میڈیا نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے سوشل میڈیا ایسی انسانی ایجاد ہے جس کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اسکے فوائد سے ہر انسان مستفید ہو رہا ہے
سوشل میڈیا کی بدولت میلوں کا سفر انسان کچھ سیکنڈز میں طے کر لیتا ہے جہاں لوگ بیرون ملک مقیم اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے سالوں انتظار کرتے تھے آج وہ واٹس ایپ,سکائپ,فیس بک, سنیپ چیٹ اور ٹیلی گرام جیسی اپلیکیشنز کو استعمال کرتے ہوئے منٹس میں آنلائن ملاقات کر لیتے ہیں آپ گھر بیٹھے دنیا سے رابطے میں رہ رہے ہیں جہاں خبر نامے کا انتظار کیا جاتا تھا آج خبریں جاننے کے لیے کسی نیوز چینل کو لگانے کی تردد نہیں کرنی پڑتی آپ کہیں بھی کسی جگہ پر بھی موجود ہوتے ہوئے سوشل میڈیا سے گلوبل نیوز حاصل کر سکتے ہیں
اب معلومات حاصل کرنے کے لیے دور دراز کا سفر نہیں کرنا پڑتا او نہ ہی کتابیں چھاننے کی ضرورت پڑتی ہے محض ایک لفظ گوگل پر لکھنے سے کیا کچھ کھل کر سامنے آ جاتا ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے اسطرح کم وقت میں زیادہ کام کیا جا سکتا ہے طلباء کو کسی بھی طرح کی انفارمیشن حاصل کرنے کے لیے گھر بیٹھے فری لیکچرز یوٹیوب اور دوسری اپلیکیشنز پر میسر ہوتے ہیں حتیٰ کہ اب تو روزگار بھی آنلائن موجود ہیں نوکری کے حصول کے لیے جگہ جگہ دھکے نہیں کھانے پڑتے غرض کہ زندگی کہ ہر معاملے میں سوشل میڈیا کا کردار کہیں نہ کہیں موجود ہے
اللّہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور جیسی صفات سے نوازہ ہے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے انسان نے ان صفات کا بہتر استعمال کرتے ہوئے آج چاند پر پہنچنے کی منازل بھی طے کر لیں دنیا میں ایجادات کی بھرمار کر دی ہے
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان کو سوشل میڈیا پر آزادی رائے کا اختیار حاصل ہے مگر اس کا غلط استعمال کب کسی کے لیے دل آزاری کا سبب بن جائے کوئی نہیں جانتا
جہاں سوشل میڈیا نے انسان کے لئے ترقی کی منازل طے کرنا آسان بنا دیا ہے وہیں انسان کی منفی سوچ اور غلط استعمال کی وجہ سے معاشرہ تباہی کی طرف جا رہا ہے
کچہری میں ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں دوڑتا ہوا باپ اور بھائی اپنی عزت بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی دینے کی ویسے انھیں آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے کیونکہ کورٹ میرج کر کے انکی بیٹی نے انہیں دنیا والوں کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے جہاں سوشل میڈیا کا مثبت استعمال ہے وہیں اسکے غیر ضروری استعمال سے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں ہمارے بچے اور نوجوان گھنٹوں آنلائن گیمز کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں ساری ساری رات سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال کرنا اور پھر ایسی موویز اور ویڈیوز دیکھنا جو کسی صورت انکو ایک اچھا انسان بننے میں مدد نہیں کر سکتیں, ماں باپ کو بچوں کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی بڑھانے کی ضرورت ہے اورانٹر نیٹ کے صحیح وغلط استعمال کےمتعلق آگاہی دینا ضروری ہے
ہمیں اس بڑھتی ہوئی برائی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کا سدباب کرنا ہو گا تا کہ آئندہ نسلوں کو برائیوں سے پاک ایک خالص معاشرہ مہیا کیا جا سکے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اور ہمارا معاشرہ سوشل میڈیا کے منفی بہاؤ کی بجائے اس کے مثبت اثرات سے بہرہ ور ہوں آج کل کی جدید ایجادات کے مضر پہلوؤں سے خود بھی بچیں اور اپنی نسل کو بھی بچائیں
Category: معاشرہ و ثقافت
-

سوشل میڈیا اور ہم تحریر: آمنہ فاطمہ
-

عدم برداشت تحریر : صالح ساحل
کس بھی معاشرے کی خوب صورتی اس میں رہنے والے انسانوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان ہی ایک اچھے یا برے معاشرے کے زمہ دار ہوتے ہیں ایک اچھا معاشرہ تب بنتا ہے جب وہاں ایک دوسری کے درمیان برداشت کا کلچر ہو وہاں ایک دوسرے کی رائے کو سنا جاتا ہو لوگ اختلاف رائے رکھتے ہوں مگر ایک دوسرے سے نفرت نہ کرتے ہوں مگر بد قسمتی سے پاکستان بھی اس بیماری سے دو چار ہے یہاں عدم برداشت کا کلچر بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے سیاست دان سے لے کر مولوی تک ہر انسان اس کا زمہ دار ہے یہاں لوگوں کی بات سنی نہیں جاتی بلکہ کے اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم دن بدن پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں ہم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کے خدا نے ہر انسان کو ذہن دیا ہے اور وہ سوچتا ہے اپنے نظریات قائم کرتا ہم کو چاہیے کے اگر ہم اس کے نظریات سے اختلاف کرتے ہیں تو دلیل سے علمی رد کریں مگر علمی رد کے بجائے ہم عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں اب ہمیں یہ کون سمجھے کے ایک ہی رائے تب ہو سکتی ہے جب لوگ سوچنا چھوڑ دیں یا خدا ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت واپس لے لے عدم برداشت سے معاشرے میں خوف سا بن جاتا ہے نئے افکار لوگ اس ڈر سے بیان نہیں کرتے کے کہیں ہم مشکلات کا شکار نہ ہو جائیں
جس سے شاید ہم اس بات پر تو خوش ہو رہے ہوتے ہیں کے لوگ ہمارے پیروکار مگر ہم ذہنی غلام پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور یہ اتنا خطرناک ہے کہ خاص کر جب یہ مذہب سے متعلق ہو تو آنے والی نسلیں الحاد کا شکار ہو سکتی ہیں کیوں کے ہم اپنے اس روایہ سے ان کے آندار سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر رہے اور آج کے دور میں مذہب پر اعتراضات ان کے جوابات نہ ہونے کی وجہ سے وہ متنفر نہ ہو جائیں ہمیں چاہیے کے اور شعبہ میں برداشت کے کلچر کو فروغ دیں دوسروں کے موقف کو آرام سے سنائیں اور اپنی باری پر جواب دیں جواب نہ ہونے کی صورت میں جواب تلاش کریں نہ کے الزام تراشی کریں
@painandsmile334 -

زندگی کا اہم ترین سوال۔ تحریر : فہد ملک
ہر کوئی جو بہتر محسوس کرتا ہے وہ چاہتا ہے۔ ہر کوئی ہلکا پھلکا ، خوشگوار اور سادہ زندگی گزارنا چاہتا ہے ، جذباتی جذبات کا تجربہ کرنا اور شاندار سرگرمیاں اور تعلقات رکھنا ، شاندار نظر آنا اور پیسہ لانا ، اور مرکزی دھارے میں رہنا اور بہت زیادہ قابل احترام اور سراہا جانا اور اس مقام پر ایک مکمل ہاٹ شاٹ جب آپ کمرے میں ٹہلتے ہیں تو بحر احمر جیسا حصہ۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے ، اسے پسند کرنا مشکل نہیں ہے۔ اس موقع پر کہ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں ، "آپ کیا چاہتے ہیں؟” اور آپ کچھ اس طرح کہتے ہیں ، "مجھے مطمئن رہنے کی ضرورت ہے اور ایک ناقابل یقین خاندان اور ایک نوکری ہے جو مجھے پسند ہے ،” یہ اتنا وسیع ہے کہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ایک سنجیدہ دلچسپ انکوائری ، ایک انکوائری جس کے بارے میں شاید آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا ، کیا درد آپ کی زندگی میں بنیادی چیز ہے؟ آپ کس چیز کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں؟ چونکہ یہ تمام اکاؤنٹس اس بات کا زیادہ تعین کرنے والے ہیں کہ ہماری زندگی کیسے ختم ہوتی ہے۔
ہر کوئی ایک شاندار نوکری اور مالی خودمختاری چاہتا ہے ، پھر بھی ہر شخص 60 گھنٹے کام کے ہفتوں ، لمبی ڈرائیوز ، اور ناخوشگوار انتظامی کام کو برداشت نہیں کرنا چاہتا ، اہمیت کی خود ساختہ کارپوریٹ زنجیروں اور لامتناہی ڈیسک ایریا کی نرم حدوں کو تلاش کرنا چاہتا ہے۔ جہنم کی آگ افراد کو خطرے کے بغیر امیر ہونے کی ضرورت ہے ، بغیر تپسیا کے ، بغیر کسی تاخیر کی خوشی کے کثرت جمع کرنے کے لیے۔
ہر کوئی غیر معمولی جنسی تعلقات اور ایک حیرت انگیز رشتہ کرنا چاہتا ہے ، پھر بھی ہر شخص انتہائی مباحثوں ، آف کلٹر ہشس ، تکلیف دہ جذبات ، اور پرجوش سائیکوڈرما سے نہیں گزرے گا۔ اس طرح وہ بس جاتے ہیں۔ وہ طے کرتے ہیں اور معجزہ کرتے ہیں "ایک منظر کا تصور کریں جس میں؟” ایک طویل عرصے تک جب تک انکوائری تبدیل نہ ہو جائے "ایک منظر کا تصور کریں جس میں؟ "کیا یہ تھا؟ اور جب قانونی مشیر اپنے گھر لوٹتے ہیں اور سپورٹ چیک راستے میں ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ، "یہ کس لیے تھا؟” اگر وہ 20 سال پہلے سب سے آسان آپشن اور مفروضوں کے لیے طے نہیں کرتے ہیں ، تو پھر اس وقت کس کے لیے۔ نعمت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مثبت منفی سے نمٹنے کا نتیجہ ہے۔ آپ زندگی میں دوبارہ گرنے سے پہلے اتنے طویل عرصے تک منفی مقابلوں سے دور رہ سکتے ہیں۔تمام انسانی رویوں کے علاقے میں ، ہماری ضروریات کافی زیادہ تقابلی ہیں۔ مثبت تجربے سے نمٹنا مشکل نہیں ہے۔ یہ منفی تجربہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی ، وضاحت کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں۔ اس کے بعد ، جو ہم زندگی سے بچ جاتے ہیں وہ ان اچھے جذبات کے ذریعے کنٹرول نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں ، پھر بھی اس خوفناک جذبات کے ذریعے جو ہم ان اچھے جذبات تک پہنچانے کے لیے تیار اور مدد کے لیے تیار ہیں۔ افراد کو ایک حیرت انگیز جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی صورت میں ، آپ کسی کے ساتھ اختتام نہیں کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اگر آپ ایمانداری سے درد اور حقیقی دباؤ کو پسند کرتے ہیں جو ایک ورزش مرکز کے اندر طویل عرصے تک رہنے کے ساتھ ہوتا ہے ، سوائے اس کے کہ اگر آپ اپنے کھائے ہوئے کھانے کا اندازہ لگانا اور سیدھا کرنا پسند کرتے ہیں ، اپنی زندگی کا بندوبست کرتے ہیں۔ چھوٹے پلیٹ سائز کے حصوں میں افراد کو کاروبار میں جانے یا مالی طور پر آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔ پھر بھی ، آپ ایک نتیجہ خیز کاروباری وژن کو ختم نہیں کرتے سوائے اس کے کہ اگر آپ کو اندازہ ہو کہ خطرے کی قدر کو کس طرح دیکھنا ہے ، کمزوری ، دوبارہ سے مایوسی ، اور کسی ایسی چیز پر پاگل گھنٹے کام کریں جس کے بارے میں آپ کو کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ کارآمد ہوگا۔ افراد کو ایک ساتھی ، ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی صورت میں ، آپ کسی ایسے شخص کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو حیران کن ہو جو کہ مستقل مزاجی کے ساتھ ہے یہ محبت کے دور کے لیے ضروری ہے۔ آپ کو جیتنے کا موقع نہیں ہے کہ آپ نہیں کھیلتے ہیں۔
آپ کی خوشحالی کا فیصلہ کیا نہیں آپ کس چیز کی تعریف کرنا چاہیں گے؟ انکوائری یہ ہے ، "درد کا اہم واقعہ جو آپ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟” آپ کی زندگی کی نوعیت آپ کے مثبت مقابلوں سے طے نہیں ہوتی ، البتہ آپ کے منفی مقابلوں کی نوعیت۔ نیز ، منفی مقابلوں کا انتظام کرنا زندگی کا انتظام کرنا ہے۔ وہاں ایک بری نصیحت کا لہجہ ہے جو کہتا ہے ، "آپ کو حال ہی میں اس کی کافی ضرورت کا موقع ملا ہے!”
ہر کوئی کچھ چاہتا ہے۔ مزید یہ کہ ، ہر کوئی کچھ نہ کچھ چاہتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں جانتے کہ یہ ان کی ضرورت کیا ہے ، یا بلکہ ، انہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ "کافی” ہے۔ چونکہ ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ آپ کو زندگی میں کسی چیز کے فوائد کی ضرورت ہے ، آپ کو بھی اسی طرح اخراجات کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو فٹ فگر کی ضرورت ہے ، آپ کو پسینہ ، جلن ، صبح سویرے ، اور کھانے کی خواہش کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو یاٹ کی ضرورت ہے ، آپ کو اسی طرح دیر سے شام ، خطرناک کاروباری چالوں ، اور ایک فرد یا 10،000 کو پریشان کرنے کا موقع درکار ہے۔ اگر آپ کو کئی مہینوں کی بظاہر نہ ختم ہونے والی رقم کی ضرورت پڑ جائے ، کئی سالوں کی بظاہر نہ ختم ہونے والی رقم کے بعد ، پھر بھی کچھ نہیں ہوتا ہے اور آپ اس کے قریب کبھی نہیں آتے ہیں ، پھر ، اس وقت ممکنہ طور پر آپ واقعی ضرورت ہے ایک خواب ، تسبیح ، تصویر ، جعلی ضمانت۔ شاید جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ نہیں ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے آپ صرف اس کی تعریف کریں۔شاید واقعی کسی ذریعہ کی ضرورت نہ ہو۔ ایک بار میں لوگوں سے پوچھتا ہوں ، "آپ کیسے برداشت کرنے کا فیصلہ کریں گے؟” یہ لوگ سر جھکا کر مجھے دیکھتے ہیں جیسے میرے بارہ ناک ہیں۔ لیکن میں اس بنیاد پر پوچھتا ہوں کہ اس سے آپ کی خواہشات اور خوابوں کے مقابلے میں مجھے آپ کے بارے میں بلاشبہ زیادہ روشنی ملتی ہے۔ چونکہ آپ کو کچھ لینے کی ضرورت ہے۔ آپ بغیر درد کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ یہ سب گلاب اور ایک تنگاوالا نہیں ہو سکتے۔ مزید کیا ہے ، آخر کار وہ سخت انکوائری ہے جو اہم ہے۔ خوشی ایک سادہ انکوائری ہے۔ مزید یہ کہ عملی طور پر ہم سب کے تقابلی جوابات ہیں۔ واقعی دلچسپ انکوائری درد ہے۔ وہ کونسا درد ہے جو آپ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟ . انکوائری آپ کو تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ وہی ہے جو مجھے اور آپ کو بناتا ہے ، یہ وہی ہے جو ہمیں خصوصیات اور الگ تھلگ کرتا ہے ، اور آخر کار ہمیں متحد کرتا ہے۔ میری جوانی سے پہلے اور جوانی کے جوانی کے ایک بڑے حصے کے لیے ، میں نے خاص طور پر ایک پرفارمر ، ڈیمیگوڈ بننے کے بارے میں تصور کیا۔ گٹار کی کوئی بھی دھن جو میں سنتا ہوں ، میں ہر صورت میں آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور اپنے آپ کو سامعین کے سامنے کھڑا ہونے کا تصور کرتا ہوں۔ یہ خواب مجھے کافی دیر تک روک سکتا ہے۔ میں اپنے موقع کی تلاش میں تھا اس سے پہلے کہ میں وہاں سے باہر نکلنے اور اسے کام کرنے میں وقت اور مشقت کی جائز پیمائش میں حصہ ڈالوں۔ سب سے پہلے ، میں نے اسکول مکمل کرنے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت ، میں نے پیسے لانے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت ، میں نے وقت نکالنے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت… کچھ نہیں۔ میری زندگی کے بیشتر حصے کے بارے میں اس کے بارے میں تصور کرنے کے باوجود ، سچ کبھی سامنے نہیں آئے گا۔ نیز ، اس میں مجھے کافی وقت لگا اور بہت زیادہ منفی مقابلوں کو آخر کار اس وجہ سے حل کرنا پڑا کہ: مجھے واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے نتائج سے پیار تھا ، سامعین کے سامنے میری تصویر ، لوگ خوش ہو رہے ہیں ، میں کانپ رہا ہوں ، میں جو کھیل رہا ہوں اس میں میرا دل خالی کر رہا ہوں ، پھر بھی مجھے سائیکل سے محبت نہیں تھی۔ نیز ، اس وجہ سے ، میں اس پر چکرا گیا۔ ایک سے زائد بار. میں نے اس میں ہلچل مچانے کے لیے کافی کوشش نہیں کی۔
مجھے انعام کی ضرورت تھی جدوجہد کی نہیں۔ مجھے آؤٹ پٹ کی ضرورت تھی نہ کہ سسٹم کی۔ مجھے جنگ سے نہیں بلکہ صرف فتح سے محبت تھی۔ مزید یہ کہ ، زندگی اس طرح کام نہیں کرتی ہے۔ آپ کی پہچان ان خصوصیات سے ہوتی ہے جن کے لیے آپ جدوجہد کریں گے۔ وہ افراد جو ایک ریک سینٹر کی جدوجہد میں حصہ لیتے ہیں وہ وہی ہیں جو بطور موزوں ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو طویل کام کے ہفتوں اور پیشہ ور بیوروکریسی کے قانون سازی کے مسائل کو سراہتے ہیں۔ وہ افراد جو بے سہارا کاریگر کی زندگی کی پریشانیوں اور کمزوریوں میں حصہ لیتے ہیں آخر کار وہی رہتے ہیں اور اسے بناتے ہیں۔ یہ خود نظم و ضبط یا "حوصلہ افزائی” کی کال نہیں ہے۔ یہ کوئی درد نہیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔
یہ زندگی کا سب سے بنیادی اور ضروری حصہ ہے۔ ہماری جدوجہد ہماری فتوحات کا فیصلہ کرتی ہے۔ ان خطوط پر ، ساتھی ، اپنی جدوجہد کو دانشمندی سے چنیں۔ @Malik_Fahad333 -

زنا ایک ناسور، وجوہات۔ تحریر: احمد فراز خان
کسی بھی معاشرے کی زینت اور مضبوطی اس کی اخلاقی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ زنا معاشرے کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ موجودہ دور میں بد اخلاقی کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے جہاں معاشرے میں اخلاقی گراوٹ وقوع پذیر ہو رہی ہے وہیں معاشرے کا امن اور آزادی بھی انتہائی گہرائی سے مضروب ہو رہے ہیں۔
معاشرے کی بقا اس کی اخلاقی اقدار، تہذیبی اصناف اور ذہنی بلندی سے وابستہ ہے۔
آج کل کا معاشرہ جہاں مختلف مصائب کا شکار ہے وہیں زنا جیسا ناسور بھی اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے۔ جس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔
زنا انسانی معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ گو کہ یہ انسانی جبلت ہے لیکن بطور انسان اخلاقیات بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑی جا سکتیں۔
آج کل زنا کی وجوہات کو لے کر ایک وسیع و عریض بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ عورت کے لباس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھ رہا ہے تو کسی کے نزدیک مرد کی نظر اس کی ذمہ دار ہے۔
لیکن ہم ابتدا سے اس ناسور کا جائزہ لیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں پہناووں کو لے کر ایک خاص رسم چل پڑی ہے جس کے تحت عورت کے پہناوے دن بدن سکڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ دو سال کی بچیوں کو بھی ایسے ملبوسات پہنائے جا رہے ہیں کہ بچیاں کسی فیشن انڈسٹری کی ماڈل لگنے لگ گئی ہیں۔
بچیاں ابھی دو سال کی ہی ہوتی ہیں کہ انہیں تنگ اور مختصر لباس پہنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اور عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ لباس مزید مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دوپٹہ جو کہ خاص مشرقی روایات میں سے ایک تھا، آج کل تو ناپید ہوتا نظر آ رہا ہے۔ زیرِ نظر شعر شاید ہمارے ماضی کے لئے کسی شاعر نے لکھا تھا کیونکہ ہمارا حال تو اس شعر کا بالکل بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔تعلق ہے میرا اس قوم سے، جس قوم کے بچے
خریدیں جب کوئی گڑیا، دوپٹہ ساتھ لیتے ہیںعورت مختصر لباس میں معاشرے میں گھومتی ہے اور اسے اپنی آزادی کا نام دیتی ہے۔
جبکہ دوسری طرف
ایک بچہ جب دو سال کا ہوتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتا ہے اور اس ماحول پر غور وفکر کرتا رہتا ہے۔ گو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بچہ ہے اسے کوئی سدھ خبر نہیں ہو گی لیکن وہ مکمل طور پر معاشرے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہی بچہ جب نوجوان ہوتا ہے اور اپنے اردگرد تنگ لباسی کو عام دیکھتا ہے اور وہ عورت جس کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا ہو لیکن وہ نیم برہنہ کپڑوں میں ملبوس کھلے عام گھوم رہی ہو تو اسے دیکھ کر وہ نوجوان بھی تنگ نظر بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ نوجوان اپنی انسانی جبلت کے زیرِ اثر شہوانیت کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے اور حوا زادیوں کی طرف اس کی رغبت مزید بڑھنے لگ جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں شادیاں ویسے بھی دیر سے ہوتی ہیں اس لئے نوجوان غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
آج کل جہاں فحش ویب سائٹس عام ہیں اور فحش لباس میں ملبوس کچھ گمراہ ذہنی مریضائیں کھلے عام گھومتی ہیں وہیں کسی مومن کو ابلیس بننے میں دیر نہیں لگتی۔
میری اس بات کا اگر آپ معاشرتی تجربہ کرنا چاہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے علاقے جہاں زنا کی سزائیں جرگوں میں دی جاتی ہیں اور غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے وہاں ترقی یافتہ شہروں کی نسبت زنا کی شرح نہ صرف انتہائی کم ہو گی بلکہ وہاں کی خواتین پردے کا بھی سختی سے اہتمام کرتی ہوں گی اور مرد بھی اپنی نظریں اپنے قابو میں رکھ کر گھومتے ہوں گے۔
زیادتی اور اغوا کے جتنے بھی واقعات پیش آتے ہیں ان کی اکثریت ترقی یافتہ شہروں میں صرف اس وجہ سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہاں پر فیشن اور آزادی کے نام پر عورت سے اس کی حیا اور روایات چھین لی گئی ہیں اور عورت تک مرد کی دسترس آسان کر دی گئی ہے۔
یہ نام نہاد آزادی اور فیشن کا ناسور مغرب سے درآمد ہو کر آیا اور اب مختلف این جی اوز اور دیگر اداروں کے ذریعے مشرق میں اس کی بڑھوتری اور ترویج پر کام جاری ہے۔
بطور ایک منظم اور تہذیب یافتہ معاشرہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی بنیاد کو نہ بھولیں۔ اس معاشرے کی بنیاد مشرقی اصولوں پر مبنی ہے۔ لہٰذا مغربی تہذیب اور پہناوے یہاں کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم اسلامی لباس اور اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد شروع کر دیں تو نہ صرف عورت کے لباس کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس لباس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مرد کی تنگ نظری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
کچھ لوگ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر زنا کی وجہ عورت کا لباس ہے تو پردہ دار خواتین اور بچے کیوں محفوظ نہیں؟ اس سے میری عرض ہے کہ جب کوئی جانور خونخوار بن جاتا ہے تو وہ اونٹ اور چوہے میں فرق نہیں کرتا۔ اسے جہاں بھی خون کی خوشبو آئے جھپٹ پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں سوچنا چاہئے کہ خونخواری کی وجہ کیا ہے؟ اگر آپ معاشرے کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو آپ میری ساری گزارشات خود ہی سمجھ جائیں گے۔زنا جیسے ناسور پر قابو پانے کے لئے ہمیں جلد از جلد اس فیشن انڈسٹری سے چھٹکارہ حاصل کر کے معاشرے کو راہِ راست پہ لانا ہو گا۔
اگر آپ نے ضائع ہوتا پانی بند کرنا ہے تو آپ کو بجائے اس پانی کو ٹھکانے لگانے یا پائپ کو مروڑنے کے نلکہ ہی بند کرنا پڑے گا۔ کیونکہ جب تک سر نہ کچلا جائے سانپ زندہ رہتا ہے۔لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن ایک آرٹیکل میں سب دلائل اور گفتگو کا سما جانا ممکن نہیں۔ اس کے لئے بیسیوں صفحات پر مشتمل کتابچہ بھی شاید کم پڑ جائے۔ بہر حال ہم صرف جڑ سے ہی اس لعنت کو ختم کر سکتے ہیں اور کوئی حل نہیں ہے۔
@1nVi5ibL3_ -

بھارتی فلموں اور ڈرامے کے بچوں پر منفی اثرات تحرير : حمزہ احمد صدیقی
پانچ سال قبل کراچی میں پیش آنے والے ایک واقعے نے مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم کو حیرت میں مبتلا کر دیا. دسویں جماعت میں پڑھنے والے 16 سالہ نوروز اور اس کی ہم جماعت فاطمہ نے اسکول میں اسمبلی کے دوران خودکشی کی.پستول فاطمہ کے والد محترم کی تھی ،جوکہ نوروز نے منگوائی تھی اور دونوں نے پہلے ہی سے خودکشی کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، اس کی وجہ ان کے درمیان کی محبت تھی اور ماں باپ ان کی شادی پر رضا مند نہیں تھے، خودکشی کے بعد دونوں کے سامنے آنے والے خطوط میں ایک دوسرے کے ساتھ دفن ہونے کی آخری خواہش ظاہر کی تھی.۔
اس سب میں اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ انکی عمر تھی ان سب باتوں میں پڑنے کی؟؟ اس 16 سالہ عمر میں تو ان بچوں کو ابھی تک یہ بھی نہیں پتا ہوگا کہ محبت کس چیز کا نام ہے؟؟
والدین اتنے پیار سے اپنے بچوں کو پالتے ہیں،انکی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انکی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، انکے لیے طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتے ہیں مگر پھر بچے ایسا کیوں کرتے ہیں؟ دراصل اس میں قصور انکی تربیت کا ہے، دین اسلام سے دوری اسکی سب سے بڑی وجہ ہے۔.
اس سب سانحہ میں ایک حیران کن بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ بچوں نے کسی بھارتی فلم کی نقل اتاری.بھارتی فلمیں جنہیں ہم خود اور اپنے بچوں کو انٹرٹینمنٹ کے لیے دکھاتے ہیں، دراصل ہمارے خزاں رسیدہ معاشرے کی خرابی کا باعث بن رہی ہیں.. ہماری نوجوان نسل کے اندر صنف مخالف کی طرف کشش مزید ابھارتی، بے حیائی اور فحاشی پھیلا رہی ہیں..
محبت کے نام پر ہمارے مہذب معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں، ہمارے مہذب معاشرے میں نوجوان نسل کی خرابی کی دو اہم وجوہات ہیں، ایک بھارتی فلمیں اور دوسرا کو ہمارا ایجوکیشن سسٹم ہے.. یہ دو وہ اہم اسباب ہیں، جو ہمارے اس معاشرے کو بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں.
بھارتی فلمیں نوجوان کے ذہنوں میں یہ فتور ڈالتی ہیں کہ کسی کو کیسے سٹ کرنا، کیسے پروپوز کرنا اور پھر آگے بات کیسے بڑھانی۔۔اور کیسے محبت کرنی ہے، باقی اس کام کی آسانی کے لیے ہمارا کو ایجوکیشن سسٹم اور موبائل فون اور انٹرنیٹ موجود ہے.
میں یہ ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ بچوں کو موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال نہ کرنے دیا جائے ،مگر اس حوالے سے اپنے بچے پر نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے. ہماری تہذیب، ہمارا کلچر، ہماری ثقافت سب ہندوؤں نے تباہ و برباد کر دی۔آج ہمارے نوجوانوں کو قرآن کی سوتوں کے ناموں سے زیادہ بھارتی فلموں کے نام یاد ہوں گے،شاید انہیں قرآن پاک پڑھنا بھی نہ آتا ہو ،مگر گانے پوری پوری طرز کے ساتھ سنائیں گے. اور اس پر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ والدین اس پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انکا بچہ گانا بہت اچھا گاتا ہے.
آج کل نوجوان نسل کی گفتگو کا موضوع ہی بھارتی فلمیں، فلموں میں کام کرنے والے اداکار اور فلموں کے گانے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ وہ ان بھارتی اداکاروں کی نقل اتارنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں. فضول قسم کے فیشن کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں.
کراچی کے سکول میں پیش آنے والا واقعہ بہرطور ایک نہ ایک دن رونما ہونا ہی تھا. اور اس میں قصور وار والدین ہیں جہنوں نے اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کی پہچان بھی نہ کروا سکے اور کھلی چھٹی دے دی۔۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ بچہ اگر نماز نہ پڑھے تو اسے کچھ نہیں کہا جاتا، لیکن اگر وہ اسکول کا کام نہ کرے تو خوب مارا پیٹا جاتا ہے.۔ والدین بچوں کو فجر کی نماز کے لیے نہیں بلکہ اسکول جانے کے لیے اٹھاتے ہیں. آئے دن ہونے والی محبت میں خودکشیاں، ریپ کیسز اور دن بہ دن بگڑتا ہوا ہمارا خزاں رسیدہ معاشرہ، ہماری بربادی کے دروازے پر دستک دے چکا ہے۔.
میرے خیال میں والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کہاں کس سے اور کیوں مل رہے ہیں. انہیں اپنے بچوں کی سوسائٹی کا علم ہونا چاہیے. اور اپنے بچوں کو بھارتی فلموں اور ڈراموں سے دور رکھیں. اگر والدین اس حوالے سے محتاط رہتے ہیں تو اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ نوجوان نسل کی سوچ میں تبدیلی آئے گی.
یہ ملک پاکستان، ہمارا ملک ہے. انتھک محنت، لاکھوں قربانیوں اور بے بہا خون کے ساتھ حاصل کیا گیا ہے. اسکی بربادی کی وجہ بھی ہم ہیں اور ہم ہی اسے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں. اپنی ذمہ داریوں کو پہچانئے اور ایک اچھے پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کی کیجئے!
ہماری نوجوان نسل ہی دین اسلام اور پاکستان کا مستقبل ہیں، خدارا! انہیں یہود و نصارٰی اور ہندوؤں کی بے حیائی اور فحاشی کے جال میں پھنسنے نہ دیجئے! اس ملک کے تابناک اور روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کیجئے! اپنے بچوں کو دین اسلام سے جوڑیئے! اور انکو ایک بہتر مسلمان بنانے کی کوشش کیجئے تاکہ وہ قوم کا سر فخر سے بلند سکیں.۔
اللہﷻ آپ کا حامی و ناصر ہو.
@HamxaSiddiqi
-

غربت (پارٹ 2) تحریر : شاہ زیب
ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔ غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں۔
اس تناظر میں ، غریب لوگوں کی شناخت کے لیے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات کیا ہیں۔ ان کو "بقا کے لیے ضروری” کے طور پر یا وسیع پیمانے پر "معاشرے میں مروجہ معیار زندگی کی عکاسی کرنے والے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ پہلی کسوٹی صرف ان لوگوں کا احاطہ کرے گی جو فاقہ کشی یا نمائش سے موت کی سرحد کے قریب ہیں۔ دوسرا ان لوگوں تک پھیلایا جائے گا جن کی غذائیت ، رہائش اور کپڑے ، اگرچہ زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب ہیں ، مجموعی طور پر آبادی کے لوگوں کی پیمائش نہیں کرتے ہیں۔ تعریف کا مسئلہ غیر معاشی مفہوم سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جو لفظ غربت نے حاصل کیا ہے۔ غربت کو منسلک کیا گیا ہے ، مثال کے طور پر ، خراب صحت ، تعلیم یا مہارت کی کم سطح ، کام کرنے کی نااہلی یا ناپسندیدگی ، خلل ڈالنے والے یا بے ترتیبی برتاؤ کی اعلی شرح ، اور بہتری۔ اگرچہ یہ صفات اکثر غربت کے ساتھ پائی جاتی ہیں ، ان کی غربت کی تعریف میں شمولیت ان کے مابین تعلقات اور کسی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکامی کو واضح نہیں کرتی ہے۔ جو بھی تعریف استعمال کی جاتی ہے ، حکام اور عام آدمی یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ غربت کے اثرات افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔اگرچہ غربت انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کی اہمیت بدل گئی ہے۔ اجتماعی غربت نسبتا پائیداری کی طرح لیکن تقسیم کے لحاظ سے اس سے مختلف ، کیس غربت سے مراد کسی فرد یا خاندان کی عمومی خوشحالی کے معاشرتی ماحول میں بھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہونا ہے۔ یہ نااہلی عام طور پر کچھ بنیادی وصف کی کمی سے متعلق ہوتی ہے جو فرد کو اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ ایسے افراد ، مثال کے طور پر ، اندھے ، جسمانی یا جذباتی طور پر معذور ، یا دائمی بیمار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی معذوریوں کو عام طور پر ہمدردی کے ساتھ سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ وہ ان لوگوں کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ جسمانی وجوہات کی وجہ سے غربت میں کمی لانے کی کوششیں تعلیم ، پناہ گاہ روزگار اور اگر ضرورت ہو تو معاشی دیکھ بھال پر مرکوز ہیں۔
-
مردہ سماج میں ارتعاش کیونکر پیدا نھیں ھوتا ؟ تحریر: صہیب اسلم
میں سوچتا ھوں کہ اس مردہ سماج میں رھنے والے آھنی زنجیروں اور بیڑیوں کو گلے کا ھار بنا کر جینے والے بے سُدھ مردار ھجوم میں انھیں زندگی کا احساس دلانے والا ارتعاش کیوں کر پیدا نہیں ھوتا؟
کیوں اس سماج میں رھنے والوں میں سے احساس ختم ھوتا جا رھا ھے؟
کیوں اس سماج میں بسنے والے اپنے فرائض و ذمہ داری نبھانے کی اخلاقی جرات سے عاری ھوتے جا رھے ھیں؟میں سوچتا ھوں کہ اس سماج کا فرد اتنا مردہ کیونکر ھو گیا ھے کہ ابھی بمشکل اپنی زندگی کی دس بہاریں دیکھنے والی حوا کی بیٹی کو بے دردی سے اپنی حوس کا نشانہ بناتا ھے اور پھر اپنی ھی بیٹی کے ساتھ سکون سے سو بھی جاتا ھے؟
کبھی کبھی میں سوچتا ھوں کہ سماج کا فرد کس طرح کس کے حکم سے، کس کی اجازت سے زمین پر چلتے اپنی اور اپنے خاندان، بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دن رات اپنے وجود کو مٹا دینے والے معصوم انسانوں کے وجود میں بارود اتار دیتا ھے اور ان بد دعاؤں کی فکر سے بھی ازاد ھو جاتا ھے جو ساری زندگی اس کا پیچھا کرتی رھتی ھیں؟
میں سوچتا ھوں اس سماج کا ھر فرد جس کا بدقسمتی سے میں بھی حصہ ھوں ھر وقت کس مصلحت کی آڑ لئے ھمیشہ ھی خاموش ھو جاتا ھے؟ یہ سماج اپنے بنیادی حقوق کیلئے آواز کیوں نھیں بلند کرتا؟ اپنے حق کیلئے بھی خاموش کیوں رھتا ھے؟ وہ کون سی طاقت ھے جس نے اسے اس قدر بے بس کر دیا ھے کہ اپنے ھی بچوں کیلئے بھی آواز نہیں اٹھاتا؟
اس سماج کا فرد کیوں چپ رھتا ھے جب کوئی ظالم اسی سماج سے اٹھتا ھے اور میری معصوم زینب کو حیوانوں کی طرح اسکے معصوم وجود کو بھنبھوڑتا ھے چیر پھاڑ کرتا ھے اور بنا کسی خوف و خطر نئی زینب کی طرف چلا جاتا ھے۔
اس سماج کا فرد کیونکر خاموش تماشائی بن جاتا ھے جب کہیں سے کسی وڈیرے کا بیٹا اپنے پیسے اور اندھا دھند طاقت کے نشے میں کسی ماں کے لال شاہ زیب کے سینے میں صرف اس لئے بندوق کا پورا میگزین اتار دیتا ھے کہ شاہ زیب نے اپنی بہن کی عزت کے تحفظ کی کوشش کی؟
اس سماج کا ھر فرد تب بھی خاموش ھی رھتا ھے جب
کوئی قانون کا رکھوالا کسی ماں کے جگر گوشے کو سب کے سامنے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیتا ھے اور وجہ بھی نھیں بتاتااس سماج میں بسنے والا نابینا فرد تب بھی اپنے منہ میں موجود زبان کو کاٹ لیتا ھے جب کوئی مجید خان اچکزئی نشے میں دُھت بد مست ھاتھی کی طرح سڑک کنارے ٹھہرے سب کی رھنمائی کرتے معصوم وردی والے کو اپنی لمبی لینڈ کروزر کے نیچے کچل ڈالتا ھے اور ببانگ دھل قانون کی رسیاں توڑتا ھوا رہا ھو جاتا ھے۔
اس سماج کا ھر فرد تب بھی منہ پر تالہ اور آنکھوں پر پٹی باندھ لیتا ھے جب کوئی سڑک کنارے مسافروں سے بھری بسوں سے سب کو اتار کر اپنی گولیوں کی زینت بنا کر چپ چاپ چلا جاتا ھے۔
اس سماج کا ھر فرد اب خاموش رھتا ھے جب
کوئی ان جیسا زندہ سانس لیتا انسان دن میں گھر سے اپنے بیوی بچوں کیلئے انکے زندہ رھنے کیلئے روزی روٹی کمانے نکلتا ھے اور شام کو اسے چار کندھوں پر اٹھا کر لایا جاتا ھےآج جانے کیوں اس بے حس بے درد بے کار سماج کیلئے میری سوچوں نے اتنے سوالات کھڑے کر دئیے کہ شاید ان سوالات کا جواب پاتے پاتے میں بھی کسی دن اس مردہ سماج کی بے حسی کا نشانہ بن جاؤں۔
لیکن اس سب کے باوجود روشنی کی اک مدھم مگر ٹمٹماتی سی کرن مجھے آج بھی نظر آتی ھے کہ شاید کہیں کوئی اس بیڑیوں میں جکڑے بے حس مردہ سماج میں ارتعاش پیدا کر دے۔ شاید کوئی اپنی چلتی رواں رھتی خوبصورت سانسیں روک کر اس سماج میں رھنے والوں بسنے والوں میں زندگی کا احساس پیدا کر دے
اسی لئے تو کہتا ھوں اے اس سماج کے وارثین، خود کو آل کل کا مالک سمجھنے والو اس سماج میں بسنے والوں کو کہانی بنانے سے ڈرو، کہانی مسخ کرنے سے ڈرو
کہانی دیکھنے سے ڈرو کہانی پھیلانے سے ڈرو کیونکہ میرا اللہ سب سے بڑا انصاف کرنے والا ھے۔ اس کی عدالت میں کوئی ڈالرز، کوئی روپیہ، کوئی سونا، کوئی جائیداد، کسی طاقت کا نشہ، کسی اقتدار کی بھوک کچھ کام نہ آئے گی۔کیونکہ کچھ پتہ نھیں ایسا نہ ھو کہ آج تم سماج میں بسنے والوں کی کہانیاں بنا رھے ھو اور کل کو کوئی اٹھے اور تمھاری کہانی بنا دے اور پھر تم تاریخ کے اوراقوں میں بھی نہ ملو حتیٰ کہ کسی کہانی میں بھی نہ ملو۔۔۔۔۔۔
ٹوئٹر ھینڈل
@KaalaPak -

غیر ضروری رسومات تحریر: حالد حسین
گر دیکھا جائے تو ہر جگہ رسم و رواج شوق و زوق سے منائے جاتے ہیں، اور اِن قبیح رسومات نے ہمیں اپنوں سے غیر بنا دیا ہیں پہلے پہل رشتداروں یا ہمسایوں میں کسی کی حالت علیل ہو جاتی تو لوگ بیمار پرسی کے لئے جاتے اور اچھی صحت کی دُعا دے کر واپس آتے تھے اور سارا زمانہ خوش ہوتا. بیمار پرسی کا ثواب تو ایک قدم پے ہزار نیکی بھی مل جاتی تھی تو تب حقیقت میں لوگ بیمار داری کرنے ہی جاتیں تھیں اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ جو کوئی بھی بیمار ہو جاتا ہے ہم چاہتے ہوئے بھی بیمار پرسی کے لئے نہیں جا سکتے.
اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانے سے پہلے یہ مشورہ کریں گے کہ ہم نے تو بیمار پرسی کے لئے جانا ہے کیا جیب ہمیں اجازت دیتا ہے ؟ ہم کتنے پیسے دیں گے ؟ اگر کم پیسے دیں گے تو جگ ہنسائی ہوگی وغیرہ وغیرہ. یہ بات بھی واضح رہے کہ جب بھی آپ بیمار پرسی کے لئے جاؤ گے تو بندوبست کر کے جانا ہوگا کیونکہ وہ دائم المریض بھی اِس خیال میں مگن رہتا ہے کہ یہ مجھے کتنے پیسے دیں گے؟ اور گھر والوں کی کیفیت بھی کچھ یہ ہوتی ہیں کہ اب اِس کو کِیا کیا پکایا جائے؟ کیونکہ وہ بھی آپ کے پیسوں کے برابر ہی آپ کو پروگرام منعقد کرتے ہیں.
مطلب زیادہ پیسے دینے والوں کو زیادہ ڈیش مثلاً چکن، قیمہ، بریانی، نہاری، فروٹ، اور بحرین کا مشہور چپلی کباب ،وغیرہ فراہم کیا جاتا ہے جب کہ کم پیسے دینے والوں کو ایک ادھ ڈیش کا مخصوص پروگرام کیا جاتا ہے. گھر سے جاتے وقت ہم کچھ اِس طرح سوچتے ہیں کہ وہ اگر اچھے طریقے سے مہمان نوازی کریں گے تو ہم زیادہ پیسے دیں گے اور اگر اچھی مہمان نوزای نہیں کریں گے تو ہم کم پیسے دے کر بات کو رفع دفع کریں گے. راقم کے تجزیے کے مطابق دور جدید میں "مہمان نوازی گئی بھاڑ میں” کہاں کی مہمان نوازی.
یہ تو ویسے بھی سودا بازی ہے بس سودا طے کرنا ہے اور اِس سودا بازی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم لوگ اپنوں کی محبت سے محروم ہوگئے ہیں اللّه کرم کریں آخر کب تک چلے گا؟ جب ہم لوگ کافی عرصہ بعد اپنے رشتداروں کے گھر اُس کے حالات پوچھنے جاتے ہے تو وہ شکوہ کرتا/کرتی ہے کہ مجھ سے بات تک نہ کریں آپ کو ابھی فرصت ملی؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے بیمار معاشرے میں بیمار کی بیمار پرسی کے لئے خالی ہاتھ آنا جانا دشمنی کے برابر بات سمجھی جاتی ہے یا ہمارے معاشی حالت کچھ ٹھیک نہیں اور پیسوں کی تنگی تھی یا ہیں اس کے بجائے یہ کہتے ہیں کہ مصروفیات اتنے بڑھ چکے ہے کہ بالکل وقت نہیں ملتا صبح جاتے ہیں اور رات کو لوٹتے ہیں۔
خدارا اِن فضولیات سے باز آجائے اور بغیر پیسوں اور بغیر کسی لالچ کے ایک دوسرے کے حالات پوچھا کریں اِس سے اور کچھ خاص تو نہیں ہو گا البتہ دن بہ دن محبت بڑھے گی یقین مانے اِس دورِ افتادگی میں ہم صرف ایک چیز کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہے اور وہ ہے "محبت” لوگوں کے پاس سب کچھ موجود ہے ماسوائے "محبت” کے اور ہمارے بیچ محبت نہ ہونے کی وجہ پیسے ہی ہو سکتے ہے.
پیسوں نے ہی ہمارے بیچ محبت جڑ سے ختم کر دی ہے. کہنے کا نصب العین یہ ہے کہ لوگوں کو اِس کالم کے زریعے یہ مثبت پیغام پہنچایا جائے کہ یہ مہنگے اور قبیح رسومات کو جڑ سے ختم کرنا چاہئے تاکہ ہمارے بیچ محبت کا یہ سلسہ قائم و دائم رہیں.اللّه ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور اِن باتو پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
نوٹ: میرا قبیح رسومات کے حوالے سے کالم شائع ہونے پر میری والدہ محترمہ کے تاثرات کچھ یہ تھے،
کالم جب شائع ہوا تو سب سے پہلے ماں کو پڑھ کر سنانے اور سمجھانے لگا پڑھنے کے بعد ماں کہنے لگی قیموس یہ جو باتے آپ نے لکھی ہیں اور آپ کا جو مرکزی خیال ہے یہ یقیناً قابل تعریف ہے، پر کیا لوگ اِن باتوں کو عملی شکل دے گے؟
یہ سوال میرے لئے یقیناً مشکل تھا کیونکہ ایسے ڈھیر سارے خوب صورت اور قابل غور باتے ہیں جو فقط کتابوں تک محدود ہیں وہ لوگ پڑھ کر لُطف اُٹھاتے ہے، پر اُن تمام تر باتوں پر عمل کرنا اُن کے لئے موت کا مترادف ہوتا ہے۔
میرا کالم لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جِن رسومات اور رواجات نے ہمیں اپنوں سے غیر بنا دیا ہے اُن کو جڑ سے ختم کرنا چائے۔
خدا ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین
حالد حسین ادیب کے قلم سے۔
Twitter Handle:
@KD_004 -

لوگ کیا کہیں گے تحریر: فوزیہ چوہدری
لوگ کیا کہیں گے؟ اس سوال کی گونج بہت زیادہ ہے ہماری زندگی میں اور یہ سوال لوگ کیا کہیں گے ہماری خواہشات اور خوشیوں پر سبقت لے جاتا ہے اور انسان اپنی ہی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے صرف اس ڈر سے کے لوگ کیا کہیں گے۔
ویسے تو فلموں ڈراموں میں آپ نے بہت ہی خوفناک کردار دیکھے ہوں گے لیکن ہماری اصل زندگی میں یہ کردار پائے جاتے ہیں اور وہ کردار نبھاتے ہیں لوگ۔۔۔۔۔ جی ہاں لوگ اور انکی کڑوی باتیں جو کہ جینا مشکل کر دیتی ہیں اور ہم خود بھی لوگوں میں ہی آ تے ہیں اگر کوئی ہماری پسند یا کسی بھی کام پر سوال اٹھائے یا اپنی رائے دے تو ہمیں غصہ آ تا ہے پر ایسا کچھ ہمیں اپنے پڑوس کے بچوں یا پھر خالہ کی بیٹی یا بیٹے کے بارے میں یہ پتا چلے کے وہ پیانو بجانا سیکھنا چاہتا / چاہتی ہے تو ہم خود بھی وہ ہی حرکت کرتے جو کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا ہو سوال اٹھاتے ہیں یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ بھی کوئی سیکھنے کی چیز ہے صرف وقت کی بربادی ہے وغیرہ وغیرہ۔
لوگ کیا کہیں گے سوال اتنا ہمارے دماغ پر سوار ہو چکا ہے کے ہر بات پر سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟
اتنی ڈارک لپ اسٹک لوگ کیا کہیں گے ؟
اتنی اونچی ہیل لوگ کیا کہیں گے؟
میٹرک سائنس کے ساتھ نہیں کیا تو لوگ کیا کہیں گے؟
پسند کی شادی کر لی تو لوگ کیا کہیں گے؟
ایسے اور بہت سے لمحات ہماری زندگی میں آ تے ہیں جب ہم یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔
اس بات پر غور کرنے والا انسان کہ لوگ کیا کہیں گے ہمیشہ ناکام ہی رہتا ہے زندگی میں کبھی آ گے نہیں بڑھ سکتا کیونکہ ایسے انسان کی اپنی کوئی سوچ اپنی کوئی پسند نہیں ہوتی وہ ہمیشہ دوسروں پر ڈیپینڈنٹ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے لیے ہم سفر بھی وہ ہی پسند کرتا ہے جو لوگوں کو اسکے ساتھ اچھا لگے۔
اکثر ماں باپ اپنے بچوں کی پسند سے شادی اس ڈر سے نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے اتنے ایڈوانس ہیں اتنی چھوٹ دے رکھی ہے اپنے بچوں کو؟ تو خدارا زرا اس بات پر بھی غور کریں کے زندگی آ پ کے بچوں نے گزارنی ہے نہ کہ لوگوں نے مت سوچئے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
کیونکہ لوگوں کا کام ہے بس باتیں بنانا یہ کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوتے۔اس بات کو میں ایک کہانی سے بھی سمجھانا چاہوں گی۔
ایک باپ اور بیٹا پیدل چل رہے تھے اپنے گدھے کے ساتھ تو کچھ لوگوں کی باتیں انکے کام میں پڑی کہ دیکھو کتنے بیوقوف ہیں گدھے کے ہوتے ہوئے پیدل چل رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ ہم گدھے پر بیٹھ جاتے ہیں تھوڑا ہی آگے گئے تو پھر سے کچھ لوگ بولے دیکھو کتنے ظالم ہیں دونوں ہی گدھے پر بیٹھے ہیں کتنا بوجھ ڈالا ہے گدھے پر اس بات کو سن کر باپ نے فیصلہ کیا کہ وہ پیدل چلے گا اور بیٹے کو گدھے پر بیٹھا رہنے دے گا پھر تھوڑا آ گے گئے تو لوگوں نے باتیں کی کہ دیکھوں کتنا بدتمیز بیٹا ہے باپ کو پیدل چلا رہا ہے اور خود گدھے پر سوار ہے بیٹا اتر گیا اور باپ کو بٹھا دیا گدھے پر پھر تھوڑا آ گے گئے تو لوگوں نے باتیں کی کہ دیکھو اس ظالم باپ کو خود گدھے پر سوار ہے اور بیٹے کو پیدل چلا رہا ہے اس بات کو سنتے ہی باپ بھی اتر گیا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ لوگ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہیں اس کا واحد حل صرف اتنا ہے کہ لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کریں اور آ گے بڑھیں ۔
ہم نے خود لوگوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ ہماری زندگی کا فیصلہ لے سکیں یقین جانیں جس دن آ پ نے یہ سوچ لیا کہ یہ آ پکی زندگی ہے اور اسکا ہر فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف آ پکا ہے اس دن آ پکی زندگی کو ایک نیا رنگ ملے گا اور آ پ زندگی جینا سیکھیں گے ابھی تو صرف گزار رہے ہیں۔
زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خود اعتماد ہونا ضروری ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اس سوچ اور ڈر کو ختم کرنا بھی ضروری ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔اپنے ذہنوں کو کھولیے اور نکلیں اس سوچ سے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
امید ہے تحریر پسند آئی ہو گی۔شکریہ -
دشمنی مٹاؤ نسل بچاؤ تحریر: محمد نوید
میانوالی میں قتل و غارت کا بازار ہمیشہ کی طرح گرم ھے پر افسوس کہ کوئی کام نہیں ہو رہا نئے روڈ پل گاوں تو بن جائیں گے لیکن یہاں رہنے والوں کی سوچ تو وہی ہے … لوگ باتیں کر رہے کہ پولیس کچھ نہیں کر رہی اگر اپ پچھلے سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو میانوالی میں جتنے قتل ہوے ان میں دشمن نے آ کر اپنے دشمن کو نہیں مارا بلکہ زیادہ تر بھائی نے بھائی کو مار دیا بیٹے نے باپ کو مار دیا بھائی نے بہن کو مار دیا یا پھر بازار میں چھوٹی سی وجہ سے کسی نے کسی کو مار دیا اور یہ سب کچھ سواے جہالت کے کچھ نہیں ہے ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم میں سے جو لوگ پڑھ لکھ جاتے وہ یہاں سے شفٹ ہو جاتے کیونکہ پڑھے لکھے لوگوں کا اس ماحول میں جینا ہی انتہائی مشکل ہے یہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں اگر ہم نے اپنے علاقہ میں امن بحال کرنا ہے تو سوچ تبدیل کرنی پڑے گی اور سوچ پر کام کرنا ہڑے گا ورنہ میرے بھائیوں ہر گھر سے اسی طرح بے گناہ لوگوں کے جنازے نکلتے رہیں گے
پرسوں ایک روز میں مختلف جگہوں پر چار قتل ہوئے دشمنیاں ہر علاقے میں ہوتی ہیں مگر میانوالی میں افسوسناک صورتحال ھے ذرہ سی بات پر کسی کو قتل کر دینا بھائی بھائی کو مار رہا ھے نہ رشتوں کی پہچان ھے نہ بڑے چھوٹے کا لحاظ نہ کسی کی عزت کی پرواہ ماں باپ پیچھے عدالتوں اور جیلوں میں خوار دنیا میں بھی زلیل اور آخرت بھی تباہ حدیث کا مفہوم ھے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ھے اسلام سے دوری نئ نسل کو تباہ کر رہی ھے بدمعاشی ٹرینڈ بن چکی ھے جیل جانا اور پھر کچھ دن بعد ضمانت پر رہا ہو کے آجانا بھی ایک نارمل سی بات ھے کتنے خوبصورت جوان دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گئے نہ جانے کتنے خاندان تباہ ہو گئے مگر یہ سلسلہ اس جدید دور میں بھیرکنے کانام نہیں لے رہا۔
ہمیں کب شعور آئے گا آنے والی نسلوں کو ہم کیا پیغام دے رھے ہیں نام کمانا ھے تو اور بہت سے طریقے ہیں رائفل اٹھا کے کسی کو شوٹ کر دینا اصل میں بزدلی کی علامت ھے بہادر انسان وہ ھے جو حالات کا مقابلہ کرنا جانتا ھے جسمیں جتنی برداشت ھے وہ اتنا بہادر ھے جسمیں برداشت اور صبر نہیں وہ بزدل انسان ھے کبھی یہ بھی سوچاھے کہ کسی کو قتل کرکے کیا خود سکون سے رہ پاؤ گے کبھی نہیں جو انسان بوتا ھے وہ کاٹتا ھے ہتھیار اٹھاؤ جہاں پہ ہتھیار اٹھانا بنتا ھے غریب کا زور بازو بنو طاقتور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرو ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہتھیار اٹھاؤ تاکہ تمہارا نام رہتی دنیا تک یاد رھے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ کسی کو ناحق قتل کر دینا یہ روایت تمہاری نسلیں اجاڑ دے گی کیونکہ پڑھے لکھے لؤگوں کا اس ماحول میں جینا ہی انتہائی مشکل ہے یہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں اگر ہم نے اپنے علاقہ میں امن بحال کرنا ہے تو سوچ تبدیل کرنی ہوگی برداشت کرنا سیکھو دشمن کو بھی عزت دو اگر وہ انسان کا بچہ ہوگا تو سمجھ جائے گا۔۔
کچھ بھی ہوجائے خدارا کسی انسان کی جان لینا ہمارا سب سے آخری آپشن ہونا چاہیئے۔
اس سے پہلے کچھ بھی ہو معاملات کو سلجھانے کی حتی الامکان کوشش کریں بدمعاشی نانصافی کے کلچر کو پروموٹ نہ کریں صبر اور برداشت کا دامن تھامیں ابھی بھی وقت ھے ورنہ کوئی خاندان ایسا نہیں بچے گا جو اس کلچر سے متاثر نہ ہوگا شکریہ
تحریر ۔۔ محمد نوید
@naveedofficial_