Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • مردہ سماج میں ارتعاش کیونکر پیدا نھیں ھوتا ؟ تحریر: صہیب اسلم

    میں سوچتا ھوں کہ اس مردہ سماج میں رھنے والے آھنی زنجیروں اور بیڑیوں کو گلے کا ھار بنا کر جینے والے بے سُدھ مردار ھجوم میں انھیں زندگی کا احساس دلانے والا ارتعاش کیوں کر پیدا نہیں ھوتا؟
    کیوں اس سماج میں رھنے والوں میں سے احساس ختم ھوتا جا رھا ھے؟
    کیوں اس سماج میں بسنے والے اپنے فرائض و ذمہ داری نبھانے کی اخلاقی جرات سے عاری ھوتے جا رھے ھیں؟

    میں سوچتا ھوں کہ اس سماج کا فرد اتنا مردہ کیونکر ھو گیا ھے کہ ابھی بمشکل اپنی زندگی کی دس بہاریں دیکھنے والی حوا کی بیٹی کو بے دردی سے اپنی حوس کا نشانہ بناتا ھے اور پھر اپنی ھی بیٹی کے ساتھ سکون سے سو بھی جاتا ھے؟

    کبھی کبھی میں سوچتا ھوں کہ سماج کا فرد کس طرح کس کے حکم سے، کس کی اجازت سے زمین پر چلتے اپنی اور اپنے خاندان، بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دن رات اپنے وجود کو مٹا دینے والے معصوم انسانوں کے وجود میں بارود اتار دیتا ھے اور ان بد دعاؤں کی فکر سے بھی ازاد ھو جاتا ھے جو ساری زندگی اس کا پیچھا کرتی رھتی ھیں؟

    میں سوچتا ھوں اس سماج کا ھر فرد جس کا بدقسمتی سے میں بھی حصہ ھوں ھر وقت کس مصلحت کی آڑ لئے ھمیشہ ھی خاموش ھو جاتا ھے؟ یہ سماج اپنے بنیادی حقوق کیلئے آواز کیوں نھیں بلند کرتا؟ اپنے حق کیلئے بھی خاموش کیوں رھتا ھے؟ وہ کون سی طاقت ھے جس نے اسے اس قدر بے بس کر دیا ھے کہ اپنے ھی بچوں کیلئے بھی آواز نہیں اٹھاتا؟

    اس سماج کا فرد کیوں چپ رھتا ھے جب کوئی ظالم اسی سماج سے اٹھتا ھے اور میری معصوم زینب کو حیوانوں کی طرح اسکے معصوم وجود کو بھنبھوڑتا ھے چیر پھاڑ کرتا ھے اور بنا کسی خوف و خطر نئی زینب کی طرف چلا جاتا ھے۔

    اس سماج کا فرد کیونکر خاموش تماشائی بن جاتا ھے جب کہیں سے کسی وڈیرے کا بیٹا اپنے پیسے اور اندھا دھند طاقت کے نشے میں کسی ماں کے لال شاہ زیب کے سینے میں صرف اس لئے بندوق کا پورا میگزین اتار دیتا ھے کہ شاہ زیب نے اپنی بہن کی عزت کے تحفظ کی کوشش کی؟

    اس سماج کا ھر فرد تب بھی خاموش ھی رھتا ھے جب
    کوئی قانون کا رکھوالا کسی ماں کے جگر گوشے کو سب کے سامنے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیتا ھے اور وجہ بھی نھیں بتاتا

    اس سماج میں بسنے والا نابینا فرد تب بھی اپنے منہ میں موجود زبان کو کاٹ لیتا ھے جب کوئی مجید خان اچکزئی نشے میں دُھت بد مست ھاتھی کی طرح سڑک کنارے ٹھہرے سب کی رھنمائی کرتے معصوم وردی والے کو اپنی لمبی لینڈ کروزر کے نیچے کچل ڈالتا ھے اور ببانگ دھل قانون کی رسیاں توڑتا ھوا رہا ھو جاتا ھے۔

    اس سماج کا ھر فرد تب بھی منہ پر تالہ اور آنکھوں پر پٹی باندھ لیتا ھے جب کوئی سڑک کنارے مسافروں سے بھری بسوں سے سب کو اتار کر اپنی گولیوں کی زینت بنا کر چپ چاپ چلا جاتا ھے۔

    اس سماج کا ھر فرد اب خاموش رھتا ھے جب
    کوئی ان جیسا زندہ سانس لیتا انسان دن میں گھر سے اپنے بیوی بچوں کیلئے انکے زندہ رھنے کیلئے روزی روٹی کمانے نکلتا ھے اور شام کو اسے چار کندھوں پر اٹھا کر لایا جاتا ھے

    آج جانے کیوں اس بے حس بے درد بے کار سماج کیلئے میری سوچوں نے اتنے سوالات کھڑے کر دئیے کہ شاید ان سوالات کا جواب پاتے پاتے میں بھی کسی دن اس مردہ سماج کی بے حسی کا نشانہ بن جاؤں۔

    لیکن اس سب کے باوجود روشنی کی اک مدھم مگر ٹمٹماتی سی کرن مجھے آج بھی نظر آتی ھے کہ شاید کہیں کوئی اس بیڑیوں میں جکڑے بے حس مردہ سماج میں ارتعاش پیدا کر دے۔ شاید کوئی اپنی چلتی رواں رھتی خوبصورت سانسیں روک کر اس سماج میں رھنے والوں بسنے والوں میں زندگی کا احساس پیدا کر دے

    اسی لئے تو کہتا ھوں اے اس سماج کے وارثین، خود کو آل کل کا مالک سمجھنے والو اس سماج میں بسنے والوں کو کہانی بنانے سے ڈرو، کہانی مسخ کرنے سے ڈرو
    کہانی دیکھنے سے ڈرو کہانی پھیلانے سے ڈرو کیونکہ میرا اللہ سب سے بڑا انصاف کرنے والا ھے۔ اس کی عدالت میں کوئی ڈالرز، کوئی روپیہ، کوئی سونا، کوئی جائیداد، کسی طاقت کا نشہ، کسی اقتدار کی بھوک کچھ کام نہ آئے گی۔

    کیونکہ کچھ پتہ نھیں ایسا نہ ھو کہ آج تم سماج میں بسنے والوں کی کہانیاں بنا رھے ھو اور کل کو کوئی اٹھے اور تمھاری کہانی بنا دے اور پھر تم تاریخ کے اوراقوں میں بھی نہ ملو حتیٰ کہ کسی کہانی میں بھی نہ ملو۔۔۔۔۔۔

    ٹوئٹر ھینڈل
    @KaalaPak

  • غیر ضروری رسومات  تحریر: حالد حسین

    غیر ضروری رسومات تحریر: حالد حسین

    گر دیکھا جائے تو ہر جگہ رسم و رواج شوق و زوق سے منائے جاتے ہیں، اور اِن قبیح رسومات نے ہمیں اپنوں سے غیر بنا دیا ہیں پہلے پہل رشتداروں یا ہمسایوں میں کسی کی حالت علیل ہو جاتی تو لوگ بیمار پرسی کے لئے جاتے اور اچھی صحت کی دُعا دے کر واپس آتے تھے اور سارا زمانہ خوش ہوتا. بیمار پرسی کا ثواب تو ایک قدم پے ہزار نیکی بھی مل جاتی تھی تو تب حقیقت میں لوگ بیمار داری کرنے ہی جاتیں تھیں اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ جو کوئی بھی بیمار ہو جاتا ہے ہم چاہتے ہوئے بھی بیمار پرسی کے لئے نہیں جا سکتے.

    اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانے سے پہلے یہ مشورہ کریں گے کہ ہم نے تو بیمار پرسی کے لئے جانا ہے کیا جیب ہمیں اجازت دیتا ہے ؟ ہم کتنے پیسے دیں گے ؟ اگر کم پیسے دیں گے تو جگ ہنسائی ہوگی وغیرہ وغیرہ. یہ بات بھی واضح رہے کہ جب بھی آپ بیمار پرسی کے لئے جاؤ گے تو بندوبست کر کے جانا ہوگا کیونکہ وہ دائم المریض بھی اِس خیال میں مگن رہتا ہے کہ یہ مجھے کتنے پیسے دیں گے؟ اور گھر والوں کی کیفیت بھی کچھ یہ ہوتی ہیں کہ اب اِس کو کِیا کیا پکایا جائے؟ کیونکہ وہ بھی آپ کے پیسوں کے برابر ہی آپ کو پروگرام منعقد کرتے ہیں.

    مطلب زیادہ پیسے دینے والوں کو زیادہ ڈیش مثلاً چکن، قیمہ، بریانی، نہاری، فروٹ، اور بحرین کا مشہور چپلی کباب ،وغیرہ فراہم کیا جاتا ہے جب کہ کم پیسے دینے والوں کو ایک ادھ ڈیش کا مخصوص پروگرام کیا جاتا ہے. گھر سے جاتے وقت ہم کچھ اِس طرح سوچتے ہیں کہ وہ اگر اچھے طریقے سے مہمان نوازی کریں گے تو ہم زیادہ پیسے دیں گے اور اگر اچھی مہمان نوزای نہیں کریں گے تو ہم کم پیسے دے کر بات کو رفع دفع کریں گے. راقم کے تجزیے کے مطابق دور جدید میں "مہمان نوازی گئی بھاڑ میں” کہاں کی مہمان نوازی.

    یہ تو ویسے بھی سودا بازی ہے بس سودا طے کرنا ہے اور اِس سودا بازی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم لوگ اپنوں کی محبت سے محروم ہوگئے ہیں اللّه کرم کریں آخر کب تک چلے گا؟ جب ہم لوگ کافی عرصہ بعد اپنے رشتداروں کے گھر اُس کے حالات پوچھنے جاتے ہے تو وہ شکوہ کرتا/کرتی ہے کہ مجھ سے بات تک نہ کریں آپ کو ابھی فرصت ملی؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے بیمار معاشرے میں بیمار کی بیمار پرسی کے لئے خالی ہاتھ آنا جانا دشمنی کے برابر بات سمجھی جاتی ہے یا ہمارے معاشی حالت کچھ ٹھیک نہیں اور پیسوں کی تنگی تھی یا ہیں اس کے بجائے یہ کہتے ہیں کہ مصروفیات اتنے بڑھ چکے ہے کہ بالکل وقت نہیں ملتا صبح جاتے ہیں اور رات کو لوٹتے ہیں۔

    خدارا اِن فضولیات سے باز آجائے اور بغیر پیسوں اور بغیر کسی لالچ کے ایک دوسرے کے حالات پوچھا کریں اِس سے اور کچھ خاص تو نہیں ہو گا البتہ دن بہ دن محبت بڑھے گی یقین مانے اِس دورِ افتادگی میں ہم صرف ایک چیز کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہے اور وہ ہے "محبت” لوگوں کے پاس سب کچھ موجود ہے ماسوائے "محبت” کے اور ہمارے بیچ محبت نہ ہونے کی وجہ پیسے ہی ہو سکتے ہے.

    پیسوں نے ہی ہمارے بیچ محبت جڑ سے ختم کر دی ہے. کہنے کا نصب العین یہ ہے کہ لوگوں کو اِس کالم کے زریعے یہ مثبت پیغام پہنچایا جائے کہ یہ مہنگے اور قبیح رسومات کو جڑ سے ختم کرنا چاہئے تاکہ ہمارے بیچ محبت کا یہ سلسہ قائم و دائم رہیں.اللّه ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور اِن باتو پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    نوٹ: میرا قبیح رسومات کے حوالے سے کالم شائع ہونے پر میری والدہ محترمہ کے تاثرات کچھ یہ تھے،

    کالم جب شائع ہوا تو سب سے پہلے ماں کو پڑھ کر سنانے اور سمجھانے لگا پڑھنے کے بعد ماں کہنے لگی قیموس یہ جو باتے آپ نے لکھی ہیں اور آپ کا جو مرکزی خیال ہے یہ یقیناً قابل تعریف ہے، پر کیا لوگ اِن باتوں کو عملی شکل دے گے؟

    یہ سوال میرے لئے یقیناً مشکل تھا کیونکہ ایسے ڈھیر سارے خوب صورت اور قابل غور باتے ہیں جو فقط کتابوں تک محدود ہیں وہ لوگ پڑھ کر لُطف اُٹھاتے ہے، پر اُن تمام تر باتوں پر عمل کرنا اُن کے لئے موت کا مترادف ہوتا ہے۔

    میرا کالم لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جِن رسومات اور رواجات نے ہمیں اپنوں سے غیر بنا دیا ہے اُن کو جڑ سے ختم کرنا چائے۔

    خدا ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین
    حالد حسین ادیب کے قلم سے۔
    Twitter Handle:
    @KD_004

  • لوگ کیا کہیں گے  تحریر: فوزیہ چوہدری

    لوگ کیا کہیں گے تحریر: فوزیہ چوہدری

    لوگ کیا کہیں گے؟ اس سوال کی گونج بہت زیادہ ہے ہماری زندگی میں اور یہ سوال لوگ کیا کہیں گے ہماری خواہشات اور خوشیوں پر سبقت لے جاتا ہے اور انسان اپنی ہی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے صرف اس ڈر سے کے لوگ کیا کہیں گے۔
    ویسے تو فلموں ڈراموں میں آپ نے بہت ہی خوفناک کردار دیکھے ہوں گے لیکن ہماری اصل زندگی میں یہ کردار پائے جاتے ہیں اور وہ کردار نبھاتے ہیں لوگ۔۔۔۔۔ جی ہاں لوگ اور انکی کڑوی باتیں جو کہ جینا مشکل کر دیتی ہیں اور ہم خود بھی لوگوں میں ہی آ تے ہیں اگر کوئی ہماری پسند یا کسی بھی کام پر سوال اٹھائے یا اپنی رائے دے تو ہمیں غصہ آ تا ہے پر ایسا کچھ ہمیں اپنے پڑوس کے بچوں یا پھر خالہ کی بیٹی یا بیٹے کے بارے میں یہ پتا چلے کے وہ پیانو بجانا سیکھنا چاہتا / چاہتی ہے تو ہم خود بھی وہ ہی حرکت کرتے جو کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا ہو سوال اٹھاتے ہیں یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ بھی کوئی سیکھنے کی چیز ہے صرف وقت کی بربادی ہے وغیرہ وغیرہ۔
    لوگ کیا کہیں گے سوال اتنا ہمارے دماغ پر سوار ہو چکا ہے کے ہر بات پر سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟
    اتنی ڈارک لپ اسٹک لوگ کیا کہیں گے ؟
    اتنی اونچی ہیل لوگ کیا کہیں گے؟
    میٹرک سائنس کے ساتھ نہیں کیا تو لوگ کیا کہیں گے؟
    پسند کی شادی کر لی تو لوگ کیا کہیں گے؟
    ایسے اور بہت سے لمحات ہماری زندگی میں آ تے ہیں جب ہم یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔
    اس بات پر غور کرنے والا انسان کہ لوگ کیا کہیں گے ہمیشہ ناکام ہی رہتا ہے زندگی میں کبھی آ گے نہیں بڑھ سکتا کیونکہ ایسے انسان کی اپنی کوئی سوچ اپنی کوئی پسند نہیں ہوتی وہ ہمیشہ دوسروں پر ڈیپینڈنٹ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے لیے ہم سفر بھی وہ ہی پسند کرتا ہے جو لوگوں کو اسکے ساتھ اچھا لگے۔
    اکثر ماں باپ اپنے بچوں کی پسند سے شادی اس ڈر سے نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے اتنے ایڈوانس ہیں اتنی چھوٹ دے رکھی ہے اپنے بچوں کو؟ تو خدارا زرا اس بات پر بھی غور کریں کے زندگی آ پ کے بچوں نے گزارنی ہے نہ کہ لوگوں نے مت سوچئے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
    کیونکہ لوگوں کا کام ہے بس باتیں بنانا یہ کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوتے۔اس بات کو میں ایک کہانی سے بھی سمجھانا چاہوں گی۔
    ایک باپ اور بیٹا پیدل چل رہے تھے اپنے گدھے کے ساتھ تو کچھ لوگوں کی باتیں انکے کام میں پڑی کہ دیکھو کتنے بیوقوف ہیں گدھے کے ہوتے ہوئے پیدل چل رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ ہم گدھے پر بیٹھ جاتے ہیں تھوڑا ہی آگے گئے تو پھر سے کچھ لوگ بولے دیکھو کتنے ظالم ہیں دونوں ہی گدھے پر بیٹھے ہیں کتنا بوجھ ڈالا ہے گدھے پر اس بات کو سن کر باپ نے فیصلہ کیا کہ وہ پیدل چلے گا اور بیٹے کو گدھے پر بیٹھا رہنے دے گا پھر تھوڑا آ گے گئے تو لوگوں نے باتیں کی کہ دیکھوں کتنا بدتمیز بیٹا ہے باپ کو پیدل چلا رہا ہے اور خود گدھے پر سوار ہے بیٹا اتر گیا اور باپ کو بٹھا دیا گدھے پر پھر تھوڑا آ گے گئے تو لوگوں نے باتیں کی کہ دیکھو اس ظالم باپ کو خود گدھے پر سوار ہے اور بیٹے کو پیدل چلا رہا ہے اس بات کو سنتے ہی باپ بھی اتر گیا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ لوگ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہیں اس کا واحد حل صرف اتنا ہے کہ لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کریں اور آ گے بڑھیں ۔
    ہم نے خود لوگوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ ہماری زندگی کا فیصلہ لے سکیں یقین جانیں جس دن آ پ نے یہ سوچ لیا کہ یہ آ پکی زندگی ہے اور اسکا ہر فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف آ پکا ہے اس دن آ پکی زندگی کو ایک نیا رنگ ملے گا اور آ پ زندگی جینا سیکھیں گے ابھی تو صرف گزار رہے ہیں۔
    زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خود اعتماد ہونا ضروری ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اس سوچ اور ڈر کو ختم کرنا بھی ضروری ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔اپنے ذہنوں کو کھولیے اور نکلیں اس سوچ سے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
    امید ہے تحریر پسند آئی ہو گی۔شکریہ

  • دشمنی مٹاؤ نسل بچاؤ تحریر: محمد نوید

    میانوالی میں قتل و غارت کا بازار ہمیشہ کی طرح گرم ھے پر افسوس کہ کوئی کام نہیں ہو رہا نئے روڈ پل گاوں تو بن جائیں گے لیکن یہاں رہنے والوں کی سوچ تو وہی ہے … لوگ باتیں کر رہے کہ پولیس کچھ نہیں کر رہی اگر اپ پچھلے سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو میانوالی میں جتنے قتل ہوے ان میں دشمن نے آ کر اپنے دشمن کو نہیں مارا بلکہ زیادہ تر بھائی نے بھائی کو مار دیا بیٹے نے باپ کو مار دیا بھائی نے بہن کو مار دیا یا پھر بازار میں چھوٹی سی وجہ سے کسی نے کسی کو مار دیا اور یہ سب کچھ سواے جہالت کے کچھ نہیں ہے ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم میں سے جو لوگ پڑھ لکھ جاتے وہ یہاں سے شفٹ ہو جاتے کیونکہ پڑھے لکھے لوگوں کا اس ماحول میں جینا ہی انتہائی مشکل ہے یہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں اگر ہم نے اپنے علاقہ میں امن بحال کرنا ہے تو سوچ تبدیل کرنی پڑے گی اور سوچ پر کام کرنا ہڑے گا ورنہ میرے بھائیوں ہر گھر سے اسی طرح بے گناہ لوگوں کے جنازے نکلتے رہیں گے
    پرسوں ایک روز میں مختلف جگہوں پر چار قتل ہوئے دشمنیاں ہر علاقے میں ہوتی ہیں مگر میانوالی میں افسوسناک صورتحال ھے ذرہ سی بات پر کسی کو قتل کر دینا بھائی بھائی کو مار رہا ھے نہ رشتوں کی پہچان ھے نہ بڑے چھوٹے کا لحاظ نہ کسی کی عزت کی پرواہ ماں باپ پیچھے عدالتوں اور جیلوں میں خوار دنیا میں بھی زلیل اور آخرت بھی تباہ حدیث کا مفہوم ھے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ھے اسلام سے دوری نئ نسل کو تباہ کر رہی ھے بدمعاشی ٹرینڈ بن چکی ھے جیل جانا اور پھر کچھ دن بعد ضمانت پر رہا ہو کے آجانا بھی ایک نارمل سی بات ھے کتنے خوبصورت جوان دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گئے نہ جانے کتنے خاندان تباہ ہو گئے مگر یہ سلسلہ اس جدید دور میں بھیرکنے کانام نہیں لے رہا۔
    ہمیں کب شعور آئے گا آنے والی نسلوں کو ہم کیا پیغام دے رھے ہیں نام کمانا ھے تو اور بہت سے طریقے ہیں رائفل اٹھا کے کسی کو شوٹ کر دینا اصل میں بزدلی کی علامت ھے بہادر انسان وہ ھے جو حالات کا مقابلہ کرنا جانتا ھے جسمیں جتنی برداشت ھے وہ اتنا بہادر ھے جسمیں برداشت اور صبر نہیں وہ بزدل انسان ھے کبھی یہ بھی سوچاھے کہ کسی کو قتل کرکے کیا خود سکون سے رہ پاؤ گے کبھی نہیں جو انسان بوتا ھے وہ کاٹتا ھے ہتھیار اٹھاؤ جہاں پہ ہتھیار اٹھانا بنتا ھے غریب کا زور بازو بنو طاقتور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرو ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہتھیار اٹھاؤ تاکہ تمہارا نام رہتی دنیا تک یاد رھے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ کسی کو ناحق قتل کر دینا یہ روایت تمہاری نسلیں اجاڑ دے گی کیونکہ پڑھے لکھے لؤگوں کا اس ماحول میں جینا ہی انتہائی مشکل ہے یہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں اگر ہم نے اپنے علاقہ میں امن بحال کرنا ہے تو سوچ تبدیل کرنی ہوگی برداشت کرنا سیکھو دشمن کو بھی عزت دو اگر وہ انسان کا بچہ ہوگا تو سمجھ جائے گا۔۔
    کچھ بھی ہوجائے خدارا کسی انسان کی جان لینا ہمارا سب سے آخری آپشن ہونا چاہیئے۔
    اس سے پہلے کچھ بھی ہو معاملات کو سلجھانے کی حتی الامکان کوشش کریں بدمعاشی نانصافی کے کلچر کو پروموٹ نہ کریں صبر اور برداشت کا دامن تھامیں ابھی بھی وقت ھے ورنہ کوئی خاندان ایسا نہیں بچے گا جو اس کلچر سے متاثر نہ ہوگا شکریہ
    تحریر ۔۔ محمد نوید
    @naveedofficial_

  • کام والیاں  تحریر: حنا

    کام والیاں تحریر: حنا

    ہمارے معاشرے میں گھروں میں کام کرنے والی عورتوں بچیوں لڑکیوں کو نام دیا جاتا ہے ۔کام والیاں ۔۔۔۔کہ یہ تو کام والی ہے ۔۔وہ سارا دن ہمارا کام کریں گی ۔ہمارے جوٹھے برتن دھوئیں گی ۔۔خون پسینہ ایک کر دیں گی صبح سے شام کام کر کر کہ۔چاہے گھر میں سو لوگ کی دعوت ہو یا دس لوگ کی ۔برتن دھونا ان پر فرض ہو جیسے ۔۔بعد معاوضے میں انھیں ہزار پانچ سو دے کر ان کی سات نسلوں تک احسان جتانا مالکان پر فرض ہو جیسے ۔۔ایک بیوہ عورت کسی گھر کام کرتی ہے وہ بیمار ہے یا شوہر بیمار ہے وہ نہیں آتی ۔تو کہا جاتا ہے بیٹی کو بھیج دے ۔۔اپنی بچی کو کسی غیر گھر بھیجنا وہ بھی اس گھر جہاں دو عورتیں تو سات مرد ہو ۔۔بہت ہی ہمت کا کام ہوتا ہے ۔۔۔وجہ صرف دو وقت کی روٹی اور ماہانہ چند ہزار پیسے ۔اس کے علاوہ اتارے ہووے کپڑے یا بچا ہوا سالن بس ۔۔یہ بھی کوی دیتے ہیں مطلب یہ بھی گر کوی دے تو غنیمت ہے ۔ورنہ تو ان لوگوں کو ایسے دھتکارتے ہیں لوگ جیسے ان میں اور دوسروں میں مریخ اور زمین جیسا فرق ہو ۔۔ان کے ہاتھ سے بنا سپائسی کھانا کھا لینا ہے ۔۔لیکن اسی کھانے کو اگر وہ کھاے تو برابری یاد آجانی ہے ۔۔ان کے ہاتھوں کے بنے مشروب پی لینے ہے ۔لیکن وہی مشروب اگر وہ پئیں تو مشروب خراب کہلاتا ہے ۔۔ان کے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو نہلانا ان کے کپڑے پہنانا تو منظور ہے لیکن ان ہی لوگوں کے بچوں ساتھ اپنے رئیس بچے کو کھیلنے نہی دینا کہ وہ کام والی کا بچہ ہے ۔۔گھروں میں کام کرنے والی عورتوں بچیوں ساتھ کچھ لوگوں کا سلوک انتہائ بھیانک ہوتا ہے ۔۔بحثیت قوم تو ہمیں غریبی امیری کے فرق کا سبق گھروں سے والدین کے زریعے ملتا ہے ۔۔اگر بچہ خوش ہو کر کام والی کے بچے ساتھ کھیل لے گا تو ماں ڈانٹے گی سر پہ مت چڑھاو اسے ۔۔یہ لوگ سر چڑھانے کے قابل نہی ہوتے ۔۔اگر بچی خوشی میں کام والی کی بچی کو دوست یا سہیلی سمجھ کر اس کے ساتھ ایک برتن میں کھا لے گی تو گویا قیامت ہی آجاے گی پھر تو والدین خود ایسا لیکچر دیتے ہیں اولاد کو کہ کل وہی بچے ان والدین کا جوٹھا کھانا کھاتے بھی کراہت محسوس کرتے ہیں ۔۔5 سے 14 سال کے ہزاروں بچے ہیں جو ملک کے کسی نہ کسی کونے میں محنت مزدوری کررہے ہیں ۔ گھروں میں کام کرنے والے لڑکا یا لڑکی بھی جسمانی ذہنی تشدد کا سامنا کرتے ہیں ۔لاہور میں واقع عسکری نائن کے ایک گھر میں کام کرنے و الی 10 سالہ ارم کو چوری کے الزام میں ہاتھ پاؤں سے باندھ کر پلاسٹک کے پائپ سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو بعدازاں ہسپتال میں پہنچ کر دم توڑ جاتی ہے۔ ارم کی بیوہ ماں کا دکھ کون سمجھے گا۔ بیٹی مزدوری کے لئے آئی تھی زندگی سے بھی گئی۔ نواب ٹاؤن میں ننکانہ کا 15 سالہ محمد قاسم عمر خان کے گھر میں تشدد سے جان دے دیتا ہے۔ غریب باپ کی دہائی کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ لاہور ہی کے ویلنشیاء ٹاؤن میں حکم عدولی پر مالکن سعدیہ کے ہاتھوں 14 سالہ عثمان کی زندگی کا چراغ گل ہو جاتا ہے اس کے جسم پر نظر آنے والے تشدد کے نشانات سے مالکن بے خبری کا اظہار کر دیتی ہے۔ غریب کا تو مقدمہ لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ بڑی بڑی کوٹھیاں‘ محلات کتنی ننھی‘ معصوم جانیں نگل گئیں غربت نے پردہ نہ اٹھنے دیا۔ لاہور میں ایک پروفیسر سلمان کے گھر میں سیالکوٹ کی 16 سالہ لڑکی پر تشدد کیا جاتا ہے۔ جنسی زیادتی ثابت ہو جاتی ہے۔ پولیس اور ڈاکٹروں کی تصدیق کے باوجود انصاف نہیں ملتا۔یہ تو میرے ملک میں ہوتے واقعات ہے ۔۔اور آپ کو لگتا ہے کہ یہ صرف پاکستان میں ہی ایسا ہے تو ہرگز نہیں
    عرب ممالک میں یہ عام ہے ۔۔وہاں آج بھی رواج ہے لڑکیوں کو تین چار پانچ سال کے ایگرمنٹ پر خرید کر لایا جاتا ہے گھروں میں کام کروانے کے لیے ۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہاں تشدد کے واقعات کم ہوتے ہیں لیکن یہ شہنشاہی سوچ ہمارے سے کئ زیادہ ان لوگوں میں بھی ہے ۔ان کے بچوں کا ہر کام ہر کام وہ کام والیاں کرتی ہے چوبیس گھنٹے ان کی تہوار سب ان بچوں کے کام کرتے ہی گرز جاتے ہیں ۔۔کسی کی غربت کا یوں فائدہ اٹھاتے ہیں ہم ۔۔کہنے کو ہم سب مسلمان ہے
    آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کائنات میں بلند ترین مقام عطا فرمایا تھا۔ اور آپؐ کو ایسے خدام بھی بخشے تھے جو آپ کی خدمت پر ہمیشہ کمربستہ تھے اور آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کو تیار تھے مگر اس کے باوجود آپ اپنے لئے عام دنیاوی معاملات میں کوئی امتیازی حیثیت اختیار کرنا پسند نہ فرماتے اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے۔ اور اس میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔
    اپنے خادموں کا بوجھ ہلکا کرتے اور انہیں آرام پہنچانے کی اتنی کوشش فرماتے کہ وہ آپ پر جان فدا کرنے کے لئے مستعد رہتے تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے عمل کو وقار بخشا اور ہاتھ سے کام کرنے میں عزت کی نوید سنائی۔
    اس نبی کی امت ہے ہم ۔۔ گھر کے کام کاج میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ہاتھ بھی بٹاتے اور اپنی جوتی خود مرمت کرلیتے تھے اور اپنا کپڑا سی لیا کرتے تھے۔ پھر ہم میں کہاں سے آگئ یہ شہنشاہی والی سوچ ۔۔۔ملازموں سے کام کروانے والی ۔۔آپ جانتے ہو یورپ کی ترقی کا کہیں نہ کہیں یہ بھی راز ہے کہ وہ لوگ وقت کے پابند ہے وہ لوگ اپنا کام خود کرتے ہیں ان کو وزیراعظم بھی سڑک پر تھوک دے تو اپنا تھوک خود صاف کرتا ہے ۔۔ان کے آگے پیچھے لمبی گاڑیوں کے پروٹوکول نہیں ہوتے ۔۔۔وہاں ہر بندہ بندی خودمختار ہے اپنے کام کرنے میں وہاں کوی کسی کا ملازم نہیں ہوتا ۔۔یہاں تو جس کے پاس چار پیسے آجاتے وہی مالک ہے اس سے نیچے والا ملازم ۔۔۔افسوس ہوتا ہے کبھی کبھی کہ ہم نے اپنے کلچر کے ساتھ ساتھ اپنی مسلمانی والی پہچان بھی ختم کر لی

  • غربت   تحریر : شاہ زیب

    غربت تحریر : شاہ زیب

    ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔  غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں۔
      اس تناظر میں ، غریب لوگوں کی شناخت کے لیے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات کیا ہیں۔  ان کو "بقا کے لیے ضروری” کے طور پر یا وسیع پیمانے پر "معاشرے میں مروجہ معیار زندگی کی عکاسی کرنے والے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔  پہلی کسوٹی صرف ان لوگوں کا احاطہ کرے گی جو فاقہ کشی یا نمائش سے موت کی سرحد کے قریب ہیں۔  دوسرا ان لوگوں تک پھیلایا جائے گا جن کی غذائیت ، رہائش اور کپڑے ، اگرچہ زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب ہیں ، مجموعی طور پر آبادی کے لوگوں کی پیمائش نہیں کرتے ہیں۔  تعریف کا مسئلہ غیر معاشی مفہوم سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جو لفظ غربت نے حاصل کیا ہے۔  غربت کو منسلک کیا گیا ہے ، مثال کے طور پر ، خراب صحت ، تعلیم یا مہارت کی کم سطح ، کام کرنے کی نااہلی یا ناپسندیدگی ، خلل ڈالنے والے یا بے ترتیبی برتاؤ کی اعلی شرح ، اور بہتری۔  اگرچہ یہ صفات اکثر غربت کے ساتھ پائی جاتی ہیں ، ان کی غربت کی تعریف میں شمولیت ان کے مابین تعلقات اور کسی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکامی کو واضح نہیں کرتی ہے۔  جو بھی تعریف استعمال کی جاتی ہے ، حکام اور عام آدمی یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ غربت کے اثرات افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
    ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔  غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں
    اگرچہ غربت انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کی اہمیت بدل گئی ہے۔  اجتماعی غربت نسبتا پائیداری کی طرح لیکن تقسیم کے لحاظ سے اس سے مختلف ، کیس غربت سے مراد کسی فرد یا خاندان کی عمومی خوشحالی کے معاشرتی ماحول میں بھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہونا ہے۔ یہ نااہلی عام طور پر کچھ بنیادی وصف کی کمی سے متعلق ہوتی ہے جو فرد کو اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ ایسے افراد ، مثال کے طور پر ، اندھے ، جسمانی یا جذباتی طور پر معذور ، یا دائمی بیمار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی معذوریوں کو عام طور پر ہمدردی کے ساتھ سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ وہ ان لوگوں کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ جسمانی وجوہات کی وجہ سے غربت میں کمی لانے کی کوششیں تعلیم ، پناہ گاہ روزگار اور اگر ضرورت ہو تو معاشی دیکھ بھال پر مرکوز ہیں۔

  • زیادہ ڈرنا چھوڑ دو   تحریر:  محمد بخش

    زیادہ ڈرنا چھوڑ دو تحریر: محمد بخش

    یہ کہانی ہے دو دوستوں کی جو کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے ایک بار دونوں کسی کام سے شہر گئے اور واپس اپنے گاؤں لوٹ رہے تھے ان کے گاؤں تک پہنچنے کے لیے ان کو ایک گھنے جنگل سے ہو کر کے گزرنا تھا اور جب وہ اس جنگل سے گزر رہے تھے تو ایک دوست کو پیاس لگی اور وہ پانی ڈھونڈنے کے لیے راستہ بھٹک گیا تھوڑی ہی دیر بعد شام ہو گئی اور رات ہونے ہی والی تھی تو ان دونوں کی نظر ایک غفا پے پڑی جو کہ درختوں سے گھری ہوئی تھی چاروں طرف سے تو ان دونوں نے سوچا یہ ہی جگہ ٹھیک ہے رات گزارنے کے لیے تو دونوں نے کچھ لکڑیاں اکٹھی کی اور اس غفا کے اندر گئے اور آگ جلا کر کے وہاں پر بیٹھ گئے رات کا وقت تھا غفا کے اندر آگ جل رہی تھی باہر بلکل اندھیرا تھا اور کچھ جانورں کی آوازیں آرہی تھی تو ان دونوں میں سے جو ایک دوست تھا وہ اندر ہی اندر ڈرنے لگا کیونکہ اس نے جن بھوت کی بہت کہانی سنی تھی کے رات کے وقت جنگل میں کچھ بھیانک روحیں بھٹکتی ہیں اور اگر ان کو کوئی ایسا بھٹکا ہوا آدمی مل جائے تو اس کو نہیں چھوڑتی تو جب اس نے یہ جن بھوت کی بات اپنے دوست سے کی تو اس کے دوست نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا کبھی تو نے کسی جن بھوت کو دیکھا ہے تو اس نے کہ نہیں میں نے تو نہیں دیکھا لیکن میرے کچھ جان پہچان کے لوگ ہیں انہوں نے دیکھا ہے تو اس کے دوست نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ یار ایسی سنی سنائی باتوں پے یقین نہیں کرتے اب تو سوجا اور مجھے بھی سونے دے مجھے نیند آرہی ہے اور اتنا کہہ کر کے اس کا دوست وہی پر لیٹ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں سو گیا لیکن وہ جو اندر سے ڈرا ہوا تھا وہ لیٹ تو گیا لیکن اس کو نیند نہیں آرہی تھی اس کو لگا تھا کہ شاید یہاں پر کہیں کوئی ہے جو چھپ کر کے کہیں سے اس کو دیکھ رہا ہے اس آگ کی وجہ سے کچھ پرچھائیاں بن رہی تھی وہاں پتھروں پر تو ان پرچھائیوں کو بھی دیکھ کر کہ بھی وہ ڈر رہا تھا پھر کچھ گنٹھے تک ایسا ہی چلتا رہا پھر اس کے بعد میں کیونکہ وہ تھکا ہوا تھا تو اس کو نیند آگئی لیکن نیند آنے کے کچھ دیر بعد ہی اس کو ایک خواب آیا خواب میں اس کو ایک بہت ہی بھیانک پرچھائی اس کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئی اب جیسے جیسے وہ اندر سے ڈرتا چلا جارہا تھا وہ پرچھائی اس کے اور قریب آتی چلی جا رہی تھی اور بڑی ہوتی چلی جا رہی تھی اور اس پرچھائی میں اس کو ایک ہاتھ نظر آیا جس کے بڑے بڑے ناخن تھے اور وہ ہاتھ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا اور اس کے گلے تک پہنچنے ہی والا تھا کہ تب ہی وہ ڈر کر کے ایک دم سے اٹھا پھر اس نے اپنے دوست کی طرف دیکھا جو کہ سو رہا تھا اسے پکڑ کر زور سے اٹھایا پھر اس نے اپنے دوست کو بتایا کہ اس ساتھ میں کیا ہوا تو اس کا دوست پھر ہنسنے لگا پھر اس کے دوست نے اس کو کہا کہ اب اگر دوبارہ سے تجھے وہ پرچھائی دکھے تو توں وہ کہنا جو میں تجھے کہہ رہا ہوں کہنے کے لیے پھر دیکھتے ہیں وہ پرچھائی تیرا کیا کرتی ہے تجھے اپنے اندر ہی اندر بولنا ہے میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنا آ تو اس کے دوست نے ویسا ہی کیا تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ سے اس کو خواب میں وہی پرچھائی نظر آئی اور وہ پرچھائی آرام آرام سے اس کی طرف بڑھنے لگی لیکن اس بار وہ اس پرچھائی سے ڈرا نہیں بلکہ اپنی پوری طاقت سے اسے نے وہی کہا میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنے آ میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنے آ جیسے جیسے وہ یہ بولنے لگا وہ پرچھائی چھوٹی ہونے لگی اور اس سے دور ہونے لگی وہ بولتا رہا وہ پرچھائی چھوٹی ہوتی رہی اور آہستہ آہستہ وہ پرچھائی دکھنی بند ہو گئی بلکل ایسا ہی ہماری زندگی میں بھی ہوتا ہے ہمارے اندر جتنے بھی ڈر ہیں اس سے ہم جتنا ڈرتے ہیں ہم اتنا ہی چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ ڈر اتنا ہی بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن اگر ہم اپنے اندر کے ڈرو سے نہیں ڈرتے اور اس کا سامنا کرتے ہیں تو دنیا کا ایسا کوئی بھی ڈر نہیں جو کہ ہمیں ڈرا سکے۔۔
    جزاک الله ! خوش رہیں اور خوش رکھیں،

  • بچوں کی تعلیم اور تربیت  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بچوں کی تعلیم اور تربیت تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ چند باتیں قارئین کی نظر کرنا چاہوں گا
    جس معاشرے ہم رہتے ہیں اس میں بچے تب تک والدین پر انحصار کرتے ہیں جب تک وہ خود کمانے لائق نہیں ہوجاتے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں تو روزگار کمانے کے بعد بھی انکی زندگی کے فیصلے والدین ہی کرتے ہیں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں کے بارے میں جو سوچیں گے وہ بہترین ہوگا کیونکہ والدین ہی ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ بھی زیادہ خوشحال زندگی گزارے اور بہترین مقام پائے۔

    یہ بات بہت غور طلب ہے کہ اکثر والدین بچوں کی تعلیم کے فیصلے میں ایک غلطی کرتے ہیں اور اسکا خمیازہ بچے مستقبل میں بھگتتے رہتے ہیں ۔ اگر کسی کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنتا ہے تو والدین کی خواہش ہوتی کہ انکا بچہ بھی ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے میرے خیال میں یہ درست نہیں
    بے شک اللّہ تعالٰی نے دماغ ضرور ایک جیسا دیا ہے مگر اسکو استعمال کرنے کا طریقہ ہر انسان کا مختلف ہے۔ یاد رکھیں بچے کا ذہن بننے میں آپ کی سوسائٹی اور اردگرد کے لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ بچے کا دماغ ویسے ہی تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے جیسے وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔
    اگر ایک بچے کی دلچسپی اکاؤنٹنگ میں ہے تو اسے سائنس کے مضامین بہت مشکل لگیں گے۔ اسکی تازہ مثال میرے دوست کا بیٹا ہے جس نے چند دن پہلے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ میں ڈاخلہ بجھا اور وہ بہت محنت سے تیاری بھی رہا تھا۔
    کل اچانک میرے سامنے آ گیا ابتدائی سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا بیٹا سناو تمہاری پڑھی کسی چل رہی ہے ۔
    میرا سوال سن کر وہ پریشان سا ہو گیا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا اس کے ابو نے اسے کہا ہے کہ اب تم میڈیکل کالج میں اپنا داخلہ بجھو اور میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرو۔ تھوڑا پوچھنے پر معلوم ہوا کے اسکے ماموں کا بیٹا ڈاکٹر ہے تو اس وجہ سے ابھی اسکی والدہ بھی چاہتی کہ وہ بھی ڈاکٹر بنے۔

    مجھے بچے کا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ اسے یہ فیصلہ منظور نہیں ہے۔ایک لمبی آہ بھرنے کے بعد بولا انکل میں نہ اب اس امتحان کی تیاری نہیں کرنی یہ ٹیسٹ مجھ سے پاس نہیں ہو گا۔نتیجہ کیا ہوا؟

    بچے کا سال برباد ہو جائے گا اور وہ بچہ ذہنی دباؤ کا شکار بھی ہو گا ۔ اگر والدین پہلے اپنے بچے سے پوچھ لیتے کہ تم کیا بننا چاہتے ہو تو کتنا اچھا ہوتا۔ تعلیم کے معاملے میں بچوں پر اپنا فیصلہ زبردستی مسلط کرنا انتہائی غلط ہے اور مستقبل تباہ ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے ۔ عدم دلچسپی کے باعث فیل ہونے سے بہتر ہے اسے وہ امتحان دینے دیا جائے جو وہ پاس کرلے۔

    تمام والدین سے گزارش ہے۔رزق تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی تعلیم رائیگاں نہیں جاتی۔ اس لئے خدارا تعلیم کے معاملے میں پہلے اپنے بچے سے ضرور مشورہ کریں کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے اور کون سی ڈگری حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو
    پاکستان زندہ اباد

    @EngrMuddsairH

  • درخت اور ان کی اہمیت   تحریر  : راجہ ارشد

    درخت اور ان کی اہمیت تحریر : راجہ ارشد

    ماہرین کے مطابق ، کسی بھی ملک کی مجموعی آبادی کا 25٪ جنگلات ہونے جائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی ملک میں ایک ملین درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہمارے ملک کو اس فیصلے کی حکومتی سطح پر اشد ضرورت تھی۔
    درختوں کا وجود بھی اللہ تعالٰی کی نعمت ہیں جو موسمی تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔ درختوں کے منصوبے سے ملک کو بہت فائدہ حاصل ہوں گے ۔
    درخت جہاں ہمیں سایہ فراہم کرتے ہیں وہاں ہمیں آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں جو سانس لینے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
    درخت ہوا میں موجود زہریلی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ درختوں کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

    موجودہ حکومت اور بالخصوص وزیراعظم  عمران خان کے ایک ارب درختوں کے منصوبے سے ملک میں سیلاب کی صورت حال کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ درخت لگانے سے بہت سی قدرتی آفات سے بچا جا سکتا ہے- گزشتہ برسوں سیلابوں کی صورتحال سے تو سبھی آگاہ ہیں۔ہمارا کتنا جانی اور مالی نقصان ہوا
    ان سیلابوں کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی درخت بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    درخت زیرِ زمین پانی کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور اس سے ان کی نشوونما ہوتی ہے۔ درخت ہمارے ماحول کو بھی خوشگوار بناتے ہیں درختوں کے ارد گرد بسنے والے لوگوں کی صحت پر بھی بڑا اچھا اثر پڑتا ہے بیماریاں بھی کم ہوتی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے درخت لگانے کا جو شعور قوم کو دیا ہے اس کے بہت فائدے ہیں- ہمیں بھی چاہیئے کہ شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ماحول کو خوشگوار بنائیں اور آنے والی نسلوں کے لیےخوشگوار اور اچھا ماحول تیار کریں۔ ملک پاکستان کا ہر فرد کم از کم ایک درخت ضرو لگائے چاہے اپنے صحن میں ہی لگا لے۔

    ہمارے شہروں میں فیکٹریوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ماحول پر بہت برا اثر پڑ ریا ہے درخت آوازوں کو بھی اپنے اندر جذب کرتے ہیں شور اور آلودگی کو بھی ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ملک میں معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے کپتان کے اس اقدام سے شہروں میں صاف فضا اور ایک آچھا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے اس ملین ٹری منصوبے سے ملک میں موجود خشک سالی بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ درخت خشک سالی کو کنٹرول کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    درختوں کی موجودگی تناؤ اور افسردگی کو کم کرتی ہے اور لوگوں کو جسمانی اور جسمانی طور پر صحت مند بناتی ہے ۔درخت لینڈ سلائیڈنگ سے بھی بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • جنسی زیادتی کا رجحان  تحریر:ثمرہ مصطفی

    جنسی زیادتی کا رجحان تحریر:ثمرہ مصطفی

    جنسی زیادتی کا رجحان پچھلی تہذیبوں میں بھی پایا جاتا تھا.بڑھتا ہوا جنسی زیادتی کا رجحان معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا جارہا ہے.جنسی زیادتی ایک چھپا ہوا (جرم )عمل ہے جس میں کسی کی مرضی کے بغیر اسکو چھونا یا کوٸی ایسا عمل کرنا جو اگلے کو ناگوار گزرے یا اس میں اسکی رضامندی شامل نہ ہو .جنسی زیادتی جسمانی یا غیرجسمانی دو طرح کی ہوسکتی ہے.جنسی زیادتی ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ کی جاتی ہے چاہے وہ بچہ ، جوان یا بوڑھا ہو.جنسی ذیادتی کسی شخص کہ یقین کو ٹھیس پہنچانا ہے.پھر وہ شخص ساری زندگی کسی پہ یقین نہیں کرسکتا ہر کسی کو ایک ہی نظر سے دیکھتاہے. اجکل جنسی زیادتی کا رجحان بڑھتاجا رہاہے.اور اسکی وجہ سوشل میڈیا کا استعمال،غربت،بیک گراٶنڈ،اسلام سے دوری اور بہت دوسری وجوہات ہیں .یہ مسٸلہ  نہ صرف ترقی پذیر ممالک میں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی پایا جاتا ہے .جنسی زیادتی کسی کی طرف سے بھی کی جاسکتی ہے چاہے وہ اپکا باپ یا بھاٸی ہی کیوں نہ ہوں اپ کو نہ صرف باہر والوں سے بلکہ اپنے گھر والوں (رشتہ داروں ) سے بھی احتیاط کرنی چاہٸے جیسا کہ ٹی وی ، نیوزپیپر میں آۓ دن دیکھایا جاتا ہے کہ باپ یا بھاٸی نے بیٹی ، بہن کے ساتھ زیادتی کی  .اسکی ایک یہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے جو لوگ اپنے بچوں کے ساتھ  ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں اور انکے بچے سمجھدار ہوں اور وہ لوگ انکے سامنے سیکس کریں تو اس سے انکے ذہن میں ایسے خیال آتے ہیں جو انہیں غلط کام کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور دوسری بات زیادتی کیلے عورت کو قصور وار ٹہرایا جاتاہے کبھی اسکے کپڑوں ، کبھی اسکے گھر سے باہر نکل کرکام کرنے کو . کون عورت ہوگی جو چاہے گی اسکی عزت داغ دار ہو . ظلم بھی عورت کے ساتھ ہوتا ہے اور قصور وار بھی اسے ٹہرایا جاتا ہے کیا کوٸی عورت چاہتی ہے کہ اسکی عزت کو پامال کیا جاۓ تو پھر عورت کو کیوں قصور وار ٹھرایا جاتا ہے .مرد ہمیشہ سے خود کو حاکم سمجھتا ایا ہے اور عورت کو کمتر سجمھ کر اپنے پیروں کی جوتی سمجھتا رہا ہے .شاید مرد عورت کی ترقی سے جل کر بھی انکو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں .جبکہ اسلام نے مرد کو بھی نظریں جھکانے کا حکم دیا ہے .سورت النور کی ایات نمبر٣٠ میں اللہ پاک کا فرمان ہے ”مسلمان مردوں سے کہہ دیجٸے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“
    @__fake_world __