Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اپنے غموں اور پیاروں کو دھوئیں میں نہ اڑائیں تحریر : اقصٰی صدیق


    دنیا بھر میں 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف” ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے ” منایا جاتا ہے۔عالمی سطح پر اس دن کے منائے جانے کا مقصد انسانی صحت کو تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصان سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سگریٹ بچینے والی کمپنیاں اپنے نفع کی خاطر لوگوں کی صحت سے کھیل رہی ہیں ۔اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز میں لوگوں کو تمباکو نوشی کی طرف مائل کرنے والے بڑے بڑے رنگین اشتہارات ان کی اخلاقیات و احساسات کے کھوکھلے پن کا واضع عکس ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت نے اس ضمن میں کسی بھی قومی مہم میں ان کی مداخلت کے خاتمے پر زور دیا ہے، جب تک تمباکو انڈسٹری حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرتی، عوام کی اس موذی نشے سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔
    یوں تو سگریٹ کے علاوہ پان، چرس، بھنگ، افیون اور ہیروئین سمیت سب ہی نشے کے زمرے میں آتے ہیں۔
    مگر سگریٹ کے استعمال کو نقصان دہ ہونے کے باوجود بھی معاشرے میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
    پاکستان میں 65 سے 75٪ فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو نوشی ضرور کرتی ہے،
    اسطرح ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک اعشاریہ تین کھرب افراد تمباکو نوش ہیں۔
    اور یہ سب نقصانات سے آگاہی کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔

    ماہرین کے مطابق ایک شخص جب سگریٹ پیتا ہے تو اس کے سگریٹ کے دھوئیں سے اور سگریٹ نوشی کی عادت سےنا صرف وہ بلکہ اس کے اردگرد میں رہنے والے افراد خصوصاً بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے کے پھیپھڑے متاثر ہونے کے باعث اس کو کورونا لگنے کے امکانات 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔
    تمباکو نوشی میں تمباکو سگریٹ اور اس کے علاوہ کئی نشہ آور چیزوں میں جیسا کہ نسوار، افیون اور ہیروئین میں استعمال ہوتا ہے۔
    تمباکو کو عام طور پر ہلکی نشہ آور خصوصیات رکھنے والی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،
    تمباکو کو امریکہ، چین اور اس کے علاوہ کئی ممالک میں منافع بخش پیداوار کے لحاظ سے کاشت کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا اعلٰی معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست آتا ہے۔
    تمباکو کی کئی اقسام ہیں،ایک تحقیق کے مطابق تمباکو میں موجود 300 کیمیائی اجزاء انتہائی خطرناک ہیں۔خاص طور پر تمباکو میں پایا جانے والا ایک کمیکل نکوٹین ایک نشہ آور مضر صحت کمیکل ہے۔
    نیز تمباکو نوشی صحت کے لیے بہت نقصان دہ چیز ہے۔
    یہ کس طرح نقصان دہ ہے اور اس کے کیا نقصانات ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
    جلتے ہوئے سگریٹ کا دھواں اور اس میں شامل زہریلے اجزاء نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والے کے دل، دماغ، پھیپھڑے، معدے اور دیگر جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں، بلکہ اس کے دھوئیں سے اہل خانہ سمیت ارد گرد کے معصوم لوگ خاص طور پر بچے متاثر ہوتے ہیں۔
    دنیا بھر میں تقریباً ہر سال 53،000 افراد سگریٹ کے زہریلے دھوئیں سے متاثر ہو کر پھیپھڑوں کے مختلف امراض حلق، ہونٹ منہ کے کینسر، ہائی بلڈ پریشر، چھاتی کے امراض اور خاص طور پر ٹی بی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
    نیز تمباکو نوشی بیماریوں کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتی ہے،
    نقصان دہ کمیکلز میں ٹار، نکوٹین اور کاربن مونو آکسائیڈ سر فہرست ہیں۔ٹار پھیپھڑوں پر داغ کی صورت میں حملہ آور ہو کر سرطان (کینسر) کا سبب بنتا ہے۔
    کینسر میں مبتلا عموماً وہ افراد ہوتے ہیں جو نوجوانی سے ہی تمباکو نوشی شروع کردیتے ہیں۔
    دیگر کمیکلز میں نکوٹین سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے، اس کے زہریلے اثرات جسم میں خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس کے سبب افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور بعض اوقات بلند فشار خون ہارٹ اٹیک کی وجہ بن جاتا ہے،
    نکوٹین کا ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ اس کے استعمال سے خون میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔جس کی وجہ سے رگیں سکڑ کر مزید تنگ ہو جاتی ہیں، اور جب جسم سے دماغ کو خون پہچانے والی رگوں میں خون کی گردش کم یا منقطع ہو جائے تو فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔
    نکوٹین کی وجہ سے پھیپھڑوں میں ایک سے زیادہ امراض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
    اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب نقصانات کے باوجود بھی لوگ سگریٹ پینا کیوں نہیں چھوڑتے؟
    انسان کی فطرت ہے کہ جس کام سے اسے روکا جائے وہی زیادہ کرتا ہے، کسی کو چائے کا نشہ لگ جاتا ہے، تو کسی کو نسوار، پان یا گٹکے کی لت،
    اور تو کوئی اپنے غم سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا رہا ہوتا ہے۔
    اور ویسے بھی تمباکو نوشی زیادہ تر غریب آدمی ہی کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس یہی سب سے بڑی تفریح ہے۔
    تمباکو نوشی جیسی بری عادت چھوڑنا تھوڑا مشکل ضرور ہے، مگر نا ممکن نہیں۔
    موجودہ دور تمباکو نوش افراد سگریٹ کے علاوہ پائپ، حقہ اور شیشے کی طرف بھی راغب ہیں، یاد رہے کہ حقہ اور آج کل نوجوان نسل میں مقبول ہونے والا شیشہ اتنا ہی نقصان دہ ہے، جتنا کہ سگریٹ ۔
    مسلسل تمباکو نوشی سے کئی اندرونی جسمانی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔
    اس سے مرد و عورت دونوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جلد بھی متاثر ہو سکتی ہے، دانتوں پر دھبے پڑ جاتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر تمباکو نوش کی تو سانس سے بھی بدبو آنے لگتی ہے، جس سے آس پاس کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے جائیں؟

    دنیا کے تمام ممالک کو چاہیے کہ
    ریڈیو، ٹی وی، اخبارات و رسائل میں سگریٹ کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔
    تمام مواصلاتی ذرائع جیسا کہ انٹرنیٹ اور اخبارات ہر فورم پر تمباکو کے نقصانات، وضاحت اور معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
    دکانوں اور سڑکوں پر سگریٹ کے بورڈز لگانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
    کھیل اور شوبز سے وابستہ افراد کو ٹی وی اس کی تشہیر سے روکا جائے۔
    پبلک مقامات اور ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کردی جائے۔خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ کیا جائے۔
    اور سب سے اہم بات یہ کہ تمام تعلیمی اداروں، اسپتال، لائبریریوں اور سرکاری دفاتر میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں سے بس ایک ہی درخواست ہے کہ، نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں اور آس پاس کے لوگوں کی صحت کی خاطر آج ہی سے تمباکو نوشی کی عادت چھوڑ دیں۔
    اور تمباکو نوشی سے خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں۔

    ‎@_aqsasiddique

  • ٹک ٹاکرز بے لگام  تحریر :فاطمہ

    ٹک ٹاکرز بے لگام تحریر :فاطمہ

    14اگست کو لاہور میں مینار پاکستان پر ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ لوگوں نے بدتمیزی کی گٸ اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔

    میں نے سنا ہے کہ بہت سے لوگ ٹک ٹاک پر فولوز لینے کے چکر میں اپنے آپ کو ننگا بھی کر دیتے ہیں اور نہایت نازیبا
    قسم کی ویڈیوز بھی بناتے ہیں جو کہ یقینا آپ لوگوں نے بھی کم و بیش دیکھا یا سنا ہی ہو گا
    آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے فالوورز کس قسم کے لوگ ہونگے۔
    اور پھر یہی لڑکیاں جب پبلک میں کھڑی ہو تی ہیں تو یہ ثابت کرنے لگ جاتی ہیں کہ میرے اتنی زیادہ چاہنے والے لوگ ہیں تو اس قسم کے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
    انہیں بس اس بات سے غرض ہے کہ بہت چاہنے والے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ کس قسم کے چاہنے والے ہیں اللہ ہی حافظ ہے ان لوگوں کا۔
    پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور مسلمان ہوتے ہوئے کیا ہمیں اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ ہم ٹک ٹاک پر بیہودہ قسم کی وڈیوز بنا کر اپلوڈ کریں؟
    سنا ہے سعودیہ میں ٹک ٹاک پر نوجوان لڑکوں کو جنسی جذبات ابھارنے پر بہت ساری لڑکیوں کو جیل ہوئی اور بہت سخت جرمانے ہوئے پاکستان میں بھی اس قسم کے قانون کی سخت ضرورت ہے۔ بیہودہ وڈیوز بنانے والوں کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سخت سزا اور جرمانے کیے جائیں۔

    لڑکوں کا تو پھر بھی مسئلہ نہیں لیکن اگر لڑکیوں کے ساتھ ایسے مسائل ہوتے رہے تو پاکستان کی بہت بدنامی ہوگی۔
    ایسا ہو بھی سکتا ہے کہ یہ لڑکی کا شہرت پانے کے لۓ ایک ڈرامہ اور سکینڈل ہو کیونکہ ہم نے بہت زیادہ ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے ویڈیوز میں ننگی ہو جائے یا سر عام لوگوں کے ہاتھوں سے کپڑے پھٹ وا لیں۔ اب وہ لڑکی باقاعدہ سوشل میڈیا پر اپنا چہرہ بھی دیکھا رہی ہیں کہ میں ہی وہ لڑکی ہوں۔
    ویڈیو میں لوگ دیکھیں نہ دیکھیں اور اس طرح اس کو سب نے دیکھ لیا۔
    کینیڈین روزی بھی ایک عورت ہے پورا پاکستان اکیلے گھوما ہے، لوگوں نےفری بائیک ٹھیک کرکے دی جہاں گئیں کھانے کےپیسے نہیں لیےگئے لوگوں نےاپنے گھروں میں فری رہائش دی ،
    400 کیا ہزاروں لوگوں سے ملی پورا پاکستان دیکھا اور دنیا کو پاکستان کی مثبت چہرہ دکھایا۔
    ا سے کسی ایک نےبھی بری آنکھ سےنہیں دیکھا کیونکہ روزی ناچ گانا نہیں کرتی تھی، اس نے بےحیا لوگوں کو اپنا فین نہیں بنایا تھا خدارا پاکستانی معاشرے کے مردوں کو اس طرح سے رسوا نہ کریں۔ کچھ ان بے ہودہ ٹک ٹاکروں کو بھی لگام دی جائے ۔
    قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس پر سخت سے سخت ایکشن لیتے ہوئے اس ٹک ٹاکر کے ساتھ آنے والے لڑکوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے ۔
    وہ لڑکی جسے اتنے لوگوں نے تنگ کیا تب اس کے ساتھ آنے والے ٹک ٹاکر لڑکوں نے اسے کیوں نہیں بچایا؟
    اتنے سارے مردوں کے مجمع میں اس واحد لڑکی کو ہر ایک کی طرف فلائنگ کس کرنے سے اس کے دوستوں میں سے کسی نے کیوں نہیں روکا؟
    400 لوگوں کے درمیان ہی اس کا ایک ساتھی اس لڑکی کے گلے میں بانہیں ڈال کر کیوں کھڑا تھا؟
    کیا اسلامی معاشرہ میں یہ سب حرکتیں زیب دیتی ہیں؟
    میرا سوال ہے سب پڑھنے والوں سے

    ‎@Khak_e_Taiba

  • سگریٹ نوشی کے مضر اثرات ،تحریر: فروا نذیر

    سگریٹ نوشی ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ آپ کو ختم کرسکتا ہےاور اس کا رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے
    سگریٹ نوشی کا دن بدن زیادہ اثر ہماری نوجوان نسل پر ہو رہا ہے
    سگریٹ نوشی ایک ایسا نشہ ہے اگر کوئی ایک بار استعمال کرلیں تو اس کیلیے چھوڑنا محال ہوجاتا ہے
    جسکی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں
    ہماری نوجوان نسل کو پاکستان کیلیے کام کرکے اگے لے کرجانا چاہیے لیکن یہ سگریٹ نوشی انسان کو تباہ و برباد کردیتی ہے
    زیادہ تر ہماری نوجوان نسل جو کہ تعلیمی ادارے کا حصہ ہے ان کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا جاتا ہے خاص طور پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس کو فیشن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں

    سگریٹ نوشی کے مضر اثرات بہت زیادہ ہیں:
    جس طرح تمباکو نوشی منہ، گلا، خوراک کی نالی کا کینسر، معدہ کا کینسر، جگر کا کینسر، مثانہ کا کینسر، لبلبہ اور گردے کے کینسرکا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اس کی تمام اقسام بشمول سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، وغیرہ اور تمباکو سونگھنا خطرناک ہوتی ہیں

    اللہ پاک نے ہر انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اللہ نے ہم سب کو علم و شعور دیا ہے تاکہ ہم سب صیحیح اور غلط کی پہچان کر سکیں لیکن لوگ غلط راستے کو چنتے ہیں
    ہماری تعلیمات ہمارا اسلام یہ نہیں سیکھاتا
    اسلام میں نشے کے بارے میں سختی سے منع ہے
    میں یہ نہیں کہوں گی کہ سب ہی کرتے ہیں دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو نہیں کرتے لیکن جو لوگ کرتے ہیں ان کیلیے یہ کینسر کا باعث بن سکتا ہے اور زندگی میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے

    اللہ پاک نے انسان کو دنیا میں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں لیکن انسان پھر بھی ایسی چیزوں کی طرف جائے جو اسلام میں منع ہے تو وہ اللہ کے حکم کو نہیں مان رہا
    کیا اچھی چیزوں اور نعمتوں کی کمی ہے کیا اللہ نے دنیا میں کر طرح کا پھل دیا ہے نعمت دی ہے تاکہ کسی کے دل میں حسرت باقی نہ رہے
    لیکن پھر بھی یہ انسان کی بد قسمتی ہے جو وہ اللہ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتا

    میرا اس ٹاپک پر آرٹیکل لکھنے کا مقصد یہ ہے اگر انسان اس برائی کی طرف جانے لگے تو رک جائے
    ویسے تو اس حقیقت کو سب ہی لوگ جانتے ہیں لیکن انجان بنتے ہیں
    حالانکہ سگریٹ کے پیکٹ کے اوپر لکھا ہوتا ہے
    "٬٫سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے٫٬”

    پہلے تو میں حکومت سے اس بارے میں کہنا چاہوں گی کہ جس پر مضرصحت لکھا بھی ہوا ہے تو پاکستان میں لانے کا کیا فائدہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا کیا فائدہ جس سے انسان کا سکون برباد ہو۔

    میری ان سب لوگوں سے التماس ہے جو اسکا استعمال کرتے ہیں وہ اپنی زندگی کا سوچیں جو اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے اور اسکو چھوڑ دیں

    اور جو اسکا استعمال نہیں کرتے وہ بہت فائدے میں ہیں

    اللہ پاک ہم سب کو صیحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے
    آمین ثمہ آمین

  • تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت

    تھکن اور اسکی وجوہات تحریر حُسنِ قدرت


    سائنسدانوں کے مطابق تھکن کی تعریف یہ ہے
    "کسی کام کو کرنے کےلئے آپ میں انتہائی قلیل انرجیکپیسٹی کا ہونا”
    ہم لوگ یہ سنتے رہتے ہیں کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگ جلدی تھک جاتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے اگر آپ دماغی کام کر رہے ہیں تو آپ کے تھکنے کے چانسز اس آدمی کے مقابلے میں جو جسمانی کام کر رہا ہے کم ہیں
    اس بات کو ثابت کرنے کےلئے سائنسدانوں نے تجربات کیے انہوں نے کچھ ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز لیے جو آفس میں کام کرتے ہیں اور چند ایسے لوگوں کے بلڈ سیمپلز بھی لیے جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور جسمانی مشقت کا کام کرتے ہیں
    جب بلڈ ٹیسٹ کے نتائج آئے تو یہ پتہ چلا کہ ذہنی مشقت کرنے والے لوگوں میں تھکن سے پیدا ہونے والے زہریلے مادے جنہیں ہم انگریزی میں fatigue toxins اور ان سے بننے والے پراڈکٹس جنہیں ہم fatigue products جسمانی مشقت کرنے والوں کی نسبت انتہائی کم تھے
    ماہر نفسیات اس بات کو کلیئر کر چکے ہیں کہ تھکن دماغی کام کرنے سے نہیں ہمارے ذہنی رویے اور جذباتی رویے کی پیداوار ہے اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان اگر صحت مند زندگی گزار رہا ہے تو اسکی وجہ بلاشبہ اسکا جذباتی رویہ ہی ہے
    اور ایسے ہی اگر کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا انسان تھکن محسوس کرتا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر کام کو جلدی میں کرنے کے لیے اسے اپنے اعصاب پہ سوار کر لیتا ہے وہ ایگزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ جتنا اچھا وہ کام کر رہا ہے اسکی اسے داد موصول نہیں ہو رہی یہ چند بنیادی اور بڑی جذباتی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پہ ایک کرسی پہ بیٹھ کر کام کرنے والا یا آفس ورک کرنے والا انسان تھکن اور پریشانی محسوس کرتا ہے جسکی وجہ سے اسکی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ شدید ترین سر درد کے ساتھ گھر جاتا ہے
    اس کی تمام تر پریشانی کی جڑ اس کا جذباتی رویہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعصاب تناؤ کا شکار ہو جاتے جنکا نتیجہ شدید سر درد کی صورت میں نکلتا ہے
    اکثر اوقات ایک بھر پور نیند تھکن کا بہترین علاج ہوتی ہے لیکن یہ علاج تب کارآمد نہیں ہوتا جب ہم پریشانی،ٹینشن یا جذباتی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں کیونکہ ایک ٹینس مسلز ایسا مسل ہوتا ہے جس پہ مسلسل دباؤ پڑ رہا ہوتا ہے اور وہ کام کر رہا ہوتا ہے جب ہم نیند کرتے ہیں تو بھی سوتے وقت ہم اس پریشانی کو سر پہ سوار کرکے سوتے ہیں جسکی وجہ سے مسلز پہ دباؤ کم نہیں ہوتا اور نیند بھی کار آمد ثابت نہیں ہوتی
    اس لیے یہ ضروری ہے کہ خود کو تھوڑا ہلکا محسوس کریں کسی بھی چیز کو سر پہ سوار نہ کریں اور اپنی انرجی کو زیادہ اہم کاموں کے لیے بچائیں
    رکیں! خود کا ابھی تجزیہ کریں کیا آپ اپنی آنکھوں پہ ایک دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی کرسی پہ پر سکون محسوس نہیں کر رہے ہیں؟ یا آپکے کاندھے اکٹھے ہوئے ہیں ؟ کیا آپ کے چہرے کے مسلز پہ تناؤ موجود ہے؟ اپنے جسم کو ریلیکس فیل کرائیں خود کو ڈھیلا چھوڑیں کیونکہ آپ خود ہی اپنے لیے اعصابی تناؤ اور اعصابی تھکن پیدا کر رہے ہیں اپنے ذہن کو خالی اور جسم کو ڈھیلا چھوڑنے سے آپ خود کو کافی حد تک پر سکون محسوس کریں گے
    آخر کار کیوں ہم لوگ ذہنی کام کرتے ہوئے غیر ضروری اعصابی تناؤ کا جنم دیتے ہیں؟
    اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہے اور ہمارے ذہن میں یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم سخت محنت کر رہے ہیں چونکہ محنت تھکن کو جنم دیتی ہے اس لیے ہم تھک جاتے ہیں جب تک ہم خود کو تھکا ہوا محسوس نہیں کرتے ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے محنت نہیں کی

    آج میں نے تھکن اور اسکی وجوہات پہ بات کی ان شاءاللہ اس آرٹیکل کے اگلے حصے میں ہم اس پہ مزید بات کریں گے اسکی مزید وجوہات اور اسکے علاج پہ بات کریں گے

  • پاکستان میں ٹین ایجرز کے مسائل تحریر  : فرقان اسلم

    پاکستان میں ٹین ایجرز کے مسائل تحریر : فرقان اسلم

    ٹین ایجرز سے مراد "ایسے لوگ جن کی عمریں 13 سے 19 سال کے درمیان اور وہ لڑکپن سے جوانی کی منزل طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں”۔
    ہمارے ملک پاکستان میں ٹین ایجرز آبادی کا بہت بڑا حصہ ہیں۔ اگر ہم برِصغیر کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹین ایجرز کو عموماً دبا کر رکھا جاتا ہے۔ ان کی دلچسپی اور شوق کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ان کو ذہنی طور پر مجبور کردیا جاتا ہے۔جس کے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنی اس پریشانی کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔
    اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں رہنے والے لوگوں کی انائیں ہیں جو خود کو ہر کام میں مداخلت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اور ٹین ایجرز کو ان کی مرضی یا رائے کے بغیر فیصلہ ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی انکار کرے یا کچھ کہنے کی ہمت کرے تو اس کو گستاخ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ جس کے وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت میں نکھار پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ یہاں تک دیکھنے میں آیا ہے ان کو مارا پیٹا جاتا ہے اور طاقت کے زور پر اپنے فیصلے منوانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بچوں کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے مار پیٹ سے بچہ مزید بگڑ جاتا ہے۔
    ان سب عوامل کی وجہ سے بچے کے ذہن پر دباؤ اور کشمکش کا عالم ہوتا ہے۔ اور ان سب حالات میں بچے کی تربیت کیسے کی جائے یہ بہت اہم سوال ہے۔

    اس کے لیے میں کچھ گزارشات پیش کروں گا:

    1. سب سے پہلے آپ گھر اور باہر کے حالات و واقعات پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کریں۔ جس سے آپ کو ان کی ذہنی پختگی کا اندازہ ہوجائے گا۔ پھر اس کے مطابق آپ فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    2.پڑھائی کے متعلق آپ ان کو آزادی دیں۔ ان پر اپنا فیصلہ ہرگز مسلط نہ کریں۔ بلکہ ان کو ان کی مرضی اور شوق کے مطابق چناؤ کا اختیار دیں۔ اس سے ان کے خوداعتمادی اور حوصلہ افزائی پیدا ہوگی۔

    3. انہیں گھر سے باہر جانے کا بھی موقع دیں۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں کو گھر تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ جس سے ان کے اندر خوداعتمادی کی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔ باہر کسی پارک یا تفریحی مقام پر جانے سے ان کے ذہنی نشوونما میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔

    4.ان کی محفل پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کے دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ اگر وہ برے دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں تو ان کو پیار سے منع کریں اور اگر اچھے دوستوں کے ساتھ تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

    5. اسکول یا کالج سے ان کے بارے میں وقتاً فوقتاً رپورٹ لیتے رہیں۔ ان کی حاضری اور دیگر سرگرمیوں پر نظر رکھیں اگر کوئی کمی یا کوتاہی نظر آئے تو اسے حل کرنے کی کوشش کریں۔

    6.انہیں نماز اور دینی کاموں کا علم سکھائیں۔ پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا کہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کا کہیں۔ باقی دینی احکام کا بھی علم سکھائیں۔ اگر بچہ لاپرواہی کرتا ہے تو پیار سے سمجھائیں۔

    7.جتنا ہوسکے موبائل کم سے کم استعمال کرنے دیں۔ بلکہ وہی وقت ہم نصابی سرگرمیوں میں صرف کرنے کا کہیں۔ اس طرح ان کھ اندر کام کی دلچسپی اور شوق پیدا ہوگا۔ موبائل کا استعمال بالکل ممنوع بھی نہیں ہونا چاہیئے ایک حد کے اندر استعمال ہونا چاہیئے۔

    8.ان کے سامنے دوسروں سے ادب سے بات کریں اور ان کو بھی بڑوں کا ادب کرنے کی تلقین کریں۔ اور ہر اچھے کام میں پہل کرنے کا کہیں۔ کیونکہ جو عادت اس عمر میں بن جاتی ہے پھر وہ پختہ ہوجاتی ہے۔

    9. گھر میں ان کے سامنے لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ جیسا آپ کرتے ہیں بچے بھی ویسا ہی سیکھتے ہیں۔ لٰہذا گھر کے ماحول کو بچوں کے سامنے پرسکون رکھیں۔

    10. نصاب کی کتب کے علاوہ دوسری اسلامی، تاریخی اور معلوماتی کتابیں پڑھنے کا بھی کہیں۔ اس سے ان کے مطالعہ میں اضافہ ہوگا اور ان کی شخصیت میں بہتری آئے گی اور وہ میچور ہوں گے۔

    اس ضمن میں سب سے اہم کردار والدین اور اساتذہ کا ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچے پر بلاوجہ سختی نہ کریں اور ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھیں۔ اور اساتذہ ان کی اچھی خوبیوں کا ان کو بتائیں۔ جس سے ہمارے بچوں کا مورال بلند ہوگا اور ایک صحتمند اور قابل معاشرے کا قیام عمل میں آئے گا۔
    والسلام

    ‎@Rumi_PK

  • زہریلے سانپ  تحریر: ایک تصویر کے دو رُخ

    زہریلے سانپ تحریر: ایک تصویر کے دو رُخ

    دنیا کے ہر کُونے میں طرح طرح کے خطرناک سانپ پائے جاتے ہیں کچھ سانپوں کے کاٹنے کی وجہ سے فوری طور پہ موت واقع ہو جاتی ہے کچھ ایسے سانپ بھی ہیں جن کے پاس سے گزر جانے پہ بھی انسان کو نقصان پہنچ جاتا ہے یوں تو چھوٹے موٹے بڑے سانپ ہر جگہ موجود ہیں پر یہ زیادہ ویران جگہوں ، جنگلوں اور کھیتوں والی جگہ پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک ایسا جزیرہ بھی موجود ہیں جدھر صرف سانپ ہی سانپ ہیں جدھر انسان کم بستے ہیں اتنے بڑے سانپ موجود ہیں کہ جو پورا انسان کھا جاتے ہیں ۔مغربی بحرالکاہل کا علاقہ گوام میں بھورے رنگ کے سانپ پائے جاتے ہیں اگرچہ یہ کم زہریلے ہیں مگر انکی تعداد بہت زیادہ ہے اتنی کہ مقامی لوگوں کے گھروں (بستروں) میں پہنچ جاتے ہیں ۔
    برازیل میں بہت خوبصورت جزیرہ ہے مگر وہاں انتہائی زہریلے سانپ پائے جاتے ہیں جنکا رنگ سُنہرا ہوتا ہے دیکھنے میں خوبصورت پرکشش دکھائی دیتے ہیں مگر ڈس لیں تو انکا زہر اتنا شدید قسم کا ہوتا ہے کہ انسانی گوشت پگھل کے ہڈیوں سے الگ ہوجاتا ہے اور فوری طور پہ موت واقع ہوجاتی ہے اسلیے وہاں انسان نہیں جاتے ان سانپوں کو سُنہرے سانپ کہا جاتا ہے اب بظاہر صورت سے یہ اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں مگر یہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں اسی طرح کچھ انسان بھی بہت خطرناک ہوتے ہیں جو اپنے انداز سے دوسروں کو متاثر، متوجہ کرتے ہیں پر ان کا کام بھی سانپ کی طرح موقع ملتے ہی ڈس لینا ہوتا ہے ۔
    سانپ کا زہر نکال لیا جائے تو وہ نقصان نہیں دے سکتا ۔ سانپ کا زہر بہت سے زہریلے مواد میں استعمال ہوتا ہے ۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں سانپ ایک ایسا جانور ہے جتنا بھی دودھ پلا لیں کاٹتا ضرور ہے ایسے ہی کچھ انسان سانپ کے روپ میں موجود ہوتے ہیں سانپ کا کاٹا شاہد بچ سکتا ہے مگر انسان کا کاٹا ساری زندگی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے سانپ اگر گھر سے باہر موجود ہے اس سے بچاؤ کیا جاسکتا ہے پر اگر گھر کے اندر موجود ہے وہ ہمارے لیے خطرناک ثابت ہو سکتاہے ۔بین الاقوامی سطح پہ ہمارے ملک کو بھی بہت سے سانپوں نے گھر کر رکھا ہے سب سے بڑا سانپ مودی کی شکل میں بھارت میں موجود ہے جو کہ امن کے بجائے فساد برپا کرنے میں سرفہرست رہا ہے کوئی موقع نہیں چھوڑتا پاکستان کو نقصان پہنچانے کا مگر اللّلہ ربّ العِزَت ہمیشہ اپنی ذات سے کرم فرمایا اور دشمن کو اپنے منہ کی کھانی پڑی ۔ باہر کا سانپ کچھ نہیں بگاڑ سکتا ملک کے اندر موجود غدار سانپ زیادہ زہریلے ہیں ۔جو ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ سب سے پہلے ان سانپوں کا صفایا لازمی ہےجب ایسے سانپ ملک سے ختم ہونگے پھر باہر کے سانپ خود بخود مر جائیں گے۔ ذاتی طور پہ اگر اپنے اردگرد دیکھا جائے تو بھی اپکو بہت سے سانپ ملیں گے خود کو آستیں کے سانپوں سے بچا کے رکھیں۔ خواب میں سانپ دیکھنا دشمن کی علامت ہوتی ہے۔دشمن کی صورت میں سانپ سے آپ لا علم نہیں ہوتے مگر آستین میں چھپے سانپ کو آپکی نظر نہیں دیکھ پاتی۔ یہ آہستہ اہستہ اپنا زہر منتقل کرتے رہتے ہیں جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں اور آپ ذہنی طور پہ معذور بھی. یہ ذہنوں کو اسطرح سے ڈس لیتے ہیں آپ کچھ بھی سوچنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ آپ جو کرنے کا ارداہ رکھتے ہیں کر نہیں پاتے مشکلوں کے انبار ہونگے پر وجہ نا معلوم ہوگی یہ آپکو اپنی راہ سے بھٹکا رہے ہوتے ہیں آپ کے ذہن پہ پوری طرح سے کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں آپ جو بھی کریں گے انکو بتا کے اور وہ ویسا ہونے نہیں دیتے ۔یہ آستین کے سانپ عموماً لہجےمیں میٹھاس رکھتے ہیں اپکے اردگرد رشتہ داروں اور دوستی کی صورت میں بھی موجود ہوتے ہیں ۔اپنے بھید کسی کو نہ دیں ہر چہرے میں وفاداری نہیں ہوتی جیسے ملک میں موجود غدار پاکستان کی معلومات باہر پہنچاتے ہیں اور پاکستان کا نام بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے ہمارے اردگرد کے موجود سانپ آپکی معلومات دوسروں تک پہنچا کے آپکو نقصان کے درپے ہوتے ہیں پر جنکا حامی و ناصر ربّ پاک ہو انکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔
    اختتام میں یہی کہوں گی جنکا مددگار ربّ پاک ہو انکو کوئی سانپ کیا آستین کا سانپ بھی کاٹ نہیں سکتا۔ دلدل میں گِرانے کی کوشش کرنے والے خود ہی اس دلدل میں جا گرتے ہیں۔ اللّلہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو اور اللّلہ پاک ایسے سانپوں سے ہمیں بھی اور ہمارے ملک کو بھی بچا کے رکھے آمین !!


    ‎@Hu__rt7

  • تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    اس وقت ملک میں موجود مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ تمباکو نوشی بھی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے استعمال میں ایک سنگین حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ جیسے کہ ہم سب باخوبی واقف ہیں کہ ہمارے اسلام میں نشے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو بہکائے، اس کی بری عادت بن جائے، جو اس کی جان کو ہلاکت میں ڈالے نشہ ہی تو ہے جو ہم سب مسلمانوں پر حرام یے۔

    اسی طرح تمباکو نوشی ایک ایسا نشہ ہے جو ہمارے معاشرے میں اس طرح سے پھیل رہا ہے جیسے جنگل میں لگی آگ پھیلتی یے۔ اس نشے سے سب سے زیادہ ہماری نوجوان نسل متاثر ہورہی یے۔ نوجوان لڑکے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے شوق کے متبادل اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    بلکہ اب تو لڑکیاں بھی بہت حد تک اس کی لپیٹ میں آچکی ہیں۔ پر افسوس وہ جان کر بھی انجام بنے ہوئے ہیں کہ جس چیز کو وہ اپنے شوق اور تفریح کے لیے استعمال کررہے ہیں درحقیقت وہ ان کے لیے کتنی جان لیوا ہے۔ تمباکو نوش یہ سب باتیں جانتے ہوئے بھی کہ ہم ہلاکت کے گڑھے میں جارہے ہیں تمباکو نوشی کا استعمال اور زور وشور سے کرتے ہیں۔

    جبکہ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالٰی نے واضح حکم دیا ہے:
    "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بےشک اللّٰہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے”
    (البقرہ 195:2)

    پھر ایک جگہ اور ارشاد ہوا ہے:
    "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بےشک اللّٰہ تم پر مہربان ہے”
    (النساء 29:4)
    اگر غور کیا جائے تو اس بات میں کوئی دورائے ہے ہی نہیں کہ ہر وہ انسان جو تمباکو نوشی کرتا ہے وہ جان بوجھ کر اپنی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے کیونکہ سگریٹ کی ہر ڈبیا پر واضح طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہوتے ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” یعنی خود سگریٹ بنانے اور بیچنے والے آپ کو چیخ چیخ کر بتارہے ہوتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

    پھر بھی اگر لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں تو وہ خود ہی اپنی جانوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں بلکہ اگر میں ایسا کیوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کا یہ کہنا ہے جب کوئی تمباکو نوش کسی دوسرے فرد کے ساتھ بیٹھ کر سگریٹ نوش کررہا ہوتا ہے تو اس سے خود سگریٹ پینے والے کو کم نقصان ہوتا ہے اور جو شخص اس کے آس پاس موجود ہوتا ہے وہ سگریٹ کے دھوئیں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی سے ہر سال ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اترتے ہیں اور کروڑوں افراد اس کی وجہ سے کئی کئی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں مثلاً دل، پھیپھڑوں، کینسر اور زیابطیس وغیرہ جیسی بیماریاں زیادہ تر اس کے سبب پھیل رہی ہیں۔ اب یہاں چند سوالات اٹھتے ہیں۔ آخر کو تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ابھی تک کسی قسم کے کوئی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ آخر کب تک ہزاروں قیمتی جانیں یوں ہی ضائع ہوتی رہیں گی؟ ہماری نوجوان نسلیں کب تک اپنی زندگیاں اپنے ہی ہاتھوں برباد کرتی رہیں گی؟

    @SeharSulehri

  • تمباکو نوشی معاشرہ میں زہر کی حثیت رکھتا ہے  تحریر چوہدری عطا محمد

    تمباکو نوشی معاشرہ میں زہر کی حثیت رکھتا ہے تحریر چوہدری عطا محمد

    آج اگر ہم اپنے اردگرد زرا غور کریں تو سینکڑوں نہی ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں لوگ تمباکو نوشی کرتے نظر آئیں گے اور اگر ہم ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن کی رپورٹ دیکھیں تو سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں آپ حیران ہوں گے یہ سن کر کہہ تقریباً چھ لاکھ لوگ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ وہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں اگر اسی رپورٹ کے تناظر میں ہم دیکھیں تو پورے اقوام عالم میں تقریباً سو کروڈ سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں تقریباً زیادہ تعداد ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی ہے اگر ہم ارض پاک پاکستان کی بات کریں تو ہمارے ہاں بھی تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسکی ایک بڑی وجہ ہمارے بچے اور نوجوان نسل اس کا شکار ہو رہی ہے کچھ فیشن سمجھ کر سگریٹ پیتے اور کچھ کو سگریٹ کی لت کالجز اور یونیورسٹی میں لگ جاتی
    ایک رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی سے ان بچوں اور نوجوانوں کے اخلاق پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے عام نارمل جسم میں تمباکو نوشی سے نشہ یا خمار سا پیدا ہوتا جو لگاتار سگریٹ نوشی کرنے والوں کو ٹی بی جیسی موضی مرض میں مبتلا کر دیتا تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اگر طبی ماہرین کی بات کو دیکھیں تو ان کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے یعنی سگریٹ نوشی کرنے والا ہر شخص اپنی اوسط عمر سے تقریباً پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق سگریٹ میں تقریباً چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء ہیں
    ہمارے ہاں جس سے بھی تمباکو نوشی ترک کرنے کا کہا جاۓ وہ کہتا اب بہت دیر ہو چکی ہے ہم تو کافی عرصہ سے سگریٹ نوشی کر رہے ہیں ایسا کہنا بلکل بھی غلط ہے تمباکو نوشی ترک کر کے ہم نہ صرف خود کو کافی حد تک بہت سی موضی مرض سے بچا سکتے ہیں بلکہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی خراب ہونے اور ہمارے دھواں سے جو دوسروں کو نقصان ہوتا ہے ان سب کو بھی سگریٹ نوشی ترک کر کے بچا سکتے
    سگریٹ نوشی معاشرے کے لئے ایک زہر ہے اور آپ سگریٹ نوشی چھوڑ کر ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں
    شروع میں چند دن آپ کو سگریٹ چھوڑنے سے الجھن ہوگی اور آپ سگرٹ چھوڑنےکے بعد،کچھ لوگ تھوڑے دن کے لیے اچھا محسوس نہیں کرتے۔  لیکن عام طور پریہ جلدی ٹھیک ھو جاتا ھے
    شرعی لحاظ اور اگر اسلام کی بات کریں تو علماء حضرات سگریٹ نوشی سے منع کرنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں تمباکو نوشی کو حرام قرار دیتے ہیں اسکی بڑی وجہ وہ ان جان لیوا بیماریوں کو بتاتے ہیں جو عام انسان کی بنسبت تمباکو نوشی کرنے والوں کو کئی گنا زیادہ لگتی
    تمباکو نوشی جیسی لعنت سے جان چھڑانے کے لئے سب سے پہلے والدین اساتزہ اور پھر معاشرہ کو مل کر اس کے لئے آواز اٹھانی ہوگی جب ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس سے جان چھڑانے کا پکا ارادہ کر لئے گے اور آواز اٹھائیں گے تو پھر حکومت وقت جو اس وقت اس اہم مسلہ پر سوئی ہوئی ہے جاگ جاۓ گی اور اسکے روک تھام کے لئے اقدامات کرے گی جن میں سب سے پہلے پبلک مقامات بس سٹینڈ پارکس بینک سرکاری آفس کالج سکول ہاسٹل یونیورسٹی پبلک ٹرانسپورٹ مثلاً ریل گاڑی بس رکشہ سب میں سگریٹ نوشی سختی سے منع ہو
    اور حکومت اس پر سخت قوانین بناۓ بھاری جرمانے لگاۓ اس سے کافی حد تک سگریٹ نوشی میں کمی واقع ہو سکتی ہے
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • وزیراعظم کےافغانستان مؤقف کی بین الاقوامی تائید اورافغانستان میں طالبان حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    وزیراعظم کےافغانستان مؤقف کی بین الاقوامی تائید اورافغانستان میں طالبان حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    وزیراعظم کی بائیس سال کی سیاسی جدوجہد یہ بائیس سال کہنا تو بہت آسان ہے مگر گزارنا قدرے مختلف وزیراعظم نے بارہا کہا صرف مقامی خبروں کے چینلز پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی خبروں کے چینلز پر بھی متعدد بار یہی کہا کے افغانستان کا حل جنگ نہیں بات چیت ہے. اس مؤقف کو ہر جگہ اجاگر کیا گیا یہاں تک وزیراعظم کو طالبان خان کہا جانے لگا اس کی وجہ کے وزیراعظم نے افغانستان جنگ کی مخالفت کی اور کہا افغانستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف بات چیت ہی میں ہے.

    امریکہ کی اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس نے تاریخ سے کبھی نہیں سیکھا ویت نام ہو عراق ہو ایران کویت ہو یا افغانستان ہر جگہ گھسے جنگ کی اور بلا آخر کچھ بھی حاصل نا ہؤا اور واپس گئے اور آج ایک بار پھر افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء شروع ہو چکا ہے جب روس یو ایس ایس آر تھا تب بھی افغانستان میں امریکہ گیا اور سوائے نقصان کے کچھ حاصل نا ہؤا.

    آج زرا نئے امریکی صدر جوبائیڈن پر نظر ڈالیں تو وہ بھی یہی کہتا نظر آئے گا کے جنگ مسائل کا حل نہیں اور امریکی صدر نے یہ بھی کہا کے میں اب نئے آنے والے صدر پر ایک بار پھر افغانستان کا مسئلہ نہیں ڈالنا چاہتا میرے ملک کی افواج نے وہاں جانیں دیں اور مزید کیوں جانیں دے جب افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی اور فوج بجائے لڑنے کے بھاگ گئی اگرچہ امریکہ کی نیت پر بھروسہ تو نہیں کیا جا سکتا مگر حالات اب کچھ ایسے ہی نظر آتے ہیں کے امریکہ اس بار واقعی سنجیدہ ہے اور افغانستان سے واپس جا رہا ہے.

    جو ملک سب سے زیادہ تباہ ہؤا وہ پاکستان ہے کیونکہ اس نے دہشتگردی کا سامنا کیا ٹی ٹی پی اور جیسی کئی دہشتگرد تنظیموں نے پاکستان پر حملے کئے اب یہاں کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کے اب طالبان آگئے پھر سے حالات خراب ہوں گے افغان طالبان نے پاکستان پر حملے نہیں بلکہ امریکہ اور بھارت نے مل کر وہاں ایسے دہشت گرد بنائے جس نے پاکستان پر حملے کئے اور اب افغان طالبان کے ترجمان نے واضح کہا اور پاکستانی میڈیا پر کہا کے اب ہم افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ہم سب ممالک سے امن اور اچھے تعلقات کے حامی ہیں اس بیان سے سب سے زیادہ بھارت کو نقصان ہؤا ہے کیونکہ اشرف غنی کے دور حکومت میں افغانستان بھارت کے زیر اثر تھا بھارت نے وہاں انویسٹمنٹ کی دراصل وہ بیٹھا ہی پاکستان کو کنٹرول اور سینڈوچ کرنے کے لئے تھا لیکن حکمت عملی اور قدرت کا کچھ ایسا کرنا ہؤا کے امریکہ نے افغانستان سے ہاتھ اٹھایا اور یوں افغانستان سے اب پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی جنگوں کا بھی اختتام ہوگا
    کل وزیرستان میں پاکستان آرمی کے جوان پر فائرنگ کی گئی اور ایک جوان شہید ہؤا اب بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کے شائد ابھی بھی افغانستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے لیکن ایسا نہیں دراصل کچھ ایسے عناصر جو پاکستان میں پہلے ہی سے داخل ہوکر یہاں زندگی بسر کر رہے ہوں گے انھی کی کارستانی ہے.

    اب ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور ہے ہے اور اس میں خبروں کو انٹرنیٹ پر ایسے دکھایا جاتا ہے کے گویا وہ خبر درست ہو کچھ عرصے سے ہمارے سوشل میڈیا پر افغانستان سے متعلق باقاعدہ غلط خبروں کا سلسلہ شروع ہے کے لو جی طالبان آگئے اب پاکستان میں یہ ہوگا وہ ہوگا تو محترم قارئین اس بات کو بھی زیہن نشین کرلیں کے ایسی خبریں بھارت عناصر ہی پھیلائیں گے کیونکہ بھارت کو بہت نقصان ہؤا ہے اس کا پاکستان کو اکیلا کرنے اور پراکسی جنگ جاری رکھنے کا خواب الحمد لله چِکنا چُور ہوگیا ہے وہ غلط خبریں پھیلانے میں کسی بھی حد تک جائے گا مجھے امید ہے بلکہ یقین ہے کے اب افغانستان میں تبدیلی آئے گی ابھی جس وقت میں یہ کال م لکھ رہا ہوں تو کل یا کچھ دن پہلے بھارتی وزیراعظم کی کابینہ کا اہم سیکورٹی اجلاس اور افغانستان کی صورتحال پر جائزہ لیا گیا اس ویڈیو میں باڈی لینگویج بہت کچھ بتا رہی تھی کے بھارت کا کتنا نقصان ہؤا ہے.

    بھارتی وزیر خارجہ کل پرسوں دوحا قطر میں موجود تھے انھوں نے اپنے ہم قطری ہم منصب سے ملاقات کی اور افغانستان ڈسکس کیا اور مبصرین کے مطابق افغانستان میں تبدیلی اور بھارت کے پیچھے رہ جانے کتمے بعد بھارت دیگر راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے.

    پاکستان کی معیشت کے امکانات روشن ہیں افغانستان میں امن آنے کو ہے اور وسطی ایشیائی ممالک ( براستہ افغانستان) ، میں اپنی تجارت کو فروغ دے گا ان شاء ﷲ پھلتا پھولتا پاکستان.

    آمین.

    Twitter id : @ M1Pak

  • کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    چھوٹے ہوتے ہوئے بزرگوں سے یہی کہانیاں سنتے آئے ہیں کہ ہمارے دور میں ہم عورتیں اور مرد بڑے بڑے ہو کر بھی اکٹھے کھیلتے ہوتے تھے، کسی کے ذہن میں بے حیائی کا نام تک نہیں آتا تھا۔ وہ اچھے وقت ہوا کرتے تھے، آنکھوں کا نہیں دل کا پردہ ہوتا تھا۔ زنا اور زیادتی کے وقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ مگر آج کل کی جنریشن پتا نہیں کیا کھا کے پیدا ہوئی ہے کہ سنبھالی ہی نہیں جا رہی۔ کوئی شرم و حیا نہیں رہ گئی کوئی ادب اور سلیقہ نہیں ہے۔
    یہ وہ باتیں ہیں جو آج بھی پرانے بابے بزرگ ہمیں فخر سے سناتے ہیں لیکن وہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی سچائی کو سمجھنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ان کے زمانے میں گھر کے سربراہ کا اتنا دبدبہ ہوا کرتا تھا کہ اس کی موجودگی میں اس کے خوف سے کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا فیصلہ حکم آخر تصور ہوتا تھا جس کے خلاف نہیں جایا جا سکتا تھا۔ اس وقت گھر گھر میں یہ ٹی وی اور ٹک ٹاک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور یوٹیوب جیسے فتنے نہیں آئے تھے۔ بیٹیاں کتابوں کے اندر اپنے آشناؤں کی تصاویر نہیں چھپایا کرتی تھیں۔ کتاب کے اندر جاسوسی اور رومانی ناول نہیں رکھ کے پڑھے جاتے تھے۔ مرد و زن کا اختلاط نہیں ہوا کرتا تھا۔ گھر کے مرد بازار سے ساری شاپنگز کر کے لے آتے تھے اور وہ سارا سامان خواتین کا پسندیدہ ہوا کرتا تھا۔ خواتین بلا وجہ گھر سے باہر نکلا عیب سمجھا کرتی تھیں۔ مردوں کی غیر موجودگی میں دروازے پہ ہونے والی دستک کا جواب تک نہیں دیا جاتا تھا۔ اور سب سے بہترین عمل جو اس وقت کیا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں بچوں کی شادیاں کر دی جاتی تھیں۔
    موجودہ دور اس دور سے بالکل مختلف ہے۔ بچوں کو سکولوں میں بھی یہی پڑھایا جانے لگا ہے کہ آپ مادر پدر آزاد ہیں، آپ کا استاد آپ کو ڈانٹے تو پولیس میں رپورٹ کر کے اسے گرفتار کروا دیں۔ اگر باپ اصلاح کے لئے ڈانٹ دے تو اسے بھی اندر کروا دیں۔ مرد و زن کا اختلاط روشن خیالی تصور ہونے لگا ہے۔ موبائل فون نہ خرید کر دینے پہ نوجوان اولادیں والدین کو خود کشی کی دھمکیاں دینے لگی ہیں پھر بچے بچیاں موبائلوں پہ کیا کر رہے ہیں والدین کو پوچھنے تک کا اختیار نہیں۔ اعلی تعلیم کے لئے یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے آنے والے بچے کیمپسز میں ایک دوسرے کو پروپوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہاسٹلز میں گناہ ہوتے پائے جاتے ہیں۔ گناہ اس حد تک معاشرے میں سرائیت کر چکا ہے کہ معیوب بھی نہیں سمجھا جا رہا۔
    بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والی اولادیں قرآن و حدیث کو، جو ان کے لئے اور ہم سب کے لئے مشعل راہ اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے، اپنی آزادی کا دشمن تصور کر کے اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب انہیں قرآن کی کوئی آیت سنائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پتھر کے زمانے کے لوگوں کی باتیں، ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں تو اس کے مطابق چلیں گے۔ ذرا سوچیئے! جب اللہ کے پیارے نبی ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن سناتے تھے تو کیا وہ بھی یہی بات نہیں کہتے تھے کہ یہ قرآن تو صرف پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں؟
    اس سب سے بڑھ کر جو لوگ کہتے ہیں پردہ دل کا ہونا چاہیئے تو کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ کیا ان کے دل ازواج مطہرات اور صحابیات ؓ سے زیادہ پاک تھے؟ پھر اللہ نے کیوں نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنین کرام کی بیویوں کو پردہ کروایا جائے؟ کیوں صحابیات کو اونچی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کی جازت بھی نہیں دی گئی؟ کیوں کہا گیا کہ جب مرد اور عورت کہیں اکیلے ہوتے ہیں تو تیسرا ان کے درمیان شیطان ہوتا ہے؟ کیوں کہا کہ قیامت کے قریب آنے والے فتنوں میں سب سے خطرناک فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے؟
    اگر پردہ صرف دل کا ہی ہے تو ایک نابینا صحابی (ابن ام مکتوم ؓ ) کے آنے پر نبی ﷺ نے وہاں بیٹھی خواتین کو پردہ کرنے کا حکم کیوں دیا؟
    راستوں پہ بیٹھنے والے صحابہ کرام ؓ کو آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم کیوں دیا گیا۔

    اس ساری بحث کا مدعا یہ ہے کہ یا تو آپ خود کو مسلمان کہلواتے ہوئے قرآن و سنت پہ بنا کسی شد و مد کے عمل کریں یا پھر مسلمان ہونے کا دعوٰی چھوڑ کر جو دل میں آتا ہے کرتے پھریں۔

    @Being_Faani