Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کامیابی اور کامرانی تحریر:آویز

    کامیابی اور کامرانی تحریر:آویز

    زیست و حیات کا سفر محنت و مشقت سے عبارت ہے اور دشوار گزار مراحل کو مشقت و جانفشانی کے بل بوتے پر ہی تحمیل پز یر کیا جاسکتا ہے۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ بھی اس سے منفر نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی کے ان ٹھن مراحل کو ایک ٹیبل ٹینس کے کھیل سے بہ آسانی تعیہ دے سکتے ہیں جہاں پر گیند کو ہر جانب سے پیا جا تا ہے ۔آخر ہمیں اپنے دور حیات میں نا کا میوں سے ہمکنار کیوں ہونا پڑتا ہے۔ یہ سوال دل کو بار باغیرمطمئن کرتارہتا ہے۔ ہراشرف المخلوقات خدا کی عطا کی ہوئی بہترین نعمت ہے۔ ہمیں قدرت کی جانب سے عقل وفراست اور شعور عطا ہوا ہے۔ ہمارے اندر مہارتیں اور ہنر مندیاں ہیں، کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔اچھے برے کی تمیز کر سکتے ہیں پر بھی کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں وقوع پزیر ہونے والی تبدیلیوں چینج، پریشانیوں یا مصائب زدہ مسائل کوحل کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے ہرانسان امن وسکون ،خوشحالی بنشرت اور کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کی جستجو میں در بدر کی ٹھوکر میں کھارہا ہے، لیکن اپنے گردوپیش کا مشاہدہ میں تاتا ہے کہ کامیابی یافت مندی بہت ہی کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔ میں ایسے بے شارانسانوں سے واقف ہوں جو کہ کامیابی اور مسرت حاصل کرنے کی دھن میں اپنی زندگی کو بر بادکر بیٹھے ہیں، کامیابی حاصل کرنے کے جنون میں ان کی زندگی کا توازن بگڑ چکا ہے۔لکر، مایی ، تاؤ زدہ ماحول کے جال میں وہ پوری طرح الجھ چکے ہیں۔جس کے سب غصہ نگی ، مای ، یاسیت اور نا کا میابی ان کا مقدر بن چکی ہے۔اس گر دش دوراں سے کیاوہ نکل پائیں گے؟ کیوں نہیں نکل پائیں گے۔ بے شارافراد کے خواب بڑے اعلی قسم کے ہوتے ہیں لیکن ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے لازمی ہمت ،مضبوط قوت ارادی قلبی استقلال نظم وضبط مستحکم
    ارادے ان مسائل کا میں یکسر فقدان پایا جا تا ہے ۔ چندلوگ تقذ یر پرانحصار کرتے ہیں اور بعض افراد خدائی دین پر اور پر ضروری کوشش کرتے ہی نہیں۔خداتو اس کی مد دکرتا ہے جو جہد مسلسل سے کام لیں۔ اگر جہد وٹل میں جذ بہ دل شامل نہیں ہوتا کوئی پھر لا کھ چا ہے ئیدعا حاصل نہیں ہوتا

    ہر با کمال انسان میں ایک جذ بہ مشتر کہ ہوتا ہے اور وہ بندمی کی فرسودہ فکر سے انحراف اور کچھ نیا کر دکھانے کی آرزو می تمام یا تیں نا کام انسان یکسرفراموش کر بیٹھتا ہے۔ لہذانا کا میوں اور مایوسیوں کے گھنگھور اندھیروں میں گھر جا تا ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایک کھل منصوبہ بند طریقے سے لائھ مل کو ترتیب دینے اور یح و مثبت سمت میں سفر کا تعین کرنے کی ضرورت اور ہمت درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کی ریاضت ہے جس کے لئے آپ کا قلب جسم، دماغ اور روح کا ہم آہنگ ہونا از حد ضروری ہے۔جسم، ذ ہن ودماغ اور روح میں رہ نہیں ہوگا تو متوقع کامیابی حاصل کرنے کے مواقع فراہم نہ ہوسکیں گے ۔ ا دوستو! اپنے ضمیر سے واقفیت یا تلاش نفس یا خودی کی تلاش ایک عظیم انقلاب کی علامت ہے۔ جس کی بناء پر میرا اپنادور حیات کی جانب دیکھنے کا نظریہ ہی مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ بدلاؤ یقینا تسلی بخش اور مسرت آمیز ثابت ہوا۔اپی بالذات کی آزمائش کے بناء پر ہی یہ ممکن ہوسکا۔ میں آج بھی بڑے حیرت وتعجب کے سمندر میں موجزن ہوں کہ اس سے قبل میں نے ان راہوں کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ ان راستوں سے میں لالم کیوں تھا؟ میرا اپنا تجر بہ و مشاہدہ آپ کے ساتھ بانٹا ہے ۔
    @Hi_Awaiz

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    اکیسوی صدی میں دنیا نے تیزی سے کی ترقی پہلے فاصلے طے کرنے کے لئے پہلے دنوں اور مہینوں کا سفر کرتے تھے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی نے یہ فاصلے سکینڈ کے کر دئیے ہیں پہلے رابطوں کا سلسلہ خط و کتابت سے ہوتا تھا پھر اس کی جگہ ٹیلی فون نے لے لی مواصلاتی سروس کا آغاز کیا گیا جس میں چند لفظوں پر مشتمل مختصر پیغام بھیجا جا سکتا ہے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے اپنی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا پہلے حساب کتاب تحریری طور پر رکھا جاتا تھا پھر اس کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی جس میں تمام ڈیٹا محفوظ کیا جانے لگا۔
    انٹرنیٹ کے آغاز سے دنیا سمٹ گئی فاصلے مٹ گئے اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے ہم مختلف ایپلیکشنز کے ذریعے ویڈیو کالز سے ہم اپنے عزیز و اقارب سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
    گذشتہ پچاس سال ٹیکنالوجی کے عروج کے سال مانے جاتے ہیں ہماری نسل اس دور سے تعلق رکھتی جس نے جدید ٹیکنالوجی کا ہر دور اور اس میں آنے والااتار چڑھاﺅ بڑے قریب سے دیکھا ۔
    ٹیلی ٹیکس نیٹ ورک ایک ٹیلیفون نیٹ ورک کی طرح ٹیلی پرنٹ کرنے والا عوامی سوئچ شدہ نیٹ ورک تھا ، جو متن پر مبنی پیغامات بھیجنے کے مقاصد کے لئے تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں کاروبار کے مابین الیکٹرانک طور پر تحریری پیغامات بھیجنے کا ایک بڑا طریقہ ٹیلی کام تھا۔ اس کا استعمال زوال پذیر ہوا کیونکہ 1980 کی دہائی میں فیکس مشین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
    ٹیلی پرنٹر سے G 5 تک کا سفر کوئی بہت طویل نہیں یہ صرف گذشتہ پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اخبارات میں ٹیلی پرنٹر پر نیوز ایجنسیوں کی خبریں اور ٹیلیکس پر پیغامات اس کے بعد فیکس مشین کی آمد کو جدید ترین تصور کیا گیا لیکن 2 G سے 3 G کی سیریز نے دنیا کو یکسر تبدیل کر کے رکھا دیا ہے اب سماجی رابطوں ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔
    سوشل میڈیا وہ ڈیجیٹل ٹول ہے سوشل میڈیا سستا اور آسان رابطے کا ذریعہ ہے جو صارفین کو عوام کے ساتھ جلدی سے مواد تیار کرنے اور ان کا اشتراک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپس کی ایک وسیع رینج رکھتا ہے کچھ ، جیسے ٹویٹر ، روابط اور مختصر تحریری پیغامات کو بانٹنے میں مہارت رکھتے اس وقت دنیا میں بے شمار سائٹس موجود ہیں جن کے ذریعہ سوشل میڈیا یا نیٹورکنگ کا حصول ممکن ہے۔تاہم چند ایک سوشل میڈیا کمپنیاں ہیں جن کو اس سلسلہ میں خاص مقام حاصل ہے مثلا فیس بک، ٹویٹر، سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، پن ٹرسٹ وغیرہ۔ یہ تقریبا ناممکن ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کو ان سے واقفیت نہ ہو۔ اب ہم ان کے مقاصد پر مختصر بات کرے گے تاکہ صارفین کو ان سے متعلق آگائی میںآسانی ہو کہ وہ کس سائٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    فیس بک سوشل نیٹورکنگ کے حوالے سے سرفہرست ہے بنیادی طور پر اس کا مقصد آپ کو اپنے دوست احباب سے رابطے میں مدد دینا ہے آپ اپنے روز مرہ کے معمولات یا خاص مواقع ان کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں چونکہ اس کے صارفین کی تعداد بہت بڑی ہے اور اس کے ذریعہ خبر بہت جلدی پھیلتی ہے لہذا اس میں آپ کسی قسم کے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتے ہیں۔ چند بنیادی فیچرز میں ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز، ٹیگ، آڈیو/ویڈیو چیٹ، گروپ چیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
    اگرچہ کوئی بھی فرد سوشل میڈیا کے لئے سائن اپ ہوسکتا ہے ، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہر قسم کے کاروبار کے مارکیٹنگ کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ کامیاب سوشل میڈیا ورکزبنے کی کلید یہ ہے کہ اس کو کسی اضافی ضمیمہ کی طرح نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی خاص خیال احترام اور توجہ کے ساتھ استعمال کیا جائےجس کی آپ اپنی ساری مارکیٹنگ کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کاروباری اداروں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہئے۔
    ٹویٹر فیس بک سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ایک تو اس میں پیغام کی ایک حد مقرر ہے جو کہ تقریبا 165 حروف پر مشتمل ہے دوسرا اس میں آپ کاسوشل سرکل فرینڈس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ آپ مختصر پیغام ،تصاویر، متحرک تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن ان دنوں ٹویٹر کا استعمال ہمارے سب نیوز چینلز سیاست دانوں اور مشہورشخصیات میں ہونے لگا ہے یہ ابلاغ کا مو ¿ثر و مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ آپ کسی بھی شخصیت کو فالو کر کے اس کے پیغامات کی اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ری-ٹویٹ کے ذریعہ آگے پہنچا سکتے ہیں۔ ٹویٹر کو کسی حد تک خبروں کا آفیشل ذریعہ مانا جاتا ہے۔انسٹا گرام تصاویر اور ویڈیوز کا تیز ترین سوشل نیٹورک ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ استعمال میں سہولت، فوٹو فلٹرز مہیا کرنا اور دیگر سوشل نیٹورکس پر آسان شئیرنگ ہے۔
    ایک سروے رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سے براہ راست ا?ن لائن کاروبار کی نمائش سے آمدنی میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ ممکن ہے کیونکہ بذریعہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ایک محدود پیمانے پر اشیاءکو پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پروڈکٹ متعارف ہو جاتی ہے۔ گوگل کی پیش کردہ اشتہاری مہم نے ان لائن کمائی اوراشتہارات کا کافی فروغ دیا ہے۔
    انٹرنیٹ انقلاب کا ایسا دور ہے جس نے سوچ اوراظہار ران کا عالمی منظر نامہ بدل دیا۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی نصف سے زائد آبادی 56.1 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد 37تقریباملین ہے جو کل آبادی کا تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔
    ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مما لک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی شرح میں کافی فرق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں انٹرنیٹ صارفین کی شرح 81فیصد ہے۔ دو ہزار ا ٹھا رہ کے اعدادو شمار کی مطابق دنیا میں 100ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریبا اکیس فیصد موبائل انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔موبائل سبسکرپشن 150 ملین سے زائد ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار انیس تک موبائل سبسکرپشن میں آٹھ ملین کا اضافہ ہوا۔دنیا میں کتنے لوگ آن لائن ہیں ؟ کیا مرد اور عورتیں یکساں تناسب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں ؟۔ خواتین انٹرنیٹ صارفین کی تعداد مردوں کی نسبت تقریبا250ملین کم ہے۔خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی کمائی کے ذرائع بھی بڑھا رہی ہیں۔ بالخصوص فیس بک پیجز اور انسٹا گرام کے ذریعے مختلف بزنس کر رہی ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی موجودگی معاشرے میں خواتین کی حیثیت میں مثبت تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے۔
    خواتین آرٹ کلچر سے لے کر سرمایہ کاری اور انجینرنگ جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ وہ ادارے جو خواتین کی معاشرے میں حیثیت منوانے کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر خواتین کی براہ راست شمولیت کو بڑھانے پر توجہ دینی ہو گی سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے تحقیق سے پہلے ہی خبر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے جالی اکاونٹس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے لیکن جہاں سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کا غیر ضروری استعمال بھی کیا جا رہا ہے سنسنی خیزی بھی پھلانے کی بھی کوشش کی جاری ہے بے معنی عام اظہار ،ناشائستہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں اس لئے ہمیں اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے خبر دار رکھنا ضروری ہے جو سوشل میڈیا پر فساد،بدعمنی،لڑائی جھگڑے اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں ہمیشہ سماجی و یب سائٹس پر اچھی اور حق و صداقت پر مبنی خبریں شیئر کریں جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکانٹس رکھنے والوں کو کڑی سزا دے، لہذا ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کرنے چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھ سکے۔
    وفاقی حکومت نے ٹوئٹر، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک کر دیا جائے گا اور تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتاکہ فیس بک یا یوٹیوب جیسی بڑی کمپنیاں پاکستانی قانون کی وجسے یہاں اپنے دفاتر کھولیں اور سٹاف رکھیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت سوشل میڈیا نیٹ ورک پر پابندی لگاتی رہی ہیں۔نئے رولز کا مقصد ’سکیورٹی ادروں اور ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • محرم الحرام ایک تاریخی اور حرمت کا مہینہ تحریر: رانا بشارت محمود

    محرم الحرام ایک تاریخی اور حرمت کا مہینہ تحریر: رانا بشارت محمود

    محرم الحرام جو کہ ہجری کیلنڈر کے بارہ مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے جہاں سے اسلامی سال کی شروعات ہوتی ہے اور حرمت کے چار مہینوں، جن میں ذوالقعد، ذوالحج اور رجب کے بعد محرم الحرام بھی ان میں سے ایک ہے۔ جنہیں اللہ تعالی نے اشہرُ الحُرُم کے نام سے بھی نوازا ہے۔ محرم الحرام جو کہ اسلامی تاریخ میں حرمت و ادب کے اعتبار سے اپنی الگ پہچان تو رکھتا ہی ہے لیکن اگر ہم بنی نوع انسان کی تاریخ کو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد سے دیکھیں تو بھی ہمیں بہت سے ایسے اہم واقعات ملتے ہیں، جو کہ اس حرمت کے مہینے محرم الحرام میں پیش آئے ہیں۔

    اور انہی پیش آنے والے اہم واقعات میں سے چند کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔

    حضرت آدم علیہ السلام کو جب ابلیس کے اکسانے پر غلطی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی کے حکم پہ جب جنت سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا گیا تھا اور پھر آپ علیہ السلام کی اللہ تعالی سے کی گئی بہت سی دعاؤں اور معافیوں و استغفار کے بعد پھر جب اللہ تعالی اُن کی توبہ کو قبول فرمایا تو تب محرم الحرام کا ہی مہینہ تھا۔

    اور پھر جب اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمانے کے بعد جب میدانِ عرفات میں جبل رحمت کے مقام پر اُن کی ملاقات حضرت اماں حوّا سے کروائی، تو تب بھی 10 محرم الحرام ہی تھا۔

    حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پہ جب اللہ تعالی کے حکم سے عذاب نازل کیا گیا جس کو طوفانِ نوح بھی کہتے ہیں، اور اللہ کے حکم سے تب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو اور جانوروں و پرندوں کے ایک ایک جوڑے کو اپنی بنائی ہوئی ایک کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ تو اس طوفان کے تھمنے کے بعد جس دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی نامی پہاڑ پہ جا کر ٹھہری، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    اللہ کے ایک اور پیارے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہیں کلیم اللہ کا لقب بھی حاصل ہے۔ تو جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان پہ ایمان لے کر آنے والے ان کے ساتھیوں کا پیچھا کر رہا تھا لیکن پھر اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے انھوں نے اپنا عصا سمندر میں مارا تو سمندر کے پانی نے اُنہیں اور اُن کے ساتھیوں کو گزرنے کے لیے راستہ دیا اور پھر فرعون اپنے لشکر سمیت اُسی سمندر میں غرق ہو گیا تھا، تو تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    پھر ایک اور اللہ کے نبی حضرت یونس علیہ السلام جب اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے آئی ہوئی آزمائش کے طور پہ چالیس روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد جب اللّٰہ تعالٰی کے حکم سے باحفاظت باہر آئے، تب بھی 10 محرم الحرام کا ہی دن تھا۔

    پھرحضور اقدس جناب محمد رسول اللہ کی اللہ سے دعاوں کے زریعے مانگي گئی مراد اور تقریباً بائیس لاکھ مربع میل تک حکومت کرنے والے مسلمانوں کے عظیم خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی اسی حرمت کے مہینے محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو ہی ہوئی تھی۔

    تو اب آتے ہیں اُس عظیم اور دلوں کو چیر دینے واقعے کی طرف جو 10 محرم الحرام کو ہی پیش آیا تھا۔ لیکن ان سب بڑے بڑے تاریخی واقعات پہ اپنی عظمت کی وجہ سے چھا گیا۔ اللہ کے سب سے پیارے نبی و رسول اور نبی آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی پیاری بیٹی اور جنت کی تمام عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور خلفاء راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے چوتھے اور آخری خلیفہ اور اللہ کے شیر کا لقب پانے والے جناب حضرت علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور نواسہ رسول و جگر گوشہ بتول اور نبی مکرم ﷺ سے شکل و صورت میں مشابہت رکھنے والے اور جنت کے نوجوانوں کے سردار جناب حضرت حسین علیہ السلام نے جب اپنے اہلِ و عیال، عزیز و اقارب اور ساتھیوں سمیت تقریباً 72 افراد نے (جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے)۔ جب کربلا کے میدان میں ظالم و جابر یزید اور اس کے لشکر کے ظلم و ستم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے اور وہ ظالم آپ علیہ السلام سے اپنی حکمرانی کو قبول کرنے کے لیے بیعت لینا چاہتا تھا۔

    اور اس سے پہلے بھی اور تب بھی اس ظالم یزید نے اپنی بیعت کروانے کے بدلے میں حضرت حسین علیہ السلام اور ان کے خاندان و ساتھیوں کی جان بخشی کرنے اور انہیں بہت سے دنیاوی انعام و اکرام سے نوازنے کی بھی مسلسل پیش کشیں کیں۔ لیکن حضرت حسین علیہ السلام نے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی سکھائی ہوئی تعلیمات اور اسلام کی سربلندی کی خاطر اُس ظالم و جابر یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے اہلِ خانہ اور ساتھیوں سمیت کربلا کی تپتے ہوئی ریت والے ریگستانوں میں اُس ظالم اور اُس کے لشکر کے خلاف ڈٹے رہنے کے بعد شہادت کی عظیم مثالیں قائم کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نظرانے پیش فرمائے۔

    اور شہادت کی ان عظیم مثالوں کے زریعے اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے دینِ اسلام میں ایک نئی روح پھونکی اور اسلام پہ چلنے والے مسلمانوں کے لیے حق کی راہ میں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جانوں تک کو قربان کر دینے سے بھی نہ کتراتے کی عظیم مثال قائم کی، جو کہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ کے طور پہ بھی یاد رکھی جائے گی۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ حضرت حسین علیہ السلام کی شہادت کی اِس عظیم مثال سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالی اور اُس کے رسول ﷺ اور اسلام کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز جاننا چاہیے اور حق بات پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ کسی ظالم یا جابر سے ڈر کر اپنی جان بچانے کی خاطر کبھی اُن کا ساتھ نہیں دینا چاہیے، بلکہ وقت پڑنے پر حق تعالی کی خاطر جان کی بازی تک لگا دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو حضرت حسین علیہ السلام کی قائم کی ہوئی اس عظیم مثال پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Author Name: Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • مرد کو عزت دو تحریر: سحر عارف

    مرد کو عزت دو تحریر: سحر عارف

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پہ جو ماحول بن چکا ہے اس نے مجھے دوبارہ قلم اٹھانے میں مجبور کردیا۔ مینار پاکستان پر ہونے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پہ کافی دنوں سے کافی ہل چل مچی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی توجہ کا رخ مرد ذات کی طرف ہے۔ ہر مرد و عورت کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ اگر سو مرد ایک ساتھ ایک جگہ موجود ہیں تو ضروری نہیں کہ ان میں سارے کے سارے عورت کی عزت کرنے والے ہی ہونگے۔

    یقیناً ان میں سے آٹھ دس غلط مرد بھی شامل ہونگے جو کہ عورت کو بری نگاہ سے دیکھتے ہوں۔ اسی طرح ہر سو میں آٹھ دس عورتیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عورت ہونے کا غلط فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کبھی مردوں پر الزام تراشی، تو کبھی غلط قسم کی آزادی کے لیے عورت مارچ کا حصہ بن کر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں۔

    تو پھر کیا ہم باقی کے مردوں اور عورتوں کے خلاف بولنے لگ جائیں اور انہیں غلط کہنا شروع کردیں؟ اس لیے ضروری نہیں کہ ہر مرد اور ہر عورت برے ہوں۔
    کچھ روز قبل مینار پاکستان پر جو حرکت چار سو مردوں نے کی اس واقعے نے مرد ذات پر انگلی اٹھانا شروع کردی۔ لیکن کیا یہ ٹھیک بات ہے کہ ہم معاشرے میں موجود چند گندے انڈوں کی وجہ سے باقی مردوں کے کردار پر بھی بات کریں؟کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس دنیا میں صرف وہی چار سو مرد نہیں رہتے۔

    ہمارے اردگرد وہ مرد بھی موجود ہیں جو عورت کی عزت کرنا جانتے ہیں۔ ان کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے سکیورٹی فورسز میں بھی تو زیادہ تعداد مردوں کی ہے اور وہ نا صرف عورتوں کی بلکہ پوری قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔

    تو ہم کیوں ان چار سو بھیڑیوں کی وجہ سے اپنے محافظ مردوں کو بھول جائیں۔ اس کے علاؤہ ہم نے ایسے مرد بھی دیکھے ہیں جو سوشل میڈیا پر اور جب جہاں ضرورت پڑے عورت کے حقوق اور ان کی جائز آزادی کے لیے اپنی آواز بھی بلند کرتے ہیں۔ ہر اس مرد کے خلاف بھی بولتے ہیں جو عورت کی تذلیل اور اس کے لیے پریشانی کا باعث بنیں۔ پھر میں کیسے کہہ دوں کہ مرد ذات بری ہے جب کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے گھر کے مردوں کی ہی وجہ سے ہوں۔

    جنہیں میں نے ہمیشہ ہر عورت کی عزت کرتے دیکھا ہے۔ میں کیسے کہہ دوں کہ ہر مرد برا ہے جب کہ میں نے اپنے اردگرد ایسے بےشمار مرد دیکھیں ہیں جو عورتوں کو دیکھتے ہی اپنی نظریں جھکا لیتے ہیں۔ مرد بھی عزت کے قابل ہے۔ جو صبح سے شام تک اپنے گھربار کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت اور اس کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ عورت کی طرح مرد بھی مظلوم ہے۔ خاص کر آج کے معاشرے میں جہاں جب بھی کوئی جنسی تشدد اور گھریلو تشدد کا کوئی واقع سامنے آجائے تو پوری کی پوری مرد ذات پر آوازیں قسی جاتی ہیں۔

    کیا مرد انسان نہیں؟ کیا کچھ گندے بھیڑیوں کی وجہ سے ہم باقی مردوں کی عزت کرنا چھوڑ دیں؟ نہیں جناب جو عزت کے قابل ہے اسے عزت ملنی چاہیے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں مظلوم مردوں کے لیے بھی اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

    @SeharSulehri

  • نیا پاکستان اور ہماری عوام  تحریر  : راجہ حشام صادق

    نیا پاکستان اور ہماری عوام تحریر : راجہ حشام صادق

    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس نظام کے نفاذ  کے لیے دیکھا جانے والا وہ  خواب جو ستر سال پہلے پایہ تکمیل کو پہنچ چکا الحمدللہ ۔ اس چشم فلک نے علامہ محمد اقبال کے اس خواب کو قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں حقیقت میں بنتے ہوئے دیکھا۔

    اس خواب کو حقیقت میں بدلنےکے لیے مسلمانوں کو عبرت ناک سزائیں برداشت کرنی پڑھیں ۔ جانیں اور عزتیں تک نہ بچ سکیں ۔ اللہ تعالٰی کی خاص کرم سے پاکستان بنا بھی۔ ہمارے لیڈر جنہیں ہم بابائے قوم بھی کہتے ہیں قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت کی بدلت اور پھر سنبھل بھی گیا۔

    ہمارا یہی وطن 60 کی دہائی میں دنیا کے لیے مثال بنا ہوا تھا۔ اسی دوران مارشل لاء کا دور بھی آیا اور جمہوری حکومتیں بھی آئیں مگر ترقی اور استحکام کا سفر نہ رک سکا۔

    بد قسمتی سے 80 کی دہائی کے آخر میں وہ لوگ پاکستان کی سیاست بھی گھس گئے ۔ جن کا مقصد صرف اور صرف اپنی پیٹ پوجا تھا۔ بزنس مین ذہن بھی وطن عزیز کی سیاست کی بھاگ دوڑ سنبھالنے لگا۔
    ان بزنس مین ذہنوں میں شامل دو خاندان جن کے بچے پیدا ہونے سے پہلے ہی عرب پتی بن بیٹھے۔اور کیا ہونا تھا ۔ تیری باری میری باری والا سیکول شروع ہوا ۔ ان کے ہر ایڈیشن نے ملکی معیشت کا بیڑا ڈبونا شروع کردیا۔

    ان کاروباری ذہنوں نے اپنے مفاد کے حصول کے لیے نوکرشاہی سے ان کا پروفیشنلزم چھین لیا۔ اسی دور میں کرپشن نامی جن نے جنم لیا جس کی دھاک پورے ملکی نظام کے جوڑ جوڑ میں سرا گئی ۔اس وقت سے لے کر اب تلک حالات اس نہج تک پونچ چکے کہ نوکری سے لے کر برتن سرٹیفکیٹ لینے تک کے لیے عملے اور آفیسرز کی جیبین گرم کرنا پڑتی ہیں۔

    ایک دستخط جو بامشکل پانچ منٹ کا بھی کام نہیں اس کے لیے بھی مہینے لگ جاتے ہیں ہاں افسر شاہی کی جیب گرم کریں وہی کام پانچ کیوں دو منٹ میں اسی آفیسر کا چپڑاسی آپ کو کرا کے دے دے گا۔ 
    جب چیزیں اس قدر خراب ہوں تو ہم کیسے ان کو پلک چھپکتے ہوئے ٹھیک کر سکتے ہیں؟؟

    اب ایک اور لیڈر نے اس ملک کو ایک عظیم ملک بنانے کا خواب دیکھا ہے وہ ہمیں بھی وہ خواب دیکھا رہا ہے وہ خواب ہے نیا پاکستان وہ پاکستان جہاں عدل و انصاف کا نظام ہو ایسا نظام جو تمام پاکستانیوں کے لیے برابر ہو وہ نظام جو ریاست مدینہ میں تھا ایک ایسا نظام جہاں ہمارے غریب لوگ بھی اسی معاشرے میں عزت کی زندگی جی سکیں۔

    اپنی جدوجہد کے تقریبا پچیس سال بعد کپتان عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ بکھرے ہو ہجوم کو اس نے ایک کر دیا اتنا باشعور کر دیا ہے کہ وہ اب غلط کو غلط کہنے کی جرات کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس صیح اور غلط میں دوست اور دشمن میں مکمل طور پر پہچان نہیں کر سکتے یہی وجہ ہے کہ پچیس سال بعد بھی وقت کا کپتان اکیلا کھڑا ہے۔اور اس قوم کے بچوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہے۔ریاست مدینہ کے ماڈل کی ریاست کا خواب دینے والا کپتان نے تو راستے کا بہتر انتخاب کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی کپتان کے اس خواب کو سچ بنانے کے لیے اس کا بھرپور ساتھ دیں آخر یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔منزل تک پہنچنے کے لئے عوام کا ساتھ ضروری ہوتا 

    ہماری قوم کو وزیراعظم عمران خان کا نیا پاکستان  فلمی انداز میں بدلا ہو چاہے۔ جو چیزیں تیس سالوں میں خراب ہوئیں وہ کیا ہم ایک سال یا تین سال میں ٹھیک کرسکتے ہیں؟
    اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • واقعہ لاہور کے مضمرات تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    واقعہ لاہور کے مضمرات تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    گزشتہ دنوں مینار پاکستان لاہور میں ایک ٹک ٹوکر لڑکی کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ واقعہ قابل مذمت ہے لیکن اس بات پر یقین کرنا میرے لئےانتہائی مشکل ہے۔ دل و دماغ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ چار سو مرد ہوں اور سب کے سب ایک ہی کام میں لگے ہوں۔ مشاہدہ میں تو یہ آتا ہے کہ آج بھی اگر ایک لڑکی کو دو لڑکے راہ چلتے چھیڑ دیں تو دو سو مرد ان دو لڑکوں کی ٹھکائ کرنے فوراجمع ہو جاتے ہیں۔ کوئی خاتون اگر مذاق میں بھی یہ کہہ دے کہ اس لڑکے نے مجھے چھیڑا ہے تو بنا تصدیق کئے باقی تمام مرد اس لڑکی کی بات کو سچ مانتے ہوئے لڑکے پر اپنے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دینگے اورجب تک پولیس نہ پہنچ جائے وہ بے چارہ ہجوم سے پٹتا ہی رہے گا۔
    ہم وہ جزباتی لوگ ہیں جو کبھی بھی بنیادی وجہ کو تلاش نہیں کرتے،جڑ نہیں پکڑتے شاخوں پرچھولتے رہتے ہیں ۔ اگر چار سو مرد حضرات نے ایسا کیا ہے تو ہرگز ان کی طرف داری نہیں کی جاسکتی بلکہ ان کا یہ عمل انتہائ قابل مزمت ہے اور یہ بات کہنے بھی کوئ عار نہیں کہ وہ لوگ مرد تھے ہی نہیں مرد ہوتے تو ایسا کام نہیں کرتے۔
    لیکن دوسری جانب یہ بھی تو دیکھیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں؟ یہ ٹک ٹوک اور مختلف لائیو سٹریمنگ کی ایپلی کیشن کیسے عورت کو ایک نمائشی آلہ بنائےچلی جارہی ہے اور عورت ہے کہ نمائش بنتی جا رہی ہے۔چندلائکس شیئر اور فالوورز کے چکر میں سر راہ ، پارک میں ، چلتی سڑک پر ، مردوں کے ہجوم میں یہ دوپٹہ اتار دینا ، باریک اور تنگ لباس زیب تن کر کے رقص کرتے ہوئے اپنی ویڈیو ریکارڈ کرانا تو پھرسستی شہرت حاصل کرنے کی چاہ میں آپ کو عزت سے ہاتھ تو دھونا ہی پڑے گا۔اگر آپ حریم شاہ بنیں گی تو مولوی عبدالقوی تو پھر مل ہی جانے ہیں۔ شہد کو کھول کر رکھنے کے بعد یہ توقع کرنا کہ مکھیاں اس پر نہ بیٹھیں کیسے ممکن ہے۔گھر کی دیوار کو اگر چھوٹا رکھا جائے گا یا دروازہ کھلا رکھا جائےگا توچوری تو ہو گی ہی۔
    وہ مردبھی قابل لعنت ہیں جو اس گندے فعل کے مرتکب ہوئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ان کیلئے بھی ۔۔اس ٹک ٹوک اور اس جیسی ایپلی کیشن نےتو اخلاقیات کا جنازہ ہی نکال دیا ہے۔ جن خواتین کو گھر یا خاندان کا کوئی ڈر ہے تو وہ صرف اپنے ہاتھ یا پیر دکھا کر بکواس اور بےہودہ جملوں کا استعمال کرلیتی ہیں ۔ کبھی آپ ان لڑکیوں کی ان ویڈیوز پر موجود کمنٹس پڑھ لیں تو کانوں کو ہاتھ لگاتے رہ جائیں۔یہ سب کیا ہورہا ہے؟ عورت کی اتنی تزلیل کہ وہ ایک مارکیٹنگ ٹول بن کے رہ جائے۔۔ جس نے آنے والی نسل کو پالنا ہے اپنی پرورش سےہماری اقداراور رواج کو نئ نسل میں منتقل کرنا ہے ۔
    کیا ہے یہ سب ؟ کس طرف جا رہے ہیں ہم؟ کیا ہم خود ہی اس معاشرے میں جنسی بے راہ روی اور فریسٹریشن کو جنم نہیں دے رہے؟ بڑے بڑے شاپنگ مال ہوں یا کوئی بھی جگہ ، مارننگ شو ہو یا پھر کوئی پروگرام ۔ عورت کو ایک ٹول کی حیثیت سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔۔ یہ سفر کہاں کا ہے ؟کہاں ختم ہو گا؟پتہ نہیں !
    اچھا پھر ہوتا کیا ہے کہ مبینہ طور پرآپ ایسی سستی شہرت تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن بعدمیں ایسے واقعات ملک دشمن عناصر کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جو ایسے واقعات کو نمک مرچ کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمارے جزباتی دوست بناء سوچے سمجھے اس ففتھ جنریشن وار کا حصہ بن جاتے ہیں ان کو پتہ بھی نہیں چل پاتا کہ وہ کتنی خوبصورتی سے دشمن کی سازش کا شکار ہو گئےاورخود ہی سوشل میڈیا پردشمن کے خلاف چلنے والے ٹرینڈ ختم کرکے اپنے ہی ملک کے خلاف ٹرینڈ شروع کر دیتے ہیں کبھی سوچئے گا کس کمال مہارت سے دشمن نے آپ کے ہی ہاتھوں موضوع بدلوا دیا اور پھر ایسی کیمپین چلائ کہ لگاپاکستان سے غیرتمند مرد ہی ختم ہو گئے ہیں۔ جب کہ آپ کو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ ہمارا معاشرہ آج بھی دیگرمعاشروں سے لاکھ درجے بہتر ہے ۔ یہاں آج بھی بیٹی اور بہن کی عزت ہے ۔ اس کے محافظ موجود ہیں ۔
    میری رائے میں اسلامی قانون کا نفاذ ہی ان مسائل کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے ۔اس کام میں تو ابھی وقت لگے گا لیکن ان ایپس پر تو فوری پابندی عائد کی جاسکتی ہے جو اخلاقیات کے جنازے نکال رہی ہیں اورپابندی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ذہن سازی بھی ہونی چاہئے تاکہ ہمارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو کچھ کرنے کیلئے کوئی مثبت راستے مل سکیں اور وہ اس طرح کی ایپس وغیرہ اور سستی شہرت سے دور رہ سکیں ۔ لیکن یہ سب ہو گا کیسے ہمیں توصرف شور مچانے کی عادت پڑ چکی ہے ۔۔
    اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے پر رحم کرے ۔ آمین

    @Azizsiddiqui100

  • روزی گیبریل سے عائشہ اکرام تک تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس

    روزی گیبریل سے عائشہ اکرام تک تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس

    کینیڈین سیاح اور وی لاگر روزی گیبریل نے لاہور سے گوادر تک کا سفر بغیر کسی سیکورٹی کے اکیلے کیا اور دنیا کو اپنے یو ٹیوب چینل سے یہ میسج دیا کہ پاکستان بہت محفوظ جگہ ہے اور پانچ ماہ کے سفر وسیاحت میں ایک مرتبہ بھی پاکستان کے کسی بھی مقام پر ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے بعد انہوں نے شمالی علاقہ جات کا بھی سفر کیا اور یہ بتلایا کہ جہاں بھی وہ گئیں، ان کی عزت کی گئی۔ ان کی بائیک خراب ہوئی تو فری ٹھیک کر دی گئی۔ کہیں رات پڑ گئی تو فیملی نے مہمان نوازی کی۔ اس خاتون نے 14 ماہ پاکستان میں گزارے۔ اس قدر متاثر ہوئی کہ اسلام قبول کیا اور ایک پاکستانی سیاح سے شادی بھی کر لی۔

    اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں کہ ایک ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرام 14 اگست 2021ء کو مینار پاکستان کے ساتھ ملحق گریٹر اقبال پارک میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ویڈیو بنانے جاتی ہے اور ایک ہجوم اس پر حملہ کر دیتا ہے۔ اس کے کپڑے پھاڑ دیتا ہے اور اس کو ہراساں کرتا ہے اور تقریبا اڑھائی گھنٹے تک اس کے جسم سے کھیلتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ لڑکی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ اس کا ریپ ہوا ہے۔ البتہ اس نے یہ بیان دیا ہے کہ اس کو بالکل برہنہ کر دیا گیا تھا۔ لیکن واقعے کی جو ویڈیوز اور امیجز موجود ہیں، ان میں کسی سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے۔ مبینہ ذرائع کے مطابق زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ لڑکی کے ساتھ زبردستی سلیفیاں لینے کے لیے دھکم پیل ہوئی اور اس دھکم پیل میں اس کے جسم کو اس کی مرضی کے بغیر ٹچ کیا گیا ہے۔ اس پر پولیس نے 400 افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹ لی ہے۔

    روزی گیبریل اور عائشہ اکرام دونوں میں قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں نے پردہ نہیں کیا ہوا تھا اور دونوں اپنے گھر سے باہر نکلی ہیں لیکن ایک کو معاشرے نے عزت دی اور دوسری کو ذلیل کر دیا۔ اس میں فرق کیا ہے۔ اس میں فرق عورت عورت کا ہے۔ روزی گیبریل پورے پاکستان کا اکیلے سفر کرتی ہے اور کوئی اسے دن کیا رات میں بھی ہاتھ تک نہیں لگاتا اور دوسری طرف ایک لڑکی کو دن دیہاڑے لاہور شہر کے ایک معروف پارک میں چار سو افراد کتوں کی طرح پڑ جاتے ہیں۔ آپ ان دونوں کیسز کی ویڈیوز اور امیجز دیکھیں گے تو فرق کھل کر سامنے آ جائے گا۔

    روزی گیبریل جہاں گئی، اس نے مردوں سے فاصلہ برقرار رکھا اور انہیں واضح میسج دیا کہ ہمارے درمیان ایک حد قائم ہے۔ یہ پڑھی لکھی خاتون تھی اور سچی آرٹسٹ تھی۔ اسے مرد کی نظروں سے نہیں، سیاحت میں دلچسپی تھی لہذا لوگوں نے اس کی اور اس کے فن کی قدر کی۔ اس نے ہمیشہ بچوں اور عورتوں کے ساتھ تصاویر کھچوائیں اور انہیں پبلک کیا۔ دوسری طرف عائشہ اکرام کے بارے مبینہ ذرائع یہ کہتے ہیں کہ وہ ٹک ٹاکر تھی، اسے فالوورز چاہیے تھے۔ جس کو وہ ہجوم کہہ رہی ہے، یہ ہجوم نہیں تھا، اس کے فالوورز تھے جنہیں اس نے خود وہاں بلوایا تھا۔ اور پھر یہ ناخوشگوار واقعہ ہوا کہ جس کے بعد ایک دن میں اس کے فالوورز کی تعداد پچاس ہزار بڑھ گئی۔

    تو بھئی عورت عورت کا فرق ہے۔ اس معاشرے کے مردوں کو عورت کے باہر نکلنے پر اعتراض نہیں اور نہ ہی اسے عزت دینے میں مسئلہ ہے۔ لیکن یہ معاشرہ اسی عورت کو عزت دیتا ہے جو خود سے عزت چاہتی ہو۔ جو عورت پہلے ہی مردوں کے ہاتھوں کھلونا بننے کو تیار ہو، ان کی گود میں چڑھ کر یا گلے میں بانہیں ڈلوا کر تصویریں کھچوائے۔ اور پھر سامنے موجود بعضوں کو کہے کہ تم صبر کر کے دیکھتے رہو تو مرد ایسی عورت کی عزت کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کی فالووننگ سے ہی اس کی فیم کی جبلت پوری ہوئی ہے تو اب وہ چاہتے ہیں کہ بدلے میں وہ ان کی جبلت پوری کرے۔ یہ تو لین دین کا سودا ہے۔ اور یہی سب کچھ مبینہ ذرائع عائشہ اکرام کے حوالے سے نقل کر رہے ہیں۔

    وینا ملک، قندیل بلوچ، حریم شاہ اور عائشہ اکرام کا رستہ بے حیائی کا رستہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ مشہور ہونا چاہتی تھیں یا فیم چاہتی ہیں۔ حریم شاہ کو بھی دیکھ، آج کل شیشہ پیتی نظر آ رہی ہے۔ اس کے بعد دیگر منشیات اور ڈرگز کی بھی عادی ہو جائے گی کہ اس رستے کا انجام ہی یہی ہے حالانکہ یہ مدرسے کی پڑھی ہوئی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے حسن وخوبصورتی میں لوئر مڈل کلاس کی خواتین کو بھی وہ فیم اور فالوونگ دلوا دی ہے جو کبھی ایلیٹ کلاس کی خواتین کا مقدر ہوا کرتی تھی تو لوئر مڈل کلاس کی لڑکیاں عورتیں اس فیم اور فالوونگ کے پیچھے پاگل ہو گئی ہیں۔

    پہلے وقتوں میں ایلیٹ کلاس کی عورتوں کو یہ فیم اور فالوونگ اپنے حسن وجمال یا آرٹ کی وجہ سے حاصل ہوتا تھا لیکن اب یہی فیم اور فالوونگ معمولی حسن رکھنے والی لڑکیوں کو مردوں کو لبھانے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایسی عورتوں کی بڑی فالوونگ معاشرے کا رذیل مرد ہوتا ہے جو ان کے وجود کو تک کر اپنی آنکھیں سیکتا رہتا ہے۔ اور ان عورتوں کو بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی مرد ان کا فالوور ہے اور جس درجے کا یہ حسن رکھتی ہیں، اس میں ایسا ہی فالوور مل سکتا ہے اور اسی کو لبھا کر ہی فیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ تو یہ ساری گیم مشہوری کی ہے اور سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی ہے۔ کبھی معاشرے پر شیروں کا راج ہوتا تھا لیکن بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ جس نے گیڈروں کو بھی شیروں کی کھال پہنا دی اور انہوں نے اپنے آپ کو شیر سمجھ بھی لیا اور اب یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ لوگ ہماری شیر کے جیسی عزت کیوں نہیں کرتے ہیں۔

    بھئی، کیا بات کرتے ہو، مغرب کا معمولی درجے کا حسن تو وکٹم کو اب ریپ کی بھی یہ خوبصورت تاویل سجھا رہا ہے کہ میں اتنی خوبصورت تھی تو تبھی تو مرد اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ پایا اور زبردستی پر آمادہ ہوا یعنی یہ میرے حسن کا کمال ہے کہ جس نے مرد کو جانور بنا دیا تھا۔ مردوں میں سیکس کی جبلت اور عورتوں میں مردوں کے لیے سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی جبلت، نہیں معلوم کہ کون سی زیادہ ہے اور کون سی کم۔ دونوں جبلتوں کو جب جب اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک رشتہ ازدواج کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی گئی تو معاشرے میں خیر پھیلا۔ اور جب جب ان دونوں جبلتوں کو مذہب اور اسلام سے آزاد کیا گیا تو اس اس وقت معاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ جتنا مرد کا اپنی سیکس کی جبلت کو آزاد چھوڑ دینا فتنہ ہے، اتنا ہی عورت کا اپنی سینٹر آف ایٹریکشن بننے کی جبلت کے لیے کچھ بھی کر گزرنا باعث فساد ہے۔ اور یہاں روزی گیبریل اور عائشہ اکرام کے واقعے میں تقابل کرتے ہوئے قرآن مجید کی ایک آیت سچ صادق آتی ہے: الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ۔ ترجمہ: خبیث مرد، خبیث عورتوں کے لیے اور خبیث عورتیں، خبیث مردوں کے لیے۔ اور پاکیزہ عورتیں، پاکیزہ مردوں کے لیے، اور پاکیزہ مرد، پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ جو لڑکی حریم شاہ بننا چاہتی ہے تو اسے اس معاشرے میں ہر مرد بھی مفتی عبد القوی جیسا ہی ملے گا۔ تو پاکیزہ زندگی گزارو، تمہیں مرد بھی پاکیزہ ہی ملیں گے جیسا کہ روزی گیبریل کو پاکستان میں کوئی ایک مرد بھی ہراساں کرنے والا نہ ملا۔

  • طالبان اور مستقبل   تحریر : نواب فیصل اعوان

    طالبان اور مستقبل تحریر : نواب فیصل اعوان

    اب جب طالبان افغانستان کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں تو عالمی دنیا اس کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے کیونکہ امریکہ جو سپر پاور کہلاتا ہے وہ بیس سال افغان جگ میں ضاٸع کرنے کے بعد ناکام و نامراد لوٹ گیا ہے .
    افغان طالبان نے جہاں عام معافی کا اعلان کیا تھا وہیں امریکہ کے ساتھ کام کرنے والے افغانی کابل اٸیرپورٹ سے امریکی جہاز میں چڑھ گیۓ اس خوف سے کہ طالبان ان کو نشان عبرت بناٸیں گے مگر طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم عام معافی کا اعلان کرتے ہیں اور تمام افغانیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ملکی سالمیت و تعمیرو ترقی میں اب کردار ادا کریں ..
    امریکی جہازوں میں چڑھنے والے چھ سو کے قریب افغان باشندے قطر اٸیرپورٹ پہ اتار لیۓ گیۓ ہیں جنکو دو چار دن تک ڈی پورٹ کر دیا جاٸیگا .
    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سرپرستی میں کام کرنے والے افغانیوں کو امریکہ نے بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے .
    اپنے ملک و قوم اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف پیسوں کے عوض کام کرنے والوں کا یہ حال ملک دشمن عناصر کیلۓ عبرت کا نشان ہے .
    امریکہ نے دو ٹریلین ڈالر افغان جنگ میں جھونکے مگر وہ طالبان کے آگے سوویت یونین کی طرح ڈھیر ہوگیا .
    امریکی سابق صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ
    امریکہ کو بیس برس بعد شکست ہوگٸ عبرت ناک شکست .
    الغرض دنیا مے دیکھ لیا اور تسلیم بھی کیا جا رہا ہے کہ سوویت یونین کے بعد امریکہ بھی افغانستان سے ناکام و مراد لوٹا ہے ۔
    اب پاکستان اور چاٸنا مزید معاشی قوت بنیں گے استحکام ہوگا چاٸنہ طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات قاٸم رکھنے کا خواہاں ہے کیونکہ چاٸنا کے بہت مفادات جڑے ہیں پاکستان سے افغانستان میں پاٸیدار امن کے ساتھ پاکستان میں بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی .
    افغان طالبان نے بھارت کو بھی شٹ اپ کال دی ہے کہ وہ افغانستان میں کسی بھی کارواٸ سے باز رہے ورنہ برے نتاٸج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس کے علاوہ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اب ان کی اگلی منزل کشمیر ہے ۔
    اس وقت بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے بعض بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق طالبان پاکستان اور چاٸنہ مل کر بھارت سے جنگ کر سکتے ہیں ایسا بھی ہوسکتا کہ بھارت کو کشمیر سے ہی ہاتھ دھونا پڑجاٸیں .
    بھارت جو امریکہ کی طرح افغانستان میں کافی ڈویلپمنٹ کر چکا جس میں انفراسٹکچر کے علاوہ ڈیم بھی شامل ہیں جس کا اس کو طالبان کے کنٹرول کے بعد کوٸ فاٸدہ نہ ہوگا اس وقت بھارتی اربوں کھربوں کی انویسٹمنٹ ڈوب چکی ہے بھارت میں طالبان کو لے کر کافی تشویش پاٸ جا رہی ہے بھارت کیلۓ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے .
    دوسری جانب طالبان کی حکومت کو مستقبل میں عالمی دنیا تسلیم کر لے گی کیونکہ طالبان سے اختلاف بہت سے ممالک کے مفاد میں نہ ہوگا .
    جبکہ طالبان کیلۓ سوشل میڈیا کے دروازے بند کرنے کا سوچا جا رہا ہے کہ تمام پیغام رسانی والی ایپس کو افغانستان میں بند کیا جاۓ جن میں سرفہرست واٹس ایپ فیس بک ٹوٸیٹر اور انسٹاگرام شامل ہیں .
    اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان میں کب تک حکومت فعال ہوتی ہے اور افغانستان کی فلاح و بہبود کیلۓ کیا اقدامات کیۓ جاسکتے اور عالمی دنیا کے ساتھ کیسے روابط رکھے جا سکتے یہ تو وقت ہی بتاۓ گا .

  • منفرد اور معنی خیز کام کرنے کا ثابت شدہ راستہ۔  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    منفرد اور معنی خیز کام کرنے کا ثابت شدہ راستہ۔ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    جون 2004 میں ، آرنو رافیل منککنن نے نیو انگلینڈ اسکول آف فوٹوگرافی میں مائیکروفون کی طرف قدم بڑھایا تاکہ تقریر شروع کی جا سکے۔ جیسا کہ اس نے فارغ التحصیل طلباء کی طرف دیکھا ، منککنن نے ایک سادہ نظریہ شیئر کیا جو کہ اس کے اندازے کے مطابق کامیابی اور ناکامی کے درمیان تمام فرق پیدا کرتا ہے۔ اس نے اسے ہیلسنکی بس اسٹیشن تھیوری کہا۔ منککنین ہیلسنکی ، فن لینڈ میں پیدا ہوا تھا۔ شہر کے وسط میں ایک بڑا بس اسٹیشن تھا اور اس نے اپنی تقریر کا آغاز طالب علموں کو بیان کرتے ہوئے کیا۔ منککنین نے کہا ، "شہر کے مرکز میں ایک چوک میں کچھ دو درجن پلیٹ فارم رکھے گئے ہیں۔” "ہر پلیٹ فارم کے سر پر ایک نشانی ہے جو بسوں کے نمبر پوسٹ کرتی ہے جو اس مخصوص پلیٹ فارم سے روانہ ہوتی ہیں۔ بس کے نمبر مندرجہ ذیل پڑھ سکتے ہیں: 21 ، 71 ، 58 ، 33 ، اور 19۔ ہر بس کم از کم ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ہی راستہ شہر سے باہر نکلتی ہے ، راستے میں بس سٹاپ کے وقفوں پر رکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ، "اب ہم ایک بار پھر استعاراتی طور پر یہ کہتے ہیں کہ ہر بس اسٹاپ فوٹو گرافر کی زندگی میں ایک سال کی نمائندگی کرتا ہے۔ مطلب تیسرا بس اسٹاپ تین سال کی فوٹو گرافی کی سرگرمی کی نمائندگی کرے گا۔ ٹھیک ہے ، تو آپ تین سال سے عریاں کے پلاٹینم اسٹڈیز بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اسے بس نمبر 21 کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، "اس بار ، آپ چیری چننے والی کرین سے ساحل سمندر پر پڑے لوگوں کے 8 × 10 ویو کیمرہ کلر سنیپ شاٹس بنانے جا رہے ہیں۔ آپ اس پر تین سال اور تین بڑے خرچ کرتے ہیں اور کاموں کی ایک سیریز تیار کرتے ہیں جو ایک ہی تبصرہ کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا آپ نے رچرڈ مسراچ کا کام نہیں دیکھا؟ یا ، اگر وہ سیاہ اور سفید 8×10 کھجور کے درخت ہیں جو ساحل سمندر کے کنارے سے گزر رہے ہیں ، کیا آپ نے سیلی مان کا کام نہیں دیکھا؟ "تو ایک بار پھر ، آپ بس سے اتریں ، ٹیکسی پکڑیں ​​، دوڑ لگائیں اور نیا پلیٹ فارم تلاش کریں۔ یہ آپ کی تمام تخلیقی زندگی پر چلتا ہے ، ہمیشہ نیا کام دکھاتا ہے ، ہمیشہ دوسروں سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ یہ علیحدگی ہے جو تمام فرق بناتی ہے ، "منکنکن نے کہا۔ "اور ایک بار جب آپ اپنے کام میں اس فرق کو دیکھنا شروع کردیتے ہیں جس کی آپ بہت تعریف کرتے ہیں – اسی وجہ سے آپ نے اس پلیٹ فارم کا انتخاب کیا – اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنی پیش رفت تلاش کریں۔ اچانک آپ کے کام پر توجہ دینا شروع ہو جاتی ہے۔ اب آپ اپنے طور پر زیادہ کام کر رہے ہیں ، اپنے کام اور اس سے کس چیز نے متاثر کیا ہے اس میں زیادہ فرق کر رہے ہیں۔ آپ کا وژن دور ہو جاتا ہے۔ اور جیسے جیسے سال بڑھتے جاتے ہیں اور آپ کا کام ڈھیر ہونا شروع ہوتا ہے ، ناقدین کے بہت زیادہ دلچسپی اختیار کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ، نہ صرف اس چیز سے جو آپ کے کام کو سیلی مان یا رالف گبسن سے الگ کرتا ہے ، بلکہ جب آپ نے کیا پہلے شروع کیا! ” "آپ حقیقت میں پورے بس کا راستہ دوبارہ حاصل کرتے ہیں۔ بیس سال پہلے بنائے گئے ونٹیج پرنٹس کا اچانک ازسرنو جائزہ لیا جاتا ہے اور ، اس کی قیمت کے لیے ، ایک پریمیم پر فروخت شروع کرتے ہیں ۔ لائن کے اختتام پر – جہاں بس آرام کے لیے آتی ہے اور ڈرائیور دھواں نکالنے کے لیے نکل سکتا ہے یا پھر بھی کافی کا ایک کپ – جب کام ہو جاتا ہے۔ یہ ایک فنکار کی حیثیت سے آپ کے کیریئر کا اختتام یا اس معاملے کے لیے آپ کی زندگی کا اختتام ہوسکتا ہے ، لیکن آپ کی کل پیداوار اب آپ کے سامنے ہے ، ابتدائی (نام نہاد) تقلید ، کامیابیاں ، چوٹیاں اور وادیاں ، آپ کے منفرد وژن کی مہر کے ساتھ شاہکاروں کو بند کرنا۔ کالج کے اوسط طلباء ایک بار آئیڈیاز سیکھتے ہیں۔ کالج کے بہترین طلباء خیالات کو بار بار سیکھتے ہیں۔ اوسط ملازمین ایک بار ای میل لکھتے ہیں۔ ایلیٹ ناول نگار ابواب کو دوبارہ لکھتے ہیں۔ اوسط فٹنس کے شوقین ذہن کے بغیر ہر ہفتے ورزش کے ایک ہی معمول پر عمل کرتے ہیں۔ بہترین کھلاڑی فعال طور پر ہر تکرار پر تنقید کرتے ہیں اور اپنی تکنیک کو مسلسل بہتر بناتے ہیں۔ یہ نظر ثانی ہے جو سب سے اہم ہے۔ بس کا استعارہ جاری رکھنے کے لیے ، فوٹوگرافر جو کچھ سٹاپ کے بعد بس سے اترتے ہیں اور پھر ایک نئی بس لائن پر سوار ہوتے ہیں وہ اب بھی سارا وقت کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے دس ہزار گھنٹے دے رہے ہیں۔ وہ جو نہیں کر رہے ہیں ، تاہم ، دوبارہ کام کرنا ہے۔ وہ ایک ایسا راستہ ڈھونڈنے کی امید میں لائن سے لائن میں کودنے میں مصروف ہیں جس سے پہلے کسی نے سواری نہیں کی تھی کہ وہ اپنے پرانے خیالات کو دوبارہ کام کرنے کے لیے وقت نہیں لگاتے۔ اور یہ ، جیسا کہ ہیلسنکی بس اسٹیشن تھیوری واضح کرتا ہے ، کچھ منفرد اور شاندار بنانے کی کلید ہے۔ بس میں رہ کر ، آپ اپنے آپ کو دوبارہ کام کرنے اور نظر ثانی کرنے کا وقت دیتے ہیں جب تک کہ آپ کوئی انوکھی ، متاثر کن اور عظیم چیز پیدا نہ کریں۔ یہ صرف بورڈ پر رہ کر ہی مہارت خود کو ظاہر کرتا ہے۔ اوسط خیالات کو راستے سے ہٹانے کے لئے کافی وقت دکھائیں اور ہر وقت اور پھر باصلاحیت خود کو ظاہر کرے گا۔ ہم سب کسی نہ کسی صلاحیت میں تخلیق کار ہیں۔ مینیجر جو ایک نئے اقدام کے لیے لڑتا ہے۔ اکاؤنٹنٹ جو ٹیکس ریٹرن کے انتظام کے لیے تیز تر عمل بناتا ہے۔ وہ نرس جو اپنے مریضوں کے انتظام کا بہتر طریقہ سوچتی ہے۔ اور ، یقینا ، مصنف ، ڈیزائنر ، پینٹر ، اور موسیقار اپنے کام کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ وہ سب اپنے کام کے خالق ہیں۔ کوئی بھی تخلیق کار جو معاشرے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اکثر ، ہم ان ناکامیوں کا جواب ٹیکسی کو بلا کر اور دوسری بس لائن پر سوار ہو کر دیتے ہیں۔ شاید وہاں سواری ہموار ہوگی۔ اس کے بجائے ، ہمیں بس میں رہنا چاہیے اور اپنے نظریات پر نظر ثانی ، دوبارہ غور اور نظر ثانی کی سخت محنت کا عہد کرنا چاہیے ۔

    Twitter handle
    @Maqbool_hussayn

  • فلاپ سکرپٹ  تحریر : فضیلت اجالہ

    فلاپ سکرپٹ تحریر : فضیلت اجالہ

    آزاد ملک کے 400آزاد باشندوں نے 14 اگست 2021 کو مینار پاکستان تلے جہاں آزادی کی بنیاد رکھی گئی تھی آزادی مناتے ہوئے عائشہ نامی لڑکی کو اسکی مرضی سے حراس کیا اسکا لباس تار تار کرتے ہوئے اسکی عزت و انا کو مٹی میں ملاتے ہؤئے اپنے آزاد ہونے کا ثبوت دیا یہ اور بات کہ وہ سب عائشہ ہی کی دعوت پہ وہاں جمع ہوئے تھے ، اور ایک بار پھر ملک پاکستان کا سر شرم سے جھکایا گیا ۔

    جی ہاں آزاد ، قانون کے ڈر سے آزاد ،ضمیر کی آواز سے آزاد ،احساسات سے آزاد، غیرت سے آزاد، اللہ کے خوف سے آزاد اور سب سے بڑھ کر مکافات عمل کے ڈر سے آزاد ان لوگوں نے یہ شرمناک کھیلا ، اور جلتی پہ تیل سستے چینلز کی ریٹنگ کی حوس نے ڈالہ ۔
    یہ سب لکھتے ہوئے میرا قلم شرمسار ہےلیکن میں مجبور ہوں لکھنے پہ کہ اگر آج نہیں بولیں گے تو کل یہ چار سو سے چار ہزار ہونگے اور وطن عزیز میں ان گدھوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور اس پاک دھرتی کو اپنی نحوست سے آلودہ کرتے رہیں گے ۔
    سوال یہ نہیں کہ وہ اکیلی کیوں تھی، سوال یہ بھی نہیں کہ اسکا محرم ساتھ نہیں تھا،مجھے اس کے نازیبا لباس پہ بھی کوئ اعتراض نہیں ہے سوال تو یہ ہے کہ 14 اگست کو یہ واقعہ پیش آتا ہے لیکن کہیں اسکا زکر نہیں ہوتا کوئ ویڈیوں سامنے نہیں آتی عائشہ اکرم نامی خاتون 15 اگست کو انسٹا گرام پر اپنی تصاویر شئیر کرتی ہیں لیکن اس واقعہ کا کوئ زکر نہیں ملتا کیوں؟؟؟
    17 اگست کو اچانک سے تمام مواد سوشل میڈیا پہ شائع ہوتا ہے اور عائشہ مظلومیت کی تصویر بنی آنسو ں بہاتی سستے چینلز کی ریٹنگ بڑھاتی نظر آتی ہیں کیوں؟ 14 اگست کو ہی یہ خبر کیوں نہیں پھیلی؟؟ کیوں ایف آی آر نہیں کٹوائ گئ ؟ چلے مان لیتی ہوں کہ لڑکی تھی عزت کے ڈر سے لوگوں کے ڈر سے خاموش تھی لیکن وہاں موجود تمام لوگ کیسے خاموش تھے ؟ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں موجود کافی لوگوں نے اپنے کیمروں میں اس گھناؤنے منظر کو قید کیا تھا 14 اگست سے لیکر سترہ اگست تک کیوں کوئ ویڈیوں منظر عام پہ نہیں آئ اور 17 اگست کو ایک دم سے ساری ویڈیوز اپ لوڈ کردی گئ اور معصوم عوام کو الو بنایا ،سستی شہرت کے نشے میں پاگل کچھ لبرلز اور صحافیوں نے تو عرض پاک کے باشندے ہونے کو ہی شرمنگی کا باعث قرار دے دیا ،سب سے پہلے تو ان دیسی لبرلز کو ملک بدر کرنا چاہیے جو جس مٹی کی بدولت آج دو لفظ بولنے کے قابل ہیں اسی کے خلاف ہرزہ سرائ کرتے ہیں

    ان تمام باتوں سے دو ہی پہلوں نکلتے ہیں کہ یا تو یہ سارا تماشہ سستی شہرت کیلیے رچایا گیا جس میں محترمہ خاصی کامیاب بھی رہی یا پھر اس تمام ڈرامے کے پیچھے ایسے ملک دشمن عناصر کا ہاتھ ہے جو اسی ملک کا کھاتے ہیں اور اسی ملک کا نام خراب کرتے ہیں
    جو خود تو باہر کے ملکوں میں عیاشیاں کرتے ہیں اور یہاں عورت کارڈ کھیلتے ہوئے مکل و قوم کا نام داغدار کرتے ہیں ۔ان دونوں مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے بھی صرف عورت قصور وار نہیں ہے اس میں ملوث تمام بے غیرت مرد بھی برابر کے قصور وار ہیں ،جو پیسے کے لالچ میں یا زاتی حوس میں اس بے ہودہ ڈرامے کا حصہ بنے ،دوسروں کی عورتوں پہ بری نظر رکھ کہ انہیں گدھ کی طرح نوچ کہ اپنی عورتوں کے متعلق یہ گمان کیوں رکھتے ہو کو ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا؟ دنیا مکافات عمل ہے آج کسی کی بیٹی کو ننگا کرتے ہو مقصد کوئ بھی ہو چاہے اس عورت کی رضامندی بھی شامل ہو پھر بھی کل اپنی بیٹی کواپنےہی جسے کسی اور نامرد کے ہاتھوں بے لباس ہوتے دیکھنے کیلیے تیار رہو۔
    بے شک یہ سارا ڈرامہ تھا وہ تمام مرد حضرات اس عورت کے کہنے پہ وہاں موجود تھے لیکن تمھاری غیرت تمھاری تربیت تمھارے ایمان کا کیا؟ کیا تمھاری اخلاقی اقدار اس قدر پست اور مادری تربیت اس قدر کمزور ہے کہ عورر کو دیکھتے ہی تمھارے اندر کا جانور تم پر غالب آجاتا ہے زرا سے پیسے کا لالچ تمہیں اچھے برے کی تمیز بھول جاتا ہے اور تم اس مملکت خداد جس کی بنیاد ہی لاالہ اللہ ہے کا نام خراب کرنے کیلیے تیار ہوجاتے ہو ۔

    اوع جو لوگ اس تمام معاملے میں عمران خان کے اسلام اور پردے کے حوالے سے دیے گئے بیان کو گھسیٹ رہے ہیں انکو بتاتی چلوں کہ بے شک اسلام ہی راہ نجات ہے ،مکمل لباس اور حیا عورت کا زیور ہے ۔عمران خان نے مکمل لباس پہننے اور بے حیائ سے رکنے کی بات ضرور ہی جو صحیح بھی ثابت ہو رہی ہے
    لیکن عمران خان نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اسلام بے ہودہ کپڑے پہننے والی عورت کے کپڑے پھاڑنے کی اجازت دیتاہے ،
    درحقیقت اسلام تنہا عورت کو دیکھ کے بھوکے کتوں کی طرح لپکنے کا نہیں بلکہ نگاہ جھکا کہ راستہ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے ۔اگر اس تمام واقعہ کو سچ مان بھی لوں تو میرا دل نہیں مانتا کہ اتنے ہنجوم میں کسی کی ماں بہن بیٹی کو ان حالات میں پہنچاتے کسی ایک شخص کو بھی اپنے گھر میں موجود عورتوں کا خیال نہیں آیا ہوگا ،ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ان گِدھوں کی بھیڑ میں کسی ایک کو بھی اپنے ایمان کا خیال نہیں آیا ،اسکی چینخیں سنتے ہوئے ،ویڈیوں بناتے ہوئے مکافات عمل کے ڈر نے کسی ایک کے قدموں کو زنجیر نا کیا ہو ؟
    عام کہاوت ہے کہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح وہاں موجود تمام مرد کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں ،اگر اس ملک میں جگہ جگہ بھیڑیے گھات لگائے بیٹھے ہیں تو وہیں کچھ نیک لوگ بھی موجود ہیں جن کی بدولت یہ ملک قائم و دائم ہے
    آج یہ ایک واقعہ ہے لیکن اگر ٹک ٹاک جیسی فضولیات پہ پابندی نہیں لگائ جاتی ،والدین اپنی اولاد کو اس گھٹیا فعل سے نہی روکیں گے اور سارا الزام ریاست کے سر ڈالتے رہیں گے تو کل کئ عائشہ اور حریم شاہ ہونہی سر بازار اپنی اور مملکت خدادا اس سوھنی دھرتی کی عزت تار تار کرتی رہیں گی اور ان میں سے کوئ آپ کی بیٹی ہوگی تو کوئ بہن تو کسی کہ آپ شوہر ہونگے تب آنسو نا بہائیے گا ، بس پاکستان اور عمران خان کو قصور وار ٹھرائیے گا اور تمام عمل کا اسی طرح دفاع کیجیے گا ۔
    اس طرح کے فیک پراپگینڈے کی وجہ سے وہ تمام عورتیں جو واقع مظلوم ہوتی ہیں جن کے ساتھ واقع زیادتی ہوتی ہے وہ اپنا کیس لڑنے سے پہلے ہار جاتی ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنا وقار مجروح نا کریں نا کسی دوسرے کو اس کی اجازت دیں
    حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیق کریں اور اس میں ملوث تمام لوگوں کو لڑکی سمیت کڑی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کی جرات نا ہو کہ وہ زاتی مفادات کی خاطر ملک پاکستان کا نام خراب کرنے کا ناپاک خیال بھی اپنے دل میں لائیں ۔
    @_Ujala_R