Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد قوم کی ذمہ داریاں – عمران محمدی ( عفا اللہ عنہ )

    آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد قوم کی ذمہ داریاں – عمران محمدی ( عفا اللہ عنہ )

    آزادی حاصل کرنے کے بعد آزاد قوم کی ذمہ داریاں
    بقلم : عمران محمدی ( عفا اللہ عنہ )

    اللہ تعالٰی کا ہم پر بہت زیادہ فضل اور احسان ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں آزاد ملک میں آزادی کی نعمت سے نوازا
    ورنہ اگر آج ہم دنیا میں ان ممالک اور اقوام کی طرف دیکھیں جو ابھی تک کفار کی غلامی اور قبضے میں ہیں تو ان پر ہونے والے ظلم و ستم دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ غلامی کس قدر بدترین چیز ہے

    آزاد ہونے کے بعد ہمارے اوپر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے

    1️⃣___ *غلامی کے دنوں کو یاد رکھنا اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہنا*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡـتُمۡ قَلِيۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰٮكُمۡ وَاَيَّدَكُمۡ بِنَصۡرِهٖ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ
    اور یاد کرو جب تم بہت تھوڑے تھے، زمین میں نہایت کمزور تھے، ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک کرلے جائیں گے تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد کے ساتھ تمہیں قوت بخشی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، تاکہ تم شکر کرو۔
    – الأنفال – آیت 26

    2️⃣___ *آزادی ملنے کے بعد شکرانے کے طور پر اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھنا وگرنہ گناہوں کی وجہ سے یہ نعمت ضائع بھی ہو سکتی ہے*

    فرمایا اللہ تعالیٰ نے
    اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّنۡ لَّـكُمۡ وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَيۡهِمۡ مِّدۡرَارًا ۖ وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ
    کیا انھوں نے نہیں دیکھا ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے، جنھیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا اور ہم نے ان پر موسلا دھار بارش برسائی اور ہم نے نہریں بنائیں، جو ان کے نیچے سے بہتی تھیں، پھر ہم نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسرے زمانے کے لوگ پیدا کردیے۔
    الأنعام – آیت 6

    ایک دوسرے مقام پر فرمایا
    وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ عَتَتۡ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهٖ فَحَاسَبۡنٰهَا حِسَابًا شَدِيۡدًاۙ وَّعَذَّبۡنٰهَا عَذَابًا نُّكۡرًا‏
    اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا، بہت سخت محاسبہ اور انھیں سزا دی، ایسی سزا جو دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔
    الطلاق – آیت 8

    ایک بستی کی مثال دے کر سمجھایا
    فرمایا
    وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرۡيَةً كَانَتۡ اٰمِنَةً مُّطۡمَٮِٕنَّةً يَّاۡتِيۡهَا رِزۡقُهَا رَغَدًا مِّنۡ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الۡجُـوۡعِ وَالۡخَـوۡفِ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ
    اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلاہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے
    النحل – آیت 112

    3️⃣___ *آزادی ملنے کے بعد اپنے ملک میں اللہ تعالٰی کے احکامات اور دستور کا نفاذ کیا جائے اور غیراللہ کے نظاموں کو اپنے خطے میں نافذ نہ کیا جائے*

    فرمایا
    اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ ؕ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ
    وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔
    القرآن. الحج – آیت 41

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب حکمران بنے اور فتنے پیدا ہوئے تو انہوں نے فرمایا
    والله لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة…..
    اللہ کی قسم میں ہر اس شخص سے لڑائی کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق روا رکھے گا
    بخاری

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی یہی ارشاد فرمایا کہ جب تک لوگ نماز اور زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تب تک مجھے ان سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے

    4️⃣ *___آزاد ہونے کے بعد آزادی کے اصل مقصد اور نظریہ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے اور اس پر مکمل کاربند رہنا لازمی سمجھا جائے پاکستان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے لیے حاصل کیا گیا تھا، اسے سیکولر سٹیٹ بنانے کے خواب مت دیکھے جائیں*

    نظریہ پاکستان دراصل اسلامی نظریہ فکروعمل( لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ )کے سوتے سے پھوٹتا ہوا وہ شیریں چشمہ ہے جو پاکستان کے پس منظر میں نو مولود کے لیے شیر مادر کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کی ترقی کا راز اسی چشمے سے ہی سیرابی میں مضمر ہے۔پاکستان کے اندر انفرادی و اجتماعی مسائل کے حل کی ضمانت صرف اسی نظام میں ہے جو مکہ اور مدینہ کے راستے یہاں تک پہنچا۔پاکستان کی پیاس اسی چشمے سے سیرابی میں ممکن ہے اور پاکستان کی شکم سیری اسی چشمے کے پانی سے تیار کی ہوئی فصلوں میں پوشیدہ ہے۔

    قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
    جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں

    مشرق و مغرب میں پروردہ متعدد نظریات کی چکاچوند نے پاکستان اور اہل پاکستان کو احساس کمتری میں مبتلا کیا ہے ۔ان میں سے کسی نظریے کی تنفیذ اس تسبیح کو دانہ دانہ کر دینے کے مترادف ہو گی جو پاکستان کی وحدانیت کا باعث ہے۔قرطاس تاریخ گواہ ہے کہ نظریات ہی اقوام کی پہچان ہوتے ہیں۔دیگراقوام کے نظریات اپنانے سے نہ صرف یہ کہ پاکستان اپنا وجودگم کر بیٹھے گا بلکہ ذلت،پستی اور گمشدگی کی ان اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑے گا جہاں سے واپسی ناممکنات عالم میں سے ہے۔

    5️⃣__ *آزاد ہونے کے بعد من حیث القوم اپنے آپ کو تہذیب اغیار سے بھی محفوظ رکھا جائے*

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی قوم کو یہود و نصاری اور مشرکین کی تہذیبوں کے اثرات بد سے محفوظ رکھا اور اس معاملے میں اس حد تک محتاط ہوئے کہ اھل یہود سے ملکر روزہ رکھنا بھی برداشت نہ کیا

    فرمایا
    لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع… مسلم

    اور فرمایا
    ( من تشبه بقوم فهو منهم )

    اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

    6️⃣___ *آزاد ہونے کے بعد اپنی قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے اسباب و وسائل مہیا کیے جائیں تاکہ جہالت کے اندھیروں سے نکل کر شعور کی روشنی میں داخل ہوا جائے*

    جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں جامعہ صفہ کی بنیاد رکھ کر تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کیا تھا

    اسی طرح خواتین کے لیے باقاعدہ تعلیمی مواقع فراہم کئے گئے

    بدر کی جنگ میں جو قیدی ہاتھ لگے ان کے علوم و فنون سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا گیا

    عبرانی زبان سیکھنے کے لیے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو باقاعدہ طور پر تیار کیا

    7️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے سابقہ علاقوں اور ملکوں کو واپس اپنے قبضے میں لانے کے لیے جدوجہد کی جائے*

    ارشاد باری تعالٰی ہے
     ؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآٮِٕنَا ‌ؕ
    انھوں نے کہا اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ کے راستے میں نہ لڑیں، حالانکہ ہمیں ہمارے گھروں اور ہمارے بیٹوں سے نکال دیا گیا ہے۔ البقرة – آیت 246

    دوسری جگہ فرمایا
    وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ وَاَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ أخرجوكم
    اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور انھیں وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تمہیں نکالا ہے البقرة – آیت 191

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ہجرت کے بعد اپنے سابقہ علاقے( مکہ مکرمہ )پر دوبارہ قبضہ کیا تھا

    8️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے ان بھائیوں کی مدد لازمی کی جائے جو کسی وجہ سے ہجرت نہ کر سکے اور ابھی تک مقبوضہ علاقے میں کفار کے ظلم و ستم میں پس رہے ہیں

    اللہ تعالٰی نے اھل مدینہ کو مکہ میں مقیم مظلوم مسلمانوں کی مدد کا حکم دیا
    فرمایا
    وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا‌ ۚ وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙۚ وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا
    اور تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار بنا۔
    النساء – آیت 75

    وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يُهَاجِرُوۡا مَا لَـكُمۡ مِّنۡ وَّلَايَتِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ حَتّٰى يُهَاجِرُوۡا‌ ۚ وَاِنِ اسۡتَـنۡصَرُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ فَعَلَيۡكُمُ النصر
    اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمہارے لیے ان کی دوستی میں سے کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے
    الأنفال – آیت 72

    اور ان کی آزادی کے لیے کوشش کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعائیں کی جائیں
    جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں قید مسلمانوں کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے
    اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ….. بخاري

    9️⃣ *آزاد ہونے کے بعد دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں کے لیے اپنی آزاد ریاست کے دروازے کھول دیئے جائیں*

    اللہ تعالٰی نے فرمایا
    يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ ؕ
    وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو
    الحشر – آیت 9

    اور فرمایا
    وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ
    اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں، انھی کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔
    الأنفال – آیت 74

    🔟 *آزادی ملنے کے بعد اپنی آزاد کردہ ریاست، ملک اور خطے کا دفاع کرنا بہت ضروری ہے تاکہ دوبارہ یہ نعمت چھن نہ جائے اور پھر سے غلامی کا دور شروع نہ ہو*

    اس لیے اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھنا ضروری ہے
    فرمایا
    وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ
    اور ان کے (مقابلے کے) لیے قوت سے اور گھوڑے باندھنے سے تیاری کرو، جتنی کرسکو
    – الأنفال – آیت 60

    اگر ہم اپنی قوت تیار نہیں کریں گے تو پھر دشمن ہمیں اچک کر لے جائے گا
    تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
    ہے جرم ضعیفی کی سزامرگ مفاجات

    ملکی، سرحدی دفاع کے متعلق اللہ تعالٰی نے حکم دیا ہے
    يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! صبر کرو اور مقابلے میں جمے رہو اور مورچوں میں ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
    آل عمران – آیت 200

    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
    ” اللہ کے راستے میں ایک دن (سرحدوں پر) پہرا دینا دنیا اور دنیا میں جو کچھ موجود ہے، اس سب سے بہتر ہے۔ “
    [ بخاری، الجہاد والسیر، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ : ٢٨٩٢، عن سہل بن سعد (رض) ]

    اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
    ” اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا پہرا دینا ایک مہینے کے قیام اور صیام سے بہت رہے اور اگر اس حالت میں مجاہد فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور اس کے مطابق اس کا رزق بھی جاری رہے گا، نیز وہ آزمائش سے بھی محفوظ رہے گا۔ “
    [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عز وجل : ١٩١٣، عن سلمان الفارسی (رض) ]

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خندق اور تبوک کی جنگیں دفاع وطن کے لیے لڑی تھیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ کی سرحدوں کا دفاع خود کیا کرتے تھے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ
    ایک رات مدینہ میں کچھ شور و غل ہوا، لوگ سمجھے کہ شاید دشمن نے حملہ کردیا ہے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اکیلے ہی گھوڑے پر سوار مدینے کی سرحدوں کا چکر لگا کر واپس آ رہے ہیں عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَخَرَجُوا نَحْوَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا

    1️⃣1️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنی آزاد کردہ ریاست کی قوت و حیثیت کو عالمی سطح پر مثالی اور آئیڈیل بنایا جائے*

    اپنی خارجہ پالیسی کو بہترین اصولوں پر استوار کیا جائے بین الاقوامی سطح پر ملکی وقار پر آنچ نہ آنے دیں
    اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں دوستوں کا واضح تعین کیا جائے ۔اس میدان میں قرآن مجید کی بہترین راہنمائی موجود ہے۔ایک بار دھوکہ کھانے کے بعد پھروہیں اعتبار کر لینا اپنے وقار کو خود ختم کرنا ہے۔یہودونصاری ہمارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے ہیں۔ دنیا سے اسی زبان میں بات کرنی ہو گی جووہ سمجھتی ہے۔لندن،نیویارک اور پیرس کے راستوں میں ذلت و رسوائی کے سواکچھ میسر نہیں ہوگا ۔عزت کاراز صرف حرمین شریفین کی گرد میں ہی پنہاں ہے۔امت مسلمہ سے تعلق جوڑنے اورملت اسلامیہ کے شجرسایہ دار کو تناور اور تنومند کرنے میں ہی ہمارا بین الاقوامی وقار ممکن ہے۔

    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر

    2️⃣1️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے آزاد ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالٰی کی توحید کو مضبوطی سے تھاما جائے اور الشرک باللہ کی من جملہ اقسام کو ختم کیا جائے کیونکہ توحید الہی میں ہی معاشرتی امن و استحکام مضمر ہے*

    ارشاد باری تعالٰی ہے
    اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ
    وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا، یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔
    الأنعام – آیت 82

    اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ امن و سکون اور ہدایت ایسے خالص ایمان ہی سے حاصل ہوسکتے ہیں جس میں توحید کے ساتھ کسی قسم کے شرک کی آمیزش نہ کی گئی ہو، جو قوم خالص ایمان اور خالص توحید سے محروم اور کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو اسے کسی صورت امن و چین اور ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ افسوس کہ مسلمانوں نے خالص توحید کو چھوڑا اور قبروں اور آستانوں کی پرستش شروع کردی (الا ما شاء اللہ) جس کے نتیجے میں پورا عالم اسلام ذلت و مسکنت کا نشانہ بن گیا۔ اب نہ کہیں امن ہے نہ ہدایت جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کی حکمرانی کا نام ہے۔ اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں کہ امت مسلمہ دوبارہ خالص توحید کی طرف پلٹے اور صرف اپنے رب کے آستانے پر جمی رہے

    3️⃣1️⃣ *آزادی حاصل کرنے کے بعد اپنے ملک میں اتفاق.، اتحاد اور تنظیم کا ماحول پیدا کیا جائے اور ہر اس اختلاف سے اجتناب کیا جائے جس سے ملکی دفاع کمزور ہو اور دشمن کا فائدہ ہو، مذہبی، لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات کی حوصلہ شکنی کی جائے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا ولا تفرقوا
    اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہوجاؤ –
    آل عمران – آیت 103

    اور ان تمام عناصر کی بیخ کنی کی جائے جو ملکی و ملی اتحاد میں دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں خواہ وہ کسی سیاسی جماعت کی شکل میں ہوں یا مذہبی رہنما کی شکل میں ہوں، خواہ وہ کوئی قبائلی سردار ہو یا غیر ملکی این جی اوز ہوں، خواہ وہ کوئی اندرونی صفوں میں چھپا ہوا دشمن ہو یا بیرونی ایجنٹ ہو

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے شاش بن قیس یہودی کے ناپاک عزائم کو بھانپتے ہوئے اس کی شرارتوں کا فوراً سد باب کیا تھا

    4️⃣1️⃣ *آزاد ہونے کے بعد اپنے ملک میں عدل و انصاف اتنا مضبوط کریں کہ ہر ایک کی رسائی میں ہو*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جائو، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔ پس اس میں خواہش کی پیروی نہ کرو کہ عدل کرو اور اگر تم زبان کو پیچ دو، یا پہلو بچائو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پوری طرح با خبر ہے۔
    النساء : 135

    *عدل و انصاف کے پیمانے اتنے کڑے اور مضبوط ہوں کہ کسی عزت والے کی عزت یا کسی کمتر کی کمی انہیں متزلزل نہ کرسکے*

    عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں
    أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا وَمَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا

    مخزومیہ خاتون (فاطمہ بن اسود) جس نے (غزوہ فتح کےموقع پر)چوری کرلی تھی، اس کےمعاملہ نے قریش کوفکر میں ڈال دیا۔انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پرآنحضرت ﷺسے گفتگو کون کرے ! آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید ؓ آپ کوبہت عزیز ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کرسکتا ۔چنانچہ اسامہ نےآنحضرت ﷺ سےاس بارےمیں کچھ کہا توآپ نےفرمایا ۔اسامہ ! کیا تواللہ کی حدود میں سے ایک حد کےبارے میں سفارش کرتا ہے؟ پھر آپ کھڑے ہوئےاورخطبہ دیا( جس میں) آپ نے فرمایا ۔پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اوراگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پرحد قائم کرتےاور اللہ کی قسم !اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرے تومیں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔
    بخاري 3475

  • غیبت  ایک مرض   :حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق

    غیبت ایک مرض :حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق

    غیبت عام معاشرتی بیماری جس سے بچنے کی تلقین نبی مہربان ﷺ نے فرمائی آج ہم غیبت سے بچنے کے حوالے سے ہمارے پیارے نبی مہربان ﷺ کے فرامین کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے
    ” غیبت ” کے معنی ہیں پیٹھ پیچھے بدگوئی کرنا، یعنی کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق ایسی باتیں کرنا کہ جس کو اگر وہ سنے تو ناپسند کرے۔مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 748
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے کہ اگر واقعی وہ عیب میرے بھائی میں ہو جو میں کہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو پھر تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2092

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بد گمانی سے بچو اس لئے کہ بد گمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور نہ کسی کے عیوب کی جستجو کرو اور نہ ایک دوسرے پر حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور نہ بغض رکھو اور اللہ کے بندے بھائی بن کر رہو۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1022

    ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اللہ تعالیٰ کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدا رہے (قطع تعلق کرے) ۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1023

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بغض نہ رکھو اور کسی سے حسد نہ کرو، اور نہ کسی کی غیبت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین رات سے زیادہ ترک تعلق کرے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1030حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بدگمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو اور (بیع میں) ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور نہ حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ کسی کی غیبت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1662

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ غیبت کیا ہے فرمایا کہ اپنے بھائی کا ایسا تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو۔ کہا گیا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اس کے بارے میں اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں جو کچھ کہہ رہا ہو اگر وہ اس کے اندر فی الواقع موجود ہو تو۔ فرمایا کہ غیبت جب ہوگی جب تو جو بات کہہ رہا ہے وہ اس کے اندر موجود ہو اور اگر وہ بات اس کے اندر موجود نہ ہو تو پھر تو نے اس پر بہتان لگایا۔سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1470

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی مسلمان کی غیبت کا نوالہ کھایا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے اس کے مثل جہنم کا نوالہ کھلائیں گے اور جس نے کسی مسلمان کی برائی کا لباس پہنا اللہ اسے اس کے مثل جہنم کا لباس پہنائیں گے اور جس شخص نے کسی کو شہرت و ریاکاری اور دکھلاوے کے مقام پر کھڑا کیا یا کسی شخص کی وجہ سے ریاکاری و شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا تو اللہ قیامت کے روز اس سے ریاکاری اور شہرت کے مقام پر کھڑا کرے گا۔سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1476

    حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا ان کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایک کو پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے اور دوسرے کو غیبت کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 349

    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” تم اپنے مرے ہوئے لوگوں کی نیکیاں ہی ذکر کر لیا کرو اور ان کی برائیوں کے ذکر سے بچتے رہو” ۔ ( ابوداؤد ، ترمذی)

    تشریح
    مرے ہوئے لوگوں کے نیک اعمال اور ان کی بھلائیوں کو اس لیے یاد اور بیان کرنا چاہئے کہ نیک اور نیکی کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے۔
    مردوں کی نیکیوں کو ذکر کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ استحباب کے طور پر ہے لیکن ان کی برائیوں کے ذکر سے بچنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ وجوب کے طور پر ہے یعنی ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کی برائیاں ذکر نہ کرے اور اس فعل سے بچتا رہے چنانچہ حجۃ الاسلام نے لکھا ہے کہ مرے ہوئے لوگوں کی غیبت زندہ لوگوں کی غیبت سے کہیں زیادہ قابل نفریں ہے۔ کتاب ازہار میں علماء کا یہ قول لکھا ہوا ہے کہ ” میت کو نہلانے والا اگر میت میں کوئی اچھی علامت دیکھے مثلاً میت کا چہرہ روشن اور منور ہو یا میت میں سے خوشبو آتی ہو تو اسے لوگوں کے سامنےبیان کرنا مستحب ہے اور اگر کوئی بری علامات دیکھے مثلاً (نعوذباللہ) میت کا چہرہ یا بدن سیاہ ہو گیا ہو یا اس کی صورت مسخ ہو گئی ہو تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔

    @mmasief

  • والدین کے ساتھ حسن سلوک  تحریر : وسیم اکرم

    والدین کے ساتھ حسن سلوک تحریر : وسیم اکرم

    اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ،ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کوبیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے؛ غرض ر شتے بناکر اللہ تعالی نے ان کے حقوق مقر ر فرمادیے ہیں ، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والدین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے

    اسی طرح اولاد کے ذمہ ہے کہ والدین کی اطاعت کرے ان کے راحت رسانی کی فکر کرے والدین کو مالی یا جسمانی خدمت کی ضرورت ہو تو اسے انجام دے، کبھی کبھی ان کی زیارت کے لئے جائے اگر والدین ضرورت مند ہوں تو مالی یا جسمانی خدمت انجام دینا واجب ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا

    اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنھیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔(القرآن)

    اسلام جیسے متوازن نظام اور دین نے اگر والدین کے حقوق مقرر کیے ہیں تواولاد کے بھی کیے ہیں
    اولاد کے حقوق والدین کے فرائض ہیں کہ والدین نے ان کو پورا کرنا ہے وہ ان کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم نے والدین کی بنیادی ذمہ داری اورتوجہ جس بات کی طرف دلائی وہ اپنے آپ کو اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اوراس کی سزا سے بچانا ہے۔ اس انداز میں ان کی تربیت کریں کہ وہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ سکیں

    والدین کا نعم البدل کوئی نہیں ہے وہ اولاد کی خاطر دن رات ایک کر دیتے ہیں نا سایہ دیکھتے ہیں نا دھوپ ، نا غم دیکھتے ہیں نا خوشی ہر وقت اپنی دھن میں لگن کے ساتھ اولاد کی اچھی تربیت کے لیے تیار رہتے ہیں وہی اولاد جب بڑی ہو جاتی ہے شادی کے بعد والدین سے علیحدگی اختیار کرلیتی ہے اس وقت والدین کے سینے میں جو پہاڑ گراۓ جاتے ہیں وہی جانتے ہیں یا رب جانتا ہے پھر بھی والدین اولاد کے لیے ہر وقت دعا گو رہتے ہیں والدین کی قدر کریں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ ‎@MalikGii06

  • والدین کی زمہ داری اور نسل نو . تحریر : سید غازی علی زیدی

    والدین کی زمہ داری اور نسل نو . تحریر : سید غازی علی زیدی

    اولاد ایک امانت
    والدین کی غفلت
    سنگین خیانت
    غلط صحبت
    سخت جہالت
    بچوں کی تربیت
    نسلوں کی عافیت

    پاکستانی معاشرے میں تعلیم و تربیت، تہذیب و شائستگی، تمیز وآداب جیسے الفاظ و اصطلاحات متروک ہوتے جا رہے ہیں۔رات دن زمانہ خراب ہے کی گردان کرنے والے بھول گئے کہ زمانہ نہیں انسان میں خرابی آ چکی ہے۔ جب آپ اپنی اولاد کو وراثت میں جھوٹ، کینہ، بغض، حسد اور لالچ جیسی دولت دیں گے تو وہ درندے بنیں گے انسان نہیں۔ وہ انسان جو کہ اشرف المخلوقات قرار پایا تھا اسے مال حرام اور سیاہ کاریوں نے اسفل السافلین کے درجے پر لا پٹخا۔ لیکن صد افسوس کوئی ملال نہیں کوئی رنج نہیں۔ ہم نفس کے غلام بنے، بنا سوچے سمجھےشیطانیت کی راہ پر بگٹٹ بھاگے جارہے۔ زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لیں تاکہ اولاد کو کوئی تنگی نہ اٹھانی پڑے۔
    کونسی اولاد؟ وہ جو والدین کو بڑھاپے میں اولڈ ہاؤس میں جمع کرادیتی کہ والدین کی کھانسی کی آواز ان کے آرام میں مخلل ہوتی۔ یا وہ اولاد جس کی حرام کاریوں کی وجہ سے ماں باپ بڑھاپے میں جیل کی چکی پیستے اور بھری عدالتوں میں رسوا ہوتے۔ یا وہ اولاد جو خود تو حرام موت مر جاتی لیکن ماں باپ کو کلنک کا داغ لگا جاتی اور تا عمر بوڑھے والدین اولاد کی بے راہروی پر دنیا کے طعنے سنتے۔ ایسے میں برسوں میں کمائی گئی عزت و مرتبہ خاک میں مل جاتا اور رہی بات مال و دولت کی تو جب اولاد ہی نہ رہی تو ایسی دولت کا کیا فائدہ؟
    حرام کا لقمہ اولاد کو کہلاتا انسان بھول جاتا کہ یہ وہ آگ ہے جو نہ صرف دنیا میں جلا کر خاکستر کر دیتی بلکہ آخرت کا وبال بھی ہے۔ سونے چاندی کا نوالہ نہیں تھوہر کے کانٹے ہیں جو اولاد کے حلق میں پیوست ہورہے۔ یہ وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق نہیں۔ جیسے پیشاب کا ایک قطرہ سارا پانی نجس کر دیتا ویسے ہی جان بوجھ کر کھایا گیا ایک نوالہ حرام انسان کا جسم وروح پلید کردیتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے؛
    "بیشک انسان خسارے میں ہے”

    دنیا میں قابلیت کے جھنڈے گاڑتا، جاہ و حشمت کی بناء پر ناقابل تسخیر بنا انسان بھول جاتا کہ اس کا خمیر کھنکھناتی مٹی سے اٹھا ہے۔ اس کی اوقات ایک گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں۔ جس جسم کی خوبصورتی پر اکڑتا، سانس بند ہو جائے تو وہی جسم ناقابل فراموش بدبو دینے لگتا ہے۔ جس اولاد کیلئے تمام عمر مال اکٹھا کیا اسی اولاد کو قبر میں اتارنے کی جلدی ہوتی تاکہ بٹوارہ جلد از جلد ہوسکے۔ برسوں گزر جاتے نہ کوئی قبر پر پھول ڈالتا نہ فاتحہ پڑھتا۔ اب تو اللّٰہ کے فضل سے قلوں کی جگہ موم بتی رتجگے نے لے لی ہے پہلے مولوی کو پیسے دے کر دنیا دکھاوے کو ہی سہی قرآن خوانی تو ہو جاتی تھی اب بھلا ہو جدیدیت و لبرل ازم کا اس سے بھی گئے۔ اور ہمارے معاشرے میں اگر نقالی کی رسم نہ پوری کی جائے تو معاشرہ طعنے دے دے کر مار دیتا سو یہ رسم بد خیر سے اب امراء و زعماء کی بدولت حکومتی سطح پر منتقل ہوچکی ہے۔ فنکارسے لیکر ادیب تک، سیاستدان سے لیکر طبیب تک کوئی فوت ہوجائے تو کینڈل لائٹ ویجل از حد ضروری ہے۔

    جنریشن گیپ ختم کرنے کے چکرمیں تعلیم یافتہ والدین نے اولاد کے دل سے ادب واحترام، ڈر و خوف ہی ختم کر دیااور پھر یہ گلہ کہ آج کل کی اولاد زبان دراز و بدتمیز ہے۔ ارے بھائی اولاد کو سر پر تو آپ نے خود چڑھایاہے۔ ہر جائز ناجائز فرمائش پوری کر کے، منہ سے بات نکلنے سے پہلے مطلوبہ چیز مہیا کر کے، دین و مذہب سے دور کر کے، تو اب گلہ کیسا اور کس سے بھلا؟ دنیاداری سکھانے کے چکر میں دین کو پس پشت ڈال دیا۔ سکول کیلئے اٹھنا لازمی لیکن فجر کیلئے ابھی بچہ ہے کہہ کر غفلت برتنا۔ قبر میں پہلا سوال نماز کا ہونا اکنامکس کا نہیں۔ نرسری میں لہک لہک کر پوئم پڑھنا تو آ جاتی لیکن سورہ اخلاص وزیر بن کر بھی صحیح نہیں آتی۔
    بچے کا دماغ تو کورا کاغذ ہوتا اس کو جو سکھاؤ نقش ہو جاتا۔ لیکن اگر سکھانے والے خود میں مگن ہوں تو بچے کا بہک جانا لازم ہے۔ اپنے سماجی روابط استوار کرتے والدین جب اولاد سے بے اعتنائی برتیں تو کبھی کوئی خانساماں تو کبھی ڈرائیور یا کوئی دور و نزدیک کا رشتہ دار بچوں کو ورغلا کر بچپن تباہ کر دیتا اور بچے کبھی خوف سے تو کبھی لاعلمی کےسبب کسی کو بتا نہیں پاتے بس تاعمر خود ساختہ احساس ندامت کا شکار رہتے۔

    اپنی خرابیوں کو پسِ پشت ڈال کر۔
    ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

    ہم اپنے معاشرے کی کیا بات کرتے فرانس جیسے ماڈرن ملک میں جب "می ٹو” کی مہم چلی تو بیشمار لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی آپ بیتی شیئر کی کہ کیسے ان کو بچپن میں انکے قریبی لوگوں نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جس کا سب سے زیادہ قصوروار انہوں نے اپنے والدین کی غفلت کو ٹھہرایا۔

    آج جب ہم نوجوان نسل کی بے راہروی پر سیخ پا ہوتے ہیں تو اس کے محرکات کو نظر انداز کرنا جہالت ہے۔ جدیدیت کے چکر میں والدین آپنی اولادوں کو ہائی فائی سکولوں میں داخل کرا دیتے جہاں کی فیس تو لاکھوں میں لیکن تربیت ٹکوں میں بھی نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تمام بڑے اسکولوں میں منشیات فروشی اپنے عروج پر ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کبھی ویلنٹائن ڈے تو کبھی میوزیکل نائٹ کے نام پر نوعمر لڑکے لڑکیوں کو نچایا جارہا۔ کبھی تعلیمی دوروں پر لے جاکر مکمل جنسی آزادی دے دی جاتی تو کبھی عشق میں ناکامی پر خودکشی تک کی نوبت آ جاتی۔ اور والدین کو اس وقت ہوش آتا جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا۔
    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور باپ کی شخصیت بچے کا پہلا آئیڈیل ہوتی۔ لیکن جب والدین ہی بے توجہی برتیں تو بچے کی شخصیت کا مسخ ہونا خارج از امکان نہیں۔ بلاشبہ قوموں کی ترقی کا دارومدار نوجوان نسل پر ہوتالیکن اگر بزرگوں کی تربیت میں ہی نقص ہو تو کیسی تربیت اور کیسی ترقی۔ خالی دینی یا انگریزی تعلیم کے رٹوں کا کیا فائدہ جب تربیت صفر ہو۔

    تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
    تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی

    ہر طبقے کے نوجوانوں میں جرائم کی بڑھتی شرح تشویشناک ہے۔ نشہ، چوری، ریپ، گھر سے بھاگنا اور خودکشی جیسے خطرناک جرائم ہمارے بچوں کو تباہ کررہےاور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ آج کے پرفتن دور میں اسلامی تعلیمات کی پیروی کر کے ہی ہم اپنے بچوں کو مضبوط بنیاد، بہترین تربیت، اچھا اخلاق اور اعلیٰ پائے کی دینی و دنیاوی تعلیم فراہم کرسکتے اور یہ ایک واحد راہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی نسلوں کو سنوار سکتے اور پاکستان کو صحیح معنوں میں ریاست مدینہ میں ڈھال سکتے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے
    "کوئی باپ اپنی اولاد کو حسن ادب اور اچھی تربیت سے بہتر کوئی اور تحفہ نہیں دے سکتا”

    @once_says

  • ایک شعبہ جو نظرانداز ہوتا ہے . تحریر:  زہراء مرزا

    ایک شعبہ جو نظرانداز ہوتا ہے . تحریر: زہراء مرزا

    ماہ آزادی کے آتے ہیں وطن عزیز کے طول و عرض میں فضا عجب رنگ اوڑھ لیتی ہے. گھروں کی چھتوں اور بازاروں میں جھنڈے. ہر ہر نکڑ پر ملی نغموں کی گونج اور ہر ہر زباں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے. بلاشبہ آزادی ایک نعمت ہے. اور نعمت کا چشن منانا حکم خدا ہے. ماہ اگست کے آتے ہی ٹی وی، ریڈیو، اخبارات میں وطن عزیر کا نام روشن کرنے والوں کی خدمات کو سراہا جاتا ہے. کہیں ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر پہرہ دینے والے جری جوانوں کے حوالے سے بات چیت ہوتی ہے تو کہیں علم و ادب میں اپنا لوہا منوانے والے پاکستان کے درخشندہ ستاروں کا تذکرہ ہوتا ہے. کہیں کھیل کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کے نام سے شامیں سجائی جاتی ہیں. کہیں سیمینار اور کہیں مشاعرے.

    ان سب کے پیچ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو مسلسل نظرانداز ہوتا آیا ہے. وہ طبقہ مصوروں کا ہے. پاکستان کے مصور اپنے فن پاروں کی بنیاد پر پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں، پاکستان میں ایسا ایسا سکیچر موجود ہے جو اپنے فن میں یکتا ہے، اردو عربی کیلی گرافی میں پاکستانیوں کا ثانی نہیں. ایسا بھی نہیں کہ ان آرٹسٹوں نے پاکستان کے لیے کچھ نہیں کیا. یہ اپنی خداداد صلاحیتوں سے ایسے ایسے فن پارے تخلیق کرتے ہیں کہ یوم آزادی کی تقریبات کے سیٹ کا تھیم بنا دیتے ہیں. ان کی بنائی گئی پینٹنگز پاکستان میں جگہ جگہ استعمال ہوتی ہیں.
    ان کے ہاتھ سے لکھا گیا دل دل پاکستان سب کی دیواروں پر سجتا ہے. ان کے ہاتھوں سے پاکستان کے قدرتی مناظر کی پینٹنگز دنیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے. یہ لوگ وطن عزیر کے زرخیز ترین دماغ ہیں. مگر افسوس کہ ان کی تخلیق کردہ سیٹ پر دیگر شعبہ جات سے آنے والے لوگ کسی آرٹسٹ کے لیے دن تعریفی بول نہیں بولتے.

    پاکستان میں جب شہروں کو خوبصورت بنانے کی بات چلی تو ان مصوروں نے اپنے فن کے رنگ شہروں کی دیواروں پر ایسے بکھیرے کے دیکھنے والے عش عش کر اٹھے. میٹرو سٹیز کی وہ دیواریں جہاں عجیب و غریب قسم کے اشتہار چسپاں ہوتے تھے انہیں دیدہ زیب بنایا. اپنے ملک کی تہذیب و ثقافت کو نمایا کرنے والوں میں سب سے بڑا حصہ مصوروں کا ہے. لوگ ان کے خیال سے پاکستان کو جانتے ہیں. ہم آزادی کی خوشیاں منائیں، جی بھر کر منائیں، جہاں پاکستان کے باقی تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی خدمات کو سراہتے ہیں ان آرٹسٹوں کو بھی سراہا جائے. خوبصورت سیٹ، عمدہ تصویر، بہترین تحریر اور لاجواب تخیل کو جہاں داد دیں وہیں. ایسے سیٹ، تصویر،. تحریر اور تخیل کے موجد کو یاد رکھیں. کیونکہ پاکستان کے لیے ان کی بہت سی خدمات ہیں. ان کا بہت سا حصہ ہے.

    @zaramiirza

  • اسلام میں ٹیکسوں کا نظام  تحریر سمعیہ رشید

    اسلام میں ٹیکسوں کا نظام تحریر سمعیہ رشید

    مغربی ممالک میں حکومت کی آمدنیوں اور اخراجات کی پوری تفصیلات عوام کے سامنے لائی جاتی ہیں اور انہیں یہ جائزہ لینے کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ خود دیکھ لیں کہ کہاں سے حکومت نے فنڈ حاصل کیے اور کہاں خرچ کیے۔ عام مصلحتوں کا پوری طرح لحاظ رکھا جاتا ہے اور اسکولوں سے لے کر اسپتالوں تک عوام کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔ نہ کوئی بھی ٹیکس بغیر عوامی نمائندوں کی منظوری کے لگایا جاسکتا ہے نہ ان کی منظوری کے بغیر کوئی خرچ کیا جا سکتا ہے۔ گویا حق کے ساتھ حکومت مال لیتی ہے اور حق کے ساتھ خرچ کرتی ہے۔
    لیکن ہماری یہاں کیا صورت رہی ہے؟ مجھے عربی شاعر شریف کے اشعار یاد آتے ہیں یہ شاعر عباسی خلافت کے مقابلے میں خروج کرنے والے نفس زکیہ کے ساتھ تھا وہ اللہ تعالی سے فریاد کرتا ہے۔ "خدایا! ہمارا مال منصفانہ تقسیم کے جائے اہل اقتدار و دولت کے درمیان ہی گردش کر رہا ہے۔ حکومت و امارت مشورہ کے بجائے استبداد سے کام لیتی ہے۔ عام مال میں یتمیوں اور بیواؤں کاحق لہوولعب او عیش و عشرت میں ضائع کیا جارہا ہے ۔ ہر علاقہ کا حاکم وہاں کا سب سے بد کردار شحض بنادیا گیا ہے۔ خدایا! باطل کی اس کھیتی کو اب کاٹ دے۔ تا کہ اپنی بہترین صورت میں نمایاں ہو”۔
    عالم اسلام میں اس پرانی آہ و بکا کی صورتیں اب بھی جاری ہیں۔ٹیکسوں سے مراد وہ مال ہوتا ہے جو حکومت عوام سے مختلف صورتوں میں لیتی ہے اور عام خدمات اور فلاح و بہبود کی مختلف صورتوں میں پھر عوام ہی کو واپس کرتی ہے۔ اس لیے ٹیکس ادا کرنا ضروری ہے اور اس سے بھاگنا قومی غداری کے شابہ ہے۔
    اچھے نظام والے ملکوں میں یہ شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ ٹیکسوں کی رقم کسی نجی خواہش کی تکمیل میں ضائع کی جائے۔ اس لیے ٹیکس چوروں کو ایسے مجرم سمجھا جاتا ہے جو بدترین الزامات کے لائق اور بڑے عہدوں سے محروم کئے جانےکے قابل ہیں۔
    ٹیکس اور زکوۃ میں فرق یہ ہے کہ اللہ تعالی نے زکوۃ اس لیے فرض کی ہے کہ نفس کو بخل کی برائی سے پاک کیا جائے اور غریبوں کو مسائل سے نمٹنے میں مدد دی جائے اور زکوۃ کے خرچ کی مدیں متعین ہیں۔ ٹیکسوں کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ انہی سے قوم کا سیاسی، قومی اور تہذیبی ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے اور انہی سے نظام حکومت چلایا جاتا ہے ہنگامی حالات مثلا جنگ کی صورت میں ٹیکسوں کی تعداد و مقدار بہت بڑھ جاتی ہے گویا زکوۃ اور ٹیکسوں کے دائرے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسلام نے زکوۃ کی مقدار اور اس کے مستحقین تعین کر دی ہے۔ پھر اللہ کی خوشنودی کی راہ میں مسلمانوں کے خرچ کی کوئی حد مقرر نہیں ہے تعلیم وتربیت، دعوت و تہذیب، فوجی ضروریات اور صنعتوں وغیرہ کے میدان بہت زیادہ مالی وسائل چاہتے ہیں۔
    ” نفقہ” کے لفظ میں فرض زکوۃ، نفلی صدقات اور اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کی مختلف شکلیں شامل ہیں کبھی ضرورت کا تقاضا ہوتا ہے کہ کچھ بھی باقی نہ رکھا جاۓ۔
    ترجمہ:۔ اور وہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں۔ کہہ دو جو کچھ تمہاری ضروریات سے زیادہ ہو۔ اللہ نے مومنین سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں جنت کے بدلے ۔ (التوبة:١١١)
    یہ ضرورت ٹیکسوں سے پوری ہوتی ہے ۔ بیشتر مسلم ممالک میں نظام حکومت کے بگاڑ اور سر کاری وسائل کے ساتھ کھلواڑ کی بدولت ٹیکس کا لفظ ناپسندیدہ ہوگیا ہے لیکن دیگر ممالک اس مصیبت سے محفوظ ہیں ۔ جو کچھ ٹیکس وبندگان سے لیا جاتا ہے اسے بہترین جگہوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور تیز نگاہوں سے اس کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ لہذا زیادہ دولت والے اور صنعتی وغیر صنعتی پیداور کرنے والے اپنی قوموں کے مفادات کی پاسداری خوشی سے کرتے ہیں۔
    ترجمہ:۔ اور جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی نا قدری نہ کی جائے گی اور اللہ پرہیز گار لوگوں کو خوب جانتا ہے ۔ (آل عمران: ۱۱۵)

    شیخ یوسف قرضاوی لکھتے ہی کہ ہنگامی حالات میں دولت مندوں پر مزید ٹیکس لگائے جاسکتے ہیں۔ شریعت اس کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ ہنگامی حالات کے تقاضوں کو پورا نہ کیا گیا تو خود دولتمندوں کےلیے بھی زیادہ تباہی آئے گی اس لیے زیادہ برائی کو دفع کرنا ضروری ہے۔
    پھر زیب وزینت اور آسائش والی چیزوں پر ٹیکس لگانے میں کوئی خرچ نہیں کیونکہ اس سے غریبوں اور معذوروں کی مدد ہوگی۔ اسی طرح قومی مصنوعات کے تحفظ اور فروغ کےلیے بیرونی مصنوعات پر ٹیکس لگانا بھی بہتر ہی ہے ۔کیونکہ متعدد ممالک اس طریقے سے خود کفالت حاصل کرچکے ہیں۔
    وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ

  • شرح پیدائش اور قومی وسائل تحریر: عتیق الرحمن

    شرح پیدائش اور قومی وسائل تحریر: عتیق الرحمن

    پے در پے حکومتوں نے آبادی پر قابو پانے کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیا اور یو کے پیچھے غربت کے خاتمے اور سماجی ترقیاتی اسکیموں کی کثرت کو چھپایا۔ 225 ملین افراد کے ساتھ پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہے۔ تقریبا دو فیصد کی قومی شرح نمو کے ساتھ ، ہر سال کم از کم 4.4 ملین افراد کو موجودہ تعداد میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ اضافہ صرف دنیا کے 40 چھوٹے ممالک کی مشترکہ آبادی کے برابر ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس موضوع پر مجازی خاموشی ہے۔ یہ قومی مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ ہے کہ وسائل اتنے نہیں ہیں جتنی ہمارے ملک کی آبادی ہوچکی ہے اور جسکی وجہ سے آمدن کا زیادہ تر حصہ صرف اور صرف غذائی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے لگ جاتا اور حتی کے ہمارا اپنا ملک اس غذائی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہا۔ کیا یہ رویہ اطمینان اور طویل المیعاد چیلنجوں کو ختم کرنے کے رجحان کا نتیجہ ہے ، یا کیا ہمارے رہنما صرف موضوع کو سامنے لاتے ہوئے مذہبی منافرت سے ڈرتے ہیں؟ یہاں تک کہ مارچ میں منعقدہ اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ میں بھی ، ہمارے سرسری تعداد سے ملک کے قدرتی اور انسانی وسائل کو لاحق خطرے کو گفتگو میں مشکل سے سمجھا گیا۔ یقینی طور پر ، ہماری سیاسی قیادت وزیر اعظم کی قیادت میں ، جو دیگر غیر معمولی اور اہم عالمی مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہیں ، اس کے بارے میں بھی اپنی سوچ بچار متعلقہ فورمز پر ڈسکس کرتے ہونگے۔ درحقیقت ، حکومت نے رمضان کے دوران کوویڈ 19 سے متعلقہ SOPS کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوشش کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں اور علماء کو ساتھ لیا اور ہر مذہبی تہوار پر علما کی رائے کے لئے انکا اجلاس بُلایا جاتا ہے تو کیا آبادی میں اضافے کی شرح کو پائیدار سطح پر لانے کی ضرورت پر مربوط بیانیہ تیار کرنے کے لیے ایسا نہیں کیا جا سکتا؟ بحث کی متنازعہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے ، شاید آبادی کو کنٹرول کرنے کی بجائے خاندانی صحت پر زیادہ زور بھی دیا جا سکتا ہے ، کیونکہ بہت سے لوگ اسے مسلم معاشروں کے خلاف مغربی سازش کے طور پر دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ افرادی قوت کو کم کرنے کی سازش ہے۔ مذہب اور قوم کی سماجی ترقی کے تناظر میں زچگی کی صحت کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی افزائش کی شرح 3.6 کا مطلب ہے کہ اوسطا ایک ماں کے کم از کم تین بچے ہوتے ہیں۔ یہ تعداد پورے جنوبی ایشیا (2.4 فیصد) سے زیادہ ہے ، یہ خطہ خود دنیا میں سب سے زیادہ افزائش کی شرح رکھتا ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق ، تولیدی عمر کی 42 فیصد خواتین کم از کم خون کی کمی کا شکار ہیں۔ تمام لوگوں کے حقوق یقینی طور پر اس حقیقت کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہو سکتی کہ صحت مند مائیں صحت مند بچے پیدا کرنے کی کلید ہیں اور پیدائش کا وقفہ صحت مند خاندانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب میں بھی خواتین صحت کی دیکھ بھال کے حصے کے طور پر خاندانی منصوبہ بندی تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ تقریبا دیگر تمام بڑے مسلم ممالک بشمول بنگلہ دیش ، ایران ، ترکی ، ملائیشیا ، انڈونیشیا وغیرہ نے اپنی اپنی حکومتوں کی قیادت میں وسیع اتفاق رائے سے آبادی اصلاحات کو کامیابی سے نافذ کیا ہے۔ پاکستان کو بہت دیر ہونے سے پہلے اپنی آبادی میں اضافے کی شرح کو قابو میں کرنے اور نیچے لانے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔

    @AtiqPTI_1

  • پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    ہر انسان چار قسم کے حدود میں زندگی گزارتا ہے جن میں سب سے پہلے ان کی انتہائی ذاتی زندگی کا حد ہوتا ہے جو صرف دو لوگوں یعنی میاں بیوی کے حد تک محدود ہوتا ہے دوسری زندگی ایک شخص کی ذاتی زندگی ہوتی ہے جس کو انگریزی میں پرسنل اسپیس (personal space) کہتے ہیں۔ تیسری زندگی معاشرتی زندگی اور چوتھی زندگی عوامی زندگی ہوتی ہے۔
    آج ہم پرسنل اسپیس کے بارے میں کچھ بات کریں گے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں اس کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا ہے دوسروں کے پرسنل اسپیس پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سوں کو اپنے حد کا علم بھی نہیں ہوتا اگر کوئی شخص اپنے حد کی حفاظت کر بھی لے تو اس کو خود غرضی کانام دیاجاتا ہے۔
    پرسنل اسپس کو اگر مثالوں سے واضع کیا جائے تو اِس میں ایسے سوالات کا پوچھنا ہے جو سننے والے کو بلکل بھی پسند نہیں ہوں مثلاً آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟ شادی کہاں سے کی ہے ؟ اگر کنوارا ہے تو شادی کیوں نہیں کی ؟ آج کل کمزور نظر آرہے ہوں کیوں؟ اِس طرح کے بہت سارے سوالات جن کے جوابات بہت حوصلے والا شخص ہی دے سکتا ہے۔
    اسی دائرے میں سوالات کے علاوہ کئی لوگ عمل کروانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔
    پرسنل اسپیس کے تعین اور اس کے بارے میں بحث کرنے والے علم کو proximics کہتے ہیں اور مغرب میں بچوں کو نو عمری سے یہ علم پڑھایا جاتا ہے تا کہ وہ اپنے اور دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔
    ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں یہاں بہت سارے بنیادی حقوق تلف کیے جاتے ہیں ہم ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو اسکول جانے کی عمر میں کسی ورک شاپ پر یا چائے کے ڈھابے پر کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے نوجوانوں کو دیکھتے ہیں جن کی ڈگری اور صلاحیت کو منوانے کے لیے اچھی خاصی رقم اور جان پہچان درکار ہوتی ہے اور ایسے ضعیف العمر افراد نظر آتے ہیں جن کا حق ہے کہ معاشرہ ان کو روزی، صحت اور عزت دیں دے لیکن وہ اس سے محروم ہے۔
    ایسے عالم میں کسی دوسرے کی ذاتی معاملات میں خلل ڈالے بنا ایک باشعور شخص ہی زندگی بسر کرسکتا ہے۔
    اگر کوئی شخص کسی مجبوری کی بنا پر کسی کے کام آنے سے قاصر ہے تو اس کو خود غرض گردانا جاتا ہیں اور اس کو لالچ، کنجوس اور برا بھلا کہا جاتا ہے اور اگر وہ لوگوں کی باتوں میں آکر سب کو خوش کرنے لگے تو کہیں کا نہیں رہتا۔
    اپنے پرسنل اسپیس کی حفاظت کر کے اور دوسروں کے پرسنل اسپیس کا احترام کر کے آپ خود کو اور دوسروں کو بھی خوش رکھ سکتے ہیں ایک بچے کا مثال ہی لیں لے جو آپ سے تھوڑے فاصلے پر ہنستے مسکراتے کھیل رہا ہو آپ اس کو قریب آنے کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ نہیں مان رہا اور جب اس کو زبردستی اُٹھا کے لاتے ہیں تو یا تو وہ رونے لگے گا يا اس کے چہرے پر بیزاری آپ دیکھیں گے کچھ بھی نہ کرے تو وہ واپس جانے کی کوشش ضرور کرے گا یہ سب آپ کسی بالغ انسان کے ساتھ نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ آپ کو پہلے ہی منع کردیگا اور آپ اس کو اُٹھا کے نہیں لا سکتے۔
    انسانی زندگی میں بہت سی چیزیں سمجھنے کی ہوتی ہیں اور ہمیں سمجھنا چاہئے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس لئے بھی دیا گیا ہے کہ انسان میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
    @I_MJawed

  • ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم   تحریر: صالح ساحل

    ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم تحریر: صالح ساحل

    آج میں جس موضوع کو اپنا ہدف بنا رہا ہوں اس میں کسی کی کوئ تفریق نہیں ہر شخص کو اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے کے وہ کہاں کھڑا ہے میں نے اپنے موضوع کے ساتھ بیماری کا لفظ استعمال کیا جو آپ کے لیے تجسس کی بات ہو گی مگر میں نے اخلاقی برائیاں کے ساتھ بیماری کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کے یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے اور ہمارے جینز میں شامل ہو چکی ہے اور یہ سرطان کی طرح ہمارے معاشرے کو اندار سے کھوکھلا کرتی جا رہی جن اخلاقی برائیاں کو خدا کے منکر برائ تسلیم کرتے ہیں ان برائیوں پر خدا کے ماننے والے کیسے رو باعمل ہیں ہر شخص مسلمان اپنی گھر سے سیکھ کر آتا ہے کے جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے مگر وہ معاشرے میں کھل کر جھوٹ بولتا ناپ تول میں کمی کرنے والا ہم میں سے نہیں مگر ہر تاجر اس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے ذخیرہ اندوزی کر کے مال بنایا جاتا ہے زندگی بچانے والی ادویات میں ملاوٹ کی جاتی ہے غرض یہ کے دنیا کی کوئ ایسی برائی نہیں جو ہم میں نہ پائی جاتی ہو پھر ہم اپنے آپ کو خوش فہمی میں رکھنے کے لیے اس اخلاقیات سے دیوالیہ حرکات کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ذلت و رسوائی کا زمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کے اگر ہم آج دنیا میں روندا درگاہ ہیں تو یہ دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ جو کے سراسر خود فریبی اور دجل ہے دنیا میں انہیں قوموں کے مقدر میں ترقی ہوتی ہے جو اخلاقی طور پر ایک قوم ہوتیں ہیں انسان نام رکھ کر حیوانات والے کام کرنے والی قومیں کبھی دنیا میں ترقی نہیں کرتی اس دنیا کی سب سے اعلی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے معترف ان کے دشمن بھی تھے یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کی اخلاقی تربیت کا نتیجہ تھا کے قیصر و کسریٰ کی سلطنت آپ کے غلاموں کے قدموں تھی اور وہ عرب بدو جن کو کل تک کوئ گھاس نہیں ڈالتا تھا دنیا کے سپرپاور بن گے قوموں کے فیصلے ان کے اخلاقی وجود پر ہوتے ہیں جس قوم کا اخلاقی وجود مر چکا ہو وہ صحفہ ہستی سے مٹ جاتی ہے اور تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے وہ ایک چنگیز خان جو ایک چھوٹے سے قبیلے سے اٹھا اور اپنی ساتھ قبائل مل کر آدھی دنیا پر حکمرانی کرنے لگا تو تاریخ اٹھ کر پڑھو وہ ایک با اصول شخص تھا جس کے جھنڈے کے نیچے اس کے باقی قبائل جمع ہوئے مگر جب اس کی نسلوں نے ان اصولوں کو فروش کیا تو صحفہ ہستی سے مٹ گے عرب کی ایک کہاوت ہے کے ظلم پر تو معاشرہ قائم رہ سکتا ہے نا انصافی پر نہیں یہ تمام برائیاں نا انصافی کے زمرے میں آتی ہیں کسی سے جھوٹ بولنا حق تلافی کرنے ذخیرہ اندوزی کرنا کرپشن کرنا ان سب میں نا انصافی نظر آتی ہے اس لیے ہم سب کو معاشرے میں پھیلی بیماری کے ساتھ ساتھ اپنے اندار بھی دیکھنا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کے ہر شخص اس کے خلاف علم جہاد بلند کرے گا معاشرے کو اس ناسوار سے پاک کرنا ہماری زمہ داری ہے آئیں سب مل کر ان برائیوں کا سدباب کریں خدا کے قانون کے مطابق دنیا وہ سرفراز رہیں گے جو دنیا میں اخلاقی اصولوں پر چلیں گے
    ‎@painandsmile334

  • قوم اور عوام ‏تحریر:ملک شوکت محمود

    ۔
    حضرت قائد اعظمؒ نے ہمیں ایک قوم کی طرح ایک مقصد پر جمع کیا تھا۔نباض امت اقبال ؒ نے اس قوم کی فکری آبیاری کی تھی۔ مولانا محمود الحسنؒ اسیر مالٹا، مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مولانا محمد علی ؒجوہر اور مولانا شوکت علی ؒجیسے رہنما ئے امت نے اس قوم کو عملی جدوجہد کا سبق سکھایا تھا۔لیکن ہم یہ سب کچھ بھول گئے۔علماءاور دینی جماعتوں نے اسلام کی تبلیغ کی بجائے ہمیں اسلام آباد کے راہوں کی ترغیب دی۔سیاستدانوں نے روٹی کپڑا اور مکان کا سراب دکھایا اور یہ قوم ان قسم کے مشرکانہ نعروں کو اپنا ہدف سمجھ کر ان کے پیچھے لگ گئی۔ رازق تو اللہ کی ذات ہے اور یہ وصف صرف اسے ہی سزا وار ہے ہاں اس کے لئے جدوجہد انسانوں کے لئے شرط ہے۔لیکن اگر ہم اپنے جیسے انسانوں کو ہی ان مسائل کا حل سمجھ لیں تو عذاب خداوندی کا سروں پر مسلط ہونا عبث نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم قوم سے عوام بن گئے، ایک دوسرے سے غافل، ہمارا سب سے بڑا مقصد کرکٹ ورلڈ کپ جیتنا رہ گیا ہے۔ہمارے حکمرانوں کو بھی رومی حکمرانوں کی طرح عوام کو بے وقوف بنانا آتا ہے،کیونکہ زمانے بدلنے سے تقاضے بدلتے ہیں روش یا تاریخ نہیں۔
    قوم کو متحد اور منظم رکھنا ایک باکردار با عمل لیڈر رہنما کی اولیں ترجیح ہوتا ہے،جبکہ بد قسمتی سے ہمیں قائداعظم کے بعد نہ ہی تو کوئی سیاسی لیڈر رہنما ملا اور نہ ہی ہم عوام نے کبھی خود قوم بننے کی زحمت گوارہ کی ہے۔ہر کسی نے ان سیاسی مداریوں کو ہی بار بار منتخب کروایا اور اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی انفرادی مفادات کے حصول کیلئیے انکو ہی اپنا خیرخواہ سمجھا،جس کی بدولت ہم عوام کبھی لسانیت کے نام پر اور کبھی مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر آپس میں الجھے رہتے ہیں،جس سے ہماری اخلاقیات تہذیب اور فلاحی سوچ رکھنے والوں کی نیک خواہشات کا جنازہ نکلنا شروع ہوتا گیا،اور پھر نتیجے میں میرا جسم میری مرضی،جیسی تنظیمیں ملک میں نمودار ہونے لگیں۔اور ہم قوم سے عوام رہنے کو ترجیح دیتے رہے،کبھی ملکی ترقی اجتماعی اور عوامی فلاح و بہبود جیسے منصوبوں تک ہماری سوچ نہیں پہنچ پائی،کیونکہ سیاستدانوں نے ہمیں انفرادی سوچ کی شخصیت کا حامل بنا کررکھ دیا ہے۔قومیں کبھی اپنے ملک کی املاک کی توڑپھوڑ، قومی خزانے کی چوری، کرپٹ عدلیہ،کرپٹ سیاسی مافیاز،راشی بیوروکریٹس اور صحافی پیدا نہیں ہونے دیتیں۔
    جس معاشرے میں استاد کو حقارت اور ایک کرپٹ بیوروکریٹس کو عزت سے نوازہ جاتا ہو وہاں قومیں نہیں عوامی انتشار پسند ٹولے،فرقہ وارانہ اجتماعات،اور ظالم حکمران ہی پیدا ہوتے ہیں۔اسلامی اور خاندانی اقدار ہی ختم ہو چکی ہیں،جس معاشرے میں بھائی کے ہاتھوں بہن اور باپ کے ہاتھوں بیٹی تک کی عزت نیلام ہونے لگے پھر ایسا معاشرہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواہاں کیسے ہو سکتا ہے۔موجودہ پاکستان میں تقریبا %59 فیصد لوگ پڑھے لکھے اور باشعور ہونے کے باوجود سنگین جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں کیوں۔؟وجہ تعلیم کی کمی نہیں تربیت کا بحران ہے۔

    آج 73 سال گذرنے کے باوجود بھی ہم عوام کا ہجوم ہیں قوم نہیں۔