Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ‏میرا پاکستان میری پہچان   تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏میرا پاکستان میری پہچان تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ہمارا ملک پاکستان جو جدوجہد کے مستقل عمل میں ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ، اسے باقی دنیا کے منفی عکاسیوں کے مقابلے میں بتانا یقینا زیادہ اچھا ہے۔.

    یقینی طور پر ہمارے ملک میں بہت سارے مسائل ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارا ملک کیسی سے کم ہے۔ ہم پہلی اسلامی جوہری طاقت ، دنیا کی چھٹی بڑی فوج ،جو کسی بھی دشمن کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ، نہ صرف خوبصورتی اور سکون سے بھرے ہوئے علاقوں بلکہ معدنیات سے بھی مالا مال ہیں۔. صحت ، تعلیم ، انسانی وسائل اور سماجی شعبے میں بروقت سرمایہ کاری مثبت نتائج لا رہی ہے حالانکہ آہستہ آہستہ ہمارے پاس سائنس اور ٹکنالوجی ، کھیلوں ، سماجی علوم ، فنون لطیفہ اور دیگر شعبوں میں غیر معمولی ہنر مند صلاحیتوں کے حامل پرجوش اور باصلاحیت نوجوان ہیں۔

    دنیا بخوبی جانتی ہے کہ اس پرجوش نوجوان کے پاس یقینی طور پر ان کے پاکستان کو مزید خوشحال بنانے کے لئے تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔

    مکرمی ہمیں پاکستان کو مزید کامیاب بنانے کے لیے محنت کرنی ہوگی ، سب سے پہلے ہمیں تعليمی نظام پر توجہ دینی چاہیے ۔. پاکستان کو اپنی خواندگی کی شرح اور معیاری تعلیم کی کمی کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔. اس وقت کی ضرورت سائنس اور ٹکنالوجی سیکھنے کی ثقافت کو فروغ دینا ، بہتر انفراسٹرکچر ، نئی ایجادات کے ساتھ بڑھتی ہوئی صنعت کی ضرورت ہے۔.

    تحقیق اور ترقی بالکل تکمیل پذیر ہوگی کیونکہ کامیابی کے لیے اس طرح کے بنیادی شعبوں پر دنیا کی توجہ مرکوز ہے۔. بیرون ملک خدمات انجام دینے والے ہمارے نوجوانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ پاکستان کو بدعات کے میدان میں کس طرح بہتر درجہ بندی پر ڈال سکتے ہیں۔.

    ہمارے پاس دماغ اور ذہانت ہے لیکن اس کے لئے مناسب سمت کی ضرورت ہے۔. ہمارے پاس بڑھتی آبادی ، صحت ، خوراک اور پانی کی قلت اور عام آدمی کی سلامتی کے چیلنجز ہیں لیکن ان تمام امور کو فنڈز ، وسائل اور پالیسی کے صحیح استعمال سے حل کیا جاسکتا ہے۔. اخلاص اور قوم کے ساتھ وفاداری ایک پہلو ہے جس کی پاکستان کو ہم سب سے ضرورت ہے۔.

    ہم سب کو اپنے ملک کے ذمہ دار ، دیانتدار اور قانون کے پابند شہریوں کی ضرورت ہے۔ ہم جو ہیں اس پر فخر کریں اور ہمیں اپنی ثقافتی اقدار ، زبان اور تاریخ کے بارے میں شرمندہ یا معذرت نہیں کرنا چاہئے۔ باقی ممالک اپنی تاریخ کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں اور ہمیں اپنے وژن رہنما عظیم قائد اعظم محمد علی جناح پر فخر کرنا چاہئے ، جو دوسرے سرشار ساتھیوں کے ساتھ مل کر عالمی نقشہ پر پاکستان کو نقش کرنے میں کامیاب رہے تھے۔.

    بچوں کو آزادی کے معنی سمجھنے میں مدد کرنا اور انہیں ایسا ماحول مہیا کرنا جس میں وہ آزادی کے حقیقی جوہر سے لطف اندوز ہوسکیں ریاست کی ذمہ داری ہے۔. ہمیں چاہیے پاکستان کو سیاحت کو فروغ دے کیونکہ اللہ ﷻ نے پاکستان کو شمالی علاقوں میں انتہائی خوبصورت مقامات سے نوازا گیا ہے اگر ان کی دیکھ بھال کی جائے تو وہ ملک میں بہت سارے سیاح لاسکتے ہیں۔.

    بین الاقوامی محاذ پر پاکستان کو تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے اور خارجہ پالیسی میں پہلے سے کافی بہتر ہوگی ہے اسکو مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے

    آئیے یہ نہ بھولیں کہ ہم ایک فخر قوم ہیں جس کی ثقافتی اقدار اور ایک شاندار ماضی ہے۔ ہمیں اپنا 74 واں یوم آزادی مناتے ہوئے اپنی آزادی کو پسند کرنا چاہئے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک آزاد ریاست کی قدر کو سمجھیں جس سے ہمیں نوازا گیا ہے۔. آئیے اپنی قوم کی خدمت کا عہد کریں اور اسے پرامن اور خوشحال قوم بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں تاکہ ہم واقعی اپنے کارناموں پر فخر کرسکیں۔.

    اللہﷻ پاکستان کو شاد و آباد رکھے آمین!

  • انسان اور اسکی انسانیت  تحریر: صادق سعید

    انسان اور اسکی انسانیت تحریر: صادق سعید

    اسلام وعلیکم

    انسانیت رحمدلی اور اخالقیات کا نام ہے ۔ انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں بلکہ اللّہ نے ہم پر خاص کرم کیا
    ہے لیکن اپنے اندر انسانیت بنائے رکھنا ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ انسان کی تخلیق کا مقصد اللّہ تعالی کی
    عبادت اور انسانیت کی خدمت ہے ۔ انسانیت کی خدمت کا دائرہ جو اسلام نے دیا ہے وہ کسی بھی
    مذہب نے نہیں دیا۔ اللّہ نے انسان کو دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے ۔ اس نے انسان کو
    اپنی بندگی کرنے کے لئے اس زمین پر اتارا پر ساتھ ساتھ اس کے دل میں انسانیت اور تمام
    مخلوقات کے لئے رحمدلی کا گوشہ بھی اس کے دل میں اتارا۔ اس کے لئے ہمیں دنیا میں اخلاق
    سیکھنے پڑتے ہیں۔ اخلاقیات سیکھنے کی چیز ہے یہ پڑھنے سے نہیں آتی اور نہ ہی پڑھانے سے
    آتی ہے البتہ جب تک انسان خود کچھ نہیں سیکھنا چاہتا وہ کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ اسلام ہمیں
    سوچنے اور تلاش کرنے کا کہتا ہے تاکہ ہم ایک بہترین انسان بن سکیں۔ اسکی مثال ایسے لے
    سکتے ہیں کہ جب لکڑی آگ میں جل کر کوئلہ ہو کر رہ جاتی ہے بلکل اسی طرح اگر انسان میں
    انسانیت نہ ہو تو وہ ایسا ہی ہے کہ اس کا مسلمان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہم تب تک اچھے
    مسلمان نہیں بن سکتے جب تک ہم اچھے انسان نہ بن جائیں۔ انسان کو اپنے اندر ایک عادت ضرور
    ڈالنی چاہئے کہ جو چیز آپکے بس میں نہ ہو اس کی آرزو کرنا چھوڑ دے کیونکہ دوسروں کی بات
    ماننا ان کو اہمیت دینا ایک انسان کے پاس شفاف انسانیت ہونے کی نشانی ہے ۔
    جیسے جیسے دنیا میں انسان بڑھتے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں انسانیت ختم ہوتی
    جا رہی ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم کسی کو دکھ یا پریشانی میں دیکھیں تو آگے بڑھ کے انسانیت کا حق
    ادا کریں اور دنیا میں انسانیت ،رحمدلی اور تقویٰ کا چرچہ عام کریں۔ کیونکہ اچھے اعمال لوگوں کو
    متاثر کرتے ہیں۔ انسان اچھی بری باتیں ایک دوسرے سے ہی سیکھتا ہے تو یہ ہمارا فرض ہے کہ
    ہم اللّہ کی مخلوق کے ساتھ رحمدلی کا معاملہ رکھیں۔ رحمدلی تو جانور تک میں پائی جاتی ہے۔ وہ
    بھی ایک دوسرے کا دکھ،خوشی اور محبت کو محسوس کرتے ہیں پھر ہمیں تو اللّہ نے اشرف
    المخلوقات بنایا ہے اور ہمارے اندر احساس اور محبت کا جذبہ ہماری مٹی میں گوندھا گیا ہے ۔ ہماری
    زندگی ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ ایک انسان کے دل میں انسانیت کا پایا جانا بڑی چیز ہے۔
    کبھی بھی کسی انسان کی ذات اور اس کے لباس کو حقارت سے مت دیکھنا کیونکہ وقت بدلتے دیر
    نہیں لگتی اللّہ کبھی بھی کسی کو بھی کچھ بھی نواز سکتا ہے ۔ اس کو دینے واال اور تمہیں دینے
    والا ایک ہی خدا ہے ۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی دو بار قدر کرتا ہے ایک ملنے
    کے بعد اور دوسرا کھونے کے بعد اور خوشی انسان کو اتنا نہیں سکھاتی جتنا غم سکھاتے ہیں۔
    انسان کی انسانیت تب ختم ہوتی ہے جب وہ کسی دوسرے انسان کے غم پر ہنستا ہے جس سے
    اسکی اخلاقیات کا فوری اندازہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللّہ پاک نے انسان کا دل ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنوں
    سے ملی ذلت اور غیروں سے ملی عزت کو کبھی نہیں بھولتا۔
    کبھی بھی کسی انسان کی سوچ پڑھنی ہو تو اس سے مشورہ کر لیں۔ اس سے مشورہ کرنے سے
    آپکو اس کا انصاف، اس کا علم اور اس کے کردار کا پتہ چل جائے گا۔ انسان کی پہچان اس کے
    دوست بھی ہوتے ہیں۔ جن لوگوں مین انسان اٹھتا بیٹھتا ہے وہی اس کا عکس ہوتا ہے۔

    اگر کوئی بھی انسان عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے تواپنے دل میں نفرت کے بجائے انسانی
    محبت کو آباد د کرنا سیکھے۔ ہمیں دوسروں کو غیر حقیقت پسندانہ معیار پر پرکھنا نہیں چاہئے۔ مگر
    یہ لوگوں کے لئے آسان نہیں کیونکہ نشوونما بغیر تکلیف کے حاصل نہیں ہوتی اور کامیابی ہمیشہ
    کوشش کے بعد ہی ملتی ہے۔ اگر انسان میں بد اخلاقی ہے تو اس میں انسانیت پھر کوئی چیز نہیں۔
    ہمیں جس سبق کو پڑھنے کی زیادہ ضرورت ہے وہ انسانیت کا سبق ہے ایک مسلمان ہونے کے
    ناطے ہمیں اچھا انسان تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ خود اچھا انسان بن جانا
    چاہئیے تاکہ کسی اور انسان کی تلاش آپ تک آ کر ختم ہو جائے۔
    آپ انسان ہیں تو خود میں انسانیت پیدا کریں بعض دفعہ انسان سمندر کے اندر کھڑا ہو کر بھی پیاسا
    رہ جاتا ہے کیونکہ سمندر کا پانی کھارا ہوتا ہے اور پینے کے قابل نہیں ہوتا ٹھیک اسی طرح انسان
    کے اندر اگر لوگوں کی محبت، احساس کا جذبہ ختم ہو جائے تو وہ بھی سمندر کے پانی کی طرح
    کھارے ہوتے ہیں۔ اللّہ ہمیں اچھا انسان بننے کی توفیق دے آمین یارب العالمین۔

    Name :Sadiq Saeed
    Twitter: @SadiqSaeed_

  • نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    اللّٰہ پاک کی سب سے خوبصورت تخلیق انسان ہے اور اللّٰہ نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ اللّٰہ کی عبادت تو چرند پرند، درخت، پھول، جانور نیز کائنات کی ہر شے کرتی ہے پر اللّٰہ کو سب سے محبوب انسانوں کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ پاک اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ ہمارے بار بار غلطی کرنے پر وہ ہمیں فوراً سے سزا نہیں دے دیتا بلکہ ہمارے ایک بار توبہ کرنے پر ہمیں معاف فرما دیتا ہے۔

    اللّٰہ کی ہم سے محبت کی انتہا ہے کہ اس ذات نے جہاں دیکھا کہ میرا بندہ گناہ کرسکتا ہے وہیں اس کے لیے کچھ ایسے طور طریقے اور رشتے بنا دیے تاکہ وہ گناہ سے بچ سکے اور نکاح اسی کی ایک مثال ہے۔

    جیسے انسان کی بہت سی دیگر فطری ضروریات ہوتی ہیں اسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک ضرورت ہے۔ نکاح وہ خوبصورت رشتہ ہے جو مرد اور عورت کو جائز طریقے سے ایک کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کے لیے حلال کردیتا ہے۔ نکاح کو اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "نکاح کرنا میری سنت ہے”۔
    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
    ” جو کوئی نکاح کرتا ہے تو وہ آدھا دین مکمل کرلیتا ہے اور باقی آدھے دین میں اللّٰہ سے ڈرتا رہے”۔

    یعنی ہمارا دین خود نکاح جیسے پاک رشتے پر زور دیتا ہے کہ وہ شخص جو خانہ داری کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نکاح کر لے۔ لیکن آج کے دور میں نکاح کو کچھ اور ہی طریقے سے لیا جاتا ہے۔ نکاح کے نام پر لڑکی کے گھر والوں سے جہیز لینا اب ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ یعنی اب ماں باپ اپنی بیٹی بھی دیں اور ساتھ جہیز جیسی لعنت بھی۔ جہیز کے نام پر لڑکے کو گاڑی بھی چاہیے اور اپنے گھر کے لیے فرنیچر بھی، فریج سے لے کر برتنوں تک ہر چیز لی جاتی ہے۔

    بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی، جہیز کے علاؤہ کچھ اور فضول قسم کی رسمیں بھی ڈالی جاتی ہیں جیسا کہ لڑکے کی ماں اور بہنوں کو سونے کی بنی بالیاں یا انگوٹھیاں دینا۔ ایسے ہی سب کے دیکھا دیکھی ان رسموں کو مزید سے مزید فروغ ملتا چلا جارہا ہے جو انتہائی شرمناک ہے۔ دوسرا ان سب باتوں کی وجہ سے آج کل نکاح بھی مشکل ہورہے ہیں۔ نکاح کرنا اب ایک غریب کے لیے کوئی آسان کام نہیں رہا۔

    اسی لیے ایک ایسا قانون بننا چاہیے جس میں جہیز لینے اور دینے پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیے اور جہیز لینے والے کو سزا بھی ملنی چاہیے تاکہ نکاح کو آسان بنایا جاسکے۔ اس سب کے علاؤہ بحیثیت انسان ہمیں بھی اپنا کچھ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جلد سے جلد اپنے معاشرے کو جہیز جیسی لعنت سے پاک کرسکیں۔

    @SeharSulehri

  • بےحیائی کے محرکات تحریر: آصف گوہر

    سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن دینار سے ، انہوں ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : "ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔”
    صحیح المسلم
    حیا کے لغوی معنی سنجیدگی وقار اور متانت کے ہیں۔ یہ بے شرمی، فحاشی اوربے حیائی کی ضد ہے
    اسی اور نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے اعلی معیار کے ڈرامہ سریل پیش کئے گئے جو سارا خاندان بیٹھ کر دیکھا کرتا تھا ان میں جاندار کہانی کے ساتھ اعلی معیار کی ادکاری دیکھنے کو ملتی تھی اور ڈرامے نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان میں بھی بڑے مقبول ہوتے تھے ۔
    پھر پاکستان میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو کام کرنے کی اجازت ملنے کے ساتھ ہی ہماری تہذیب و ثقافت پر وار شروع ہوگئے اسٹیج اور ٹی وی چینلز کے لئے فحش موضوعات اور بازاری جملہ بازی پر مبنی ڈرامے لکھے جانے لگے جس کی وجہ سے
    ہمارے معاشرے میں ہر طرف بےحیائی کا دور دورہ ہے پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر پیش کئے جانے والے ڈرامہ چربہ سازی بےحیائی اور مقدس رشتوں سے بغاوت شادی شدہ افراد کے معاشقوں سے بھرپور اخلاق باختہ کہانیوں پر مبنی ہوتے ہیں بات ڈراموں تک ہی نہیں رکی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اشتہار سازی کی صنعت نے بھی بےحیائی کا سہار لیا اور مصنوعات کے لئے خواتین ماڈلز کے مختصر لباس اور ذومعنی جملہ بازی سے فحاشی کا پرچار کیا گیا ۔
    فحاشی کی اس قدر بھرمار کا نتائج ہمارے سامنے ہیں اولادیں نافرمان ہو رہی ہیں اخلاق و حیا سے بیزار نوجوان نسل تیار ہوچکی ہے تعلیمی اداروں میں مخلوط ڈانس اور بوس و کنار کی ویڈیوز آئے روز وائرل ہوتی ہیں خواتین اور نوجوان لڑکیوں سے دست درازی کی سی سی ٹی وی فوٹیج تواتر سے سامنے آ رہی ہیں ۔ معصوم بچے مساجد اور مدارس میں بھی غیر محفوظ ہیں ۔
    معصوم بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے سلسلے رکنے کا نام نہیں لے رہے اور ان واقعات میں ملوث افراد کو جرم ثابت ہونے کے باوجود سزا ملنے کے عمل میں سالوں لگ جاتے ہیں ۔
    اس صورتحال سے ملک کے سنجیدہ شہریوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے ۔
    گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر اسلام آباد کی پہاڑی پر قائد اعظم رحمہ اللہ کے پوٹریٹ کے سامنے نیم برہنہ لباس میں نوجوان لڑکی اور لڑکے کے فوٹ شوٹ نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے کہ اس ملک میں اس بےحیائی کو روکنے والا کوئی نہیں اسلام آباد کے ڈپٹی کمیشنر جو بزرگ شہری کے دوران ڈرائیو شیشے میں سے پیچھے دیکھنے پر ایکشن لے لیتے ہیں لیکن بابائے قوم کے پوٹریٹ اور فرمان کی سرعام بے حرمتی پر خاموش ہیں ۔
    ملک کے وزیراعظم خواتین کے لباس بارے گفتگو کرنے پر مادر پدر آزاد طبقہ نے وہ طوفان برپا کیا کہ اللہ کی پناہ۔
    عورت مارچ کے نام پر خونی لبرلز وہ بےحیائی اور بیہودگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ مارچ میں شریک خواتین کے ہاتھوں میں پکڑے کتبوں پر لکھی بیہودہ عبارتیں یہاں بیان اور لکھنے کے قابل نہیں
    اس بےحیائی کو روکنے کے لئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا مکمل ناکام ہے یا اس سے جان بوجھ کر نظریں چرائے بیٹھی ہے ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ سوسائٹی اور حکومت دونوں کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا سخت قانون سازی اور عملداری کو ممکن بنانا ہوگا بےحیائی کا پرچار کرنے والے میڈیا ہاوسز اور مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا ۔تعلیمی اداروں میں کردار سازی اور تربیت پر زور دینا ہوگا۔
    حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات اور لائحہ عمل طے کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ۔ ‎@Educarepak

  • قبرستان میں سونے والی خاتون اور ہمارا معاشرہ تحریر : عروج منطور

    میں پولیس اسٹیشن میں تھا ۔ وہاں کا تھانیدار میرا دوست ہے ۔ باتیں کرتے کرتے وہ اپنا کام بھی نمٹا رہا تھا ، وہاں آئی ایک سائل خاتون کی بات سن کر میں چونک گیا ۔وہ کہہ رہی تھیں میں ہر رات قبر میں لیٹ کر سوتی ہوں ۔
    میں نے ان سے کہا اس بات کا کیا مطلب ہے ؟ معلوم ہوا خاتون کے شوہر وفات پا چکے ہیں ۔ وہ گھر میں تنہا ہوتی ہیں ۔ کہنے لگیں قبر اور کمرے میں فرق ہی کیا ہے ، چاروں طرف دیواریں اور اوپر چھت ۔ لائٹ بند کر کے میں باقاعدہ نیت کرتی ہوں کہ مر گئی تو یہی میری قبر ہے ،24 گھنٹے تسبیح ہی کرتی رہتی ہوں ۔ اس کہانی میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی
    ان خاتون کو یقین تھا کہ ان کے رشتہ دار انہیں قتل کر کے ان کے مکان پر قبضہ کر لیں گے ۔ خاتون چاہتی تھی کہ وہ مر جائے تو اسی مکان کو اس کی قبر ڈکلیئر کر دیا جائے ۔ اپنی ذات میں ولی ہونے کے زعم کے ساتھ ساتھ ان کا حسد اور انتقام اس سطح پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد بھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتی تھیں ۔
    خاتون کے بچے بیرون ملک تھے اور واپس آنے کو تیار نہیں تھے۔خاتون مکان چھوڑ کر بچوں کے پاس جانے پر آمادہ نہیں تھیں ۔انہیں ڈر تھا کہ وہ گئیں تو مکان پر قبضہ ہو جائے گا ۔ وہ یہ مکان بیچنے پر بھی آمادہ نہیں تھیں۔ تھانیدار نے ان کے رشتے داروں کو بھی بلا لیا ۔انہوں نے کہا کہ خاتون کے وہم کا علاج کچھ نہیں ۔دو ماہ پہلے تک خاتون کے تمام اخراجات ہم اٹھاتے تھے ،اب بھی راشن پانی کا بندوبست کرتے ہیں کیونکہ خاتون کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ،ہمارے بھائی کی بیوہ ہے ۔ پہلے یہ مکان خاندانی جائیداد میں تھا ،ہم نے ہی حصے کر کے خاتون کے نام یہ مکان کروایا تھا ۔ جیسے ہی مکان خاتون کے نام ہوا انہیں وہم ہو گیا کہ اس مکان پر یہ رشتے دار قبضہ کر لیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔
    ان کے دیور بڑی سے بڑی قسم اور گارنٹی دینے کو تیار تھے، ان کے اپنے ذاتی گھر اور کاروبار تھے لیکن خاتون کا اصرار تھا کہ انہیں ہارٹ اٹیک بھی ہوا تو پرچہ ان کے دیوروں کے خلاف کاٹا جائے اور ان کے گھر کو قبر ڈکلیئر کیا جائے ۔
    وہ اپنے ممکنہ قتل کی ایڈوانس درخواست اور وصیت لکھ کر لائی تھیں۔ یہ ایسی درخواست تھی جو قتل ہونے والا ایڈوانس میں اپنے دستخط کے ساتھ تھانے جمع کروا رہا تھا اور فوری پرچہ دینا چاہتا تھا
    یہ کہانی صرف اس خاتون کی نہیں ہے ۔ ہم میں سے اکثر نفسیاتی طور پر ایسے ہی ہو چکے ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے ہماری چھوٹی سی خوشی سے بھی باقی سب جل جاتے ہیں ، حسد کرتے ہیں اور ہمارے خلاف انتقامی باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی روٹین میں معمول کی بات کرے تو ہمیں لگتا ہے ضرور یہ اشارہ ہماری جانب ہے ۔
    یہ رویہ ہمیں آہستہ آہستہ نفسیاتی مریض بنا رہا ہے ،ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے سمیت 21 کروڑ لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں
    آگہی کے ایک خاص لمحے اس درویش کو ادراک ہوا تھا ۔اس دنیا میں اہم اب کوئی بھی نہیں رہا ۔کسی کے چلے جانے سے نہ تو دنیا کا کاروبار رکتا ہے اور نہ کسی دفتر کا نظام ٹھہرتا ہے ۔یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہے اور ہر سیر کو سوا سیر میسر ہے ۔
    کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ دوسرے کی خوشی سے جلے اور اگر کوئی حسد کرتا بھی ہے تو اس پر توجہ دینا بےوقوفی اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے خوش رہنے کا راز پایا ۔ میں نے لوگوں کی پروا کرنی چھوڑ دی ۔ میں نے خود کو یقین دلایا کہ اس دنیا کے لیے میں اتنا اہم نہیں ہو سکتا کہ کوئی اپنے کام چھوڑ کر مجھ سے حسد کرے گا یا میری خوشیوں سے جلے گا ۔ اگر ایسا محسوس بھی ہو تو میں اسے نظر انداز کرکے مسکراتا ہوا گزر جاتا ہوں ۔میں اب ایسی ٹینشن پالنے کا قائل نہیں جس کا انجام کچھ نہ ہو ۔
    آپ اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھرپور انداز میں لطف کشید کیجیے ۔ لمحہ موجود میں خوش رہنے کا ہنر سیکھیں ۔ اپنی خوشیوں کے لمحے یہ سوچ کر برباد نہ ہونے دیں کہ کون کون جل رہا ہو گا اور کس کس کو جواب دینا ہے ۔
    یاد رکھیں ایک ہی کام کچھ لوگوں کے نزدیک درست ہو گا اور کچھ کے نزدیک غلط ہو گا ۔آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے ۔آپ نے صرف اپنے ضمیر کو خوش رکھنا ہے ، کیا درست ہے اور کیا غلط یہ اپنے ضمیر سے پوچھیں اور پھر ثابت قدم رہیں ۔
    اپنی نجی خوشیوں کو دکھاوے میں بدلنے کی بجائے اپنی یادوں کا حصہ بنائیں ۔ تصاویر ضرور بنائیں لیکن اتنی نہیں کہ اپنی آنکھ کو براہ راست نظارے سے محروم کر کے وہی منظر لینز سے دیکھتے رہیں ۔
    یقین مانیں زندگی بہت خوبصورت ہے ،محبت کرنے والوں کے لیے تو بہت ہی خوبصورت ہے لیکن یہ خوبصورتی اس وقت اذیت میں بدل جاتی ہے کب آپ اپنے آپ کو نیشنل ہیرو سمجھنے لگتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوشی سے باقی سب کو جلن ہو رہی ہے آپ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس جلن کا جواب سوچنے لگتے ہیں۔ ٹھیک اسی وقت وہ خاص لمحہ آپ کی مٹھی سے پھسل جاتا ہے جو آپ کے لیے باعث تسکین ہونا تھا

    Twitter ID: @AroojKhan786

  • اوور کوٹ پہنا انسان . تحریر : محمد اسامہ

    اوور کوٹ پہنا انسان . تحریر : محمد اسامہ

    ہمارے معاشرے کا انسان ننگا کیوں؟
    میں‌ نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ معاشرے میں جنسِ مخالف کا تجسس ختم کردیا جائے یا نکاح کو آسان کر دیا جائے۔ نہیں تو ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے جو خلاف توقعات ہوں گے. اسطرح مسائل بڑھیں گے.

    پچھلے کالم کے نتیجہ خیز جملوں کو شامل کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ کل اسلام آباد کی ایک شاہراہ پر بانیِ پاکستان،قائداعظم محمد علی کی ایک تصویر لگی ہوئی ہے، اس تصویر کے ساتھ قائداعظم کا سنہری قول”ایمان، اتحاد اور تنظیم”درج ہے۔اس شاہراہ کا نام "اسلام آباد ایکسپریس وے” ہے، اسے عرفِ عام میں "لاہور جی ٹی روڈ” کے نام سے پکارا جاتا ہے. معاملہ یہ ہے کہ ایک نوجوان جوڑے نے نیم برہنہ حالت میں قائداعظم کی تصویر کے ساتھ تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی ہیں. جس کو دیکھ کر پاکستانی عوام دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی ہے.

    پہلے گروہ مشتعل ہے کہ اس جوڑے کو جرات کیسے ہوئی کہ بانی پاکستان کی تصویر کا ساتھ جا کر نیم عریانی میں تصویریں بنائے. اس طرح انہوں نے پاکستان عوام کی دل آزاری کی ہے اور چیلنج بھی کیا ہے کہ ہم کبھی بھی اور کہیں بھی جو کرنا چاہیں، جس طرح کرنا چاہیں کرسکتے ہیں. صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ایک خاص خیالات کا حامل طبقہ اس انداز کو پھیلانے کا محرک ہے. یہ کام صرف پاکستانیوں کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کیے جارہے ہیں. ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان مکروہ حرکات کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

    ایسے کاموں میں استعمال ہونے والے یہ سوچ کر شامل ہوتے ہیں کہ جدید دور ہے تو اسکے تقاضے بھی جدید ہیں جو جدید انداز میں پورے کر کے تشہیر کا ذریعہ بنیں گے. پسند اور نا پسند کرنے والے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں. جنہوں نے پسند کرلیا تو انکا شکریہ ادا کردیں گے اور جنہوں نے ناپسند کیا تو انہیں اس سے کوئ فرق نہیں پڑے گا. یہ رویہ انتہاہی گھٹیا ہے جس سے صرف اپنی پہچان اکارت ہوگی. بصد افسوس ہمارے پڑھے لکھے آزاد خیال لوگ اس رویہ کو اپنانے میں دن رات محنت کررہے ہیں.

    اسی طرح گزشتہ ماہ ایک ستائیس سالہ لڑکی کا بے دردی سے قتل کیا گیا. اس قتل کی وجوہات بھی کچھ ایسی ہی ہیں. قتل کرنے والا نوجوان امریکہ کا پڑھا لکھا ہے. مقتولہ سابق سفیر کی بیٹی ہے. دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں. پھر بھی جنسی زیادتی ہوئی اور جنسی زیادتی کے بعد قتل ہوا. قتل بھی ایسا جس میں مقتولہ کا سر دھڑ‌سے جدا کردیا جاتا ہے. جسم پر آلہ قتل کے بے دردی سے وار کیے جاتے ہیں. یہ جوڑا "میرا جسم،میری مرضی” کا خوشہ چیں تھا. مہان حیرت ہے پھر بھی یہ واقعہ رونما ہوگیا. مدرسے کا مولوی بھی جب اسی قسم کا جرم سرانجام دیتا ہے. تب تو مسجد، مذہہبی طبقے کو خوب نشانہ بنایا جاتا ہے. اب تو یہ جرم آزاد خیالوں کی طرف سے ہوا ہے؟

    دوہرے معیار پر سوال تو بنتا ہے نہ؟

    جان لیں جرم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے. مجرم کسی مذہب کے اصول و ضوابط کو نہیں دیکھتا، وہ بس جرم کر دیتا ہے. اگر وہ اپنے مذہب کو دیکھتا، پیروی کرتا تو جرم ہی نا کرتا. اس سے واضح‌ ہوجاتا ہے کہ ایک دوسرے کی بھلائ، خیر کی دعوے دار تحریکوں کے حقیقی مقاصد وہ نہیں جو نظر آتے ہیں بلکہ اور ہیں جنہیں اوور کوٹ پہنایا ہوا ہے.

    بقول غالب
    ہیں کواکب کچھ،نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں یہ بازی گر،دھوکا کھلا

    @its_usamaislam

  • زندگی اور مشکلات  تحریر:  سیدہ بنت زینب

    زندگی اور مشکلات تحریر: سیدہ بنت زینب

    زندگی خوبصورت ہے لیکن ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، اس میں مسائل بھی ہوتے ہیں اور اصل چیلنج ان مسائل کا ہمت کے ساتھ سامنا کرنا ہے. زندگی کی خوبصورتی کو بام کی طرح کام کرنے دینا، جو مشکل وقت میں درد کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے.
    خوشی، غم، فتح، شکست، دن، رات سکے کے دو رخ ہیں. اسی طرح زندگی خوشی، لذت، کامیابی اور سکون کے لمحات سے بھری ہوئی ہے جو مصائب، شکستوں، ناکامیوں اور مسائل سے جڑی ہوئی ہے. اس کرہ ارض پر کوئی ایسا انسان نہیں ہے جو مضبوط، طاقتور، عقلمند یا امیر ہو، جس نے جدوجہد، تکلیف یا ناکامی کا تجربہ نہ کیا ہو.
    اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی خوبصورت ہے اور ہر لمحہ زندہ رہنے کا جشن لیکن مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے. جو شخص زندگی میں مشکلات کا سامنا نہیں کرتا وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا.
    مشکلات انسان کی ہمت، صبر، ثابت قدمی اور حقیقی کردار کی جانچ کرتی ہیں. مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور ہمت کے ساتھ زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتیں ہیں.
    اس طرح زندگی صرف گلابوں کا بستر نہیں ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے. کانٹے بھی اس کا ایک حصہ ہیں اور ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے جس طرح ہم زندگی کے باقی خوبصورت پہلو کو قبول کرتے ہیں.
    کانٹے یاد دلاتے ہیں کہ کامیابی اور خوشی کیسے ہم سے دور ہو سکتی ہیں لیکن اس سے مایوس نہیں ہونا بلکہ یہ یاد رکھنا ہے کہ کانٹوں کا درد مختصر ہوتا ہے، اور زندگی کی خوبصورتی جلد کانٹوں کی چبائی پر قابو پاتی ہے.
    وہ لوگ جو اس تاثر میں ہیں کہ زندگی گلاب کا بستر ہے جلد ہی مایوس ہو جاتے ہیں اور ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں. جو ہمت سے مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور کامیابی کو اپنی محنت سے قبول کرتا ہے وہی ہے جو زندگی میں حقیقی خوشی، اطمینان اور سکون کا ذائقہ چکھتا ہے.
    وہ لوگ جو سوچتے ہیں کہ اچھا وقت ہمیشہ کے لیے رہتا ہے، مشکلات کے دوران آسانی سے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں. وہ مطلوبہ محنت اور کوششیں نہیں کرتے کیونکہ وہ آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں.
    آپ ایک طالب علم کی مثال لے سکتے ہیں، جو آدھی رات کو جاگ جاگ کے محنت کرتا ہے، قربانیاں دیتا ہے اور فتنوں کا مقابلہ کرتا ہے تاکہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے. اسی طرح ایک کامیاب ایگزیکٹو کو زندگی کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ نہ بھولیں کہ زندگی کامیابی اور ناکامی، خوشی اور غم کا امتزاج ہے.
    اگر انسان مشکل وقت میں امید کھو دیتا ہے، تو وہ کامیابی حاصل نہیں کرے گا اور دوسروں کی جگہ لے لے گا. یہاں تک کہ مضبوط ترین بادشاہوں اور شہنشاہوں کو بھی ان کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. زندگی گلاب کا بستر تو انکے لیے بھی نہیں رہی.
    خلاصہ یہ کہ زندگی گلاب کی طرح خوبصورت ہے لیکن اس میں چیلنجز ہیں جو کانٹوں کی طرح ہیں اور ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے. جو لوگ ان چیلنجوں کو قبول کرتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں، وہی ہیں جو زندگی کو صحیح معنوں میں جینا جانتے ہیں. اسی طرح زندگی سے لطف اٹھائیں بلکہ درد کی چوٹیں برداشت کرنے کے لیے بھی تیار رہیں.
    زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں ہے، اصل زندگی تو وہ ہے جو دوسروں کے لیے جی جائے. اپنی مشکلات کے باوجود دوسروں کے دکھ درد میں ان کا ساتھ دیا جائے، دوسروں کے لیے کام کیا جائے. سب سے بڑھ کر اپنے ملک اور اسکے لوگوں کے لیے کام کیا جائے تاکہ یہ ملک حقیقی معنوں میں "عظیم قابلِ تعظیم” بن جائے. پاکستان ذندہ باد….!

    @BinteZainab33

  • ہمارے معاشرے کی تباہی تحریر: علی معصوم

    ہم ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں قدر و قیمت انسان کی نہیں رہی بلکے اس کے سٹیٹس کی ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی حالت نہیں بلکے اوكات پوچھی جاتی ہے کے آپ کے پاس دولت کتنی ہے آپ کا بزنس کیا ہے آمدنی کتنی ہے وغیرہ وغیرہ۔
    غریب تو ویسے بھی تباہ ہے جسے اکثر امیر زادے گلی کا آوارہ جانور سمجھتے ہیں وه جیے، مرے، کھاہے یا بھوکا رہے اس کی پرواہ کسی کو نہیں البتہ کوئی امیر زادہ راستے میں بھی مل جاہے تو دس بار کھانے پینے کا پوچھا جاتا ہے۔ اور آجکل اگر ہم کسی بھی محفل میں چلے جاہیں تو وہاں امیر کے لیے مخصوص قسم کا الگ سے بیٹھنے کا انتظام، کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے غریب کو دور سے سلام اور امیر کے لیے ہر شخص کھڑا ہو جاتا ہے اور آگے سلام کرنے کو جک جاتا ہے۔
    دیکھنے میں آیا ہے آجکل اکثر لوگ شادی بیاہ کے فیصلوں میں بھی سٹیٹس کو ترجیح دیتے ہیں کے لڑکا کیا کرتا ہے؟ لڑکے کا رہن سہن کھانا پینا حلال حرام اخلاق مطلب اس سے نہیں بلکے مطلب اس سے ہے کے اس کے پاس دولت کتنی ہے اور یہی سوچ ہمارے معاشرے کی تباہی ثابت ہوئی۔
    اندازے کے مطابق پاکستان میں اکثر طلاق یافتہ عورتيں تعلم یافتہ یا امیر خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں اور غریب کم پڑی لکھی عورتيں کم طلاق یافتہ ہوتی ہیں جس کی وجہ یہی ہے لڑکی کی شادی کرتے وقت امیر زادوں نے سٹیٹس کو ترجیح دی لیکن غریب گھرانے کے لوگوں نے لڑکے کو اہمیت دی اس کی اچھایاں یا براہیاں۔۔۔۔
    معاشرہ تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک وه امیر اور غریب کے درمیان فرق کو ختم نا کر دے اور یہ فرق تب ختم ہو گا جب تک ہم دنیاوی تعلم کے ساتھ ساتھ دینی تعلم کی طرف لوٹ کر نہیں آتے۔
    رسول ﷺ نے فرمایا علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمیں چین جانا پڑے۔
    علم کہتے ہیں جاننا
    اللّه اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننا۔
    آجکل لوگ سائنس کی تعلم کے لیے بیرونے ملک جاتے ہیں وه دنیا میں رہنے کے لیے فنی تعلم حاصل کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی علم سے دور بہت دور رہتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجنیئر، وکیل وغیرہ علم نہیں فن ہے اور یہ فن اس کے پاس ہوتا ہے جو اس فن کو حاصل کرے اس کے ہارے میں جانے۔ علم صرف اللّه اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننا ہے باقی سب فن ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا لیکن علم ہر شخص پے فرض ہے۔
    ہمارے معاشرے کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہی علم ہے ہم نے فن کو علم سمجھا اور پھر علم سے دور رہ کر ہم سلیبرٹی بن گے ہم نے اللّه کے دین اسلام سے غلطیاں نکالنا شروع کی، ہم نے شہریت کو بھلا دیا، ہم نے اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق کر لیا، ہم نے شہریت میں دی جانے والی سزاہوں کو جہالت سمجھ لیا جس سب کا نقصان ہمیں یہ ہوا کے ہمارا معاشرہ تباہ ہو گیا۔ ہم نے امیر اور غریب کے درمیان فرق پیدا کیا، بچوں کے ساتھ زیادتی، قتل و غارت، چوری، زنا، تشدد، بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریب اور پھر ان کے بے رحمی سے قتل ہر برے عمل میں اضافہ ہوا اس کی وجہ یہی ہے کے ہم نے علم/شہریت سے دوری اختیار کی۔
    جب تک ہم علم کی طرف اللّه اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹ کر نہیں اہے گے تب ہمارا ممعاشرہ ایسے ہی تباہ ہوتا رہے گا۔
    @AM03100

  • تقدیر اور انسان   تحریر : شاہ زیب

    تقدیر اور انسان تحریر : شاہ زیب

    اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔

  • دیہاتی اور شہری زندگی  تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی میں بہت فرق ہے دیہاتی زندگی گاؤں کی زندگی کو کہتے ہیں جہاں پرفزا ماحول کھلی ہوا ، خالص اشیاء آسانی سے میسر ہوتی ہیں ہر انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کی مٹی وہاں کی فزا میں بہت کشش ہوتی ہے انسان خود ہی کھینچا چلا جاتا ہے دیہات کی زندگی میں مویشی پالنا ان کی دیکھ بھال کرنا ان کا کاروبار کرنا معمول سمجھا جاتا ہے گاؤں کی زندگی میں بڑا سکون ملتا ہے

    شہر میں ہر طرف بھیڑ آب و ہوا کا مسئلہ خالص اشیاء کا مسئلہ ہوتا ہے شہر میں رہنے والا جب دیہات میں آتا ہے تو وہاں کا ہی ہو جاتا ہے وہاں کا سکون اسے اطمینان مہیا کرتا ہے شہروں میں لوگ دفاتر میں چلے جاتے ہیں جبکہ گاوں میں تھوڑا مختلف ہے گاؤں میں لوگ صبح سویرے اٹھتے ہیں نماز پڑھ کر اپنے مویشیوں کیلئے چارے کا بندوست کرتے ہیں بہت کٹھن کام ہوتا ہے لیکن دیہات کے لوگ بڑی خوشی کے ساتھ کرتے ہیں دن رات محنت کرتے ہیں جسے ہم اپنے کسان بھی کہتے ہیں اگر دیکھا جاۓ تو انہی کسان کی بدولت ملک چل رہا ہوتا ہے جو گندم کسان کاشت کرتا ہے وہاں کسان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے بیچ دیتے ہیں اور وہ گندم پورے ملک میں لوگ خرید کر اپنے گھر میں روٹی پکاتے ہیں

    اسی طرح دھان (چاول) اور تمام سبزیاں ہیں جو کسان کی انتھک محنت کے بعد شہروں تک پہنچتی ہیں دیہات میں ایک کسان کا سرمایہ اس کے مویشی اس کی زمین ہوتی یے جس پہ وہ کاشت کاری کرتا ہے اپنا اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے گاؤں میں دل موہ لینے والے نظارے آپ کو ملتے ہیں وہاں عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ گھر کے کام کے ساتھ برابر کام کرتی ہے شہروں میں ایک دن اتوار کی چھٹی ہوتی ہے بہت سے لوگ گاؤں کا رخ کرتے ہیں تاکہ موسم کو انجوائے کیا جاۓ کھلے آسمان کا نظارہ کیا جاۓ کاروباری لوگ اتوار کے دن کا شدت سے انتظار کرتے ہیں

    کاروبار کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے شہر کے لوگ اپنے وقت کو اس طرح مینٹین کرتے ہیں کہ وقت نکال کے گاؤں کا رخ کرتے ہیں اور خوب انجوائے کرتے ہیں اگر شہروں کے لوگوں کو گاؤں میں ایک ماہ گزارنا پڑھے تو بہت مشکل ہوگا شہر والوں کیلئے کیونکہ شہروں کی طرح دیہات میں سہولیات کم ہوتی ہیں فون ، انٹرنیٹ وغیرہ کی وہ سپیڈ نہیں ہوتی جو شہروں میں ہوتی ہے اس لئے شہر والوں کو رہنا مشکل ہے گاؤں کے لوگ اس چیز کے عادی ہوتے ہیں وہ پر سکون ماحول میں رہتے ہیں شہروں میں اگر فوتگی ہوجاۓ تو چند عزیز و اقارب سوگ میں ہوتے ہیں بہت سے ہمسایوں کو بھی نہیں پتا ہوتا کیا پہاڑ ٹوٹا ہے ہمسائیوں میں لیکن دیہات میں سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں تمام گاؤں سوگ کی حالت میں ہوتا ہے

    بہت سے لوگ گاؤں کو چھوڑ کر شہر کی طرف سفر کر دیتے ہیں وقت کے ساتھ انہیں سکون شہروں میں میسر ہوتا ہے لیکن وہ گاؤں کی رنگینیوں کو بھول جاتے ہیں اپنا بچپن جہاں گزارہ ، اپنے والدین کے ساتھ گزرے دن اپنے دوستوں کے ساتھ گزاری یادیں سب بھول جاتے ہیں پھر وہی لوگ شہر میں ہی خوشی ڈھونڈتے ہیں اپنا آرام اور آسائش شہر میں ڈھونڈتے ہیں اور آخر کار گاؤں میں ہی اُن کی آخری منزل ہوتی ہے

    @JingoAlpha