Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ہمارا معاشرہ اور قانون تحریر: سحر عارف

    ہمارا معاشرہ اور قانون تحریر: سحر عارف

    ہمارے معاشرے میں ہر شخص کی زبان سے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے قانون اندھا ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں بدقسمتی سے ملک خداداد کے اندر وہ چیز اندھی ہے۔ جس نے پورا ایک معاشرہ قائم رکھنا ہوتا ہے ۔ جہاں انصاف قائم کرنے کے لئے قانون ہی اندھا ہو وہاں امن کیسے قائم ہو سکے گا۔

    ایسی جگہوں پر پورا معاشرہ اندھا اور بہرہ بن جاتا ہے اور پھر ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا۔ لوگوں کے سامنے ظلم ہو بھی رہا ہو تو لوگ کتراتے ہیں کہ ہمیں کیا ہم کیوں کسی دوسرے کی لڑائی کا حصہ بنیں۔اور پھر ظالم کو لوگ اپنا ہمدرد اور محافظ سمجھنے لگتے ہیں عزت کا معیار طاقت بن جاتی ہے۔ معاشرے کی بنیادوں میں ناانصافی ظلم جھوٹ اور کرپشن پائی جاتی ہے۔تو بتائیے ایسے میں معاشرے کیسے اپنے پائوں اور اصولوں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    ایسے معاشرے جہاں قانون نافذ کرنے والے انصاف قائم کرنے والے اپنی قیمت لگواتے ہیں۔ جہاں انصاف کرنے سے زیادہ اپنی عیاشیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو لوگ قانون کو ایک کتاب سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے جس نے جب چاہا پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔

    ایسے معاشروں میں ظلم بھی ہوتا ہے ناانصافیاں بھی ہوتی ہیں ۔ اور پھر وہاں انسانیت ختم ہو جاتی ہے سفاک حکمران مسلط ہو جاتے ہیں۔پھر وہاں قانون کی حیثیت ایک طوائف جیسی بن جاتی ہے۔ جس کا جب چاہا قیمت ادا کر کے خرید لیتے ہیں ایک مظلوم کو کئی سال انصاف کے لئے ٹھوکریں کھانے پڑھتے ہیں ۔جہاں طاقتور اور بااثر لوگ قانون کو توڑ کر بھی انصاف خرید لیتے ہیں وہاں انصاف کرنے والے قاضی کا کردار اس طوائف جیسا ہوتا ہے ۔جس کے سامنے گاہک کھڑے ہوں اور وہ اس کی بولی لگاتے ہیں۔

    ایک طوائف سے بھی زیادہ بدکردار ہیں وہ قاضی جو اپنا ضمیر ہی نہیں میری قوم کی نسلوں کا سودا کرتے ہیں۔ جو ایک ایسے مجرم کو چھوڑ دیتے ہیں۔ جو معاشرے کے لاکھوں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرتا ہے۔ جو ٹارگٹ کلنگ منشیات اور جسم فروشی جیسے دھندوں میں شامل ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے کا حصہ رہ کر شرم محسوس تو ہوتی ہے جہاں آپ اپنے حق کے لئے آواز اٹھائیں تو آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔

    یہاں ایک سوال تو بنتا ہے کہ کیا یہ ملک یہ آزاد ریاست صرف اشرافیہ کی ہے ۔کیا چند لوگ اس قوم اور ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں سفارش اور رشوت دے کر منصف کے منصب پر بیٹھنے والے یہ دو ٹکے کے ضمیر فروش لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟

    ایسے وطن فروش کس قانون کے تحت فیصلے اپنی مرضی سے کرتے کرتے ہیں میں ایک پاکستانی شہری ہوں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزاد فرد ہوں۔ میرا حق بنتا ہے میں ایسے قاضی سے سوال کروں وہ کس قانون کے تحت توہین عدالت ہر اس شہری پر لگا سکتا ہے جو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بات کرتا ہو۔ جس عدالت کے باہر چند ٹکوں کے بدلے جھوٹے گواہ ملتے ہیں۔ اسی عدالت کا قاضی جھوٹے فیصلوں کے لئے چند ٹکوں پر بک جاتا ہے ۔لگتا تو پھر ایسے ہی ہے کہ میرے ملک کے اندر جنگل کا قانون بھی نہیں ہے جانوروں کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہوں گے۔

    مگر یہاں میرے معاشرے میں تو ہر طاقتور وقت کا فرعون ہے۔کوئی بھی صاحب اقتدار ہر بااختیار خود کو وقت کا خدا سمجھ لیتا ہے۔

    ہم سب کو ایسے اشرافیہ کے خلاف اعلان بغاوت کرنا ہو گا ہم ایسے قانون کو نہیں مانتے جس میں طاقتور کو چھوڑ دیا جائے غریب کی زندگی تباہ کر دی جائے ۔کیا اس ملک کی بڑی عدالت میں بیٹھا وہ جج جواب دے گا۔ جس نے ہزاروں نواجوانوں کی زندگیاں اندھیری کوٹھڑیوں کی نظر کر دی ہیں۔ یاد رکھیں ایک عدالت خدا کی بھی ہے لیکن وہاں جانے سے پہلے میں سوال کرتی ہوں اگر انصاف قائم نہیں کر سکتے تو میں یہ حق محفوظ رکھتی ہوں ۔ ایسے قاضی کا گریبان ہو گا میرا ہاتھ ہو گا میں ایسے اندھے قانون پر یقین نہیں رکھتی جس میں منصف بھی اندھا ہو جس میں حاکم وقت بھی اندھا ہو جہاں پورا معاشرہ اندھا بن جائے۔
    @SeharSulehri

  • امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیر یا غریب ہونا نا تو عزت کا باعث ہے نا ہی ذلت کا ۔۔
    غربت کی سب سے بڑی وجہ روزگاری ہے اسلام آباد: مالی سال 21-2020 کے دوران ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 20-2019 کے دوران اس کی تعداد 58 لاکھ تھی۔ اس کی زمے داری نا تو آنے والی حکومت قبول کرتی ہے نا ہی جانے والی ۔۔ ہمارے ملک پاکستان میں امیر اور امیر ہوتا جا رہا ہے اور غریب اور غربت میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے نا جانے کیسے کیسے کر کے ماں باپ بچوں کی تعلیم مکمل کرواتے ہیں ان کے بہتر مستقبل کے لیے۔۔ اس پر تعلیم کا حال ایسا ہے نا تو ٹیچرز اس قابل ہیں جو بہتر تعلیم دے سکیں غریب انسان گورنمنٹ اسکول میں ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتا ہے وہ بھی مشکل سے۔۔
    اس پر ستم یہ ہے 90 فیصد گورنمنٹ اسکول میں سیاسی بھرتی ہوتی ہے کچھ گھر بیٹھ کر تنخواہ لیتے ہیں تو کچھ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہوتے ہیں ۔۔
    باقی جو بچتے ہیں وہ کیسے تمام مضامین پڑھا سکتے ہیں۔۔ صاحب حیثیت حضرت پرائیویٹ اسکول افورٹ کر لیتے ہیں اور کچھ تو بیرونے ملک تعلیم کے لیے بھیج دیتےہیں۔۔ کیا غریب کا کوئی مستقبل نہیں ہے کیا اس کو اچھی تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔۔
    جب اس کو بنیادی حقوق نہیں مل سکتے تو پھر کیوں ان سے ووٹ کی بھیک مانگ کر یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔۔ غریب انسان ہر بار دھوکا کھاتا ہے یہ سوچ کر اب کچھ اچھا ہوگا اب اس کے بچوں کا بہتر مستقبل ہوگا مگر کچھ مہینوں میں پتہ چلتا ہے ملک کی حالت خطرے میں ہے۔۔ پھر وہ بیچارہ اپنے ملک کے لیے دعا کرنے لگ جاتا ہے۔۔ آخر یہ سب کب تک چلے گا کیوں ہر بار اس کو امید کی دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے۔۔ اس سے بہتر ہے ایک بار ہی سچ بول کر قصہ ختم کر دیا جائے تا کے وہ اپنی زندگی میں ایسی خواہش تو نا کرئے جو وہ پوری نا ہو سکے۔۔ڈگریاں ملنے پر بھی درد درد کی ڈھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ڈگریاں وہ ہی بچے حاصل کرتے ہیں جو اپنے اور ماں باپ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔۔ ڈگریاں لے کر بھی ٹھیلا یا رکشہ یا بیکری یا فورٹ پانڈا یا شاپنگ مال پر ہی کام کرنا ہے تو پھر ماں باپ کو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دیلوانے کا کیا فائدہ۔۔اور اگر کیسی کے بیٹا نا ہو وہ تو بیچارہ ساری زندگی یہ ہی سوچ سوچ کے موت کے منہ میں چلا جائے گا اگر کل کو اس کو کچھ ہو گیا تو اس کی بیٹیوں کا کیا ہوگا۔۔ میرا یہ کہنے کا بھی ہرگز مطلب نہیں ہے کے نعوذباللہ اللہ ان کو چھوڑ دے گا۔ مگر میں ایک باپ ہونے کی حیثیت سے بول رہا ہوں۔۔ واللہ میں خود اللہ سے اپنے لیے اتنی زندگی کی گزارش کرتا ہوں یا رب مجھے اتنی زندگی دینا میں تیرے فضل وکرم کے ساتھ اپنی سب بیٹوں کو عزت سے رخصت کر سکوں۔۔

    غریب شہر تو فاقے سے مر گیا صاحب۔
    امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی۔

    غریب ہونا گناہ نہیں ہے پر اب لگتا ہے غربت ہی گناہ ہوتی جا رہی ہے۔۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہے۔۔
    @MSA_47

  • جھنڈا عظمت و رفعت کا نشان ہے اس کی بےتوقیری نہ کریں از قلم محمد عبداللہ

    جھنڈا عظمت و رفعت کا نشان ہے اس کی بےتوقیری نہ کریں از قلم محمد عبداللہ

    "چودہ اگست کے موقع پر چھوٹی جھنڈیاں لگانا”
    چھوٹی جھنڈیوں کے حوالے سے گزشتہ دنوں ایک پوسٹ کی تھی کہ اس کو لگانے سے گریز کریں تو اس پر کئی احباب نے میسجز کیے کہ جھنڈیاں لگانے میں کیا ایشو ہے تو دوستو ایشو کچھ نہیں ہے بس مسئلہ اتنا ہے کہ جھنڈا / پرچم کسی بھی قوم کی عظمت و رفعت کی علامت ہوتا ہے اور تبھی ہوتا ہے جب وہ کہیں گڑھا ہو، کہیں لگا ہو، ہواؤں میں فضاؤں میں لہرا رہا ہو.
    لیکن وہی پرچم جا جھنڈا اگر زمین پر گرا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم وہ ملک اپنی عظمت کھوچکا ہے، کسی لشکر نے اس کو تاراج کردیا ہوا ہے. ویسے تو ہمارے ہاں ثقافتی یلغاریں ہی کافی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس دفعہ بھی چودہ اگست بارشوں کے سیزن میں آرہا ہے اور چودہ اگست سے اگلے ہی دن راستوں میں، گلیوں میں، نالیوں میں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر جابجا سبز ہلالی پرچم بےبسی کی علامت بنا پڑا ہوتا ہے.
    اس میں کوئی شک نہیں کہ بچپن کی یادوں کو تازہ کرنا اور نسل نو کو ان سے وابستہ کرنے کے لیے آٹے کی لیوی بنا کر جھنڈیاں لگانا کتنا دلچسپ اور محبوب عمل ہے. میرا اپنا بھی شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے جو جھنڈیاں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں. گزشتہ سال میں نے اپنی بیٹی عشال جو اس وقت اڑھائی سال کی تھی اس کے ساتھ مل کر سبز ہلالی جھنڈیوں سے پورے گھر کو سجایا تھا اور پورے کام میں عشال کی خوشی اور جوش و خروش دیدنی تھا. ایک ایک جھنڈی کو بڑی عقیدت سے تھام کر، چوم کر مجھے دے رہی تھی اورکبھی ان کو لیوی لگاتی تھی .
    یقیناً آپ اور آپ کے بچے بھی ایسا کرنا چاہتے ہوں گے اور آپ کو حق حاصل ہے آپ ضرور کریں لیکن کوشش کریں کہ آپ کی لگائی ہوئی اک بھی جھنڈی کہیں نیچے گرکر پاؤں تلے نہ روندی جائے، وہ باسکٹ کا حصہ نہ بنے، وہ کوڑے کے ڈھیروں پر نظر نہ آئے، وہ نالیوں کے گندے پانی میں بےیارومددگار پڑی نہ رہ جائے.کیونکہ یہ سبز ہلالی پرچم ہمارے پیارے پاکستان کی رفعت و عظمت کا پرچم ہے، اس پرچم کے لیے ہزاروں نہیں لاکھوں قربانیاں ہیں. اس کی سربلندی کے لیے اس کے محافظ اپنی زندگیوں کو وار دیتے ہیں لیکن اس کو گرنے نہیں دیتے..
    تو آئیے ہم بھی عزم کریں کہ اس پرچم کی سربلندی کے لیے اپنی توانائیاں اور صلاحتییں صرف کریں گے اور اس سبز ہلالی پرچم کو کہیں جھکنے یا گرنے نہیں دیں گے.
    سدا رہنا پاکستان زندہ باد (ان شاءاللہ)
    محمد عبداللہ

  • جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے تحریر:حیأ انبساط

    ہمارا معاشرہ اس محاورے کی عملی مثال ہے کہ “جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے “ مغرب کی تقلید کرتے ہم اپنی روایات کو بھولتے جا رہے ہیں جب گھر پہ ہونے والے رنگ و روغن سے لیکر مردوں کے آفٹر شیو تک کے اشتہار میں عورت کو دیکھایا جائے تو ایسے معاشرے میں بےحیائی کا رونا اور بےراہروی کی شکایت جچتی نہیں ہے۔

    ‏کچھ عرصہ پہلے انسٹاگرام پہ ایک اداکارہ نے کسی کا انباکس میسچ اسکرین شاٹ لیکر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا تھا جس میں کسی حضرت نے ایک ملاقات کیلئے لاکھوں روپے آفر کیئے تھے جس کے جواب میں خاتون اداکارہ نے کافی تلخ جواب لکھا تھا جو میں تحریر کرنے سے قاصر ہوں- حال ہی میں ان کی طرف سے ایک اور اسکرین شاٹ شائع کیا گیا تھا جس میں پہلے کی طرح نازیبا فرمائش کی گئی تھی۔

    ‏اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان پبلک فگرز کو اپنی مرضی سے ٹاپ لیس ، بیک لیس ، سلیو لیس پہننے میں کوئی اعتراض نہیں ہوتا ؛ ان کے بقول یہ اُن کا کام ، ان کا پیشہ ہے جس کے لیئے وہ بھاری معاوضہ بھی وصول کرتیں ہیں ۔ مکمل سطر پوشی کے بارے میں بات کرنا انکے آگے دقیانوسی خیالات و روایات سمجھی جاتی ہیں اس سلسلے میں قرآن جیسی مقدس کتاب ،اللّٰہ کے احکامات کی طرف سے آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں اور اس کے نبی کی تعلیمات کو سُنا ان سُنا کر دیا جاتا ہے تو پھر ان معمولی انسانوں کے غیر اخلاقی میسجز کو تو نظر انداز کر دینا بہت ہی آسان سی بات نہیں ؟ کیوں رائی کا پہاڑ بنایا جاتا ہے ؟

    ‏جب آپ خود کبھی صابن کے اشتہار میں ، کبھی شیمپو کے اور کبھی مردوں کی شیونگ کریم کے اشتہارات میں کام کرنے کے لیئے معاوضہ وصول کرتی ہیں تو یہ چھوٹی سوچ کے حامل گھٹیا لوگ بھی آپ کو اور آپ کے کام کو دیکھتے ہوئے اپنی آفرز لیئے آپ کے ان باکس میں حاضر ہوجاتے ہیں ، انہیں بھی درگزر کیجیئے نا جس طرح قرآن کے واضح احکامات کو کر دیتیں ہیں۔

    ‏حالیہ ایوارڈ شو میں ماڈلز کے ملبوسات کے بارے میں تو کچھ کہنے کی میری مجال نہیں کہ اگر ان کے بارے میں ایک لفظ بھی کہہ دیا جائے تو بھاری اکثریت والی آبادی ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔ ان سیلیبرٹیز کے حق میں بولنے کیلئے تو بہت سے لوگ آجاتے ہیں ان کو ہراساں کرنے والوں کو لعن طعن کرنے والوں کی کثیر تعدار ہمیں سوشل میڈیا پہ لکھتی نظر آجاتی ہے مگر جب مختلف برانڈز کے قدآور پوسٹرز ، بل بورڈز میں آپکی تصاویر ہر چوراہے ، شاپنگ مالز کے اندر باہر آویزاں ہوں گی تو دیکھنے والے کا دل بھی مچل سکتا ہے اور جو طبقہ لاکھوں روپے افورڈ نہیں کر سکتا ان کی ذہنی گندگی ، درندگی اور زیادتی کا نشانہ مظلوم ،غریب، کم عمر بچیاں بنتی ہیں ۔

    ‏کبھی آپ نے سڑکوں پہ پھول بیچتی ، سگنل پہ گاڑیاں صاف کرتی بچیوں کے اوپر پڑتی لوگوں کی گندی اور کریہہ نظروں کے بارے میں سوچا ہے؟ کبھی ان معصوم ضرورت مند ، غریب بچیوں کے پیوند لگے ، گھسے ہوئے لباس سے مجبوری میں جھلکتے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے؟ ہزاروں روپے عورت مارچ ، آزادی مارچ میں لٹانے کے بجائے ان پیسوں سے ان مستحق بچیوں کو مکمل لباس دلوانے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا؟ جب کوئی حادثہ رونما ہو جاتا ہے تو ایک ہیش ٹیگ کچھ دن ٹائم لائن پہ گردش کرتا دیکھائی دیتا ہے ، احتجاج کیا جاتا ہے اور افسوس یہ کہ جو محرکات ہوتے ہیں وہی احتجاج میں بھی شامل نظر آتے ہیں ۔ حکومت اور اداروں کو لعن طعن کی جاتی ہے اور میں مانتی ہوں کہ سب ٹھیک ، درست ، بجا ؛ حکومت اور ادارے ذمہ دار مگر ہم انفرادی طور پہ اس سب کو ٹھیک کرنے کیلیۓ کیا کر رہے ہیں ؟؟

    ‏ میں ان پبلک فگرز کی اصلاح کیلیۓ نہیں لکھتی وہ لوگ خود بہت سمجھدار ہیں ، میں تو بس اپنے ملک کے معماروں کو، آنے والی نسلوں کی آمین بچیوں کو ، ان کمسن ذہنوں کو بےحیائی سے پراگندہ ہونے سے بچانا چاہتی ہوں جو ان مغربی تہذیب کے پیچھے اندھا دھند بھاگتی ایکٹریسز کی اندھی تقلید کر رہی ہیں کیونکہ یہ ہی بچے بچیاں ہمارے ملک و قوم کا مستقبل ہیں انکی اصلاح اور بہتر تربیت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

    ‏ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا عقیدۂ آخرت پہ کامل یقین ہے کہ اس دن ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا جو ظالم ہیں انکا کڑا احتساب بھی ہوگا ۔ عورتوں سے جب مکمل سطرپوشی کے بابت سوال کیا جائے گا تو ہو سکتا ہے ان معصوم بچیوں کو تو بحالتِ مجبوری نامکمل سطرپوشی کے معاملے میں اللّٰہ بخش دے لیکن ان خواتین کا کیا ہوگا جو جانتے بوجھتے اپنے ساتھ ۴ محرم ( باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹا) کو بھی جہنم رسید کرنے کے در پہ ہیں، یوں تو ہر انسان اپنے اعمال کا جوابدہ ہے مگر سوچیۓ گا ضرور !!

    ‏Twitter handle : ⁦‪@HaayaSays

  • ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    برصغیر پرپہلے مسلمان کے قدم رکھتے ہی نظریہ پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ مسلم و ہندو ایک نہیں دو الگ الگ اقوام؛ یہ تفریق جنس، رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس نظریہ کی بنیاد پر ہے جس سے زیادہ مضبوط بنیاد روئے زمیں پر کوئی اور ہو نہیں سکتی اور وہ ہے لا الہ الا اللہ۔ یہی کلمہ نظریہ پاکستان کی روح ہے اور مسلمانان عالم کا ایمان بھی۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی اور اسی عقیدہ پر تاقیامت قائم دائم رہے گی ان شاءاللہ۔

    تقسیم ہند سے پہلے برصغیر میں مختلف قومیتیں آباد تھیں جن میں ہندوؤں کی غالب اکثریت تھی۔ جب تک ہندوستان پر مسلمانوں کی حکمرانی رہی کبھی کوئی مسئلہ نہ ہوا کیونکہ دین اسلام رعایا کو مکمل مذہبی و معاشرتی آزادی دیتا۔ مسلم بادشاہت کے مختلف ادوار میں ہندو وزیروں مشیروں تک کے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں مذہب و سماج کے معاملات میں پوری آزادی و خودمختاری حاصل تھی۔ لیکن انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ کرتے ساتھ ہی ہندوؤں کی صدیوں پرانی چھپی مسلم دشمنی کھل کر سامنے آ گئی۔ ہندو بنیے کی ازلی فطرت "بغل میں چھری منہ میں رام رام” پورے طور پر آشکار ہو گئی۔ تہذیب، طرز بودو باش، نظریاتی فکر، کردار و عبادات‘ طرز معاشرت و معیشت غرض ہر شعبہ میں اختلاف کھل کر سامنے آ گئے۔ صدیوں سے ایک ساتھ رہتی دو الگ قومیتوں میں کوئی ایک چیز بھی مشترک نہ رہی۔
     اس نازک صورتحال میں کچھ مسلم اکابر و رہبران نے مسلمانوں کے حقوق حاصل کرنے کی ٹھانی کیونکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ ہندو بنیا نے اپنی مکاری و عیاری کے زریعے انگریز سرکار کو شیشے میں اتار لیا ہے اور تاج برطانیہ ہندو کو برصغیر کا اگلا حاکم تصور کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مربوط و منظم لائحہ عمل نہ اپنایا گیا تو مسلمانان برصغیر ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔ اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہو جہاں پر وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق آزادی سے زندگی بسرکرسکیں۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر سرکردہ رہنماؤں کی زیر قیادت انتھک جدوجہد کی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن یہ تقسیم ہندوؤں نے کبھی دل سے قبول نہیں کی۔

    قائد اعظم کی بہترین حکمت عملی کی بدولت انگریز اور ہندو نے مسلمانوں کے الگ ملک کے مطالبے کو تسلیم تو کر لیا لیکن ساتھ ہی تقسیم کے دوران منافرت، منافقت، اور تشدد آمیز رویے سے وہ بیج بویا جس کا زہریلا پھل آج بھی بھارتی مسلمان کھانے پر مجبور ہیں۔ کئی بتوں کے پجاری منہ میں کئی زبانیں اور سینے میں بغض و نفرت بھرا دل رکھتے ہیں۔ وہ متعصب قوم جس کی بنیاد ہی چھوت چھات اور ذات پات پر رکھی گئی ہو وہ بھلا کیسے ایک خدا کو ماننے والوں کو برداشت کر سکتے؟ مکاری میں ید طولیٰ رکھنے والے، جن کی پوری سیاست جھوٹ ‘ فراڈ‘ وعدہ خلافی اور دھوکا دہی کی بنیاد پر قائم ہے وہ بے غرض کیسے کسی اور قوم کے ہمدرد ہو سکتے؟

     قائداعظم ؒ، ڈاکٹر علامہ اقبالؒ، نوابزادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، سرسید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر اور دیگر رہنما و رہبر اگر اپنی دور اندیشی اور بصیرت افروزی کی بدولت آج کے ہندوتوا نظریے کو نہ جانچتے تو ہمارا حال بھی بھارتی و کشمیری مسلمانوں سے مختلف نہ ہوتا۔ جن کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں نہ جان۔ نہ مذہبی آزادی ہے اور نہ ہی کوئی معاشرتی مقام۔ گنتی کے چند مسلمان فنکار ہیں جن کو بھارت سیکولرازم کا جھوٹا چہرہ دنیا کو دکھانے کیلئے عزت دیتا اور وہ فنکار بھی ہندو سرکار کو خوش کرنے چکر میں آدھے تیتر اور آدھے بٹیر بن چکے ہیں۔ کبھی ہندو عورتوں سے شادی کرتے تو کبھی بتوں کو سجدہ کرتے۔ اس کے باوجود انتہا پسند ہندوؤں سے ان کو مسلسل خطرہ رہتا۔

    آئیے مل کر سجدہ شکر ادا کریں اور جدوجہد آزادی کے علمبرداروں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کریں جن کی بدولت ہم آزاد مملکت کی آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

    بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
    جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

    @once_says

  • تھوڑی سی برداشت   تحریر : شاہ زیب

    تھوڑی سی برداشت تحریر : شاہ زیب

    زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے ہم محنت کرتے ہیں، کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مقام حاصل کرلیتے ہیں۔
    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زندگی میں ایک اور چیز بھی بڑی اہم ہے جسے ہم تقریباً فراموش کر چکے ہیں۔
    بات ہو رہی ہے برداشت کی
    جی ہاں وہ ہی برداشت جو بطور معاشرہ
    بطور قوم
    بطور مسلمان
    ہم کہیں کھو چکے ہیں۔ آج کل ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر مقابلہ بازی میں مصروف ہے۔
    کسی نے ایک لفظ بھی ناپسندیدہ کہہ دیا تو ہم پر جیسے فرض ہو گیا اس کو بڑھ کر جواب دینا۔
    اگر کوئی ہمارے کسی کام یا بات پر تنقید کر دے تو ہم ایک منٹ رک کر یہ نہیں غور کرتے کہ واقعی اس نے یہ بات ٹھیک کی یا نہیں، ہمارے حق میں بہتر ہے یا نہیں؟
    ہم فوراً سے غصہ کر کے اس بات کا دگنا جواب دیتے ہیں۔ کیا ہو اگر ہم اس کی بات سن کر، اس پر غور کر کے خود کو بہتر کر لیں۔
    ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو اس کو دکھاوا کہا جائے گا ( کیا آپ لوگ اس انسان کی نیت کو ﷲ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں؟)
    اگر کوئی خوش ہے تو لوگ اس کو دیکھ کر بجائے خوش ہونے کے اس پر تنقید کریں گے۔
    کیا آپ اس کی خوشی میں خوش نہیں ہوسکتے؟
    چلیں اگر آپ ایسا نہیں بھی کرسکتے تو کم از کم اس کی خوشی برداشت کر لیں اور اس کو اپنے زہر سے غارت نہ کریں۔
    کسی کی خوشی میں، یا کسی کے غم میں اس کا ساتھ دینا یا پھر آپ کو یہ ناگوار گزرے تو برداشت سے کام لینا۔
    اس سے نہ صرف آپ کی زندگی میں سکون آۓ گا بلکہ معاشرے میں بھی تبدیلی آۓ گی۔
    جب آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کو برداشت کرنا شروع کر دیں گے تو ایک بہترین انسان بن کر سامنے آئیں گے۔
    اس کے سب سے پہلے آپ پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، پھر آپ کے ارد گرد رہنے والوں لوگوں پر۔
    جب وہ لوگ آپ کے اچھے رویے سے متاثر ہوں گے تو وہ بھی آپ جیسا بننے کی کوشش کریں گے۔
    اور اس طرح آہستہ آہستہ ہم بطور معاشرہ ایک مہذب معاشرہ بنیں گے۔ جس میں برداشت ہو گی۔
    جو چھوٹی چھوٹی بات پر بھڑک کر بڑی بڑی لڑائیاں نہیں کریں گے۔
    اور جب ہم ان چھوٹی باتوں سے آگے بڑھیں گے تو یقیناً ایک کامیاب قوم بنیں گے جو تبھی ممکن ہے جب ہم تھوڑی سی برداشت سے کام لینا شروع کریں گے۔

    ‎@shahzeb___

  • حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    **

    عورت رب العزت کی سب سے پیاری مخلوق ہے اور ایک مومن عورت تو بالکل انمول موتی کی مانند ہے۔ اس میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت سی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اسلام نے عورت کو اگر پردے کا حکم دیا ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے جیسے ہم اپنی سب سے خوبصورت چیز کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی اور اسے دیکھ نا سکے اور وہ ہمیشہ محفوظ رہے تو ٹھیک اسی طرح عورت کو بھی اللّٰہ نے پردے کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ وہ محفوظ رہے۔

    ایسے ہی مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ خود کو انمول سمجھتے ہوئے اللّٰہ کے ہر حکم کی تعمیل کرے اور اللّٰہ کی بتائی ہوئی حدود کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرے۔

    اگر تاریخ دیکھی جائے تو اس بات کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام سے قبل عورت ذات کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جاتا تھا۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں پیدا ہوتی تو باعثِ ذلت اور باعثِ شرمندگی سمجھ کر انھیں زندہ درگور کردیا جاتا۔ انھیں گھروں سے باہر نکلیں تک کی آزادی نا تھی۔ یہاں تک کہ عورت ذات کی عصمت تک محفوظ نہیں تھی۔

    پھر ایسے میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ہوئی جو پوری کائنات کے لیے رحمت العالمین بن کر آئے۔ آپ کی آمد سے عورتوں کو ان کے حقوق ملے۔ یہ اللہ کا دین ہی تو ہے جس نے عورت کو ہر روپ میں الگ مقام اور حیثیت دی ہے۔

    اگر عورت ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ اگر عورت بیوی ہے تو شوہر کی وفادار ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے”۔ عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔ فرمایا گیا: "جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سیکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے”.

    بےشک اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا اور اسے عورت ہونے کا اصل مقام اور عزت بخشی۔ اللّٰہ پاک نے قرآن پاک میں عورتوں کے وہ تمام حقوق بیان کیے ہیں جو کسی بھی اور مذہب میں نہیں ملتے اور نہ ہی ان مذاہب کی کسی کتاب میں ملتے ہیں۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن پاک میں بھی مردوں کی نسبت عورتوں کا ذکر زیادہ بار آیا ہے۔

    اسی طرح اسلام نے عورت کو بےشمار حقوق سے بھی نوازا ہے۔ شوہر کے انتخاب سے لے کر آزادی رائے تک کے تمام حقوق عورت کو حاصل ہیں وہ جب چاہے اپنے ان تمام حقوق کو استعمال کرسکتی ہے۔ جہاں اسلام نے اتنے حقوق دیے ہیں وہاں عورتوں کے لیے کچھ حدیں بھی مقرر کی ہیں جس کا مقصد صرف عورت کی حفاظت ہے۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سے قبل کسی عورت کو ایسے کوئی حقوق حاصل نہیں تھے یا یوں کہوں کے حقوق جیسے لفظ تک سے کوئی بھی عورت واقف نہیں تھی کیونکہ اس وقت یہ لفظ ان کے لیے شاید بنا ہی نہیں تھا۔ مگر اسلام نے عورت کو یہ تمام حقوق دیے۔ لیکن افسوس سے یہ بات کہنی پڑے گی کہ ان تمام حقوق کے بعد بھی آج کے دور میں مسلمان عورت پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرف چل پڑی ہے۔ وہ اپنا وہ مقام جو اسلام نے اسے دیا ہے اپنے ہاتھوں سے خود ہی ختم کرنے کی کوششوں میں لگی ہے اور مغربی ممالک کی پیروی کررہی ہے۔

    آج کے دور میں جب کچھ عورتیں آزادی کے نام پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتی ہیں تو بہت افسوس ہوتا۔ بھئ کون سا جسم؟ کون سی مرضی؟ یہ جسم بھی تو اللّٰہ کی دی ہوئی امانت ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو کچھ بھی ممکن نہیں۔ اگر اس ذات کی مرضی نہ ہوتو ہم اپنے جسم کے کسی ایک حصّے کو اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں سکتے۔ ایسی عورتوں کو جو خود عورت ذات کو تماشا بنا رہی ہیں پکڑ کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللّٰہ کی بنائ ہوئ حدیں صرف ہماری حفاظت کے لیے ہیں اگر اللّٰہ نے مرد کو ایک درجہ بلند دیا ہے تو اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے اور عورت کو چاہیے کہ مردوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ چلیں۔ تاکہ ایک پرامن معاشرہ وجود میں آئے۔

    @SeharSulehri

  • ‏افسوس حالات کیسے بدل گئے . تحریر : شمیم احمد

    ‏افسوس حالات کیسے بدل گئے . تحریر : شمیم احمد

    پہلے مسلم لڑکیوں کی طرف ہندو نوجوانوں کو آنکھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی یہ ڈر ہوتا تھا کہ کہیں پیٹ نہ دیے جائیں یا بے عزت و رسوا نہ کردیے جائیں جس کی وجہ سے وہ اپنے ناجائز مقصد میں کامیاب نہیں ہوپاتے تھے. اب تو بے چارے مسلمان بھی بزدلی کا لبادہ ڈالے رہتے ہیں جس گھر میں واقعہ پیش آتا ہے وہ اسی گھر کا سمجھتے ہوے اپنے گھر کو محفوظ ومامون سمجھتے ہیں. ویسے بھی شہر میں بڑی بڑی باتیں چھپ جایا کرتی ہیں.

    اب ہندو نوجوان نہ صرف نڈر ہوگئے ہیں بلکہ پری پلاننگ سپورٹ بھی انہیں حاصل ہوتا ہے. شروع میں میٹھیں باتیں کرکے نام بدل کے لالچ دیکر مدد کرکے ہمدردی کا اظہار کرکے مسلم لڑکیوں کو لبھانے کی کوشش کرتے ہیں. پھر محبت کا ڈھونگ رچاکر شادی کے لئے راضی کرتے ہیں اور ایک ساتھ جینے مرنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں حالانکہ دل میں پہلے سے کھوٹ رہتا ہے. ہماری معصوم بہنیں بھی پہلے جیسی باحیا نہ رہیں بے دینی کا مظاہرہ کرتی ہوئیں ساری حدیں پار کرجاتی ہیں. وہ لڑکیاں جو ماں باپ کا نہیں ہوسکتیں جسنے پال کر پڑھاکر بڑا کیا وہ دین دھرم کا خاک ہونگی.
    اللہ ایسی بہینیں کسی کو نہ دے.

    باپ بھائ بھی پہلے جیسے غیرت مند نہیں رہے. اب تو باپ بھائ کی موجودگی میں غیرمسلموں سے شادیاں ہورہی ہیں اور خوب سیلفیاں لي جارہی ہیں کیوں کہ لڑکا مالدار ہے اور روزگار ہے بھلے چمار جواری شرابی گوال ہو.
    اللہ ایسے باپ بھائ کو غارت کرے

    جہاں تک ماں اور بہن کی بات ہے انہیں شروع ہی میں معلوم ہونے کے باوجود باپ بھائ کو نہیں بتاتی ہیں بلکہ دامے درمے سخنے مدد بھی کرتی ہیں.
    اللہ ایسی ماؤں سے بچائے. آمین

    چار چیزیں ذمدار ہیں

    1. مخلوط تعلیم،جیسے کالیج یونیورسٹیاں جو کہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے. اسلئے جو گرلس کالیج ہو اور قریب ہو وہیں اپنی لڑکیوں کو بھیجیں تاکہ دیر بدیر ملتے رہیں. ہائ ایجوکیشن کے لیے لڑکیوں کے انگیجمینٹ کرانے کے بعد ہی ایڈمیشن کرائیں. مخلوط رہن سہن، جیسے ہندوانہ محلے میں رہنا یا پڑوسی ہندو ہونا یا بھائ چارگی کچھ زیادہ ہی ہونا غیر مسلم کو دعوت کرنا ان کو گھر میں بلانا یہ چیزیں مہاراشٹر کیرل تمل ناڈو کرناٹک اندھیرا پردیش جنوب کے سارے صوبے میں زیادہ ہیں اسلیے ایسے علاقوں میں اس طرح کے معاملات کثرت سے پیش آتے ہیں باقی شہروں میں ممبئ، حیدر آباد سر فہرست ہے. اسلئے مسلم محلے میں مکان لینے کی کوشش کریں مخلوط ملازمت جیسے کمپنی کال سینٹر اسپتال مال یا آفس وغیرہ میں کام کرنا اسلیے لڑکیوں سےشادی کے بعد ہی ملازمت کرائیں

    2. غربت وافلاس فقر وفاقہ جہاں غربت ہونگی وہاں اس طرح کے واقعات پیش آئینگے. اسلئے قوم کے صاحب ثروت افراد ٹھونڈ کر ان کی مدد کرے. انسانیت کے نام پر پہلے اپنی بہنوں کا حق بنتا ہے بعد میں غیر مسلم.

    3. دینی تربیت کا فقدان اسلئے ہر مسجد میں مکتب کا سسٹم بناجائے اور جن لڑکیوں کو پڑھایا جائے ان سے کہا جائے کہ اپنے گھروں میں آس پاس کی لڑکیوں کو وہ پڑھایے.

    4. شوشل میڈیا کے پلیٹ فارمس باپ نے امی کو فون دیا اور امی نے بیٹی کو دیا اور بیٹی اپنا دل غیر مسلم کو دیا. ویسے آجکل پڑھائ بھی تو آن لائن ہورہی ہے اگر پڑھائ ضروری ہے تو موبائل بھی ضروری ہے. اب امی کا فون نہیں خود کا فون ہے جو چاہے کرو
    اسلئے باپ بھائ موبائل دینا ضروری ہو تبھی دے لیکن نگرانی سخت رکھے. کچھ لوگ مسلم لڑکیوں پر ایسا بھروسہ کئے ہوے ہیں کہ جو مسلم ہونگی وہ ایسا کر ہی نہیں سکتیں. ارے بھائ آپ کس زمانے اور کس جگہ میں جی رہے ہو. حقیقت میں آج اکثر وبیشتر نفس امارہ کو معبود خدا بناچکی ہیں. انہیں اللہ کا کوئ خوف نہیں، نہ ایمان کا پاس ولحاظ نہ باپ بھائ کا ڈر نہ سماج کاڈر.
    اللہ ہماری حفاظت فرمائے.

    By ‎@Shaameem_Ahmad

  • امید زندگی ہے تحریر: صائمہ ستار

    امید زندگی ہے تحریر: صائمہ ستار

    نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے

    اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

    زندگی عروج و زوال کا ایک مسلسل سفر ہے.دکھ سکھ,کامیابی ناکامی زندگی کا حصہ ہیں. جہاں زندگی بہت سے خوش کن لمحات دیتی وہے وہیں آزمائشیں بھی لازمی ہیں.
    امید وہ قیمتی سرمایہ ہے جو آخری سانس تک انسان کو زندگی کے اس تھکا دینے والے سفر میں آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم رکھتا ہے.انسان فطری طور پر بہت جلد باز واقع ہوا ہے.اسے سب کچھ اپنے مطابق چاہیے ہوتا اور جب کوئ خلافِ توقع صورتحال پیش آتی ہے تو بجائے حوصلے سے آزمائش کا مقابلہ کرنے کے تھوڑی سی کو شش کے بعد مایوس اور نا امید ہو جاتا ہے. امید انسان کو وقار اور خود داری کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتی ہے جبکہ نا امیدی اور منفی خیالات کسی بھی امتحان کا مقابلہ کرنے سے پہلے ہی انسان کے ہار جانے کی وجہ بنتے ہیں. نا امیدی مسلئے کے نظر آنے والے ممکنہ حل کو بھی دھندلا دیتی ہے اور انسان کو محض انھیرا نظر آتا ہے جبکہ ذرا سی مثبت سوچ اور امید کا چراخ نا مسائد حالات سے نکلنے کے لیے روشنی کا باعث بنتے ہیں.مثبت سوچ اور طرز عمل زندگی کے ہر لمحے کا تقاضا ہے. وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ اسکا کوئ بھی رنگ اٹل نہیں ہوتا. اگر مشکل ہو تو اسکے بعد آسانی کے رنگ کے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں.حالات جس قدر بھی مشکل ہوں,آزمائش کی رات جتنی بھی لمبی اور سیاہ ہو ایک روشن صبح ہر شب کا مقدر ہے. حقیقت یہ ہے کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان والوں کا امتحان ہیں. جتنا ایمان زیادہ ہو آزمائش بھی اتنی بڑی ہوتی ہے اور اسکا اجر بھی اتنا ہی زیادہ.راہگزارِ حیات میں آنے والے کٹھن لمحات انسان کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خود سے وابستہ لوگوں کی پہچان بھی کروا جاتے ہیں.مخلص اور مطلبی لوگوں کی پہچان مشکل وقت میں ہی ہوتی ہے. حالات جیسے بھی ہوں ہر حال میں دنیاوی سہاروں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید رکھنی چاہیے. اسلام میں مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے. مومن کبھی اپنے رب کی رحمت سے نامید نہیں ہوتا.
    قرآن میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے،
    ’’ اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو امید وہ (کفار) نہیں رکھتے‘‘۔(سورہ النساء ،104 )
    لہذا مثبت گمان/امید رکھنا ایک مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا بھی ہے. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جیسا میرا بندہ میرے متعلق گمان کرے گا مجھے ویسا ہی پائے گا. لہذا ہمیں چاہیے کہ اس ذات پر جو محض ایک "کُن”سے تقدیر بدل دینے پر قادر ہے زندگی کے ہر معاملے میں بہتری کا گمان رکھیں.امید رحمت کا دوسرا نام ہے خدا پر یقین رکھنے والا رحمت پر یقین رکھتا ہے”
    معاشرے میں منفی سوچ کا زہر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے خود کشی کی شر ح بھی ہر مسلسل بڑھ رہی.یہ ناامیدی کی آخری حد ہے جب انسان کو زندگی کا خاتمہ اپنے مسائل کا واحد حل نظر آتا ہے.زندگی میں جب کسی موڑ پے لگے کہ آپ بہت مایوس ھو یا آپ کو لگے کہ کچھ بھی آپ کے حق میں نہیں ھے تو اک نظر دوڑا کے دیکھیں جو آپ کے پاس موجود ھے. جنکو اللہ تعالیٰ نے قدرتی طور امید اور مثبت سوچ جیسی نعمت سے نوزا ہے انہیں چاہیے کہ زندگی سے مایوس لوگوں کے لیے امید کی کرن بنیں. بعض اوقات انسان کا ایک مثبت لفظ, چند حوصلہ افزاء جملے کسی میں زندگی کی ایک نئی روح پھونکنے اور دل کے بدلنے کا باعث بنتے ہیں. امید افزاء الفاظ جو کسی کو جینے کی ایک نئی امنگ دیں یہ بھی ایک صدقہ ہے.کبھی کبھی زندگی میں ایسے موڑ بھی آتے ہیں کہ آگے کا کؤی راستہ نہیں اور واپسی کا کوئی تصور نہیں ہوتا پھر معجزے ہوتے ہیں”کن فیکون” سے تقدیر بدل جاتی ہے لیکن صبر اور اللہ پر ایمان، بھروسہ شرط ہے۔
    امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں” کل کا دن آج سے بہتر ھو گا ” انشااللہ
    @SMA___23

  • عدم برداشت تحریر: مجاہد حسین

    عدم برداشت تحریر: مجاہد حسین

    آج کے تیز رفتاز دور میں جب انسان ترقی کی منازل طے کرتا جا رہا ہے وہاں دوسری طرف اس نے اپنے آپ کو اس قدر مصروف کر لیا ہے کہ اپنے اردگرد ہونے والے معاملات اور حالات سے آگاہی تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے دوستوں رشتہ داروں سے میل جول اب نہایت قلیل ہو گیا ہے۔ اس کے کئی معاشرتی نقصانات تو ہیں ہی لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان اس کی اپنی شخصیت کو ہو رہا ہے۔
    کام کی بہتات اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی فکر نے اس میں چڑچڑا پن اور بے حسی جیسی خصلتیں پیدا کر دیی ہیں۔ چڑچڑا پن اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ وہ کام کے دوران ہونے والی باتوں کا اثر ذائل نہیں کر پاتا اور بلآخر اس کا اثر اس کے گھر والوں، بیوی اور بچوں پر بھی پڑتا ہے جس کی وجہ سے خاندان کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دوسرے لوگ بھی اس سے دور ہونے لگتے ہیں۔ عدم برداشت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کو بھی اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں ورنہ بات جھگڑے اور فساد تک پہنچ جاتی ہے۔
    جب بھی عدم برداشت کی بات آتی ہے تو مجھے ایک واقعہ یاد آ جاتا ہے۔ یہ پچھلے سال رمضان کا واقعہ ہے۔ میں نے اللہ کے حکم سے رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا۔ بس میں سیٹ بک کروائی اور مقررہ دن کو ایجنسی میں پہنچ گیا۔ عصر کے بعد ہمارے شہر (الجبیل) سے گاڑیاں نکلا کرتی تھیں۔ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو معلوم ہوا کہ ڈرائیور بھی کوئی پاکستانی ہے۔ سوچا خوب بیتے گی لیکن کیا معلوم تھا کہ تھوڑی دیر بعد کیا تماشہ ہونے والا ہے۔ ڈرائیور صاحب بس میں داخل ہوتے ہی بلند آواز میں گویا ہوئے کہ بس میں کسی کو کچھ بھی کھانے کی اجازت نہیں ہے، جس نے کچھ کھانا ہے باہر جا کے کھا لے۔ ہمارے لئے یہ پہلا تجربہ تھا کہ کوئی ڈرائیور ایسا اعلان کرے حالانکہ اس نے ہر سیٹ کے ساتھ کچرا ڈالنے کے لئے ایک ایک پلاسٹک بیگ بھی لگا رکھا تھا۔ خیر، عصر کے بعد گاڑیاں قافلے کی صورت میں مقررہ مقام سے روانہ ہوئیں اور تقریباً دو گھنٹے بعد ایک پیٹرول پمپ پہ افتار کے لئے رک گئیں۔ سب لوگوں نے روزہ افتار کیا نمازیں (مغرب اور عشا اکٹھی) پڑھیں اور گاڑی میں بیٹھنا شروع ہو گئے۔ ایک مصری شخص، جو ڈرائیور کے عین پیچھے والی سیٹ پہ بیٹھا تھا وہ اپنے لئے کافی لے آیا اور سکون سے پینے لگا۔ اتنے میں ڈرائیور صاحب آئے اور آتے ہی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، اس سے کافی کا گلاس چھینا اور دروازے سے باہر جاتا کیا۔ مصری پریشانی سے بولا بھائی میرا 25 ریال کا کپ تھا اور میں تو کچرا بھی نہیں پھینک رہا لیکن یہ کیا طریقہ ہے؟
    اتنے میں ڈرائیور صاحب بولے جس کا ترجمہ ہے کہ "تم مجھے پنگالی یا ہندوستانی مت سمجھو،میں پاکستانہ ہوں اور میں تمہیں مزہ چکھا دوں گا” بس اس بات کا سننا تھا کہ اگلے جوان کے خون نے بھی جوش مارا اور اس نے ڈرائیور کے جو اس کے تقریباً اوپر ہی چڑھ دوڑا تھا پیچھے دھکیلا۔ یہ منظر اس ڈرائیور کے چند مزید رشتہ دار (ڈرائیورز) بھی دیکھ رہے تھے اور وہ سب کے سب مصری شخص پہ ایسے ٹوٹ پڑے جیسے بھوکے شادی کا کھانا کھلنے پہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس مار دھاڑ میں بیچارے مصری کی پانچ چھے گھونسے اور کافی سارے ٹھڈے پڑ گئے۔ لوگوں کی مداخلت پہ معاملہ ٹھنڈا ہوا اور مصری آنسو پونچھتے ہوئے بس سے اتر کر پیٹرول پمپ کی طرف بڑھ گیا۔
    چند لمحوں بعد وہ ایک پولیس والے کے ساتھ سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ پولیس والے نے اپنی کار ہماری گاڑی کے سامنے لا کر کھڑی کر دی اور تحقیقات شروع ہو گئیں۔ وہ چند شیر جوان جو تھوڑی دیر پہلے اس ڈرائیور کے ساتھ مل کے مصری کو مار رہے تھے آہستہ آہستہ اپنی گاڑیاں نکال کر فرار ہو گئے۔ وہ ڈرائیور جو تھوڑی دیر پہلے پھنے خان بنا ہوا تھا اب معذرتوں پہ آ چکا تھا۔ پولیس والے سے الگ معافی مانگی جا رہی تھی، مصری کے الگ پاؤں پکڑے جا رہے تھے۔ اور ہم سب تین گھنٹے تک ایک نہ کردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے تھے۔ بالآخر بس کے لوگوں اور چند مصری اور سوڈانی مسافروں کی مداخلت سے مصری معاملہ رفع دفع کرنے پہ راضی ہوا اور راضی نامے پہ دستخط کرنے کے بعد ڈرائیور کی جان چھوٹی۔
    اس سارے معاملے کے بعد اکثر لوگوں کو نقصان یہ ہوا کہ ان کے عمرہ کے پرمٹ تین گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے ایکسپائر ہو چکے تھے۔
    کیا ہی اچھا ہوتا کہ ڈرائیور پیار سے اسے کہتا بھائی آپ کافی باہر پی لو ابھی گاڑی رکی ہوئی ہے تو ایک تو یہ تاخیر نہ ہوتی دوسرا ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے نہ جھکتے۔ یاد رہے، جب بھی ہم علی الاعلان کوئی غلطی یا کوئی گناہ کرتے ہیں وہ ناصرف ہمارے لئے بدنامی کا باعث بنتا ہے بلکہ ہم سے منسلک تمام لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے برداشت کرنا سیکھیں تاکہ شرمندگی سے محفوظ رہا جا سکے۔

    @Being_Faani