Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • پاکستان میں غیرمسلموں کے حقوق  تحریر: آصف گوہر

    پاکستان میں غیرمسلموں کے حقوق تحریر: آصف گوہر

    عمر رضی اللہ عنہ نے ( وفات سے تھوڑی دیر پہلے ) فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ( ذمیوں سے ) جو عہد ہے اس کو وہ پورا کرے اور یہ کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کرے اور ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔
    صحیح بخاری 3052۔
    قائد اعظم رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ
    ” آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”
    اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں کو ذمی کہا جاتا ہے یعنی غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اسلام غیرمسلموں کے جان و مال اور مذہبی آزادی کا محافظ ہے۔ پاکستان کی بات کریں تو اقلیتوں کے حقوق بانی پاکستان نے بڑے واشگاف الفاط میں بیان کئے ہیں اسی لئے ہمارے ہاں کی اقلیتیں دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ محفوظ اور مطمئن ہیں یہاں پر تعلیمی اداروں ہستالوں پولیس دفاع اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں اقلیتی افراد اعلی عہدوں پر گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں نوجوان اپنے مخصوص کوٹہ کے علاوہ اوپن میرٹ پر بھی اپلائی کرسکتے ہیں ۔تعلیمی اداروں میں اسلامیات کا مضمون پڑھنے یا نہ پڑھنے کی مکمل آزادی ہے کہ اقلیتی طلباء اسلامیات کی بجائے اپنی مرضی سے اخلاقیات کا مضمون پڑھ سکتے ہیں۔
    پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اقلیتی برادری کے افراد اپنی مرضی سے جو چاہیں کاروبار اور تجارت کرسکتے ہیں کوئی روک ٹوک نہیں ۔ پاکستان میں بھارت کی طرح کسی منظم یا بےقابو گروہ کو اقلیتی افراد پر تشدد کرنے کی اجازت یا جرآت نہیں ۔
    چند انفرادی واقعات جو کہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں جوکہ اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کے ماضی میں ہوئے ہیں ان پر فوری قانون حرکت میں آتا ہے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔
    دو روز پہلے رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں ہندو برادری کی عبادت گاہ پر مقامی لوگوں کے حملہ کا دلخراش واقعہ پیش جیسے ہی واقع کی خبر بریک ہوئی فوری وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے پولیس اور رینجرز کو بلاتفریق کاروائی کی ہدایت کی اور ڈی پی او سے رپورٹ طلب کی ڈی پی او خود جائے حادثہ پر پہنچے چند گھنٹوں میں ایف آئی آر درج کر دی گئ اور اگلی ہی صبح مندر کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام شروع کردیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے جان و مال کی ذمہ داری حکومت پر ہے کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا ۔
    وزیر اعظم عمران خان نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور آئی جی پنجاب پولیس کو ذمہ داروں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔
    یہ واقعہ سنگین اور دلخراش جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس کو پاکستان کے خلاف کئ طرح سے استعمال کیا جاتا ہے اہل عناد کو پروپیگنڈے کا موقع ملتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم ہو رہے ہیں اقلیتں یہاں پر غیر محفوظ ہیں اور ساتھ ہی مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ تنقید بنایا جاتا ہے۔
    چھوٹے واقعات کو بڑا رنگ دیا جاتا ہے امریکی محکمہ خارجہ اور انسانی حقوق بھی کود پڑتا ہے اور پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی خوب کوشش کی جاتی ہے ۔
    لیکن یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہاں پر اقلیتیں خوشحال اور اپنی مذہبی رسومات عبادت میں مکمل آزاد ہیں ہرسال بھارت اور پوری دنیا سے سکھ اور ہندو برادری کے افراد ہزاروں کی تعداد میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے آتے ہیں اور پوری آزادی کے ساتھ پاکستان میں ہرجگہ آتے جاتے ہیں اور پاکستانی عوام بھی ان کی بھرپور آو بھگت اور عزت افزائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جس سے پاکستان کے خلاف پروپیگینڈے کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اور یہ ہمیشہ کی طرح ناکام اور نامراد رہتے ہیں اور انشاءاللہ رہیں گے۔ @Educarepak

  • ذہنی غلام   تحریر : نواب فیصل اعوان

    ذہنی غلام تحریر : نواب فیصل اعوان

    ہم ذہنی غلام ہیں ۔
    ہمارے ذہن میں ایک بات فیڈ کر دی جاتی ہے کہ اپنے تعلقات وسیع رکھو جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا تعلق ہر فیلڈ کے بندے کے ساتھ ہونا لازم ہے ۔
    پاکستان میں جو شخص چمچہ گیری کرنا جانتا ہے وہ شخص کامیاب ہے ۔
    دوسرے لفظوں میں تعلقات سے مراد ہے کہ آپ کس حد تک چمچہ گیری کر سکتے ہو ۔
    ایک شخص اپنے علاقے میں اپنی دھاک بٹھانے کیلۓ کسی سیاستدان کو اپنے ہاں زور زبردستی دعوت دے ڈالے گا ہر کسی کو ڈھول کی تھاپ پہ رقص کرتے ہوۓ بتاۓ گا کہ جی وہ فلاں وڈیرہ ، خان ، جام ، ملک یا نواب اس کے ہاں آ رہا ہے دعوت کے انتظامات کیۓ جاٸیں گے ۔
    وہ سیاسی یا دوسرے لفظوں میں امیر یا ہاٸ فاٸ شخص بھی آ دھمکے گا علاقہ پورا امڈ آۓ گا جیسے مریخ سے کوٸ ایلین اترا ہو ۔
    اس شخص نے اپنے علاقے میں بینرز فلیکس لگا لگا علاقے کا حشر نشر کر دینا ہوتا کہ جی ویلکم یا جی آیاں نوں فلاں ابن فلاں ۔
    الغرض کے خوشامد کے ایسے ایسے جتن کرے گا کہ اللہ امان ۔
    علاقے میں بتا رکھا ہوگا کہ فلاں تو اس کا لنگوٹیا یار ہے وہی شخص دعوت پہ خطاب کرتے ہوۓ اپنے لنگوٹیۓ یار کا نام دو چار بار پوچھ ہی لے گا کہ کیا نام ہے بھلا آپ کا ۔
    عزت اور ذلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے کسی انسان سے تعلق رکھنا یا نہ رکھنا کوٸ معنی نہیں رکھتا ہاں اگر معنی رکھتا ہے تو انسان کو اس کی حیثیت کے مطابق چادر پہ پاٶں پھیلانا ۔
    ہم اس قدر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں گر گیۓ ہیں کہ ہم ذہنی غلام بن چکے ہیں ہم ظاہری ٹپ ٹاپ کو اہمیت دینے والے اگر صحیح معنوں میں خود پہ محنت کریں تو ایک روز وہ معیار بنا جاٸیں گے کہ ہمیں لوگوں کو دکھانے کیلۓ زور زبردستی کسی کو دعوت نہیں دینی پڑیگی بلکہ لوگ خود سے پوچھتے پوچھتے ہمارے ہاں مہمان ہونے ہیں ۔
    ہمیں اس ذہنی غلامی سے اس سوچ سے چھٹکارہ پانا چاہیۓ ۔
    اگر ہم سب کے بارے میں یکساں سوچ رکھتے ہیں اور اپنے بارے علیحدہ تو یہ بھی غلط ہے ۔
    خود کو طورم خان سمجھ کے اوروں کو نیچ یا بدتر سمجھنا جیسے وہ کوٸ شودر ہوں اور آپ پاک ذات تو یہ نظریہ بھی سراسر غلط ہے ۔
    اپنے بارے میں لوگوں کا نظریہ تبدیل کرنے کو یہ چاپلوسی یا چمچہ گیری والے کام نہیں رہے گیۓ اگر حقیقی معنوں میں چاہتے ہو کہ لوگ تمہاری عزت دل سے کریں نہ کہ تمہاری ظاہری پھوت پھات سے تو ایسے میں خود میں عاجزی لاٶ ۔
    لوگوں کے بارے میں اچھے خیالات رکھو ۔
    دوسروں کو نیچ یا کمتر نہ سمجھو ۔
    دوسروں کی عزت و نفس کا خاص خیال رکھو ۔
    ایسا کام کرو جو ظاہری خوشامد نہ ہو بلکہ اس میں انسانیت کی بھلاٸ ہو ۔
    اگر دل سے اوروں کے ساتھ مخلصی سے کھڑے ہو گے تو یہ زور زبردستی کے تعلقات تمہاری مخلصی دیکھ کر تم سے خوشگوار ہو جاٸیں گے ۔
    لازم نہیں ہے کہ زندگی گزارنے کیلۓ بڑے لوگوں تک رساٸ ہو تو اچھا ہے یاد رکھو
    چاپلوسی اور کسی کی چمچہ گیری سے بہتر ہے کہ اپنا ایک رتبہ اور پہچان بناٶ کہ لوگ تمہاری چاپلوسی اور چمچہ گیری کریں نہ کہ تم ۔

  • غربت پر قابو پانے کا حل تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    غربت پر قابو پانے کا حل تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    مختلف حکومت کے ذریعہ غربت میں کمی کے بارے میں پالیسیاں بناتی ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے ۔پاکستان میں امیر طبقہ تو خوشحالی سے زندگی بسر کر لیتا مگر غربت کا سامنا پاکستانی قوم کو کرنا پڑتا ہے

    اگر غربت پر تندہی سے دیکھ بھال اور اس پر اعتماد کے ساتھ کام نہ کیا گیا تو وہ ریاست کے پورے میکانزم کو کھا جائے گی فلاحی ریاست کے مضبوط ہونے کے لیے ناقص طبقے کی ترقی کے حوالے سے پالیسیاں چیک لسٹ میں سب سے اوپر ہونی چاہئیں جب ہم مستقل طور پر اپنی زوال پذیر معیشت کو اونچائیوں کی طرف گامزن کریں گے۔ بشرطیکہ ہم ایسی پالیسیاں تیار کریں جو نہ صرف متاثرہ مقامات کی فلاح و بہبود کو پیش کریں بلکہ ان کے نقطہ نظر کو بھی منتقل کریں ۔میں غربت کے خاتمے کے لئے درج ذیل اقدامات تجویز کرتا ہوں۔

    ١۔صنعتی تجارت کو فروغ دیں۔
    ٢۔پیداوار میں اضافے کے لیے نٸے روایتی زرعی سامان کو نئے سائنسی سازوسامان سے تبدیل کرنا۔.
    ٣۔انصاف اور مساوات کا قیام۔
    ٤۔وسائل کی مساوی تقسیم۔
    ٥۔میرٹ زندگی کے ہر شعبے میں ایک اعلی حکمت عملی ہونا چاہئے۔
    ٦۔امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ۔
    ٧۔افراط زر اور دیگر معاشی اشارے اور ریگولیٹرز کا کنٹرول۔.
    ٩۔سرمایہ کاری کے دوستانہ ماحول کی ترقی
    غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ امکانات اور مراعات دینا۔
    ١٠۔انتہا پسندی اور جاگیرداری کو ختم کرنا۔
    ١١۔لوگوں کو اچھی طرح سے ہنر مند بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ تکنیکی انسٹی ٹیوٹ کا قیام۔.
    ١٢۔تعلیم کا دائرہ۔
    ١٣۔ملازمت کے مواقع کی فراہمی۔
    ١٤۔کرایہ داروں میں زرعی اراضی کی تقسیم۔

    قیادت کو یہاں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ مناسب منصوبہ بندی اور اچھی حکومتی پالیسیوں سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔. انہیں صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد کے یے مجاز اور دیوار سے تعلیم یافتہ معاشی ماہرین کی تقرری کریں اور ظاہر ہے کہ اس کے حل کے لئے ان کے اخلاص کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔.

    ایک ملک کی معیشت اس کے حل کے ساتھ اپنے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے جب اسے بچایا جاتا ہے تو بہت سارے مسائل خود بخود ہوجائیں گے۔. اس کے حل کے لئے تنہا قیادت ہی کافی نہیں ہے۔. مساوی حصہ کے ساتھ پاکستان کے عوام کو بھی ذمہ داری ملی ہے۔. لوگوں کو حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں اپنے ہی ملک کے ساتھ مخلص رہنا چاہئے اور غربت کے خاتمے کے لئے اپنی تمام تر کوشش کرنے چاہیے!!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر  : باچاخانزادہ

    تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر : باچاخانزادہ

    بچوں کی تربیت اس دور کا سب سے اہم چیلنج بن چکا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تربیتِ اولاد ایک نہایت صبر آزما اور جاں گسل کام ہے مگر اس کے نتائج و ثمرات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ کام مشکل نہیں رہتا۔ بڑے مقاصد کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ بچوں کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد اور دنیا و آخرت کا بہترین ذخیرہ بنانے سے بڑا مقصد اور کیا ہوسکتا ہے! سو اس لحاظ سے اس راہ کی مشقتیں پھر بھی کم ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی برحق ہے کہ نیک کام کے ہر مرحلے پر خدا کی مدد و نصرت شامل حال رہتی ہے جس سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ ذیل میں چند ایسے اصول لکھ رہے ہیں جو تربیت کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوں گے۔ تجربہ اس بات کا شاہد ہے۔
    اولا تو یہ ذہن میں رکھیں کہ بچے کی مثال ایک سادہ لوح کی ہے۔ وہ اپنے بڑوں کو دیکھ دیکھ کر اس لوح میں رنگ بھرتا ہے۔ جیسا معاملہ اور برتاؤ اس کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ اس کی زندگی کے ضابطے بنتے جاتے ہیں۔ اس لئے والدین کو خصوصاً بچوں کے حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    1- غلط کی حوصلہ شکنی
    عموماً بچے کبھی کبھار غلطیاں کردیتے ہیں۔ کبھی تو اوروں کی دیکھا دیکھی میں اور کبھی عدمِ توجہی کے باعث۔ بچہ کوئی غلطی کرے تو اس پر پیار سے باز پرس ضرور کرنی چاہیے، تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ غلطی دوبارہ نہیں کرنی ہے اور یہ کہ میرے سے سوال جواب کرنے والے لوگ موجود ہیں جو میرے ہر عمل کی نگرانی کر رتے ہیں۔ عام طور پر والدین محبت کے دھوکہ میں آکر ایسے مواقع یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیتے ہیں کہ "ابھی توبچہ ہے۔ بعد میں سیکھ جائے گا”۔ یاد رہے یہ ایک تباہ کن غلطی ہوتی ہے جو بچے کی تربیت میں بہت منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بعد میں کبھی نہیں سیکھا جاتا، بچپن کا سیکھا پچپن تک ساتھ چلتا ہے۔ پکڑ نہ کرنے کے باعث بچہ اپنی غلطی کی اصلاح کے بجائے اس پر جری ہوجاتا ہے۔ یوں غلطی در غلطی کی ایک لڑی بنتی چلی جاتی ہے۔

    2- اچھائی کی تعریف
    بچے عموماً پاک طینت اور صاف دل ہوتے ہیں۔ برائیوں کی طرح ان کی اچھائیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی اچھی بات کہیں، اچھا کام کریں تو تعریف ضرور کرنی چاہیے۔ اپنی وسعت کے بقدر حوصلہ افزائی بھی کریں تاکہ اسے معلوم ہو کہ اچھائیوں کی قدر کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ عمل انہیں مزید اچھائیوں کی شہہ دے گا۔ اس میں ایک بات کا دھیان رہنا چاہیے کہ تعریف اور حوصلہ افزائی کے ساتھ مزید اچھائیوں کی بھی ترغیب دی جائے۔ اسی ایک اچھائی پر اکتفاء نہیں کرنا چاہیے۔

    3- ضد کبھی پوری نہ کریں
    بچے ضدی کیوں بنتے ہیں؟ کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ضد سے بات مانی جاتی ہے۔ جب آپ ان کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے تو وہ سمجھ بیٹھے گا کہ اپنی بات ایسے منوائی جاتی ہے۔ اس لیے بچہ جب کبھی ضد کرے دل پر پتھر رکھ کر اسے پورا کرنے سے باز رہیں۔ وہ روئے دھوئے جو کرے، آپ نے ہار نہیں ماننی۔ یہی بچے کے ساتھ خیر خواہی اور محبت کا تقاضا ہے۔ ایک مرتبہ ضد پوری نہ ہوگی تو پھر کبھی ضد پنے کی شکایت نہیں ہوگی۔

    4- ذمہ داری سونپیں
    عمر کے لحاظ سے بچوں کو ذمہ داریاں بھی سونپیں۔ چھوٹا ہے تو گھر میں کوئی گلاس اٹھوا دیں۔ اپنے کھلونے سمیٹنے کی ذمہ داری دیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بچے میں احساس ذمہ داری پیدا ہوگی۔ وہ شروع سے ہی ایک ذمہ دار حیثیت سے پروان چڑھنا شروع ہوجایے گا۔ جن والدین کو اپنے بچوں کے بھولے پن اور سادگی کی شکایت رہتی ہے وہ یہ کام کر کے مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

    5- گپ شپ کریں، رائے لیں
    بچوں کے ساتھ میٹنگز رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ معمول کی نشستوں کے علاوہ خصوصی نشست رکھنے کا بھی اہتمام کریں جس کے لئے انہیں پہلے سے بتائیں کہ ایک خاص بات کرنی ہے۔ گفتگو سنجیدہ ہونی چاہیے جس میں بچوں کی رائے لی جائے۔ ان کی آراء پر مثبت تبصرے بھی ساتھ کریں۔ کہیں نقص ہو تو وہ بھی بتائیں۔ اس سے بچوں میں فیصلہ سازی کی قوت پیدا ہوگی۔ ان کا دماغ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔

    6- لکھوائیے
    ایک صاحب نے کہا میں نے اپنے بچوں کو بہترین تحریر نویسی سکھانے کے لئے یہ اصول اپنایا کہ جو معاملہ ہو میں ان سے لکھنے کا کہتا۔ یوں وہ لکھ لکھ کر بہترین لکھاری بن گئے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بھی گاہے بگاہے بچوں سے لکھوائیں۔ کہیں گھومنے گئے تو اس پر کچھ لکھوائیں۔ اسکول پر لکھوائیں۔ والدین، اساتذہ، بہن بھائی، پسند نا پسند، ڈھیر سارے موضوعات ہیں جن پر بچے بآسانی لکھ سکتے ہیں۔ لکھنا سیکھیں گے تو سمجھنا بھی سیکھیں گے۔ ایک لکھای قوم کا ترجمان ہوتا ہے۔ لکھنا بھی آنا چاہیے۔

    7- خود مثال بنیں
    بچوں کو جیسا بنانا چاہتے ہیں خود بھی ویسا بننے کی کوشش کریں۔ جو بات انہیں کہیں خود بھی عمل کریں۔ یاد رکھیں! خود عمل کیے بغیر صرف آرڈر جاری کرنا اپنی محنت ضائع کرنے والی بات ہے۔ بچے سنتے کم دیکھتے زیادہ ہیں۔ جیسا ماحول ویسا کردار ہوگا۔ انہیں جیسا دکھایا جائے گا ویسے ان کی شخصیت کی تعمیر ہوگی۔

    درج بالا چند اصول تربیت کے حوالے سے تجربات کا نچوڑ ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے بچے آپ کے لئے دنیا میں نیک نامی اور افتخار کا باعث بنیں گے۔ بچے والدین کی سب سے قیمتی دولت ہیں۔ ان کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دھیان رہے کہیں یہ دولت زندگی کی مصروفیات کی نذر ہو کر ضائع نہ ہو جائے۔ زندگی جتنی بھی مصروف ہو، بچوں کے لیے وقت ضرور نکالیں۔

    @bachakhanzada5

  • اخلاقیات اور معاشرہ  تحریر: فاروق زمان

    اخلاقیات اور معاشرہ تحریر: فاروق زمان

    اخلاقیات انسان کی عادات واطوار کے معیار کا نام ہے۔ وہ سلوک اور طرز عمل جو معاشرے میں انسان ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ اخلاقیات کسی بھی معاشرے کا حسن ہے، ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلامی معاشرت رکھتا ہے، اسلام میں اخلاقیات کو بہت اہمیت حاصل ہے، اخلاقیات اور تعلیمات، اسلام کے دو بنیادی ستون ہیں۔ قرآن و حدیث میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اخلاقیات کا درس قرآن کریم کی بنیادی تعلیمات ہیں۔
    نبی کریم ص نے اپنے آپ کو اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ بنا کر پیش کیا۔ اور اخلاقیات کی تکمیل کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "میرے نزدیک تم میں سے محبوب شخص وہ ہے، جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔” (بخآری)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "بے شک مومن کے اعمال میں سے سب سے وزنی چیز حسن اخلاق ہے۔”
    اپنے اخلاق کو بہتر بنانا ہم سب کا فرض ہے۔ ہم جو بھی علم حاصل کرتے ہیں اس کا بنیادی مقصد اخلاق سیکھنا اور ان کو بہتر بنانا ہے۔ قرآن و سنت اور دنیاوی تعلیم سے اخلاق سیکھ کر معاشرے میں ہم ان کا پرچار کرتے ہیں۔
    احسان، ایثار، حسن معاملات، عاجزی و انکساری، کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، محبت و احترام کے ساتھ پیش آنا، عزت و تکریم دینا، تمیز و تہذیب کے ساتھ گفتگو کرنا، مہربانی کرنا، سچ بولنا، ایمانداری اور دیانتداری کو اپنا وصف بنانا، عملی برداشت کا مظاہرہ کرنا، یہ سب اخلاقیات ہے۔ بے شک حسن اخلاق کے زریعے ہی انسان دلوں کو تسخیر کر سکتا ہے۔ اخلاقیات کی وجہ سے ہی انسان اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق ہے۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کا معاشرہ محض جانوروں کا گروہ ہے۔ جب تک انسان میں اخلاقیات زندہ رہتی ہے، وہ انسان رہتا ہے، اس میں اچھائی کا مادہ باقی رہتا ہے، جب اس کے اخلاق تباہ ہوتے ہیں تو وہ درندہ بن جاتا ہے، اخلاق کے خاتمے سے برائی اور بے حیائ جنم لیتی ہے۔ معاشرہ بدحالی کا شکار ہو کر انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہتا اور انسانیت نت نئے مسائل سے دوچار رہتی ہے۔

    انسان کو چاہیے کہ بہتر اخلاق کو اپنائے اور اخلاقیات کو زندہ رکھے۔ انسان کہلانے کا اصل حقدار وہی ہے جو خود کو، اپنی عقل کو، اپنے تمام معاملات کو حسن اخلاق کے تابع کرے۔ منفی رویوں اور جذبات سے خود کو دور کر لے ان کا مثبت جواب دے، اگر کوئی برا سلوک روا رکھے تو اپنا اخلاق تباہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کو مثبت توانائی سے جواب دینا چاہیے اور اخلاق سے قاءیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ بہتر سلوک کر کے اچھیء مثال قائم کرنی چاہیے۔ اس کی دیکھا دیکھی معاشرے کے دوسرے فرد بھی حسن اخلاق کے قاءیل ہوں گے۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ، کوئی تمہیں گالی دے تو تم اسے دعا دو۔ اس کے کے برے عمل کا اچھے عمل سے جواب دو، یہ یقیناً اس پر اثر انگیز ہو گا۔ اور اس کے سدھار کاء سبب بنے گا۔
    اخلاقیات معاشرے میں رہنے والے کسی بھی شخص کی انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی زندگی میں اہمیت کی حامل ہے۔اچھے اخلاق کا حامل شخص زاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میںر کامیاب ہوتا ہے، پسند کیا جاتا ہے۔ عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ بلا شبہ بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہی انسانیت ہے اور قابلء ستائش ہے۔ انسان کی زندگی کے روزمرہ کے بہت سے معاملات اچھے اخلاق کو اپنانے سے بہتر ہے ہو سکتے ہیں، اور زندگی میں سکون آ سکتا ہے۔

    آج کے دور میں لوگ بہت شدت پسند مزاج کے کے حامل ہیں۔ لوگوں کے اخلاق تباہ ہو چکے ہیں، اخلاقیات عنقا ہو گئی ہے جھوٹ، لالچ، بد دیانتی، مفاد پرستی، گالم گلوچ، لڑائی جھگڑا، قتل و غارتگری ، کینہ و حسد، بغض، تکبر خود غرضی، رشوت و سفارش، ملاوٹ، کرپشن و بدعنوانی، غرض یہ کہ ہم من حیث القوم اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اسے معاشرے میں رہتے ہوئے ہم کیسے مہزب کہلا سکتے ہیں، کیسے اخلاقیات کا درس دے سکتے ہیں۔ ہمیں اس اخلاقی انحطاط سے نکلنا ہو گا۔ ایسے میں عملی اخلاقیات کی بہت ضرورت و اہمیت ہے۔ ہمیں اچھے اخلاق اپنا کر ان کا پرچار کرنا ہو گا، خود کو بہتر اخلاق سے پیراستہ کر کے اخلاق کا درس عام کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق اور حسن سلوک سے ہی بہتر معاشرہ پروان چڑھ سکتا ہے۔

    @FarooqZPTI

  • نکاح کو عام کرو    تحریر:سویرااشرف

    نکاح کو عام کرو تحریر:سویرااشرف

    مرد اور انسان اللہ تعالی کی خوبصورت ترین تخلیق ہیں۔۔دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے لیکن ہمارا معاشرہ، ہماری زندگی، ہمارا گھر ان دونوں کے بغیر ادھورا ہوتا ہے۔۔ اسلیے اللہ تعالی نے انسان کی فطری خواہشات اور زندگی کو رواں دواں رکھنے کیلیے ایک خوبصورت رشتہ نکاح تخلیق کیا۔۔نکاح اوراسلام :-
    اسلام نے نکاح کوانسانی تحفظ کے لیے ضروری قراردیا ہے اسلام نے تو نکاح کو احساسِ بندگی اور شعورِ زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ”النکاح من سنّتی“ نکاح کرنا میری سنت ہے۔۔۔

    حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اسے نکاح کرلینا چاہئے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اسے چاہئے کہ شہوت کا زور توڑنے کے لیے وقتاً فوقتاً روزے رکھے۔۔۔
    نکاح کا مقصد صرف جسمانی تعلق نہیں ہے بلکہ نکاح ذہنی اور روحانی سکون کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔نکاح کرنے سے ہی آپکو اپنا ہمسفر ملتا ہے جو آپکے دکھ سکھ کا ساتھی ہوتا ہے جو پریشانی میں آپکے ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔۔
    جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ”ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیْہَا“ وہی اللہ ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنادیا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے
    نکاح اور ہمارا معاشرہ:-
    اسلام نے تو نکاح کو بہت سادہ رکھا ہے اور اس میں بہت سی آسانیاں رکھی ہیں تا کہ ہر کوٸی نکاح کر سکے لیکن آج کے دور اور اس معاشرے نے نکاح جیسی نیکی کو بہت مشکل بنادیا ہے۔ افسوس!! ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں زنا کرنے کیلیے ایک کمرے جبکہ نکاح کرنے کیلیے لاکھوو کی ضرورت ہوتی ہے۔ نکاح مشکل ہوجانے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ریپ کیسز بڑھ گٸے ہیں۔۔
    جہیز جیسی ایک لعنت ناسور بن کر ہمارے معاشرے میں پھیل چکی ہے۔آج کے دور میں جہیز کے بغیر شادی ناممکن ہے۔۔اگر لڑکی والوں کو جہیز کے نام پر لاکھوں لگانے پڑتے ہیں تو مختلف فضول رسم و رواج کے نام پر لڑکے والے بھی لاکھوں لٹاتے ہیں جس میں دکھاوا شامل ہوتا ہے۔۔
    بری، کھانا، ڈھول باجے، سینکڑوں کے لحاظ سے بارات، ولیمے میں نمودو نماٸش کے نام پر لاکھوں لگ جاتے ہیں۔۔یہ سب دنیاوی کام اور فضول خرچی ہے اور فضل خرچی اللہ تعالی کو سخت ناپسند ہے۔۔۔
    دوسری طرف اسلام نے نکاح کو بہت سادہ رکھا ہے حتی کہ ہمارے مصطفی ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی کا نکاح انتہاٸی سادگی سے سرانجام دیا اور ضرورت کی چند چیزیں جن میں جس میں دوچادریں، کچھ اوڑھنے بچھانے کامختصر سامان، دوبازو بند، ایک کملی، ایک تکیہ، ایک پیالہ، ایک چکی، ایک مشکیزہ ،ایک گھڑا اوربعض روایتوں میں ایک پلنگ کا تذکرہ بھی ملتاہے۔۔۔

    اسلام میں نکاح کا مطلب دوگواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنا ، نکاح میں عورت کے لئے ولی (سرپرست) کا موجود ہونا، نکاح کا اعلان، دعوتِ ولیمہ، مہر کی ادائیگی اور خطبہٴ نکاح۔ اگر ان امور پر غور وفکر سے کام لیا جائے تو یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ امور عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ کس قدر دعوتِ فکر وعمل اور باعثِ ثواب ہیں۔

    اب ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم سے جتنا ہو سکے ہم نکاح کو آسان کریں۔۔ سادگی سے نکاح کو ترویج دیں۔ لڑکی والوں پر بوجھ نہیں ڈالیں۔ فضول رسم و رواج سے کنارہ کشی کریں۔ مسجد میں سادگی سے نکاح کی تقریب سرانجام دی جاۓ اور اپنی حثیت کے مطابق ولیمہ کیا جاۓ۔ نا کہ دنیا داری اور لوگوں کی باتوں سے بچنے کیلیے لاکھوں قرض لیکر نمودو نماٸش کی جاۓ۔۔ اسلام میں حیثیت سے زیادہ خرچ کرنا بھی گناہ ہے اور نٸی زندگی کا آغاز تو اللہ کی رضا سے کرنا چاہیے اسلام اور دین کے مطابق نا کہ دنیا والوں کی خاطر۔۔
    اللہ تعالی ہم سب کو اسلام پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین
    @IamSawairaKhan1

  • ٹویٹر کی دنیا   تحریر : سید لعل حسین بُخاری

    ٹویٹر کی دنیا تحریر : سید لعل حسین بُخاری

    ٹویٹر میں ایکٹو ہونے کے بعد بہت سے لوگوں سے ٹویٹر ہی کے زریعےملاقات ہوئ۔کئی ریٹویٹ اور ٹرینڈز گروپوں میں بھی رہا۔خود بھی ریٹویٹ گروپ تشکیل دئیے۔جن میں سے ایک ابھی بھی پاکستان فرسٹ کے نام سے ایکٹو ہے۔
    لوگ کہتےہیں کہ ٹویٹر فیس بُک سے کوالٹی کے لحاظ سے بہتر پلیٹ فارم ہے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ فیس بک پہ چلنے والی بدتمیزی،گالی گلوچ اور کاپی پیسٹ ٹویٹر پر بھی موجود ہے،یہاں بھی تقریبا”ہر دوسرا یا تیسرااکاؤنٹ فیک ہے۔زیادہ تر انہیں فیک اکاؤنٹس سے گالی گلوچ اور نامناسب اور قابل شرم کمنٹس کا دھندا کیا جاتا ہے۔
    افسوس ناک امر ہے کہ اس گالم گلوچ بریگیڈ کی سرپرستی بعض سیاسی شخصیات کرتی ہیں۔
    جن میں سر فہرست نام مریم صفدر کا ہے،مریم بی بی نہ صرف مخالفین کو گالیاں دینے والے ان اکاؤنٹس کو فالو کرتی ہیں بلکہ کئی ایسے اکاونٹس بھی محترمہ نے فالو کر رکھے ہیں،جو ملک دشمنی میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔یہ امر انتہائ افسوسناک ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم کو ان مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
    سیاسی مخالفت اور تعمیری تنقید ضرور ہونی چاہیے،مگر ریاست اداروں کے خلاف بات نہیں ہونی چاہیے۔ایسا کرنا ہمارے اندر اورباہر کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرناہے۔
    اگر ہم ٹویٹر پر ایکٹو ہیں اور لوگ ہمیں فالو بھی کرتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے ایک دن میں اپنے ملک کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھانے کے لئے کیا کام کیا ہے؟
    کونسا ایسا ٹویٹ ہم نے شیئر کیا ہے کہ جس نے دنیا کو پاکستان کے بارے میں اچھا پیغام دیا ہے؟
    اگر ہم میں سے ہر کوئ یہ سوچ لے کہ اس نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا مونہہ توڑ جواب دینا ہے،تو دشمنوں کا بھونکنا ٹونکنا بند ہو سکتا ہے۔
    مگر باعث شرم بات یہ ہے کہ باہر سے یا اندر سے جب بھی کوئ آواز ریاستی اداروں کے خلاف اٹھتی ہے تو بہت سے لوگ اندر سے ہی ان کا ساتھ دیکر ملک سے غداری کا مرتکب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
    ٹویٹر ایک باثر پلیٹ فارم ہے۔اس پر ٹرینڈز کی صورت اٹھنے والی آواز بین الاقوامی طور پر سنی جاتی ہے۔
    ہم اگر کسی ایک گروپ سے وابستہ نہ بھی ہوں تو ہمیں ان آوازوں کے ساتھ اپنی آواز ملانی چاہیے۔تاکہ ملک اور قوم کا کوئ فائدہ ہو سکے۔
    ہر اچھی چیز کو ریٹویٹ کرنے کی کوشش کریں۔خواہ آپ کسی کو جانتے ہیں یا نہیں ۔
    مگر اچھا پیغام پھیلانے میں مدد ضرور کریں۔
    ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ جس طرح ٹی وی چینلز میں ریٹننگ کی دوڑ لگی ہوتی ہے۔بلکل اسی طرح ٹویٹر پر بھی دوست احباب ریٹویٹ کے معاملے پر جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔
    اور یہ خواہش ایک قدرتی امرہے کہ ہماری لکھی ہوئ چیز کو زیادہ لوگ ریٹویٹ کریں۔
    اسے زیادہ لوگ پسند کریں۔
    مگر اس کے حصول کے لئے بلاوجہ کی سنسنی۔بد تہذیبی اور کاپی پیسٹ سے گریز کرنا چاہیے۔
    کسی دوسرے کا کریڈٹ نقل کر کے لینے سے بہتر ہے کہ بندہ سیکھے اور اپنے آپ کو اس قابل بناۓ کہ لوگ اسے فالو کرنے پر مجبور نہ بھی ہوں تو اسکی خواہش ضرور کریں۔
    فیک اکاونٹس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔اچھا لکھنے والوں کی حوصلہ افزائ کرنی چاہیے اور نئے آنے والوں کو ٹویٹر رولز سے آگاہی میں مدد دینی چاہیے۔
    اگر کبھی کچھ غلط لکھا جاۓ تو اسے ڈیلیٹ کرنے میں تامل نہ کیا جاۓ۔کیونکہ ہم بحر حال انسان ہیں۔انسان خطاؤں کا پُتلا ہے۔اپنی غلطی مان لینے ہی میں عظمت اور بڑائ ہے نا کہ غلط بات پر ڈٹ جانے میں۔
    اگر آپ سمجھیں کہ آپ نے کچھ ایسا لکھ دیا،جس سے کسی کی دل آزاری ہوئ ہے اور اسکا جرم یا قصور بھی نہیں تھا،تو پھر معافی مانگنے میں دیر مت لگائیں۔
    مگر یہ فارمولہ کرپٹ عناصر بشمول سیاستدانوں پر اپلائ نہیں ہوتا۔
    ایسے بد عنوان افراد کے خلاف لکھنا ایک جہاد ہے۔جو بھی کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نظر آۓ اسکے خلاف ضرور لکھیں۔
    مگر یہ سب کچھ لکھتے وقت ایک چیز زہن میں رکھیں کہ آپکا لکھا ہوا آپ کو ثابت بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔اسلئے تمام تر شواہد اور ثبوتوں کا جائزہ لیکر لکھیں تاکہ آپ کو کسی بھی قسم کی قانونی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    مجھ پر کئی دفعہ اخبارات میں لکھنے کی وجہ سے کروڑوں روپے ہر جانے کے عدالتی دعوے کئے گئے مگر الحمدللہ ان میں سے کوئ بھی میرے خلاف سچ ثابت نہ ہو سکا،کیونکہ میں ہمیشہ دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر خبر لگاتا تھا اور خبر لگانے سے پہلے اپنا ہوم ورک ضرور مکمل کرتا تھا۔
    خبر لگاتے وقت ہمیشہ اس شخص یا پارٹی کا موقف بھی ساتھ ہی شائع کریں ،جس کے خلاف آپ خبر لگا رہے ہیں۔
    ایسا کرنے سے آپ آدھی قانونی جنگ تو ویسے ہی جیت جاتے ہیں۔
    ٹویٹر بھی ایک اخبار کی طرح ہی ہوتا ہے۔جس میں لکھے ٹویٹس ان خبروں کی طرح ہوتے ہیں،جو ہم اخبارات میں بطور نامہ نگار شائع کرواتے ہیں۔
    اچھا نامہ نگاروہی ہوتا ہے جو اپنی لگائ گئی خبر کا پہرہ دے سکے۔
    اچھا ٹویٹ بھی وہی ہوتا ہے،جس کی سچائ بوقت ضرورت آپ ثابت کر سکیں-
    اللہ تعالی ہم سب کو زور قلم دے اور زیادہ
    اور اللہ تعالی ہمیں اپنے قلم کی اس طاقت کو اپنے ملک کی بہتری اور عوامی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کی توفیق دے۔آمین #

    @lalbukhari

  • معاشرہ اور اس میں بڑھتی بےحیائی  تحریر مدثر حسن

    معاشرہ اور اس میں بڑھتی بےحیائی تحریر مدثر حسن


    بحثیت مسلمان ہمارے مذہب نے عورتوں کو پردے اور مردوں کو نظر نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن ہمارے پیارے ملک ِپاکستان میں، جو کے بنا ہی اسلام کے نام پر ہے اس میں مرد اپنی نظر نیچی رکھنا اور عورت پردہ کرنا گناہ سمجھتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ دن با دن تنزلی کا شکار ہو رہا ہے اور ہم صرف ایک تماشائی کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں پھیلی اس بےحیائی کی بہت سی وجوہات ہے، جیسے کے ہمارے مارننگ شوز، گیم شوز، سوشل میڈیا کا غلط استعمال،اور خاص کر ہمارے ڈرامے جس میں ہمارے کلچر اور مذہب سے ہٹ کر بہت سی چیزیں دکھائی جاتی ہیں،اسکی ایک عام مثال ہم یہ لے لیتے ہیں کے اکثر ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے کے اگر مرد عورت کو طلاق دے اور وہ پرگنینٹ ہو تو طلاق نہیں ہوتی لیکن اگر اپ اس کے بارے میں تحقیق کریں تو اسلام کے مطابق طلاق واقع ہو جاتی ہے،اب اپ خود سوچیں کےجو لوگ اس بارے میں سہی معلومات نہیں رکھتے وہ اپنی دنیا اور آخرت خراب کر بیٹھتے ہیں۔

    کچھ دن پہلے ایک پرائیویٹ چینل کا ایوارڈ شو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ہمارے ملک کی مہشور و معروف اداکاراؤں نے ادھ ننگے کپڑے پہن کر خود کو لبرل ثابت کرنے کی ایک بھونڈی کوشش کی جو کہ ایک اسلامی مملکت کے شہری ہونے کے ناطے ہمارے لیے بلکل بھی قابلِ قبول نہیں ہونی چاہے، ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کے ان ادکاروں کی فین فولّوینگ نہیں ہوگی تو اب اگر ان کے اس بیہودہ فیشن کو دیکھ کر کوئی انکو فالو کرے تو ہمارا معاشرہ کس قدر تباہی کا شکار ہوگا ہم اسکا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ہیں۔

    ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے بھی کچھ دن پہلے ایک غیر ملکی انٹرویومیں اسی طرف اشارہ کیا کے دنیا میں بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعیات کی ایک بڑی وجہ عورتوں کا نا مناسب لباس بھی ہے، جو کے کافی حد تک درست بھی ہے۔ بہت سے لوگ اس سے اختلاف بھی کرتے ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کے ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں عورت کو ہی ہمیشہ ان چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، جبکے ہمارے معاشرے میں مرد کو کھلی آزادی ہے کے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔
    اس کے علاوہ سوشل میڈیا کا بےجا استمعال بھی ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا سبب ہے، جیسے کے ٹویٹر ،فیس بک ، انسٹا گرام اور خاص کر ٹک ٹاک جہاں سے برائی جنم لے رہی ہے، جہاں آپ کو انٹرٹینمنٹ کے نام پر بے انتہا بیہودگی ملے گی۔ اور اسکو روکنے والا بھی کوئی نہیں اگر کوئی ایسی کوشش کرے محض دو دن کے لیے ٹک ٹاک بین کر دی جاتی ہے اور اس کے بعد پھر وہ بیہودگی ہمارے سروں پر ناچتی ہے۔
    ایک اور بڑی وجہ جو کی آزادی مارچ جیسی تحریک ہے جو کے ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی بدترین وجہ ہے جس میں عورت کی آزادی کے نام پر اسکو بےحیائی کی شہ دی جا رہی ہے۔

    بحثیت مسلمان ہمیں چاہیے کے ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور بےحیائی جیسے فتنے سے دور رہیں اور اس کی خلاف آواز اٹھاتے رہیں کیوں کے ایک محفوظ معاشرہ ہی ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کی ضرورت ہے

    @MudasirWrittes

  • سیاہ یا سخت دل کیا ہے اس کی نشانیاں اور نقصانات تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    سیاہ یا سخت دل کیا ہے اس کی نشانیاں اور نقصانات تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان کی زندگی خوشیوں غموں آزمائشوں اور خوشحالی کا مرکب ہے. کبھی اس پر خوشیوں کی بہار رہتی تو بھی غموں کی دھوپ کبھی اسے آزمائشوں کے تپتے صحرا گزرنے پڑتے تو کبھی خوشحالی کی ہریالی نصیب ہوتی. یہاں تک کہ بیماری صحت اور اس جیسے امتحانات بھی اسی زندگی کا حصہ ہیں. انسان پر جب آزمائش یا پریشانی آتی ہے تو وہ رب کریم کی طرف پلٹتا ہے اور جب خوشحال ہوتا ہے تو رب کریم کی بندگی کو اہمیت نہیں دیتا.
    رب کریم نے اپنی لاریب کتاب میں اے بڑے واضح انداز میں بیان کیا ہے.
    اللہ کریم نے ارشاد فرمایا.
    وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ

    سورہ زمر کی ایت نمبر 8 کے اس حصے میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا.
    اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تواپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے پھر جب اللہ اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا کرے تو وہ اس تکلیف کوبھول جاتا ہے جسکی طرف وہ پہلے پکاررہا تھا.
    اسی زمرے میں نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ سختیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو اسے چاہئے کہ وہ راحت و آسائش کے دنوں میں اللہ کریم سے بکثرت دعا کرے۔
    جب انسان پر خوشحالی کا دور آتا ہے تو وہ اللَّهُ کریم کی عطائیں بھول جاتا ہے. اپنے من مستی کی زندگی میں لوٹ جاتا ہے. گناہ کرنے لگتا ہے اور اپنی تنگدستی کے دور کو بھول جاتا ہے. جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے. اور انسان کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا. چونکہ شیطان بھی شامل حال ہوتا ہے تو انسان گناہ کرتا چلا جاتا ہے اور انسان کا دل ہوتے ہوتے سیاہ اور سخت ہو جاتا ہے.

    سیاہ دل کے نقصانات کیا ہیں. 1. انسان کا رب کی راہ میں دل نہ لگنا.
    انسان کو ہر نیکی کے کام میں کیڑے دکھتے ہیں. جیسا کہ

    خیرات نہیں کرتا کہ دولت کم ہو جائے گی.
    نماز نہیں پڑھتا کہ بوڑھوں کا کام ہے.
    نیکی کرنے والوں پر طنز کرتا ہے بڑے آے صوفی صاحب.
    2. شعور گناہ کا ختم ہو جانا.
    ہر گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور فخر سے اپنے کیے کا چرچا کرتا ہے. ناحق مال ہڑپتا ہے اور اپنی دھونس بنانے کے لئے اس کا چرچا کرتا ہے.
    دھوکا دے کر اپنی عقل مندی کے گیت گاتا ہے. الغرض گناہ کا شعور ہی ختم کر بیٹھتا ہے.
    جب دل سیاہ ہو جاتا ہے انسان اپنے رب کی بارگاہ سے دور چلا جاتا ہے. گناہ کر کے فخر محسوس کرتا ہے. لیکن جب انسان پر رب کی کرم نوازی ہوتی ہے اور انسان توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی سیاہی دور ہو جاتی ہے.
    پھر اللہ اس کے دل کو اطمینان عطا کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے توبہ کرتا ہے.

    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
    بے شک اللہ کا زکر دلوں کو سکون دیتا ہے. یہی سکون اسے واپس رب کی راہ پر لے کر لوٹتا ہے. دل کی سختی کے بارے حضور کریم خاتم النبیںن محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا واضھ پیغام موجود ہے.
    حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور کریم خاتم النبیںن محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:’’اللہ کریم کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہ کیا کرو کیونکہ اللہ کریم کے ذکر کے علاوہ کلام کی کثرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور لوگوں میں اللہ کریم سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو. تو انسان کو چاہیے کہ اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھے تاکہ دل کی سختی اور سیاہی سے بچ سکے

    @EngrMuddsairH

  • پہچان ہماری پاکستان تحریر  : راجہ حشام صادق

    پہچان ہماری پاکستان تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں جیسے ہر انسان کی پہچان اس کے نام سے ہے۔اسی نام سے اسے پکارا جاتا ہے۔ اور یہی نام اس کی شناخت ہوتی ہے۔ اس مختصر اور انفرادی تعارف کے بعد ایک قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ وہ نام اور پہچان ان کا وطن ہوتا ہے۔جیسے ہماری پہچان پاکستان

    14 اگست 1947 کو ہمیں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک الگ پہچان ملی ہم انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوئے لیکن اس جدوجہد آزادی کے پیچھے کئی دہائیوں کی جدوجہد اور لاکھوں افراد کی جانی اور مالی قربانیاں تھیں۔ یہ آزادی ہمیں کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی گئی۔ کہ جائیں آج سے آپ آزاد ہیں۔

    انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دی گئی توپوں کے آگے باندھ کر اور گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ جدوجہد آزادی کی تحریک میں ہماری مائوں بہنوں اور آزادی کے متوالوں کی لازوال قربانیاں شامل ہیں لاکھوں لوگوں کو تو صرف اس لیے شہید کیا گیا۔کہ ان کا صرف ایک ہی نعرہ تھا لا الہ الا اللہ ۔ یہی وہ جذبہ جس کی وجہ سے ہمیں آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا اپنے گھروں سے بےگھر ہوئے کسی کے بیٹے ذبح ہوئے تو کئی بہنوں کی عزتیں پامال کی گئیں لیکن جذبہ بلند تھا یہ سب قربانیاں آزادی کے جذبے کو کم نہ کر سکیں۔

    جس نظریہ پر الگ ریاست کے لئے جدوجہد کی اس پر آخری دم تک قائم رہے اور پھر لا تعداد قربانیوں کے بعد ہمیں آزادی جیسی نعمت اللہ تعالٰی کی مدد سے حاصل ہوئی۔آج ہمیں اپنے بچوں کو آزادی کی اہمیت اور اس کے لئے دی جانے والی قربانیوں کے بارے میں بتانا ہے۔

    آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اللہ پاک کی طرف سے اور اس کی حفاظت کتنی اور کیوں ضروری ہے یہ سب اپنے بچوں کو بتانا ہماری ذمہ داری ہے۔کتنی جدوجہد کے بعد یہ ملک آزاد ہوا کتنے لیڈرز اور علما کا اس تاریخی جدوجہد آزادی میں خون شامل ہے۔

    یہ جو آج ہم جشن آزادی مناتے ہیں نغمے بجائے جاتے ہیں جشن ہوتا ہے شاید آزادی کی اہمیت اور تاریخ سے ہم لوگ آگاہ نہیں ہیں۔ 14 اگست کے دن ہمیں اللہ تعالٰی کا خاض شکر ادا کرنا چاہیئے اس وطن عزیز کی سلامتی کے لئے دعائیں کرنی چاہیئیں اپنے ان تمام شہدا کو یاد کرنا چاہیئے۔ جنہوں نے اس وطن کی تحریک میں اپنی جانوں کے نزرانے دیئے۔

    14 اگست کے دن نئے وطن کا خواب دیکھنے والے علامہ محمد اقبال اور ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جناح کی بہترین سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ ہم آزاد ہوئے۔ الحمدللہ آج ہمارے پاس ہر قسم کی آزادی ہے ہماری عبادت گاہیں محفوظ ہیں سیاسی و سماجی حوالے سے آزاد ہیں ہم اپنے فیصلے کرنے میں خودمختار ہیں۔
    اس خاص موقع پے ہمیں اپنی افواج کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے جنہوں نے اس وطن کے قیام کے بعد دشمن کی ہر چال اور ہماری آزادی و خودمختاری پر ہر حملے کو ناکام بنایا یہ وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان سلامت ہے تو ہم ہیں ہمیں اپنی آزادی کی حفاظت کرنی ہے چاہے اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑھے

    ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بھی بتانا ہے یہ وطن عزیز کیسے آزاد ہوا تھا اور یہ کیوں ضروری تھا دوقومی نظریہ کیا تھا کتنے لوگوں نے اس آزادی کے لئے جدوجہد کی ہے دعا ہے اللہ پاک اس وطن عزیز کو تاقیامت سلامت رکھیں یہ سبز ہلالی پرچم یونہی لہراتا رہے

    میری جنت میرا وطن میرا گھر میرا وطن میری پہچان میرا وطن میرا فخر میرا وطن۔
    پاکستان زندہ اباد

    @No1Hasham