Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • آ گیا جشنِ آزادی؟ . تحریر : سید منعم فاروق

    آ گیا جشنِ آزادی؟ . تحریر : سید منعم فاروق

    ایک سال کے طویل انتظار کے بعد ایک بار پھر اگست کا مہینہ شروع ہو رہا ہے اور جشنِ آزادی منانے کی تیاری مکمل جوش و خروش سے جاری ہیں، باجے اور پٹاخے بنانے والے کارخانے دِن رات اوور ٹائم پہ چل رہے ہیں، موٹر سائیکل مکینک سائلنسر سے نئی سے نئی آوازیں نکالنے کے آلے تیار کر رہے ہیں، کپڑوں کے برینڈ سفید اور سبز رنگ کے ملبوسات پہ سیل سیل کا واویلا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ پہ جشنِ آزادی کی سیل لگانے کی تیاریاں جوش و خروش سے جاری ہیں اوراس بات کی قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستانی قوم اس سال بھی جشنِ آزادی روایتی جوش و جزبے سے منائے گی، لیکن ایک منٹ۔

    راقم یہ سطور لکھتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ اس سب سے کیا حاصل ہو گا؟ ساتھ ہی ماضی کی کہانیوں، تصاویر اور تحریکِ پاکستان کی قربانیوں کی ایک جھلک نظر سے گزری تو میں لرز کر رہ گیا کہ ہمارے بزرگوں نے بیش بہا قربانیوں کے بعد جو ملک اس لیئے حاصل کیا تھا کہ اس ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلا کر پوری دنیا کے لیئے ایک مثال بنایا جائے اور اِسی ملک کی آزادی کے دِن یہاں کیا کچھ ہو رہا ہے، اس ملک کو بنانے والے تو ایمان، اتحاد، تنظیم کا درس دے کر گئے تھے جبکہ چوہتر(74) سال بعد ہماری قوم ان تمام چیزوں کو بھول کر رشوت، کرپشن اور بے حیائی کو اپنا مِشن بنا چکی ہے، اس کالم میں ہم تحریکِ آزادیِ پاکستان پر مختصر روشنی ڈالنے کے بعد اس قوم کے کردار اور ذمہ داریوں پر بات کریں گے۔

    1857 کی جنگِ آزادی کے بعد سے ہی سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی تعمیر و ترقی پہ خصوصی توجہ دینا شروع کر دی تھی، انہوں نے مسلم کالج اور سائنٹیفک مدرسوں کے ذریعے مسلمانوں کو دُنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہونے کا راستہ دکھایا جسکے بعد مسلمانوں نے سیاست کے ذریعے اپنے حقوق کے حصول کے لیئے آواز اٹھانا شروع کی، مسلم لیگ کا قیام بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی، ابتداء میں مسلمانوں کے قابض انگریز حکومت سے حقوق کی شکایت اور ان کو حاصل کرنے کے لیئے کوششیں رہی لیکن بعد میں ہندو سامراج کے دوغلے رویہ کو دیکھ کر قائد اعظم جیسے ہندو مسلم اتحاد کے داعی نے بھی مسلمانوں کی سیاست کو ہندوؤں سے مکمل الگ کر لیا، بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیئے ایک الگ ریاست کی بات کر کے اس تحریک کو ایک نئی منزل دکھائی جسکے بعد سترہ سال کی قلیل مدت میں مسلم لیگ نے قائد اعظم اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں انگریز کو برصغیر سے نکالنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیئے الگ وطن کے قیام کا مشن بھی پورا کر لیا، اس عظیم مشن کی تکمیل کے دوران ہزاروں لوگوں نے اپنے جان، مال اور اسباب کی قربانیاں دی، ایسے ہی قیامِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پاکستانی علاقوں کا رخ کیا جو ہجرتِ پاکستان کہلائی، اس ہجرت کے دوران بھی قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم ہوئی ہزاروں لوگوں نے اپنے پیارے کھوئے، ہزاروں ماؤں کے بیٹے، ہزاروں بیٹیوں کے سہاگ اجڑے لیکن لوگوں کی آنکھوں میں صرف ایک خواب تھا ”پاکستان” اور مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا دیس بسایا جائے جہاں ترقی ہو، خوشحالی ہو، امن و امان ہو اور وہ ملک حقیقت میں اسلامی فلاحی ریاست ہو۔

    آج جب پاکستان کو بنے قریبا چوہتر 74 سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن افسوس ہم نے پاکستان زندہ باد کہنا تو سیکھ لیا لیکن پاکستان زندہ آباد کیسے ہو گا یہ نہیں سمجھ سکے، ہم نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کا نعرہ تو بہت لگایا لیکن اس پر عمل اور اسکے فرائض سمجھنے سے محروم رہے، ہم نے ہر سال پاکستان کے قومی دنوں کے موقع پہ بڑے بڑے وعدے اور قسمیں توضرور کھائی لیکن عملی طور پہ ہم بدقسمتی سے بالکل صفر رہے، ہم نے عہد تو پاکستان کا نام روشن کرنے کا کیا لیکن حقیقت میں ہم ابھی تک شائددل و دماغ سے پاکستانی ہو ہی نہیں سکے، آج بھی ہر سال پاکستان کی آزادی کا دن ہمیں اس امید سے دیکھتا ہے کہ شائد پاکستان کے آزادی کا جشن منانے والا کوئی ”پاکستانی” مِل جائے، شائد پاکستان زندہ آباد کانعرہ لگانے والا حقیقت میں بھی اس ملک و قوم کا معمار بن جائے۔

    تعارف: سید منعم فاروق کا تعلق اسلام آباد سے ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے مختلف اداروں کے ساتھ فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں، ڈیجیٹل میڈیا، کرنٹ افیئرز اور کھیلوں کے موضوعات پر ذیادہ لکھتے ہیں۔ ان سے رابطہ کے لیئے انکا ٹویٹر اکاونٹ: https://twitter.com/Syedmunimpk

    Introduction: Syed Munim Farooq is Islamabad based freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums since 2012. His major areas of interest are Current Affairs, Digital Marketing, Web media and Journalistic affairs. He can be reached at Twitter: https://twitter.com/Syedmunimpk

  • عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے سازسے ہے زندگی کا سوزِدروں

    دین اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت و رسواٸی اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی و نجات کا پیغام تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا ،جو عورت کے انسانی وقار کو بری طرح سے متاثر کرتا اور عورت کو وہ حقوق و فرائض عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و احترام کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق صرف مرد حضرات ہوا کرتے تھے ۔

    اسلام سے قبل عورتوں کو زندہ زمین میں گڑھ دیا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے آنے اس عورت ذات اس رسم و رواج سے نجات ملی ،اللہ نے تخلیق کے درجے میں بھی عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ اور اسی طرح ﷲ کے اجر کے استحقاق میں مرد و عورت دونوں برابر حقدار ہیں ۔

    قرآن کریم اور احادیث میں عورتوں کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے کہ عورت لطیف اور رحمت ہے. اسکے ساتھ لطف و کرم اور مہربانی کی جائے، احسن سلوک کیا جائے اسکے ساتھ ساتھ اس کے ظریف اور نازک وجود کی تعریف کی گئی ہے

    قرآن مجید میں اللہﷻ کا ارشاد ہے:

    اے ایمان والو! یہ بات تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو، اور ان کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا اس کا کچھ حصہ لے اڑو، الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ،سورت النساء

    دین اسلام کی وجہ سے عورت کو وہ حقوق و فراٸض بھی ملے جو زمانہ جہالیت میں نہیں ملا کرتے تھے اسلام نے تو عورت کے لئے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن مرد کو بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت سے سرفراز فرمایا۔اسلام نے عورت کو چاروں روپوں میں اسکے حقوق و فرائض دٸیے ہیں جو جہالیت کے زمانے میں دینا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا ۔

    آپﷺ نے عورت کو بحیثیت ماں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا، عورت کو بحيثيت بہن وراثت کا حقدار ٹھہرایا ، اسی طرح عورت بطور بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیا بلکہ اس کی تربیت و تعلیم اور احسن طریقے پرورش کرنے پر جنت کا ضامن بنایا۔ عورت کو بطور بیوی اپنے شوہر کا لباس بنایا ہمارا نبی اکرمﷺ نے بیوی سے حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی اسکے نان و نفقہ کا حقدار مرد کو بنایا

    آج کی عورت ہی دین اسلام کے بقاء اور تحفظ کو بقائے دوام عطاء کر سکتی ہے۔ آج کی عورت کو قرون اول کی عورت کی طرح اسلامی زندگی اور اسلامی معاشرے کا ایسا نمونہ پیش کرنا ہوگا جسے نئی نسل کو دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں سرخروئی حاصل ہو۔ اور اگر آج کی عورت کو یہ کوشش بارآور ہو جائے تو وہ نہ صرف ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت انجام سرانجام دےگی بلکہ دین اسلام کی بھی خدمت انجام دے گی کیونکہ
    دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں نہ صرف باعزت مقام و مرتبہ عطا کیا بلکہ اس کے حقوق و فرائض بھی متعین کردیئے جن کی بدولت عورت معاشرے میں پرسکون زندگی بسر کر سکتی ہے!!

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو ، آمین

    ‎@aapkashobi

  • عشق تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

    عشق تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

     عشق محبت میں تجاوز کرنے کو کہتے ہیں
     یعنی جب محبت شدت احتیار کر لے اور قوی ہوجائے تو اس کو عشق کہا جاتا ہے ۔
     محبت کی انتہاء عشق ہے اور محبت دراصل میں ” طبیعت کا کسی سے شے کی طرف مائل ہونا ، اس سے لذت حاصل
    “کرنا اور اسکو حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا نام محبت ہے
    اور جب یہ میلان پختہ اور قوی ہو جائے اسکو عشق کہتے ہیں
    “عشق دراصل محبت کا آخری درجہ ہے”
    عشق جب ہو جائےتو پھر اسکی کوئی انتہا نہیں رہتی ہے

    بقول شاعر ۔۔!۔
    تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری
      میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

    عشق ایک ایسی بیماری ہے جو جس کو لگ جاتی ہے پھر وہ بیمارِ عشق اس کی شفاء نہیں چاہتا بلکہ وہ اس بیماری میں مزید ترقی چاہتا ہے۔
    یہ بیماری تمام بیماروں سے جدا ہے۔ کیونکہ جب کوئی دوسری بیماری لاحق ہوتی ہے تو بیمار کو مرنے کا وہم رہتا ہے وہ اس کا علاج  کرواتا ہے ۔ اپنی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے دعائیں مانگتا ہے لیکن یہ واحد بیمار ہے جس میں بیمار مزید ترقی کےلیے دعائیں مانگتا ہے۔

    ایک اللہ والے نے عشق کے متعلق فرماتے ہے کہ:۔
    عشق اک ایسا دریا ہے جس کی انتہا نہیں اور نہ کوئی اسکی کی گہرائی اور تہہ تک پہنچ سکتا ہے ، جس نے اس دریا میں غوطہ لگایا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں سیر کرتا رہے گا اور ہر گھڑی نیچے ہوتا جائے گا اس کا اوپر ابھرنے کا کوئی امکان نہیں اس کا نہ کبھی پتہ چلے گا اور نہ کبھی وہ دریا کی گہرائی تک پہنچے گا اور جسکو معشوق تک پہنچنے کے بعد قرار آ گیا اسے عشق نہ سمجھو اسے  ”ہوس“  کہو۔   عشق وہ ہے کہ جتنا معشوق سے قربت ہوتی جائے اور اس سے میل جول بڑھتا جائے عشق کی آگ تیز تر ہوتی جائے۔
    (اللہ کے عاشقوں کی عاشقی کا منظر  ص ٢٧)

     عشق دو طرح کے ہیں ایک کو عشقِ مجازی اور دوسرے کو عشقِ حقیقی کہتے ہیں
    دل سے غیراللہ کو خالی کر کے اللہ کی یاد بسانے کا نام عشق حقیقی ہے۔  اور دل میں غیر اللہ کی یاد بسا کر اللہ کی یاد سے غافل ہو جانے کا نام عشقِ مجازی ہے۔
    عشق مجازی حرام ہے اور اللہ کا عذاب ہے ۔جس میں پڑھ کر انسان اپنی دونوں جہانوں کی زندگی تباہ و برباد کر دیتا ہے نہ وہ دنیا کی زندگی میں چین، سکوں، راحت حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی زندگی میں چین، سکوں، راحت مل سکے گا۔
    کیونکہ جو عاشق ہوتا ہے اس کا دل ہر وقت یادِ معشوق میں رہتا ہے اپنے معشوق کی یاد سے ذرا بھی غافل نہیں رہتا اس کو ہر جانب اپنا معشوق ہی نظر آتا ہے اور اس وجہ سے وہ یاد خدا سے غافل ہو جاتا ہے خدا کی یاد اس کے دل سے نکل جاتی ہے۔

    کسی نے مجنوں سے پوچھا۔۔۔! کہ
    تمھارا نام کیا ہے ۔؟  ”بولا لیلی“ ۔
    کسی نے کہا کہ لیلی مر گئی ۔ اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔؟
    وہ تو میرے دل میں ہے ، میں ہی لیلی ہوں

    آج کل کتنے عاشق  ، مجنوں اپنے دلوں میں اپنی اپنی لیلی کا چہرہ بسائے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں  اور اپنے دلوں کو یادِ خدا سے غافل کیا ہوا ہے جس خدا نے ان کو زندگی دی ماں کے پیٹ میں نو ماہ حفاظت کے ساتھ رکھا اور پھر اس اندھیرے سے نکال کر دنیا کے روشنی میں لایا اور عنقریب ایک وقت آنے والا ہے کہ دنیا سے رخصتی ہونا ہے اور قبر کے پیٹ میں چلے جانا ہے وہاں دل کی بات زبان پر جاری ہوگی ۔

    ترجمہ:۔
       اور سینوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کیا جائے گا
    (سورت العادیات)

    جو لوگ عشق مجازی میں مبتلا ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
    اک اللہ والے فرماتے ہیں کہ عشق مجازی اک عذاب ہے اگر کسی کو مردود کرنا ہو تو اللہ اس کو عشق مجازی میں مبتلا کر دیتا ہے
    ایک بہت بڑے اللہ والے تھے چالیس سال تک ایک مسجد میں موذن رہے مسجد میں آذانیں دیتے رہے اک دفعہ آذان دے رہے تھے اور مسجد کے پہلو میں ایک عیسائی کا گھر تھا اور چھت سے اس کی بیٹی کو دیکھ لیا بس اس کی عشق میں مبتلا ہو کر اس کے گھر چلے گئے 
    اور اسی کے عشق میں پہلے اسلام چھوڑا اسی کے کہنے پہ خنذیر کا گوشت کھایا اور شراب پی اور اس کے نشہ میں چھت پہ چڑھا اور وہاں سے گھر کر مردار کی موت دنیا سے چلے گے۔

    اس کے بر عکس عشق حقیقی رحمت اور اللہ کا خصوصی انعام ہوتا ہے۔
    غیر اللہ کو اپنے دل سے نکال کر اپنے رب کی یاد کو دل میں بسانے کا نام عشق حقیقی ہے۔
    اللہ اپنے خاص بندے کو اس  نعمت سے نوازتے ہیں ۔ اللہ کا اپنے ان بندوں پر خصوصی کرم ہوتا ہے کہ اپنی محبت کا خزینہ ان کو دیا ہے ۔
    اپنی نفسیانی خواہشات کو اللہ کے لیے ترک کرنا اور  ہر حال میں اپنے اللہ کے حکم کو پورا کرنے کا نام عشقِ الہی ہے۔
     ترجمہ :
    “اور جو ایمان لانے والے ہیں وہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں”
    (القران)
     اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے عاشق اللہ کو ہر حال میں چاہتے ہیں۔  ہر حال میں ان کے دل و زبان پر یادِ الہی رہتی ہے۔ 
     حضرت بلال رض ایسے عشق ِ حقیقی اور حبیبی مستفرق تھے کہ امیہ بن خلف اور اس کے آدمی  ان پر بہت ظلم کیا کرتے دوپہر کے وقت ان کو تپتی ہوئی ریت پہ لٹایا جاتا اور سینے پر بڑا پتھر رکھا جاتا تانکہ یہ ہل نہ سکے اور ان کے اردگرد آگ لگا دی جاتی اور ان کے جسم کو نوکیلے کانٹے سے نوچتے تھے ۔  تیز  آگ کی تپش کی وجہ سے حضرت بلال رض کا کلیجہ منہ کو آ جاتا اور کافروں کی چاہت تھی کی وہ اپنے دین سے ہٹ جائیں ان سے ایک ہی سوال کرتے بتا تیرا رب کون ہے ؟
    جواب میں آپ رض  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!۔
    احد ۔۔۔۔۔۔۔۔احد ۔۔۔۔۔احد۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا مستانہ نعرہ لگاتے تھے۔۔
    اللہ کے ہاں  پھر ان کا ایسا مقام بنا کہ مکہ کی گلیوں میں چلتے تھے  اور قدموں کی آہٹ عرش پہ سنائی دیتی تھی۔ جو شحض عشق الہی میں مبتلا ہو گا اللہ کی مدد اور نصرت ہمیشہ اس کے ساتھ ہو گی ۔  ہمارے جسم کے تمام اعضاء عشقِ الہی اور عشق ِ حبیبی  میں مبتلا ہوں ۔  یہ بیماری ہمارے سارے جسم میں پھیلی ہو۔ اس کے اثرات جسم کے ہر اعضاء پر ہوں ۔ ہماری آنکھیں عشق الہی میں مبتلا ہو ، ہماری زبان ،  ہمارے کان ، ہاتھ اور ہمارا دل  یعنی جسم کا ہر اعضاء عشق ِ الہی میں مبتلا ہو جائے۔ کان سے وہ سنیں جو اللہ کا حکم ہو وہ نہ سنیں جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہو۔ آنکھ سے وہ دیکھیں جس کا حکم ہو اور ہماری نظر ادھر نہ اٹھے جہاں پہ اٹھانے سے اللہ اور اللہ کے رسول نے منع کیا ہے۔۔
    فرمایا……!
       نظر شیطان کے تیروں میں سے اک تیر ہے جس چیز پہ پڑتی ہے اس کا عکس دل میں آ جاتا ہے۔
    اگر ہم اس کو غلط استعمال کریں گے تو غلط اور گندے قسم کے عکس ہمارے دل میں آئیں گے۔ اور جو جگہ گندہ ہو جائے وہاں پاک چیز نہیں رکھی جاتی تو دل میں خدا رہتا ہے اگر دل گندہ ہوا تو اللہ کی ذات دل میں کیسے آئے گی۔  اور  اپنے دل کو ہر وقت یادِ الہی میں ہمیشہ مشغول رکھنا چاہیے تانکہ کینہ ، بخض ، حسد جیسی مہلک بیماروں سے دل کو بچایا جائے۔ ۔
    جب ہم اللہ کی مان کر زندگی گزاریں گے  (عشقِ الہی)  تو ہماری دنیا بھی بنے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ اللہ والے اک لمحہ بھی یاد الہی سے غافل نہیں رہتے اور ان کو اس میں سکون ملتا ہے۔

    کتنی تسکین ہے وابستہ تیرے نام کے ساتھ
    نیند کانٹوں پہ بھی آجاتی ہے آرام کے ساتھ

    عشق الہی جس کو عطا ہو جائے تو دنیا کی پھر ساری دولت ، طاقت ساری خوشیوں کو وہ ترک کر دیتا ہے۔ اس کو پھر دنیا کے غم میں بھی مزہ آتا ہے ۔ یہ عاشق بظاہر  غم زدہ  ہوں گے لیکن ان کے دلوں  میں سکون ہوتا ہے اور دنیا دار بظاہر خوشحال نظر آتے ہیں لیکن اندر سے ان کے دل بے چین اور ٹوٹے ہوتے ہیں۔
    اللہ ہم سب کو عشق الہی عطا کرے۔

    @EKohee

  • خاندانی نظام کا بگاڑ اور بچاؤ۔ تحریر: نصرت پروین

    خاندانی نظام کا بگاڑ اور بچاؤ۔ تحریر: نصرت پروین

    گزشتہ دنوں مشہور اداکارہ (صدف کنول) نے اے آروائی کے ایک پروگرام میں ازواجی زندگی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ کہ شوہر کو شوہر سمجھیں اور ایک درجہ اوپر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں میاں کلچر ہے۔ میں نے شادی کی ہے میں اپنے شوہر کے جوتے بھی اٹھاؤں گی ان کے کپڑے بھی استری کروں گی اور ان کے کھانے پینے کا خیال بھی رکھوں گی۔انہوں نے کہا کہ وہ عورت کو مظلوم نہیں مضبوط سمجھتی ہیں۔ اس کے بعد سے فیمنزم لبرل مافیا کی طرف سے انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کی کردار کشی کی گئی کیونکہ انہوں نے فیمنسٹس کی طرح "میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ لگا کر اپنا جسم غیر محرموں کو دکھانے کے گھناؤنے فعل سے انکاری ہو کر اچھی بیوی بننے کی کوشش کی۔ اب ان لبرل انٹیوں کی بات کرتے ہیں۔ یہ مذہب بیزار طبقہ نام نہاد مغرب نواز کلچر کا پیروکار ہے جو ایک عرصے سے معاشرے میں خاندانی نظام کو تباہ کرنے پہ تلا ہے۔ اور بعض روایتی گھرانوں کی لڑکیاں بھی اس پروپیگینڈہ کا شکار ہوتی نظر آرہی ہیں۔ یہ فحش اور عریاں قسم کی بےجا آزادی کے نعرے خاندانی نظام کے بگاڑ کا باعث ہیں۔ یہ بےلگام آزادی، فحش پوسٹرز اور آوارہ گردی معاشرتی انتشار کا باعث ہیں۔ یہ دوسروں کو اپنا جسم اپنی مرضی کے مطابق جینے کا درس دینے والی لبرل انٹیوں کے کھوکھلے نعرے ہیں۔ جن کی سڑکوں پر نمائش کی جاتی ہے۔ ماڈرن ازم (بے حیائی) کی طرف رغبت دلانے اور فیشن کے طور پر آزادی کے فحش نعرے لگانے والوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ اوراس فحش طرزِ معاشرت کی معراج یہ ہی سب کچھ ہے جس کے نعرے یہ لبرل انٹیاں لگاتی ہیں۔ یہ انہی جعلی دانشوروں کا بدبو دار لبرل طرزِ زندگی ہے جہاں ان کے انہی نعروں کی بدولت آئے روز ناجائز تعلقات اور تماشے بنے رہتے ہیں۔ ان لبرل مافیا کا اصل مقصد ہی خاندان کا بگاڑ اور مادر پدر آزادی ہے۔
    بات یہ ہے کہ معاشرے کی ترقی میں عورت کی خدمات سے انکاری کوئی نہیں۔ لیکن عورت کے حقیقی کردار کا تعین دینی اور معاشرتی اقدار کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔ مغربی حقوق کا تصور اسلام میں نہیں۔ کیونکہ اسلام عورت کو مغرب کی بے جا فحش آزادی کے سنگین نتائج سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح کا نظام دیا ہے۔ مہذب اقوام مہذب معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اور مہذب معاشرے کی بنیاد نکاح پر ہے۔ امام ابن القيم رحمه الله شادی کی ترغیب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ۱. اگر شادی کی اہمیت و فضیلت میں صرف نبی صلی الله علیه وسلم کا روز قیامت اپنی امت کو دیکھ کر خوش ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۲. موت کے بعد نیک عمل کا (بصورت صالح اولاد) جاری رہنا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۳. ایسی نسل جو الله کی وحدانیت اور نبی کی رسالت کی گواہی دیتی ہو، کا پیدا ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۴. محرمات سے آنکھوں کا جھک جانا اور شرمگاہ کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۵. کسی خاتون کی عصمت کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ میاں اور بیوی اپنی حاجت پوری کرتے ہیں، لذت اٹھاتے ہیں اور ان کی نیکیوں کے دفتر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
    ۶. مرد کا بیوی کے پہننے اوڑھنے، رہنے سہنے اور کھانے پینے پر خرچ کرنے کا ثواب ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۷. اسلام اور اس کے ماننے والوں کا بڑھنا اور اسلام دشمنوں کا اس پر پیچ و تاب کھانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۸. بہت سی عبادات، جو تارکِ دنیا درویش نہیں بجا لا سکتا، کا بجا لانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۹. دل کا شہوانی قوت پر قابو پا کر دین و دنیا کیلیے نفع مند کاموں میں مشغول ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ کیونکہ دل کا شہوانی خیالات میں گِھر جانا، اور انسان کا اس سے چھٹکارے کی جد و جہد کرتے رہنا بہت سے مفید کام نہیں ہونے دیتا۔
    ۱۰. بیٹیوں کا، جن کی اس نے اچھی پرورش کی اور ان کی جدائی کا غم سہا، جہنم سے ڈھال بن جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۱۱. دو بچوں کا کم عمری میں فوت ہونا جو اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتے، ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔
    ۱۲. الله کی خصوصی مدد کا حاصل ہو جانا ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔ کیونکہ جن تین لوگوں کی اعانت الله کے ذمے ہے، اس میں ایک پاکیزگی کی خاطر نکاح کرنے والا بھی ہے۔”
    (بدائع الفوائد : 159/3)

    اسلام میں مرد اور عورت میں بحیثیت انسان کوئی فرق نہیں۔ اسلام میں دونوں کا درجہ مساوی ہے۔ دینی معاملات میں بھی دونوں الله کے سامنے جوابدہ ہیں۔ تاہم دونوں کو صلاحیتوں، فطرت اور جسم کے لحاظ سے الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ الله رب العزت نے مرد کو معاشی ذمہ داری سونپ کر قوام کا درجہ دیا ہے۔ مرد اور عورت دونوں کے مشترکہ حقوق ہیں۔ کچھ حقوق شوہر کے ہیں اور کچھ بیوی کے ہیں۔ بیوی کے حقوق شوہر کے فرض ہیں۔ اور شوہر کے حقوق بیوی کے فرض ہیں۔ شوہر بیوی کے درمیان محبت بھرا تعلق الله تعالی کی رحمت ہے۔ الله نے شوہر بیوی کے رشتے کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔
    وہ تمہارے لئے لباس ہیں تم ان کے لئے لباس ہو۔
    (سورہ بقرہ:187)
    اور اس طرح دونوں ایک دوسرے کے رازدار اور امین ہیں۔ رازداری میں خیانت نہیں ہونی چاہئیے۔ خوشگوار زندگی کے لئے سیدھی سچی کھری بات، بہت ضروری ہے۔ خیر خواہی سے باہمی اعتماد کی فضا ہوتی ہے۔
    رسول نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو۔
    (ترمذی:1162)
    رسول الله گھر کے کام کاج میں بیویوں کے ساتھ تعاون کرتے تھے یہ مشترکہ حق ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے ہمارے معاشرے میں اس معاملے میں حقوق کی خلاف ورزی ہے مثال کے طور پر:
    الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم اپنے کپڑے خود دھو لیتے تھے۔ آج کے مرد کیا یہ کام کرتے ہیں؟
    آپ صلی الله علیہ وسلم پیوند خود لگا لیتے تھے آج کے مرد یہ کام نہیں کرتے۔
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جھاڑو لگا لیتے تھے آج کا مرد اس سے عار محسوس کرتاہے۔
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بکریوں کا دودھ خود نکالتے تھے۔ آج کا مرد یہ سارے کام نہیں کرتا۔

    تعلقات میں نرمی اختیار کرنی چائیے۔
    (صحیح مسلم:6602)
    ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ہاں عورت پر ظلم نہیں ہوتا۔ بلکل عورت کے ساتھ ظلم ہوتا ہے لیکن یہ تاثر دینا کہ یہ معاشرے کی ہر عورت کی کہانی ہے لہذا معاشرے کی ہر عورت سڑکوں پہ نکل آئے۔ اپنے باپ، بھائی، شوہر بیٹے پر چلائے اور مغرب کی طرح بے جا آزادی، اور خودمختاری ہو۔ جو جی چاہے کرے، جہاں جس کے ساتھ چاہے جائے۔ پھر اس کے نتائج بھی ویسے ہی آتے ہیں۔ اب معاشرے میں آئے روز جنسی زیادتی کے جو واقعات اتنی شدت سے بڑھ رہے ہیں ان کا زیادہ ذمہ دار یہ لبرل طبقہ ہی ہے۔ اسلام نے جو حدود مرد اور عورت کے لئے متعین کی ہیں ان کو پھلانگ کر یہ خاندانی نظام کو تہس نہس کرنے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔
    باہمی ادب، اعتماد، خلوص، احترام، حدود و قیود، یہ خاندانی نظام میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گھر کا خوشگوار ماحول ، چہروں کا کھلا پن، شگفتگی، کام کی تھکن اتار دیتا ہے۔ یہ خاندانی نظام کی اہم ضرورت ہے جس کا دونوں کو خیال رکھنا چاہئیے شگفتگی صرف عورت کی طرف سے نہیں مرد کی طرف سے بھی ہونی چاہئیے یہ عجیب بات ہے کہ مرد گھر سے باہر جائے جب واپس آئے تو گھر والوں کے لئے بیزاری اور تھکن ہی ہو بیزاری، غصہ اور ڈانٹ ڈپٹ گھر والوں کے حصے میں آئے یا گھر والوں اور بچوں کے معاملات سے لا پرواہی یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔ گھر والوں کا پہلا حق ہے کہ ان کے ساتھ شگفتگی کا معاملہ کیا جائے۔ بہترین خاندانی نظام کے لئے آپس کی بھلائی کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے۔
    یاد رکھیں کہ دنیا کی بہترین متاع عورت ہے۔ ایک اچھی بیوی شوہر کو مدِ مقابل نہیں بلکہ اپنا ساتھی سمجھتی ہے۔ صرف توجہ نہ چاہیں بلکہ توجہ شوہر کو بھی توجہ دیں۔شفقت کرنے والی، خیال کرنے والی بنیں۔
    الله کی نظر میں صالح عورت وہ ہے جو شوہر کی فرمانبردار ہو۔ اور اسکی غیر موجودگی میں اپنی عزت اور گھر کی حفاظت کرے۔ صالح عورت شکر گزار، اور مضبوط ہوتی ہے وہ کبھی بکھرتی نہیں اور نہ ہی اپنے خاندان کو بکھرنے دیتی ہے۔ دوسری جانب اسلام نے معاشی ذمہ داریاں مرد کو دے کر اسے سربراہ کی حیثیت دی ہے لہذا اسے اپنی تمام معاشی اور معاشرتی ذمہ داریوں کو احسن طریقے پورا کرنا چاہیے۔ اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہئیے ۔ مردوں میں بہترین وہی ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ اخلاق میں بہتر ہو۔ اس طرح ایک اچھے خاندان کی تشکیل میں دونوں اپنا کردار ادا کریں۔
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • بے حیا ہمارا معاشرہ اور زمانہ جاہلیت  تحریر : فیصل اسلم

    بے حیا ہمارا معاشرہ اور زمانہ جاہلیت تحریر : فیصل اسلم

    اگر ہم تاریخ کا مطالع کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کے زمانہ جاہلیت یعنی نبی پاک ﷺ کی ولادت مبارکہ سے پہلے کے زمانے میں عربوں میں بے حیائی اور بے شرمی عام تھی مرد و عورت کے ناچ گانے سے محظوظ ہونا یہ سب اس وقت بھی عام تھا ۔
    عرب کے بڑے بڑے شعرا عورتوں کے نازیبا حرکتوں اور اداوں کا ذکر اپنی شاعری میں فخریہ کرتے تھے اور اسی طرح بعض لوگ باپ کے مرنے پر معاذاللّه باپ کی بیوی یعنی اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتے ۔ان کے علاوہ بھی بے شرمی و بے حیائی کی رسمیں ان میں عام تھیں الغرض جاہلیت کے معاشرے کا شرم و حیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا ۔
    لیکن جب ہمارے پیارے رسول ﷺ دنیا کو اپنی نورانی تعلیمات سے منور کرنے تشریف لائے تو آپ نے اپنی نگاہ حیا دار سے ایسا ماحول بنایا کے ہر طرف شرم و حیا کی روشنی پھیلنے لگی جناب عثمان رضی اللّه عنہ جیسے لوگ پیدا ہونے لگے جن کے بارے میں خود نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کے عثمان سے تو آسماں کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں
    اور اسی باحیاپرور ماحول کا نتیجہ تھا کے جب حضرت ام خلاد نامی صحابیہ کا بیٹا جنگ میں شہید ہوگیا تو یہ اپنے بیٹے کے بارے میں معلومات لینے باہر نکلیں تو اس وقت بھی اپنے چہرے پر نقاب ڈالنا نہیں بھولیں
    چہرے پر نقاب ڈال کے جب بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئیں تو اس پر کسی نے حیرت سے کہا اس وقت بھی با پردہ تو بی بی ام خلاد کہنے لگیں کے میں نے اپنا بیٹا ضرور کھویا ہے لیکن اپنی حیا نہیں کھوئی وہ اب بھی باقی ہے
    معلوم ہوا کے نبی پاکﷺ نے اپنے ماننے والوں پر شرم و حیا پر مبنی زبردست ماحول بنایا اور آج ہم دیکھتے ہیں کے شرم و حیا کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ لوگ جو شرمیلے ہوں فطرتی طور پر ان میں شرمیلا پن زیادہ ہو اور وہ اسکا اظہار کریں تو انکو طرح طرح کے طعنے دیے جاتے ہیں ایسوں کو یاد رکھنا چاہیے کے شرم و حیا ایک ایسی صفت ہے جو جتنی زیادہ ہو اتنا ہی خیر میں اضافہ ہوتا ہے اسلئے رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کےحیا صرف خیر ہی لاتی ہے

    اور ہمارے معاشرے میں گردش آیام یا شامت اعمال نے جس طرح آج مسلمانوں کو جس خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے وہ کون سی آنکھ ہوگی جو ہماری زبوں حالی اور ذلّت و رسوائی پر آنسو نہ بہاتی ہو مسلمانوں کی ذلّت و رسوائی ، خوارگی ، بدنامی ، بے عزتی و محرومی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کیا کل بھی مسلمانوں کے احوال و کوائف یہی تھے جو آج ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں
    انگریزی تہذیب ایک فتنا بار گھٹا بن کر افق عالم پر چھائی ہوئی ہے اور اکثر ممالک میں یورپی تہذیب ایک فتنہ اجتماعی و معاشرتی مفاسد و شرور کی آگ لگی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے کے یہ شرور وفتن کی لو پوری دنیا کو اپنے لپٹ میں لے لے گی اس میں شک نہیں کے ہمارا معاشرہ بری طرح بے حیائی کی لپٹ میں آچکا ہے فحاشی و عریانی کی تندو تیز ہوائیں شرم و حیا کی چادر کو تار تار کر رہی ہیں دور جدید کی خرافات نے غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے اس نام نہاد ترقی نے بے حیائی کو فیشن کا نام دے کر میڈیا کے ذریعے گھر گھر لا دیا ہے مغرب سے بے حیائی کی آنے والی آندھی تہذیب شرم و حیا کو ختم کرنے کے درپے ہے یہی وجہ ہے کے مسلم معاشرے میں بے حیائی و فحاشی کا چلن عام ہو رہا ہے
    اسکی بنیادی وجہ علم دین سے دوری ہے
    آج تفریح گاہوں میں بے حیائی کے مناظر عام ہو رہے ہیں اور مزید بڑھ رہے ہیں آج خواتین کی ایک تعداد ہے جو شرم و حیا کی چادر کو گھر میں رکھ کر بازاروں میں بے حیائی و بے شرمی کو فروغ دیتے ہوئے نظر آتیں ہیں اور پھر وہ مرد حضرات جنکی آنکھوں سے شرم و حیا کا سرمہ اڑچکا ہے وہ ایسیوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے نظر آتے ہیں پہلے تو فلم و ڈراموں کے حیا سوز منظر ٹی وی اور سینماؤں کی سکرینوں پر ہوتی تھی لیکن آج موبائل کی سہولت نے ان تک ہر کسی کی رسائی ممکن بنا دی ہے آج اجنبیہ اجنبی کے ساتھ اکیلی ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی حلانکے یہ حرام ہے
    آج اجنبی اور اجنبیہ باہم ملاقات کرتے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور مسکراتے نظر آتے ہیں آج شرعی پردے کو پورانے دور کی رواج میں شمار کیا جاتا ہے آج مسلمان عورت بینا پردے و حجاب کے بن سنور کے باہر باہر گھومنے میں فخر محسوس کرتی ہیں
    مرد و عورت دونوں نے اسلامی تعلیمات و شرم و حیا کو بھولا دیا ہے ہمارے اسلاف کیسے ہوتے تھے اسکی ایک مثال یہ ہے کے ایک زمانے کے مشہور اللّه کے ولی حضرت یونس بن یوسف جوان تھے اکثر مسجد میں وقت گزارا کرتے تھے ایک بار جب آپ مسجد سے گھر جا رہے تھے تو راستے میں آپکی نظر اچانک ایک عورت پر پڑی اور دل اس کی طرف مائل ہونے لگا پھر آپ نے شرمندہ ہو کر نظریں نیچی کرلیں اور پھر رب کی بارگاہ میں یہ دعا کی یا رب بے شک یہ آنکھیں جو تو نے دی بہت بڑی نعمت ہیں لیکن اب ان سے مجھے خطرہ محسوس ہو رہا ہے کے کہیں میں انکی وجہ سے ہلاکت میں نہ پڑ جاؤں اور عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں اے اللّه میری ان آنکھوں کی بینائی سلب کرلے پھر انکی دعا قبول ہوئی اور وہ بھری جوانی نابینا ہوگئے
    بے شک یہ ان بڑی ہستیوں کا کمال ہی ہے لیکن ہم بطور مسلمان اپنی نظروں کو ان کاموں سے روکیں جن سے بے شرمی و بے حیائی کا خطرہ محسوس ہو
    اس میں کوئی شک نہیں کے شرم و حیا ایک ایسا مضبوط حصار ہے جو ذلّت و رسوائی کے تمام کاموں سے بچاتا ہے اور جب کوئی شخص اس شرم و حیا کے دائرے کو توڑنے کی صرف کوشش بھی کرتا ہے تو مسلسل بے شرمی و بے حیائی و فحاشی کے کاموں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے یوں تو انسان میں بہت سی عادتیں اور اوصاف پاۓ جاتے ہیں لیکن شرم و حیا ایک ایسا وصف ہے کے اگر لب و لہجے و عادات و حرکات و اطوار سے یہ پاکیزہ وصف ختم ہوجاے تو تو بہت سی اچھی عادتوں اور بہت سے عمدہ اوصاف پر پانی پھر جاتا ہے دیگر نیک اوصاف شرم و حیا کا وصف ختم ہونے کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں اور ایسے خواتین و مرد دوسروں کے نظروں سے گر جاتے ہیں
    یاد رکھیں دکھ سکھ۔ خوشی غمی ۔ غصے اور شفقت سمیت بہت سے اور اوصاف جانوروں میں بھی پاۓ جاتے ہیں جبکے شرم و حیا ایک ایسی صفت ہے جو صرف انسانوں میں پائی جاتی ہے یہ جانوروں میں نہیں ہوتی تو انسان و جانور میں فرق شرم و حیا کے ذریعے ہی ہوتا ہے لہٰذا اگر کسی انسان میں سے شرم و حیا جاتی رہے تو اب اس میں اور جانور میں کچھ خاص فرق نہیں رہ جاتا اسلئے ہمارے دین نے شرم و حیا اپنانے کی بہت ترغیب دلائی ہے
    نبی و آخری رسول ﷺ کے کچھ ارشادات حیا ممتعلق درج ذیل ہے
    1)آپ ﷺ نے فرمایا
    بیشک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بگی اٹھا لیا جاتا ہے
    2) آپﷺ نے فرمایا
    بیشک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے
    3)آپﷺ نے ارشاد فرمایا
    بے حیائی جس چیز میں ہو اسکو عیب دار کردیتی ہے اور ہی جس چیز میں ہو اسکو زینت بخشتی ہے
    اللّه پاک ہمارے معاشرے سے بے حیائی و بےشرمی و فحاشی کی نحوست کو ختم فرما دے امین

    گناہوں سے بھرپور نامہ ہے میرا
    مجھے بخش دے کر کرم یا الہی

    @FsAslm7

  • شادی سے پہلے دلہا دلہن کی مشاورت یا ٹریننگ کا سلسلہ  تحریر : ام سلمیٰ

    شادی سے پہلے دلہا دلہن کی مشاورت یا ٹریننگ کا سلسلہ تحریر : ام سلمیٰ

    گو کے پاکستان میں یہ طریقا رائج نہں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اب یہ ضروری سمجھا جاتا ہے شادی کے بعد کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے یہ ایک نہایت آسان طریقہ ہے کے شادی سے پہلے دولہا اور دلہن کی ٹریننگ کی جائے اور ان کے اندر شادی سے متعلق جو سوال پیدا ہوں ان کو تفصیلی سمجھایا جائے.معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی ایک وجہ یہ بھی ہے.

    شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت یہ کیا ہے؟
    شادی کی توقعات کا تعین کرنے سے لے کر اس بات کا تعین کرنے تک کہ آیا آپ اور آپ کا ساتھی دونوں زندگی کے معاملات کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کرتے ہوئے اپنے زندگی کے نئے معاملات کو کیا طرح آسانی سے سلجھائیں گے. خواہ وہ بچے پیدا کرنے کے بارے میں ہو یہ زندگی کے کسی بھی معاملے پر دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں یہ ایک صفے پے آسکتے ہیں،کوئی سوال حد سے باہر نہیں ہے۔ اس کے بارے میں اس طرح سوچیں کے جتنا آپ اپنے لیے اہم ہیں دوسرے کے بارے میں بھی ضرور جانیں اور جانیں گے تو زندگی آسان ہوتی جائے گی ، جتنی جلدی آپ کو اپنے ساتھی کے بارے میں آگاہی ہوگی اتنی آسان آپکی زندگی ہوگی.

    شادی سے پہلے کی مشاورت/ٹریننگ کیا ہے؟
    شادی سے پہلے کی مشاورت تھراپی کی ایک شکل ہے جو شادی سے پہلے ہوتی ہے۔ عام طور پر ، شادی سے پہلے کے ماہر / کونسلر جوڑے کے بارے ساری بتائیں جانیں کی کوشش کرتا ہے اور شادی کے بارے میں جو جوڑے / کپل اپنے تاثرات تاثرات سے آگاہ کرتے ہیں ہیں پھر کونسلر / ماہر ان کو ان کے دماغ میں آئے سوالات کو صحیح طرح انہیں سمجھتا ہے.

    شادی سے پہلے آپ ضرور اس سے متعلق مشورہ کریں کونسلر /ماہر سے اور آپ ہر وہ چیز شیئر کریں جس کی آپ توقع کر سکتے ہیں اگر آپ اپنے شادی جیسے بڑے دن سے پہلے ماہر سے مشاورت کریں تو یہ نہایت مفید ہے.

    مشورے کس سے کریں/ ماہر سے ملیں

    ایک لائسنس یافتہ سائیکو تھراپسٹ ، ریلیشن کوچ سے.

    1. آپ کی شادی کی توقعات اور کردار کے عقائد

    آپ کو ایک اندازہ ہو سکتا ہے کہ شادی کے بعد زندگی کیسی ہوتی ہے اور اس کا شراکت دار ہونے کا کیا مطلب ہے زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بد آپ کیسا محسوس کرتے ہیں اور کیا مختلف محسوس کرتے ہے۔ شادی کی مشاورت میں ، آپ پتہ چلے گا کے آپ شادی کو کیا سمجھتے ہیں اور دوسرے شادی کے بارے میں کیا تجربہ رکھتے ہیں۔ ماہر آپ سے اس کے بارے میں بات کریں گے کہ ہر شخص دوسرے سے کیا توقع کرتا ہے. آگر آپکو اپنے ساتھی سے توقع ہے تو وہ بھی کچھ توقع آپ سے رکھتا ہے.

    ماہر آپکو یے بھی گائیڈ کرتا ہے کے آپ کا ماضی آپ کے مستقبل کو کس طرح متاثر کرتا ہے شادی کے بعد
    کسی حد تک ، ہم سب اپنے ماحول کے عادی ہوتے ہیں، زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بعد دوسرے کو اچھی بری عادتوں کے ساتھ قبول کرنا ہوتا ہے جو کے وقت اور ماحول کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی جاتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہم خوبیوں کو منتقل کرتے ہیں اور پرانے تعلقات سے نئے تعلقات کو دوبارہ تخلیق کرتے ہیں ، اور ہمیشہ ایک دوسرے کی اچھی عادتوں کو اپنا لیتے ہیں.

    3. مستقبل کے تنازعات کو حل کرنے کے منصوبے۔
    ماہر آپکو یہ بھی سمجھاتا ہے کے "اگر کوئی جوڑا آزادانہ طور پر کسی بھی موضوع پر بات نہیں کر سکتا ، چاہے کتنا ہی ذاتی ہو یا مشکل تو اس کے لیے ایک اچھی زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے اچھی پر سکون زندگی کے لیے شادی شدہ جوڑے کا آپس میں مشاورت کرنا ضروری ہے، شادی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے شادی کی مشاورت اگر آپ مشورہ نہں کرنا چاہتے اپنے ساتھی کے ساتھ تو شادی کی کامیابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں یے ایک اہم پہلو ہے.

    ماہر کے مطابق شادی میں خوش رہنے کا طریقہ
    4. پیسے کا مناسب انتظام۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ پیسہ شادی کو آباد اور برباد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔اس کے مناسب انتظام مستقبل میں ہونے والی مالی لڑائیوں کو روک سکتا ہے ، آپ شادی سے پہلے کی مشاورت میں اپنے پیسے کے تمام خیالات کو سامنے رکھیں گے۔ اور اپنے ساتھی اپنی سہی حالات سے صحیح طرح آ گا ه رکھیں ایک صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔ ہر ایک کی پیسے کی کہانی ، ماضی اور حال کی مالی تاریخ اور مستقبل کے مشترکہ اہداف اور ارادوں کے بارے میں واضح ہونا جوڑے کو اس مشترکہ تعلقات کی خرابی سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔

    5. مباشرت / جنسی تعلق کے مسائل سے بچنا۔
    پیسے کی طرح ، مباشرت /جنسی تعلق انتہائی ذاتی ہے ، اور زیادہ تر جوڑے شادی کے کسی موقع پر مباشرت /جنسی تعلق کے مسائل میں پڑ جاتے ہیں.اس کے بارے میں بھی ماہر جوڑوں کو گائیڈ کرتا ہے.

    6. صحت مند ماحول کو فروغ دینا۔
    کھلی اور براہ راست بات چیت کسی بھی تعلق کے کلیدی اجزاء ہیں ، خاص طور پر اگر آپ اور آپ کے ساتھی کے پاس بات چیت کے مختلف طریقے ہیں۔ شادی سے پہلے کی مشاورت آپ کے انداز کو دریافت کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور وہ آپ کی شادی کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔اگر آپ کا ساتھی صحت مند ہے اور مناسب طریقے سے غصے کا اظہار کرتا ہے لیکن غصہ آپ کے لیے چار حرفی لفظ ہے تو پھر بات چیت میں ایک مسئلہ بن جائے گا۔تو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا نہایت اہم ہے.

    شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت آپکو کئی قسم کے مسائل سے بچا سکتی ہے آپ بچوں کے بارے میں بھی مشاورت کر سکتے ہیں شادی سے پہلے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کتنے بچے چاہتے ہیں اپنے ماہر سے بات کریں ، والدین کے شادی کے بعد کے انداز ، خاندانی میں ایک نئے فرد کی شمولیت اور بہت کچھ کے بارے میں بات کر سکتے ہیں اس زریعے سے جوڑوں کو مسائل کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کرنے میں ان کی اور ان کی شادی کو بہتر طور پر تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    @salmabhatti111

  • کیا عورت مارچ صیح معنوں میں عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔؟   تحریر: چوہدری عطا محمد

    کیا عورت مارچ صیح معنوں میں عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔؟ تحریر: چوہدری عطا محمد

    گزشتہ دو یا تین سالوں سے اسلام آباد سے شروع ہوتا ۂوا عورت مارچ کا شور اب ملک کے مختلف حصوں میں پھلایا جا رہا ہے اب یہ عورت مارچ رفتہ رفتہ موضوع بحث بنتا جارہا ہے۔ عورت مارچ کی حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے عورت مارچ سمیت کسی کوئی بھی تحریک ہو یا مارچ یا اجتماع یا پھر جلسہ جلوس وغیرہ ان سب میں شمولیت و عدم شمولیت اور حمایت و مخالفت کےلیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس مارچ یا جلسہ جلوس یا اجتماع کے مقاصد، اس کے منشور اور اس کے رجحانات اور سرگرمیوں کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔ اس جائزہ پر مبنی تجزیہ کی روشنی میں اس طرح کے مارچ جلسہ جلوس یا اجتماع سے اتفاق و اختلاف یا شمولیت و عدم شمولیت کا فیصلہ کیا جانا چائیے اب تک ہونے والے عورت مارچ کے متعلق میں جو کچھ سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہہ اس پورے مارچ کے اندر عورت کے جو اصلی حقوق ہیں اس بارے میں تو کسی بھی قسم کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ہمارے دور دراز علاقوں میں ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کو جو مسائل زندگی میں درپیش ہیں جن کو سامنے لانا ہمارے معاشرہ کی سب سے پہلی زمہ داری ہے اسکا تو کوئی کہیں دور دور تک زکر ہی نہیں ہے اگر عورت کے مسائل کی بات کی جاۓ تو عورت کے بنیادی مسائل تعلیم، غربت، جہالت، جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل، تشدد اور ہراسگی تیزاب گردی ہے ہماری ماؤں بہنوں کو آج بھی قاتل کے لواحقین اور مقتول کے لواحقین کے درمیان صلح کے لئے بہن بیٹیوں کے رشتہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور اس نام نہاد صلح کی بھینٹ کوئی بہن یا بیٹی چڑھ جاتی ہے آپ زرا غور کیجیے گزشتہ دو یا تین سالوں سے نکالے جانے والے عورت مارچ کے جلوس کی تقاریر یا ان کے ہاتھ میں پکڑے ہوۓ پلے کارڈ میں کوئی ایک بھی فقرہ عورت کے اصل حقوق کی نشاندہی کر تا ہے کیا اگر آپ انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے تو آپ کا جواب ہوگا نہیں ایسا کوئی فقرہ تقاریر یا پلے کارڈ میں بلکل بھی شامل ہی نہیں ہے آپ خود ہی فیصلہ کریں کہہ یہ عورت مارچ کن حقوق کی بات کر رہا ہے معزرت کے ساتھ عورت مارچ کے نعرے سوشل میڈیا پر سننے کو ملے وہ تھے عورت کیا مانگے آزادی تیرا باپ بھی دے گا آزادی ہم لے کے رئیں گی آزادی ہم چھین کے لیں گے آزادی ہے حق ہمارا آزادی اس طرح کے نعروں کے بعد سب سے پہلا جو سوال زئین میں آتا ہے وہ یہ ہے کہہ ہمارے یہ بہنیں بیٹیاں کس چیز کی آزادی مانگ رہی ہیں کس سے آزادی مانگ رہی ہیں کیا جب وہ پیدا ہوئی تو باپ کے شفقت بھرے سر پر رکھے ہوۓ ہاتھ سے آزادی مانگ رہی ہیں یا پھر بھائی سے آزادی یا پھر جب شادی ہوگئ تو اپنے محافظ یعنی شوہر سے آزادی یہ عورت مارچ کی ہماری بہنیں بیٹیاں کس سے اور کیسی آزادی چائیتی ہیں
    اسلام نے عورتوں کو کتنا تحفظ دیا کتنی عزت اور تکریم دی کتنا بلند مقام دیا اس کا تصور بھی کسی اور مزہب میں ممکن ہی نہیں اسلام نے عورت کو پہلے بیٹی کی شکل میں والد کے لئے رحمت کہا اور باپ کو اس کا محافظ بنایا زرا بڑی ہوئی تو بھائی کی شکل میں اسکو ایک اور محافظ مل گیا جب شادی ہوئی تو ایک شوہر کی شکل میں محافظ عطا کر دیا پھر جب بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس بیٹے کے لئے جنت ماں کے قدموں تلے ہیں جنت کا حصول ماں یعنی عورت کی خدمت میں ہے۔ تو زرا سوچو میری عورت مارچ کی بہنوں بیٹیوں آپ کو کس قسم کی آزادی اور کس رشتہ سے آزادی چائیے۔ اگر مغرب کی بات کریں تو ادھر عورت کو اپنے زاتی استعمال کے لئے بھی خود سے مخنت مشقت کرنا پڑتی ہے مثلاً ادھر عورت جاب کے بغیر گزارہ ہی نہیں کر سکتی ہمارے ہاں عورت کے تمام اخراجات اور ضروریات کا پہلے باپ۔ پھر۔ بھائی۔ پھر شوہر۔ اور پھر بیٹا زمہ دار ہوتا ہے میں کہیں پر بھی عورت کی ملازمت کی مخالفت نہیں کر رہا آج ہمارے بہن بیٹیاں زندگی کے تمام شعبہ جات میں اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی نظر آتی ہیں اور اس پر ہمیں فخر بھی ہے کہہ ہماری بہنیں بیٹیوں کا ملک کی ترقی اور معیشت میں اتنا ہی کردار ہے جتنا مردو کا ہے
    اگر آج کے حالات کا غور و فکر سے اندازہ لگا جاۓ تو ہمارے معاشرہ کے اندر سارے مسائل اور تمام خباسط کی محض اسلئے پائی جاتی ہیں کہ لوگ قرآن مجیدسے دور ہیں اور اسکو سمجھ کر نہیں پڑھتے ۔ اور اس معاملہ میں ہماری بہنیں بیٹیاں بہت پیچھے ہیں۔ جب ایک عورت قرآن کریم کی تعلیمات سے واقف ہوگئ اور اسے معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی نے اس کو کیا زمہ داری سونپی ہے تو پھر لازم سی بات ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اللہ سبحانہ تعالی کے احکامات کی روشنی میں کرے گی ہمارے خواتین اب ہرمیدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اِن خواتین کو قرآن فہمی کے میدان میں بھی آگے آنا ہوگا تاکہ اپنے حقوق کو پہچان سکیں،اپنے حقوق کی صیح معنوں میں جنگ لڑ سکیں اور نئی نسل کی اخلاقی اصولوں پر تربیت کرکے
    ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرسکیں۔
    میری باتوں سے اتفاق یا اختلاف کا تمام لوگوں کو مکمل اختیار ہے یہ سب میری زاتی سوچ سمجھ ہے آپ اسپر اپنی زاتی راۓ کا مکمل حق رکھتے ہیں
    اللہ سبحانہ تعالی ہمیں دین اسلام کو سمجھ کر سنت نبوی صلى الله عليه وسلم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین۔

    @ChAttaMuhNatt

  • سوشل میڈیا اور زبان کا شر  تحریر: زبیر احمد

    سوشل میڈیا اور زبان کا شر تحریر: زبیر احمد

    بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جو زبان پہ آئے بغیر سوچے سمجھے اور اس کے نتائج کا احاطہ کئے کہہ دیتے ہیں۔ زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جو قابو میں رکھنے کا محتاج ہے۔ قرآن و سنت نبویﷺ مطابق زبان کا معاملہ بڑا سنگین ہے اور اس سے نکلے ہوئے کلمات قابل مواخذہ ہیں اور ہر بات نامہ اعمال میں درج ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کیلئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔” (مریم  79)۔ اللہ کے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کی زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹی جارہی ہیں تو میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جبرائیل نے جواب دیا کہ حضورﷺ یہ آپ کی امت کے فتنہ پرور خطیب ہیں جو کہا کرتے تھے ان کا اپنا وہ عمل نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوگوں کے اندر فتنہ و فساد برپا کرنے والے لوگ جن کی زبان کی تلخیاں معاشروں میں تفریق پیدا کرتی ہیں کہ بھائی بھائی سے لڑ پڑتا ہے، میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کردیتے ہیں۔ ان کی زبان نفرت کی چنگاریاں اگلتی ہے اور ان کے لہجے لوگوں کے اندر تفریق، تشدد، اضطراب اور فرقہ بندیاں پیدا کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی زبان قیامت کے دن لوہے کی قینچیوں سے کاٹ دی جائے گی۔بعض اوقات آپ کوئی ایسا بڑا بول یا بات کردیتے ہیں جس سے فتنہ اور شر پھیلنا شروع ہوجاتا ہے جس سے لوگ آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ بعض اوقات آپ آرام سے زبان سے کوئی جملہ کہہ دیتے ہیں بعد میں اس کو واپس لینا بھی چاہیں تو اس وقت تک شر پھیل چکا ہوتا ہے اس لئے ہمارے بزرگوں نے یہ تاکید کی ہے کہ بولنے سے پہلے اچھی طرح بات کو تولو، غوروفکر کر لو کیونکہ کمان سے تیر نہ نکلا ہوتو آپ کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ جب چاہو اس کو پھینک دو لیکن جب تیر کمان سے نکل جاتا ہے پھر آپ کا اختیار ختم ہوجاتا ہے پھر وہ زخمی کرے کسی کی موت کا سبب بنے یا وہ تیر ضائع چلا جائے پھر آپ کا اختیار نہیں ہوتا۔ بولنے سے پہلے ضرور سوچیں کہ میری زبان سے نکلا ہوا کوئی جملہ میرے آس پاس کے لوگوں اور معاشرے پہ کیا اثر پیدا کرے گا۔ آج کل سوشل میڈیا پہ جو دل میں آیا وہ لکھ دیا اور لوگوں کے اندر وہ چیز وائرل کردی۔ جس طرح کی تصویر چاہا ڈال دی لیکن بعد میں وہ چیز آپ کے اختیار میں نہیں رہتی ہے۔ اب تو اتنی محدود سوچ والے اور نیچ فطرت کے لوگ بھی سوشل میڈیا پہ بیٹھے ہوئے ہیں جیسا کہ گندے مزاج کے لوگ واش روم کی اندر بیٹھ کر چھپ کے جو ان کے من میں غلاظت ہوتی وہ واش روم کی دیواروں پہ لکھ دیتے، پبلک واش رومز کے اندر یہ مناظر ہم میں سے اکثر نے دیکھے ہونگے کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ایسی چھوٹی سوچ کے لوگ وہاں بیٹھ کے لکھ دیا کرتے تھے۔اب ایسے ہی لوگوں کو سوشل میڈیا کا ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے اور یہاں وہ اپنے بند کمرے میں جو چاہیں لکھ کے سوشل میڈیا پہ ڈال دیں اور اس کے شرفساد اور غلاظت کے چھینٹے کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں ان کو اس سے غرض نہیں ہوتی۔ ایک ایک حرف جو زبان سے نکلتا ہے، قلم سے نکلا ہوا ایک ایک جملہ اس کا قیامت کے دن حساب ہونا ہے۔ ایک ایک چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آج اگر سوشل میڈیا پہ کوئی بات کہہ دیتے ہیں یا کسی مجمع عام یا تنہائی میں کوئی بات کرتے ہیں اور پھر اس سے شر پھیلتا ہے تو وہ شر پھر سفر کرتا رہے گا اگر وہ جملے الفاظ کہنا چھوڑ بھی دیں اکاونٹ بند بھی کردیں تو وہ شر و فساد اور اس غلاظت کے چھینٹے جو اڑے تھے وہ آگے بڑھتے رہیں گے اس کا گناہ نامہ اعمال میں درج ہوتا رہے گا حتی کہ مر بھی گئے تو پھر بھی نامہ اعمال میں سب کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ اس لئے اپنے آپ کو محتاط کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے ایک ایک لمحے کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے وقت کو قیمتی جانیں۔ اپنی زبان کو کھولنے اور ہاتھ سے کچھ لکھنے سے پہلے ہزار بار سوچیں کہ جو میں لفظ کہہ رہا ہوں کیا وہ مجھے کہنا چاہیے یا نہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر کی بات کہے ورنہ چپ رہے اس کا چپ رہنا اس کے لئے بہتر ہے اور اگر وہ کہنا چاہتا ہے تو خیر کی بات کہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کی زبان کے شر سے حفاظت فرمائے، زبان کو قابو میں رکھنے اور خیر و بھلائی کی بات ہی زبان سے نکالنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین

    (Twitter: ‎@KharnalZ)

  • بےحیاٸی اور ہمارا معاشرہ  تحریر: شعیب خان

    بےحیاٸی اور ہمارا معاشرہ تحریر: شعیب خان


    آج مسلم معاشرہ دین اسلام سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ ہمارا معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ ہمارا معاشرہ بےحیاٸی کی دلدل میں دس چکا ہے

    بےحیاٸی کی ایک وجہ بے پردگی بھی ہے۔ہمارے معاشرہ کا المیہ ہے کہ ہم نے پردہ کو ترقی کی راہ میں رکاٶٹ سمجھ کر حکم الہی سے کو رد کیا ہے جبکہ نبی کریم ﷺنے اللہ ﷻ کے احکامات کے مطابق پردے کی سختی سے تلقین و تاکید فرمائی ہے ۔

    جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی کو پھیلانے کے محرک ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مسلم معاشرے میں سے شرم وحیا کاجنازہ اٹھ جائے ایسے لوگ دنیا میں بھی درد ناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں بھی انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا۔اور جہنم کاعذاب انتہائی سخت اذیت ناک اور ناقابل برداشت عذاب ہوگا۔اللہ ﷻ کا ارشاد ہے:

    إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُون

    ترجمہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش  پھیلے وہ دنیا میں اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔اللہ جانتاہے اور تم نہیں جانتے

    النور:19

    محرم اور نا محرم کا امتیاز پیدا کر کے قوانین و ضوابط کے بارے میں امت مسلمہ کو آگاہ کیا تاکہ ممکنہ بےحیاٸی کو پھیلنے سے روکا جاٸیں جو آگے چل کر اسلامی معاشرے کو تباہ کرسکتی ہے

    اس سلسلہ میں ازواج مطہرات کو بھی اپنے گھروں سے نکلنے کی ممانعت کر دی گئی تھی مگر بدقسمتی سے مارڈن اور مغربی عورتوں و مرد کی نقالی میں آجکل ہماری مسلم بہن بھاٸی بہت آگے نکلنے کی کوشش میں لگے ہوئیں ہیں اور اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں ۔اسکی وجہ سے تو ہمارا اسلامی اقتدار مجروح ہوتا ہے تو دوسری طرف ہمارے معاشرے میں بےحیاٸی کے یہی لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں۔حالانکہ دوسروں کی نقل اترنے والے لوگ احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    یہ لوگ نقالی میں نہ صرف لباس،رہن سہن،اور کھانے پینے کی چیزوں میں کی جاتی ہے بلکہ مرد زنانہ لباس میں خود کو دیکھنا قابل فخر سمجھتے ہیں اور خود کو مارڈن کہتے ہیں جبکہ ایسے لوگ بس بےحیاٸی و فحاشی کو فروغ دیتے ہیں۔۔

    آپﷺ نے فرمایا ہے کہ لعنت ہے اُن عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور اُن مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں ۔

    حقیقت میں جہاں ہر انسان معاشرے کی اصلاح یا بگاڑ کا خود ذمہ دار ہوتا ہے وہاں معاشرے کو سدھارنے کی ذمہ داری حکام بالا پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے قوانین پر عمل درآمد کریں اور شہریوں کو کرائیں جن سے معاشرہ بےحیاٸی کی طرف آگے بڑھنے کے بجائے اصلاحی پہلو نکل سکے۔

    بے حیائی کے اس سیلاب کے خلاف آواز اٹھاٸیے اس سے پہلے کہ بے حیائی کا یہ سیلاب ہمارے گھروں، ہماری عزتوں کو بھی  بہا کر لے جائے۔۔۔

    اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو آمین

    @aapkashobi

  • سوشل میڈیا پر عدم برداشت  تحریر  :  سید محمد مدنی

    سوشل میڈیا پر عدم برداشت تحریر : سید محمد مدنی

    ہمارے سوشل میڈیا پر برداشت کی کمی ختم ہو چکی ہے ہم معمولی سی بات کو بھی گالی اور بدتمیزی سے جوڑتے ہیں کوئی بھی بات ہو ہم سب سے پہلے گالی کا سہارا لیتے ہیں اور گالی دے کر ہم یہ سمجھتے ہیں کے جیسے ہم سامنے والے سے جیت گئے ہیں لیکن حقیقتاً ہم اپنی تربیت کا مظاہرہ دکھا اور ہار رہے ہوتے ہیں اور پستی کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جب ہمارے پاس دلیل نہیں رہتی تو ہی ہم گالی کا سہارا لیتے ہیں جبکہ جو گالی دیتا ہے وہ اسی کو آ کر لگتی ہے

    آپ نے دیکھا ہوگا کے ہم آپس میں مذاق کرتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو گالی دے جاتے ہیں اور یہی اگر لڑائی ہو جائے تو بہت برا لگتا ہے آخر کیوں بھئی جب مذاق میں آپ گالی دیتے ہیں تو سنجیدگی یا غصے کے وقت آپ کو وہی گالی بُری کیوں لگتی ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کے اگر آپ بے ہودہ یا نا مناسب زبان استعمال کریں گے تو اسے کچھ لوگ باقاعدہ انجوائے کرتے ہیں ہنستے ہیں قہقہے لگاتے ہیں کیا آپ نے کبھی تھوڑی سی دیر کے لئے یہ سوچا ہے کے آپ کر کیا رہے ہیں ہم دوسروں کو تو تلقین کرتے ہیں کے گالی مت دو لیکن ہم خود وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کے ہم معمولی بات چیت میں گالی بے ہودہ گفتگو کو سرِ فہرست رکھتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں یہ فخر کی بات نہیں بلکہ بے غیرتی کی بات ہے ایک چیز یہ بھی دیکھی گئی ہے کے اگر کوئی ماں بہن تک پہنچ کر گالی دیتا ہے تو جواب میں دوسرا بھی وہی کچھ کرتا ہے اور اگر کوئی جواباً گالی نا دے تو اسے بزدل سمجھا جاتا ہے جناب یہ بزدلی نہیں شرافت ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے بزدلی کہا جاتا ہے ایک تو گالی نا دیں اور نا ہی اس پر فخر محسوس کریں

    میں نے مشاہدہ کیا ہے اگر اپ اپنی بات سنجیدگی سے لکھتے ہیں کہتے ہیں تو لوگ اس پر اتنی بات نہیں کرتے جلدی ری ایکٹ نہیں کرتے جبکہ یہی بات کسی بھی گالی کے تناظر میں یا عجیب بے ڈھنگی زبان میں لکھ دیں تو مشہور زیادہ ہوتی ہے جیسے کے ایک گروہ نے ایک

    پ یہ ن د ی س ر ی

    (معذرت چاہوں گا الفاظ ملا کر نہیں لکھ سکتا)

    جملہ کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر آدمی وہی جملہ دھہرانے لگا میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کے کیا یہ ضروری ہے کہ ہر بات میں عجیب فنگ ڈھنگ نا سلیقہ نا آداب کے عنصر کو شامل کیا جائے، ہو سکتا ہے میری یہ بات بری لگے بہت لوگوں کو لیکن میرے نزدیک یہ کوئی اچھی بات نہیں کسی محفل میں آپ بیٹھے ہوں اور کوئی عجیب سی بات کہہ ڈالیں یا پھر فلاں کی سری یا فلاں کا کچھ کہیں تو دیگر افراد آپ کو دل میں برا ہی جانیں گے اس لئے ہمیشہ اچھی گفتگو کریں اور بات وزن دار کریں کیونکہ زبان سے ادا ہؤا لفظ اور کمان سے نکلا ہؤا تیر واپس ہرگز نہیں آتے

    آئیے اپنے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کچھ مثالیں قائم کریں اور گندی اور بے ہودہ گفتگو سے اجتناب کریں تاکہ ہمارا نام اچھے الفاظ میں لیا جائے اور لوگ ہمیں ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں

    @M1Pak