Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • پاکستان میں ٹین ایجرز کے مسائل تحریر  : فرقان اسلم

    پاکستان میں ٹین ایجرز کے مسائل تحریر : فرقان اسلم

    ٹین ایجرز سے مراد "ایسے لوگ جن کی عمریں 13 سے 19 سال کے درمیان اور وہ لڑکپن سے جوانی کی منزل طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں”۔
    ہمارے ملک پاکستان میں ٹین ایجرز آبادی کا بہت بڑا حصہ ہیں۔ اگر ہم برِصغیر کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹین ایجرز کو عموماً دبا کر رکھا جاتا ہے۔ ان کی دلچسپی اور شوق کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ان کو ذہنی طور پر مجبور کردیا جاتا ہے۔جس کے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنی اس پریشانی کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔
    اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں رہنے والے لوگوں کی انائیں ہیں جو خود کو ہر کام میں مداخلت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اور ٹین ایجرز کو ان کی مرضی یا رائے کے بغیر فیصلہ ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی انکار کرے یا کچھ کہنے کی ہمت کرے تو اس کو گستاخ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ جس کے وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت میں نکھار پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ یہاں تک دیکھنے میں آیا ہے ان کو مارا پیٹا جاتا ہے اور طاقت کے زور پر اپنے فیصلے منوانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بچوں کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے مار پیٹ سے بچہ مزید بگڑ جاتا ہے۔
    ان سب عوامل کی وجہ سے بچے کے ذہن پر دباؤ اور کشمکش کا عالم ہوتا ہے۔ اور ان سب حالات میں بچے کی تربیت کیسے کی جائے یہ بہت اہم سوال ہے۔

    اس کے لیے میں کچھ گزارشات پیش کروں گا:

    1. سب سے پہلے آپ گھر اور باہر کے حالات و واقعات پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کریں۔ جس سے آپ کو ان کی ذہنی پختگی کا اندازہ ہوجائے گا۔ پھر اس کے مطابق آپ فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    2.پڑھائی کے متعلق آپ ان کو آزادی دیں۔ ان پر اپنا فیصلہ ہرگز مسلط نہ کریں۔ بلکہ ان کو ان کی مرضی اور شوق کے مطابق چناؤ کا اختیار دیں۔ اس سے ان کے خوداعتمادی اور حوصلہ افزائی پیدا ہوگی۔

    3. انہیں گھر سے باہر جانے کا بھی موقع دیں۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں کو گھر تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ جس سے ان کے اندر خوداعتمادی کی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔ باہر کسی پارک یا تفریحی مقام پر جانے سے ان کے ذہنی نشوونما میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔

    4.ان کی محفل پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کے دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ اگر وہ برے دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں تو ان کو پیار سے منع کریں اور اگر اچھے دوستوں کے ساتھ تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

    5. اسکول یا کالج سے ان کے بارے میں وقتاً فوقتاً رپورٹ لیتے رہیں۔ ان کی حاضری اور دیگر سرگرمیوں پر نظر رکھیں اگر کوئی کمی یا کوتاہی نظر آئے تو اسے حل کرنے کی کوشش کریں۔

    6.انہیں نماز اور دینی کاموں کا علم سکھائیں۔ پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا کہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کا کہیں۔ باقی دینی احکام کا بھی علم سکھائیں۔ اگر بچہ لاپرواہی کرتا ہے تو پیار سے سمجھائیں۔

    7.جتنا ہوسکے موبائل کم سے کم استعمال کرنے دیں۔ بلکہ وہی وقت ہم نصابی سرگرمیوں میں صرف کرنے کا کہیں۔ اس طرح ان کھ اندر کام کی دلچسپی اور شوق پیدا ہوگا۔ موبائل کا استعمال بالکل ممنوع بھی نہیں ہونا چاہیئے ایک حد کے اندر استعمال ہونا چاہیئے۔

    8.ان کے سامنے دوسروں سے ادب سے بات کریں اور ان کو بھی بڑوں کا ادب کرنے کی تلقین کریں۔ اور ہر اچھے کام میں پہل کرنے کا کہیں۔ کیونکہ جو عادت اس عمر میں بن جاتی ہے پھر وہ پختہ ہوجاتی ہے۔

    9. گھر میں ان کے سامنے لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ جیسا آپ کرتے ہیں بچے بھی ویسا ہی سیکھتے ہیں۔ لٰہذا گھر کے ماحول کو بچوں کے سامنے پرسکون رکھیں۔

    10. نصاب کی کتب کے علاوہ دوسری اسلامی، تاریخی اور معلوماتی کتابیں پڑھنے کا بھی کہیں۔ اس سے ان کے مطالعہ میں اضافہ ہوگا اور ان کی شخصیت میں بہتری آئے گی اور وہ میچور ہوں گے۔

    اس ضمن میں سب سے اہم کردار والدین اور اساتذہ کا ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچے پر بلاوجہ سختی نہ کریں اور ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھیں۔ اور اساتذہ ان کی اچھی خوبیوں کا ان کو بتائیں۔ جس سے ہمارے بچوں کا مورال بلند ہوگا اور ایک صحتمند اور قابل معاشرے کا قیام عمل میں آئے گا۔
    والسلام

    ‎@Rumi_PK

  • زہریلے سانپ  تحریر: ایک تصویر کے دو رُخ

    زہریلے سانپ تحریر: ایک تصویر کے دو رُخ

    دنیا کے ہر کُونے میں طرح طرح کے خطرناک سانپ پائے جاتے ہیں کچھ سانپوں کے کاٹنے کی وجہ سے فوری طور پہ موت واقع ہو جاتی ہے کچھ ایسے سانپ بھی ہیں جن کے پاس سے گزر جانے پہ بھی انسان کو نقصان پہنچ جاتا ہے یوں تو چھوٹے موٹے بڑے سانپ ہر جگہ موجود ہیں پر یہ زیادہ ویران جگہوں ، جنگلوں اور کھیتوں والی جگہ پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک ایسا جزیرہ بھی موجود ہیں جدھر صرف سانپ ہی سانپ ہیں جدھر انسان کم بستے ہیں اتنے بڑے سانپ موجود ہیں کہ جو پورا انسان کھا جاتے ہیں ۔مغربی بحرالکاہل کا علاقہ گوام میں بھورے رنگ کے سانپ پائے جاتے ہیں اگرچہ یہ کم زہریلے ہیں مگر انکی تعداد بہت زیادہ ہے اتنی کہ مقامی لوگوں کے گھروں (بستروں) میں پہنچ جاتے ہیں ۔
    برازیل میں بہت خوبصورت جزیرہ ہے مگر وہاں انتہائی زہریلے سانپ پائے جاتے ہیں جنکا رنگ سُنہرا ہوتا ہے دیکھنے میں خوبصورت پرکشش دکھائی دیتے ہیں مگر ڈس لیں تو انکا زہر اتنا شدید قسم کا ہوتا ہے کہ انسانی گوشت پگھل کے ہڈیوں سے الگ ہوجاتا ہے اور فوری طور پہ موت واقع ہوجاتی ہے اسلیے وہاں انسان نہیں جاتے ان سانپوں کو سُنہرے سانپ کہا جاتا ہے اب بظاہر صورت سے یہ اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں مگر یہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں اسی طرح کچھ انسان بھی بہت خطرناک ہوتے ہیں جو اپنے انداز سے دوسروں کو متاثر، متوجہ کرتے ہیں پر ان کا کام بھی سانپ کی طرح موقع ملتے ہی ڈس لینا ہوتا ہے ۔
    سانپ کا زہر نکال لیا جائے تو وہ نقصان نہیں دے سکتا ۔ سانپ کا زہر بہت سے زہریلے مواد میں استعمال ہوتا ہے ۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں سانپ ایک ایسا جانور ہے جتنا بھی دودھ پلا لیں کاٹتا ضرور ہے ایسے ہی کچھ انسان سانپ کے روپ میں موجود ہوتے ہیں سانپ کا کاٹا شاہد بچ سکتا ہے مگر انسان کا کاٹا ساری زندگی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے سانپ اگر گھر سے باہر موجود ہے اس سے بچاؤ کیا جاسکتا ہے پر اگر گھر کے اندر موجود ہے وہ ہمارے لیے خطرناک ثابت ہو سکتاہے ۔بین الاقوامی سطح پہ ہمارے ملک کو بھی بہت سے سانپوں نے گھر کر رکھا ہے سب سے بڑا سانپ مودی کی شکل میں بھارت میں موجود ہے جو کہ امن کے بجائے فساد برپا کرنے میں سرفہرست رہا ہے کوئی موقع نہیں چھوڑتا پاکستان کو نقصان پہنچانے کا مگر اللّلہ ربّ العِزَت ہمیشہ اپنی ذات سے کرم فرمایا اور دشمن کو اپنے منہ کی کھانی پڑی ۔ باہر کا سانپ کچھ نہیں بگاڑ سکتا ملک کے اندر موجود غدار سانپ زیادہ زہریلے ہیں ۔جو ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ سب سے پہلے ان سانپوں کا صفایا لازمی ہےجب ایسے سانپ ملک سے ختم ہونگے پھر باہر کے سانپ خود بخود مر جائیں گے۔ ذاتی طور پہ اگر اپنے اردگرد دیکھا جائے تو بھی اپکو بہت سے سانپ ملیں گے خود کو آستیں کے سانپوں سے بچا کے رکھیں۔ خواب میں سانپ دیکھنا دشمن کی علامت ہوتی ہے۔دشمن کی صورت میں سانپ سے آپ لا علم نہیں ہوتے مگر آستین میں چھپے سانپ کو آپکی نظر نہیں دیکھ پاتی۔ یہ آہستہ اہستہ اپنا زہر منتقل کرتے رہتے ہیں جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں اور آپ ذہنی طور پہ معذور بھی. یہ ذہنوں کو اسطرح سے ڈس لیتے ہیں آپ کچھ بھی سوچنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ آپ جو کرنے کا ارداہ رکھتے ہیں کر نہیں پاتے مشکلوں کے انبار ہونگے پر وجہ نا معلوم ہوگی یہ آپکو اپنی راہ سے بھٹکا رہے ہوتے ہیں آپ کے ذہن پہ پوری طرح سے کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں آپ جو بھی کریں گے انکو بتا کے اور وہ ویسا ہونے نہیں دیتے ۔یہ آستین کے سانپ عموماً لہجےمیں میٹھاس رکھتے ہیں اپکے اردگرد رشتہ داروں اور دوستی کی صورت میں بھی موجود ہوتے ہیں ۔اپنے بھید کسی کو نہ دیں ہر چہرے میں وفاداری نہیں ہوتی جیسے ملک میں موجود غدار پاکستان کی معلومات باہر پہنچاتے ہیں اور پاکستان کا نام بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے ہمارے اردگرد کے موجود سانپ آپکی معلومات دوسروں تک پہنچا کے آپکو نقصان کے درپے ہوتے ہیں پر جنکا حامی و ناصر ربّ پاک ہو انکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔
    اختتام میں یہی کہوں گی جنکا مددگار ربّ پاک ہو انکو کوئی سانپ کیا آستین کا سانپ بھی کاٹ نہیں سکتا۔ دلدل میں گِرانے کی کوشش کرنے والے خود ہی اس دلدل میں جا گرتے ہیں۔ اللّلہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو اور اللّلہ پاک ایسے سانپوں سے ہمیں بھی اور ہمارے ملک کو بھی بچا کے رکھے آمین !!


    ‎@Hu__rt7

  • تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    اس وقت ملک میں موجود مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ تمباکو نوشی بھی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے استعمال میں ایک سنگین حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ جیسے کہ ہم سب باخوبی واقف ہیں کہ ہمارے اسلام میں نشے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو بہکائے، اس کی بری عادت بن جائے، جو اس کی جان کو ہلاکت میں ڈالے نشہ ہی تو ہے جو ہم سب مسلمانوں پر حرام یے۔

    اسی طرح تمباکو نوشی ایک ایسا نشہ ہے جو ہمارے معاشرے میں اس طرح سے پھیل رہا ہے جیسے جنگل میں لگی آگ پھیلتی یے۔ اس نشے سے سب سے زیادہ ہماری نوجوان نسل متاثر ہورہی یے۔ نوجوان لڑکے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے شوق کے متبادل اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    بلکہ اب تو لڑکیاں بھی بہت حد تک اس کی لپیٹ میں آچکی ہیں۔ پر افسوس وہ جان کر بھی انجام بنے ہوئے ہیں کہ جس چیز کو وہ اپنے شوق اور تفریح کے لیے استعمال کررہے ہیں درحقیقت وہ ان کے لیے کتنی جان لیوا ہے۔ تمباکو نوش یہ سب باتیں جانتے ہوئے بھی کہ ہم ہلاکت کے گڑھے میں جارہے ہیں تمباکو نوشی کا استعمال اور زور وشور سے کرتے ہیں۔

    جبکہ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالٰی نے واضح حکم دیا ہے:
    "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بےشک اللّٰہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے”
    (البقرہ 195:2)

    پھر ایک جگہ اور ارشاد ہوا ہے:
    "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بےشک اللّٰہ تم پر مہربان ہے”
    (النساء 29:4)
    اگر غور کیا جائے تو اس بات میں کوئی دورائے ہے ہی نہیں کہ ہر وہ انسان جو تمباکو نوشی کرتا ہے وہ جان بوجھ کر اپنی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے کیونکہ سگریٹ کی ہر ڈبیا پر واضح طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہوتے ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” یعنی خود سگریٹ بنانے اور بیچنے والے آپ کو چیخ چیخ کر بتارہے ہوتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

    پھر بھی اگر لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں تو وہ خود ہی اپنی جانوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں بلکہ اگر میں ایسا کیوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کا یہ کہنا ہے جب کوئی تمباکو نوش کسی دوسرے فرد کے ساتھ بیٹھ کر سگریٹ نوش کررہا ہوتا ہے تو اس سے خود سگریٹ پینے والے کو کم نقصان ہوتا ہے اور جو شخص اس کے آس پاس موجود ہوتا ہے وہ سگریٹ کے دھوئیں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی سے ہر سال ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اترتے ہیں اور کروڑوں افراد اس کی وجہ سے کئی کئی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں مثلاً دل، پھیپھڑوں، کینسر اور زیابطیس وغیرہ جیسی بیماریاں زیادہ تر اس کے سبب پھیل رہی ہیں۔ اب یہاں چند سوالات اٹھتے ہیں۔ آخر کو تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ابھی تک کسی قسم کے کوئی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ آخر کب تک ہزاروں قیمتی جانیں یوں ہی ضائع ہوتی رہیں گی؟ ہماری نوجوان نسلیں کب تک اپنی زندگیاں اپنے ہی ہاتھوں برباد کرتی رہیں گی؟

    @SeharSulehri

  • تمباکو نوشی معاشرہ میں زہر کی حثیت رکھتا ہے  تحریر چوہدری عطا محمد

    تمباکو نوشی معاشرہ میں زہر کی حثیت رکھتا ہے تحریر چوہدری عطا محمد

    آج اگر ہم اپنے اردگرد زرا غور کریں تو سینکڑوں نہی ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں لوگ تمباکو نوشی کرتے نظر آئیں گے اور اگر ہم ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن کی رپورٹ دیکھیں تو سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں آپ حیران ہوں گے یہ سن کر کہہ تقریباً چھ لاکھ لوگ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ وہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں اگر اسی رپورٹ کے تناظر میں ہم دیکھیں تو پورے اقوام عالم میں تقریباً سو کروڈ سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں تقریباً زیادہ تعداد ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی ہے اگر ہم ارض پاک پاکستان کی بات کریں تو ہمارے ہاں بھی تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسکی ایک بڑی وجہ ہمارے بچے اور نوجوان نسل اس کا شکار ہو رہی ہے کچھ فیشن سمجھ کر سگریٹ پیتے اور کچھ کو سگریٹ کی لت کالجز اور یونیورسٹی میں لگ جاتی
    ایک رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی سے ان بچوں اور نوجوانوں کے اخلاق پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے عام نارمل جسم میں تمباکو نوشی سے نشہ یا خمار سا پیدا ہوتا جو لگاتار سگریٹ نوشی کرنے والوں کو ٹی بی جیسی موضی مرض میں مبتلا کر دیتا تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اگر طبی ماہرین کی بات کو دیکھیں تو ان کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے یعنی سگریٹ نوشی کرنے والا ہر شخص اپنی اوسط عمر سے تقریباً پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق سگریٹ میں تقریباً چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء ہیں
    ہمارے ہاں جس سے بھی تمباکو نوشی ترک کرنے کا کہا جاۓ وہ کہتا اب بہت دیر ہو چکی ہے ہم تو کافی عرصہ سے سگریٹ نوشی کر رہے ہیں ایسا کہنا بلکل بھی غلط ہے تمباکو نوشی ترک کر کے ہم نہ صرف خود کو کافی حد تک بہت سی موضی مرض سے بچا سکتے ہیں بلکہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی خراب ہونے اور ہمارے دھواں سے جو دوسروں کو نقصان ہوتا ہے ان سب کو بھی سگریٹ نوشی ترک کر کے بچا سکتے
    سگریٹ نوشی معاشرے کے لئے ایک زہر ہے اور آپ سگریٹ نوشی چھوڑ کر ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں
    شروع میں چند دن آپ کو سگریٹ چھوڑنے سے الجھن ہوگی اور آپ سگرٹ چھوڑنےکے بعد،کچھ لوگ تھوڑے دن کے لیے اچھا محسوس نہیں کرتے۔  لیکن عام طور پریہ جلدی ٹھیک ھو جاتا ھے
    شرعی لحاظ اور اگر اسلام کی بات کریں تو علماء حضرات سگریٹ نوشی سے منع کرنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں تمباکو نوشی کو حرام قرار دیتے ہیں اسکی بڑی وجہ وہ ان جان لیوا بیماریوں کو بتاتے ہیں جو عام انسان کی بنسبت تمباکو نوشی کرنے والوں کو کئی گنا زیادہ لگتی
    تمباکو نوشی جیسی لعنت سے جان چھڑانے کے لئے سب سے پہلے والدین اساتزہ اور پھر معاشرہ کو مل کر اس کے لئے آواز اٹھانی ہوگی جب ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس سے جان چھڑانے کا پکا ارادہ کر لئے گے اور آواز اٹھائیں گے تو پھر حکومت وقت جو اس وقت اس اہم مسلہ پر سوئی ہوئی ہے جاگ جاۓ گی اور اسکے روک تھام کے لئے اقدامات کرے گی جن میں سب سے پہلے پبلک مقامات بس سٹینڈ پارکس بینک سرکاری آفس کالج سکول ہاسٹل یونیورسٹی پبلک ٹرانسپورٹ مثلاً ریل گاڑی بس رکشہ سب میں سگریٹ نوشی سختی سے منع ہو
    اور حکومت اس پر سخت قوانین بناۓ بھاری جرمانے لگاۓ اس سے کافی حد تک سگریٹ نوشی میں کمی واقع ہو سکتی ہے
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • وزیراعظم کےافغانستان مؤقف کی بین الاقوامی تائید اورافغانستان میں طالبان حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    وزیراعظم کےافغانستان مؤقف کی بین الاقوامی تائید اورافغانستان میں طالبان حکومت تحریر : سید محمد مدنی

    وزیراعظم کی بائیس سال کی سیاسی جدوجہد یہ بائیس سال کہنا تو بہت آسان ہے مگر گزارنا قدرے مختلف وزیراعظم نے بارہا کہا صرف مقامی خبروں کے چینلز پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی خبروں کے چینلز پر بھی متعدد بار یہی کہا کے افغانستان کا حل جنگ نہیں بات چیت ہے. اس مؤقف کو ہر جگہ اجاگر کیا گیا یہاں تک وزیراعظم کو طالبان خان کہا جانے لگا اس کی وجہ کے وزیراعظم نے افغانستان جنگ کی مخالفت کی اور کہا افغانستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف بات چیت ہی میں ہے.

    امریکہ کی اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس نے تاریخ سے کبھی نہیں سیکھا ویت نام ہو عراق ہو ایران کویت ہو یا افغانستان ہر جگہ گھسے جنگ کی اور بلا آخر کچھ بھی حاصل نا ہؤا اور واپس گئے اور آج ایک بار پھر افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء شروع ہو چکا ہے جب روس یو ایس ایس آر تھا تب بھی افغانستان میں امریکہ گیا اور سوائے نقصان کے کچھ حاصل نا ہؤا.

    آج زرا نئے امریکی صدر جوبائیڈن پر نظر ڈالیں تو وہ بھی یہی کہتا نظر آئے گا کے جنگ مسائل کا حل نہیں اور امریکی صدر نے یہ بھی کہا کے میں اب نئے آنے والے صدر پر ایک بار پھر افغانستان کا مسئلہ نہیں ڈالنا چاہتا میرے ملک کی افواج نے وہاں جانیں دیں اور مزید کیوں جانیں دے جب افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی اور فوج بجائے لڑنے کے بھاگ گئی اگرچہ امریکہ کی نیت پر بھروسہ تو نہیں کیا جا سکتا مگر حالات اب کچھ ایسے ہی نظر آتے ہیں کے امریکہ اس بار واقعی سنجیدہ ہے اور افغانستان سے واپس جا رہا ہے.

    جو ملک سب سے زیادہ تباہ ہؤا وہ پاکستان ہے کیونکہ اس نے دہشتگردی کا سامنا کیا ٹی ٹی پی اور جیسی کئی دہشتگرد تنظیموں نے پاکستان پر حملے کئے اب یہاں کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کے اب طالبان آگئے پھر سے حالات خراب ہوں گے افغان طالبان نے پاکستان پر حملے نہیں بلکہ امریکہ اور بھارت نے مل کر وہاں ایسے دہشت گرد بنائے جس نے پاکستان پر حملے کئے اور اب افغان طالبان کے ترجمان نے واضح کہا اور پاکستانی میڈیا پر کہا کے اب ہم افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ہم سب ممالک سے امن اور اچھے تعلقات کے حامی ہیں اس بیان سے سب سے زیادہ بھارت کو نقصان ہؤا ہے کیونکہ اشرف غنی کے دور حکومت میں افغانستان بھارت کے زیر اثر تھا بھارت نے وہاں انویسٹمنٹ کی دراصل وہ بیٹھا ہی پاکستان کو کنٹرول اور سینڈوچ کرنے کے لئے تھا لیکن حکمت عملی اور قدرت کا کچھ ایسا کرنا ہؤا کے امریکہ نے افغانستان سے ہاتھ اٹھایا اور یوں افغانستان سے اب پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی جنگوں کا بھی اختتام ہوگا
    کل وزیرستان میں پاکستان آرمی کے جوان پر فائرنگ کی گئی اور ایک جوان شہید ہؤا اب بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کے شائد ابھی بھی افغانستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے لیکن ایسا نہیں دراصل کچھ ایسے عناصر جو پاکستان میں پہلے ہی سے داخل ہوکر یہاں زندگی بسر کر رہے ہوں گے انھی کی کارستانی ہے.

    اب ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور ہے ہے اور اس میں خبروں کو انٹرنیٹ پر ایسے دکھایا جاتا ہے کے گویا وہ خبر درست ہو کچھ عرصے سے ہمارے سوشل میڈیا پر افغانستان سے متعلق باقاعدہ غلط خبروں کا سلسلہ شروع ہے کے لو جی طالبان آگئے اب پاکستان میں یہ ہوگا وہ ہوگا تو محترم قارئین اس بات کو بھی زیہن نشین کرلیں کے ایسی خبریں بھارت عناصر ہی پھیلائیں گے کیونکہ بھارت کو بہت نقصان ہؤا ہے اس کا پاکستان کو اکیلا کرنے اور پراکسی جنگ جاری رکھنے کا خواب الحمد لله چِکنا چُور ہوگیا ہے وہ غلط خبریں پھیلانے میں کسی بھی حد تک جائے گا مجھے امید ہے بلکہ یقین ہے کے اب افغانستان میں تبدیلی آئے گی ابھی جس وقت میں یہ کال م لکھ رہا ہوں تو کل یا کچھ دن پہلے بھارتی وزیراعظم کی کابینہ کا اہم سیکورٹی اجلاس اور افغانستان کی صورتحال پر جائزہ لیا گیا اس ویڈیو میں باڈی لینگویج بہت کچھ بتا رہی تھی کے بھارت کا کتنا نقصان ہؤا ہے.

    بھارتی وزیر خارجہ کل پرسوں دوحا قطر میں موجود تھے انھوں نے اپنے ہم قطری ہم منصب سے ملاقات کی اور افغانستان ڈسکس کیا اور مبصرین کے مطابق افغانستان میں تبدیلی اور بھارت کے پیچھے رہ جانے کتمے بعد بھارت دیگر راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے.

    پاکستان کی معیشت کے امکانات روشن ہیں افغانستان میں امن آنے کو ہے اور وسطی ایشیائی ممالک ( براستہ افغانستان) ، میں اپنی تجارت کو فروغ دے گا ان شاء ﷲ پھلتا پھولتا پاکستان.

    آمین.

    Twitter id : @ M1Pak

  • کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    چھوٹے ہوتے ہوئے بزرگوں سے یہی کہانیاں سنتے آئے ہیں کہ ہمارے دور میں ہم عورتیں اور مرد بڑے بڑے ہو کر بھی اکٹھے کھیلتے ہوتے تھے، کسی کے ذہن میں بے حیائی کا نام تک نہیں آتا تھا۔ وہ اچھے وقت ہوا کرتے تھے، آنکھوں کا نہیں دل کا پردہ ہوتا تھا۔ زنا اور زیادتی کے وقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ مگر آج کل کی جنریشن پتا نہیں کیا کھا کے پیدا ہوئی ہے کہ سنبھالی ہی نہیں جا رہی۔ کوئی شرم و حیا نہیں رہ گئی کوئی ادب اور سلیقہ نہیں ہے۔
    یہ وہ باتیں ہیں جو آج بھی پرانے بابے بزرگ ہمیں فخر سے سناتے ہیں لیکن وہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی سچائی کو سمجھنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ان کے زمانے میں گھر کے سربراہ کا اتنا دبدبہ ہوا کرتا تھا کہ اس کی موجودگی میں اس کے خوف سے کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا فیصلہ حکم آخر تصور ہوتا تھا جس کے خلاف نہیں جایا جا سکتا تھا۔ اس وقت گھر گھر میں یہ ٹی وی اور ٹک ٹاک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور یوٹیوب جیسے فتنے نہیں آئے تھے۔ بیٹیاں کتابوں کے اندر اپنے آشناؤں کی تصاویر نہیں چھپایا کرتی تھیں۔ کتاب کے اندر جاسوسی اور رومانی ناول نہیں رکھ کے پڑھے جاتے تھے۔ مرد و زن کا اختلاط نہیں ہوا کرتا تھا۔ گھر کے مرد بازار سے ساری شاپنگز کر کے لے آتے تھے اور وہ سارا سامان خواتین کا پسندیدہ ہوا کرتا تھا۔ خواتین بلا وجہ گھر سے باہر نکلا عیب سمجھا کرتی تھیں۔ مردوں کی غیر موجودگی میں دروازے پہ ہونے والی دستک کا جواب تک نہیں دیا جاتا تھا۔ اور سب سے بہترین عمل جو اس وقت کیا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں بچوں کی شادیاں کر دی جاتی تھیں۔
    موجودہ دور اس دور سے بالکل مختلف ہے۔ بچوں کو سکولوں میں بھی یہی پڑھایا جانے لگا ہے کہ آپ مادر پدر آزاد ہیں، آپ کا استاد آپ کو ڈانٹے تو پولیس میں رپورٹ کر کے اسے گرفتار کروا دیں۔ اگر باپ اصلاح کے لئے ڈانٹ دے تو اسے بھی اندر کروا دیں۔ مرد و زن کا اختلاط روشن خیالی تصور ہونے لگا ہے۔ موبائل فون نہ خرید کر دینے پہ نوجوان اولادیں والدین کو خود کشی کی دھمکیاں دینے لگی ہیں پھر بچے بچیاں موبائلوں پہ کیا کر رہے ہیں والدین کو پوچھنے تک کا اختیار نہیں۔ اعلی تعلیم کے لئے یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے آنے والے بچے کیمپسز میں ایک دوسرے کو پروپوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہاسٹلز میں گناہ ہوتے پائے جاتے ہیں۔ گناہ اس حد تک معاشرے میں سرائیت کر چکا ہے کہ معیوب بھی نہیں سمجھا جا رہا۔
    بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والی اولادیں قرآن و حدیث کو، جو ان کے لئے اور ہم سب کے لئے مشعل راہ اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے، اپنی آزادی کا دشمن تصور کر کے اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب انہیں قرآن کی کوئی آیت سنائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پتھر کے زمانے کے لوگوں کی باتیں، ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں تو اس کے مطابق چلیں گے۔ ذرا سوچیئے! جب اللہ کے پیارے نبی ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن سناتے تھے تو کیا وہ بھی یہی بات نہیں کہتے تھے کہ یہ قرآن تو صرف پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں؟
    اس سب سے بڑھ کر جو لوگ کہتے ہیں پردہ دل کا ہونا چاہیئے تو کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ کیا ان کے دل ازواج مطہرات اور صحابیات ؓ سے زیادہ پاک تھے؟ پھر اللہ نے کیوں نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنین کرام کی بیویوں کو پردہ کروایا جائے؟ کیوں صحابیات کو اونچی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کی جازت بھی نہیں دی گئی؟ کیوں کہا گیا کہ جب مرد اور عورت کہیں اکیلے ہوتے ہیں تو تیسرا ان کے درمیان شیطان ہوتا ہے؟ کیوں کہا کہ قیامت کے قریب آنے والے فتنوں میں سب سے خطرناک فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے؟
    اگر پردہ صرف دل کا ہی ہے تو ایک نابینا صحابی (ابن ام مکتوم ؓ ) کے آنے پر نبی ﷺ نے وہاں بیٹھی خواتین کو پردہ کرنے کا حکم کیوں دیا؟
    راستوں پہ بیٹھنے والے صحابہ کرام ؓ کو آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم کیوں دیا گیا۔

    اس ساری بحث کا مدعا یہ ہے کہ یا تو آپ خود کو مسلمان کہلواتے ہوئے قرآن و سنت پہ بنا کسی شد و مد کے عمل کریں یا پھر مسلمان ہونے کا دعوٰی چھوڑ کر جو دل میں آتا ہے کرتے پھریں۔

    @Being_Faani

  • وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    زندگی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جو ہمیشہ چلتی رہتی ہے کبھی ایک اسٹیشن سے دوسرے پر تو کبھی دوسرے سے تیسرے پر- بہت سے مسافر اس ریل گاڑی پر سفر کرتے ہیں کوئی اپنے مقررہ سٹیشن پر پہنچ چکا ہوتا ہے تو کوئی اپنے اسٹیشن کا انتظار کر رہا ہوتا ہے لیکن ریل گاڑی اپنا سفر جاری رکھتی ہے- جیسے ریل گاڑی اپنے آخری اسٹیشن پر جا کر ٹھہر جاتی ہے بالکل اسی طرح زندگی کا بھی آخری اسٹیشن آتا ہے جہاں زندگی رک جاتی ہے اور یہ ایسے لمحے ہوتے ہیں جب انسان کے جسم میں نہ طاقت رہتی ہے اور نہ باقی رہتی زندگی میں کچھ نیا حاصل کرنے کی خواہش رہتی ہے- یوں تو پوری زندگی انسان اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے جدوجہد میں گزار دیتا ہے اور اپنے مقاصد پورے کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے لیکن خود کے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نہیں نکال پاتا اور جب خود کے لیے وقت ملتا ہے تو تب انسان کی زندگی ریل گاڑی کی طرح اپنے آخری اسٹیشن پر کھڑی ہوتی ہے- بڑھاپے میں داخل ہونے کے بعد انسان کے پاس اپنی پوری زندگی میں گزارے وقت کی یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا- انسان کی زندگی میں بڑھاپا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انسان منہ نہیں موڑ سکتا اور بڑھاپے میں آنے کے بعد جب تک انسان اس دنیا میں حیات رہتا ہے تب تک وہ بوڑھا ہی رہتا ہے –
    دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے- اور یہ کب ہاتھ سے نکل جاتا ہے پتا ہی نہیں چلتا- یہ وقت ہی ہوتا ہے جو انسان کو گزری زندگی سے سبق دیتا ہے- اس دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں جو وقت کا وقت پر صحیح استعمال کر پاتے ہیں- وقت کی رفتار کو سمجھنا ایک انتہائی مشکل عمل ہے اور جو لوگ وقت کی رفتار سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ان کے لئے کامیابی کی منزل تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے وہ لوگ اپنی زندگی کی خواہشات اور ارادوں کو مقررہ وقت پر ہی سرانجام دینے کی کوشش کرتے ہیں وقت ضائع نہیں کرتے- اور جو لوگ اس وقت کی اہمیت اور اس کی رفتار کی نوعیت کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس سے سبق حاصل کرتے ہیں تو ایسے لوگ زندگی میں سوائے وقت ضائع کرنے کے اور کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتے اور آج کے کام پر ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں اور کل پر ڈالتے ہیں اور روزانہ اسی سوچ کے ساتھ پورا دن گزار دیتے ہیں کہ اپنے کام کو کل پورا کریں گے- وقت کبھی کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا اور نہ ہی زندگی کبھی روکتی ہے- زندگی گزر ہی جاتی ہے جیسے انسان اپنے بچپن کے دنوں میں سوچتا ہے کہ شاید وہ پوری زندگی بچہ ہی رہے گا اور کبھی جوان نہیں ہوگا لیکن بچپن گزر جاتا ہے اور انسان اپنی جوانی کے دور میں قدم رکھ لیتا ہے اور اس کے بعد انسان ایک بار پھر اپنی سوچ کو دہراتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ اسی طرح تندرست اور جوان رہے گا لیکن بالآخر انسان کی یہ سوچ بھی غلط ثابت ہو جاتی ہے اور انسان اپنی زندگی کے آخری حصہ کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور وہ انسان کی زندگی کا آخری اسٹیشن ہوتا ہے جہاں زندگی کی ریل گاڑی ٹھہر جاتی ہے- انسانی زندگی میں صحت و تندرستی ایک نعمت ہے اور ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی مصروف زندگی میں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نکالیں اور جتنا ہوسکے دوسروں کی مدد کریں اور آسانیاں پیدا کریں- اور اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں اور اس کو ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا-

    Twitter: ‎@AfaqHussainKhan

  • پاکستانی مرد تحریر:حفصہ قاسم


    مصروف زندگی میں فراغت کے چند لمحات میں جب موبائل فون کو دیکھتی ہوں تو سوشل میڈیا پر ہر طرف ایک ہی داستان جنگل میں آگ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ مرد ! درندہ ہے جانور ہے، بےحس ہے بے غیرت ہے۔ ہر روز ایک نئی کہانی لیکن اسی عنوان کے ساتھ۔ یہ سب دیکھ کے میرا دل دکھتا ہے۔ ہاں میں خود تو ایک لڑکی ہوں لیکن مردوں کے خلاف کچھ برا سن کے اچھا محسوس نہیں کرتی۔

    کہنے والے کہتے ہیں کہ مرد کو صرف اپنے گھر کی عورت ہی قابل عزت لگتی ہے لیکن میں اس بات سے متفق نہیں ہوں۔ کچھ دن پہلے ایک بیکری پر جانے کا اتفاق ہوا کاؤنٹر پر مردوں کی کثیر تعداد موجود تھی لیکن ایک لڑکی کو دیکھتے ہی سب نے اسے آگے بڑھ کے چارجز ادا کرنے کا موقع دیا۔ وہاں سے نکل کے جب رکشہ لیا تو رکشے میں اگلی سیٹ پر ہم دو لڑکیاں تھیں راستے میں کئی لڑکے اور مرد ملے جن کو تیسری سیٹ پر بیٹھایا جا سکتا تھا لیکن معمولی رکشہ چلانے والے نے اپنا نقصان کر لیا لیکن کسی لڑکے کا لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہیں سمجھا۔ منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے سڑک کو پار کرنا تھا۔ میں سڑک کے کنارے پریشان کھڑی تھی کیونکہ وقت کم اور رش بہت زیادہ تھا۔ جیسے ہی مجھے سڑک کے کنارے کھڑا دیکھا تو دور سے آنے والے مرد جن میں کچھ گاڑیوں پر اور کچھ موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، سب نے اپنی سپیڈ آہستہ کر دی اور میں نے پر سکون ہو کر سڑک کو پار کیا۔

    اب بات کر لیتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی۔
    تھوڑے سے فاصلے پر کچھ آدمی ایک لڑکے کو پیٹ رہے تھے وہ اسے تھپڑوں کے ساتھ گالیوں سے بھی نواز رہے تھے۔ مجمع بکھرا کچھ رش کم ہوا تو جاننے میں آیا صاحب کسی خاتون کو پریشان کر رہے تھے اسی وجہ سے انکی عزت افزائی تھپڑوں اور گالیوں سے کی جا رہی تھی۔ یہ میں اپنے گھر کے مردوں کی بات نہیں کر رہی اور نہ ہی ان مردوں میں سے کسی کے گھر کی عورت کی بات کر رہی ہوں۔

    میں پاکستان میں رہتی ہوں اور صرف پاکستانی مرد کو ہی جانتی ہوں ایک ہی دن میں مختلف جگہوں پر میں نے مختلف مردوں کو دیکھا میرا تجربہ ایسا ہی رہا کہ مرد عورت کی عزت کرتا ہے لیکن اس کے بعد کچھ ایسے آدمی بھی معاشرے کا حصہ ہیں جو ناقص تربیت اور شر پسند طبیعت کی وجہ سے عورت کو نشانہ بناتے ہیں ایسے حالات میں بھی اکثر دوسرے مرد عورت کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

    اچھے اور برے لوگ ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ہی جنس کو ٹارگٹ کرکے بار بار مرد کی غیرت کو للکارنے سے ہم انھیں بےحس بنانے میں اپنا کردار خوب ادا کررہے ہیں۔ عزت نفس ہر انسان کا اہم ترین اثاثہ ہوتا ہے جب کسی انسان کی عزت نفس کو مسلسل مجروح کرنے کی کوشش کی جائے تو بے غیرت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بےضمیر بھی ہوجاتا ہے۔

    ظلم وزیادتی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ ایک دفعہ اپنے گریبان میں ضرور جھانک لیں کہ آپ ان حالات میں اپنا کردار کیسے نبھا رہے ہیں۔ اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو آغاز اپنی ذات سے کریں اور پھر اپنے گھر سے۔

    یاد رہے معاشرے میں کچھ ہوس پرست لوگ ضرور موجود ہیں لیکن سب کو نشانہ مت بنائیں۔ اپنی حفاظت خود کرنا سیکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    میں سلام پیش کرتی ہوں ان تمام مردوں کو جو ہوس پرستی کے اس دور میں بھی عورت کی عزت کرتے ہیں۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں پاکستانی مردوں کو۔

    ‎@hafsaaqasim

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 05   تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 05 تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 4 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح معاشرے میں لوگ اپنا ضمیر بیچ رہے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلاتے شرم محسوس بھی نہیں کرتے ملاوٹ اور دھوکا دہی سے کماۓ پیسے انسانی زندگی کو فلوج کیا ہوا ہے یہ معاشرے کا ایسا ناسور ہے جس کو ختم کرنے سے کبھی ختم نہیں ہوتے جب تک انسان کی سوچ نہیں بدلتی ۔ اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کیسے سبزیوں پر رنگ ، پیٹرول میں گندا تیل ، بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل ، گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا یہ سب دھندے عروج پر ہیں

    سبزیوں پر رنگ کرنا:
    سبز پتوں والی سبزیاں صحت کیلئے قیمتی ہوتی ہیں، لیکن اب ان میں بھی اصلیت نام کی حد تک محدود رہ گئی ہے ۔ کیمیکل کی مدد سے ان کی پیداوار بڑھائی جارہی ہے اتنا ہی نہیں کریلے، بھنڈی، بیگن، ہری مرچ اور مٹر سمیت بہت ساری سر سبز سبزیوں کو ہرا اور تازہ رکھنے کے لئے سینتھٹک رنگ کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، یہی حال پھلوں کا بھی ہے، پھلوں کو تازہ، میٹھا اور چمک دار بنانے کے لئے کیمیکل کا استعمال بے روک ٹوک ہورہا ہے۔ ہری سبزیوں کی قدرتی پیداوار کے ساتھ ملاوٹ کا دھندہ عروج پہ ہے اسی طرح سبزیوں کو کیمیکل کی مدد سے ایک ہی رات میں کافی بڑا کردیا جاتا ہے، جن میں لوکی، کریلا، تربوز، خربوز، کھیرا ککڑی سمیت دیگر سبزیاں شامل ہیں بہت سارے لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ جس کھیرے اور ککڑی کو وہ سلاد میں استعمال کرکے کھارہے ہیں وہ صرف ایک ہی رات میں 10 سے 12 گھنٹے میں پوری طرح تیار ہو جاتے ہیں۔

    پیٹرول میں گندا تیل:
    پاکستان میں ہر جگہ ملاوٹ ہو رہی ہے تیل کے ملاوٹ سے ہم جو موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کرتے ہیں وہ اثر انداز ہو رہے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی موٹر سائیکل یا گاڑی میں ڈالا گیا تیل ملاوٹ سے پاک ہے یا نہیں تو کس طرح چیک کر سکتے ہیں
    1- سب سے پہلے ایک سفید رنگ کا کاغذ لیں اور اس کے اُوپر چند قطرے پٹرول کے ڈال دیں اِس کے بعد اُس پٹرول کو منہ سے پھونک نکال کر خشک کریں اگر پٹرول خالص ہوا تو ہوا میں اُڑ جاۓ گا اور سفید پیپر بالکل صاف ہوگا اور اگر پٹرول ملاوٹ شدہ ہوا تو وہ داغ چھوڑ جاۓ گا اس کا مطلب یہ ہوا جو ہم پٹرول استعمال کر رہے ہیں اس میں مٹی کے تیل کی ملاوٹ کی گئی ہے
    2- پٹرول میں کچھ لوگ ریزن کا استعمال بھی کرتے ہیں یہ ٹھوس اور مائع دونوں حالتوں میں دستیاب ہوتا ہے اس کو جلانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اس کو چیک کرنے کیلئے کہ اس پٹرول میں ریزن کی ملاوٹ کی ہے کہ نہیں اس کیلئے ایک پیالی لیں اس میں تھوڑی سی مقدار میں پٹرول ڈال دیں اب اس پٹرول کو آگ لگا دیں اگر آگ لگنے کے بعد پٹرول کے ساتھ پیالی کے پیندے کو بھی آگ لگ گئی ہے اور وہ کالی ہو گی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پٹرول میں ریزن کی ملاوٹ کی گئی ہے اسی طرح اگر وہی پٹرول ملاوٹ سے پاک ہوگا تو اس پیالی کے پیندے کو صاف ستھرا پائیں گے

    بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل:
    بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل کا بہت استعمال کیا جا رہا کھانے کی اشیاء سے لے کر کھیلنے کی ایشیاء تک ہو ہر ایک چیز میں ملاوٹ کی جاتی ہے اور بچے کھیلتے وقت کھیلونوں کو منہ میں ڈال لیتے ہیں جس سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اس لئے بچوں کو جو کھلونے دیں ان کو روزانہ کی بنیاد پر اچھی طرح اچھے محلول سے دھو کر دیں (جو جراثیم وغیرہ سے بھی پاک ہو)

    گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا:
    جیسا کے آپ سب جانتے ہیں گوشت ہر گھر کی ضرورت ہے اور لوگ بڑے شوق سے بناتے ہیں لیکن کیا آپ کو پتہ ہے جس جانور کا گوشت آپ لے رہے ہیں کیا وہ تندرست ہے یا بیمار یہ ہمیں پتا نہیں چلتا اسی طرح کیا گوشت میں پانی کے انجیکشن لگاۓ جارہے ہیں کہ نہیں
    ایسی ملاوٹ کی روک تھام کیلئے فوڈ سیفٹی اتھارٹی موجود ہے لیکن تمام زمہ داری تاجروں پہ ڈال دی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ رشوت خور رشوت لےکر اپنا کام ایمانداری سے سرانجام نہیں کرتے
    کسی بھی جانور کے گوشت میں پانی کے انجیکشن سے مراد ہے کہ جس جانور کو صبح ذبح کرنا ہو اس کو رات کے وقت ہی نتھنوں سے ایک ٹیوب گزار کر جسم میں پانی بھر دیا جاتا ہے یہ عمل جانور کیلئے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور پھر وہ پانی نظام انہضام کے ذریعے جانوروں کے خون اور خلیوں میں شامل ہو جاتا ہےاس سے گوشت کے وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس طرح کرنے سے جانور زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا اس لیے ذبح کرنے سے کچھ گھنٹے پہلے اس طرح کا عمل کرتے ہیں
    زندہ جانوروں میں پانی لگانا نہ صرف ظالمانہ ہے ، بلکہ ہمارے ملک کے متعلقہ قوانین کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے اور کھانے کی حفاظت میں بھی بہت سے خطرات سامنے آتے ہیں

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح لوگ بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا ،شوارمے میں مردہ جانوروں کا گوشت ،شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت ، منرل واٹر میں نلکے کا پانی کی ملاوٹ کس طرح سے کر رہے ہیں تاکہ عوام باخبر ہو اب تو لوگوں کا شیوہ بن گیا ہے دن رات ملاوٹ کرنا ، رشوت کے لین دین سے خفیہ طریقے سے پیسے کمانا لیکن لوگوں میں انسانیت ختم ہوگئی ہے کہ ہم کہاں ملاوٹ کر رہے ہیں اس ملاوٹ کو دور کریں اور اپنے بچوں کو حلال روزی کھلائیں یاد رکھیں ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو ضرور دیکھنا چاہیے ہم کیا ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ؟ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • غلط کو غلط کہیں گے  اور متحد رہیں گے انشاء الله –  تحرير حمیرا راجپوت

    غلط کو غلط کہیں گے اور متحد رہیں گے انشاء الله – تحرير حمیرا راجپوت

    ‏حالات وواقعات کی موجودہ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پر لکھنے سے پہلے چند باتوں کو مدنظر رکھ کر دھرانا ضروری سمجھتی ہوں کہ جیسا سب ہی جانتے کہ آجکل جنگوں کو طاقت کے زور پر لڑنے سے پہلے دنیا کو اپنا اچھا چہرہ دکھانا بھی ضروری ٹھہرتااور موجودہ دور ہی پروکسیز کی طاقت پر ملکوں کا معیار گرانا اور معیشت کو سنبھلنے نادیتے ہوئے چہره اتنا مسخ کردینا کہ دوسرے ممالک بھی بڑھ جڑھ کر حصہ لیں اور اسی ایماء 3طرح کا فائدہ حاصل ہوتا ہے
    1 دنیا کی نظر سافٹ کارنر ہوکر اپنی پاور دکھانےکااثر ملتا ہے
    2 دوسر ے ممالک پر اپنی سپرویژن دکھا کر قدر بڑھانےکاموقع
    3 دوسرے ممالک کی طاقت اور پیسہ استعمال ہوجانے سےاپنے ملک کا پیسہ بچالیاجاتا ہے اب سب ہی جانتے کہ اچھےحالات وترقی میں بہتری سے وہی روکتے ہیں جو دشمن ہوتے ہیں اور اسلام مخالف قوتیں پاکستان مخالف طاقتیں ہر کمزور پہلو سے فائده اسی طرح اٹھاناچاہتی ہیں جس طرح تاریخ کا حوالہ دوں تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی منافقین کا سامنا رہا یاصلیبی جنگیں تقریباً سن 1095 سے 1230 کے درمیانی عرصہ میں لڑی گئیں یاورلڈ وار 2 ہمیشہ سے میر جعفر و میر صادق جیسے لوگوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کئے گئے ہیں بالکل اسی طرح بہانہ کچھ اور نشانہ کچھ کی بنیاد بنا کر جب سے معرض وجود ھمارا ملک آیا ہے دشمنان نوجوان اسلام کو بھٹکانے اخلاقی دینی اور اصلاحی معیار گرانے کے پیچھے پڑے ہیں کبھی جذبات کے نام پر بھٹکا کر بے چینی اور نقصان کا سبب بنا دیا جاتا ہے کبھی ڈس انفاریشن کی جنگ سے اب جب دھشت گردی الحمد الله 2001 سے 2012 والا وه اثر نہیں رکھتی اور جو ازلی دشمنوں کو15اگست کے دن ضرب لگ چکی اس تکلیف کا اثر ہے کہ یہاں معاشرے کے ایک کمزور پہلو کو اٹھا کر اپنے مقاصد کا حصول شروع کردیا گیا اور مستقبل میں بھی کمزور پہلو پرہی وار کیا جائے گا کیونکہ براہ راست ون آن ون الجھنے کے باجود اتحادیوں کی طاقت مدد کا ہونا سود مندی اور قابل یقین جیت سمجھی جاتی ہے اور انہیں واقعات کا فائده اٹھاکر اب مردو خواتین سوشل میڈیا یا عام زندگی کے حصوں میں بٹے جارہے ہیں یا بانٹ دیا گیااور یہاں آپس کے الجھاؤ سے فائدہ وه اٹھانا چاہتے ہیں جو عوت کیلئے صرف8 مارچ کو نظر آتے ہیں معاشرے کے اس بگاڑ میں سب سے بڑی کمزروی میڈیا کی ہے جو اپنی ریٹنگ کے چکر اسلامی اور اصلاحی پروگرامز اور اچھے مقرررین ہر مسلک کے وه عالم جو تفرقہ کی بات نہیں کرتے انہیں موقع کیوں نہیں دیتے کہ آئیں اور پروگرامز کا حصہ بنیں معاشرے کی اصلاح کیلئے اصلاحی پروگرامز صرف رمضان ٹرانسمشن کا حصہ نہیں 24 گھنٹے میں کم از کم ایک گھنٹہ ضرور ایسے پروگرامز کو دینا ہی ہوگا یہاں والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ وه بچے یا بچی کی خوشی ٹکٹاک جی آفت سے اصلاح کے دائرے تک رکھیں وہیں حکومت وقت بھی اگر اس ٹکٹاک کو بند نہیں کرتی تو خصوصی اس کے قوانین اور بھاری جرمانے عائد کرے تاکہ کوئی بے حودگی اور بگاڑ کے چانسز کم سے کم تر کئے جاسکے اور جذباتی حضرات میں شامل ہونے سے بہتر کہ جہاں جس کی غلطی ہو وہاں اسی کو قصوروار ٹھہرائیں بجائے کسی ایک کی طرف داری پر اپنا موقف دیکر اس پر قائم ہوجائیں حقیقت کھلنے پر بجائے عزیمت اٹھانی پڑے اور قوم کو اصلاح بھرا کچھ کہہ کر صحافت کا معیار بلند کرنے کو اپنے موقف پر انا بنا کر کھڑے رہنا انتہائی افسوس کا مقام بنتا ہے اور یہی بگاڑ کی وجوہات بھی بنتی ہیں آخر میں ایسے جذباتی حضرات کو سانحہ موٹروے یاد کروادیتی ہوں جس پر اب تک کسی نے موازنہ نہیں کیا کہ وہ بھی ایک عورت ہی تھی لہذا مردو خواتین کو معاشرے کے چند حیوانوں کی وجہ سے ملک اور معاشرےسےمتنفر کرنے والے اپنی توانائی معاشرے کے سدھار کیلئے استعمال کریں الحمد الله نامم بے چین ہونگے نامتنفر نا کسی کے غم تکلیف میں استعمال ہوکر ملک کا چہرہ بگاڑیں گے اللّه پاک قوم کو اپنے اسلامی معاشرے پر فخر سے کیساتھ ھمیشہ متحد اور ملک کوکام یابیوں کی جانب گامزن رکھے🤲آمین
    تحریر…
    ‎@humiraj1