Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • دیا جلائے رکھنا ہے . تحریر : عظمیٰ صابر

    دیا جلائے رکھنا ہے . تحریر : عظمیٰ صابر

    پاکستان، کلمے سے عقیدت کا ثبوت اس عقیدت میں 1947 میں گھر بار، جان ومال، سب کچھ وار دیا گیا کلمے کےنفاذ کےلئے ایک عشق، ایک جنون دنیا نے دیکھا رب کی دھرتی پر، رب کا نظام قائم کرنے کی خواہش اسکی بنیادوں میں ہمارےپرکھوں کا لہو یہ ہمارے لئے اللہ کاخوبصرت ترین انعام
    عزم عالیشان
    ہمارا پاکستان

    لیکن …….
    کبھی سوچا ہے آج کی نسل نے کیا آج ہم ان ارواح کا سامناسر اٹھا کر کرسکتے ہیں جنہوں نے اسکے حصول اور اسکی بقا کےلئے جام شہادت نوش کیا ؟
    وہ قربانیاں جو پاکستان کے حصول کے لئے عوام کی طرف سے دی گئیں اور وہ قربانیاں جو ہماری افواج اسکی بقا اور تحفظ کے لئے مسلسل آج تک دیتی ارہی ہے کیا یونہی رائیگاں چلی جائیں گی؟
    چشم تصور میں کرپانوں پر جھولتے معصوم بچوں کے لاشوں کولا کر دیکھیں کیا وہ معصوم جسم سوال بن کر آنکھوں کے سامنے جھول نہیں جاتے؟
    کہ ہم کس جرم کی پاداش میں جان سے گئے؟
    صرف مسلمان ہونا ,مسلمان گھرانے میں آنکھ کھولنا اتنا بڑا جرم کہ ہماری سانسیں چھین لی گئیں؟
    سانسیں چھیننے والے تو اپنے نا تھے لیکن ہمارے اپنوں نے جن سے ہمارا کلمے کا تعلق تھا ,جس قوم کی یہ معصوم کلیاں تھیں
    انہوں نے بھی ہماری قربانیوں اور شہادتوں کو بھلادیا اس مقصد کو بھلادیا جس کی خاطر ملک حاصل کیا گیا کیا یہ بچے بروز حشر ہمارا دامن نہیں تھامیں گے؟
    جواب طلب نہیں کریں گے؟
    لیکن ہم تو خود میں اسقدر مگن ہیں کہ آج ہمارے معاشرے میں بچے ہی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں
    عدم تحفظ کا شکارہیں
    کبھی ماضی میں جھانکو تو وہ بےردا بہنیں اور بیٹیاں نظر آتیں جو بھیڑیوں کا شکار بنیں ,وہ جو اپنی عزت بچانے کے لئے وقت سے پہلے دنیا سے گزر گئیں ,وہ جوانیاں جو زندگی جی نا پائیں
    وہ بچیاں جنہوں نے زندہ رہنے سے مرجانا بہتر جانا ان جانوں کا احسان کبھی چکا پائیں گے ہم؟
    نہیں یہ ممکن نہیں,بلکل بھی ممکن نہیں وہ گھبرو شیردل جوان جو ہمارے بھائ تھے, بیٹے تھے سہارا تھے ,محرم تھے سر کی چھائوں تھے
    ہمارا سائبان تھے اس راہ میں شہید ہوئے کیا وہ شہادتیں بھی رائیگاں جائیں گی
    ان والدین کے نوحے اور فریادیں کیا ہماری سماعتوں تک نہیں پہنچتیں جو اپنےجگر گوشوں , آنکھوں کی ٹھنڈک , اور اپنے آنگن کی کلیوں سے محروم ہوگئے
    اس ملک کے حصول کی خاطر؟
    ہم حس سماعت کھو چکے
    یاقوت گویائ؟
    ہم اپنے مقصد سے بھٹک چکے وہ تمام قربانیاں اور اذیتیں فراموش کرچکے جو مشعل راہ تھیں جو زاد سفر تھیں جو منزل پر پہنچنے کا سبب بن سکتی تھیں جو مقصد کے حصول کا سب سے مضبوط محرک تھیں ہم قوم بنے قربانیاں دیں تب جاکر اس حسین ملک کے وارث بنے

    یادرکھو کہ کوئ وجہ ہے
    پاس اپنے جو اپنی جگہ ہے
    جان سے زیادہ خرچہ ایا
    گھر اپنے تب نام لگا ہے

    لیکن جن کی بدولت وارث بنے انہیں فراموش ناکرو خدارا
    ملک حاصل کرنے کے مقصد کو دوبارہ تھام لو "بھیڑ اور ہجوم "نہیں دوبارہ قوم بن کر ابھرو یادرکھو
    "ہر فرد ہے ملت کے کےمقدر کاستارہ ”
    خود کو اس تقدیر کا حصہ بنائو
    جو اس ملک کونکھاردے
    اس ملک کی نسلوں کو سنواردے
    آپکا سر فخر سے بلند کردے
    بروز حشر سیدالانبیاءﷺ کے سامنے ندامت سےبچالے
    کیا جی نہیں چاہتا کہ قائد بھی تمہیں WELL DONE کہہ دیں؟

    کیا جی نہیں چاہتا کہ
    شاعر مشرق تمہیں دیکھ کر مسکرادیں؟
    کیا جی نہیں چاہتا کہ :
    فاطمہ جناح تمہارا شانہ تھپتھپا دیں
    میرا تو جی چاہتا ہے کہ
    اللہ ایسا کوئ لمحہ میرے یامیری نسلوں کے نصیب میں بھی لکھ دے
    سمجھوں گی زندگی بامقصد رہی
    کچھ تو حق ادا ہوا

    موج بڑھے یا آندھی آ ئے
    دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے
    گھر تو آخر اپنا ہے

    @Nucleus_Pak

  • قومی پرچم کی اہمیت اور احترام تحریر : ثمرہ مصطفی

    قومی پرچم کی اہمیت اور احترام تحریر : ثمرہ مصطفی

    کہنے کو توپرچم کپڑے کا ایک ٹکڑاہے جب یہ کپڑا کسی خاص تناسب اور مخصوص  رنگوں کے باعث پرچم کی شکل اختیار کرلیتا ہے تویہ محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں رہتا بلکہ یہ اس ملک کی عزت اوروقار کی علامت بن جاتا ہے قومی پرچم کسی بھی ملک کی پہچان اور شناخت ہوتا ہے.ہمارا پرچم ہماری آزادی اور خود مختاری کا نشان ہے . ہمارا پرچم دو رنگوں پر مشتمل ہے۔ سبزاورسفیدرنگ۔  سفید رنگ ایک چوتھاٸی اور سبز رنگ تین چوتھاٸی ہوتا ہے۔ سبز رنگ مسلمانوں کی اور سفید رنگ اقلیتوں کی نماٸندگی کرتا ہے۔ یوم آزادی کے دن کو بہت جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔اس دن ہر عمارت ،دوکان، اور سواری پر لوگ جھنڈا لگاتے ہیں ۔لیکن ضرورت اس چیزکی ہے کہ نوجوان نسل اس پرچم کی اہمیت اور احترام کے تقاضوں سے آگاہ ہوں۔سربلند پرچم قوم کی ترقی ،عظمت اور بہادری کی علامت ہوتا ہے۔ ہم قومی ترانے میں پڑھتےہیں۔
                             پرچمِ ستارہ ہو ہلال
                             رہبر ترقی وکمال
    اسکا مطلب ہےکہ پرچم پر بنا ہوا ہلال ہماری ترقی کا راہبر ہے۔ہلال پہلی رات کے چاندکو کہتے ہیں۔جس طرح ہلال بڑھتے بڑھتے پوراچاند بن جاتا ہے،اسطرح اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا وطن بھی ترقی کے راستے پرگامزن رہےگا۔اس پر پانچ کونوں والا ستارہ بناہواہے۔پانچ کونوں سے مراد اسلام کے پانچ ستون ہیں۔ہم وطن سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن یہ شاید ہی جانتے ہوں کہ قومی پرچم کا ڈیزاٸن کس شخصیت نے تیار کیا تھا۔جناب امیرالدین قدواٸی نے ہمارے پیارے پرچم کا ڈیزاٸن تیارکیا تھا۔ اسلام میں پرچم کا آغاز ہجرت کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ مکہ سے ہجرت فرماکے  جب اپﷺ مدینہ منورہ کی طرف جارہے تھے تو خضرت بریدہ (رضی اللہ تعالی) نے اے اللہ کے نبی ﷺ  مدینے میں داخل ہوتے ہوۓ اپکے پاس جھنڈا ہونا چاہۓ تب اپﷺنے اپنا عمامہ اتار کر نیزے پر باندھ کر خضرت بریدہ کو دیا۔امن اور سلامتی کی پہچان یہ جھنڈا اسلام کا پہلا جھنڈا تھا۔قومی پرچم کی منظوری پہلی دستور ساز اسمبلی میں ١١ اگست ١٩٤٧ کو دی گٸ۔لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پہلی بار قومی پرچم لہرایا۔
    ١٤ اگست قریب اتے ہی جھنڈوں اور جھنڈیوں کی بہاریں آجاتی ہیں ۔خواتین ،بچے ،بڑے ،بوڑھے سب جھنڈے ، بیچز اور جھنڈیوں کی خرایداری میں لگ جاتے ہیں۔١٤اگست سے ایک یا دو دن پہلے گلی محلے ،دفاتر ،تعلیمی ادارے،اور گاڑیاں سجانے کا رواج برسوں سے چلا آرہا ہے ۔١٤اگست سے پہلے تقریبا جھنڈے،جھنڈیوں اور سبزاور سفید لاٸٹوں سے سجا دیا جاتا ہے۔یہ نظارہ ناصرف انتہاٸی خوبصورت لگتا ہے بلکہ قوم کی اپنے وطن سے سچی محبت کوبھی ظاہر کرتا ہے۔لیکن پتہ نہیں ١٤ اگست کے اگلے دن ہی یہ جذبہ کہاں غاٸب ہو جاتا ہے۔یہ سوال توسبکوحیران کردینے والا ہے۔جو جھنڈیاں اور جھنڈے ہم ١٤ اگست کو اپنے گلی محلے کو سجانے کیلے لگاتے ہیں ۔توپھر انکے احترام و تقدس کا خیال کیوں نہیں رکھتے۔آخر  کیوں دوسرے ہی دن وہی جھنڈیاں ہمارے پیروں تلے روند دی جاتی ہیں یا زمین پر دھول میں پڑی ہوتیں ہیں ۔آخر کیوں جو جھنڈیاں یاپرچم ہمارے گھروں میں احترام سے  سجاۓ جاتے ہیں ۔وہ بعد میں کٸی حصوں میں تقسیم ہوکر پھٹ جاتے ہیں اورپھر کوڑے دان میں پھینک دے جاتے ہیں ۔کیا اپ اسکی وجہ جانتے ہیں،اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے پرچم کی اہمیت اور احترام  سے واقف نہیں۔بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جویہ نہیں جانتے کہ پاکستان کے آٸین کے مطابق کوٸی بھی شہری سواٸےصدروزیراعظم،آرمی چیف سمیت کسی اعلی عہدے پرفاٸز شخص بھی پرچم کو اپنے گھریا دفتر پر نہیں لہرا سکتا، صرف ١٤ اگست کے دو دن تک قومی پرچم اپنے گھر یا دیگرمقامات پرلہرانے کی اجازت ہوتی ہے۔اسکے بعد پرچم کو فوری اتار دینے کی ہدایت آٸین میں موجود ہے۔آٸین میں موجود اس شق کا مقصد قومی پرچم کی اہمیت کا پامال ہونے سے بچانا ہےتاکہ پرچم کی بے حرمتی نہ ہو جو کہ اب عام ہو چکی ہے۔چودہ اگست کے دن جھنڈیاں خریدی اور لگائی جاتی ہیں لیکن ان جھنڈیوں کی حفاظت نہیں کی جاتی وہ گلیوں آور بازاروں میں جگہ جگہ گیری پڑی نظر آتی ہیں میری سب سے گزارش ہے کہ جھنڈیاں لگائیں تو انکی حفاظت بھی کریں چودہ اگست گزرنے کے بعد ان جھنڈیوں کو اتار کر رکھ لیں سنبھال کر جہاں جہاں آپ کو جھنڈی گیری ہوئی نظر آئے فورا اٹھائیں اور اگر آپ ان چیزوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو جھنڈیاں نہ لگائیں کیونکہ جھنڈے کی بے حرمتی ہوتی ہے۔کیونکہ پرچم کا اخترام ہم سب پر فرض ہےکیونکہ پرچم کسی بھی قوم کی پہچان اور فخر ہوتاہے۔اسے پیروں تلے روند کر اسکی بے حرمتی نہ کریں اور نہ ہی اپنے تفخر کو خود مسخ کریں

    ‎@Samra_Mustafa_

  • غیبت ایک مرض ۔حصہ دوم  تحریر: محمد آصف شفیق

    غیبت ایک مرض ۔حصہ دوم تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صحابہ کرام سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کا ذکر اس طرح کرو کہ جس کو وہ اگر سن لے تو ناپسند کرے۔ بعض صحابہ کرام نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میرے اس بھائی میں جس کا میں نے برائی کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ عیب ہوں جو میں نے بیان کیا ہے تو کیا جب بھی غیبت ہوگی یعنی میں نے ایک شخص کے بارے میں اس کے پیٹھ پیچھے یہ ذکر کیا کہ اس میں فلاں برائی ہے جب کہ اس میں وہ واقعتًا برائی ہو اور میں نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہو اور ظاہر ہے کہا اگر وہ شخص اپنے بارے میں میرے اس طرح ذکر کرنے کو سنے تویقینًا خوش ہوگا تو کیا میرا اس کی طرف کسی برائی کو منسوب کرنا جو درحقیقت اس میں ہے غیبت کہلائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی جس برائی کا ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ برائی موجود نہیں ہے جس کو تم نے ذکر کیا ہے تم نے اس پر بہتان لگایا یعنی یہی توغیبت ہے کہ تم کسی کا کوئی عیب اس کے پیٹھ پیچھے بالکل سچ بیان کرو اور اگر تم اس کے عیب کو بیان کرنے میں سچے نہیں ہو کہ تم نے اس کی طرف جس عیب کی نسبت کی ہے وہ اس میں موجود نہیں ہے تو یہ افتراء اور بہتان ہے جو بذات خود ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ (مسلم) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اپنے کسی مسلمان بھائی کی وہ برائی بیان کی جو واقعی اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تم نے اس کی طرف ایسی برائی کی نسبت کی جو اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔
    تشریح۔
    غیبت یعنی پیٹھ پیچھے کسی کا کوئی عیب بیان کرنا نہ صرف ایک گناہ لوگوں میں زیادہ پھیلا ہوا ہے ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جو اس برائی سے بچے ہوئے ہیں ورنہ عام طور پر ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں غیبت کرتا نظر آتا ہے لہذا ضروری ہے کہ اس بات میں کچھ تفصیل بیان کردی جائے۔
    جیساکہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے غیبت اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی ایسے شخص کے بارے میں جو موجود نہ ہو اس طرح کا ذکر کرے جس سے اس کا کوئی عیب ظاہر ہو اور وہ اس عیب کے ذکر کیے جانے کو ناپسند کرے اور اسعیب کا تعلق خواہ اس کے بدن سے ہو یا عقل سے خواہ اس کے دین سے ہو یا دنیا سے ، خواہ اس کے اخلاق وافعال سے ہو یا نفس سے خواہ اس کے مال و اسباب سے ، ہو یا اولاد سے خواہ اس کے ماں باپ سے ہو یا بیوی و خادم وغیرہ سے خواہ اس کے لباس وغیرہ سے ہو یا رفتاروگفتار سے ، خواہ اس کی ہیبت کذائی سے یانشست وبرخاست سے ، خواہ اس کے حرکات وسکنات سے ہو یا عادات واطوار سے، خواہ اس کی کشادہ روئی سے ہو یا ترش روئی سے اور خواہ اس کی تندخوئی وسخت گوئی سے ہو یانرم خوئی اور خاموشی سے اور یا ان چیزوں کے علاوہ کسی بھی ایسی چیز سے ہو جو اس سے متعلق ہوسکتی ہے نیز اس عیب کے ساتھ اس کا ذکر کرناخواہ الفاظ کے ذریعہ ہو یا اشارہ و کنایہ اور رمز کے ذریعہ اور اشارہ کنایہ بھی خواہ لفظ وبیان کے ذریعہ ہو یا ہاتھ آنکھ ، ابرو اور سر وغیرہ کے ذریعہ۔ اس سلسلہ میں یہ قاعدہ کلیہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اگر کسی شخص کا کوئی عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کیا جائے جو دوسروں کی نظروں میں اپنے ایک مسلمان بھائی کی حثییت و شخصیت کو گھٹاتا ہے تو یہ سخت غیبت ہے اور حرام ہے اور اگر کسی کے منہ پر اس کے کسی عیب کو اس طرح بیان کیا جائے جس سے اس کو ناگواری اور دل شکنی ہو تو یہ ایک طرح کی بے حیائی ، سنگدل اور ایذاء رسانی ہے کہ یہ اور بھی سخت گناہ ہے۔غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے غیبت کرنے والا اس سے معافی طلب کرے بشرطیکہ اس غیبت کی خبر اس تک پہنچی ہو اور اس سے معافی کی طلب کے وقت تفصیل بیان کرناضروری نہیں ہے بلکہ اجمالی طور پر اتنا ہی کافی ہے کہ میں نے تمہاری غیبت کی ہے مجھے معاف کردو اور اگر وہ غیبت اس تک نہ پہنچی بایں طور کہ وہ مرگیا ہویا کسی دور دراز جگہ پر ہو تو اس صورت میں استغفار کافی ہے یعنی اپنے اس گناہ پر اللہ سے مغفرت وبخشش طلب کرے نیز احادیث میں یہ بھی منقول ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے اس کے حق میں استغفار کرناغیبت کے کفارہ میں داخل ہے۔
    غیبت کس صورت میں جائز ہے : علماء نے لکھا ہے کہ کسی کا عیب اس کے پیٹھ پیچھے بیان کرنا بعض صورتوں میں جائز ہے مثلا کوئی شرعی صورت لاحق ہو، جیسے ظالم کا ظلم بیان کرنا، حدیث کے راویوں کا حال ظاہر کرنا، نکاح کے مشورہ کے وقت کسی کا نسب یا حال رویہ بیان کرنا، یا کوئی مسلمان کسی سے امانت وشرکت وغیرہ کا کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو اس مسلمان کونقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اس شخص کارویہ بیان کردینا وغیرہ وغیرہ اسی طرح کوئی شخص ظاہری طور پردین دار زندگی کا حامل ہے یعنی نماز بھی پڑھتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہے اور دیگر فرائض بھی پورے کرتا ہے مگر اس میں یہ عیب ہے کہ لوگوں کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے تکلیف ونقصان پہنچاتا ہے تو لوگوں کے سامنے اس کے اس عیب کا ذکر کرنا غیبت نہیں کہلائے اور اگر اس شخص کے بارے میں ذمہ داران حکومت کواطلاع دے دی جائے تاکہ وہ اس کو متنبہ کر دیں اور اس کی ایذاء رسانی سے لوگ محفوظ رہیں تو اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ۔علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ بطریق اصلاح و اہتمام کسی شخص کے عیب کو ذکر کرنا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا ممانعت اس صورت میں ہے کہ جب کہ اس کے عیب کو ذکر کرنے کا مقصد اس شخص کی برائی بیان کرنا اور اس کو نقصان و تکلیف پہنچانا ہو اسی طرح کسی شخص کی کسی شہر والوں یا کسی بستی کے لوگوں کی غیبت نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ متعین طور پر کسی جماعت کا نام لے کر اس کی غیبت نہ کرے۔ مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 766
    اللہ رب العالمین ہمیں غیبت جیسی بیماری سے محفوظ رکھیں آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • یوم آزادی اور ہم  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    یوم آزادی اور ہم تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان ایک تحفہ ،ایک نعمت ہے،جو ہمیں اللہ پاک نے عطا کی ہے۔اگر ہمیں اندازہ ہو جاۓ کہ یہ ملک ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے،تو ہم اسکی قدر کرنا بھی سیکھ جائیں۔
    پاکستان کا حصول آسان نہ تھا۔اسکے لئے برطانوی سامراج اور ہندو بنیے سے جنگ لڑنا پڑی۔
    تحریک آزادی میں بے شمار لوگوں نے اپنی جانوں کے نزرانے پیش کر کے اس ملک کی بُنیاد رکھی۔
    عظیم تھے وہ لوگ،پاکستانی قوم ہمیشہ اُن کی احسان مند رہے گی۔
    ہم سب کی خوش قسمتی تھی کہ حصول پاکستان کی جنگ کے وقت ہمیں قائد اعظم محمد علی رح جیسے عظیم قائد کی مدبرانہ اور جرات مندانہ قیادت دستیاب تھی۔
    قائد اعظم حقیقی معنوں میں نہ بکنے والے اور نہ جُھکنے والےلیڈر تھے۔اُن کی ولولہ انگیز قیادت میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔
    آج ہم سب سوچتے ہیں کہ ہمیں پاکستان نے کیا دیا؟
    کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا؟
    یہ ملک جو کبھی دوسروں کے لئے مثال تھا۔
    اسے دنیا کے لئے نمونہ عبرت بنانے والے ناہنجار کون ہیں؟
    اس سوال کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ سیاستدان اور بیور کریسی ہی اس ملک کی تباہی کی زمہ دار ہے۔
    مگر یہ جواب اتنا بھی سادہ نہیں۔اس ملک کا بیڑہ غرق کرنے والوں میں بدقسمتی سے ہم سب شامل ہیں۔
    لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم کرنے والوں کو اقتدار میں کون لے کر آتا ہے،؟
    کیا یہ مافیاز آسمان سے ٹپک پڑتے ہیں؟
    نہیں انہیں ہم سب مل کر لے کر آتے ہیں۔ہم ان کے اقتدار پہنچنے کی سیڑھی ہیں۔جسے یہ مفاد پرست اپنے مطلب کے لئے استعمال کر کے ایک سائیڈ پہ لگا دیتے ہیں۔
    لُوٹ مار کا پتہ ہونے کے باوجود ہم اگلی دفعہ پھر بیوقوف بننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
    جس کرپٹ الیٹ کو ہم اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں،اُنہیں ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے بیورو کریسی کا تعاون درکار ہوتا ہے۔اسی تعاون اور ناجائز کاموں میں فرمانبرداری کے لئے وہ ایسے بیورو کریٹس کو اہم پوسٹوں پر تعینات کرتے ہیں،جو انہیں تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ رنگتے ہیں۔
    اس ساز باز اور ہمارے غلط فیصلوں کی بدولت اقتدار حاصل کرنے والے پاپی سیاستدانوں کی بدولت پاکستان کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ کبھی ہمارا مقابلہ بھارت سے ہوتا تھا،کیونکہ بنگلہ دیش جیسے ملک ہم سے بہت پیچھے تھے۔
    مگر اب یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ بنگلہ دیش جیسے ملک بھی ہم سے بہت آگے نکل چُکے ہیں۔
    دیگر ملکوں کا آگے بڑھنے کا سفر جاری ہے،جبکہ ہم دن بدن پیچھے جا رہے تھے اور پھربالاخر وقت بدلا،
    سیاسی حالات بدلے اور کم ازکم مرکز میں نواز شریف اور زرداری رجیم سے جان چھوٹی۔
    ملک کو بنگلہ دیش،نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک سے بھی پیچھے دھکیلنے کے زمہ دار یہی لوگ تھے،
    جنہوں نے کئی عشرے لگا کر اپنی تجوریاں تو بھر لیں مگر ملکی خزانہ خالی کر گئے۔
    آج بھی اگر دنیا کے امیر ترین ملکوں اور افراد لی لسٹ دیکھیں تو،
    پاکستان سب سے نیچے اور نواز شریف اور زرداری کا نام امیر ترین افراد کی لسٹ میں نمایاں نظر آۓ گا۔آج حالت یہ ہے کہ ہماری کرنسی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں تقریبا” نصف پر پہچ چکی ہے۔
    موجودہ حکومت کو جس حالت میں ملک ملا،
    غنیمت ہے کہ اسکی ٹوٹی پھوٹی معیشت کا سہارا ملنا شروع ہو گیا ہے۔
    مگر اس حکومت کو ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے،تب جا کر کچھ مداوا کیا جا سکے گا۔
    وطن عزیز کے قیام کے بعد ہمارے پاس PIA،سٹیل مل،ریلوے اور سرکاری ٹرانسپورٹ (GTS)جیسے اچھے ادارے تھے۔آج وہ ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔
    ہم نے متحدہ عرب امارات اور قطرجیسے ملکوں کوانکی ائیر لائنز کھڑی کرنے میں معاونت کی۔
    آج ان ممالک کی ائیر لائنز کا شمار دنیا کی ٹاپ ائیرلائنز میں ہوتا ہے،جبکہ PIAدنیا کی بد ترین ائیر لائن بن چُکی ہے۔ان اداروں میں غیر ضروری سیاسی بنیادوں پربھرتیاں کی گئیں۔جہاں دس آدمیوں کی ضرورت تھی وہاں سو آدمی بھرتی کر لیے گئے۔سامان کی خریداری میں کمیشن کھاۓ گئے۔ہر شعبے میں گھپلوں کی بہتات نے ان اداروں کو زمین بوس کر دیا۔
    آج ہمارے پاس ریلوے کی شکل میں ایک لولی لنگڑی ریلوے موجود ہے۔جو بظاہر کچھ روٹس پر نہ چلنے کے انداز میں چلتی نظر آتی ہے۔
    موجودہ حکومت اس تباہ حال گلشن میں کیا کیا ٹھیک کر پاۓ گی؟
    یہ تو وقت ہی بتاۓ گا۔مگر عمران خان کی نیت ،حب الوطنی اور دیانتداری یرکوئ شک نہیں کر سکتا۔
    میں عمران خان کا سپورٹر ضرور ہوں مگر غلام نہیں۔میں سب سے یہی کہوں گا کہ
    اس پانچ سال کی کارکردگی پر فیصلہ کریں کہ کیا عمران خان ،شریفوں اور زرداری سے بہتر ہے ؟
    کیا اس نے کسی حد تک ملک کی سمت درست کر دی ہے۔
    اگر جواب ہاں میں ہے تو اگلی باری پھر عمران خان
    اور اگر جواب ناں میں ہے تو عمران خان کو بے شک اپنے چاچے دا پُتر مت بنائیں۔اور نہ اسکی ضرورت ہے۔
    ہم نے پاکستان کے لئے سوچنا ہے۔اس وطن کی بہتری کے لئے سوچنا ہے۔ہمارے لئے مقدم صرف اور صرف پاکستان ہے۔
    ہم نے کسی ایک سیاستدان کے لئے نہیں سوچنا،ہماری سوچوں کا محور صرف اور صرف پاکستان ہونا چاہیے۔
    پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔
    قیام پاکستان کا زکر مفکر پاکستان علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال رح کے زکر کے بغیر ہمیشہ نا مکمل رہتا ہے۔
    وہ مفکر پاکستان تھے،جنہوں نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔اس تصور،اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے قائد اعظم رح نے دن رات محنت کی۔اپنی زندگی کا مقصد پاکستان کے حصول کو بنالیا اور بالاخر اللہ پاک نے ان کی شبانہ روز محنت کی بدولت ہمیں پاکستان جیسی نعمت خداوندی اور تحفہ پروردگار عطا کیا۔جس نے نہ صرف ہمارا بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی محفوظ بنا دیا۔
    چودہ اگست یوم آزادی کے اس موقع پر میں اپنے برادر اسلامی ممالک ایران،تُرکی اور سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں،
    جو پاکستان کو بطور ملک تسلیم کرنے والے پہلے ملک بنے۔
    اللہ پاک ہمارے ملک کو امن و استحکام اور خوشحالی سے نوازے۔اور ہمیں وہ فیصلے کرنے کی توفیق دے،جو اس ملک کے لئے بہتر ہوں-آمین #

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • ‏ساتھ مل کر کام کرنا(ٹیم ورک)  تحریر: زاہد کبدانی

    ‏ساتھ مل کر کام کرنا(ٹیم ورک) تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیم ورک ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ٹیم ورک ایک تنظیم کے کام کرنے کی بنیادی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ ، ہر تنظیم کے پاس مخصوص کاموں کو انجام دینے کے لیے کئی ٹیموں کی تقسیم ہوتی ہے۔

    ٹیم ورک کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ اگر کسی تنظیم میں ٹیم ورک کی کمی ہے۔ پھر یہ اس کی کامیابی کی شرح میں رکاوٹ ڈالے گا۔ اس طرح تنظیم گر جائے گی۔ نیز ، یہ اس ماحول کو متاثر کرے گا جس میں لوگ کام کر رہے ہیں۔

    مزید یہ کہ ، تنظیم کا ٹیم ورک کا ایک مختلف درجہ بندی ہے۔ تاکہ کام کا بوجھ تقسیم ہو جائے۔ اور ہر ٹیم میں ایک ماہر ہوتا ہے جو اپنے سابقہ ​​تجربے کے ساتھ مختلف ٹیم ممبروں کی رہنمائی کرتا ہے۔
    کسی تنظیم میں ٹیم ورک کا درجہ بندی۔
    تنظیم میں تین ٹیموں کا ڈویژن ہے – ٹاپ لیول ، مڈل لیول ، لوئر لیول۔

    اعلیٰ سطح: تنظیم کی یہ ٹیم کمپنی کے اہداف کا فیصلہ کرتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ معاشرے کے مختلف شعبوں کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ اور کمپنی کے منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے پالیسیاں بناتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ کمپنی اور اس کے ملازمین کی ترقی پر بھی کام کرتا ہے۔

    کوئی بھی پالیسی بنانے سے پہلے ہر کمپنی کے ذہن میں ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔ تنظیم کا یہ حصہ ہدف کا تجزیہ کرتا ہے۔ تاکہ کمپنی کو اس بات کا یقین ہو کہ اس مقصد کے قریب پہنچنا منافع بخش ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر ، تنظیم کا یہ حصہ بورڈ آف ڈائریکٹرز ، چیف ایگزیکٹو آفیسرز وغیرہ پر مشتمل ہے۔
    درمیانی سطح: درمیانی سطح مینیجر اور سپروائزر پر مشتمل ہوتی ہے۔ کارکنوں کی یہ ٹیم ٹاپ لیول کی بنائی ہوئی پالیسیوں کے نفاذ پر مرکوز ہے۔ مزید یہ کہ ، ٹیم ملازمین کے شعبے کو مختلف کام تفویض کرتی ہے ، تاکہ وہ کمپنی کے اہداف کی طرف کام کریں۔ مزید یہ کہ مڈل لیول ان کے کام کا معائنہ کرتا ہے اور باقاعدہ چیک رکھتا ہے۔

    مختصر میں ، وہ اوپر کی سطح اور درمیانی سطح کے درمیان فرق کو ختم کرتے ہیں۔ اس ٹیم کا حصہ بننے کے لیے ، ایک شخص کو کافی اہل ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس شخص کو تمام کاموں کا علم ہے جو وہ ملازمین کو دے رہا ہے۔
    تب ہی وہ شخص اس قابل ہوگا کہ وہ نچلی سطح کی رہنمائی کرے۔ سب سے اہم کام ملازم کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے ، تاکہ تنظیم بہتر طریقے سے کام کرسکے۔

    نچلی سطح: نچلی سطح ملازمین پر مشتمل ہوتی ہے۔ وہ مڈل لیول کی طرف سے انہیں تفویض کردہ کاموں پر کام کرتے ہیں۔ روزگار کے شعبے میں ٹیم ورک کی ہم آہنگی کی بہت ضرورت ہے۔ وقت کے اندر ہر کام کو جمع کرنے کی ضرورت کے طور پر.
    تاکہ تنظیم آسانی سے چل سکے۔ تنظیم کی بنیاد روزگار کا شعبہ ہے۔ جیسا کہ ان کے بغیر ، پالیسیوں کا اطلاق ممکن نہیں ہے۔

    ٹیم ورک کی اہمیت
    ٹیم ورک دنیا کے کسی بھی حصے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ چاہے وہ کوئی تنظیم ہو یا چھوٹا کاروبار۔ ٹیم ورک کامیابی کی کلید ہے۔ ہمارے اسکولوں میں ، ہم بہت سے کھیل کھیلتے ہیں جن میں ٹیم ورک شامل ہوتا ہے۔
    اس طرح ہم بچپن سے ہی ٹیم ورک کے بارے میں جانتے تھے۔ کیونکہ ہمارے اساتذہ ٹیم ورک کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ہمیں صحیح راہ پر گامزن کیا۔

    آخر میں ، ٹیم ورک ٹیم دو لوگوں کے درمیان تعلق پیدا کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان ایک سماجی وجود ہے ، لہذا یہ انسان کے ماحول کے لیے فائدہ مند ہے

    ‎@Z_Kubdani

  • کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    تقریبا ایک دہائی میں پہلی بار پاکستان کو اولمپک میڈل کی جیت کی سنجیدہ امید تھی جب 1992 کے بعد ایتھلیٹکس میں پہلی بار ارشد ندیم ہفتے کے روز مردوں کے جیولین فائنل کے لیے ٹوکیو اولمپک اسٹیڈیم پہنچے۔ گیمز کے لیے کوالیفائی کرنے والے پاکستان کے پہلے ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹ ارشد نے فائنل میں پہنچنے کے بعد تاریخ رقم کی تھی اور اس کا مقصد ویٹ لفٹر طلحہ طالب سے بہتر کرنا تھا جو پہلے ٹوکیو میں کانسی سے محروم ہو گیا تھا۔ ارشد بالآخر پانچویں نمبر پر رہا ، یعنی پاکستان کا اولمپک میڈل کا انتظار 2024 میں پیرس میں کھیلوں تک جاری رہے گا۔ ارشد اور طلحہ کی پرفارمنس نے ظاہر کیا کہ پاکستان 2016 کے ریو اولمپکس کے بعد سے بہتر ہوا ہے۔ لیکن اسے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کسی بھی حوصلہ افزائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ، حالانکہ ایک سابقہ ​​کھلاڑی کے طور پر وہ کھیلوں کے شعبے کو گھیرنے والی سنگین خامیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ارشد اور طلحہ نے اپنی اپنی صلاحیتوں اور جدوجہد کی وجہ سے ہماری امیدوں کو اپنے متعلقہ فیڈریشنوں کی تھوڑی سی مدد سے بلند کیا تھا۔ پیرس کی الٹی گنتی اب شروع ہو رہی ہے۔ اگر ارشد اور طلحہ 2024 میں اپنی پرفارمنس میں بہتری لانا چاہتے ہیں اور اولمپک میڈلز جیتنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو ابھی سے کام شروع کرنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اولمپکس ایک ایسے مرحلے کی وضاحت کرتا ہے جہاں بہترین یا بہترین کے قریب رہنے والے اوپر آتے ہیں۔ یہ تب ہی ہوتا ہے جب کوئی نظام موجود ہو – ہر سطح پر۔ پاکستان میں کھیلوں میں تیزی آئی ہے ، ٹوکیو اولمپکس مسلسل دوسرے کھیلوں کی نشاندہی کر رہا ہے جس کے لیے قومی ہاکی ٹیم ملک کے 10 اولمپک تمغوں میں سے آٹھ کی فاتح کوالیفائی ہی نہیں کر سکی۔ یہاں تک کہ غیر اولمپک کھیلوں جیسے کرکٹ اور اسکواش میں ، جہاں پاکستان کبھی غلبہ رکھتا تھا ، کارکردگی خراب ہوگئی ہے۔ حکومت ، اسپورٹس فیڈریشنز اور اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان اختلافات مدد نہیں کرتے اور 18 ویں ترمیم کے مطابق صوبوں کو کھیلوں کی منتقلی نے اپنی ہی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں ، جس سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو صرف محدود اختیارات حاصل ہیں۔ وزیر اعظم کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی میٹنگ فوری طور پر بلائے اور آگے کا راستہ وضع کرے اور ملک میں کھیلوں کی ثقافت کی تعمیر کے لیے کام کریں۔ یہ کھیلوں تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے ماحول بنانے کے بارے میں ہے جس سے سکول لیول سے ہی بچوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے شعبے میں بھی ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ اولمپکس میڈلز جیتنے والے سبھی ممالک سکول کے بچوں کو ہی تربیت دینا شروع کردیتے ہیں جس سے ایک تو ٹیلنٹ ہنٹ میں آسانی ہوتی ہے اور دوسری طرف مقابلوں کا وقت آنے تک انکی دماغی اور جسمانی پختگی پیدا ہوجاتی ہے مگر اس کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی اور کھیلوں کے مقابلوں کی اشد ضرورت ہے۔ کھیلوں کی سہولیات کی تزئین و آرائش اور ترقی اس کی طرف پہلا قدم ہے ، جو کہ نچلی سطح کے پروگراموں کو پنپنے میں مدد دے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکولوں کو اپنے آپ کو حکومتی منصوبے کے مطابق کرنا چاہیے اور جسمانی تندرستی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے کافی وقت اور وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ یہ ایک سے زیادہ عہدیداروں کی چین کا ڈھانچہ ہونا چاہیے جو باصلاحیت افراد کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی سطح تک لے جائے جہاں فیڈریشن ، مثالی طور پر کھیلوں کے پیشہ ور افراد کے زیر انتظام ، انہیں اگلے درجے تک لے جائیں گے۔ ترقی پذیر کھیلوں کی ثقافت نہ صرف کھلاڑیوں کی ایک وسیع بنیاد فراہم کرے گی بلکہ مقابلہ اور نمائندگی میں بھی اضافہ کرے گی ، جس سے عالمی مقابلوں میں تمغے جیتنے کے زیادہ امکانات پیدا ہوں گے۔

    @ AtiqPTI_1

  • آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد قوم کی ذمہ داریاں – عمران محمدی ( عفا اللہ عنہ )

    آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد قوم کی ذمہ داریاں – عمران محمدی ( عفا اللہ عنہ )

    آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد قوم کی ذمہ داریاں
    بقلم : عمران محمدی ( عفا اللہ عنہ )

    اللہ تعالٰی کا ہم پر بہت زیادہ فضل اور احسان ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں آزاد ملک میں آزادی کی نعمت سے نوازا
    ورنہ اگر آج ہم دنیا میں ان ممالک اور اقوام کی طرف دیکھیں جو ابھی تک کفار کی غلامی اور قبضے میں ہیں تو ان پر ہونے والے ظلم و ستم دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ غلامی کس قدر بدترین چیز ہے

    آزاد ہونے کے بعد ہمارے اوپر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے

    1️⃣___ *غلامی کے دنوں کو یاد رکھنا اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہنا*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡـتُمۡ قَلِيۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰٮكُمۡ وَاَيَّدَكُمۡ بِنَصۡرِهٖ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ
    اور یاد کرو جب تم بہت تھوڑے تھے، زمین میں نہایت کمزور تھے، ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک کرلے جائیں گے تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد کے ساتھ تمہیں قوت بخشی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، تاکہ تم شکر کرو۔
    – الأنفال – آیت 26

    2️⃣___ *آزادی ملنے کے بعد شکرانے کے طور پر اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھنا وگرنہ گناہوں کی وجہ سے یہ نعمت ضائع بھی ہو سکتی ہے*

    فرمایا اللہ تعالیٰ نے
    اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّنۡ لَّـكُمۡ وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَيۡهِمۡ مِّدۡرَارًا ۖ وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ
    کیا انھوں نے نہیں دیکھا ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے، جنھیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا اور ہم نے ان پر موسلا دھار بارش برسائی اور ہم نے نہریں بنائیں، جو ان کے نیچے سے بہتی تھیں، پھر ہم نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسرے زمانے کے لوگ پیدا کردیے۔
    الأنعام – آیت 6

    ایک دوسرے مقام پر فرمایا
    وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ عَتَتۡ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهٖ فَحَاسَبۡنٰهَا حِسَابًا شَدِيۡدًاۙ وَّعَذَّبۡنٰهَا عَذَابًا نُّكۡرًا‏
    اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا، بہت سخت محاسبہ اور انھیں سزا دی، ایسی سزا جو دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔
    الطلاق – آیت 8

    ایک بستی کی مثال دے کر سمجھایا
    فرمایا
    وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرۡيَةً كَانَتۡ اٰمِنَةً مُّطۡمَٮِٕنَّةً يَّاۡتِيۡهَا رِزۡقُهَا رَغَدًا مِّنۡ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الۡجُـوۡعِ وَالۡخَـوۡفِ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ
    اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلاہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے
    النحل – آیت 112

    3️⃣___ *آزادی ملنے کے بعد اپنے ملک میں اللہ تعالٰی کے احکامات اور دستور کا نفاذ کیا جائے اور غیراللہ کے نظاموں کو اپنے خطے میں نافذ نہ کیا جائے*

    فرمایا
    اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ ؕ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ
    وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔
    القرآن. الحج – آیت 41

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب حکمران بنے اور فتنے پیدا ہوئے تو انہوں نے فرمایا
    والله لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة…..
    اللہ کی قسم میں ہر اس شخص سے لڑائی کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق روا رکھے گا
    بخاری

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی یہی ارشاد فرمایا کہ جب تک لوگ نماز اور زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تب تک مجھے ان سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے

    4️⃣ *___آزاد ہونے کے بعد آزادی کے اصل مقصد اور نظریہ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے اور اس پر مکمل کاربند رہنا لازمی سمجھا جائے پاکستان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے لیے حاصل کیا گیا تھا، اسے سیکولر سٹیٹ بنانے کے خواب مت دیکھے جائیں*

    نظریہ پاکستان دراصل اسلامی نظریہ فکروعمل( لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ )کے سوتے سے پھوٹتا ہوا وہ شیریں چشمہ ہے جو پاکستان کے پس منظر میں نو مولود کے لیے شیر مادر کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کی ترقی کا راز اسی چشمے سے ہی سیرابی میں مضمر ہے۔پاکستان کے اندر انفرادی و اجتماعی مسائل کے حل کی ضمانت صرف اسی نظام میں ہے جو مکہ اور مدینہ کے راستے یہاں تک پہنچا۔پاکستان کی پیاس اسی چشمے سے سیرابی میں ممکن ہے اور پاکستان کی شکم سیری اسی چشمے کے پانی سے تیار کی ہوئی فصلوں میں پوشیدہ ہے۔

    قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
    جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں

    مشرق و مغرب میں پروردہ متعدد نظریات کی چکاچوند نے پاکستان اور اہل پاکستان کو احساس کمتری میں مبتلا کیا ہے ۔ان میں سے کسی نظریے کی تنفیذ اس تسبیح کو دانہ دانہ کر دینے کے مترادف ہو گی جو پاکستان کی وحدانیت کا باعث ہے۔قرطاس تاریخ گواہ ہے کہ نظریات ہی اقوام کی پہچان ہوتے ہیں۔دیگراقوام کے نظریات اپنانے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان اپنا وجودگم کر بیٹھے گا بلکہ ذلت،پستی اور گمشدگی کی ان اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑے گا جہاں سے واپسی ناممکنات عالم میں سے ہے۔

    5️⃣__ *آزاد ہونے کے بعد من حیث القوم اپنے آپ کو تہذیب اغیار سے بھی محفوظ رکھا جائے*

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی قوم کو یہود و نصاری اور مشرکین کی تہذیبوں کے اثرات بد سے محفوظ رکھا اور اس معاملے میں اس حد تک محتاط ہوئے کہ اھل یہود سے ملکر روزہ رکھنا بھی برداشت نہ کیا

    فرمایا
    لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع… مسلم

    اور فرمایا
    ( من تشبه بقوم فهو منهم )

    اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

    6️⃣___ *آزاد ہونے کے بعد اپنی قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے اسباب و وسائل مہیا کیے جائیں تاکہ جہالت کے اندھیروں سے نکل کر شعور کی روشنی میں داخل ہوا جائے*

    جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں جامعہ صفہ کی بنیاد رکھ کر تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کیا تھا

    اسی طرح خواتین کے لیے باقاعدہ تعلیمی مواقع فراہم کئے گئے

    بدر کی جنگ میں جو قیدی ہاتھ لگے ان کے علوم و فنون سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا گیا

    عبرانی زبان سیکھنے کے لیے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو باقاعدہ طور پر تیار کیا

    7️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے سابقہ علاقوں اور ملکوں کو واپس اپنے قبضے میں لانے کے لیے جدوجہد کی جائے*

    ارشاد باری تعالٰی ہے
     ؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآٮِٕنَا ‌ؕ
    انھوں نے کہا اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ کے راستے میں نہ لڑیں، حالانکہ ہمیں ہمارے گھروں اور ہمارے بیٹوں سے نکال دیا گیا ہے۔ البقرة – آیت 246

    دوسری جگہ فرمایا
    وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ وَاَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ أخرجوكم
    اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور انھیں وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تمہیں نکالا ہے البقرة – آیت 191

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ہجرت کے بعد اپنے سابقہ علاقے( مکہ مکرمہ )پر دوبارہ قبضہ کیا تھا

    8️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے ان بھائیوں کی مدد لازمی کی جائے جو کسی وجہ سے ہجرت نہ کر سکے اور ابھی تک مقبوضہ علاقے میں کفار کے ظلم و ستم میں پس رہے ہیں

    اللہ تعالٰی نے اھل مدینہ کو مکہ میں مقیم مظلوم مسلمانوں کی مدد کا حکم دیا
    فرمایا
    وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا‌ ۚ وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙۚ وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا
    اور تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار بنا۔
    النساء – آیت 75

    وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يُهَاجِرُوۡا مَا لَـكُمۡ مِّنۡ وَّلَايَتِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ حَتّٰى يُهَاجِرُوۡا‌ ۚ وَاِنِ اسۡتَـنۡصَرُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ فَعَلَيۡكُمُ النصر
    اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمہارے لیے ان کی دوستی میں سے کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے
    الأنفال – آیت 72

    اور ان کی آزادی کے لیے کوشش کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعائیں کی جائیں
    جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں قید مسلمانوں کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے
    اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ….. بخاري

    9️⃣ *آزاد ہونے کے بعد دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں کے لیے اپنی آزاد ریاست کے دروازے کھول دیئے جائیں*

    اللہ تعالٰی نے فرمایا
    يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ ؕ
    وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو
    الحشر – آیت 9

    اور فرمایا
    وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ
    اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں، انھی کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔
    الأنفال – آیت 74

    🔟 *آزادی ملنے کے بعد اپنی آزاد کردہ ریاست، ملک اور خطے کا دفاع کرنا بہت ضروری ہے تاکہ دوبارہ یہ نعمت چھن نہ جائے اور پھر سے غلامی کا دور شروع نہ ہو*

    اس لیے اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھنا ضروری ہے
    فرمایا
    وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ
    اور ان کے (مقابلے کے) لیے قوت سے اور گھوڑے باندھنے سے تیاری کرو، جتنی کرسکو
    – الأنفال – آیت 60

    اگر ہم اپنی قوت تیار نہیں کریں گے تو پھر دشمن ہمیں اچک کر لے جائے گا
    تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
    ہے جرم ضعیفی کی سزامرگ مفاجات

    ملکی، سرحدی دفاع کے متعلق اللہ تعالٰی نے حکم دیا ہے
    يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
    آل عمران – آیت 200

    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
    ” اللہ کے راستے میں ایک دن (سرحدوں پر) پہرا دینا دنیا اور دنیا میں جو کچھ موجود ہے، اس سب سے بہتر ہے۔ “
    [ بخاری، الجہاد والسیر، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ : ٢٨٩٢، عن سہل بن سعد (رض) ]

    اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
    ” اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا پہرا دینا ایک مہینے کے قیام اور صیام سے بہت رہے اور اگر اس حالت میں مجاہد فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور اس کے مطابق اس کا رزق بھی جاری رہے گا، نیز وہ آزمائش سے بھی محفوظ رہے گا۔ “
    [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عز وجل : ١٩١٣، عن سلمان الفارسی (رض) ]

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خندق اور تبوک کی جنگیں دفاع وطن کے لیے لڑی تھیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ کی سرحدوں کا دفاع خود کیا کرتے تھے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ
    ایک رات مدینہ میں کچھ شور و غل ہوا، لوگ سمجھے کہ شاید دشمن نے حملہ کردیا ہے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اکیلے ہی گھوڑے پر سوار مدینے کی سرحدوں کا چکر لگا کر واپس آ رہے ہیں عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَخَرَجُوا نَحْوَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا

    1️⃣1️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنی آزاد کردہ ریاست کی قوت و حیثیت کو عالمی سطح پر مثالی اور آئیڈیل بنایا جائے*

    اپنی خارجہ پالیسی کو بہترین اصولوں پر استوار کیا جائے بین الاقوامی سطح پر ملکی وقار پر آنچ نہ آنے دیں
    اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں دوستوں کا واضح تعین کیا جائے ۔اس میدان میں قرآن مجید کی بہترین راہنمائی موجود ہے۔ایک بار دھوکہ کھانے کے بعد پھروہیں اعتبار کر لینا اپنے وقار کو خود ختم کرنا ہے۔یہودونصاری ہمارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے ہیں۔ دنیا سے اسی زبان میں بات کرنی ہو گی جووہ سمجھتی ہے۔لندن،نیویارک اور پیرس کے راستوں میں ذلت و رسوائی کے سواکچھ میسر نہیں ہوگا ۔عزت کاراز صرف حرمین شریفین کی گرد میں ہی پنہاں ہے۔امت مسلمہ سے تعلق جوڑنے اورملت اسلامیہ کے شجرسایہ دار کو تناور اور تنومند کرنے میں ہی ہمارا بین الاقوامی وقار ممکن ہے۔

    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر

    2️⃣1️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے آزاد ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالٰی کی توحید کو مضبوطی سے تھاما جائے اور الشرک باللہ کی من جملہ اقسام کو ختم کیا جائے کیونکہ توحید الہی میں ہی معاشرتی امن و استحکام مضمر ہے*

    ارشاد باری تعالٰی ہے
    اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ
    وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا، یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔
    الأنعام – آیت 82

    اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ امن و سکون اور ہدایت ایسے خالص ایمان ہی سے حاصل ہوسکتے ہیں جس میں توحید کے ساتھ کسی قسم کے شرک کی آمیزش نہ کی گئی ہو، جو قوم خالص ایمان اور خالص توحید سے محروم اور کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو اسے کسی صورت امن و چین اور ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ افسوس کہ مسلمانوں نے خالص توحید کو چھوڑا اور قبروں اور آستانوں کی پرستش شروع کردی (الا ما شاء اللہ) جس کے نتیجے میں پورا عالم اسلام ذلت و مسکنت کا نشانہ بن گیا۔ اب نہ کہیں امن ہے نہ ہدایت جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کی حکمرانی کا نام ہے۔ اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ دوبارہ خالص توحید کی طرف پلٹے اور صرف اپنے رب کے آستانے پر جمی رہے

    3️⃣1️⃣ *آزادی حاصل کرنے کے بعد اپنے ملک میں اتفاق.، اتحاد اور تنظیم کا ماحول پیدا کیا جائے اور ہر اس اختلاف سے اجتناب کیا جائے جس سے ملکی دفاع کمزور ہو اور دشمن کا فائدہ ہو، مذہبی، لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات کی حوصلہ شکنی کی جائے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا ولا تفرقوا
    اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہوجاؤ –
    آل عمران – آیت 103

    اور ان تمام عناصر کی بیخ کنی کی جائے جو ملکی و ملی اتحاد میں دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں خواہ وہ کسی سیاسی جماعت کی شکل میں ہوں یا مذہبی رہنما کی شکل میں ہوں، خواہ وہ کوئی قبائلی سردار ہو یا غیر ملکی این جی اوز ہوں، خواہ وہ کوئی اندرونی صفوں میں چھپا ہوا دشمن ہو یا بیرونی ایجنٹ ہو

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے شاش بن قیس یہودی کے ناپاک عزائم کو بھانپتے ہوئے اس کی شرارتوں کا فوراً سد باب کیا تھا

    4️⃣1️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے ملک میں عدل و انصاف اتنا مضبوط کریں کہ ہر ایک کی رسائی میں ہو*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جائو، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔ پس اس میں خواہش کی پیروی نہ کرو کہ عدل کرو اور اگر تم زبان کو پیچ دو، یا پہلو بچائو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پوری طرح با خبر ہے۔
    النساء : 135

    *عدل و انصاف کے پیمانے اتنے کڑے اور مضبوط ہوں کہ کسی عزت والے کی عزت یا کسی کمتر کی کمی انہیں متزلزل نہ کرسکے*

    عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں
    أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا وَمَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا

    مخزومیہ خاتون (فاطمہ بن اسود) جس نے (غزوہ فتح کےموقع پر)چوری کرلی تھی، اس کےمعاملہ نے قریش کوفکر میں ڈال دیا۔انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پرآنحضرت ﷺسے گفتگو کون کرے ! آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید ؓ آپ کوبہت عزیز ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کرسکتا ۔چنانچہ اسامہ نےآنحضرت ﷺ سےاس بارےمیں کچھ کہا توآپ نےفرمایا ۔اسامہ ! کیا تواللہ کی حدود میں سے ایک حد کےبارے میں سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ کھڑے ہوئےاورخطبہ دیا( جس میں) آپ نے فرمایا ۔پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اوراگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پرحد قائم کرتےاور اللہ کی قسم !اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرے تومیں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔
    بخاري 3475

  • غیبت  ایک مرض   :حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق

    غیبت ایک مرض :حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق

    غیبت عام معاشرتی بیماری جس سے بچنے کی تلقین نبی مہربان ﷺ نے فرمائی آج ہم غیبت سے بچنے کے حوالے سے ہمارے پیارے نبی مہربان ﷺ کے فرامین کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے
    ” غیبت ” کے معنی ہیں پیٹھ پیچھے بدگوئی کرنا، یعنی کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق ایسی باتیں کرنا کہ جس کو اگر وہ سنے تو ناپسند کرے۔مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 748
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے کہ اگر واقعی وہ عیب میرے بھائی میں ہو جو میں کہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو پھر تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2092

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بد گمانی سے بچو اس لئے کہ بد گمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور نہ کسی کے عیوب کی جستجو کرو اور نہ ایک دوسرے پر حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور نہ بغض رکھو اور اللہ کے بندے بھائی بن کر رہو۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1022

    ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اللہ تعالیٰ کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدا رہے (قطع تعلق کرے) ۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1023

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بغض نہ رکھو اور کسی سے حسد نہ کرو، اور نہ کسی کی غیبت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ ترک تعلق کرے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1030حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بدگمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو اور (بیع میں) ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور نہ حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ کسی کی غیبت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1662

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ غیبت کیا ہے فرمایا کہ اپنے بھائی کا ایسا تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو۔ کہا گیا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اس کے بارے میں اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں جو کچھ کہہ رہا ہو اگر وہ اس کے اندر فی الواقع موجود ہو تو۔ فرمایا کہ غیبت جب ہوگی جب تو جو بات کہہ رہا ہے وہ اس کے اندر موجود ہو اور اگر وہ بات اس کے اندر موجود نہ ہو تو پھر تو نے اس پر بہتان لگایا۔سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1470

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی مسلمان کی غیبت کا نوالہ کھایا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے اس کے مثل جہنم کا نوالہ کھلائیں گے اور جس نے کسی مسلمان کی برائی کا لباس پہنا اللہ اسے اس کے مثل جہنم کا لباس پہنائیں گے اور جس شخص نے کسی کو شہرت و ریاکاری اور دکھلاوے کے مقام پر کھڑا کیا یا کسی شخص کی وجہ سے ریاکاری و شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا تو اللہ قیامت کے روز اس سے ریاکاری اور شہرت کے مقام پر کھڑا کرے گا۔سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1476

    حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا ان کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایک کو پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے اور دوسرے کو غیبت کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 349

    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” تم اپنے مرے ہوئے لوگوں کی نیکیاں ہی ذکر کر لیا کرو اور ان کی برائیوں کے ذکر سے بچتے رہو” ۔ ( ابوداؤد ، ترمذی)

    تشریح
    مرے ہوئے لوگوں کے نیک اعمال اور ان کی بھلائیوں کو اس لیے یاد اور بیان کرنا چاہئے کہ نیک اور نیکی کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے۔
    مردوں کی نیکیوں کو ذکر کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ استحباب کے طور پر ہے لیکن ان کی برائیوں کے ذکر سے بچنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ وجوب کے طور پر ہے یعنی ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کی برائیاں ذکر نہ کرے اور اس فعل سے بچتا رہے چنانچہ حجۃ الاسلام نے لکھا ہے کہ مرے ہوئے لوگوں کی غیبت زندہ لوگوں کی غیبت سے کہیں زیادہ قابل نفریں ہے۔ کتاب ازہار میں علماء کا یہ قول لکھا ہوا ہے کہ ” میت کو نہلانے والا اگر میت میں کوئی اچھی علامت دیکھے مثلاً میت کا چہرہ روشن اور منور ہو یا میت میں سے خوشبو آتی ہو تو اسے لوگوں کے سامنےبیان کرنا مستحب ہے اور اگر کوئی بری علامات دیکھے مثلاً (نعوذباللہ) میت کا چہرہ یا بدن سیاہ ہو گیا ہو یا اس کی صورت مسخ ہو گئی ہو تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔

    @mmasief

  • والدین کے ساتھ حسن سلوک  تحریر : وسیم اکرم

    والدین کے ساتھ حسن سلوک تحریر : وسیم اکرم

    اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ،ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کوبیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے؛ غرض ر شتے بناکر اللہ تعالی نے ان کے حقوق مقر ر فرمادیے ہیں ، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والدین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے

    اسی طرح اولاد کے ذمہ ہے کہ والدین کی اطاعت کرے ان کے راحت رسانی کی فکر کرے والدین کو مالی یا جسمانی خدمت کی ضرورت ہو تو اسے انجام دے، کبھی کبھی ان کی زیارت کے لئے جائے اگر والدین ضرورت مند ہوں تو مالی یا جسمانی خدمت انجام دینا واجب ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا

    اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنھیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔(القرآن)

    اسلام جیسے متوازن نظام اور دین نے اگر والدین کے حقوق مقرر کیے ہیں تواولاد کے بھی کیے ہیں
    اولاد کے حقوق والدین کے فرائض ہیں کہ والدین نے ان کو پورا کرنا ہے وہ ان کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم نے والدین کی بنیادی ذمہ داری اورتوجہ جس بات کی طرف دلائی وہ اپنے آپ کو اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اوراس کی سزا سے بچانا ہے۔ اس انداز میں ان کی تربیت کریں کہ وہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ سکیں

    والدین کا نعم البدل کوئی نہیں ہے وہ اولاد کی خاطر دن رات ایک کر دیتے ہیں نا سایہ دیکھتے ہیں نا دھوپ ، نا غم دیکھتے ہیں نا خوشی ہر وقت اپنی دھن میں لگن کے ساتھ اولاد کی اچھی تربیت کے لیے تیار رہتے ہیں وہی اولاد جب بڑی ہو جاتی ہے شادی کے بعد والدین سے علیحدگی اختیار کرلیتی ہے اس وقت والدین کے سینے میں جو پہاڑ گراۓ جاتے ہیں وہی جانتے ہیں یا رب جانتا ہے پھر بھی والدین اولاد کے لیے ہر وقت دعا گو رہتے ہیں والدین کی قدر کریں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ ‎@MalikGii06

  • والدین کی زمہ داری اور نسل نو . تحریر : سید غازی علی زیدی

    والدین کی زمہ داری اور نسل نو . تحریر : سید غازی علی زیدی

    اولاد ایک امانت
    والدین کی غفلت
    سنگین خیانت
    غلط صحبت
    سخت جہالت
    بچوں کی تربیت
    نسلوں کی عافیت

    پاکستانی معاشرے میں تعلیم و تربیت، تہذیب و شائستگی، تمیز وآداب جیسے الفاظ و اصطلاحات متروک ہوتے جا رہے ہیں۔رات دن زمانہ خراب ہے کی گردان کرنے والے بھول گئے کہ زمانہ نہیں انسان میں خرابی آ چکی ہے۔ جب آپ اپنی اولاد کو وراثت میں جھوٹ، کینہ، بغض، حسد اور لالچ جیسی دولت دیں گے تو وہ درندے بنیں گے انسان نہیں۔ وہ انسان جو کہ اشرف المخلوقات قرار پایا تھا اسے مال حرام اور سیاہ کاریوں نے اسفل السافلین کے درجے پر لا پٹخا۔ لیکن صد افسوس کوئی ملال نہیں کوئی رنج نہیں۔ ہم نفس کے غلام بنے، بنا سوچے سمجھےشیطانیت کی راہ پر بگٹٹ بھاگے جارہے۔ زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لیں تاکہ اولاد کو کوئی تنگی نہ اٹھانی پڑے۔
    کونسی اولاد؟ وہ جو والدین کو بڑھاپے میں اولڈ ہاؤس میں جمع کرادیتی کہ والدین کی کھانسی کی آواز ان کے آرام میں مخلل ہوتی۔ یا وہ اولاد جس کی حرام کاریوں کی وجہ سے ماں باپ بڑھاپے میں جیل کی چکی پیستے اور بھری عدالتوں میں رسوا ہوتے۔ یا وہ اولاد جو خود تو حرام موت مر جاتی لیکن ماں باپ کو کلنک کا داغ لگا جاتی اور تا عمر بوڑھے والدین اولاد کی بے راہروی پر دنیا کے طعنے سنتے۔ ایسے میں برسوں میں کمائی گئی عزت و مرتبہ خاک میں مل جاتا اور رہی بات مال و دولت کی تو جب اولاد ہی نہ رہی تو ایسی دولت کا کیا فائدہ؟
    حرام کا لقمہ اولاد کو کہلاتا انسان بھول جاتا کہ یہ وہ آگ ہے جو نہ صرف دنیا میں جلا کر خاکستر کر دیتی بلکہ آخرت کا وبال بھی ہے۔ سونے چاندی کا نوالہ نہیں تھوہر کے کانٹے ہیں جو اولاد کے حلق میں پیوست ہورہے۔ یہ وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق نہیں۔ جیسے پیشاب کا ایک قطرہ سارا پانی نجس کر دیتا ویسے ہی جان بوجھ کر کھایا گیا ایک نوالہ حرام انسان کا جسم وروح پلید کردیتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے؛
    "بیشک انسان خسارے میں ہے”

    دنیا میں قابلیت کے جھنڈے گاڑتا، جاہ و حشمت کی بناء پر ناقابل تسخیر بنا انسان بھول جاتا کہ اس کا خمیر کھنکھناتی مٹی سے اٹھا ہے۔ اس کی اوقات ایک گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں۔ جس جسم کی خوبصورتی پر اکڑتا، سانس بند ہو جائے تو وہی جسم ناقابل فراموش بدبو دینے لگتا ہے۔ جس اولاد کیلئے تمام عمر مال اکٹھا کیا اسی اولاد کو قبر میں اتارنے کی جلدی ہوتی تاکہ بٹوارہ جلد از جلد ہوسکے۔ برسوں گزر جاتے نہ کوئی قبر پر پھول ڈالتا نہ فاتحہ پڑھتا۔ اب تو اللّٰہ کے فضل سے قلوں کی جگہ موم بتی رتجگے نے لے لی ہے پہلے مولوی کو پیسے دے کر دنیا دکھاوے کو ہی سہی قرآن خوانی تو ہو جاتی تھی اب بھلا ہو جدیدیت و لبرل ازم کا اس سے بھی گئے۔ اور ہمارے معاشرے میں اگر نقالی کی رسم نہ پوری کی جائے تو معاشرہ طعنے دے دے کر مار دیتا سو یہ رسم بد خیر سے اب امراء و زعماء کی بدولت حکومتی سطح پر منتقل ہوچکی ہے۔ فنکارسے لیکر ادیب تک، سیاستدان سے لیکر طبیب تک کوئی فوت ہوجائے تو کینڈل لائٹ ویجل از حد ضروری ہے۔

    جنریشن گیپ ختم کرنے کے چکرمیں تعلیم یافتہ والدین نے اولاد کے دل سے ادب واحترام، ڈر و خوف ہی ختم کر دیااور پھر یہ گلہ کہ آج کل کی اولاد زبان دراز و بدتمیز ہے۔ ارے بھائی اولاد کو سر پر تو آپ نے خود چڑھایاہے۔ ہر جائز ناجائز فرمائش پوری کر کے، منہ سے بات نکلنے سے پہلے مطلوبہ چیز مہیا کر کے، دین و مذہب سے دور کر کے، تو اب گلہ کیسا اور کس سے بھلا؟ دنیاداری سکھانے کے چکر میں دین کو پس پشت ڈال دیا۔ سکول کیلئے اٹھنا لازمی لیکن فجر کیلئے ابھی بچہ ہے کہہ کر غفلت برتنا۔ قبر میں پہلا سوال نماز کا ہونا اکنامکس کا نہیں۔ نرسری میں لہک لہک کر پوئم پڑھنا تو آ جاتی لیکن سورہ اخلاص وزیر بن کر بھی صحیح نہیں آتی۔
    بچے کا دماغ تو کورا کاغذ ہوتا اس کو جو سکھاؤ نقش ہو جاتا۔ لیکن اگر سکھانے والے خود میں مگن ہوں تو بچے کا بہک جانا لازم ہے۔ اپنے سماجی روابط استوار کرتے والدین جب اولاد سے بے اعتنائی برتیں تو کبھی کوئی خانساماں تو کبھی ڈرائیور یا کوئی دور و نزدیک کا رشتہ دار بچوں کو ورغلا کر بچپن تباہ کر دیتا اور بچے کبھی خوف سے تو کبھی لاعلمی کےسبب کسی کو بتا نہیں پاتے بس تاعمر خود ساختہ احساس ندامت کا شکار رہتے۔

    اپنی خرابیوں کو پسِ پشت ڈال کر۔
    ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

    ہم اپنے معاشرے کی کیا بات کرتے فرانس جیسے ماڈرن ملک میں جب "می ٹو” کی مہم چلی تو بیشمار لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی آپ بیتی شیئر کی کہ کیسے ان کو بچپن میں انکے قریبی لوگوں نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جس کا سب سے زیادہ قصوروار انہوں نے اپنے والدین کی غفلت کو ٹھہرایا۔

    آج جب ہم نوجوان نسل کی بے راہروی پر سیخ پا ہوتے ہیں تو اس کے محرکات کو نظر انداز کرنا جہالت ہے۔ جدیدیت کے چکر میں والدین آپنی اولادوں کو ہائی فائی سکولوں میں داخل کرا دیتے جہاں کی فیس تو لاکھوں میں لیکن تربیت ٹکوں میں بھی نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تمام بڑے اسکولوں میں منشیات فروشی اپنے عروج پر ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کبھی ویلنٹائن ڈے تو کبھی میوزیکل نائٹ کے نام پر نوعمر لڑکے لڑکیوں کو نچایا جارہا۔ کبھی تعلیمی دوروں پر لے جاکر مکمل جنسی آزادی دے دی جاتی تو کبھی عشق میں ناکامی پر خودکشی تک کی نوبت آ جاتی۔ اور والدین کو اس وقت ہوش آتا جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا۔
    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور باپ کی شخصیت بچے کا پہلا آئیڈیل ہوتی۔ لیکن جب والدین ہی بے توجہی برتیں تو بچے کی شخصیت کا مسخ ہونا خارج از امکان نہیں۔ بلاشبہ قوموں کی ترقی کا دارومدار نوجوان نسل پر ہوتالیکن اگر بزرگوں کی تربیت میں ہی نقص ہو تو کیسی تربیت اور کیسی ترقی۔ خالی دینی یا انگریزی تعلیم کے رٹوں کا کیا فائدہ جب تربیت صفر ہو۔

    تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
    تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی

    ہر طبقے کے نوجوانوں میں جرائم کی بڑھتی شرح تشویشناک ہے۔ نشہ، چوری، ریپ، گھر سے بھاگنا اور خودکشی جیسے خطرناک جرائم ہمارے بچوں کو تباہ کررہےاور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ آج کے پرفتن دور میں اسلامی تعلیمات کی پیروی کر کے ہی ہم اپنے بچوں کو مضبوط بنیاد، بہترین تربیت، اچھا اخلاق اور اعلیٰ پائے کی دینی و دنیاوی تعلیم فراہم کرسکتے اور یہ ایک واحد راہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی نسلوں کو سنوار سکتے اور پاکستان کو صحیح معنوں میں ریاست مدینہ میں ڈھال سکتے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے
    "کوئی باپ اپنی اولاد کو حسن ادب اور اچھی تربیت سے بہتر کوئی اور تحفہ نہیں دے سکتا”

    @once_says