختص کرنی چاہیے،
    اور انہیں موت کی سزا بھی ایسی عبرتناک دینی چاہیے انہیں پھانسی دے کر چوکوں اور چوراہوں میں لٹکا دیا جائے ان کی لاشیں چوکوں اور چوراہوں میں لٹکی رہیں جب تک ان کا گوشت چیل کوے نوچ نوچ کر کھا نا لیں،
    ان کے اہل خانہ کے لیے بھی عبرت ہو جو ایسے درندوں کی پشت پناہی کرتے ہیں انہیں ایسے کام کرنے سے روکتے نہیں جب وہ قانون کی گرفت میں آئیں تو انہیں بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں،
    جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم اہل خانہ کے علم ہوتے ہیں مگر وہ انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتے،
    دعا ہے کہ ہمارا معاشرہ ہمارا ملک ایسے جرائم سے پاک ہو جائے جو ہماری تباہی کا سبب بن سکتے ہیں،

    @zsh_ali

  • دیکھ ٹک اپنے گریبان میں منہ ڈال کے!!! تحریر ؛ علی خان

    سال رواں بھی قوم نے یوم آزادی مکمل جوش و خروش سے منایا۔ اس سے قبل یوم پاکستان، یوم یکجہتی کشمیر، یوم استحصال کشمیر اور دیگر کئی قومی دن بھی اس جوش و خروش سے منائے گئے۔، آزادی کا یہ ولولہ نہایت خوش کن ہونے کے ساتھ ایسے سوال چھوڑ گیا کہ جو کئی سال سے پوچھے جارہے لیکن جواب یا تو ملتا نہیں اور اگر ملے تو تشنگی باقی رہتی ہے ،، ہر ذی شعور ذہن یہ ضرور یہ سوچتا ہے کہ کیونکر یہ قوم آزادی کی ساڑھے سات دہائیوں بعد بھی دنیا میں وہ مقام نہیں حاصل کرسکی کہ جسکا خواب اسکے بانیان دیکھتے تھے؟؟؟کیوں وطن عزیز کا شمار ترقی پذیر یا کچھ صورتوں میں پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے؟؟؟ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایسے ان گنت سوالات ہیں جو اذہان میں گونجتے ہیں
    وطن عزیز میں ان مسائل کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا روایت بن گئی ہے۔ لیکن شاید حکومتوں اور حکمرانو ں کا شکوہ کرتے، انکی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک شہری یہ بھول جاتا ہے کہ باقی چار انگلیوں کا رخ اپنی ہی جانب ہے۔ آئیے کچھ دیر کے لیے خود احتسابی کرتے ہوئے ایمانداری ان سب خرابیوں اور مسائل میں اپنا حصہ تلاش کرتے ہیں۔ پہلی ذمہ داری جس سے عوام غفلت برتتے ہیں وہ انتخابات میں ووٹ دالنے کا عمل ہے۔ ہر قسم کے انتخابات میں ایماندار، تعلیم یافتہ، عوامی مسائل کا شعور رکھنے والے امیدواروں کی جگہ ذات برادری، ذاتی فائدے، تعلق داری اور تھانے کچہری میں مدد جیسے امور کو مد نظر رکھ کر امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور پھر بعد میں اسی نمائندے سے مسائل حل نہ کرنے، بدمعاشی اور ترقیاتی کام نہ کروانے جیسے شکوے سامنے آتے ہیں
    یہاں ایک اور دلچسپ دلیل دی جاتی ہے کہ مسائل کی اصل ذمہ دار تو نوکر شاہی المعروف بیوروکریسی ہے جو سرکاری و حکومتی ڈھانچے کا مستقل حصہ ہے۔ انکے انتخاب میں تو عوام کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔ حضور والا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ جب بھی ہمارا واسطہ کسی سرکاری ادارے یا اہلکار سے پڑتا ہے تو ہم کتنی بار اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ریلوے ٹکٹ خریدنے سے لے کر ریلوے پھاٹک تک کہیں بھی انتظار ہمیں گوارہ نہیں ہوتا۔ لائن توڑ کرشناختی کارڈ، ڈومیسائل پاسپورٹ بنوانا، بل بھرنا، بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا، ٹکٹ خریدنا گویا من حیث القوم ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کاموں کے لیے رشوت دینے والے، سفارش ڈلوانے والے اور کسی بڑے افسر کا حوالہ دینے والے بھی ہم ہی ہوتے ہیں
    یہ لاقانونیت اور بے حسی صرف انفرادی سطح پر نہیں پائی جاتی بلکہ پیشے ذات برادری کی بنیاد پر اسکا تحفظ بھی کیا جاتا ہے۔ بار وکلا کی قانون شکنی کا محافظ بن جاتا ہے۔ کم تولنے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے مرتکب تاجر کی مدد کے لیے انجمن آڑھتیان اور تاجران میدان میں آجاتے ہیں ۔ یہ سلسلہ ہر شعبے، ہر شہر غرضیکہ چہار سو پھیلا ہوا ہے
    قصہ مختصر یہ کہ اگر ہمیں اس ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا ہے تو ابتدا خود سے ہی کرنا ہوگی۔ ووٹ ایمانداری سے ڈالنا ہوگا۔ خود کو برائیوں سے دور کرنا ہوگا۔ رشوت کی بجائے قانون کی ماننا ہوگی۔ اس سرزمین کو اپنے گھر کی طرح صاف رکھنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ جس روز ہماری اکثریت اس پر عمل پیرا ہوگئی تو یقین مانیے حکمرانوں پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر ہمارا یہی وطیرہ رہا تو بقول شاعر
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

    تحریر ؛ علی خان
    @hidesidewithak

  • سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟ تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جو لوگ کہتے ہیں کہ سگریٹ کی لت اگر ایک دفعہ لگ جاۓ تو چھوڑی نہیں جا سکتی۔

    میرے خیال سے وہ غلط کہتے ہیں۔

    یہ خیالات اُن لوگوں کے تو ہو سکتے ہیں،

     جو کمزور قوت فیصلہ کا شکار ہوں۔

    مگر جن لوگوں کو اپنی قوت ارادی یا

    Will power 

    پر یقین ہوتا ہے،

    وہ ایسا نہیں سمجھتے ہیں۔

    مضبوط قوت ارادی سے اس گورکھ دھندے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    جب بھی آپ سگریٹ نوشی ترک کریں گے،

    شروع شروع میں آپ بے چینی سی محسوس کریں گے۔

    اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی دوسرے کام میں مصروف کر لیں،

    اپنا دھیان سگریٹ سے ہٹا کر کچھ ایسا سوچنا شروع کر دیں،

    جو آپ کو سگریٹ کی طلب سے دور لے جاۓ۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ رمضان المبارک میں کئی چین سموکر قسم کے لوگ بھی روزے رکھتے ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ہر پانچ دس منٹس کے بعد سگریٹ پھونکنے کے عادی ہوتے ہیں،

    وہ روزے کی وجہ سے گھنٹوں،پہروں اس مُوذی لت سے دور رہتے ہیں۔

    بے شک رمضان المبارک چونکہ ایک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہوتا ہے،

    اسی وجہ سے بندے کے ساتھ روزے کی حالت میں خداۓ بزرگ و برتر کا خاص کرم شامل حال رہتا ہے،

    جو سگریٹ نوشی کے عادی افراد کو بھی صبر عطا کر دیتا ہے۔

    مگر اسکے ساتھ ساتھ انسان کی اپنی فیصلہ کرنے کی قوت یعنی قوت ارادی کا مرکزی طور پر عمل دخل ضرورہوتا ہے۔

    انسان کو اللہ پاک نے 

    اشرف المخلوقات بنایا ہے۔

    وہ اگر چاہے تو اپنی مستقل مزاجی اور فیصلوں پر ڈٹ جانے کی صلاحیت سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

    ایسے میں سگریٹ نوشی ترک کرنا کونسی بڑی بات ہے؟

    سگریٹ چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ تک شائد آپ کبھی کبھار مضطرب ہونے کے عمل سے گُزریں۔

    مگر یہ کیفیت میرے پروردگار نے چاہا توآہستہ آہستہ ختم ہوتی جاۓ گی۔

    اس جان لیوا عادت سے چھٹکارے کے بعد آپ اپنے اندر ایک نئی سرشاری محسوس کرنے لگیں گے۔

    آپ اپنے آپ کو پہلے سے کہیں بہتر چاک و چوبند،تازہ اورترو توانا پانے لگیں گے۔

    سگریٹ سے نجات پانے کے بعد آپ کے پاس کچھ ایکسٹرا رقم بھی بچنا شروع ہو جاۓ گی۔

    سگریٹ چھوڑنے سے آپکی زندگی سے کئی ادویات بھی خود بخود کم ہونا یا ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں،

    جو رقم بچنے کا زریعہ بنتا ہے۔

    آپ اس بچی ہوئ رقم سے چاہیں تو اپنے بچوں،ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لئے پھل وغیرہ یا کچھ اور قسم کے تحائف بھی گھر لاسکتے ہیں۔

    ایسا کرتے وقت آپ اُن لذتوں اور خوشگوار ساعتوں سے آشناس ہوں گے،

    جو منحوس سگریٹ نے آپ کو کبھی نہیں دی ہوں گی۔

    سگریٹ چھوڑنے کے لئے مصمم ارادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

    اپنے کئے گئے فیصلے کے آگے اپنے آپ کو کبھی کمزور نہ پڑنے دیں۔

    سگریٹ چھوڑیں تو ایسا چھوڑیں کے آپ کے ہاتھ میں کبھی یہ بدبُو دار چیز نظر نہ آۓ۔

    سگریٹ نوش حضرات کو خود تو اس کی گندی بدبُو  محسوس بھی نہیں ہوتی،

    مگر جب وہ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں ،

    جو سموکر نہیں ہوتا،

    تو ایسے افراد کو طبیعت پہ سخت گراں گزرنے والی یہ ناگوار بُو ضرور محسوس ہوتی ہے۔

    ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ مروت کے مارے اپنی ناگواری کا اظہار نہ کریں۔

    مگر اس لت کی وجہ سےآپ کی شخصیت ان کے نزدیک پسندیدہ ترین نہیں رہتی،

    وہ لوگ آپ سے ملاقات کو بوجھ سمجھ کر کر تو لیتے ہیں،

    مگر دل سے وہ آپ کے جلدجانے کی دعائیں کر رہے ہوتے ہیں۔اُنہیں آپ سے مجبورا” ملنا پڑتا ہے،

     انہیں اندر سے کراہت کے باوجود بعض دفعہ آپ کواپنے فرائض منصبی  کی بدولت برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    انتہائ معذرت کے ساتھ یہ میرا زاتی تجربہ ہے کہ میں جب بھی کبھی کسی ایسے شخص سے ملوں جو سگریٹ پیتا ہو تو میری کوشش ہوتی ہے کہ جلد باۓ باۓ کے لمحات نصیب ہوں۔

    میرا اس پر اختیار نہیں،کئی دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی سگریٹ کے دھوئیں اور بُو سے الرجی ہے۔

    ان باتوں کے علاوہ ایک سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی اوسط” آپکی عمر دس سال کم کر دیتی ہے،

    کیا یہ بہت بڑا المیہ نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا چراغ گُل کرنے کے درپے ہوتے ہیں،؟

    کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں،

    اپنے خون پسینے کی کمائ سے موت خرید رہے ہوتے ہیں ؟

    ایک اور سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی ،دل،سانس،بلڈ پریشرشوگر اور کئی قسم کے سرطان کے علاوہ مردوں میں جنسی قوت میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے،

    جبکہ سگریٹ نوش خواتین دوران حمل کئی بیماریوں،

    بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی اور لاغر و بیمار بچوں کی ولادت جیسے مسائل سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

    سگریٹ نوشی کے بارے میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ عادت آپ کو غیر محسوس طریقے سے ایک خوشگوار زندگی سے دور کرتی جاتی ہے۔

    آپ سگریٹ پی پی کر آپ اپنے آپ کو ایک ایسے دلدلی کنوئیں میں گرا رہے ہوتے ہیں،

    جس سے نکلنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دشوار تر ہوتا جاتا ہے۔

    قبل اس کے وہ جان لیوا اور ہمارے پیاروں کے لئے وہ مشکل گھڑی آن پہنچے۔

    اپنا فیصلہ ابھی کیجیے !

    ابھی جناب اعلی

    بلکل اسی گھڑی کہ 

    آپ نے اللہ پاک کی دی گئی زندگی جیسی عظیم نعمت کو سگریٹ نوشی کی نظر نہیں ہونے دینا۔

    ابھی فیصلہ کیجیے !

    اور اُس فیصلے پر ڈٹ جائیے ایک 

    مرد آہن کی طرح !#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    (گزشتہ کیساتھ پیوستہ)
    ضروری نہیں ہم جس سے محبت کرے اس سے ہماری شادی بھی ہو جائے جائے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جس سے ہماری شادی ہو گئی اس سے ہمیں محبت بھی ہو جائے محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں اور کچھ خاص انسان بھی میں جانتی تھی کہ عادی کسی لالچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتا کتا مگر کسی بھی بات پہ سہی
    مجھے تو اس کو ذلیل ہی کرنا تھا تھا
    اس کے بعد جب مجھے موقع ملا میں نے اسے خوب بےعزت کیا
    میں نے زندگی میں کوئی دکھ نہیں دیکھا تھا
    تھا شاید اس لیے مجھے کسی کے دکھ کا احساس بھی نہیں تھا
    میں بہت بے حس تھی
    دولت کی فراوانی نے مجھ میں تکبر، انا اور نخرہ حد سے زیادہ تھا
    پھر ایک دن میں نے اپنے دوستوں سے کہہ کر اسے یونی میں بے عزت کرایا
    میری دوست اس کی محبت اور غربت پہ طنز کرتی رہی عادی نے سب ہمت سے سنا اور فقط اتنا کہا تھا کہ کزن۔۔۔۔۔۔!!!
    کسی کی محبت کا مذاق نہیں اڑاتے اگلا بندہ اپنی محبت میں واقعہ سچا اور مخلص ہے تو محبت کی بد دعا لگ جاتی ہے مذاق اڑانے والوں کا ایک دن اپنا مذاق بن سکتا
    اور ہم نے اس بات پر بھی اس کا خوب مذاق اڑایا تھا میرا یونی میں آخری سال تھا ابو کو میرے لیے ایک لڑکا پسند آگیا
    اعلی تعلیم یافتہ اور امیر ترین گھرانا تھا ان کی بھی ہماری طرح فیکٹریاں اور دیگر کاروبار تھا
    لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے اور پسند کر گئے ہمارے گھر والوں کو بھی لڑکا پسند آگیا
    منگنی کی تاریخ مقرر کردی گئی منگنی سے ایک دن پہلے ہی عادی بہانہ بنا کر اپنے گاؤں چلا گیا شاید اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مجھے کسی اور کے نام ہوتے دیکھ سکتا وہ تین چار دن بعد واپس آیا
    اس کے آتے ہی میں نے اسے اپنے منگیتر سعد کی تصویر دکھائے اور کہا کہ دیکھو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے اور جو کسی قابل بھی ہوتے ہیں
    یہ سب میں نے فقط اسے جلانے کے لئے کہا تھا اسے تڑپانے کا ایک نیا طریقہ میرے ہاتھ آ گیا تھا
    میں جان بوجھ کر موبائل کان سے لگا کر عادی کے قریب سے گزرتی قدرے اونچی آواز میں نہیں جانو جان وغیرہ کہتی ہاں یار میں جانتی ہوں تو میرے لئے جان بھی دے سکتے ہو سعد مجھے جتاتا رہتا تھا کہ میں اسے بے حد پسند ہو اور وہ میرے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے
    کمال کا حوصلہ تھا عادی کا بھی اس نے کبھی مجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا تھا بس کبھی کوئی شعر سنا دیتا یا پھر دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے رکھتا پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ میری ایک ٹانگ میں مستقل درد رہنے لگا بہت علاج کرایا ملک اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھایا مگر کسی کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا
    ایک دن پڑوسن امی سے کہہ رہی تھی کہ نوش کو کسی عامل کے پاس لے جاؤ ہو سکتا ہے کسی نے کوئی جادو ٹونہ کرا دیا ہوگا پتہ کسی نے کالا جادو گرا دیا ہو پڑوسن کی امی سے کالا جادو کا سن کر میرے ذہن میں پہلا خیال یہی عادی کا آیا تھا اور ضرور اسی کمینے نے حسد میں ایسا کیا ہوگا مجھے اپنی طرف مائل کرنے کے لئے میرے دماغ نے کہا تھا
    اور میں بنا سوچے سمجھے اس بات پر ایمان لے آئی تھی میری عادی سے نفرت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا تھا اب میں اسے اپنے گھر سے ذلیل کرکے نکالنے کا بہانہ ڈھونڈ نے لگی میں اب اس کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی
    چھ سات ماہ کے بعد ٹانگ کا درد ختم ہو گیا تھا مگر بے تحاشہ پین کلر کھانے سے میرے گردے ناکارہ ہوگئے تھے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ دونوں گردے ختم ہیں نکالنے پڑیں گے کہیں سے ایک گردے کا بندوبست کر لیجئے
    گردہ خریدنا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں تھا مگر مجھے یقین تھا کہ میرا منگیتر سعد مجھے اپنا ایک گردہ دے گا وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ وہ میرے لئے جان دے سکتا ہے
    ابو نے اپنے جاننے والوں سے بات کی کہ وہ جتنے پیسوں میں بھی ہو سکے کہیں سے ایک گردے کا انتظام کریں
    سعد میرے لئے بہت پریشان تھا
    مجھے یقین تھا کہ وہ کہے گا نوشی میری جان پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
    میں ابھی زندہ ہوں میں دوں گا اپنا گردہ تمھیں
    مگر سعد نے ایسی کوئی بات نہیں کی سعد نے اتنا ضرور کہا تھا کہ پریشان نہیں ہونا
    ہم کوشش کر رہے ہیں جلد ہی کوئی انتظام ہو جائے گا
    پھر
    میں نے ایک رات فون پر خود ہی اسے کہہ دیا کہ جانی اپنا ایک گردہ مجھے دے دو نا ۔۔۔؟؟؟
    میں نے بڑے مان سے کہا تھا مجھے یقین تھا کہ سعد کہے گا کہ گردہ کیا چیز ہے تم جان بھی مانگو تو حاضر ہیں
    سعد کچھ پل کے لیے چپ ہو گیا تھا

    نوشی یار۔۔۔۔۔ میں تمہیں کیسے اپنا گردہ دے سکتا ہوں۔۔۔؟
    کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے کہا
    تو میرے مان اور بھروسے کا محل زمین بوس ہوگیا
    دو دن بعد مجھے ہسپتال داخل کرلیا گیا گردے کا انتظام ہو گیا تھا
    مجھے پتا تھا ابو کروڑوں خرچ کر کے بھی گردے کا انتظام کر لیتے اور انہوں نے لیا تھا
    جب سے میری ٹانگ میں درد شروع ہوا تھا عادی بہت پریشان رہنے لگا تھا
    مگر میں جانتی تھی وہ مجھے صرف دکھانے کے لئے پریشان ہونے کا ڈرامہ کرتا تھا تاکہ مجھے اس پہ شک نہ ہو ورنہ اندر سے تو یہ بہت خوش ہوگا

    پھر میرے گردوں کے ناکارہ ہونے کا سن کر تو مزید پریشان ہو گیا تھا
    شاید اس نے جو عمل مجھ سے کرایا تھا اسے اس کی اس حد تک توقع نہیں تھی۔۔۔؟
    عادی میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھے تسلی دی تھی
    کہ پریشان نہیں ہونا اللہ بہتر کرے گا
    مجھے اس کی شکل سے بھی الجھن ہونے لگی تھیں میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ کچھ دیر بیٹھا رہا میں نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا پھر وہ خود ہی اٹھ کر چلاگیا
    آپریشن کامیاب ہوا تھا ہسپتال میں سعد اور اس کے گھر والے میرے عیادت کو آئے تھے
    عادی تو پہلے دن سے ہی ہسپتال میں تھا وہ میرے لئے سفید پھول لے کر آیا تھا وہ جانتا تھا کہ مجھے سفید پھول بہت پسند ہے مگر میں نے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لیے اس کے لائے پھولوں کو اسی کے سامنے توڑ کر پھینک دیا تھا
    میں جس حال میں تھی اس کا ذمہ دار عادی ہی تھا اگرچہ میرے پاس اس کا ثبوت نہیں تھا مگر عادی کے سوا اور کوئی ایسا نہیں تھا جو مجھ سے انتقام لینا چاہتا ہوں میری ہر بےعزتی کو اس میسنے انسان نے ہنس کر اسی لئے سہا تھا کہ بعد میں وہ مجھے روتا ہوا دیکھے گا
    عادی نے اپنے لائی بھولوں کا حشر دیکھ کر بس اتنا ہی کہا تھا
    کزن یار غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا بلاوجہ کسی سے اتنی نفرت بھی نہ کرو کہ آپ کی نفرت سے کسی کے دل پر لگے زخم بعد میں آپ کے لئے ناسو بن جائے
    عادی کہ الفاظ سے مجھے لگا جیسے وہ مجھے جاتا رہا ہوں کے مجھے اس حال تک لانے والا وہی ہے
    میں ہسپتال سے گھر آئی تو عادی کی امی یعنی میری مما نے مجھ سے ملنے آئیں یہ دو تین بار پہلے بھی میری عیادت کو آ چکی تھیں
    کچھ ہی دنوں میں میں مکمل ٹھیک ہو چکی تھی مجھے بس ایسے موقع کی تلاش تھی کہ عادی کو سب کی نظروں میں ذلیل کرکے اس گھر سے نکلو سکوں ۔ اس نے مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور ایک دن مجھے اچانک ہی ایک شیطانی خیال سوجھا

    ہمارے گھر کام کرنے ایک بیس بائیس سال کی لڑکی آتی تھی میں نے اسے 10ہزار دیا اور کہا میں تمہیں جو کچھ کہونگی وہی سب ابو کے پوچھنے پر ان کے سامنے دوہرا دینا
    دس ہزار کی رقم دیکھ کر وہ فورا تیار ہو گئی تھی میں نے رات کو ابو کے کان بھر دی ہے کہ کام کرنے والی لڑکی نے کہا ہے کہ وہ یہاں کام نہیں کرے گی
    جب تک عادی اس گھر میں ہے
    کیونکہ وہ اسے پیسے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ رات گزارنے کا کہتا ہے
    دو تین بار تو اس نے دست درازی بھی کی ہے اگلے دن کام والے آئی تو میں اسے ابو کے پاس لے گئی اس نے بھی وہی کچھ کہا جو میں رات کو ابو کو بتا چکی تھی
    ابو نے عادی سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا اور اسے بلایا اور گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا
    عادی ہکا بکا رہ گیا تھا تم نے ہم پر نیکی کی اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو مرضی کرتے پھرو
    ابو نے عادی سے کہا میں نے کیا کیا ہے۔۔۔؟
    عادی نے سوال کیا تھا
    تم نے جو کچھ کیا وہ کوئی بے شرم اور بے غیرت ہی کر سکتا ہے اس سے پہلے کے ابو کچھ بولتے میں نے عادی کو جواب دیا تم بس اور اس گھر سے دفع ہو جاؤ میں نے بڑی بڑی اکڑسے اس سے کہا
    عادی نے مزید کچھ نہ پوچھا اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور چپ چاپ گھر سے نکل گیا
    جانے سے پہلے وہ مجھے کہہ گیا تھا
    نوشی۔۔۔۔!!! مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اس حد تک چلے جاؤ گے کیونکہ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کو یہاں سے نکلوانے میں میرا ہاتھ ہے
    میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا
    عادی نے کہا
    تو میں نے ہنس کر تکبر سے کہا تھا تم سے معافی کون مانگ رہا ہے۔۔۔۔؟
    اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور چلا گیا
    (جاری ہے)

    @BismaMalik890

  • نور  بھی  کسی  گھر  کی  آنکھ  کا  تارا  تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    آج کل کے ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں انسان کا Exposure اتنا ہو گیا ہے کہ چھ سال کے بچے کو آج اتنا پتا ہے جو ساٹھ سال کے بزرگ کو نہیں پتا اور ہر لمحہ خبر اور دنیا میں پے در پے ہونے والی زیادتی کی خبروں نے اس حد تک ناظرین کے دماغوں کو بے حس کر دیا ہے کہ اللہ کی پناہ۔۔ کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے۔ ہم اسے کے بارے میں ایک لمحہ سوچتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
    لیکن ان انکشافات پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں تھوڑا سا آپ کے ضمیر کو جھنجوڑنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں نور مقد م صرف ایک کیس نہیں ہے بلکہ ایک جیتی جاگتی اور ہنستی کھیلتی لڑکی کا نام تھا۔ لوگ کہتے ہیں نور مقدم کیس پر تو مٹی ڈل گئی ہے۔ عائشہ کا کیس آگیا ہے، لاری اڈا چنگچی والا واقعہ پیش آ چکا ہے۔وہاڑی سے آنے والی ماں اور بیٹی کی لاہور میں دن دیہاڑے آبرو ریزی ہو چکی ہے۔
    اب تو یہ کیس پرانا ہو گیا ہے۔ نہیں نور مقدم کا کیس اس وقت تک پرانا نہیں ہو گا جب تک ظالم درندے کو پھانسی اور اس کے سہولت کاروں کو سزا نہیں ہو جاتی۔ اس ظالم درندے کو کس نے اتنی ہمت دی کہ اس نے ایک معصوم کا سر تن سے جدا کر دیا۔ کس کی شہ پر ، کس طاقت کے نشے میں وہ اتنا مطلق العنان سوچ کا مالک ہو گیا تھا کہ اس نے ایک بچی کو ذبحہ کر ڈالا۔ کیا اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا ہو گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد کیسے اس صورتحال سے نکلے گا۔ وہ کیسے اپنے آپ کو پھانسی کے پھندے سے بچائے گا۔ یقینا سوچا ہو گا لیکن پھر اس نے یہ بھی سوچا ہو گا کہ میرے بابا اسے سنبھال لیں گے۔ ان کے پاس ایسے لوگ ہیں جو لاش کو ٹھکانے لگانے کی کابلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کوئی مسئلہ نہیں میں نور کو ختم کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھاوں گا۔ اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ سب کی لاڈلی تھی ۔
    23 october کو یعنی قتل کے تین ماہ بعد جب اس کی سالگرہ اآئے گی تو اسکے گھر والے اور دوست اسے یاد کر کے کتنا روٴیں گے۔ وہ نور مقدم جو جہاں جاتی تھی اپنی ملنساری سے دل جیت لیتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا اپنے دوستوں کے لیے شوق سے لے جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو ہر روز اپنے والد کو پھل کاٹ کر دیتی تھی۔وہ نور مقدم جو مہمان آنے کی صورت میں آپنی ماں کی مدد کرتی تھی۔وہ نور مقدم جو اآپنے والدیں کے ساتھ ہر رشتے دار کے گھر جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی بڑی بہن سے آٹھ نو سال چھوٹی ہونے کے باوجود اس کی بہترین دوست تھی وہ نور مقدم جو اپنے بھانجے کی بہترین دوست تھی اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے، کئی کئی گھنٹے اس کے ساتھ کھیلتی تھی۔وہ نور مقدم جو دنیا بھر میں گھومنے کے باوجود پاکستان سے پیار کرتی تھی اور پاکستان میں رہنا چاہتی تھی اور بیرون ملک اپنے رشتہ داروں کو بھی پاکستان میں رہنے کی ترغیب دیتی تھی۔وہ نور مقدم جسے پینٹنگ کا شوق تھا اور اس کے ہاتھ سے بنائی ہوئی پینٹنگ آج بھی اس کے گھر میں لگی ہوئی ہیں۔وہ نور مقدم جو کسی کو بھی دکھی دیکھ کر غمگین ہو جاتی تھی اور دوسروں کو Comfortable کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور یہی چیز اس کی جان لے گئی۔
    ایک منٹ کے لیے رکیں اور سوچین نور کی کتنی عادتیں ہماری بیٹیوں سے مشترک تھی اگر آپ ایک دفعہ بھی نور سے ملے ہوتے تو آپ کو نور میں اپنی بیٹی نظر آتی۔۔کیا ہم اپنی بیٹی کے قاتلوں کو اس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں۔ نہیں بلکل نہیں۔نور قدم کیس کے حوالے سے میں مسلسل آپ کو اپ ڈیٹ دیتا آرہا ہوں۔
    اورہر روز ایک نئی گتھی جہاں سلجھتی ہے وہاں کئی گتھیاں الجھ جاتی ہیں۔اس وقت نور مقدم کیس میں درندے ظاہر جعفر اس کے والدین، تین نوکر سمیت پانچ اہلکار تھراپی ورکس کے اور چھٹا مالک گرفتار ہے۔بائیس سے زائد لوگوں کے بیانات قلم بند کروائے جا چکے ہیں۔ DNAFinger prints سمیت کئی فرانزک آچکے ہیں جبکہ لیپ ٹاپ کا فرانزک بقایا ہے۔ آج نور مقدم کو قتل ہوئے ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے درندے ظاہر جعفر کے فون کے ڈیٹا کا کچھ اتا پتا نہیں آخری اطلاع کے مطابق وہ ایف آئی اے کے حوالے کیا جا چکا ہے اور اس کی سکرین ٹوٹی ہوئی ہے۔
    ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت ایک دفعہ ریجکٹ ہو چکی ہے اور دوسری دفعہ کے لیے وہ مناسب وقت کے انتظار میں ہیں ۔ وہ اس وقت کے انتظار میں ہیں کہ قوم اس بچی کو بھولے اور وہ کرپٹ سسٹم کو اپنی مرضی کے مطابق گھمائیں۔اور تو اور تھراپی ورکس کا مالک طاہر ظہور اب معصوم بننے کی کوشش کر رہا ہے
    وہ کہتا ہے کہ میں تو موقعہ واردات پر گیا ہی نہیں، میں تو معصوم ہوں۔ میری عمر 73 سال ہے اور میں شوگر، دل اور کڈنی کے امراض میں مبتلا ہوں۔ کوئی اس ظالم آدمی سے پوچھے کے ایک تہتر سال کے بوڑھے کو پارٹیاں کروانا زیب دیتا ہے۔ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے ملازم بھجوائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قتل کا پتا چلنے کے باوجود حقائق کو پولیس سے چھپائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے ملازم امجد پر مجرم کے حملوں کو روڈ ایکسیڈینٹ بنا دے۔ کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ڈگر ی نہ ہونے کے باوجود۔ جعلی تھراپی ورکس چلائے اور لوگوں کے بچوں کے علاج کی بجائے انہیں مزید عذاب میں مبتلا کروا دے۔ یہ پاکستان میں اشرافیہ کا وطیرہ ہے ظلم کرتے ہیں زیادتیاں کرتے ہیں ، ملک کی دولت لوٹتے ہیں اور جب قانون کا شکنجہ گردن پر پڑتا ہے تو فورا معصوم بن جاتے ہیں۔تھراپی ورکس کے مالک طاہر کے وکیل فرماتے ہیں کہ میرے موکل کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے ایسا جرم کیا ہے کہ انہیں جیل میں رکھا جائے۔
    واہ کیا بات ہے۔۔۔ سبحان تیری قدرت
    لاشیں ٹھکانے لگانے والے آج اپنا جرم پوچھ رہے ہیں ، قاتل درندے کو مشکل صورتحال سے نکالنے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔ حقائق کو مسخ کرنے اور چھپانے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔اور تو اور زخمی امجد جو تھراپی روکس کے لیے کام کرتا ہے، اور قاتل اور مقتول کو سب سے پہلے دیکھتا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ اس کیس کا سب سے بہترین گواہ ہے۔
    اسی نے پولیس کو فون کر کے بتایا۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پتا ہی نہیں چلا کہ فون کس نے کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بتانے والے نے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی تھی۔ ورنہ پولیس کو اطلاع دینے والوں کے تو فون نمبر سے لے کر شناختی کارڈ تک کا پوچھ لیا جاتا ہے۔ اور جو شخص یہ دعوی کر رہا ہے کہ اس نے پولیس کو بتایا وہی ہسپتال میں اپنے زخمی ہونے کی وجوہات چھپا رہا ہے۔ وہی کہہ رہا ہے کہ میرا روڈ ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ اس وقت کیوں اس نے یہاں تک کہ ہسپتال سے حقائق چھپائے تاکہ اسے شامل تفتیش کر کے کہیں ظالم درندے کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے۔ امجد پر یقینا طاہر کا پریشر ہو گا کہ وہ حقائق چھپائے تاکہ اس کے کلائنٹ پر کوئی مشکل نہ اآئے۔ اور بات یہ ہے کہ اگر امجد کو گواہ بنا لیا گیا۔ جو اب تک ان کا کردار رہا ہے اگر اس نے آگے جا کر یہ کہہ دیا کہ وہاں ظاہر کے علاوہ بھی نقاب پوش لوگ تھے۔ اور وہ کھڑکی سے بھاگ گئے تو سارا کیس وہیں تباہ ہو جائے گا۔
    کہ نور مقدم کیس کے چشم دید گواہ نے جو دیکھا وہ بتا دیا اور کیس کا رخ ہی تبدیل ہو گیا۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی صورت حقائق چھپانے والوں کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔
    طاہر کا کردار اس کیس میں بہت اہم ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر قاتل درندے کا وٹس ایپ ڈیٹا ریکور کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اور ہر وٹس ایپ اکاونٹ کا
    Back up
    بھی ہوتا ہے جسے بڑے آرام سے فون نمبر کی مدد سے کسی بھی فون پر ریکور کیا جا سکتا ہے۔ اگر پولیس یہ کرنے میں ناکام رہی جو کہ بہت ہی آسان کام ہے تو سمجھ لیں کہ کافی لوگوں کو بچالیا گیا ہے۔
    تھراپی ورکس کے بارے میں میں واحد شخص نہیں ہوں جو تشویش میں مبتلا ہو اس جعلی ڈاکٹر کو لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعا ئیں دے رہے ہیں۔ اور کئی نے تو اس کے خلاف کیس بھی کیا ہوا ہے۔ایک بلکل اسی طرح کا کیسTherapy Works & Tahir Zahoor Ahmed کے خلاف Dec 2020میں کیا گیا Civil Suit 1080/20
    تھا جو Sr. Civil Judge South, Karachi کی عدالت میں آج بھی پینڈنگ پڑا ہے۔ اور رہی بات تھراپی ورکس کے جعلی این او سی کی۔ یہاں پر نہ صرف مریضوں کو لوٹا جاتا ہے بلکہ طالب علموں کو بھی چونا لگایا جاتا ہے۔ جو لوگ بھی یہاں سے بھاری معاوضہ دے کر کو رس کرتے ہیں انہیں شائد ہی کبھی سرٹیفیکیٹ ملا ہو۔

  • تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر مدثر حسن

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر مدثر حسن

    یہ جملہ آپکو سگریٹ کے ہر ڈبے پر لکھا نظر آے گا، ساتھ ہی ایک بھیانک اور گلے سڑے منہ کی تصویریں بنی ہو گی لیکن اس کو دیکھ کر اور پڑھ کے بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے ہیں۔

    نشہ ایک لعنت ہے جو کسی بھی چیز کا ہو جائز نہیں ہے۔
    کچھ لوگ دوستوں کے کہنے پر ایک دو کش لگانا شروع کرتے ہیں اور پھر سگریٹ پینے میں وہ اپنے نشئ دوستوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔

    کچھ لوگ شوقیا پینا شروع کرتے ہیں اور اتنے سگریٹ پیتے ہیں کے سگریٹ بھی کبھی کبھی تنگ آ کے کہتا ہوگا "او بس کر دےماما ہن ”

    کچھ لوگوں کی عجیب منطق ہے سگریٹ پیتے ہوئے ویڈیو بنا کر سٹیٹس بھی ڈال دیتے ہیں جیسے بڑے کُول لگ رہے ہیں لیکن میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کے نہیں لگتے بھائی تم کُول بلکے بہت منحوس لگتے ہو۔

    ایک اور بری عادت جو ہے کے آپ کسی کے گھر جاؤ یا کوئی آپ کے گھر آ جاۓ تو آپ سگریٹ لگا لو اور یہ لمبے لمبے دھویں والے کش لو، بھئ یہ بھی عجیب جہالت ہے۔

    کچھ لوگ ویسے شغل میلے میں سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں اور پھر اس کے عادی ہو جاتے ہیں جو کے بہت نقصان ده ثابت ہوتا ہے، عموماً لوگ سگریٹ کے بعد چرس اور افيم بھی شروع کر لیتے ہے جس سے وہ نشہ کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں جو کے انکے اپنے اور ان کے گھر والوں کے لیے ایک نہایت تکلیف ده بات ہے،

    کچھ لوگ اپنی ٹینشن کو کم کرنے کے لئے بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں، کچھ لوگ پیار میں دھوکھا کھانے کے بعد اپنے محبوب کی یاد کو دل سے نکالنے کے لیے بھی سگریٹ پیتے ہیں جب کہ میرا ماننا ہے ہے محبوب اپکا بےغیرت نکل ہی آیا ہے تو اپنے آپکو اسکی سزا کیوں دیں،

    ہمارے معاشرے میں اور بھی بہت سے نشے ہیں جو کے لوگ عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔
    ماہرین کہتے ہیں سگریٹ کا دھواں سگریٹ پینے والے سے زیادہ اس انسان کے لیے نقصان دے جو سگریٹ پیے بغیر سگریٹ کا دھواں اپنے سانس کے ساتھ اپنے اندر لے جاتا ہے۔

    سگریٹ سے آپ بیشمار بیماریاں کا شکار ہو سکتے ہیں، جیسے کے کینسر ، سانس لینے کا مسلہ، دل کا مسلہ ، پھیپھڑوں اور جگر کی بیماری، دانتوں کا مسلہ، سگریٹ نوشی آپکی سماعت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

    @MudasirWrittes

  • حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف

    حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف

    شرم و حیاء کو اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آج کچھ لوگوں نے حیاء لفظ کے معنی ہی بدل دیے ہیں اور اس لفظ کو عورت کی ذات تک محدود کردیا ہے۔ جبکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ حیاء کا تعلق صرف عورتوں سے ہی نہیں بلکہ مردوں سے بھی ہے۔ آج کے دور کے مردوں نے اس لفظ سے ناواقفیت اختیار کر لی یے۔ کچھ بھی ہو جائے کہیں کوئی عورت جنسی زیادتی کا نشانہ بنے یا اسے حراساں کیا جائے تو بہت سے مونہوں سے ایک بات نکلتی ہے کہ عورت پردہ کرے۔

    جب عورت پردہ نہیں کرے گی اور گندے سے گندہ لباس پہنے گی تو مرد کی نظریں تو خود ہی اٹھیں گی۔ جیسے حیاء دار ہونا صرف عورت کے لیے ضروری ہے مرد کا تو اس لفظ سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ایسے ذہن کے مالک مردوں کے لیے میں بتاتی چلوں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود بہت شرم و حیاء والے تھے اور وہ ہمیشہ دوسروں کو بھی اس کا درس دیتے تھے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کے اسلام میں عورتوں کو حکم ہے کہ وہ پردہ کریں اپنے چہرے اور جسم کو نامحرموں سے چھپائے تاکہ کوئی اس پر بری نگاہ نا ڈال سکے۔ اسی طرح مردوں کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کرے تاکہ کسی عورت کے لیے تکلیف کا باعث نا بن سکے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ:
    "مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کری، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بے شک اللّٰہ ان کے کاموں سے خبردار ہے” (النور: 30)

    اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح مردوں کے لیے بھی شرم و حیاء کے احکامات موجود ہیں۔ پر افسوس آج کے دور میں بےحیائی عام سے عام ہوتی چلی جارہی ہے۔ عورت مرد سے بڑھ کر جبکہ مرد عورت سے بڑھ کر بےحیائی کا دلدادہ ہوتے ہوئے تمام حدیں پار کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شرم و حیاء کا جو درس قرآن وحدیث میں دیا گیا ہے کیا آج ہم اس پر عمل کررہے ہیں؟ تو جواب ہے نہیں۔

    کیونکہ اسلام میں مردوں اور عورتوں کو یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ عورت نامحرم مردوں اور مرد نامحرم عورتوں کو ایک نگاہ تک نا ڈالیں اور اگر پہلی نگاہ غلطی سے اٹھ بھی جائے تو معافی ہے پر دوسری بار نگاہ ڈالنے سے منع کیا گیا یے۔ حضرت جریر بن عبداللّٰہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر اچانک سے کسی نامحرم عورت پر نظر پڑھائے تو کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نظر پھیرلو، اگر اچانک نظر پڑھ جائے تو معافی ہے لیکن اگر جان بوجھ کر نگاہ اٹھائی تو گناہ ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو خواتین کو ان کی نگاہوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ” حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حضرت میمونہ بھی تھیں تو سامنے سے حضرت عبداللّٰہ بن ام مکتوم (جو نابینا تھے) تشریف لائے یہ واقعہ پردے کے حکم سے بعد کا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں پردہ کرو، میں نے عرض کیا یا رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا یہ نابینا نہیں؟ رسول پاک نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی اندھی ہو انہیں نہیں دیکھتی ہو” (امن ابو داؤد، جلد نمبر سوم، حدیث نمبر 720)

    اب مرد و عورت کے لیے شرم و حیاء کو اپناتے ہوئے اپنی نگاہوں اور اپنی ذات کی خود حفاظت کرنا کس قدر ضروری ہے اس میں کوئی دو رائے ہے ہی نہیں۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اسے اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا لیکن کیا آج ہم لوگ یہاں اسلام کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہمارے ملک سے بےحیائی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور یہ صرف ایک دو چار لوگوں سے ممکن نہیں اب سب کو مل کر اس بےشرمی اور بے حیائی کلچر کے خلاف اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔

    @SeharSulehri

  • تمباکو نوشی اور اس کے اثرات، تحریر: فروا منیر

    تمباکو کی وبا دنیا کے سب سے بڑے صحت عامہ کے خطرات میں سے ایک ہے ، جس سے دنیا بھر میں سالانہ آٹھ ملین سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔  ان میں سے ستر لاکھ سے زائد اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں جبکہ تقریبا 1.2 ملین غیر سگریٹ نوشی کرنے والوں کی سگریٹ کے دھویں کی وجہ سے ۔

    تمباکو کی تمام اقسام نقصان دہ ہیں۔  سگریٹ نوشی دنیا بھر میں تمباکو کے استعمال کی سب سے عام شکل ہے۔  تمباکو کی دیگر مصنوعات میں واٹر پائپ تمباکو ، مختلف تمباکو نوشی کی مصنوعات ، سگار ، سگریلو ، رول آپ کی اپنی تمباکو ، پائپ تمباکو ، بڈیاں اور کریٹیکس شامل ہیں۔

    سگریٹ تمباکو کے استعمال کی طرح واٹرپائپ تمباکو کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔  تاہم ، واٹرپائپ تمباکو کے استعمال کے صحت کے خطرات کو اکثر صارفین کم سمجھتے ہیں۔
    تمباکو کا استعمال انتہائی لت اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔  تمباکو میں بہت سے کینسر پیدا کرنے والے زہریلے مادے ہوتے ہیں اور اس کے استعمال سے سر ، گردن ، گلے ، غذائی نالی اور زبانی گہا کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (بشمول منہ ، زبان ، ہونٹ اور مسوڑوں کا کینسر) نیز دانتوں کی مختلف بیماریاں۔

    دنیا بھر میں 1.3 بلین تمباکو استعمال کرنے والوں میں سے 80 فیصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں ، جہاں تمباکو سے متعلقہ بیماری اور موت کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔  تمباکو کا استعمال گھریلو اخراجات کو بنیادی ضروریات جیسے کھانے اور پناہ گاہ سے تمباکو کی طرف موڑ کر غربت میں مدد کرتا ہے۔

    تمباکو کے استعمال کے معاشی اخراجات کافی ہیں اور ان میں تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے اہم اخراجات کے ساتھ ساتھ گمشدہ انسانی سرمایہ بھی شامل ہے جو تمباکو سے منسوب بیماری اور اموات کا نتیجہ ہے۔

    کچھ ممالک میں غریب گھرانوں کے بچوں کو تمباکو کی کاشت میں لگایا جاتا ہے تاکہ خاندان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔  تمباکو بڑھانے والے کسان صحت کے کئی خطرات سے بھی دوچار ہیں ، جن میں "سبز تمباکو کی بیماری” بھی شامل ہے۔

    تمباکو مصنوعات میں  ٹیکس میں اضافہ اتنا زیادہ ہونا چاہیے کہ قیمتوں کو آمدنی میں اضافے سے اوپر لے جائے۔  تمباکو کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کم آمدنی والے ممالک میں تقریبا 4 4 فیصد اور کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں تقریبا 5 5 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔

    اس کے باوجود ، تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا ایک ایسا اقدام ہے جو تمباکو کنٹرول کے دستیاب اقدامات کے سیٹ کے درمیان کم از کم لاگو ہوتا ہے۔

    مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت کم لوگ تمباکو کے استعمال کے مخصوص صحت کے خطرات کو سمجھتے ہیں۔ تاہم ، جب تمباکو نوشی کرنے والے تمباکو کے خطرات سے آگاہ ہوجاتے ہیں تو ، زیادہ تر لوگ چھوڑنا چاہتے ہیں۔

    اگر آپ سگریٹ کی ڈبیا کر غور سے دیکھیں تو اس پر بھی درج ہے کہ خبر دار تمباکو نوشی کینسر کا باعث بنتی ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کواس بات کو سمجھنا چاہیے۔

    بے شک سگریٹ ایک بری وبا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلائی جائے اور لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے ان کو تمباکو سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔