Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • تکمیل خواب ابھی باقی ہے. تحریر :عائشہ اسحاق

    تکمیل خواب ابھی باقی ہے. تحریر :عائشہ اسحاق

    یہاں ذکر کسی ایسے خواب کا نہیں جس میں کوئی عاشق اپنے محبوب کے دیدار کا طلبگار ہو بلکہ یہاں شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے اس عظیم خواب کے متعلق بات کی جا رہی ہے جو بظاہر مکمل ہونے کے باوجود بھی ادھورا ہے ہم آج تک یہی سنتے پڑھتے اور فخر انداز میں اپنی نسلوں کو بتاتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائد اعظم کی ان تک کوششوں نے اسے تعبیری شکل دی بلاشبہ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن ہم اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ خواب اقبال کا مقصد کیا تھا؟ اس میں چھپا راز کیا تھا؟علامہ اقبال کے خواب کا مقصد محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا نہ تھا بلکہ ایک ایسی ازادانہ ریاست کا حصول تھا جو مسلمانوں کے تابناک مستقبل کی ضمانت اور امن کا گہوارہ تھی چونکہ اس وقت مسلمان نہایت پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور اور ظلمت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے، لہذا شاعر مشرق نے اپنی پرایمان شاعری کلام اور تصانیف کی بدولت مسلمانوں میں جذبہ ایمانی اور بیداری کی نئی روح پھونکی۔

    قائد اعظم نے بھی جب مسلمانوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم اور غلامانہ زندگی گزارتے دیکھا تو ان کے لیے الگ وطن حاصل کرنے کا مطالبہ کیا شاعر مشرق کی شاعری مسلمانوں میں جوش ولولہ پیدا کرنے میں اتش فشاں ثابت ہوئی قائد اعظم کے دن رات کی محنت انکن اور سینکڑوں قربانیوں کے بعد بالاخر الگ وطن حاصل کرنے میں کامیابی ملی جو بلاشبہ تاریخ میں لکھی جانے والی مسلمانوں کی عظیم فتح ثابت ہوئی۔مگر وقت کا پہیہ چلا دشمنوں نے دم سادنا شروع کیا اور نئی سازشیں پنپنے لگیں ریاست پاکستان سے کچھ ضمیر فروشوں نے دشمنوں کے ہاتھوں محض چند روپوں کی خاطر اپنے ایمان بیچ ڈالے اور صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر دشمنوں کی غلامی قبول کر لی یہی ضمیر فروش پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے گرہن ثابت ہوئے اور نتیجہ تن مسلمان الگ آزاد وطن حاصل کرنے کے باوجود بھی اسی ذلت غلامی گمراہی اور بدحالی کے اندھے کنویں میں جا گرے جس سے چھٹکارا حاصل کیا تھا۔وہ ریاست جہاں اقبال کی شاہینوں نے فلک تک اڑان بھرنی تھی اپنی خودی کو پہچاننا تھا اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے پوری دنیا میں لوہا منوانا تھا کائنات کو مسخر کرنا تھا اور ترقی کی نئی نئی منزلیں طے کرنی تھیں اسی ریاست میں اقبال کے شاہینوں کے پر نوچ لیے گئے ان کی ذہانت وہ بصارت کی تیزی پر سیاہ پٹی باندھ دی گئی اور وہی غلامانہ شکنجے میں جکڑ دیا گیا اور گمراہی کے اندھیرے راستوں پر بھٹکا دیا گیا کہ انہیں اپنی تباہی کا احساس تک بھی نہیں ہونے دیا جا رہا ہے، ترقی کی منزلیں طے کرنا تو دور کی بات ہے مفلوج نظام کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگ آے راشن کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد ایک تھیلا آٹا حاصل کر لینا ہی اپنے لیے کامیابی سمجھتے ہیں بے نظیر انکم سپورٹ احساس پروگرام اور دیگر خیراتی فنڈز کے حصول کے لیے یونین کونسل کے متعدد چکر لگانا اور کچھ ہزار روپے حاصل کر لینا بھی آج کے مسلمانوں کی جیت ہے جبکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ غریب عوام ان کے حصول کے لیے ابھی نہیں جانتا اوپر لگا رہے ہیں جیسا کہ میرپور میں آے کا تھیلا حاصل کرنے کے لیے ایک شخص اپنی جان سے ہاتھوں بیٹھا اور یہ واقعہ پر نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایسے کی افسوسناک واقعات رونما ہو چکے ہیں کہیں کوئی خاتون اور کہیں کوئی بچہ محض آے کا تھیلا راشن یا چند خیراتی روپیہ حاصل کرنے کی غرض سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو پسماندگی کی انتہا ہے صبح سے شام تک لمبی لمبی قطاروں میں لگے رہنا اور دھکے کھانے کی جو اذیت اور خواری ہے اس کا تو پوچھیے ہی مت۔

    بات یہاں ختم نہیں ہوتی اقبال کے شاہین اعلی تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی اسی خواری کا سامنا کرتے ہیں جو آٹے راشن کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے کسی ملازمت کے حصول کے لیے فارم بھرنے سے شروع ہونے والا سفر انٹرویو کے لیے کئی گھنٹے انتظار اور متعدد ٹیسٹوں سے گزرنے کے بعد ناکامی پر اختتام پذیر ہوتا ہے کیونکہ اعلی ملازمتوں کا کوٹا آتے ہی بااثر لوگوں کے عزیزوں اور رشتہ داروں یا چیلے چمچوں کی ملکیت بن چکا ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے باصلاحیت پڑھے لکھے نوجوان رکشہ چلانے ریڈی ٹھیلے لگا کر اپنا پیٹ پالنے کے علاوہ کسی ادارے میں چپڑاسی یا چوکیدار بننے پر مجبور ہے غربت بے روزگاری بھوک اور فلاس کا عالم یہ ہے کہ اکثریت لاشعوری اور گمراہی کے راستوں پر چلتے ہوئے سٹریٹ کرائمرز بن چکے ہیں اور انہیں بھٹکے ہوئے لوگوں کا بھرپور استعمال بڑے بڑے گینگز کے سرغنے منشیات فروش اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ بخوبی کر رہے ہیں۔بے بس اور مجبور لوگ اپنے اور اپنے بچوں کی بہتر مستقبل کی خاطر اور حصول پیسہ کی خاطر غیر قانونی طور پر ڈنکی لگا کر یورپ جانے کو ترجیح دے رہے ہیں یہ وہ مجبور طبقہ ہے جو انسانی سمگلنگ کرنے والے گروہوں کے ہاتھ چڑھ کر اپنی جا نوں کو سمندر کی بے رحم موجوں کے حوالے کر رہا ہے حالیہ پیش انے والے تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے والے واقعات میں زیادہ تر تعداد پاکستانیوں کی ہی پائی جا رہی ہے جو نہایت افسوسناک ہے۔اس کے علاوہ غربت کے مارے لوگ زہریلی گولیاں کھا کرنے پنکھے سے جھول کر نہروں میں کود کر اپنی زندگیوں کے چراغ گل کر رہے ہیں۔یہ ہے آزاد خود مختار ریاست کے مسلمانوں اور اقبال کے شاہینوں کی بدحالی کی داستان جسے پڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کا خواب ظاہر مکمل ہو کر بھی ادھورا ہے اور تکمیل خواب ابھی باقی ہے۔مزید لمحہ فکر یہ بھی ہے کہ جس طرح حکومت پاکستان سکولوں اور ہسپتالوں کی نجکاری کر رہی ہے اس سے پیدا ہونے والے مسائل عام عوام کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوں گے غریب عوام صحت کے سہولیات جو پہلے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ان سے بھی محروم ہو جائیں گے اور سکولوں کے پرائیویٹ ہونے سے شرع نا خواندگی میں خوفناک حد تک اضافہ ہونے کا امکان ہے یہ وہ دلدل ہے جس سے اپ عوام کا نکلنا نہایت مشکل ہو جائے گا تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم کر کے جہالت کے وہی اندھیرے میں دھکیلنے کی سازش جڑ پکڑ چکی ہے۔

    پہلے ہی دشمن ضمیر فروشوں اور مفاد پرست غدار وطن ٹولے کی بدولت عوام کے ذہنوں اور ان کی سوچ کو قبضے میں لے چکے ہیں۔بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ ،آٹے کی قطاروں میں مفت راشن کے لیے سالوں سے ذلیل ہونے والی قوم یہ سوچنے سے قاصر ہے کہ آزادی ہی اصل زندگی ہے ابھی بھی وقت ہے ہمیں اپنے اور اپنی نسلوں کی بقا اور بہتر مستقبل کی خاطر متحد ہونا ہوگا ذرا سوچنے کی بات ہے جو لوگ غربت اور حالات سے تنگ آکر خودکشی کرنے اور حرام موت کو گلے لگانا قبول کر لیتے ہیں ،ڈنکی لگا کر سمندروں کی گہری تاریکی میں ڈوبنا گوارا کر لیتے ہیں، وہ لوگ اپنے حقوق کی خاطر کیوں نہیں متحدر ہو کر ظالموں کے خلاف کھڑے ہوتے یہ ذہنی غلامی ہے۔اس کی اصل وجہ وہ خوف ہے جس کی دھاک ایک مخصوص طبقے نے عام عوام کے دلوں پر بٹھا دی ہے۔اس کے علاوہ مایوسی اور دین سے دوری بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ اللہ واضح طور پر قران میں ہمیں مایوس ہونے سے منع فرماتا ہے۔یہ ظلم کے اندھیرے پھر سے چھٹ سکتے ہیں ذرا ہمت دکھانے کی دیر ہے مگر بات ہمیشہ کی طرح یہی اہم ہے کہ اس سب اقدامات کے لیے ہمارا متحد ہونا پہلی شرط ہے خدارا اقبال کے فلسفے کو سمجھیں اپنے اندر ایمان کا جذبہ پیدا کریں اور ان ظالموں کے ظلم سے چھٹکا رہا حاصل کریں اقبال کے خواب کی تکمیل ہم پر لازم ہے ۔جس دن شاعر مشرق کے شاہینوں نے اپنی اصل طاقت کو پہچانا اپنے ایمان کو زندہ کیا یہ وقت کے فرعون نست و نابود ہو جائیں گے تاریخ گواہ ہے کہ باطل مٹ کر رہتا ہے بس جذبہ ایمانی چاہیے اج بھی ظلمت کے گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے وسیع صاف و شفاف کھلا اسمان اور اجلی صبح ہماری منتظر ہے۔

  • خدمت خلق کے یہ جوان اور ہمارا فرض،تحریر: سعد فاروق

    خدمت خلق کے یہ جوان اور ہمارا فرض،تحریر: سعد فاروق

    پاکستان میں قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں کے دوران، جب بھی ہمیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تو کچھ لوگ ہمیشہ میدان میں آ کر اس کا حل بن جاتے ہیں۔ یہی وہ افراد ہیں جو اپنی ذاتی اور جماعتی حیثیت سے ہٹ کر عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے خدمت خلق ونگ کے جوانوں کا کردار ایسے وقت میں خاص طور پر نمایاں ہوتا ہے، جب حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح سے نبھانے میں ناکام ہو جاتے ہیں، یا جب حکومتی ادارے آپس میں لڑتے ہیں اور سیاسی مفادات میں الجھتے ہیں۔ ان جوانوں نے متاثرہ علاقوں میں ریلیف، ریسکیو اور آبادکاری کے کاموں میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ جوان اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ جیسے علاقوں میں پہنچتے ہیں، جہاں ان کے دفاتر پناہ گاہوں میں بدل جاتے ہیں، اور عوامی مسائل کے حل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

    ان رضاکاروں کا جذبہ ہمیشہ سے ہی جرات مندانہ رہا ہے۔ ان کا مقصد عوامی خدمات کو بے لوث انداز میں فراہم کرنا اور عوام کے دلوں میں محبت اور احترام پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ان کے لیے حکومت یا جماعتوں کا سیاسی مفاد کوئی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ ان کی ترجیح صرف عوام کی خدمت ہوتی ہے۔ ان کی محنت کا کوئی لامتناہی تعارف نہیں، ان کی نظر میں انسانیت کا درد ہی ان کا نصب العین ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افراد ہر بحران میں اپنے عمل سے سرخرو ہوتے ہیں۔

    ان کی مدد سے متاثرہ افراد کو نہ صرف فوری ریلیف ملا، بلکہ ان کے لیے پناہ گاہوں کا انتظام بھی کیا گیا۔ ان کے دفاتر اس وقت عوامی پناہ گاہ بن گئے، جہاں لوگوں کو راحت اور سکون ملا۔ یہ رضاکار ایک ایسے وقت میں لوگوں کے لیے سایہ بن گئے جب حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی تھیں، اور لوگ مختلف سیاسی دعووں کا شکار ہو رہے تھے۔ ان رضاکاروں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اصل خدمت کیا ہوتی ہے۔

    مزکزی مسلم لیگ کے نوجوانوں نے بتلا دیا کہ ہر انسان کو اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی مدد کرنی چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ سب کچھ کھو چکے ہوتے ہیں۔ یہ رضاکار اس بات کی مثال ہیں کہ ہم کس طرح اپنے قومی فریضے کو ادا کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے ایک بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ مل کر مصیبت زدہ اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں اور ان کے یتیم بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔ ان کی دعاؤں کے مستحق بنیں، اور ان کے دکھوں میں شریک ہوں۔ خدمت کی سیاست ہمیں بتاتی ہیں کہ سیاست یا حکومت سے زیادہ اہم ہماری انسانیت اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔

  • مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔ مگر زندگی کا محافظ یہ پانی، خیبر کے لوگوں کےلیے زندگی کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہو رہا ہے۔ خوبصورت و دلنشیں گھاٹیاں اس وقت غم اور پانی دونوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بارش کا زور ایسا تھا کہ پہاڑ جیسے لرز کر مٹی مٹی ہوگئے۔ لمحوں میں بستیاں اجڑ گئیں۔ وہ گھر جو کسی مزدور نے کئی برسوں میں چاہت و محبت اور خون پسینے کی کمائی سے بنایا تھا۔ لمحوں میں مٹی کا ڈھیر بن گیا۔کہیں مائیں جگر گوشوں کو ڈھونڈ رہی ہیں، تو کہیں دُودھ پیتا بچہ ماں سے زیادہ بھوک سے تڑپ رہا ہے۔ کوئی پیٹ بھرنے کی تگ و دو میں پانی کے پیٹ میں جا گرا ہے، تو کوئی زخمی ماں کےلیے دوا دارو لینے گیا، لاش بن کر لوٹا ہوگا۔
    یہ قدرتی آفات ہمیشہ ہمارے ظرف کا امتحان لیتی ہیں۔ حکومتیں حرکت میں آئیں، فوج نے ہیلی کاپٹروں سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریسکیو 1122 کے جوانوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر زندگیاں بچائیں، اور پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ اور سیکڑوں ٹن راشن عطیہ کیا، میڈیکل کیمپ لگے، مگر ایسے وقتوں می ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ درد دل والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

    مجھے خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی،جب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو اس کڑی آزمائش میں سرگرداں پایا۔ اس جماعت کا نام برسوں سے سن رکھا تھا، مگر چند ماہ قبل ایک نیوز چینل کے دفتر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے ایک ملاقات ہوئی، تو مرکزی مسلم لیگ کے بارے مزید جاننے کا تجسس ہوا۔ ڈیجیٹل ریسورسز سے معلومات نے اس جماعت کا ایک اور رخ میرے سامنے کھول دیا کہ یہ صرف سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فلاحی قافلہ ہے، جو مشکل وقت میں خاموش تماشائی نہیں بنتا۔ آج جب خیبر پختونخوا کے لوگ مشکل سے دو چار ہیں،تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنی اعلیٰ قیادت کے ہمراہ آن گراؤنڈ مدد کےلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔مینگورہ کا آدھا شہر جب پانی میں ڈوبا تو کئی کئی فٹ پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔ لوگ کھلے آسمان تلے یا چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور تھے۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیمیں وہاں لوگوں کو کھانا اور طبی امداد فراہم کرنے جا پہنچیں۔ بونیر، سوات، شانگلہ اور باجوڑ تک امدادی کیمپ پھیل چکے ہیں۔ بطور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ محمد عبداللہ کی فیس بک وال، کئی برسوں سے سامنے آرہی ہے۔ یہ نوجوان آج کل مرکزی مسلم لیگ خیبرپختونخوا کا ترجمان ہے، ان کی وال پر مرکزی مسلم لیگ کی خواتین اور بچیوں کو فلاحی کاموں میں مصروف دیکھ کر حیرت و خوشی ہوئی۔ سینکڑوں نوجوان دن رات ملبہ صاف کرتے، راشن بانٹتے، گھروں سے کیچڑ نکالتے دکھائی دیے۔ ان کے پاس سیاسی نعرے نہیں تھے، بلکہ آنکھوں میں خدمت کا جذبہ تھا۔حیرت زدہ ہوں کہ نوجوان کس طرح رب کی رضا کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ ہاتھ جو کل شاید موبائل پر سوشل میڈیا چلا رہے تھے، آج وہی ہاتھ آج ملبے صاف کر رہےہیں۔ وہ پاؤں جو کل کسی ریلی میں شریک تھے، آج سیلابی پانی میں گھٹنوں تک دھنسے دکھائی دیتے ہیں۔ شکریہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، مگر اب ہمیں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے سنجیدہ رویہ اپنانا ہوگا،ورنہ روز میرے ملک کا کوئی نہ کوئی حصہ ڈوبتا، اور مرتا رہے گا۔

  • خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا کے سرسبز وادیوں کا دل مینگورہ، آج ایک المیہ کی تصویر پیش کر رہا ہے، حالیہ دنوں میں آنے والے شدید سیلاب نے علاقے کو بدترین تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ لوگوں کے گھر، کاروبار، خواب اور زندگی کی ساری رونقیں پانی میں بہہ گئیں۔مینگورہ شہر کا نصف حصہ زیرِ آب آ چکا ہے۔10 ہزار سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔گھروں اور دکانوں میں دس دس فٹ پانی داخل ہوا، جس کے بعد گارا اور کیچڑ نے علاقے کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا۔ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی معطل ہے، جبکہ خوراک اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہے۔ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے فوری اور منظم امدادی سرگرمیاں شروع کیں،مرکزی مسلم لیگ نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوراً مینگورہ، بونیر، سوات اور گرد و نواح کے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے۔ ان کیمپوں کے ذریعے روزانہ دو ہزار سے زائد افراد کو پکا پکایا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔خواتین، بچوں اور بزرگوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔سیلابی پانی کے باعث علاقے میں الرجی، جلدی امراض اور سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے مفت میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔ماہر ڈاکٹرز اور نرسز پر مشتمل طبی ٹیمیں مختلف شہروں سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں۔اب تک ہزاروں مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں۔متاثرین کو پلاسٹک کی چادریں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ بارش سے وقتی پناہ لے سکیں۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اب تک 500 سے زائد خاندانوں میں خشک راشن (آٹا، چاول، دالیں، چینی، گھی وغیرہ) تقسیم کیا جا چکا ہے۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بچوں کے لیے دودھ، بسکٹس اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم خود مینگورہ میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وقت خدمت کا ہے، سیاست کا نہیں۔ ہمارا مشن ہے کہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف دیا جائے اور ان کی زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے ،مرکزی مسلم لیگ کے ہزاروں نوجوان، مرد و خواتین، بزرگ اور طبی عملہ رضاکارانہ بنیادوں پر سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہیں۔ وہ گھروں سے کیچڑ نکالنے میں مدد دے رہے ہیں۔متاثرین کو نفسیاتی سہارا اور حوصلہ فراہم کر رہے ہیں۔صفائی ستھرائی، پانی کی نکاسی اور بیماریوں کی روک تھام کے کاموں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔لیکن افرادی قوت کی مزید ضرورت ہے، کیونکہ ہر متاثرہ گھر کو دوبارہ رہنے کے قابل بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ وقت سیاست، قومیت یا مسلک کے فرق کا نہیں، بلکہ انسانیت کے ناطے ایک ہونے کا ہے۔ سیلاب متاثرین آج ہماری مدد کے منتظر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والی تنظیموں کی مدد کریں،مالی، طبی یا رضاکارانہ خدمات پیش کریں،سوشل میڈیا پر آگاہی پھیلائیں،دعاؤں کے ساتھ عملی مدد کا بھی مظاہرہ کریں

    مرکزی مسلم لیگ نے مینگورہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی سرگرمیوں سے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو کسی بھی آفت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ جنگ صرف ایک جماعت یا تنظیم کی نہیں، ہم سب کی ہے۔

  • پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا

    پاکستان ہمیشہ زندہ باد .تحریر۔ بنت حوا

    آج فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک بیان نظر سے گزرا جو کہ 14 اگست کے دن کی مناسبت سے پیغام تھا

    "پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کا مظہر بھی ہے، مذہبی اقلیتیں آج بھی ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔”فیلڈ مارشل عاصم منیر

    اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ پاکستان میں ہر مذہب کے لوگوں کو تحفظ حاصل ہے لیکن یہاں مسلمانوں کو خاص کر اہل تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے کی آزادی نہیں بلکہ اہلِ تشیع کو اپنے عقیدے کے مطابق اجتماع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کے پی کے سے لے کر پنجاب تک اربعین واک اور دیگر علامتی اجتماعات پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ ایک طرف داتاصاحب کے عرس مبارک پر ہماری سی ایم صاحبہ کا بیان کہ زائرین کو ہر طرح سکیورٹی فراہم کی جائے اور سبیلیں اور لنگر نیاز دیئے جائیں نے عجیب کیفیت کر دی ،ایک طرف ہماری سی ایم بزرگان دین اللہ کے ولی کے زائرین کے لئے ایسا حکم دے رہی اور دوسری طرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زائرین کی علامتی اربعین واک پر پابندی عائد کردی جاتی ہے اور مسافروں کو کھانا اور سبیل اور پانی دینے والوں کو سخت کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہےواک کا آغاز کرونا کی وبا کے وقت ہوا اور چہلم امام حسین علیہ السلام پر جو لوگ نجف سے کربلا جانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ عشق حسین میں یہاں پر ہی پیدل چل کر ضریح عباس،ضریح حسین علیہ السلام پر حاضری دیتے اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں
    یہ نہ تو سیاسی جلوس ہوتا اور نہ ہی اس میں بد امنی ہوتی ہے
    ہر زائر کے لبوں پر صرف عشق حسین علیہ السلام کےاس طرح کے نعرے ہوتے
    "ہے ہماری درسگاہ،کربلا کربلا ”
    لبیک یا حسین علیہ السلام
    سلام شہنشاہ وفا
    جو نہ تو کسی کی دل آزاری کرتے اور نہ ہی کسی کے خلاف بلکہ انسانیت اور وفا کی علامت ہیں لیکن سلام ہے ہماری صوبائی حکومت خاص کر ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی اور ہماری سی ایم صاحبہ پر اور ضلعی انتظامیہ چکوال پر جنھوں نے پیدل چلنے والے افراد کے خلاف دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا اور کنٹینر لگا کر رستے بلاک کئے اور ٹریفک بلاک کر دی گئی لیکن وہ بھول گئے کہ ایسے اقدامات سے سفر عشق کے مسافر رکتے نہیں اور زائرین کا سفر رکا نہیں لیکن مریضوں اور دوسرے لوگوں کے لئے زندگی مشکل ضرور بن گئی

    ضلعی انتظامیہ چکوال کی کیا بات ہے 12 سے 15 اگست 144 کا نفاذ ہوتا ہے وہ بھی صرف اربعین واک پر باقی پوری تقریبات کو آزادی تھی خود 144 لگا کر پبلک ایونٹ محفل موسیقی پروگرام ہوتا ہے ،13 اگست کو ہی کریالہ کے مقام پر کبڈی میچ ہوتا ہے 14 اگست کھوکھر زیر کبڈی میچ کا انعقاد ہوتا ہے لیکن نہ تو "انصاف پسند "ڈی پی او چکوال اور نہ ہی ڈی سی صاحبہ کو خلاف ورزی نظر آتی ہے ۔زائرین کے لئے پانی اور کھانا دینے پر پابندی ہوتی ہے اور جگہ جگہ زائرین کو کھانا دینے والوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور ایک زائر کے گھر سے پکی ہوئی دیگیں اٹھا کر اپنے مہمانوں کو کھلادی جاتی ہیں

    یہ دوہرا معیار کیوں؟ اگر ہمارے اعلی حکام کو سمجھ لگتی تو اربعین واک سے بہت سے لوگوں کو معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے

    لنگر،فروٹ،خشک میوہ جات،پیکٹ والی اشیاء،دودھ دہی غرض ہر طرح کی اشیا خوردو نوش کی خریداری پر فائدہ ہی تھا نقصان نہیں لیکن یہاں دوہرا معیار ہے اس سے نقصان کس کا ہوا ؟حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کے امیج کا کیونکہ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ایک طرف اجتماعات کو آزادی ہے اور دوسری طرف اہل بیت کے نام پر نکلنے والے مسافروں کو رکاوٹوں،کنٹینرز اور مقدمات کا سامنا ہے تو پھر مثبت سوچ نہیں رکھی جا سکتی
    اگر ریاست واقعی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی چاہتی ہےاور پاکستان کو پر امن،ہم آہنگی،اور یکجہتی کا مرکز دیکھنا چاہتی ہے اسے تمام مسالک،ہر عقیدے کے ساتھ برابری کا رویہ اور یکساں سلوک اپنانا ہوگا بصورتِ دیگر یہ دوہرا معیار نہ صرف عوام کے اعتماد کو کھوکھلا کرے گا بلکہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرے گا اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے گا
    پاکستان کو زندہ باد کہنا آسان ہے، مگر اس نعرے کو حقیقت بنانے کے لیے تلخ حقائق کا سامنا کرنا اور انصاف کے ترازو کو برابر رکھنا ناگزیر ہے۔

    سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

  • کیا مسائل کا حل خود کشی ہے .تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    کیا مسائل کا حل خود کشی ہے .تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ہمارے معاشرے میں اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہزاروں کیس ایسے ملیں گے جنہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔اپنی ہی زندگی کو اپنے ہی ہاتھوں سے ختم کرنے کے پیچھے کیا مسائل ہو سکتے ہیں ۔آج کل نوجوان نسل جس میں بالکل برداشت ختم ہو گئی ہے ۔محبت اور عشق کے پیچھے اپنے جانوں کو ہی اپنے ہاتھوں سے ختم کر رہے ہیں ۔دوسری بڑی وجہ گھریلو مسائل بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر خاص کر نوجوان نسل مسائل کے حل کے لیے واحد خودکشی کا راستہ اپنانا شروع ہو گئے ہیں ۔کیا ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں کا دست بازو نہیں بن سکتا جو گھریلو مسائل بے روزگاری تنگ دستی کی وجہ سے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر رہے ہیں۔خدارا اپنے ارد گرد نظر رکھیں ایسے لوگوں کا دست بازو بنے ۔

    گزشتہ دنوں ہمارے شہر پیرمحل میں بھی ایک ایسے نوجوان نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔جس کا تعلق غریب گھرانے سے تھا۔اس نوجوان کا نام عدنان تھا جو فٹ بال کا پلیئر تھا جو گھریلو مسائل کا شکار تھا اس کے قریبی دوستوں سے پتہ چلا کہ وہ فٹ بال کھیلنا چاہتا تھا لیکن گھر والے اس کو کام کرنے پر فورس کرتے تھے ۔ظاہری بات ہے کہ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا اچھے کام پر لگ جائے روزگار کمانا شروع کر دے ۔لیکن عدنان کافی دنوں سے ڈپریشن کا شکار تھا ۔بس اس نے زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔جب اس کی موت کی خبر سنی تو یقین جانیے کہ رونگٹے کھڑے ہو گئے اور دل بہت افسردہ تھا ۔کہ ہمارے نوجوانوں کو کیا ہو گیا ہے ۔کیا مسائل کا حل خودکشی ہی رہ گئی ہے کیا اس کے بغیر مسائل کو شکست نہیں دی جا سکتی ۔بحیثیت مسلمان ہمیں بھی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے ۔اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں مزہ تو تب ہے اگر دوسروں کے لیے جیا جائے ۔

    اسلام میں خود کشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خودکشی کرنے والے کا نماز جنازہ بھی نہیں پڑھایا ۔
    "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمايا: جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پي كر اپنے آپ كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا۔

    ناامیدی اور امید ایک ساتھ جڑے دو راستے ہیں، جس میں سے امید کا انتخاب خدا کے وہ بندے کرتے ہیں جنہیں اس پر بھروسہ ہوتا ہے۔ زندگی کا سفر چاہے کتنا ہی دشوار ہو ان کی آخرت سنور جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ناامیدی میں خودکشی کا حرام راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ نا تو زندگی کو صحیح طور گزار پاتے ہیں بلکہ اپنی آ خرت بھی تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔
    ان معمولی پیار،عشق اور محبت کی باتوں اور گھریلو مسائل کو سر پر سوار کرکے زندگی کے مقصد کو بھلا دینا سب سے بڑی ناکامی ہے۔
    زندگی خدا کا دیا ہو انمول تحفہ ہے جس کی قدر نا کرنا خدا کی قدرت سے منحرف ہونا ہے۔ میری تو والدین سے صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی خوشیوں کا خیال رکھیں۔

  • خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش تبدیلی کا سفر،تحریر: اقصیٰ جبار

    ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ بگڑ چکا ہے، لوگ خود غرض ہو گئے ہیں، رشتے بے معنی ہو چکے ہیں، تعلیم صرف ڈگری کی حد تک رہ گئی ہے، عبادات رسم بن چکی ہیں، اور محبت ایک سودا بن کر رہ گئی ہے۔ یہ تمام مشاہدات کسی حد تک درست بھی ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو دہرا کر آخر حاصل کیا کرتے ہیں؟ کیا یہ مسلسل دہرانا دراصل ہماری اپنی بے بسی اور داخلی مایوسی کا اظہار نہیں بن چکا؟

    درحقیقت تبدیلی کبھی شور و غوغا سے نہیں آتی۔ وہ ایک خاموش، مسلسل، اور اندرونی سفر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ تاریخ کے بڑے انقلابات نعروں یا ہتھیاروں سے نہیں، نظریات، کردار اور حسنِ عمل سے وجود میں آئے۔ ہمیں یہ سوچنے کی اشد ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو بہتر بنا لیں، تو کیا معاشرہ ویسا ہی بگڑا ہوا رہے گا جیسا ہمیں دکھائی دیتا ہے؟ شاید نہیں۔

    اگر ایک چراغ جلایا جائے تو اندھیرے کو چیرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذات کے اندھیروں کو پہچان کر اُن سے نبرد آزما ہو، تو مجموعی ماحول خودبخود روشن ہونے لگتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم روشنی پیدا کرنے کے بجائے صرف اندھیروں پر گفتگو کرنے کو "شعور” سمجھ بیٹھے ہیں۔

    ہم دوسروں کی غلطیوں، لغزشوں، اور کمزوریوں پر بڑی روانی سے بولتے ہیں، مگر کیا کبھی خود پر سوال اٹھایا؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہم دوسروں کو معاف کرنے کے بجائے، ان کی ایک خطا کو ان کی مکمل شناخت کیوں بنا لیتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ خود احتسابی کا راستہ سب سے مشکل مگر سب سے مؤثر ہوتا ہے۔

    تبدیلی کی پہلی اینٹ اپنے اندر جھانکنے سے رکھی جاتی ہے۔ خاموشی سے، بغیر کسی اعلان کے، اپنی سوچ، اپنے عمل اور اپنے رویے کا محاسبہ کیے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ یہ مان لینا ہی پہلا قدم ہے کہ ہم سب سیکھنے کے عمل میں ہیں، کوئی کامل نہیں۔ جب ہم خود میں بہتری کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسروں کو بھی بہتر دیکھنے کی امید جاگنے لگتی ہے۔

    کسی کو نصیحت کرنے سے پہلے اُس کی حالت کو سمجھنا سیکھنا چاہیے۔ ہر انسان ایک مکمل کہانی ہے، ایک مکمل جہان — جسے سمجھے بغیر دی جانے والی کوئی بھی نصیحت، چاہے وہ کتنی ہی سچ کیوں نہ ہو، بے اثر ہو جاتی ہے۔ اصلاح کے سب سے مؤثر ذرائع خلوصِ دل، نرم گفتگو، اور حسنِ سلوک ہیں۔

    عبدالستار ایدھی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی طعنہ — صرف کردار کی روشنی۔ ان کے خاموش عمل نے ہزاروں زندگیاں بدل ڈالیں۔ ایسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صرف الفاظ کافی نہیں، بلکہ عمل ہی اصل ترجمان ہوتا ہے۔

    آج کے بچے کل کے رہنما ہیں۔ مگر یہ رہنمائی صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ ماحول، رویوں، اور مشاہدات سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نئی نسل ایماندار، بااخلاق اور نرم خو ہو، تو ہمیں خود اپنی زندگیوں میں سادگی، احترام اور دیانت داری کو اپنا معمول بنانا ہوگا۔

    سوشل میڈیا کے شور میں ہمیں لگتا ہے کہ صرف بڑی باتیں اور وائرل جملے ہی تبدیلی لا سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا عمل، جیسے کسی غم زدہ دل کی خاموش دلجوئی، کسی تھکے چہرے پر مسکراہٹ، یا کسی الجھے ذہن کے لیے ایک مثبت لفظ — یہ سب تبدیلی کی وہ چنگاریاں ہیں جو اگر بھڑک اٹھیں تو انقلاب بن سکتی ہیں۔

    ہمیں ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو چیخے نہ، صرف جئیں؛ جو نصیحت نہ کریں، مگر زندگی میں ایسی سادگی، نرمی، اور سچائی لے آئیں کہ لوگ ان کو دیکھ کر خود اپنی اصلاح کا سفر شروع کر دیں۔

    ہمیں اپنے رویّوں، لہجوں، گفتگو اور سوچ کے زاویوں پر نظرثانی کرنی ہو گی۔ اصلاح کا راستہ بلاشبہ طویل اور مشکل ہے، مگر یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں محبت الزام سے بالاتر ہو، رشتے مفاد سے آزاد ہوں، اور اخلاق کسی رسم کا محتاج نہ ہو۔

    آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہو گا کہ:
    "اصلاح ایک آواز نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔”
    اگر ہم اسے خاموشی سے اپنا لیں تو تنقید کے بغیر بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

  • خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    خواتین کی نازیبا ویڈیو،قانون کے رکھوالے درندے کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں،
    کیا مقدمہ درج کرنے سے انصاف مکمل ہوگیا،سخت احتساب کرنا ہوگا
    راولپنڈی کے بڑے کہاں سو گئے،فون کال لینا بھی گوارا نہیں کرتے
    نازیبا ویڈیو کس کو دی گئیں معاملے کی تہہ تک جانا ہوگا کیاشہیدوں کے شہر کی خواتین معاف کریں گی؟
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلوچستان کے ایک سردار کی عدالت کے فیصلے پر خاتون کے بارے میں ابھی سینہ کوبی کر رہے تھے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے 30 کلومیٹر شہر گوجرخان جس کو شہیدوں اور غازیوں کا درجہ حاصل ہے وہاں کی سینکڑوں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے پولیس اہلکار اور ایک ٹیچر کو بلیک میل کرنے والے پولیس اہلکار کی دو ایف آئی آرز سامنے آنے پر سر شرم سے جھک گیا پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی پولیس کے اعلی افسران جو کسی نہ کسی اعلی شخصیت کی سفارش پر تعینات ہیں ایک سوالیہ نشان ہے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان بلا شبہ پولیس اور عوام کے درمیان دوستی کا رشتہ بنانے کے لیے لاتعداد اقدامات کر رہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز بھی روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کر رہی ہے حیرانگی اس بات پر ہے کہ جس ہسپتال میں یہ شرمناک واقعہ ہوا اس ہسپتال میں 32 سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں کہا جاتا ہے کہ 26 کیمرے عرصہ دراز سے خراب ہیں اور چھ عدد کیمرے ٹھیک ہیں ضلعی ہیلتھ افسران پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ کس قدر ذمہ دار ہیں اور اپنی وزیراعلی کے حکم پر وہ کس قدر عمل کرتے ہیں،

    مقامی پولیس کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے شام کو جیل بھیج دیا تفتیش کرتے کہ وہ اہلکار عورتوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر اتنی بڑی تعداد میں کس کو دیتا تھا؟ کوشش کے باوجود کہ آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کا اس سلسلے میں موقف لیا جائے لیکن دونوں ذمہ داران افسران فون کال ہی کسی کی نہیں سنتے تاہم نہ جانے راولپنڈی کو کس کی نظر کھا گئی جرائم کے حوالے سے بھی راولپنڈی کی خبریں اعلی پولیس افسران کے لیے سوالیہ نشان ہیں؟ اگر گوجرخان کے اس شرمناک واقعہ کو لے کر ایف آئی اے سائبر کرائم وزیراعلی پنجاب سپریم کورٹ آف پاکستان دیگر ذمہ داران ریاست کو نوٹس لینا چاہیے اس تحصیل کی ماؤں نے ملک و قوم کی خاطر اپنے بیٹوں کو شہید کروایا اور شہید ہو رہے ہیں کیا اس کا صلہ یہ ہے کہ اس تحصیل کی ماؤں بیٹیوں کی نازیبا ویڈیو بنائی جائیں؟ وہ بھی ایک سرکاری ہسپتال میں جو علاج معالجہ کے لیے دور دراز دیہات سے گوجرخان شہر کے سرکاری ہسپتال کا رخ کرتی ہیں.

    افسوس صد افسوس اس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی اور متعلقہ ضلع کے ڈاکٹرز کی زیر نگرانی نہیں ہونی چاہیے سی ایم پنجاب انکوائری ٹیم دوسرے اضلاع کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے ڈاکٹرز کی تشکیل دے کر صاف اور شفاف انکوائری کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں محکمہ پولیس راولپنڈی کے اعلی افسران اور محکمہ ہیلتھ کے افسران کہ اس دلخراش واقعہ کو لے کر بقول شاعر
    یہ سارے پارسا چہرے میری تسبیح کے دانے ہیں
    نظر سے گرتے رہتے ہیں عبادت ہوتی رہتی ہے

  • میں خود معاشرہ ہوں

    میں خود معاشرہ ہوں

    "میں خود معاشرہ ہوں،مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں”
    تحریر:ملک ظفراقبال بھوہڑ
    آج ہم اپنے معاشرے کے وہ خدوخال آپ کے ذوقِ مطالعہ کے لئے رکھیں جو یقیناً آپ کو بھی اچھے لگیں گے مگر عملاً کچھ نہیں ہوگا کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں مگر اپنے گریبان میں جھانکنے سے گریزاں ہیں ۔جی ہاں یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ معاشرتی اصلاح کی راہ اسی وقت کھلتی ہے جب انسان اپنی ذات کا محاسبہ کرے، بجائے اس کے کہ ہر وقت دوسروں پر انگلی اٹھائے۔
    میں خود معاشرہ ہوں، مگر میں اپنی برائی چھپا کر دوسروں کی نشاندہی کرتا ہوں مگر ہمیں ضرورت کس چیز ہے۔

    خود احتسابی کی ضرورت . جواصلاح کی پہلی شرط
    ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بگڑ گیا ہے، لوگ برے ہو گئے ہیں، ایمانداری ختم ہو گئی ہے، اور اخلاقیات ناپید ہو چکی ہیں۔ لیکن یہ "معاشرہ” کون ہے؟ یہ لوگ کون ہیں؟ اگر ہم غور کریں تو جواب واضح ہے — "یہ معاشرہ میں خود ہوں، آپ خود ہیں، ہم سب ہیں۔”
    مگر سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کی برائیوں پر تو تنقید کرتے ہیں، مگر جب اپنی باری آتی ہے، تو ہم یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا دفاع میں آ جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کے جھوٹ، فریب، کرپشن، ریاکاری اور بدتمیزی پر تو چیختے ہیں، مگر اپنے جھوٹ، چغل خوری، حسد، بغض اور خود غرضی کو "چالاکی” یا "مجبوری” کا نام دے دیتے ہیں۔
    اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خود احتسابی کیا ہے
    اسلام نے فرد کو معاشرے کی اصلاح کا پہلا قدم قرار دیا۔ قرآن و حدیث میں بارہا "نفس کا محاسبہ” کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

    قرآن:
    "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ…”
    (سورۃ المائدہ: 105)
    ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنی ذات کی فکر کرو…”
    حضرت عمر بن خطابؓ کا قول:
    "اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے…”

    حدیث نبوی ﷺ:
    "مومن اپنی خطاؤں پر نگاہ رکھتا ہے، اور منافق دوسروں کی برائیاں تلاش کرتا ہے۔”
    دوسروں کی نشاندہی، اپنی برائی سے فرار ہے
    ہم دوسروں کو نصیحت کرنے کے شوقین ضرور ہیں، مگر خود عمل سے محروم ہیں
    ہم کہتے ہیں لوگ جھوٹ بولتے ہیں،
    مگر خود سچ چھپاتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں لوگ بدعنوان ہیں،
    مگر خود سفارش اور رشوت کو "ترجیحات میں شامل کرتے ہیں
    ہم کہتے ہیں قوم تباہ ہو رہی ہے،
    مگر خود وقت، بجلی، پانی، وسائل ضائع کرتے ہیں۔
    ہم کہتے ہیں: نوجوان بگڑ گئے ہیں،
    مگر ان کے سامنے ہم نے کون سی اچھی مثال قائم کی؟
    اصلاح کا آغاز خود سے تو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں

    اگر ہر فرد یہ سوچ لے کہ:
    مجھے سچ بولنا ہے، چاہے نقصان ہو
    مجھے اپنا وعدہ نبھانا ہے، چاہے مشکل ہو
    مجھے اپنے اندر کی کینہ پروری اور خود غرضی کو ختم کرنا ہے
    مجھے تنقید سے پہلے اپنا کردار درست کرنا ہے
    تو صرف ایک شخص کی اصلاح نہیں ہوگی، بلکہ ایک نیا معاشرہ جنم لے گا۔
    آئیں چند عملی قدم خود کو بدلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں

    روزانہ اپنا محاسبہ کریں:
    آج میں نے کیا غلط کام کیا؟ کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کوئی وعدہ توڑ تو نہیں دیا؟
    تنقید سے پہلے خود پر نظر ڈالیں۔
    جو بات میں دوسروں کو کہہ رہا ہوں، کیا وہ مجھ پر بھی لاگو ہوتی ہے؟
    سوشل میڈیا پر دوسروں کو نہیں، خود کو درست کریں:
    کسی پر تنقیدی پوسٹ لگانے سے پہلے سوچیں کہ میں خود کہاں کھڑا ہوں؟
    اپنے بچوں، شاگردوں یا کارکنوں کے سامنے اپنی اصلاحی مثال بنیں۔

    معافی مانگنا سیکھیں:
    اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ انسانیت کی معراج ہے۔
    ہم سب چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہو، لوگ نیک ہوں، جھوٹ، فریب، کرپشن ختم ہو۔
    لیکن اگر ہم خود کو تبدیل نہیں کرتے، اور صرف دوسروں کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں، تو یہ رویہ معاشرتی بگاڑ کو اور بڑھائے گا۔
    یاد رکھیں،
    "معاشرہ وہ نہیں جو ہم تنقید سے بدلیں، بلکہ وہ ہے جو ہم کردار سے سنواریں۔”

    لہٰذا، آئیں آج سے عہد کریں:
    "میں خود معاشرہ ہوں، اور تبدیلی کا آغاز میں خود سے کروں گا!”
    امید ہے آپ کو آج کا موضوع پسند آیا ہوگا اور تبدیلی بھی انشاء اللہ

  • جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    جب اسلام گواہ ہو، اور معاشرہ قاتل، تحریر؛ اقصیٰ جبار

    ہم ایک ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں نکاح، جو قرآن کی رو سے عبادت ہے، معاشرتی عزت کے "قانون” کے خلاف جائے تو جرم بن جاتا ہے۔ جہاں بیٹی کا مسکرانا گوارا ہے، مگر اس کا فیصلہ کرنا ناقابلِ برداشت۔ جہاں بیٹی کے ہاتھ میں اگر قرآن ہو بھی، تب بھی اس کے حقِ انتخاب پر گولی حلال اور محبت حرام سمجھی جاتی ہے۔

    حالیہ دنوں ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جس میں ایک جوڑے کو، جو مکمل شرعی نکاح کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے تھے، ایک قبائلی غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں خوشی کی تقریب کے بہانے بلایا گیا، مگر وہ دعوت کھانے کی نہیں تھی، وہ غیرت دکھانے کی تھی۔ قرآن کے سائے میں بندوقوں کے سامنے کھڑے کیے گئے ان دو انسانوں نے موت کو سامنے دیکھا، مگر پیچھے نہیں ہٹے۔ لڑکی کے ہاتھ میں قرآن تھا، اور زبان پر سکوت۔ اس نے بس اتنا کہا: "صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔”

    یہ جملہ فقط ایک جملہ نہیں تھا، یہ پوری صدیوں پر محیط خاموش چیخ تھی—اس چیخ سے بلند، جو مظلوم عورتوں نے آج تک کبھی نہ نکالی۔ لیکن جو نکاح کے دائرے میں اپنی مرضی سے جینا چاہے، اس کے لیے نہ چیخ کا حق ہوتا ہے، نہ رحم کی کوئی گنجائش۔

    ہمیں سوچنا ہوگا:
    اگر نکاح جرم بن جائے،
    اور محبت گناہ،
    تو پھر دین کی کون سی بنیاد سلامت رہے گی؟

    قرآن مجید سورۃ النساء کی تیسری آیت میں واضح ارشاد فرماتا ہے:
    "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم…”
    "نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں۔۔۔”

    یہ آیت دونوں فریقین کے انتخاب کی آزادی کو تسلیم کرتی ہے۔ نہ صرف مرد کو، بلکہ عورت کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ نکاح کے فیصلے میں اپنی پسند کو مقدم رکھے۔ یہ شریعت کا دیا ہوا اختیار ہے، نہ کہ کوئی مغربی نظریہ یا غیر شرعی دعویٰ۔ مگر افسوس، ہمارے قبائل، ہمارے معاشرتی ادارے، اور بعض اوقات ہمارے گھروں کے در و دیوار بھی اس اختیار کو بغاوت سمجھتے ہیں۔

    اصل مسئلہ غیرت نہیں، بلکہ اختیار کا ہے۔ عورت کے فیصلے کو تسلیم کرنا، ایک ایسی برابری ہے جو مردانہ انا کو قبول نہیں۔ اسی لیے جب کوئی عورت اپنی مرضی کا اظہار کرتی ہے، تو یہ "غیرت کے خلاف” گناہ قرار پاتا ہے۔ اور اس گناہ کا کفارہ صرف موت ہے—وہ بھی زندہ گواہیوں کے سامنے۔

    اسلام میں غیرت کا مفہوم عزت، حیاء، اور طہارت سے جڑا ہوا ہے۔ مگر ہم نے اسے بندوق، قتل اور دھمکی سے منسلک کر دیا ہے۔ غیرت اب ایمان کا جزو نہیں رہی، بلکہ مردانگی کے زخم پر رکھی جانے والی پٹی بن چکی ہے۔ جس کی تہذیب، تربیت اور تقویٰ سے کوئی نسبت نہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ صرف ایک بیٹی ماری گئی۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں قرآن کے ساتھ کھڑے ہونے والی کو گولی مار دی جائے، وہاں دین اور ظلم کا فاصلہ کتنا رہ جاتا ہے؟

    یہ قتل ایک لڑکی کا نہیں تھا—یہ قتل تھا اُس حق کا جو دین نے اسے دیا۔ یہ قتل تھا اُس قرآن کی سچائی کا، جسے اس نے اپنا محافظ سمجھا۔ یہ قتل تھا اُس اسلام کا، جس نے لڑکی کو دفن ہونے سے بچایا، مگر ہم نے اُسے نکاح کے بعد دفن کر دیا۔

    آج اگر ہم خاموش رہے، تو کل نہ صرف مزید بیٹیاں مریں گی، بلکہ اسلام کی روح، اس کی تعلیمات، اور اس کا پیغام بھی قاتلوں کی زبان پر رسوا ہوتا رہے گا۔

    وقت آ گیا ہے کہ ہم پگڑی بچانے کی غیرت کے بجائے بیٹی بچانے کی غیرت کو زندہ کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ قبیلے کی عدالت کے بجائے قرآن کی عدالت کو مانا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں—کیا ہم قرآن کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف؟

    اگر معاشرہ قاتل ہے،
    تو ہمیں گواہ بننا ہوگا—
    اسلام کے، انصاف کے، اور انسانیت کے۔