Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ ہجوم کی بد تمیزی سے ہم پر بطور معاشرہ کئی سوالات اُٹھ گئے ہیں۔
    اس عائشہ نامی لڑکی اور نور مقدم کیس میں کئی مماثلات ہیں۔
    دونوں لڑکیاں متنازعہ بیک گراونڈ کی تھیں۔
    دونوں مشرقی اور اسلامی روایات کی پاسداری نہ کرنے والی آزاد خیال خواتین تھیں۔
    نور مقدم تو دنیا سے چلی گئی،اُس پر زیادہ بات کرنا بھی ہماری روایات کے خلاف ہو گا۔
    نور مقدم کیس میں ملوث درندے ،مجرم اور قاتل کو عبرتناک سزا کادیا جانا بہت ضروری ہے۔
    جس وحشیانہ طریقے اور بر بریت سے اس خاتون کو قتل کر کے اسکا سر تن سے جدا کیا گیا۔
    اسکی مہذب معاشروں تو کیا جنگل کی دنیا میں بھی کوئ مثال نہیں ملتی۔
    مینار پاکستان والے کیس میں لڑکی کے متنازعہ کردار پر بہت سے سوالات اُٹھاۓ جا رہے ہیں۔
    ایک تو یہ کہ وہ وہاں رش اور بھیڑ والے دن ٹک ٹاک وڈیو بنانے کیوں آئ؟
    دوسرا یہ کہ اس نے بھارتی جھنڈا اُٹھا رکھا تھا،تاہم اس بات کی تصدیق پاکستان میں آزاد زرائع سے تو نہیں ہو سکی مگر ہمارے کچھ اندرونی دشمنوں کی وساطت سے بھارت تک جا پہچی ،
    جسے بھارتی میڈیا نے مرچ مصالحہ لگا کر خوب اُچھالا۔
    لڑکی پر تیسرا اعتراض یہ اُٹھایا جا رہا ہے کہ اس نے نامناسب لباس پہن رکھا تھا۔
    لڑکی پر لگاۓ گئے اعتراضات پر متفق ہونے کے بعد بھی کیا ان لوگوں کے گھناؤنے کام کو معاف کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح وہ ایک لڑکی پر جھپٹ پڑے۔
    کیا ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ لڑکی کو لوٹ مار کا مال سمجھ کر اس پر کتوں کی طرح ٹوٹ پڑیں
    انہیں اس بر بریت کی معافی کبھی بھی نہیں دی جا سکتی۔
    کون کس طرح کا لباس پہنتا ہے۔کون کس طرح کا کام کرتا ہے۔
    اس کو دیکھنا لوگوں کا کام نہیں تھا۔
    اگر ان سب کو لڑکی کا وڈیو بنانا برا لگا تھا تو اسے لعن طعن کرتے۔
    اسے اس جگہ سے دفع دور ہونے کا کہہ دیتے۔
    مگر اُن کے لئے تو لڑکی کو دبوچنا ضروری تھا،جو انہوں نے کیا۔
    اگر اس قسم کے فیصلوں کی اجازت لوگوں کو دے دی گئی تو معاشرے میں پھیلےجاہل لوگ عام آدمی کا جینا دشوار کر دیں گے۔
    عورتوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو جاۓ گا۔
    اس واقعہ کو اقرار سید اور شامی نامی لڑکے نے سستی شہرت کے لئے استعمال کیا،جبکہ اقرار نے تو ہمیشہ کی طرح سارا ملبہ پاکستان پر بطور ملک ڈال دیا،
    تاکہ بھارت جسے وہ پاکستان سے بہتر سمجھتا ہے،
    خوش ہو اور بھارت خوش ہوا بھی۔
    بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے،وہ تو موقع کی تاک میں رہتا ہے۔
    اور اسے ایسے مواقع اقرار جیسے بندے اور ڈان جیسے اخبار گاہے بگاہے فراہم کرتے رہتے ہیں۔
    ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہر پہلو کو دیکھنا ہو گا۔ہمیں ہر زاویے سے پرکھنا ہو گا کہ کون کہاں پر غلط تھا۔
    اسی واقعہ میں جس طرح ہجوم نے لڑکی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا،اُسکی جان بھی جا سکتی تھی۔
    آپ سوچیں کہ اگر اس واقعے میں خدانخواستہ اس لڑکی کی جان چلی جاتی تو کیا ہوتا؟
    ایک تو یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہوتا
    دوسرا بین الاقوامی میڈیا اسے جس بری طرح ہمارے ملک کے خلاف استعمال کرتا،
    وہ سوچنا بھی محال ہے-
    ہم تو پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔
    کوئ ایسا وقت نہیں،جب ہمارے خلاف سازشوں کے تانے بانے نہ بُنے جا رہے ہوں۔
    ایسے میں ہم اس طرح کے بے مقصد واقعات کے متحمل کیسے ہو سکتے ہیں؟
    اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہچے بغیر کوئ نتیجہ اخذ مت کریں۔
    کڑی سے کڑی ملنے کا انتظار کریں تاکہ بعد میں اپنے لکھے گئے الفاظ اور کہی گئی بات پر شرمندگی نہ ہو۔
    اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔
    شروع میں ہی کچھ لوگوں نے صرف ہجوم میں شامل ملزمان کو اپنا نشانہ بنایا۔بعد میں لڑکی کا کردار بھی کچھ مشکوک نظر آنے لگا،
    جس سے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہ سب کچھ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا،
    جس کا مقصد شہرت اور فالوورز کا حصول تھا۔
    آجکل فالوورز اور ریٹننگ کے حصول کے لئے بھی ایسےایسے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
    لہذا فیصلہ کرنے میں کبھی بھی جلد بازی نہ کریں۔اور جب بھی کوئ فیصلہ کریں تو اس میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہم جانے انجانے میں کہیں پاکستان کے مفادات کو نقصان تو نہیں پہچا رہے؟
    کہیں ہم کسی شازشی گھن چکر میں آکر کہیں کوئ اپنا نقصان تو نہیں کر رہے-
    اس قسم کے واقعات ہمیں بعض دفعہ اتنا جذباتی کر دیتے ہیں کہ ہم بغیر سوچے سمجھے دشمنوں کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں،
    جسے ففتھ جنریشن وار کا نام دیا جاتا ہے۔
    ہم نادانی میں اس ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کرنے کے بجاۓ اسی کا ایندھن بن جاتے ہیں،
    جو ہمارے لئے بطور معاشرہ اور بطور ایک ملک کے سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔
    ہمیں اپنی کردار سازی کی ضرورت ہے۔معاشرے میں وہ چیزیں لیکر آئیں،جن کی اجازت دین اسلام بھی دیتا ہو۔ان چیزوں پر قانون سازی ہونی چاہیے،جو حکومت کی زمہ داری ہے۔لوگوں کو جج اور منصف کا حق نہیں دیا جا سکتا،ورنہ ہم جنگل کا معاشرہ بن جائیں گے،
    لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے معتدل رویہ اختیار کریں۔
    جھپٹ نہ پڑیں،اپنے اندر کے شیطان کی تسکین کے لئے۔
    پاکستان میں ہم اپنی اُن روایات کے باغی نہیں ہو سکتے،
    جن میں گھر کے بڑے چھوٹوں کو نصیحت کرتے ہیں۔
    جہاں باہر جانے کے لئےباپ ،بھائ اور خاوند کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
    جہاں شام کے بعد گھر کے نوجوانوں کو گھر سے باہر جانے سے روکا جاتا ہے۔
    جہاں مائیں اور گھر کی بڑی بوڑھیاں ہر وقت اپنے بچوں کو سمجھاتی رہتی ہیں کہ یہ پہنو،اس طرح بیٹھو،اس طرح بات کرو۔
    یہیں سے ہمیں وہ تربیت ملتی ہے،جو ہماری سوسائٹی کا خاصہ ہے۔انہیں طور طریقوں میں یہ خاصیت اور انفرادیت بھی ہوتی ہے،
    جہاں والد کسی بھی وقت اپنے بچوں کے موبائیل دیکھ سکتا ہے کہ بچے کونسی ویب سائیٹ یا مواد دیکھ رہے ہیں ؟
    ان چیزوں کے بڑے فائدے ہیں،مگر خونی لبرلز کے نزدیک یہ سب دقیانوسی سوچ اور آؤٹ آف فیشن چیزیں ہیں۔

    کسی بھی معاملے میں خونی لبرلز اور موم بتی مافیاز جیسے فتنوں کے جھانسے میں نہ آئیں،
    کیونکہ ان لوگوں کو تو ہڈی ہی اسی مقصد کے لئے ڈالی جاتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس معاشرے اور ہماری مذہبی درخشندہ روایات کو نقصان پہنچایا جاۓ۔
    لوگوں کو خوبصورت مشرقی روایات اور بے مثال اسلامی اقدار سے دور کیا جا سکے۔
    یہی ففتھ جنریشن وار ہے،جس کا مقابلہ ہم نے ایک اچھے مسلمان کے طور پہ
    ایک اچھے پاکستانی کے طور پہ
    اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے انسان کے طور پر کرنا ہے۔
    کیونکہ ایک اچھا انسان بنے بغیر ہم نہ تو اچھے پاکستانی بن سکتے ہیں اور نہ ہی اچھے مسلمان #

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • ایک  لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    ایک لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    ملکِ پاکستان میں حالیہ کچھ دنوں میں خاتون کے ساتھ ظلم و جبر، بدسلوگی ، ہراساں کرنے ،قتل کرنے کی کوشش، اجتماعی زیادتی اور گھریلو تشدد کے واقعات میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    نور مقدم، ماہم ، کنول ، قرة العین اور صاٸمہ کے واقعات کی آگ ابھی ٹھنڈی نہ ہوئی کہ کم سن بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات نے سانسیں روک لیں، کبھی بُرقعے میں ملبوس سر تا پا ڈھکی عورتیں پامال ہوئیں، تو کبھی قبروں سے نکال کر خواتین کے ساتھ زیادتی کی گٸی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تین ماہ کی بچیوں سے لے کر بڑی عُمر تک کی خواتین تک کو نہیں بخشا گیا۔

    حال ہی میں یوم آزادی کے موقع پر دل دہلا دینے والے عاٸشہ اکرام کے واقعہ نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دل سوز واقعہ پاکستان کے شہر لاہور میں پیش آیا۔ چودہ اگست کو شام ساڑھے چھ بجے عاٸشہ اکرام اور اپنے دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم چار سو اوباش اور درندے صفت ٹولے نے عاٸشہ اور انکے ساتھیوں پر حملہ کردیا۔ لڑکی کو ہراساں کیا اور اسکے کے ساتھ کھینچا تانی کی گٸی ۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام اس بیٹی کے کپڑے تک پھاڑےگٸے اور اسے ہوا میں اچھالتے رہے ۔

    عاٸشہ اور اس کے ساتھیوں نے درندے صفت مردوں کے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران انتظاميہ کی جانب سے مینار پاکستان کے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن جانوروں نے جنگلے کو پھلانگ کر اس لڑکی کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی ہر پاکستانی دل گرفتہ ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟؟ یہ کیسے جانور ہیں ، درندگی پر اتر آئے ہیں

    معذرت کے ساتھ چار سو مردوں میں ایک بھی مرد ایسا نہ تھا جو عاٸشہ کی مدد کرسکتا ۔ اپنی بہن سمجھ کر اسکی عزت و آبرو کی حفاظت کرتاہے ، اس کا محافظ بنتا اور اس کو بچاتا مگر افسوس کے ساتھ ان چار سو نا مردوں کی، آٹھ سو آنکھیں میں حیا نہیں تھی کہ کیسی بہن، بیٹی کے ساتھ یہ ہوتے دیکھ رہے تھے خدا نہ کریں اس کی جگہ ان کی بہن، بیٹی ہوتی تو کیا یہ سب اسی طرح تماشا دیکھتے

    آٹھ سو ہاتھوں میں سے کوئی بچانے کے لیے آگے نہیں آیا۔ کسی کی مرد کی روح نہیں کانپی، کسی کی زبان نے اپنے ساتھی کو کچھ نہیں کہا کہ یہ بھی ہماری بیٹی ہے ، ہماری بہن ہے اسکے ساتھ ایسا وحیشانہ سلوک نہ کروں سب درندوں کو ایک موقع ملا اور سب نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔

     سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتین پر ہونے والے ظلم و جبر پر معاشرہ خاموش کیوں ہے؟ عورت خواہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو، بیٹی ہو، یا معاشرے کی کوئی بھی عورت، ہمارے اسلام میں اسے ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا اور مردوں کو ان کے ادب و احترام کا حکم دیا گیا ہے

    خود نبیِ کریم  ﷺ  نے بھی عورتوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی ،بہترین برتاوٴ ، اچھی معاشرت کی تاکید فرمائی ہے ، حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرتے ہیں ، اورمیں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاوٴ کرنے والا ہو ۔ترمذی

    درندگی کا یہ واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔حکومت سے اپیل ہے کہ انسانیت سوز درندگی کے واقعہ میں ملوث چار سو ملزم کو ایسی عبرتناک سزادی جائے جو رہتی دنیا تک یاد رہے۔ تاکہ کیسی کی بہن بیٹی کی عزت یوں سرعام تار تار نہ ہو ۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • اِنتقام تحریر:افشین

    اِنتقام تحریر:افشین

    انتقام (بدلہ لینا )
    جب کوئی کسی کے ساتھ بُرا کرتا ہے دوسرا انسان یا تو معاف کردیتا ہے یا پھر انتقام کی آگ میں جلتا رہتا ہے کیا اِنتقام لینا ضروری ہے ؟ کیا اِنتقام لینے کے بعد آپ تسکین پا لیتے ہیں؟؟
    یہ حقیقت ہے کہ معاف کرنا آسان کام نہیں ہوتا لیکن جن کو اپنے رب پاک کی ذات پہ، اُنکے فیصلوں پہ بھروسہ ہو وہ ایسے کبھی نہیں کرتے وہ سب اللّه پہ چھوڑ دیتے ہیں پھر اللّلہ پاک خود ہی انصاف کر دیتے ہیں اور اللّلہ پاک کے فیصلے برحق ہوتے ہیں بہترین ہوتے ہیں ۔ اگر آپ کے ساتھ کسی نے بُرا کیا،زیادہ زیادتی کی یا کم، یہ تو اللّلہ بہتر جانتا ہے دوسرے انسان نے جان بوجھ کے کیا یا لا علمی میں کیا، کچھ بُراکیا بھی یا نہیں آپکی نظر میں شاہد وہ قصور وار ہو
    اور حقیقت اسکے برعکس ہو !!تو آپ انتقام اس سے لینے لگ جائیں اسکو ایذا پہنچانے لگیں تو پھر؟؟؟؟کیا ہوگا پھر وہ نہیں آپ اسکے قصوروار ہوجائیں گے رب پاک سب دیکھتا ہے جس کے ساتھ آپ انتقام لیا ایذا دی اگر وہ بے گناہ ہوا تو سزا کے مرتکب آپ خود ٹھہرے پھر اللّلہ پاک کے آگے کیا جواب دیں گے؟؟
    اللّلہ پہ فیصلے چھوڑ دینے چاہئیں جب آپ کو پوری حقیقت کا علم نہ ہو اور اگر علم ہو بھی تو ہو سکتا ہے پوری طرح علم نہ ہو کیوں کہ نیتوں کو صرف رب پاک جانتا ہے اعمال کا دارومدار نیتوں پہ ہے ربّ نیت دیکھتا ہے کیونکہ اللّلہ ہر ایک کی نیت سے واقف ہےغصے میں دل چاہتا ہے انتقام لیا جائے پر یاد رہے غصہ ایسا بھی نہیں پالیں کہ آپ میں انسانیت ہی ختم ہوجائے۔
    ہر انسان میں اچھائیاں بُرائیاں ہوتی ہیں ۔ دوسروں کی غلطیاں معاف کر دینی چاہئیں اگر اُس انسان سے دل میں نفرت پیدا ہونے لگے تو اس انسان سے کنارہ کشی کر لیں مگر کسی کو نقصان نہ دیں اللّلہ پاک پہ سب چھوڑ دیں اللّلہ پاک کے فیصلوں پہ راضی ہوجائیں زندگی خود بخود آساں ہوجائے گی۔
    کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو جیسا کرے اسکے ساتھ ویسا کرنا چاہیے دیکھیے بُرا کرنے والے کے ساتھ بُرا ہوتا ہے اللّلہ پاک بُرا کرنے والوں کی رسی دراز کرتا ہے انکو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں معافی مانگ لیں سرکشی چھوڑ دیں۔ پر جب وہ اپنی حرکتوں سے نہیں رُکتے دوسروں کو مسلسل ایذائیں دیتے رہتے ہیں اور شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے پھر انکا انجام (مکافات عمل ) اٹل ہےزمین سے لے کے آسمان تک بھی ہمارے گناہ ہو اللّلہ پاک وہ بھی معاف کر دیتا ہے ۔ ہم سب سے زیادہ گناہ گار اللّلہ کے ہوتے ہیں ہم دن میں بہت سی غلطیاں کر کے معافی مانگنا تک بھول جاتے ہیں۔ جب ٹھوکر لگتی ہے پھر ہم کو اللّلہ سے رجوع کرنا اور معافی مانگنا یاد آتا ہے پھر بھی وہ معاف کر دیتا ہے تو انسان دوسرے انسان کے ساتھ کیوں انتقام لینے لگ جاتا ہے ؟ کہیں لوگ قتل عام کرنے لگ جاتے ہیں قتل کا بدلہ قتل ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تو نہیں سیکھایا وہ تو سب کو معاف فرما دیتے تھے صرف اپنی تسکین کے لیے دوسروں کو ایذا نہ دیں ورنہ آپ کسی کے آنسو اور تکلیفوں کے قرض دار بن جائیں گے اگر کسی بہت دل دُکھایا کسی بہت تکلیف دی پھر بھی انتقام لینا چھوڑ دیں، اللّلہ پہ سب چھوڑ دیں، کیونکہ اللّلہ کے فیصلے بہترین ہوتے ہیں۔ انسان غلطیوں کا پُتلا ہے وہ غلطی پہ غلطی کرتا ہے وہ نہیں دیکھ سکتا جو ربّ پاک دیکھ سکتا ہے انسان کی سوچ غلط بھی ہو سکتی ہے. بے دھیانی میں کہیں آپ کسی کے قصور وار نہ بن جائیں احتیاط کیجئیے اور بدلے کی آگ سے بچیں کیونکہ جب یہ آگ بھڑکتی ہے سب کچھ جلا دیتی ہے

    @Hu__rt7

  • مثبت سوچ تحریر: شاہ زیب

    مثبت سوچ ایک ذہنی اور جذباتی رویہ ہے جو زندگی کے روشن پہلو پر مرکوز ہے اور مثبت نتائج کی توقع رکھتا ہے۔  ایک مثبت شخص خوشی ، صحت ، کامیابی کی توقع رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی رکاوٹ اور مشکل پر قابو پا سکتا ہے۔
    مثبت سوچ کو ہر کوئی قبول نہیں کرتا۔  کچھ لوگ اسے بکواس سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرنے والوں پر طنز کرتے ہیں۔  لیکن ایسے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جو مثبت سوچ کو حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں اور اس کی تاثیر پر یقین رکھتے ہیں۔  ایسا لگتا ہے کہ یہ موضوع مقبولیت حاصل کر رہا ہے جیسا کہ اس کے بارے میں بہت سی کتابوں ، لیکچرز اور کورسز سے ثبوت ہے۔  اسے اپنی زندگی میں استعمال کرنے کے لیے آپ کو اس کے وجود سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔  آپ کو ہر کام میں مثبت سوچ کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

    مثبت رویہ کے ساتھ ہم خوشگوار اور خوشگوار جذبات کا تجربہ کرتے ہیں۔  یہ آنکھوں میں چمک ، زیادہ توانائی اور خوشی لاتا ہے۔  ہماری پوری نشریات ، خوشی اور کامیابی۔  یہاں تک کہ ہماری صحت بھی فائدہ مند طریقے سے متاثر ہوتی ہے۔
    مثبت اور منفی سوچ متعدی ہوتی ہے۔ ہم ان لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں جن سے ہم ایک طرح سے ملتے ہیں۔  یہ فطری طور پر اور لاشعوری سطح پر الفاظ ، سوچ اور احساس اور جسمانی زبان کے ذریعے ہوتا ہے۔  مثبت سوچ تناؤ کے انتظام میں مدد دیتی ہے اور یہاں تک کہ آپ کی صحت کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔

    مثبت سوچ زندگی کو بڑھاتی ہے ، اس سے ڈپریشن کی شرح کم ہوتی ہے ، تکلیف کی سطح کم ہوتی ہے۔ مثبت سوچ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ چیزوں کو حاصل کر سکتا ہے اسے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا اسے کامیابی کے راستے میں کوئی مسئلہ نہیں ملے گا اور ایک دن وہ مثبت جیت جائے گا۔ خود اعتمادی ، عزم ، ثابت قدمی اور محنت کامیابی کی کلید ہے۔ لگن ، کام کے لیے لگن اور عزم کے ساتھ مثبت سوچ کامیابی کا اہم عنصر رہا ہے۔ زندگی ایک جنگ ہے ، کسی کو اس سے بے خوف لڑنا پڑتا ہے۔ اعتماد کے ساتھ لڑیں ، پرعزم اور متمرکز کوشش کے ساتھ مثبت رویہ کامیابی کی یقینی راہ پر گامزن ہے۔ آپ کا سب سے بڑا اثاثہ آپ کا جوش ہے جو آپ کی مثبت سوچ کو تقویت بخشتا ہے۔ جو ہمیشہ منفی حالات میں بھی مثبت سوچتا ہے وہ جیت جاتا ہے۔
    ‎@shahzeb___

  • رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں   تحریر ام سلمیٰ

    رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں تحریر ام سلمیٰ

    شادیوں میں دعوتوں میں اکثر آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ بے جا اپنی پلیٹ بھر لیتے ہیں جو کے اِنکی ضرورت سے انتہائی زیادہ ہوتی ہے اور پیٹ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اسے پلیٹ میں ہی چھوڑ دیتے ہیں.اور وہ کھانا آخر میں ضائع کیا جاتا ہے.
    پاکستان میں ایسی بہت کم تنظیمیں کام کر رہی ہے جو بچے ہوئے کھانے کو ضرورت مند تک پنہچا رہی ہیں.
    ہمیں کھانے کی ضائع ہونے سے روکنے کی ضرورت کیوں ہے؟
    یہ ایک بہت اہم اور بڑا مسئلہ ہے ، اور یہ ہم سب کو متاثر کرتا ہے۔ نہ صرف ہمیں بلکے ہمارے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے.

    میری یہ تحریر کھانے کے ضائع ہونے سے اس کے ماحول پر پڑنے والے شدید اثرات سے لے کر یہ کہ یہ کس طرح ہماری جیبوں میں سوراخ کو گہرا کر سکتا ہے اس پر ہے ، کھانے کا فضلہ بھی ایک بڑا کا مسئلہ ہے۔

    یہ تین وجوہات دیکھیں کہ ہمیں کھانے کا ضیاع روکنے کی ضرورت کیوں ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کھانا نہیں ہے۔
    دنیا بھر میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہیں ، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے پاس موجود خوراک کا صحیح استعمال کریں۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر شخص اپنے جسمانی وزن سے زیادہ خوراک کو ہر سال ضائع کرتا ہے ، جو صرف ظاہر کرتا ہے کہ یہ واقعی کتنا بڑا مسئلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں خوراک کا ضیاع ترقی پذیر ممالک کی طرف سے پیدا ہونے والے تمام کھانے کے برابر ہے۔ صرف یورپ میں ضائع ہونے والا کھانا 200 ملین بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کافی ہوگا۔تو اس سے اندازہ لگائیں کہ دنیا میں کھانے کہ ضائع ہونا کس قدر زیادہ ہے.

    جنتی بڑی مقدار کے ضائع ہونے کی ہم بات کر رہے ہیں اگر یہ ملک ہوتا تو ضائع شدہ خوراک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تیسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ہوگا۔ 3.3 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار کے ساتھ ، خوراک کا فضلہ عالمی آب و ہوا پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ زیادہ خوراک ضائع ہونے کے ساتھ ، لینڈ فلز اونچائی سے اونچی ہوتی چلی جاتی ہے ، جو ہر قسم کی جنگلی حیات مکھیاں اور کیڑے ان سب کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور نازک ماحولیاتی نظام کو توازن سے باہر رکھتی ہے۔ سمندری غذا کے فضلے کو دوبارہ سمندر میں پھینکا جانا بھی سمندری زندگی اور ان کے قدرتی توازن پر نقصان دہ اثر ڈال رہا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی صرف سیارے کے لیے بری نہیں ہے۔ 2050 تک اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 84 فیصد تک اضافے کی توقع ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی پیداوار کو کیسے متاثر کرے گی۔ یہ پہلے ہی ضائع ہونے والی رقم کی ایک بڑی مقدار کا باعث بن رہا ہے ،

    لہذا اگلی بار جب آپ اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہو ضرور سوچیں کے جیتنا آپ کھا سکتے ہیں اتنا ہی پلیٹ میں نکالیں تاکہ کھانے کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے یہ ہی ہماری دینی تعلیم بھی ہی کیوں بچایا ہوا کھانا پھینکا جانا ہے تو ان حقائق اور کھانے کے ضائع ہونے کے نقصانات کو ذہن میں رکھیں۔ بچایا ہوا ہر تھوڑا سا کھانا مدد کرتا ہے ، اور یہ آپ کے خیال سے کہیں زیادہ فرق ڈال سکتا ہے۔

    @salmabhatti111

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار  حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    دنیا بھر کے غریب ممالک کی طرح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بےروزگاری، غربت جیسے مسائل کی وجہ سے ننھے معصوم بچوں کو زیور تعلیم سے دور رکھ کر مشقت لی جارہی ہے جابجا پھول جیسے بچے گھریلو ملازم ، بوٹ پالش کرتے، ہوٹلوں، چائے خانوں، ورکشاپوں مارکیٹوں،

    چھوٹی فیکٹریوں خشت بھٹوں سی این جی اور پیٹرول پمپوں سمیت بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ بچوں سے جبری مشقت کو ہمارے معاشرے میں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا۔

    کھیلنے کودنے اور لکھے پڑھنے کے دنوں میں ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اوزار تھامے پھول جیسے معصوم بچے جب حالات سے مجبور ہو کر کام کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوں تو یقیناً اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتا ہے ۔

    بچوں سے مشقت خوشحالی وترقی کے دعویدار معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ اور قوم کی اخلاقی اقدار کی زوال کی علامت ہے۔

    ددوسری طرف امیر ہیں۔ اشرافیہ ہیں ۔ سرمایہ کار ہیں ۔ جاگیر دار ہیں ۔ صنعت کار ہیں ۔ تاجر ہیں ۔ سوداگر ہیں ۔ ان کے بچوں کا غریبوں کے بچوں کے ساتھ کیا مقابلہ کروں ؟ مجھے توان امیروں کے کتے ان غریبوں کے بچوں سے زیادہ معتبر اور خوشحال دکھائی دیتے ہیں
    اچھی خوراک، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک ان کے شکم میں اُترتی ہے ان کی آنکھیں نم ہو جائے تو دنیا کے مہنگے ترین ڈاکٹروں سے علاج کروایا جاتا ہے ۔ انہیں خالص دودھ پلایا جاتاہے ۔ ان کی خوراک بیرون ملک سے آتی ہے۔ ان کی رہائش بھی ان کے شیان شان ہوتی ہے جب امیروں کے کتے بھونکتے ہیں تو مجھے غریبوں کے بھوکے پیاسے خوراک رہائش، آسائشات اور دواؤں سے محروم بچوں کی سسکیاں سنائی دینے لگتی ہیں ۔

    جب دنیا کے ایسے اور خصوصا اپنی ارض پاک کے مناظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کیا ہمیں ہماری اصل زندگی جو کہہ موت کے بعد شروع ہونی ہے اسکی بلکل بھی فکر یا یاد نہیں ہے کہہ ہم واقعی اپنی موت کو بھول چکے ہیں
    ہماری آنکھوں کے سامنے بچے سڑکوں پر کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں میں رزق تلاش کر کے کھاتے نظر آتے ہیں اور یہ منظر دیکھ کر بھی ہمیں اس مالک کی یاد نہیں آتی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے غریب کی محرومیوں پر لکھنے کو اتنا کچھ ہے جو ختم نہیں ہو رہا اگلی تحریر میں مزید کچھ ابھی تک کے لئے اس دعا کے ساتھ اجازت کہہ اللہ پاک ارض پاک کے باسیوں پر خصوصا اور پوری دنیا پر اپنا رحم فرمائیں اور ہمارے دلوں کو منور فرما دیں آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • گھر کے بزرگ رحمت سے کم نہیں ہیں  تحریر: زاہد کبدانی

    گھر کے بزرگ رحمت سے کم نہیں ہیں تحریر: زاہد کبدانی

    دادا دادی خدا کی نعمتیں ہیں جو ناقابل تلافی ہیں۔ وہ بھیس میں فرشتے ہیں جو ہمیشہ اپنے بچوں اور نواسوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت بدل رہا ہے ، لوگ اپنی روایت سے رابطہ کھو رہے ہیں۔ اسی طرح ، لوگ دادا دادی کی اہمیت کا ادراک نہیں کر رہے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح ان کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ کچھ معاملات میں ہوتا ہے ، زیادہ تر معاملات میں لوگ اپنے دادا دادی سے محبت کرتے ہیں۔
    آپ کسی بچے سے پوچھتے ہیں کہ کون ان کو سب سے زیادہ پیام کرتا ہے ، ان میں سے بیشتر اپنے دادا دادی کے جواب میں جواب دیں گے۔ اسی طرح ، دادا دادی کے لئے ، وہ اپنے پوتے پوتیوں سے پیار کرتے ہیں۔ وہ ہم سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں اور ہمیں لامتناہی لاڈ دیتے ہیں۔ تاہم ، وہ ہماری غلطیوں کو بھی درست کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہمیں ڈانٹتے ہیں۔ اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ دادا دادی کتنی بڑی نعمتیں ہیں ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔

    دادا دادی حقیقی نعمتیں ہیں۔
    دادا دادی واقعی ہماری زندگی میں ایک نعمت ہیں۔ وہ وہی ہیں جنہوں نے ہمارے والدین کو ان جیسا بنایا ہے۔ یہ ان کی پرورش کی وجہ سے ہے کہ ہمارے والدین ہم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اسی طرح ہماری دیکھ بھال کرتے ہیں جس طرح ہمارے دادا دادی جب وہ بچے تھے۔ مزید یہ کہ دادا دادی آپ کا سپورٹ سسٹم ہیں۔ وہ بعض اوقات صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو آپ کا ساتھ دیتے ہیں چاہے ہمارے والدین ایسا نہ کریں۔
    ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ دادا دادی ہماری صلاحیتوں اور صلاحیتوں کے سچے ماننے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیں اپنے خوابوں کے تعاقب پر مجبور کرتے ہیں جب دنیا ہمیں نیچے رکھتی ہے۔ اگرچہ ہمارے کچھ خواب ان کے لیے معنی نہیں رکھتے ، پھر بھی ، وہ اب بھی ہم پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ ہمارے اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور ہمیں بہتر کارکردگی دکھانے کی اجازت دیتے ہیں۔

    مزید برآں ، دادا دادی ایک اہم وجوہات میں سے ایک ہیں کیوں کہ ہم محفوظ اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں یہاں تک کہ اگر ہم اپنے دادا دادی کے ساتھ نہیں رہتے ، وہ ہمیشہ ہمارے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہماری تلاش کر رہے ہیں۔ تقریبا ہر ایک کی محفوظ جگہ ان کے دادا دادی کا گھر ہے۔ ہمارے پاس پرسکون اور سکون کا احساس ہے یہ جانتے ہوئے کہ ضرورت پڑنے پر ہم ہمیشہ اپنے دادا دادی کے گھر جا سکتے ہیں۔

    اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ دادا دادی بھیس میں برکت ہیں۔ وہ بہت سارے طریقوں سے ہماری مدد کرتے ہیں ، جن میں سے کچھ کا ہمیں احساس تک نہیں۔ جو خوش قسمت ہیں وہ دادا دادی ہیں یقینا ان کی قدر جانتے ہیں۔
    میرے دادا دادی
    میں خوش قسمت تھا کہ اپنے دادا کے گھر میں بڑا ہوا۔ ہمارا خاندان میرے دادا دادی کے ساتھ رہتا تھا جب سے میں چھوٹا تھا۔ جیسا کہ میرے دادا کا انتقال ہوا جب میں بہت چھوٹا تھا ، مجھے صرف ان کی چند یادیں یاد ہیں۔ ایک بات جو مجھے یقینی طور پر یاد ہے وہ یہ ہے کہ وہ روزانہ دو بار اپنے دانت صاف کرتا تھا۔ میں نے یہ عادت اپنائی اور جب سے میں یہی کر رہا ہوں۔

    میرے دادا دادی میرے حقیقی نظام سپورٹ رہے ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میں ایسے متاثر کن لوگوں کے گرد بڑا ہوا ہوں۔ میرے دادا ایک کالج کے پرنسپل تھے ، اس لیے انہوں نے ہمیشہ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے ہمارے ہوم ورک میں ہماری مدد کی جب میرے والدین دستیاب نہیں تھے۔ میں نے اپنی چھٹیاں ان کی جگہ پر گزاریں کیونکہ میں نے ان کے ساتھ رہنا پسند کیا۔

    اسی طرح میرے دادا دادی نے ہمیشہ کھلے بازوؤں سے مجھے گلے لگایا۔ وہ ہماری آمد کے لیے ہر چھٹی کا انتظار کرتے تھے۔ میری دادی نے مزیدار اچار اور کھانا بنایا جس سے ہم بہت خوش ہوئے۔ اس نے مجھے کچھ ترکیبیں بھی سکھائیں اور تجاویز اور چالیں جو آج بھی بہت کارآمد ہیں۔ میں صرف اپنے دادا دادی کو اپنے اور اپنے والدین میں اچھی اقدار پیدا کرنے اور ہمیں بڑھنے کے لیے محفوظ جگہ دینے کے لیے پسند کرتا ہوں۔

    @Z_Kubdani

  • خونی لبرلز بے لگام  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    خونی لبرلز بے لگام تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مبشر لقمان اور عمران ریاض خان نے نہ جانے ایسی کونسی خطا کر دی کہ خونی لبرلز کی دُم پر پاؤں آگیا کہ وہ ان دونوں پر چڑھ دوڑے اور ان پر طرح طرح کے زاتی حملے شروع کر دئیے۔
    مگر پاکستان میں پاکستانیت اور اسلامی روایات کے علمبرداروں نے ان خونی لبرلز کی بینڈ بجا دی
    خونی لبرلز بے لگام والا ٹویٹرٹرینڈ مسلسل کئی گھنٹے بیک وقت تین ملکوں پاکستان،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ٹاپ ٹرینڈ رہا۔
    یہ خونی لبرلز وہی ہیں،جنہیں میکڈونلڈ اور کے ایف سی جیسے دیگر کئی ادارے تو نظر نہیں آتے جو روزانہ بے تحاشہ جانور اور مرغیاں مارتے ہیں،مگر عید قرباں پر جب مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوۓ جانوروں کی قربانی کرنے لگتے ہیں تو انہیں جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں۔
    یہ خونی لبرلز وہی ہیں،جنہیں آوارہ کتوں سے ہونے والی معصوم انسانی ہلاکتیں تو نظرنہیں آتیں،مگر جب ان کتوں کو تلف کرنے کی بات آتی ہے تو،انہیں کتوں کے حقوق ضروریاد آجاتے ہیں۔
    بے شرمی کی انتہا ہے کہ اسلام اور مشرقی روایات کو ہر وقت نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آزادئ راۓ کا اس سے زیادہ ناجائز استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔
    یہی لوگ ہیں جو بیرونی فنڈنگ سے ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
    حکومت جب انہیں لگام ڈالنے کی بات کرتی ہے تو یہ چیخ اٹھتے ہیں۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نے جس انداز سے نور مقدم کیس اُٹھایا،
    اسکی مثال نہیں ملتی۔اس پر وہ دونوں لائق داد ہیں۔
    مبشر لقمان نے نور مقدم کے قاتل درندے کو جس طرح بے نقاب کیا،
    اس سے اس درندے اور اسکے حواریوں کی چیخیں آسمان تک سنی گئیں۔
    حتی کہ انہوں نے مبشر لقمان کو قانونی نوٹس تک بھجوا دیا،جس کی نہ صرف اندرون ملک،بلکہ آسٹریلیا،امریکہ اور برطانیہ سمیت بیرون مُلک میں بھی وسیع پیمانے پرشدید مذمت کی گئی۔
    جہاں تک مبشر لقمان کو میں جانتا ہوں،وہ اپنے ماضی کے بے باک ریکارڈ کی بدولت ایک قاتل درندے کو معصوم پرندہ کہنے سے تو رہا۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نور مقدم کیس میں ایک پیج پر تھے۔
    دونوں نے قاتل کی نہ صرف دل کھول کے شدید اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کی بلکہ اسے سرعام پھانسی جیسی سخت سزا بھی تجویز کی
    تاہم ان دونوں نے اس کیس میں نور مقدم کے اس
    Contactکی بات ضرور کی کہ نور مقدم کے ٹیلی فون ریکارڈ کے مطابق اس نے پچھلے کچھ مہینوں میں قاتل ظاہر جعفر سے تو سینکڑوں بار رابطہ کیا،جبکہ اسکا اپنے والدین سے صرف چند بار ہی رابطہ ہوا۔
    یہ نور مقدم کے رہن سہن پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا کہ وہ بغیر شادی کے ایک غیر محرم کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔
    اور یہی غلطی بالاخر اسکی جان بھی لے گئی۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نے صرف اتنی تلقین کی کہ والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟
    کہیں یہ سرگرمیاں ان کے لئے جان لیوا تو ثابت نہیں ہوں گی؟
    کہیں اس میں کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا جو ہماری معاشرتی اقدار کے خلاف ہے؟
    عمران ریاض نے اپنے ایک وی لاگ میں مبشر لقمان کے اس معاملہ پرسٹینڈ کو نہ صرف سراہا بلکہ اسکی تائید بھی کی۔
    عمران ریاض نے کہا کہ مبشر لقمان نے قطعا” ایسی کوئ بات نہیں کی،جس سے
    Victim blaming
    کا کوئ حلقہ ساشائبہ بھی ملتا ہو۔
    ان باتوں کی سچائ سے کون انکار کر سکتا ہے،
    سواۓ ان مٹھی بھر موم بتی مافیاز کے،جن کی ڈوریں کہیں اور سے ہلتی ہیں۔
    ظاہر ہے وہ تو انہیں کے لئے بھونکیں گے،جن سے انہیں ہڈی ملتی ہے۔
    پاکستان میں رہنے والے 99فیصد لوگ ان درخشاں روایات کی پاسداری چاہتے ہیں،جو ہمارا اثاثہ ہیں۔جن میں دین اسلام کی تعلیمات اور مشرقی روایات کی خوبصورت آمیزش ہے۔
    مگر لنڈے کے لبرلز،یہ کالے انگریز کچھ اور ہی ایجنڈا رکھتے ہیں
    مگر فساد پر مبنی یہ ایجنڈا،اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ یہاں چلنے نہیں دیں گے۔
    کوئ دوسرا ایجنڈا چاہنے والوں کو اس ملک کے بیٹے اور بیٹیاں ہر میدان میں اسی طرح شکست دیتے رہیں گے۔
    جس طرح انہوں نے مبشر لقمان اور عمران ریاض کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دی۔
    یہ مُلک اسلام کے نام پر بنا تھا اور رہتی دنیا تک اسلام کے طریقوں کے مطابق ہی چلے گا۔
    ان شاءاللہ#

    @lalbukhari

  • چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن . تحریر : عظمیٰ صابر

    چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن . تحریر : عظمیٰ صابر

    آزادی ایک خوبصورت احساس بے خوف ہوکر جینے کا احساس آزادی کی قدر محکوم اقوام سے پوچھیں کسی قید پرندے یا انسان سے پوچھیں آزادی نام ہے احساس ذمےداری کا آزادی نام ہے ملک سےوفاداری کا تخیل کی پرواز کا گھٹن سے نجات کا کھلی فضائوں میں سانس لینے کا آزادی کو چھو نہیں سکتے یہ محسوس کرنے اور جینے سے متعلق ہے آزادی بھی اصولوں کی پابند ہے شتر بے مہار آزادی اصل آزادی نہیں بلکہ آزادی کے بھی قواعد وضوابط ہیں آزادی بھی حدود کی پابند ہے آزادی محض اجسام کی آزادی نہیں بلکہ اصل آزادی "فکر اور تخیل "کی آزادی ہے غلامانہ سوچ سے بری کوئ شے نہیں یہ قوموں کے وجود کو نگل جاتی ہے.

    ملا نہیں وطنِ پاک ہم کو تحفے میں جولاکھوں دیپ بجھےہیں تو یہ چراغ جلا پاکستان عطیہء خداوندی اللہ نے ہم پر احسان کیا ہم کو پاکستان دیا ورنہ آج ہم اور اورہماری نسلیں ہندوستان میں بدترین زندگی گزار رہے ہوتے سجدہء شکر واجب ہے آزادی کی اس عظیم نعمت پر، اللہ کے عطاکردہ اس انعام پرملک پاکستان پرمیرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثارمیں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن اے میرے پاک وطن ہم آزاد قوم ہیں جشن آزادی مناتے ہیں دھوم دھام سے مناتے ہیں کئ دہائیوں سے منا رہے ہیں.

    لیکن ……..؟
    کیا محض اجسام کی آزادی، آزادی ہے؟
    کیا بحیثیت قوم ہماری فکر آزاد ہے؟

    جی بلکل فکر آزاد ہے لیکن ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے اکثریت کی فکر اج بھی آزاد نہیں وہ اج بھی اسکادرست ادراک نہیں رکھتے
    وہ اج بھی آزادی کے تقاضوں سے ناواقف ہیں اس سےجڑی ذمےداریوں سے ناواقف ہیں ہم نے یوم آزادی کو محض ایک تہوار بنا دیا ہم اسکی قدروقیمت سے صحیح طور پر ابھی واقف نہیں ہیں ابھی تک پائوں سے چمٹی ہیں زنجیریں غلامی کی دن اجاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں اتی آزادی کاسفر ابھی جاری ہے حقیقی آزادی پانے تک انگریز کےدیے نظام سے اپنی اقدار اور روایات سے جڑے نظام تک اسلام کے حقیقی نفاذ تک یہ سفرابھی جاری ہے حقیقی منزل ابھی دورہے.

    یوم آزادی پر اپنے گھر پر قومی پرچم لگا کردشمن ملک کی موسیقی سے لطف اندوز ہونا انکے ہیروز کی فیشن میں پیروی کرنا
    کیا ایک باوقارقوم کوزیب دیتاہے؟
    ہمارے الیکٹرانک میڈیا میں دشمن ملک کا مواد نشر ہونا کیا ہماری آزادی اور حب الوطنی پر سوالیہ نشان نہیں؟
    ہندی کے الفاظ کا کثرت سے استعمال اور اسے اپنی روزمرہ زندگی کا بہت سہولت سے حصہ بنالینا کیا مناسب طرزعمل ہے؟
    ہمارے ملکی وقار اور خود داری اس سے مجروح نہیں ہوتی کیا ؟
    یہ کمزوری کی علامت کہ اپ اپنے اپنےدشمن کی زبان کواہمیت دیں
    بلاوجہ غیر ملکی مصنوعات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا اور ملکی مصنوعات کو نظر انداز کرنا کیا قومی وقار کے خلاف نہیں؟
    پچھلی صدی کے انگریز کےبنائے ہوئے قوانین جو موجودہ دورسے مطابقت نہیں رکھتے یاجن میں محکومی کی جھلک ہے اج بھی نافذالعمل ہیں
    یہ کیسی آزادی ہے؟
    جو غیروں کی مرعوبیت سےنکلنے نہی دیتی؟
    اپنی دینی اور معاشرتی ذمےداریوں میں کوتاہی برتنا اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا
    کیا مناسب ہے؟
    کیا ممکن ہے کہ ہمارے اس رویے سے ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک دنیا میں بہتر مقام حاصل کرسکے؟
    ہمارا ملکی نصاب کیا ہماری ضروریات , قومی امنگوں اور ترجیحات کے مطابق ہے؟

    بلکل بھی نہیں بلکہ ہمارے نصاب تعلیم میں ہماری زبان اور ہمارے دین سے متعلق مضمون سب سے کم اہم گردانا جاتا ہے ہمارا معاشرہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے دین سے دوری کا شکار ہے ہم نے زندگی کے ہر شعبے کو ایک "بزنس "بنا کر رکھ دیا ہے اور انسانیت طاق پر دھری کوئ غیر اہم شے ہے چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا سیاست وکالت ہو یا عدالت مسیحائ ہو یا صحافت ہمار ےاندر کا بنیا ہر جگہ نظر اتا ہے جو موقع محل دیکھے بغیر چار ٹکے کمانا چاہتا ہے احساس اور ہمدردی غیر اہم جنس ٹھہری

    تو ہم قوم کیسے بنیں گے؟
    اتحاد ,تنظیم اور یقین محکم کب ہماری زندگی کے اصول بنیں گے؟
    کب ہم دین کی رسی کو تھامیں گے؟
    کب قائد کے اصولوں کو اپنائیں گے؟
    اور ……..
    کب فکر اقبال ہمارے ذہنوں کو منور کرے گی؟
    کب ہم اپنے رویوں کو بدلیں گے؟
    اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے؟

    صفائ نصف ایمان ہے لیکن ہم نےپورے ملک کو”کچرادان بناڈالا کرپشن کا زہر حہمارے قومی وجود میں سرایت کرچکا کردارسازی ہمارے لئے غیر اہم ٹھہری سود کی لعنت سے ہم پیچھا نہیں چھڑا پائے

    اب وقت ہے اس تعفن سے نجات پانے کا
    آزادی سے جڑی اپنی ذمےداریاں نبھانے کا۔
    قیام پاکستان کےاصل مقاصد کو منزل بنانے کا
    ملک میں نفاذ اسلام کا خواب پوراکرنے کا

    ہم کب سمجھیں گے کہ ملکی ترقی صرف حکومت اور اداروں کی مرہون منت نہیں بلکہ ہم سب کو بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ اپنی استعداد کے مطابق ملکی ترقی اور فلاح عامہ میں اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ:

    "ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
    جب یہ ستارے ٹمٹمائیں گے
    تو انکی روشنی میں ہمارے راستے اور منزل واضح ہوکر اور نکھر کر سامنے ائے گی یقین کا اجالا ہر سمت پھیلے گا ہمارے ملک کا نام روشن ہوگا ہم ایک طاقت اور قوت بن کر ابھریں گے

    عالم اسلام میں
    عالم اقوام میں

    اندھیرے سے لڑائ کا
    یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں
    جو دیا ہو ، وہ جلا دینا

    @Nucleus_Pak

  • امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    امن اور ترقی میں مذہب کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    اللہ تعالیٰ نے کرۂ ارض کی اس وسیع وعریض، خوبصورت اور ہر طرح کی نعمت سے مالا مال ہستی کو انسانیت کے لئے بنایا ہے، اس کائنات اور اس سے متعلق تمام چیز میں ہمہ وقت انسانیت کی خدمت میں مشغول ہیں، سورج اس کے لئے ہر دن روشنی کا انتظام کرتا ہے، زمین اس کے قدموں میں بچھی ہوئی ہے اور اس کی غذائی ضرورت کے لئے بار بار اپنے سینے کا چاک ہونا اور پامال کیا جانا قبول کرتی ہے۔ درختوں کا کام یہ ہے کہ مزے دار پھل اور عطر بار پھول مہیا کرنے کے علاوہ آلودہ ہواؤں کو اس کے لئے صاف کریں، تا کہ اسے آکسیجن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے، بادل سمندر سے کھارے پانی کا ڈول بھربھر کر اسے صاف اور شیریں بناتا ہے اور کھیتوں اور آبادیوں تک باران رحمت پہنچاتا ہے، سمندر کی متلاطم موجیں نہ جانے کتنی ساری آلودگیوں کو ختم کرتی ہیں اور ان کی زہرا کی سے انسان کو خوظ رکھتی ہیں، ہوا میں ہر وقت اس کے مفاد کے لئے دوڑ بھاگ میں لگی ہوئی ہے اور دنیا میں جتنے جاندار ہیں، وہ سب کسی نہ کسی پہلو سے اس کی خدمت میں مصروف ہیں، یہاں تک کہ جن جانوروں کی درندگی انسان کولرزاں وترساں رکھتی ہیں، ان کا وجود بھی کسی نہ کسی پہلو سے انسان کے لئے فائدہ مند نفع بخش ہی ہے۔
    غرض کہ پوری کائنات انسان کی خدمت اور اس کے لئے عیش وراحت کی فراہمی میں مشغول ہے۔ اسی لئے قرآن کا تصور یہ ہے کہ کائنات انسان کا معبودنہیں ہے ، بلکہ اس کی خادم ہے : ( الجاثية : ۳ ) لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے بے حد ضروری ہیں عیش وعشرت کے جتنے بھی وسائل حاصل ہو جائیں، اگر یہ دو چیزیں اسے میسر نہ ہوں تو اس کی زندگی بے سکون اور اس کی آرزوئیں ناتمام رہتی ہیں۔
    امن اور ترقی اسی لئے اللہ تعالی نے اہل مکہ پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تمہیں اس لئے بھی رب کعبہ کی عبادت کرنی چاہئے کہ اس نے عرب کے صحرا میں غذائی ضرورت اور کسی حکومت اور لا اینڈ آرڈر کا انتظام نہ ہونے کے باوجود ان کا انتظام فرمایا ہے۔ خوف و دہشت سے حفاظت کا تعلق امن سے اور غذائی اشیاء کی فراہمی کا تعلق ترقی سے ہے، زندگی کے لئے مطلوب ساری سہولتیں اللہ تعالی کا خصوصی عطیہ ہیں مگر یہ دونوں نعمتیں وہ ہیں، جن کو اللہ تعالی نے انسان کے ارادہ اور کوششوں سے تعلق رکھا ہے اور انسان کو اسی بصیرت اور صلاحیت عطا کی گئی ہے کہ اگر اس کی کوشش صحیح سمت میں ہو تو ان کو حاصل کر سکتا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ان کے قائم ہونے کا تعلق قیام عدل سے ہے، عدل کی تفصیل یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے تین طریقے ہو سکتے ہیں ، جن کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔ عدل، احسان اورظلم، عدل کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کو اس کا پورا پورا دے دیا جائے اور خود اپنے حق سے زیادہ ن لیا جائے ، احسان یہ ہے کہ دوسرے کو اس کا حق اس کے حصہ سے بڑھ کر دیا جائے اور خود اپنے حصہ سے کم کیا جائے یا اپنا حصہ نہیں لیا جائے قرآن مجید نے ان ہی دونوں طریقہ کار کو درست اور قابل قبول قرار دیا ہے لیکن آئیڈ یل طریقہ یہ ہے کہ انسان ’احسان‘ سے کام لے، جس کو بندے کے حقوق کے معاملہ میں ایثار کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ احسان کی تعریف کی گئی ہے، فرمایا گیا : اللہ احسان کرنے والے لوگوں کو پسند فرماتے ہیں۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ جولوگ احسان کا رویہ اختیارکریں۔ اللہ تعالی ان کو بہتر بدلہ اور انعام سے محروم نہیں کریں گے۔ اس کے بالمقابل ظلم اسلام کی نظر میں بدترین گناہ اور اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوسکتا، ناکامی و نامرادی ہی اس کا حصہ ہے۔ ظالموں کا انجام ہلاکت و بربادی ہے اور اللہ تعالی ظالموں کو پسند نہیں فرماتے۔ قرآن پاک میں دو سو سے زائد مقامات پر تلف جہتوں سے ظلم کی اور ظالموں کی مذمت فرمائی گئی ہے اور بہت زیادہ مقامات پر عدل کا اور احسان کا حکم دیا گیا ہے یا اس کی تحسین کی گئی ہے۔ جب معاشرہ میں عدل قائم ہوگا ، لوگوں میں احسان کا جذبہ پیدا ہوگا اور ظلم کرنے والے ہاتھ تھام لئے جائیں گے تو یقینا وہ معاشرہ ان کی دولت سے بہرہ ور ہوگا۔
    Twitter | @IhsanMarwat_786