Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • مسائل کا بوجھ مت اٹھائیں تحریر: زبیر احمد

    مسائل کا بوجھ مت اٹھائیں تحریر: زبیر احمد

    چیلنجز اور مسائل ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں ان کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے اور جن کو بھی مسائل کا سامنا ہوتا وہ انکو حل کرنا چاہتے ہیں اور خواہش ہوتی کہ کسی طرح سارے مسائل حل ہوجائیں اور زندگی پرسکون ہوجائے، لیکن ہر کوئی ان مسائل کو حل کر نہیں پاتا۔ زندگی میں درپیش آنے والے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، شاید مسائل زندگی میں اتنی پریشانی پیدا نہیں کرتے لیکن اصل پریشانی تو وہ ردعمل ہے جو ہم کوئی مشکل پیش آنے پہ دیتے ہیں۔ اس کی اہمیت نہیں ہوتی کہ مشکل کتنی بڑی یا چھوٹی ہے بلکہ ہم اس مشکل پہ ردعمل کیا دیتے ہیں وہ اہم ہے۔ اگر ہمارا ردعمل بہتر نہیں ہوگا تو مسئلہ بڑھتا جائے گا اور اور چھوٹے سے مسئلہ کو بھی الجھا کر بڑا اور خراب کرلیں گے اور اصل مسئلہ کہیں درمیان میں ہی رہ جائے گا بلکہ ہمارے رویے کی وجہ سے مزید مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ اس لئے کسی بھی مسئلہ کے درپیش آنے پہ ردعمل سوچ سمجھ کردینا چاہئے اور نہ ہی فوری ردعمل دینا چاہیے۔ کسی بھی مسئلہ کو پہلے اچھے سے سمجھنے کی کوشش کریں اور اگر سوچ سمجھ کر ردعمل دیں گے تو مسئلہ حل کی طرف بڑھنا شروع ہوجائے گا۔ کوئی آپ سے کتنا بھی برا سلوک کرے لیکن کبھی بھی اس کے لیول تک نہ آئیں جواب ضرور دیں لیکن اس کی حد تک نہ گریں اور اپنے اعصاب کو مضبوط اور پرسکون رکھیں۔
    یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یا تو آپ مسئلہ ہیں یا مسئلے کا حل ہیں اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ مسئلے کا حصہ ہیں یا اس کے حل کا حصہ ہیں۔ اگر آپ کو کوئی مسئلہ درپیش آگیا ہے تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں کیونکہ زندگی ہے تو مسائل آتے رہیں گے لیکن اگر آپ روتے رہیں گے کہ میرے ساتھ یہ ہوگیا وہ ہوگیا مجھے حالات اچھے نہیں ملے، لوگوں نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے اگر میں بھی کسی امیر گھر میں پیدا ہوتا تو میری بھی زندگی مختلف ہوتی اگر آپ پرابلم کے بارے میں سوچتے رہیں گے اور کچھ نہیں کرینگے تو آپ پرابلم کا حصہ بن جائیں گے۔ اس لئے کسی مسئلہ کا حصہ بننے کیبجائے اس کے حل کا حصہ بنیں اور اس چیز پہ غور کریں کہ اس مشکل سے کیسے نکل سکتے ہیں اور حل کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔
    اپنی زندگی کو بدلنے کا اختیار آپ کے پاس ہی ہے اور انسان خود ہی اپنی زندگی کو بدل سکتا ہے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ کہ "اگر آپ غریب گھر میں پیدا ہوئے ہیں تو یہ آپ کی غلطی نہیں لیکن اگر آپ غریب رہ کر ہی مر گئے ہیں تو یہ آپ ہی کی غلطی ہے” مطلب اگر آپ کی زندگی میں کوئی مشکل آگئی ہے تو مشکل ہوسکتا ہے آپ کی غلطی کی وجہ سے نہ آئی ہو کسی دوسرے کی غلطی کی وجہ سے آپ مشکل میں پڑ گئے ہوں لیکن اگر آپ اس مشکل سے نکل نہیں سکتے اس کا کوئی حل تلاش نہیں کرتے اور اس میں ہی پھنسے رہتے ہیں تو پھر یہ آپ کی غلطی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھیں کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، یہ ضروری نہیں کہ ہر تنقیدی بات کا جواب دیا جائے کچھ لوگوں کو کام ہی صرف تنقید برائے تنقید ہوتا ہے ایسے لوگوں کی باتوں کو نظرانداز کردینا چاہئے۔ اگر کسی دوسرے کے ساتھ ایشو بن جائے یا کوئی غلط فہمی پیدا ہوجائے تو لوگ عام طور پہ ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں آپس میں اچھے قریبی تعلقات ہوں پھر بھی ایک دوسرے سے بات کرنے کیبجائے دوسرے لوگوں سے گلے شکوے کرتے ہیں آپس کے اختلافات کو دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہیں اس سے مسائل بڑھتے ہیں اور مزید غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس لئے حالات جیسے بھی ہوں کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ایک دوسرے سے بات کریں۔ آپس میں بات کرنا کبھی بھی بند نہ کریں اس سے آدھے سے زیادہ مسائل ویسے ہی حل ہوجاتے ہیں۔
    ہماری زندگی میں کچھ ایسے مسائل ہوتے ہیں جن کا کوئی حل نہیں ہوتا یا کم از کم ہمارے پاس ان کا حل نہیں ہوتا کچھ چیزوں کو ہم نہیں بدل سکتے اگر کسی کا قد چھوٹا یے رنگ گورا نہیں ہے، کوئی غریب گھر میں پیدا ہوا ہے مڈل کلاس فیملی سے ہے کسی کے والدین پڑھے لکھے نہیں ہیں تو کوئی بھی ایسی چیزوں کو نہیں بدل سکتا اور گر ان میں سے کوئی ایسی چیز آپ میں ہے تو اس کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہونے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونا آپ ان چیزوں کو نہیں بدل سکتے یہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہیں اس لئے کوئی ایسا مسئلہ جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا تو ہوسکتا ہے وہ مسئلہ ہو ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسی حقیقت ہو جس کو قبول کرکے ہی ہم زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں کیونکہ ہم اس کو بدل نہیں سکتے ہیں اس لئے ایسی چیزوں کو قبول کرنا ہی بہتر ہے۔
    مسائل کے بارے میں ایک سنہری اصول ہے کہ یا تو آپ پرابلم کو حل کرلیں اور یا تو آپ اس سے چھوڑ دیں نظرانداز کردیں، کسی پرابلم کے ساتھ کبھی بھی زندگی نہ گزاریں اس کو یاد کرکے اس کے بارے میں سوچتے رہنا اس بوجھ کو اپنے ساتھ لے کر کبھی بھی نہ چلیں کیونکہ بوجھ کو اٹھا کر چلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے

    tweets @KharnalZ

  • بے حیائی اور معاشرہ تحریر: سیدہ بنت زینب

    بے حیائی اور معاشرہ تحریر: سیدہ بنت زینب

    فحاشی اور بے حیائی معاشرے میں قائم کردہ اصولوں اور معیارات کی خلاف ورزی ہے. حالیہ برسوں میں یہ بہت سی شکلوں میں ظاہر ہوا ہے جیسے کہ ہمارے رویے میں، ہماری زبان میں، ہمارے ڈریسنگ میں، اور حتی کہ دوسروں کے لیے ہمارے اشاروں میں بھی. موجودہ دور کے فیشن میں ایک نہایت اہم بات قابل غور ہے کہ فیشن میں بے حیائی اعلیٰ درجہ کی علامت بن گئی ہے.
    نئے دور کے فیشن نے نئی اور نوجوان نسل کو ہپناٹائز کر دیا ہے. ایک چینی محاورہ فیشن کی تعریف کرتا ہے، جیسا کہ ’فیشن دکھانے کی خواہش ہے لیکن چھپانے کی مجبوری ہے؛ فیشن ایک ملین ڈالر کی صنعت بن چکا ہے. یہ ایک بڑے لوگوں کے گروہ کو روزگار فراہم کرتا ہے. یہ فیشن ڈیزائنرز اور ماڈلز کو مشہور شخصیت کا درجہ دیتا ہے.
    فیشن کا مقصد معاشرے کو خوبصورت بنانا ہے اور اس نے اس منصوبے میں جزوی کامیابی بھی حاصل کی ہے. فیشن انڈسٹری انسانی جسم کی قدرتی خوبصورتی کو پیش کرنے کے نام پر بے حیائی اور بعض اوقات بدصورتی کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے. انگریزی فلسفی جیم جوڈ نے کہا، "فن زندہ رہتا ہے اور کبھی بوڑھا نہیں ہوتا. یہ ایک امتحان کی طرح ہوتا ہے. ظاہر ہے کہ چند ڈیزائن اس امتحان میں کامیاب ہوں گے. میں فیشن کی توہین نہیں کرتا، لیکن مجھے کسی نہ کسی طرح نیاپن لانے اور بنانے کی زیادہ تر کوششیں ناکام لگتی ہیں.”
    ہمارا پریس زیادہ تر اس طرح کے مواد سے بھرا پڑا ہے. بچے معاشرے کی جنریشن گیپ اور مغربی کاری کی وجہ سے بڑوں کی بات نہیں سنتے. بزرگ تب تک کوئی عجیب کام کرنے سے نہیں روک سکتے جب وہ خود کھلے عام اس طرح کے کام کرتے ہوں گے. یہ نئی نسل کے لیے ناقابل قبول ہو گا.
    بے حیائی پورے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے لیکن سوائے اپنے کندھوں کو ہلانے کے، ہم معاملات کو درست کرنے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے. بے حیائی معاشرے کی جڑوں میں گھس رہی ہے. یہ معاشرے کو اس حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی علاج کام نہیں کرے گا.
    تاہم، ہمیں ایک حقیقت یہ بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ فحاشی اور بے حیائی صرف لڑکی کے لباس سے شروع نہیں ہوتی اور نا یہ اس کے ساتھ ختم ہوتی ہے. اسلام نے تمام عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے جبکہ تمام مردوں کو عورت کی عزت کرتے ہوئے اپنی نظریں نیچے کرنے کا حکم دیا ہے. مگر ہمارا معاشرہ بلکل الٹی سمت میں چل پڑا ہے. مغربی ممالک کے کلچر نے ہمارے معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے. عورتوں نے مغربی طرز کے لباس پہنا شروع کر دیے ہیں اور مردوں نے اپنی نظریں نیچے کرنا چھوڑ دیا ہے. اگر اس بے حیائی کی وجہ سے کوئی واقع رونما ہو جاتا ہے تو قصور وار آخر پر ہر حال میں عورتوں کو ٹھہرادیا جاتا ہے. حالانکہ اس میں غلطی دونوں اطراف سے سرزد ہوتی ہے. اگر عورت پردہ نہیں کرتی تو اسکی غلطی ہے اور اگر مرد اپنی نظروں کو غلاظت سے پاک نہیں کرتا اور اپنے عمال درست نہیں رکھتا تو اسکی غلطی ہوتی ہے.
    معاشرے میں پھیلتا ہوا یہ مرض ہم سب مل کر ہی روک سکتے ہیں. ہم سب کو اپنے آپ سے شروعات کر کے اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا ہو گا. بے حیائی کو چھوڑنا ہو گا. خود کو اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہو گا. ہر قسم کے مغربی کلچر کو اپنے معاشرے سے اکھاڑ پھینکا ہو گا صرف تب ہی ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں فلاحی معاشرہ بن سکتا ہے.

    تحریر: سیدہ بنت زینب
    @BinteZainab33

  • چار دِیواری (گَھر) تحریر:افشین

    چار دِیواری (گَھر) تحریر:افشین

    عورت گھر کی چار دیواری میں ہی محفوظ ہے آج کل کی عورت کو آگر کہا جائے گھر رہو تو وہ یہ سمجھتی ہے چار دیواری میں وہ قید ہو جائے گی یہ کوئی قید نہیں ہے عورت گھر سنبھالتے اچھی لگتی ہے اور مرد کماتے ۔ چار دیواری اس تَحفُظ کا نام ہے جو اسلام نے عورت کے لیے مقرر کیا ہے۔ ضرورت اور مجبوری میں عورت گھر سے نکل سکتی ہے ممنوع نہیں ہے ۔اسلام میں عورت کو حقوق دیے گئےہیں آزادی بھی دی ہے پر آزادی کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بے حیائی پھیلائ جائے ۔ اتنی آزادی مل چکی ہے پھر بھی آزادی کے نعرے ختم نہیں ہورہے ۔ آج کل کی عورت کس قسم کی آزادی چاہتی ہے؟؟چار دیواری میں جتنی عورت محفوظ ہے اتنی کہیں بھی نہیں ۔ اپنی حفاظت خود کریں ۔معاشرے میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں ۔خواہشات کی تکمیل ہر کوئی چاہتا ہے کچھ بننے کی خواہش میں بھی عورتیں گھر سے باہر نکلنے کی خواہش مند ہوتی ہیں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے حدود پار نہ کریں ۔بے شک گھر سے نکلے پر ایسی کوئی حرکت نہ کریں کہ آپ کی عزت داغ دار ہو۔گھر بیٹھ کے بھی آپ بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ سلائی کڑھائی اور بہت سے کام موجود ہیں جو گھر بیٹھے آپ کما سکتی ہیں۔ پردے کا حکم بھی اسلیے ہے کہ کسی کی بری نگاہ آپ پہ نہ پڑے پردے میں رہ کے آپ گھر سے باہر کے کام سر انجام دے سکتی ہیں۔پردہ بھی ایسا ہو جس میں واقع لگے کہ آپ پردے میں ہیں آج کل کا پردہ بھی ایسا ہے کہ اتنا لوگ پردہ کے بغیر چلنے والی کونہیں دیکھتے جتنا پردے والی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ پردہ کے نام پہ فیشن کر رہی ہوتی ہیں ۔ پردے میں بھی حور پَری بن کے نکلو گی پھر کہو گی میرے ساتھ یہ ہوا !! جب تک آپ اپنا کردار صیحح نہیں کریں گی چاہے آپ پردہ میں ہو چاہے آپ گھر کی چار دیواری میں ہو آپ اپنی بربادی کی خود ذمہ دار ہونگی۔
    طوائف بھی ایک عورت ہی ہوتی ہے پر اسکا قصور یہ ہے وہ ایسی جگہ پیدا ہوجاتی ہے جہاں عزتیں محفوظ نہیں ۔ طوائف بھی اس معاشرے میں عزت چاہتی ہے وہ اس دلدل سے نکلنا چاہتی ہے عزت کی زندگی جینا چاہتی ہے مگر اس معاشرہ میں اچھی بھلی عورت کو بھی برا بنا دیا جاتا ہے طوائف کو بُری نِگاہ سے ہی دیکھا جاتا ہے یہاں سر پہ چادر رکھنے والے کم نوچ کے کھانے والے زیادہ بستے ہیں ۔ جن لڑکیوں کو گھروں میں آزادی حاصل ہوتی ہے وہ عجیب و غریب حرکتیں کرتی ہیں ٹک ٹاک کی دنیا بھی مجرہ بنی ہوئی ہےمشہور ہونے کے لیےشریف گھروں کی بگڑی اولادیں بھی اس کام میں مصروف ہیں۔ قیامت تو بعد میں آنی ہے تم لوگوں کی زندگیاں بھی عذاب بن جائیں گی ایسی حرکتیں عورتوں کو زیب نہیں دیتیں۔ حرکتیں ایسی نہ کریں کہ کچھ برا ہو ۔کچھ مرد حضرات ایسے ہیں کچھ بنتِ حَوا نے سر سے چادر تن سے لباس اتار پھینکا ہے حوس مارے پر نوچے گے نہیں تو کیا سر پہ چادریں دیں گے ۔میرا مقصد کسی پہ تنقید کا نہیں ہے یہی سچائی اور حقیقت ہے ایک ماں ہی بچے کی پَروَرِش کرتی ہے پر اگر ماں بہنیں ایسے کریں گی اور انکے باپ بھائ انکے منع نہیں کریں گے تو ایسے سب نظام درہم برہم ہوجائے گا پہلے بچوں کی تربیت اچھی کریں اچھے برے کا انکو بتائیں بے حیائ کے کاموں سے روکیں۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں ٹک ٹاک پہ ناچ رہی ہوتی ہیں بڑی ہوکے پر وہ یہی کریں گی انکو پردہ کرنا سیکھائے انکو حدود میں رہنا بتائے چار دیواری میں رہنا کیا ہوتا ہے یہ بھی بتائے چار دیواری کوئی قید نہیں یہ وہ حدود ہے جس پہ عورت محفوظ ہے ۔اسلامی معاشرہ میں عورت کے لیے کوئی قیدوبند نہیں۔

    @Hu__rt7

  • مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ   : تحریر ملک علی رضا

    مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ : تحریر ملک علی رضا

    پاکستان کے یوم آزادی پر مینار پاکستان لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں ایک خاتون کیساتھ مبینہ طور پر قریب 400 لوگوں نے دست درازی کی جس پر اُس وقت کوئی نوٹس نہ لیا گیا مگر جیسے ہی سوشل میڈیا پر یہ بات وائرل ہوئی تو تمام میڈیا پلیٹ فارمز نے بنا تحقیق کیے بنا سوچے سمجھے اس معاملے کو اُٹھا دیا۔ اس معاملے میں جو کچھ بھی ہوا اس کی پہلے دن سے میں مذمت کرتا ہوں جن لوگوں کو بلوایا گیا اور وہاں ان خاتون کیساتھ جو اپنے دوستوں کے ہمراہ وہاں کچھ ویڈیوز بنانے اور اپنے فینز سے ملنے گئیں تھیں جو کچھ بھی انکے ساتھ کیا گیا انتہائی غیر مناسب اور قابل مذمت اقدام تھا۔
    اب جب یہ سب کچھ ہوگیا ہے تو ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ پاکستان غیر محفوظ ہے اور پاکستان میں عورتوں کو کوئی حق نہیں دیا جا رہا انکو زیادتی کا شکار کیا جا رہا ہے طرح طرح کی باتیں ہونے لگ گئیں۔
    یاد رہے ایسا کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے تو اس واقعے میں نجانے کتنے ایسے لوگ ہیں جو اس تاک میں ہوتے ہیں کہ پاکستان مخالف بس کچھ میٹریل ملنا چائیے تا کہ اُسے فوری طور پر انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنایا جائے اور پھر پاکستابن مخالف پروپیگنڈہ کیا جا سکے ۔ اس معاملے کو لیکر بھی ایک منظم سازش پاکستان کیخلاف کی گئی اور جب تک اب یہ معاملہ میڈیاپر چلتا رہے گا یا جب تک کوئی نیا پروپیگنڈہ سامنے نہیں آجاتا تب تک اس معاملے کو ہوا میں اُرایا جاتا رہے گا اور اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں گے ۔ لیکن سوشل میڈیا پر دونوں اطراف سے اس معاملے کے حق اور تنقید میں ہمیشہ کی طرح اس ایشو پر بھی بحث جاری ہے۔
    ایسے معاملات ہوتے کیوں ہیں اور ان کو اتنا کیوں اُچھالا جاتا ہے یہ معمہ ابھی تک معمہ ہی ہے لیکن کچھ ایسی چیزیں ہیں جو عام پبلک کی نظر میں سوالیہ نشان ہیں جن میں سب سے پہلے قانون کی بالادستی کا نہ ہونا، لوگوں کو مکمل معلومات کا نہ ہونا ، مرد اور عورت کے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا نجانے کتنے ایسے سوالات ہیں جو لوگوں کے اذہان میں جمع ہیں
    اب اس معاملے کے اصل مُحرکات ہیں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنا جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی ٹک ٹاک پر مشہور ہونے کے چکر میں ایک لڑکی نے اپنے شوہر کو مار دیا اور ڈرامہ کر دیا جس سے اس کو بھی خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔
    در اصل ایسے واقعات کا تسلسل کیساتھ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب وہ بُرائیاں کُھل کر سامنے آنے لگی ہیں جو شاید پہلے کم ہوا کرتی تھیں اور رپورٹ بھی کم ہوتی تھیں ، قانون کی بالا دستی اور جلد انصاف کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات میں تسلسل آنے لگ گیا ہے۔ زینب قتل کیس کے بعد اب تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب کوئی ایسی خبر نہ سُنی ہو۔
    ان سب کی اصل وجہ ہمارے معاشرے میں کسی بھی چیز کی زیادتی ہے جب کوئی بھی چیز حد سے تجاوز کر جائے تو وہ نقصان دینا شروع کر دیتی ہے پھر چاہے وہ کوئی نشہ ہو ،انٹرنیت کا بے جا استعمال ہو، سوشل میڈیا کا بے ہنگم استعمال ہو یا کچھ بھی ایسا ہو جس سے معاشرے میں تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوجائیں۔
    بحثیت ایک شخص میں اپنے گھر سے لیکر سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیز اور دفاتر غرض کہ سڑک پر چلتے پھرتے بھی اپنی اخلاقیات کو نہیں بھولنا چائیے۔او یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب انسان کی تربیت گاہیں انکو اپنی اقدار اور اخلاقیات کا سبق پڑھا کر گھر سے نکالیں گی، والدین کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانی ہوگی، سکول کے استادوں معاشرے کو بنانے کے لیے حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہی دو درس گاہیں ہیں جہاں سے معاشرے بنتے بھی ہیں اور بگڑتے بھی ہیں۔
    جب انسان اپنے پیروں پر کھڑا ہونا شروع ہوجاتا ہے تو اسے ہرگز یہ نہیں سمجھنا چائیے کی وہ عقل کُل رکھتا ہے ۔ ہر لمحہ ہر گھڑی سیکھنے کا مرحلہ جاری رہتا ہے اب یہ انسان کی طبیعت پر منحصر ہے کہ وہ کیا سیکھتا ہے۔ ہم سب کو تنقید کا حق ضرور ہے مگر تنقید بھی تب ہوجب تنقید کرنے والوں کے پاس اس مسلے کا حل ہو تا کہ وہ حل بتا کر معاشرے کی بُرائیوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔ ہمارے معاشرے میں طوئفوں کی بات سب سے سامنے زندہ مثال ہے جو سرعام مکروع دھندہ کرتی ہیں اور معاشرہ انکو بُری نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ کہتی پھرتی ہیں کہ کتنے راز ہیں ہمارے پاس اگر ہم کھول دیں بڑے بڑے پارسا بھی منہ دیکھانے لائق نہ رہیں۔تو پردہ رکھنے سے انکا کچھ نہیں جاتا مگر بڑے بڑے پارسا گریبان کھول کر گھوم رہے ہوتے ہیں جیسا کہ وہ کوئی بہت بڑے تیس مار خان ہیں۔اس لیے معاشرے کو بنائیں نہ کہ بگاڑ پیدا کیا جائے۔

  • کامیابی اور کامرانی تحریر:آویز

    کامیابی اور کامرانی تحریر:آویز

    زیست و حیات کا سفر محنت و مشقت سے عبارت ہے اور دشوار گزار مراحل کو مشقت و جانفشانی کے بل بوتے پر ہی تحمیل پز یر کیا جاسکتا ہے۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ بھی اس سے منفر نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی کے ان ٹھن مراحل کو ایک ٹیبل ٹینس کے کھیل سے بہ آسانی تعیہ دے سکتے ہیں جہاں پر گیند کو ہر جانب سے پیا جا تا ہے ۔آخر ہمیں اپنے دور حیات میں نا کا میوں سے ہمکنار کیوں ہونا پڑتا ہے۔ یہ سوال دل کو بار باغیرمطمئن کرتارہتا ہے۔ ہراشرف المخلوقات خدا کی عطا کی ہوئی بہترین نعمت ہے۔ ہمیں قدرت کی جانب سے عقل وفراست اور شعور عطا ہوا ہے۔ ہمارے اندر مہارتیں اور ہنر مندیاں ہیں، کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔اچھے برے کی تمیز کر سکتے ہیں پر بھی کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں وقوع پزیر ہونے والی تبدیلیوں چینج، پریشانیوں یا مصائب زدہ مسائل کوحل کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے ہرانسان امن وسکون ،خوشحالی بنشرت اور کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کی جستجو میں در بدر کی ٹھوکر میں کھارہا ہے، لیکن اپنے گردوپیش کا مشاہدہ میں تاتا ہے کہ کامیابی یافت مندی بہت ہی کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔ میں ایسے بے شارانسانوں سے واقف ہوں جو کہ کامیابی اور مسرت حاصل کرنے کی دھن میں اپنی زندگی کو بر بادکر بیٹھے ہیں، کامیابی حاصل کرنے کے جنون میں ان کی زندگی کا توازن بگڑ چکا ہے۔لکر، مایی ، تاؤ زدہ ماحول کے جال میں وہ پوری طرح الجھ چکے ہیں۔جس کے سب غصہ نگی ، مای ، یاسیت اور نا کا میابی ان کا مقدر بن چکی ہے۔اس گر دش دوراں سے کیاوہ نکل پائیں گے؟ کیوں نہیں نکل پائیں گے۔ بے شارافراد کے خواب بڑے اعلی قسم کے ہوتے ہیں لیکن ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے لازمی ہمت ،مضبوط قوت ارادی قلبی استقلال نظم وضبط مستحکم
    ارادے ان مسائل کا میں یکسر فقدان پایا جا تا ہے ۔ چندلوگ تقذ یر پرانحصار کرتے ہیں اور بعض افراد خدائی دین پر اور پر ضروری کوشش کرتے ہی نہیں۔خداتو اس کی مد دکرتا ہے جو جہد مسلسل سے کام لیں۔ اگر جہد وٹل میں جذ بہ دل شامل نہیں ہوتا کوئی پھر لا کھ چا ہے ئیدعا حاصل نہیں ہوتا

    ہر با کمال انسان میں ایک جذ بہ مشتر کہ ہوتا ہے اور وہ بندمی کی فرسودہ فکر سے انحراف اور کچھ نیا کر دکھانے کی آرزو می تمام یا تیں نا کام انسان یکسرفراموش کر بیٹھتا ہے۔ لہذانا کا میوں اور مایوسیوں کے گھنگھور اندھیروں میں گھر جا تا ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایک کھل منصوبہ بند طریقے سے لائھ مل کو ترتیب دینے اور یح و مثبت سمت میں سفر کا تعین کرنے کی ضرورت اور ہمت درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کی ریاضت ہے جس کے لئے آپ کا قلب جسم، دماغ اور روح کا ہم آہنگ ہونا از حد ضروری ہے۔جسم، ذ ہن ودماغ اور روح میں رہ نہیں ہوگا تو متوقع کامیابی حاصل کرنے کے مواقع فراہم نہ ہوسکیں گے ۔ ا دوستو! اپنے ضمیر سے واقفیت یا تلاش نفس یا خودی کی تلاش ایک عظیم انقلاب کی علامت ہے۔ جس کی بناء پر میرا اپنادور حیات کی جانب دیکھنے کا نظریہ ہی مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ بدلاؤ یقینا تسلی بخش اور مسرت آمیز ثابت ہوا۔اپی بالذات کی آزمائش کے بناء پر ہی یہ ممکن ہوسکا۔ میں آج بھی بڑے حیرت وتعجب کے سمندر میں موجزن ہوں کہ اس سے قبل میں نے ان راہوں کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ ان راستوں سے میں لالم کیوں تھا؟ میرا اپنا تجر بہ و مشاہدہ آپ کے ساتھ بانٹا ہے ۔
    @Hi_Awaiz

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    اکیسوی صدی میں دنیا نے تیزی سے کی ترقی پہلے فاصلے طے کرنے کے لئے پہلے دنوں اور مہینوں کا سفر کرتے تھے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی نے یہ فاصلے سکینڈ کے کر دئیے ہیں پہلے رابطوں کا سلسلہ خط و کتابت سے ہوتا تھا پھر اس کی جگہ ٹیلی فون نے لے لی مواصلاتی سروس کا آغاز کیا گیا جس میں چند لفظوں پر مشتمل مختصر پیغام بھیجا جا سکتا ہے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے اپنی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا پہلے حساب کتاب تحریری طور پر رکھا جاتا تھا پھر اس کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی جس میں تمام ڈیٹا محفوظ کیا جانے لگا۔
    انٹرنیٹ کے آغاز سے دنیا سمٹ گئی فاصلے مٹ گئے اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے ہم مختلف ایپلیکشنز کے ذریعے ویڈیو کالز سے ہم اپنے عزیز و اقارب سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
    گذشتہ پچاس سال ٹیکنالوجی کے عروج کے سال مانے جاتے ہیں ہماری نسل اس دور سے تعلق رکھتی جس نے جدید ٹیکنالوجی کا ہر دور اور اس میں آنے والااتار چڑھاﺅ بڑے قریب سے دیکھا ۔
    ٹیلی ٹیکس نیٹ ورک ایک ٹیلیفون نیٹ ورک کی طرح ٹیلی پرنٹ کرنے والا عوامی سوئچ شدہ نیٹ ورک تھا ، جو متن پر مبنی پیغامات بھیجنے کے مقاصد کے لئے تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں کاروبار کے مابین الیکٹرانک طور پر تحریری پیغامات بھیجنے کا ایک بڑا طریقہ ٹیلی کام تھا۔ اس کا استعمال زوال پذیر ہوا کیونکہ 1980 کی دہائی میں فیکس مشین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
    ٹیلی پرنٹر سے G 5 تک کا سفر کوئی بہت طویل نہیں یہ صرف گذشتہ پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اخبارات میں ٹیلی پرنٹر پر نیوز ایجنسیوں کی خبریں اور ٹیلیکس پر پیغامات اس کے بعد فیکس مشین کی آمد کو جدید ترین تصور کیا گیا لیکن 2 G سے 3 G کی سیریز نے دنیا کو یکسر تبدیل کر کے رکھا دیا ہے اب سماجی رابطوں ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔
    سوشل میڈیا وہ ڈیجیٹل ٹول ہے سوشل میڈیا سستا اور آسان رابطے کا ذریعہ ہے جو صارفین کو عوام کے ساتھ جلدی سے مواد تیار کرنے اور ان کا اشتراک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپس کی ایک وسیع رینج رکھتا ہے کچھ ، جیسے ٹویٹر ، روابط اور مختصر تحریری پیغامات کو بانٹنے میں مہارت رکھتے اس وقت دنیا میں بے شمار سائٹس موجود ہیں جن کے ذریعہ سوشل میڈیا یا نیٹورکنگ کا حصول ممکن ہے۔تاہم چند ایک سوشل میڈیا کمپنیاں ہیں جن کو اس سلسلہ میں خاص مقام حاصل ہے مثلا فیس بک، ٹویٹر، سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، پن ٹرسٹ وغیرہ۔ یہ تقریبا ناممکن ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کو ان سے واقفیت نہ ہو۔ اب ہم ان کے مقاصد پر مختصر بات کرے گے تاکہ صارفین کو ان سے متعلق آگائی میںآسانی ہو کہ وہ کس سائٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    فیس بک سوشل نیٹورکنگ کے حوالے سے سرفہرست ہے بنیادی طور پر اس کا مقصد آپ کو اپنے دوست احباب سے رابطے میں مدد دینا ہے آپ اپنے روز مرہ کے معمولات یا خاص مواقع ان کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں چونکہ اس کے صارفین کی تعداد بہت بڑی ہے اور اس کے ذریعہ خبر بہت جلدی پھیلتی ہے لہذا اس میں آپ کسی قسم کے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتے ہیں۔ چند بنیادی فیچرز میں ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز، ٹیگ، آڈیو/ویڈیو چیٹ، گروپ چیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
    اگرچہ کوئی بھی فرد سوشل میڈیا کے لئے سائن اپ ہوسکتا ہے ، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہر قسم کے کاروبار کے مارکیٹنگ کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ کامیاب سوشل میڈیا ورکزبنے کی کلید یہ ہے کہ اس کو کسی اضافی ضمیمہ کی طرح نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی خاص خیال احترام اور توجہ کے ساتھ استعمال کیا جائےجس کی آپ اپنی ساری مارکیٹنگ کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کاروباری اداروں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہئے۔
    ٹویٹر فیس بک سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ایک تو اس میں پیغام کی ایک حد مقرر ہے جو کہ تقریبا 165 حروف پر مشتمل ہے دوسرا اس میں آپ کاسوشل سرکل فرینڈس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ آپ مختصر پیغام ،تصاویر، متحرک تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن ان دنوں ٹویٹر کا استعمال ہمارے سب نیوز چینلز سیاست دانوں اور مشہورشخصیات میں ہونے لگا ہے یہ ابلاغ کا مو ¿ثر و مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ آپ کسی بھی شخصیت کو فالو کر کے اس کے پیغامات کی اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ری-ٹویٹ کے ذریعہ آگے پہنچا سکتے ہیں۔ ٹویٹر کو کسی حد تک خبروں کا آفیشل ذریعہ مانا جاتا ہے۔انسٹا گرام تصاویر اور ویڈیوز کا تیز ترین سوشل نیٹورک ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ استعمال میں سہولت، فوٹو فلٹرز مہیا کرنا اور دیگر سوشل نیٹورکس پر آسان شئیرنگ ہے۔
    ایک سروے رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سے براہ راست ا?ن لائن کاروبار کی نمائش سے آمدنی میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ ممکن ہے کیونکہ بذریعہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ایک محدود پیمانے پر اشیاءکو پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پروڈکٹ متعارف ہو جاتی ہے۔ گوگل کی پیش کردہ اشتہاری مہم نے ان لائن کمائی اوراشتہارات کا کافی فروغ دیا ہے۔
    انٹرنیٹ انقلاب کا ایسا دور ہے جس نے سوچ اوراظہار ران کا عالمی منظر نامہ بدل دیا۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی نصف سے زائد آبادی 56.1 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد 37تقریباملین ہے جو کل آبادی کا تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔
    ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مما لک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی شرح میں کافی فرق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں انٹرنیٹ صارفین کی شرح 81فیصد ہے۔ دو ہزار ا ٹھا رہ کے اعدادو شمار کی مطابق دنیا میں 100ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریبا اکیس فیصد موبائل انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔موبائل سبسکرپشن 150 ملین سے زائد ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار انیس تک موبائل سبسکرپشن میں آٹھ ملین کا اضافہ ہوا۔دنیا میں کتنے لوگ آن لائن ہیں ؟ کیا مرد اور عورتیں یکساں تناسب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں ؟۔ خواتین انٹرنیٹ صارفین کی تعداد مردوں کی نسبت تقریبا250ملین کم ہے۔خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی کمائی کے ذرائع بھی بڑھا رہی ہیں۔ بالخصوص فیس بک پیجز اور انسٹا گرام کے ذریعے مختلف بزنس کر رہی ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی موجودگی معاشرے میں خواتین کی حیثیت میں مثبت تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے۔
    خواتین آرٹ کلچر سے لے کر سرمایہ کاری اور انجینرنگ جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ وہ ادارے جو خواتین کی معاشرے میں حیثیت منوانے کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر خواتین کی براہ راست شمولیت کو بڑھانے پر توجہ دینی ہو گی سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے تحقیق سے پہلے ہی خبر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے جالی اکاونٹس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے لیکن جہاں سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کا غیر ضروری استعمال بھی کیا جا رہا ہے سنسنی خیزی بھی پھلانے کی بھی کوشش کی جاری ہے بے معنی عام اظہار ،ناشائستہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں اس لئے ہمیں اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے خبر دار رکھنا ضروری ہے جو سوشل میڈیا پر فساد،بدعمنی،لڑائی جھگڑے اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں ہمیشہ سماجی و یب سائٹس پر اچھی اور حق و صداقت پر مبنی خبریں شیئر کریں جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکانٹس رکھنے والوں کو کڑی سزا دے، لہذا ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کرنے چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھ سکے۔
    وفاقی حکومت نے ٹوئٹر، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک کر دیا جائے گا اور تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتاکہ فیس بک یا یوٹیوب جیسی بڑی کمپنیاں پاکستانی قانون کی وجسے یہاں اپنے دفاتر کھولیں اور سٹاف رکھیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت سوشل میڈیا نیٹ ورک پر پابندی لگاتی رہی ہیں۔نئے رولز کا مقصد ’سکیورٹی ادروں اور ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • محرم الحرام ایک تاریخی اور حرمت کا مہینہ تحریر: رانا بشارت محمود

    محرم الحرام ایک تاریخی اور حرمت کا مہینہ تحریر: رانا بشارت محمود

    محرم الحرام جو کہ ہجری کیلنڈر کے بارہ مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے جہاں سے اسلامی سال کی شروعات ہوتی ہے اور حرمت کے چار مہینوں، جن میں ذوالقعد، ذوالحج اور رجب کے بعد محرم الحرام بھی ان میں سے ایک ہے۔ جنہیں اللہ تعالی نے اشہرُ الحُرُم کے نام سے بھی نوازا ہے۔ محرم الحرام جو کہ اسلامی تاریخ میں حرمت و ادب کے اعتبار سے اپنی الگ پہچان تو رکھتا ہی ہے لیکن اگر ہم بنی نوع انسان کی تاریخ کو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد سے دیکھیں تو بھی ہمیں بہت سے ایسے اہم واقعات ملتے ہیں، جو کہ اس حرمت کے مہینے محرم الحرام میں پیش آئے ہیں۔

    اور انہی پیش آنے والے اہم واقعات میں سے چند کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔

    حضرت آدم علیہ السلام کو جب ابلیس کے اکسانے پر غلطی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی کے حکم پہ جب جنت سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا گیا تھا اور پھر آپ علیہ السلام کی اللہ تعالی سے کی گئی بہت سی دعاؤں اور معافیوں و استغفار کے بعد پھر جب اللہ تعالی اُن کی توبہ کو قبول فرمایا تو تب محرم الحرام کا ہی مہینہ تھا۔

    اور پھر جب اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمانے کے بعد جب میدانِ عرفات میں جبل رحمت کے مقام پر اُن کی ملاقات حضرت اماں حوّا سے کروائی، تو تب بھی 10 محرم الحرام ہی تھا۔

    حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پہ جب اللہ تعالی کے حکم سے عذاب نازل کیا گیا جس کو طوفانِ نوح بھی کہتے ہیں، اور اللہ کے حکم سے تب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو اور جانوروں و پرندوں کے ایک ایک جوڑے کو اپنی بنائی ہوئی ایک کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ تو اس طوفان کے تھمنے کے بعد جس دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی نامی پہاڑ پہ جا کر ٹھہری، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    اللہ کے ایک اور پیارے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہیں کلیم اللہ کا لقب بھی حاصل ہے۔ تو جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان پہ ایمان لے کر آنے والے ان کے ساتھیوں کا پیچھا کر رہا تھا لیکن پھر اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے انھوں نے اپنا عصا سمندر میں مارا تو سمندر کے پانی نے اُنہیں اور اُن کے ساتھیوں کو گزرنے کے لیے راستہ دیا اور پھر فرعون اپنے لشکر سمیت اُسی سمندر میں غرق ہو گیا تھا، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    پھر ایک اور اللہ کے نبی حضرت یونس علیہ السلام جب اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے آئی ہوئی آزمائش کے طور پہ چالیس روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد جب اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے باحفاظت باہر آئے، تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    پھرحضور اقدس جناب محمد رسول اللہ کی اللہ سے دعاوں کے زریعے مانگي گئی مراد اور تقریباً بائیس لاکھ مربع میل تک حکومت کرنے والے مسلمانوں کے عظیم خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی اسی حرمت کے مہینے محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو ہی ہوئی تھی۔

    تو اب آتے ہیں اُس عظیم اور دلوں کو چیر دینے واقعے کی طرف جو 10 محرم الحرام کو ہی پیش آیا تھا۔ لیکن ان سب بڑے بڑے تاریخی واقعات پہ اپنی عظمت کی وجہ سے چھا گیا۔ اللہ کے سب سے پیارے نبی و رسول اور نبی آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی پیاری بیٹی اور جنت کی تمام عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور خلفاء راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے چوتھے اور آخری خلیفہ اور اللہ کے شیر کا لقب پانے والے جناب حضرت علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور نواسہ رسول و جگر گوشہ بتول اور نبی مکرم ﷺ سے شکل و صورت میں مشابہت رکھنے والے اور جنت کے نوجوانوں کے سردار جناب حضرت حسین علیہ السلام نے جب اپنے اہلِ و عیال، عزیز و اقارب اور ساتھیوں سمیت تقریباً 72 افراد نے (جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے)۔ جب کربلا کے میدان میں ظالم و جابر یزید اور اس کے لشکر کے ظلم و ستم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے اور وہ ظالم آپ علیہ السلام سے اپنی حکمرانی کو قبول کرنے کے لیے بیعت لینا چاہتا تھا۔

    اور اس سے پہلے بھی اور تب بھی اس ظالم یزید نے اپنی بیعت کروانے کے بدلے میں حضرت حسین علیہ السلام اور ان کے خاندان و ساتھیوں کی جان بخشی کرنے اور انہیں بہت سے دنیاوی انعام و اکرام سے نوازنے کی بھی مسلسل پیش کشیں کیں۔ لیکن حضرت حسین علیہ السلام نے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی سکھائی ہوئی تعلیمات اور اسلام کی سربلندی کی خاطر اُس ظالم و جابر یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے اہلِ خانہ اور ساتھیوں سمیت کربلا کی تپتے ہوئی ریت والے ریگستانوں میں اُس ظالم اور اُس کے لشکر کے خلاف ڈٹے رہنے کے بعد شہادت کی عظیم مثالیں قائم کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نظرانے پیش فرمائے۔

    اور شہادت کی ان عظیم مثالوں کے زریعے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے دینِ اسلام میں ایک نئی روح پھونکی اور اسلام پہ چلنے والے مسلمانوں کے لیے حق کی راہ میں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جانوں تک کو قربان کر دینے سے بھی نہ کتراتے کی عظیم مثال قائم کی، جو کہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ کے طور پہ بھی یاد رکھی جائے گی۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ حضرت حسین علیہ السلام کی شہادت کی اِس عظیم مثال سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالی اور اُس کے رسول ﷺ اور اسلام کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز جاننا چاہیے اور حق بات پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ کسی ظالم یا جابر سے ڈر کر اپنی جان بچانے کی خاطر کبھی اُن کا ساتھ نہیں دینا چاہیے، بلکہ وقت پڑنے پر حق تعالی کی خاطر جان کی بازی تک لگا دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو حضرت حسین علیہ السلام کی قائم کی ہوئی اس عظیم مثال پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Author Name: Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • مرد کو عزت دو تحریر: سحر عارف

    مرد کو عزت دو تحریر: سحر عارف

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پہ جو ماحول بن چکا ہے اس نے مجھے دوبارہ قلم اٹھانے میں مجبور کردیا۔ مینار پاکستان پر ہونے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پہ کافی دنوں سے کافی ہل چل مچی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی توجہ کا رخ مرد ذات کی طرف ہے۔ ہر مرد و عورت کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ اگر سو مرد ایک ساتھ ایک جگہ موجود ہیں تو ضروری نہیں کہ ان میں سارے کے سارے عورت کی عزت کرنے والے ہی ہونگے۔

    یقیناً ان میں سے آٹھ دس غلط مرد بھی شامل ہونگے جو کہ عورت کو بری نگاہ سے دیکھتے ہوں۔ اسی طرح ہر سو میں آٹھ دس عورتیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عورت ہونے کا غلط فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کبھی مردوں پر الزام تراشی، تو کبھی غلط قسم کی آزادی کے لیے عورت مارچ کا حصہ بن کر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں۔

    تو پھر کیا ہم باقی کے مردوں اور عورتوں کے خلاف بولنے لگ جائیں اور انہیں غلط کہنا شروع کردیں؟ اس لیے ضروری نہیں کہ ہر مرد اور ہر عورت برے ہوں۔
    کچھ روز قبل مینار پاکستان پر جو حرکت چار سو مردوں نے کی اس واقعے نے مرد ذات پر انگلی اٹھانا شروع کردی۔ لیکن کیا یہ ٹھیک بات ہے کہ ہم معاشرے میں موجود چند گندے انڈوں کی وجہ سے باقی مردوں کے کردار پر بھی بات کریں؟کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس دنیا میں صرف وہی چار سو مرد نہیں رہتے۔

    ہمارے اردگرد وہ مرد بھی موجود ہیں جو عورت کی عزت کرنا جانتے ہیں۔ ان کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے سکیورٹی فورسز میں بھی تو زیادہ تعداد مردوں کی ہے اور وہ نا صرف عورتوں کی بلکہ پوری قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔

    تو ہم کیوں ان چار سو بھیڑیوں کی وجہ سے اپنے محافظ مردوں کو بھول جائیں۔ اس کے علاؤہ ہم نے ایسے مرد بھی دیکھے ہیں جو سوشل میڈیا پر اور جب جہاں ضرورت پڑے عورت کے حقوق اور ان کی جائز آزادی کے لیے اپنی آواز بھی بلند کرتے ہیں۔ ہر اس مرد کے خلاف بھی بولتے ہیں جو عورت کی تذلیل اور اس کے لیے پریشانی کا باعث بنیں۔ پھر میں کیسے کہہ دوں کہ مرد ذات بری ہے جب کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے گھر کے مردوں کی ہی وجہ سے ہوں۔

    جنہیں میں نے ہمیشہ ہر عورت کی عزت کرتے دیکھا ہے۔ میں کیسے کہہ دوں کہ ہر مرد برا ہے جب کہ میں نے اپنے اردگرد ایسے بےشمار مرد دیکھیں ہیں جو عورتوں کو دیکھتے ہی اپنی نظریں جھکا لیتے ہیں۔ مرد بھی عزت کے قابل ہے۔ جو صبح سے شام تک اپنے گھربار کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت اور اس کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ عورت کی طرح مرد بھی مظلوم ہے۔ خاص کر آج کے معاشرے میں جہاں جب بھی کوئی جنسی تشدد اور گھریلو تشدد کا کوئی واقع سامنے آجائے تو پوری کی پوری مرد ذات پر آوازیں قسی جاتی ہیں۔

    کیا مرد انسان نہیں؟ کیا کچھ گندے بھیڑیوں کی وجہ سے ہم باقی مردوں کی عزت کرنا چھوڑ دیں؟ نہیں جناب جو عزت کے قابل ہے اسے عزت ملنی چاہیے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں مظلوم مردوں کے لیے بھی اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

    @SeharSulehri

  • نیا پاکستان اور ہماری عوام  تحریر  : راجہ حشام صادق

    نیا پاکستان اور ہماری عوام تحریر : راجہ حشام صادق

    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس نظام کے نفاذ  کے لیے دیکھا جانے والا وہ  خواب جو ستر سال پہلے پایہ تکمیل کو پہنچ چکا الحمدللہ ۔ اس چشم فلک نے علامہ محمد اقبال کے اس خواب کو قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں حقیقت میں بنتے ہوئے دیکھا۔

    اس خواب کو حقیقت میں بدلنےکے لیے مسلمانوں کو عبرت ناک سزائیں برداشت کرنی پڑھیں ۔ جانیں اور عزتیں تک نہ بچ سکیں ۔ اللہ تعالٰی کی خاص کرم سے پاکستان بنا بھی۔ ہمارے لیڈر جنہیں ہم بابائے قوم بھی کہتے ہیں قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت کی بدلت اور پھر سنبھل بھی گیا۔

    ہمارا یہی وطن 60 کی دہائی میں دنیا کے لیے مثال بنا ہوا تھا۔ اسی دوران مارشل لاء کا دور بھی آیا اور جمہوری حکومتیں بھی آئیں مگر ترقی اور استحکام کا سفر نہ رک سکا۔

    بد قسمتی سے 80 کی دہائی کے آخر میں وہ لوگ پاکستان کی سیاست بھی گھس گئے ۔ جن کا مقصد صرف اور صرف اپنی پیٹ پوجا تھا۔ بزنس مین ذہن بھی وطن عزیز کی سیاست کی بھاگ دوڑ سنبھالنے لگا۔
    ان بزنس مین ذہنوں میں شامل دو خاندان جن کے بچے پیدا ہونے سے پہلے ہی عرب پتی بن بیٹھے۔اور کیا ہونا تھا ۔ تیری باری میری باری والا سیکول شروع ہوا ۔ ان کے ہر ایڈیشن نے ملکی معیشت کا بیڑا ڈبونا شروع کردیا۔

    ان کاروباری ذہنوں نے اپنے مفاد کے حصول کے لیے نوکرشاہی سے ان کا پروفیشنلزم چھین لیا۔ اسی دور میں کرپشن نامی جن نے جنم لیا جس کی دھاک پورے ملکی نظام کے جوڑ جوڑ میں سرا گئی ۔اس وقت سے لے کر اب تلک حالات اس نہج تک پونچ چکے کہ نوکری سے لے کر برتن سرٹیفکیٹ لینے تک کے لیے عملے اور آفیسرز کی جیبین گرم کرنا پڑتی ہیں۔

    ایک دستخط جو بامشکل پانچ منٹ کا بھی کام نہیں اس کے لیے بھی مہینے لگ جاتے ہیں ہاں افسر شاہی کی جیب گرم کریں وہی کام پانچ کیوں دو منٹ میں اسی آفیسر کا چپڑاسی آپ کو کرا کے دے دے گا۔ 
    جب چیزیں اس قدر خراب ہوں تو ہم کیسے ان کو پلک چھپکتے ہوئے ٹھیک کر سکتے ہیں؟؟

    اب ایک اور لیڈر نے اس ملک کو ایک عظیم ملک بنانے کا خواب دیکھا ہے وہ ہمیں بھی وہ خواب دیکھا رہا ہے وہ خواب ہے نیا پاکستان وہ پاکستان جہاں عدل و انصاف کا نظام ہو ایسا نظام جو تمام پاکستانیوں کے لیے برابر ہو وہ نظام جو ریاست مدینہ میں تھا ایک ایسا نظام جہاں ہمارے غریب لوگ بھی اسی معاشرے میں عزت کی زندگی جی سکیں۔

    اپنی جدوجہد کے تقریبا پچیس سال بعد کپتان عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ بکھرے ہو ہجوم کو اس نے ایک کر دیا اتنا باشعور کر دیا ہے کہ وہ اب غلط کو غلط کہنے کی جرات کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس صیح اور غلط میں دوست اور دشمن میں مکمل طور پر پہچان نہیں کر سکتے یہی وجہ ہے کہ پچیس سال بعد بھی وقت کا کپتان اکیلا کھڑا ہے۔اور اس قوم کے بچوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہے۔ریاست مدینہ کے ماڈل کی ریاست کا خواب دینے والا کپتان نے تو راستے کا بہتر انتخاب کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی کپتان کے اس خواب کو سچ بنانے کے لیے اس کا بھرپور ساتھ دیں آخر یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔منزل تک پہنچنے کے لئے عوام کا ساتھ ضروری ہوتا 

    ہماری قوم کو وزیراعظم عمران خان کا نیا پاکستان  فلمی انداز میں بدلا ہو چاہے۔ جو چیزیں تیس سالوں میں خراب ہوئیں وہ کیا ہم ایک سال یا تین سال میں ٹھیک کرسکتے ہیں؟
    اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • واقعہ لاہور کے مضمرات تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    واقعہ لاہور کے مضمرات تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    گزشتہ دنوں مینار پاکستان لاہور میں ایک ٹک ٹوکر لڑکی کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ واقعہ قابل مذمت ہے لیکن اس بات پر یقین کرنا میرے لئےانتہائی مشکل ہے۔ دل و دماغ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ چار سو مرد ہوں اور سب کے سب ایک ہی کام میں لگے ہوں۔ مشاہدہ میں تو یہ آتا ہے کہ آج بھی اگر ایک لڑکی کو دو لڑکے راہ چلتے چھیڑ دیں تو دو سو مرد ان دو لڑکوں کی ٹھکائ کرنے فوراجمع ہو جاتے ہیں۔ کوئی خاتون اگر مذاق میں بھی یہ کہہ دے کہ اس لڑکے نے مجھے چھیڑا ہے تو بنا تصدیق کئے باقی تمام مرد اس لڑکی کی بات کو سچ مانتے ہوئے لڑکے پر اپنے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دینگے اورجب تک پولیس نہ پہنچ جائے وہ بے چارہ ہجوم سے پٹتا ہی رہے گا۔
    ہم وہ جزباتی لوگ ہیں جو کبھی بھی بنیادی وجہ کو تلاش نہیں کرتے،جڑ نہیں پکڑتے شاخوں پرچھولتے رہتے ہیں ۔ اگر چار سو مرد حضرات نے ایسا کیا ہے تو ہرگز ان کی طرف داری نہیں کی جاسکتی بلکہ ان کا یہ عمل انتہائ قابل مزمت ہے اور یہ بات کہنے بھی کوئ عار نہیں کہ وہ لوگ مرد تھے ہی نہیں مرد ہوتے تو ایسا کام نہیں کرتے۔
    لیکن دوسری جانب یہ بھی تو دیکھیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں؟ یہ ٹک ٹوک اور مختلف لائیو سٹریمنگ کی ایپلی کیشن کیسے عورت کو ایک نمائشی آلہ بنائےچلی جارہی ہے اور عورت ہے کہ نمائش بنتی جا رہی ہے۔چندلائکس شیئر اور فالوورز کے چکر میں سر راہ ، پارک میں ، چلتی سڑک پر ، مردوں کے ہجوم میں یہ دوپٹہ اتار دینا ، باریک اور تنگ لباس زیب تن کر کے رقص کرتے ہوئے اپنی ویڈیو ریکارڈ کرانا تو پھرسستی شہرت حاصل کرنے کی چاہ میں آپ کو عزت سے ہاتھ تو دھونا ہی پڑے گا۔اگر آپ حریم شاہ بنیں گی تو مولوی عبدالقوی تو پھر مل ہی جانے ہیں۔ شہد کو کھول کر رکھنے کے بعد یہ توقع کرنا کہ مکھیاں اس پر نہ بیٹھیں کیسے ممکن ہے۔گھر کی دیوار کو اگر چھوٹا رکھا جائے گا یا دروازہ کھلا رکھا جائےگا توچوری تو ہو گی ہی۔
    وہ مردبھی قابل لعنت ہیں جو اس گندے فعل کے مرتکب ہوئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ان کیلئے بھی ۔۔اس ٹک ٹوک اور اس جیسی ایپلی کیشن نےتو اخلاقیات کا جنازہ ہی نکال دیا ہے۔ جن خواتین کو گھر یا خاندان کا کوئی ڈر ہے تو وہ صرف اپنے ہاتھ یا پیر دکھا کر بکواس اور بےہودہ جملوں کا استعمال کرلیتی ہیں ۔ کبھی آپ ان لڑکیوں کی ان ویڈیوز پر موجود کمنٹس پڑھ لیں تو کانوں کو ہاتھ لگاتے رہ جائیں۔یہ سب کیا ہورہا ہے؟ عورت کی اتنی تزلیل کہ وہ ایک مارکیٹنگ ٹول بن کے رہ جائے۔۔ جس نے آنے والی نسل کو پالنا ہے اپنی پرورش سےہماری اقداراور رواج کو نئ نسل میں منتقل کرنا ہے ۔
    کیا ہے یہ سب ؟ کس طرف جا رہے ہیں ہم؟ کیا ہم خود ہی اس معاشرے میں جنسی بے راہ روی اور فریسٹریشن کو جنم نہیں دے رہے؟ بڑے بڑے شاپنگ مال ہوں یا کوئی بھی جگہ ، مارننگ شو ہو یا پھر کوئی پروگرام ۔ عورت کو ایک ٹول کی حیثیت سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔۔ یہ سفر کہاں کا ہے ؟کہاں ختم ہو گا؟پتہ نہیں !
    اچھا پھر ہوتا کیا ہے کہ مبینہ طور پرآپ ایسی سستی شہرت تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن بعدمیں ایسے واقعات ملک دشمن عناصر کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جو ایسے واقعات کو نمک مرچ کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمارے جزباتی دوست بناء سوچے سمجھے اس ففتھ جنریشن وار کا حصہ بن جاتے ہیں ان کو پتہ بھی نہیں چل پاتا کہ وہ کتنی خوبصورتی سے دشمن کی سازش کا شکار ہو گئےاورخود ہی سوشل میڈیا پردشمن کے خلاف چلنے والے ٹرینڈ ختم کرکے اپنے ہی ملک کے خلاف ٹرینڈ شروع کر دیتے ہیں کبھی سوچئے گا کس کمال مہارت سے دشمن نے آپ کے ہی ہاتھوں موضوع بدلوا دیا اور پھر ایسی کیمپین چلائ کہ لگاپاکستان سے غیرتمند مرد ہی ختم ہو گئے ہیں۔ جب کہ آپ کو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ ہمارا معاشرہ آج بھی دیگرمعاشروں سے لاکھ درجے بہتر ہے ۔ یہاں آج بھی بیٹی اور بہن کی عزت ہے ۔ اس کے محافظ موجود ہیں ۔
    میری رائے میں اسلامی قانون کا نفاذ ہی ان مسائل کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے ۔اس کام میں تو ابھی وقت لگے گا لیکن ان ایپس پر تو فوری پابندی عائد کی جاسکتی ہے جو اخلاقیات کے جنازے نکال رہی ہیں اورپابندی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ذہن سازی بھی ہونی چاہئے تاکہ ہمارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو کچھ کرنے کیلئے کوئی مثبت راستے مل سکیں اور وہ اس طرح کی ایپس وغیرہ اور سستی شہرت سے دور رہ سکیں ۔ لیکن یہ سب ہو گا کیسے ہمیں توصرف شور مچانے کی عادت پڑ چکی ہے ۔۔
    اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے پر رحم کرے ۔ آمین

    @Azizsiddiqui100