Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    **

    عورت رب العزت کی سب سے پیاری مخلوق ہے اور ایک مومن عورت تو بالکل انمول موتی کی مانند ہے۔ اس میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت سی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اسلام نے عورت کو اگر پردے کا حکم دیا ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے جیسے ہم اپنی سب سے خوبصورت چیز کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی اور اسے دیکھ نا سکے اور وہ ہمیشہ محفوظ رہے تو ٹھیک اسی طرح عورت کو بھی اللّٰہ نے پردے کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ وہ محفوظ رہے۔

    ایسے ہی مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ خود کو انمول سمجھتے ہوئے اللّٰہ کے ہر حکم کی تعمیل کرے اور اللّٰہ کی بتائی ہوئی حدود کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرے۔

    اگر تاریخ دیکھی جائے تو اس بات کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام سے قبل عورت ذات کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جاتا تھا۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں پیدا ہوتی تو باعثِ ذلت اور باعثِ شرمندگی سمجھ کر انھیں زندہ درگور کردیا جاتا۔ انھیں گھروں سے باہر نکلیں تک کی آزادی نا تھی۔ یہاں تک کہ عورت ذات کی عصمت تک محفوظ نہیں تھی۔

    پھر ایسے میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ہوئی جو پوری کائنات کے لیے رحمت العالمین بن کر آئے۔ آپ کی آمد سے عورتوں کو ان کے حقوق ملے۔ یہ اللہ کا دین ہی تو ہے جس نے عورت کو ہر روپ میں الگ مقام اور حیثیت دی ہے۔

    اگر عورت ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ اگر عورت بیوی ہے تو شوہر کی وفادار ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے”۔ عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔ فرمایا گیا: "جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سیکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے”.

    بےشک اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا اور اسے عورت ہونے کا اصل مقام اور عزت بخشی۔ اللّٰہ پاک نے قرآن پاک میں عورتوں کے وہ تمام حقوق بیان کیے ہیں جو کسی بھی اور مذہب میں نہیں ملتے اور نہ ہی ان مذاہب کی کسی کتاب میں ملتے ہیں۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن پاک میں بھی مردوں کی نسبت عورتوں کا ذکر زیادہ بار آیا ہے۔

    اسی طرح اسلام نے عورت کو بےشمار حقوق سے بھی نوازا ہے۔ شوہر کے انتخاب سے لے کر آزادی رائے تک کے تمام حقوق عورت کو حاصل ہیں وہ جب چاہے اپنے ان تمام حقوق کو استعمال کرسکتی ہے۔ جہاں اسلام نے اتنے حقوق دیے ہیں وہاں عورتوں کے لیے کچھ حدیں بھی مقرر کی ہیں جس کا مقصد صرف عورت کی حفاظت ہے۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سے قبل کسی عورت کو ایسے کوئی حقوق حاصل نہیں تھے یا یوں کہوں کے حقوق جیسے لفظ تک سے کوئی بھی عورت واقف نہیں تھی کیونکہ اس وقت یہ لفظ ان کے لیے شاید بنا ہی نہیں تھا۔ مگر اسلام نے عورت کو یہ تمام حقوق دیے۔ لیکن افسوس سے یہ بات کہنی پڑے گی کہ ان تمام حقوق کے بعد بھی آج کے دور میں مسلمان عورت پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرف چل پڑی ہے۔ وہ اپنا وہ مقام جو اسلام نے اسے دیا ہے اپنے ہاتھوں سے خود ہی ختم کرنے کی کوششوں میں لگی ہے اور مغربی ممالک کی پیروی کررہی ہے۔

    آج کے دور میں جب کچھ عورتیں آزادی کے نام پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتی ہیں تو بہت افسوس ہوتا۔ بھئ کون سا جسم؟ کون سی مرضی؟ یہ جسم بھی تو اللّٰہ کی دی ہوئی امانت ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو کچھ بھی ممکن نہیں۔ اگر اس ذات کی مرضی نہ ہوتو ہم اپنے جسم کے کسی ایک حصّے کو اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں سکتے۔ ایسی عورتوں کو جو خود عورت ذات کو تماشا بنا رہی ہیں پکڑ کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللّٰہ کی بنائ ہوئ حدیں صرف ہماری حفاظت کے لیے ہیں اگر اللّٰہ نے مرد کو ایک درجہ بلند دیا ہے تو اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے اور عورت کو چاہیے کہ مردوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ چلیں۔ تاکہ ایک پرامن معاشرہ وجود میں آئے۔

    @SeharSulehri

  • ‏افسوس حالات کیسے بدل گئے . تحریر : شمیم احمد

    ‏افسوس حالات کیسے بدل گئے . تحریر : شمیم احمد

    پہلے مسلم لڑکیوں کی طرف ہندو نوجوانوں کو آنکھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی یہ ڈر ہوتا تھا کہ کہیں پیٹ نہ دیے جائیں یا بے عزت و رسوا نہ کردیے جائیں جس کی وجہ سے وہ اپنے ناجائز مقصد میں کامیاب نہیں ہوپاتے تھے. اب تو بے چارے مسلمان بھی بزدلی کا لبادہ ڈالے رہتے ہیں جس گھر میں واقعہ پیش آتا ہے وہ اسی گھر کا سمجھتے ہوے اپنے گھر کو محفوظ ومامون سمجھتے ہیں. ویسے بھی شہر میں بڑی بڑی باتیں چھپ جایا کرتی ہیں.

    اب ہندو نوجوان نہ صرف نڈر ہوگئے ہیں بلکہ پری پلاننگ سپورٹ بھی انہیں حاصل ہوتا ہے. شروع میں میٹھیں باتیں کرکے نام بدل کے لالچ دیکر مدد کرکے ہمدردی کا اظہار کرکے مسلم لڑکیوں کو لبھانے کی کوشش کرتے ہیں. پھر محبت کا ڈھونگ رچاکر شادی کے لئے راضی کرتے ہیں اور ایک ساتھ جینے مرنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں حالانکہ دل میں پہلے سے کھوٹ رہتا ہے. ہماری معصوم بہنیں بھی پہلے جیسی باحیا نہ رہیں بے دینی کا مظاہرہ کرتی ہوئیں ساری حدیں پار کرجاتی ہیں. وہ لڑکیاں جو ماں باپ کا نہیں ہوسکتیں جسنے پال کر پڑھاکر بڑا کیا وہ دین دھرم کا خاک ہونگی.
    اللہ ایسی بہینیں کسی کو نہ دے.

    باپ بھائ بھی پہلے جیسے غیرت مند نہیں رہے. اب تو باپ بھائ کی موجودگی میں غیرمسلموں سے شادیاں ہورہی ہیں اور خوب سیلفیاں لي جارہی ہیں کیوں کہ لڑکا مالدار ہے اور روزگار ہے بھلے چمار جواری شرابی گوال ہو.
    اللہ ایسے باپ بھائ کو غارت کرے

    جہاں تک ماں اور بہن کی بات ہے انہیں شروع ہی میں معلوم ہونے کے باوجود باپ بھائ کو نہیں بتاتی ہیں بلکہ دامے درمے سخنے مدد بھی کرتی ہیں.
    اللہ ایسی ماؤں سے بچائے. آمین

    چار چیزیں ذمدار ہیں

    1. مخلوط تعلیم،جیسے کالیج یونیورسٹیاں جو کہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے. اسلئے جو گرلس کالیج ہو اور قریب ہو وہیں اپنی لڑکیوں کو بھیجیں تاکہ دیر بدیر ملتے رہیں. ہائ ایجوکیشن کے لیے لڑکیوں کے انگیجمینٹ کرانے کے بعد ہی ایڈمیشن کرائیں. مخلوط رہن سہن، جیسے ہندوانہ محلے میں رہنا یا پڑوسی ہندو ہونا یا بھائ چارگی کچھ زیادہ ہی ہونا غیر مسلم کو دعوت کرنا ان کو گھر میں بلانا یہ چیزیں مہاراشٹر کیرل تمل ناڈو کرناٹک اندھیرا پردیش جنوب کے سارے صوبے میں زیادہ ہیں اسلیے ایسے علاقوں میں اس طرح کے معاملات کثرت سے پیش آتے ہیں باقی شہروں میں ممبئ، حیدر آباد سر فہرست ہے. اسلئے مسلم محلے میں مکان لینے کی کوشش کریں مخلوط ملازمت جیسے کمپنی کال سینٹر اسپتال مال یا آفس وغیرہ میں کام کرنا اسلیے لڑکیوں سےشادی کے بعد ہی ملازمت کرائیں

    2. غربت وافلاس فقر وفاقہ جہاں غربت ہونگی وہاں اس طرح کے واقعات پیش آئینگے. اسلئے قوم کے صاحب ثروت افراد ٹھونڈ کر ان کی مدد کرے. انسانیت کے نام پر پہلے اپنی بہنوں کا حق بنتا ہے بعد میں غیر مسلم.

    3. دینی تربیت کا فقدان اسلئے ہر مسجد میں مکتب کا سسٹم بناجائے اور جن لڑکیوں کو پڑھایا جائے ان سے کہا جائے کہ اپنے گھروں میں آس پاس کی لڑکیوں کو وہ پڑھایے.

    4. شوشل میڈیا کے پلیٹ فارمس باپ نے امی کو فون دیا اور امی نے بیٹی کو دیا اور بیٹی اپنا دل غیر مسلم کو دیا. ویسے آجکل پڑھائ بھی تو آن لائن ہورہی ہے اگر پڑھائ ضروری ہے تو موبائل بھی ضروری ہے. اب امی کا فون نہیں خود کا فون ہے جو چاہے کرو
    اسلئے باپ بھائ موبائل دینا ضروری ہو تبھی دے لیکن نگرانی سخت رکھے. کچھ لوگ مسلم لڑکیوں پر ایسا بھروسہ کئے ہوے ہیں کہ جو مسلم ہونگی وہ ایسا کر ہی نہیں سکتیں. ارے بھائ آپ کس زمانے اور کس جگہ میں جی رہے ہو. حقیقت میں آج اکثر وبیشتر نفس امارہ کو معبود خدا بناچکی ہیں. انہیں اللہ کا کوئ خوف نہیں، نہ ایمان کا پاس ولحاظ نہ باپ بھائ کا ڈر نہ سماج کاڈر.
    اللہ ہماری حفاظت فرمائے.

    By ‎@Shaameem_Ahmad

  • امید زندگی ہے تحریر: صائمہ ستار

    امید زندگی ہے تحریر: صائمہ ستار

    نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے

    اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

    زندگی عروج و زوال کا ایک مسلسل سفر ہے.دکھ سکھ,کامیابی ناکامی زندگی کا حصہ ہیں. جہاں زندگی بہت سے خوش کن لمحات دیتی وہے وہیں آزمائشیں بھی لازمی ہیں.
    امید وہ قیمتی سرمایہ ہے جو آخری سانس تک انسان کو زندگی کے اس تھکا دینے والے سفر میں آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم رکھتا ہے.انسان فطری طور پر بہت جلد باز واقع ہوا ہے.اسے سب کچھ اپنے مطابق چاہیے ہوتا اور جب کوئ خلافِ توقع صورتحال پیش آتی ہے تو بجائے حوصلے سے آزمائش کا مقابلہ کرنے کے تھوڑی سی کو شش کے بعد مایوس اور نا امید ہو جاتا ہے. امید انسان کو وقار اور خود داری کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتی ہے جبکہ نا امیدی اور منفی خیالات کسی بھی امتحان کا مقابلہ کرنے سے پہلے ہی انسان کے ہار جانے کی وجہ بنتے ہیں. نا امیدی مسلئے کے نظر آنے والے ممکنہ حل کو بھی دھندلا دیتی ہے اور انسان کو محض انھیرا نظر آتا ہے جبکہ ذرا سی مثبت سوچ اور امید کا چراخ نا مسائد حالات سے نکلنے کے لیے روشنی کا باعث بنتے ہیں.مثبت سوچ اور طرز عمل زندگی کے ہر لمحے کا تقاضا ہے. وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ اسکا کوئ بھی رنگ اٹل نہیں ہوتا. اگر مشکل ہو تو اسکے بعد آسانی کے رنگ کے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں.حالات جس قدر بھی مشکل ہوں,آزمائش کی رات جتنی بھی لمبی اور سیاہ ہو ایک روشن صبح ہر شب کا مقدر ہے. حقیقت یہ ہے کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان والوں کا امتحان ہیں. جتنا ایمان زیادہ ہو آزمائش بھی اتنی بڑی ہوتی ہے اور اسکا اجر بھی اتنا ہی زیادہ.راہگزارِ حیات میں آنے والے کٹھن لمحات انسان کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خود سے وابستہ لوگوں کی پہچان بھی کروا جاتے ہیں.مخلص اور مطلبی لوگوں کی پہچان مشکل وقت میں ہی ہوتی ہے. حالات جیسے بھی ہوں ہر حال میں دنیاوی سہاروں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید رکھنی چاہیے. اسلام میں مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے. مومن کبھی اپنے رب کی رحمت سے نامید نہیں ہوتا.
    قرآن میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے،
    ’’ اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو امید وہ (کفار) نہیں رکھتے‘‘۔(سورہ النساء ،104 )
    لہذا مثبت گمان/امید رکھنا ایک مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا بھی ہے. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جیسا میرا بندہ میرے متعلق گمان کرے گا مجھے ویسا ہی پائے گا. لہذا ہمیں چاہیے کہ اس ذات پر جو محض ایک "کُن”سے تقدیر بدل دینے پر قادر ہے زندگی کے ہر معاملے میں بہتری کا گمان رکھیں.امید رحمت کا دوسرا نام ہے خدا پر یقین رکھنے والا رحمت پر یقین رکھتا ہے”
    معاشرے میں منفی سوچ کا زہر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے خود کشی کی شر ح بھی ہر مسلسل بڑھ رہی.یہ ناامیدی کی آخری حد ہے جب انسان کو زندگی کا خاتمہ اپنے مسائل کا واحد حل نظر آتا ہے.زندگی میں جب کسی موڑ پے لگے کہ آپ بہت مایوس ھو یا آپ کو لگے کہ کچھ بھی آپ کے حق میں نہیں ھے تو اک نظر دوڑا کے دیکھیں جو آپ کے پاس موجود ھے. جنکو اللہ تعالیٰ نے قدرتی طور امید اور مثبت سوچ جیسی نعمت سے نوزا ہے انہیں چاہیے کہ زندگی سے مایوس لوگوں کے لیے امید کی کرن بنیں. بعض اوقات انسان کا ایک مثبت لفظ, چند حوصلہ افزاء جملے کسی میں زندگی کی ایک نئی روح پھونکنے اور دل کے بدلنے کا باعث بنتے ہیں. امید افزاء الفاظ جو کسی کو جینے کی ایک نئی امنگ دیں یہ بھی ایک صدقہ ہے.کبھی کبھی زندگی میں ایسے موڑ بھی آتے ہیں کہ آگے کا کؤی راستہ نہیں اور واپسی کا کوئی تصور نہیں ہوتا پھر معجزے ہوتے ہیں”کن فیکون” سے تقدیر بدل جاتی ہے لیکن صبر اور اللہ پر ایمان، بھروسہ شرط ہے۔
    امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں” کل کا دن آج سے بہتر ھو گا ” انشااللہ
    @SMA___23

  • عدم برداشت تحریر: مجاہد حسین

    عدم برداشت تحریر: مجاہد حسین

    آج کے تیز رفتاز دور میں جب انسان ترقی کی منازل طے کرتا جا رہا ہے وہاں دوسری طرف اس نے اپنے آپ کو اس قدر مصروف کر لیا ہے کہ اپنے اردگرد ہونے والے معاملات اور حالات سے آگاہی تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے دوستوں رشتہ داروں سے میل جول اب نہایت قلیل ہو گیا ہے۔ اس کے کئی معاشرتی نقصانات تو ہیں ہی لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان اس کی اپنی شخصیت کو ہو رہا ہے۔
    کام کی بہتات اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی فکر نے اس میں چڑچڑا پن اور بے حسی جیسی خصلتیں پیدا کر دیی ہیں۔ چڑچڑا پن اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ وہ کام کے دوران ہونے والی باتوں کا اثر ذائل نہیں کر پاتا اور بلآخر اس کا اثر اس کے گھر والوں، بیوی اور بچوں پر بھی پڑتا ہے جس کی وجہ سے خاندان کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دوسرے لوگ بھی اس سے دور ہونے لگتے ہیں۔ عدم برداشت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کو بھی اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں ورنہ بات جھگڑے اور فساد تک پہنچ جاتی ہے۔
    جب بھی عدم برداشت کی بات آتی ہے تو مجھے ایک واقعہ یاد آ جاتا ہے۔ یہ پچھلے سال رمضان کا واقعہ ہے۔ میں نے اللہ کے حکم سے رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا۔ بس میں سیٹ بک کروائی اور مقررہ دن کو ایجنسی میں پہنچ گیا۔ عصر کے بعد ہمارے شہر (الجبیل) سے گاڑیاں نکلا کرتی تھیں۔ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو معلوم ہوا کہ ڈرائیور بھی کوئی پاکستانی ہے۔ سوچا خوب بیتے گی لیکن کیا معلوم تھا کہ تھوڑی دیر بعد کیا تماشہ ہونے والا ہے۔ ڈرائیور صاحب بس میں داخل ہوتے ہی بلند آواز میں گویا ہوئے کہ بس میں کسی کو کچھ بھی کھانے کی اجازت نہیں ہے، جس نے کچھ کھانا ہے باہر جا کے کھا لے۔ ہمارے لئے یہ پہلا تجربہ تھا کہ کوئی ڈرائیور ایسا اعلان کرے حالانکہ اس نے ہر سیٹ کے ساتھ کچرا ڈالنے کے لئے ایک ایک پلاسٹک بیگ بھی لگا رکھا تھا۔ خیر، عصر کے بعد گاڑیاں قافلے کی صورت میں مقررہ مقام سے روانہ ہوئیں اور تقریباً دو گھنٹے بعد ایک پیٹرول پمپ پہ افتار کے لئے رک گئیں۔ سب لوگوں نے روزہ افتار کیا نمازیں (مغرب اور عشا اکٹھی) پڑھیں اور گاڑی میں بیٹھنا شروع ہو گئے۔ ایک مصری شخص، جو ڈرائیور کے عین پیچھے والی سیٹ پہ بیٹھا تھا وہ اپنے لئے کافی لے آیا اور سکون سے پینے لگا۔ اتنے میں ڈرائیور صاحب آئے اور آتے ہی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، اس سے کافی کا گلاس چھینا اور دروازے سے باہر جاتا کیا۔ مصری پریشانی سے بولا بھائی میرا 25 ریال کا کپ تھا اور میں تو کچرا بھی نہیں پھینک رہا لیکن یہ کیا طریقہ ہے؟
    اتنے میں ڈرائیور صاحب بولے جس کا ترجمہ ہے کہ "تم مجھے پنگالی یا ہندوستانی مت سمجھو،میں پاکستانہ ہوں اور میں تمہیں مزہ چکھا دوں گا” بس اس بات کا سننا تھا کہ اگلے جوان کے خون نے بھی جوش مارا اور اس نے ڈرائیور کے جو اس کے تقریباً اوپر ہی چڑھ دوڑا تھا پیچھے دھکیلا۔ یہ منظر اس ڈرائیور کے چند مزید رشتہ دار (ڈرائیورز) بھی دیکھ رہے تھے اور وہ سب کے سب مصری شخص پہ ایسے ٹوٹ پڑے جیسے بھوکے شادی کا کھانا کھلنے پہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس مار دھاڑ میں بیچارے مصری کی پانچ چھے گھونسے اور کافی سارے ٹھڈے پڑ گئے۔ لوگوں کی مداخلت پہ معاملہ ٹھنڈا ہوا اور مصری آنسو پونچھتے ہوئے بس سے اتر کر پیٹرول پمپ کی طرف بڑھ گیا۔
    چند لمحوں بعد وہ ایک پولیس والے کے ساتھ سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ پولیس والے نے اپنی کار ہماری گاڑی کے سامنے لا کر کھڑی کر دی اور تحقیقات شروع ہو گئیں۔ وہ چند شیر جوان جو تھوڑی دیر پہلے اس ڈرائیور کے ساتھ مل کے مصری کو مار رہے تھے آہستہ آہستہ اپنی گاڑیاں نکال کر فرار ہو گئے۔ وہ ڈرائیور جو تھوڑی دیر پہلے پھنے خان بنا ہوا تھا اب معذرتوں پہ آ چکا تھا۔ پولیس والے سے الگ معافی مانگی جا رہی تھی، مصری کے الگ پاؤں پکڑے جا رہے تھے۔ اور ہم سب تین گھنٹے تک ایک نہ کردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے تھے۔ بالآخر بس کے لوگوں اور چند مصری اور سوڈانی مسافروں کی مداخلت سے مصری معاملہ رفع دفع کرنے پہ راضی ہوا اور راضی نامے پہ دستخط کرنے کے بعد ڈرائیور کی جان چھوٹی۔
    اس سارے معاملے کے بعد اکثر لوگوں کو نقصان یہ ہوا کہ ان کے عمرہ کے پرمٹ تین گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے ایکسپائر ہو چکے تھے۔
    کیا ہی اچھا ہوتا کہ ڈرائیور پیار سے اسے کہتا بھائی آپ کافی باہر پی لو ابھی گاڑی رکی ہوئی ہے تو ایک تو یہ تاخیر نہ ہوتی دوسرا ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے نہ جھکتے۔ یاد رہے، جب بھی ہم علی الاعلان کوئی غلطی یا کوئی گناہ کرتے ہیں وہ ناصرف ہمارے لئے بدنامی کا باعث بنتا ہے بلکہ ہم سے منسلک تمام لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے برداشت کرنا سیکھیں تاکہ شرمندگی سے محفوظ رہا جا سکے۔

    @Being_Faani

  • پاکستان میں غیرمسلموں کے حقوق  تحریر: آصف گوہر

    پاکستان میں غیرمسلموں کے حقوق تحریر: آصف گوہر

    عمر رضی اللہ عنہ نے ( وفات سے تھوڑی دیر پہلے ) فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ( ذمیوں سے ) جو عہد ہے اس کو وہ پورا کرے اور یہ کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کرے اور ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔
    صحیح بخاری 3052۔
    قائد اعظم رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ
    ” آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”
    اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں کو ذمی کہا جاتا ہے یعنی غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اسلام غیرمسلموں کے جان و مال اور مذہبی آزادی کا محافظ ہے۔ پاکستان کی بات کریں تو اقلیتوں کے حقوق بانی پاکستان نے بڑے واشگاف الفاط میں بیان کئے ہیں اسی لئے ہمارے ہاں کی اقلیتیں دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ محفوظ اور مطمئن ہیں یہاں پر تعلیمی اداروں ہستالوں پولیس دفاع اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں اقلیتی افراد اعلی عہدوں پر گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں نوجوان اپنے مخصوص کوٹہ کے علاوہ اوپن میرٹ پر بھی اپلائی کرسکتے ہیں ۔تعلیمی اداروں میں اسلامیات کا مضمون پڑھنے یا نہ پڑھنے کی مکمل آزادی ہے کہ اقلیتی طلباء اسلامیات کی بجائے اپنی مرضی سے اخلاقیات کا مضمون پڑھ سکتے ہیں۔
    پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اقلیتی برادری کے افراد اپنی مرضی سے جو چاہیں کاروبار اور تجارت کرسکتے ہیں کوئی روک ٹوک نہیں ۔ پاکستان میں بھارت کی طرح کسی منظم یا بےقابو گروہ کو اقلیتی افراد پر تشدد کرنے کی اجازت یا جرآت نہیں ۔
    چند انفرادی واقعات جو کہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں جوکہ اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کے ماضی میں ہوئے ہیں ان پر فوری قانون حرکت میں آتا ہے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔
    دو روز پہلے رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں ہندو برادری کی عبادت گاہ پر مقامی لوگوں کے حملہ کا دلخراش واقعہ پیش جیسے ہی واقع کی خبر بریک ہوئی فوری وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے پولیس اور رینجرز کو بلاتفریق کاروائی کی ہدایت کی اور ڈی پی او سے رپورٹ طلب کی ڈی پی او خود جائے حادثہ پر پہنچے چند گھنٹوں میں ایف آئی آر درج کر دی گئ اور اگلی ہی صبح مندر کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام شروع کردیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے جان و مال کی ذمہ داری حکومت پر ہے کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا ۔
    وزیر اعظم عمران خان نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور آئی جی پنجاب پولیس کو ذمہ داروں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔
    یہ واقعہ سنگین اور دلخراش جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس کو پاکستان کے خلاف کئ طرح سے استعمال کیا جاتا ہے اہل عناد کو پروپیگنڈے کا موقع ملتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم ہو رہے ہیں اقلیتں یہاں پر غیر محفوظ ہیں اور ساتھ ہی مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ تنقید بنایا جاتا ہے۔
    چھوٹے واقعات کو بڑا رنگ دیا جاتا ہے امریکی محکمہ خارجہ اور انسانی حقوق بھی کود پڑتا ہے اور پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی خوب کوشش کی جاتی ہے ۔
    لیکن یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہاں پر اقلیتیں خوشحال اور اپنی مذہبی رسومات عبادت میں مکمل آزاد ہیں ہرسال بھارت اور پوری دنیا سے سکھ اور ہندو برادری کے افراد ہزاروں کی تعداد میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے آتے ہیں اور پوری آزادی کے ساتھ پاکستان میں ہرجگہ آتے جاتے ہیں اور پاکستانی عوام بھی ان کی بھرپور آو بھگت اور عزت افزائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جس سے پاکستان کے خلاف پروپیگینڈے کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اور یہ ہمیشہ کی طرح ناکام اور نامراد رہتے ہیں اور انشاءاللہ رہیں گے۔ @Educarepak

  • ذہنی غلام   تحریر : نواب فیصل اعوان

    ذہنی غلام تحریر : نواب فیصل اعوان

    ہم ذہنی غلام ہیں ۔
    ہمارے ذہن میں ایک بات فیڈ کر دی جاتی ہے کہ اپنے تعلقات وسیع رکھو جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا تعلق ہر فیلڈ کے بندے کے ساتھ ہونا لازم ہے ۔
    پاکستان میں جو شخص چمچہ گیری کرنا جانتا ہے وہ شخص کامیاب ہے ۔
    دوسرے لفظوں میں تعلقات سے مراد ہے کہ آپ کس حد تک چمچہ گیری کر سکتے ہو ۔
    ایک شخص اپنے علاقے میں اپنی دھاک بٹھانے کیلۓ کسی سیاستدان کو اپنے ہاں زور زبردستی دعوت دے ڈالے گا ہر کسی کو ڈھول کی تھاپ پہ رقص کرتے ہوۓ بتاۓ گا کہ جی وہ فلاں وڈیرہ ، خان ، جام ، ملک یا نواب اس کے ہاں آ رہا ہے دعوت کے انتظامات کیۓ جاٸیں گے ۔
    وہ سیاسی یا دوسرے لفظوں میں امیر یا ہاٸ فاٸ شخص بھی آ دھمکے گا علاقہ پورا امڈ آۓ گا جیسے مریخ سے کوٸ ایلین اترا ہو ۔
    اس شخص نے اپنے علاقے میں بینرز فلیکس لگا لگا علاقے کا حشر نشر کر دینا ہوتا کہ جی ویلکم یا جی آیاں نوں فلاں ابن فلاں ۔
    الغرض کے خوشامد کے ایسے ایسے جتن کرے گا کہ اللہ امان ۔
    علاقے میں بتا رکھا ہوگا کہ فلاں تو اس کا لنگوٹیا یار ہے وہی شخص دعوت پہ خطاب کرتے ہوۓ اپنے لنگوٹیۓ یار کا نام دو چار بار پوچھ ہی لے گا کہ کیا نام ہے بھلا آپ کا ۔
    عزت اور ذلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے کسی انسان سے تعلق رکھنا یا نہ رکھنا کوٸ معنی نہیں رکھتا ہاں اگر معنی رکھتا ہے تو انسان کو اس کی حیثیت کے مطابق چادر پہ پاٶں پھیلانا ۔
    ہم اس قدر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں گر گیۓ ہیں کہ ہم ذہنی غلام بن چکے ہیں ہم ظاہری ٹپ ٹاپ کو اہمیت دینے والے اگر صحیح معنوں میں خود پہ محنت کریں تو ایک روز وہ معیار بنا جاٸیں گے کہ ہمیں لوگوں کو دکھانے کیلۓ زور زبردستی کسی کو دعوت نہیں دینی پڑیگی بلکہ لوگ خود سے پوچھتے پوچھتے ہمارے ہاں مہمان ہونے ہیں ۔
    ہمیں اس ذہنی غلامی سے اس سوچ سے چھٹکارہ پانا چاہیۓ ۔
    اگر ہم سب کے بارے میں یکساں سوچ رکھتے ہیں اور اپنے بارے علیحدہ تو یہ بھی غلط ہے ۔
    خود کو طورم خان سمجھ کے اوروں کو نیچ یا بدتر سمجھنا جیسے وہ کوٸ شودر ہوں اور آپ پاک ذات تو یہ نظریہ بھی سراسر غلط ہے ۔
    اپنے بارے میں لوگوں کا نظریہ تبدیل کرنے کو یہ چاپلوسی یا چمچہ گیری والے کام نہیں رہے گیۓ اگر حقیقی معنوں میں چاہتے ہو کہ لوگ تمہاری عزت دل سے کریں نہ کہ تمہاری ظاہری پھوت پھات سے تو ایسے میں خود میں عاجزی لاٶ ۔
    لوگوں کے بارے میں اچھے خیالات رکھو ۔
    دوسروں کو نیچ یا کمتر نہ سمجھو ۔
    دوسروں کی عزت و نفس کا خاص خیال رکھو ۔
    ایسا کام کرو جو ظاہری خوشامد نہ ہو بلکہ اس میں انسانیت کی بھلاٸ ہو ۔
    اگر دل سے اوروں کے ساتھ مخلصی سے کھڑے ہو گے تو یہ زور زبردستی کے تعلقات تمہاری مخلصی دیکھ کر تم سے خوشگوار ہو جاٸیں گے ۔
    لازم نہیں ہے کہ زندگی گزارنے کیلۓ بڑے لوگوں تک رساٸ ہو تو اچھا ہے یاد رکھو
    چاپلوسی اور کسی کی چمچہ گیری سے بہتر ہے کہ اپنا ایک رتبہ اور پہچان بناٶ کہ لوگ تمہاری چاپلوسی اور چمچہ گیری کریں نہ کہ تم ۔

  • غربت پر قابو پانے کا حل تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    غربت پر قابو پانے کا حل تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    مختلف حکومت کے ذریعہ غربت میں کمی کے بارے میں پالیسیاں بناتی ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے ۔پاکستان میں امیر طبقہ تو خوشحالی سے زندگی بسر کر لیتا مگر غربت کا سامنا پاکستانی قوم کو کرنا پڑتا ہے

    اگر غربت پر تندہی سے دیکھ بھال اور اس پر اعتماد کے ساتھ کام نہ کیا گیا تو وہ ریاست کے پورے میکانزم کو کھا جائے گی فلاحی ریاست کے مضبوط ہونے کے لیے ناقص طبقے کی ترقی کے حوالے سے پالیسیاں چیک لسٹ میں سب سے اوپر ہونی چاہئیں جب ہم مستقل طور پر اپنی زوال پذیر معیشت کو اونچائیوں کی طرف گامزن کریں گے۔ بشرطیکہ ہم ایسی پالیسیاں تیار کریں جو نہ صرف متاثرہ مقامات کی فلاح و بہبود کو پیش کریں بلکہ ان کے نقطہ نظر کو بھی منتقل کریں ۔میں غربت کے خاتمے کے لئے درج ذیل اقدامات تجویز کرتا ہوں۔

    ١۔صنعتی تجارت کو فروغ دیں۔
    ٢۔پیداوار میں اضافے کے لیے نٸے روایتی زرعی سامان کو نئے سائنسی سازوسامان سے تبدیل کرنا۔.
    ٣۔انصاف اور مساوات کا قیام۔
    ٤۔وسائل کی مساوی تقسیم۔
    ٥۔میرٹ زندگی کے ہر شعبے میں ایک اعلی حکمت عملی ہونا چاہئے۔
    ٦۔امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ۔
    ٧۔افراط زر اور دیگر معاشی اشارے اور ریگولیٹرز کا کنٹرول۔.
    ٩۔سرمایہ کاری کے دوستانہ ماحول کی ترقی
    غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ امکانات اور مراعات دینا۔
    ١٠۔انتہا پسندی اور جاگیرداری کو ختم کرنا۔
    ١١۔لوگوں کو اچھی طرح سے ہنر مند بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ تکنیکی انسٹی ٹیوٹ کا قیام۔.
    ١٢۔تعلیم کا دائرہ۔
    ١٣۔ملازمت کے مواقع کی فراہمی۔
    ١٤۔کرایہ داروں میں زرعی اراضی کی تقسیم۔

    قیادت کو یہاں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ مناسب منصوبہ بندی اور اچھی حکومتی پالیسیوں سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔. انہیں صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد کے یے مجاز اور دیوار سے تعلیم یافتہ معاشی ماہرین کی تقرری کریں اور ظاہر ہے کہ اس کے حل کے لئے ان کے اخلاص کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔.

    ایک ملک کی معیشت اس کے حل کے ساتھ اپنے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے جب اسے بچایا جاتا ہے تو بہت سارے مسائل خود بخود ہوجائیں گے۔. اس کے حل کے لئے تنہا قیادت ہی کافی نہیں ہے۔. مساوی حصہ کے ساتھ پاکستان کے عوام کو بھی ذمہ داری ملی ہے۔. لوگوں کو حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں اپنے ہی ملک کے ساتھ مخلص رہنا چاہئے اور غربت کے خاتمے کے لئے اپنی تمام تر کوشش کرنے چاہیے!!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر  : باچاخانزادہ

    تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر : باچاخانزادہ

    بچوں کی تربیت اس دور کا سب سے اہم چیلنج بن چکا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تربیتِ اولاد ایک نہایت صبر آزما اور جاں گسل کام ہے مگر اس کے نتائج و ثمرات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ کام مشکل نہیں رہتا۔ بڑے مقاصد کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ بچوں کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد اور دنیا و آخرت کا بہترین ذخیرہ بنانے سے بڑا مقصد اور کیا ہوسکتا ہے! سو اس لحاظ سے اس راہ کی مشقتیں پھر بھی کم ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی برحق ہے کہ نیک کام کے ہر مرحلے پر خدا کی مدد و نصرت شامل حال رہتی ہے جس سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ ذیل میں چند ایسے اصول لکھ رہے ہیں جو تربیت کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوں گے۔ تجربہ اس بات کا شاہد ہے۔
    اولا تو یہ ذہن میں رکھیں کہ بچے کی مثال ایک سادہ لوح کی ہے۔ وہ اپنے بڑوں کو دیکھ دیکھ کر اس لوح میں رنگ بھرتا ہے۔ جیسا معاملہ اور برتاؤ اس کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ اس کی زندگی کے ضابطے بنتے جاتے ہیں۔ اس لئے والدین کو خصوصاً بچوں کے حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    1- غلط کی حوصلہ شکنی
    عموماً بچے کبھی کبھار غلطیاں کردیتے ہیں۔ کبھی تو اوروں کی دیکھا دیکھی میں اور کبھی عدمِ توجہی کے باعث۔ بچہ کوئی غلطی کرے تو اس پر پیار سے باز پرس ضرور کرنی چاہیے، تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ غلطی دوبارہ نہیں کرنی ہے اور یہ کہ میرے سے سوال جواب کرنے والے لوگ موجود ہیں جو میرے ہر عمل کی نگرانی کر رتے ہیں۔ عام طور پر والدین محبت کے دھوکہ میں آکر ایسے مواقع یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیتے ہیں کہ "ابھی توبچہ ہے۔ بعد میں سیکھ جائے گا”۔ یاد رہے یہ ایک تباہ کن غلطی ہوتی ہے جو بچے کی تربیت میں بہت منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بعد میں کبھی نہیں سیکھا جاتا، بچپن کا سیکھا پچپن تک ساتھ چلتا ہے۔ پکڑ نہ کرنے کے باعث بچہ اپنی غلطی کی اصلاح کے بجائے اس پر جری ہوجاتا ہے۔ یوں غلطی در غلطی کی ایک لڑی بنتی چلی جاتی ہے۔

    2- اچھائی کی تعریف
    بچے عموماً پاک طینت اور صاف دل ہوتے ہیں۔ برائیوں کی طرح ان کی اچھائیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی اچھی بات کہیں، اچھا کام کریں تو تعریف ضرور کرنی چاہیے۔ اپنی وسعت کے بقدر حوصلہ افزائی بھی کریں تاکہ اسے معلوم ہو کہ اچھائیوں کی قدر کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ عمل انہیں مزید اچھائیوں کی شہہ دے گا۔ اس میں ایک بات کا دھیان رہنا چاہیے کہ تعریف اور حوصلہ افزائی کے ساتھ مزید اچھائیوں کی بھی ترغیب دی جائے۔ اسی ایک اچھائی پر اکتفاء نہیں کرنا چاہیے۔

    3- ضد کبھی پوری نہ کریں
    بچے ضدی کیوں بنتے ہیں؟ کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ضد سے بات مانی جاتی ہے۔ جب آپ ان کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے تو وہ سمجھ بیٹھے گا کہ اپنی بات ایسے منوائی جاتی ہے۔ اس لیے بچہ جب کبھی ضد کرے دل پر پتھر رکھ کر اسے پورا کرنے سے باز رہیں۔ وہ روئے دھوئے جو کرے، آپ نے ہار نہیں ماننی۔ یہی بچے کے ساتھ خیر خواہی اور محبت کا تقاضا ہے۔ ایک مرتبہ ضد پوری نہ ہوگی تو پھر کبھی ضد پنے کی شکایت نہیں ہوگی۔

    4- ذمہ داری سونپیں
    عمر کے لحاظ سے بچوں کو ذمہ داریاں بھی سونپیں۔ چھوٹا ہے تو گھر میں کوئی گلاس اٹھوا دیں۔ اپنے کھلونے سمیٹنے کی ذمہ داری دیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بچے میں احساس ذمہ داری پیدا ہوگی۔ وہ شروع سے ہی ایک ذمہ دار حیثیت سے پروان چڑھنا شروع ہوجایے گا۔ جن والدین کو اپنے بچوں کے بھولے پن اور سادگی کی شکایت رہتی ہے وہ یہ کام کر کے مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

    5- گپ شپ کریں، رائے لیں
    بچوں کے ساتھ میٹنگز رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ معمول کی نشستوں کے علاوہ خصوصی نشست رکھنے کا بھی اہتمام کریں جس کے لئے انہیں پہلے سے بتائیں کہ ایک خاص بات کرنی ہے۔ گفتگو سنجیدہ ہونی چاہیے جس میں بچوں کی رائے لی جائے۔ ان کی آراء پر مثبت تبصرے بھی ساتھ کریں۔ کہیں نقص ہو تو وہ بھی بتائیں۔ اس سے بچوں میں فیصلہ سازی کی قوت پیدا ہوگی۔ ان کا دماغ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔

    6- لکھوائیے
    ایک صاحب نے کہا میں نے اپنے بچوں کو بہترین تحریر نویسی سکھانے کے لئے یہ اصول اپنایا کہ جو معاملہ ہو میں ان سے لکھنے کا کہتا۔ یوں وہ لکھ لکھ کر بہترین لکھاری بن گئے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بھی گاہے بگاہے بچوں سے لکھوائیں۔ کہیں گھومنے گئے تو اس پر کچھ لکھوائیں۔ اسکول پر لکھوائیں۔ والدین، اساتذہ، بہن بھائی، پسند نا پسند، ڈھیر سارے موضوعات ہیں جن پر بچے بآسانی لکھ سکتے ہیں۔ لکھنا سیکھیں گے تو سمجھنا بھی سیکھیں گے۔ ایک لکھای قوم کا ترجمان ہوتا ہے۔ لکھنا بھی آنا چاہیے۔

    7- خود مثال بنیں
    بچوں کو جیسا بنانا چاہتے ہیں خود بھی ویسا بننے کی کوشش کریں۔ جو بات انہیں کہیں خود بھی عمل کریں۔ یاد رکھیں! خود عمل کیے بغیر صرف آرڈر جاری کرنا اپنی محنت ضائع کرنے والی بات ہے۔ بچے سنتے کم دیکھتے زیادہ ہیں۔ جیسا ماحول ویسا کردار ہوگا۔ انہیں جیسا دکھایا جائے گا ویسے ان کی شخصیت کی تعمیر ہوگی۔

    درج بالا چند اصول تربیت کے حوالے سے تجربات کا نچوڑ ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے بچے آپ کے لئے دنیا میں نیک نامی اور افتخار کا باعث بنیں گے۔ بچے والدین کی سب سے قیمتی دولت ہیں۔ ان کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دھیان رہے کہیں یہ دولت زندگی کی مصروفیات کی نذر ہو کر ضائع نہ ہو جائے۔ زندگی جتنی بھی مصروف ہو، بچوں کے لیے وقت ضرور نکالیں۔

    @bachakhanzada5

  • اخلاقیات اور معاشرہ  تحریر: فاروق زمان

    اخلاقیات اور معاشرہ تحریر: فاروق زمان

    اخلاقیات انسان کی عادات واطوار کے معیار کا نام ہے۔ وہ سلوک اور طرز عمل جو معاشرے میں انسان ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ اخلاقیات کسی بھی معاشرے کا حسن ہے، ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلامی معاشرت رکھتا ہے، اسلام میں اخلاقیات کو بہت اہمیت حاصل ہے، اخلاقیات اور تعلیمات، اسلام کے دو بنیادی ستون ہیں۔ قرآن و حدیث میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اخلاقیات کا درس قرآن کریم کی بنیادی تعلیمات ہیں۔
    نبی کریم ص نے اپنے آپ کو اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ بنا کر پیش کیا۔ اور اخلاقیات کی تکمیل کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "میرے نزدیک تم میں سے محبوب شخص وہ ہے، جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔” (بخآری)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "بے شک مومن کے اعمال میں سے سب سے وزنی چیز حسن اخلاق ہے۔”
    اپنے اخلاق کو بہتر بنانا ہم سب کا فرض ہے۔ ہم جو بھی علم حاصل کرتے ہیں اس کا بنیادی مقصد اخلاق سیکھنا اور ان کو بہتر بنانا ہے۔ قرآن و سنت اور دنیاوی تعلیم سے اخلاق سیکھ کر معاشرے میں ہم ان کا پرچار کرتے ہیں۔
    احسان، ایثار، حسن معاملات، عاجزی و انکساری، کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، محبت و احترام کے ساتھ پیش آنا، عزت و تکریم دینا، تمیز و تہذیب کے ساتھ گفتگو کرنا، مہربانی کرنا، سچ بولنا، ایمانداری اور دیانتداری کو اپنا وصف بنانا، عملی برداشت کا مظاہرہ کرنا، یہ سب اخلاقیات ہے۔ بے شک حسن اخلاق کے زریعے ہی انسان دلوں کو تسخیر کر سکتا ہے۔ اخلاقیات کی وجہ سے ہی انسان اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق ہے۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کا معاشرہ محض جانوروں کا گروہ ہے۔ جب تک انسان میں اخلاقیات زندہ رہتی ہے، وہ انسان رہتا ہے، اس میں اچھائی کا مادہ باقی رہتا ہے، جب اس کے اخلاق تباہ ہوتے ہیں تو وہ درندہ بن جاتا ہے، اخلاق کے خاتمے سے برائی اور بے حیائ جنم لیتی ہے۔ معاشرہ بدحالی کا شکار ہو کر انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہتا اور انسانیت نت نئے مسائل سے دوچار رہتی ہے۔

    انسان کو چاہیے کہ بہتر اخلاق کو اپنائے اور اخلاقیات کو زندہ رکھے۔ انسان کہلانے کا اصل حقدار وہی ہے جو خود کو، اپنی عقل کو، اپنے تمام معاملات کو حسن اخلاق کے تابع کرے۔ منفی رویوں اور جذبات سے خود کو دور کر لے ان کا مثبت جواب دے، اگر کوئی برا سلوک روا رکھے تو اپنا اخلاق تباہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کو مثبت توانائی سے جواب دینا چاہیے اور اخلاق سے قاءیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ بہتر سلوک کر کے اچھیء مثال قائم کرنی چاہیے۔ اس کی دیکھا دیکھی معاشرے کے دوسرے فرد بھی حسن اخلاق کے قاءیل ہوں گے۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ، کوئی تمہیں گالی دے تو تم اسے دعا دو۔ اس کے کے برے عمل کا اچھے عمل سے جواب دو، یہ یقیناً اس پر اثر انگیز ہو گا۔ اور اس کے سدھار کاء سبب بنے گا۔
    اخلاقیات معاشرے میں رہنے والے کسی بھی شخص کی انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی زندگی میں اہمیت کی حامل ہے۔اچھے اخلاق کا حامل شخص زاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میںر کامیاب ہوتا ہے، پسند کیا جاتا ہے۔ عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ بلا شبہ بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہی انسانیت ہے اور قابلء ستائش ہے۔ انسان کی زندگی کے روزمرہ کے بہت سے معاملات اچھے اخلاق کو اپنانے سے بہتر ہے ہو سکتے ہیں، اور زندگی میں سکون آ سکتا ہے۔

    آج کے دور میں لوگ بہت شدت پسند مزاج کے کے حامل ہیں۔ لوگوں کے اخلاق تباہ ہو چکے ہیں، اخلاقیات عنقا ہو گئی ہے جھوٹ، لالچ، بد دیانتی، مفاد پرستی، گالم گلوچ، لڑائی جھگڑا، قتل و غارتگری ، کینہ و حسد، بغض، تکبر خود غرضی، رشوت و سفارش، ملاوٹ، کرپشن و بدعنوانی، غرض یہ کہ ہم من حیث القوم اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اسے معاشرے میں رہتے ہوئے ہم کیسے مہزب کہلا سکتے ہیں، کیسے اخلاقیات کا درس دے سکتے ہیں۔ ہمیں اس اخلاقی انحطاط سے نکلنا ہو گا۔ ایسے میں عملی اخلاقیات کی بہت ضرورت و اہمیت ہے۔ ہمیں اچھے اخلاق اپنا کر ان کا پرچار کرنا ہو گا، خود کو بہتر اخلاق سے پیراستہ کر کے اخلاق کا درس عام کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق اور حسن سلوک سے ہی بہتر معاشرہ پروان چڑھ سکتا ہے۔

    @FarooqZPTI

  • نکاح کو عام کرو    تحریر:سویرااشرف

    نکاح کو عام کرو تحریر:سویرااشرف

    مرد اور انسان اللہ تعالی کی خوبصورت ترین تخلیق ہیں۔۔دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے لیکن ہمارا معاشرہ، ہماری زندگی، ہمارا گھر ان دونوں کے بغیر ادھورا ہوتا ہے۔۔ اسلیے اللہ تعالی نے انسان کی فطری خواہشات اور زندگی کو رواں دواں رکھنے کیلیے ایک خوبصورت رشتہ نکاح تخلیق کیا۔۔نکاح اوراسلام :-
    اسلام نے نکاح کوانسانی تحفظ کے لیے ضروری قراردیا ہے اسلام نے تو نکاح کو احساسِ بندگی اور شعورِ زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ”النکاح من سنّتی“ نکاح کرنا میری سنت ہے۔۔۔

    حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اسے نکاح کرلینا چاہئے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اسے چاہئے کہ شہوت کا زور توڑنے کے لیے وقتاً فوقتاً روزے رکھے۔۔۔
    نکاح کا مقصد صرف جسمانی تعلق نہیں ہے بلکہ نکاح ذہنی اور روحانی سکون کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔نکاح کرنے سے ہی آپکو اپنا ہمسفر ملتا ہے جو آپکے دکھ سکھ کا ساتھی ہوتا ہے جو پریشانی میں آپکے ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔۔
    جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ”ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیْہَا“ وہی اللہ ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنادیا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے
    نکاح اور ہمارا معاشرہ:-
    اسلام نے تو نکاح کو بہت سادہ رکھا ہے اور اس میں بہت سی آسانیاں رکھی ہیں تا کہ ہر کوٸی نکاح کر سکے لیکن آج کے دور اور اس معاشرے نے نکاح جیسی نیکی کو بہت مشکل بنادیا ہے۔ افسوس!! ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں زنا کرنے کیلیے ایک کمرے جبکہ نکاح کرنے کیلیے لاکھوو کی ضرورت ہوتی ہے۔ نکاح مشکل ہوجانے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ریپ کیسز بڑھ گٸے ہیں۔۔
    جہیز جیسی ایک لعنت ناسور بن کر ہمارے معاشرے میں پھیل چکی ہے۔آج کے دور میں جہیز کے بغیر شادی ناممکن ہے۔۔اگر لڑکی والوں کو جہیز کے نام پر لاکھوں لگانے پڑتے ہیں تو مختلف فضول رسم و رواج کے نام پر لڑکے والے بھی لاکھوں لٹاتے ہیں جس میں دکھاوا شامل ہوتا ہے۔۔
    بری، کھانا، ڈھول باجے، سینکڑوں کے لحاظ سے بارات، ولیمے میں نمودو نماٸش کے نام پر لاکھوں لگ جاتے ہیں۔۔یہ سب دنیاوی کام اور فضول خرچی ہے اور فضل خرچی اللہ تعالی کو سخت ناپسند ہے۔۔۔
    دوسری طرف اسلام نے نکاح کو بہت سادہ رکھا ہے حتی کہ ہمارے مصطفی ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی کا نکاح انتہاٸی سادگی سے سرانجام دیا اور ضرورت کی چند چیزیں جن میں جس میں دوچادریں، کچھ اوڑھنے بچھانے کامختصر سامان، دوبازو بند، ایک کملی، ایک تکیہ، ایک پیالہ، ایک چکی، ایک مشکیزہ ،ایک گھڑا اوربعض روایتوں میں ایک پلنگ کا تذکرہ بھی ملتاہے۔۔۔

    اسلام میں نکاح کا مطلب دوگواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنا ، نکاح میں عورت کے لئے ولی (سرپرست) کا موجود ہونا، نکاح کا اعلان، دعوتِ ولیمہ، مہر کی ادائیگی اور خطبہٴ نکاح۔ اگر ان امور پر غور وفکر سے کام لیا جائے تو یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ امور عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ کس قدر دعوتِ فکر وعمل اور باعثِ ثواب ہیں۔

    اب ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم سے جتنا ہو سکے ہم نکاح کو آسان کریں۔۔ سادگی سے نکاح کو ترویج دیں۔ لڑکی والوں پر بوجھ نہیں ڈالیں۔ فضول رسم و رواج سے کنارہ کشی کریں۔ مسجد میں سادگی سے نکاح کی تقریب سرانجام دی جاۓ اور اپنی حثیت کے مطابق ولیمہ کیا جاۓ۔ نا کہ دنیا داری اور لوگوں کی باتوں سے بچنے کیلیے لاکھوں قرض لیکر نمودو نماٸش کی جاۓ۔۔ اسلام میں حیثیت سے زیادہ خرچ کرنا بھی گناہ ہے اور نٸی زندگی کا آغاز تو اللہ کی رضا سے کرنا چاہیے اسلام اور دین کے مطابق نا کہ دنیا والوں کی خاطر۔۔
    اللہ تعالی ہم سب کو اسلام پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین
    @IamSawairaKhan1