Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • قصوروار کون تحریر : راجہ حشام صادق

    ہر روز سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں ۔خواتین کے ساتھ بڑھتے زیادتی کے واقعات دن با دن بڑھتے ہی جلے جا رہے ہیں پچھلی تحریر میں خواتین کی عزت ان کے مقام کے بارے میں لکھا تھا۔ لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ۔جس طرح آج ریاست پر ایک تنقید ہوتی ہے کہ یہ کیسی ریاست مدینہ کی داودار حکومت کی حکومت میں ہو رہے ہیں ۔

    سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جہاں اتنا ظلم ہوتا ہے اس ظلم میں ہر فرد شامل ہے۔ جو کام مدینہ جیسی پرامن ریاست میں بلکل بھی نہیں ہوتے تھے۔ جو برائیاں وہاں کے افراد میں نہیں تھیں۔ ہمارے معاشرے کے اندر تمام برائیاں پائی جاتی ہیں۔ رشوت، کرپشن، زنا اور قتل جیسے گھنائونے واقعات ہو رہے ہیں۔ اس کی ذمہ داری صرف حکومت وقت پر نہیں ہمارا کیا فرض بنتا ہے۔ ہم نے خود کا کیسے محاسبہ کرنا ہے ۔اپنے آپ کو کیسے بدلنا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔نہ کہ حکومت کی کسی ریاست کا حاکم انفرادی طور پر کسی کی سوچ عادات یا اس کے اعمال نہیں بدل سکتا۔

    ہمارے معاشرے میں خواتین کو ہراساں کرنا مردوں کی غلطی ہو سکتی ہے مگر دوسری طرف خواتین کے لباس وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے فیشن مختلف جگہوں پر خواتین اور مرد ایک ساتھ پارٹی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز میں لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے نام پر غلط سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ جہاں اساتذہ بےپرواہ ہوتے ہیں۔ وہیں والدین بھی اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔

    یہاں یہ کہوں گا کہ جس ملک کی بنیاد اس نظریہ پر رکھی جائے جہاں مرد اور خواتین ایک گاڑی کے دو پہیئے ہوں ۔جہاں مرد اور خواتین ایک ساتھ کام کرتے نظر آئیں۔ جس ملک پر عورت کو حکمرانی کا حق مل چکا ہو ۔ جس ملک کی بنیاد خواتین کی مکمل آزادی پر رکھی جائے جہاں چادر اور چاردیواری کا تصور ختم ہو جائے وہاں ایسے واقعات صرف مردوں کی غلطی نہیں ہوتی۔اس جرم میں خواتین کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں پر اس وجہ سے بھی تنقید ہو رہی ہوتی ہے کیونکہ وہ خواتین کے تحفظ کے ساتھ ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں۔کیسے ممکن ہے کہ اسلامی فلاحی ریاست کے ساتھ وہ قوانین اور آزادی بھی چلتی رہے۔جو اس ملک کے اندر خواتین کو حاصل ہے۔
    یاد رکھیں جس معاشرے کے اندر خواتین کو بیٹے شوہر اور باپ پر برتری حاصل ہو وہاں پر حکمرانی عورت کی ہو وہاں پھر قصور صرف مرد کا نہیں ہوتا۔ وہاں تنقید صرف حاکم وقت پر نہیں ہونی چاہیئے۔

    ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح نے اس ملک کے لئے جدوجہد کی دو قومی نظریہ پیش کیا لیکن الگ ریاست کے قیام کے بعد اس کے اندر ان نظریات کی نفی کر دی گئی اور بہت سارے ایسے نئے نظریات نے جنم لیا جس کی وجہ سے یہ قوم منتشر ہو گئی انتظامی طور پر بھی دیکھا جائے تو تقسیم کے وقت جو کچھ ہوا شاید وہ قربانیاں بھی اس جدوجہد سے کہیں زیادہ دی گئی تھیں۔ انگریزوں سے پہلے مسلمان حکمران تھے وہاں سے آزادی کے وقت اتنی قربانیوں کے باوجود آج تک غلامی کرتے آ رہے ہیں حقائق سے پردہ جس دن اٹھ گیا یا جس دن سچ کا سامنا اس قوم نے کر لیا اور سچ بولنا لکھنا شروع کر دیا تو شاید آزاد قوم کی حیثیت سے سامنے آئیں لیکن شاید ابھی اس قوم کے اندر برداشت نہیں ہے۔ جو حق اور سچ کا سامنا کر سکے جو اس ملک کی بنیاد رکھے جاتے وقت کی تاریخ کو واضح الفاظ میں بیان کر سکے۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین
    پاکستان زندہ باد۔

    @No1Hasham

  • پولیس اور معاشرہ  تحریر: سید اویس بن ضیاء

    پولیس اور معاشرہ تحریر: سید اویس بن ضیاء

    پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جسے چھوٹے سے لے کر بڑے اور سنگین جرائم جیسے کہ چوری، ڈکیتی، منشیات فروشی، قتل ، زمینوں پر قبضہ اور بھی کئ طرح کے جرائم پر قابو پانے کے لئے بنایا گیا ہے۔پولیس کو مظلوموں کی مدد کرنے کےلئے بنایا گیا ہے ناکہ ظالم انسانوں کے ساتھ مل کر مظلوموں پر ظلم کرنے کےلئے۔
    حالات حاضرہ میں جرائم کی بڑھوتری میں خاصی شدت دیکھی گئ ہے۔ آج کل جنسی زیادتی کے کیسز بہت تیزی بڑھ رہے ہیں، چاہے وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے چھوٹی بچیاں ہو یا بچے درندے نما انسان انہیں اپنی حوس کا شکار بنائے ہوئے ہیں جنکو روکنے کےلئے پولیس اور حکومت دونوں فل وقت ناکام ہیں،جو کہ کافی تشویش ناک بات ہے۔حکومت وقت کو فوری طور پر اسلامی قوانین کی روشنی میں ان درندوں کو سزائیں دینی چاہیے۔

    معاشرے میں جرائم کے خاتمے کےلئے ضروری ہے کہ پولیس با صلاحیت باکردار قابل اور تربیت یافتہ ہو اسکے برعکس موجودہ دور بالکل مختلف ہے، رشوت کے بازار عروج پر ہیں جو چاہے جس پر چاہے جھوٹا پرچہ کروا سکتا ہے جسکو چاہے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل سکتا ہے ضرورت ہے تو صرف پیسے کی، رشوت دیں اور اپنا کام نکلوائیں کلچر بہت آگے نکل چکا ہے جسے روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
    اگر کوئ غریب مظلوم تھانے میں اپنی فریاد لے کر انصاف کی خاطر جاتا ہے تو پہلے تو اسے کئ چکر لگانے پڑتے ہیں منتیں کرنی پڑتی ہیں پھر جا کر اسکی سنوائ ہوتی ہے لیکن اس میں بھی پولیس بد دیانتی سے بعض نہیں آتی دوسری پارٹی کے ساتھ مل کر مظلوم کی آواز دبا دی جاتی ہے اور ظالم لوگوں کو پیسے کے دم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
    طلباء پر جھوٹی ایف آئ آر دے کر انکا کیریئر تباہ کر دیا جاتا ہے ،جھوٹے انکاؤنٹر میں مظلوموں کو قتل کر دیا جاتا ہے، عام لوگوں کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور سیاسی ملی بھگت سے سیاسی انتقام لئے جاتے ہیں۔ علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کے ساتھ مل کر بے گناہ لوگوں پر پولیس کی جانب سے ظلم کروائے جاتے ہیں

    پولیس کے ادارے کو شفاف بنانے کےلئے مکمل طور پر اس میں سے سیاسی مداخلت کرنی ہوگی
    تبھی جا کر ملک خوش ہوگا۔ سانحہ ساہیوال ، سانحہ ماڈل ٹاؤن ،صلاح الدین کا پولیس کی حراست میں بے رحمی سے قتل اور نقیب اللہ محسود جیسے کئ اور واقعے پولیس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اگر پولیس کا نظام بدلنا ہے تو پہلے ان میں انسانیت پیدا کی جائے ۔

    جو ریاست مجرموں پر رحم کرتی ہے وہاں کے بے گناہ لوگ بڑی بے رحمی سے مرتے ہیں

    حضرت عمر فاروق کنزالاعمال ۸/۱۳۸

    جب پولیس میں کسی شخص کو بھرتی کیا جاتا اسکو لڑنے کی ،مارنے کی، اسلحہ چلانے کی ، اور مشکل حالات سے نمٹنے کی ٹریننگ تو دی جاتی ہے لیکن انکو اخلاقیات، پیار ، محبت اور لوگوں سے سلیقے کے ساتھ بات کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔
    اگر پولیس عام لوگوں کے ساتھ بہتر رویے سے پیش نہیں آئے گی انکے مسائل نہیں سنے گی تو عوام کے دِلوں سے انکےلئے جو عزت ہے وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی۔ عوام پولیس سے محبت تب کریگی جب پولیس عوام سے کریگی۔

    جن پولیس والوں کی تربیت نہیں ہو سکتی انکو گھر کا راستہ دکھایا جائے اور انکی قابل ایماندار اور محنت کش لوگ بھرتی کئے جائیں۔
    پولیس کو بہترین ٹریننگ کے ساتھ اخلاقیات کی تربیت بھی دینی چاہیے تاکہ عوام کے دلوں میں انکےلئے محبت اور جزبہ بڑھے ، رشوت خوری کے نظام کو ختم کرنے کےلئے پولیس کی تنخواہیں بھی بڑھائ جائیں۔

    معطل کرنے والا سسٹم بھی بند ہونا چاہیے جو شخص بھی قصور وار ہو عام عوام کی طرح اسے سزا بھی ملنی چاہیے اور نوکری سے بھی نکالا جائے تاکہ آئندہ کوئ جرم نا کر سکے۔

    ہمارے معاشرے میں برے لوگوں کے ساتھ ساتھ نیک لوگ بھی موجود ہیں جوکہ بڑی ایمانداری سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اچھے لوگ بھی برے لوگوں کی وجہ سے بدنام ہو رہے ہیں۔
    ہمارے تمام محکوموں میں جو بھی اچھا کام کر رہیں انہیں پوری قوم کا سلام۔ اللہ پاک ہم سبکو نیکی کے راستے پر چلنے اور مظلوم کی مدد کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

    ‎@SyedAwais_

  • امیدیں بانٹیں خوف نہیں . تحریر:  زہراء مرزا

    امیدیں بانٹیں خوف نہیں . تحریر: زہراء مرزا

    تحقیق یہ بتاتی ہے کہ دنیا میں ہونے والے اموات میں 20 فیصد اموات ہی کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے ہوتی ہیں. جبکہ 80 فیصد اموات بیماری یا حادثے کے خوف سے وقوع پذیر ہوتی ہیں. بلکہ اسی طرح ایک تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی بیمار شخص کے علاج میں 20 فیصد عمل دخل ادویات یا دیگر وسائل کا ہوتا ہے. جبکہ اسی فیصد علاج یقین اعتماد اور امید جگانے سے ہو جاتا ہے. مزکورہ بالا تحقیقی سروے انسانوں کی نفسیات کو ہم پر مکمل کھول رہے ہیں. ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنا محاسبہ بھی کرنا ہے اور اصلاح بھی. کیونکہ ہم نے معاشرے کی احسن تعمیر کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے. اس ضمن میں سب سے پہلی کوشش مایوسیوں اور خوف کو ختم کرنے کے لیے کرنی ہو. ہمیں خوف ناک و افسوسناک خبروں سے پرہیز کرنا ہے. اگر خبر سن بھی رہے ہیں تو بس علم کی حد تک سنیے.
    اس کے متعلق مختلف تجزیے اور تبصرے نہ پڑھیے. اگر تو آپ ایسے کسی افسوسناک واقعہ کے بعد کچھ تعمیری کام کر سکتے ہیں جس سے نقصان کا ازالہ ممکن ہو تو ضرور اور بڑھ چڑھ کر حادثے واقعے اور سانحے کو مختلف زاویوں سے پرکھیں. اور اگر آپ کچھ بھی کرنے جوگے نہیں تو سب سے پہلے اپنی توجہ اس واقعے یا حادثے سے ہٹا لیجیے.

    آپ کسی غمزدہ یا افسوسناک چیز کو کم سنیں گے یقینا اسے دوسرے لوگوں کی ڈسکس بھی کم ہی کریں گے. اگر آپ کسی چیز کے بارے میں زیادہ جان گئے ہیں تو یہ انسانی فطرت ہے کہ اپنا علم آگے پھیلاتا ہے. آپ بری خبروں تجزیے اور تبصروں سے جتنا دور رہیں گے معاشرے میں بے یقینی اور اضطراب اتنا ہی کم ہوگا. آپ بری خبروں اور تجزیوں میں جتنا زیادہ دماغ صرف کریں گے. معاشرے میں خوف اور مایوسی اتنی زیادہ بڑھے گی. جہاں آپ نے بری اور افسوسناک خبر سے بچنا ہے وہیں آپ نے اچھی اور محسور کن خبر کی طرف لپکنا ہے. خبر کا ہر زاویے سے تجزیہ کرنا ہے. اور اسے معاشرے میں زیادہ سے زیادہ ڈسکس کرنا ہے. تاکہ معاشرے میں امید ہمت اور حوصلہ پیدا ہوتا رہے. لوگوکے لیے مشکلات پیدا نہ کریں. غصہ کو کم کریں، لوگوں کی مدد کو پیش پیش رہیں. گھر گلی محلے اور شہر کو صاف رکھیں. بے کسوں اور مسکینوں کا سہارا بنیے.

    اگر آپ کسی کی مالی معاونت نہیں کر سکتے تو اسے مسکرا کر تسلی تو دے سکتے ہیں نا. لوگوں کی پریشانیوں کو سن کر انہیں حوصلہ دیں. مداوے کی کوشش کریں. اپنی گفتگو سے گالی کو مائنس کریں. ان لوگوں سے ملاقات ضرور رکھیں جو اپنی زندگی کو اچھے طریقے سے گزار رہے ہیں. تاکہ اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کر سکیں. اور پریشان لوگوں کو بھی ملیں مگر تبھی جب آپ ان کی پریشانی کا حل رکھتے ہو. ایک دوسرے کی مشکلات کا حل نکالنے میں وقت لگائیں. فقط مشکلات ڈسکس کرنے کے لیے نہیں. یہ چند باتیں اپنی زندگی میں اپلائی کریں اور دیکھیں کہ خوشحالی کس طرح ہر طرف نظر آنا شروع ہو جائے گی. شکریہ

    @zaramiirza

  • پاکستان کا مطلب کیا؟ . تحریر : عظمیٰ صابر

    پاکستان کا مطلب کیا؟ . تحریر : عظمیٰ صابر

    "غزوہء بدر ”
    اسلام اور کفر، حق اور باطل کے درمیان پہلا معرکہ جسکی بنیاد کلمہ تھا کلمے کے اقرار اور انکار کے سبب خونی رشتے مدمقابل تھے،
    غزوہ بدرمیں مسلمانوں کی فتح اس بات کی تائید کہ اگر اللہ کی مدد شامل حال ہو اگر اطاعت سیدالانبیاء ﷺ ہو اگر جذبہء ایمانی ہو تو
    مدمقابل کی عددی برتری، ہتھیاروں کی کثرت اور راہ میں حائل دیگر مشکلات بھی کوئ معنی نہیں رکھتیں اور کامیابی مقدر بنتی ہے
    یہی کلمہ ملک پاکستان کی بنیاد کاسبب بنا دشمنوں کی لاکھ مخالفت,عداوت اور ریشہ دوانیوں کے باوجود وہ ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا جسکی بنیاد کلمہ ہے قائداعظم محمد علی جناح نےفرمایا تھا کہ پاکستان تو اسی روز وجود میں اگیا تھا جس روز برصغیر کا پہلا شخص
    مسلمان ہوا تھا جنگ اور امن کفر اور اسلام جھوٹ اور سچ خدائے واحد کے ماننے والے اور خدائے واحد کا انکار کرکے بتوں کی پرستش کرنے والے کبھی یکجا نہیں ہوسکتے. بلکل اسی طرح "پاکستان "کا بننا بھی لوح محفوظ پر طے تھا 1857کی جنگ ازادی میں پاکستان کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا بعد میں ہندوئوں کی مکاری نے متعدد بار مسلمان رہنمائوں کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ اس قوم کے ساتھ مزید رہنا ممکن نہیں اور اگر جمہوریت کے اکثریت کے اصول کو مدنظر رکھا جائے تو مسلمان ہمیشہ کے لئے محکوم بن کر رہ جائیں گے.

    علامہ اقبال نے جمہوریت کی کیا خوب تعریف کی ہے کہ :
    "جمہوریت ایسا طرزحکومت ہے
    جس میں سروں کو گنا جاتا ہے
    تولا نہیں جاتا ”
    اس تعریف کے تحت ہندوستان میں ہندوئوں کی اکثریت تھی اور مسلمان کبھی بھی حکومت بنانے کے اہل نا ہوتے
    ہندوئوں کی تنگ نظری اور مسلم دشمنی تو سب پر عیاں تھی
    ان حالات میں مسلم لیگ کاقیام مسلمانوں کے لئے ایک غنیمت تھا
    شاعر مشرق علامہ اقبال اور قائدکا وجود ایک نعمت تھا.

    اور سونے پر سہاگہ یہ نعرہ ثابت ہوا :
    "پاکستان کا مطلب کیا?
    لا الہ الااللہ ”
    یہ کلمہ جو روئے ارضی پر ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے یہی وہ کلمہ جسے پڑھ کر دائرہ ءاسلام میں داخل ہوا جاتا ہے اور یہی وہ کلمہ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو اس وقت وحدت کی لڑی میں پرو دیا ان میں وہ قوت ایمانی جگادی جومصائب اور مشکلات کے پہاڑوں سے ٹکرانے کا جذبہ رکھتی ہے کچھ بھی کر گزرنے کا حوصلہ دیتی ہے پھر قدرت بھی ایسی اقوام کا ہاتھ تھام تھام لیتی ہے اپنی قسمت میں توجگنوبھی نہیں تھا پہلے سبز پرچم کے لئے چاند ستارہ پایا مسلمان اس کلمے کے نام پر ہر مشکل سے ٹکرا گئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کوتیار ہوگئے یہ ملک لاکھوں قربانیوں کے صلے میں ہمیں ملا جنون سے اور عشق سے ملتی ہے ازادی
    قربانی کی بانہوں میں ملتی ہے ازادی ہمارے ابائو اجداد تو اپنے حصے کا کام کرگئے لیکن ہمارے حصے کا کام ابھی باقی ہے
    ہمارے بزرگوں نے یہ ملک کلمے کے نام پر حاصل کیا تاکہ انکی ائندہ نسلیں اس ملک میں اسلامی اصولوں کےمطابق زندگی بسر کرسکیں ابھی نفاذ اسلام کےلئے بہت کام کرنا باقی ہے ابھی حقیقی منزل دور ہے ابھی تو پہلا پڑائو ہے ابھی تو اللہ اور اسکے رسول سے کیا وعدہ نبھانا باقی ہے ابھی تو کلمے کے تقدس اور حرمت کو ماتھے پہ سجانا باقی ہے کیونکہ ہمیں یاد ہے وہ سب کچھ کرپانوں پر جھولتے بچے
    بےردا بہنیں ,فریاد کرتی مائیں جوان بھائیوں کے بےگوروکفن لاشے لاشوں سے بھری سرحد پار سے اتی ریل گاڑیاں مہاجرین کے لٹے پٹے قافلے لاشوں سے اٹے راوی اور چناب ہم یہ سب نہیں بھولے ہمارے زخم اج بھی ہرے ہیں ہم اس اذیت کو بھولنا بھی نہیں چاہتے کہ سرحد پار سےملنے والی یہ اذیت اج بھی جاری ہے کبھی ہمارے ملک کی سرحد پر حملے کی صورت ,کبھی ہم پر مسلط کی گئ جنگوں کی صورت کبھی مقبوضہ کشمیراور کبھی ازاد کشمیر میں دشمن کے حملوں کی صورت ,کبھی سپاہی مقبول حسین کی صورت ,کبھی بلوچستان میں کلبھوشن یادیو کی صورت ,کبھی میڈیا وار کی صورت ,کبھی ففتھ جنریشن وار کی صورت سرحد پار کی یہ نفرت اور دشمنی ہمارے وجود سے ہے ,ہماری نسلوں سے ہے.

    اے سیاست تیری سازشیں ہرطرف
    ہم مٹیں بس یہی خواہشیں ہر طرف

    لیکن دشمن یاد رکھے ہم ٹیپو سلطان اور
    صلاح الدین ایوبی کے وارث ہیں
    دشمن کی چالیں ان پر ہی پلٹا دی جائیں گی کیونکہ :
    ہم مصطفوی ﷺ ہیں اور
    اساں نہیں مٹانا ,نام و نشاں ہمارا

    @Nucleus_Pak

  • نور کیس، سماج کیلئے تازیانہ . تحریر: سید غازی علی زیدی

    نور کیس، سماج کیلئے تازیانہ . تحریر: سید غازی علی زیدی

    امیر زادہ و اعلیٰ تعلیم یافتہ، جوان اور خوبصورت، مال و دولت کی ریل پیل، نوکروں کی فوج ظفر موج، امریکی شہریت کا حامل، پارٹی کلچر کا دلدادہ، مادر پدر آزادی کا قائل، 
      ظاہر جعفر

    لیکن اب بس ایک سفاک قاتل
    کیونکہ ایک لڑکی نے شادی سے انکار کردیا!!!
    تو لڑکی کی یہ اوقات؟ 

    کیا ہوا اگر وہ بھی امیر تھی، بچپن کی دوست تھی، اس کا باپ  حکومتی اعلی ترین عہدوں پر فائز رہا تھا۔ تھی تو وہ ایک لڑکی۔

     مردانگی کیخلاف یہ انکار کیسے برداشت کر لیتا؟؟؟

     گو کہ وہ اس طبقے سے تعلق رکھتا جہاں صنفی امتیاز کی بجائے صرف مساوات کا دلفریب تصور دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا۔ لیکن فطرت کون بدل سکتا؟ ایلیٹ کلاس کی نفسیاتی معالج ماں کا لاڈلا سپوت، جو خود بھی ایلیٹ تعلیمی اداروں میں نفسیاتی مشاورت کیلئے بطور بہترین استاد مشہور تھا۔ بظاہر مہذب اور عمدہ اخلاق کا حامل، لیکن درحقیقت سفاک اور جنونی، بظاہر عورتوں کی مادر پدر آزادی کا علمبردار لیکن عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والا۔ جس کی پر تشدد حرکتوں سے نہ تو خود اسکی اپنی ماں محفوظ تھی نہ کوئی یورپین کال گرل۔ امریکہ و یورپ نے تو ڈیپورٹ کر کے پابندی لگا دی لیکن پاکستان میں دولت کے بل پر حقائق چھپانا کیا مشکل؟ جبکہ آپ کے والدین نہ صرف امیر ہوں بلکہ جاہ و حشمت والے بھی۔ جب دولت اور افسر شاہی آپ کے گھر کی باندی ہوں تو کیسا خوف، کیسی اخلاقیات۔ اور رہا خوف خدا تو خدا کو تو آپ مانتے ہی نا ہوں۔ خدا کو غیر ضروری قرار دے کر جب آپ زندگی سے نکالتے ہیں تو ساتھ ہی ایمان کا نور اور دل کا سکون بھی چھن جاتا لیکن الحادیت کے علمبرداروں کو یہ بات کون سمجھا سکتا جب خود خدا ہی ان سے منہ موڑ چکا ہو۔

    نشے کا عادی، شراب و کباب کا دلدادہ، اذیت پسند، ملحد، غرض کونسی  بد خصلت تھی جو اس میں نہیں تھی۔بدقسمتی سے نور اسکی پرتشدد طبیعت اور سیاہ ترین فطرت کے کچھ پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرچکی تھی۔سو پوری منصوبہ بندی سے اس کے گرد ایک شیطانی جال بنا گیا۔ بچپن کی دوستی اور پرانی محبت کا واسطہ دے کر کچھ دن آخری بار ساتھ گزارنے پر مجبور کیا گیا اور یہ بات تو طے ہے کہ لڑکی چاہے امیر زادی ہو یا فقیرنی، مردوں کے جھانسے میں آ ہی جاتی ہے۔ ساری عقلمندی، تعلیم، خاندانی رواج سب طاق میں پڑے رہ جاتے جب لڑکی اپنی حدود پار کر لیتی پھر چاہے وہ روایتی مشرقی عورت ہو یا مادر پدر آزادی کی حامی۔ سو قارئین کرام اسکے بعد شروع ہوتی ہے سفاکیت اور بربریت کی وہ کہانی جس کا ہرروز ایک نیا دلخراش پہلو منظر عام پر آ رہا ہے۔ وہ دلدوز تفاصیل جس نے سارے لبرل ازم اور جدیدیت کا حسین مگر کھوکھلا بت پاش پاش کر دیا ہے۔

    ایک نہتی لڑکی جو اندھی محبت کے نشے میں چور تھی اسکو وحشیانہ انداز میں مارمار کر سارا نشہ اتار دیا۔ حبس بیجا میں رکھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھاگنے کی ناکام کوشش پر سر کے بالوں سے گھسیٹا اور بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کرتے چھریوں کے وار کرکے مار دیا اور جب شقی القلب انسان کی اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو سر ہی قلم کر کے لاش سے4 فٹ کے فاصلے پر رکھ دیا۔ خدا کی پناہ اس واردات کا تصور ہی عام انسان کے رونگٹے کھڑے کردینے کیلئے کافی ہے۔ لیکن یہ سب کرتے نہ قاتل کو کوئی جھرجھری آئی نہ رحم کی کوئی رمق اس کے دل میں جاگی۔ گھر کے ملازم گونگے بہرے بنے سب دیکھتے رہے لیکن کوئی انسانیت کسی میں بیدار نہ ہوئی۔  ستم بالائے ستم یہ کہ وہ ماں باپ جن کی آنکھوں کے سامنے نور پلی بڑھی تھی وہ ایک ایک لمحے کی کاروائی سے واقف تھے لیکن بجائے بیٹے کو روکنے کے الٹا ملازمین کو ہدایات جاری کرتے رہے۔ یہاں تک کہ نور کے والد کے سامنے نور کی گمشدگی پر سختی سے لاعلمی کا اظہار بھی کیا۔ شور سن کر راہ چلتے کسی بھلا مانس کے فون کرنے پر جب پولیس پہنچی تو طاقت کے نشے میں چور قاتل کے ماں باپ پولیس کو بھی دھمکاتے اور معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے۔ کیونکہ کچھ دیر بعد قاتل کی بیرون ملک روانگی طے تھی۔

    انسانیت، اعتبار، تعلق داری، اخلاقیات، رواداری۔۔۔ غرض ہر چیز کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں اس اندوہناک واقعے نے۔ شاید اگر نور کے والد بارسوخ نہ ہوتے تو کبھی قاتل نہ پکڑا جاتا۔ اگر نور کا تعلق کسی عام گھرانے سے ہوتا تو کیا کبھی بھی یہ تفصیلات سامنے آنی تھیں؟

    اس سانحہ میں کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔ اس بہیمانہ قتل نے ہمارے معاشرے کے کئی تاریک ترین پہلوؤں کو بری طرح سے آشکار کر دیا ہے۔ پہلی دفعہ جدیدیت اور لبرل ازم کی ہولناکیاں اس شدت سے سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے مادر پدر آزادی کی طرف تیزی سے گامزن معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ہر معاشرتی برائی کا الزام مذہبی انتہا پسندی کے سر ڈال کرلبرل ازم اور جدیدیت کا راگ الاپنے والوں کی زبانیں اب کنگ ہیں.

    آج تک مادر پدر آزادی اور عورت مارچ کے حق میں نعرے لگانے والوں نے عورتوں پر ظلم وتشدد کے تمام واقعات کی جڑ پدرسری معاشرے، مذہبی روایات اور قدامت پرست طبقے کو قرار دیا ہے۔ وہ اب بت بنے بیٹھے ہیں۔ عورت مارچ کے نام پر طوفان بے حیائی مچانے والوں کو سانپ سونگھ چکا ہے۔

     اگر پاکستان کے امیر ترین طبقہ کا نوجوان، ماڈرن ازم کا پروردہ، فارن کوالیفائڈ ملحد ہونے کے باوجود اتنی سفاکیت سے جان لے سکتا تو باقی کیا بچتا؟ الحادیت کی تو بنیاد ہی یہ کہ کوئی خالق حقیقی نہیں کوئی آسمانی مذہب نہیں بلکہ انسانیت ہی اصل مذہب ہے۔ پھر اب وہ انسانیت کہاں گئی؟

    امیر کبیر ماں باپ کے بچے شرابی، نشئی، زانی، ملحد بنے لوگوں کی زندگیاں اجاڑ رہے اور ماں باپ ماڈرن بننے کے چکر میں جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے۔ بلکہ الٹا اولاد کی سنگین غلطیوں پر پردہ ڈال رہے کبھی رشوت دیکر کبھی دیت ادا کرکے۔ ظاہر جعفر کا باپ بہت بڑی کامیاب تعمیراتی کمپنی کا مالک لیکن اپنے ہی بیٹے کے کردار کی تعمیر میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ دوسروں کے بچوں کی کونسلنگ کرتی ماں اپنے بیٹے کا آخر تک ناجائز دفاع کرتی رہی۔ یہ صرف ایک کیس نہیں بلکہ ہر ہر طبقے کیلئےلمحہ فکریہ ہے کیونکہ الحادیت و جدیدیت کا زہر اب مڈل کلاس بلکہ مزدور طبقے تک میں سرایت کر چکا ہے۔ کبھی کوئی لڑکا لڑکی کی لاش، غیرقانونی  اسقاط حمل کے بعد یونیورسٹی کے گیٹ پر پھینک کر چلا جاتا تو کبھی کوئی عثمان مرزا سالوں لڑکیوں کو بلیک میل کر کے ریپ کرتا رہتا۔

    خدارا! لڑکیوں کو چاہیے اپنی آنکھیں کھولیں۔ کوئی بھی غیر محرم کبھی اعتبار کے قابل نہیں ہوسکتا۔ پیار و محبت کے جھانسے میں آ کر اپنی اور اپنے والدین کی عزت کو داؤ پر نہ لگائیں۔ جو حقیقی چاہت رکھتا وہ باعزت طریقے سے رشتہ بھیجتا گیسٹ ہاؤسز میں چھپ کر نہیں بلاتا نہ برہنہ تصاویر مانگتا۔ خدارا سمجھیں یہ محبت نہیں ہوس ہے اور دنیا ہوس کے پجاریوں سے بھری پڑی۔ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی جو مقام دیا ہےاسی میں عورت کی عزت محفوظ ہے باقی ہر رشتہ بس ٹائم پاس اور جھوٹ ہے جس کا مقدر ذلت ہوتا۔ لڑکوں کے جھانسے میں آکر صرف رسوائی مقدر ہوتی یا دردناک موت۔

    ابھی بھی وقت ہے ہمارا معاشرہ اپنی ان قدروں کیطرف واپس پلٹ جائے جن کو دقیانوسی کہہ کر ہم ترک کر چکے ہیں۔ اخلاقیات، شرم وحیاء، والدین کا احترام سب سے بڑھ کر اسلام کی اقدار و روایات کو دوبارہ سماج میں رائج کرنا ہوگا۔ رزق حلال اور قناعت پسندی کو اپنانا ہو گا۔ جائز و ناجائز طریقے سے دولت کمانے کے چکر میں ہم نے اللّٰہ تعالیٰ کو بھی ناراض کردیا ہے اور خود کو تباہی کے دہانے پر بھی کھڑا کر دیا ہے۔ نتیجتاً دین، دنیا، آخرت سب ہم سے چھنتی جا رہی۔ نور کیس نے یہ بات سمجھا دی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔

    نور مقدم کیس پورے معاشرے کیلئے عبرت بھی ہے اور سبق بھی۔ اس سانحہ نے ہمارے معاشرے کی وہ مکروہ حقیقت آشکار کردی ہے جس سے ہم سب کہیں نہ کہیں نظریں چرا رہے تھے۔ والدین سے دست بدست التجا ہے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ ان کی تربیت صحیح اسلامی اصولوں پر کریں۔ ان کو رزق حلال مہیا کریں اس سے پہلے کہ آپ کی اپنی اولاد کا انجام نور یا جعفر جیسا ہو۔

     بقول اقبال

     رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے

    روشن ہے نگہہ آئینۂ دل ہے مکدر

    بڑھ جاتاہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے

    ہوجاتے ہیں افکار پر اگندہ و ابتر

    @once_says

  • سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں جکڑی ہوئی قوم کا آیئنی بحران  تحریر:  محمد جاوید

    سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں جکڑی ہوئی قوم کا آیئنی بحران تحریر: محمد جاوید

    ہم نے بظاہر سیاسی آزادی حاصل کر لی لیکن سرمایہ داری اور جاگیر داری کی گرفت سے آج بھی آزاد نہیں ہو سکے ان طبقوں کے گروہی مفادات کے سائے، سب سے لمبے ہیں اور ان کے اثرات سے ہماری زندگی کا کوئی شعبہ باہر نہیں ہے۔ یوں تو پاکستان کی سیاسی اور اقتصادی زندگی شروع سے عصر حاضر کے نیو آبادیاتی نظام کے نمایندوں کے شکنجے میں جکڑرہی ہے۔ لیکن اس نظام میں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے سیاسی وہ اقتصادی غلبے کو جو استحقام اس دور میں نصیب ہوا ہے اسکا مثال نہیں ملتی ۔ اس نظام میں غریب کا استحصال تو ہو سکتا ہے۔ غربت دور کرنے کے لئے۔ زكوات کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ غریب کے کندھے پر اپنی سر پرستی اور لطف وہ کرم کی چادر بھی ڈالی جا سکتی ہے۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ جگہ جگہ غریبوں کے لئے پناہ گاہیں اور لنگر کھانے بھی کھولیں جا سکتے ہے۔
    لیکن غریب کو برابر کے انسان کے طور پر Own نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اگر کہیں کوئی غریب برابر کی سطح پر بیٹھا نظر آتا ہے تو دراصل انہی وڈیروں اور سرمایہ داروں کے نوکر کے طور پر ۔
    اس نظام کے آئین میں قرآن وہ سنت کی بلادستی کی بات تو کی جاسكتی ہے اور فیڈرل شریعت کورٹ کا دایرہ بھی واسع کیا جا سکتا ہے لیکن اسلام کے نظام عدل وہ اانصاف کے ان پہلوؤں کی نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی پروگرام دیا جا سکتا ہے جیس سے سرمایہ داری کے عالمی نظام اور اسلامی ملکوں میں اس نظام کے علم برداروں کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔ اس نظام کی گود میں پروان چڑھنے والی سينٹ اور قومی اسمبلی میں مزید ترمیم کو معرض التوا میں ڈالنے کے لئے نئی کمیٹیاں بھی بن سکتی ہیں، لیکن اس ملک کے جاگیرداروں، خانزادوں، وڈیروں اور سرداروں سے ان کے انگریز آقاؤں کی عطا کردہ اجارہ دریاں چھين کر انہيں وطن عزیز کا عام شہری بنانا ممکن ہی نہیں ہے۔
    ہر دور میں ہر نیا بننے والا وزیر اعظم ہو یا صدر بشمول عمران خان اکثر قوم کو آئینوں کے ٹوٹنے کی کہانی سناتے رہتے ہیں اور آئینی اصطلاحات کے حوالے سے بلند وہ بھنگ دعوے کرتے نظر اتے مگر اس فریب خوردہ قوم کو وہ بات کوئی نہیں بتاتا جو قوم کے دل میں ہے یعنی پاکستان کا کا ہر آئين اس لئے ٹوٹا اور ہر سیاسی بحران اسلیے پیدا ہوا کہ شخص واحد نے اپنی کرسی چھوڑ نے یا اپنے اختیارات میں کمی کرنے سے انکار کر دیا۔ 1954 میں اسمبلی اسلیے ٹوٹا تھا جب غلام محمد نے اپنے اختیارات میں کمی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
    اور 1956 کا آئین اسلیے ٹوٹا کہ سکندر مرزا اور دوسرے اس آئین کے تحت انتخابات کے بعد اختیارات اور عہدے سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے ۔ 62 کا آیئن اسلے ختم ہوا کہ حکومت اور اقتدار کے تمام راستے ایک ہی شخص کی طرف جاتے تھے۔ 73 کا متفقہ اور عوامی آیئن انے والے مارشل لاء کو اسلیے نہ روک سکا کہ اس ایئن کے خالق نے اپنے ہی ایئن سے بھی آگے بڑھ کر اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 73 کا آیئن آج اپنی اصلی شکل و صورت میں باقی نہیں رہا۔ پاکستان کا آئین ہمیشہ سے صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات کی وجہ سے ترمیم کی ضد میں رہا۔
    یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف آینوں میں فرد واحد کی ذات میں اختیارات جمع ہو جانے سے ہی صوبائی نفرتوں کو ہوا ملتی رہی وان یونٹ کا تجربہ ناکام رہا اور ملک کو دو لخت کرنے میں ہمارے مظبوط مرکز نے بہت اہم کردار ادا کیا
    اخیر کب تک اسے کمزور نظام کے تحت اس ملک کی مشینری کو چلایا جاے گا ۔
    ضروری ہے اب اس آیین کے اندر اس ترامیم کئے جائے جیس میں غریب کا بھلا ہو اور اس جاگیردارانہ اور سرمایہدارانہ نظام کا خاتمہ ہو۔
    ملک میں عدل وہ انصاف اور قانون کی حکمرانی ہو کسی میں ہمت ہی نہ ہو کہ اپنی ذاتی مفاد کے لئے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا کریں۔
    اس تمام طاقتوں کی حوصلہ شکینی کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔

    @I_MJawed

  • اخلاقیات اور ہمارا معاشرہ تحریر:شعیب خان


    اخلاق کی دولت سے بھرا ہے میرا دامن
    گو پاس میرے درہم ودینار نہیں ہیں

    لفظ اخلاقیات یونانی زبان کے لفظ اخلاق سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کردار اور رواج۔ اسی طرح اخلاقیات سے مراد کسی معاشرے، کسی ادارے کیلٸے اخلاقی اصولوں ،اور اخلاقی اقدار کا نظام موجود ہو

    دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات مسلمانوں کواخلاقِ حسنہ کا درس دیتی ہیں، ضعیفوں کا ادب واحترام، چھوٹوں پر شفقت، علماء کی قدر ومنزلت، غریبوں اور بے کسوں کی دادرسی ، اپنوں کے ساتھ محبت والفت اور جذبہ ایثار وہمدردی کا سبق دیتی ہیں

    نبی کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اخلاق کا اتمام بھی ہے ۔آپ ﷺ کامل اخلاق کی تکمیل کیلٸے اس جہاں میں تشریف لاٸے ۔ آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک ورق آپﷺ کے خُلقِ عظیم کا اجلا نقش ہے۔

    میرے پیارے مسلمانوں بھاٸیوں!! اخلاق کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ معاشرہ مہذب ہو یا غیر مہذت ۔اخلاق دنیا کے ہر معاشرے کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں ،انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل چیز اخلاق ہے مگر بدقسمتی سے ہمارا مسلم معاشرہ میں اخلاقیات ، تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار ہی ناپید ہوچکے ہیں جس کے باعث آپﷺ کے اخلاق حسنہ سے دوری ہے۔ اسوجہ سے ہمارا معاشرہ رسواء اور زوال پذیر ہو رہا ہے اور بد اخیلاقات ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح ختم کررہی ہے

    دین اسلام جس کی اصل پہچان اخلاقیات کا عظیم باب ہے اور جس کی تکمیل کے لئے مُحَمَّد ﷺ مبعوث کیے گئے تھے آج اسی دین اسلام اور آخری نبی کے اخلاق حسنہ کو ماننے والے اخلاقیات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ ہماری عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے، گلی، محلہ ، جگہ جگہ لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و ستم ،بچیوں کے ساتھ زیادتی، فساد، عورتوں پر تشدد ،ماں باپ کی نافرمانی ، کینہ ، جھوٹ ، بہتان تراشی ، غیبت ، قتل و غارت، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیات کے بازار، ہوس کے اڈے ، مے خانے ، جوا ، چوری چکری ، ،زنا کاری، رشوت خوری، سود خوری ،حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی منافقت ،خوشامد، دوغلے پن، حرص، طمع، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی کرنا آخر وہ کون سا اخلاقی بیماری ہے جو ہم سب میں نہیں ۔ خود غرضی اور کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم سب نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی اقسام ہے جو ہمارے معاشرے کے زوروں پر نہیں؟

    تشدد، تعصب، عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہر ہیں جو ہمارے معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ مگر پھر بھی ہم خود پارسا اور مسلمان کہلاتے ہیں ۔۔۔ایسے برے اخلاق و اطوار والی
    عوام کا خود کو مسلمان کہلوانا تو دور کی بات ، ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ ایسے میں دین اسلام ، اللہ ﷻ اور آپ ﷺ کا مبارک بھی اپنی ناپاک زبانوں سے لینے کی جسارت نہ کرو اس لیے کہ تم ان کی بدنامی کا باعث بنتے ہو۔

    گر نہ داری از محمد رنگ و بو
    از زبان خود میسا لا نام او

    قارئين!! معاشرہ اکائی سے بنتا ہے ہر فرد معاشرے کا حصہ ہے۔ ہر فرد خود کو نہیں، معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں ہر فرد سمجھتا ہے کہ ہر برائی اور خرابی دوسرے لوگوں میں ہے ، یہ منفی سوچ معاشرے کو اخلاقیات سے گراتی ہے کیونکہ ہر فرد اپنی ذات سے ہٹ کر دوسرے لوگوں میں خامیاں اور برائیاں دیکھتا ہے۔ ہر فرد اپنیٕ ذمے داریوں سے بھاگتا ہے اور اپنی برائیوں اور خاميوں کا جواز پیدا کرتا ہے ۔

    اللہ ﷻ ہمیں ہدایت دے آمین!

    ‎@aapkashobi

  • ‏فرقہ ورایت کی وجہ  تحریر: صالح ساحل

    ‏فرقہ ورایت کی وجہ تحریر: صالح ساحل

    ہمارے ہاں آپ نے اکثر سنا ہو گا کے اتحاد امت کانفرنس اور فرقہ ورایت سے پاک پاکستان کے نعرے لگائے جاتے ہیں مگر آج ہم کوشش کرتے ہیں کے فرقہ ورایت کی اصل وجہ کیا ہے جس نے مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کر دیا تو میں دین کا ایک ادنی سا طالب ہونے کی حیثیت سے جب اس پر غور کرتا ہوں تو مجھے پتہ چلتا ہے کے فراہ ورایت کی یہ لعنت صرف مسلمانوں کے ہاں نہیں بلکہ اس سے پہلے عیسائیوں اور دیگر مذہب کے درمیان بھی موجود تھی اور میری علمی تحقیق اور سوچ کے مطابق اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے جہالت کیونکہ کے جب کسی معاشرے میں علمی روایت برقرار رہے گی تو وہاں فرقہ واریت جنم نہیں لے گی ان کے ہاں علمی بحثیں ہوں گی علمی اختلاف ہو گا کئی بار یہ اختلاف بڑھ جائے گا مگر یہ شدت پسندی نہیں ہو گی وہ اس اختلاف پر اپنا اپنا نقط نظر بیان کریں گے لیکن اگر آپ کسی معاشرے میں علم کی روایت کو بند کر دیں اور جہاں خدا کی کتاب کو صرف ثواب کی حیثیت سے پڑھا جائے پڑھنے والے کو اس سے غرض نہ ہو کے میرا رب کیا کہہ رہا بلکہ کے وہ صرف مولوی کی بات کو خدا کی بات سمجھ لے تو جب اس سے کوئ اختلاف کرے گا تو علمی جواب نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدت پسندی کا راستہ اختیار کرے گا اگر ہم آج پوری امانت داری کے ساتھ یہ تحریک شروع کر دیں کے ہر آدمی کو سادہ ترجمہ کے ساتھ زندگی میں اللہ کی کتاب قرآن مجید ایک دفعہ سمجھ کر پڑھنی ہے تو بہت سے فرقے خود بخود ختم ہو جائے گے مگر ہم صرف قرآن کو ثواب کی کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں حالانکہ کے جگہ جگہ اللہ یہ کہتا ہے کے یہ ہدایت کی کتاب ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اقبال نے بھی کہا تھا اے مسلمان تم نے جس کتاب کو مردے بخشوانے کے لیے اور جب روح اٹک جائے تو سورہ یسین کی تلاوت کے لیے رکھا ہے اگر تم سمجھ کے زندگی میں پڑھ لے تو تمہارا مردہ وجود اور ضیمر زندہ ہو جائے اس لیے ہم کو چاہیے قرآن سے تعلق کو جوڑئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر اسرار صاحب جب یہ آیات پڑھتے تھے
    Surat No 3 : سورة آل عمران – Ayat No 67 68

    مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾

    ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو یک طرفہ ( خالص ) مسلمان تھے وہ مشرک نہ تھے ۔

    تو کہہ کرتے تھے کے اس آیات کو اپنے اوپر فٹ کر لو کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ شیعہ تھے نہ سنی نہ بریلوی نہ دیوبندی بلکہ کے وہ صرف مسلم تھے
    ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

    ہو تو سبھی کچھ بتاؤ کے مسلمان بھی ہو
    ‎@painandsmile334

  • بے روز گاری تحریر:اعجاز حسین

    بے روز گاری تحریر:اعجاز حسین

    ‏”
    بے روزگاری کو عام طور پر اس صورتحال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب افراد ایک مخصوص عمر سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر رہے اور ملازمت نہیں رکھتے۔
    بے روز گاری ایک عالمی مسٸلہ ہے۔ایشیاٸی ممالک میں بے روزگاری زیادہ ہے۔جس میں پاکستان بھی شامل ہے ۔بے روزگاری ایک سماجی براٸی تصورکی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں۔یہ معاشی زہر ساری سوساٸٹی میں پھیل جاتا ہے۔ اور ملک کی سیاسی صورتحال بھی متاثرہوتی ہے۔
    بیروزگاری قانون کا احترام کرنے والے اچھے شہریوں کو بھی مجرم بنا دیتی ہے ۔اس سے بد عنوانی پھیلتی ہے جھوٹ بڑھتا ہے۔اور انسانی کردار کا تاریک پہلو سامنے آ جاتا ہے ۔بیروزگار آدمی سے سچاٸی، شرافت ، اور امانت داری کی توقع کرنا ناممکن ہے۔
    غربت اور بیروزگاری ریاست کی سب سے بڑی کمزوری اور نااہلی مانی جاتی ہے۔بیروزگاری سے بے اطمینانی اور بے چینی پھیلتی ہے۔بےاطمینانی سےسیاسی بے چینی اور حکومت کی اطاعت سے انحراف کے جذبات ابھرتے ہیں۔سیاسی نفرت سے بغاوت جنم لیتی ہے۔اور پھر بغاوت انقلاب کی صورت نمودار ہوتی ہے۔
    حکومت کیلیے لازم ہے کہ بیروزگاری کے لیے مٶثر اقدامات کرے۔تاکہ لوگ اپنےکاموں میں مصروف رہیں اور معاشرے میں بے چینی نہ پھیلے۔
    ”برطانوی فلاسفر سر ڈبلیو بیورٸج کا تجزیہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ بیروز گار افراد کو زمین پر گڑھےکھودنے پرلگاۓ رکھے اور پھر انھیں پُر کرانے پر مامور رکھے ۔یہ زیادہ مٶثر قدم ہے نہ کہ بیروزگاری کے مہلک اثرات حکومت پر حاوی ہوں۔
    سرکاری محکموں اور پراٸیویٹ اداروں نے اخبارات کے ذریعے آسامیاں پُر کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے مختلف آسامیوں کے لیے امید وار بلاۓ جاتے ہیں۔سرکاری ملازمتوں کیلیے پہلے ہی گٹھ جوڑ کر لیا جاتا ہے۔آسامیوں کی تشہیر ایک عام دفتری کارواٸی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ پراٸیویٹ ادارے مجبوراً امیدواروں کو کم تنخواہ پر رکھ لیتے ہیں۔ جہاں سے انہیں کسی وقت بھی ملازمت سے ہٹا دیا جاتا ہے۔یہ ادارے لیبر قوانین کی پرواہ تک نہیں کرتے۔طویل دورانٸے کے اوقات میں کام لیتے ہیں۔
    اب سرکاری دفتروں میں آسامیاں پُر کرنے کے لیے ”سفارشی“ اور ”رشوتی“ افراد ہی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ بیروزگاری کا مسٸلہ بڑی سنجیدہ صورت اختیار کر چکا ہے۔تعلیم یافتہ ،غیر تعلیم یافتہ،ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد سب متاثر ہیں۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں میٹرک،انٹرمیڈیٹ، اور گریجویٹ افراد ملازمتوں سے محروم ہیں۔دفاتر کے چکر لگاتے ہیں لیکن ملازمت کیلیے کوٸی آسامی دستیاب نہیں ہوتی۔
    دوسرا مرحلہ صنعتی بیروزگاری کا بھی ہے ۔انڈسٹری پر بھاری ٹیکس لگانے سے اب صنعت کاروں نے جدید مشینیں لگا لی ہیں جہاں بہت کم تعداد میں ملازم رکھ کر زیادہ مقدار میں پروڈکشن حاصل کی جاتی ہے ۔آۓ دن ہڑتالوں اور فیکٹریوں کی تالا بندی سے تجارت اور کامرس پر بھی برے اثرات مرتب ہوۓ ہیں۔ ہڑتالوں کیوجہ سیاسی اور لسانی فسادات ہیں ۔سیاسی لیڈر اپنی دکانیں چمکانے کیلیے ناممکن مطالبات کرتے ہیں۔جس سے ملک میں لوٹ مار کے واقعات جنم لیتے ہیں۔ان حالات میں صنعت بہت متاثر ہوٸی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں ۔ملک مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
    ساری دنیا آج کرونا کی وبا سے متاثر ہوٸی ہے وہیں ملازمت پیشہ اور خاص کر مزدور طبقہ بہت متاثر ہوا ہے ۔ملک مزید لاک ڈاٶن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
    نوجوان نسل ڈگریاں لیکر بیکار رہنے کی وجہ سے ذہنی خلفشار کا شکار ہے ۔جس سے معاشرہ بہت سے مساٸل کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔
    بے روزگاری ایک ایسا عفریت ہے جس سے دور جدید کی تمام قومیں پناہ مانگتی ہیں۔ امریکہ کے عوام کی نظر میں آج بھی سب سے خطرناک معاشی بحران بیروزگاری ہی ہے۔
    جب تک دنیا کی حکومتوں نے ملکی معاشی نظام کو اپنی گرفت میں نہیں لیا تھا تب تک بیروزگاری کسی حد تک انفرادی مسٸلہ تھی ۔مگر موجودہ صورت حال میں جب ملک کے تمام وساٸل حکومت کے ماتحت ہیں بیروزگاری اور افراطِ زر دونوں ہی حکومت کی پالیسیوں کے تحت بڑھتے اور گھٹتے ہیں۔گو انفرادی طور پر کسی شخص کے روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت اسکی ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے مگر روزگار کے مواقع معیشت کے پھلنے پھولنے سے ہی پیدا ہوتےہیں۔ جس کا زیادہ تر انحصار حکومت کی صحیح پالیسیوں پر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مناسب تربیت اور تعلیم کے باوجود ہمارے ہاں بیشمار افراد کو روزگار نہیں مل پاتا۔
    کہنے کوتو پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے پر ہم آخر اسکو کس نظر سے فلاحی ریاست کہتے ہیں اور کس بنیاد پر اسکو فلاحی ریاست ہونے کا درجہ دے رہے ہیں۔اسلام کے نام پر اس ملک کو بنایا گیا لیکن آج یہ حالات ہو گٸے ہیں ہر طاقتور اپنے سے کمزور کے حقوق سلب کر رہا ہے اور فراٸض کی پاسداری نہ کرتے ہوۓ ملک کو تباہی کیطرف دھکیل رہا ہے۔آخر اس سب کیوجہ کیا ہے ؟
    ہم لوگ نفسیات کے کس درجے پر آ گٸے ہیں۔اگر ان سب مساٸل کا جاٸزہ لیا جاۓ تو وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے بیروزگاری۔
    آج جسطرف بھی نظر ڈالی جاۓ ہر تیسرا پڑھا لکھا شخص روزگار کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ اس دوران بہت بار اسکا واسطہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی چیزوں سے پڑتا ہے۔ہر ایک اس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے اور اگر کوٸی کچلا جاۓ تو کسی کے پاس دوسرے کو اٹھانے کی فرصت نہیں ہے۔اورحالات کو بہتر کرنے کیلیے حکومتی سطح پر بھی کوٸی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔روزگار نہ ملنے پر سب سے زیادہ نقصان ان نوجوانوں کا ہوتا ہے جنہوں نے اعلیٰ یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہوتی ہے اور اپنی تعلیم پر انھوں نے لاکھوں روپے صَرف کیے ہوتے ہیں اور جب اتنی تعلیم حاصل کرنے اور میرٹ پر آنے کے باوجود بھی وہ ملازمت نہیں حاصل کر پاتے تو وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    حکومت کو نجی تعاون سے روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ہمارے سیاستدان جلسوں میں تو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں روزگار دینے کے۔لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سب بھول جاتے ہیں۔اگر وہ غریب لوگوں پر تھوڑی سی توجہ دیں اور انکو بھی روزگار فراہم کیا جاۓ تو یہ لوگ برے اور غیر قانونی کاموں میں پڑنے کی بجاۓ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرینگے۔
    ہماری نوجوان نسل بیروزگاری کیوجہ سے تباہ ہو رہی ہے انکی صلاحیتوں کو ایسے حالات میں زنگ لگنا لازم ہے جب ان کے پاس اپنی صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے مواقع نہیں ہیں۔

    @Ra_jo5

  • ‏منشیات کا استعمال اور نوجوان نسل.  تحریر شاہ زیب احمد

    ‏منشیات کا استعمال اور نوجوان نسل. تحریر شاہ زیب احمد

    نشے کو اگر عام الفاظ میں بیان کرے تو نشے سے مراد ایسے اشیاء یا اجزاء کا استعمال کرنا ہے جس سے انسان کی وقتی طور پر ذہنی و جسمانی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے، اور آہستہ آہستہ وہی نشہ انسان کی ضرورت بن جاتی ہیں

    آج اکیسویں صدی میں جہاں ہر طرف مقابلے، نت نئے تجربات اور ایجادات کے طرف لوگ مائل ہے اور کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اسی طرح ہمارے پاکستان کے نوجوان نسل میں نشے کی عادت تیزی سے پھیل رہی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریبا 80 لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں جس میں ہر سال ہزاروں افراد کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ شاید ہمیں اس صورت میں مل رہا کہ ہماری نئی نسل روز مرہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ صحت مند ایکٹیویٹیز سے دور ہوتی جا رہی ہے، 2021 کے اولیمپک مقابلے ہمارے سامنے ہے جہاں ہمارے کتنے نوجوانوں نے حصہ لیا؟ اور کتنے نوجوان کامیاب ہو کے واپس لوٹ آئے ؟ یقیناً یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، جو پاکستان کو اپنے لپیٹ میں لے رہا ہے اور اسکا روک تھام نہایت ضروری ہیں، اس حالت کی سب سے اہم وجہ شاید یہی ہے کہ آج کے والدین اپنے بچوں کے سرگرمیوں سے واقف نہیں ، بچے اسکول، کالج یونیورسٹی میں کیا کر رہے انکے دوست کون ہے وہ کون سے ایکٹیویٹیز میں حصہ لے رہے ہیں، کہاں جا رہے کہاں سے آرہے وغیرہ وغیرہ.
    آج پاکستان کے نوجوان بطور فیشن سیگریٹ اور دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جو رفتہ رفتہ یہی فیشن یہی شوق انکی عادت اور ضرورت بن جاتی ہے اور مکمل طور پر نشے کا عادی بنا دیتی ہیں.
    نشہ شروع کرنے کے بہت سارے وجوہات ہیں لیکن یہاں وجوہات سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کس طرح نوجوان نسل کو نشے کے لت سے بچایا جائے اور انہیں دیگر سرگرمیوں میں مصروف کیا جائے،
    نشے سے نجات اور بچاؤ کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ آگاہی پھیلاؤ مہم زیادہ سے زیادہ کئے جائے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پہ اس مہم کو پروموٹ کیا جائے، جیسے پولیو پہ زور دیا گیا اور آج پاکستان پولیو فری زون کے طرف جا رہا اسی طرح نشے سے متاثر افراد کیساتھ ساتھ نشہ آور اجزاء کے ڈیلرز کے خلاف آپریشن وقت کی اہم ضرورت ہے ، آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ والدین جان سکیں کہ جیسے ہی بچے کے عادات تبدیل ہو رہی اس پہ زیادہ توجہ دینا شروع کریں، علامات کے بارے میں مکمل جان کاری ہو جیسے نشے کے عادی افراد،
    * زیادہ تر گھر سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں،
    * رات کو دیر سے گھر آنا معمول بن جاتا ہے،
    * گھر والوں کیساتھ بیٹھنے اور زیادہ بات کرنے سے گریز کرتے ہیں،
    * معمولی باتوں پر غصہ آتا ہے،
    * وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، بھوک نہیں لگتی، رنگ بدل جاتا ہے،
    * اپنے صفائی پہ زیادہ دیہان نہیں دیتے،
    * اسکول / آفس سے غیر حاضریاں شروع ہو جاتی ہیں،
    * جسم سے بدبو آتی ہے
    * چوری کی لت پڑھ جاتی ہیں وغیرہ،

    یہ چند اہم علامات ہیں یعنی جس سے ہم نشہ کرنے والے کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اسکا علاج معالجہ شروع کر سکتے ہیں.

    نشے کا علاج عام بیماریوں سے مختلف ہیں، یہاں میڈیسن سے زیادہ کاؤنسلینگ زیادہ ضروری ہے جس کے لئے سائیکالوجسٹ اور سائیکاٹرسٹ کی خدمات لی جاتی ہیں، اور ترتیب وار علاج کیا جاتا ہے،

    * جہاں سب سے پہلے علاج کے لئے ترغیب دی جاتی ہیں، مریض اور گھر والوں دونوں کو علاج کے لئے امادہ کیا جاتا ہے اسکے لئے مختلف ادارے کام کر رہے جہاں سے یہ میسج نکلتا ہے کہ نشے کے مریض مجرم نہیں پیار و شفقت کے مستحق ہے تاکہ وہ زندگی کے طرف لوٹ کے آئے،
    * مریض کو نشے کے اثرات سے پاک کرنا ، نشے سے نجات کے علاج میں یہ دوسرہ عمل ہے یعنی ڈیٹکسی فیکیشن کرنا، اس عمل میں مریض کو کافی تکلیف ہوتی ہے نشہ چھوڑنے کی وجہ سے مختلف علامات سامنے آجاتے ہیں جس میں جسم میں شدید قسم کا درد محسوس ہونا ، جمائیاں آنا، بے خوابی ، آنکھوں اور ناک سے پانی بہنا ، چڑچڑا پن ، سخت بے چینی اور اضطراب کی کیفیت وغیرہ ۔ Detoxification کے طریقہ کا ر میں ان تمام اذیت ناک اثرات کو کم سے کم کرتے ہوئے مریض کا نشہ چھڑوایا جاتا ہے۔ مریض کو دس پندرہ دن اور کبھی کبھی اِس سے زیادہ بھی Detoxification کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ یہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ جہاں ایک ماہر سائیکاٹرسٹ کے ساتھ میڈیکل ڈاکٹرز کی بھی خدمات لی جاتی ہے،
    * نفسیاتی علاج، مریض کا دوائیوں کے ساتھ نفسیاتی علاج بھی ہونا ضروری ہوتا ہے جہاں اسے زندگی کے طرف واپس آنے کی ترغیب دی جاتی ہیں، مریض کو یہ یقین کروایا جاتا ہے کہ نشہ زندگی کے مشکلات اور مسائل بڑھانے کا نام ہے، اسے ہمت دی جاتی ہے کہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کے اندر سوئے ہوئے اچھے اور ذمہ دارانسان کو جگایا جاتا ہے۔
    * دوبارہ نشہ شروع کرنے کی روک تھام : علاج کے بعد مریض کو دوبارہ نشہ کی طرف لوٹ جانے سے روکنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ اِس کے لئے مریض کی مسلسل نگرانی اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاج کے بعد مریض کو دوبارہ ان دوستوں کے پاس ہر گزنہیں جانے دینا چاہئے جہاں سے اسے یہ مرض لاحق ہوا تھا، وہاں سے دوبارہ نشے میں مبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اس سارے عمل میں گھر والوں کا رویہ نہایت مناسب اور پیار بھرا ہونا چاہئے.

    * مریض کی بحالی یعنی (Rehabilitation): مریض کی بحالی بھی علاج ہی کا اہم حصہ ہے ۔ بحالی کا مطلب یہ ہے کہ علاج کے بعد صحت یاب مریض کو معاشرے کا اہم فرد بنانا ، مریض کے عزت و وقار کو مجروح نہ کرنا ، معاشرے میں ایک مقام دینا ، اسے وہی زندگی دینا جیسے وہ نشے سے پہلے تھا/تھی ، اگر مریض ملازم تھا تو صحت یابی کے بعد ملازمت دوبارہ دینا، سکول کالج میں تھا تو واپس داخل کرنا غرضیکہ اس کو وہ تمام سہولیات دینا جو ایک عام فرد کو دی جاتی ہے، اور یہ ہم سب کی ، پورے معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے،

    اس تحریر کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں میں شعور اجاگر کر سکیں جس طرح ہم شوگر ، بلڈ پریشر اور دیگر تمام بیماریوں کا علاج کرتے ہیں اسی طرح نشہ بھی ایک بیماری ہے اور قابل علاج ہے ہمیں مریض سے نہیں بلکہ اسکے مرض سے نفرت کرنی چاہئے ، اگر بطور مسلمان اور بطور انسانیت ہم اپنا فرض ادا کریں نشے کے مریضوں سے نفرت کے بجائے محبت سے پیش آئے ، انکا سہارہ بنے تو یقیناً کئی خاندانوں کے بجھے ہوئے چراغ ہم روشن کر سکتے ہیں اور اپنے ملک و قوم کو نشے کے لت سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں.
    نشے کا علاج، کل نہیں آج.

    تحریر شاہ زیب احمد
    Twitter ‎@Zebi_afridi