Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    زندگی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جو ہمیشہ چلتی رہتی ہے کبھی ایک اسٹیشن سے دوسرے پر تو کبھی دوسرے سے تیسرے پر- بہت سے مسافر اس ریل گاڑی پر سفر کرتے ہیں کوئی اپنے مقررہ سٹیشن پر پہنچ چکا ہوتا ہے تو کوئی اپنے اسٹیشن کا انتظار کر رہا ہوتا ہے لیکن ریل گاڑی اپنا سفر جاری رکھتی ہے- جیسے ریل گاڑی اپنے آخری اسٹیشن پر جا کر ٹھہر جاتی ہے بالکل اسی طرح زندگی کا بھی آخری اسٹیشن آتا ہے جہاں زندگی رک جاتی ہے اور یہ ایسے لمحے ہوتے ہیں جب انسان کے جسم میں نہ طاقت رہتی ہے اور نہ باقی رہتی زندگی میں کچھ نیا حاصل کرنے کی خواہش رہتی ہے- یوں تو پوری زندگی انسان اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے جدوجہد میں گزار دیتا ہے اور اپنے مقاصد پورے کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے لیکن خود کے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نہیں نکال پاتا اور جب خود کے لیے وقت ملتا ہے تو تب انسان کی زندگی ریل گاڑی کی طرح اپنے آخری اسٹیشن پر کھڑی ہوتی ہے- بڑھاپے میں داخل ہونے کے بعد انسان کے پاس اپنی پوری زندگی میں گزارے وقت کی یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا- انسان کی زندگی میں بڑھاپا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انسان منہ نہیں موڑ سکتا اور بڑھاپے میں آنے کے بعد جب تک انسان اس دنیا میں حیات رہتا ہے تب تک وہ بوڑھا ہی رہتا ہے –
    دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے- اور یہ کب ہاتھ سے نکل جاتا ہے پتا ہی نہیں چلتا- یہ وقت ہی ہوتا ہے جو انسان کو گزری زندگی سے سبق دیتا ہے- اس دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں جو وقت کا وقت پر صحیح استعمال کر پاتے ہیں- وقت کی رفتار کو سمجھنا ایک انتہائی مشکل عمل ہے اور جو لوگ وقت کی رفتار سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ان کے لئے کامیابی کی منزل تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے وہ لوگ اپنی زندگی کی خواہشات اور ارادوں کو مقررہ وقت پر ہی سرانجام دینے کی کوشش کرتے ہیں وقت ضائع نہیں کرتے- اور جو لوگ اس وقت کی اہمیت اور اس کی رفتار کی نوعیت کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس سے سبق حاصل کرتے ہیں تو ایسے لوگ زندگی میں سوائے وقت ضائع کرنے کے اور کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتے اور آج کے کام پر ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں اور کل پر ڈالتے ہیں اور روزانہ اسی سوچ کے ساتھ پورا دن گزار دیتے ہیں کہ اپنے کام کو کل پورا کریں گے- وقت کبھی کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا اور نہ ہی زندگی کبھی روکتی ہے- زندگی گزر ہی جاتی ہے جیسے انسان اپنے بچپن کے دنوں میں سوچتا ہے کہ شاید وہ پوری زندگی بچہ ہی رہے گا اور کبھی جوان نہیں ہوگا لیکن بچپن گزر جاتا ہے اور انسان اپنی جوانی کے دور میں قدم رکھ لیتا ہے اور اس کے بعد انسان ایک بار پھر اپنی سوچ کو دہراتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ اسی طرح تندرست اور جوان رہے گا لیکن بالآخر انسان کی یہ سوچ بھی غلط ثابت ہو جاتی ہے اور انسان اپنی زندگی کے آخری حصہ کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور وہ انسان کی زندگی کا آخری اسٹیشن ہوتا ہے جہاں زندگی کی ریل گاڑی ٹھہر جاتی ہے- انسانی زندگی میں صحت و تندرستی ایک نعمت ہے اور ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی مصروف زندگی میں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نکالیں اور جتنا ہوسکے دوسروں کی مدد کریں اور آسانیاں پیدا کریں- اور اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں اور اس کو ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا-

    Twitter: ‎@AfaqHussainKhan

  • پاکستانی مرد تحریر:حفصہ قاسم


    مصروف زندگی میں فراغت کے چند لمحات میں جب موبائل فون کو دیکھتی ہوں تو سوشل میڈیا پر ہر طرف ایک ہی داستان جنگل میں آگ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ مرد ! درندہ ہے جانور ہے، بےحس ہے بے غیرت ہے۔ ہر روز ایک نئی کہانی لیکن اسی عنوان کے ساتھ۔ یہ سب دیکھ کے میرا دل دکھتا ہے۔ ہاں میں خود تو ایک لڑکی ہوں لیکن مردوں کے خلاف کچھ برا سن کے اچھا محسوس نہیں کرتی۔

    کہنے والے کہتے ہیں کہ مرد کو صرف اپنے گھر کی عورت ہی قابل عزت لگتی ہے لیکن میں اس بات سے متفق نہیں ہوں۔ کچھ دن پہلے ایک بیکری پر جانے کا اتفاق ہوا کاؤنٹر پر مردوں کی کثیر تعداد موجود تھی لیکن ایک لڑکی کو دیکھتے ہی سب نے اسے آگے بڑھ کے چارجز ادا کرنے کا موقع دیا۔ وہاں سے نکل کے جب رکشہ لیا تو رکشے میں اگلی سیٹ پر ہم دو لڑکیاں تھیں راستے میں کئی لڑکے اور مرد ملے جن کو تیسری سیٹ پر بیٹھایا جا سکتا تھا لیکن معمولی رکشہ چلانے والے نے اپنا نقصان کر لیا لیکن کسی لڑکے کا لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہیں سمجھا۔ منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے سڑک کو پار کرنا تھا۔ میں سڑک کے کنارے پریشان کھڑی تھی کیونکہ وقت کم اور رش بہت زیادہ تھا۔ جیسے ہی مجھے سڑک کے کنارے کھڑا دیکھا تو دور سے آنے والے مرد جن میں کچھ گاڑیوں پر اور کچھ موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، سب نے اپنی سپیڈ آہستہ کر دی اور میں نے پر سکون ہو کر سڑک کو پار کیا۔

    اب بات کر لیتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی۔
    تھوڑے سے فاصلے پر کچھ آدمی ایک لڑکے کو پیٹ رہے تھے وہ اسے تھپڑوں کے ساتھ گالیوں سے بھی نواز رہے تھے۔ مجمع بکھرا کچھ رش کم ہوا تو جاننے میں آیا صاحب کسی خاتون کو پریشان کر رہے تھے اسی وجہ سے انکی عزت افزائی تھپڑوں اور گالیوں سے کی جا رہی تھی۔ یہ میں اپنے گھر کے مردوں کی بات نہیں کر رہی اور نہ ہی ان مردوں میں سے کسی کے گھر کی عورت کی بات کر رہی ہوں۔

    میں پاکستان میں رہتی ہوں اور صرف پاکستانی مرد کو ہی جانتی ہوں ایک ہی دن میں مختلف جگہوں پر میں نے مختلف مردوں کو دیکھا میرا تجربہ ایسا ہی رہا کہ مرد عورت کی عزت کرتا ہے لیکن اس کے بعد کچھ ایسے آدمی بھی معاشرے کا حصہ ہیں جو ناقص تربیت اور شر پسند طبیعت کی وجہ سے عورت کو نشانہ بناتے ہیں ایسے حالات میں بھی اکثر دوسرے مرد عورت کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

    اچھے اور برے لوگ ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ہی جنس کو ٹارگٹ کرکے بار بار مرد کی غیرت کو للکارنے سے ہم انھیں بےحس بنانے میں اپنا کردار خوب ادا کررہے ہیں۔ عزت نفس ہر انسان کا اہم ترین اثاثہ ہوتا ہے جب کسی انسان کی عزت نفس کو مسلسل مجروح کرنے کی کوشش کی جائے تو بے غیرت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بےضمیر بھی ہوجاتا ہے۔

    ظلم وزیادتی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ ایک دفعہ اپنے گریبان میں ضرور جھانک لیں کہ آپ ان حالات میں اپنا کردار کیسے نبھا رہے ہیں۔ اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو آغاز اپنی ذات سے کریں اور پھر اپنے گھر سے۔

    یاد رہے معاشرے میں کچھ ہوس پرست لوگ ضرور موجود ہیں لیکن سب کو نشانہ مت بنائیں۔ اپنی حفاظت خود کرنا سیکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    میں سلام پیش کرتی ہوں ان تمام مردوں کو جو ہوس پرستی کے اس دور میں بھی عورت کی عزت کرتے ہیں۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں پاکستانی مردوں کو۔

    ‎@hafsaaqasim

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 05   تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 05 تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 4 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح معاشرے میں لوگ اپنا ضمیر بیچ رہے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلاتے شرم محسوس بھی نہیں کرتے ملاوٹ اور دھوکا دہی سے کماۓ پیسے انسانی زندگی کو فلوج کیا ہوا ہے یہ معاشرے کا ایسا ناسور ہے جس کو ختم کرنے سے کبھی ختم نہیں ہوتے جب تک انسان کی سوچ نہیں بدلتی ۔ اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کیسے سبزیوں پر رنگ ، پیٹرول میں گندا تیل ، بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل ، گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا یہ سب دھندے عروج پر ہیں

    سبزیوں پر رنگ کرنا:
    سبز پتوں والی سبزیاں صحت کیلئے قیمتی ہوتی ہیں، لیکن اب ان میں بھی اصلیت نام کی حد تک محدود رہ گئی ہے ۔ کیمیکل کی مدد سے ان کی پیداوار بڑھائی جارہی ہے اتنا ہی نہیں کریلے، بھنڈی، بیگن، ہری مرچ اور مٹر سمیت بہت ساری سر سبز سبزیوں کو ہرا اور تازہ رکھنے کے لئے سینتھٹک رنگ کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، یہی حال پھلوں کا بھی ہے، پھلوں کو تازہ، میٹھا اور چمک دار بنانے کے لئے کیمیکل کا استعمال بے روک ٹوک ہورہا ہے۔ ہری سبزیوں کی قدرتی پیداوار کے ساتھ ملاوٹ کا دھندہ عروج پہ ہے اسی طرح سبزیوں کو کیمیکل کی مدد سے ایک ہی رات میں کافی بڑا کردیا جاتا ہے، جن میں لوکی، کریلا، تربوز، خربوز، کھیرا ککڑی سمیت دیگر سبزیاں شامل ہیں بہت سارے لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ جس کھیرے اور ککڑی کو وہ سلاد میں استعمال کرکے کھارہے ہیں وہ صرف ایک ہی رات میں 10 سے 12 گھنٹے میں پوری طرح تیار ہو جاتے ہیں۔

    پیٹرول میں گندا تیل:
    پاکستان میں ہر جگہ ملاوٹ ہو رہی ہے تیل کے ملاوٹ سے ہم جو موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کرتے ہیں وہ اثر انداز ہو رہے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی موٹر سائیکل یا گاڑی میں ڈالا گیا تیل ملاوٹ سے پاک ہے یا نہیں تو کس طرح چیک کر سکتے ہیں
    1- سب سے پہلے ایک سفید رنگ کا کاغذ لیں اور اس کے اُوپر چند قطرے پٹرول کے ڈال دیں اِس کے بعد اُس پٹرول کو منہ سے پھونک نکال کر خشک کریں اگر پٹرول خالص ہوا تو ہوا میں اُڑ جاۓ گا اور سفید پیپر بالکل صاف ہوگا اور اگر پٹرول ملاوٹ شدہ ہوا تو وہ داغ چھوڑ جاۓ گا اس کا مطلب یہ ہوا جو ہم پٹرول استعمال کر رہے ہیں اس میں مٹی کے تیل کی ملاوٹ کی گئی ہے
    2- پٹرول میں کچھ لوگ ریزن کا استعمال بھی کرتے ہیں یہ ٹھوس اور مائع دونوں حالتوں میں دستیاب ہوتا ہے اس کو جلانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اس کو چیک کرنے کیلئے کہ اس پٹرول میں ریزن کی ملاوٹ کی ہے کہ نہیں اس کیلئے ایک پیالی لیں اس میں تھوڑی سی مقدار میں پٹرول ڈال دیں اب اس پٹرول کو آگ لگا دیں اگر آگ لگنے کے بعد پٹرول کے ساتھ پیالی کے پیندے کو بھی آگ لگ گئی ہے اور وہ کالی ہو گی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پٹرول میں ریزن کی ملاوٹ کی گئی ہے اسی طرح اگر وہی پٹرول ملاوٹ سے پاک ہوگا تو اس پیالی کے پیندے کو صاف ستھرا پائیں گے

    بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل:
    بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل کا بہت استعمال کیا جا رہا کھانے کی اشیاء سے لے کر کھیلنے کی ایشیاء تک ہو ہر ایک چیز میں ملاوٹ کی جاتی ہے اور بچے کھیلتے وقت کھیلونوں کو منہ میں ڈال لیتے ہیں جس سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اس لئے بچوں کو جو کھلونے دیں ان کو روزانہ کی بنیاد پر اچھی طرح اچھے محلول سے دھو کر دیں (جو جراثیم وغیرہ سے بھی پاک ہو)

    گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا:
    جیسا کے آپ سب جانتے ہیں گوشت ہر گھر کی ضرورت ہے اور لوگ بڑے شوق سے بناتے ہیں لیکن کیا آپ کو پتہ ہے جس جانور کا گوشت آپ لے رہے ہیں کیا وہ تندرست ہے یا بیمار یہ ہمیں پتا نہیں چلتا اسی طرح کیا گوشت میں پانی کے انجیکشن لگاۓ جارہے ہیں کہ نہیں
    ایسی ملاوٹ کی روک تھام کیلئے فوڈ سیفٹی اتھارٹی موجود ہے لیکن تمام زمہ داری تاجروں پہ ڈال دی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ رشوت خور رشوت لےکر اپنا کام ایمانداری سے سرانجام نہیں کرتے
    کسی بھی جانور کے گوشت میں پانی کے انجیکشن سے مراد ہے کہ جس جانور کو صبح ذبح کرنا ہو اس کو رات کے وقت ہی نتھنوں سے ایک ٹیوب گزار کر جسم میں پانی بھر دیا جاتا ہے یہ عمل جانور کیلئے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور پھر وہ پانی نظام انہضام کے ذریعے جانوروں کے خون اور خلیوں میں شامل ہو جاتا ہےاس سے گوشت کے وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس طرح کرنے سے جانور زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا اس لیے ذبح کرنے سے کچھ گھنٹے پہلے اس طرح کا عمل کرتے ہیں
    زندہ جانوروں میں پانی لگانا نہ صرف ظالمانہ ہے ، بلکہ ہمارے ملک کے متعلقہ قوانین کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے اور کھانے کی حفاظت میں بھی بہت سے خطرات سامنے آتے ہیں

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح لوگ بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا ،شوارمے میں مردہ جانوروں کا گوشت ،شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت ، منرل واٹر میں نلکے کا پانی کی ملاوٹ کس طرح سے کر رہے ہیں تاکہ عوام باخبر ہو اب تو لوگوں کا شیوہ بن گیا ہے دن رات ملاوٹ کرنا ، رشوت کے لین دین سے خفیہ طریقے سے پیسے کمانا لیکن لوگوں میں انسانیت ختم ہوگئی ہے کہ ہم کہاں ملاوٹ کر رہے ہیں اس ملاوٹ کو دور کریں اور اپنے بچوں کو حلال روزی کھلائیں یاد رکھیں ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو ضرور دیکھنا چاہیے ہم کیا ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ؟ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • غلط کو غلط کہیں گے  اور متحد رہیں گے انشاء الله –  تحرير حمیرا راجپوت

    غلط کو غلط کہیں گے اور متحد رہیں گے انشاء الله – تحرير حمیرا راجپوت

    ‏حالات وواقعات کی موجودہ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پر لکھنے سے پہلے چند باتوں کو مدنظر رکھ کر دھرانا ضروری سمجھتی ہوں کہ جیسا سب ہی جانتے کہ آجکل جنگوں کو طاقت کے زور پر لڑنے سے پہلے دنیا کو اپنا اچھا چہرہ دکھانا بھی ضروری ٹھہرتااور موجودہ دور ہی پروکسیز کی طاقت پر ملکوں کا معیار گرانا اور معیشت کو سنبھلنے نادیتے ہوئے چہره اتنا مسخ کردینا کہ دوسرے ممالک بھی بڑھ جڑھ کر حصہ لیں اور اسی ایماء 3طرح کا فائدہ حاصل ہوتا ہے
    1 دنیا کی نظر سافٹ کارنر ہوکر اپنی پاور دکھانےکااثر ملتا ہے
    2 دوسر ے ممالک پر اپنی سپرویژن دکھا کر قدر بڑھانےکاموقع
    3 دوسرے ممالک کی طاقت اور پیسہ استعمال ہوجانے سےاپنے ملک کا پیسہ بچالیاجاتا ہے اب سب ہی جانتے کہ اچھےحالات وترقی میں بہتری سے وہی روکتے ہیں جو دشمن ہوتے ہیں اور اسلام مخالف قوتیں پاکستان مخالف طاقتیں ہر کمزور پہلو سے فائده اسی طرح اٹھاناچاہتی ہیں جس طرح تاریخ کا حوالہ دوں تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی منافقین کا سامنا رہا یاصلیبی جنگیں تقریباً سن 1095 سے 1230 کے درمیانی عرصہ میں لڑی گئیں یاورلڈ وار 2 ہمیشہ سے میر جعفر و میر صادق جیسے لوگوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کئے گئے ہیں بالکل اسی طرح بہانہ کچھ اور نشانہ کچھ کی بنیاد بنا کر جب سے معرض وجود ھمارا ملک آیا ہے دشمنان نوجوان اسلام کو بھٹکانے اخلاقی دینی اور اصلاحی معیار گرانے کے پیچھے پڑے ہیں کبھی جذبات کے نام پر بھٹکا کر بے چینی اور نقصان کا سبب بنا دیا جاتا ہے کبھی ڈس انفاریشن کی جنگ سے اب جب دھشت گردی الحمد الله 2001 سے 2012 والا وه اثر نہیں رکھتی اور جو ازلی دشمنوں کو15اگست کے دن ضرب لگ چکی اس تکلیف کا اثر ہے کہ یہاں معاشرے کے ایک کمزور پہلو کو اٹھا کر اپنے مقاصد کا حصول شروع کردیا گیا اور مستقبل میں بھی کمزور پہلو پرہی وار کیا جائے گا کیونکہ براہ راست ون آن ون الجھنے کے باجود اتحادیوں کی طاقت مدد کا ہونا سود مندی اور قابل یقین جیت سمجھی جاتی ہے اور انہیں واقعات کا فائده اٹھاکر اب مردو خواتین سوشل میڈیا یا عام زندگی کے حصوں میں بٹے جارہے ہیں یا بانٹ دیا گیااور یہاں آپس کے الجھاؤ سے فائدہ وه اٹھانا چاہتے ہیں جو عوت کیلئے صرف8 مارچ کو نظر آتے ہیں معاشرے کے اس بگاڑ میں سب سے بڑی کمزروی میڈیا کی ہے جو اپنی ریٹنگ کے چکر اسلامی اور اصلاحی پروگرامز اور اچھے مقرررین ہر مسلک کے وه عالم جو تفرقہ کی بات نہیں کرتے انہیں موقع کیوں نہیں دیتے کہ آئیں اور پروگرامز کا حصہ بنیں معاشرے کی اصلاح کیلئے اصلاحی پروگرامز صرف رمضان ٹرانسمشن کا حصہ نہیں 24 گھنٹے میں کم از کم ایک گھنٹہ ضرور ایسے پروگرامز کو دینا ہی ہوگا یہاں والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ وه بچے یا بچی کی خوشی ٹکٹاک جی آفت سے اصلاح کے دائرے تک رکھیں وہیں حکومت وقت بھی اگر اس ٹکٹاک کو بند نہیں کرتی تو خصوصی اس کے قوانین اور بھاری جرمانے عائد کرے تاکہ کوئی بے حودگی اور بگاڑ کے چانسز کم سے کم تر کئے جاسکے اور جذباتی حضرات میں شامل ہونے سے بہتر کہ جہاں جس کی غلطی ہو وہاں اسی کو قصوروار ٹھہرائیں بجائے کسی ایک کی طرف داری پر اپنا موقف دیکر اس پر قائم ہوجائیں حقیقت کھلنے پر بجائے عزیمت اٹھانی پڑے اور قوم کو اصلاح بھرا کچھ کہہ کر صحافت کا معیار بلند کرنے کو اپنے موقف پر انا بنا کر کھڑے رہنا انتہائی افسوس کا مقام بنتا ہے اور یہی بگاڑ کی وجوہات بھی بنتی ہیں آخر میں ایسے جذباتی حضرات کو سانحہ موٹروے یاد کروادیتی ہوں جس پر اب تک کسی نے موازنہ نہیں کیا کہ وہ بھی ایک عورت ہی تھی لہذا مردو خواتین کو معاشرے کے چند حیوانوں کی وجہ سے ملک اور معاشرےسےمتنفر کرنے والے اپنی توانائی معاشرے کے سدھار کیلئے استعمال کریں الحمد الله نامم بے چین ہونگے نامتنفر نا کسی کے غم تکلیف میں استعمال ہوکر ملک کا چہرہ بگاڑیں گے اللّه پاک قوم کو اپنے اسلامی معاشرے پر فخر سے کیساتھ ھمیشہ متحد اور ملک کوکام یابیوں کی جانب گامزن رکھے🤲آمین
    تحریر…
    ‎@humiraj1

  • ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ    تحریر: زاہد کبدانی

    ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ تحریر: زاہد کبدانی

    غربت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ ہے اس حقیقت کے ساتھ کہ اکثر لوگوں کے پاس محدود اقتصادی وسائل ہیں اور ان کا معیار زندگی کم ہے۔ عوام تعلیم ، صحت ، مواصلات اور اچھی خوراک میں جدید سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ ایسے لوگ آمدنی کے وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں اور وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ متوازی زندگی گزارنے کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ مقابلے کے اس دور میں وہ اپنے حقوق سے محروم محسوس کرتے ہیں اور کمتریاں ان پر حاوی ہوتی ہیں۔ وہ کنبے کے ساتھ بیٹھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اچھے لوگوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات نہیں دیے جاتے کیونکہ وہ غربت کی وجہ سے ناپسندیدہ ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر ناخواندہ ہوتے ہیں اور ان کی دوستی ایک ہی قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا معیار زندگی تعلیم اور معاشی وسائل کے بغیر نہیں بڑھتا۔ غربت خود ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ غریب لوگ نئے رجحانات پر عمل کرنے سے قاصر ہیں اور وہ سماجی زندگی میں نئے طریقے اپنانے میں ناکام رہتے ہیں۔

    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ غربت کو ایک سماجی مسئلہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ آگے بڑھنے والے لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ترقی کے طریقے نہیں سمجھتے: وہ زیادہ تر مایوس ہوتے ہیں جب ان کی ضروریات زندگی نہیں ہوتی
    پوری. مایوسی میں وہ جارحانہ ہو جاتے ہیں اور ایسی حرکتیں کر سکتے ہیں جو کہ مجرمانہ نوعیت کی ہیں۔ دوسروں کی نفرت کی وجہ سے وہ رد عمل لیتے ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ وہ معاشی عدم مساوات کی وجہ سے امیر لوگوں کی گاڑیاں اور املاک تباہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات امیر آدمی کا بچہ اغوا ہو جاتا ہے۔ کبھی اس کی گاڑی اٹھا لی جاتی ہے اور کبھی ”اس کے گھر میں ڈاکو ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ امیر آدمی پر قتل جیسے زیادہ گھناؤنے جرم کی طرف جاتا ہے۔ اس طرح سے. غربت ایک سماجی مسئلہ ہونے کی وجہ سے سنگین نوعیت کے دیگر سماجی مسائل پیدا کرتا ہے۔
    ایک معاشرتی مسئلہ کے طور پر غربت۔
    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ یہ کئی سماجی مسائل کو جنم دیتا ہے جو کہ ذیل میں دیے گئے ہیں۔
    1. غربت ناخواندگی اور جہالت پیدا کرتی ہے۔
    بہت سے بچے اس مسئلے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر سال لاکھوں بچے معاشی مسائل کی وجہ سے تعلیم کے بجائے کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    2۔ دہشت گردی بھی غربت کی پیداوار ہے۔
    دہشت گرد بہت سارے پیسے دے کر چھوٹے بچوں اور غریب نوجوانوں کو پھنساتے ہیں اور انہیں ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد بننے کی تربیت دیتے ہیں۔
    3. جرائم اور معاشرتی برائیاں:
    جرائم اور معاشرتی برائیاں کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ غربت کی چھتری لوگ غربت کی وجہ سے جرائم کرتے ہیں۔ بہت سی سماجی برائیاں بھی اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
    4: اقتصادی اور سماجی ترقی میں رکاوٹ:
    5: غربت ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے جو پوری قوم کو پریشان کرتی ہے۔ تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ غربت ایک سماجی مسئلہ ہے اور یہ بھی ہے
    کہ، بہت سے دوسرے سماجی مسائل کی ماں ہے،

    غربت کی وجوہات۔
    غربت کی کئی وجوہات ہیں جو کہ ذیل میں دی گئی ہیں۔ جن میں. قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کمی:
    ہم قدرتی ماحول سے معاشی وسائل حاصل کرنے سے قاصر ہیں جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔ یہ زمین ، پہاڑ ، پہاڑ ، دریا اور آبشار ہیں جہاں سے ہم اپنی تکنیکی مہارت سے دولت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم پہاڑوں سے بہنے والے پانی کو ڈیموں میں کنٹرول اور موڑ سکتے ہیں جہاں سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور نہروں کو آبپاشی کے لیے۔
    کم معیار کے کام سے بچیں:
    2: ہماری قوم کے لوگ محنت اور مشقت سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ، سڑک پر اور سڑک پر کام کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ وہ مزدوری میں کام نہ کرکے بلکہ صاف ستھرا لباس پہن کر اپنے آپ کو قابل احترام سمجھتے ہیں۔ احترام اور وقار کا یہ تصور انہیں گھروں میں گھس جاتا ہے ، رہنے کے لیے گندی جگہیں اور ان کے رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی کی سہولتوں سے محروم معیاری کھانا۔
    محنت کی کمی منشیات کی لت کا باعث بنتی ہے:
    3: ایسے لوگ جو محنت سے گریز کرتے ہیں غریب آدمی کی زندگی گزارتے ہیں اور زیادہ تر منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ ہیروئین ، چرس اور زیادتی کی دوسری چیزوں میں گھس جاتے ہیں۔ ممنوعہ حرکتیں ان کی عادات میں داخل ہو جاتی ہیں اور وہ ناجائز سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتی ہیں ، جو زندگی میں مجرمانہ کارروائیوں کا باعث بنتی ہیں۔
    مخالف سماجی عادات:
    4: بے روزگار اور بے روزگار لوگ بھی ایسی عادتوں میں پڑ جاتے ہیں ، جو کہ سماج مخالف ہیں ، جیسے ’جوا ، شراب نوشی ، دھوکہ دہی ، چوری اور ڈکیتی۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ان اقسام کے ساتھیوں میں مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ وہ مطمئن رہتے ہیں اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے گھر سے چیزیں چوری کرتے ہیں۔ تمباکو نوشی اور جھوٹ بولنا بری عادت ہے جو ایسے بے کار بالغوں کے عمومی رویے میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ بیکار اور بیکار لوگ ہیں جو اچھے شہریوں سے نفرت کرتے ہیں۔

    ‎@Z_Kubdani

  • اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا خوشحال گڑھ تحریر: اعجازالحق عثمانی

    اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا خوشحال گڑھ تحریر: اعجازالحق عثمانی

    اگر آپ خوشحال گڑھ کو نہیں جانتے تو "گھبرانا نہیں ہے” ۔کیونکہ اس کو تو وہ بھی نہیں جانتے جو یہاں سے ووٹ لیتے ہیں۔ اور اگر آپ خوشحال گڑھ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو "گھبرانا نہیں ہے” فیض کا یہ شعر آپکو سمجھا دے گا

    یہ حسین کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
    کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے

    اس تہذیبی دینا سے اگر آپ پتھر کے زمانے میں جانا چاہتے ہیں تو جناب پھر گھبرانا کس بات کا۔۔۔ خوشحال گڑھ حاضر ہے۔۔۔ جی ہاں! ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا یہ گاؤں آج بھی پتھر کے زمانے کی شاید آخری نشانی ہے۔ "خوشحال گڑھ”کا نام سن کر ذہن میں لفظ خوشحالی یوں ناچتا ہے کہ جیسے "جب آئے گا عمران خان” پر کوئی دیوانہ ناچے۔مگر رکیو زرا! یہ خوشحال گڑھ وہ ہے،جہاں خوشحالی کہیں نظر ہی نہیں آتی ہے۔ چاہے آپ ہلال کمیٹی کو بھی بلا لیں۔ جہاں کی گلیاں ، اکلوتی پکی سڑک( جس کو اب پکی کہنا، پاکستانیوں کی پکی قسم کی مترادف ہے) اور گاؤں کی واحد ڈسپنسری گھبرائی ہوئی اس امید میں نظر آتی ہے کہ کوئی مسیحا آئے اور ہمیں بھی کہے کہ ” گھبرانا نہیں ہے”
    10 ہزار سے زائد ووٹوں پر مشتمل یہ علاقہ یہاں کے واحد لڑکیوں کے سکول میں اپنی 10 بیٹیاں بھی نہیں پڑھا سکا۔ یہاں کبھی سائیکل تو کبھی شیر کا راج رہا۔ مگر یہاں کی واحد پکی سڑک پر اگر کبھی شیر چلنا چاہے تو ایک منٹ سے زائد نہ چل پائے گا اور سائیکل تو 10 سیکنڈز میں ہی پنکچر ہوجائے ۔ لیڈر شپ ،پانی، صحت ،اور تعلیم جیسی کئی اور سہولیات کے فقدان کو یہاں دیکھ کر لگتا ہے کہ لفظ فقدان نے اسی علاقے میں جنم لیا ہوگا۔
    خوشحال گڑھ ضلع چکوال کی نہ صرف سوتیلی بلکہ وہ معصوم اور خاموش اولاد ہے جس نے آج تک حقوق نہ ملنے کا کبھی گلہ ہی نہیں کیا۔ کسی زمانے میں خوشحال گڑھ میں ٹیلیفون اور ٹیلیویژن اتنے ہی تھے، جتنی یہاں خوشحالی۔ مگر اب تو ہر نوجوان کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ بہت بڑی تعداد فیس بکی بھی ہے۔ مگر افسوس! یہاں کے نوجوان نے کبھی اپنے علاقے کے لیے فیس بک پر آواز نہیں اٹھائی۔ جب بھی پوسٹ کی اپنی برادری کے اس مقامی رہنما کےلیے جس کے لیے خوشحال گڑھ کی ترقی کبھی اہم ہی نہیں رہی ۔
    اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا "خوشحال گڑھ”

    اگر آپ خوشحال گڑھ کو نہیں جانتے تو "گھبرانا نہیں ہے” ۔کیونکہ اس کو تو وہ بھی نہیں جانتے جو یہاں سے ووٹ لیتے ہیں۔ اور اگر آپ خوشحال گڑھ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو فیض کا یہ شعر آپکو سمجھا دے گا

    یہ حسین کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
    کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے
    اس تہذیبی دینا سے اگر آپ پتھر کے زمانے میں جانا چاہتے ہیں تو جناب پھر گھبرانا کس بات کا۔۔۔ خوشحال گڑھ حاضر ہے۔۔۔ جی ہاں! ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا یہ گاؤں آج بھی پتھر کے زمانے کی شاید آخری نشانی ہے۔ "خوشحال گڑھ” نام سن کر ذہن میں لفظ خوشحالی یوں ناچتا ہے کہ جیسے "جب آئے گا عمران خان” پر کوئی دیوانہ ناچے۔مگر رکیو زرا! یہ خوشحال گڑھ وہ ہے،جہاں خوشحالی کہیں نظر ہی نہیں آتی ہے۔ چاہے آپ ہلال کمیٹی کو بلا لیں۔ جہاں کی گلیاں ، اکلوتی پکی سڑک( جس کو اب پکی کہنا، پاکستانیوں کی پکی قسم کی مترادف ہے) اور گاؤں کی واحد ڈسپنسری گھبرائی ہوئی اس امید میں نظر آتی ہے کہ کوئی مسیحا آئے اور ہمیں بھی کہے کہ ” گھبرانا نہیں ہے”
    10 ہزار سے زائد ووٹوں پر مشتمل یہ علاقہ یہاں کے واحد لڑکیوں کے سکول میں اپنی 10 بیٹیاں بھی نہیں پڑھا سکا۔ یہاں کبھی سائیکل ، کبھی شیر کا راج رہا۔ مگر اس واحد پکی سڑک پر اگر کبھی شیر چلنا چاہے تو ایک منٹ سے زائد نہیں چل پائے اور سائیکل تو 10 سیکنڈز میں ہی پنکچر ہوجائے۔ لیڈر شپ ،پانی، صحت ،اور تعلیم جیسی کئی اور سہولیات کے فقدان کو یہاں دیکھ کر لگتا ہے کہ لفظ فقدان نے اسی علاقے میں جنم لیا ہوگا۔
    خوشحال گڑھ ضلع چکوال کی نہ صرف سوتیلی بلکہ وہ معصوم اور خاموش اولاد ہے جس نے آج تک حقوق نہ ملنے کا کبھی گلہ ہی نہیں کیا۔ کسی زمانے میں خوشحال گڑھ میں ٹیلیفون اور ٹیلیویژن اتنے ہی تھے، جتنی یہاں خوشحالی۔ مگر اب تو ہر نوجوان کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ بہت بڑی تعداد فیس بکی بھی ہے۔ مگر افسوس! یہاں نوجوان نے کبھی اپنے علاقے کے لیے فیس بک پر آواز نہیں اٹھائی۔ جب بھی پوسٹ کی اپنی برادری کے اس مقامی رہنما کےلیے جس کے لیے خوشحال گڑھ کی ترقی کبھی اہم ہی نہیں رہی ۔ اگر یہاں کا نوجوان اب بھی نہ جاگا تو پھر دینا سے 50 سال پیچھے اس خوشحال گڑھ میں ہماری نسلیں، پسماندگی کو دیکھ کر ہمیں ضرور کوسیں گی۔

    @EjazulhaqUsmani

  • عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    واقعہ مینار پاکستان_خود کو مشہور کرنے کے لئے رچایا گیا ایک فلاپ ڈرامہ لیکن مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب۔

    تواجہ لینی تھی لے لی۔۔۔ ہمدردیاں سمیٹنی تھیں سمیٹ لیں۔۔۔ اور اس سے بھی بڑا ہدف۔۔۔ وطن عزیز کو ایک غیر محفوظ ملک مشہور کرنے کے لئے بھارتی میڈیا سے مدد پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا اور اس سب میں ساتھ دیا عورت کے نام نہاد خیر خواہ صحافیوں یاسر شامی اور اقرارالحسن نے۔

    اس واقعہ سے پہلے عائشہ نامی خاتون کو ایک پرائیوٹ پارٹی سنگر کے طور پر بھی اکا دکا لوگ جانتے تھے اور میں سٹریم میڈیا پہ تو اس کا کوئی نام جانتا تھا نہ کام، لیکن اب ہر جگہ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کی بات ہو رہی ہے جیسا وہ چاہتی تھی۔ جیسے ہی ٹک ٹاکر والی ویڈیو وائرل ہوئی سارے پاکستانیوں نے رنج وغم میں مبتلا ہو کر جسٹس فار عائشہ،تمام مرد جنسی کتے ہیں اور عورت کے تحفظ پر ٹینڈز کی بھرمار کر دی تقریبا” آدھے پاکستانيوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيتيں ختم ہوگئیں حالانکہ کفن پہن کر مرنے کا ڈرامہ، شوہر کے جھوٹی موت کی خبر اور اپنی ہی پورن ویڈیوز لیک جیسے سٹنٹس تو ہم ماضی میں دیکھ ہی چکے ہیں لیکن بحثیت قوم ہماری یاداشت بہے کمزور ہے۔

    عائشہ کے لئے انصاف مانگنے والے اور اس واقعہ پر بیٹی نہ ہونے پر خدا کا شکر ادا کرنے والے نام نہاد عزت دار اور غیرجانبدار صحافی نے یہ اس پلانٹڈ انٹرویو میں یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ کیا اس خاتون نے پبلک پلیس پر ایک اجتماع اکٹھا کرنے کے لئے لوکل گورنمنٹ سے اسکی اجازت لی؟ اگر ہاں تو اس حادثے میں ذمہ داران (لوکل۔سیکورٹی) کی کوتاہی پر سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ اور اگر نہیں تو پھر خاتون نے کس مقصد کے تحت اس اجتماع کو خفیہ رکھ کر لوگوں کو جمع کیا؟ اور بےغیر اجازت 400 بندہ اکٹھا ہونے، اور اس طوفان بدتمیزی کے باوجود اگر مینار پاکستان کی سیکیورٹی حرکت میں کیوں نہیں آئی۔۔۔ کیا یہ خاموشی بھی اس ڈرامے کا حصہ تھی یا ڈیپارٹمنٹ کی ستو مارکہ کوتاہی ہے کہ اس کو علم ہی نہ ہو سکا اور قوم کی بیٹی بنی ایک خاتون وہاں جلسہ کرتی 400 لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی؟ اس کے والدین نے اسکی اجازت کیسے دی ؟ اسکی ماں کو اپنی بیٹی کا ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ بیٹی کہاں کہاں گھوم پھر کے آ رہی ہے ؟ اس کے دوست کون لوگ ہیں؟ کس کے ساتھ کام کر رہی ہے؟کام کی نوعیت کیا ہے؟ کام ٹھیک ہے یا غلط؟ یہ تمام سوالات ایک طرف کیا خاتون سے صرف یہ پوچھا کہ گیا اس 400 مردوں کے ہمراہ ایک نامحرم مرد کی بانہوں کے حصار میں مارچ کرتی یہ تنہا قوم کی بیٹی وہاں کیا کر رہی تھی؟ کیا عائشہ کے والدین نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ اسکی بیٹی مرد ہے یا عورت ۔۔۔ عورت ہے تو مردوں کے بیچ کیا کرنے گئی تھی، اگر مرد نما عورت ہے تو مردوں سے کیا گلہ؟ عرض یہ کہ اس کے والدین کے صلاح سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے کہ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں پیسہ کمانے کا شارٹ کٹ یہی ہے کہ ملک میں عورت کارڈ کو لے کر تحفظ کے لئے ننگ دین و ننگ ملت ہو جاو میں پوری وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کچھ عرصہ بعد یہ ڈرامہ کوین ٹی وی کے مختلف اشتہاروں میں اور ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر مردوں کے خلاف بکواس کرتی نظر آئے گی 8 مارچ کے منصوبے پر کام کر رہی ہوگی، اس کا پری ٹریلر تو مغربی لباس میں ناچتے پبلک ویڈیوز کے بعد خاتون کا حجاب میں ایک نجی چینل کو دیا گیا بے پناہ جھوٹوں پہ مشتمل بوگس انٹرویو ہے۔

    مختصر یہ کہ یہ ایک رچا رچایا ڈرامہ تھا جو بہت سے لوگوں معلوم ہوا کچھ جو باقی انجان بننے پھیر رہے ہیں وہ یا تو معلومات محدود رکھتے ہیں یا لبرلستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں جرم ہو وہاں مرد اور عورت کا تفریق نہیں ہے جرم دیکھا جاتا ہے اور اس حساب سے اس کی سزا کا تعین ہمارے رب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں 8 مارچ کی منصوبہ پر کام ہو رہا ہو صرف مرد کو جانور ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے سارا جھگڑا ہی اسی بات پر ہے ۔ جن جرائم کا ذکر اکثر تحریروں میں مرد ناقابل بھروسہ اور جانور ثابت کرنے پر ہے میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ انکو عبرت ناک سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی جگہ جہاں سے ساری دنیا دیکھ سکے اور عبرت پکڑے (لیکن پھر یہی ٹولہ ان سزاؤں کے قانون بننے پہ مخالفت کرتا نظر آتا ہے) لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کی مرد بھروسہ مند نہیں۔
    یہی مرد باپ کی شکل میں تو فرشتہ ۔
    بھائی کی شکل میں تو محافظ۔
    خاوند کی شکل میں ہو تو بیوی کی چھوٹی سی دنیا کا شہنشاہ۔
    بیٹے کی شکل میں تو مان۔
    پوتے کی شکل میں ہو تو محبت ۔
    اور کتنے مجبوب رشتے ہیں جو اس مرد ذات سے وابستہ ہیں۔
    ہاں اگر مرد بوائے فرینڈ کی شکل میں یہ بھیڑیا ہے جس سے ہمارا مذہب ہمیں منع کرتا ہے۔۔۔نہیں تو لاہور جی سی یونیورسٹی جیسا پروپوزل دیکھنے کو ملے گا، یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ کی بچے کی پیدائش سے موت، نور مقدم جیسے دردناک قتل وغیرہ جیسے واقعات روز رونما ہونگے۔ اور ملکی غیرت و حمیت کو سوالیہ نشان بنایا جاتا رہےگا۔

    جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی "غیر محفوظ عورت” کا فتنہ اٹھا تھا جس کو وقتی طور پر دبا لیا گیا وطن عزیز کی دن دگنی ترقی اور جیوپولیٹک اینڈ اسٹریٹجک پوزیشن کے باعث بڑھتی ہوئی مقبولیت عالمی سطح پر تنہا رہ جانے والے بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی بےچینی کو صاف ظاہر کرتی ہے، سپر پاور شفٹ پر بنتے ایک نئے پاور بلاک پر امریکہ مہاراج کے پاس بھی اور کوئی ہتھیار نہیں بچا کہ پاکستان کو لگام ڈال سکے تو ایسے موقع پر اس قسم کے ایک آدھ واقعات کا رونما کو جانا انہونی نہیں ہے کہ عورت کارڈ ہی تو جس پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اپنی مداخلت کر کے من مرضی کے حالات کے لئے راہ ہموار کر سکتی ہیں۔

    ضرورت اس امر ہے کہ متعلقہ ادارے اس گھناونے کھیل کے مہروں (کھلاڑی اور لکھاری) کو حراست میں لے کر اس کی تحقیق کریں، محض عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے چند افسروں کا تبادلہ یا معطلی کافی نہیں ہے، معاملے کی جڑ تک پہنچیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر بتایا جائے کہ اس کھیل کے مہروں کی ڈوریاں کہاں ملتی ہیں؟ بحثیت قوم ہمیں اپنے فرض کو پہچانتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے یوں سوچے سمجھے منصوبوں پر کامن ٹرینڈ پہ تاثرات کو چھوڑنا ہوگا کہ لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیئے اس ملک کو چند لوگوں کے ذاتی مفاد کے لئے یرغمال ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    اللہ ہم سب کی حفاظت کرے اور ملک پاکستان کا امن قائم رکھے۔ آمین

    @BetaGirl__

  • ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے  تحریر:محمد جاوید حقانی

    ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے تحریر:محمد جاوید حقانی

    امام غزالی رحمۃ اللہ الباری پانچویں صدی ہجری کے بالاتفاق مجدد مانے جاتے ہیں ۔
    آپ کی شخصیت کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں
    آج تک امام غزالی کی شخصیت کو پڑھا اور پرکھا جاتا ہے
    انکی ذات گرامی پہ تبصرے تجزئیے کیئے جاتے ہیں۔
    امام غزالی نے بہترین زندگی جینے کا فلسفہ بہت ہی مختصر الفاظ میں بیان فرمایا ہے
    آپ کئی کتابیں تصنیف کیں
    ان کتابوں کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں
    آج کے ترقی یافتہ یورپ نے بھی "فلسفہ” امام غزالی سے سیکھا۔
    آپ ایک کتاب "تبلیغ دین” میں دنیاء کی حقیقت کے موضوع پر لکھتے ہیں۔
    حدیث پاک میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ایک کوڑے کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا جہاں مردوں کی کھوپڑیاں اور نجاست غلاظت کے ڈھیر اور بوسیدہ ہڈیاں اور پھٹے پرانے کپڑے پڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ فرمایا۔
    دیکھو او ہریرہ یہ ہے دنیاء کی حقیقت ایک وقت وہ تھا کہ ان کھوپڑیوں میں بھی تمہاری طرح امیدیں، آرزوئیں، جوش میں تھیں اور حرص و حوس سے لبریز تھیں اور آج کس حال میں کوڑے پر پڑی ہیں یہ چند روز میں خاک ہوجائیں گی اور ان کا پتہ و نشان بھی نہ رہے گا۔
    اور یہ دیکھو یہ غلاظت و فضلہ جو تم کونظر آرہا ہے یہ تمہاری غذاء ہے جس سے پیٹ کوبھرنے میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ایک دن تھا کہ رنگ برنگے کھانے کی شکل میں یہ تمہارے پیٹ میں تھا اور آج یہاں کوڑے کے ڈھیر پر کس گندگی کی حالت میں پڑا ہوا ہے کہ لوگ اس کی بدبو سے بھاگتے گھنیاتے ہیں دیکھو یہی پرانے چھیتڑے کسی وقت تمہاری چمک و دمک والے لباس تھے
    اور آج انہیں ہوائیں ادھر ادھر اڑائے پھر رہی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔
    اور یہ دیکھو! یہ ہڈیاں کسی دن سواری کے جانور اور مویشی تھے جن پر جان دیتے اور قتل و قتال کیا کرتے تھے۔

    اے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) یہ دنیاء کی حقیقت ہے
    جس کا قابل عبرت انجام دنیاء میں ظاہر ہوگیا۔
    پس! جس کو رونا ہو روئے۔۔۔۔۔
    اس حدیث پاک کے بعد امام غزالی مزید لکھتے ہیں۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک دن دنیاء کی حقیقت منکشف ہوئی انہوں نے دیکھا کہ ایک بد صورت بڑھیا بناؤ سنگھار کئے ہوئے زیور و پوشاک پہنے ہوئے بنی ٹھنی بیٹھی ہے۔
    آپ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے بڑھیا توں کتنے لوگوں سے نکاح کر چکی ہے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ بے شمار لوگوں سے۔
    آپ نے پوچھا کہ ان شوہروں کا انتقال ہوچکا یا تجھے طلاق دے چکے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ طلاق کی ہمت کس کو ہوتی ہے میں نے سب کومار ڈالا۔۔۔
    یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تیرے موجودہ شوہر پر افسوس ہے کہ جسے تیرے سابقہ شوہروں کے انجام سے عبرت نہیں۔۔۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ الباری تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    مسلمانوں!
    سمبھل جاؤ اور ہوشیار ہوجاؤ اور جان لو کہ یہ دنیاء بڑی بے وفاء ہے اس سے بچو
    اس کا جادو ہاروت و ماروت ( دو فرشتے ہیں جن پر جادو نازل ہوا) کے سحر سے زیادہ اور جلد اثر کرتا ہے اگر سے پرانا نمک جو کی روٹی کے ساتھ کھا کر اور ٹاٹ پہن کر زندگی گزارو گے تب بھی گزر جائیگی مگر آخرت کی فکر کرو کہ وہاں کی رتی برابر نعمت کا نہ ملنا بھی بڑی تکلیف کا باعث ہے۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ اسی موضوع جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں
    بعض لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا بدن کتنا ہی مصروف رہے مگر ہمارا دل دنیاء کی محبت سے خالی رہتا ہے
    یاد رکھو!
    یہ شیطانی وسوسہ ہے بھلا کوئی شخص دریا میں چلے اور پاؤں نہ بیگے یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔
    اگر تم کو دنیاء کی طلب ہوگی اور ضرورت سے زیادہ دنیاء کمانے کی تدبیریں کرنے لگو گے تو ضروری بات ہے کہ پریشان رہو گے اور دین کو ہاتھ سے کھو بیٹھو گے۔
    یہ بھی جان لو کہ دنیاء کی حرص کبھی ختم نہ ہوگی
    اور اسکی طلب ہمیشہ بڑھتی رہے گی
    کیونکہ دنیاء کی مثال سمندر کے کھارے پانی جیسی ہے جتنا پیو گے اتنی ہی پیاس بڑھتی جائیگی۔۔۔
    ‎@JavaidHaqqani

  • تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    رابرٹ موگابے نے کہاتھا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسے باور کرائیں گے کہ "تعلیم ہی کامیابی کی کنجی ہے، جب ہم گھرے ہوۓ ہوں غریب گر یجویٹس اور امیر بد معاشوں سے” اور ہم یہ باور کرانے میں نا کام ہو گئےہیں۔ آج نو جوان نسل کی سوچ یہ ہے کہ سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری نہیں مل سکتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی سوچ میری بھی ہے۔ لیکن ایک عرصے تک میں اس سوچ میں بتلارہا کہ اگر یہ سچ ہے اور تعلیم ہی میابی کی کنجی نہیں ہے تو پھر لوگ اس کو دھڑا دھڑ حاصل کیوں کرنے میں لگے ہیں۔

    ہمارے کالج، یو نیورسٹیاں بھری ہوئی کیوں ہیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ ہے کام چوری ان کو یہ لگتا ہے کہ اگر یہ لوگ یونیورسٹی نہیں آئیں گے تو ان کے ماں باپ ان کو محنت مزدوری پر لگا دیں گے، اور یہ لوگ اپنی جوانی کو موج مستی میں گزارنا چاہتے ہیں۔ مطلب ان میں احساس ذمہ داری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دوسری وجہ امید ہے ان کو لگتا ہے کہ ہمارا ملک ایک دن ضرور ہماری قدر کرے گا۔ اس امید میں ایسے لوگ دن رات محنت کرر ہے ہیں اور محنت بھی ضائع نہیں جاتی۔ لیکن یہی محنت انہیں ایک امتحان میں ڈال دیتی ہے وہ امتحان ایک شکارگاہ ہوتی ہے جہاں ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ شکار بنو یا شکاری بن جاؤ لیکن اس امتحان میں کا میابی ان دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں ملتی۔

    اس امتحان میں کا میاب وہی ہے جو نہ شکار بنتا ہے نہ ہی شکاری ایسے لوگ بس جی رہے ہوتے ہیں اور بس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں موقع ملا وہاں اس سے فائدہ اٹھایا آسان الفاظ میں سمجھاؤں تووہ اس سسٹم کے ڈسے ہوۓ لوگ ہیں جو شکار بن چکے ہیں، اور ڈسنے والے شکاری ہیں لیکن اس سسٹم سے لڑنے والے لوگ وہ ہیں جو موقع پرست لوگ ہوتے ہیں جو موقع ملتے ہی اس سٹم پر کاری ضرب مارتے ہیں اور لو ہے کوتلوار بنانے کے لئے اس پر ضرب مارنی ہی پڑتے ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں داخل نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ ٹھونسے جاتے ہیں کیوں کہ تعلیمی اداروں کی تعداد کم ہے۔

    بدقسمتی سے ن لیگ کے دور میں سڑکوں پر توجہ دی گئی نا کہ تعلیم پر اب اللّه کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت تعلیم پر خاطر خواہ توجہ دے رہی ہے۔

    ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جب تک لوگوں میں شعور نہیں ہوگا کہ ان سڑکوں اور آمد ورفت کا استعمال کیسے کرنا ہے تب تک اسے بنانے کا کیا
    فائدہ لائسنس ان لوگوں کے پاس نہیں ہوتا ہیلمٹ یہ لوگ نہیں پہنتے، اشارے یہ توڑے ہیں ایسے میں کیا ضرورت ان سڑکوں کی؟ اس کی جگہ تعلیمی ادارے بنیں تا کہ عوام کو شعور آئے۔

    اسی بات پر تھوڑی اور نظر ڈالتے ہیں ہمارے ملک میں احتجاج جب تک پر تشدد نہ ہو اس وقت تک احتجاجیوں کو کوئی منہ نہیں لگا تا اس لئے ہمارے ملک میں احتجاج پر تشدد ہو جاتے ہیں بدقسمتی سے احتجاج کرنے والے لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوں تو دل اور بھی زیادہ دکھتا ہے۔

    بس اصل بات یہ ہے کہ تعلیم بہت ضروری ہے کیوں کہ تعلیم ہوگی تو ہی شعور آئے گا تعلیم کے بغیر شعور ممکن ہی نہیں ہے اور رہی بات سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری حاصل کرنے کی تو اس کا ایک ہی حل ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ میں قابلیت ہے اور آپ نے سہی معنوں میں تعلیم حاصل کی ہے تو آپ کو کسی سفارش کرانے کی یا رشوت دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

    اور سہی معنوں میں تعلیم تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب ہم یونیورسٹیز میں جا کر اپنا اصل مقصد نا بھولیں اور اپنا فوکس صرف تعلیم پر رکھیں نا کہ آوارہ گردی کرنے پر، اگر ہم ایسا کر گئے تو ہم ایک باشعور قوم بن سکتے ہیں اور خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    @RealPahore

  • اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام  تحریر:ناصرہ فیصل

    اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام تحریر:ناصرہ فیصل

    حجاب کے معاملے میں مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراء ہیں۔ جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے؟
    عورت چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔حجاب اسلامی طرز زندگی کا حصہ ہے اور ہمیں سختی سے اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے سختی سے ہی لاگو کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے

    ۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیروکار اس مذہب کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور دین اسلام تو سچا دین ہے اس لیے اسے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ رکھیں تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہہ اسلام سے پہلے عورت کا معاشرے میں کیا مقام تھا؟ اسے جس قدر عزت اسلام نے دی، کسی اور مذہب نے نہیں دی اور پردہ کرنا تو عورت کی عظمت ہے اس لیے اس کا اصل مقام اور عزت پردہ کرنے میں ہے۔
    پردے کے بارے میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ کرنا صرف عورتوں پر لازم نہیں بلکہ مردوں کو بھی پردہ کرنے حکم دیا گیا ہے۔ ”سورۃ النور” کی آیت نمبر 30 میں ﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے” مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں”۔ … اور ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

    مرد کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھی عورت پر دوسری نگاہ ڈالے، نبی کریمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بہت شرم وحیا والے تھے اور آپؐ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’”’حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ آپؐ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپؐ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔‘”‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1055۔

    قرآنی تعلیمات سب سے پہلے مردوں سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔

    قرآن پاک میں ایک جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے””
    خواتین کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں جس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے باعث موجودہ زمانے میں بہت سی برائیوں سے بچنا ممکن ہو جائے گا۔
    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے”‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181

    ہمیں مغربی ممالک سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے خواتین کو محض ایک نمائش کی چیز بنا کر رکھ دیا ہے جسے کسی بھی وقت استعمال کر کے پھینکا جا سکتا ہے۔
    اگر کوئی خاتون حجاب اوڑھنا نہیں چاہتی تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن لِللہ حجاب کا تمسخر مت اڑائیےحجاب بہت ضروری ہے کیونکہ جب خواتین حجاب کے بغیر گھر سے نکلتی ہیں تو لوگ انہیں بری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے ’زنا‘ جیسی برائی جنم لیتی ہے۔
    دیکھئے! لفظ ’عورت‘ کے معنی بھی چھپانے والی چیز ہے۔ ہاں اگر آپ کو کوئی بات اچھی نہ لگے تو یہ آپ کا ذہن ہے، اسلام تو بہرحال یہی کہتا ہے۔
    قرآن میں اللہ نے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور حکمِ خدا بجا لانا فرض ہوتا ہےاگر مغربی مالک کو حجاب اتنا ہی برا لگتا ہے تو گرجا گھروں کی ننز کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کیوں نہیں لگا دیتے اور یہ امتیاز صرف مسلمان خواتین کے ساتھ کیوں ہے؟

    اسلام نے کبھی کسی چیز پر جبر نہیں کیا لیکن دینِ فطرت ہونے کی بدولت یہ معاشرے میں اخلاقی توازن قائم کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ حجاب پاکیزگی اور اخلاقیات کی علامت ہے اور اس کا ثبوت دوسرے مذاہب مثلاً عیسائیت میں بھی ملتا ہے۔
    حجاب اُمہات المومنین کی سنت ہے اس لئے اس کا اوڑھنا بہت افضل ہے لیکن اسلام نے ظاہری عبادات کے علاوہ باطنی عبادات جیسا کہ تقویٰ پر بھی زور دیا ہے اس لئے صرف پہننا ہی افضل نہیں اس کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسلام کسی اختیاری چیز پر پابندی عائد نہیں کرتا البتہ اچھے اور برے کی تمیز ضرور سکھاتا ہے۔ حجاب اوڑھنے اور نہ اوڑھنے پر پابندی نہیں ہونی چاہئے بلک ہ اسے ایک اختیاری عمل کے طور پر معاشروں میں رائج کرنا چاہئے۔
    اکبر الٰہ آبادی کیا خوب فرما گئے:

    "”بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
    اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
    پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
    کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا "”
    تحریر:ناصرہ فیصل
    @NiniYmz