Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ایک شعبہ جو نظرانداز ہوتا ہے . تحریر:  زہراء مرزا

    ایک شعبہ جو نظرانداز ہوتا ہے . تحریر: زہراء مرزا

    ماہ آزادی کے آتے ہیں وطن عزیز کے طول و عرض میں فضا عجب رنگ اوڑھ لیتی ہے. گھروں کی چھتوں اور بازاروں میں جھنڈے. ہر ہر نکڑ پر ملی نغموں کی گونج اور ہر ہر زباں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے. بلاشبہ آزادی ایک نعمت ہے. اور نعمت کا چشن منانا حکم خدا ہے. ماہ اگست کے آتے ہی ٹی وی، ریڈیو، اخبارات میں وطن عزیر کا نام روشن کرنے والوں کی خدمات کو سراہا جاتا ہے. کہیں ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر پہرہ دینے والے جری جوانوں کے حوالے سے بات چیت ہوتی ہے تو کہیں علم و ادب میں اپنا لوہا منوانے والے پاکستان کے درخشندہ ستاروں کا تذکرہ ہوتا ہے. کہیں کھیل کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کے نام سے شامیں سجائی جاتی ہیں. کہیں سیمینار اور کہیں مشاعرے.

    ان سب کے پیچ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو مسلسل نظرانداز ہوتا آیا ہے. وہ طبقہ مصوروں کا ہے. پاکستان کے مصور اپنے فن پاروں کی بنیاد پر پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں، پاکستان میں ایسا ایسا سکیچر موجود ہے جو اپنے فن میں یکتا ہے، اردو عربی کیلی گرافی میں پاکستانیوں کا ثانی نہیں. ایسا بھی نہیں کہ ان آرٹسٹوں نے پاکستان کے لیے کچھ نہیں کیا. یہ اپنی خداداد صلاحیتوں سے ایسے ایسے فن پارے تخلیق کرتے ہیں کہ یوم آزادی کی تقریبات کے سیٹ کا تھیم بنا دیتے ہیں. ان کی بنائی گئی پینٹنگز پاکستان میں جگہ جگہ استعمال ہوتی ہیں.
    ان کے ہاتھ سے لکھا گیا دل دل پاکستان سب کی دیواروں پر سجتا ہے. ان کے ہاتھوں سے پاکستان کے قدرتی مناظر کی پینٹنگز دنیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے. یہ لوگ وطن عزیر کے زرخیز ترین دماغ ہیں. مگر افسوس کہ ان کی تخلیق کردہ سیٹ پر دیگر شعبہ جات سے آنے والے لوگ کسی آرٹسٹ کے لیے دن تعریفی بول نہیں بولتے.

    پاکستان میں جب شہروں کو خوبصورت بنانے کی بات چلی تو ان مصوروں نے اپنے فن کے رنگ شہروں کی دیواروں پر ایسے بکھیرے کے دیکھنے والے عش عش کر اٹھے. میٹرو سٹیز کی وہ دیواریں جہاں عجیب و غریب قسم کے اشتہار چسپاں ہوتے تھے انہیں دیدہ زیب بنایا. اپنے ملک کی تہذیب و ثقافت کو نمایا کرنے والوں میں سب سے بڑا حصہ مصوروں کا ہے. لوگ ان کے خیال سے پاکستان کو جانتے ہیں. ہم آزادی کی خوشیاں منائیں، جی بھر کر منائیں، جہاں پاکستان کے باقی تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی خدمات کو سراہتے ہیں ان آرٹسٹوں کو بھی سراہا جائے. خوبصورت سیٹ، عمدہ تصویر، بہترین تحریر اور لاجواب تخیل کو جہاں داد دیں وہیں. ایسے سیٹ، تصویر،. تحریر اور تخیل کے موجد کو یاد رکھیں. کیونکہ پاکستان کے لیے ان کی بہت سی خدمات ہیں. ان کا بہت سا حصہ ہے.

    @zaramiirza

  • اسلام میں ٹیکسوں کا نظام  تحریر سمعیہ رشید

    اسلام میں ٹیکسوں کا نظام تحریر سمعیہ رشید

    مغربی ممالک میں حکومت کی آمدنیوں اور اخراجات کی پوری تفصیلات عوام کے سامنے لائی جاتی ہیں اور انہیں یہ جائزہ لینے کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ خود دیکھ لیں کہ کہاں سے حکومت نے فنڈ حاصل کیے اور کہاں خرچ کیے۔ عام مصلحتوں کا پوری طرح لحاظ رکھا جاتا ہے اور اسکولوں سے لے کر اسپتالوں تک عوام کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔ نہ کوئی بھی ٹیکس بغیر عوامی نمائندوں کی منظوری کے لگایا جاسکتا ہے نہ ان کی منظوری کے بغیر کوئی خرچ کیا جا سکتا ہے۔ گویا حق کے ساتھ حکومت مال لیتی ہے اور حق کے ساتھ خرچ کرتی ہے۔
    لیکن ہماری یہاں کیا صورت رہی ہے؟ مجھے عربی شاعر شریف کے اشعار یاد آتے ہیں یہ شاعر عباسی خلافت کے مقابلے میں خروج کرنے والے نفس زکیہ کے ساتھ تھا وہ اللہ تعالی سے فریاد کرتا ہے۔ "خدایا! ہمارا مال منصفانہ تقسیم کے جائے اہل اقتدار و دولت کے درمیان ہی گردش کر رہا ہے۔ حکومت و امارت مشورہ کے بجائے استبداد سے کام لیتی ہے۔ عام مال میں یتمیوں اور بیواؤں کاحق لہوولعب او عیش و عشرت میں ضائع کیا جارہا ہے ۔ ہر علاقہ کا حاکم وہاں کا سب سے بد کردار شحض بنادیا گیا ہے۔ خدایا! باطل کی اس کھیتی کو اب کاٹ دے۔ تا کہ اپنی بہترین صورت میں نمایاں ہو”۔
    عالم اسلام میں اس پرانی آہ و بکا کی صورتیں اب بھی جاری ہیں۔ٹیکسوں سے مراد وہ مال ہوتا ہے جو حکومت عوام سے مختلف صورتوں میں لیتی ہے اور عام خدمات اور فلاح و بہبود کی مختلف صورتوں میں پھر عوام ہی کو واپس کرتی ہے۔ اس لیے ٹیکس ادا کرنا ضروری ہے اور اس سے بھاگنا قومی غداری کے شابہ ہے۔
    اچھے نظام والے ملکوں میں یہ شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ ٹیکسوں کی رقم کسی نجی خواہش کی تکمیل میں ضائع کی جائے۔ اس لیے ٹیکس چوروں کو ایسے مجرم سمجھا جاتا ہے جو بدترین الزامات کے لائق اور بڑے عہدوں سے محروم کئے جانےکے قابل ہیں۔
    ٹیکس اور زکوۃ میں فرق یہ ہے کہ اللہ تعالی نے زکوۃ اس لیے فرض کی ہے کہ نفس کو بخل کی برائی سے پاک کیا جائے اور غریبوں کو مسائل سے نمٹنے میں مدد دی جائے اور زکوۃ کے خرچ کی مدیں متعین ہیں۔ ٹیکسوں کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ انہی سے قوم کا سیاسی، قومی اور تہذیبی ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے اور انہی سے نظام حکومت چلایا جاتا ہے ہنگامی حالات مثلا جنگ کی صورت میں ٹیکسوں کی تعداد و مقدار بہت بڑھ جاتی ہے گویا زکوۃ اور ٹیکسوں کے دائرے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسلام نے زکوۃ کی مقدار اور اس کے مستحقین تعین کر دی ہے۔ پھر اللہ کی خوشنودی کی راہ میں مسلمانوں کے خرچ کی کوئی حد مقرر نہیں ہے تعلیم وتربیت، دعوت و تہذیب، فوجی ضروریات اور صنعتوں وغیرہ کے میدان بہت زیادہ مالی وسائل چاہتے ہیں۔
    ” نفقہ” کے لفظ میں فرض زکوۃ، نفلی صدقات اور اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کی مختلف شکلیں شامل ہیں کبھی ضرورت کا تقاضا ہوتا ہے کہ کچھ بھی باقی نہ رکھا جاۓ۔
    ترجمہ:۔ اور وہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں۔ کہہ دو جو کچھ تمہاری ضروریات سے زیادہ ہو۔ اللہ نے مومنین سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں جنت کے بدلے ۔ (التوبة:١١١)
    یہ ضرورت ٹیکسوں سے پوری ہوتی ہے ۔ بیشتر مسلم ممالک میں نظام حکومت کے بگاڑ اور سر کاری وسائل کے ساتھ کھلواڑ کی بدولت ٹیکس کا لفظ ناپسندیدہ ہوگیا ہے لیکن دیگر ممالک اس مصیبت سے محفوظ ہیں ۔ جو کچھ ٹیکس وبندگان سے لیا جاتا ہے اسے بہترین جگہوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور تیز نگاہوں سے اس کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ لہذا زیادہ دولت والے اور صنعتی وغیر صنعتی پیداور کرنے والے اپنی قوموں کے مفادات کی پاسداری خوشی سے کرتے ہیں۔
    ترجمہ:۔ اور جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی نا قدری نہ کی جائے گی اور اللہ پرہیز گار لوگوں کو خوب جانتا ہے ۔ (آل عمران: ۱۱۵)

    شیخ یوسف قرضاوی لکھتے ہی کہ ہنگامی حالات میں دولت مندوں پر مزید ٹیکس لگائے جاسکتے ہیں۔ شریعت اس کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ ہنگامی حالات کے تقاضوں کو پورا نہ کیا گیا تو خود دولتمندوں کےلیے بھی زیادہ تباہی آئے گی اس لیے زیادہ برائی کو دفع کرنا ضروری ہے۔
    پھر زیب وزینت اور آسائش والی چیزوں پر ٹیکس لگانے میں کوئی خرچ نہیں کیونکہ اس سے غریبوں اور معذوروں کی مدد ہوگی۔ اسی طرح قومی مصنوعات کے تحفظ اور فروغ کےلیے بیرونی مصنوعات پر ٹیکس لگانا بھی بہتر ہی ہے ۔کیونکہ متعدد ممالک اس طریقے سے خود کفالت حاصل کرچکے ہیں۔
    وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ

  • شرح پیدائش اور قومی وسائل تحریر: عتیق الرحمن

    شرح پیدائش اور قومی وسائل تحریر: عتیق الرحمن

    پے در پے حکومتوں نے آبادی پر قابو پانے کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیا اور یو کے پیچھے غربت کے خاتمے اور سماجی ترقیاتی اسکیموں کی کثرت کو چھپایا۔ 225 ملین افراد کے ساتھ پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہے۔ تقریبا دو فیصد کی قومی شرح نمو کے ساتھ ، ہر سال کم از کم 4.4 ملین افراد کو موجودہ تعداد میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ اضافہ صرف دنیا کے 40 چھوٹے ممالک کی مشترکہ آبادی کے برابر ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس موضوع پر مجازی خاموشی ہے۔ یہ قومی مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ ہے کہ وسائل اتنے نہیں ہیں جتنی ہمارے ملک کی آبادی ہوچکی ہے اور جسکی وجہ سے آمدن کا زیادہ تر حصہ صرف اور صرف غذائی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے لگ جاتا اور حتی کے ہمارا اپنا ملک اس غذائی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہا۔ کیا یہ رویہ اطمینان اور طویل المیعاد چیلنجوں کو ختم کرنے کے رجحان کا نتیجہ ہے ، یا کیا ہمارے رہنما صرف موضوع کو سامنے لاتے ہوئے مذہبی منافرت سے ڈرتے ہیں؟ یہاں تک کہ مارچ میں منعقدہ اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ میں بھی ، ہمارے سرسری تعداد سے ملک کے قدرتی اور انسانی وسائل کو لاحق خطرے کو گفتگو میں مشکل سے سمجھا گیا۔ یقینی طور پر ، ہماری سیاسی قیادت وزیر اعظم کی قیادت میں ، جو دیگر غیر معمولی اور اہم عالمی مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہیں ، اس کے بارے میں بھی اپنی سوچ بچار متعلقہ فورمز پر ڈسکس کرتے ہونگے۔ درحقیقت ، حکومت نے رمضان کے دوران کوویڈ 19 سے متعلقہ SOPS کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوشش کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں اور علماء کو ساتھ لیا اور ہر مذہبی تہوار پر علما کی رائے کے لئے انکا اجلاس بُلایا جاتا ہے تو کیا آبادی میں اضافے کی شرح کو پائیدار سطح پر لانے کی ضرورت پر مربوط بیانیہ تیار کرنے کے لیے ایسا نہیں کیا جا سکتا؟ بحث کی متنازعہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے ، شاید آبادی کو کنٹرول کرنے کی بجائے خاندانی صحت پر زیادہ زور بھی دیا جا سکتا ہے ، کیونکہ بہت سے لوگ اسے مسلم معاشروں کے خلاف مغربی سازش کے طور پر دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ افرادی قوت کو کم کرنے کی سازش ہے۔ مذہب اور قوم کی سماجی ترقی کے تناظر میں زچگی کی صحت کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی افزائش کی شرح 3.6 کا مطلب ہے کہ اوسطا ایک ماں کے کم از کم تین بچے ہوتے ہیں۔ یہ تعداد پورے جنوبی ایشیا (2.4 فیصد) سے زیادہ ہے ، یہ خطہ خود دنیا میں سب سے زیادہ افزائش کی شرح رکھتا ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق ، تولیدی عمر کی 42 فیصد خواتین کم از کم خون کی کمی کا شکار ہیں۔ تمام لوگوں کے حقوق یقینی طور پر اس حقیقت کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہو سکتی کہ صحت مند مائیں صحت مند بچے پیدا کرنے کی کلید ہیں اور پیدائش کا وقفہ صحت مند خاندانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب میں بھی خواتین صحت کی دیکھ بھال کے حصے کے طور پر خاندانی منصوبہ بندی تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ تقریبا دیگر تمام بڑے مسلم ممالک بشمول بنگلہ دیش ، ایران ، ترکی ، ملائیشیا ، انڈونیشیا وغیرہ نے اپنی اپنی حکومتوں کی قیادت میں وسیع اتفاق رائے سے آبادی اصلاحات کو کامیابی سے نافذ کیا ہے۔ پاکستان کو بہت دیر ہونے سے پہلے اپنی آبادی میں اضافے کی شرح کو قابو میں کرنے اور نیچے لانے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔

    @AtiqPTI_1

  • پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    ہر انسان چار قسم کے حدود میں زندگی گزارتا ہے جن میں سب سے پہلے ان کی انتہائی ذاتی زندگی کا حد ہوتا ہے جو صرف دو لوگوں یعنی میاں بیوی کے حد تک محدود ہوتا ہے دوسری زندگی ایک شخص کی ذاتی زندگی ہوتی ہے جس کو انگریزی میں پرسنل اسپیس (personal space) کہتے ہیں۔ تیسری زندگی معاشرتی زندگی اور چوتھی زندگی عوامی زندگی ہوتی ہے۔
    آج ہم پرسنل اسپیس کے بارے میں کچھ بات کریں گے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں اس کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا ہے دوسروں کے پرسنل اسپیس پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سوں کو اپنے حد کا علم بھی نہیں ہوتا اگر کوئی شخص اپنے حد کی حفاظت کر بھی لے تو اس کو خود غرضی کانام دیاجاتا ہے۔
    پرسنل اسپس کو اگر مثالوں سے واضع کیا جائے تو اِس میں ایسے سوالات کا پوچھنا ہے جو سننے والے کو بلکل بھی پسند نہیں ہوں مثلاً آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟ شادی کہاں سے کی ہے ؟ اگر کنوارا ہے تو شادی کیوں نہیں کی ؟ آج کل کمزور نظر آرہے ہوں کیوں؟ اِس طرح کے بہت سارے سوالات جن کے جوابات بہت حوصلے والا شخص ہی دے سکتا ہے۔
    اسی دائرے میں سوالات کے علاوہ کئی لوگ عمل کروانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔
    پرسنل اسپیس کے تعین اور اس کے بارے میں بحث کرنے والے علم کو proximics کہتے ہیں اور مغرب میں بچوں کو نو عمری سے یہ علم پڑھایا جاتا ہے تا کہ وہ اپنے اور دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔
    ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں یہاں بہت سارے بنیادی حقوق تلف کیے جاتے ہیں ہم ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو اسکول جانے کی عمر میں کسی ورک شاپ پر یا چائے کے ڈھابے پر کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے نوجوانوں کو دیکھتے ہیں جن کی ڈگری اور صلاحیت کو منوانے کے لیے اچھی خاصی رقم اور جان پہچان درکار ہوتی ہے اور ایسے ضعیف العمر افراد نظر آتے ہیں جن کا حق ہے کہ معاشرہ ان کو روزی، صحت اور عزت دیں دے لیکن وہ اس سے محروم ہے۔
    ایسے عالم میں کسی دوسرے کی ذاتی معاملات میں خلل ڈالے بنا ایک باشعور شخص ہی زندگی بسر کرسکتا ہے۔
    اگر کوئی شخص کسی مجبوری کی بنا پر کسی کے کام آنے سے قاصر ہے تو اس کو خود غرض گردانا جاتا ہیں اور اس کو لالچ، کنجوس اور برا بھلا کہا جاتا ہے اور اگر وہ لوگوں کی باتوں میں آکر سب کو خوش کرنے لگے تو کہیں کا نہیں رہتا۔
    اپنے پرسنل اسپیس کی حفاظت کر کے اور دوسروں کے پرسنل اسپیس کا احترام کر کے آپ خود کو اور دوسروں کو بھی خوش رکھ سکتے ہیں ایک بچے کا مثال ہی لیں لے جو آپ سے تھوڑے فاصلے پر ہنستے مسکراتے کھیل رہا ہو آپ اس کو قریب آنے کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ نہیں مان رہا اور جب اس کو زبردستی اُٹھا کے لاتے ہیں تو یا تو وہ رونے لگے گا يا اس کے چہرے پر بیزاری آپ دیکھیں گے کچھ بھی نہ کرے تو وہ واپس جانے کی کوشش ضرور کرے گا یہ سب آپ کسی بالغ انسان کے ساتھ نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ آپ کو پہلے ہی منع کردیگا اور آپ اس کو اُٹھا کے نہیں لا سکتے۔
    انسانی زندگی میں بہت سی چیزیں سمجھنے کی ہوتی ہیں اور ہمیں سمجھنا چاہئے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس لئے بھی دیا گیا ہے کہ انسان میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
    @I_MJawed

  • ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم   تحریر: صالح ساحل

    ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم تحریر: صالح ساحل

    آج میں جس موضوع کو اپنا ہدف بنا رہا ہوں اس میں کسی کی کوئ تفریق نہیں ہر شخص کو اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے کے وہ کہاں کھڑا ہے میں نے اپنے موضوع کے ساتھ بیماری کا لفظ استعمال کیا جو آپ کے لیے تجسس کی بات ہو گی مگر میں نے اخلاقی برائیاں کے ساتھ بیماری کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کے یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے اور ہمارے جینز میں شامل ہو چکی ہے اور یہ سرطان کی طرح ہمارے معاشرے کو اندار سے کھوکھلا کرتی جا رہی جن اخلاقی برائیاں کو خدا کے منکر برائ تسلیم کرتے ہیں ان برائیوں پر خدا کے ماننے والے کیسے رو باعمل ہیں ہر شخص مسلمان اپنی گھر سے سیکھ کر آتا ہے کے جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے مگر وہ معاشرے میں کھل کر جھوٹ بولتا ناپ تول میں کمی کرنے والا ہم میں سے نہیں مگر ہر تاجر اس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے ذخیرہ اندوزی کر کے مال بنایا جاتا ہے زندگی بچانے والی ادویات میں ملاوٹ کی جاتی ہے غرض یہ کے دنیا کی کوئ ایسی برائی نہیں جو ہم میں نہ پائی جاتی ہو پھر ہم اپنے آپ کو خوش فہمی میں رکھنے کے لیے اس اخلاقیات سے دیوالیہ حرکات کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ذلت و رسوائی کا زمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کے اگر ہم آج دنیا میں روندا درگاہ ہیں تو یہ دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ جو کے سراسر خود فریبی اور دجل ہے دنیا میں انہیں قوموں کے مقدر میں ترقی ہوتی ہے جو اخلاقی طور پر ایک قوم ہوتیں ہیں انسان نام رکھ کر حیوانات والے کام کرنے والی قومیں کبھی دنیا میں ترقی نہیں کرتی اس دنیا کی سب سے اعلی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے معترف ان کے دشمن بھی تھے یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کی اخلاقی تربیت کا نتیجہ تھا کے قیصر و کسریٰ کی سلطنت آپ کے غلاموں کے قدموں تھی اور وہ عرب بدو جن کو کل تک کوئ گھاس نہیں ڈالتا تھا دنیا کے سپرپاور بن گے قوموں کے فیصلے ان کے اخلاقی وجود پر ہوتے ہیں جس قوم کا اخلاقی وجود مر چکا ہو وہ صحفہ ہستی سے مٹ جاتی ہے اور تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے وہ ایک چنگیز خان جو ایک چھوٹے سے قبیلے سے اٹھا اور اپنی ساتھ قبائل مل کر آدھی دنیا پر حکمرانی کرنے لگا تو تاریخ اٹھ کر پڑھو وہ ایک با اصول شخص تھا جس کے جھنڈے کے نیچے اس کے باقی قبائل جمع ہوئے مگر جب اس کی نسلوں نے ان اصولوں کو فروش کیا تو صحفہ ہستی سے مٹ گے عرب کی ایک کہاوت ہے کے ظلم پر تو معاشرہ قائم رہ سکتا ہے نا انصافی پر نہیں یہ تمام برائیاں نا انصافی کے زمرے میں آتی ہیں کسی سے جھوٹ بولنا حق تلافی کرنے ذخیرہ اندوزی کرنا کرپشن کرنا ان سب میں نا انصافی نظر آتی ہے اس لیے ہم سب کو معاشرے میں پھیلی بیماری کے ساتھ ساتھ اپنے اندار بھی دیکھنا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کے ہر شخص اس کے خلاف علم جہاد بلند کرے گا معاشرے کو اس ناسوار سے پاک کرنا ہماری زمہ داری ہے آئیں سب مل کر ان برائیوں کا سدباب کریں خدا کے قانون کے مطابق دنیا وہ سرفراز رہیں گے جو دنیا میں اخلاقی اصولوں پر چلیں گے
    ‎@painandsmile334

  • قوم اور عوام ‏تحریر:ملک شوکت محمود

    ۔
    حضرت قائد اعظمؒ نے ہمیں ایک قوم کی طرح ایک مقصد پر جمع کیا تھا۔نباض امت اقبال ؒ نے اس قوم کی فکری آبیاری کی تھی۔ مولانا محمود الحسنؒ اسیر مالٹا، مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مولانا محمد علی ؒجوہر اور مولانا شوکت علی ؒجیسے رہنما ئے امت نے اس قوم کو عملی جدوجہد کا سبق سکھایا تھا۔لیکن ہم یہ سب کچھ بھول گئے۔علماءاور دینی جماعتوں نے اسلام کی تبلیغ کی بجائے ہمیں اسلام آباد کے راہوں کی ترغیب دی۔سیاستدانوں نے روٹی کپڑا اور مکان کا سراب دکھایا اور یہ قوم ان قسم کے مشرکانہ نعروں کو اپنا ہدف سمجھ کر ان کے پیچھے لگ گئی۔ رازق تو اللہ کی ذات ہے اور یہ وصف صرف اسے ہی سزا وار ہے ہاں اس کے لئے جدوجہد انسانوں کے لئے شرط ہے۔لیکن اگر ہم اپنے جیسے انسانوں کو ہی ان مسائل کا حل سمجھ لیں تو عذاب خداوندی کا سروں پر مسلط ہونا عبث نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم قوم سے عوام بن گئے، ایک دوسرے سے غافل، ہمارا سب سے بڑا مقصد کرکٹ ورلڈ کپ جیتنا رہ گیا ہے۔ہمارے حکمرانوں کو بھی رومی حکمرانوں کی طرح عوام کو بے وقوف بنانا آتا ہے،کیونکہ زمانے بدلنے سے تقاضے بدلتے ہیں روش یا تاریخ نہیں۔
    قوم کو متحد اور منظم رکھنا ایک باکردار با عمل لیڈر رہنما کی اولیں ترجیح ہوتا ہے،جبکہ بد قسمتی سے ہمیں قائداعظم کے بعد نہ ہی تو کوئی سیاسی لیڈر رہنما ملا اور نہ ہی ہم عوام نے کبھی خود قوم بننے کی زحمت گوارہ کی ہے۔ہر کسی نے ان سیاسی مداریوں کو ہی بار بار منتخب کروایا اور اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی انفرادی مفادات کے حصول کیلئیے انکو ہی اپنا خیرخواہ سمجھا،جس کی بدولت ہم عوام کبھی لسانیت کے نام پر اور کبھی مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر آپس میں الجھے رہتے ہیں،جس سے ہماری اخلاقیات تہذیب اور فلاحی سوچ رکھنے والوں کی نیک خواہشات کا جنازہ نکلنا شروع ہوتا گیا،اور پھر نتیجے میں میرا جسم میری مرضی،جیسی تنظیمیں ملک میں نمودار ہونے لگیں۔اور ہم قوم سے عوام رہنے کو ترجیح دیتے رہے،کبھی ملکی ترقی اجتماعی اور عوامی فلاح و بہبود جیسے منصوبوں تک ہماری سوچ نہیں پہنچ پائی،کیونکہ سیاستدانوں نے ہمیں انفرادی سوچ کی شخصیت کا حامل بنا کررکھ دیا ہے۔قومیں کبھی اپنے ملک کی املاک کی توڑپھوڑ، قومی خزانے کی چوری، کرپٹ عدلیہ،کرپٹ سیاسی مافیاز،راشی بیوروکریٹس اور صحافی پیدا نہیں ہونے دیتیں۔
    جس معاشرے میں استاد کو حقارت اور ایک کرپٹ بیوروکریٹس کو عزت سے نوازہ جاتا ہو وہاں قومیں نہیں عوامی انتشار پسند ٹولے،فرقہ وارانہ اجتماعات،اور ظالم حکمران ہی پیدا ہوتے ہیں۔اسلامی اور خاندانی اقدار ہی ختم ہو چکی ہیں،جس معاشرے میں بھائی کے ہاتھوں بہن اور باپ کے ہاتھوں بیٹی تک کی عزت نیلام ہونے لگے پھر ایسا معاشرہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواہاں کیسے ہو سکتا ہے۔موجودہ پاکستان میں تقریبا %59 فیصد لوگ پڑھے لکھے اور باشعور ہونے کے باوجود سنگین جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں کیوں۔؟وجہ تعلیم کی کمی نہیں تربیت کا بحران ہے۔

    آج 73 سال گذرنے کے باوجود بھی ہم عوام کا ہجوم ہیں قوم نہیں۔

  • قصوروار کون تحریر : راجہ حشام صادق

    ہر روز سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں ۔خواتین کے ساتھ بڑھتے زیادتی کے واقعات دن با دن بڑھتے ہی جلے جا رہے ہیں پچھلی تحریر میں خواتین کی عزت ان کے مقام کے بارے میں لکھا تھا۔ لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ۔جس طرح آج ریاست پر ایک تنقید ہوتی ہے کہ یہ کیسی ریاست مدینہ کی داودار حکومت کی حکومت میں ہو رہے ہیں ۔

    سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جہاں اتنا ظلم ہوتا ہے اس ظلم میں ہر فرد شامل ہے۔ جو کام مدینہ جیسی پرامن ریاست میں بلکل بھی نہیں ہوتے تھے۔ جو برائیاں وہاں کے افراد میں نہیں تھیں۔ ہمارے معاشرے کے اندر تمام برائیاں پائی جاتی ہیں۔ رشوت، کرپشن، زنا اور قتل جیسے گھنائونے واقعات ہو رہے ہیں۔ اس کی ذمہ داری صرف حکومت وقت پر نہیں ہمارا کیا فرض بنتا ہے۔ ہم نے خود کا کیسے محاسبہ کرنا ہے ۔اپنے آپ کو کیسے بدلنا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔نہ کہ حکومت کی کسی ریاست کا حاکم انفرادی طور پر کسی کی سوچ عادات یا اس کے اعمال نہیں بدل سکتا۔

    ہمارے معاشرے میں خواتین کو ہراساں کرنا مردوں کی غلطی ہو سکتی ہے مگر دوسری طرف خواتین کے لباس وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے فیشن مختلف جگہوں پر خواتین اور مرد ایک ساتھ پارٹی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز میں لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے نام پر غلط سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ جہاں اساتذہ بےپرواہ ہوتے ہیں۔ وہیں والدین بھی اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔

    یہاں یہ کہوں گا کہ جس ملک کی بنیاد اس نظریہ پر رکھی جائے جہاں مرد اور خواتین ایک گاڑی کے دو پہیئے ہوں ۔جہاں مرد اور خواتین ایک ساتھ کام کرتے نظر آئیں۔ جس ملک پر عورت کو حکمرانی کا حق مل چکا ہو ۔ جس ملک کی بنیاد خواتین کی مکمل آزادی پر رکھی جائے جہاں چادر اور چاردیواری کا تصور ختم ہو جائے وہاں ایسے واقعات صرف مردوں کی غلطی نہیں ہوتی۔اس جرم میں خواتین کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں پر اس وجہ سے بھی تنقید ہو رہی ہوتی ہے کیونکہ وہ خواتین کے تحفظ کے ساتھ ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں۔کیسے ممکن ہے کہ اسلامی فلاحی ریاست کے ساتھ وہ قوانین اور آزادی بھی چلتی رہے۔جو اس ملک کے اندر خواتین کو حاصل ہے۔
    یاد رکھیں جس معاشرے کے اندر خواتین کو بیٹے شوہر اور باپ پر برتری حاصل ہو وہاں پر حکمرانی عورت کی ہو وہاں پھر قصور صرف مرد کا نہیں ہوتا۔ وہاں تنقید صرف حاکم وقت پر نہیں ہونی چاہیئے۔

    ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح نے اس ملک کے لئے جدوجہد کی دو قومی نظریہ پیش کیا لیکن الگ ریاست کے قیام کے بعد اس کے اندر ان نظریات کی نفی کر دی گئی اور بہت سارے ایسے نئے نظریات نے جنم لیا جس کی وجہ سے یہ قوم منتشر ہو گئی انتظامی طور پر بھی دیکھا جائے تو تقسیم کے وقت جو کچھ ہوا شاید وہ قربانیاں بھی اس جدوجہد سے کہیں زیادہ دی گئی تھیں۔ انگریزوں سے پہلے مسلمان حکمران تھے وہاں سے آزادی کے وقت اتنی قربانیوں کے باوجود آج تک غلامی کرتے آ رہے ہیں حقائق سے پردہ جس دن اٹھ گیا یا جس دن سچ کا سامنا اس قوم نے کر لیا اور سچ بولنا لکھنا شروع کر دیا تو شاید آزاد قوم کی حیثیت سے سامنے آئیں لیکن شاید ابھی اس قوم کے اندر برداشت نہیں ہے۔ جو حق اور سچ کا سامنا کر سکے جو اس ملک کی بنیاد رکھے جاتے وقت کی تاریخ کو واضح الفاظ میں بیان کر سکے۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین
    پاکستان زندہ باد۔

    @No1Hasham

  • پولیس اور معاشرہ  تحریر: سید اویس بن ضیاء

    پولیس اور معاشرہ تحریر: سید اویس بن ضیاء

    پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جسے چھوٹے سے لے کر بڑے اور سنگین جرائم جیسے کہ چوری، ڈکیتی، منشیات فروشی، قتل ، زمینوں پر قبضہ اور بھی کئ طرح کے جرائم پر قابو پانے کے لئے بنایا گیا ہے۔پولیس کو مظلوموں کی مدد کرنے کےلئے بنایا گیا ہے ناکہ ظالم انسانوں کے ساتھ مل کر مظلوموں پر ظلم کرنے کےلئے۔
    حالات حاضرہ میں جرائم کی بڑھوتری میں خاصی شدت دیکھی گئ ہے۔ آج کل جنسی زیادتی کے کیسز بہت تیزی بڑھ رہے ہیں، چاہے وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے چھوٹی بچیاں ہو یا بچے درندے نما انسان انہیں اپنی حوس کا شکار بنائے ہوئے ہیں جنکو روکنے کےلئے پولیس اور حکومت دونوں فل وقت ناکام ہیں،جو کہ کافی تشویش ناک بات ہے۔حکومت وقت کو فوری طور پر اسلامی قوانین کی روشنی میں ان درندوں کو سزائیں دینی چاہیے۔

    معاشرے میں جرائم کے خاتمے کےلئے ضروری ہے کہ پولیس با صلاحیت باکردار قابل اور تربیت یافتہ ہو اسکے برعکس موجودہ دور بالکل مختلف ہے، رشوت کے بازار عروج پر ہیں جو چاہے جس پر چاہے جھوٹا پرچہ کروا سکتا ہے جسکو چاہے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل سکتا ہے ضرورت ہے تو صرف پیسے کی، رشوت دیں اور اپنا کام نکلوائیں کلچر بہت آگے نکل چکا ہے جسے روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
    اگر کوئ غریب مظلوم تھانے میں اپنی فریاد لے کر انصاف کی خاطر جاتا ہے تو پہلے تو اسے کئ چکر لگانے پڑتے ہیں منتیں کرنی پڑتی ہیں پھر جا کر اسکی سنوائ ہوتی ہے لیکن اس میں بھی پولیس بد دیانتی سے بعض نہیں آتی دوسری پارٹی کے ساتھ مل کر مظلوم کی آواز دبا دی جاتی ہے اور ظالم لوگوں کو پیسے کے دم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
    طلباء پر جھوٹی ایف آئ آر دے کر انکا کیریئر تباہ کر دیا جاتا ہے ،جھوٹے انکاؤنٹر میں مظلوموں کو قتل کر دیا جاتا ہے، عام لوگوں کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور سیاسی ملی بھگت سے سیاسی انتقام لئے جاتے ہیں۔ علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کے ساتھ مل کر بے گناہ لوگوں پر پولیس کی جانب سے ظلم کروائے جاتے ہیں

    پولیس کے ادارے کو شفاف بنانے کےلئے مکمل طور پر اس میں سے سیاسی مداخلت کرنی ہوگی
    تبھی جا کر ملک خوش ہوگا۔ سانحہ ساہیوال ، سانحہ ماڈل ٹاؤن ،صلاح الدین کا پولیس کی حراست میں بے رحمی سے قتل اور نقیب اللہ محسود جیسے کئ اور واقعے پولیس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اگر پولیس کا نظام بدلنا ہے تو پہلے ان میں انسانیت پیدا کی جائے ۔

    جو ریاست مجرموں پر رحم کرتی ہے وہاں کے بے گناہ لوگ بڑی بے رحمی سے مرتے ہیں

    حضرت عمر فاروق کنزالاعمال ۸/۱۳۸

    جب پولیس میں کسی شخص کو بھرتی کیا جاتا اسکو لڑنے کی ،مارنے کی، اسلحہ چلانے کی ، اور مشکل حالات سے نمٹنے کی ٹریننگ تو دی جاتی ہے لیکن انکو اخلاقیات، پیار ، محبت اور لوگوں سے سلیقے کے ساتھ بات کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔
    اگر پولیس عام لوگوں کے ساتھ بہتر رویے سے پیش نہیں آئے گی انکے مسائل نہیں سنے گی تو عوام کے دِلوں سے انکےلئے جو عزت ہے وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی۔ عوام پولیس سے محبت تب کریگی جب پولیس عوام سے کریگی۔

    جن پولیس والوں کی تربیت نہیں ہو سکتی انکو گھر کا راستہ دکھایا جائے اور انکی قابل ایماندار اور محنت کش لوگ بھرتی کئے جائیں۔
    پولیس کو بہترین ٹریننگ کے ساتھ اخلاقیات کی تربیت بھی دینی چاہیے تاکہ عوام کے دلوں میں انکےلئے محبت اور جزبہ بڑھے ، رشوت خوری کے نظام کو ختم کرنے کےلئے پولیس کی تنخواہیں بھی بڑھائ جائیں۔

    معطل کرنے والا سسٹم بھی بند ہونا چاہیے جو شخص بھی قصور وار ہو عام عوام کی طرح اسے سزا بھی ملنی چاہیے اور نوکری سے بھی نکالا جائے تاکہ آئندہ کوئ جرم نا کر سکے۔

    ہمارے معاشرے میں برے لوگوں کے ساتھ ساتھ نیک لوگ بھی موجود ہیں جوکہ بڑی ایمانداری سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اچھے لوگ بھی برے لوگوں کی وجہ سے بدنام ہو رہے ہیں۔
    ہمارے تمام محکوموں میں جو بھی اچھا کام کر رہیں انہیں پوری قوم کا سلام۔ اللہ پاک ہم سبکو نیکی کے راستے پر چلنے اور مظلوم کی مدد کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

    ‎@SyedAwais_

  • امیدیں بانٹیں خوف نہیں . تحریر:  زہراء مرزا

    امیدیں بانٹیں خوف نہیں . تحریر: زہراء مرزا

    تحقیق یہ بتاتی ہے کہ دنیا میں ہونے والے اموات میں 20 فیصد اموات ہی کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے ہوتی ہیں. جبکہ 80 فیصد اموات بیماری یا حادثے کے خوف سے وقوع پذیر ہوتی ہیں. بلکہ اسی طرح ایک تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی بیمار شخص کے علاج میں 20 فیصد عمل دخل ادویات یا دیگر وسائل کا ہوتا ہے. جبکہ اسی فیصد علاج یقین اعتماد اور امید جگانے سے ہو جاتا ہے. مزکورہ بالا تحقیقی سروے انسانوں کی نفسیات کو ہم پر مکمل کھول رہے ہیں. ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنا محاسبہ بھی کرنا ہے اور اصلاح بھی. کیونکہ ہم نے معاشرے کی احسن تعمیر کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے. اس ضمن میں سب سے پہلی کوشش مایوسیوں اور خوف کو ختم کرنے کے لیے کرنی ہو. ہمیں خوف ناک و افسوسناک خبروں سے پرہیز کرنا ہے. اگر خبر سن بھی رہے ہیں تو بس علم کی حد تک سنیے.
    اس کے متعلق مختلف تجزیے اور تبصرے نہ پڑھیے. اگر تو آپ ایسے کسی افسوسناک واقعہ کے بعد کچھ تعمیری کام کر سکتے ہیں جس سے نقصان کا ازالہ ممکن ہو تو ضرور اور بڑھ چڑھ کر حادثے واقعے اور سانحے کو مختلف زاویوں سے پرکھیں. اور اگر آپ کچھ بھی کرنے جوگے نہیں تو سب سے پہلے اپنی توجہ اس واقعے یا حادثے سے ہٹا لیجیے.

    آپ کسی غمزدہ یا افسوسناک چیز کو کم سنیں گے یقینا اسے دوسرے لوگوں کی ڈسکس بھی کم ہی کریں گے. اگر آپ کسی چیز کے بارے میں زیادہ جان گئے ہیں تو یہ انسانی فطرت ہے کہ اپنا علم آگے پھیلاتا ہے. آپ بری خبروں تجزیے اور تبصروں سے جتنا دور رہیں گے معاشرے میں بے یقینی اور اضطراب اتنا ہی کم ہوگا. آپ بری خبروں اور تجزیوں میں جتنا زیادہ دماغ صرف کریں گے. معاشرے میں خوف اور مایوسی اتنی زیادہ بڑھے گی. جہاں آپ نے بری اور افسوسناک خبر سے بچنا ہے وہیں آپ نے اچھی اور محسور کن خبر کی طرف لپکنا ہے. خبر کا ہر زاویے سے تجزیہ کرنا ہے. اور اسے معاشرے میں زیادہ سے زیادہ ڈسکس کرنا ہے. تاکہ معاشرے میں امید ہمت اور حوصلہ پیدا ہوتا رہے. لوگوکے لیے مشکلات پیدا نہ کریں. غصہ کو کم کریں، لوگوں کی مدد کو پیش پیش رہیں. گھر گلی محلے اور شہر کو صاف رکھیں. بے کسوں اور مسکینوں کا سہارا بنیے.

    اگر آپ کسی کی مالی معاونت نہیں کر سکتے تو اسے مسکرا کر تسلی تو دے سکتے ہیں نا. لوگوں کی پریشانیوں کو سن کر انہیں حوصلہ دیں. مداوے کی کوشش کریں. اپنی گفتگو سے گالی کو مائنس کریں. ان لوگوں سے ملاقات ضرور رکھیں جو اپنی زندگی کو اچھے طریقے سے گزار رہے ہیں. تاکہ اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کر سکیں. اور پریشان لوگوں کو بھی ملیں مگر تبھی جب آپ ان کی پریشانی کا حل رکھتے ہو. ایک دوسرے کی مشکلات کا حل نکالنے میں وقت لگائیں. فقط مشکلات ڈسکس کرنے کے لیے نہیں. یہ چند باتیں اپنی زندگی میں اپلائی کریں اور دیکھیں کہ خوشحالی کس طرح ہر طرف نظر آنا شروع ہو جائے گی. شکریہ

    @zaramiirza

  • پاکستان کا مطلب کیا؟ . تحریر : عظمیٰ صابر

    پاکستان کا مطلب کیا؟ . تحریر : عظمیٰ صابر

    "غزوہء بدر ”
    اسلام اور کفر، حق اور باطل کے درمیان پہلا معرکہ جسکی بنیاد کلمہ تھا کلمے کے اقرار اور انکار کے سبب خونی رشتے مدمقابل تھے،
    غزوہ بدرمیں مسلمانوں کی فتح اس بات کی تائید کہ اگر اللہ کی مدد شامل حال ہو اگر اطاعت سیدالانبیاء ﷺ ہو اگر جذبہء ایمانی ہو تو
    مدمقابل کی عددی برتری، ہتھیاروں کی کثرت اور راہ میں حائل دیگر مشکلات بھی کوئ معنی نہیں رکھتیں اور کامیابی مقدر بنتی ہے
    یہی کلمہ ملک پاکستان کی بنیاد کاسبب بنا دشمنوں کی لاکھ مخالفت,عداوت اور ریشہ دوانیوں کے باوجود وہ ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا جسکی بنیاد کلمہ ہے قائداعظم محمد علی جناح نےفرمایا تھا کہ پاکستان تو اسی روز وجود میں اگیا تھا جس روز برصغیر کا پہلا شخص
    مسلمان ہوا تھا جنگ اور امن کفر اور اسلام جھوٹ اور سچ خدائے واحد کے ماننے والے اور خدائے واحد کا انکار کرکے بتوں کی پرستش کرنے والے کبھی یکجا نہیں ہوسکتے. بلکل اسی طرح "پاکستان "کا بننا بھی لوح محفوظ پر طے تھا 1857کی جنگ ازادی میں پاکستان کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا بعد میں ہندوئوں کی مکاری نے متعدد بار مسلمان رہنمائوں کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ اس قوم کے ساتھ مزید رہنا ممکن نہیں اور اگر جمہوریت کے اکثریت کے اصول کو مدنظر رکھا جائے تو مسلمان ہمیشہ کے لئے محکوم بن کر رہ جائیں گے.

    علامہ اقبال نے جمہوریت کی کیا خوب تعریف کی ہے کہ :
    "جمہوریت ایسا طرزحکومت ہے
    جس میں سروں کو گنا جاتا ہے
    تولا نہیں جاتا ”
    اس تعریف کے تحت ہندوستان میں ہندوئوں کی اکثریت تھی اور مسلمان کبھی بھی حکومت بنانے کے اہل نا ہوتے
    ہندوئوں کی تنگ نظری اور مسلم دشمنی تو سب پر عیاں تھی
    ان حالات میں مسلم لیگ کاقیام مسلمانوں کے لئے ایک غنیمت تھا
    شاعر مشرق علامہ اقبال اور قائدکا وجود ایک نعمت تھا.

    اور سونے پر سہاگہ یہ نعرہ ثابت ہوا :
    "پاکستان کا مطلب کیا?
    لا الہ الااللہ ”
    یہ کلمہ جو روئے ارضی پر ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے یہی وہ کلمہ جسے پڑھ کر دائرہ ءاسلام میں داخل ہوا جاتا ہے اور یہی وہ کلمہ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو اس وقت وحدت کی لڑی میں پرو دیا ان میں وہ قوت ایمانی جگادی جومصائب اور مشکلات کے پہاڑوں سے ٹکرانے کا جذبہ رکھتی ہے کچھ بھی کر گزرنے کا حوصلہ دیتی ہے پھر قدرت بھی ایسی اقوام کا ہاتھ تھام تھام لیتی ہے اپنی قسمت میں توجگنوبھی نہیں تھا پہلے سبز پرچم کے لئے چاند ستارہ پایا مسلمان اس کلمے کے نام پر ہر مشکل سے ٹکرا گئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کوتیار ہوگئے یہ ملک لاکھوں قربانیوں کے صلے میں ہمیں ملا جنون سے اور عشق سے ملتی ہے ازادی
    قربانی کی بانہوں میں ملتی ہے ازادی ہمارے ابائو اجداد تو اپنے حصے کا کام کرگئے لیکن ہمارے حصے کا کام ابھی باقی ہے
    ہمارے بزرگوں نے یہ ملک کلمے کے نام پر حاصل کیا تاکہ انکی ائندہ نسلیں اس ملک میں اسلامی اصولوں کےمطابق زندگی بسر کرسکیں ابھی نفاذ اسلام کےلئے بہت کام کرنا باقی ہے ابھی حقیقی منزل دور ہے ابھی تو پہلا پڑائو ہے ابھی تو اللہ اور اسکے رسول سے کیا وعدہ نبھانا باقی ہے ابھی تو کلمے کے تقدس اور حرمت کو ماتھے پہ سجانا باقی ہے کیونکہ ہمیں یاد ہے وہ سب کچھ کرپانوں پر جھولتے بچے
    بےردا بہنیں ,فریاد کرتی مائیں جوان بھائیوں کے بےگوروکفن لاشے لاشوں سے بھری سرحد پار سے اتی ریل گاڑیاں مہاجرین کے لٹے پٹے قافلے لاشوں سے اٹے راوی اور چناب ہم یہ سب نہیں بھولے ہمارے زخم اج بھی ہرے ہیں ہم اس اذیت کو بھولنا بھی نہیں چاہتے کہ سرحد پار سےملنے والی یہ اذیت اج بھی جاری ہے کبھی ہمارے ملک کی سرحد پر حملے کی صورت ,کبھی ہم پر مسلط کی گئ جنگوں کی صورت کبھی مقبوضہ کشمیراور کبھی ازاد کشمیر میں دشمن کے حملوں کی صورت ,کبھی سپاہی مقبول حسین کی صورت ,کبھی بلوچستان میں کلبھوشن یادیو کی صورت ,کبھی میڈیا وار کی صورت ,کبھی ففتھ جنریشن وار کی صورت سرحد پار کی یہ نفرت اور دشمنی ہمارے وجود سے ہے ,ہماری نسلوں سے ہے.

    اے سیاست تیری سازشیں ہرطرف
    ہم مٹیں بس یہی خواہشیں ہر طرف

    لیکن دشمن یاد رکھے ہم ٹیپو سلطان اور
    صلاح الدین ایوبی کے وارث ہیں
    دشمن کی چالیں ان پر ہی پلٹا دی جائیں گی کیونکہ :
    ہم مصطفوی ﷺ ہیں اور
    اساں نہیں مٹانا ,نام و نشاں ہمارا

    @Nucleus_Pak