آج کل کے ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں انسان کا Exposure اتنا ہو گیا ہے کہ چھ سال کے بچے کو آج اتنا پتا ہے جو ساٹھ سال کے بزرگ کو نہیں پتا اور ہر لمحہ خبر اور دنیا میں پے در پے ہونے والی زیادتی کی خبروں نے اس حد تک ناظرین کے دماغوں کو بے حس کر دیا ہے کہ اللہ کی پناہ۔۔ کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے۔ ہم اسے کے بارے میں ایک لمحہ سوچتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
لیکن ان انکشافات پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں تھوڑا سا آپ کے ضمیر کو جھنجوڑنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں نور مقد م صرف ایک کیس نہیں ہے بلکہ ایک جیتی جاگتی اور ہنستی کھیلتی لڑکی کا نام تھا۔ لوگ کہتے ہیں نور مقدم کیس پر تو مٹی ڈل گئی ہے۔ عائشہ کا کیس آگیا ہے، لاری اڈا چنگچی والا واقعہ پیش آ چکا ہے۔وہاڑی سے آنے والی ماں اور بیٹی کی لاہور میں دن دیہاڑے آبرو ریزی ہو چکی ہے۔
اب تو یہ کیس پرانا ہو گیا ہے۔ نہیں نور مقدم کا کیس اس وقت تک پرانا نہیں ہو گا جب تک ظالم درندے کو پھانسی اور اس کے سہولت کاروں کو سزا نہیں ہو جاتی۔ اس ظالم درندے کو کس نے اتنی ہمت دی کہ اس نے ایک معصوم کا سر تن سے جدا کر دیا۔ کس کی شہ پر ، کس طاقت کے نشے میں وہ اتنا مطلق العنان سوچ کا مالک ہو گیا تھا کہ اس نے ایک بچی کو ذبحہ کر ڈالا۔ کیا اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا ہو گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد کیسے اس صورتحال سے نکلے گا۔ وہ کیسے اپنے آپ کو پھانسی کے پھندے سے بچائے گا۔ یقینا سوچا ہو گا لیکن پھر اس نے یہ بھی سوچا ہو گا کہ میرے بابا اسے سنبھال لیں گے۔ ان کے پاس ایسے لوگ ہیں جو لاش کو ٹھکانے لگانے کی کابلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کوئی مسئلہ نہیں میں نور کو ختم کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھاوں گا۔ اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ سب کی لاڈلی تھی ۔
23 october کو یعنی قتل کے تین ماہ بعد جب اس کی سالگرہ اآئے گی تو اسکے گھر والے اور دوست اسے یاد کر کے کتنا روٴیں گے۔ وہ نور مقدم جو جہاں جاتی تھی اپنی ملنساری سے دل جیت لیتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا اپنے دوستوں کے لیے شوق سے لے جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو ہر روز اپنے والد کو پھل کاٹ کر دیتی تھی۔وہ نور مقدم جو مہمان آنے کی صورت میں آپنی ماں کی مدد کرتی تھی۔وہ نور مقدم جو اآپنے والدیں کے ساتھ ہر رشتے دار کے گھر جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی بڑی بہن سے آٹھ نو سال چھوٹی ہونے کے باوجود اس کی بہترین دوست تھی وہ نور مقدم جو اپنے بھانجے کی بہترین دوست تھی اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے، کئی کئی گھنٹے اس کے ساتھ کھیلتی تھی۔وہ نور مقدم جو دنیا بھر میں گھومنے کے باوجود پاکستان سے پیار کرتی تھی اور پاکستان میں رہنا چاہتی تھی اور بیرون ملک اپنے رشتہ داروں کو بھی پاکستان میں رہنے کی ترغیب دیتی تھی۔وہ نور مقدم جسے پینٹنگ کا شوق تھا اور اس کے ہاتھ سے بنائی ہوئی پینٹنگ آج بھی اس کے گھر میں لگی ہوئی ہیں۔وہ نور مقدم جو کسی کو بھی دکھی دیکھ کر غمگین ہو جاتی تھی اور دوسروں کو Comfortable کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور یہی چیز اس کی جان لے گئی۔
ایک منٹ کے لیے رکیں اور سوچین نور کی کتنی عادتیں ہماری بیٹیوں سے مشترک تھی اگر آپ ایک دفعہ بھی نور سے ملے ہوتے تو آپ کو نور میں اپنی بیٹی نظر آتی۔۔کیا ہم اپنی بیٹی کے قاتلوں کو اس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں۔ نہیں بلکل نہیں۔نور قدم کیس کے حوالے سے میں مسلسل آپ کو اپ ڈیٹ دیتا آرہا ہوں۔
اورہر روز ایک نئی گتھی جہاں سلجھتی ہے وہاں کئی گتھیاں الجھ جاتی ہیں۔اس وقت نور مقدم کیس میں درندے ظاہر جعفر اس کے والدین، تین نوکر سمیت پانچ اہلکار تھراپی ورکس کے اور چھٹا مالک گرفتار ہے۔بائیس سے زائد لوگوں کے بیانات قلم بند کروائے جا چکے ہیں۔ DNAFinger prints سمیت کئی فرانزک آچکے ہیں جبکہ لیپ ٹاپ کا فرانزک بقایا ہے۔ آج نور مقدم کو قتل ہوئے ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے درندے ظاہر جعفر کے فون کے ڈیٹا کا کچھ اتا پتا نہیں آخری اطلاع کے مطابق وہ ایف آئی اے کے حوالے کیا جا چکا ہے اور اس کی سکرین ٹوٹی ہوئی ہے۔
ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت ایک دفعہ ریجکٹ ہو چکی ہے اور دوسری دفعہ کے لیے وہ مناسب وقت کے انتظار میں ہیں ۔ وہ اس وقت کے انتظار میں ہیں کہ قوم اس بچی کو بھولے اور وہ کرپٹ سسٹم کو اپنی مرضی کے مطابق گھمائیں۔اور تو اور تھراپی ورکس کا مالک طاہر ظہور اب معصوم بننے کی کوشش کر رہا ہے
وہ کہتا ہے کہ میں تو موقعہ واردات پر گیا ہی نہیں، میں تو معصوم ہوں۔ میری عمر 73 سال ہے اور میں شوگر، دل اور کڈنی کے امراض میں مبتلا ہوں۔ کوئی اس ظالم آدمی سے پوچھے کے ایک تہتر سال کے بوڑھے کو پارٹیاں کروانا زیب دیتا ہے۔ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے ملازم بھجوائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قتل کا پتا چلنے کے باوجود حقائق کو پولیس سے چھپائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے ملازم امجد پر مجرم کے حملوں کو روڈ ایکسیڈینٹ بنا دے۔ کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ڈگر ی نہ ہونے کے باوجود۔ جعلی تھراپی ورکس چلائے اور لوگوں کے بچوں کے علاج کی بجائے انہیں مزید عذاب میں مبتلا کروا دے۔ یہ پاکستان میں اشرافیہ کا وطیرہ ہے ظلم کرتے ہیں زیادتیاں کرتے ہیں ، ملک کی دولت لوٹتے ہیں اور جب قانون کا شکنجہ گردن پر پڑتا ہے تو فورا معصوم بن جاتے ہیں۔تھراپی ورکس کے مالک طاہر کے وکیل فرماتے ہیں کہ میرے موکل کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے ایسا جرم کیا ہے کہ انہیں جیل میں رکھا جائے۔
واہ کیا بات ہے۔۔۔ سبحان تیری قدرت
لاشیں ٹھکانے لگانے والے آج اپنا جرم پوچھ رہے ہیں ، قاتل درندے کو مشکل صورتحال سے نکالنے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔ حقائق کو مسخ کرنے اور چھپانے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔اور تو اور زخمی امجد جو تھراپی روکس کے لیے کام کرتا ہے، اور قاتل اور مقتول کو سب سے پہلے دیکھتا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ اس کیس کا سب سے بہترین گواہ ہے۔
اسی نے پولیس کو فون کر کے بتایا۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پتا ہی نہیں چلا کہ فون کس نے کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بتانے والے نے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی تھی۔ ورنہ پولیس کو اطلاع دینے والوں کے تو فون نمبر سے لے کر شناختی کارڈ تک کا پوچھ لیا جاتا ہے۔ اور جو شخص یہ دعوی کر رہا ہے کہ اس نے پولیس کو بتایا وہی ہسپتال میں اپنے زخمی ہونے کی وجوہات چھپا رہا ہے۔ وہی کہہ رہا ہے کہ میرا روڈ ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ اس وقت کیوں اس نے یہاں تک کہ ہسپتال سے حقائق چھپائے تاکہ اسے شامل تفتیش کر کے کہیں ظالم درندے کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے۔ امجد پر یقینا طاہر کا پریشر ہو گا کہ وہ حقائق چھپائے تاکہ اس کے کلائنٹ پر کوئی مشکل نہ اآئے۔ اور بات یہ ہے کہ اگر امجد کو گواہ بنا لیا گیا۔ جو اب تک ان کا کردار رہا ہے اگر اس نے آگے جا کر یہ کہہ دیا کہ وہاں ظاہر کے علاوہ بھی نقاب پوش لوگ تھے۔ اور وہ کھڑکی سے بھاگ گئے تو سارا کیس وہیں تباہ ہو جائے گا۔
کہ نور مقدم کیس کے چشم دید گواہ نے جو دیکھا وہ بتا دیا اور کیس کا رخ ہی تبدیل ہو گیا۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی صورت حقائق چھپانے والوں کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔
طاہر کا کردار اس کیس میں بہت اہم ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر قاتل درندے کا وٹس ایپ ڈیٹا ریکور کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اور ہر وٹس ایپ اکاونٹ کا
Back up
بھی ہوتا ہے جسے بڑے آرام سے فون نمبر کی مدد سے کسی بھی فون پر ریکور کیا جا سکتا ہے۔ اگر پولیس یہ کرنے میں ناکام رہی جو کہ بہت ہی آسان کام ہے تو سمجھ لیں کہ کافی لوگوں کو بچالیا گیا ہے۔
تھراپی ورکس کے بارے میں میں واحد شخص نہیں ہوں جو تشویش میں مبتلا ہو اس جعلی ڈاکٹر کو لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعا ئیں دے رہے ہیں۔ اور کئی نے تو اس کے خلاف کیس بھی کیا ہوا ہے۔ایک بلکل اسی طرح کا کیسTherapy Works & Tahir Zahoor Ahmed کے خلاف Dec 2020میں کیا گیا Civil Suit 1080/20
تھا جو Sr. Civil Judge South, Karachi کی عدالت میں آج بھی پینڈنگ پڑا ہے۔ اور رہی بات تھراپی ورکس کے جعلی این او سی کی۔ یہاں پر نہ صرف مریضوں کو لوٹا جاتا ہے بلکہ طالب علموں کو بھی چونا لگایا جاتا ہے۔ جو لوگ بھی یہاں سے بھاری معاوضہ دے کر کو رس کرتے ہیں انہیں شائد ہی کبھی سرٹیفیکیٹ ملا ہو۔
Category: معاشرہ و ثقافت

نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر مدثر حسن
یہ جملہ آپکو سگریٹ کے ہر ڈبے پر لکھا نظر آے گا، ساتھ ہی ایک بھیانک اور گلے سڑے منہ کی تصویریں بنی ہو گی لیکن اس کو دیکھ کر اور پڑھ کے بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے ہیں۔
نشہ ایک لعنت ہے جو کسی بھی چیز کا ہو جائز نہیں ہے۔
کچھ لوگ دوستوں کے کہنے پر ایک دو کش لگانا شروع کرتے ہیں اور پھر سگریٹ پینے میں وہ اپنے نشئ دوستوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔کچھ لوگ شوقیا پینا شروع کرتے ہیں اور اتنے سگریٹ پیتے ہیں کے سگریٹ بھی کبھی کبھی تنگ آ کے کہتا ہوگا "او بس کر دےماما ہن ”
کچھ لوگوں کی عجیب منطق ہے سگریٹ پیتے ہوئے ویڈیو بنا کر سٹیٹس بھی ڈال دیتے ہیں جیسے بڑے کُول لگ رہے ہیں لیکن میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کے نہیں لگتے بھائی تم کُول بلکے بہت منحوس لگتے ہو۔
ایک اور بری عادت جو ہے کے آپ کسی کے گھر جاؤ یا کوئی آپ کے گھر آ جاۓ تو آپ سگریٹ لگا لو اور یہ لمبے لمبے دھویں والے کش لو، بھئ یہ بھی عجیب جہالت ہے۔
کچھ لوگ ویسے شغل میلے میں سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں اور پھر اس کے عادی ہو جاتے ہیں جو کے بہت نقصان ده ثابت ہوتا ہے، عموماً لوگ سگریٹ کے بعد چرس اور افيم بھی شروع کر لیتے ہے جس سے وہ نشہ کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں جو کے انکے اپنے اور ان کے گھر والوں کے لیے ایک نہایت تکلیف ده بات ہے،
کچھ لوگ اپنی ٹینشن کو کم کرنے کے لئے بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں، کچھ لوگ پیار میں دھوکھا کھانے کے بعد اپنے محبوب کی یاد کو دل سے نکالنے کے لیے بھی سگریٹ پیتے ہیں جب کہ میرا ماننا ہے ہے محبوب اپکا بےغیرت نکل ہی آیا ہے تو اپنے آپکو اسکی سزا کیوں دیں،
ہمارے معاشرے میں اور بھی بہت سے نشے ہیں جو کے لوگ عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں سگریٹ کا دھواں سگریٹ پینے والے سے زیادہ اس انسان کے لیے نقصان دے جو سگریٹ پیے بغیر سگریٹ کا دھواں اپنے سانس کے ساتھ اپنے اندر لے جاتا ہے۔سگریٹ سے آپ بیشمار بیماریاں کا شکار ہو سکتے ہیں، جیسے کے کینسر ، سانس لینے کا مسلہ، دل کا مسلہ ، پھیپھڑوں اور جگر کی بیماری، دانتوں کا مسلہ، سگریٹ نوشی آپکی سماعت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
@MudasirWrittes

حیاء کا کلچر عام کرو تحریر: سحر عارف
شرم و حیاء کو اسلام میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آج کچھ لوگوں نے حیاء لفظ کے معنی ہی بدل دیے ہیں اور اس لفظ کو عورت کی ذات تک محدود کردیا ہے۔ جبکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ حیاء کا تعلق صرف عورتوں سے ہی نہیں بلکہ مردوں سے بھی ہے۔ آج کے دور کے مردوں نے اس لفظ سے ناواقفیت اختیار کر لی یے۔ کچھ بھی ہو جائے کہیں کوئی عورت جنسی زیادتی کا نشانہ بنے یا اسے حراساں کیا جائے تو بہت سے مونہوں سے ایک بات نکلتی ہے کہ عورت پردہ کرے۔
جب عورت پردہ نہیں کرے گی اور گندے سے گندہ لباس پہنے گی تو مرد کی نظریں تو خود ہی اٹھیں گی۔ جیسے حیاء دار ہونا صرف عورت کے لیے ضروری ہے مرد کا تو اس لفظ سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ایسے ذہن کے مالک مردوں کے لیے میں بتاتی چلوں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود بہت شرم و حیاء والے تھے اور وہ ہمیشہ دوسروں کو بھی اس کا درس دیتے تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کے اسلام میں عورتوں کو حکم ہے کہ وہ پردہ کریں اپنے چہرے اور جسم کو نامحرموں سے چھپائے تاکہ کوئی اس پر بری نگاہ نا ڈال سکے۔ اسی طرح مردوں کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کرے تاکہ کسی عورت کے لیے تکلیف کا باعث نا بن سکے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ:
"مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کری، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے بے شک اللّٰہ ان کے کاموں سے خبردار ہے” (النور: 30)اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح مردوں کے لیے بھی شرم و حیاء کے احکامات موجود ہیں۔ پر افسوس آج کے دور میں بےحیائی عام سے عام ہوتی چلی جارہی ہے۔ عورت مرد سے بڑھ کر جبکہ مرد عورت سے بڑھ کر بےحیائی کا دلدادہ ہوتے ہوئے تمام حدیں پار کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شرم و حیاء کا جو درس قرآن وحدیث میں دیا گیا ہے کیا آج ہم اس پر عمل کررہے ہیں؟ تو جواب ہے نہیں۔
کیونکہ اسلام میں مردوں اور عورتوں کو یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ عورت نامحرم مردوں اور مرد نامحرم عورتوں کو ایک نگاہ تک نا ڈالیں اور اگر پہلی نگاہ غلطی سے اٹھ بھی جائے تو معافی ہے پر دوسری بار نگاہ ڈالنے سے منع کیا گیا یے۔ حضرت جریر بن عبداللّٰہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر اچانک سے کسی نامحرم عورت پر نظر پڑھائے تو کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نظر پھیرلو، اگر اچانک نظر پڑھ جائے تو معافی ہے لیکن اگر جان بوجھ کر نگاہ اٹھائی تو گناہ ہے۔
اسی طرح کا ایک واقعہ جو خواتین کو ان کی نگاہوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ” حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حضرت میمونہ بھی تھیں تو سامنے سے حضرت عبداللّٰہ بن ام مکتوم (جو نابینا تھے) تشریف لائے یہ واقعہ پردے کے حکم سے بعد کا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں پردہ کرو، میں نے عرض کیا یا رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا یہ نابینا نہیں؟ رسول پاک نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی اندھی ہو انہیں نہیں دیکھتی ہو” (امن ابو داؤد، جلد نمبر سوم، حدیث نمبر 720)
اب مرد و عورت کے لیے شرم و حیاء کو اپناتے ہوئے اپنی نگاہوں اور اپنی ذات کی خود حفاظت کرنا کس قدر ضروری ہے اس میں کوئی دو رائے ہے ہی نہیں۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اسے اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا لیکن کیا آج ہم لوگ یہاں اسلام کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہمارے ملک سے بےحیائی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور یہ صرف ایک دو چار لوگوں سے ممکن نہیں اب سب کو مل کر اس بےشرمی اور بے حیائی کلچر کے خلاف اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔
@SeharSulehri
تمباکو نوشی اور اس کے اثرات، تحریر: فروا منیر
تمباکو کی وبا دنیا کے سب سے بڑے صحت عامہ کے خطرات میں سے ایک ہے ، جس سے دنیا بھر میں سالانہ آٹھ ملین سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ستر لاکھ سے زائد اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں جبکہ تقریبا 1.2 ملین غیر سگریٹ نوشی کرنے والوں کی سگریٹ کے دھویں کی وجہ سے ۔
تمباکو کی تمام اقسام نقصان دہ ہیں۔ سگریٹ نوشی دنیا بھر میں تمباکو کے استعمال کی سب سے عام شکل ہے۔ تمباکو کی دیگر مصنوعات میں واٹر پائپ تمباکو ، مختلف تمباکو نوشی کی مصنوعات ، سگار ، سگریلو ، رول آپ کی اپنی تمباکو ، پائپ تمباکو ، بڈیاں اور کریٹیکس شامل ہیں۔
سگریٹ تمباکو کے استعمال کی طرح واٹرپائپ تمباکو کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ تاہم ، واٹرپائپ تمباکو کے استعمال کے صحت کے خطرات کو اکثر صارفین کم سمجھتے ہیں۔
تمباکو کا استعمال انتہائی لت اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ تمباکو میں بہت سے کینسر پیدا کرنے والے زہریلے مادے ہوتے ہیں اور اس کے استعمال سے سر ، گردن ، گلے ، غذائی نالی اور زبانی گہا کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (بشمول منہ ، زبان ، ہونٹ اور مسوڑوں کا کینسر) نیز دانتوں کی مختلف بیماریاں۔دنیا بھر میں 1.3 بلین تمباکو استعمال کرنے والوں میں سے 80 فیصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں ، جہاں تمباکو سے متعلقہ بیماری اور موت کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ تمباکو کا استعمال گھریلو اخراجات کو بنیادی ضروریات جیسے کھانے اور پناہ گاہ سے تمباکو کی طرف موڑ کر غربت میں مدد کرتا ہے۔
تمباکو کے استعمال کے معاشی اخراجات کافی ہیں اور ان میں تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے اہم اخراجات کے ساتھ ساتھ گمشدہ انسانی سرمایہ بھی شامل ہے جو تمباکو سے منسوب بیماری اور اموات کا نتیجہ ہے۔
کچھ ممالک میں غریب گھرانوں کے بچوں کو تمباکو کی کاشت میں لگایا جاتا ہے تاکہ خاندان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ تمباکو بڑھانے والے کسان صحت کے کئی خطرات سے بھی دوچار ہیں ، جن میں "سبز تمباکو کی بیماری” بھی شامل ہے۔
تمباکو مصنوعات میں ٹیکس میں اضافہ اتنا زیادہ ہونا چاہیے کہ قیمتوں کو آمدنی میں اضافے سے اوپر لے جائے۔ تمباکو کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کم آمدنی والے ممالک میں تقریبا 4 4 فیصد اور کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں تقریبا 5 5 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔
اس کے باوجود ، تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا ایک ایسا اقدام ہے جو تمباکو کنٹرول کے دستیاب اقدامات کے سیٹ کے درمیان کم از کم لاگو ہوتا ہے۔
مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت کم لوگ تمباکو کے استعمال کے مخصوص صحت کے خطرات کو سمجھتے ہیں۔ تاہم ، جب تمباکو نوشی کرنے والے تمباکو کے خطرات سے آگاہ ہوجاتے ہیں تو ، زیادہ تر لوگ چھوڑنا چاہتے ہیں۔
اگر آپ سگریٹ کی ڈبیا کر غور سے دیکھیں تو اس پر بھی درج ہے کہ خبر دار تمباکو نوشی کینسر کا باعث بنتی ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کواس بات کو سمجھنا چاہیے۔
بے شک سگریٹ ایک بری وبا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلائی جائے اور لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے ان کو تمباکو سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔
Follow @Fatii_PTI
ظالم سماج تحریر: نوید خان
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
مُنصف ہو اگر تو حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے۔۔میں اکثر سوچتا ہوں
اسلام کی آمد سے پہلے جب لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تو
وہ بڑا ظلم تھا؟
یا موجودہ زمانے میں
معصوم کلیوں سے جنسی درندگی کرنا اور پھر جان سے مار دینا بڑا ظلم ہے؟
گُٹھن زدہ اس ماحول میں جب بے چینی حد سے بڑھ جائے تو دل سوال کرتا ہے۔۔
آخر وہ کونسا عارضہ ہے جو حضرت انسان کو حیوان بنا دیتا ہے؟
کب تک ہم افسوس مزمت ماتم اور لعن طعن کرنے کے بعد خود کو بری اُلزِمہ سمجھے گے؟
کیا ہمیں اس کی وجوہات پر غور نہیں کرنا چائیے
آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے
اسکا سدِباب ناگزیر ہوچکا
ورنہ یہ سانحات ہوتے رہے گے
چار دن کا ماتم بھی ہوگا
اور پھر کسی افسانے پر بنے ڈرامے کی آخری قسط
پر ایک نئی بحث ہوگی
آٹھ سالہ نور کو اکیلے والدین نے کیوں بھیجا؟
مولوی شمس نے بچے کو سو بار ریپ کیا اور والدین کو خبر تک نہ ہوئی آخر کیوں؟
لاہور کی عائشہ مینارِ پاکستان کے ہجوم میں کیوں گئی؟ہوس کسی کی مجبوری نہیں دیکھتی، نہ عمر دیکھتی ہے نہ جنس دیکھتی ہے چاہے وہ جانور ہو، مدارس میں پڑھنے والے کمسن بچے ہوں، اسکولوں میں اساتذہ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے طلبہ و طالبات ہو۔
اس معاشرے میں ہونے والی درندگی پر جنگل کے درندے بھی حیران و پریشان ہیں۔
عوامی مقامات،پارک اور فوڈز کی جگہ پر آپکو وہ لفنگوں کا ٹولہ ملے گا جنکی طوفانِ بدتمیزی کی وجہ سے آپ اپنی فیملی کو ایسی جگہ لے کر جانے کا سوچے گے بھی نہیںہمارے معاشرے میں اخلاقیات اور حیا کا بہت فقدان ہیں
روز ایسے ایسے واقعات رونماع ہورہے ہیں
جن پرانسان شرمندگی کی کسی کھائی میں گِر جاتا ہے
ہمارا قانونی نظام بہت کمزور ہے
اس لئے مجرم ایسے گھناؤنے جرم کرتے ہوئے بھی نہیں گھبراتا۔
اور یہ جو مذہب کا نقاب اوڑھے سفاک بھیڑیے ہیں نا جو معصوم بچوں کا ریپ کرتے ہیں ان کو تو سرعام پھانسی دینی چاہئیے لیکن بچوں کے ماں باپ کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ پھولوں کی نگہداشت کیسے کرتے ہیں؟
دنیا کے کسی ملک میں بچوں کو اپنے گھر اکیلا نہیں چھوڑا جاتا اور یہ والدین اپنے پھولوں کو بھیڑیوں کے آگے چھوڑ دیتے ہیں۔
اس معاشرے کی بقا ماضی کی شاندار روایات تھی، جب انسانوں کے کردار کی عزت ہوتی تھی ناکہ دولت یا چمک دمک کی؛ جب پڑوسیوں کے بچے بھی اپنے بچوں کی طرح عزیز ہوتے تھے۔ جب بڑے بوڑھے، اجنبی لوگوں کے ساتھ محلے کے بچے جاتے دیکھ کر روک کر سوال پوچھتے تھے۔ جب کوئی بدمعاش لڑکا اسکول کالج میں کسی چھوٹے کو ستاتا تھا تو کوئی اعلیٰ کردار کا بہادر لڑکا بچاتا بھی تھا۔وقت آگیا ہے کہ ہمارے لوگ ایسے سفاک لوگوں کا بائیکاٹ کرے اور جو بائیکاٹ نہ کرے اسے بھی اس جیسا سمجھا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ کوئی ایسا جدید سسٹم لائےجس سے ایسے لوگ سزا کاٹنے کے بعد جب جیلوں سے باہر آجائے اورکسی شہر میں جائےتو ان کے بارے میں ہر شہر میں متعلقہ تھانے سے ایس ایم ایس پورے شہر کو جائے کہ ایک بچوں کا شکاری درندہ اس شہر میں آگیا ہے، اس پر آنکھ کُھلی رکھو،محتاط رہو اور بندوقیں صاف کرلو تاکہ اسے پتا چلے کہ اب کسی بچے پر آنکھ اٹھائی تو دوبارہ وہ جیل میں نہیں، سیدھاجہنم جائے گا۔
اب ان بدبُودار کہانیوں کو رُکنا چاہیے
وقت آ گیا ہے، کہ ہم اس برائی کو جڑ سے اُکھاڑ کر ختم کردے تاکہ ہر دیکھنے والا پناہ مانگے۔
ہماری ماؤں کو چاہیے آنے والی نسلوں کی اچھی تربیت کرے، بعد میں ان پر کوئی وظیفے، کوئی دعائیں اور کوئی عبادتیں اثر نہیں کرتی۔
ویسے تو یہاں نا خواتین محفوظ ہیں اور نا ہی بچے
انسانوں کے اس معاشرے میں حیوانوں کا راج اور ہوس کے پُجاری بستے ہیں تو
اپنا خیال خود رکھیں؛ بچوں کا خیال رکھیں! اکیلے مت نکلیں؛ نکلیں تو رش والا راستہ لیں؛ ڈرائیو کرنے والی خواتین پرس میں لیڈیز پستول رکھیں!
پولیس مجرموں کو پکڑ سکتی ہے؛ وقت کو واپس نہیں لا سکتی!ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیںName: Naveed Khan
@Naveedmarwat55
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی تحریر: ثویبہ نازنین
تھی اے ارض پاک!! تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا، اے پاکیزہ ریاست!! تو نے پکارا تو دخترانِ اسلام سیاہ چادروں میں نہاں اپنے مردوں کی ہمراہ چلی آتی ہیں۔ برصغیر کی گلیوں کوچوں میں بہتا آدم زاد کا لشکر جس میں سیاہ برقعے میں ملبوس خواتینِ اسلام، اسلام کی شہزادیاں اپنی نمایاں شان و عظمت کے ساتھ چلی آتی ہیں. سنا ہے کہ کالا رنگ ہر رنگ ، ہر شے پر غالب آجاتا ہے، اور ڈھا دیتا ہے اسے، مگر یہ کیسا جذبہ تھا یہ کیسا ولولہ تھا جو دشواریوں اور سیاہ حجاب کے باوجود نہ ٹلا ۔ کیا تھا جو پاکستان کی ماؤں کو ان کے حصے کی جروجہد سے نہ باز رکھ سکا، ایسی کیا تدابیر تھیں انکی جو بیٹیوں کی عصمتدری سے بے خوف تھے والدین ان کے، کیا تھے چلن بیویوں کے جو رہیں معتبر خاوند کی نظروں میں، بن کر طاقت اپنے شوہروں کی کھڑی رہیں آزادی کے سفر میں اور واضح رہیں قربانیاں ان کی پورے سفر میں۔ اولاد کھونے سے لے کردامن اجڑ جانے تک ہجرت میں مردوں کے شانہ بہ شانہ چلتی گئیں قدم رکے تو محض حصولِ اسلامی ریاست، پاکستان ذندہ باد کی گونج پر۔ یہ اسلامی ریاستِ پاکستان فقط مردوں کی کاوش نہیں بلکہ عورتوں کی بھی ممکن جستجو تھی۔
یہ خیال سوچ سے اکثر پھسلتا ہے کہ میری ماؤں کے اطوار و طریق کیا تھے بہنوں کے کونسے زیور تھے جس کے سہارے وہ قربانی کی ادیت سے بیگانہ رہیں حتی کہ ان کے مردوں نے نہ ان کی مخالفت کی نہ قید رکھنے کی تمنا نہ ظلم و جبر ۔ کیسے موثر وظیفے تھے ان کے جو مرد کا ساتھ ہر دم حاصل رہا اور شاملِ محاذ رہیں ۔ کیسے ممکن ہے کہ گھروں سے تنہا نکلیں اور رسوا نہیں ہوئیں ۔ اور خیالات کے درمیان حکم الله کی ندا "یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾ ترجمہ: اے نبی ! تم اپنی بیویوں ، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے ( منہ کے ) اوپر جھکا لیا کریں ۔ ( ٤٧ ) اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی ، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا ۔ ( ٤٨ ) اور اللہ بہت بخشنے والا ، بڑا مہربان ہے.”(سورة الاحزااب) خیال کے ہر زاویے کو روشن کر دیتی ہے. رب الکریم کے فرمان، اسکی ضمانت کی روشنی..روشنی نہیں نور ،نور جسکے بعد ظلمت، جبریت، وحشت، بربریت، غلامی، گھمراہی، حق تلفی جیسے سبھی اندھیرے چھٹ جاتے ہیں. یہ حکم کی تابعداری تھی ان عورتوں کا سرمایہ. مالک و ملک دو جہاں نے ضمانت لی ان سے کے خود پرچادر جھکا لو، عزت میں تمھیں دونگا، میں الحفیظ ہوں تم سے تمہاری حفاظت کا وعدہ لیتا ہوں، مجھ سے بھڑ کر کون تمہاری حفاظت کرے گا، کون ہوگا مجھ سے بہتر رفیق تمہارا، کون مجھ سے زیادہ حق دینے والا ہے ؟؟ تم چھپا لو خود کو سیاہ برقعوں میں اور ہوجاؤ شامل ِلشکر اور کرو صدا بلند ملکِ خداداد پاکستان کے لئے کیونکہ یہ سرحدِ اسلام ہوگی اور تمہاری قربانی اسکا روشن چمکتا ہلال ہونگی!!
یہ پاسداری حکم کی اور ڈھانپ لینا خود کو چادروں میں تقدس تھا میری ماؤں کا، کوئی کیونکر رسوا کرے انکو ضامن تو خدا تھا انکا، کیوں ظلمت کی نگری میں رہیں وہ جبکہ خود انکے مرد انکا حوصلہ ہوتو، کیوں سوچے وہ تاکلیف کا، مشقت کا جبکہ بدلہ اصل سے دوگنا ہوتو، کیوں نہ کریں میاں یقین انکا جب انداز اتنا شاہانہ اور مزاج مستقل ہوتو. ان سب کی وجہ صرف ایک حکم الله کی حکمت پہچننا اور عملدرآمد کرنا۔ وہ عاقل عورتوں تھیں جنہوں نے خود میں اور غیر مسلموں میں فرق واضح کیا، اپنا شاہانہ طرز پیدا کیا اور امر ہوگئی.
میری سوچ اس حقیقت کو کیسے تسلیم نہ کرے کہ ان ماؤں بہنوں نے انگریزوں کے مقابل آنے کے لئے برہنہ ہونے یا اسلام کے حکم کو رد کرنے کو قطعا ضروری نہ سمجھا جبکہ میرے سامنے یہ نمایاں مثال سرزمینِ پاکستان بطور شاہد ہے. آج کے دور میں کون ایسی ضمانت لیتا ہے جو الله رب الکریم لے رہے ہیں، کون ایسی صاف گوئی سے کام لیتا ہے جیسا الله سبحان وتعالی قرآن کریم میں لیتے ہیں کہ اسلام کی عورتوں تم اسلام کی شہزادیاں ہوں تمہیں ہر کوئی کیوں دیکھے . ایک بار اس بات کو محسوس کر کے تو دیکھیں..اس ایک جملے میں عورت کی فلاح ہے۔
جب ہم کہیں نوکری کی دارخوست دیتے ہیں تو انکی ہر پیشکش قبول کرتے ہیں جس کے اویس ہم گھنٹوں کی خواری بھی جھیلتے ہیں مگر الله تعالیٰ کی پیشکش جسکے بدلے ہمیں کچھ نہیں دینا پڑتا اسے رد کر دیتے ہیں کیوں؟؟ اکثر کو یہ باتیں بے معنی لگتی ہیں کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں؟؟ الله کے حکم کو صرف مانا جاتا ہے رد نہیں کیا جاتا، تو کیا ہم الله کے حکم کے انکاری ہیں؟؟ ہم عورتیں بےلباس ہو کر تحفظ کی اپیل کرتی ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟ ہم نے بہ ذات خود خود کو صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ (وہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں) گردان لیا ہے، کیا خستہ حالی ہمارے باعث نہیں؟ کیا ہم نے ان ماؤں بہنوں کی عزت کی قربانی کو ضائع نہیں کر دیا؟؟ کیا یہ وہ ریاست ہے جسکا خواب ایک مسلمان کی آنکہ میں تھا؟ یاد رہے ابتدا خود سے کی جائے تو کارگر ثابت ہوتی ہے یہ الزامات کا کھیل تو جہالت کی نشانی ہے. میں کہتی ہوں کہ سفر آزادی ابھی پایہ تکمیل کو نہیں پنہچا، ابھی وہ سحر نہیں ہی جو فکر کے کے پہلوؤں کو بدل دے اور راستے روشن کردے.
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئیTwitter id: @SowaibaNazneen

دور جدید اور مسلمان!! تحریر: ناصرہ فیصل
انسانی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے شاہانہ ادوار گزرے ہیں جس میں مسلمانوں نے اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں اور ہزاروں سالوں تک اس دنیا پر حکمرانی کی اور اپنی دور حکومت میں دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا
اور لوگوں کو ایسے معاشرتی حقوق و اصول دیے جو آج تک دنیا میں قائم ہیں اور ان اصولوں میں رد و دبدل کرکے نظام دنیا کو اب تک چلایا جارہا ہے ۔۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کے ایسے سنہرے باب ہیں جو تاریخ میں سنہرے ابواب کی طرح رقم ہیں۔۔آنے والے ادوار نے ان سے سیکھ کر اپنے آپ کو بہتر کیا،، مغربی اقوام نے انہی کے اصولوں پر عمل کرنے کے اپنے لیۓ بہترین سسٹم بنائے اور آج وہ پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ اسکے برعکس مسلم اُمہ اور اسکے حکمران اپنے سنہری اصولوں کو بھول کر عیش و عشرت کی دنیا میں گم ہو گئے اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اب مسلم اُمہ میں کوئی ایسا حکمران نہیں جو خود کو صحیح معنوں میں ایک لیڈر کہہ سکے اور اس اتنی برّی امت کی رہنمائی کر سکے۔
حضرت عمر بائیس لاکھ مربع میل کے فاتح تھے انہوں نے اپنے دور میں بیت المال قائم کیا اور عدالتی نظام بنایا اور ان میں قاضی تعینات کیے اور عدالتی نظام آج تک چل رہا ہے اور اس میں کچھ ردوبدل کرکے سب ممالک میں قائم ہے۔ انہوں نے جو اصول ایک عظیم سلطنت کو چلانے کے وضع کیے اُن پر آج بھی ترقی یافتہ اقوام عمل کر کے خود کو منوا چکی ہیں۔
عظیم الشان ادوار گزارنے والے مسلمان آج پستی کا شکار ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ اپنے اسلاف کی پیروی کو جھٹلانا اللہ اور اس کے پیارے نبی حضرت محمدصلی علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے دوری ہے۔ ہم آج بھی اگر انکی تعلیمات پر پوری طرح سے عمل کرنا شروع کردیں تو کوئی مشکل نہیں کے ہم آج بھی پوری دنیا پر حکمرانی کر سکیں۔۔ لیکن ہم اپنی زمہ داریاں بھی دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کے سب ایک دن ایک سال میں ٹھیک ہو جائے لیکن ہم خود کو ایک لمحے کے لیے بھی بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔ یقین مانیں جس دن ہم خود کو بدلنے میں کامیاب ہو گئے وہی دن آغاز ہوگا ہماری کامیابی و کامرانی کا۔۔ انّ شاء اللہ
آج کے دور کا مسلمان بربادی کے دہانے پر ہے اور آپس میں منتشر اور فرقوں میں بٹا ہوا ہے جس کی ایک بڑی اور اہم وجہ آپس میں بنے ہوئے فرقے اور ایک دوسرے پر خود کو اعلی سمجھنا ہے۔ جبکہ اسلام میں اس چیز کی سختی سے ممانعت ہے۔ بڑائی کا معیار تو تقویٰ اور پرہیز گاری ہے اسلام میں۔۔ اسکے علاوہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔
اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے مگر ہم اس سے کوسوں دور مغربی تہذیب میں دھنس کر رہ گئے ہیں اور اپنے طورطریقے چھوڑ کر مغربی تہذیب کے گرویدہ ہوکر رہ گئے ہیں جوکہ ہماری تباہی اور آنے والی نسلوں کی بربادی کا سبب بن رہی ہیں۔
ہماری صبح کا آغاز ہم رب کو یاد کرنے کی بجائے ڈسکو سے کرتے ہیں اور سارا دن غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ سارا دن پیسے کمانے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں لیکن اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے۔۔
مغرب کا غلبہ اب ہمارے ذہنوں میں سوار ہوچکا ہے اور ہم مغربی غلام بن کر رہ گئے ہیں۔
اس پر علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے””نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےاقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار””
ان اشعار میں اقبال نے دریا کو کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے مگر یہ بات اب ہماری سمجھ سے بالاتر ہوچکی ہے کیونکہ ہم اس برے طریقے سے اس دلدل میں پھنس چکے ہیں کہ اب اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈھ پا رہے۔
اس سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے کہ ہمیں خود کو پہچاننا ہوگا ہم کیا تھے کیا بن گئے ہیں ہمارا مقصد کیا ہے اور ہم کس مقصد پر لگ گئے ہیں اگر یہ سب اسطرح چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہوں گے اور اس وقت سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔۔
لہذا ہمیں اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک ہونا پڑے گا اور اپنے مقصد کو پہچان کر اس پر عمل کرنا ہوگا ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے اپنے ماضی پر پچھتا رہے ہوں گے۔۔
آئیے مل کر عہد کریں کے ہم خود کو بدلنے کی حتی المکان کوشش کریں گے تاکہ ہم ایک نئے سنہری دور کا آغاز کر سکیں۔۔آمین۔@NiniYmz

سگریٹ نوشی باعثِ فخر نہیں, مضرِصحت ہے. تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)
سگریٹ نوشی گلہ اور پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اِردگرد کے ماحول کے لئے بھی نقصان دہ ہے.
سگریٹ پینے والا انسان سگریٹ کے دھوئیں سے اپنے ساتھ ساتھ بچوں اور عورتوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے.
پاکستان میں ہر دوسرا شخص تمباکو کا استعمال کرتا ہے اور اس رجحان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے, اس وقت پاکستان اینٹی سموکنگ سوسائٹی کے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 35 سے 40 کمپنیوں کے پاس سگریٹ بنانے کے کارخانے موجود ہیں اور اسکی فروخت میں حکومت اربوں کے حساب سےسالانہ ٹیکس وصول کرتی ہے.
پروفیسر ڈاکٹر جاوید کے مطابق پاکستان میں مناسب قانون نہ ہونے کی وجہ سے سگریٹ عام دستیاب ہیں اور اگر قانون ہے بھی تو اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا.
پاکستان میں ناخواندگی زیادہ ہے اور سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں لاعلمی زیادہ ہے. لہذا سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے لئے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے ماحول سازگار ہے اور نوجوان اس لت میں گرفتار ہورہے ہیں.المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں.
ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے. اس سے نہ صرف پھیپھڑے تباہ ہوتے ہیں بلکہ ہڈیوں پر بھی اسکے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں. ہڈیاں کھوکھلی ہوجاتی ہیں.
سگریٹ نوشی سے خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور دل کے امراض بہت بڑھ سکتے ہیں.
اور کسی کھلاڑی کے لئے سگریٹ نوشی اسکا مستقبل تباہ کرسکتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی سے سانس پھول جاتا ہے.
ریسرچ کے مطابق ہر دس مریضوں میں سے نو جن کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوتا ہے وہ سموکرز ہوتے ہیں .
سگریٹ نوشی کرنے والے کو نمونیہ کا خدشہ بھی ہروقت لگا رہتا ہے.ہمیں معاشرے میں یہ شعور اُجاگر کرنا ہے کہ تمباکو نوشی کی عادت اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی نقصان دہ ہے اور اس سے ہر ممکن حد تک بچنا ہے.
دیکھیں کسی بھی نشے کی طرح سگریٹ نوشی کی عادت سے بھی چھٹکارا پانا بہت آسان ہے بس اسکے لئے مضبوط ارادے اور خود کو مصروف رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے.
پاکستان میں انسداد سگریٹ نوشی کے سلسلے میں قوانین پر سنجیدگی سے عمل کی ضرورت ہے.
صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ سگریٹ نوشی کی پیشکش سے انکار کریں گے اور جو ہمارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے سگریٹ نوش افراد ہیں.. انکی بھی سگریٹ نوشی کی عادت ترک کروانے میں کوشش کریں گے.
ہم سب نے مل کر سگریٹ نوشی کی اور خاص کر پبلک مقامات پر اسکی حوصلہ شکنی کرنی ہے.@Rehna_7

نوجوان نسل اور ترجیحات تحریر:سیدہ ام حبیبہ
قارئین محترم پاکستان 60 فی صد نوجوانوں پہ مشتمل ایسا ملک ہے جس کی بیشتر افرادی قوت بے کار ہے.
وجوہات مختلف بیان کی جاتی ہیں مگر آج جن نکات پہ قلم آزمائی کروں گی ان کو بہت قریب سے دیکھا ہے.
اگر ہم نوجوان نسل کو تین درجوں میں تقسیم کر لیں تو ہمارا مضمون عام فہم ہو جائے گا.
پہلا درجہ 9 سے 14 سال، دوسرا 15 سے 20 سال اور تیسرا 21 سے 30 سال تک کے افراد پہ مشتمل ہے.
بات کرتے ہیں اول الذکر نو خیز جوانوں کی جو بچپن کی دہلیز چھوڑ کر جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں.ان نوجوانوں کی زیادہ تر تعداد چونکہ سکولوں سے وابستہ ہوتی ہے اس لیے انکی ترجیحات رحجانات اور دلچسپیاں اپنے ماحول کے مطابق ہوتی ہیں.
اس دور کے یہ نوجوان انٹرنیٹ کی دنیا میں اسقدر مگن ہیں کہ ان کو اپنے معاشرتی اور سماجی فرائض کی ہوش نہیں.یہ وقت کردار سازی اور تعلیمی اور معاشی مستقبل طے کرنے کا بہترین وقت مانا جاتا ہے جب سمت کا تعین کر کے تمام تر توانائیاں اسی مقصد کے حصول میں صرف کرنا ہوتی ہیں.
بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے ان نوجوانوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیتے ہیں اور نصابی کتب کے رٹے اور گریڈز کے حصول تک مقید کر دیتے ہیں.
مثال لے لیجئے کہ ہر بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے مگر شعبہ طب کے اندر موجود شعبہ جات سے آشنا نہیں کروایا جاتا.مختصراً گلہ کروں تو کیرئر کونسلنگ نہیں کی جاتی.
اس نسل کو Swaggerبننے کی دھن ہے اور ایسے میں بے راہروی کی جانب جانا نہایت Charming اور Adventure سے بھرپور بن جاتا ہے .
انگریزی الفاظ کے لیے معذرت مگر یہ الفاظ رائج ہیں کوئی متبادل لفظ حق ادا نہیں کر سکتا.
اس نسل کو سب سے بڑی بیماری بی ایف اور جی ایف کی لگ جاتی ہے.جو انکی ذہنی اور جسمانی صحت تباہ کر جاتی ہے.ثانئ الذکر کی بات کی جائے تو یہ نسل خاصی آذادی حاصل کر چکی ہے اس طبقے کا تعلق کالجوں سے ہے.کالجوں کا ماحول سازگار ہو تو ان کو اپنی ترجیحات اور آزادی کے بل پہ بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں.
مہم جوئی کے نام پہ سگریٹ نوشی اور شیشے کے چھلے بنانا..
جی ایف بی ایف کو اعلانیہ ساتھ گھومنا گھمانا شروع ہو جاتا ہے.
کیونکہ والدین کی اکثریت گھروں سے ہی ساری ذمہ داریاں پوری کرنے کے قائل ہیں تو انکو بھرپور مواقع کے ساتھ اپنا آپ اپنی ساکھ اپنی زندگی تباہ کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے.
موٹر سائکل گاڑی موبائل فون اور نت نئے لباس جنس مخالف کو متاثر کرنے کے لیے حاصل کرنا انکی تمام تر کوششوں کا مرکز ہوتا ہے.
ثالث الذکر طبقہ یو کہیے تو
دہری ذہنی اذیت سے دوچار ملتا ہے .جو ماضی سے نالاں اور مستقبل کے لیے متفکر اور حال کے متعلق بلکل بے بس مایوس نظر آتا ہے.
کیا کہیے کہ سب کچھ لٹا کے آئے ہیں کچھ بھی بچا نہیں کے مصداق ترجیحات کے انتخاب میں چُوک جاتے ہیں.
دیھاڑی دار اور مزدور بن جانے والے پھر ڈال روٹی چلا لیتے ہیں
جبکہ SWAG والے جوان اپنے سویگ کی توہین سمجھتے ہوئے نوکریوں کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں.
اپنے جوانوں کو افرادی قوت کے طور پہ استعمال کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ تو منصوبے ہیں نہ فکر.
ان کو حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد سیانپ آ جاتی ہے کہ اس وقت اس کی بجائے یہ کیا ہوتا تو یہ نہ ہوا ہوتا…
مگر کب تک ہم اپنے نوجوانوں کو شتر بے مہار چھوڑ دیں گے؟
کب تک دبئی ترکی اور یورپ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ لیتے رہیں گے؟
ہم خود کب ان کے لیے ترجیحات طے کرنا شروع کریں گے.
ان سوالوں کے ساتھ آپکی آراء کی منتظر@hsbuddy18

جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید
یہ کہانی ہے ایک چھوٹی سی بچی کی جس کو بہت غصّہ آتا تھا بات بات پر غصّہ آتا تھا اور جب أس کو غصّہ آتا تھا تو وہ یہ نہیں دیکھتی تھی کے سامنے کون ہے؟ جو أس کے دل میں آتا تھا وہ سب بول دیتی تھی کئ بار تو وہ کچھ چیزیں اوٹھاتی اور زمین پر پھینک دیتی اور توڑ دیتی أس کے ماں باپ بہت پریشان ہوگئے۔
أن کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کریں أنھوں نے بہت کوشش کی أس بچی کو سمجھانے کی الگ الگ طریقے سے لیکن وہ بچی سمجھ ہی نہیں رہی تھی۔
پھر ایک دن أس کی ماں نے أس کی ٹیوشن ٹیچر سے بات کی کیونکہ ٹیوشن ٹیچر ہی ایک ایسی تھی جس کی وہ بچی بات سنتی تھی۔
ٹیوشن ٹیچر نے أس بچی کی ماں کی ساری باتوں کو سنا اور أن کو بولا کے آپ پریشان نہیں ہو۔ آنے والے کچھ دنوں کے اندر اندر ہی اس بچی کا غصّہ پوری طریقے سے ختم ہو جائے گا أس کی ماں کو سمجھ نہیں آیا لیکن پھر بھی کہا کوشش کرنے میں کیا جاتا ہے ۔
پھر أس دن روز کی طرح وہ ٹیچر آئی اور وہ کلاس شروع ہونے والی تھی۔ تو أس بچی کی ٹیچر نے بچی سے کہا کے آج ہم پڑھائی نہیں کریں گے آج ہم ایک گیم کھیلیں گے اور بچی یہ بات سن کر بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر أس بچی کے ساتھ پیچھے ایک دیوار کے پاس کھڑی ہوگئی اور أس ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم یہ ہے کہ جب بھی تم کو غصّہ آئے تو تمہیں ایک کیل لینی ہے اور یہاں پر آکر اس دیوار میں گاڑ دینی ہے تھوڑی سی جتنی ہو سکے۔
پھر أس بچی نے ٹیچر سے پوچھا اس سے کیا ہوگا؟ تو ٹیچر نے کہا جب یہ گیم ختم ہو جائے گا تو تم کو آخر میں ایک گفٹ ملے گا۔
پھر أس بچی نے بلکل ویسہ ہی کیا جیسا اس کی ٹیچر نے کہا تھا اب أس بچی کو جب بھی غصّہ آتا تو وہ جاتی اور جا کر ایک کیل أس دیوار میں گاڑ دیتی تو جیسا کے اس بچی کو بہت غصّہ آتا تھا تو پہلے ہی دن أس دیوار پر دس سے زیادہ کیلیں گڑھ گئی۔
لیکن ان کیلوں کو گاڑھنے کے لیئے بچی کو بار بار گھوم کر پیچھے جانا پڑھتا اور جا کر کیل کو گاڑنا پڑھتا تو بچی کے دماگ میں آیا کے میں جتنی محنت میں لگاتی ہوں اس کیل کو گاڑنے میں اس سے کم محنت میں غصّے کو کنٹرول کر سکتی ہوں اگلے دن آٹھ کیلیں گڑی۔ أس کے اگلے دن 6 پھر 4 پھر 3 پھر 2 پھر 1 اور پھر ایک ایسا بھی دن آیا جب ایک بھی بار أس کو غصّہ نہیں آیا اور ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گڑی اور وہ بچی بہت خوش ہوگئ خوشی خوشی وہ اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بتایا کے ٹیچر دیکھیں آج میں نے ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گاڑی ہے کیونکہ میرے کو ایک بار بھی غصّہ نہیں آیا تو ٹیچر نے أس بچی کو تھوڑی سی شاباشی دی اور ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے کھڑی ہوگئی اب ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اب تمیں کیا کرنا ہے جس بھی دن تمہیں بلکل بھی غصّہ نہیں آتا ہے أس دن کے آخر میں تم ایک کیل کو اس دیوار سے نکال دینا۔
لیکن کیونکہ کیلیں بہت زیادہ تھی تو ایک مہینے سے بھی زیادہ ٹائم لگ گیا أن ساری کیلوں کو باہر نکلنے میں لیکن ایک دن ایسا بھی آیا جب ساری کیلیں أس دیوار سے باہر نکل گئی پھر وہ بچی بہت خوش ہوکر اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بولی کے اب أس دیوار میں ایک بھی کیل نہیں ہے تو ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے گئی اور ٹیچر نے دیکھا ایک بھی کیل نہیں ہے دیوار میں پھر ٹیچر نے بچی کو أس کی پسندیدہ چاکلیٹ گفٹ کی اور بولی کے تم اس پرائز کو جیت گئی ہو بچی بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر نے أس بچی سے پوچھا کیا اس دیوار میں تم کو کچھ نظر آرہا ہے؟
تو بچی نے کہا نہیں ٹیچر اس میں تو کچھ بھی نہیں ہے ساری کیلیں نکل چکی ہیں پھر ٹیچر نے کہایا ایک بار دیہان سے دیکھو شاید کچھ نظر آئے؟
أس بچی نے پھر دیکھا اور کہا وہ جو کیلیں میں نے گاڑی تھی أس کے کچھ نشان ہیں جو نظر آرہے ہے دیوار پر جب بچی نے یہ دیکھ کیا تو ٹیچر نے کہا جیسے تم نے اس دیوار میں کیل گاڑی اور اب تم أس کیل کو تو نکال سکتی ہو لیکن أس کے نشان کو نہیں مٹا سکتی ٹھیک اس ہی طرح سے ہوتا ہے جب تم غصّہ کرتی ہو جب تم غصّہ کرتی ہو اپنے ماں باپ پر یا کسی پر بھی تو أن کے دل پر چوٹ لگتی ہے درد ہوتا ہے اور وہاں پر ایک نشان رہ جاتا ہے أس نشان کو تم چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتی پھر چاہے تم أن سے جتنی مرضی معافی مانگو یہ سن کر بچی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ رونے لگی اور بچی بھاگتے ہوئے گئی اور اپنی ماں سے جاکر گلے لگ گئی اور اپنی ماں کو بولی کے ماں میں آج کے بعد کبھی غصّہ نہیں کروں گی مجھے سمجھ آگئی ہے میں نے کیا غلطی کری ہے اور أس دن کے بعد أس بچی نے کبھی غصّہ نہیں کیا۔
Name: Sadiq Saeed
Twitter: @SadiqSaeed_








