Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • بحثیت قوم ہم جانور ہیں تحریر:ماہم بلوچ

    لفظ جانور انسان کے لئے استعمال کرو تو غصے میں آ جاتا ہے جبکہ جانتا ہے جانور کیا ہوتا ہے وه جس کو نا تو کوئی شعور ہوتا ہے نا ہی اس کے کوئی اصول و ضوابط ہوتے ہیں،سارا دن کھا پی کر گزار دیتا ہے اور اس کے سامنے درندہ ایک جانور کو کھا رہا ہوتا ہے تو بجاۓ مدد کے اپنی جان بچا کر بھاگ جاتا ہے۔
    کیا بطور مجموئی ہم جانور نہیں ہیں؟؟سارا دن کھا پی کر سو جاتے ہیں نا یہ پتا کہ جو کھایا حلال بھی تھا نا ہی صفائی کا پتا گھر کا کچرا گلی میں پھینک کر سمجھتے ہیں کہ گھر صاف کر لیا۔۔جانور بھی جس جگہ بیٹھا ہوتا ہے وہی صاف کرتا ہے۔۔۔
    کیا ہم جانوروں کے جیسے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے ایک دوسرے کو مرنے مارنے تک نہیں آ جاتے؟؟جنگلوں میں جب خوراک کم ہو تو ایک ہی قبیلے کے جانور ایک دوسرے کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔
    جانوروں کی بستی میں کوئی اصول نہیں ہوتے کوئی قانون نہیں ہوتا صرف طاقتور کی حکمرانی چلتی ہے۔۔۔کیا ہمارے معاشرے میں کوئی قانون ہے؟؟کیا امیر غریب قانون کی نظر میں کامیاب ہیں؟؟؟
    جنگلوں میں کوئی تعلیمی شعور نہیں ہوتا بس کھانا پینا اور سونا ہوتا ہے۔۔۔کیا ہمارے ملک میں اکثریتی آبادی کا حال نہیں؟؟؟
    جانوروں کی بستی میں درندہ بنا دیکھے کے شکار کتنا کمزور ہے اسکی کھال تک اتار دیتا ہے۔۔۔کیا ہماری بستی میں ڈاکٹر یہ فریضہ سر انجام نہیں دے رہے؟؟؟
    جنگلوں میں صبر برداشت اور رواداری نہیں ہوتی صرف کھینچا تانی ہوتی ہے سارا دن۔۔۔کیا ہمارے نام نہاد کچھ شوز میں ہماری پڑھی لکھی قوم ایسا نہیں کرتی؟؟؟
    جانوروں میں تہذیب تمدن نہیں ہوتا انکا کوئی لباس نہیں ہوتا وه ایسے ہی گھومتے ہیں سارا دن۔۔۔کیا آج کل ہماری کچھ لبرلز آنٹیاں یہی سب ہمارے ملک میں کرنا نہیں چاہتی؟؟؟
    جنگلوں میں جب کسی ایک جانور کے ساتھ درندگی ہو رہی ہوتی تو باقی جانور یا تو دور سے چپ چاپ دیکھتے ہیں یا پھر اپنی جان بچا کر بھاگ جاتے ہیں۔۔کیا ہمارے معاشرے میں بچوں اور زیادتی کے بڑھتے واقعات پر ہماری قوم کا یہی رویہ نہیں ہے؟؟
    ان سب چیزوں کا یہاں موازنہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سمجھیں ہم اشرف المخلوقات ہیں،ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے،ہم نے یہ ملک لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ‎ کے نام پر بنایا ہے
    خدارا جاگیں اور معاشرے کو تباہی سے بچائیں اور اس ملک کو وہی ریاست بنائیں جس کا خواب اقبال نے دیکھا اور قائد نے جدوجہد کی۔۔
    خدارا بدلیں خود کو🙏

  • عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟  تحریر:  سیرت فاطمہ

    عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟ تحریر: سیرت فاطمہ

    اسلام نے عورتوں کو حصولِ تعلیم سے لے کر پسند کی شادی تک ہر حق سے نوازہ ہے۔ عورت جب چھوٹی ہوتی ہے تو اُسے باپ کی صورت میں ایک محافظ اور ماں کی صورت میں ایک مخلص سہیلی ملتی ہے جن کی اولاد ہونے کے ناطے وہ اولاد کے حقوق کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ جب تک باپ کے گھر میں رہتی ہے باپ اور بھائی اپنے فرائض نبھاتے ہیں۔ جب عورت بیاہ دی جاتی ہے تو وہی ذمہ داریاں شوہر کے کندھوں پر آجاتی ہیں اب شوہر کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کرے۔ جب عورت ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے تو پاؤں تلے جنت رکھ دی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مالی طور پر اتنا مستحکم کیا کہ شوہر کو حق مہر اور نان و نفقہ کا پابند بنا دیا ساتھ ہی عورت کو والدین اور شوہر کی جائیداد میں حصہ دار بھی بنا دیا گیا۔ غرض اسلام تو وہ مذہب ہے جس نے عورت کو نا صرف جینے کا حق دیا بلکہ ایک شہزادی بنا کر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی صورت میں اتنے محافظ بھی عطاء کر دیے۔
    اور یہ تمام حقوق عورتوں کو پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے۔ مگر اُسی کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ آج بھی بہت سی جگہوں پر خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہیں جنکی وہ حقدار ہیں۔ اور اُن خواتین کو اُن کے حقوق ملنے چاہیے۔
    سوشل میڈیا سے لے کر زمینی حقائق تک یہ سوال مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے کہ کیا عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ اُن عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں واقعی حقوق نہیں ملتے؟
    اور اکثریتِ رائے کے ساتھ اِس کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا کہ۔۔۔ نہیں!
    عورت مارچ بہت سالوں سے منعقد ہو رہا ہے مگر ہر بار وہاں متنازع بینرز، متنازع نعروں اور ڈانس کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ عورت مارچ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مارچ بیرون ملک سے لی گئی فنڈنگز پر چلتی ہے اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کے مشن پر گامزن ہے ایسا تب کہا گیا جب سوشل میڈیا پر عورت آزادی مارچ کی ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں کچھ لوگ ہم جنس پرستی کو کھلم کھلا سپورٹ کرتے پائے گئے۔ اِس کے علاوہ ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں اخلاقی دائرے سے یکسر باہر نکل کر نعرے بازی کی گئی مثلاً چیخ چیخ کر "والد سے لیں گے آزادی” جیسے نعرے لگائے گئے۔ "میرا جسم میری مرضی” اور اِس جیسے دوسرے متنازع بینرز تو خیر ہمیشہ سے ہی عورت آزادی مارچ کی ذینت ہیں اور اِس موضوع پر میڈیا میں آواز بھی بلند ہوتی رہی ہے۔
    عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ عورت مارچ میں کبھی وزیرستان، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور اندونِ سندھ جیسے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل کی نا تو کبھی بات ہوئی اور نا نشاندھی۔ وہ مزدور خواتین جن کی دیہاڑی اتنی بھی نہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں، وہ خواتین جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر مختلف معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہیں، وہ خواتیں جنہیں فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، وہ خواتین جن پر واقعی ظلم ہوتا ہے اور وراثت کے حصے سے محروم رکھا جاتا ہے اُن کے حقوق کے لیے آواز تو عورت آزادی مارچ میں کہیں دور دور تک سنائی نہیں دیتی۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب عورت آزادی مارچ میں پاکستانی عورتوں کے مسائل پر بات نہیں ہوتی، وہاں آنے والوں کا لباس، گفتگو، نعرے اور بینرز بھی اسلام اور پاکستانی ثقافت سے کوسوں دور ہوتے ہیں تو یہ مارچ بھلا کس طرح پاکستانی خواتین کی نمائندگی کر سکتی ہے؟
    کیا پاکستانی خواتین والد سے آزادی مانگ رہیں ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین مغربی لباس پہنے کی آزادی مانگ رہی ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین کو گھریلو کام کاج سے مسئلہ ہے؟
    کیا عوت آزادی مارچ نے اُن خواتین کو اُنکے حقوق دلوانے میں کوئی کردار ادا کیا جنہیں واقعی حقوق کی ضرورت ہے؟
    کیا مسائل کا حل مردوں کو برا بھلا کہنے سے ممکن ہے؟
    ان تمام سوالات کا ہمیشہ "نہیں” میں رہا۔
    عورت آزادی مارچ میں آنے والی خواتین کے پاس تو ہر حق، ہر آسائش اور ہر آزادی موجود ہے جن کے پاس کھلم کھلا ڈانس کرنے کی آزادی ہے، جینر اور سلیو لیس شرٹس پہن کر گھومنے کی آزادی ہے، چیخ چیخ کر متنازع نعرے لگانے کی آزادی ہے، ڈیفینس، اسلام آباد، کلفٹن، لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے اُنھیں مذید کس چیز کی آزادی چاہیے؟
    جس آزادی کی بات عورت آزادی مارچ میں کی جاتی ہے ایسی آزادی مغربی معاشرے کی زینت ہے۔ اسلامی و پاکستانی معاشرہ بلکل الگ طرز پر قائم ہے یہاں عورت خود کو اپنے خاندان کی عزت سمجھتی ہے۔ باپ، بھائی، شوہر، بیٹے اُس کا فخر ہوتے ہیں۔ عام پاکستانی خواتین تو عورت مارچ میں پیش کردہ لبرل خیالات رکھتی بھی نہیں۔
    اگر واقعی پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرنی ہو تو اُن کے حقوق کی بات ہونی چاہیے، جن معاشی مسائل کا خواتین کو سامنا ہے اُن مسائل کی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے، خواتین کو اُن کے حقوق کی اگاہی ملنی چاہیے، ڈومیسٹک وائلنس اور زیادتی کے خلاف مضبوط قوانین اور اُن کی بالادستی کا مطالبہ ہونا چاہیے، خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر زور دیا جانا چاہیے، خواتین کے لیے فلاحی ادارے اور صحت کے مراکز بنانے چاہیے۔
    یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشروں میں فرق ہوتا ہے۔ اسلامی یا پاکستانی معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی حدود و دائرہ کار میں رہ کر ممکن ہے کیونکہ ایسے حل کو لوگ قبول اور سپورٹ بھی کرتے ہیں مگر اگر ایک مسلم معاشرے میں موجود مسائل کا حل مغربی معاشرے کے طرز پر نکالنے کی کوشش کی جائے تو حل تو دور کی بات ہے اُلٹا لوگ مخالفت کرتے ہیں اور یوں نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔

    تحریر سیرت فاطمہ
    @FatimaSPak

  • اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ہم ایک ایسے معاشرے میں پلے بڑھے کے آجکل کے جو نئے مسلمان متعارف کروائے جارہے ہمیں لگتا جیسے ہم تو اسلام ہی نہیں جب کے حیرت کی بات یہ ہے کبھی کبھی مجھے خود پر شک ہونے لگتا کے کیا میں ایک سچا مسلمان ہوں جب جب ان نئے متعارف ہونے والے مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو اپنی پانچ وقت کی ادا کی گئی نمازوں پر شک ہونے لگتا کہ کیا میں نے جو نمازیں پڑھی میں نے ادا کی وہ غلط تھیں یا صحیح ۔
    ہمارے ماں باپ نے ہماری تربیت کچھ ایسے انداز میں کی کہ ہمیں اللہ کے بعد اپنے ماں باپ کا پھر انکے بعد اپنے مسلمان بھائی کا پھر اپنے ملک کا درد محسوس کرنا سیکھایا ۔
    یہ ہمارا کلچر کہیں یا ہمارا رہن سہن کہیں ہم تو بھئی اسی میں خوش رہنے والی قوم ہیں ۔
    ماں باپ سے سیکھا کے عورت کے ساتھ حس سلوک سے رہنا چاہیے ماں ہے تو احترام کی ہر حدیں پار کردو بیوی ہے تو "عزت ‘ محبت ” میں کوئی نہیں رہنی چاہیے اور بہن ہے تو اسکی حفاظت میں چاہیے جان بھی گنوانا پڑے تو ایک پل میں سوچے سمجھے بغیر گنوا دو ۔
    یہ سب ہمارے کلچر ہماری تہذیب اور ہماری روایات میں شامل کردیا جاتا ہے ۔
    یہ جو نیا اسلام ہمیں اور ہمارے معاشرے کو سیکھانے کی کوشش کی جا رہی وہ اسلام نہیں اسے ہم لبرلزم کہیں گے تو برا نہ ہوگا ۔عورت کو معاشرے میں کونسے ایسے حقوق دلوانے کے لئے یہ خواتین سڑکوں پر اپنے جسموں کی نمائش کرتے ہوئے یہ کہتی پھرتی کہ "میرا جسم میری مرضی” نظریں تیری گندی پردہ میں کروں ” لو بیٹھ گئی ” لو بتاو کہاں بیٹھ گئیں یہ محترمہ ؟ اور جب تنگ لباس پہنے دوپٹے بنا چھوٹی شرٹیں پہنے یہ سب نعرے لگاو گی تو ہر دیکھنے والے نے تم سب کو دیکھنا بھی ہے اور باتیں بھی کرنی ہے ۔اسلام ایسا تو نہیں اسلام میں عورت کا مقام ہی بہت اونچا ہے
    اللہ "سورہ نور ” کی آیت نمبر 31 مین اللہ تعالی فرماتا ہے ” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں کو کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ۔سوائے اس کے جو ظاہر ہے ۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں "۔
    جب اللہ نے یہ فرمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تو یہ سب کون ہیں جو ہمارے اسلام کو غلط رنگ میں ڈھال رہے ۔
    ہم ایسے معاشرے میں بڑھے اور جوان ہوئے اور آنے والی اپنی نسلوں کو بھی یہی نصیحت کریں گے کے اپنی بیوی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا اگر وہ کام کرکے تھک جائے تو میں کام کرلوں تو اس سے کیا میں اپنی بیوی کا نوکر ہوگیا؟ نہیں اس رشتے کو پیار احساس اور عزت کا نام دیتے ہیں ۔
    یہ ہے میرا اسلام میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت اور ہم ان کی سنت پر عمل کرکے چلتے ہیں ۔اسلام میں عورت کا مقام اللہ نے بہت اونچا رکھا ۔ یہ لوگ خالی اپنی آزادی چاہتیں ہیں اور ان جیسی عورتوں کا ٹھکانہ جہنم ہے

    تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ‎@Aahadpirzada

  • ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہر وہ چیز جو انسان کی طلب سے بڑھ جاے اور اچھائی اور برائی کا فرق ختم کر ڈالے ہوس کہلاتی ہے. خواہ دولت کی ہو، شہرت کی ہو، عزت کی یا سٹیٹس کی.
    اللہ کریم نے خود بھی قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱)حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲)
    ترجمہ: زیادہ مال زخیرہ کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا ۔ یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔
    اس سے علم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص، اور فخر کا اظہار کرنا مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی اُخروی سعادتوں سے محروم کو کر رہ جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ الحدید کی آیت نمبر 20 میں ارشاد فرماتا ہے.
    ترجمۂ : جان لو کہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل کود، زینت اور آپس میں فخر اور غرور کرنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر برتری چاہنا ہے ۔ دنیا کی زندگی بلکل ایسے ہی ہے جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہوا سبزہ کسانوں کواچھا لگے پھر وہ سبزہ سوکھ جاتے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا (جیسے بے کار) ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللّٰہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا( بھی ہے ) اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کاسامان ہے۔
    اور قرآن کریم لیں ارشاد فرمایا
    ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ سورۃ منافقون کی آیت نمبر 9 میں ارشاد فرمایا.
    ترجمۂ : اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللّٰہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
    اور پھر سورۃ التغابن کی آہت نمبر ۱۴-۱۶ میں ارشاد فرمایا

    ترجمۂ : اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کر دو اور بخش دو تو بیشک اللّٰہ بڑا بخشنے والا، بہت مہربان ہے ۔تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک (تمہارے لیے) آزمائش ہی ہیں اور اللّٰہ کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تو جہاں تک تم سے ہوسکے اللّٰہ سے ڈرو اور سنو اور حکم مانو اور راہِ خدا میں خرچ کرو یہ تمہاری جانوں کے لیے بہتر ہوگا اور جسے اس کے نفس کے لالچی پن سے بچا لیا گیا تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔
    احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو مزید واضح کر دیا گیا.
    حضرت مُطْرَف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا،اس وقت آپ سورہ التَّكَاثُرُ‘‘ کی تلاوت فرما رہے تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: ’’ابنِ آدم کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال،اے ابنِ آدم:تیرا مال وہی ہے جو تو نے کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔
    ایک اور روایت جو حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، اس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بندہ کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال، ا س کے لئے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں ایک جو ا س نے کھا کر فنا کر دیا۔دوسری جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا۔تیسری جو کسی کو دے کر(آخرت کے لئے) ذخیرہ کر لیا۔اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے

    مزید حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم !مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی،پھر تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور یہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کر دیا۔
    مزید حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے، سرکارِ دو عالَم محمدمصطفیٰ رہبردوجہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مال و اَسباب کی کثرت سے مالداری نہیں ہوتی بلکہ اصل مالداری تو دل کا غنی ہونا ہے، خدا کی قسم!مجھے تمہارے بارے میں محتاجی کا خوف نہیں ہے لیکن مجھے تمہارے بارے اس بات کا خوف ہے کہ تم کثرت ِمال کی ہوس میں مبتلا ہو جاؤ گے

    ایک روایت حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں وہ ان بکریوں کو اس سے زیادہ خراب نہیں کرتے جتنا مال اور عزت کی حرص انسان کے دین کو خراب کر دیتی ہے۔
    ان ارشادات و فرامین سے بھرپور آگہی ملتی ہے کہ اپنی طلب کو کنٹرول کرنا کتنا ضروری ہے۔
    نفس اور شیطان کے خلاف علم جہاد بلند کیجئیے۔ زندگی کے اصل مقصد کو سمجھئے. ہوس سے بچییے اور اللاہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں حتی الامکان کوشش کریں کی شیطان کی چالوں سے اپنے نفس کی حفاظت کی جاے اور اپنی طلب کو طلب کے درجے سے بڑھنے سے بچایا جائے
    تا کہ جب رب العالمین کی رحمت اپنے بندے کو پکارے تو بندے کو اس کی پکار سنائی دے۔ جب رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی صدا بلند ہو تو بندے کا نفس اسے سن کر اپنا قبلہ درست کر سکے۔ اپنے آپ کو رحمان کے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر قائم رکھنے اور اپنے اندر کے منصف کو زندہ رکھنے کے لیے
    نفس کے خلاف جہاد اتنا ہی ضروری ہے جتنا شیطان کے خلاف ضروری ہے۔ یاد رکھیں جس طرح شیطان سے جہاد، رحمن کا راستہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے اسی طرح نفس سے جہاد، رحمن کے راستے پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے محفوظ رہیں ہر طلب کو ہوس میں بدلنے سے۔ فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • ہمارا معاشرہ اور قانون تحریر: سحر عارف

    ہمارا معاشرہ اور قانون تحریر: سحر عارف

    ہمارے معاشرے میں ہر شخص کی زبان سے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے قانون اندھا ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں بدقسمتی سے ملک خداداد کے اندر وہ چیز اندھی ہے۔ جس نے پورا ایک معاشرہ قائم رکھنا ہوتا ہے ۔ جہاں انصاف قائم کرنے کے لئے قانون ہی اندھا ہو وہاں امن کیسے قائم ہو سکے گا۔

    ایسی جگہوں پر پورا معاشرہ اندھا اور بہرہ بن جاتا ہے اور پھر ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا۔ لوگوں کے سامنے ظلم ہو بھی رہا ہو تو لوگ کتراتے ہیں کہ ہمیں کیا ہم کیوں کسی دوسرے کی لڑائی کا حصہ بنیں۔اور پھر ظالم کو لوگ اپنا ہمدرد اور محافظ سمجھنے لگتے ہیں عزت کا معیار طاقت بن جاتی ہے۔ معاشرے کی بنیادوں میں ناانصافی ظلم جھوٹ اور کرپشن پائی جاتی ہے۔تو بتائیے ایسے میں معاشرے کیسے اپنے پائوں اور اصولوں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    ایسے معاشرے جہاں قانون نافذ کرنے والے انصاف قائم کرنے والے اپنی قیمت لگواتے ہیں۔ جہاں انصاف کرنے سے زیادہ اپنی عیاشیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو لوگ قانون کو ایک کتاب سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے جس نے جب چاہا پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔

    ایسے معاشروں میں ظلم بھی ہوتا ہے ناانصافیاں بھی ہوتی ہیں ۔ اور پھر وہاں انسانیت ختم ہو جاتی ہے سفاک حکمران مسلط ہو جاتے ہیں۔پھر وہاں قانون کی حیثیت ایک طوائف جیسی بن جاتی ہے۔ جس کا جب چاہا قیمت ادا کر کے خرید لیتے ہیں ایک مظلوم کو کئی سال انصاف کے لئے ٹھوکریں کھانے پڑھتے ہیں ۔جہاں طاقتور اور بااثر لوگ قانون کو توڑ کر بھی انصاف خرید لیتے ہیں وہاں انصاف کرنے والے قاضی کا کردار اس طوائف جیسا ہوتا ہے ۔جس کے سامنے گاہک کھڑے ہوں اور وہ اس کی بولی لگاتے ہیں۔

    ایک طوائف سے بھی زیادہ بدکردار ہیں وہ قاضی جو اپنا ضمیر ہی نہیں میری قوم کی نسلوں کا سودا کرتے ہیں۔ جو ایک ایسے مجرم کو چھوڑ دیتے ہیں۔ جو معاشرے کے لاکھوں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرتا ہے۔ جو ٹارگٹ کلنگ منشیات اور جسم فروشی جیسے دھندوں میں شامل ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے کا حصہ رہ کر شرم محسوس تو ہوتی ہے جہاں آپ اپنے حق کے لئے آواز اٹھائیں تو آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔

    یہاں ایک سوال تو بنتا ہے کہ کیا یہ ملک یہ آزاد ریاست صرف اشرافیہ کی ہے ۔کیا چند لوگ اس قوم اور ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں سفارش اور رشوت دے کر منصف کے منصب پر بیٹھنے والے یہ دو ٹکے کے ضمیر فروش لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟

    ایسے وطن فروش کس قانون کے تحت فیصلے اپنی مرضی سے کرتے کرتے ہیں میں ایک پاکستانی شہری ہوں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزاد فرد ہوں۔ میرا حق بنتا ہے میں ایسے قاضی سے سوال کروں وہ کس قانون کے تحت توہین عدالت ہر اس شہری پر لگا سکتا ہے جو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بات کرتا ہو۔ جس عدالت کے باہر چند ٹکوں کے بدلے جھوٹے گواہ ملتے ہیں۔ اسی عدالت کا قاضی جھوٹے فیصلوں کے لئے چند ٹکوں پر بک جاتا ہے ۔لگتا تو پھر ایسے ہی ہے کہ میرے ملک کے اندر جنگل کا قانون بھی نہیں ہے جانوروں کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہوں گے۔

    مگر یہاں میرے معاشرے میں تو ہر طاقتور وقت کا فرعون ہے۔کوئی بھی صاحب اقتدار ہر بااختیار خود کو وقت کا خدا سمجھ لیتا ہے۔

    ہم سب کو ایسے اشرافیہ کے خلاف اعلان بغاوت کرنا ہو گا ہم ایسے قانون کو نہیں مانتے جس میں طاقتور کو چھوڑ دیا جائے غریب کی زندگی تباہ کر دی جائے ۔کیا اس ملک کی بڑی عدالت میں بیٹھا وہ جج جواب دے گا۔ جس نے ہزاروں نواجوانوں کی زندگیاں اندھیری کوٹھڑیوں کی نظر کر دی ہیں۔ یاد رکھیں ایک عدالت خدا کی بھی ہے لیکن وہاں جانے سے پہلے میں سوال کرتی ہوں اگر انصاف قائم نہیں کر سکتے تو میں یہ حق محفوظ رکھتی ہوں ۔ ایسے قاضی کا گریبان ہو گا میرا ہاتھ ہو گا میں ایسے اندھے قانون پر یقین نہیں رکھتی جس میں منصف بھی اندھا ہو جس میں حاکم وقت بھی اندھا ہو جہاں پورا معاشرہ اندھا بن جائے۔
    @SeharSulehri

  • امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیر یا غریب ہونا نا تو عزت کا باعث ہے نا ہی ذلت کا ۔۔
    غربت کی سب سے بڑی وجہ روزگاری ہے اسلام آباد: مالی سال 21-2020 کے دوران ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 20-2019 کے دوران اس کی تعداد 58 لاکھ تھی۔ اس کی زمے داری نا تو آنے والی حکومت قبول کرتی ہے نا ہی جانے والی ۔۔ ہمارے ملک پاکستان میں امیر اور امیر ہوتا جا رہا ہے اور غریب اور غربت میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے نا جانے کیسے کیسے کر کے ماں باپ بچوں کی تعلیم مکمل کرواتے ہیں ان کے بہتر مستقبل کے لیے۔۔ اس پر تعلیم کا حال ایسا ہے نا تو ٹیچرز اس قابل ہیں جو بہتر تعلیم دے سکیں غریب انسان گورنمنٹ اسکول میں ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتا ہے وہ بھی مشکل سے۔۔
    اس پر ستم یہ ہے 90 فیصد گورنمنٹ اسکول میں سیاسی بھرتی ہوتی ہے کچھ گھر بیٹھ کر تنخواہ لیتے ہیں تو کچھ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہوتے ہیں ۔۔
    باقی جو بچتے ہیں وہ کیسے تمام مضامین پڑھا سکتے ہیں۔۔ صاحب حیثیت حضرت پرائیویٹ اسکول افورٹ کر لیتے ہیں اور کچھ تو بیرونے ملک تعلیم کے لیے بھیج دیتےہیں۔۔ کیا غریب کا کوئی مستقبل نہیں ہے کیا اس کو اچھی تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔۔
    جب اس کو بنیادی حقوق نہیں مل سکتے تو پھر کیوں ان سے ووٹ کی بھیک مانگ کر یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔۔ غریب انسان ہر بار دھوکا کھاتا ہے یہ سوچ کر اب کچھ اچھا ہوگا اب اس کے بچوں کا بہتر مستقبل ہوگا مگر کچھ مہینوں میں پتہ چلتا ہے ملک کی حالت خطرے میں ہے۔۔ پھر وہ بیچارہ اپنے ملک کے لیے دعا کرنے لگ جاتا ہے۔۔ آخر یہ سب کب تک چلے گا کیوں ہر بار اس کو امید کی دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے۔۔ اس سے بہتر ہے ایک بار ہی سچ بول کر قصہ ختم کر دیا جائے تا کے وہ اپنی زندگی میں ایسی خواہش تو نا کرئے جو وہ پوری نا ہو سکے۔۔ڈگریاں ملنے پر بھی درد درد کی ڈھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ڈگریاں وہ ہی بچے حاصل کرتے ہیں جو اپنے اور ماں باپ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔۔ ڈگریاں لے کر بھی ٹھیلا یا رکشہ یا بیکری یا فورٹ پانڈا یا شاپنگ مال پر ہی کام کرنا ہے تو پھر ماں باپ کو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دیلوانے کا کیا فائدہ۔۔اور اگر کیسی کے بیٹا نا ہو وہ تو بیچارہ ساری زندگی یہ ہی سوچ سوچ کے موت کے منہ میں چلا جائے گا اگر کل کو اس کو کچھ ہو گیا تو اس کی بیٹیوں کا کیا ہوگا۔۔ میرا یہ کہنے کا بھی ہرگز مطلب نہیں ہے کے نعوذباللہ اللہ ان کو چھوڑ دے گا۔ مگر میں ایک باپ ہونے کی حیثیت سے بول رہا ہوں۔۔ واللہ میں خود اللہ سے اپنے لیے اتنی زندگی کی گزارش کرتا ہوں یا رب مجھے اتنی زندگی دینا میں تیرے فضل وکرم کے ساتھ اپنی سب بیٹوں کو عزت سے رخصت کر سکوں۔۔

    غریب شہر تو فاقے سے مر گیا صاحب۔
    امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی۔

    غریب ہونا گناہ نہیں ہے پر اب لگتا ہے غربت ہی گناہ ہوتی جا رہی ہے۔۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہے۔۔
    @MSA_47

  • جھنڈا عظمت و رفعت کا نشان ہے اس کی بےتوقیری نہ کریں از قلم محمد عبداللہ

    جھنڈا عظمت و رفعت کا نشان ہے اس کی بےتوقیری نہ کریں از قلم محمد عبداللہ

    "چودہ اگست کے موقع پر چھوٹی جھنڈیاں لگانا”
    چھوٹی جھنڈیوں کے حوالے سے گزشتہ دنوں ایک پوسٹ کی تھی کہ اس کو لگانے سے گریز کریں تو اس پر کئی احباب نے میسجز کیے کہ جھنڈیاں لگانے میں کیا ایشو ہے تو دوستو ایشو کچھ نہیں ہے بس مسئلہ اتنا ہے کہ جھنڈا / پرچم کسی بھی قوم کی عظمت و رفعت کی علامت ہوتا ہے اور تبھی ہوتا ہے جب وہ کہیں گڑھا ہو، کہیں لگا ہو، ہواؤں میں فضاؤں میں لہرا رہا ہو.
    لیکن وہی پرچم جا جھنڈا اگر زمین پر گرا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم وہ ملک اپنی عظمت کھوچکا ہے، کسی لشکر نے اس کو تاراج کردیا ہوا ہے. ویسے تو ہمارے ہاں ثقافتی یلغاریں ہی کافی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس دفعہ بھی چودہ اگست بارشوں کے سیزن میں آرہا ہے اور چودہ اگست سے اگلے ہی دن راستوں میں، گلیوں میں، نالیوں میں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر جابجا سبز ہلالی پرچم بےبسی کی علامت بنا پڑا ہوتا ہے.
    اس میں کوئی شک نہیں کہ بچپن کی یادوں کو تازہ کرنا اور نسل نو کو ان سے وابستہ کرنے کے لیے آٹے کی لیوی بنا کر جھنڈیاں لگانا کتنا دلچسپ اور محبوب عمل ہے. میرا اپنا بھی شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے جو جھنڈیاں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں. گزشتہ سال میں نے اپنی بیٹی عشال جو اس وقت اڑھائی سال کی تھی اس کے ساتھ مل کر سبز ہلالی جھنڈیوں سے پورے گھر کو سجایا تھا اور پورے کام میں عشال کی خوشی اور جوش و خروش دیدنی تھا. ایک ایک جھنڈی کو بڑی عقیدت سے تھام کر، چوم کر مجھے دے رہی تھی اورکبھی ان کو لیوی لگاتی تھی .
    یقیناً آپ اور آپ کے بچے بھی ایسا کرنا چاہتے ہوں گے اور آپ کو حق حاصل ہے آپ ضرور کریں لیکن کوشش کریں کہ آپ کی لگائی ہوئی اک بھی جھنڈی کہیں نیچے گرکر پاؤں تلے نہ روندی جائے، وہ باسکٹ کا حصہ نہ بنے، وہ کوڑے کے ڈھیروں پر نظر نہ آئے، وہ نالیوں کے گندے پانی میں بےیارومددگار پڑی نہ رہ جائے.کیونکہ یہ سبز ہلالی پرچم ہمارے پیارے پاکستان کی رفعت و عظمت کا پرچم ہے، اس پرچم کے لیے ہزاروں نہیں لاکھوں قربانیاں ہیں. اس کی سربلندی کے لیے اس کے محافظ اپنی زندگیوں کو وار دیتے ہیں لیکن اس کو گرنے نہیں دیتے..
    تو آئیے ہم بھی عزم کریں کہ اس پرچم کی سربلندی کے لیے اپنی توانائیاں اور صلاحتییں صرف کریں گے اور اس سبز ہلالی پرچم کو کہیں جھکنے یا گرنے نہیں دیں گے.
    سدا رہنا پاکستان زندہ باد (ان شاءاللہ)
    محمد عبداللہ

  • جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے تحریر:حیأ انبساط

    ہمارا معاشرہ اس محاورے کی عملی مثال ہے کہ “جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے “ مغرب کی تقلید کرتے ہم اپنی روایات کو بھولتے جا رہے ہیں جب گھر پہ ہونے والے رنگ و روغن سے لیکر مردوں کے آفٹر شیو تک کے اشتہار میں عورت کو دیکھایا جائے تو ایسے معاشرے میں بےحیائی کا رونا اور بےراہروی کی شکایت جچتی نہیں ہے۔

    ‏کچھ عرصہ پہلے انسٹاگرام پہ ایک اداکارہ نے کسی کا انباکس میسچ اسکرین شاٹ لیکر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا تھا جس میں کسی حضرت نے ایک ملاقات کیلئے لاکھوں روپے آفر کیئے تھے جس کے جواب میں خاتون اداکارہ نے کافی تلخ جواب لکھا تھا جو میں تحریر کرنے سے قاصر ہوں- حال ہی میں ان کی طرف سے ایک اور اسکرین شاٹ شائع کیا گیا تھا جس میں پہلے کی طرح نازیبا فرمائش کی گئی تھی۔

    ‏اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان پبلک فگرز کو اپنی مرضی سے ٹاپ لیس ، بیک لیس ، سلیو لیس پہننے میں کوئی اعتراض نہیں ہوتا ؛ ان کے بقول یہ اُن کا کام ، ان کا پیشہ ہے جس کے لیئے وہ بھاری معاوضہ بھی وصول کرتیں ہیں ۔ مکمل سطر پوشی کے بارے میں بات کرنا انکے آگے دقیانوسی خیالات و روایات سمجھی جاتی ہیں اس سلسلے میں قرآن جیسی مقدس کتاب ،اللّٰہ کے احکامات کی طرف سے آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں اور اس کے نبی کی تعلیمات کو سُنا ان سُنا کر دیا جاتا ہے تو پھر ان معمولی انسانوں کے غیر اخلاقی میسجز کو تو نظر انداز کر دینا بہت ہی آسان سی بات نہیں ؟ کیوں رائی کا پہاڑ بنایا جاتا ہے ؟

    ‏جب آپ خود کبھی صابن کے اشتہار میں ، کبھی شیمپو کے اور کبھی مردوں کی شیونگ کریم کے اشتہارات میں کام کرنے کے لیئے معاوضہ وصول کرتی ہیں تو یہ چھوٹی سوچ کے حامل گھٹیا لوگ بھی آپ کو اور آپ کے کام کو دیکھتے ہوئے اپنی آفرز لیئے آپ کے ان باکس میں حاضر ہوجاتے ہیں ، انہیں بھی درگزر کیجیئے نا جس طرح قرآن کے واضح احکامات کو کر دیتیں ہیں۔

    ‏حالیہ ایوارڈ شو میں ماڈلز کے ملبوسات کے بارے میں تو کچھ کہنے کی میری مجال نہیں کہ اگر ان کے بارے میں ایک لفظ بھی کہہ دیا جائے تو بھاری اکثریت والی آبادی ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔ ان سیلیبرٹیز کے حق میں بولنے کیلئے تو بہت سے لوگ آجاتے ہیں ان کو ہراساں کرنے والوں کو لعن طعن کرنے والوں کی کثیر تعدار ہمیں سوشل میڈیا پہ لکھتی نظر آجاتی ہے مگر جب مختلف برانڈز کے قدآور پوسٹرز ، بل بورڈز میں آپکی تصاویر ہر چوراہے ، شاپنگ مالز کے اندر باہر آویزاں ہوں گی تو دیکھنے والے کا دل بھی مچل سکتا ہے اور جو طبقہ لاکھوں روپے افورڈ نہیں کر سکتا ان کی ذہنی گندگی ، درندگی اور زیادتی کا نشانہ مظلوم ،غریب، کم عمر بچیاں بنتی ہیں ۔

    ‏کبھی آپ نے سڑکوں پہ پھول بیچتی ، سگنل پہ گاڑیاں صاف کرتی بچیوں کے اوپر پڑتی لوگوں کی گندی اور کریہہ نظروں کے بارے میں سوچا ہے؟ کبھی ان معصوم ضرورت مند ، غریب بچیوں کے پیوند لگے ، گھسے ہوئے لباس سے مجبوری میں جھلکتے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے؟ ہزاروں روپے عورت مارچ ، آزادی مارچ میں لٹانے کے بجائے ان پیسوں سے ان مستحق بچیوں کو مکمل لباس دلوانے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا؟ جب کوئی حادثہ رونما ہو جاتا ہے تو ایک ہیش ٹیگ کچھ دن ٹائم لائن پہ گردش کرتا دیکھائی دیتا ہے ، احتجاج کیا جاتا ہے اور افسوس یہ کہ جو محرکات ہوتے ہیں وہی احتجاج میں بھی شامل نظر آتے ہیں ۔ حکومت اور اداروں کو لعن طعن کی جاتی ہے اور میں مانتی ہوں کہ سب ٹھیک ، درست ، بجا ؛ حکومت اور ادارے ذمہ دار مگر ہم انفرادی طور پہ اس سب کو ٹھیک کرنے کیلیۓ کیا کر رہے ہیں ؟؟

    ‏ میں ان پبلک فگرز کی اصلاح کیلیۓ نہیں لکھتی وہ لوگ خود بہت سمجھدار ہیں ، میں تو بس اپنے ملک کے معماروں کو، آنے والی نسلوں کی آمین بچیوں کو ، ان کمسن ذہنوں کو بےحیائی سے پراگندہ ہونے سے بچانا چاہتی ہوں جو ان مغربی تہذیب کے پیچھے اندھا دھند بھاگتی ایکٹریسز کی اندھی تقلید کر رہی ہیں کیونکہ یہ ہی بچے بچیاں ہمارے ملک و قوم کا مستقبل ہیں انکی اصلاح اور بہتر تربیت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

    ‏ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا عقیدۂ آخرت پہ کامل یقین ہے کہ اس دن ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا جو ظالم ہیں انکا کڑا احتساب بھی ہوگا ۔ عورتوں سے جب مکمل سطرپوشی کے بابت سوال کیا جائے گا تو ہو سکتا ہے ان معصوم بچیوں کو تو بحالتِ مجبوری نامکمل سطرپوشی کے معاملے میں اللّٰہ بخش دے لیکن ان خواتین کا کیا ہوگا جو جانتے بوجھتے اپنے ساتھ ۴ محرم ( باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹا) کو بھی جہنم رسید کرنے کے در پہ ہیں، یوں تو ہر انسان اپنے اعمال کا جوابدہ ہے مگر سوچیۓ گا ضرور !!

    ‏Twitter handle : ⁦‪@HaayaSays

  • ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    برصغیر پرپہلے مسلمان کے قدم رکھتے ہی نظریہ پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ مسلم و ہندو ایک نہیں دو الگ الگ اقوام؛ یہ تفریق جنس، رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس نظریہ کی بنیاد پر ہے جس سے زیادہ مضبوط بنیاد روئے زمیں پر کوئی اور ہو نہیں سکتی اور وہ ہے لا الہ الا اللہ۔ یہی کلمہ نظریہ پاکستان کی روح ہے اور مسلمانان عالم کا ایمان بھی۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی اور اسی عقیدہ پر تاقیامت قائم دائم رہے گی ان شاءاللہ۔

    تقسیم ہند سے پہلے برصغیر میں مختلف قومیتیں آباد تھیں جن میں ہندوؤں کی غالب اکثریت تھی۔ جب تک ہندوستان پر مسلمانوں کی حکمرانی رہی کبھی کوئی مسئلہ نہ ہوا کیونکہ دین اسلام رعایا کو مکمل مذہبی و معاشرتی آزادی دیتا۔ مسلم بادشاہت کے مختلف ادوار میں ہندو وزیروں مشیروں تک کے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں مذہب و سماج کے معاملات میں پوری آزادی و خودمختاری حاصل تھی۔ لیکن انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ کرتے ساتھ ہی ہندوؤں کی صدیوں پرانی چھپی مسلم دشمنی کھل کر سامنے آ گئی۔ ہندو بنیے کی ازلی فطرت "بغل میں چھری منہ میں رام رام” پورے طور پر آشکار ہو گئی۔ تہذیب، طرز بودو باش، نظریاتی فکر، کردار و عبادات‘ طرز معاشرت و معیشت غرض ہر شعبہ میں اختلاف کھل کر سامنے آ گئے۔ صدیوں سے ایک ساتھ رہتی دو الگ قومیتوں میں کوئی ایک چیز بھی مشترک نہ رہی۔
     اس نازک صورتحال میں کچھ مسلم اکابر و رہبران نے مسلمانوں کے حقوق حاصل کرنے کی ٹھانی کیونکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ ہندو بنیا نے اپنی مکاری و عیاری کے زریعے انگریز سرکار کو شیشے میں اتار لیا ہے اور تاج برطانیہ ہندو کو برصغیر کا اگلا حاکم تصور کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مربوط و منظم لائحہ عمل نہ اپنایا گیا تو مسلمانان برصغیر ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔ اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہو جہاں پر وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق آزادی سے زندگی بسرکرسکیں۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر سرکردہ رہنماؤں کی زیر قیادت انتھک جدوجہد کی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن یہ تقسیم ہندوؤں نے کبھی دل سے قبول نہیں کی۔

    قائد اعظم کی بہترین حکمت عملی کی بدولت انگریز اور ہندو نے مسلمانوں کے الگ ملک کے مطالبے کو تسلیم تو کر لیا لیکن ساتھ ہی تقسیم کے دوران منافرت، منافقت، اور تشدد آمیز رویے سے وہ بیج بویا جس کا زہریلا پھل آج بھی بھارتی مسلمان کھانے پر مجبور ہیں۔ کئی بتوں کے پجاری منہ میں کئی زبانیں اور سینے میں بغض و نفرت بھرا دل رکھتے ہیں۔ وہ متعصب قوم جس کی بنیاد ہی چھوت چھات اور ذات پات پر رکھی گئی ہو وہ بھلا کیسے ایک خدا کو ماننے والوں کو برداشت کر سکتے؟ مکاری میں ید طولیٰ رکھنے والے، جن کی پوری سیاست جھوٹ ‘ فراڈ‘ وعدہ خلافی اور دھوکا دہی کی بنیاد پر قائم ہے وہ بے غرض کیسے کسی اور قوم کے ہمدرد ہو سکتے؟

     قائداعظم ؒ، ڈاکٹر علامہ اقبالؒ، نوابزادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، سرسید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر اور دیگر رہنما و رہبر اگر اپنی دور اندیشی اور بصیرت افروزی کی بدولت آج کے ہندوتوا نظریے کو نہ جانچتے تو ہمارا حال بھی بھارتی و کشمیری مسلمانوں سے مختلف نہ ہوتا۔ جن کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں نہ جان۔ نہ مذہبی آزادی ہے اور نہ ہی کوئی معاشرتی مقام۔ گنتی کے چند مسلمان فنکار ہیں جن کو بھارت سیکولرازم کا جھوٹا چہرہ دنیا کو دکھانے کیلئے عزت دیتا اور وہ فنکار بھی ہندو سرکار کو خوش کرنے چکر میں آدھے تیتر اور آدھے بٹیر بن چکے ہیں۔ کبھی ہندو عورتوں سے شادی کرتے تو کبھی بتوں کو سجدہ کرتے۔ اس کے باوجود انتہا پسند ہندوؤں سے ان کو مسلسل خطرہ رہتا۔

    آئیے مل کر سجدہ شکر ادا کریں اور جدوجہد آزادی کے علمبرداروں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کریں جن کی بدولت ہم آزاد مملکت کی آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

    بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
    جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

    @once_says

  • تھوڑی سی برداشت   تحریر : شاہ زیب

    تھوڑی سی برداشت تحریر : شاہ زیب

    زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے ہم محنت کرتے ہیں، کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مقام حاصل کرلیتے ہیں۔
    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زندگی میں ایک اور چیز بھی بڑی اہم ہے جسے ہم تقریباً فراموش کر چکے ہیں۔
    بات ہو رہی ہے برداشت کی
    جی ہاں وہ ہی برداشت جو بطور معاشرہ
    بطور قوم
    بطور مسلمان
    ہم کہیں کھو چکے ہیں۔ آج کل ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر مقابلہ بازی میں مصروف ہے۔
    کسی نے ایک لفظ بھی ناپسندیدہ کہہ دیا تو ہم پر جیسے فرض ہو گیا اس کو بڑھ کر جواب دینا۔
    اگر کوئی ہمارے کسی کام یا بات پر تنقید کر دے تو ہم ایک منٹ رک کر یہ نہیں غور کرتے کہ واقعی اس نے یہ بات ٹھیک کی یا نہیں، ہمارے حق میں بہتر ہے یا نہیں؟
    ہم فوراً سے غصہ کر کے اس بات کا دگنا جواب دیتے ہیں۔ کیا ہو اگر ہم اس کی بات سن کر، اس پر غور کر کے خود کو بہتر کر لیں۔
    ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو اس کو دکھاوا کہا جائے گا ( کیا آپ لوگ اس انسان کی نیت کو ﷲ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں؟)
    اگر کوئی خوش ہے تو لوگ اس کو دیکھ کر بجائے خوش ہونے کے اس پر تنقید کریں گے۔
    کیا آپ اس کی خوشی میں خوش نہیں ہوسکتے؟
    چلیں اگر آپ ایسا نہیں بھی کرسکتے تو کم از کم اس کی خوشی برداشت کر لیں اور اس کو اپنے زہر سے غارت نہ کریں۔
    کسی کی خوشی میں، یا کسی کے غم میں اس کا ساتھ دینا یا پھر آپ کو یہ ناگوار گزرے تو برداشت سے کام لینا۔
    اس سے نہ صرف آپ کی زندگی میں سکون آۓ گا بلکہ معاشرے میں بھی تبدیلی آۓ گی۔
    جب آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کو برداشت کرنا شروع کر دیں گے تو ایک بہترین انسان بن کر سامنے آئیں گے۔
    اس کے سب سے پہلے آپ پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، پھر آپ کے ارد گرد رہنے والوں لوگوں پر۔
    جب وہ لوگ آپ کے اچھے رویے سے متاثر ہوں گے تو وہ بھی آپ جیسا بننے کی کوشش کریں گے۔
    اور اس طرح آہستہ آہستہ ہم بطور معاشرہ ایک مہذب معاشرہ بنیں گے۔ جس میں برداشت ہو گی۔
    جو چھوٹی چھوٹی بات پر بھڑک کر بڑی بڑی لڑائیاں نہیں کریں گے۔
    اور جب ہم ان چھوٹی باتوں سے آگے بڑھیں گے تو یقیناً ایک کامیاب قوم بنیں گے جو تبھی ممکن ہے جب ہم تھوڑی سی برداشت سے کام لینا شروع کریں گے۔

    ‎@shahzeb___