Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ظالم سماج تحریر: نوید خان

    ظالم سماج تحریر: نوید خان

    مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    مُنصف ہو اگر تو حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے۔۔

    میں اکثر سوچتا ہوں
    اسلام کی آمد سے پہلے جب لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تو
    وہ بڑا ظلم تھا؟
    یا موجودہ زمانے میں
    معصوم کلیوں سے جنسی درندگی کرنا اور پھر جان سے مار دینا بڑا ظلم ہے؟
    گُٹھن زدہ اس ماحول میں جب بے چینی حد سے بڑھ جائے تو دل سوال کرتا ہے۔۔
    آخر وہ کونسا عارضہ ہے جو حضرت انسان کو حیوان بنا دیتا ہے؟
    کب تک ہم افسوس مزمت ماتم اور لعن طعن کرنے کے بعد خود کو بری اُلزِمہ سمجھے گے؟
    کیا ہمیں اس کی وجوہات پر غور نہیں کرنا چائیے
    آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے
    اسکا سدِباب ناگزیر ہوچکا
    ورنہ یہ سانحات ہوتے رہے گے
    چار دن کا ماتم بھی ہوگا
    اور پھر کسی افسانے پر بنے ڈرامے کی آخری قسط
    پر ایک نئی بحث ہوگی
    آٹھ سالہ نور کو اکیلے والدین نے کیوں بھیجا؟
    مولوی شمس نے بچے کو سو بار ریپ کیا اور والدین کو خبر تک نہ ہوئی آخر کیوں؟
    لاہور کی عائشہ مینارِ پاکستان کے ہجوم میں کیوں گئی؟

    ہوس کسی کی مجبوری نہیں دیکھتی، نہ عمر دیکھتی ہے نہ جنس دیکھتی ہے چاہے وہ جانور ہو، مدارس میں پڑھنے والے کمسن بچے ہوں، اسکولوں میں اساتذہ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے طلبہ و طالبات ہو۔
    اس معاشرے میں ہونے والی درندگی پر جنگل کے درندے بھی حیران و پریشان ہیں۔
    عوامی مقامات،پارک اور فوڈز کی جگہ پر آپکو وہ لفنگوں کا ٹولہ ملے گا جنکی طوفانِ بدتمیزی کی وجہ سے آپ اپنی فیملی کو ایسی جگہ لے کر جانے کا سوچے گے بھی نہیں

    ہمارے معاشرے میں اخلاقیات اور حیا کا بہت فقدان ہیں
    روز ایسے ایسے واقعات رونماع ہورہے ہیں
    جن پرانسان شرمندگی کی کسی کھائی میں گِر جاتا ہے
    ہمارا قانونی نظام بہت کمزور ہے
    اس لئے مجرم ایسے گھناؤنے جرم کرتے ہوئے بھی نہیں گھبراتا۔
    اور یہ جو مذہب کا نقاب اوڑھے سفاک بھیڑیے ہیں نا جو معصوم بچوں کا ریپ کرتے ہیں ان کو تو سرعام پھانسی دینی چاہئیے لیکن بچوں کے ماں باپ کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ پھولوں کی نگہداشت کیسے کرتے ہیں؟
    دنیا کے کسی ملک میں بچوں کو اپنے گھر اکیلا نہیں چھوڑا جاتا اور یہ والدین اپنے پھولوں کو بھیڑیوں کے آگے چھوڑ دیتے ہیں۔
    اس معاشرے کی بقا ماضی کی شاندار روایات تھی، جب انسانوں کے کردار کی عزت ہوتی تھی ناکہ دولت یا چمک دمک کی؛ جب پڑوسیوں کے بچے بھی اپنے بچوں کی طرح عزیز ہوتے تھے۔ جب بڑے بوڑھے، اجنبی لوگوں کے ساتھ محلے کے بچے جاتے دیکھ کر روک کر سوال پوچھتے تھے۔ جب کوئی بدمعاش لڑکا اسکول کالج میں کسی چھوٹے کو ستاتا تھا تو کوئی اعلیٰ کردار کا بہادر لڑکا بچاتا بھی تھا۔وقت آگیا ہے کہ ہمارے لوگ ایسے سفاک لوگوں کا بائیکاٹ کرے اور جو بائیکاٹ نہ کرے اسے بھی اس جیسا سمجھا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ کوئی ایسا جدید سسٹم لائےجس سے ایسے لوگ سزا کاٹنے کے بعد جب جیلوں سے باہر آجائے اورکسی شہر میں جائےتو ان کے بارے میں ہر شہر میں متعلقہ تھانے سے ایس ایم ایس پورے شہر کو جائے کہ ایک بچوں کا شکاری درندہ اس شہر میں آگیا ہے، اس پر آنکھ کُھلی رکھو،محتاط رہو اور بندوقیں صاف کرلو تاکہ اسے پتا چلے کہ اب کسی بچے پر آنکھ اٹھائی تو دوبارہ وہ جیل میں نہیں، سیدھاجہنم جائے گا۔
    اب ان بدبُودار کہانیوں کو رُکنا چاہیے
    وقت آ گیا ہے، کہ ہم اس برائی کو جڑ سے اُکھاڑ کر ختم کردے تاکہ ہر دیکھنے والا پناہ مانگے۔
    ہماری ماؤں کو چاہیے آنے والی نسلوں کی اچھی تربیت کرے، بعد میں ان پر کوئی وظیفے، کوئی دعائیں اور کوئی عبادتیں اثر نہیں کرتی۔
    ویسے تو یہاں نا خواتین محفوظ ہیں اور نا ہی بچے
    انسانوں کے اس معاشرے میں حیوانوں کا راج اور ہوس کے پُجاری بستے ہیں تو
    اپنا خیال خود رکھیں؛ بچوں کا خیال رکھیں! اکیلے مت نکلیں؛ نکلیں تو رش والا راستہ لیں؛ ڈرائیو کرنے والی خواتین پرس میں لیڈیز پستول رکھیں!
    پولیس مجرموں کو پکڑ سکتی ہے؛ وقت کو واپس نہیں لا سکتی!

    ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
    ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

    Name: Naveed Khan
    @Naveedmarwat55

  • چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی     تحریر: ثویبہ نازنین

    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی تحریر: ثویبہ نازنین

    تھی اے ارض پاک!! تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا، اے پاکیزہ ریاست!! تو نے پکارا تو دخترانِ اسلام سیاہ چادروں میں نہاں اپنے مردوں کی ہمراہ چلی آتی ہیں۔ برصغیر کی گلیوں کوچوں میں بہتا آدم زاد کا لشکر جس میں سیاہ برقعے میں ملبوس خواتینِ اسلام، اسلام کی شہزادیاں اپنی نمایاں شان و عظمت کے ساتھ چلی آتی ہیں. سنا ہے کہ کالا رنگ ہر رنگ ، ہر شے پر غالب آجاتا ہے، اور ڈھا دیتا ہے اسے، مگر یہ کیسا جذبہ تھا یہ کیسا ولولہ تھا جو دشواریوں اور سیاہ حجاب کے باوجود نہ ٹلا ۔ کیا تھا جو پاکستان کی ماؤں کو ان کے حصے کی جروجہد سے نہ باز رکھ سکا، ایسی کیا تدابیر تھیں انکی جو بیٹیوں کی عصمتدری سے بے خوف تھے والدین ان کے، کیا تھے چلن بیویوں کے جو رہیں معتبر خاوند کی نظروں میں، بن کر طاقت اپنے شوہروں کی کھڑی رہیں آزادی کے سفر میں اور واضح رہیں قربانیاں ان کی پورے سفر میں۔ اولاد کھونے سے لے کردامن اجڑ جانے تک ہجرت میں مردوں کے شانہ بہ شانہ چلتی گئیں قدم رکے تو محض حصولِ اسلامی ریاست، پاکستان ذندہ باد کی گونج پر۔ یہ اسلامی ریاستِ پاکستان فقط مردوں کی کاوش نہیں بلکہ عورتوں کی بھی ممکن جستجو تھی۔
    یہ خیال سوچ سے اکثر پھسلتا ہے کہ میری ماؤں کے اطوار و طریق کیا تھے بہنوں کے کونسے زیور تھے جس کے سہارے وہ قربانی کی ادیت سے بیگانہ رہیں حتی کہ ان کے مردوں نے نہ ان کی مخالفت کی نہ قید رکھنے کی تمنا نہ ظلم و جبر ۔ کیسے موثر وظیفے تھے ان کے جو مرد کا ساتھ ہر دم حاصل رہا اور شاملِ محاذ رہیں ۔ کیسے ممکن ہے کہ گھروں سے تنہا نکلیں اور رسوا نہیں ہوئیں ۔ اور خیالات کے درمیان حکم الله کی ندا "یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾ ترجمہ: اے نبی ! تم اپنی بیویوں ، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے ( منہ کے ) اوپر جھکا لیا کریں ۔ ( ٤٧ ) اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی ، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا ۔ ( ٤٨ ) اور اللہ بہت بخشنے والا ، بڑا مہربان ہے.”(سورة الاحزااب) خیال کے ہر زاویے کو روشن کر دیتی ہے. رب الکریم کے فرمان، اسکی ضمانت کی روشنی..روشنی نہیں نور ،نور جسکے بعد ظلمت، جبریت، وحشت، بربریت، غلامی، گھمراہی، حق تلفی جیسے سبھی اندھیرے چھٹ جاتے ہیں. یہ حکم کی تابعداری تھی ان عورتوں کا سرمایہ. مالک و ملک دو جہاں نے ضمانت لی ان سے کے خود پرچادر جھکا لو، عزت میں تمھیں دونگا، میں الحفیظ ہوں تم سے تمہاری حفاظت کا وعدہ لیتا ہوں، مجھ سے بھڑ کر کون تمہاری حفاظت کرے گا، کون ہوگا مجھ سے بہتر رفیق تمہارا، کون مجھ سے زیادہ حق دینے والا ہے ؟؟ تم چھپا لو خود کو سیاہ برقعوں میں اور ہوجاؤ شامل ِلشکر اور کرو صدا بلند ملکِ خداداد پاکستان کے لئے کیونکہ یہ سرحدِ اسلام ہوگی اور تمہاری قربانی اسکا روشن چمکتا ہلال ہونگی!!
    یہ پاسداری حکم کی اور ڈھانپ لینا خود کو چادروں میں تقدس تھا میری ماؤں کا، کوئی کیونکر رسوا کرے انکو ضامن تو خدا تھا انکا، کیوں ظلمت کی نگری میں رہیں وہ جبکہ خود انکے مرد انکا حوصلہ ہوتو، کیوں سوچے وہ تاکلیف کا، مشقت کا جبکہ بدلہ اصل سے دوگنا ہوتو، کیوں نہ کریں میاں یقین انکا جب انداز اتنا شاہانہ اور مزاج مستقل ہوتو. ان سب کی وجہ صرف ایک حکم الله کی حکمت پہچننا اور عملدرآمد کرنا۔ وہ عاقل عورتوں تھیں جنہوں نے خود میں اور غیر مسلموں میں فرق واضح کیا، اپنا شاہانہ طرز پیدا کیا اور امر ہوگئی.
    میری سوچ اس حقیقت کو کیسے تسلیم نہ کرے کہ ان ماؤں بہنوں نے انگریزوں کے مقابل آنے کے لئے برہنہ ہونے یا اسلام کے حکم کو رد کرنے کو قطعا ضروری نہ سمجھا جبکہ میرے سامنے یہ نمایاں مثال سرزمینِ پاکستان بطور شاہد ہے. آج کے دور میں کون ایسی ضمانت لیتا ہے جو الله رب الکریم لے رہے ہیں، کون ایسی صاف گوئی سے کام لیتا ہے جیسا الله سبحان وتعالی قرآن کریم میں لیتے ہیں کہ اسلام کی عورتوں تم اسلام کی شہزادیاں ہوں تمہیں ہر کوئی کیوں دیکھے . ایک بار اس بات کو محسوس کر کے تو دیکھیں..اس ایک جملے میں عورت کی فلاح ہے۔
    جب ہم کہیں نوکری کی دارخوست دیتے ہیں تو انکی ہر پیشکش قبول کرتے ہیں جس کے اویس ہم گھنٹوں کی خواری بھی جھیلتے ہیں مگر الله تعالیٰ کی پیشکش جسکے بدلے ہمیں کچھ نہیں دینا پڑتا اسے رد کر دیتے ہیں کیوں؟؟ اکثر کو یہ باتیں بے معنی لگتی ہیں کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں؟؟ الله کے حکم کو صرف مانا جاتا ہے رد نہیں کیا جاتا، تو کیا ہم الله کے حکم کے انکاری ہیں؟؟ ہم عورتیں بےلباس ہو کر تحفظ کی اپیل کرتی ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟ ہم نے بہ ذات خود خود کو صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ (وہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں) گردان لیا ہے، کیا خستہ حالی ہمارے باعث نہیں؟ کیا ہم نے ان ماؤں بہنوں کی عزت کی قربانی کو ضائع نہیں کر دیا؟؟ کیا یہ وہ ریاست ہے جسکا خواب ایک مسلمان کی آنکہ میں تھا؟ یاد رہے ابتدا خود سے کی جائے تو کارگر ثابت ہوتی ہے یہ الزامات کا کھیل تو جہالت کی نشانی ہے. میں کہتی ہوں کہ سفر آزادی ابھی پایہ تکمیل کو نہیں پنہچا، ابھی وہ سحر نہیں ہی جو فکر کے کے پہلوؤں کو بدل دے اور راستے روشن کردے.
    نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

    Twitter id: @SowaibaNazneen

  • دور جدید  اور مسلمان!! تحریر: ناصرہ فیصل

    دور جدید اور مسلمان!! تحریر: ناصرہ فیصل

    انسانی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے شاہانہ ادوار گزرے ہیں جس میں مسلمانوں نے اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں اور ہزاروں سالوں تک اس دنیا پر حکمرانی کی اور اپنی دور حکومت میں دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا
    اور لوگوں کو ایسے معاشرتی حقوق و اصول دیے جو آج تک دنیا میں قائم ہیں اور ان اصولوں میں رد و دبدل کرکے نظام دنیا کو اب تک چلایا جارہا ہے ۔۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کے ایسے سنہرے باب ہیں جو تاریخ میں سنہرے ابواب کی طرح رقم ہیں۔۔آنے والے ادوار نے ان سے سیکھ کر اپنے آپ کو بہتر کیا،، مغربی اقوام نے انہی کے اصولوں پر عمل کرنے کے اپنے لیۓ بہترین سسٹم بنائے اور آج وہ پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ اسکے برعکس مسلم اُمہ اور اسکے حکمران اپنے سنہری اصولوں کو بھول کر عیش و عشرت کی دنیا میں گم ہو گئے اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اب مسلم اُمہ میں کوئی ایسا حکمران نہیں جو خود کو صحیح معنوں میں ایک لیڈر کہہ سکے اور اس اتنی برّی امت کی رہنمائی کر سکے۔
    حضرت عمر بائیس لاکھ مربع میل کے فاتح تھے انہوں نے اپنے دور میں بیت المال قائم کیا اور عدالتی نظام بنایا اور ان میں قاضی تعینات کیے اور عدالتی نظام آج تک چل رہا ہے اور اس میں کچھ ردوبدل کرکے سب ممالک میں قائم ہے۔ انہوں نے جو اصول ایک عظیم سلطنت کو چلانے کے وضع کیے اُن پر آج بھی ترقی یافتہ اقوام عمل کر کے خود کو منوا چکی ہیں۔
    عظیم الشان ادوار گزارنے والے مسلمان آج پستی کا شکار ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ اپنے اسلاف کی پیروی کو جھٹلانا اللہ اور اس کے پیارے نبی حضرت محمدصلی علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے دوری ہے۔ ہم آج بھی اگر انکی تعلیمات پر پوری طرح سے عمل کرنا شروع کردیں تو کوئی مشکل نہیں کے ہم آج بھی پوری دنیا پر حکمرانی کر سکیں۔۔ لیکن ہم اپنی زمہ داریاں بھی دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کے سب ایک دن ایک سال میں ٹھیک ہو جائے لیکن ہم خود کو ایک لمحے کے لیے بھی بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔ یقین مانیں جس دن ہم خود کو بدلنے میں کامیاب ہو گئے وہی دن آغاز ہوگا ہماری کامیابی و کامرانی کا۔۔ انّ شاء اللہ
    آج کے دور کا مسلمان بربادی کے دہانے پر ہے اور آپس میں منتشر اور فرقوں میں بٹا ہوا ہے جس کی ایک بڑی اور اہم وجہ آپس میں بنے ہوئے فرقے اور ایک دوسرے پر خود کو اعلی سمجھنا ہے۔ جبکہ اسلام میں اس چیز کی سختی سے ممانعت ہے۔ بڑائی کا معیار تو تقویٰ اور پرہیز گاری ہے اسلام میں۔۔ اسکے علاوہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔
    اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے مگر ہم اس سے کوسوں دور مغربی تہذیب میں دھنس کر رہ گئے ہیں اور اپنے طورطریقے چھوڑ کر مغربی تہذیب کے گرویدہ ہوکر رہ گئے ہیں جوکہ ہماری تباہی اور آنے والی نسلوں کی بربادی کا سبب بن رہی ہیں۔
    ہماری صبح کا آغاز ہم رب کو یاد کرنے کی بجائے ڈسکو سے کرتے ہیں اور سارا دن غفلت میں گزار دیتے ہیں۔ سارا دن پیسے کمانے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں لیکن اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے۔۔
    مغرب کا غلبہ اب ہمارے ذہنوں میں سوار ہوچکا ہے اور ہم مغربی غلام بن کر رہ گئے ہیں۔
    اس پر علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے

    ””نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
    ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار””
    ان اشعار میں اقبال نے دریا کو کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے مگر یہ بات اب ہماری سمجھ سے بالاتر ہوچکی ہے کیونکہ ہم اس برے طریقے سے اس دلدل میں پھنس چکے ہیں کہ اب اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈھ پا رہے۔
    اس سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے کہ ہمیں خود کو پہچاننا ہوگا ہم کیا تھے کیا بن گئے ہیں ہمارا مقصد کیا ہے اور ہم کس مقصد پر لگ گئے ہیں اگر یہ سب اسطرح چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہوں گے اور اس وقت سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔۔
    لہذا ہمیں اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک ہونا پڑے گا اور اپنے مقصد کو پہچان کر اس پر عمل کرنا ہوگا ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے اپنے ماضی پر پچھتا رہے ہوں گے۔۔
    آئیے مل کر عہد کریں کے ہم خود کو بدلنے کی حتی المکان کوشش کریں گے تاکہ ہم ایک نئے سنہری دور کا آغاز کر سکیں۔۔آمین۔

    ⁦‎@NiniYmz⁩

  • سگریٹ نوشی باعثِ فخر نہیں, مضرِصحت ہے. تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سگریٹ نوشی باعثِ فخر نہیں, مضرِصحت ہے. تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سگریٹ نوشی گلہ اور پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اِردگرد کے ماحول کے لئے بھی نقصان دہ ہے.
    سگریٹ پینے والا انسان سگریٹ کے دھوئیں سے اپنے ساتھ ساتھ بچوں اور عورتوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے.
    پاکستان میں ہر دوسرا شخص تمباکو کا استعمال کرتا ہے اور اس رجحان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے, اس وقت پاکستان اینٹی سموکنگ سوسائٹی کے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 35 سے 40 کمپنیوں کے پاس سگریٹ بنانے کے کارخانے موجود ہیں اور اسکی فروخت میں حکومت اربوں کے حساب سےسالانہ ٹیکس وصول کرتی ہے.
    پروفیسر ڈاکٹر جاوید کے مطابق پاکستان میں مناسب قانون نہ ہونے کی وجہ سے سگریٹ عام دستیاب ہیں اور اگر قانون ہے بھی تو اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا.
    پاکستان میں ناخواندگی زیادہ ہے اور سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں لاعلمی زیادہ ہے. لہذا سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے لئے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے ماحول سازگار ہے اور نوجوان اس لت میں گرفتار ہورہے ہیں.

    المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
    اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
    دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں.
    ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.

    دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
    سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
    تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
    سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے. اس سے نہ صرف پھیپھڑے تباہ ہوتے ہیں بلکہ ہڈیوں پر بھی اسکے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں. ہڈیاں کھوکھلی ہوجاتی ہیں.
    سگریٹ نوشی سے خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور دل کے امراض بہت بڑھ سکتے ہیں.
    اور کسی کھلاڑی کے لئے سگریٹ نوشی اسکا مستقبل تباہ کرسکتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی سے سانس پھول جاتا ہے.
    ریسرچ کے مطابق ہر دس مریضوں میں سے نو جن کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوتا ہے وہ سموکرز ہوتے ہیں .
    سگریٹ نوشی کرنے والے کو نمونیہ کا خدشہ بھی ہروقت لگا رہتا ہے.

    ہمیں معاشرے میں یہ شعور اُجاگر کرنا ہے کہ تمباکو نوشی کی عادت اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی نقصان دہ ہے اور اس سے ہر ممکن حد تک بچنا ہے.

    دیکھیں کسی بھی نشے کی طرح سگریٹ نوشی کی عادت سے بھی چھٹکارا پانا بہت آسان ہے بس اسکے لئے مضبوط ارادے اور خود کو مصروف رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے.
    پاکستان میں انسداد سگریٹ نوشی کے سلسلے میں قوانین پر سنجیدگی سے عمل کی ضرورت ہے.
    صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ سگریٹ نوشی کی پیشکش سے انکار کریں گے اور جو ہمارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے سگریٹ نوش افراد ہیں.. انکی بھی سگریٹ نوشی کی عادت ترک کروانے میں کوشش کریں گے.
    ہم سب نے مل کر سگریٹ نوشی کی اور خاص کر پبلک مقامات پر اسکی حوصلہ شکنی کرنی ہے.

    @Rehna_7

  • نوجوان نسل اور ترجیحات تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    نوجوان نسل اور ترجیحات تحریر:سیدہ ام حبیبہ


    قارئین محترم پاکستان 60 فی صد نوجوانوں پہ مشتمل ایسا ملک ہے جس کی بیشتر افرادی قوت بے کار ہے.
    وجوہات مختلف بیان کی جاتی ہیں مگر آج جن نکات پہ قلم آزمائی کروں گی ان کو بہت قریب سے دیکھا ہے.
    اگر ہم نوجوان نسل کو تین درجوں میں تقسیم کر لیں تو ہمارا مضمون عام فہم ہو جائے گا.
    پہلا درجہ 9 سے 14 سال، دوسرا 15 سے 20 سال اور تیسرا 21 سے 30 سال تک کے افراد پہ مشتمل ہے.
    بات کرتے ہیں اول الذکر نو خیز جوانوں کی جو بچپن کی دہلیز چھوڑ کر جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں.ان نوجوانوں کی زیادہ تر تعداد چونکہ سکولوں سے وابستہ ہوتی ہے اس لیے انکی ترجیحات رحجانات اور دلچسپیاں اپنے ماحول کے مطابق ہوتی ہیں.
    اس دور کے یہ نوجوان انٹرنیٹ کی دنیا میں اسقدر مگن ہیں کہ ان کو اپنے معاشرتی اور سماجی فرائض کی ہوش نہیں.یہ وقت کردار سازی اور تعلیمی اور معاشی مستقبل طے کرنے کا بہترین وقت مانا جاتا ہے جب سمت کا تعین کر کے تمام تر توانائیاں اسی مقصد کے حصول میں صرف کرنا ہوتی ہیں.
    بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے ان نوجوانوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیتے ہیں اور نصابی کتب کے رٹے اور گریڈز کے حصول تک مقید کر دیتے ہیں.
    مثال لے لیجئے کہ ہر بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے مگر شعبہ طب کے اندر موجود شعبہ جات سے آشنا نہیں کروایا جاتا.مختصراً گلہ کروں تو کیرئر کونسلنگ نہیں کی جاتی.
    اس نسل کو Swaggerبننے کی دھن ہے اور ایسے میں بے راہروی کی جانب جانا نہایت Charming اور Adventure سے بھرپور بن جاتا ہے .
    انگریزی الفاظ کے لیے معذرت مگر یہ الفاظ رائج ہیں کوئی متبادل لفظ حق ادا نہیں کر سکتا.
    اس نسل کو سب سے بڑی بیماری بی ایف اور جی ایف کی لگ جاتی ہے.جو انکی ذہنی اور جسمانی صحت تباہ کر جاتی ہے.

    ثانئ الذکر کی بات کی جائے تو یہ نسل خاصی آذادی حاصل کر چکی ہے اس طبقے کا تعلق کالجوں سے ہے.کالجوں کا ماحول سازگار ہو تو ان کو اپنی ترجیحات اور آزادی کے بل پہ بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں.
    مہم جوئی کے نام پہ سگریٹ نوشی اور شیشے کے چھلے بنانا..
    جی ایف بی ایف کو اعلانیہ ساتھ گھومنا گھمانا شروع ہو جاتا ہے.
    کیونکہ والدین کی اکثریت گھروں سے ہی ساری ذمہ داریاں پوری کرنے کے قائل ہیں تو انکو بھرپور مواقع کے ساتھ اپنا آپ اپنی ساکھ اپنی زندگی تباہ کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے.
    موٹر سائکل گاڑی موبائل فون اور نت نئے لباس جنس مخالف کو متاثر کرنے کے لیے حاصل کرنا انکی تمام تر کوششوں کا مرکز ہوتا ہے.
    ثالث الذکر طبقہ یو کہیے تو
    دہری ذہنی اذیت سے دوچار ملتا ہے .جو ماضی سے نالاں اور مستقبل کے لیے متفکر اور حال کے متعلق بلکل بے بس مایوس نظر آتا ہے.
    کیا کہیے کہ سب کچھ لٹا کے آئے ہیں کچھ بھی بچا نہیں کے مصداق ترجیحات کے انتخاب میں چُوک جاتے ہیں.
    دیھاڑی دار اور مزدور بن جانے والے پھر ڈال روٹی چلا لیتے ہیں
    جبکہ SWAG والے جوان اپنے سویگ کی توہین سمجھتے ہوئے نوکریوں کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں.
    اپنے جوانوں کو افرادی قوت کے طور پہ استعمال کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ تو منصوبے ہیں نہ فکر.
    ان کو حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد سیانپ آ جاتی ہے کہ اس وقت اس کی بجائے یہ کیا ہوتا تو یہ نہ ہوا ہوتا…
    مگر کب تک ہم اپنے نوجوانوں کو شتر بے مہار چھوڑ دیں گے؟
    کب تک دبئی ترکی اور یورپ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ لیتے رہیں گے؟
    ہم خود کب ان کے لیے ترجیحات طے کرنا شروع کریں گے.
    ان سوالوں کے ساتھ آپکی آراء کی منتظر

    ‎@hsbuddy18

  • ‏جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید

    ‏جب کبھی غصّہ آئے تو یہ بات یاد رکھنا – تحریر صادق سعید

    یہ کہانی ہے ایک چھوٹی سی بچی کی جس کو بہت غصّہ آتا تھا بات بات پر غصّہ آتا تھا اور جب أس کو غصّہ آتا تھا تو وہ یہ نہیں دیکھتی تھی کے سامنے کون ہے؟ جو أس کے دل میں آتا تھا وہ سب بول دیتی تھی کئ بار تو وہ کچھ چیزیں اوٹھاتی اور زمین پر پھینک دیتی اور توڑ دیتی أس کے ماں باپ بہت پریشان ہوگئے۔

    أن کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کریں أنھوں نے بہت کوشش کی أس بچی کو سمجھانے کی الگ الگ طریقے سے لیکن وہ بچی سمجھ ہی نہیں رہی تھی۔

    پھر ایک دن أس کی ماں نے أس کی ٹیوشن ٹیچر سے بات کی کیونکہ ٹیوشن ٹیچر ہی ایک ایسی تھی جس کی وہ بچی بات سنتی تھی۔

    ٹیوشن ٹیچر نے أس بچی کی ماں کی ساری باتوں کو سنا اور أن کو بولا کے آپ پریشان نہیں ہو۔ آنے والے کچھ دنوں کے اندر اندر ہی اس بچی کا غصّہ پوری طریقے سے ختم ہو جائے گا أس کی ماں کو سمجھ نہیں آیا لیکن پھر بھی کہا کوشش کرنے میں کیا جاتا ہے ۔

    پھر أس دن روز کی طرح وہ ٹیچر آئی اور وہ کلاس شروع ہونے والی تھی۔ تو أس بچی کی ٹیچر نے بچی سے کہا کے آج ہم پڑھائی نہیں کریں گے آج ہم ایک گیم کھیلیں گے اور بچی یہ بات سن کر بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر أس بچی کے ساتھ پیچھے ایک دیوار کے پاس کھڑی ہوگئی اور أس ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم یہ ہے کہ جب بھی تم کو غصّہ آئے تو تمہیں ایک کیل لینی ہے اور یہاں پر آکر اس دیوار میں گاڑ دینی ہے تھوڑی سی جتنی ہو سکے۔

    پھر أس بچی نے ٹیچر سے پوچھا اس سے کیا ہوگا؟ تو ٹیچر نے کہا جب یہ گیم ختم ہو جائے گا تو تم کو آخر میں ایک گفٹ ملے گا۔

    پھر أس بچی نے بلکل ویسہ ہی کیا جیسا اس کی ٹیچر نے کہا تھا اب أس بچی کو جب بھی غصّہ آتا تو وہ جاتی اور جا کر ایک کیل أس دیوار میں گاڑ دیتی تو جیسا کے اس بچی کو بہت غصّہ آتا تھا تو پہلے ہی دن أس دیوار پر دس سے زیادہ کیلیں گڑھ گئی۔

    لیکن ان کیلوں کو گاڑھنے کے لیئے بچی کو بار بار گھوم کر پیچھے جانا پڑھتا اور جا کر کیل کو گاڑنا پڑھتا تو بچی کے دماگ میں آیا کے میں جتنی محنت میں لگاتی ہوں اس کیل کو گاڑنے میں اس سے کم محنت میں غصّے کو کنٹرول کر سکتی ہوں اگلے دن آٹھ کیلیں گڑی۔ أس کے اگلے دن 6 پھر 4 پھر 3 پھر 2 پھر 1 اور پھر ایک ایسا بھی دن آیا جب ایک بھی بار أس کو غصّہ نہیں آیا اور ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گڑی اور وہ بچی بہت خوش ہوگئ خوشی خوشی وہ اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بتایا کے ٹیچر دیکھیں آج میں نے ایک بھی کیل أس دیوار میں نہیں گاڑی ہے کیونکہ میرے کو ایک بار بھی غصّہ نہیں آیا تو ٹیچر نے أس بچی کو تھوڑی سی شاباشی دی اور ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے کھڑی ہوگئی اب ٹیچر نے بچی کو کہا کے گیم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اب تمیں کیا کرنا ہے جس بھی دن تمہیں بلکل بھی غصّہ نہیں آتا ہے أس دن کے آخر میں تم ایک کیل کو اس دیوار سے نکال دینا۔

    لیکن کیونکہ کیلیں بہت زیادہ تھی تو ایک مہینے سے بھی زیادہ ٹائم لگ گیا أن ساری کیلوں کو باہر نکلنے میں لیکن ایک دن ایسا بھی آیا جب ساری کیلیں أس دیوار سے باہر نکل گئی پھر وہ بچی بہت خوش ہوکر اپنی ٹیچر کے پاس گئی اور جا کر بولی کے اب أس دیوار میں ایک بھی کیل نہیں ہے تو ٹیچر بچی کے ساتھ أس دیوار کے سامنے گئی اور ٹیچر نے دیکھا ایک بھی کیل نہیں ہے دیوار میں پھر ٹیچر نے بچی کو أس کی پسندیدہ چاکلیٹ گفٹ کی اور بولی کے تم اس پرائز کو جیت گئی ہو بچی بہت خوش ہوگئ پھر ٹیچر نے أس بچی سے پوچھا کیا اس دیوار میں تم کو کچھ نظر آرہا ہے؟

    تو بچی نے کہا نہیں ٹیچر اس میں تو کچھ بھی نہیں ہے ساری کیلیں نکل چکی ہیں پھر ٹیچر نے کہایا ایک بار دیہان سے دیکھو شاید کچھ نظر آئے؟

    أس بچی نے پھر دیکھا اور کہا وہ جو کیلیں میں نے گاڑی تھی أس کے کچھ نشان ہیں جو نظر آرہے ہے دیوار پر جب بچی نے یہ دیکھ کیا تو ٹیچر نے کہا جیسے تم نے اس دیوار میں کیل گاڑی اور اب تم أس کیل کو تو نکال سکتی ہو لیکن أس کے نشان کو نہیں مٹا سکتی ٹھیک اس ہی طرح سے ہوتا ہے جب تم غصّہ کرتی ہو جب تم غصّہ کرتی ہو اپنے ماں باپ پر یا کسی پر بھی تو أن کے دل پر چوٹ لگتی ہے درد ہوتا ہے اور وہاں پر ایک نشان رہ جاتا ہے أس نشان کو تم چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتی پھر چاہے تم أن سے جتنی مرضی معافی مانگو یہ سن کر بچی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ رونے لگی اور بچی بھاگتے ہوئے گئی اور اپنی ماں سے جاکر گلے لگ گئی اور اپنی ماں کو بولی کے ماں میں آج کے بعد کبھی غصّہ نہیں کروں گی مجھے سمجھ آگئی ہے میں نے کیا غلطی کری ہے اور أس دن کے بعد أس بچی نے کبھی غصّہ نہیں کیا۔

    Name: Sadiq Saeed
    Twitter: ‎@SadiqSaeed_

  • اپنے غموں اور پیاروں کو دھوئیں میں نہ اڑائیں تحریر : اقصٰی صدیق


    دنیا بھر میں 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف” ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ” منایا جاتا ہے۔عالمی سطح پر اس دن کے منائے جانے کا مقصد انسانی صحت کو تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصان سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سگریٹ بچینے والی کمپنیاں اپنے نفع کی خاطر لوگوں کی صحت سے کھیل رہی ہیں ۔اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز میں لوگوں کو تمباکو نوشی کی طرف مائل کرنے والے بڑے بڑے رنگین اشتہارات ان کی اخلاقیات و احساسات کے کھوکھلے پن کا واضع عکس ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت نے اس ضمن میں کسی بھی قومی مہم میں ان کی مداخلت کے خاتمے پر زور دیا ہے، جب تک تمباکو انڈسٹری حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرتی، عوام کی اس موذی نشے سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔
    یوں تو سگریٹ کے علاوہ پان، چرس، بھنگ، افیون اور ہیروئین سمیت سب ہی نشے کے زمرے میں آتے ہیں۔
    مگر سگریٹ کے استعمال کو نقصان دہ ہونے کے باوجود بھی معاشرے میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
    پاکستان میں 65 سے 75٪ فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو نوشی ضرور کرتی ہے،
    اسطرح ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک اعشاریہ تین کھرب افراد تمباکو نوش ہیں۔
    اور یہ سب نقصانات سے آگاہی کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔

    ماہرین کے مطابق ایک شخص جب سگریٹ پیتا ہے تو اس کے سگریٹ کے دھوئیں سے اور سگریٹ نوشی کی عادت سےنا صرف وہ بلکہ اس کے اردگرد میں رہنے والے افراد خصوصاً بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے کے پھیپھڑے متاثر ہونے کے باعث اس کو کورونا لگنے کے امکانات 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔
    تمباکو نوشی میں تمباکو سگریٹ اور اس کے علاوہ کئی نشہ آور چیزوں میں جیسا کہ نسوار، افیون اور ہیروئین میں استعمال ہوتا ہے۔
    تمباکو کو عام طور پر ہلکی نشہ آور خصوصیات رکھنے والی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،
    تمباکو کو امریکہ، چین اور اس کے علاوہ کئی ممالک میں منافع بخش پیداوار کے لحاظ سے کاشت کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا اعلٰی معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست آتا ہے۔
    تمباکو کی کئی اقسام ہیں،ایک تحقیق کے مطابق تمباکو میں موجود 300 کیمیائی اجزاء انتہائی خطرناک ہیں۔خاص طور پر تمباکو میں پایا جانے والا ایک کمیکل نکوٹین ایک نشہ آور مضر صحت کمیکل ہے۔
    نیز تمباکو نوشی صحت کے لیے بہت نقصان دہ چیز ہے۔
    یہ کس طرح نقصان دہ ہے اور اس کے کیا نقصانات ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
    جلتے ہوئے سگریٹ کا دھواں اور اس میں شامل زہریلے اجزاء نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والے کے دل، دماغ، پھیپھڑے، معدے اور دیگر جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ اس کے دھوئیں سے اہل خانہ سمیت ارد گرد کے معصوم لوگ خاص طور پر بچے متاثر ہوتے ہیں۔
    دنیا بھر میں تقریباً ہر سال 53،000 افراد سگریٹ کے زہریلے دھوئیں سے متاثر ہو کر پھیپھڑوں کے مختلف امراض حلق، ہونٹ منہ کے کینسر، ہائی بلڈ پریشر، چھاتی کے امراض اور خاص طور پر ٹی بی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
    نیز تمباکو نوشی بیماریوں کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتی ہے،
    نقصان دہ کمیکلز میں ٹار، نکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ سر فہرست ہیں۔ٹار پھیپھڑوں پر داغ کی صورت میں حملہ آور ہو کر سرطان (کینسر) کا سبب بنتا ہے۔
    کینسر میں مبتلا عموماً وہ افراد ہوتے ہیں جو نوجوانی سے ہی تمباکو نوشی شروع کردیتے ہیں۔
    دیگر کمیکلز میں نکوٹین سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے، اس کے زہریلے اثرات جسم میں خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس کے سبب افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور بعض اوقات بلند فشار خون ہارٹ اٹیک کی وجہ بن جاتا ہے،
    نکوٹین کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ اس کے استعمال سے خون میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔جس کی وجہ سے رگیں سکڑ کر مزید تنگ ہو جاتی ہیں، اور جب جسم سے دماغ کو خون پہچانے والی رگوں میں خون کی گردش کم یا منقطع ہو جائے تو فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔
    نکوٹین کی وجہ سے پھیپھڑوں میں ایک سے زیادہ امراض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
    اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب نقصانات کے باوجود بھی لوگ سگریٹ پینا کیوں نہیں چھوڑتے؟
    انسان کی فطرت ہے کہ جس کام سے اسے روکا جائے وہی زیادہ کرتا ہے، کسی کو چائے کا نشہ لگ جاتا ہے، تو کسی کو نسوار، پان یا گٹکے کی لت،
    اور تو کوئی اپنے غم سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا رہا ہوتا ہے۔
    اور ویسے بھی تمباکو نوشی زیادہ تر غریب آدمی ہی کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس یہی سب سے بڑی تفریح ہے۔
    تمباکو نوشی جیسی بری عادت چھوڑنا تھوڑا مشکل ضرور ہے، مگر نا ممکن نہیں۔
    موجودہ دور تمباکو نوش افراد سگریٹ کے علاوہ پائپ، حقہ اور شیشے کی طرف بھی راغب ہیں، یاد رہے کہ حقہ اور آج کل نوجوان نسل میں مقبول ہونے والا شیشہ اتنا ہی نقصان دہ ہے، جتنا کہ سگریٹ ۔
    مسلسل تمباکو نوشی سے کئی اندرونی جسمانی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔
    اس سے مرد و عورت دونوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جلد بھی متاثر ہو سکتی ہے، دانتوں پر دھبے پڑ جاتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر تمباکو نوش کی تو سانس سے بھی بدبو آنے لگتی ہے، جس سے آس پاس کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے جائیں؟

    دنیا کے تمام ممالک کو چاہیے کہ
    ریڈیو، ٹی وی، اخبارات و رسائل میں سگریٹ کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔
    تمام مواصلاتی ذرائع جیسا کہ انٹرنیٹ اور اخبارات ہر فورم پر تمباکو کے نقصانات، وضاحت اور معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
    دکانوں اور سڑکوں پر سگریٹ کے بورڈز لگانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
    کھیل اور شوبز سے وابستہ افراد کو ٹی وی اس کی تشہیر سے روکا جائے۔
    پبلک مقامات اور ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کردی جائے۔خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ کیا جائے۔
    اور سب سے اہم بات یہ کہ تمام تعلیمی اداروں، اسپتال، لائبریریوں اور سرکاری دفاتر میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں سے بس ایک ہی درخواست ہے کہ، نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں اور آس پاس کے لوگوں کی صحت کی خاطر آج ہی سے تمباکو نوشی کی عادت چھوڑ دیں۔
    اور تمباکو نوشی سے خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں۔

    ‎@_aqsasiddique

  • ٹک ٹاکرز بے لگام  تحریر :فاطمہ

    ٹک ٹاکرز بے لگام تحریر :فاطمہ

    14اگست کو لاہور میں مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ لوگوں نے بدتمیزی کی گٸ اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔

    میں نے سنا ہے کہ بہت سے لوگ ٹک ٹاک پر فولوز لینے کے چکر میں اپنے آپ کو ننگا بھی کر دیتے ہیں اور نہایت نازیبا
    قسم کی ویڈیوز بھی بناتے ہیں جو کہ یقینا آپ لوگوں نے بھی کم و بیش دیکھا یا سنا ہی ہو گا
    آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے فالوورز کس قسم کے لوگ ہونگے۔
    اور پھر یہی لڑکیاں جب پبلک میں کھڑی ہو تی ہیں تو یہ ثابت کرنے لگ جاتی ہیں کہ میرے اتنی زیادہ چاہنے والے لوگ ہیں تو اس قسم کے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
    انہیں بس اس بات سے غرض ہے کہ بہت چاہنے والے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ کس قسم کے چاہنے والے ہیں اللہ ہی حافظ ہے ان لوگوں کا۔
    پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور مسلمان ہوتے ہوئے کیا ہمیں اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ ہم ٹک ٹاک پر بیہودہ قسم کی وڈیوز بنا کر اپلوڈ کریں؟
    سنا ہے سعودیہ میں ٹک ٹاک پر نوجوان لڑکوں کو جنسی جذبات ابھارنے پر بہت ساری لڑکیوں کو جیل ہوئی اور بہت سخت جرمانے ہوئے پاکستان میں بھی اس قسم کے قانون کی سخت ضرورت ہے۔ بیہودہ وڈیوز بنانے والوں کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سخت سزا اور جرمانے کیے جائیں۔

    لڑکوں کا تو پھر بھی مسئلہ نہیں لیکن اگر لڑکیوں کے ساتھ ایسے مسائل ہوتے رہے تو پاکستان کی بہت بدنامی ہوگی۔
    ایسا ہو بھی سکتا ہے کہ یہ لڑکی کا شہرت پانے کے لۓ ایک ڈرامہ اور سکینڈل ہو کیونکہ ہم نے بہت زیادہ ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے ویڈیوز میں ننگی ہو جائے یا سر عام لوگوں کے ہاتھوں سے کپڑے پھٹ وا لیں۔ اب وہ لڑکی باقاعدہ سوشل میڈیا پر اپنا چہرہ بھی دیکھا رہی ہیں کہ میں ہی وہ لڑکی ہوں۔
    ویڈیو میں لوگ دیکھیں نہ دیکھیں اور اس طرح اس کو سب نے دیکھ لیا۔
    کینیڈین روزی بھی ایک عورت ہے پورا پاکستان اکیلے گھوما ہے، لوگوں نےفری بائیک ٹھیک کرکے دی جہاں گئیں کھانے کےپیسے نہیں لیےگئے لوگوں نےاپنے گھروں میں فری رہائش دی ،
    400 کیا ہزاروں لوگوں سے ملی پورا پاکستان دیکھا اور دنیا کو پاکستان کی مثبت چہرہ دکھایا۔
    ا سے کسی ایک نےبھی بری آنکھ سےنہیں دیکھا کیونکہ روزی ناچ گانا نہیں کرتی تھی، اس نے بےحیا لوگوں کو اپنا فین نہیں بنایا تھا خدارا پاکستانی معاشرے کے مردوں کو اس طرح سے رسوا نہ کریں۔ کچھ ان بے ہودہ ٹک ٹاکروں کو بھی لگام دی جائے ۔
    قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس پر سخت سے سخت ایکشن لیتے ہوئے اس ٹک ٹاکر کے ساتھ آنے والے لڑکوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے ۔
    وہ لڑکی جسے اتنے لوگوں نے تنگ کیا تب اس کے ساتھ آنے والے ٹک ٹاکر لڑکوں نے اسے کیوں نہیں بچایا؟
    اتنے سارے مردوں کے مجمع میں اس واحد لڑکی کو ہر ایک کی طرف فلائنگ کس کرنے سے اس کے دوستوں میں سے کسی نے کیوں نہیں روکا؟
    400 لوگوں کے درمیان ہی اس کا ایک ساتھی اس لڑکی کے گلے میں بانہیں ڈال کر کیوں کھڑا تھا؟
    کیا اسلامی معاشرہ میں یہ سب حرکتیں زیب دیتی ہیں؟
    میرا سوال ہے سب پڑھنے والوں سے

    ‎@Khak_e_Taiba

  • سگریٹ نوشی کے مضر اثرات ،تحریر: فروا نذیر

    سگریٹ نوشی ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ آپ کو ختم کرسکتا ہےاور اس کا رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے
    سگریٹ نوشی کا دن بدن زیادہ اثر ہماری نوجوان نسل پر ہو رہا ہے
    سگریٹ نوشی ایک ایسا نشہ ہے اگر کوئی ایک بار استعمال کرلیں تو اس کیلیے چھوڑنا محال ہوجاتا ہے
    جسکی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں
    ہماری نوجوان نسل کو پاکستان کیلیے کام کرکے اگے لے کرجانا چاہیے لیکن یہ سگریٹ نوشی انسان کو تباہ و برباد کردیتی ہے
    زیادہ تر ہماری نوجوان نسل جو کہ تعلیمی ادارے کا حصہ ہے ان کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا جاتا ہے خاص طور پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس کو فیشن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں

    سگریٹ نوشی کے مضر اثرات بہت زیادہ ہیں:
    جس طرح تمباکو نوشی منہ، گلا، خوراک کی نالی کا کینسر، معدہ کا کینسر، جگر کا کینسر، مثانہ کا کینسر، لبلبہ اور گردے کے کینسرکا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس کی تمام اقسام بشمول سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، وغیرہ اور تمباکو سونگھنا خطرناک ہوتی ہیں

    اللہ پاک نے ہر انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اللہ نے ہم سب کو علم و شعور دیا ہے تاکہ ہم سب صیحیح اور غلط کی پہچان کر سکیں لیکن لوگ غلط راستے کو چنتے ہیں
    ہماری تعلیمات ہمارا اسلام یہ نہیں سیکھاتا
    اسلام میں نشے کے بارے میں سختی سے منع ہے
    میں یہ نہیں کہوں گی کہ سب ہی کرتے ہیں دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو نہیں کرتے لیکن جو لوگ کرتے ہیں ان کیلیے یہ کینسر کا باعث بن سکتا ہے اور زندگی میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے

    اللہ پاک نے انسان کو دنیا میں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں لیکن انسان پھر بھی ایسی چیزوں کی طرف جائے جو اسلام میں منع ہے تو وہ اللہ کے حکم کو نہیں مان رہا
    کیا اچھی چیزوں اور نعمتوں کی کمی ہے کیا اللہ نے دنیا میں کر طرح کا پھل دیا ہے نعمت دی ہے تاکہ کسی کے دل میں حسرت باقی نہ رہے
    لیکن پھر بھی یہ انسان کی بد قسمتی ہے جو وہ اللہ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتا

    میرا اس ٹاپک پر آرٹیکل لکھنے کا مقصد یہ ہے اگر انسان اس برائی کی طرف جانے لگے تو رک جائے
    ویسے تو اس حقیقت کو سب ہی لوگ جانتے ہیں لیکن انجان بنتے ہیں
    حالانکہ سگریٹ کے پیکٹ کے اوپر لکھا ہوتا ہے
    "٬٫سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے٫٬”

    پہلے تو میں حکومت سے اس بارے میں کہنا چاہوں گی کہ جس پر مضرصحت لکھا بھی ہوا ہے تو پاکستان میں لانے کا کیا فائدہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا کیا فائدہ جس سے انسان کا سکون برباد ہو۔

    میری ان سب لوگوں سے التماس ہے جو اسکا استعمال کرتے ہیں وہ اپنی زندگی کا سوچیں جو اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے اور اسکو چھوڑ دیں

    اور جو اسکا استعمال نہیں کرتے وہ بہت فائدے میں ہیں

    اللہ پاک ہم سب کو صیحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے
    آمین ثمہ آمین

  • تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت

    تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت


    سائنسدانوں کے مطابق تھکن کی تعریف یہ ہے
    "کسی کام کو کرنے کےلئے آپ میں انتہائی قلیل انرجیکپیسٹی کا ہونا”
    ہم لوگ یہ سنتے رہتے ہیں کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگ جلدی تھک جاتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے اگر آپ دماغی کام کر رہے ہیں تو آپ کے تھکنے کے چانسز اس آدمی کے مقابلے میں جو جسمانی کام کر رہا ہے کم ہیں
    اس بات کو ثابت کرنے کےلئے سائنسدانوں نے تجربات کیے انہوں نے کچھ ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز لیے جو آفس میں کام کرتے ہیں اور چند ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز بھی لیے جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور جسمانی مشقت کا کام کرتے ہیں
    جب بلڈ ٹیسٹ کے نتائج آئے تو یہ پتہ چلا کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگوں میں تھکن سے پیدا ہونے والے زہریلے مادے جنہیں ہم انگریزی میں fatigue toxins اور ان سے بننے والے پراڈکٹس جنہیں ہم fatigue products جسمانی مشقت کرنے والوں کی نسبت انتہائی کم تھے
    ماہر نفسیات اس بات کو کلیئر کر چکے ہیں کہ تھکن دماغی کام کرنے سے نہیں ہمارے ذہنی رویے اور جذباتی رویے کی پیداوار ہے اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان اگر صحت مند زندگی گزار رہا ہے تو اسکی وجہ بلاشبہ اسکا جذباتی رویہ ہی ہے
    اور ایسے ہی اگر کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان تھکن محسوس کرتا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر کام کو جلدی میں کرنے کے لیے اسے اپنے اعصاب پہ سوار کر لیتا ہے وہ ایگزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ جتنا اچھا وہ کام کر رہا ہے اسکی اسے داد موصول نہیں ہو رہی یہ چند بنیادی اور بڑی جذباتی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پہ ایک کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا یا آفس ورک کرنے والا انسان تھکن اور پریشانی محسوس کرتا ہے جسکی وجہ سے اسکی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ شدید ترین سر درد کے ساتھ گھر جاتا ہے
    اس کی تمام تر پریشانی کی جڑ اس کا جذباتی رویہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعصاب تناؤ کا شکار ہو جاتے جنکا نتیجہ شدید سر درد کی صورت میں نکلتا ہے
    اکثر اوقات ایک بھر پور نیند تھکن کا بہترین علاج ہوتی ہے لیکن یہ علاج تب کارآمد نہیں ہوتا جب ہم پریشانی،ٹینشن یا جذباتی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں کیونکہ ایک ٹینس مسلز ایسا مسل ہوتا ہے جس پہ مسلسل دباؤ پڑ رہا ہوتا ہے اور وہ کام کر رہا ہوتا ہے جب ہم نیند کرتے ہیں تو بھی سوتے وقت ہم اس پریشانی کو سر پہ سوار کرکے سوتے ہیں جسکی وجہ سے مسلز پہ دباؤ کم نہیں ہوتا اور نیند بھی کار آمد ثابت نہیں ہوتی
    اس لیے یہ ضروری ہے کہ خود کو تھوڑا ہلکا محسوس کریں کسی بھی چیز کو سر پہ سوار نہ کریں اور اپنی انرجی کو زیادہ اہم کاموں کے لیے بچائیں
    رکیں! خود کا ابھی تجزیہ کریں کیا آپ اپنی آنکھوں پہ ایک دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی کرسی پہ پر سکون محسوس نہیں کر رہے ہیں؟ یا آپکے کاندھے اکٹھے ہوئے ہیں ؟ کیا آپ کے چہرے کے مسلز پہ تناؤ موجود ہے؟ اپنے جسم کو ریلیکس فیل کرائیں خود کو ڈھیلا چھوڑیں کیونکہ آپ خود ہی اپنے لیے اعصابی تناؤ اور اعصابی تھکن پیدا کر رہے ہیں اپنے ذہن کو خالی اور جسم کو ڈھیلا چھوڑنے سے آپ خود کو کافی حد تک پر سکون محسوس کریں گے
    آخر کار کیوں ہم لوگ ذہنی کام کرتے ہوئے غیر ضروری اعصابی تناؤ کا جنم دیتے ہیں؟
    اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہے اور ہمارے ذہن میں یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم سخت محنت کر رہے ہیں چونکہ محنت تھکن کو جنم دیتی ہے اس لیے ہم تھک جاتے ہیں جب تک ہم خود کو تھکا ہوا محسوس نہیں کرتے ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے محنت نہیں کی

    آج میں نے تھکن اور اسکی وجوہات پہ بات کی ان شاءاللہ اس آرٹیکل کے اگلے حصے میں ہم اس پہ مزید بات کریں گے اسکی مزید وجوہات اور اسکے علاج پہ بات کریں گے