Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • نور کیس، سماج کیلئے تازیانہ . تحریر: سید غازی علی زیدی

    نور کیس، سماج کیلئے تازیانہ . تحریر: سید غازی علی زیدی

    امیر زادہ و اعلیٰ تعلیم یافتہ، جوان اور خوبصورت، مال و دولت کی ریل پیل، نوکروں کی فوج ظفر موج، امریکی شہریت کا حامل، پارٹی کلچر کا دلدادہ، مادر پدر آزادی کا قائل، 
      ظاہر جعفر

    لیکن اب بس ایک سفاک قاتل
    کیونکہ ایک لڑکی نے شادی سے انکار کردیا!!!
    تو لڑکی کی یہ اوقات؟ 

    کیا ہوا اگر وہ بھی امیر تھی، بچپن کی دوست تھی، اس کا باپ  حکومتی اعلی ترین عہدوں پر فائز رہا تھا۔ تھی تو وہ ایک لڑکی۔

     مردانگی کیخلاف یہ انکار کیسے برداشت کر لیتا؟؟؟

     گو کہ وہ اس طبقے سے تعلق رکھتا جہاں صنفی امتیاز کی بجائے صرف مساوات کا دلفریب تصور دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا۔ لیکن فطرت کون بدل سکتا؟ ایلیٹ کلاس کی نفسیاتی معالج ماں کا لاڈلا سپوت، جو خود بھی ایلیٹ تعلیمی اداروں میں نفسیاتی مشاورت کیلئے بطور بہترین استاد مشہور تھا۔ بظاہر مہذب اور عمدہ اخلاق کا حامل، لیکن درحقیقت سفاک اور جنونی، بظاہر عورتوں کی مادر پدر آزادی کا علمبردار لیکن عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والا۔ جس کی پر تشدد حرکتوں سے نہ تو خود اسکی اپنی ماں محفوظ تھی نہ کوئی یورپین کال گرل۔ امریکہ و یورپ نے تو ڈیپورٹ کر کے پابندی لگا دی لیکن پاکستان میں دولت کے بل پر حقائق چھپانا کیا مشکل؟ جبکہ آپ کے والدین نہ صرف امیر ہوں بلکہ جاہ و حشمت والے بھی۔ جب دولت اور افسر شاہی آپ کے گھر کی باندی ہوں تو کیسا خوف، کیسی اخلاقیات۔ اور رہا خوف خدا تو خدا کو تو آپ مانتے ہی نا ہوں۔ خدا کو غیر ضروری قرار دے کر جب آپ زندگی سے نکالتے ہیں تو ساتھ ہی ایمان کا نور اور دل کا سکون بھی چھن جاتا لیکن الحادیت کے علمبرداروں کو یہ بات کون سمجھا سکتا جب خود خدا ہی ان سے منہ موڑ چکا ہو۔

    نشے کا عادی، شراب و کباب کا دلدادہ، اذیت پسند، ملحد، غرض کونسی  بد خصلت تھی جو اس میں نہیں تھی۔بدقسمتی سے نور اسکی پرتشدد طبیعت اور سیاہ ترین فطرت کے کچھ پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرچکی تھی۔سو پوری منصوبہ بندی سے اس کے گرد ایک شیطانی جال بنا گیا۔ بچپن کی دوستی اور پرانی محبت کا واسطہ دے کر کچھ دن آخری بار ساتھ گزارنے پر مجبور کیا گیا اور یہ بات تو طے ہے کہ لڑکی چاہے امیر زادی ہو یا فقیرنی، مردوں کے جھانسے میں آ ہی جاتی ہے۔ ساری عقلمندی، تعلیم، خاندانی رواج سب طاق میں پڑے رہ جاتے جب لڑکی اپنی حدود پار کر لیتی پھر چاہے وہ روایتی مشرقی عورت ہو یا مادر پدر آزادی کی حامی۔ سو قارئین کرام اسکے بعد شروع ہوتی ہے سفاکیت اور بربریت کی وہ کہانی جس کا ہرروز ایک نیا دلخراش پہلو منظر عام پر آ رہا ہے۔ وہ دلدوز تفاصیل جس نے سارے لبرل ازم اور جدیدیت کا حسین مگر کھوکھلا بت پاش پاش کر دیا ہے۔

    ایک نہتی لڑکی جو اندھی محبت کے نشے میں چور تھی اسکو وحشیانہ انداز میں مارمار کر سارا نشہ اتار دیا۔ حبس بیجا میں رکھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھاگنے کی ناکام کوشش پر سر کے بالوں سے گھسیٹا اور بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کرتے چھریوں کے وار کرکے مار دیا اور جب شقی القلب انسان کی اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو سر ہی قلم کر کے لاش سے4 فٹ کے فاصلے پر رکھ دیا۔ خدا کی پناہ اس واردات کا تصور ہی عام انسان کے رونگٹے کھڑے کردینے کیلئے کافی ہے۔ لیکن یہ سب کرتے نہ قاتل کو کوئی جھرجھری آئی نہ رحم کی کوئی رمق اس کے دل میں جاگی۔ گھر کے ملازم گونگے بہرے بنے سب دیکھتے رہے لیکن کوئی انسانیت کسی میں بیدار نہ ہوئی۔  ستم بالائے ستم یہ کہ وہ ماں باپ جن کی آنکھوں کے سامنے نور پلی بڑھی تھی وہ ایک ایک لمحے کی کاروائی سے واقف تھے لیکن بجائے بیٹے کو روکنے کے الٹا ملازمین کو ہدایات جاری کرتے رہے۔ یہاں تک کہ نور کے والد کے سامنے نور کی گمشدگی پر سختی سے لاعلمی کا اظہار بھی کیا۔ شور سن کر راہ چلتے کسی بھلا مانس کے فون کرنے پر جب پولیس پہنچی تو طاقت کے نشے میں چور قاتل کے ماں باپ پولیس کو بھی دھمکاتے اور معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے۔ کیونکہ کچھ دیر بعد قاتل کی بیرون ملک روانگی طے تھی۔

    انسانیت، اعتبار، تعلق داری، اخلاقیات، رواداری۔۔۔ غرض ہر چیز کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں اس اندوہناک واقعے نے۔ شاید اگر نور کے والد بارسوخ نہ ہوتے تو کبھی قاتل نہ پکڑا جاتا۔ اگر نور کا تعلق کسی عام گھرانے سے ہوتا تو کیا کبھی بھی یہ تفصیلات سامنے آنی تھیں؟

    اس سانحہ میں کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔ اس بہیمانہ قتل نے ہمارے معاشرے کے کئی تاریک ترین پہلوؤں کو بری طرح سے آشکار کر دیا ہے۔ پہلی دفعہ جدیدیت اور لبرل ازم کی ہولناکیاں اس شدت سے سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے مادر پدر آزادی کی طرف تیزی سے گامزن معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ہر معاشرتی برائی کا الزام مذہبی انتہا پسندی کے سر ڈال کرلبرل ازم اور جدیدیت کا راگ الاپنے والوں کی زبانیں اب کنگ ہیں.

    آج تک مادر پدر آزادی اور عورت مارچ کے حق میں نعرے لگانے والوں نے عورتوں پر ظلم وتشدد کے تمام واقعات کی جڑ پدرسری معاشرے، مذہبی روایات اور قدامت پرست طبقے کو قرار دیا ہے۔ وہ اب بت بنے بیٹھے ہیں۔ عورت مارچ کے نام پر طوفان بے حیائی مچانے والوں کو سانپ سونگھ چکا ہے۔

     اگر پاکستان کے امیر ترین طبقہ کا نوجوان، ماڈرن ازم کا پروردہ، فارن کوالیفائڈ ملحد ہونے کے باوجود اتنی سفاکیت سے جان لے سکتا تو باقی کیا بچتا؟ الحادیت کی تو بنیاد ہی یہ کہ کوئی خالق حقیقی نہیں کوئی آسمانی مذہب نہیں بلکہ انسانیت ہی اصل مذہب ہے۔ پھر اب وہ انسانیت کہاں گئی؟

    امیر کبیر ماں باپ کے بچے شرابی، نشئی، زانی، ملحد بنے لوگوں کی زندگیاں اجاڑ رہے اور ماں باپ ماڈرن بننے کے چکر میں جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے۔ بلکہ الٹا اولاد کی سنگین غلطیوں پر پردہ ڈال رہے کبھی رشوت دیکر کبھی دیت ادا کرکے۔ ظاہر جعفر کا باپ بہت بڑی کامیاب تعمیراتی کمپنی کا مالک لیکن اپنے ہی بیٹے کے کردار کی تعمیر میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ دوسروں کے بچوں کی کونسلنگ کرتی ماں اپنے بیٹے کا آخر تک ناجائز دفاع کرتی رہی۔ یہ صرف ایک کیس نہیں بلکہ ہر ہر طبقے کیلئےلمحہ فکریہ ہے کیونکہ الحادیت و جدیدیت کا زہر اب مڈل کلاس بلکہ مزدور طبقے تک میں سرایت کر چکا ہے۔ کبھی کوئی لڑکا لڑکی کی لاش، غیرقانونی  اسقاط حمل کے بعد یونیورسٹی کے گیٹ پر پھینک کر چلا جاتا تو کبھی کوئی عثمان مرزا سالوں لڑکیوں کو بلیک میل کر کے ریپ کرتا رہتا۔

    خدارا! لڑکیوں کو چاہیے اپنی آنکھیں کھولیں۔ کوئی بھی غیر محرم کبھی اعتبار کے قابل نہیں ہوسکتا۔ پیار و محبت کے جھانسے میں آ کر اپنی اور اپنے والدین کی عزت کو داؤ پر نہ لگائیں۔ جو حقیقی چاہت رکھتا وہ باعزت طریقے سے رشتہ بھیجتا گیسٹ ہاؤسز میں چھپ کر نہیں بلاتا نہ برہنہ تصاویر مانگتا۔ خدارا سمجھیں یہ محبت نہیں ہوس ہے اور دنیا ہوس کے پجاریوں سے بھری پڑی۔ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی جو مقام دیا ہےاسی میں عورت کی عزت محفوظ ہے باقی ہر رشتہ بس ٹائم پاس اور جھوٹ ہے جس کا مقدر ذلت ہوتا۔ لڑکوں کے جھانسے میں آکر صرف رسوائی مقدر ہوتی یا دردناک موت۔

    ابھی بھی وقت ہے ہمارا معاشرہ اپنی ان قدروں کیطرف واپس پلٹ جائے جن کو دقیانوسی کہہ کر ہم ترک کر چکے ہیں۔ اخلاقیات، شرم وحیاء، والدین کا احترام سب سے بڑھ کر اسلام کی اقدار و روایات کو دوبارہ سماج میں رائج کرنا ہوگا۔ رزق حلال اور قناعت پسندی کو اپنانا ہو گا۔ جائز و ناجائز طریقے سے دولت کمانے کے چکر میں ہم نے اللّٰہ تعالیٰ کو بھی ناراض کردیا ہے اور خود کو تباہی کے دہانے پر بھی کھڑا کر دیا ہے۔ نتیجتاً دین، دنیا، آخرت سب ہم سے چھنتی جا رہی۔ نور کیس نے یہ بات سمجھا دی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔

    نور مقدم کیس پورے معاشرے کیلئے عبرت بھی ہے اور سبق بھی۔ اس سانحہ نے ہمارے معاشرے کی وہ مکروہ حقیقت آشکار کردی ہے جس سے ہم سب کہیں نہ کہیں نظریں چرا رہے تھے۔ والدین سے دست بدست التجا ہے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ ان کی تربیت صحیح اسلامی اصولوں پر کریں۔ ان کو رزق حلال مہیا کریں اس سے پہلے کہ آپ کی اپنی اولاد کا انجام نور یا جعفر جیسا ہو۔

     بقول اقبال

     رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے

    روشن ہے نگہہ آئینۂ دل ہے مکدر

    بڑھ جاتاہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے

    ہوجاتے ہیں افکار پر اگندہ و ابتر

    @once_says

  • سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں جکڑی ہوئی قوم کا آیئنی بحران  تحریر:  محمد جاوید

    سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں جکڑی ہوئی قوم کا آیئنی بحران تحریر: محمد جاوید

    ہم نے بظاہر سیاسی آزادی حاصل کر لی لیکن سرمایہ داری اور جاگیر داری کی گرفت سے آج بھی آزاد نہیں ہو سکے ان طبقوں کے گروہی مفادات کے سائے، سب سے لمبے ہیں اور ان کے اثرات سے ہماری زندگی کا کوئی شعبہ باہر نہیں ہے۔ یوں تو پاکستان کی سیاسی اور اقتصادی زندگی شروع سے عصر حاضر کے نیو آبادیاتی نظام کے نمایندوں کے شکنجے میں جکڑرہی ہے۔ لیکن اس نظام میں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے سیاسی وہ اقتصادی غلبے کو جو استحقام اس دور میں نصیب ہوا ہے اسکا مثال نہیں ملتی ۔ اس نظام میں غریب کا استحصال تو ہو سکتا ہے۔ غربت دور کرنے کے لئے۔ زكوات کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ غریب کے کندھے پر اپنی سر پرستی اور لطف وہ کرم کی چادر بھی ڈالی جا سکتی ہے۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ جگہ جگہ غریبوں کے لئے پناہ گاہیں اور لنگر کھانے بھی کھولیں جا سکتے ہے۔
    لیکن غریب کو برابر کے انسان کے طور پر Own نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اگر کہیں کوئی غریب برابر کی سطح پر بیٹھا نظر آتا ہے تو دراصل انہی وڈیروں اور سرمایہ داروں کے نوکر کے طور پر ۔
    اس نظام کے آئین میں قرآن وہ سنت کی بلادستی کی بات تو کی جاسكتی ہے اور فیڈرل شریعت کورٹ کا دایرہ بھی واسع کیا جا سکتا ہے لیکن اسلام کے نظام عدل وہ اانصاف کے ان پہلوؤں کی نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی پروگرام دیا جا سکتا ہے جیس سے سرمایہ داری کے عالمی نظام اور اسلامی ملکوں میں اس نظام کے علم برداروں کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔ اس نظام کی گود میں پروان چڑھنے والی سينٹ اور قومی اسمبلی میں مزید ترمیم کو معرض التوا میں ڈالنے کے لئے نئی کمیٹیاں بھی بن سکتی ہیں، لیکن اس ملک کے جاگیرداروں، خانزادوں، وڈیروں اور سرداروں سے ان کے انگریز آقاؤں کی عطا کردہ اجارہ دریاں چھين کر انہيں وطن عزیز کا عام شہری بنانا ممکن ہی نہیں ہے۔
    ہر دور میں ہر نیا بننے والا وزیر اعظم ہو یا صدر بشمول عمران خان اکثر قوم کو آئینوں کے ٹوٹنے کی کہانی سناتے رہتے ہیں اور آئینی اصطلاحات کے حوالے سے بلند وہ بھنگ دعوے کرتے نظر اتے مگر اس فریب خوردہ قوم کو وہ بات کوئی نہیں بتاتا جو قوم کے دل میں ہے یعنی پاکستان کا کا ہر آئين اس لئے ٹوٹا اور ہر سیاسی بحران اسلیے پیدا ہوا کہ شخص واحد نے اپنی کرسی چھوڑ نے یا اپنے اختیارات میں کمی کرنے سے انکار کر دیا۔ 1954 میں اسمبلی اسلیے ٹوٹا تھا جب غلام محمد نے اپنے اختیارات میں کمی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
    اور 1956 کا آئین اسلیے ٹوٹا کہ سکندر مرزا اور دوسرے اس آئین کے تحت انتخابات کے بعد اختیارات اور عہدے سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے ۔ 62 کا آیئن اسلے ختم ہوا کہ حکومت اور اقتدار کے تمام راستے ایک ہی شخص کی طرف جاتے تھے۔ 73 کا متفقہ اور عوامی آیئن انے والے مارشل لاء کو اسلیے نہ روک سکا کہ اس ایئن کے خالق نے اپنے ہی ایئن سے بھی آگے بڑھ کر اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 73 کا آیئن آج اپنی اصلی شکل و صورت میں باقی نہیں رہا۔ پاکستان کا آئین ہمیشہ سے صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات کی وجہ سے ترمیم کی ضد میں رہا۔
    یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف آینوں میں فرد واحد کی ذات میں اختیارات جمع ہو جانے سے ہی صوبائی نفرتوں کو ہوا ملتی رہی وان یونٹ کا تجربہ ناکام رہا اور ملک کو دو لخت کرنے میں ہمارے مظبوط مرکز نے بہت اہم کردار ادا کیا
    اخیر کب تک اسے کمزور نظام کے تحت اس ملک کی مشینری کو چلایا جاے گا ۔
    ضروری ہے اب اس آیین کے اندر اس ترامیم کئے جائے جیس میں غریب کا بھلا ہو اور اس جاگیردارانہ اور سرمایہدارانہ نظام کا خاتمہ ہو۔
    ملک میں عدل وہ انصاف اور قانون کی حکمرانی ہو کسی میں ہمت ہی نہ ہو کہ اپنی ذاتی مفاد کے لئے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا کریں۔
    اس تمام طاقتوں کی حوصلہ شکینی کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔

    @I_MJawed

  • اخلاقیات اور ہمارا معاشرہ تحریر:شعیب خان


    اخلاق کی دولت سے بھرا ہے میرا دامن
    گو پاس میرے درہم ودینار نہیں ہیں

    لفظ اخلاقیات یونانی زبان کے لفظ اخلاق سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کردار اور رواج۔ اسی طرح اخلاقیات سے مراد کسی معاشرے، کسی ادارے کیلٸے اخلاقی اصولوں ،اور اخلاقی اقدار کا نظام موجود ہو

    دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات مسلمانوں کواخلاقِ حسنہ کا درس دیتی ہیں، ضعیفوں کا ادب واحترام، چھوٹوں پر شفقت، علماء کی قدر ومنزلت، غریبوں اور بے کسوں کی دادرسی ، اپنوں کے ساتھ محبت والفت اور جذبہ ایثار وہمدردی کا سبق دیتی ہیں

    نبی کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اخلاق کا اتمام بھی ہے ۔آپ ﷺ کامل اخلاق کی تکمیل کیلٸے اس جہاں میں تشریف لاٸے ۔ آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک ورق آپﷺ کے خُلقِ عظیم کا اجلا نقش ہے۔

    میرے پیارے مسلمانوں بھاٸیوں!! اخلاق کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ معاشرہ مہذب ہو یا غیر مہذت ۔اخلاق دنیا کے ہر معاشرے کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں ،انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل چیز اخلاق ہے مگر بدقسمتی سے ہمارا مسلم معاشرہ میں اخلاقیات ، تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار ہی ناپید ہوچکے ہیں جس کے باعث آپﷺ کے اخلاق حسنہ سے دوری ہے۔ اسوجہ سے ہمارا معاشرہ رسواء اور زوال پذیر ہو رہا ہے اور بد اخیلاقات ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح ختم کررہی ہے

    دین اسلام جس کی اصل پہچان اخلاقیات کا عظیم باب ہے اور جس کی تکمیل کے لئے مُحَمَّد ﷺ مبعوث کیے گئے تھے آج اسی دین اسلام اور آخری نبی کے اخلاق حسنہ کو ماننے والے اخلاقیات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ ہماری عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے، گلی، محلہ ، جگہ جگہ لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و ستم ،بچیوں کے ساتھ زیادتی، فساد، عورتوں پر تشدد ،ماں باپ کی نافرمانی ، کینہ ، جھوٹ ، بہتان تراشی ، غیبت ، قتل و غارت، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیات کے بازار، ہوس کے اڈے ، مے خانے ، جوا ، چوری چکری ، ،زنا کاری، رشوت خوری، سود خوری ،حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی منافقت ،خوشامد، دوغلے پن، حرص، طمع، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی کرنا آخر وہ کون سا اخلاقی بیماری ہے جو ہم سب میں نہیں ۔ خود غرضی اور کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم سب نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی اقسام ہے جو ہمارے معاشرے کے زوروں پر نہیں؟

    تشدد، تعصب، عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہر ہیں جو ہمارے معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ مگر پھر بھی ہم خود پارسا اور مسلمان کہلاتے ہیں ۔۔۔ایسے برے اخلاق و اطوار والی
    عوام کا خود کو مسلمان کہلوانا تو دور کی بات ، ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ ایسے میں دین اسلام ، اللہ ﷻ اور آپ ﷺ کا مبارک بھی اپنی ناپاک زبانوں سے لینے کی جسارت نہ کرو اس لیے کہ تم ان کی بدنامی کا باعث بنتے ہو۔

    گر نہ داری از محمد رنگ و بو
    از زبان خود میسا لا نام او

    قارئين!! معاشرہ اکائی سے بنتا ہے ہر فرد معاشرے کا حصہ ہے۔ ہر فرد خود کو نہیں، معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں ہر فرد سمجھتا ہے کہ ہر برائی اور خرابی دوسرے لوگوں میں ہے ، یہ منفی سوچ معاشرے کو اخلاقیات سے گراتی ہے کیونکہ ہر فرد اپنی ذات سے ہٹ کر دوسرے لوگوں میں خامیاں اور برائیاں دیکھتا ہے۔ ہر فرد اپنیٕ ذمے داریوں سے بھاگتا ہے اور اپنی برائیوں اور خاميوں کا جواز پیدا کرتا ہے ۔

    اللہ ﷻ ہمیں ہدایت دے آمین!

    ‎@aapkashobi

  • ‏فرقہ ورایت کی وجہ  تحریر: صالح ساحل

    ‏فرقہ ورایت کی وجہ تحریر: صالح ساحل

    ہمارے ہاں آپ نے اکثر سنا ہو گا کے اتحاد امت کانفرنس اور فرقہ ورایت سے پاک پاکستان کے نعرے لگائے جاتے ہیں مگر آج ہم کوشش کرتے ہیں کے فرقہ ورایت کی اصل وجہ کیا ہے جس نے مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کر دیا تو میں دین کا ایک ادنی سا طالب ہونے کی حیثیت سے جب اس پر غور کرتا ہوں تو مجھے پتہ چلتا ہے کے فراہ ورایت کی یہ لعنت صرف مسلمانوں کے ہاں نہیں بلکہ اس سے پہلے عیسائیوں اور دیگر مذہب کے درمیان بھی موجود تھی اور میری علمی تحقیق اور سوچ کے مطابق اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے جہالت کیونکہ کے جب کسی معاشرے میں علمی روایت برقرار رہے گی تو وہاں فرقہ واریت جنم نہیں لے گی ان کے ہاں علمی بحثیں ہوں گی علمی اختلاف ہو گا کئی بار یہ اختلاف بڑھ جائے گا مگر یہ شدت پسندی نہیں ہو گی وہ اس اختلاف پر اپنا اپنا نقط نظر بیان کریں گے لیکن اگر آپ کسی معاشرے میں علم کی روایت کو بند کر دیں اور جہاں خدا کی کتاب کو صرف ثواب کی حیثیت سے پڑھا جائے پڑھنے والے کو اس سے غرض نہ ہو کے میرا رب کیا کہہ رہا بلکہ کے وہ صرف مولوی کی بات کو خدا کی بات سمجھ لے تو جب اس سے کوئ اختلاف کرے گا تو علمی جواب نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدت پسندی کا راستہ اختیار کرے گا اگر ہم آج پوری امانت داری کے ساتھ یہ تحریک شروع کر دیں کے ہر آدمی کو سادہ ترجمہ کے ساتھ زندگی میں اللہ کی کتاب قرآن مجید ایک دفعہ سمجھ کر پڑھنی ہے تو بہت سے فرقے خود بخود ختم ہو جائے گے مگر ہم صرف قرآن کو ثواب کی کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں حالانکہ کے جگہ جگہ اللہ یہ کہتا ہے کے یہ ہدایت کی کتاب ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اقبال نے بھی کہا تھا اے مسلمان تم نے جس کتاب کو مردے بخشوانے کے لیے اور جب روح اٹک جائے تو سورہ یسین کی تلاوت کے لیے رکھا ہے اگر تم سمجھ کے زندگی میں پڑھ لے تو تمہارا مردہ وجود اور ضیمر زندہ ہو جائے اس لیے ہم کو چاہیے قرآن سے تعلق کو جوڑئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر اسرار صاحب جب یہ آیات پڑھتے تھے
    Surat No 3 : سورة آل عمران – Ayat No 67 68

    مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾

    ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو یک طرفہ ( خالص ) مسلمان تھے وہ مشرک نہ تھے ۔

    تو کہہ کرتے تھے کے اس آیات کو اپنے اوپر فٹ کر لو کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ شیعہ تھے نہ سنی نہ بریلوی نہ دیوبندی بلکہ کے وہ صرف مسلم تھے
    ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

    ہو تو سبھی کچھ بتاؤ کے مسلمان بھی ہو
    ‎@painandsmile334

  • بے روز گاری تحریر:اعجاز حسین

    بے روز گاری تحریر:اعجاز حسین

    ‏”
    بے روزگاری کو عام طور پر اس صورتحال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب افراد ایک مخصوص عمر سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر رہے اور ملازمت نہیں رکھتے۔
    بے روز گاری ایک عالمی مسٸلہ ہے۔ایشیاٸی ممالک میں بے روزگاری زیادہ ہے۔جس میں پاکستان بھی شامل ہے ۔بے روزگاری ایک سماجی براٸی تصورکی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں۔یہ معاشی زہر ساری سوساٸٹی میں پھیل جاتا ہے۔ اور ملک کی سیاسی صورتحال بھی متاثرہوتی ہے۔
    بیروزگاری قانون کا احترام کرنے والے اچھے شہریوں کو بھی مجرم بنا دیتی ہے ۔اس سے بد عنوانی پھیلتی ہے جھوٹ بڑھتا ہے۔اور انسانی کردار کا تاریک پہلو سامنے آ جاتا ہے ۔بیروزگار آدمی سے سچاٸی، شرافت ، اور امانت داری کی توقع کرنا ناممکن ہے۔
    غربت اور بیروزگاری ریاست کی سب سے بڑی کمزوری اور نااہلی مانی جاتی ہے۔بیروزگاری سے بے اطمینانی اور بے چینی پھیلتی ہے۔بےاطمینانی سےسیاسی بے چینی اور حکومت کی اطاعت سے انحراف کے جذبات ابھرتے ہیں۔سیاسی نفرت سے بغاوت جنم لیتی ہے۔اور پھر بغاوت انقلاب کی صورت نمودار ہوتی ہے۔
    حکومت کیلیے لازم ہے کہ بیروزگاری کے لیے مٶثر اقدامات کرے۔تاکہ لوگ اپنےکاموں میں مصروف رہیں اور معاشرے میں بے چینی نہ پھیلے۔
    ”برطانوی فلاسفر سر ڈبلیو بیورٸج کا تجزیہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ بیروز گار افراد کو زمین پر گڑھےکھودنے پرلگاۓ رکھے اور پھر انھیں پُر کرانے پر مامور رکھے ۔یہ زیادہ مٶثر قدم ہے نہ کہ بیروزگاری کے مہلک اثرات حکومت پر حاوی ہوں۔
    سرکاری محکموں اور پراٸیویٹ اداروں نے اخبارات کے ذریعے آسامیاں پُر کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے مختلف آسامیوں کے لیے امید وار بلاۓ جاتے ہیں۔سرکاری ملازمتوں کیلیے پہلے ہی گٹھ جوڑ کر لیا جاتا ہے۔آسامیوں کی تشہیر ایک عام دفتری کارواٸی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ پراٸیویٹ ادارے مجبوراً امیدواروں کو کم تنخواہ پر رکھ لیتے ہیں۔ جہاں سے انہیں کسی وقت بھی ملازمت سے ہٹا دیا جاتا ہے۔یہ ادارے لیبر قوانین کی پرواہ تک نہیں کرتے۔طویل دورانٸے کے اوقات میں کام لیتے ہیں۔
    اب سرکاری دفتروں میں آسامیاں پُر کرنے کے لیے ”سفارشی“ اور ”رشوتی“ افراد ہی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ بیروزگاری کا مسٸلہ بڑی سنجیدہ صورت اختیار کر چکا ہے۔تعلیم یافتہ ،غیر تعلیم یافتہ،ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد سب متاثر ہیں۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں میٹرک،انٹرمیڈیٹ، اور گریجویٹ افراد ملازمتوں سے محروم ہیں۔دفاتر کے چکر لگاتے ہیں لیکن ملازمت کیلیے کوٸی آسامی دستیاب نہیں ہوتی۔
    دوسرا مرحلہ صنعتی بیروزگاری کا بھی ہے ۔انڈسٹری پر بھاری ٹیکس لگانے سے اب صنعت کاروں نے جدید مشینیں لگا لی ہیں جہاں بہت کم تعداد میں ملازم رکھ کر زیادہ مقدار میں پروڈکشن حاصل کی جاتی ہے ۔آۓ دن ہڑتالوں اور فیکٹریوں کی تالا بندی سے تجارت اور کامرس پر بھی برے اثرات مرتب ہوۓ ہیں۔ ہڑتالوں کیوجہ سیاسی اور لسانی فسادات ہیں ۔سیاسی لیڈر اپنی دکانیں چمکانے کیلیے ناممکن مطالبات کرتے ہیں۔جس سے ملک میں لوٹ مار کے واقعات جنم لیتے ہیں۔ان حالات میں صنعت بہت متاثر ہوٸی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں ۔ملک مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
    ساری دنیا آج کرونا کی وبا سے متاثر ہوٸی ہے وہیں ملازمت پیشہ اور خاص کر مزدور طبقہ بہت متاثر ہوا ہے ۔ملک مزید لاک ڈاٶن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
    نوجوان نسل ڈگریاں لیکر بیکار رہنے کی وجہ سے ذہنی خلفشار کا شکار ہے ۔جس سے معاشرہ بہت سے مساٸل کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔
    بے روزگاری ایک ایسا عفریت ہے جس سے دور جدید کی تمام قومیں پناہ مانگتی ہیں۔ امریکہ کے عوام کی نظر میں آج بھی سب سے خطرناک معاشی بحران بیروزگاری ہی ہے۔
    جب تک دنیا کی حکومتوں نے ملکی معاشی نظام کو اپنی گرفت میں نہیں لیا تھا تب تک بیروزگاری کسی حد تک انفرادی مسٸلہ تھی ۔مگر موجودہ صورت حال میں جب ملک کے تمام وساٸل حکومت کے ماتحت ہیں بیروزگاری اور افراطِ زر دونوں ہی حکومت کی پالیسیوں کے تحت بڑھتے اور گھٹتے ہیں۔گو انفرادی طور پر کسی شخص کے روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت اسکی ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے مگر روزگار کے مواقع معیشت کے پھلنے پھولنے سے ہی پیدا ہوتےہیں۔ جس کا زیادہ تر انحصار حکومت کی صحیح پالیسیوں پر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مناسب تربیت اور تعلیم کے باوجود ہمارے ہاں بیشمار افراد کو روزگار نہیں مل پاتا۔
    کہنے کوتو پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے پر ہم آخر اسکو کس نظر سے فلاحی ریاست کہتے ہیں اور کس بنیاد پر اسکو فلاحی ریاست ہونے کا درجہ دے رہے ہیں۔اسلام کے نام پر اس ملک کو بنایا گیا لیکن آج یہ حالات ہو گٸے ہیں ہر طاقتور اپنے سے کمزور کے حقوق سلب کر رہا ہے اور فراٸض کی پاسداری نہ کرتے ہوۓ ملک کو تباہی کیطرف دھکیل رہا ہے۔آخر اس سب کیوجہ کیا ہے ؟
    ہم لوگ نفسیات کے کس درجے پر آ گٸے ہیں۔اگر ان سب مساٸل کا جاٸزہ لیا جاۓ تو وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے بیروزگاری۔
    آج جسطرف بھی نظر ڈالی جاۓ ہر تیسرا پڑھا لکھا شخص روزگار کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ اس دوران بہت بار اسکا واسطہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی چیزوں سے پڑتا ہے۔ہر ایک اس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے اور اگر کوٸی کچلا جاۓ تو کسی کے پاس دوسرے کو اٹھانے کی فرصت نہیں ہے۔اورحالات کو بہتر کرنے کیلیے حکومتی سطح پر بھی کوٸی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔روزگار نہ ملنے پر سب سے زیادہ نقصان ان نوجوانوں کا ہوتا ہے جنہوں نے اعلیٰ یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہوتی ہے اور اپنی تعلیم پر انھوں نے لاکھوں روپے صَرف کیے ہوتے ہیں اور جب اتنی تعلیم حاصل کرنے اور میرٹ پر آنے کے باوجود بھی وہ ملازمت نہیں حاصل کر پاتے تو وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    حکومت کو نجی تعاون سے روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ہمارے سیاستدان جلسوں میں تو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں روزگار دینے کے۔لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سب بھول جاتے ہیں۔اگر وہ غریب لوگوں پر تھوڑی سی توجہ دیں اور انکو بھی روزگار فراہم کیا جاۓ تو یہ لوگ برے اور غیر قانونی کاموں میں پڑنے کی بجاۓ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرینگے۔
    ہماری نوجوان نسل بیروزگاری کیوجہ سے تباہ ہو رہی ہے انکی صلاحیتوں کو ایسے حالات میں زنگ لگنا لازم ہے جب ان کے پاس اپنی صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے مواقع نہیں ہیں۔

    @Ra_jo5

  • ‏منشیات کا استعمال اور نوجوان نسل.  تحریر شاہ زیب احمد

    ‏منشیات کا استعمال اور نوجوان نسل. تحریر شاہ زیب احمد

    نشے کو اگر عام الفاظ میں بیان کرے تو نشے سے مراد ایسے اشیاء یا اجزاء کا استعمال کرنا ہے جس سے انسان کی وقتی طور پر ذہنی و جسمانی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے، اور آہستہ آہستہ وہی نشہ انسان کی ضرورت بن جاتی ہیں

    آج اکیسویں صدی میں جہاں ہر طرف مقابلے، نت نئے تجربات اور ایجادات کے طرف لوگ مائل ہے اور کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اسی طرح ہمارے پاکستان کے نوجوان نسل میں نشے کی عادت تیزی سے پھیل رہی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریبا 80 لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں جس میں ہر سال ہزاروں افراد کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ شاید ہمیں اس صورت میں مل رہا کہ ہماری نئی نسل روز مرہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ صحت مند ایکٹیویٹیز سے دور ہوتی جا رہی ہے، 2021 کے اولیمپک مقابلے ہمارے سامنے ہے جہاں ہمارے کتنے نوجوانوں نے حصہ لیا؟ اور کتنے نوجوان کامیاب ہو کے واپس لوٹ آئے ؟ یقیناً یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، جو پاکستان کو اپنے لپیٹ میں لے رہا ہے اور اسکا روک تھام نہایت ضروری ہیں، اس حالت کی سب سے اہم وجہ شاید یہی ہے کہ آج کے والدین اپنے بچوں کے سرگرمیوں سے واقف نہیں ، بچے اسکول، کالج یونیورسٹی میں کیا کر رہے انکے دوست کون ہے وہ کون سے ایکٹیویٹیز میں حصہ لے رہے ہیں، کہاں جا رہے کہاں سے آرہے وغیرہ وغیرہ.
    آج پاکستان کے نوجوان بطور فیشن سیگریٹ اور دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جو رفتہ رفتہ یہی فیشن یہی شوق انکی عادت اور ضرورت بن جاتی ہے اور مکمل طور پر نشے کا عادی بنا دیتی ہیں.
    نشہ شروع کرنے کے بہت سارے وجوہات ہیں لیکن یہاں وجوہات سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کس طرح نوجوان نسل کو نشے کے لت سے بچایا جائے اور انہیں دیگر سرگرمیوں میں مصروف کیا جائے،
    نشے سے نجات اور بچاؤ کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ آگاہی پھیلاؤ مہم زیادہ سے زیادہ کئے جائے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پہ اس مہم کو پروموٹ کیا جائے، جیسے پولیو پہ زور دیا گیا اور آج پاکستان پولیو فری زون کے طرف جا رہا اسی طرح نشے سے متاثر افراد کیساتھ ساتھ نشہ آور اجزاء کے ڈیلرز کے خلاف آپریشن وقت کی اہم ضرورت ہے ، آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ والدین جان سکیں کہ جیسے ہی بچے کے عادات تبدیل ہو رہی اس پہ زیادہ توجہ دینا شروع کریں، علامات کے بارے میں مکمل جان کاری ہو جیسے نشے کے عادی افراد،
    * زیادہ تر گھر سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں،
    * رات کو دیر سے گھر آنا معمول بن جاتا ہے،
    * گھر والوں کیساتھ بیٹھنے اور زیادہ بات کرنے سے گریز کرتے ہیں،
    * معمولی باتوں پر غصہ آتا ہے،
    * وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، بھوک نہیں لگتی، رنگ بدل جاتا ہے،
    * اپنے صفائی پہ زیادہ دیہان نہیں دیتے،
    * اسکول / آفس سے غیر حاضریاں شروع ہو جاتی ہیں،
    * جسم سے بدبو آتی ہے
    * چوری کی لت پڑھ جاتی ہیں وغیرہ،

    یہ چند اہم علامات ہیں یعنی جس سے ہم نشہ کرنے والے کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اسکا علاج معالجہ شروع کر سکتے ہیں.

    نشے کا علاج عام بیماریوں سے مختلف ہیں، یہاں میڈیسن سے زیادہ کاؤنسلینگ زیادہ ضروری ہے جس کے لئے سائیکالوجسٹ اور سائیکاٹرسٹ کی خدمات لی جاتی ہیں، اور ترتیب وار علاج کیا جاتا ہے،

    * جہاں سب سے پہلے علاج کے لئے ترغیب دی جاتی ہیں، مریض اور گھر والوں دونوں کو علاج کے لئے امادہ کیا جاتا ہے اسکے لئے مختلف ادارے کام کر رہے جہاں سے یہ میسج نکلتا ہے کہ نشے کے مریض مجرم نہیں پیار و شفقت کے مستحق ہے تاکہ وہ زندگی کے طرف لوٹ کے آئے،
    * مریض کو نشے کے اثرات سے پاک کرنا ، نشے سے نجات کے علاج میں یہ دوسرہ عمل ہے یعنی ڈیٹکسی فیکیشن کرنا، اس عمل میں مریض کو کافی تکلیف ہوتی ہے نشہ چھوڑنے کی وجہ سے مختلف علامات سامنے آجاتے ہیں جس میں جسم میں شدید قسم کا درد محسوس ہونا ، جمائیاں آنا، بے خوابی ، آنکھوں اور ناک سے پانی بہنا ، چڑچڑا پن ، سخت بے چینی اور اضطراب کی کیفیت وغیرہ ۔ Detoxification کے طریقہ کا ر میں ان تمام اذیت ناک اثرات کو کم سے کم کرتے ہوئے مریض کا نشہ چھڑوایا جاتا ہے۔ مریض کو دس پندرہ دن اور کبھی کبھی اِس سے زیادہ بھی Detoxification کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ یہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ جہاں ایک ماہر سائیکاٹرسٹ کے ساتھ میڈیکل ڈاکٹرز کی بھی خدمات لی جاتی ہے،
    * نفسیاتی علاج، مریض کا دوائیوں کے ساتھ نفسیاتی علاج بھی ہونا ضروری ہوتا ہے جہاں اسے زندگی کے طرف واپس آنے کی ترغیب دی جاتی ہیں، مریض کو یہ یقین کروایا جاتا ہے کہ نشہ زندگی کے مشکلات اور مسائل بڑھانے کا نام ہے، اسے ہمت دی جاتی ہے کہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کے اندر سوئے ہوئے اچھے اور ذمہ دارانسان کو جگایا جاتا ہے۔
    * دوبارہ نشہ شروع کرنے کی روک تھام : علاج کے بعد مریض کو دوبارہ نشہ کی طرف لوٹ جانے سے روکنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ اِس کے لئے مریض کی مسلسل نگرانی اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاج کے بعد مریض کو دوبارہ ان دوستوں کے پاس ہر گزنہیں جانے دینا چاہئے جہاں سے اسے یہ مرض لاحق ہوا تھا، وہاں سے دوبارہ نشے میں مبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اس سارے عمل میں گھر والوں کا رویہ نہایت مناسب اور پیار بھرا ہونا چاہئے.

    * مریض کی بحالی یعنی (Rehabilitation): مریض کی بحالی بھی علاج ہی کا اہم حصہ ہے ۔ بحالی کا مطلب یہ ہے کہ علاج کے بعد صحت یاب مریض کو معاشرے کا اہم فرد بنانا ، مریض کے عزت و وقار کو مجروح نہ کرنا ، معاشرے میں ایک مقام دینا ، اسے وہی زندگی دینا جیسے وہ نشے سے پہلے تھا/تھی ، اگر مریض ملازم تھا تو صحت یابی کے بعد ملازمت دوبارہ دینا، سکول کالج میں تھا تو واپس داخل کرنا غرضیکہ اس کو وہ تمام سہولیات دینا جو ایک عام فرد کو دی جاتی ہے، اور یہ ہم سب کی ، پورے معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے،

    اس تحریر کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں میں شعور اجاگر کر سکیں جس طرح ہم شوگر ، بلڈ پریشر اور دیگر تمام بیماریوں کا علاج کرتے ہیں اسی طرح نشہ بھی ایک بیماری ہے اور قابل علاج ہے ہمیں مریض سے نہیں بلکہ اسکے مرض سے نفرت کرنی چاہئے ، اگر بطور مسلمان اور بطور انسانیت ہم اپنا فرض ادا کریں نشے کے مریضوں سے نفرت کے بجائے محبت سے پیش آئے ، انکا سہارہ بنے تو یقیناً کئی خاندانوں کے بجھے ہوئے چراغ ہم روشن کر سکتے ہیں اور اپنے ملک و قوم کو نشے کے لت سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں.
    نشے کا علاج، کل نہیں آج.

    تحریر شاہ زیب احمد
    Twitter ‎@Zebi_afridi

  • بحثیت قوم ہم جانور ہیں تحریر:ماہم بلوچ

    لفظ جانور انسان کے لئے استعمال کرو تو غصے میں آ جاتا ہے جبکہ جانتا ہے جانور کیا ہوتا ہے وه جس کو نا تو کوئی شعور ہوتا ہے نا ہی اس کے کوئی اصول و ضوابط ہوتے ہیں،سارا دن کھا پی کر گزار دیتا ہے اور اس کے سامنے درندہ ایک جانور کو کھا رہا ہوتا ہے تو بجاۓ مدد کے اپنی جان بچا کر بھاگ جاتا ہے۔
    کیا بطور مجموئی ہم جانور نہیں ہیں؟؟سارا دن کھا پی کر سو جاتے ہیں نا یہ پتا کہ جو کھایا حلال بھی تھا نا ہی صفائی کا پتا گھر کا کچرا گلی میں پھینک کر سمجھتے ہیں کہ گھر صاف کر لیا۔۔جانور بھی جس جگہ بیٹھا ہوتا ہے وہی صاف کرتا ہے۔۔۔
    کیا ہم جانوروں کے جیسے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے ایک دوسرے کو مرنے مارنے تک نہیں آ جاتے؟؟جنگلوں میں جب خوراک کم ہو تو ایک ہی قبیلے کے جانور ایک دوسرے کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔
    جانوروں کی بستی میں کوئی اصول نہیں ہوتے کوئی قانون نہیں ہوتا صرف طاقتور کی حکمرانی چلتی ہے۔۔۔کیا ہمارے معاشرے میں کوئی قانون ہے؟؟کیا امیر غریب قانون کی نظر میں کامیاب ہیں؟؟؟
    جنگلوں میں کوئی تعلیمی شعور نہیں ہوتا بس کھانا پینا اور سونا ہوتا ہے۔۔۔کیا ہمارے ملک میں اکثریتی آبادی کا حال نہیں؟؟؟
    جانوروں کی بستی میں درندہ بنا دیکھے کے شکار کتنا کمزور ہے اسکی کھال تک اتار دیتا ہے۔۔۔کیا ہماری بستی میں ڈاکٹر یہ فریضہ سر انجام نہیں دے رہے؟؟؟
    جنگلوں میں صبر برداشت اور رواداری نہیں ہوتی صرف کھینچا تانی ہوتی ہے سارا دن۔۔۔کیا ہمارے نام نہاد کچھ شوز میں ہماری پڑھی لکھی قوم ایسا نہیں کرتی؟؟؟
    جانوروں میں تہذیب تمدن نہیں ہوتا انکا کوئی لباس نہیں ہوتا وه ایسے ہی گھومتے ہیں سارا دن۔۔۔کیا آج کل ہماری کچھ لبرلز آنٹیاں یہی سب ہمارے ملک میں کرنا نہیں چاہتی؟؟؟
    جنگلوں میں جب کسی ایک جانور کے ساتھ درندگی ہو رہی ہوتی تو باقی جانور یا تو دور سے چپ چاپ دیکھتے ہیں یا پھر اپنی جان بچا کر بھاگ جاتے ہیں۔۔کیا ہمارے معاشرے میں بچوں اور زیادتی کے بڑھتے واقعات پر ہماری قوم کا یہی رویہ نہیں ہے؟؟
    ان سب چیزوں کا یہاں موازنہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سمجھیں ہم اشرف المخلوقات ہیں،ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے،ہم نے یہ ملک لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ‎ کے نام پر بنایا ہے
    خدارا جاگیں اور معاشرے کو تباہی سے بچائیں اور اس ملک کو وہی ریاست بنائیں جس کا خواب اقبال نے دیکھا اور قائد نے جدوجہد کی۔۔
    خدارا بدلیں خود کو🙏

  • عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟  تحریر:  سیرت فاطمہ

    عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟ تحریر: سیرت فاطمہ

    اسلام نے عورتوں کو حصولِ تعلیم سے لے کر پسند کی شادی تک ہر حق سے نوازہ ہے۔ عورت جب چھوٹی ہوتی ہے تو اُسے باپ کی صورت میں ایک محافظ اور ماں کی صورت میں ایک مخلص سہیلی ملتی ہے جن کی اولاد ہونے کے ناطے وہ اولاد کے حقوق کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ جب تک باپ کے گھر میں رہتی ہے باپ اور بھائی اپنے فرائض نبھاتے ہیں۔ جب عورت بیاہ دی جاتی ہے تو وہی ذمہ داریاں شوہر کے کندھوں پر آجاتی ہیں اب شوہر کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کرے۔ جب عورت ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے تو پاؤں تلے جنت رکھ دی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مالی طور پر اتنا مستحکم کیا کہ شوہر کو حق مہر اور نان و نفقہ کا پابند بنا دیا ساتھ ہی عورت کو والدین اور شوہر کی جائیداد میں حصہ دار بھی بنا دیا گیا۔ غرض اسلام تو وہ مذہب ہے جس نے عورت کو نا صرف جینے کا حق دیا بلکہ ایک شہزادی بنا کر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی صورت میں اتنے محافظ بھی عطاء کر دیے۔
    اور یہ تمام حقوق عورتوں کو پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے۔ مگر اُسی کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ آج بھی بہت سی جگہوں پر خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہیں جنکی وہ حقدار ہیں۔ اور اُن خواتین کو اُن کے حقوق ملنے چاہیے۔
    سوشل میڈیا سے لے کر زمینی حقائق تک یہ سوال مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے کہ کیا عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ اُن عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں واقعی حقوق نہیں ملتے؟
    اور اکثریتِ رائے کے ساتھ اِس کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا کہ۔۔۔ نہیں!
    عورت مارچ بہت سالوں سے منعقد ہو رہا ہے مگر ہر بار وہاں متنازع بینرز، متنازع نعروں اور ڈانس کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ عورت مارچ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مارچ بیرون ملک سے لی گئی فنڈنگز پر چلتی ہے اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کے مشن پر گامزن ہے ایسا تب کہا گیا جب سوشل میڈیا پر عورت آزادی مارچ کی ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں کچھ لوگ ہم جنس پرستی کو کھلم کھلا سپورٹ کرتے پائے گئے۔ اِس کے علاوہ ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں اخلاقی دائرے سے یکسر باہر نکل کر نعرے بازی کی گئی مثلاً چیخ چیخ کر "والد سے لیں گے آزادی” جیسے نعرے لگائے گئے۔ "میرا جسم میری مرضی” اور اِس جیسے دوسرے متنازع بینرز تو خیر ہمیشہ سے ہی عورت آزادی مارچ کی ذینت ہیں اور اِس موضوع پر میڈیا میں آواز بھی بلند ہوتی رہی ہے۔
    عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ عورت مارچ میں کبھی وزیرستان، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور اندونِ سندھ جیسے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل کی نا تو کبھی بات ہوئی اور نا نشاندھی۔ وہ مزدور خواتین جن کی دیہاڑی اتنی بھی نہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں، وہ خواتین جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر مختلف معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہیں، وہ خواتیں جنہیں فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، وہ خواتین جن پر واقعی ظلم ہوتا ہے اور وراثت کے حصے سے محروم رکھا جاتا ہے اُن کے حقوق کے لیے آواز تو عورت آزادی مارچ میں کہیں دور دور تک سنائی نہیں دیتی۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب عورت آزادی مارچ میں پاکستانی عورتوں کے مسائل پر بات نہیں ہوتی، وہاں آنے والوں کا لباس، گفتگو، نعرے اور بینرز بھی اسلام اور پاکستانی ثقافت سے کوسوں دور ہوتے ہیں تو یہ مارچ بھلا کس طرح پاکستانی خواتین کی نمائندگی کر سکتی ہے؟
    کیا پاکستانی خواتین والد سے آزادی مانگ رہیں ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین مغربی لباس پہنے کی آزادی مانگ رہی ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین کو گھریلو کام کاج سے مسئلہ ہے؟
    کیا عوت آزادی مارچ نے اُن خواتین کو اُنکے حقوق دلوانے میں کوئی کردار ادا کیا جنہیں واقعی حقوق کی ضرورت ہے؟
    کیا مسائل کا حل مردوں کو برا بھلا کہنے سے ممکن ہے؟
    ان تمام سوالات کا ہمیشہ "نہیں” میں رہا۔
    عورت آزادی مارچ میں آنے والی خواتین کے پاس تو ہر حق، ہر آسائش اور ہر آزادی موجود ہے جن کے پاس کھلم کھلا ڈانس کرنے کی آزادی ہے، جینر اور سلیو لیس شرٹس پہن کر گھومنے کی آزادی ہے، چیخ چیخ کر متنازع نعرے لگانے کی آزادی ہے، ڈیفینس، اسلام آباد، کلفٹن، لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے اُنھیں مذید کس چیز کی آزادی چاہیے؟
    جس آزادی کی بات عورت آزادی مارچ میں کی جاتی ہے ایسی آزادی مغربی معاشرے کی زینت ہے۔ اسلامی و پاکستانی معاشرہ بلکل الگ طرز پر قائم ہے یہاں عورت خود کو اپنے خاندان کی عزت سمجھتی ہے۔ باپ، بھائی، شوہر، بیٹے اُس کا فخر ہوتے ہیں۔ عام پاکستانی خواتین تو عورت مارچ میں پیش کردہ لبرل خیالات رکھتی بھی نہیں۔
    اگر واقعی پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرنی ہو تو اُن کے حقوق کی بات ہونی چاہیے، جن معاشی مسائل کا خواتین کو سامنا ہے اُن مسائل کی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے، خواتین کو اُن کے حقوق کی اگاہی ملنی چاہیے، ڈومیسٹک وائلنس اور زیادتی کے خلاف مضبوط قوانین اور اُن کی بالادستی کا مطالبہ ہونا چاہیے، خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر زور دیا جانا چاہیے، خواتین کے لیے فلاحی ادارے اور صحت کے مراکز بنانے چاہیے۔
    یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشروں میں فرق ہوتا ہے۔ اسلامی یا پاکستانی معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی حدود و دائرہ کار میں رہ کر ممکن ہے کیونکہ ایسے حل کو لوگ قبول اور سپورٹ بھی کرتے ہیں مگر اگر ایک مسلم معاشرے میں موجود مسائل کا حل مغربی معاشرے کے طرز پر نکالنے کی کوشش کی جائے تو حل تو دور کی بات ہے اُلٹا لوگ مخالفت کرتے ہیں اور یوں نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔

    تحریر سیرت فاطمہ
    @FatimaSPak

  • اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ہم ایک ایسے معاشرے میں پلے بڑھے کے آجکل کے جو نئے مسلمان متعارف کروائے جارہے ہمیں لگتا جیسے ہم تو اسلام ہی نہیں جب کے حیرت کی بات یہ ہے کبھی کبھی مجھے خود پر شک ہونے لگتا کے کیا میں ایک سچا مسلمان ہوں جب جب ان نئے متعارف ہونے والے مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو اپنی پانچ وقت کی ادا کی گئی نمازوں پر شک ہونے لگتا کہ کیا میں نے جو نمازیں پڑھی میں نے ادا کی وہ غلط تھیں یا صحیح ۔
    ہمارے ماں باپ نے ہماری تربیت کچھ ایسے انداز میں کی کہ ہمیں اللہ کے بعد اپنے ماں باپ کا پھر انکے بعد اپنے مسلمان بھائی کا پھر اپنے ملک کا درد محسوس کرنا سیکھایا ۔
    یہ ہمارا کلچر کہیں یا ہمارا رہن سہن کہیں ہم تو بھئی اسی میں خوش رہنے والی قوم ہیں ۔
    ماں باپ سے سیکھا کے عورت کے ساتھ حس سلوک سے رہنا چاہیے ماں ہے تو احترام کی ہر حدیں پار کردو بیوی ہے تو "عزت ‘ محبت ” میں کوئی نہیں رہنی چاہیے اور بہن ہے تو اسکی حفاظت میں چاہیے جان بھی گنوانا پڑے تو ایک پل میں سوچے سمجھے بغیر گنوا دو ۔
    یہ سب ہمارے کلچر ہماری تہذیب اور ہماری روایات میں شامل کردیا جاتا ہے ۔
    یہ جو نیا اسلام ہمیں اور ہمارے معاشرے کو سیکھانے کی کوشش کی جا رہی وہ اسلام نہیں اسے ہم لبرلزم کہیں گے تو برا نہ ہوگا ۔عورت کو معاشرے میں کونسے ایسے حقوق دلوانے کے لئے یہ خواتین سڑکوں پر اپنے جسموں کی نمائش کرتے ہوئے یہ کہتی پھرتی کہ "میرا جسم میری مرضی” نظریں تیری گندی پردہ میں کروں ” لو بیٹھ گئی ” لو بتاو کہاں بیٹھ گئیں یہ محترمہ ؟ اور جب تنگ لباس پہنے دوپٹے بنا چھوٹی شرٹیں پہنے یہ سب نعرے لگاو گی تو ہر دیکھنے والے نے تم سب کو دیکھنا بھی ہے اور باتیں بھی کرنی ہے ۔اسلام ایسا تو نہیں اسلام میں عورت کا مقام ہی بہت اونچا ہے
    اللہ "سورہ نور ” کی آیت نمبر 31 مین اللہ تعالی فرماتا ہے ” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں کو کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ۔سوائے اس کے جو ظاہر ہے ۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں "۔
    جب اللہ نے یہ فرمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تو یہ سب کون ہیں جو ہمارے اسلام کو غلط رنگ میں ڈھال رہے ۔
    ہم ایسے معاشرے میں بڑھے اور جوان ہوئے اور آنے والی اپنی نسلوں کو بھی یہی نصیحت کریں گے کے اپنی بیوی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا اگر وہ کام کرکے تھک جائے تو میں کام کرلوں تو اس سے کیا میں اپنی بیوی کا نوکر ہوگیا؟ نہیں اس رشتے کو پیار احساس اور عزت کا نام دیتے ہیں ۔
    یہ ہے میرا اسلام میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت اور ہم ان کی سنت پر عمل کرکے چلتے ہیں ۔اسلام میں عورت کا مقام اللہ نے بہت اونچا رکھا ۔ یہ لوگ خالی اپنی آزادی چاہتیں ہیں اور ان جیسی عورتوں کا ٹھکانہ جہنم ہے

    تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ‎@Aahadpirzada

  • ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہر وہ چیز جو انسان کی طلب سے بڑھ جاے اور اچھائی اور برائی کا فرق ختم کر ڈالے ہوس کہلاتی ہے. خواہ دولت کی ہو، شہرت کی ہو، عزت کی یا سٹیٹس کی.
    اللہ کریم نے خود بھی قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱)حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲)
    ترجمہ: زیادہ مال زخیرہ کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا ۔ یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔
    اس سے علم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص، اور فخر کا اظہار کرنا مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی اُخروی سعادتوں سے محروم کو کر رہ جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ الحدید کی آیت نمبر 20 میں ارشاد فرماتا ہے.
    ترجمۂ : جان لو کہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل کود، زینت اور آپس میں فخر اور غرور کرنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر برتری چاہنا ہے ۔ دنیا کی زندگی بلکل ایسے ہی ہے جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہوا سبزہ کسانوں کواچھا لگے پھر وہ سبزہ سوکھ جاتے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا (جیسے بے کار) ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللّٰہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا( بھی ہے ) اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کاسامان ہے۔
    اور قرآن کریم لیں ارشاد فرمایا
    ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ سورۃ منافقون کی آیت نمبر 9 میں ارشاد فرمایا.
    ترجمۂ : اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللّٰہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
    اور پھر سورۃ التغابن کی آہت نمبر ۱۴-۱۶ میں ارشاد فرمایا

    ترجمۂ : اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کر دو اور بخش دو تو بیشک اللّٰہ بڑا بخشنے والا، بہت مہربان ہے ۔تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک (تمہارے لیے) آزمائش ہی ہیں اور اللّٰہ کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تو جہاں تک تم سے ہوسکے اللّٰہ سے ڈرو اور سنو اور حکم مانو اور راہِ خدا میں خرچ کرو یہ تمہاری جانوں کے لیے بہتر ہوگا اور جسے اس کے نفس کے لالچی پن سے بچا لیا گیا تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔
    احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو مزید واضح کر دیا گیا.
    حضرت مُطْرَف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا،اس وقت آپ سورہ التَّكَاثُرُ‘‘ کی تلاوت فرما رہے تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: ’’ابنِ آدم کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال،اے ابنِ آدم:تیرا مال وہی ہے جو تو نے کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔
    ایک اور روایت جو حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، اس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بندہ کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال، ا س کے لئے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں ایک جو ا س نے کھا کر فنا کر دیا۔دوسری جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا۔تیسری جو کسی کو دے کر(آخرت کے لئے) ذخیرہ کر لیا۔اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے

    مزید حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم !مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی،پھر تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور یہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کر دیا۔
    مزید حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے، سرکارِ دو عالَم محمدمصطفیٰ رہبردوجہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مال و اَسباب کی کثرت سے مالداری نہیں ہوتی بلکہ اصل مالداری تو دل کا غنی ہونا ہے، خدا کی قسم!مجھے تمہارے بارے میں محتاجی کا خوف نہیں ہے لیکن مجھے تمہارے بارے اس بات کا خوف ہے کہ تم کثرت ِمال کی ہوس میں مبتلا ہو جاؤ گے

    ایک روایت حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں وہ ان بکریوں کو اس سے زیادہ خراب نہیں کرتے جتنا مال اور عزت کی حرص انسان کے دین کو خراب کر دیتی ہے۔
    ان ارشادات و فرامین سے بھرپور آگہی ملتی ہے کہ اپنی طلب کو کنٹرول کرنا کتنا ضروری ہے۔
    نفس اور شیطان کے خلاف علم جہاد بلند کیجئیے۔ زندگی کے اصل مقصد کو سمجھئے. ہوس سے بچییے اور اللاہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں حتی الامکان کوشش کریں کی شیطان کی چالوں سے اپنے نفس کی حفاظت کی جاے اور اپنی طلب کو طلب کے درجے سے بڑھنے سے بچایا جائے
    تا کہ جب رب العالمین کی رحمت اپنے بندے کو پکارے تو بندے کو اس کی پکار سنائی دے۔ جب رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی صدا بلند ہو تو بندے کا نفس اسے سن کر اپنا قبلہ درست کر سکے۔ اپنے آپ کو رحمان کے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر قائم رکھنے اور اپنے اندر کے منصف کو زندہ رکھنے کے لیے
    نفس کے خلاف جہاد اتنا ہی ضروری ہے جتنا شیطان کے خلاف ضروری ہے۔ یاد رکھیں جس طرح شیطان سے جہاد، رحمن کا راستہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے اسی طرح نفس سے جہاد، رحمن کے راستے پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے محفوظ رہیں ہر طلب کو ہوس میں بدلنے سے۔ فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH