Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ    تحریر: زاہد کبدانی

    ‏پاکستان میں غربت کی وجوہات اور غربت کا خاتمہ تحریر: زاہد کبدانی

    غربت پاکستان کا ایک سماجی مسئلہ ہے اس حقیقت کے ساتھ کہ اکثر لوگوں کے پاس محدود اقتصادی وسائل ہیں اور ان کا معیار زندگی کم ہے۔ عوام تعلیم ، صحت ، مواصلات اور اچھی خوراک میں جدید سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ ایسے لوگ آمدنی کے وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں اور وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ متوازی زندگی گزارنے کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ مقابلے کے اس دور میں وہ اپنے حقوق سے محروم محسوس کرتے ہیں اور کمتریاں ان پر حاوی ہوتی ہیں۔ وہ کنبے کے ساتھ بیٹھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اچھے لوگوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات نہیں دیے جاتے کیونکہ وہ غربت کی وجہ سے ناپسندیدہ ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر ناخواندہ ہوتے ہیں اور ان کی دوستی ایک ہی قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا معیار زندگی تعلیم اور معاشی وسائل کے بغیر نہیں بڑھتا۔ غربت خود ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ غریب لوگ نئے رجحانات پر عمل کرنے سے قاصر ہیں اور وہ سماجی زندگی میں نئے طریقے اپنانے میں ناکام رہتے ہیں۔

    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کے وسائل بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ غربت کو ایک سماجی مسئلہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ آگے بڑھنے والے لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ترقی کے طریقے نہیں سمجھتے: وہ زیادہ تر مایوس ہوتے ہیں جب ان کی ضروریات زندگی نہیں ہوتی
    پوری. مایوسی میں وہ جارحانہ ہو جاتے ہیں اور ایسی حرکتیں کر سکتے ہیں جو کہ مجرمانہ نوعیت کی ہیں۔ دوسروں کی نفرت کی وجہ سے وہ رد عمل لیتے ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ وہ معاشی عدم مساوات کی وجہ سے امیر لوگوں کی گاڑیاں اور املاک تباہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات امیر آدمی کا بچہ اغوا ہو جاتا ہے۔ کبھی اس کی گاڑی اٹھا لی جاتی ہے اور کبھی ”اس کے گھر میں ڈاکو ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ امیر آدمی پر قتل جیسے زیادہ گھناؤنے جرم کی طرف جاتا ہے۔ اس طرح سے. غربت ایک سماجی مسئلہ ہونے کی وجہ سے سنگین نوعیت کے دیگر سماجی مسائل پیدا کرتا ہے۔
    ایک معاشرتی مسئلہ کے طور پر غربت۔
    غربت ایک سماجی مسئلہ ہے کیونکہ یہ کئی سماجی مسائل کو جنم دیتا ہے جو کہ ذیل میں دیے گئے ہیں۔
    1. غربت ناخواندگی اور جہالت پیدا کرتی ہے۔
    بہت سے بچے اس مسئلے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ہر سال لاکھوں بچے معاشی مسائل کی وجہ سے تعلیم کے بجائے کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    2۔ دہشت گردی بھی غربت کی پیداوار ہے۔
    دہشت گرد بہت سارے پیسے دے کر چھوٹے بچوں اور غریب نوجوانوں کو پھنساتے ہیں اور انہیں ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد بننے کی تربیت دیتے ہیں۔
    3. جرائم اور معاشرتی برائیاں:
    جرائم اور معاشرتی برائیاں کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ غربت کی چھتری لوگ غربت کی وجہ سے جرائم کرتے ہیں۔ بہت سی سماجی برائیاں بھی اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
    4: اقتصادی اور سماجی ترقی میں رکاوٹ:
    5: غربت ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے جو پوری قوم کو پریشان کرتی ہے۔ تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ غربت ایک سماجی مسئلہ ہے اور یہ بھی ہے
    کہ، بہت سے دوسرے سماجی مسائل کی ماں ہے،

    غربت کی وجوہات۔
    غربت کی کئی وجوہات ہیں جو کہ ذیل میں دی گئی ہیں۔ جن میں. قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کمی:
    ہم قدرتی ماحول سے معاشی وسائل حاصل کرنے سے قاصر ہیں جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔ یہ زمین ، پہاڑ ، پہاڑ ، دریا اور آبشار ہیں جہاں سے ہم اپنی تکنیکی مہارت سے دولت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم پہاڑوں سے بہنے والے پانی کو ڈیموں میں کنٹرول اور موڑ سکتے ہیں جہاں سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور نہروں کو آبپاشی کے لیے۔
    کم معیار کے کام سے بچیں:
    2: ہماری قوم کے لوگ محنت اور مشقت سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ، سڑک پر اور سڑک پر کام کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ وہ مزدوری میں کام نہ کرکے بلکہ صاف ستھرا لباس پہن کر اپنے آپ کو قابل احترام سمجھتے ہیں۔ احترام اور وقار کا یہ تصور انہیں گھروں میں گھس جاتا ہے ، رہنے کے لیے گندی جگہیں اور ان کے رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی کی سہولتوں سے محروم معیاری کھانا۔
    محنت کی کمی منشیات کی لت کا باعث بنتی ہے:
    3: ایسے لوگ جو محنت سے گریز کرتے ہیں غریب آدمی کی زندگی گزارتے ہیں اور زیادہ تر منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ ہیروئین ، چرس اور زیادتی کی دوسری چیزوں میں گھس جاتے ہیں۔ ممنوعہ حرکتیں ان کی عادات میں داخل ہو جاتی ہیں اور وہ ناجائز سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتی ہیں ، جو زندگی میں مجرمانہ کارروائیوں کا باعث بنتی ہیں۔
    مخالف سماجی عادات:
    4: بے روزگار اور بے روزگار لوگ بھی ایسی عادتوں میں پڑ جاتے ہیں ، جو کہ سماج مخالف ہیں ، جیسے ’جوا ، شراب نوشی ، دھوکہ دہی ، چوری اور ڈکیتی۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ان اقسام کے ساتھیوں میں مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ وہ مطمئن رہتے ہیں اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے گھر سے چیزیں چوری کرتے ہیں۔ تمباکو نوشی اور جھوٹ بولنا بری عادت ہے جو ایسے بے کار بالغوں کے عمومی رویے میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ بیکار اور بیکار لوگ ہیں جو اچھے شہریوں سے نفرت کرتے ہیں۔

    ‎@Z_Kubdani

  • اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا خوشحال گڑھ تحریر: اعجازالحق عثمانی

    اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا خوشحال گڑھ تحریر: اعجازالحق عثمانی

    اگر آپ خوشحال گڑھ کو نہیں جانتے تو "گھبرانا نہیں ہے” ۔کیونکہ اس کو تو وہ بھی نہیں جانتے جو یہاں سے ووٹ لیتے ہیں۔ اور اگر آپ خوشحال گڑھ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو "گھبرانا نہیں ہے” فیض کا یہ شعر آپکو سمجھا دے گا

    یہ حسین کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
    کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے

    اس تہذیبی دینا سے اگر آپ پتھر کے زمانے میں جانا چاہتے ہیں تو جناب پھر گھبرانا کس بات کا۔۔۔ خوشحال گڑھ حاضر ہے۔۔۔ جی ہاں! ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا یہ گاؤں آج بھی پتھر کے زمانے کی شاید آخری نشانی ہے۔ "خوشحال گڑھ”کا نام سن کر ذہن میں لفظ خوشحالی یوں ناچتا ہے کہ جیسے "جب آئے گا عمران خان” پر کوئی دیوانہ ناچے۔مگر رکیو زرا! یہ خوشحال گڑھ وہ ہے،جہاں خوشحالی کہیں نظر ہی نہیں آتی ہے۔ چاہے آپ ہلال کمیٹی کو بھی بلا لیں۔ جہاں کی گلیاں ، اکلوتی پکی سڑک( جس کو اب پکی کہنا، پاکستانیوں کی پکی قسم کی مترادف ہے) اور گاؤں کی واحد ڈسپنسری گھبرائی ہوئی اس امید میں نظر آتی ہے کہ کوئی مسیحا آئے اور ہمیں بھی کہے کہ ” گھبرانا نہیں ہے”
    10 ہزار سے زائد ووٹوں پر مشتمل یہ علاقہ یہاں کے واحد لڑکیوں کے سکول میں اپنی 10 بیٹیاں بھی نہیں پڑھا سکا۔ یہاں کبھی سائیکل تو کبھی شیر کا راج رہا۔ مگر یہاں کی واحد پکی سڑک پر اگر کبھی شیر چلنا چاہے تو ایک منٹ سے زائد نہ چل پائے گا اور سائیکل تو 10 سیکنڈز میں ہی پنکچر ہوجائے ۔ لیڈر شپ ،پانی، صحت ،اور تعلیم جیسی کئی اور سہولیات کے فقدان کو یہاں دیکھ کر لگتا ہے کہ لفظ فقدان نے اسی علاقے میں جنم لیا ہوگا۔
    خوشحال گڑھ ضلع چکوال کی نہ صرف سوتیلی بلکہ وہ معصوم اور خاموش اولاد ہے جس نے آج تک حقوق نہ ملنے کا کبھی گلہ ہی نہیں کیا۔ کسی زمانے میں خوشحال گڑھ میں ٹیلیفون اور ٹیلیویژن اتنے ہی تھے، جتنی یہاں خوشحالی۔ مگر اب تو ہر نوجوان کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ بہت بڑی تعداد فیس بکی بھی ہے۔ مگر افسوس! یہاں کے نوجوان نے کبھی اپنے علاقے کے لیے فیس بک پر آواز نہیں اٹھائی۔ جب بھی پوسٹ کی اپنی برادری کے اس مقامی رہنما کےلیے جس کے لیے خوشحال گڑھ کی ترقی کبھی اہم ہی نہیں رہی ۔
    اپنی بدحالی پر نوحہ کناں اور گھبرانے کی اجازت مانگتا ہوا "خوشحال گڑھ”

    اگر آپ خوشحال گڑھ کو نہیں جانتے تو "گھبرانا نہیں ہے” ۔کیونکہ اس کو تو وہ بھی نہیں جانتے جو یہاں سے ووٹ لیتے ہیں۔ اور اگر آپ خوشحال گڑھ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو فیض کا یہ شعر آپکو سمجھا دے گا

    یہ حسین کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
    کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے
    اس تہذیبی دینا سے اگر آپ پتھر کے زمانے میں جانا چاہتے ہیں تو جناب پھر گھبرانا کس بات کا۔۔۔ خوشحال گڑھ حاضر ہے۔۔۔ جی ہاں! ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا یہ گاؤں آج بھی پتھر کے زمانے کی شاید آخری نشانی ہے۔ "خوشحال گڑھ” نام سن کر ذہن میں لفظ خوشحالی یوں ناچتا ہے کہ جیسے "جب آئے گا عمران خان” پر کوئی دیوانہ ناچے۔مگر رکیو زرا! یہ خوشحال گڑھ وہ ہے،جہاں خوشحالی کہیں نظر ہی نہیں آتی ہے۔ چاہے آپ ہلال کمیٹی کو بلا لیں۔ جہاں کی گلیاں ، اکلوتی پکی سڑک( جس کو اب پکی کہنا، پاکستانیوں کی پکی قسم کی مترادف ہے) اور گاؤں کی واحد ڈسپنسری گھبرائی ہوئی اس امید میں نظر آتی ہے کہ کوئی مسیحا آئے اور ہمیں بھی کہے کہ ” گھبرانا نہیں ہے”
    10 ہزار سے زائد ووٹوں پر مشتمل یہ علاقہ یہاں کے واحد لڑکیوں کے سکول میں اپنی 10 بیٹیاں بھی نہیں پڑھا سکا۔ یہاں کبھی سائیکل ، کبھی شیر کا راج رہا۔ مگر اس واحد پکی سڑک پر اگر کبھی شیر چلنا چاہے تو ایک منٹ سے زائد نہیں چل پائے اور سائیکل تو 10 سیکنڈز میں ہی پنکچر ہوجائے۔ لیڈر شپ ،پانی، صحت ،اور تعلیم جیسی کئی اور سہولیات کے فقدان کو یہاں دیکھ کر لگتا ہے کہ لفظ فقدان نے اسی علاقے میں جنم لیا ہوگا۔
    خوشحال گڑھ ضلع چکوال کی نہ صرف سوتیلی بلکہ وہ معصوم اور خاموش اولاد ہے جس نے آج تک حقوق نہ ملنے کا کبھی گلہ ہی نہیں کیا۔ کسی زمانے میں خوشحال گڑھ میں ٹیلیفون اور ٹیلیویژن اتنے ہی تھے، جتنی یہاں خوشحالی۔ مگر اب تو ہر نوجوان کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ بہت بڑی تعداد فیس بکی بھی ہے۔ مگر افسوس! یہاں نوجوان نے کبھی اپنے علاقے کے لیے فیس بک پر آواز نہیں اٹھائی۔ جب بھی پوسٹ کی اپنی برادری کے اس مقامی رہنما کےلیے جس کے لیے خوشحال گڑھ کی ترقی کبھی اہم ہی نہیں رہی ۔ اگر یہاں کا نوجوان اب بھی نہ جاگا تو پھر دینا سے 50 سال پیچھے اس خوشحال گڑھ میں ہماری نسلیں، پسماندگی کو دیکھ کر ہمیں ضرور کوسیں گی۔

    @EjazulhaqUsmani

  • عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    واقعہ مینار پاکستان_خود کو مشہور کرنے کے لئے رچایا گیا ایک فلاپ ڈرامہ لیکن مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب۔

    تواجہ لینی تھی لے لی۔۔۔ ہمدردیاں سمیٹنی تھیں سمیٹ لیں۔۔۔ اور اس سے بھی بڑا ہدف۔۔۔ وطن عزیز کو ایک غیر محفوظ ملک مشہور کرنے کے لئے بھارتی میڈیا سے مدد پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا اور اس سب میں ساتھ دیا عورت کے نام نہاد خیر خواہ صحافیوں یاسر شامی اور اقرارالحسن نے۔

    اس واقعہ سے پہلے عائشہ نامی خاتون کو ایک پرائیوٹ پارٹی سنگر کے طور پر بھی اکا دکا لوگ جانتے تھے اور میں سٹریم میڈیا پہ تو اس کا کوئی نام جانتا تھا نہ کام، لیکن اب ہر جگہ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کی بات ہو رہی ہے جیسا وہ چاہتی تھی۔ جیسے ہی ٹک ٹاکر والی ویڈیو وائرل ہوئی سارے پاکستانیوں نے رنج وغم میں مبتلا ہو کر جسٹس فار عائشہ،تمام مرد جنسی کتے ہیں اور عورت کے تحفظ پر ٹینڈز کی بھرمار کر دی تقریبا” آدھے پاکستانيوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيتيں ختم ہوگئیں حالانکہ کفن پہن کر مرنے کا ڈرامہ، شوہر کے جھوٹی موت کی خبر اور اپنی ہی پورن ویڈیوز لیک جیسے سٹنٹس تو ہم ماضی میں دیکھ ہی چکے ہیں لیکن بحثیت قوم ہماری یاداشت بہے کمزور ہے۔

    عائشہ کے لئے انصاف مانگنے والے اور اس واقعہ پر بیٹی نہ ہونے پر خدا کا شکر ادا کرنے والے نام نہاد عزت دار اور غیرجانبدار صحافی نے یہ اس پلانٹڈ انٹرویو میں یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ کیا اس خاتون نے پبلک پلیس پر ایک اجتماع اکٹھا کرنے کے لئے لوکل گورنمنٹ سے اسکی اجازت لی؟ اگر ہاں تو اس حادثے میں ذمہ داران (لوکل۔سیکورٹی) کی کوتاہی پر سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ اور اگر نہیں تو پھر خاتون نے کس مقصد کے تحت اس اجتماع کو خفیہ رکھ کر لوگوں کو جمع کیا؟ اور بےغیر اجازت 400 بندہ اکٹھا ہونے، اور اس طوفان بدتمیزی کے باوجود اگر مینار پاکستان کی سیکیورٹی حرکت میں کیوں نہیں آئی۔۔۔ کیا یہ خاموشی بھی اس ڈرامے کا حصہ تھی یا ڈیپارٹمنٹ کی ستو مارکہ کوتاہی ہے کہ اس کو علم ہی نہ ہو سکا اور قوم کی بیٹی بنی ایک خاتون وہاں جلسہ کرتی 400 لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی؟ اس کے والدین نے اسکی اجازت کیسے دی ؟ اسکی ماں کو اپنی بیٹی کا ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ بیٹی کہاں کہاں گھوم پھر کے آ رہی ہے ؟ اس کے دوست کون لوگ ہیں؟ کس کے ساتھ کام کر رہی ہے؟کام کی نوعیت کیا ہے؟ کام ٹھیک ہے یا غلط؟ یہ تمام سوالات ایک طرف کیا خاتون سے صرف یہ پوچھا کہ گیا اس 400 مردوں کے ہمراہ ایک نامحرم مرد کی بانہوں کے حصار میں مارچ کرتی یہ تنہا قوم کی بیٹی وہاں کیا کر رہی تھی؟ کیا عائشہ کے والدین نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ اسکی بیٹی مرد ہے یا عورت ۔۔۔ عورت ہے تو مردوں کے بیچ کیا کرنے گئی تھی، اگر مرد نما عورت ہے تو مردوں سے کیا گلہ؟ عرض یہ کہ اس کے والدین کے صلاح سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے کہ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں پیسہ کمانے کا شارٹ کٹ یہی ہے کہ ملک میں عورت کارڈ کو لے کر تحفظ کے لئے ننگ دین و ننگ ملت ہو جاو میں پوری وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کچھ عرصہ بعد یہ ڈرامہ کوین ٹی وی کے مختلف اشتہاروں میں اور ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر مردوں کے خلاف بکواس کرتی نظر آئے گی 8 مارچ کے منصوبے پر کام کر رہی ہوگی، اس کا پری ٹریلر تو مغربی لباس میں ناچتے پبلک ویڈیوز کے بعد خاتون کا حجاب میں ایک نجی چینل کو دیا گیا بے پناہ جھوٹوں پہ مشتمل بوگس انٹرویو ہے۔

    مختصر یہ کہ یہ ایک رچا رچایا ڈرامہ تھا جو بہت سے لوگوں معلوم ہوا کچھ جو باقی انجان بننے پھیر رہے ہیں وہ یا تو معلومات محدود رکھتے ہیں یا لبرلستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں جرم ہو وہاں مرد اور عورت کا تفریق نہیں ہے جرم دیکھا جاتا ہے اور اس حساب سے اس کی سزا کا تعین ہمارے رب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں 8 مارچ کی منصوبہ پر کام ہو رہا ہو صرف مرد کو جانور ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے سارا جھگڑا ہی اسی بات پر ہے ۔ جن جرائم کا ذکر اکثر تحریروں میں مرد ناقابل بھروسہ اور جانور ثابت کرنے پر ہے میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ انکو عبرت ناک سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی جگہ جہاں سے ساری دنیا دیکھ سکے اور عبرت پکڑے (لیکن پھر یہی ٹولہ ان سزاؤں کے قانون بننے پہ مخالفت کرتا نظر آتا ہے) لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کی مرد بھروسہ مند نہیں۔
    یہی مرد باپ کی شکل میں تو فرشتہ ۔
    بھائی کی شکل میں تو محافظ۔
    خاوند کی شکل میں ہو تو بیوی کی چھوٹی سی دنیا کا شہنشاہ۔
    بیٹے کی شکل میں تو مان۔
    پوتے کی شکل میں ہو تو محبت ۔
    اور کتنے مجبوب رشتے ہیں جو اس مرد ذات سے وابستہ ہیں۔
    ہاں اگر مرد بوائے فرینڈ کی شکل میں یہ بھیڑیا ہے جس سے ہمارا مذہب ہمیں منع کرتا ہے۔۔۔نہیں تو لاہور جی سی یونیورسٹی جیسا پروپوزل دیکھنے کو ملے گا، یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ کی بچے کی پیدائش سے موت، نور مقدم جیسے دردناک قتل وغیرہ جیسے واقعات روز رونما ہونگے۔ اور ملکی غیرت و حمیت کو سوالیہ نشان بنایا جاتا رہےگا۔

    جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی "غیر محفوظ عورت” کا فتنہ اٹھا تھا جس کو وقتی طور پر دبا لیا گیا وطن عزیز کی دن دگنی ترقی اور جیوپولیٹک اینڈ اسٹریٹجک پوزیشن کے باعث بڑھتی ہوئی مقبولیت عالمی سطح پر تنہا رہ جانے والے بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی بےچینی کو صاف ظاہر کرتی ہے، سپر پاور شفٹ پر بنتے ایک نئے پاور بلاک پر امریکہ مہاراج کے پاس بھی اور کوئی ہتھیار نہیں بچا کہ پاکستان کو لگام ڈال سکے تو ایسے موقع پر اس قسم کے ایک آدھ واقعات کا رونما کو جانا انہونی نہیں ہے کہ عورت کارڈ ہی تو جس پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اپنی مداخلت کر کے من مرضی کے حالات کے لئے راہ ہموار کر سکتی ہیں۔

    ضرورت اس امر ہے کہ متعلقہ ادارے اس گھناونے کھیل کے مہروں (کھلاڑی اور لکھاری) کو حراست میں لے کر اس کی تحقیق کریں، محض عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے چند افسروں کا تبادلہ یا معطلی کافی نہیں ہے، معاملے کی جڑ تک پہنچیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر بتایا جائے کہ اس کھیل کے مہروں کی ڈوریاں کہاں ملتی ہیں؟ بحثیت قوم ہمیں اپنے فرض کو پہچانتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے یوں سوچے سمجھے منصوبوں پر کامن ٹرینڈ پہ تاثرات کو چھوڑنا ہوگا کہ لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیئے اس ملک کو چند لوگوں کے ذاتی مفاد کے لئے یرغمال ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    اللہ ہم سب کی حفاظت کرے اور ملک پاکستان کا امن قائم رکھے۔ آمین

    @BetaGirl__

  • ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے  تحریر:محمد جاوید حقانی

    ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے تحریر:محمد جاوید حقانی

    امام غزالی رحمۃ اللہ الباری پانچویں صدی ہجری کے بالاتفاق مجدد مانے جاتے ہیں ۔
    آپ کی شخصیت کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں
    آج تک امام غزالی کی شخصیت کو پڑھا اور پرکھا جاتا ہے
    انکی ذات گرامی پہ تبصرے تجزئیے کیئے جاتے ہیں۔
    امام غزالی نے بہترین زندگی جینے کا فلسفہ بہت ہی مختصر الفاظ میں بیان فرمایا ہے
    آپ کئی کتابیں تصنیف کیں
    ان کتابوں کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں
    آج کے ترقی یافتہ یورپ نے بھی "فلسفہ” امام غزالی سے سیکھا۔
    آپ ایک کتاب "تبلیغ دین” میں دنیاء کی حقیقت کے موضوع پر لکھتے ہیں۔
    حدیث پاک میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ایک کوڑے کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا جہاں مردوں کی کھوپڑیاں اور نجاست غلاظت کے ڈھیر اور بوسیدہ ہڈیاں اور پھٹے پرانے کپڑے پڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ فرمایا۔
    دیکھو او ہریرہ یہ ہے دنیاء کی حقیقت ایک وقت وہ تھا کہ ان کھوپڑیوں میں بھی تمہاری طرح امیدیں، آرزوئیں، جوش میں تھیں اور حرص و حوس سے لبریز تھیں اور آج کس حال میں کوڑے پر پڑی ہیں یہ چند روز میں خاک ہوجائیں گی اور ان کا پتہ و نشان بھی نہ رہے گا۔
    اور یہ دیکھو یہ غلاظت و فضلہ جو تم کونظر آرہا ہے یہ تمہاری غذاء ہے جس سے پیٹ کوبھرنے میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ایک دن تھا کہ رنگ برنگے کھانے کی شکل میں یہ تمہارے پیٹ میں تھا اور آج یہاں کوڑے کے ڈھیر پر کس گندگی کی حالت میں پڑا ہوا ہے کہ لوگ اس کی بدبو سے بھاگتے گھنیاتے ہیں دیکھو یہی پرانے چھیتڑے کسی وقت تمہاری چمک و دمک والے لباس تھے
    اور آج انہیں ہوائیں ادھر ادھر اڑائے پھر رہی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔
    اور یہ دیکھو! یہ ہڈیاں کسی دن سواری کے جانور اور مویشی تھے جن پر جان دیتے اور قتل و قتال کیا کرتے تھے۔

    اے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) یہ دنیاء کی حقیقت ہے
    جس کا قابل عبرت انجام دنیاء میں ظاہر ہوگیا۔
    پس! جس کو رونا ہو روئے۔۔۔۔۔
    اس حدیث پاک کے بعد امام غزالی مزید لکھتے ہیں۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک دن دنیاء کی حقیقت منکشف ہوئی انہوں نے دیکھا کہ ایک بد صورت بڑھیا بناؤ سنگھار کئے ہوئے زیور و پوشاک پہنے ہوئے بنی ٹھنی بیٹھی ہے۔
    آپ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے بڑھیا توں کتنے لوگوں سے نکاح کر چکی ہے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ بے شمار لوگوں سے۔
    آپ نے پوچھا کہ ان شوہروں کا انتقال ہوچکا یا تجھے طلاق دے چکے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ طلاق کی ہمت کس کو ہوتی ہے میں نے سب کومار ڈالا۔۔۔
    یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تیرے موجودہ شوہر پر افسوس ہے کہ جسے تیرے سابقہ شوہروں کے انجام سے عبرت نہیں۔۔۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ الباری تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    مسلمانوں!
    سمبھل جاؤ اور ہوشیار ہوجاؤ اور جان لو کہ یہ دنیاء بڑی بے وفاء ہے اس سے بچو
    اس کا جادو ہاروت و ماروت ( دو فرشتے ہیں جن پر جادو نازل ہوا) کے سحر سے زیادہ اور جلد اثر کرتا ہے اگر سے پرانا نمک جو کی روٹی کے ساتھ کھا کر اور ٹاٹ پہن کر زندگی گزارو گے تب بھی گزر جائیگی مگر آخرت کی فکر کرو کہ وہاں کی رتی برابر نعمت کا نہ ملنا بھی بڑی تکلیف کا باعث ہے۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ اسی موضوع جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں
    بعض لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا بدن کتنا ہی مصروف رہے مگر ہمارا دل دنیاء کی محبت سے خالی رہتا ہے
    یاد رکھو!
    یہ شیطانی وسوسہ ہے بھلا کوئی شخص دریا میں چلے اور پاؤں نہ بیگے یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔
    اگر تم کو دنیاء کی طلب ہوگی اور ضرورت سے زیادہ دنیاء کمانے کی تدبیریں کرنے لگو گے تو ضروری بات ہے کہ پریشان رہو گے اور دین کو ہاتھ سے کھو بیٹھو گے۔
    یہ بھی جان لو کہ دنیاء کی حرص کبھی ختم نہ ہوگی
    اور اسکی طلب ہمیشہ بڑھتی رہے گی
    کیونکہ دنیاء کی مثال سمندر کے کھارے پانی جیسی ہے جتنا پیو گے اتنی ہی پیاس بڑھتی جائیگی۔۔۔
    ‎@JavaidHaqqani

  • تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    رابرٹ موگابے نے کہاتھا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسے باور کرائیں گے کہ "تعلیم ہی کامیابی کی کنجی ہے، جب ہم گھرے ہوۓ ہوں غریب گر یجویٹس اور امیر بد معاشوں سے” اور ہم یہ باور کرانے میں نا کام ہو گئےہیں۔ آج نو جوان نسل کی سوچ یہ ہے کہ سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری نہیں مل سکتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی سوچ میری بھی ہے۔ لیکن ایک عرصے تک میں اس سوچ میں بتلارہا کہ اگر یہ سچ ہے اور تعلیم ہی میابی کی کنجی نہیں ہے تو پھر لوگ اس کو دھڑا دھڑ حاصل کیوں کرنے میں لگے ہیں۔

    ہمارے کالج، یو نیورسٹیاں بھری ہوئی کیوں ہیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ ہے کام چوری ان کو یہ لگتا ہے کہ اگر یہ لوگ یونیورسٹی نہیں آئیں گے تو ان کے ماں باپ ان کو محنت مزدوری پر لگا دیں گے، اور یہ لوگ اپنی جوانی کو موج مستی میں گزارنا چاہتے ہیں۔ مطلب ان میں احساس ذمہ داری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دوسری وجہ امید ہے ان کو لگتا ہے کہ ہمارا ملک ایک دن ضرور ہماری قدر کرے گا۔ اس امید میں ایسے لوگ دن رات محنت کرر ہے ہیں اور محنت بھی ضائع نہیں جاتی۔ لیکن یہی محنت انہیں ایک امتحان میں ڈال دیتی ہے وہ امتحان ایک شکارگاہ ہوتی ہے جہاں ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ شکار بنو یا شکاری بن جاؤ لیکن اس امتحان میں کا میابی ان دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں ملتی۔

    اس امتحان میں کا میاب وہی ہے جو نہ شکار بنتا ہے نہ ہی شکاری ایسے لوگ بس جی رہے ہوتے ہیں اور بس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں موقع ملا وہاں اس سے فائدہ اٹھایا آسان الفاظ میں سمجھاؤں تووہ اس سسٹم کے ڈسے ہوۓ لوگ ہیں جو شکار بن چکے ہیں، اور ڈسنے والے شکاری ہیں لیکن اس سسٹم سے لڑنے والے لوگ وہ ہیں جو موقع پرست لوگ ہوتے ہیں جو موقع ملتے ہی اس سٹم پر کاری ضرب مارتے ہیں اور لو ہے کوتلوار بنانے کے لئے اس پر ضرب مارنی ہی پڑتے ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں داخل نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ ٹھونسے جاتے ہیں کیوں کہ تعلیمی اداروں کی تعداد کم ہے۔

    بدقسمتی سے ن لیگ کے دور میں سڑکوں پر توجہ دی گئی نا کہ تعلیم پر اب اللّه کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت تعلیم پر خاطر خواہ توجہ دے رہی ہے۔

    ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جب تک لوگوں میں شعور نہیں ہوگا کہ ان سڑکوں اور آمد ورفت کا استعمال کیسے کرنا ہے تب تک اسے بنانے کا کیا
    فائدہ لائسنس ان لوگوں کے پاس نہیں ہوتا ہیلمٹ یہ لوگ نہیں پہنتے، اشارے یہ توڑے ہیں ایسے میں کیا ضرورت ان سڑکوں کی؟ اس کی جگہ تعلیمی ادارے بنیں تا کہ عوام کو شعور آئے۔

    اسی بات پر تھوڑی اور نظر ڈالتے ہیں ہمارے ملک میں احتجاج جب تک پر تشدد نہ ہو اس وقت تک احتجاجیوں کو کوئی منہ نہیں لگا تا اس لئے ہمارے ملک میں احتجاج پر تشدد ہو جاتے ہیں بدقسمتی سے احتجاج کرنے والے لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوں تو دل اور بھی زیادہ دکھتا ہے۔

    بس اصل بات یہ ہے کہ تعلیم بہت ضروری ہے کیوں کہ تعلیم ہوگی تو ہی شعور آئے گا تعلیم کے بغیر شعور ممکن ہی نہیں ہے اور رہی بات سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری حاصل کرنے کی تو اس کا ایک ہی حل ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ میں قابلیت ہے اور آپ نے سہی معنوں میں تعلیم حاصل کی ہے تو آپ کو کسی سفارش کرانے کی یا رشوت دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

    اور سہی معنوں میں تعلیم تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب ہم یونیورسٹیز میں جا کر اپنا اصل مقصد نا بھولیں اور اپنا فوکس صرف تعلیم پر رکھیں نا کہ آوارہ گردی کرنے پر، اگر ہم ایسا کر گئے تو ہم ایک باشعور قوم بن سکتے ہیں اور خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    @RealPahore

  • اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام  تحریر:ناصرہ فیصل

    اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام تحریر:ناصرہ فیصل

    حجاب کے معاملے میں مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراء ہیں۔ جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے؟
    عورت چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔حجاب اسلامی طرز زندگی کا حصہ ہے اور ہمیں سختی سے اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے سختی سے ہی لاگو کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے

    ۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیروکار اس مذہب کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور دین اسلام تو سچا دین ہے اس لیے اسے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ رکھیں تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہہ اسلام سے پہلے عورت کا معاشرے میں کیا مقام تھا؟ اسے جس قدر عزت اسلام نے دی، کسی اور مذہب نے نہیں دی اور پردہ کرنا تو عورت کی عظمت ہے اس لیے اس کا اصل مقام اور عزت پردہ کرنے میں ہے۔
    پردے کے بارے میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ کرنا صرف عورتوں پر لازم نہیں بلکہ مردوں کو بھی پردہ کرنے حکم دیا گیا ہے۔ ”سورۃ النور” کی آیت نمبر 30 میں ﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے” مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں”۔ … اور ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

    مرد کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھی عورت پر دوسری نگاہ ڈالے، نبی کریمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بہت شرم وحیا والے تھے اور آپؐ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’”’حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ آپؐ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپؐ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔‘”‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1055۔

    قرآنی تعلیمات سب سے پہلے مردوں سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔

    قرآن پاک میں ایک جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے””
    خواتین کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں جس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے باعث موجودہ زمانے میں بہت سی برائیوں سے بچنا ممکن ہو جائے گا۔
    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے”‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181

    ہمیں مغربی ممالک سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے خواتین کو محض ایک نمائش کی چیز بنا کر رکھ دیا ہے جسے کسی بھی وقت استعمال کر کے پھینکا جا سکتا ہے۔
    اگر کوئی خاتون حجاب اوڑھنا نہیں چاہتی تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن لِللہ حجاب کا تمسخر مت اڑائیےحجاب بہت ضروری ہے کیونکہ جب خواتین حجاب کے بغیر گھر سے نکلتی ہیں تو لوگ انہیں بری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے ’زنا‘ جیسی برائی جنم لیتی ہے۔
    دیکھئے! لفظ ’عورت‘ کے معنی بھی چھپانے والی چیز ہے۔ ہاں اگر آپ کو کوئی بات اچھی نہ لگے تو یہ آپ کا ذہن ہے، اسلام تو بہرحال یہی کہتا ہے۔
    قرآن میں اللہ نے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور حکمِ خدا بجا لانا فرض ہوتا ہےاگر مغربی مالک کو حجاب اتنا ہی برا لگتا ہے تو گرجا گھروں کی ننز کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کیوں نہیں لگا دیتے اور یہ امتیاز صرف مسلمان خواتین کے ساتھ کیوں ہے؟

    اسلام نے کبھی کسی چیز پر جبر نہیں کیا لیکن دینِ فطرت ہونے کی بدولت یہ معاشرے میں اخلاقی توازن قائم کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ حجاب پاکیزگی اور اخلاقیات کی علامت ہے اور اس کا ثبوت دوسرے مذاہب مثلاً عیسائیت میں بھی ملتا ہے۔
    حجاب اُمہات المومنین کی سنت ہے اس لئے اس کا اوڑھنا بہت افضل ہے لیکن اسلام نے ظاہری عبادات کے علاوہ باطنی عبادات جیسا کہ تقویٰ پر بھی زور دیا ہے اس لئے صرف پہننا ہی افضل نہیں اس کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسلام کسی اختیاری چیز پر پابندی عائد نہیں کرتا البتہ اچھے اور برے کی تمیز ضرور سکھاتا ہے۔ حجاب اوڑھنے اور نہ اوڑھنے پر پابندی نہیں ہونی چاہئے بلک ہ اسے ایک اختیاری عمل کے طور پر معاشروں میں رائج کرنا چاہئے۔
    اکبر الٰہ آبادی کیا خوب فرما گئے:

    "”بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
    اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
    پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
    کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا "”
    تحریر:ناصرہ فیصل
    @NiniYmz

  • مسائل کا بوجھ مت اٹھائیں تحریر: زبیر احمد

    مسائل کا بوجھ مت اٹھائیں تحریر: زبیر احمد

    چیلنجز اور مسائل ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں ان کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے اور جن کو بھی مسائل کا سامنا ہوتا وہ انکو حل کرنا چاہتے ہیں اور خواہش ہوتی کہ کسی طرح سارے مسائل حل ہوجائیں اور زندگی پرسکون ہوجائے، لیکن ہر کوئی ان مسائل کو حل کر نہیں پاتا۔ زندگی میں درپیش آنے والے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، شاید مسائل زندگی میں اتنی پریشانی پیدا نہیں کرتے لیکن اصل پریشانی تو وہ ردعمل ہے جو ہم کوئی مشکل پیش آنے پہ دیتے ہیں۔ اس کی اہمیت نہیں ہوتی کہ مشکل کتنی بڑی یا چھوٹی ہے بلکہ ہم اس مشکل پہ ردعمل کیا دیتے ہیں وہ اہم ہے۔ اگر ہمارا ردعمل بہتر نہیں ہوگا تو مسئلہ بڑھتا جائے گا اور اور چھوٹے سے مسئلہ کو بھی الجھا کر بڑا اور خراب کرلیں گے اور اصل مسئلہ کہیں درمیان میں ہی رہ جائے گا بلکہ ہمارے رویے کی وجہ سے مزید مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ اس لئے کسی بھی مسئلہ کے درپیش آنے پہ ردعمل سوچ سمجھ کردینا چاہئے اور نہ ہی فوری ردعمل دینا چاہیے۔ کسی بھی مسئلہ کو پہلے اچھے سے سمجھنے کی کوشش کریں اور اگر سوچ سمجھ کر ردعمل دیں گے تو مسئلہ حل کی طرف بڑھنا شروع ہوجائے گا۔ کوئی آپ سے کتنا بھی برا سلوک کرے لیکن کبھی بھی اس کے لیول تک نہ آئیں جواب ضرور دیں لیکن اس کی حد تک نہ گریں اور اپنے اعصاب کو مضبوط اور پرسکون رکھیں۔
    یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یا تو آپ مسئلہ ہیں یا مسئلے کا حل ہیں اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ مسئلے کا حصہ ہیں یا اس کے حل کا حصہ ہیں۔ اگر آپ کو کوئی مسئلہ درپیش آگیا ہے تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں کیونکہ زندگی ہے تو مسائل آتے رہیں گے لیکن اگر آپ روتے رہیں گے کہ میرے ساتھ یہ ہوگیا وہ ہوگیا مجھے حالات اچھے نہیں ملے، لوگوں نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے اگر میں بھی کسی امیر گھر میں پیدا ہوتا تو میری بھی زندگی مختلف ہوتی اگر آپ پرابلم کے بارے میں سوچتے رہیں گے اور کچھ نہیں کرینگے تو آپ پرابلم کا حصہ بن جائیں گے۔ اس لئے کسی مسئلہ کا حصہ بننے کیبجائے اس کے حل کا حصہ بنیں اور اس چیز پہ غور کریں کہ اس مشکل سے کیسے نکل سکتے ہیں اور حل کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔
    اپنی زندگی کو بدلنے کا اختیار آپ کے پاس ہی ہے اور انسان خود ہی اپنی زندگی کو بدل سکتا ہے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ کہ "اگر آپ غریب گھر میں پیدا ہوئے ہیں تو یہ آپ کی غلطی نہیں لیکن اگر آپ غریب رہ کر ہی مر گئے ہیں تو یہ آپ ہی کی غلطی ہے” مطلب اگر آپ کی زندگی میں کوئی مشکل آگئی ہے تو مشکل ہوسکتا ہے آپ کی غلطی کی وجہ سے نہ آئی ہو کسی دوسرے کی غلطی کی وجہ سے آپ مشکل میں پڑ گئے ہوں لیکن اگر آپ اس مشکل سے نکل نہیں سکتے اس کا کوئی حل تلاش نہیں کرتے اور اس میں ہی پھنسے رہتے ہیں تو پھر یہ آپ کی غلطی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھیں کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، یہ ضروری نہیں کہ ہر تنقیدی بات کا جواب دیا جائے کچھ لوگوں کو کام ہی صرف تنقید برائے تنقید ہوتا ہے ایسے لوگوں کی باتوں کو نظرانداز کردینا چاہئے۔ اگر کسی دوسرے کے ساتھ ایشو بن جائے یا کوئی غلط فہمی پیدا ہوجائے تو لوگ عام طور پہ ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں آپس میں اچھے قریبی تعلقات ہوں پھر بھی ایک دوسرے سے بات کرنے کیبجائے دوسرے لوگوں سے گلے شکوے کرتے ہیں آپس کے اختلافات کو دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہیں اس سے مسائل بڑھتے ہیں اور مزید غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس لئے حالات جیسے بھی ہوں کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ایک دوسرے سے بات کریں۔ آپس میں بات کرنا کبھی بھی بند نہ کریں اس سے آدھے سے زیادہ مسائل ویسے ہی حل ہوجاتے ہیں۔
    ہماری زندگی میں کچھ ایسے مسائل ہوتے ہیں جن کا کوئی حل نہیں ہوتا یا کم از کم ہمارے پاس ان کا حل نہیں ہوتا کچھ چیزوں کو ہم نہیں بدل سکتے اگر کسی کا قد چھوٹا یے رنگ گورا نہیں ہے، کوئی غریب گھر میں پیدا ہوا ہے مڈل کلاس فیملی سے ہے کسی کے والدین پڑھے لکھے نہیں ہیں تو کوئی بھی ایسی چیزوں کو نہیں بدل سکتا اور گر ان میں سے کوئی ایسی چیز آپ میں ہے تو اس کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہونے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونا آپ ان چیزوں کو نہیں بدل سکتے یہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہیں اس لئے کوئی ایسا مسئلہ جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا تو ہوسکتا ہے وہ مسئلہ ہو ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسی حقیقت ہو جس کو قبول کرکے ہی ہم زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں کیونکہ ہم اس کو بدل نہیں سکتے ہیں اس لئے ایسی چیزوں کو قبول کرنا ہی بہتر ہے۔
    مسائل کے بارے میں ایک سنہری اصول ہے کہ یا تو آپ پرابلم کو حل کرلیں اور یا تو آپ اس سے چھوڑ دیں نظرانداز کردیں، کسی پرابلم کے ساتھ کبھی بھی زندگی نہ گزاریں اس کو یاد کرکے اس کے بارے میں سوچتے رہنا اس بوجھ کو اپنے ساتھ لے کر کبھی بھی نہ چلیں کیونکہ بوجھ کو اٹھا کر چلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے

    tweets @KharnalZ

  • بے حیائی اور معاشرہ تحریر: سیدہ بنت زینب

    بے حیائی اور معاشرہ تحریر: سیدہ بنت زینب

    فحاشی اور بے حیائی معاشرے میں قائم کردہ اصولوں اور معیارات کی خلاف ورزی ہے. حالیہ برسوں میں یہ بہت سی شکلوں میں ظاہر ہوا ہے جیسے کہ ہمارے رویے میں، ہماری زبان میں، ہمارے ڈریسنگ میں، اور حتی کہ دوسروں کے لیے ہمارے اشاروں میں بھی. موجودہ دور کے فیشن میں ایک نہایت اہم بات قابل غور ہے کہ فیشن میں بے حیائی اعلیٰ درجہ کی علامت بن گئی ہے.
    نئے دور کے فیشن نے نئی اور نوجوان نسل کو ہپناٹائز کر دیا ہے. ایک چینی محاورہ فیشن کی تعریف کرتا ہے، جیسا کہ ’فیشن دکھانے کی خواہش ہے لیکن چھپانے کی مجبوری ہے؛ فیشن ایک ملین ڈالر کی صنعت بن چکا ہے. یہ ایک بڑے لوگوں کے گروہ کو روزگار فراہم کرتا ہے. یہ فیشن ڈیزائنرز اور ماڈلز کو مشہور شخصیت کا درجہ دیتا ہے.
    فیشن کا مقصد معاشرے کو خوبصورت بنانا ہے اور اس نے اس منصوبے میں جزوی کامیابی بھی حاصل کی ہے. فیشن انڈسٹری انسانی جسم کی قدرتی خوبصورتی کو پیش کرنے کے نام پر بے حیائی اور بعض اوقات بدصورتی کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے. انگریزی فلسفی جیم جوڈ نے کہا، "فن زندہ رہتا ہے اور کبھی بوڑھا نہیں ہوتا. یہ ایک امتحان کی طرح ہوتا ہے. ظاہر ہے کہ چند ڈیزائن اس امتحان میں کامیاب ہوں گے. میں فیشن کی توہین نہیں کرتا، لیکن مجھے کسی نہ کسی طرح نیاپن لانے اور بنانے کی زیادہ تر کوششیں ناکام لگتی ہیں.”
    ہمارا پریس زیادہ تر اس طرح کے مواد سے بھرا پڑا ہے. بچے معاشرے کی جنریشن گیپ اور مغربی کاری کی وجہ سے بڑوں کی بات نہیں سنتے. بزرگ تب تک کوئی عجیب کام کرنے سے نہیں روک سکتے جب وہ خود کھلے عام اس طرح کے کام کرتے ہوں گے. یہ نئی نسل کے لیے ناقابل قبول ہو گا.
    بے حیائی پورے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے لیکن سوائے اپنے کندھوں کو ہلانے کے، ہم معاملات کو درست کرنے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے. بے حیائی معاشرے کی جڑوں میں گھس رہی ہے. یہ معاشرے کو اس حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی علاج کام نہیں کرے گا.
    تاہم، ہمیں ایک حقیقت یہ بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ فحاشی اور بے حیائی صرف لڑکی کے لباس سے شروع نہیں ہوتی اور نا یہ اس کے ساتھ ختم ہوتی ہے. اسلام نے تمام عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے جبکہ تمام مردوں کو عورت کی عزت کرتے ہوئے اپنی نظریں نیچے کرنے کا حکم دیا ہے. مگر ہمارا معاشرہ بلکل الٹی سمت میں چل پڑا ہے. مغربی ممالک کے کلچر نے ہمارے معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے. عورتوں نے مغربی طرز کے لباس پہنا شروع کر دیے ہیں اور مردوں نے اپنی نظریں نیچے کرنا چھوڑ دیا ہے. اگر اس بے حیائی کی وجہ سے کوئی واقع رونما ہو جاتا ہے تو قصور وار آخر پر ہر حال میں عورتوں کو ٹھہرادیا جاتا ہے. حالانکہ اس میں غلطی دونوں اطراف سے سرزد ہوتی ہے. اگر عورت پردہ نہیں کرتی تو اسکی غلطی ہے اور اگر مرد اپنی نظروں کو غلاظت سے پاک نہیں کرتا اور اپنے عمال درست نہیں رکھتا تو اسکی غلطی ہوتی ہے.
    معاشرے میں پھیلتا ہوا یہ مرض ہم سب مل کر ہی روک سکتے ہیں. ہم سب کو اپنے آپ سے شروعات کر کے اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا ہو گا. بے حیائی کو چھوڑنا ہو گا. خود کو اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہو گا. ہر قسم کے مغربی کلچر کو اپنے معاشرے سے اکھاڑ پھینکا ہو گا صرف تب ہی ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں فلاحی معاشرہ بن سکتا ہے.

    تحریر: سیدہ بنت زینب
    @BinteZainab33

  • چار دِیواری (گَھر) تحریر:افشین

    چار دِیواری (گَھر) تحریر:افشین

    عورت گھر کی چار دیواری میں ہی محفوظ ہے آج کل کی عورت کو آگر کہا جائے گھر رہو تو وہ یہ سمجھتی ہے چار دیواری میں وہ قید ہو جائے گی یہ کوئی قید نہیں ہے عورت گھر سنبھالتے اچھی لگتی ہے اور مرد کماتے ۔ چار دیواری اس تَحفُظ کا نام ہے جو اسلام نے عورت کے لیے مقرر کیا ہے۔ ضرورت اور مجبوری میں عورت گھر سے نکل سکتی ہے ممنوع نہیں ہے ۔اسلام میں عورت کو حقوق دیے گئےہیں آزادی بھی دی ہے پر آزادی کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بے حیائی پھیلائ جائے ۔ اتنی آزادی مل چکی ہے پھر بھی آزادی کے نعرے ختم نہیں ہورہے ۔ آج کل کی عورت کس قسم کی آزادی چاہتی ہے؟؟چار دیواری میں جتنی عورت محفوظ ہے اتنی کہیں بھی نہیں ۔ اپنی حفاظت خود کریں ۔معاشرے میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں ۔خواہشات کی تکمیل ہر کوئی چاہتا ہے کچھ بننے کی خواہش میں بھی عورتیں گھر سے باہر نکلنے کی خواہش مند ہوتی ہیں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے حدود پار نہ کریں ۔بے شک گھر سے نکلے پر ایسی کوئی حرکت نہ کریں کہ آپ کی عزت داغ دار ہو۔گھر بیٹھ کے بھی آپ بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ سلائی کڑھائی اور بہت سے کام موجود ہیں جو گھر بیٹھے آپ کما سکتی ہیں۔ پردے کا حکم بھی اسلیے ہے کہ کسی کی بری نگاہ آپ پہ نہ پڑے پردے میں رہ کے آپ گھر سے باہر کے کام سر انجام دے سکتی ہیں۔پردہ بھی ایسا ہو جس میں واقع لگے کہ آپ پردے میں ہیں آج کل کا پردہ بھی ایسا ہے کہ اتنا لوگ پردہ کے بغیر چلنے والی کونہیں دیکھتے جتنا پردے والی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ پردہ کے نام پہ فیشن کر رہی ہوتی ہیں ۔ پردے میں بھی حور پَری بن کے نکلو گی پھر کہو گی میرے ساتھ یہ ہوا !! جب تک آپ اپنا کردار صیحح نہیں کریں گی چاہے آپ پردہ میں ہو چاہے آپ گھر کی چار دیواری میں ہو آپ اپنی بربادی کی خود ذمہ دار ہونگی۔
    طوائف بھی ایک عورت ہی ہوتی ہے پر اسکا قصور یہ ہے وہ ایسی جگہ پیدا ہوجاتی ہے جہاں عزتیں محفوظ نہیں ۔ طوائف بھی اس معاشرے میں عزت چاہتی ہے وہ اس دلدل سے نکلنا چاہتی ہے عزت کی زندگی جینا چاہتی ہے مگر اس معاشرہ میں اچھی بھلی عورت کو بھی برا بنا دیا جاتا ہے طوائف کو بُری نِگاہ سے ہی دیکھا جاتا ہے یہاں سر پہ چادر رکھنے والے کم نوچ کے کھانے والے زیادہ بستے ہیں ۔ جن لڑکیوں کو گھروں میں آزادی حاصل ہوتی ہے وہ عجیب و غریب حرکتیں کرتی ہیں ٹک ٹاک کی دنیا بھی مجرہ بنی ہوئی ہےمشہور ہونے کے لیےشریف گھروں کی بگڑی اولادیں بھی اس کام میں مصروف ہیں۔ قیامت تو بعد میں آنی ہے تم لوگوں کی زندگیاں بھی عذاب بن جائیں گی ایسی حرکتیں عورتوں کو زیب نہیں دیتیں۔ حرکتیں ایسی نہ کریں کہ کچھ برا ہو ۔کچھ مرد حضرات ایسے ہیں کچھ بنتِ حَوا نے سر سے چادر تن سے لباس اتار پھینکا ہے حوس مارے پر نوچے گے نہیں تو کیا سر پہ چادریں دیں گے ۔میرا مقصد کسی پہ تنقید کا نہیں ہے یہی سچائی اور حقیقت ہے ایک ماں ہی بچے کی پَروَرِش کرتی ہے پر اگر ماں بہنیں ایسے کریں گی اور انکے باپ بھائ انکے منع نہیں کریں گے تو ایسے سب نظام درہم برہم ہوجائے گا پہلے بچوں کی تربیت اچھی کریں اچھے برے کا انکو بتائیں بے حیائ کے کاموں سے روکیں۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں ٹک ٹاک پہ ناچ رہی ہوتی ہیں بڑی ہوکے پر وہ یہی کریں گی انکو پردہ کرنا سیکھائے انکو حدود میں رہنا بتائے چار دیواری میں رہنا کیا ہوتا ہے یہ بھی بتائے چار دیواری کوئی قید نہیں یہ وہ حدود ہے جس پہ عورت محفوظ ہے ۔اسلامی معاشرہ میں عورت کے لیے کوئی قیدوبند نہیں۔

    @Hu__rt7

  • مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ   : تحریر ملک علی رضا

    مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ : تحریر ملک علی رضا

    پاکستان کے یوم آزادی پر مینار پاکستان لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں ایک خاتون کیساتھ مبینہ طور پر قریب 400 لوگوں نے دست درازی کی جس پر اُس وقت کوئی نوٹس نہ لیا گیا مگر جیسے ہی سوشل میڈیا پر یہ بات وائرل ہوئی تو تمام میڈیا پلیٹ فارمز نے بنا تحقیق کیے بنا سوچے سمجھے اس معاملے کو اُٹھا دیا۔ اس معاملے میں جو کچھ بھی ہوا اس کی پہلے دن سے میں مذمت کرتا ہوں جن لوگوں کو بلوایا گیا اور وہاں ان خاتون کیساتھ جو اپنے دوستوں کے ہمراہ وہاں کچھ ویڈیوز بنانے اور اپنے فینز سے ملنے گئیں تھیں جو کچھ بھی انکے ساتھ کیا گیا انتہائی غیر مناسب اور قابل مذمت اقدام تھا۔
    اب جب یہ سب کچھ ہوگیا ہے تو ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ پاکستان غیر محفوظ ہے اور پاکستان میں عورتوں کو کوئی حق نہیں دیا جا رہا انکو زیادتی کا شکار کیا جا رہا ہے طرح طرح کی باتیں ہونے لگ گئیں۔
    یاد رہے ایسا کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے تو اس واقعے میں نجانے کتنے ایسے لوگ ہیں جو اس تاک میں ہوتے ہیں کہ پاکستان مخالف بس کچھ میٹریل ملنا چائیے تا کہ اُسے فوری طور پر انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنایا جائے اور پھر پاکستابن مخالف پروپیگنڈہ کیا جا سکے ۔ اس معاملے کو لیکر بھی ایک منظم سازش پاکستان کیخلاف کی گئی اور جب تک اب یہ معاملہ میڈیاپر چلتا رہے گا یا جب تک کوئی نیا پروپیگنڈہ سامنے نہیں آجاتا تب تک اس معاملے کو ہوا میں اُرایا جاتا رہے گا اور اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں گے ۔ لیکن سوشل میڈیا پر دونوں اطراف سے اس معاملے کے حق اور تنقید میں ہمیشہ کی طرح اس ایشو پر بھی بحث جاری ہے۔
    ایسے معاملات ہوتے کیوں ہیں اور ان کو اتنا کیوں اُچھالا جاتا ہے یہ معمہ ابھی تک معمہ ہی ہے لیکن کچھ ایسی چیزیں ہیں جو عام پبلک کی نظر میں سوالیہ نشان ہیں جن میں سب سے پہلے قانون کی بالادستی کا نہ ہونا، لوگوں کو مکمل معلومات کا نہ ہونا ، مرد اور عورت کے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا نجانے کتنے ایسے سوالات ہیں جو لوگوں کے اذہان میں جمع ہیں
    اب اس معاملے کے اصل مُحرکات ہیں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنا جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی ٹک ٹاک پر مشہور ہونے کے چکر میں ایک لڑکی نے اپنے شوہر کو مار دیا اور ڈرامہ کر دیا جس سے اس کو بھی خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔
    در اصل ایسے واقعات کا تسلسل کیساتھ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب وہ بُرائیاں کُھل کر سامنے آنے لگی ہیں جو شاید پہلے کم ہوا کرتی تھیں اور رپورٹ بھی کم ہوتی تھیں ، قانون کی بالا دستی اور جلد انصاف کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات میں تسلسل آنے لگ گیا ہے۔ زینب قتل کیس کے بعد اب تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب کوئی ایسی خبر نہ سُنی ہو۔
    ان سب کی اصل وجہ ہمارے معاشرے میں کسی بھی چیز کی زیادتی ہے جب کوئی بھی چیز حد سے تجاوز کر جائے تو وہ نقصان دینا شروع کر دیتی ہے پھر چاہے وہ کوئی نشہ ہو ،انٹرنیت کا بے جا استعمال ہو، سوشل میڈیا کا بے ہنگم استعمال ہو یا کچھ بھی ایسا ہو جس سے معاشرے میں تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوجائیں۔
    بحثیت ایک شخص میں اپنے گھر سے لیکر سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیز اور دفاتر غرض کہ سڑک پر چلتے پھرتے بھی اپنی اخلاقیات کو نہیں بھولنا چائیے۔او یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب انسان کی تربیت گاہیں انکو اپنی اقدار اور اخلاقیات کا سبق پڑھا کر گھر سے نکالیں گی، والدین کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانی ہوگی، سکول کے استادوں معاشرے کو بنانے کے لیے حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہی دو درس گاہیں ہیں جہاں سے معاشرے بنتے بھی ہیں اور بگڑتے بھی ہیں۔
    جب انسان اپنے پیروں پر کھڑا ہونا شروع ہوجاتا ہے تو اسے ہرگز یہ نہیں سمجھنا چائیے کی وہ عقل کُل رکھتا ہے ۔ ہر لمحہ ہر گھڑی سیکھنے کا مرحلہ جاری رہتا ہے اب یہ انسان کی طبیعت پر منحصر ہے کہ وہ کیا سیکھتا ہے۔ ہم سب کو تنقید کا حق ضرور ہے مگر تنقید بھی تب ہوجب تنقید کرنے والوں کے پاس اس مسلے کا حل ہو تا کہ وہ حل بتا کر معاشرے کی بُرائیوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔ ہمارے معاشرے میں طوئفوں کی بات سب سے سامنے زندہ مثال ہے جو سرعام مکروع دھندہ کرتی ہیں اور معاشرہ انکو بُری نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ کہتی پھرتی ہیں کہ کتنے راز ہیں ہمارے پاس اگر ہم کھول دیں بڑے بڑے پارسا بھی منہ دیکھانے لائق نہ رہیں۔تو پردہ رکھنے سے انکا کچھ نہیں جاتا مگر بڑے بڑے پارسا گریبان کھول کر گھوم رہے ہوتے ہیں جیسا کہ وہ کوئی بہت بڑے تیس مار خان ہیں۔اس لیے معاشرے کو بنائیں نہ کہ بگاڑ پیدا کیا جائے۔