Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • گھر کے بزرگ رحمت سے کم نہیں ہیں  تحریر: زاہد کبدانی

    گھر کے بزرگ رحمت سے کم نہیں ہیں تحریر: زاہد کبدانی

    دادا دادی خدا کی نعمتیں ہیں جو ناقابل تلافی ہیں۔ وہ بھیس میں فرشتے ہیں جو ہمیشہ اپنے بچوں اور نواسوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت بدل رہا ہے ، لوگ اپنی روایت سے رابطہ کھو رہے ہیں۔ اسی طرح ، لوگ دادا دادی کی اہمیت کا ادراک نہیں کر رہے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح ان کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ کچھ معاملات میں ہوتا ہے ، زیادہ تر معاملات میں لوگ اپنے دادا دادی سے محبت کرتے ہیں۔
    آپ کسی بچے سے پوچھتے ہیں کہ کون ان کو سب سے زیادہ پیام کرتا ہے ، ان میں سے بیشتر اپنے دادا دادی کے جواب میں جواب دیں گے۔ اسی طرح ، دادا دادی کے لئے ، وہ اپنے پوتے پوتیوں سے پیار کرتے ہیں۔ وہ ہم سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں اور ہمیں لامتناہی لاڈ دیتے ہیں۔ تاہم ، وہ ہماری غلطیوں کو بھی درست کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہمیں ڈانٹتے ہیں۔ اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ دادا دادی کتنی بڑی نعمتیں ہیں ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔

    دادا دادی حقیقی نعمتیں ہیں۔
    دادا دادی واقعی ہماری زندگی میں ایک نعمت ہیں۔ وہ وہی ہیں جنہوں نے ہمارے والدین کو ان جیسا بنایا ہے۔ یہ ان کی پرورش کی وجہ سے ہے کہ ہمارے والدین ہم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اسی طرح ہماری دیکھ بھال کرتے ہیں جس طرح ہمارے دادا دادی جب وہ بچے تھے۔ مزید یہ کہ دادا دادی آپ کا سپورٹ سسٹم ہیں۔ وہ بعض اوقات صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو آپ کا ساتھ دیتے ہیں چاہے ہمارے والدین ایسا نہ کریں۔
    ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ دادا دادی ہماری صلاحیتوں اور صلاحیتوں کے سچے ماننے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیں اپنے خوابوں کے تعاقب پر مجبور کرتے ہیں جب دنیا ہمیں نیچے رکھتی ہے۔ اگرچہ ہمارے کچھ خواب ان کے لیے معنی نہیں رکھتے ، پھر بھی ، وہ اب بھی ہم پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ ہمارے اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور ہمیں بہتر کارکردگی دکھانے کی اجازت دیتے ہیں۔

    مزید برآں ، دادا دادی ایک اہم وجوہات میں سے ایک ہیں کیوں کہ ہم محفوظ اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں یہاں تک کہ اگر ہم اپنے دادا دادی کے ساتھ نہیں رہتے ، وہ ہمیشہ ہمارے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہماری تلاش کر رہے ہیں۔ تقریبا ہر ایک کی محفوظ جگہ ان کے دادا دادی کا گھر ہے۔ ہمارے پاس پرسکون اور سکون کا احساس ہے یہ جانتے ہوئے کہ ضرورت پڑنے پر ہم ہمیشہ اپنے دادا دادی کے گھر جا سکتے ہیں۔

    اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ دادا دادی بھیس میں برکت ہیں۔ وہ بہت سارے طریقوں سے ہماری مدد کرتے ہیں ، جن میں سے کچھ کا ہمیں احساس تک نہیں۔ جو خوش قسمت ہیں وہ دادا دادی ہیں یقینا ان کی قدر جانتے ہیں۔
    میرے دادا دادی
    میں خوش قسمت تھا کہ اپنے دادا کے گھر میں بڑا ہوا۔ ہمارا خاندان میرے دادا دادی کے ساتھ رہتا تھا جب سے میں چھوٹا تھا۔ جیسا کہ میرے دادا کا انتقال ہوا جب میں بہت چھوٹا تھا ، مجھے صرف ان کی چند یادیں یاد ہیں۔ ایک بات جو مجھے یقینی طور پر یاد ہے وہ یہ ہے کہ وہ روزانہ دو بار اپنے دانت صاف کرتا تھا۔ میں نے یہ عادت اپنائی اور جب سے میں یہی کر رہا ہوں۔

    میرے دادا دادی میرے حقیقی نظام سپورٹ رہے ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میں ایسے متاثر کن لوگوں کے گرد بڑا ہوا ہوں۔ میرے دادا ایک کالج کے پرنسپل تھے ، اس لیے انہوں نے ہمیشہ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے ہمارے ہوم ورک میں ہماری مدد کی جب میرے والدین دستیاب نہیں تھے۔ میں نے اپنی چھٹیاں ان کی جگہ پر گزاریں کیونکہ میں نے ان کے ساتھ رہنا پسند کیا۔

    اسی طرح میرے دادا دادی نے ہمیشہ کھلے بازوؤں سے مجھے گلے لگایا۔ وہ ہماری آمد کے لیے ہر چھٹی کا انتظار کرتے تھے۔ میری دادی نے مزیدار اچار اور کھانا بنایا جس سے ہم بہت خوش ہوئے۔ اس نے مجھے کچھ ترکیبیں بھی سکھائیں اور تجاویز اور چالیں جو آج بھی بہت کارآمد ہیں۔ میں صرف اپنے دادا دادی کو اپنے اور اپنے والدین میں اچھی اقدار پیدا کرنے اور ہمیں بڑھنے کے لیے محفوظ جگہ دینے کے لیے پسند کرتا ہوں۔

    @Z_Kubdani

  • خونی لبرلز بے لگام  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    خونی لبرلز بے لگام تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مبشر لقمان اور عمران ریاض خان نے نہ جانے ایسی کونسی خطا کر دی کہ خونی لبرلز کی دُم پر پاؤں آگیا کہ وہ ان دونوں پر چڑھ دوڑے اور ان پر طرح طرح کے زاتی حملے شروع کر دئیے۔
    مگر پاکستان میں پاکستانیت اور اسلامی روایات کے علمبرداروں نے ان خونی لبرلز کی بینڈ بجا دی
    خونی لبرلز بے لگام والا ٹویٹرٹرینڈ مسلسل کئی گھنٹے بیک وقت تین ملکوں پاکستان،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ٹاپ ٹرینڈ رہا۔
    یہ خونی لبرلز وہی ہیں،جنہیں میکڈونلڈ اور کے ایف سی جیسے دیگر کئی ادارے تو نظر نہیں آتے جو روزانہ بے تحاشہ جانور اور مرغیاں مارتے ہیں،مگر عید قرباں پر جب مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوۓ جانوروں کی قربانی کرنے لگتے ہیں تو انہیں جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں۔
    یہ خونی لبرلز وہی ہیں،جنہیں آوارہ کتوں سے ہونے والی معصوم انسانی ہلاکتیں تو نظرنہیں آتیں،مگر جب ان کتوں کو تلف کرنے کی بات آتی ہے تو،انہیں کتوں کے حقوق ضروریاد آجاتے ہیں۔
    بے شرمی کی انتہا ہے کہ اسلام اور مشرقی روایات کو ہر وقت نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آزادئ راۓ کا اس سے زیادہ ناجائز استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔
    یہی لوگ ہیں جو بیرونی فنڈنگ سے ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
    حکومت جب انہیں لگام ڈالنے کی بات کرتی ہے تو یہ چیخ اٹھتے ہیں۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نے جس انداز سے نور مقدم کیس اُٹھایا،
    اسکی مثال نہیں ملتی۔اس پر وہ دونوں لائق داد ہیں۔
    مبشر لقمان نے نور مقدم کے قاتل درندے کو جس طرح بے نقاب کیا،
    اس سے اس درندے اور اسکے حواریوں کی چیخیں آسمان تک سنی گئیں۔
    حتی کہ انہوں نے مبشر لقمان کو قانونی نوٹس تک بھجوا دیا،جس کی نہ صرف اندرون ملک،بلکہ آسٹریلیا،امریکہ اور برطانیہ سمیت بیرون مُلک میں بھی وسیع پیمانے پرشدید مذمت کی گئی۔
    جہاں تک مبشر لقمان کو میں جانتا ہوں،وہ اپنے ماضی کے بے باک ریکارڈ کی بدولت ایک قاتل درندے کو معصوم پرندہ کہنے سے تو رہا۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نور مقدم کیس میں ایک پیج پر تھے۔
    دونوں نے قاتل کی نہ صرف دل کھول کے شدید اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کی بلکہ اسے سرعام پھانسی جیسی سخت سزا بھی تجویز کی
    تاہم ان دونوں نے اس کیس میں نور مقدم کے اس
    Contactکی بات ضرور کی کہ نور مقدم کے ٹیلی فون ریکارڈ کے مطابق اس نے پچھلے کچھ مہینوں میں قاتل ظاہر جعفر سے تو سینکڑوں بار رابطہ کیا،جبکہ اسکا اپنے والدین سے صرف چند بار ہی رابطہ ہوا۔
    یہ نور مقدم کے رہن سہن پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا کہ وہ بغیر شادی کے ایک غیر محرم کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔
    اور یہی غلطی بالاخر اسکی جان بھی لے گئی۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نے صرف اتنی تلقین کی کہ والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟
    کہیں یہ سرگرمیاں ان کے لئے جان لیوا تو ثابت نہیں ہوں گی؟
    کہیں اس میں کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا جو ہماری معاشرتی اقدار کے خلاف ہے؟
    عمران ریاض نے اپنے ایک وی لاگ میں مبشر لقمان کے اس معاملہ پرسٹینڈ کو نہ صرف سراہا بلکہ اسکی تائید بھی کی۔
    عمران ریاض نے کہا کہ مبشر لقمان نے قطعا” ایسی کوئ بات نہیں کی،جس سے
    Victim blaming
    کا کوئ حلقہ ساشائبہ بھی ملتا ہو۔
    ان باتوں کی سچائ سے کون انکار کر سکتا ہے،
    سواۓ ان مٹھی بھر موم بتی مافیاز کے،جن کی ڈوریں کہیں اور سے ہلتی ہیں۔
    ظاہر ہے وہ تو انہیں کے لئے بھونکیں گے،جن سے انہیں ہڈی ملتی ہے۔
    پاکستان میں رہنے والے 99فیصد لوگ ان درخشاں روایات کی پاسداری چاہتے ہیں،جو ہمارا اثاثہ ہیں۔جن میں دین اسلام کی تعلیمات اور مشرقی روایات کی خوبصورت آمیزش ہے۔
    مگر لنڈے کے لبرلز،یہ کالے انگریز کچھ اور ہی ایجنڈا رکھتے ہیں
    مگر فساد پر مبنی یہ ایجنڈا،اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ یہاں چلنے نہیں دیں گے۔
    کوئ دوسرا ایجنڈا چاہنے والوں کو اس ملک کے بیٹے اور بیٹیاں ہر میدان میں اسی طرح شکست دیتے رہیں گے۔
    جس طرح انہوں نے مبشر لقمان اور عمران ریاض کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دی۔
    یہ مُلک اسلام کے نام پر بنا تھا اور رہتی دنیا تک اسلام کے طریقوں کے مطابق ہی چلے گا۔
    ان شاءاللہ#

    @lalbukhari

  • چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن . تحریر : عظمیٰ صابر

    چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن . تحریر : عظمیٰ صابر

    آزادی ایک خوبصورت احساس بے خوف ہوکر جینے کا احساس آزادی کی قدر محکوم اقوام سے پوچھیں کسی قید پرندے یا انسان سے پوچھیں آزادی نام ہے احساس ذمےداری کا آزادی نام ہے ملک سےوفاداری کا تخیل کی پرواز کا گھٹن سے نجات کا کھلی فضائوں میں سانس لینے کا آزادی کو چھو نہیں سکتے یہ محسوس کرنے اور جینے سے متعلق ہے آزادی بھی اصولوں کی پابند ہے شتر بے مہار آزادی اصل آزادی نہیں بلکہ آزادی کے بھی قواعد وضوابط ہیں آزادی بھی حدود کی پابند ہے آزادی محض اجسام کی آزادی نہیں بلکہ اصل آزادی "فکر اور تخیل "کی آزادی ہے غلامانہ سوچ سے بری کوئ شے نہیں یہ قوموں کے وجود کو نگل جاتی ہے.

    ملا نہیں وطنِ پاک ہم کو تحفے میں جولاکھوں دیپ بجھےہیں تو یہ چراغ جلا پاکستان عطیہء خداوندی اللہ نے ہم پر احسان کیا ہم کو پاکستان دیا ورنہ آج ہم اور اورہماری نسلیں ہندوستان میں بدترین زندگی گزار رہے ہوتے سجدہء شکر واجب ہے آزادی کی اس عظیم نعمت پر، اللہ کے عطاکردہ اس انعام پرملک پاکستان پرمیرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثارمیں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن اے میرے پاک وطن ہم آزاد قوم ہیں جشن آزادی مناتے ہیں دھوم دھام سے مناتے ہیں کئ دہائیوں سے منا رہے ہیں.

    لیکن ……..؟
    کیا محض اجسام کی آزادی، آزادی ہے؟
    کیا بحیثیت قوم ہماری فکر آزاد ہے؟

    جی بلکل فکر آزاد ہے لیکن ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے اکثریت کی فکر اج بھی آزاد نہیں وہ اج بھی اسکادرست ادراک نہیں رکھتے
    وہ اج بھی آزادی کے تقاضوں سے ناواقف ہیں اس سےجڑی ذمےداریوں سے ناواقف ہیں ہم نے یوم آزادی کو محض ایک تہوار بنا دیا ہم اسکی قدروقیمت سے صحیح طور پر ابھی واقف نہیں ہیں ابھی تک پائوں سے چمٹی ہیں زنجیریں غلامی کی دن اجاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں اتی آزادی کاسفر ابھی جاری ہے حقیقی آزادی پانے تک انگریز کےدیے نظام سے اپنی اقدار اور روایات سے جڑے نظام تک اسلام کے حقیقی نفاذ تک یہ سفرابھی جاری ہے حقیقی منزل ابھی دورہے.

    یوم آزادی پر اپنے گھر پر قومی پرچم لگا کردشمن ملک کی موسیقی سے لطف اندوز ہونا انکے ہیروز کی فیشن میں پیروی کرنا
    کیا ایک باوقارقوم کوزیب دیتاہے؟
    ہمارے الیکٹرانک میڈیا میں دشمن ملک کا مواد نشر ہونا کیا ہماری آزادی اور حب الوطنی پر سوالیہ نشان نہیں؟
    ہندی کے الفاظ کا کثرت سے استعمال اور اسے اپنی روزمرہ زندگی کا بہت سہولت سے حصہ بنالینا کیا مناسب طرزعمل ہے؟
    ہمارے ملکی وقار اور خود داری اس سے مجروح نہیں ہوتی کیا ؟
    یہ کمزوری کی علامت کہ اپ اپنے اپنےدشمن کی زبان کواہمیت دیں
    بلاوجہ غیر ملکی مصنوعات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا اور ملکی مصنوعات کو نظر انداز کرنا کیا قومی وقار کے خلاف نہیں؟
    پچھلی صدی کے انگریز کےبنائے ہوئے قوانین جو موجودہ دورسے مطابقت نہیں رکھتے یاجن میں محکومی کی جھلک ہے اج بھی نافذالعمل ہیں
    یہ کیسی آزادی ہے؟
    جو غیروں کی مرعوبیت سےنکلنے نہی دیتی؟
    اپنی دینی اور معاشرتی ذمےداریوں میں کوتاہی برتنا اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا
    کیا مناسب ہے؟
    کیا ممکن ہے کہ ہمارے اس رویے سے ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک دنیا میں بہتر مقام حاصل کرسکے؟
    ہمارا ملکی نصاب کیا ہماری ضروریات , قومی امنگوں اور ترجیحات کے مطابق ہے؟

    بلکل بھی نہیں بلکہ ہمارے نصاب تعلیم میں ہماری زبان اور ہمارے دین سے متعلق مضمون سب سے کم اہم گردانا جاتا ہے ہمارا معاشرہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے دین سے دوری کا شکار ہے ہم نے زندگی کے ہر شعبے کو ایک "بزنس "بنا کر رکھ دیا ہے اور انسانیت طاق پر دھری کوئ غیر اہم شے ہے چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا سیاست وکالت ہو یا عدالت مسیحائ ہو یا صحافت ہمار ےاندر کا بنیا ہر جگہ نظر اتا ہے جو موقع محل دیکھے بغیر چار ٹکے کمانا چاہتا ہے احساس اور ہمدردی غیر اہم جنس ٹھہری

    تو ہم قوم کیسے بنیں گے؟
    اتحاد ,تنظیم اور یقین محکم کب ہماری زندگی کے اصول بنیں گے؟
    کب ہم دین کی رسی کو تھامیں گے؟
    کب قائد کے اصولوں کو اپنائیں گے؟
    اور ……..
    کب فکر اقبال ہمارے ذہنوں کو منور کرے گی؟
    کب ہم اپنے رویوں کو بدلیں گے؟
    اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے؟

    صفائ نصف ایمان ہے لیکن ہم نےپورے ملک کو”کچرادان بناڈالا کرپشن کا زہر حہمارے قومی وجود میں سرایت کرچکا کردارسازی ہمارے لئے غیر اہم ٹھہری سود کی لعنت سے ہم پیچھا نہیں چھڑا پائے

    اب وقت ہے اس تعفن سے نجات پانے کا
    آزادی سے جڑی اپنی ذمےداریاں نبھانے کا۔
    قیام پاکستان کےاصل مقاصد کو منزل بنانے کا
    ملک میں نفاذ اسلام کا خواب پوراکرنے کا

    ہم کب سمجھیں گے کہ ملکی ترقی صرف حکومت اور اداروں کی مرہون منت نہیں بلکہ ہم سب کو بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ اپنی استعداد کے مطابق ملکی ترقی اور فلاح عامہ میں اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ:

    "ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
    جب یہ ستارے ٹمٹمائیں گے
    تو انکی روشنی میں ہمارے راستے اور منزل واضح ہوکر اور نکھر کر سامنے ائے گی یقین کا اجالا ہر سمت پھیلے گا ہمارے ملک کا نام روشن ہوگا ہم ایک طاقت اور قوت بن کر ابھریں گے

    عالم اسلام میں
    عالم اقوام میں

    اندھیرے سے لڑائ کا
    یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں
    جو دیا ہو ، وہ جلا دینا

    @Nucleus_Pak

  • امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارض کی اس وسیع وعریض، خوبصورت اور ہر طرح کی نعمت سے مالا مال ہستی کو انسانیت کے لئے بنایا ہے، اس کائنات اور اس سے متعلق تمام چیز میں ہمہ وقت انسانیت کی خدمت میں مشغول ہیں، سورج اس کے لئے ہر دن روشنی کا انتظام کرتا ہے، زمین اس کے قدموں میں بچھی ہوئی ہے اور اس کی غذائی ضرورت کے لئے بار بار اپنے سینے کا چاک ہونا اور پامال کیا جانا قبول کرتی ہے۔ درختوں کا کام یہ ہے کہ مزے دار پھل اور عطر بار پھول مہیا کرنے کے علاوہ آلودہ ہواؤں کو اس کے لئے صاف کریں، تا کہ اسے آکسیجن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے، بادل سمندر سے کھارے پانی کا ڈول بھربھر کر اسے صاف اور شیریں بناتا ہے اور کھیتوں اور آبادیوں تک باران رحمت پہنچاتا ہے، سمندر کی متلاطم موجیں نہ جانے کتنی ساری آلودگیوں کو ختم کرتی ہیں اور ان کی زہرا کی سے انسان کو خوظ رکھتی ہیں، ہوا میں ہر وقت اس کے مفاد کے لئے دوڑ بھاگ میں لگی ہوئی ہے اور دنیا میں جتنے جاندار ہیں، وہ سب کسی نہ کسی پہلو سے اس کی خدمت میں مصروف ہیں، یہاں تک کہ جن جانوروں کی درندگی انسان کولرزاں وترساں رکھتی ہیں، ان کا وجود بھی کسی نہ کسی پہلو سے انسان کے لئے فائدہ مند نفع بخش ہی ہے۔
    غرض کہ پوری کائنات انسان کی خدمت اور اس کے لئے عیش وراحت کی فراہمی میں مشغول ہے۔ اسی لئے قرآن کا تصور یہ ہے کہ کائنات انسان کا معبودنہیں ہے ، بلکہ اس کی خادم ہے : ( الجاثية : ۳ ) لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے بے حد ضروری ہیں عیش وعشرت کے جتنے بھی وسائل حاصل ہو جائیں، اگر یہ دو چیزیں اسے میسر نہ ہوں تو اس کی زندگی بے سکون اور اس کی آرزوئیں ناتمام رہتی ہیں۔
    امن اور ترقی اسی لئے اللہ تعالی نے اہل مکہ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تمہیں اس لئے بھی رب کعبہ کی عبادت کرنی چاہئے کہ اس نے عرب کے صحرا میں غذائی ضرورت اور کسی حکومت اور لا اینڈ آرڈر کا انتظام نہ ہونے کے باوجود ان کا انتظام فرمایا ہے۔ خوف و دہشت سے حفاظت کا تعلق امن سے اور غذائی اشیاء کی فراہمی کا تعلق ترقی سے ہے، زندگی کے لئے مطلوب ساری سہولتیں اللہ تعالی کا خصوصی عطیہ ہیں مگر یہ دونوں نعمتیں وہ ہیں، جن کو اللہ تعالی نے انسان کے ارادہ اور کوششوں سے تعلق رکھا ہے اور انسان کو اسی بصیرت اور صلاحیت عطا کی گئی ہے کہ اگر اس کی کوشش صحیح سمت میں ہو تو ان کو حاصل کر سکتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ان کے قائم ہونے کا تعلق قیام عدل سے ہے، عدل کی تفصیل یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں ، جن کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔ عدل، احسان اورظلم، عدل کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کو اس کا پورا پورا دے دیا جائے اور خود اپنے حق سے زیادہ ن لیا جائے ، احسان یہ ہے کہ دوسرے کو اس کا حق اس کے حصہ سے بڑھ کر دیا جائے اور خود اپنے حصہ سے کم کیا جائے یا اپنا حصہ نہیں لیا جائے قرآن مجید نے ان ہی دونوں طریقہ کار کو درست اور قابل قبول قرار دیا ہے لیکن آئیڈ یل طریقہ یہ ہے کہ انسان ’احسان‘ سے کام لے، جس کو بندے کے حقوق کے معاملہ میں ایثار کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ احسان کی تعریف کی گئی ہے، فرمایا گیا : اللہ احسان کرنے والے لوگوں کو پسند فرماتے ہیں۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ جولوگ احسان کا رویہ اختیارکریں۔ اللہ تعالی ان کو بہتر بدلہ اور انعام سے محروم نہیں کریں گے۔ اس کے بالمقابل ظلم اسلام کی نظر میں بدترین گناہ اور اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوسکتا، ناکامی و نامرادی ہی اس کا حصہ ہے۔ ظالموں کا انجام ہلاکت و بربادی ہے اور اللہ تعالی ظالموں کو پسند نہیں فرماتے۔ قرآن پاک میں دو سو سے زائد مقامات پر تلف جہتوں سے ظلم کی اور ظالموں کی مذمت فرمائی گئی ہے اور بہت زیادہ مقامات پر عدل کا اور احسان کا حکم دیا گیا ہے یا اس کی تحسین کی گئی ہے۔ جب معاشرہ میں عدل قائم ہوگا ، لوگوں میں احسان کا جذبہ پیدا ہوگا اور ظلم کرنے والے ہاتھ تھام لئے جائیں گے تو یقینا وہ معاشرہ ان کی دولت سے بہرہ ور ہوگا۔
    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • دیا جلائے رکھنا ہے . تحریر : عظمیٰ صابر

    دیا جلائے رکھنا ہے . تحریر : عظمیٰ صابر

    پاکستان، کلمے سے عقیدت کا ثبوت اس عقیدت میں 1947 میں گھر بار، جان ومال، سب کچھ وار دیا گیا کلمے کےنفاذ کےلئے ایک عشق، ایک جنون دنیا نے دیکھا رب کی دھرتی پر، رب کا نظام قائم کرنے کی خواہش اسکی بنیادوں میں ہمارےپرکھوں کا لہو یہ ہمارے لئے اللہ کاخوبصرت ترین انعام
    عزم عالیشان
    ہمارا پاکستان

    لیکن …….
    کبھی سوچا ہے آج کی نسل نے کیا آج ہم ان ارواح کا سامناسر اٹھا کر کرسکتے ہیں جنہوں نے اسکے حصول اور اسکی بقا کےلئے جام شہادت نوش کیا ؟
    وہ قربانیاں جو پاکستان کے حصول کے لئے عوام کی طرف سے دی گئیں اور وہ قربانیاں جو ہماری افواج اسکی بقا اور تحفظ کے لئے مسلسل آج تک دیتی ارہی ہے کیا یونہی رائیگاں چلی جائیں گی؟
    چشم تصور میں کرپانوں پر جھولتے معصوم بچوں کے لاشوں کولا کر دیکھیں کیا وہ معصوم جسم سوال بن کر آنکھوں کے سامنے جھول نہیں جاتے؟
    کہ ہم کس جرم کی پاداش میں جان سے گئے؟
    صرف مسلمان ہونا ,مسلمان گھرانے میں آنکھ کھولنا اتنا بڑا جرم کہ ہماری سانسیں چھین لی گئیں؟
    سانسیں چھیننے والے تو اپنے نا تھے لیکن ہمارے اپنوں نے جن سے ہمارا کلمے کا تعلق تھا ,جس قوم کی یہ معصوم کلیاں تھیں
    انہوں نے بھی ہماری قربانیوں اور شہادتوں کو بھلادیا اس مقصد کو بھلادیا جس کی خاطر ملک حاصل کیا گیا کیا یہ بچے بروز حشر ہمارا دامن نہیں تھامیں گے؟
    جواب طلب نہیں کریں گے؟
    لیکن ہم تو خود میں اسقدر مگن ہیں کہ آج ہمارے معاشرے میں بچے ہی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں
    عدم تحفظ کا شکارہیں
    کبھی ماضی میں جھانکو تو وہ بےردا بہنیں اور بیٹیاں نظر آتیں جو بھیڑیوں کا شکار بنیں ,وہ جو اپنی عزت بچانے کے لئے وقت سے پہلے دنیا سے گزر گئیں ,وہ جوانیاں جو زندگی جی نا پائیں
    وہ بچیاں جنہوں نے زندہ رہنے سے مرجانا بہتر جانا ان جانوں کا احسان کبھی چکا پائیں گے ہم؟
    نہیں یہ ممکن نہیں,بلکل بھی ممکن نہیں وہ گھبرو شیردل جوان جو ہمارے بھائ تھے, بیٹے تھے سہارا تھے ,محرم تھے سر کی چھائوں تھے
    ہمارا سائبان تھے اس راہ میں شہید ہوئے کیا وہ شہادتیں بھی رائیگاں جائیں گی
    ان والدین کے نوحے اور فریادیں کیا ہماری سماعتوں تک نہیں پہنچتیں جو اپنےجگر گوشوں , آنکھوں کی ٹھنڈک , اور اپنے آنگن کی کلیوں سے محروم ہوگئے
    اس ملک کے حصول کی خاطر؟
    ہم حس سماعت کھو چکے
    یاقوت گویائ؟
    ہم اپنے مقصد سے بھٹک چکے وہ تمام قربانیاں اور اذیتیں فراموش کرچکے جو مشعل راہ تھیں جو زاد سفر تھیں جو منزل پر پہنچنے کا سبب بن سکتی تھیں جو مقصد کے حصول کا سب سے مضبوط محرک تھیں ہم قوم بنے قربانیاں دیں تب جاکر اس حسین ملک کے وارث بنے

    یادرکھو کہ کوئ وجہ ہے
    پاس اپنے جو اپنی جگہ ہے
    جان سے زیادہ خرچہ ایا
    گھر اپنے تب نام لگا ہے

    لیکن جن کی بدولت وارث بنے انہیں فراموش ناکرو خدارا
    ملک حاصل کرنے کے مقصد کو دوبارہ تھام لو "بھیڑ اور ہجوم "نہیں دوبارہ قوم بن کر ابھرو یادرکھو
    "ہر فرد ہے ملت کے کےمقدر کاستارہ ”
    خود کو اس تقدیر کا حصہ بنائو
    جو اس ملک کونکھاردے
    اس ملک کی نسلوں کو سنواردے
    آپکا سر فخر سے بلند کردے
    بروز حشر سیدالانبیاءﷺ کے سامنے ندامت سےبچالے
    کیا جی نہیں چاہتا کہ قائد بھی تمہیں WELL DONE کہہ دیں؟

    کیا جی نہیں چاہتا کہ
    شاعر مشرق تمہیں دیکھ کر مسکرادیں؟
    کیا جی نہیں چاہتا کہ :
    فاطمہ جناح تمہارا شانہ تھپتھپا دیں
    میرا تو جی چاہتا ہے کہ
    اللہ ایسا کوئ لمحہ میرے یامیری نسلوں کے نصیب میں بھی لکھ دے
    سمجھوں گی زندگی بامقصد رہی
    کچھ تو حق ادا ہوا

    موج بڑھے یا آندھی آ ئے
    دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے
    گھر تو آخر اپنا ہے

    @Nucleus_Pak

  • قومی پرچم کی اہمیت اور احترام تحریر : ثمرہ مصطفی

    قومی پرچم کی اہمیت اور احترام تحریر : ثمرہ مصطفی

    کہنے کو توپرچم کپڑے کا ایک ٹکڑاہے جب یہ کپڑا کسی خاص تناسب اور مخصوص  رنگوں کے باعث پرچم کی شکل اختیار کرلیتا ہے تویہ محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں رہتا بلکہ یہ اس ملک کی عزت اوروقار کی علامت بن جاتا ہے قومی پرچم کسی بھی ملک کی پہچان اور شناخت ہوتا ہے.ہمارا پرچم ہماری آزادی اور خود مختاری کا نشان ہے . ہمارا پرچم دو رنگوں پر مشتمل ہے۔ سبزاورسفیدرنگ۔  سفید رنگ ایک چوتھاٸی اور سبز رنگ تین چوتھاٸی ہوتا ہے۔ سبز رنگ مسلمانوں کی اور سفید رنگ اقلیتوں کی نماٸندگی کرتا ہے۔ یوم آزادی کے دن کو بہت جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔اس دن ہر عمارت ،دوکان، اور سواری پر لوگ جھنڈا لگاتے ہیں ۔لیکن ضرورت اس چیزکی ہے کہ نوجوان نسل اس پرچم کی اہمیت اور احترام کے تقاضوں سے آگاہ ہوں۔سربلند پرچم قوم کی ترقی ،عظمت اور بہادری کی علامت ہوتا ہے۔ ہم قومی ترانے میں پڑھتےہیں۔
                             پرچمِ ستارہ ہو ہلال
                             رہبر ترقی وکمال
    اسکا مطلب ہےکہ پرچم پر بنا ہوا ہلال ہماری ترقی کا راہبر ہے۔ہلال پہلی رات کے چاندکو کہتے ہیں۔جس طرح ہلال بڑھتے بڑھتے پوراچاند بن جاتا ہے،اسطرح اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا وطن بھی ترقی کے راستے پرگامزن رہےگا۔اس پر پانچ کونوں والا ستارہ بناہواہے۔پانچ کونوں سے مراد اسلام کے پانچ ستون ہیں۔ہم وطن سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن یہ شاید ہی جانتے ہوں کہ قومی پرچم کا ڈیزاٸن کس شخصیت نے تیار کیا تھا۔جناب امیرالدین قدواٸی نے ہمارے پیارے پرچم کا ڈیزاٸن تیارکیا تھا۔ اسلام میں پرچم کا آغاز ہجرت کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ مکہ سے ہجرت فرماکے  جب اپﷺ مدینہ منورہ کی طرف جارہے تھے تو خضرت بریدہ (رضی اللہ تعالی) نے اے اللہ کے نبی ﷺ  مدینے میں داخل ہوتے ہوۓ اپکے پاس جھنڈا ہونا چاہۓ تب اپﷺنے اپنا عمامہ اتار کر نیزے پر باندھ کر خضرت بریدہ کو دیا۔امن اور سلامتی کی پہچان یہ جھنڈا اسلام کا پہلا جھنڈا تھا۔قومی پرچم کی منظوری پہلی دستور ساز اسمبلی میں ١١ اگست ١٩٤٧ کو دی گٸ۔لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پہلی بار قومی پرچم لہرایا۔
    ١٤ اگست قریب اتے ہی جھنڈوں اور جھنڈیوں کی بہاریں آجاتی ہیں ۔خواتین ،بچے ،بڑے ،بوڑھے سب جھنڈے ، بیچز اور جھنڈیوں کی خرایداری میں لگ جاتے ہیں۔١٤اگست سے ایک یا دو دن پہلے گلی محلے ،دفاتر ،تعلیمی ادارے،اور گاڑیاں سجانے کا رواج برسوں سے چلا آرہا ہے ۔١٤اگست سے پہلے تقریبا جھنڈے،جھنڈیوں اور سبزاور سفید لاٸٹوں سے سجا دیا جاتا ہے۔یہ نظارہ ناصرف انتہاٸی خوبصورت لگتا ہے بلکہ قوم کی اپنے وطن سے سچی محبت کوبھی ظاہر کرتا ہے۔لیکن پتہ نہیں ١٤ اگست کے اگلے دن ہی یہ جذبہ کہاں غاٸب ہو جاتا ہے۔یہ سوال توسبکوحیران کردینے والا ہے۔جو جھنڈیاں اور جھنڈے ہم ١٤ اگست کو اپنے گلی محلے کو سجانے کیلے لگاتے ہیں ۔توپھر انکے احترام و تقدس کا خیال کیوں نہیں رکھتے۔آخر  کیوں دوسرے ہی دن وہی جھنڈیاں ہمارے پیروں تلے روند دی جاتی ہیں یا زمین پر دھول میں پڑی ہوتیں ہیں ۔آخر کیوں جو جھنڈیاں یاپرچم ہمارے گھروں میں احترام سے  سجاۓ جاتے ہیں ۔وہ بعد میں کٸی حصوں میں تقسیم ہوکر پھٹ جاتے ہیں اورپھر کوڑے دان میں پھینک دے جاتے ہیں ۔کیا اپ اسکی وجہ جانتے ہیں،اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے پرچم کی اہمیت اور احترام  سے واقف نہیں۔بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جویہ نہیں جانتے کہ پاکستان کے آٸین کے مطابق کوٸی بھی شہری سواٸےصدروزیراعظم،آرمی چیف سمیت کسی اعلی عہدے پرفاٸز شخص بھی پرچم کو اپنے گھریا دفتر پر نہیں لہرا سکتا، صرف ١٤ اگست کے دو دن تک قومی پرچم اپنے گھر یا دیگرمقامات پرلہرانے کی اجازت ہوتی ہے۔اسکے بعد پرچم کو فوری اتار دینے کی ہدایت آٸین میں موجود ہے۔آٸین میں موجود اس شق کا مقصد قومی پرچم کی اہمیت کا پامال ہونے سے بچانا ہےتاکہ پرچم کی بے حرمتی نہ ہو جو کہ اب عام ہو چکی ہے۔چودہ اگست کے دن جھنڈیاں خریدی اور لگائی جاتی ہیں لیکن ان جھنڈیوں کی حفاظت نہیں کی جاتی وہ گلیوں آور بازاروں میں جگہ جگہ گیری پڑی نظر آتی ہیں میری سب سے گزارش ہے کہ جھنڈیاں لگائیں تو انکی حفاظت بھی کریں چودہ اگست گزرنے کے بعد ان جھنڈیوں کو اتار کر رکھ لیں سنبھال کر جہاں جہاں آپ کو جھنڈی گیری ہوئی نظر آئے فورا اٹھائیں اور اگر آپ ان چیزوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو جھنڈیاں نہ لگائیں کیونکہ جھنڈے کی بے حرمتی ہوتی ہے۔کیونکہ پرچم کا اخترام ہم سب پر فرض ہےکیونکہ پرچم کسی بھی قوم کی پہچان اور فخر ہوتاہے۔اسے پیروں تلے روند کر اسکی بے حرمتی نہ کریں اور نہ ہی اپنے تفخر کو خود مسخ کریں

    ‎@Samra_Mustafa_

  • غیبت ایک مرض ۔حصہ دوم  تحریر: محمد آصف شفیق

    غیبت ایک مرض ۔حصہ دوم تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صحابہ کرام سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کا ذکر اس طرح کرو کہ جس کو وہ اگر سن لے تو ناپسند کرے۔ بعض صحابہ کرام نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میرے اس بھائی میں جس کا میں نے برائی کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ عیب ہوں جو میں نے بیان کیا ہے تو کیا جب بھی غیبت ہوگی یعنی میں نے ایک شخص کے بارے میں اس کے پیٹھ پیچھے یہ ذکر کیا کہ اس میں فلاں برائی ہے جب کہ اس میں وہ واقعتًا برائی ہو اور میں نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہو اور ظاہر ہے کہا اگر وہ شخص اپنے بارے میں میرے اس طرح ذکر کرنے کو سنے تویقینًا خوش ہوگا تو کیا میرا اس کی طرف کسی برائی کو منسوب کرنا جو درحقیقت اس میں ہے غیبت کہلائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی جس برائی کا ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ برائی موجود نہیں ہے جس کو تم نے ذکر کیا ہے تم نے اس پر بہتان لگایا یعنی یہی توغیبت ہے کہ تم کسی کا کوئی عیب اس کے پیٹھ پیچھے بالکل سچ بیان کرو اور اگر تم اس کے عیب کو بیان کرنے میں سچے نہیں ہو کہ تم نے اس کی طرف جس عیب کی نسبت کی ہے وہ اس میں موجود نہیں ہے تو یہ افتراء اور بہتان ہے جو بذات خود ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ (مسلم) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اپنے کسی مسلمان بھائی کی وہ برائی بیان کی جو واقعی اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تم نے اس کی طرف ایسی برائی کی نسبت کی جو اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔
    تشریح۔
    غیبت یعنی پیٹھ پیچھے کسی کا کوئی عیب بیان کرنا نہ صرف ایک گناہ لوگوں میں زیادہ پھیلا ہوا ہے ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جو اس برائی سے بچے ہوئے ہیں ورنہ عام طور پر ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں غیبت کرتا نظر آتا ہے لہذا ضروری ہے کہ اس بات میں کچھ تفصیل بیان کردی جائے۔
    جیساکہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے غیبت اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی ایسے شخص کے بارے میں جو موجود نہ ہو اس طرح کا ذکر کرے جس سے اس کا کوئی عیب ظاہر ہو اور وہ اس عیب کے ذکر کیے جانے کو ناپسند کرے اور اسعیب کا تعلق خواہ اس کے بدن سے ہو یا عقل سے خواہ اس کے دین سے ہو یا دنیا سے ، خواہ اس کے اخلاق وافعال سے ہو یا نفس سے خواہ اس کے مال و اسباب سے ، ہو یا اولاد سے خواہ اس کے ماں باپ سے ہو یا بیوی و خادم وغیرہ سے خواہ اس کے لباس وغیرہ سے ہو یا رفتاروگفتار سے ، خواہ اس کی ہیبت کذائی سے یانشست وبرخاست سے ، خواہ اس کے حرکات وسکنات سے ہو یا عادات واطوار سے، خواہ اس کی کشادہ روئی سے ہو یا ترش روئی سے اور خواہ اس کی تندخوئی وسخت گوئی سے ہو یانرم خوئی اور خاموشی سے اور یا ان چیزوں کے علاوہ کسی بھی ایسی چیز سے ہو جو اس سے متعلق ہوسکتی ہے نیز اس عیب کے ساتھ اس کا ذکر کرناخواہ الفاظ کے ذریعہ ہو یا اشارہ و کنایہ اور رمز کے ذریعہ اور اشارہ کنایہ بھی خواہ لفظ وبیان کے ذریعہ ہو یا ہاتھ آنکھ ، ابرو اور سر وغیرہ کے ذریعہ۔ اس سلسلہ میں یہ قاعدہ کلیہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اگر کسی شخص کا کوئی عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کیا جائے جو دوسروں کی نظروں میں اپنے ایک مسلمان بھائی کی حثییت و شخصیت کو گھٹاتا ہے تو یہ سخت غیبت ہے اور حرام ہے اور اگر کسی کے منہ پر اس کے کسی عیب کو اس طرح بیان کیا جائے جس سے اس کو ناگواری اور دل شکنی ہو تو یہ ایک طرح کی بے حیائی ، سنگدل اور ایذاء رسانی ہے کہ یہ اور بھی سخت گناہ ہے۔غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے غیبت کرنے والا اس سے معافی طلب کرے بشرطیکہ اس غیبت کی خبر اس تک پہنچی ہو اور اس سے معافی کی طلب کے وقت تفصیل بیان کرناضروری نہیں ہے بلکہ اجمالی طور پر اتنا ہی کافی ہے کہ میں نے تمہاری غیبت کی ہے مجھے معاف کردو اور اگر وہ غیبت اس تک نہ پہنچی بایں طور کہ وہ مرگیا ہویا کسی دور دراز جگہ پر ہو تو اس صورت میں استغفار کافی ہے یعنی اپنے اس گناہ پر اللہ سے مغفرت وبخشش طلب کرے نیز احادیث میں یہ بھی منقول ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے اس کے حق میں استغفار کرناغیبت کے کفارہ میں داخل ہے۔
    غیبت کس صورت میں جائز ہے : علماء نے لکھا ہے کہ کسی کا عیب اس کے پیٹھ پیچھے بیان کرنا بعض صورتوں میں جائز ہے مثلا کوئی شرعی صورت لاحق ہو، جیسے ظالم کا ظلم بیان کرنا، حدیث کے راویوں کا حال ظاہر کرنا، نکاح کے مشورہ کے وقت کسی کا نسب یا حال رویہ بیان کرنا، یا کوئی مسلمان کسی سے امانت وشرکت وغیرہ کا کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو اس مسلمان کونقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اس شخص کارویہ بیان کردینا وغیرہ وغیرہ اسی طرح کوئی شخص ظاہری طور پردین دار زندگی کا حامل ہے یعنی نماز بھی پڑھتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہے اور دیگر فرائض بھی پورے کرتا ہے مگر اس میں یہ عیب ہے کہ لوگوں کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے تکلیف ونقصان پہنچاتا ہے تو لوگوں کے سامنے اس کے اس عیب کا ذکر کرنا غیبت نہیں کہلائے اور اگر اس شخص کے بارے میں ذمہ داران حکومت کواطلاع دے دی جائے تاکہ وہ اس کو متنبہ کر دیں اور اس کی ایذاء رسانی سے لوگ محفوظ رہیں تو اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ۔علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ بطریق اصلاح و اہتمام کسی شخص کے عیب کو ذکر کرنا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا ممانعت اس صورت میں ہے کہ جب کہ اس کے عیب کو ذکر کرنے کا مقصد اس شخص کی برائی بیان کرنا اور اس کو نقصان و تکلیف پہنچانا ہو اسی طرح کسی شخص کی کسی شہر والوں یا کسی بستی کے لوگوں کی غیبت نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ متعین طور پر کسی جماعت کا نام لے کر اس کی غیبت نہ کرے۔ مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 766
    اللہ رب العالمین ہمیں غیبت جیسی بیماری سے محفوظ رکھیں آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • یوم آزادی اور ہم  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    یوم آزادی اور ہم تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان ایک تحفہ ،ایک نعمت ہے،جو ہمیں اللہ پاک نے عطا کی ہے۔اگر ہمیں اندازہ ہو جاۓ کہ یہ ملک ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے،تو ہم اسکی قدر کرنا بھی سیکھ جائیں۔
    پاکستان کا حصول آسان نہ تھا۔اسکے لئے برطانوی سامراج اور ہندو بنیے سے جنگ لڑنا پڑی۔
    تحریک آزادی میں بے شمار لوگوں نے اپنی جانوں کے نزرانے پیش کر کے اس ملک کی بُنیاد رکھی۔
    عظیم تھے وہ لوگ،پاکستانی قوم ہمیشہ اُن کی احسان مند رہے گی۔
    ہم سب کی خوش قسمتی تھی کہ حصول پاکستان کی جنگ کے وقت ہمیں قائد اعظم محمد علی رح جیسے عظیم قائد کی مدبرانہ اور جرات مندانہ قیادت دستیاب تھی۔
    قائد اعظم حقیقی معنوں میں نہ بکنے والے اور نہ جُھکنے والےلیڈر تھے۔اُن کی ولولہ انگیز قیادت میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔
    آج ہم سب سوچتے ہیں کہ ہمیں پاکستان نے کیا دیا؟
    کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا؟
    یہ ملک جو کبھی دوسروں کے لئے مثال تھا۔
    اسے دنیا کے لئے نمونہ عبرت بنانے والے ناہنجار کون ہیں؟
    اس سوال کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ سیاستدان اور بیور کریسی ہی اس ملک کی تباہی کی زمہ دار ہے۔
    مگر یہ جواب اتنا بھی سادہ نہیں۔اس ملک کا بیڑہ غرق کرنے والوں میں بدقسمتی سے ہم سب شامل ہیں۔
    لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم کرنے والوں کو اقتدار میں کون لے کر آتا ہے،؟
    کیا یہ مافیاز آسمان سے ٹپک پڑتے ہیں؟
    نہیں انہیں ہم سب مل کر لے کر آتے ہیں۔ہم ان کے اقتدار پہنچنے کی سیڑھی ہیں۔جسے یہ مفاد پرست اپنے مطلب کے لئے استعمال کر کے ایک سائیڈ پہ لگا دیتے ہیں۔
    لُوٹ مار کا پتہ ہونے کے باوجود ہم اگلی دفعہ پھر بیوقوف بننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
    جس کرپٹ الیٹ کو ہم اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں،اُنہیں ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے بیورو کریسی کا تعاون درکار ہوتا ہے۔اسی تعاون اور ناجائز کاموں میں فرمانبرداری کے لئے وہ ایسے بیورو کریٹس کو اہم پوسٹوں پر تعینات کرتے ہیں،جو انہیں تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ رنگتے ہیں۔
    اس ساز باز اور ہمارے غلط فیصلوں کی بدولت اقتدار حاصل کرنے والے پاپی سیاستدانوں کی بدولت پاکستان کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ کبھی ہمارا مقابلہ بھارت سے ہوتا تھا،کیونکہ بنگلہ دیش جیسے ملک ہم سے بہت پیچھے تھے۔
    مگر اب یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ بنگلہ دیش جیسے ملک بھی ہم سے بہت آگے نکل چُکے ہیں۔
    دیگر ملکوں کا آگے بڑھنے کا سفر جاری ہے،جبکہ ہم دن بدن پیچھے جا رہے تھے اور پھربالاخر وقت بدلا،
    سیاسی حالات بدلے اور کم ازکم مرکز میں نواز شریف اور زرداری رجیم سے جان چھوٹی۔
    ملک کو بنگلہ دیش،نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک سے بھی پیچھے دھکیلنے کے زمہ دار یہی لوگ تھے،
    جنہوں نے کئی عشرے لگا کر اپنی تجوریاں تو بھر لیں مگر ملکی خزانہ خالی کر گئے۔
    آج بھی اگر دنیا کے امیر ترین ملکوں اور افراد لی لسٹ دیکھیں تو،
    پاکستان سب سے نیچے اور نواز شریف اور زرداری کا نام امیر ترین افراد کی لسٹ میں نمایاں نظر آۓ گا۔آج حالت یہ ہے کہ ہماری کرنسی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں تقریبا” نصف پر پہچ چکی ہے۔
    موجودہ حکومت کو جس حالت میں ملک ملا،
    غنیمت ہے کہ اسکی ٹوٹی پھوٹی معیشت کا سہارا ملنا شروع ہو گیا ہے۔
    مگر اس حکومت کو ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے،تب جا کر کچھ مداوا کیا جا سکے گا۔
    وطن عزیز کے قیام کے بعد ہمارے پاس PIA،سٹیل مل،ریلوے اور سرکاری ٹرانسپورٹ (GTS)جیسے اچھے ادارے تھے۔آج وہ ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔
    ہم نے متحدہ عرب امارات اور قطرجیسے ملکوں کوانکی ائیر لائنز کھڑی کرنے میں معاونت کی۔
    آج ان ممالک کی ائیر لائنز کا شمار دنیا کی ٹاپ ائیرلائنز میں ہوتا ہے،جبکہ PIAدنیا کی بد ترین ائیر لائن بن چُکی ہے۔ان اداروں میں غیر ضروری سیاسی بنیادوں پربھرتیاں کی گئیں۔جہاں دس آدمیوں کی ضرورت تھی وہاں سو آدمی بھرتی کر لیے گئے۔سامان کی خریداری میں کمیشن کھاۓ گئے۔ہر شعبے میں گھپلوں کی بہتات نے ان اداروں کو زمین بوس کر دیا۔
    آج ہمارے پاس ریلوے کی شکل میں ایک لولی لنگڑی ریلوے موجود ہے۔جو بظاہر کچھ روٹس پر نہ چلنے کے انداز میں چلتی نظر آتی ہے۔
    موجودہ حکومت اس تباہ حال گلشن میں کیا کیا ٹھیک کر پاۓ گی؟
    یہ تو وقت ہی بتاۓ گا۔مگر عمران خان کی نیت ،حب الوطنی اور دیانتداری یرکوئ شک نہیں کر سکتا۔
    میں عمران خان کا سپورٹر ضرور ہوں مگر غلام نہیں۔میں سب سے یہی کہوں گا کہ
    اس پانچ سال کی کارکردگی پر فیصلہ کریں کہ کیا عمران خان ،شریفوں اور زرداری سے بہتر ہے ؟
    کیا اس نے کسی حد تک ملک کی سمت درست کر دی ہے۔
    اگر جواب ہاں میں ہے تو اگلی باری پھر عمران خان
    اور اگر جواب ناں میں ہے تو عمران خان کو بے شک اپنے چاچے دا پُتر مت بنائیں۔اور نہ اسکی ضرورت ہے۔
    ہم نے پاکستان کے لئے سوچنا ہے۔اس وطن کی بہتری کے لئے سوچنا ہے۔ہمارے لئے مقدم صرف اور صرف پاکستان ہے۔
    ہم نے کسی ایک سیاستدان کے لئے نہیں سوچنا،ہماری سوچوں کا محور صرف اور صرف پاکستان ہونا چاہیے۔
    پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔
    قیام پاکستان کا زکر مفکر پاکستان علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال رح کے زکر کے بغیر ہمیشہ نا مکمل رہتا ہے۔
    وہ مفکر پاکستان تھے،جنہوں نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔اس تصور،اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے قائد اعظم رح نے دن رات محنت کی۔اپنی زندگی کا مقصد پاکستان کے حصول کو بنالیا اور بالاخر اللہ پاک نے ان کی شبانہ روز محنت کی بدولت ہمیں پاکستان جیسی نعمت خداوندی اور تحفہ پروردگار عطا کیا۔جس نے نہ صرف ہمارا بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی محفوظ بنا دیا۔
    چودہ اگست یوم آزادی کے اس موقع پر میں اپنے برادر اسلامی ممالک ایران،تُرکی اور سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں،
    جو پاکستان کو بطور ملک تسلیم کرنے والے پہلے ملک بنے۔
    اللہ پاک ہمارے ملک کو امن و استحکام اور خوشحالی سے نوازے۔اور ہمیں وہ فیصلے کرنے کی توفیق دے،جو اس ملک کے لئے بہتر ہوں-آمین #

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • ‏ساتھ مل کر کام کرنا(ٹیم ورک)  تحریر: زاہد کبدانی

    ‏ساتھ مل کر کام کرنا(ٹیم ورک) تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیم ورک ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ٹیم ورک ایک تنظیم کے کام کرنے کی بنیادی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ ، ہر تنظیم کے پاس مخصوص کاموں کو انجام دینے کے لیے کئی ٹیموں کی تقسیم ہوتی ہے۔

    ٹیم ورک کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ اگر کسی تنظیم میں ٹیم ورک کی کمی ہے۔ پھر یہ اس کی کامیابی کی شرح میں رکاوٹ ڈالے گا۔ اس طرح تنظیم گر جائے گی۔ نیز ، یہ اس ماحول کو متاثر کرے گا جس میں لوگ کام کر رہے ہیں۔

    مزید یہ کہ ، تنظیم کا ٹیم ورک کا ایک مختلف درجہ بندی ہے۔ تاکہ کام کا بوجھ تقسیم ہو جائے۔ اور ہر ٹیم میں ایک ماہر ہوتا ہے جو اپنے سابقہ ​​تجربے کے ساتھ مختلف ٹیم ممبروں کی رہنمائی کرتا ہے۔
    کسی تنظیم میں ٹیم ورک کا درجہ بندی۔
    تنظیم میں تین ٹیموں کا ڈویژن ہے – ٹاپ لیول ، مڈل لیول ، لوئر لیول۔

    اعلیٰ سطح: تنظیم کی یہ ٹیم کمپنی کے اہداف کا فیصلہ کرتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ معاشرے کے مختلف شعبوں کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ اور کمپنی کے منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے پالیسیاں بناتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ کمپنی اور اس کے ملازمین کی ترقی پر بھی کام کرتا ہے۔

    کوئی بھی پالیسی بنانے سے پہلے ہر کمپنی کے ذہن میں ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔ تنظیم کا یہ حصہ ہدف کا تجزیہ کرتا ہے۔ تاکہ کمپنی کو اس بات کا یقین ہو کہ اس مقصد کے قریب پہنچنا منافع بخش ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر ، تنظیم کا یہ حصہ بورڈ آف ڈائریکٹرز ، چیف ایگزیکٹو آفیسرز وغیرہ پر مشتمل ہے۔
    درمیانی سطح: درمیانی سطح مینیجر اور سپروائزر پر مشتمل ہوتی ہے۔ کارکنوں کی یہ ٹیم ٹاپ لیول کی بنائی ہوئی پالیسیوں کے نفاذ پر مرکوز ہے۔ مزید یہ کہ ، ٹیم ملازمین کے شعبے کو مختلف کام تفویض کرتی ہے ، تاکہ وہ کمپنی کے اہداف کی طرف کام کریں۔ مزید یہ کہ مڈل لیول ان کے کام کا معائنہ کرتا ہے اور باقاعدہ چیک رکھتا ہے۔

    مختصر میں ، وہ اوپر کی سطح اور درمیانی سطح کے درمیان فرق کو ختم کرتے ہیں۔ اس ٹیم کا حصہ بننے کے لیے ، ایک شخص کو کافی اہل ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس شخص کو تمام کاموں کا علم ہے جو وہ ملازمین کو دے رہا ہے۔
    تب ہی وہ شخص اس قابل ہوگا کہ وہ نچلی سطح کی رہنمائی کرے۔ سب سے اہم کام ملازم کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے ، تاکہ تنظیم بہتر طریقے سے کام کرسکے۔

    نچلی سطح: نچلی سطح ملازمین پر مشتمل ہوتی ہے۔ وہ مڈل لیول کی طرف سے انہیں تفویض کردہ کاموں پر کام کرتے ہیں۔ روزگار کے شعبے میں ٹیم ورک کی ہم آہنگی کی بہت ضرورت ہے۔ وقت کے اندر ہر کام کو جمع کرنے کی ضرورت کے طور پر.
    تاکہ تنظیم آسانی سے چل سکے۔ تنظیم کی بنیاد روزگار کا شعبہ ہے۔ جیسا کہ ان کے بغیر ، پالیسیوں کا اطلاق ممکن نہیں ہے۔

    ٹیم ورک کی اہمیت
    ٹیم ورک دنیا کے کسی بھی حصے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ چاہے وہ کوئی تنظیم ہو یا چھوٹا کاروبار۔ ٹیم ورک کامیابی کی کلید ہے۔ ہمارے اسکولوں میں ، ہم بہت سے کھیل کھیلتے ہیں جن میں ٹیم ورک شامل ہوتا ہے۔
    اس طرح ہم بچپن سے ہی ٹیم ورک کے بارے میں جانتے تھے۔ کیونکہ ہمارے اساتذہ ٹیم ورک کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ہمیں صحیح راہ پر گامزن کیا۔

    آخر میں ، ٹیم ورک ٹیم دو لوگوں کے درمیان تعلق پیدا کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان ایک سماجی وجود ہے ، لہذا یہ انسان کے ماحول کے لیے فائدہ مند ہے

    ‎@Z_Kubdani

  • کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    تقریبا ایک دہائی میں پہلی بار پاکستان کو اولمپک میڈل کی جیت کی سنجیدہ امید تھی جب 1992 کے بعد ایتھلیٹکس میں پہلی بار ارشد ندیم ہفتے کے روز مردوں کے جیولین فائنل کے لیے ٹوکیو اولمپک اسٹیڈیم پہنچے۔ گیمز کے لیے کوالیفائی کرنے والے پاکستان کے پہلے ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹ ارشد نے فائنل میں پہنچنے کے بعد تاریخ رقم کی تھی اور اس کا مقصد ویٹ لفٹر طلحہ طالب سے بہتر کرنا تھا جو پہلے ٹوکیو میں کانسی سے محروم ہو گیا تھا۔ ارشد بالآخر پانچویں نمبر پر رہا ، یعنی پاکستان کا اولمپک میڈل کا انتظار 2024 میں پیرس میں کھیلوں تک جاری رہے گا۔ ارشد اور طلحہ کی پرفارمنس نے ظاہر کیا کہ پاکستان 2016 کے ریو اولمپکس کے بعد سے بہتر ہوا ہے۔ لیکن اسے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کسی بھی حوصلہ افزائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ، حالانکہ ایک سابقہ ​​کھلاڑی کے طور پر وہ کھیلوں کے شعبے کو گھیرنے والی سنگین خامیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ارشد اور طلحہ نے اپنی اپنی صلاحیتوں اور جدوجہد کی وجہ سے ہماری امیدوں کو اپنے متعلقہ فیڈریشنوں کی تھوڑی سی مدد سے بلند کیا تھا۔ پیرس کی الٹی گنتی اب شروع ہو رہی ہے۔ اگر ارشد اور طلحہ 2024 میں اپنی پرفارمنس میں بہتری لانا چاہتے ہیں اور اولمپک میڈلز جیتنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو ابھی سے کام شروع کرنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اولمپکس ایک ایسے مرحلے کی وضاحت کرتا ہے جہاں بہترین یا بہترین کے قریب رہنے والے اوپر آتے ہیں۔ یہ تب ہی ہوتا ہے جب کوئی نظام موجود ہو – ہر سطح پر۔ پاکستان میں کھیلوں میں تیزی آئی ہے ، ٹوکیو اولمپکس مسلسل دوسرے کھیلوں کی نشاندہی کر رہا ہے جس کے لیے قومی ہاکی ٹیم ملک کے 10 اولمپک تمغوں میں سے آٹھ کی فاتح کوالیفائی ہی نہیں کر سکی۔ یہاں تک کہ غیر اولمپک کھیلوں جیسے کرکٹ اور اسکواش میں ، جہاں پاکستان کبھی غلبہ رکھتا تھا ، کارکردگی خراب ہوگئی ہے۔ حکومت ، اسپورٹس فیڈریشنز اور اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان اختلافات مدد نہیں کرتے اور 18 ویں ترمیم کے مطابق صوبوں کو کھیلوں کی منتقلی نے اپنی ہی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں ، جس سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو صرف محدود اختیارات حاصل ہیں۔ وزیر اعظم کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی میٹنگ فوری طور پر بلائے اور آگے کا راستہ وضع کرے اور ملک میں کھیلوں کی ثقافت کی تعمیر کے لیے کام کریں۔ یہ کھیلوں تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے ماحول بنانے کے بارے میں ہے جس سے سکول لیول سے ہی بچوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے شعبے میں بھی ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ اولمپکس میڈلز جیتنے والے سبھی ممالک سکول کے بچوں کو ہی تربیت دینا شروع کردیتے ہیں جس سے ایک تو ٹیلنٹ ہنٹ میں آسانی ہوتی ہے اور دوسری طرف مقابلوں کا وقت آنے تک انکی دماغی اور جسمانی پختگی پیدا ہوجاتی ہے مگر اس کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی اور کھیلوں کے مقابلوں کی اشد ضرورت ہے۔ کھیلوں کی سہولیات کی تزئین و آرائش اور ترقی اس کی طرف پہلا قدم ہے ، جو کہ نچلی سطح کے پروگراموں کو پنپنے میں مدد دے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکولوں کو اپنے آپ کو حکومتی منصوبے کے مطابق کرنا چاہیے اور جسمانی تندرستی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے کافی وقت اور وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ یہ ایک سے زیادہ عہدیداروں کی چین کا ڈھانچہ ہونا چاہیے جو باصلاحیت افراد کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی سطح تک لے جائے جہاں فیڈریشن ، مثالی طور پر کھیلوں کے پیشہ ور افراد کے زیر انتظام ، انہیں اگلے درجے تک لے جائیں گے۔ ترقی پذیر کھیلوں کی ثقافت نہ صرف کھلاڑیوں کی ایک وسیع بنیاد فراہم کرے گی بلکہ مقابلہ اور نمائندگی میں بھی اضافہ کرے گی ، جس سے عالمی مقابلوں میں تمغے جیتنے کے زیادہ امکانات پیدا ہوں گے۔

    @ AtiqPTI_1