Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • زندگی اور مشکلات  تحریر:  سیدہ بنت زینب

    زندگی اور مشکلات تحریر: سیدہ بنت زینب

    زندگی خوبصورت ہے لیکن ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، اس میں مسائل بھی ہوتے ہیں اور اصل چیلنج ان مسائل کا ہمت کے ساتھ سامنا کرنا ہے. زندگی کی خوبصورتی کو بام کی طرح کام کرنے دینا، جو مشکل وقت میں درد کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے.
    خوشی، غم، فتح، شکست، دن، رات سکے کے دو رخ ہیں. اسی طرح زندگی خوشی، لذت، کامیابی اور سکون کے لمحات سے بھری ہوئی ہے جو مصائب، شکستوں، ناکامیوں اور مسائل سے جڑی ہوئی ہے. اس کرہ ارض پر کوئی ایسا انسان نہیں ہے جو مضبوط، طاقتور، عقلمند یا امیر ہو، جس نے جدوجہد، تکلیف یا ناکامی کا تجربہ نہ کیا ہو.
    اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی خوبصورت ہے اور ہر لمحہ زندہ رہنے کا جشن لیکن مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے. جو شخص زندگی میں مشکلات کا سامنا نہیں کرتا وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا.
    مشکلات انسان کی ہمت، صبر، ثابت قدمی اور حقیقی کردار کی جانچ کرتی ہیں. مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور ہمت کے ساتھ زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتیں ہیں.
    اس طرح زندگی صرف گلابوں کا بستر نہیں ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے. کانٹے بھی اس کا ایک حصہ ہیں اور ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے جس طرح ہم زندگی کے باقی خوبصورت پہلو کو قبول کرتے ہیں.
    کانٹے یاد دلاتے ہیں کہ کامیابی اور خوشی کیسے ہم سے دور ہو سکتی ہیں لیکن اس سے مایوس نہیں ہونا بلکہ یہ یاد رکھنا ہے کہ کانٹوں کا درد مختصر ہوتا ہے، اور زندگی کی خوبصورتی جلد کانٹوں کی چبائی پر قابو پاتی ہے.
    وہ لوگ جو اس تاثر میں ہیں کہ زندگی گلاب کا بستر ہے جلد ہی مایوس ہو جاتے ہیں اور ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں. جو ہمت سے مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور کامیابی کو اپنی محنت سے قبول کرتا ہے وہی ہے جو زندگی میں حقیقی خوشی، اطمینان اور سکون کا ذائقہ چکھتا ہے.
    وہ لوگ جو سوچتے ہیں کہ اچھا وقت ہمیشہ کے لیے رہتا ہے، مشکلات کے دوران آسانی سے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں. وہ مطلوبہ محنت اور کوششیں نہیں کرتے کیونکہ وہ آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں.
    آپ ایک طالب علم کی مثال لے سکتے ہیں، جو آدھی رات کو جاگ جاگ کے محنت کرتا ہے، قربانیاں دیتا ہے اور فتنوں کا مقابلہ کرتا ہے تاکہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے. اسی طرح ایک کامیاب ایگزیکٹو کو زندگی کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ نہ بھولیں کہ زندگی کامیابی اور ناکامی، خوشی اور غم کا امتزاج ہے.
    اگر انسان مشکل وقت میں امید کھو دیتا ہے، تو وہ کامیابی حاصل نہیں کرے گا اور دوسروں کی جگہ لے لے گا. یہاں تک کہ مضبوط ترین بادشاہوں اور شہنشاہوں کو بھی ان کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. زندگی گلاب کا بستر تو انکے لیے بھی نہیں رہی.
    خلاصہ یہ کہ زندگی گلاب کی طرح خوبصورت ہے لیکن اس میں چیلنجز ہیں جو کانٹوں کی طرح ہیں اور ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے. جو لوگ ان چیلنجوں کو قبول کرتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں، وہی ہیں جو زندگی کو صحیح معنوں میں جینا جانتے ہیں. اسی طرح زندگی سے لطف اٹھائیں بلکہ درد کی چوٹیں برداشت کرنے کے لیے بھی تیار رہیں.
    زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں ہے، اصل زندگی تو وہ ہے جو دوسروں کے لیے جی جائے. اپنی مشکلات کے باوجود دوسروں کے دکھ درد میں ان کا ساتھ دیا جائے، دوسروں کے لیے کام کیا جائے. سب سے بڑھ کر اپنے ملک اور اسکے لوگوں کے لیے کام کیا جائے تاکہ یہ ملک حقیقی معنوں میں "عظیم قابلِ تعظیم” بن جائے. پاکستان ذندہ باد….!

    @BinteZainab33

  • ہمارے معاشرے کی تباہی تحریر: علی معصوم

    ہم ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں قدر و قیمت انسان کی نہیں رہی بلکے اس کے سٹیٹس کی ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی حالت نہیں بلکے اوكات پوچھی جاتی ہے کے آپ کے پاس دولت کتنی ہے آپ کا بزنس کیا ہے آمدنی کتنی ہے وغیرہ وغیرہ۔
    غریب تو ویسے بھی تباہ ہے جسے اکثر امیر زادے گلی کا آوارہ جانور سمجھتے ہیں وه جیے، مرے، کھاہے یا بھوکا رہے اس کی پرواہ کسی کو نہیں البتہ کوئی امیر زادہ راستے میں بھی مل جاہے تو دس بار کھانے پینے کا پوچھا جاتا ہے۔ اور آجکل اگر ہم کسی بھی محفل میں چلے جاہیں تو وہاں امیر کے لیے مخصوص قسم کا الگ سے بیٹھنے کا انتظام، کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے غریب کو دور سے سلام اور امیر کے لیے ہر شخص کھڑا ہو جاتا ہے اور آگے سلام کرنے کو جک جاتا ہے۔
    دیکھنے میں آیا ہے آجکل اکثر لوگ شادی بیاہ کے فیصلوں میں بھی سٹیٹس کو ترجیح دیتے ہیں کے لڑکا کیا کرتا ہے؟ لڑکے کا رہن سہن کھانا پینا حلال حرام اخلاق مطلب اس سے نہیں بلکے مطلب اس سے ہے کے اس کے پاس دولت کتنی ہے اور یہی سوچ ہمارے معاشرے کی تباہی ثابت ہوئی۔
    اندازے کے مطابق پاکستان میں اکثر طلاق یافتہ عورتيں تعلم یافتہ یا امیر خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں اور غریب کم پڑی لکھی عورتيں کم طلاق یافتہ ہوتی ہیں جس کی وجہ یہی ہے لڑکی کی شادی کرتے وقت امیر زادوں نے سٹیٹس کو ترجیح دی لیکن غریب گھرانے کے لوگوں نے لڑکے کو اہمیت دی اس کی اچھایاں یا براہیاں۔۔۔۔
    معاشرہ تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک وه امیر اور غریب کے درمیان فرق کو ختم نا کر دے اور یہ فرق تب ختم ہو گا جب تک ہم دنیاوی تعلم کے ساتھ ساتھ دینی تعلم کی طرف لوٹ کر نہیں آتے۔
    رسول ﷺ نے فرمایا علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمیں چین جانا پڑے۔
    علم کہتے ہیں جاننا
    اللّه اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننا۔
    آجکل لوگ سائنس کی تعلم کے لیے بیرونے ملک جاتے ہیں وه دنیا میں رہنے کے لیے فنی تعلم حاصل کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی علم سے دور بہت دور رہتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجنیئر، وکیل وغیرہ علم نہیں فن ہے اور یہ فن اس کے پاس ہوتا ہے جو اس فن کو حاصل کرے اس کے ہارے میں جانے۔ علم صرف اللّه اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننا ہے باقی سب فن ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا لیکن علم ہر شخص پے فرض ہے۔
    ہمارے معاشرے کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہی علم ہے ہم نے فن کو علم سمجھا اور پھر علم سے دور رہ کر ہم سلیبرٹی بن گے ہم نے اللّه کے دین اسلام سے غلطیاں نکالنا شروع کی، ہم نے شہریت کو بھلا دیا، ہم نے اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق کر لیا، ہم نے شہریت میں دی جانے والی سزاہوں کو جہالت سمجھ لیا جس سب کا نقصان ہمیں یہ ہوا کے ہمارا معاشرہ تباہ ہو گیا۔ ہم نے امیر اور غریب کے درمیان فرق پیدا کیا، بچوں کے ساتھ زیادتی، قتل و غارت، چوری، زنا، تشدد، بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریب اور پھر ان کے بے رحمی سے قتل ہر برے عمل میں اضافہ ہوا اس کی وجہ یہی ہے کے ہم نے علم/شہریت سے دوری اختیار کی۔
    جب تک ہم علم کی طرف اللّه اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹ کر نہیں اہے گے تب ہمارا ممعاشرہ ایسے ہی تباہ ہوتا رہے گا۔
    @AM03100

  • تقدیر اور انسان   تحریر : شاہ زیب

    تقدیر اور انسان تحریر : شاہ زیب

    اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔

  • دیہاتی اور شہری زندگی  تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی میں بہت فرق ہے دیہاتی زندگی گاؤں کی زندگی کو کہتے ہیں جہاں پرفزا ماحول کھلی ہوا ، خالص اشیاء آسانی سے میسر ہوتی ہیں ہر انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کی مٹی وہاں کی فزا میں بہت کشش ہوتی ہے انسان خود ہی کھینچا چلا جاتا ہے دیہات کی زندگی میں مویشی پالنا ان کی دیکھ بھال کرنا ان کا کاروبار کرنا معمول سمجھا جاتا ہے گاؤں کی زندگی میں بڑا سکون ملتا ہے

    شہر میں ہر طرف بھیڑ آب و ہوا کا مسئلہ خالص اشیاء کا مسئلہ ہوتا ہے شہر میں رہنے والا جب دیہات میں آتا ہے تو وہاں کا ہی ہو جاتا ہے وہاں کا سکون اسے اطمینان مہیا کرتا ہے شہروں میں لوگ دفاتر میں چلے جاتے ہیں جبکہ گاوں میں تھوڑا مختلف ہے گاؤں میں لوگ صبح سویرے اٹھتے ہیں نماز پڑھ کر اپنے مویشیوں کیلئے چارے کا بندوست کرتے ہیں بہت کٹھن کام ہوتا ہے لیکن دیہات کے لوگ بڑی خوشی کے ساتھ کرتے ہیں دن رات محنت کرتے ہیں جسے ہم اپنے کسان بھی کہتے ہیں اگر دیکھا جاۓ تو انہی کسان کی بدولت ملک چل رہا ہوتا ہے جو گندم کسان کاشت کرتا ہے وہاں کسان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے بیچ دیتے ہیں اور وہ گندم پورے ملک میں لوگ خرید کر اپنے گھر میں روٹی پکاتے ہیں

    اسی طرح دھان (چاول) اور تمام سبزیاں ہیں جو کسان کی انتھک محنت کے بعد شہروں تک پہنچتی ہیں دیہات میں ایک کسان کا سرمایہ اس کے مویشی اس کی زمین ہوتی یے جس پہ وہ کاشت کاری کرتا ہے اپنا اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے گاؤں میں دل موہ لینے والے نظارے آپ کو ملتے ہیں وہاں عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ گھر کے کام کے ساتھ برابر کام کرتی ہے شہروں میں ایک دن اتوار کی چھٹی ہوتی ہے بہت سے لوگ گاؤں کا رخ کرتے ہیں تاکہ موسم کو انجوائے کیا جاۓ کھلے آسمان کا نظارہ کیا جاۓ کاروباری لوگ اتوار کے دن کا شدت سے انتظار کرتے ہیں

    کاروبار کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے شہر کے لوگ اپنے وقت کو اس طرح مینٹین کرتے ہیں کہ وقت نکال کے گاؤں کا رخ کرتے ہیں اور خوب انجوائے کرتے ہیں اگر شہروں کے لوگوں کو گاؤں میں ایک ماہ گزارنا پڑھے تو بہت مشکل ہوگا شہر والوں کیلئے کیونکہ شہروں کی طرح دیہات میں سہولیات کم ہوتی ہیں فون ، انٹرنیٹ وغیرہ کی وہ سپیڈ نہیں ہوتی جو شہروں میں ہوتی ہے اس لئے شہر والوں کو رہنا مشکل ہے گاؤں کے لوگ اس چیز کے عادی ہوتے ہیں وہ پر سکون ماحول میں رہتے ہیں شہروں میں اگر فوتگی ہوجاۓ تو چند عزیز و اقارب سوگ میں ہوتے ہیں بہت سے ہمسایوں کو بھی نہیں پتا ہوتا کیا پہاڑ ٹوٹا ہے ہمسائیوں میں لیکن دیہات میں سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں تمام گاؤں سوگ کی حالت میں ہوتا ہے

    بہت سے لوگ گاؤں کو چھوڑ کر شہر کی طرف سفر کر دیتے ہیں وقت کے ساتھ انہیں سکون شہروں میں میسر ہوتا ہے لیکن وہ گاؤں کی رنگینیوں کو بھول جاتے ہیں اپنا بچپن جہاں گزارہ ، اپنے والدین کے ساتھ گزرے دن اپنے دوستوں کے ساتھ گزاری یادیں سب بھول جاتے ہیں پھر وہی لوگ شہر میں ہی خوشی ڈھونڈتے ہیں اپنا آرام اور آسائش شہر میں ڈھونڈتے ہیں اور آخر کار گاؤں میں ہی اُن کی آخری منزل ہوتی ہے

    @JingoAlpha

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر:  آمنہ فاطمہ

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: آمنہ فاطمہ

    میڈیا نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے سوشل میڈیا ایسی انسانی ایجاد ہے جس کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اسکے فوائد سے ہر انسان مستفید ہو رہا ہے
    سوشل میڈیا کی بدولت میلوں کا سفر انسان کچھ سیکنڈز میں طے کر لیتا ہے جہاں لوگ بیرون ملک مقیم اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے سالوں انتظار کرتے تھے آج وہ واٹس ایپ,سکائپ,فیس بک, سنیپ چیٹ اور ٹیلی گرام جیسی اپلیکیشنز کو استعمال کرتے ہوئے منٹس میں آنلائن ملاقات کر لیتے ہیں آپ گھر بیٹھے دنیا سے رابطے میں رہ رہے ہیں جہاں خبر نامے کا انتظار کیا جاتا تھا آج خبریں جاننے کے لیے کسی نیوز چینل کو لگانے کی تردد نہیں کرنی پڑتی آپ کہیں بھی کسی جگہ پر بھی موجود ہوتے ہوئے سوشل میڈیا سے گلوبل نیوز حاصل کر سکتے ہیں
    اب معلومات حاصل کرنے کے لیے دور دراز کا سفر نہیں کرنا پڑتا او نہ ہی کتابیں چھاننے کی ضرورت پڑتی ہے محض ایک لفظ گوگل پر لکھنے سے کیا کچھ کھل کر سامنے آ جاتا ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے اسطرح کم وقت میں زیادہ کام کیا جا سکتا ہے طلباء کو کسی بھی طرح کی انفارمیشن حاصل کرنے کے لیے گھر بیٹھے فری لیکچرز یوٹیوب اور دوسری اپلیکیشنز پر میسر ہوتے ہیں حتیٰ کہ اب تو روزگار بھی آنلائن موجود ہیں نوکری کے حصول کے لیے جگہ جگہ دھکے نہیں کھانے پڑتے غرض کہ زندگی کہ ہر معاملے میں سوشل میڈیا کا کردار کہیں نہ کہیں موجود ہے
    اللّہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور جیسی صفات سے نوازہ ہے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے انسان نے ان صفات کا بہتر استعمال کرتے ہوئے آج چاند پر پہنچنے کی منازل بھی طے کر لیں دنیا میں ایجادات کی بھرمار کر دی ہے
    یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان کو سوشل میڈیا پر آزادی رائے کا اختیار حاصل ہے مگر اس کا غلط استعمال کب کسی کے لیے دل آزاری کا سبب بن جائے کوئی نہیں جانتا
    جہاں سوشل میڈیا نے انسان کے لئے ترقی کی منازل طے کرنا آسان بنا دیا ہے وہیں انسان کی منفی سوچ اور غلط استعمال کی وجہ سے معاشرہ تباہی کی طرف جا رہا ہے
    کچہری میں ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں دوڑتا ہوا باپ اور بھائی اپنی عزت بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی دینے کی ویسے انھیں آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے کیونکہ کورٹ میرج کر کے انکی بیٹی نے انہیں دنیا والوں کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے جہاں سوشل میڈیا کا مثبت استعمال ہے وہیں اسکے غیر ضروری استعمال سے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں ہمارے بچے اور نوجوان گھنٹوں آنلائن گیمز کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں ساری ساری رات سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال کرنا اور پھر ایسی موویز اور ویڈیوز دیکھنا جو کسی صورت انکو ایک اچھا انسان بننے میں مدد نہیں کر سکتیں, ماں باپ کو بچوں کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی بڑھانے کی ضرورت ہے اورانٹر نیٹ کے صحیح وغلط استعمال کےمتعلق آگاہی دینا ضروری ہے
    ہمیں اس بڑھتی ہوئی برائی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کا سدباب کرنا ہو گا تا کہ آئندہ نسلوں کو برائیوں سے پاک ایک خالص معاشرہ مہیا کیا جا سکے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اور ہمارا معاشرہ سوشل میڈیا کے منفی بہاؤ کی بجائے اس کے مثبت اثرات سے بہرہ ور ہوں آج کل کی جدید ایجادات کے مضر پہلوؤں سے خود بھی بچیں اور اپنی نسل کو بھی بچائیں

  • عدم برداشت  تحریر : صالح ساحل

    عدم برداشت تحریر : صالح ساحل

    کس بھی معاشرے کی خوب صورتی اس میں رہنے والے انسانوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان ہی ایک اچھے یا برے معاشرے کے زمہ دار ہوتے ہیں ایک اچھا معاشرہ تب بنتا ہے جب وہاں ایک دوسری کے درمیان برداشت کا کلچر ہو وہاں ایک دوسرے کی رائے کو سنا جاتا ہو لوگ اختلاف رائے رکھتے ہوں مگر ایک دوسرے سے نفرت نہ کرتے ہوں مگر بد قسمتی سے پاکستان بھی اس بیماری سے دو چار ہے یہاں عدم برداشت کا کلچر بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے سیاست دان سے لے کر مولوی تک ہر انسان اس کا زمہ دار ہے یہاں لوگوں کی بات سنی نہیں جاتی بلکہ کے اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم دن بدن پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں ہم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کے خدا نے ہر انسان کو ذہن دیا ہے اور وہ سوچتا ہے اپنے نظریات قائم کرتا ہم کو چاہیے کے اگر ہم اس کے نظریات سے اختلاف کرتے ہیں تو دلیل سے علمی رد کریں مگر علمی رد کے بجائے ہم عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں اب ہمیں یہ کون سمجھے کے ایک ہی رائے تب ہو سکتی ہے جب لوگ سوچنا چھوڑ دیں یا خدا ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت واپس لے لے عدم برداشت سے معاشرے میں خوف سا بن جاتا ہے نئے افکار لوگ اس ڈر سے بیان نہیں کرتے کے کہیں ہم مشکلات کا شکار نہ ہو جائیں
    جس سے شاید ہم اس بات پر تو خوش ہو رہے ہوتے ہیں کے لوگ ہمارے پیروکار مگر ہم ذہنی غلام پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور یہ اتنا خطرناک ہے کہ خاص کر جب یہ مذہب سے متعلق ہو تو آنے والی نسلیں الحاد کا شکار ہو سکتی ہیں کیوں کے ہم اپنے اس روایہ سے ان کے آندار سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر رہے اور آج کے دور میں مذہب پر اعتراضات ان کے جوابات نہ ہونے کی وجہ سے وہ متنفر نہ ہو جائیں ہمیں چاہیے کے اور شعبہ میں برداشت کے کلچر کو فروغ دیں دوسروں کے موقف کو آرام سے سنائیں اور اپنی باری پر جواب دیں جواب نہ ہونے کی صورت میں جواب تلاش کریں نہ کے الزام تراشی کریں
    @painandsmile334

  • زندگی کا اہم ترین سوال۔ تحریر : فہد ملک

    زندگی کا اہم ترین سوال۔ تحریر : فہد ملک

    ہر کوئی جو بہتر محسوس کرتا ہے وہ چاہتا ہے۔ ہر کوئی ہلکا پھلکا ، خوشگوار اور سادہ زندگی گزارنا چاہتا ہے ، جذباتی جذبات کا تجربہ کرنا اور شاندار سرگرمیاں اور تعلقات رکھنا ، شاندار نظر آنا اور پیسہ لانا ، اور مرکزی دھارے میں رہنا اور بہت زیادہ قابل احترام اور سراہا جانا اور اس مقام پر ایک مکمل ہاٹ شاٹ جب آپ کمرے میں ٹہلتے ہیں تو بحر احمر جیسا حصہ۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے ، اسے پسند کرنا مشکل نہیں ہے۔ اس موقع پر کہ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں ، "آپ کیا چاہتے ہیں؟” اور آپ کچھ اس طرح کہتے ہیں ، "مجھے مطمئن رہنے کی ضرورت ہے اور ایک ناقابل یقین خاندان اور ایک نوکری ہے جو مجھے پسند ہے ،” یہ اتنا وسیع ہے کہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ایک سنجیدہ دلچسپ انکوائری ، ایک انکوائری جس کے بارے میں شاید آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا ، کیا درد آپ کی زندگی میں بنیادی چیز ہے؟ آپ کس چیز کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں؟ چونکہ یہ تمام اکاؤنٹس اس بات کا زیادہ تعین کرنے والے ہیں کہ ہماری زندگی کیسے ختم ہوتی ہے۔

    ہر کوئی ایک شاندار نوکری اور مالی خودمختاری چاہتا ہے ، پھر بھی ہر شخص 60 گھنٹے کام کے ہفتوں ، لمبی ڈرائیوز ، اور ناخوشگوار انتظامی کام کو برداشت نہیں کرنا چاہتا ، اہمیت کی خود ساختہ کارپوریٹ زنجیروں اور لامتناہی ڈیسک ایریا کی نرم حدوں کو تلاش کرنا چاہتا ہے۔ جہنم کی آگ افراد کو خطرے کے بغیر امیر ہونے کی ضرورت ہے ، بغیر تپسیا کے ، بغیر کسی تاخیر کی خوشی کے کثرت جمع کرنے کے لیے۔
    ہر کوئی غیر معمولی جنسی تعلقات اور ایک حیرت انگیز رشتہ کرنا چاہتا ہے ، پھر بھی ہر شخص انتہائی مباحثوں ، آف کلٹر ہشس ، تکلیف دہ جذبات ، اور پرجوش سائیکوڈرما سے نہیں گزرے گا۔ اس طرح وہ بس جاتے ہیں۔ وہ طے کرتے ہیں اور معجزہ کرتے ہیں "ایک منظر کا تصور کریں جس میں؟” ایک طویل عرصے تک جب تک انکوائری تبدیل نہ ہو جائے "ایک منظر کا تصور کریں جس میں؟ "کیا یہ تھا؟ اور جب قانونی مشیر اپنے گھر لوٹتے ہیں اور سپورٹ چیک راستے میں ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ، "یہ کس لیے تھا؟” اگر وہ 20 سال پہلے سب سے آسان آپشن اور مفروضوں کے لیے طے نہیں کرتے ہیں ، تو پھر اس وقت کس کے لیے۔ نعمت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مثبت منفی سے نمٹنے کا نتیجہ ہے۔ آپ زندگی میں دوبارہ گرنے سے پہلے اتنے طویل عرصے تک منفی مقابلوں سے دور رہ سکتے ہیں۔

    تمام انسانی رویوں کے علاقے میں ، ہماری ضروریات کافی زیادہ تقابلی ہیں۔ مثبت تجربے سے نمٹنا مشکل نہیں ہے۔ یہ منفی تجربہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی ، وضاحت کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں۔ اس کے بعد ، جو ہم زندگی سے بچ جاتے ہیں وہ ان اچھے جذبات کے ذریعے کنٹرول نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں ، پھر بھی اس خوفناک جذبات کے ذریعے جو ہم ان اچھے جذبات تک پہنچانے کے لیے تیار اور مدد کے لیے تیار ہیں۔ افراد کو ایک حیرت انگیز جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی صورت میں ، آپ کسی کے ساتھ اختتام نہیں کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اگر آپ ایمانداری سے درد اور حقیقی دباؤ کو پسند کرتے ہیں جو ایک ورزش مرکز کے اندر طویل عرصے تک رہنے کے ساتھ ہوتا ہے ، سوائے اس کے کہ اگر آپ اپنے کھائے ہوئے کھانے کا اندازہ لگانا اور سیدھا کرنا پسند کرتے ہیں ، اپنی زندگی کا بندوبست کرتے ہیں۔ چھوٹے پلیٹ سائز کے حصوں میں افراد کو کاروبار میں جانے یا مالی طور پر آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔ پھر بھی ، آپ ایک نتیجہ خیز کاروباری وژن کو ختم نہیں کرتے سوائے اس کے کہ اگر آپ کو اندازہ ہو کہ خطرے کی قدر کو کس طرح دیکھنا ہے ، کمزوری ، دوبارہ سے مایوسی ، اور کسی ایسی چیز پر پاگل گھنٹے کام کریں جس کے بارے میں آپ کو کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ کارآمد ہوگا۔ افراد کو ایک ساتھی ، ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی صورت میں ، آپ کسی ایسے شخص کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو حیران کن ہو جو کہ مستقل مزاجی کے ساتھ ہے یہ محبت کے دور کے لیے ضروری ہے۔ آپ کو جیتنے کا موقع نہیں ہے کہ آپ نہیں کھیلتے ہیں۔

    آپ کی خوشحالی کا فیصلہ کیا نہیں آپ کس چیز کی تعریف کرنا چاہیں گے؟ انکوائری یہ ہے ، "درد کا اہم واقعہ جو آپ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟” آپ کی زندگی کی نوعیت آپ کے مثبت مقابلوں سے طے نہیں ہوتی ، البتہ آپ کے منفی مقابلوں کی نوعیت۔ نیز ، منفی مقابلوں کا انتظام کرنا زندگی کا انتظام کرنا ہے۔ وہاں ایک بری نصیحت کا لہجہ ہے جو کہتا ہے ، "آپ کو حال ہی میں اس کی کافی ضرورت کا موقع ملا ہے!”
    ہر کوئی کچھ چاہتا ہے۔ مزید یہ کہ ، ہر کوئی کچھ نہ کچھ چاہتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں جانتے کہ یہ ان کی ضرورت کیا ہے ، یا بلکہ ، انہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ "کافی” ہے۔ چونکہ ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ آپ کو زندگی میں کسی چیز کے فوائد کی ضرورت ہے ، آپ کو بھی اسی طرح اخراجات کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو فٹ فگر کی ضرورت ہے ، آپ کو پسینہ ، جلن ، صبح سویرے ، اور کھانے کی خواہش کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو یاٹ کی ضرورت ہے ، آپ کو اسی طرح دیر سے شام ، خطرناک کاروباری چالوں ، اور ایک فرد یا 10،000 کو پریشان کرنے کا موقع درکار ہے۔ اگر آپ کو کئی مہینوں کی بظاہر نہ ختم ہونے والی رقم کی ضرورت پڑ جائے ، کئی سالوں کی بظاہر نہ ختم ہونے والی رقم کے بعد ، پھر بھی کچھ نہیں ہوتا ہے اور آپ اس کے قریب کبھی نہیں آتے ہیں ، پھر ، اس وقت ممکنہ طور پر آپ واقعی ضرورت ہے ایک خواب ، تسبیح ، تصویر ، جعلی ضمانت۔ شاید جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ نہیں ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے آپ صرف اس کی تعریف کریں۔

    شاید واقعی کسی ذریعہ کی ضرورت نہ ہو۔ ایک بار میں لوگوں سے پوچھتا ہوں ، "آپ کیسے برداشت کرنے کا فیصلہ کریں گے؟” یہ لوگ سر جھکا کر مجھے دیکھتے ہیں جیسے میرے بارہ ناک ہیں۔ لیکن میں اس بنیاد پر پوچھتا ہوں کہ اس سے آپ کی خواہشات اور خوابوں کے مقابلے میں مجھے آپ کے بارے میں بلاشبہ زیادہ روشنی ملتی ہے۔ چونکہ آپ کو کچھ لینے کی ضرورت ہے۔ آپ بغیر درد کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ یہ سب گلاب اور ایک تنگاوالا نہیں ہو سکتے۔ مزید کیا ہے ، آخر کار وہ سخت انکوائری ہے جو اہم ہے۔ خوشی ایک سادہ انکوائری ہے۔ مزید یہ کہ عملی طور پر ہم سب کے تقابلی جوابات ہیں۔ واقعی دلچسپ انکوائری درد ہے۔ وہ کونسا درد ہے جو آپ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟ . انکوائری آپ کو تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ وہی ہے جو مجھے اور آپ کو بناتا ہے ، یہ وہی ہے جو ہمیں خصوصیات اور الگ تھلگ کرتا ہے ، اور آخر کار ہمیں متحد کرتا ہے۔ میری جوانی سے پہلے اور جوانی کے جوانی کے ایک بڑے حصے کے لیے ، میں نے خاص طور پر ایک پرفارمر ، ڈیمیگوڈ بننے کے بارے میں تصور کیا۔ گٹار کی کوئی بھی دھن جو میں سنتا ہوں ، میں ہر صورت میں آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور اپنے آپ کو سامعین کے سامنے کھڑا ہونے کا تصور کرتا ہوں۔ یہ خواب مجھے کافی دیر تک روک سکتا ہے۔ میں اپنے موقع کی تلاش میں تھا اس سے پہلے کہ میں وہاں سے باہر نکلنے اور اسے کام کرنے میں وقت اور مشقت کی جائز پیمائش میں حصہ ڈالوں۔ سب سے پہلے ، میں نے اسکول مکمل کرنے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت ، میں نے پیسے لانے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت ، میں نے وقت نکالنے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت… کچھ نہیں۔ میری زندگی کے بیشتر حصے کے بارے میں اس کے بارے میں تصور کرنے کے باوجود ، سچ کبھی سامنے نہیں آئے گا۔ نیز ، اس میں مجھے کافی وقت لگا اور بہت زیادہ منفی مقابلوں کو آخر کار اس وجہ سے حل کرنا پڑا کہ: مجھے واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے نتائج سے پیار تھا ، سامعین کے سامنے میری تصویر ، لوگ خوش ہو رہے ہیں ، میں کانپ رہا ہوں ، میں جو کھیل رہا ہوں اس میں میرا دل خالی کر رہا ہوں ، پھر بھی مجھے سائیکل سے محبت نہیں تھی۔ نیز ، اس وجہ سے ، میں اس پر چکرا گیا۔ ایک سے زائد بار. میں نے اس میں ہلچل مچانے کے لیے کافی کوشش نہیں کی۔

    مجھے انعام کی ضرورت تھی جدوجہد کی نہیں۔ مجھے آؤٹ پٹ کی ضرورت تھی نہ کہ سسٹم کی۔ مجھے جنگ سے نہیں بلکہ صرف فتح سے محبت تھی۔ مزید یہ کہ ، زندگی اس طرح کام نہیں کرتی ہے۔ آپ کی پہچان ان خصوصیات سے ہوتی ہے جن کے لیے آپ جدوجہد کریں گے۔ وہ افراد جو ایک ریک سینٹر کی جدوجہد میں حصہ لیتے ہیں وہ وہی ہیں جو بطور موزوں ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو طویل کام کے ہفتوں اور پیشہ ور بیوروکریسی کے قانون سازی کے مسائل کو سراہتے ہیں۔ وہ افراد جو بے سہارا کاریگر کی زندگی کی پریشانیوں اور کمزوریوں میں حصہ لیتے ہیں آخر کار وہی رہتے ہیں اور اسے بناتے ہیں۔ یہ خود نظم و ضبط یا "حوصلہ افزائی” کی کال نہیں ہے۔ یہ کوئی درد نہیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    یہ زندگی کا سب سے بنیادی اور ضروری حصہ ہے۔ ہماری جدوجہد ہماری فتوحات کا فیصلہ کرتی ہے۔ ان خطوط پر ، ساتھی ، اپنی جدوجہد کو دانشمندی سے چنیں۔ @Malik_Fahad333

  • زنا ایک ناسور، وجوہات۔ تحریر: احمد فراز خان

    زنا ایک ناسور، وجوہات۔ تحریر: احمد فراز خان

    کسی بھی معاشرے کی زینت اور مضبوطی اس کی اخلاقی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ زنا معاشرے کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ موجودہ دور میں بد اخلاقی کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے جہاں معاشرے میں اخلاقی گراوٹ وقوع پذیر ہو رہی ہے وہیں معاشرے کا امن اور آزادی بھی انتہائی گہرائی سے مضروب ہو رہے ہیں۔
    معاشرے کی بقا اس کی اخلاقی اقدار، تہذیبی اصناف اور ذہنی بلندی سے وابستہ ہے۔
    آج کل کا معاشرہ جہاں مختلف مصائب کا شکار ہے وہیں زنا جیسا ناسور بھی اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے۔ جس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔
    زنا انسانی معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ گو کہ یہ انسانی جبلت ہے لیکن بطور انسان اخلاقیات بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑی جا سکتیں۔
    آج کل زنا کی وجوہات کو لے کر ایک وسیع و عریض بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ عورت کے لباس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھ رہا ہے تو کسی کے نزدیک مرد کی نظر اس کی ذمہ دار ہے۔
    لیکن ہم ابتدا سے اس ناسور کا جائزہ لیتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں پہناووں کو لے کر ایک خاص رسم چل پڑی ہے جس کے تحت عورت کے پہناوے دن بدن سکڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ دو سال کی بچیوں کو بھی ایسے ملبوسات پہنائے جا رہے ہیں کہ بچیاں کسی فیشن انڈسٹری کی ماڈل لگنے لگ گئی ہیں۔
    بچیاں ابھی دو سال کی ہی ہوتی ہیں کہ انہیں تنگ اور مختصر لباس پہنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اور عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ لباس مزید مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دوپٹہ جو کہ خاص مشرقی روایات میں سے ایک تھا، آج کل تو ناپید ہوتا نظر آ رہا ہے۔ زیرِ نظر شعر شاید ہمارے ماضی کے لئے کسی شاعر نے لکھا تھا کیونکہ ہمارا حال تو اس شعر کا بالکل بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

    تعلق ہے میرا اس قوم سے، جس قوم کے بچے
    خریدیں جب کوئی گڑیا، دوپٹہ ساتھ لیتے ہیں

    عورت مختصر لباس میں معاشرے میں گھومتی ہے اور اسے اپنی آزادی کا نام دیتی ہے۔
    جبکہ دوسری طرف
    ایک بچہ جب دو سال کا ہوتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتا ہے اور اس ماحول پر غور وفکر کرتا رہتا ہے۔ گو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بچہ ہے اسے کوئی سدھ خبر نہیں ہو گی لیکن وہ مکمل طور پر معاشرے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہی بچہ جب نوجوان ہوتا ہے اور اپنے اردگرد تنگ لباسی کو عام دیکھتا ہے اور وہ عورت جس کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا ہو لیکن وہ نیم برہنہ کپڑوں میں ملبوس کھلے عام گھوم رہی ہو تو اسے دیکھ کر وہ نوجوان بھی تنگ نظر بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ نوجوان اپنی انسانی جبلت کے زیرِ اثر شہوانیت کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے اور حوا زادیوں کی طرف اس کی رغبت مزید بڑھنے لگ جاتی ہے۔
    ہمارے معاشرے میں شادیاں ویسے بھی دیر سے ہوتی ہیں اس لئے نوجوان غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
    آج کل جہاں فحش ویب سائٹس عام ہیں اور فحش لباس میں ملبوس کچھ گمراہ ذہنی مریضائیں کھلے عام گھومتی ہیں وہیں کسی مومن کو ابلیس بننے میں دیر نہیں لگتی۔
    میری اس بات کا اگر آپ معاشرتی تجربہ کرنا چاہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے علاقے جہاں زنا کی سزائیں جرگوں میں دی جاتی ہیں اور غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے وہاں ترقی یافتہ شہروں کی نسبت زنا کی شرح نہ صرف انتہائی کم ہو گی بلکہ وہاں کی خواتین پردے کا بھی سختی سے اہتمام کرتی ہوں گی اور مرد بھی اپنی نظریں اپنے قابو میں رکھ کر گھومتے ہوں گے۔
    زیادتی اور اغوا کے جتنے بھی واقعات پیش آتے ہیں ان کی اکثریت ترقی یافتہ شہروں میں صرف اس وجہ سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہاں پر فیشن اور آزادی کے نام پر عورت سے اس کی حیا اور روایات چھین لی گئی ہیں اور عورت تک مرد کی دسترس آسان کر دی گئی ہے۔
    یہ نام نہاد آزادی اور فیشن کا ناسور مغرب سے درآمد ہو کر آیا اور اب مختلف این جی اوز اور دیگر اداروں کے ذریعے مشرق میں اس کی بڑھوتری اور ترویج پر کام جاری ہے۔
    بطور ایک منظم اور تہذیب یافتہ معاشرہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی بنیاد کو نہ بھولیں۔ اس معاشرے کی بنیاد مشرقی اصولوں پر مبنی ہے۔ لہٰذا مغربی تہذیب اور پہناوے یہاں کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم اسلامی لباس اور اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد شروع کر دیں تو نہ صرف عورت کے لباس کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس لباس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مرد کی تنگ نظری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
    کچھ لوگ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر زنا کی وجہ عورت کا لباس ہے تو پردہ دار خواتین اور بچے کیوں محفوظ نہیں؟ اس سے میری عرض ہے کہ جب کوئی جانور خونخوار بن جاتا ہے تو وہ اونٹ اور چوہے میں فرق نہیں کرتا۔ اسے جہاں بھی خون کی خوشبو آئے جھپٹ پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں سوچنا چاہئے کہ خونخواری کی وجہ کیا ہے؟ اگر آپ معاشرے کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو آپ میری ساری گزارشات خود ہی سمجھ جائیں گے۔

    زنا جیسے ناسور پر قابو پانے کے لئے ہمیں جلد از جلد اس فیشن انڈسٹری سے چھٹکارہ حاصل کر کے معاشرے کو راہِ راست پہ لانا ہو گا۔
    اگر آپ نے ضائع ہوتا پانی بند کرنا ہے تو آپ کو بجائے اس پانی کو ٹھکانے لگانے یا پائپ کو مروڑنے کے نلکہ ہی بند کرنا پڑے گا۔ کیونکہ جب تک سر نہ کچلا جائے سانپ زندہ رہتا ہے۔

    لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن ایک آرٹیکل میں سب دلائل اور گفتگو کا سما جانا ممکن نہیں۔ اس کے لئے بیسیوں صفحات پر مشتمل کتابچہ بھی شاید کم پڑ جائے۔ بہر حال ہم صرف جڑ سے ہی اس لعنت کو ختم کر سکتے ہیں اور کوئی حل نہیں ہے۔
    @1nVi5ibL3_

  • بھارتی فلموں اور ڈرامے کے بچوں پر منفی اثرات  تحرير : حمزہ احمد صدیقی

    بھارتی فلموں اور ڈرامے کے بچوں پر منفی اثرات تحرير : حمزہ احمد صدیقی


    پانچ سال قبل کراچی میں پیش آنے والے ایک واقعے نے مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم کو حیرت میں مبتلا کر دیا. دسویں جماعت میں پڑھنے والے 16 سالہ نوروز اور اس کی ہم جماعت فاطمہ نے اسکول میں اسمبلی کے دوران خودکشی کی.

    پستول فاطمہ کے والد محترم کی تھی ،جوکہ نوروز نے منگوائی تھی اور دونوں نے پہلے ہی سے خودکشی کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، اس کی وجہ ان کے درمیان کی محبت تھی اور ماں باپ ان کی شادی پر رضا مند نہیں تھے، خودکشی کے بعد دونوں کے سامنے آنے والے خطوط میں ایک دوسرے کے ساتھ دفن ہونے کی آخری خواہش ظاہر کی تھی.۔

    اس سب میں اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ انکی عمر تھی ان سب باتوں میں پڑنے کی؟؟ اس 16 سالہ عمر میں تو ان بچوں کو ابھی تک یہ بھی نہیں پتا ہوگا کہ محبت کس چیز کا نام ہے؟؟

    والدین اتنے پیار سے اپنے بچوں کو پالتے ہیں،انکی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انکی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، انکے لیے طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتے ہیں مگر پھر بچے ایسا کیوں کرتے ہیں؟ دراصل اس میں قصور انکی تربیت کا ہے، دین اسلام سے دوری اسکی سب سے بڑی وجہ ہے۔.

    اس سب سانحہ میں ایک حیران کن بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ بچوں نے کسی بھارتی فلم کی نقل اتاری.بھارتی فلمیں جنہیں ہم خود اور اپنے بچوں کو انٹرٹینمنٹ کے لیے دکھاتے ہیں، دراصل ہمارے خزاں رسیدہ معاشرے کی خرابی کا باعث بن رہی ہیں.. ہماری نوجوان نسل کے اندر صنف مخالف کی طرف کشش مزید ابھارتی، بے حیائی اور فحاشی پھیلا رہی ہیں..

    محبت کے نام پر ہمارے مہذب معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں، ہمارے مہذب معاشرے میں نوجوان نسل کی خرابی کی دو اہم وجوہات ہیں، ایک بھارتی فلمیں اور دوسرا کو ہمارا ایجوکیشن سسٹم ہے.. یہ دو وہ اہم اسباب ہیں، جو ہمارے اس معاشرے کو بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں.

    بھارتی فلمیں نوجوان کے ذہنوں میں یہ فتور ڈالتی ہیں کہ کسی کو کیسے سٹ کرنا، کیسے پروپوز کرنا اور پھر آگے بات کیسے بڑھانی۔۔اور کیسے محبت کرنی ہے، باقی اس کام کی آسانی کے لیے ہمارا کو ایجوکیشن سسٹم اور موبائل فون اور انٹرنیٹ موجود ہے.

    میں یہ ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ بچوں کو موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال نہ کرنے دیا جائے ،مگر اس حوالے سے اپنے بچے پر نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے. ہماری تہذیب، ہمارا کلچر، ہماری ثقافت سب ہندوؤں نے تباہ و برباد کر دی۔آج ہمارے نوجوانوں کو قرآن کی سوتوں کے ناموں سے زیادہ بھارتی فلموں کے نام یاد ہوں گے،شاید انہیں قرآن پاک پڑھنا بھی نہ آتا ہو ،مگر گانے پوری پوری طرز کے ساتھ سنائیں گے. اور اس پر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ والدین اس پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انکا بچہ گانا بہت اچھا گاتا ہے.

    آج کل نوجوان نسل کی گفتگو کا موضوع ہی بھارتی فلمیں، فلموں میں کام کرنے والے اداکار اور فلموں کے گانے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ وہ ان بھارتی اداکاروں کی نقل اتارنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں. فضول قسم کے فیشن کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں.

    کراچی کے سکول میں پیش آنے والا واقعہ بہرطور ایک نہ ایک دن رونما ہونا ہی تھا. اور اس میں قصور وار والدین ہیں جہنوں نے اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کی پہچان بھی نہ کروا سکے اور کھلی چھٹی دے دی۔۔

    ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ بچہ اگر نماز نہ پڑھے تو اسے کچھ نہیں کہا جاتا، لیکن اگر وہ اسکول کا کام نہ کرے تو خوب مارا پیٹا جاتا ہے.۔ والدین بچوں کو فجر کی نماز کے لیے نہیں بلکہ اسکول جانے کے لیے اٹھاتے ہیں. آئے دن ہونے والی محبت میں خودکشیاں، ریپ کیسز اور دن بہ دن بگڑتا ہوا ہمارا خزاں رسیدہ معاشرہ، ہماری بربادی کے دروازے پر دستک دے چکا ہے۔.

    میرے خیال میں والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کہاں کس سے اور کیوں مل رہے ہیں. انہیں اپنے بچوں کی سوسائٹی کا علم ہونا چاہیے. اور اپنے بچوں کو بھارتی فلموں اور ڈراموں سے دور رکھیں. اگر والدین اس حوالے سے محتاط رہتے ہیں تو اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ نوجوان نسل کی سوچ میں تبدیلی آئے گی.

    یہ ملک پاکستان، ہمارا ملک ہے. انتھک محنت، لاکھوں قربانیوں اور بے بہا خون کے ساتھ حاصل کیا گیا ہے. اسکی بربادی کی وجہ بھی ہم ہیں اور ہم ہی اسے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں. اپنی ذمہ داریوں کو پہچانئے اور ایک اچھے پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کی کیجئے!

    ہماری نوجوان نسل ہی دین اسلام اور پاکستان کا مستقبل ہیں، خدارا! انہیں یہود و نصارٰی اور ہندوؤں کی بے حیائی اور فحاشی کے جال میں پھنسنے نہ دیجئے! اس ملک کے تابناک اور روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کیجئے! اپنے بچوں کو دین اسلام سے جوڑیئے! اور انکو ایک بہتر مسلمان بنانے کی کوشش کیجئے تاکہ وہ قوم کا سر فخر سے بلند سکیں.۔

    اللہﷻ آپ کا حامی و ناصر ہو.

    @HamxaSiddiqi

  • غربت (پارٹ 2)  تحریر : شاہ زیب

    غربت (پارٹ 2) تحریر : شاہ زیب

    ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔  غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں۔
      اس تناظر میں ، غریب لوگوں کی شناخت کے لیے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات کیا ہیں۔  ان کو "بقا کے لیے ضروری” کے طور پر یا وسیع پیمانے پر "معاشرے میں مروجہ معیار زندگی کی عکاسی کرنے والے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔  پہلی کسوٹی صرف ان لوگوں کا احاطہ کرے گی جو فاقہ کشی یا نمائش سے موت کی سرحد کے قریب ہیں۔  دوسرا ان لوگوں تک پھیلایا جائے گا جن کی غذائیت ، رہائش اور کپڑے ، اگرچہ زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب ہیں ، مجموعی طور پر آبادی کے لوگوں کی پیمائش نہیں کرتے ہیں۔  تعریف کا مسئلہ غیر معاشی مفہوم سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جو لفظ غربت نے حاصل کیا ہے۔  غربت کو منسلک کیا گیا ہے ، مثال کے طور پر ، خراب صحت ، تعلیم یا مہارت کی کم سطح ، کام کرنے کی نااہلی یا ناپسندیدگی ، خلل ڈالنے والے یا بے ترتیبی برتاؤ کی اعلی شرح ، اور بہتری۔  اگرچہ یہ صفات اکثر غربت کے ساتھ پائی جاتی ہیں ، ان کی غربت کی تعریف میں شمولیت ان کے مابین تعلقات اور کسی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکامی کو واضح نہیں کرتی ہے۔  جو بھی تعریف استعمال کی جاتی ہے ، حکام اور عام آدمی یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ غربت کے اثرات افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    اگرچہ غربت انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کی اہمیت بدل گئی ہے۔  اجتماعی غربت نسبتا پائیداری کی طرح لیکن تقسیم کے لحاظ سے اس سے مختلف ، کیس غربت سے مراد کسی فرد یا خاندان کی عمومی خوشحالی کے معاشرتی ماحول میں بھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہونا ہے۔ یہ نااہلی عام طور پر کچھ بنیادی وصف کی کمی سے متعلق ہوتی ہے جو فرد کو اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ ایسے افراد ، مثال کے طور پر ، اندھے ، جسمانی یا جذباتی طور پر معذور ، یا دائمی بیمار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی معذوریوں کو عام طور پر ہمدردی کے ساتھ سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ وہ ان لوگوں کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ جسمانی وجوہات کی وجہ سے غربت میں کمی لانے کی کوششیں تعلیم ، پناہ گاہ روزگار اور اگر ضرورت ہو تو معاشی دیکھ بھال پر مرکوز ہیں۔