Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کیا عورت مارچ صیح معنوں میں عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔؟   تحریر: چوہدری عطا محمد

    کیا عورت مارچ صیح معنوں میں عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔؟ تحریر: چوہدری عطا محمد

    گزشتہ دو یا تین سالوں سے اسلام آباد سے شروع ہوتا ۂوا عورت مارچ کا شور اب ملک کے مختلف حصوں میں پھلایا جا رہا ہے اب یہ عورت مارچ رفتہ رفتہ موضوع بحث بنتا جارہا ہے۔ عورت مارچ کی حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے عورت مارچ سمیت کسی کوئی بھی تحریک ہو یا مارچ یا اجتماع یا پھر جلسہ جلوس وغیرہ ان سب میں شمولیت و عدم شمولیت اور حمایت و مخالفت کےلیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس مارچ یا جلسہ جلوس یا اجتماع کے مقاصد، اس کے منشور اور اس کے رجحانات اور سرگرمیوں کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔ اس جائزہ پر مبنی تجزیہ کی روشنی میں اس طرح کے مارچ جلسہ جلوس یا اجتماع سے اتفاق و اختلاف یا شمولیت و عدم شمولیت کا فیصلہ کیا جانا چائیے اب تک ہونے والے عورت مارچ کے متعلق میں جو کچھ سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہہ اس پورے مارچ کے اندر عورت کے جو اصلی حقوق ہیں اس بارے میں تو کسی بھی قسم کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ہمارے دور دراز علاقوں میں ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کو جو مسائل زندگی میں درپیش ہیں جن کو سامنے لانا ہمارے معاشرہ کی سب سے پہلی زمہ داری ہے اسکا تو کوئی کہیں دور دور تک زکر ہی نہیں ہے اگر عورت کے مسائل کی بات کی جاۓ تو عورت کے بنیادی مسائل تعلیم، غربت، جہالت، جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل، تشدد اور ہراسگی تیزاب گردی ہے ہماری ماؤں بہنوں کو آج بھی قاتل کے لواحقین اور مقتول کے لواحقین کے درمیان صلح کے لئے بہن بیٹیوں کے رشتہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور اس نام نہاد صلح کی بھینٹ کوئی بہن یا بیٹی چڑھ جاتی ہے آپ زرا غور کیجیے گزشتہ دو یا تین سالوں سے نکالے جانے والے عورت مارچ کے جلوس کی تقاریر یا ان کے ہاتھ میں پکڑے ہوۓ پلے کارڈ میں کوئی ایک بھی فقرہ عورت کے اصل حقوق کی نشاندہی کر تا ہے کیا اگر آپ انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے تو آپ کا جواب ہوگا نہیں ایسا کوئی فقرہ تقاریر یا پلے کارڈ میں بلکل بھی شامل ہی نہیں ہے آپ خود ہی فیصلہ کریں کہہ یہ عورت مارچ کن حقوق کی بات کر رہا ہے معزرت کے ساتھ عورت مارچ کے نعرے سوشل میڈیا پر سننے کو ملے وہ تھے عورت کیا مانگے آزادی تیرا باپ بھی دے گا آزادی ہم لے کے رئیں گی آزادی ہم چھین کے لیں گے آزادی ہے حق ہمارا آزادی اس طرح کے نعروں کے بعد سب سے پہلا جو سوال زئین میں آتا ہے وہ یہ ہے کہہ ہمارے یہ بہنیں بیٹیاں کس چیز کی آزادی مانگ رہی ہیں کس سے آزادی مانگ رہی ہیں کیا جب وہ پیدا ہوئی تو باپ کے شفقت بھرے سر پر رکھے ہوۓ ہاتھ سے آزادی مانگ رہی ہیں یا پھر بھائی سے آزادی یا پھر جب شادی ہوگئ تو اپنے محافظ یعنی شوہر سے آزادی یہ عورت مارچ کی ہماری بہنیں بیٹیاں کس سے اور کیسی آزادی چائیتی ہیں
    اسلام نے عورتوں کو کتنا تحفظ دیا کتنی عزت اور تکریم دی کتنا بلند مقام دیا اس کا تصور بھی کسی اور مزہب میں ممکن ہی نہیں اسلام نے عورت کو پہلے بیٹی کی شکل میں والد کے لئے رحمت کہا اور باپ کو اس کا محافظ بنایا زرا بڑی ہوئی تو بھائی کی شکل میں اسکو ایک اور محافظ مل گیا جب شادی ہوئی تو ایک شوہر کی شکل میں محافظ عطا کر دیا پھر جب بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس بیٹے کے لئے جنت ماں کے قدموں تلے ہیں جنت کا حصول ماں یعنی عورت کی خدمت میں ہے۔ تو زرا سوچو میری عورت مارچ کی بہنوں بیٹیوں آپ کو کس قسم کی آزادی اور کس رشتہ سے آزادی چائیے۔ اگر مغرب کی بات کریں تو ادھر عورت کو اپنے زاتی استعمال کے لئے بھی خود سے مخنت مشقت کرنا پڑتی ہے مثلاً ادھر عورت جاب کے بغیر گزارہ ہی نہیں کر سکتی ہمارے ہاں عورت کے تمام اخراجات اور ضروریات کا پہلے باپ۔ پھر۔ بھائی۔ پھر شوہر۔ اور پھر بیٹا زمہ دار ہوتا ہے میں کہیں پر بھی عورت کی ملازمت کی مخالفت نہیں کر رہا آج ہمارے بہن بیٹیاں زندگی کے تمام شعبہ جات میں اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی نظر آتی ہیں اور اس پر ہمیں فخر بھی ہے کہہ ہماری بہنیں بیٹیوں کا ملک کی ترقی اور معیشت میں اتنا ہی کردار ہے جتنا مردو کا ہے
    اگر آج کے حالات کا غور و فکر سے اندازہ لگا جاۓ تو ہمارے معاشرہ کے اندر سارے مسائل اور تمام خباسط کی محض اسلئے پائی جاتی ہیں کہ لوگ قرآن مجیدسے دور ہیں اور اسکو سمجھ کر نہیں پڑھتے ۔ اور اس معاملہ میں ہماری بہنیں بیٹیاں بہت پیچھے ہیں۔ جب ایک عورت قرآن کریم کی تعلیمات سے واقف ہوگئ اور اسے معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی نے اس کو کیا زمہ داری سونپی ہے تو پھر لازم سی بات ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اللہ سبحانہ تعالی کے احکامات کی روشنی میں کرے گی ہمارے خواتین اب ہرمیدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اِن خواتین کو قرآن فہمی کے میدان میں بھی آگے آنا ہوگا تاکہ اپنے حقوق کو پہچان سکیں،اپنے حقوق کی صیح معنوں میں جنگ لڑ سکیں اور نئی نسل کی اخلاقی اصولوں پر تربیت کرکے
    ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرسکیں۔
    میری باتوں سے اتفاق یا اختلاف کا تمام لوگوں کو مکمل اختیار ہے یہ سب میری زاتی سوچ سمجھ ہے آپ اسپر اپنی زاتی راۓ کا مکمل حق رکھتے ہیں
    اللہ سبحانہ تعالی ہمیں دین اسلام کو سمجھ کر سنت نبوی صلى الله عليه وسلم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین۔

    @ChAttaMuhNatt

  • سوشل میڈیا اور زبان کا شر  تحریر: زبیر احمد

    سوشل میڈیا اور زبان کا شر تحریر: زبیر احمد

    بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جو زبان پہ آئے بغیر سوچے سمجھے اور اس کے نتائج کا احاطہ کئے کہہ دیتے ہیں۔ زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جو قابو میں رکھنے کا محتاج ہے۔ قرآن و سنت نبویﷺ مطابق زبان کا معاملہ بڑا سنگین ہے اور اس سے نکلے ہوئے کلمات قابل مواخذہ ہیں اور ہر بات نامہ اعمال میں درج ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کیلئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔” (مریم  79)۔ اللہ کے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کی زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹی جارہی ہیں تو میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جبرائیل نے جواب دیا کہ حضورﷺ یہ آپ کی امت کے فتنہ پرور خطیب ہیں جو کہا کرتے تھے ان کا اپنا وہ عمل نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوگوں کے اندر فتنہ و فساد برپا کرنے والے لوگ جن کی زبان کی تلخیاں معاشروں میں تفریق پیدا کرتی ہیں کہ بھائی بھائی سے لڑ پڑتا ہے، میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کردیتے ہیں۔ ان کی زبان نفرت کی چنگاریاں اگلتی ہے اور ان کے لہجے لوگوں کے اندر تفریق، تشدد، اضطراب اور فرقہ بندیاں پیدا کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی زبان قیامت کے دن لوہے کی قینچیوں سے کاٹ دی جائے گی۔بعض اوقات آپ کوئی ایسا بڑا بول یا بات کردیتے ہیں جس سے فتنہ اور شر پھیلنا شروع ہوجاتا ہے جس سے لوگ آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ بعض اوقات آپ آرام سے زبان سے کوئی جملہ کہہ دیتے ہیں بعد میں اس کو واپس لینا بھی چاہیں تو اس وقت تک شر پھیل چکا ہوتا ہے اس لئے ہمارے بزرگوں نے یہ تاکید کی ہے کہ بولنے سے پہلے اچھی طرح بات کو تولو، غوروفکر کر لو کیونکہ کمان سے تیر نہ نکلا ہوتو آپ کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ جب چاہو اس کو پھینک دو لیکن جب تیر کمان سے نکل جاتا ہے پھر آپ کا اختیار ختم ہوجاتا ہے پھر وہ زخمی کرے کسی کی موت کا سبب بنے یا وہ تیر ضائع چلا جائے پھر آپ کا اختیار نہیں ہوتا۔ بولنے سے پہلے ضرور سوچیں کہ میری زبان سے نکلا ہوا کوئی جملہ میرے آس پاس کے لوگوں اور معاشرے پہ کیا اثر پیدا کرے گا۔ آج کل سوشل میڈیا پہ جو دل میں آیا وہ لکھ دیا اور لوگوں کے اندر وہ چیز وائرل کردی۔ جس طرح کی تصویر چاہا ڈال دی لیکن بعد میں وہ چیز آپ کے اختیار میں نہیں رہتی ہے۔ اب تو اتنی محدود سوچ والے اور نیچ فطرت کے لوگ بھی سوشل میڈیا پہ بیٹھے ہوئے ہیں جیسا کہ گندے مزاج کے لوگ واش روم کی اندر بیٹھ کر چھپ کے جو ان کے من میں غلاظت ہوتی وہ واش روم کی دیواروں پہ لکھ دیتے، پبلک واش رومز کے اندر یہ مناظر ہم میں سے اکثر نے دیکھے ہونگے کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ایسی چھوٹی سوچ کے لوگ وہاں بیٹھ کے لکھ دیا کرتے تھے۔اب ایسے ہی لوگوں کو سوشل میڈیا کا ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے اور یہاں وہ اپنے بند کمرے میں جو چاہیں لکھ کے سوشل میڈیا پہ ڈال دیں اور اس کے شرفساد اور غلاظت کے چھینٹے کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں ان کو اس سے غرض نہیں ہوتی۔ ایک ایک حرف جو زبان سے نکلتا ہے، قلم سے نکلا ہوا ایک ایک جملہ اس کا قیامت کے دن حساب ہونا ہے۔ ایک ایک چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آج اگر سوشل میڈیا پہ کوئی بات کہہ دیتے ہیں یا کسی مجمع عام یا تنہائی میں کوئی بات کرتے ہیں اور پھر اس سے شر پھیلتا ہے تو وہ شر پھر سفر کرتا رہے گا اگر وہ جملے الفاظ کہنا چھوڑ بھی دیں اکاونٹ بند بھی کردیں تو وہ شر و فساد اور اس غلاظت کے چھینٹے جو اڑے تھے وہ آگے بڑھتے رہیں گے اس کا گناہ نامہ اعمال میں درج ہوتا رہے گا حتی کہ مر بھی گئے تو پھر بھی نامہ اعمال میں سب کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ اس لئے اپنے آپ کو محتاط کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے ایک ایک لمحے کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے وقت کو قیمتی جانیں۔ اپنی زبان کو کھولنے اور ہاتھ سے کچھ لکھنے سے پہلے ہزار بار سوچیں کہ جو میں لفظ کہہ رہا ہوں کیا وہ مجھے کہنا چاہیے یا نہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر کی بات کہے ورنہ چپ رہے اس کا چپ رہنا اس کے لئے بہتر ہے اور اگر وہ کہنا چاہتا ہے تو خیر کی بات کہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کی زبان کے شر سے حفاظت فرمائے، زبان کو قابو میں رکھنے اور خیر و بھلائی کی بات ہی زبان سے نکالنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین

    (Twitter: ‎@KharnalZ)

  • بےحیاٸی اور ہمارا معاشرہ  تحریر: شعیب خان

    بےحیاٸی اور ہمارا معاشرہ تحریر: شعیب خان


    آج مسلم معاشرہ دین اسلام سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ ہمارا معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ ہمارا معاشرہ بےحیاٸی کی دلدل میں دس چکا ہے

    بےحیاٸی کی ایک وجہ بے پردگی بھی ہے۔ہمارے معاشرہ کا المیہ ہے کہ ہم نے پردہ کو ترقی کی راہ میں رکاٶٹ سمجھ کر حکم الہی سے کو رد کیا ہے جبکہ نبی کریم ﷺنے اللہ ﷻ کے احکامات کے مطابق پردے کی سختی سے تلقین و تاکید فرمائی ہے ۔

    جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی کو پھیلانے کے محرک ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مسلم معاشرے میں سے شرم وحیا کاجنازہ اٹھ جائے ایسے لوگ دنیا میں بھی درد ناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں بھی انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا۔اور جہنم کاعذاب انتہائی سخت اذیت ناک اور ناقابل برداشت عذاب ہوگا۔اللہ ﷻ کا ارشاد ہے:

    إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُون

    ترجمہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش  پھیلے وہ دنیا میں اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔اللہ جانتاہے اور تم نہیں جانتے

    النور:19

    محرم اور نا محرم کا امتیاز پیدا کر کے قوانین و ضوابط کے بارے میں امت مسلمہ کو آگاہ کیا تاکہ ممکنہ بےحیاٸی کو پھیلنے سے روکا جاٸیں جو آگے چل کر اسلامی معاشرے کو تباہ کرسکتی ہے

    اس سلسلہ میں ازواج مطہرات کو بھی اپنے گھروں سے نکلنے کی ممانعت کر دی گئی تھی مگر بدقسمتی سے مارڈن اور مغربی عورتوں و مرد کی نقالی میں آجکل ہماری مسلم بہن بھاٸی بہت آگے نکلنے کی کوشش میں لگے ہوئیں ہیں اور اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں ۔اسکی وجہ سے تو ہمارا اسلامی اقتدار مجروح ہوتا ہے تو دوسری طرف ہمارے معاشرے میں بےحیاٸی کے یہی لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں۔حالانکہ دوسروں کی نقل اترنے والے لوگ احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    یہ لوگ نقالی میں نہ صرف لباس،رہن سہن،اور کھانے پینے کی چیزوں میں کی جاتی ہے بلکہ مرد زنانہ لباس میں خود کو دیکھنا قابل فخر سمجھتے ہیں اور خود کو مارڈن کہتے ہیں جبکہ ایسے لوگ بس بےحیاٸی و فحاشی کو فروغ دیتے ہیں۔۔

    آپﷺ نے فرمایا ہے کہ لعنت ہے اُن عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور اُن مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں ۔

    حقیقت میں جہاں ہر انسان معاشرے کی اصلاح یا بگاڑ کا خود ذمہ دار ہوتا ہے وہاں معاشرے کو سدھارنے کی ذمہ داری حکام بالا پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے قوانین پر عمل درآمد کریں اور شہریوں کو کرائیں جن سے معاشرہ بےحیاٸی کی طرف آگے بڑھنے کے بجائے اصلاحی پہلو نکل سکے۔

    بے حیائی کے اس سیلاب کے خلاف آواز اٹھاٸیے اس سے پہلے کہ بے حیائی کا یہ سیلاب ہمارے گھروں، ہماری عزتوں کو بھی  بہا کر لے جائے۔۔۔

    اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو آمین

    @aapkashobi

  • سوشل میڈیا پر عدم برداشت  تحریر  :  سید محمد مدنی

    سوشل میڈیا پر عدم برداشت تحریر : سید محمد مدنی

    ہمارے سوشل میڈیا پر برداشت کی کمی ختم ہو چکی ہے ہم معمولی سی بات کو بھی گالی اور بدتمیزی سے جوڑتے ہیں کوئی بھی بات ہو ہم سب سے پہلے گالی کا سہارا لیتے ہیں اور گالی دے کر ہم یہ سمجھتے ہیں کے جیسے ہم سامنے والے سے جیت گئے ہیں لیکن حقیقتاً ہم اپنی تربیت کا مظاہرہ دکھا اور ہار رہے ہوتے ہیں اور پستی کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جب ہمارے پاس دلیل نہیں رہتی تو ہی ہم گالی کا سہارا لیتے ہیں جبکہ جو گالی دیتا ہے وہ اسی کو آ کر لگتی ہے

    آپ نے دیکھا ہوگا کے ہم آپس میں مذاق کرتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو گالی دے جاتے ہیں اور یہی اگر لڑائی ہو جائے تو بہت برا لگتا ہے آخر کیوں بھئی جب مذاق میں آپ گالی دیتے ہیں تو سنجیدگی یا غصے کے وقت آپ کو وہی گالی بُری کیوں لگتی ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کے اگر آپ بے ہودہ یا نا مناسب زبان استعمال کریں گے تو اسے کچھ لوگ باقاعدہ انجوائے کرتے ہیں ہنستے ہیں قہقہے لگاتے ہیں کیا آپ نے کبھی تھوڑی سی دیر کے لئے یہ سوچا ہے کے آپ کر کیا رہے ہیں ہم دوسروں کو تو تلقین کرتے ہیں کے گالی مت دو لیکن ہم خود وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کے ہم معمولی بات چیت میں گالی بے ہودہ گفتگو کو سرِ فہرست رکھتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں یہ فخر کی بات نہیں بلکہ بے غیرتی کی بات ہے ایک چیز یہ بھی دیکھی گئی ہے کے اگر کوئی ماں بہن تک پہنچ کر گالی دیتا ہے تو جواب میں دوسرا بھی وہی کچھ کرتا ہے اور اگر کوئی جواباً گالی نا دے تو اسے بزدل سمجھا جاتا ہے جناب یہ بزدلی نہیں شرافت ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے بزدلی کہا جاتا ہے ایک تو گالی نا دیں اور نا ہی اس پر فخر محسوس کریں

    میں نے مشاہدہ کیا ہے اگر اپ اپنی بات سنجیدگی سے لکھتے ہیں کہتے ہیں تو لوگ اس پر اتنی بات نہیں کرتے جلدی ری ایکٹ نہیں کرتے جبکہ یہی بات کسی بھی گالی کے تناظر میں یا عجیب بے ڈھنگی زبان میں لکھ دیں تو مشہور زیادہ ہوتی ہے جیسے کے ایک گروہ نے ایک

    پ یہ ن د ی س ر ی

    (معذرت چاہوں گا الفاظ ملا کر نہیں لکھ سکتا)

    جملہ کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر آدمی وہی جملہ دھہرانے لگا میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کے کیا یہ ضروری ہے کہ ہر بات میں عجیب فنگ ڈھنگ نا سلیقہ نا آداب کے عنصر کو شامل کیا جائے، ہو سکتا ہے میری یہ بات بری لگے بہت لوگوں کو لیکن میرے نزدیک یہ کوئی اچھی بات نہیں کسی محفل میں آپ بیٹھے ہوں اور کوئی عجیب سی بات کہہ ڈالیں یا پھر فلاں کی سری یا فلاں کا کچھ کہیں تو دیگر افراد آپ کو دل میں برا ہی جانیں گے اس لئے ہمیشہ اچھی گفتگو کریں اور بات وزن دار کریں کیونکہ زبان سے ادا ہؤا لفظ اور کمان سے نکلا ہؤا تیر واپس ہرگز نہیں آتے

    آئیے اپنے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کچھ مثالیں قائم کریں اور گندی اور بے ہودہ گفتگو سے اجتناب کریں تاکہ ہمارا نام اچھے الفاظ میں لیا جائے اور لوگ ہمیں ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں

    @M1Pak

  • ‏میرا پاکستان میری پہچان   تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏میرا پاکستان میری پہچان تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ہمارا ملک پاکستان جو جدوجہد کے مستقل عمل میں ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ، اسے باقی دنیا کے منفی عکاسیوں کے مقابلے میں بتانا یقینا زیادہ اچھا ہے۔.

    یقینی طور پر ہمارے ملک میں بہت سارے مسائل ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارا ملک کیسی سے کم ہے۔ ہم پہلی اسلامی جوہری طاقت ، دنیا کی چھٹی بڑی فوج ،جو کسی بھی دشمن کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ، نہ صرف خوبصورتی اور سکون سے بھرے ہوئے علاقوں بلکہ معدنیات سے بھی مالا مال ہیں۔. صحت ، تعلیم ، انسانی وسائل اور سماجی شعبے میں بروقت سرمایہ کاری مثبت نتائج لا رہی ہے حالانکہ آہستہ آہستہ ہمارے پاس سائنس اور ٹکنالوجی ، کھیلوں ، سماجی علوم ، فنون لطیفہ اور دیگر شعبوں میں غیر معمولی ہنر مند صلاحیتوں کے حامل پرجوش اور باصلاحیت نوجوان ہیں۔

    دنیا بخوبی جانتی ہے کہ اس پرجوش نوجوان کے پاس یقینی طور پر ان کے پاکستان کو مزید خوشحال بنانے کے لئے تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔

    مکرمی ہمیں پاکستان کو مزید کامیاب بنانے کے لیے محنت کرنی ہوگی ، سب سے پہلے ہمیں تعليمی نظام پر توجہ دینی چاہیے ۔. پاکستان کو اپنی خواندگی کی شرح اور معیاری تعلیم کی کمی کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔. اس وقت کی ضرورت سائنس اور ٹکنالوجی سیکھنے کی ثقافت کو فروغ دینا ، بہتر انفراسٹرکچر ، نئی ایجادات کے ساتھ بڑھتی ہوئی صنعت کی ضرورت ہے۔.

    تحقیق اور ترقی بالکل تکمیل پذیر ہوگی کیونکہ کامیابی کے لیے اس طرح کے بنیادی شعبوں پر دنیا کی توجہ مرکوز ہے۔. بیرون ملک خدمات انجام دینے والے ہمارے نوجوانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ پاکستان کو بدعات کے میدان میں کس طرح بہتر درجہ بندی پر ڈال سکتے ہیں۔.

    ہمارے پاس دماغ اور ذہانت ہے لیکن اس کے لئے مناسب سمت کی ضرورت ہے۔. ہمارے پاس بڑھتی آبادی ، صحت ، خوراک اور پانی کی قلت اور عام آدمی کی سلامتی کے چیلنجز ہیں لیکن ان تمام امور کو فنڈز ، وسائل اور پالیسی کے صحیح استعمال سے حل کیا جاسکتا ہے۔. اخلاص اور قوم کے ساتھ وفاداری ایک پہلو ہے جس کی پاکستان کو ہم سب سے ضرورت ہے۔.

    ہم سب کو اپنے ملک کے ذمہ دار ، دیانتدار اور قانون کے پابند شہریوں کی ضرورت ہے۔ ہم جو ہیں اس پر فخر کریں اور ہمیں اپنی ثقافتی اقدار ، زبان اور تاریخ کے بارے میں شرمندہ یا معذرت نہیں کرنا چاہئے۔ باقی ممالک اپنی تاریخ کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں اور ہمیں اپنے وژن رہنما عظیم قائد اعظم محمد علی جناح پر فخر کرنا چاہئے ، جو دوسرے سرشار ساتھیوں کے ساتھ مل کر عالمی نقشہ پر پاکستان کو نقش کرنے میں کامیاب رہے تھے۔.

    بچوں کو آزادی کے معنی سمجھنے میں مدد کرنا اور انہیں ایسا ماحول مہیا کرنا جس میں وہ آزادی کے حقیقی جوہر سے لطف اندوز ہوسکیں ریاست کی ذمہ داری ہے۔. ہمیں چاہیے پاکستان کو سیاحت کو فروغ دے کیونکہ اللہ ﷻ نے پاکستان کو شمالی علاقوں میں انتہائی خوبصورت مقامات سے نوازا گیا ہے اگر ان کی دیکھ بھال کی جائے تو وہ ملک میں بہت سارے سیاح لاسکتے ہیں۔.

    بین الاقوامی محاذ پر پاکستان کو تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے اور خارجہ پالیسی میں پہلے سے کافی بہتر ہوگی ہے اسکو مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے

    آئیے یہ نہ بھولیں کہ ہم ایک فخر قوم ہیں جس کی ثقافتی اقدار اور ایک شاندار ماضی ہے۔ ہمیں اپنا 74 واں یوم آزادی مناتے ہوئے اپنی آزادی کو پسند کرنا چاہئے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک آزاد ریاست کی قدر کو سمجھیں جس سے ہمیں نوازا گیا ہے۔. آئیے اپنی قوم کی خدمت کا عہد کریں اور اسے پرامن اور خوشحال قوم بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں تاکہ ہم واقعی اپنے کارناموں پر فخر کرسکیں۔.

    اللہﷻ پاکستان کو شاد و آباد رکھے آمین!

  • انسان اور اسکی انسانیت  تحریر: صادق سعید

    انسان اور اسکی انسانیت تحریر: صادق سعید

    اسلام وعلیکم

    انسانیت رحمدلی اور اخالقیات کا نام ہے ۔ انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں بلکہ اللّہ نے ہم پر خاص کرم کیا
    ہے لیکن اپنے اندر انسانیت بنائے رکھنا ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ انسان کی تخلیق کا مقصد اللّہ تعالی کی
    عبادت اور انسانیت کی خدمت ہے ۔ انسانیت کی خدمت کا دائرہ جو اسلام نے دیا ہے وہ کسی بھی
    مذہب نے نہیں دیا۔ اللّہ نے انسان کو دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے ۔ اس نے انسان کو
    اپنی بندگی کرنے کے لئے اس زمین پر اتارا پر ساتھ ساتھ اس کے دل میں انسانیت اور تمام
    مخلوقات کے لئے رحمدلی کا گوشہ بھی اس کے دل میں اتارا۔ اس کے لئے ہمیں دنیا میں اخلاق
    سیکھنے پڑتے ہیں۔ اخلاقیات سیکھنے کی چیز ہے یہ پڑھنے سے نہیں آتی اور نہ ہی پڑھانے سے
    آتی ہے البتہ جب تک انسان خود کچھ نہیں سیکھنا چاہتا وہ کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ اسلام ہمیں
    سوچنے اور تلاش کرنے کا کہتا ہے تاکہ ہم ایک بہترین انسان بن سکیں۔ اسکی مثال ایسے لے
    سکتے ہیں کہ جب لکڑی آگ میں جل کر کوئلہ ہو کر رہ جاتی ہے بلکل اسی طرح اگر انسان میں
    انسانیت نہ ہو تو وہ ایسا ہی ہے کہ اس کا مسلمان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہم تب تک اچھے
    مسلمان نہیں بن سکتے جب تک ہم اچھے انسان نہ بن جائیں۔ انسان کو اپنے اندر ایک عادت ضرور
    ڈالنی چاہئے کہ جو چیز آپکے بس میں نہ ہو اس کی آرزو کرنا چھوڑ دے کیونکہ دوسروں کی بات
    ماننا ان کو اہمیت دینا ایک انسان کے پاس شفاف انسانیت ہونے کی نشانی ہے ۔
    جیسے جیسے دنیا میں انسان بڑھتے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں انسانیت ختم ہوتی
    جا رہی ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم کسی کو دکھ یا پریشانی میں دیکھیں تو آگے بڑھ کے انسانیت کا حق
    ادا کریں اور دنیا میں انسانیت ،رحمدلی اور تقویٰ کا چرچہ عام کریں۔ کیونکہ اچھے اعمال لوگوں کو
    متاثر کرتے ہیں۔ انسان اچھی بری باتیں ایک دوسرے سے ہی سیکھتا ہے تو یہ ہمارا فرض ہے کہ
    ہم اللّہ کی مخلوق کے ساتھ رحمدلی کا معاملہ رکھیں۔ رحمدلی تو جانور تک میں پائی جاتی ہے۔ وہ
    بھی ایک دوسرے کا دکھ،خوشی اور محبت کو محسوس کرتے ہیں پھر ہمیں تو اللّہ نے اشرف
    المخلوقات بنایا ہے اور ہمارے اندر احساس اور محبت کا جذبہ ہماری مٹی میں گوندھا گیا ہے ۔ ہماری
    زندگی ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ ایک انسان کے دل میں انسانیت کا پایا جانا بڑی چیز ہے۔
    کبھی بھی کسی انسان کی ذات اور اس کے لباس کو حقارت سے مت دیکھنا کیونکہ وقت بدلتے دیر
    نہیں لگتی اللّہ کبھی بھی کسی کو بھی کچھ بھی نواز سکتا ہے ۔ اس کو دینے واال اور تمہیں دینے
    والا ایک ہی خدا ہے ۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی دو بار قدر کرتا ہے ایک ملنے
    کے بعد اور دوسرا کھونے کے بعد اور خوشی انسان کو اتنا نہیں سکھاتی جتنا غم سکھاتے ہیں۔
    انسان کی انسانیت تب ختم ہوتی ہے جب وہ کسی دوسرے انسان کے غم پر ہنستا ہے جس سے
    اسکی اخلاقیات کا فوری اندازہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللّہ پاک نے انسان کا دل ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنوں
    سے ملی ذلت اور غیروں سے ملی عزت کو کبھی نہیں بھولتا۔
    کبھی بھی کسی انسان کی سوچ پڑھنی ہو تو اس سے مشورہ کر لیں۔ اس سے مشورہ کرنے سے
    آپکو اس کا انصاف، اس کا علم اور اس کے کردار کا پتہ چل جائے گا۔ انسان کی پہچان اس کے
    دوست بھی ہوتے ہیں۔ جن لوگوں مین انسان اٹھتا بیٹھتا ہے وہی اس کا عکس ہوتا ہے۔

    اگر کوئی بھی انسان عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے تواپنے دل میں نفرت کے بجائے انسانی
    محبت کو آباد د کرنا سیکھے۔ ہمیں دوسروں کو غیر حقیقت پسندانہ معیار پر پرکھنا نہیں چاہئے۔ مگر
    یہ لوگوں کے لئے آسان نہیں کیونکہ نشوونما بغیر تکلیف کے حاصل نہیں ہوتی اور کامیابی ہمیشہ
    کوشش کے بعد ہی ملتی ہے۔ اگر انسان میں بد اخلاقی ہے تو اس میں انسانیت پھر کوئی چیز نہیں۔
    ہمیں جس سبق کو پڑھنے کی زیادہ ضرورت ہے وہ انسانیت کا سبق ہے ایک مسلمان ہونے کے
    ناطے ہمیں اچھا انسان تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ خود اچھا انسان بن جانا
    چاہئیے تاکہ کسی اور انسان کی تلاش آپ تک آ کر ختم ہو جائے۔
    آپ انسان ہیں تو خود میں انسانیت پیدا کریں بعض دفعہ انسان سمندر کے اندر کھڑا ہو کر بھی پیاسا
    رہ جاتا ہے کیونکہ سمندر کا پانی کھارا ہوتا ہے اور پینے کے قابل نہیں ہوتا ٹھیک اسی طرح انسان
    کے اندر اگر لوگوں کی محبت، احساس کا جذبہ ختم ہو جائے تو وہ بھی سمندر کے پانی کی طرح
    کھارے ہوتے ہیں۔ اللّہ ہمیں اچھا انسان بننے کی توفیق دے آمین یارب العالمین۔

    Name :Sadiq Saeed
    Twitter: @SadiqSaeed_

  • نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    اللّٰہ پاک کی سب سے خوبصورت تخلیق انسان ہے اور اللّٰہ نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ اللّٰہ کی عبادت تو چرند پرند، درخت، پھول، جانور نیز کائنات کی ہر شے کرتی ہے پر اللّٰہ کو سب سے محبوب انسانوں کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ پاک اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ ہمارے بار بار غلطی کرنے پر وہ ہمیں فوراً سے سزا نہیں دے دیتا بلکہ ہمارے ایک بار توبہ کرنے پر ہمیں معاف فرما دیتا ہے۔

    اللّٰہ کی ہم سے محبت کی انتہا ہے کہ اس ذات نے جہاں دیکھا کہ میرا بندہ گناہ کرسکتا ہے وہیں اس کے لیے کچھ ایسے طور طریقے اور رشتے بنا دیے تاکہ وہ گناہ سے بچ سکے اور نکاح اسی کی ایک مثال ہے۔

    جیسے انسان کی بہت سی دیگر فطری ضروریات ہوتی ہیں اسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک ضرورت ہے۔ نکاح وہ خوبصورت رشتہ ہے جو مرد اور عورت کو جائز طریقے سے ایک کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کے لیے حلال کردیتا ہے۔ نکاح کو اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "نکاح کرنا میری سنت ہے”۔
    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
    ” جو کوئی نکاح کرتا ہے تو وہ آدھا دین مکمل کرلیتا ہے اور باقی آدھے دین میں اللّٰہ سے ڈرتا رہے”۔

    یعنی ہمارا دین خود نکاح جیسے پاک رشتے پر زور دیتا ہے کہ وہ شخص جو خانہ داری کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نکاح کر لے۔ لیکن آج کے دور میں نکاح کو کچھ اور ہی طریقے سے لیا جاتا ہے۔ نکاح کے نام پر لڑکی کے گھر والوں سے جہیز لینا اب ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ یعنی اب ماں باپ اپنی بیٹی بھی دیں اور ساتھ جہیز جیسی لعنت بھی۔ جہیز کے نام پر لڑکے کو گاڑی بھی چاہیے اور اپنے گھر کے لیے فرنیچر بھی، فریج سے لے کر برتنوں تک ہر چیز لی جاتی ہے۔

    بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی، جہیز کے علاؤہ کچھ اور فضول قسم کی رسمیں بھی ڈالی جاتی ہیں جیسا کہ لڑکے کی ماں اور بہنوں کو سونے کی بنی بالیاں یا انگوٹھیاں دینا۔ ایسے ہی سب کے دیکھا دیکھی ان رسموں کو مزید سے مزید فروغ ملتا چلا جارہا ہے جو انتہائی شرمناک ہے۔ دوسرا ان سب باتوں کی وجہ سے آج کل نکاح بھی مشکل ہورہے ہیں۔ نکاح کرنا اب ایک غریب کے لیے کوئی آسان کام نہیں رہا۔

    اسی لیے ایک ایسا قانون بننا چاہیے جس میں جہیز لینے اور دینے پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیے اور جہیز لینے والے کو سزا بھی ملنی چاہیے تاکہ نکاح کو آسان بنایا جاسکے۔ اس سب کے علاؤہ بحیثیت انسان ہمیں بھی اپنا کچھ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جلد سے جلد اپنے معاشرے کو جہیز جیسی لعنت سے پاک کرسکیں۔

    @SeharSulehri

  • بےحیائی کے محرکات تحریر: آصف گوہر

    سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن دینار سے ، انہوں ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : "ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔”
    صحیح المسلم
    حیا کے لغوی معنی سنجیدگی وقار اور متانت کے ہیں۔ یہ بے شرمی، فحاشی اوربے حیائی کی ضد ہے
    اسی اور نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے اعلی معیار کے ڈرامہ سریل پیش کئے گئے جو سارا خاندان بیٹھ کر دیکھا کرتا تھا ان میں جاندار کہانی کے ساتھ اعلی معیار کی ادکاری دیکھنے کو ملتی تھی اور ڈرامے نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان میں بھی بڑے مقبول ہوتے تھے ۔
    پھر پاکستان میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو کام کرنے کی اجازت ملنے کے ساتھ ہی ہماری تہذیب و ثقافت پر وار شروع ہوگئے اسٹیج اور ٹی وی چینلز کے لئے فحش موضوعات اور بازاری جملہ بازی پر مبنی ڈرامے لکھے جانے لگے جس کی وجہ سے
    ہمارے معاشرے میں ہر طرف بےحیائی کا دور دورہ ہے پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر پیش کئے جانے والے ڈرامہ چربہ سازی بےحیائی اور مقدس رشتوں سے بغاوت شادی شدہ افراد کے معاشقوں سے بھرپور اخلاق باختہ کہانیوں پر مبنی ہوتے ہیں بات ڈراموں تک ہی نہیں رکی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اشتہار سازی کی صنعت نے بھی بےحیائی کا سہار لیا اور مصنوعات کے لئے خواتین ماڈلز کے مختصر لباس اور ذومعنی جملہ بازی سے فحاشی کا پرچار کیا گیا ۔
    فحاشی کی اس قدر بھرمار کا نتائج ہمارے سامنے ہیں اولادیں نافرمان ہو رہی ہیں اخلاق و حیا سے بیزار نوجوان نسل تیار ہوچکی ہے تعلیمی اداروں میں مخلوط ڈانس اور بوس و کنار کی ویڈیوز آئے روز وائرل ہوتی ہیں خواتین اور نوجوان لڑکیوں سے دست درازی کی سی سی ٹی وی فوٹیج تواتر سے سامنے آ رہی ہیں ۔ معصوم بچے مساجد اور مدارس میں بھی غیر محفوظ ہیں ۔
    معصوم بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے سلسلے رکنے کا نام نہیں لے رہے اور ان واقعات میں ملوث افراد کو جرم ثابت ہونے کے باوجود سزا ملنے کے عمل میں سالوں لگ جاتے ہیں ۔
    اس صورتحال سے ملک کے سنجیدہ شہریوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے ۔
    گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر اسلام آباد کی پہاڑی پر قائد اعظم رحمہ اللہ کے پوٹریٹ کے سامنے نیم برہنہ لباس میں نوجوان لڑکی اور لڑکے کے فوٹ شوٹ نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے کہ اس ملک میں اس بےحیائی کو روکنے والا کوئی نہیں اسلام آباد کے ڈپٹی کمیشنر جو بزرگ شہری کے دوران ڈرائیو شیشے میں سے پیچھے دیکھنے پر ایکشن لے لیتے ہیں لیکن بابائے قوم کے پوٹریٹ اور فرمان کی سرعام بے حرمتی پر خاموش ہیں ۔
    ملک کے وزیراعظم خواتین کے لباس بارے گفتگو کرنے پر مادر پدر آزاد طبقہ نے وہ طوفان برپا کیا کہ اللہ کی پناہ۔
    عورت مارچ کے نام پر خونی لبرلز وہ بےحیائی اور بیہودگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ مارچ میں شریک خواتین کے ہاتھوں میں پکڑے کتبوں پر لکھی بیہودہ عبارتیں یہاں بیان اور لکھنے کے قابل نہیں
    اس بےحیائی کو روکنے کے لئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا مکمل ناکام ہے یا اس سے جان بوجھ کر نظریں چرائے بیٹھی ہے ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ سوسائٹی اور حکومت دونوں کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا سخت قانون سازی اور عملداری کو ممکن بنانا ہوگا بےحیائی کا پرچار کرنے والے میڈیا ہاوسز اور مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا ۔تعلیمی اداروں میں کردار سازی اور تربیت پر زور دینا ہوگا۔
    حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات اور لائحہ عمل طے کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ۔ ‎@Educarepak

  • قبرستان میں سونے والی خاتون اور ہمارا معاشرہ تحریر : عروج منطور

    میں پولیس اسٹیشن میں تھا ۔ وہاں کا تھانیدار میرا دوست ہے ۔ باتیں کرتے کرتے وہ اپنا کام بھی نمٹا رہا تھا ، وہاں آئی ایک سائل خاتون کی بات سن کر میں چونک گیا ۔وہ کہہ رہی تھیں میں ہر رات قبر میں لیٹ کر سوتی ہوں ۔
    میں نے ان سے کہا اس بات کا کیا مطلب ہے ؟ معلوم ہوا خاتون کے شوہر وفات پا چکے ہیں ۔ وہ گھر میں تنہا ہوتی ہیں ۔ کہنے لگیں قبر اور کمرے میں فرق ہی کیا ہے ، چاروں طرف دیواریں اور اوپر چھت ۔ لائٹ بند کر کے میں باقاعدہ نیت کرتی ہوں کہ مر گئی تو یہی میری قبر ہے ،24 گھنٹے تسبیح ہی کرتی رہتی ہوں ۔ اس کہانی میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی
    ان خاتون کو یقین تھا کہ ان کے رشتہ دار انہیں قتل کر کے ان کے مکان پر قبضہ کر لیں گے ۔ خاتون چاہتی تھی کہ وہ مر جائے تو اسی مکان کو اس کی قبر ڈکلیئر کر دیا جائے ۔ اپنی ذات میں ولی ہونے کے زعم کے ساتھ ساتھ ان کا حسد اور انتقام اس سطح پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد بھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتی تھیں ۔
    خاتون کے بچے بیرون ملک تھے اور واپس آنے کو تیار نہیں تھے۔خاتون مکان چھوڑ کر بچوں کے پاس جانے پر آمادہ نہیں تھیں ۔انہیں ڈر تھا کہ وہ گئیں تو مکان پر قبضہ ہو جائے گا ۔ وہ یہ مکان بیچنے پر بھی آمادہ نہیں تھیں۔ تھانیدار نے ان کے رشتے داروں کو بھی بلا لیا ۔انہوں نے کہا کہ خاتون کے وہم کا علاج کچھ نہیں ۔دو ماہ پہلے تک خاتون کے تمام اخراجات ہم اٹھاتے تھے ،اب بھی راشن پانی کا بندوبست کرتے ہیں کیونکہ خاتون کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ،ہمارے بھائی کی بیوہ ہے ۔ پہلے یہ مکان خاندانی جائیداد میں تھا ،ہم نے ہی حصے کر کے خاتون کے نام یہ مکان کروایا تھا ۔ جیسے ہی مکان خاتون کے نام ہوا انہیں وہم ہو گیا کہ اس مکان پر یہ رشتے دار قبضہ کر لیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔
    ان کے دیور بڑی سے بڑی قسم اور گارنٹی دینے کو تیار تھے، ان کے اپنے ذاتی گھر اور کاروبار تھے لیکن خاتون کا اصرار تھا کہ انہیں ہارٹ اٹیک بھی ہوا تو پرچہ ان کے دیوروں کے خلاف کاٹا جائے اور ان کے گھر کو قبر ڈکلیئر کیا جائے ۔
    وہ اپنے ممکنہ قتل کی ایڈوانس درخواست اور وصیت لکھ کر لائی تھیں۔ یہ ایسی درخواست تھی جو قتل ہونے والا ایڈوانس میں اپنے دستخط کے ساتھ تھانے جمع کروا رہا تھا اور فوری پرچہ دینا چاہتا تھا
    یہ کہانی صرف اس خاتون کی نہیں ہے ۔ ہم میں سے اکثر نفسیاتی طور پر ایسے ہی ہو چکے ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے ہماری چھوٹی سی خوشی سے بھی باقی سب جل جاتے ہیں ، حسد کرتے ہیں اور ہمارے خلاف انتقامی باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی روٹین میں معمول کی بات کرے تو ہمیں لگتا ہے ضرور یہ اشارہ ہماری جانب ہے ۔
    یہ رویہ ہمیں آہستہ آہستہ نفسیاتی مریض بنا رہا ہے ،ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے سمیت 21 کروڑ لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں
    آگہی کے ایک خاص لمحے اس درویش کو ادراک ہوا تھا ۔اس دنیا میں اہم اب کوئی بھی نہیں رہا ۔کسی کے چلے جانے سے نہ تو دنیا کا کاروبار رکتا ہے اور نہ کسی دفتر کا نظام ٹھہرتا ہے ۔یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہے اور ہر سیر کو سوا سیر میسر ہے ۔
    کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ دوسرے کی خوشی سے جلے اور اگر کوئی حسد کرتا بھی ہے تو اس پر توجہ دینا بےوقوفی اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے خوش رہنے کا راز پایا ۔ میں نے لوگوں کی پروا کرنی چھوڑ دی ۔ میں نے خود کو یقین دلایا کہ اس دنیا کے لیے میں اتنا اہم نہیں ہو سکتا کہ کوئی اپنے کام چھوڑ کر مجھ سے حسد کرے گا یا میری خوشیوں سے جلے گا ۔ اگر ایسا محسوس بھی ہو تو میں اسے نظر انداز کرکے مسکراتا ہوا گزر جاتا ہوں ۔میں اب ایسی ٹینشن پالنے کا قائل نہیں جس کا انجام کچھ نہ ہو ۔
    آپ اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھرپور انداز میں لطف کشید کیجیے ۔ لمحہ موجود میں خوش رہنے کا ہنر سیکھیں ۔ اپنی خوشیوں کے لمحے یہ سوچ کر برباد نہ ہونے دیں کہ کون کون جل رہا ہو گا اور کس کس کو جواب دینا ہے ۔
    یاد رکھیں ایک ہی کام کچھ لوگوں کے نزدیک درست ہو گا اور کچھ کے نزدیک غلط ہو گا ۔آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے ۔آپ نے صرف اپنے ضمیر کو خوش رکھنا ہے ، کیا درست ہے اور کیا غلط یہ اپنے ضمیر سے پوچھیں اور پھر ثابت قدم رہیں ۔
    اپنی نجی خوشیوں کو دکھاوے میں بدلنے کی بجائے اپنی یادوں کا حصہ بنائیں ۔ تصاویر ضرور بنائیں لیکن اتنی نہیں کہ اپنی آنکھ کو براہ راست نظارے سے محروم کر کے وہی منظر لینز سے دیکھتے رہیں ۔
    یقین مانیں زندگی بہت خوبصورت ہے ،محبت کرنے والوں کے لیے تو بہت ہی خوبصورت ہے لیکن یہ خوبصورتی اس وقت اذیت میں بدل جاتی ہے کب آپ اپنے آپ کو نیشنل ہیرو سمجھنے لگتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوشی سے باقی سب کو جلن ہو رہی ہے آپ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس جلن کا جواب سوچنے لگتے ہیں۔ ٹھیک اسی وقت وہ خاص لمحہ آپ کی مٹھی سے پھسل جاتا ہے جو آپ کے لیے باعث تسکین ہونا تھا

    Twitter ID: @AroojKhan786

  • اوور کوٹ پہنا انسان . تحریر : محمد اسامہ

    اوور کوٹ پہنا انسان . تحریر : محمد اسامہ

    ہمارے معاشرے کا انسان ننگا کیوں؟
    میں‌ نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ معاشرے میں جنسِ مخالف کا تجسس ختم کردیا جائے یا نکاح کو آسان کر دیا جائے۔ نہیں تو ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے جو خلاف توقعات ہوں گے. اسطرح مسائل بڑھیں گے.

    پچھلے کالم کے نتیجہ خیز جملوں کو شامل کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ کل اسلام آباد کی ایک شاہراہ پر بانیِ پاکستان،قائداعظم محمد علی کی ایک تصویر لگی ہوئی ہے، اس تصویر کے ساتھ قائداعظم کا سنہری قول”ایمان، اتحاد اور تنظیم”درج ہے۔اس شاہراہ کا نام "اسلام آباد ایکسپریس وے” ہے، اسے عرفِ عام میں "لاہور جی ٹی روڈ” کے نام سے پکارا جاتا ہے. معاملہ یہ ہے کہ ایک نوجوان جوڑے نے نیم برہنہ حالت میں قائداعظم کی تصویر کے ساتھ تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی ہیں. جس کو دیکھ کر پاکستانی عوام دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی ہے.

    پہلے گروہ مشتعل ہے کہ اس جوڑے کو جرات کیسے ہوئی کہ بانی پاکستان کی تصویر کا ساتھ جا کر نیم عریانی میں تصویریں بنائے. اس طرح انہوں نے پاکستان عوام کی دل آزاری کی ہے اور چیلنج بھی کیا ہے کہ ہم کبھی بھی اور کہیں بھی جو کرنا چاہیں، جس طرح کرنا چاہیں کرسکتے ہیں. صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ایک خاص خیالات کا حامل طبقہ اس انداز کو پھیلانے کا محرک ہے. یہ کام صرف پاکستانیوں کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کیے جارہے ہیں. ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان مکروہ حرکات کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

    ایسے کاموں میں استعمال ہونے والے یہ سوچ کر شامل ہوتے ہیں کہ جدید دور ہے تو اسکے تقاضے بھی جدید ہیں جو جدید انداز میں پورے کر کے تشہیر کا ذریعہ بنیں گے. پسند اور نا پسند کرنے والے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں. جنہوں نے پسند کرلیا تو انکا شکریہ ادا کردیں گے اور جنہوں نے ناپسند کیا تو انہیں اس سے کوئ فرق نہیں پڑے گا. یہ رویہ انتہاہی گھٹیا ہے جس سے صرف اپنی پہچان اکارت ہوگی. بصد افسوس ہمارے پڑھے لکھے آزاد خیال لوگ اس رویہ کو اپنانے میں دن رات محنت کررہے ہیں.

    اسی طرح گزشتہ ماہ ایک ستائیس سالہ لڑکی کا بے دردی سے قتل کیا گیا. اس قتل کی وجوہات بھی کچھ ایسی ہی ہیں. قتل کرنے والا نوجوان امریکہ کا پڑھا لکھا ہے. مقتولہ سابق سفیر کی بیٹی ہے. دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں. پھر بھی جنسی زیادتی ہوئی اور جنسی زیادتی کے بعد قتل ہوا. قتل بھی ایسا جس میں مقتولہ کا سر دھڑ‌سے جدا کردیا جاتا ہے. جسم پر آلہ قتل کے بے دردی سے وار کیے جاتے ہیں. یہ جوڑا "میرا جسم،میری مرضی” کا خوشہ چیں تھا. مہان حیرت ہے پھر بھی یہ واقعہ رونما ہوگیا. مدرسے کا مولوی بھی جب اسی قسم کا جرم سرانجام دیتا ہے. تب تو مسجد، مذہہبی طبقے کو خوب نشانہ بنایا جاتا ہے. اب تو یہ جرم آزاد خیالوں کی طرف سے ہوا ہے؟

    دوہرے معیار پر سوال تو بنتا ہے نہ؟

    جان لیں جرم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے. مجرم کسی مذہب کے اصول و ضوابط کو نہیں دیکھتا، وہ بس جرم کر دیتا ہے. اگر وہ اپنے مذہب کو دیکھتا، پیروی کرتا تو جرم ہی نا کرتا. اس سے واضح‌ ہوجاتا ہے کہ ایک دوسرے کی بھلائ، خیر کی دعوے دار تحریکوں کے حقیقی مقاصد وہ نہیں جو نظر آتے ہیں بلکہ اور ہیں جنہیں اوور کوٹ پہنایا ہوا ہے.

    بقول غالب
    ہیں کواکب کچھ،نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں یہ بازی گر،دھوکا کھلا

    @its_usamaislam