Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • تلخ معاشرتی رویٌے   تحریر : زارا سیٌد

    تلخ معاشرتی رویٌے تحریر : زارا سیٌد

    رویّہ انسان کی عادت کو کہتے ہیں۔ ہر انسان دوسرے سے جس طرح کا سلوک کرتا ھے اس کو ہم انسانوں کے معاشرتی رویّے کہہ سکتے ہیں۔ ایک انسان کے رویّوں ، اُس کی عادتوں اور اس کے طور طریقوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت سے عوامل و اسباب ہوتے ہیں ۔انسان جس گھر میں پیدا ہوتا ہے وہ اپنے والدین سے جو بھی سچ جھوٹ کچھ سنتا ہے اور پھر جو کچھ بولتا ہے ۔ اس سننے اور بولنے کے نتیجے میں عمل اوررد عمل کی جو تشکیل ہوتی ہے۔ وہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ انسان کے رویّوں کی تشکیل میں دوسرا اہم عمل اسکے علاقہ اور محلے کا ہے۔ اس کے دوست، احباب ہیں۔ جن گلیوں میں وہ پیدا بڑھتا ہے ، کھیلتا کودتا ہے تو وہاں پر جن کیفیات سے اُسے گزرنا پڑتا ہے، جیسے مشہور مقولہ ہے”انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔

    آج کل کے دور کو دیکھا جائے اور عام لوگوں کے رویوں اور سوچ کا مشاہدہ کیا جائے تو پتا یہ چلتا ہے ہے کہ ہم مالی، معاشرتی اور سماجی سطح پر زوال پذیر ہیں۔ہمارے عام رویے ایک دوسرے سے بغض اور منافرت کا جذبہ لئے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں خلوص کی ہلکی سی جھلک نظر آ جاتی ہے اور دل کو اطمینان ہوتا ہے کہ انسان کا دل ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہے مگر اجتماعی طور پر معاشرے کے ہر فرد کے رویے سے یہ بات ظاھر ھوتی ہے کہ اب انسانوں میں وہ محبت نہیں رہی جو پہلے تھی ۔

    عوام میں ایک رویہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ کسی بھی حادثہ یا غیر معمولی واقعے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے اور اپنے لوگوں کی سخت تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ رویہ عام ہوتا جارہا ہے اور ہر کوئی اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے ویڈیوز ، بلاگز، کالمز، اور ٹویٹس کا سہارا لیتا ھے ۔

    یہ تنقید اگر ان عوامل کی نشاندہی کے لئے ہو جن پر توجہ دے کر ہم اجتماعی رویوں میں بہتری لا سکتے ھوں تو ایسی تنقید اصلاح کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے ۔ لیکن یہ تنقید صرف ریٹنگ حاصل کرنے ، پوسٹ کے زیادہ لائکس یا اپنے آپ کو دنیا سے الگ دکھانے کے لیے کی جاتی ہے ۔

    ان سخت اور تلخ رویوں کی وجہ سے اس قدر بے یقینی کی فضا ھے کہ ھم کسی پر اعتبار ھی نہیں کرتے ھم ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بھی کتراتے ھیں۔

     ھماری چھوٹی چھوٹی باتیں اور چھوٹی چھوٹی نیکیاں معاشرے کو خوبصورت بناتی ہیں اور وہی باتیں دوسروں کے لئے مثال بنتی ہیں۔ اگر ہم اچھی باتوں کو اپنائیں تو یہ معاشرہ خوبصورت نظر آئے گا اور اگر برائی پھیلائیں تو معاشرہ بدنما نظر آئے گا۔ ہمیں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے بچوں کی بہترین تربیت کرنی ھو گی تاکہ وہ بڑے ھو کر معاشرے کی خوبصورتی کا باعث بنیں۔

    سکولز اور کالجز میں ایسی کلاسز ھونی چاھیے جن میں معاشرے کی رہنمائی کرنے والے لوگوں کو مدعو کیا جائے جنہوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کر کے خود کو منوایا ہو جو خود اس معاشرے کے لیے ایک مثال ہوں تاکہ بچے ان سے سیکھ سکیں اور ان کے نقش قدم پر چل کر اس معاشرے کو سنوار سکیں ۔

    ٹویٹر : @Oye_Sunoo

  • مرد نہیں خراب، سسٹم خراب ہے تحریر: عتیق الرحمن

    مرد نہیں خراب، سسٹم خراب ہے تحریر: عتیق الرحمن

    موجودہ حالات و واقعات کے پیش نظر آجکل سب کی تنقید کا مرکز مرد بنا ہوا ہے کیونکہ زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور روز کسی کی معصوم بچی یا بچہ کسی نفس کے ہاتھوں غلام کے وحشی پن کا شکار ہورہا ہے۔ حتی کہ کچھ بیمار ذہنیت کے افراد کی حرکتوں کی وجہ سے معاشرے میں مرد کو جانور سے تشبیہہ دی جانے لگی ہے۔ لیکن کیا یہ سب اب شروع ہوا ہے؟ تو جواب ہے ہر گز نہیں، یہ تمام جرائم ازل سے موجود ہیں اور ان جرائم کے پیش نظر ہم سے پہلے قومیں اللّہ کے غم و غصہ کا شکار ہوئیں اور صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں جن کے نشانات آج بھی موجود ہیں تاکہ لوگ عبرت حاصل کرسکیں
    پھر سوال بنتا ہے کہ جب ہماری حرکتیں بھی ویسی ہی ہیں تو ہم پر عزاب کیوں نہیں آتا تو جواب ہے کہ اللّہ کے نبی ص کی وجہ سے اللّہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ اس امت کو قیامت تک معافی کا موقع ملے گا لیکن اسکے ساتھ ساتھ معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے اللّہ نے ہمیں ایک سسٹم دیا جو کہ قرآن پاک میں مکمل موجود ہے اور ہر پہلو کو گھیرے ہوئے ہیں تاکہ انسان خود مہذب معاشرے کی خواہش کو اور اللّہ کے حکم کو پورا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ تو اب سوال ہے کہ کیا وہ سسٹم ہم انسان رائج کرسکے تو جواب ہے بلکل نہیں ورنہ آج زنا بلجبر اور زیادتی کے کیسسز میں نمایاں کمی ہوتی
    اسلام اور شریعیت نے زنا اور زیادتی پر سزائیں مقرر کی لیکن ہمارا سسٹم اتنا کمزور ہے کہ وہ سزائیں لاگو ہی نہیں ہو رہی جسکی وجہ سے معاشرے کے بیمار ذہنوں سے سزا کا خوف ختم ہوچکا ہے کیونکہ انہیں پتا ہے وہ اس کمزور سسٹم سے باآسانی نکل جائیں گے جو آج رائج ہے۔ کتنے ہی زیادتی کے کیسسز میں مجرم کو ضمانت اس لئے مل جاتی ہے کہ تفتیش ٹھیک نہیں ہوتی یا پھر سزائے موت اس لئے نہیں ملتی کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اسکے خلاف ہیں تو پھر کیسے امید کرسکتے ہیں کہ معاشرہ ٹھیک ہوگا؟
    جب معاشرے کو ٹھیک کرنیوالا سسٹم ہی اتنا کمزور طریقے سے رائج ہے تو مرد کیسے خراب ہوگیا۔ مرد نہیں خراب بلکہ سسٹم کی کمزوری ہے جو گناہگاروں کو انکے کیفرکردار تک نہیں پہنچا پا رہا۔ پچھلے دنوں ایک اوباش کسی کے گھر میں زبردستی گھس گیا اور لڑکی کو برہنہ کرکے وڈیو بنائی اور پھر وائرل بھی کی اور سسٹم کو چیلنج کیا کہ ہمت ہے تو مجھے پکڑ کے دکھاؤ۔ ضرورت تو تھی کہ جیسے ہی وہ پکڑا جاتا اسے اسی وقت موقع پر سب کے سامنے سزا دی جاتی تاکہ دوبارہ کسی کی جرأت نہ ہوتی ایسی حرکت کرنے کی لیکن ابھی تک اسکی عدالتی کاروائی چل رہی اور بہت حد تک ممکن ہے یہ سالوں چلے گی اور پھر مظلوم تھک ہار کر خود ہی پیچھے ہٹ جائے گا اور وہ اوباش پھر سے کھلم کھلا کسی اور کے ساتھ یہ حرکت کرنے کی ہمت بھی کرے گا۔
    حضرت عمر رض کے بیٹے سے گناہ سرزد ہوا تو آپ نے اسے سب کے سامنے سو کوڑوں کو سزا سنائی۔ اسی کوڑے لگنے پر حضرت عمر رض کے بیٹے کی موت ہوگئی تو بیس کوڑے آپ رض نے اسکی قبر پر مارے تاکہ اسلام کا حکم پورا اور کوئی یہ نہ کہے کہ کم سزا دی
    کیا اس سزا کے بعد کسی کی جرأت ہوئی ہوگی دوبارہ ایسا گھٹیا کام کرنے کی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس دلدل میں دھنستا جارہا ہے اور ہم بجائے اسکا سدباب کرنے کے مرد کو جانوروں سے ملائے جارہے۔ وہی مرد ہمارا باپ بھائی بیٹا اور شوہر بھی ہے تو یہ بات انتہائی غلط ہے کہ "مرد جانور ہے” مرد جانور نہیں ہے لیکن شائد کچھ جانوروں نے مرد کا لبادھا ضرور اوڑھ لیا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں خرابیاں ہوتی ہیں لیکن انکو ختم کرنے اور روکنے کا قانون بھی ہوتا ہے تو اگر وہ قانون یا سسٹم کمزور ہو تو زیادہ قصور ان سسٹم لاگوں کرنیوالوں کا ہوتا ہے
    اللّہ نے چودہ سو سال پہلے ہمیں یہ سسٹم دیا معاشرے کو بہتر کرنے کا تو اسکا مطلب تب بھی یہ خرابیاں موجود تھیں تو بنایا گیا نا ایسا نظام لیکن تب رائج ہوگیا تو معاشرہ ٹھیک ہوگیا اور اب رائج نہیں ہے تو جرم بڑھ رہے ہیں
    ہمارے سامنے مثالیں ہیں جب کسی کو سزائے موت ہوتی ہے تو کیا انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان کا منفی چہرہ بنانے کی کوشش نہیں کرتی؟ وہ تو مانتے ہیں نہیں اس سزا کو کہ کسی کو سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے
    کوئی بھی پیدا ہوتے ہی گناہگار نہیں ہوتا۔ ہمارا نظام اور معاشرہ اسے گناہگار بناتا ہے

    @AtiqPTI_1

  • نشہ ایک معاشرتی ناسور ہے تحریر: موسی حبیب راجہ

    نشہ ایک معاشرتی ناسور ہے تحریر: موسی حبیب راجہ

    ہم ایک ایسے بیمار اور غیر صحت مند معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں دہشت گردی ،قتل عام، بدامنی، اغواکاری، بےروزگاری، ناانصافی،بد عنوانی، جنسی زیادتی اور نشہ اوری اور دوسری غیر انسانی، غیر اخلاقی اور وحشیانہ سرگرمیاں عروج پر ہیں۔اور ملکی ادارے جوکہ مختلف ادارے ہیں اور سب کا اپنا اپنا کام ہے یہ سارے ملکی حالات کو قابو کرنے میں بلکل ناکام نظر آتے ہیں۔
    ویسے تو ہمارا معاشرہ بہت سے مساٸل سے دوچار ہے اور ہر مسٸلے پر الگ الگ بحث و مباحثہ تفصیلی طور پر کیاجاسکتا ہے لیکن آج میں جس مسٸلے کو قلم کی نوچ پر لا رہا ہوں وہ ہے:
    "نشہ آوری اور منشیات.”
    نشہ اسلامی طور پر حرام و ممنوع ہے جبکہ سماجی طور پر ایک لعنت اور ساٸینسی طور پر مضر صحت ہے ۔ ہمارے معاشرے میں سگریٹ، شراب نوشی، چرس، ہیروٸن، شیشہ، اور دوسری قسم کی زہریلی گولیاں اور انجکشنز گلی گلی، شہر شہر، مارکیٹوں اور حتی کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں استعمال ہورہے ہیں اور منشيات کو کنٹرول کرنے والے ادارے جیسے کہ انسداد منشیات فورسز، پاکستان ایکساٸز، پاکستان کوسٹ گارڈ، ایف سی اور صوبائی محکمہ پولیس شامل ہیں۔ اگر ہم ان ملکی اداروں کی کارکردگی پر نظر دوڑاۓ تو ہمارے سارے ملکی انسداد منشيات کنٹرول کرنے والے ادارے اس میں بلکل ناکام نظرآتے ہیں۔
    اگر ہمارے ملکی ادارے ہمارے ملک میں بندوق اور طاقت کے بل بوتے پر گھر گھر، گلی گلی،شہر شہر اور پورے ملک میں پولیوں کے قطرے پلاسکتے ہیں تو نشہ اور منشيات اور منشيات فروخت کرنے والوں کو کیخلاف کاروائی کیوں نہیں کرسکتے؟
    نشہ اووری ایک ایسا زہر ہے جو کسی کو ذہنی، جسمانی اور اخلاقی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے اور آخرکار موت کا سبب بن جاتا ہے۔ نشہ اوری کسی کو سماجی اور معاشرتی طور اکیلا، پاگل، بدکردار، ساٸل، چوری اور گداگری جیسے سرگرمیوں پر مجبور کرلیتا ہے اور نشے کے عادی لوگ ہمیشہ اپنے والدین، بیوی بچوں، رشتہ داروں، دوستوں سے غم اور خوشی میں اپنوں سے دور، لاپرواہی، لاعلمی،دینی، سماجی و معاشرتی عالم میں خوار اور ذلیل زندگی بسر کرلیتے ہیں۔
    نشہ اووری اور منشیات کی سب سے بڑے وجوہات و اسباب بری صحبت، بےروزگاری اور احساس کمتری ہیں۔ایک کہاوت ہے کہ” خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے” اس سے یہ صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جو کسی معاشرے کو اپناتا ہے تو وہ اسی معاشرے میں سیکھ کر اور اسی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اگر معاشرہ مثبت اور نیک چلن ہو تو بندہ باکردار اور معاشرتی تعميرات میں ایک اہم کردار ادا کرلیتا ہے اور اگر معاشرہ منفی اور مجرمانہ ہو تو بندہ ضرور مجرم اور تخریب کار سوچ کا مالک بن جاتا ہے ۔اور دوسری طرف وہ معاشرہ جہاں کام کاج اور روزگار نہ ہو اور بندہ احساس کمتری کا شکار ہوجاۓ تو وہ معاشرے سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے اور معاشرتی مسائل جیسے منشيات، چوری ڈکیتی اور دوسرے مجرمانہ، غیر اخلاقی اور تخریب کاری جیسے سرگرمیوں میں مبتلا ہوتاہے۔
    تو میرے ہم وطنوں! آٸیے کہ ہم سوشل میڈیا پر ایک مہم چلاٸیں اور وقت حکومت سے یہ اپیل کریں کہ خدارا اب ہمارے حال پر رحم کریں ہمارے نوجوان نسل پر رحم کریں ہمیں جینا ہے اور صرف جینا بھی نہیں بلکہ ہم ایک صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں جہاں یہ نشہ اور منشیات کے اڈے نہ ہوں اور آٸیے کہ ہم حکومت وقت سے یہ گزارش کریں کہ یہ جو منشيات کے اڈے ہیں اس کے خلاف کاروائی کریں اور ہماری آنے والی نسلوں کو اس معاشرتی ناسور سے بچایا جاۓ۔

    Writer Details 


    Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter

     

    The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline


    t;

  • کراچی اور بھکاری تحریر: ام سلمہ

    کراچی اور بھکاری تحریر: ام سلمہ

    بھکاری جو کراچی میں اس وقت ایک بڑے اور آسان پیشے کا رخ اختیار کر کیا ہے بہت ہی آسان لگتا ہے حلیہ بدلنا اور سڑک پے آجانا اور بھیک مانگنا کہیں عورتیں کہیں مرد کہیں بچے کہیں بوڑھے کہیں زبردستی معذور کیئے گئے لوگ بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں.
    بھکاریوں کی دن با دن بڑھتی ہوئی رفتار سے جرائم کو روکنے والے ادارے اس شک میں ہیں کہ کراچی میں بھکاری بھی بچوں کے اغوا ملوث ہیں.
    اور ساتھ ساتھ پولیس نے بھکاری مافیا کے منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں شمولیت کا انکشاف کیا ہے.
    پولیس کی طرف سے کراچی کی سڑکوں سے متعدد بھکاریوں کوگرفتار کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جہ سکے کے ان کے ساتھ بھیک مانگنے والے بچے شاید ان کے اپنے نہ ہوں اور ان کو اغوا کیا گیا ہو
    اس شبہے کی تصدیق کے لئے پولیس پولیس بچوں اور گرفتار شدہ بالغ بھکاریوں کا کچھ طبی جانچ کرنے کا کام شروع کر رہی ہے۔
    پولیس نے کچھ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر شہر میں بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے لئے مشترکہ تفتیش کا آغاز کیا ہے۔تاکہ اگر یہ کسی قسم کی جرائم میں ملوث ہیں تو اسکا پتہ لگایا جہ سکے.
    کراچی پولیس چیف سے بات کرنے پے پتہ چلا کہ اس سلسلے میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
    انہوں نے بتایا کے "حکومت سندھ کے کچھ محکمہ جیسے کے سوشل ویلفیئر اور بچوں کی پروٹیکشن اتھارٹی کچھ ٹرسٹ ، ٹریفک پولیس اور کچھ ہیلپ لائن جیسے کے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ، جرائم کو روکنے کے محکمے ، اور دیگر تنظیمیں اس کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کر رہی ہیں۔”
    ان کے مطابق اس بات کے کافی شواہد مل رہے ہیں کہ کراچی کے بھکاری بھتہ منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
    پولیس سربراہ نے کہا ان بھکاریوں میں سے بیشتر کا تعلق شہر کی مقامی آبادی سے نہیں ہے دوسرے شھروں سے آتے ہیں. اس میں سے کچھ تو جنوبی پنجاب کی طرف کے ہیں اور کئی نسلوں سے بھیک مانگنے کے پیشے سے منسلک ہے مختلف زبانوں اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کئی غیر ملکی شہری بھی ہیں ، جن میں سے ایک بڑی تعداد افغانی بھی ہے۔
    انہوں نے کہا ،مختلف تنظیموں سے ہماری ملاقات کے دوران ، ہم نے ان بھکاریوں کے ہمراہ بچوں کے بارے میں اپنے شک کا ظاہر کیا اور ان کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معلوم کریں کہ بچوں کو کہیں سے اٹھایا تو نہں گیا ہے۔
    بہت سے معاملات میں ، بھکاریوں نے جان بوجھ کر اغوا کیے گئے بچوں کے اعضاء اور ہاتھ / پاؤں کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ انہیں بھیک مانگنے کے کاروبار میں بطور اوزار استعمال کرسکیں۔
    کراچی پولیس چیف کے مطابق ، شہر میں محکمہ سوشل ویلفیئر کی نگرانی میں کورنگی اور ملیر میں بھکاری بچوں کے رہائش کے مراکز موجود ہیں جہاں بھکاریوں اور ان کے بچوں کو رہائش اور کھانے کی مکمل سہولت فراہم کی جائیں گی۔
    پولیس کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کی صحیح طرح تشہیر کی ضرورت ہے تاکہ بکھاری مافیا کو پتہ چلے اور ساتھ ہی عوام کے بھی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے بچوں کے اغوا کے واقعات کو روکا جا سکے اور ایک معاشرہ بنانے میں ہوں پولیس کی مدد کر سکیں.
    تحریر

    @salmabhatti111

  • مسئلہ کیا ہے؟        تحریر : جواد خان یوسفزئی

    مسئلہ کیا ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی

    مغرب اور اس کے نقش قدم پر چلنے والی چند دوسری اقوام دنیاوی ترقی میں ہم سے آگے ہیں تو اس کی کچھ مادی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن یہ ایک معمہ ہے کہ اخلاقی طور پر بھی ہم ان سے بہت پیچھے ہیں۔ جھوٹ، دھوکہ دہی، کینہ پروری، معاشرتی بے حسی، ظلم و جبر، بد عنوانی۔۔۔ العرض کونسی برائی ہے جس میں ہم دنیا میں نمایاں مقام نہیں رکھتے۔
    اس کی بہت سی وجوہات پیش کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی ایک وجہ واحد وجہ نہیں ہوسکتی۔ انسانی معاشرہ بہت پیچیدہ نظام ہوتا ہے اور اس کے محرکات کثیر جہتی ہوتے ہیں۔
    ہماری اخلاقی پسماندگی کی ایک وجہ کچھ یوں بھی ہوسکتی ہے:
    ہر معاشرے کا اخلاقی ڈھانچہ کسی نہ کسی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ مثلاً جدید مغربی اخلاق کی بنیاد انسان دوستی ہیومنزم پر ہے۔ اس فلسفے کی رو سے دنیا میں سب سے اہم چیز انسان کی انفرادی اور اجتماعی (دنیاوی) فلاح اور خوشی ہے۔ اسی سے لبرلزم، سیکولرزم، جمہوریت، افادیت پسندی الٹرا ہیومنزم اور سائینسی طرز فکر نے جم لے لی۔ مغربی معاشرے کے افراد بالعموم انسان دوستی سے اخذ کردہ اخلاقی اصولوں کی کڑی پاسداری کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ معاشرے کے علاوہ خود ان کی ذات کے لیے بھی مفید ہے۔
    اس کے مقابلے میں ہمارا معاشرہ اخلاقی اصول مذہبی تعلیمات سے اخذ کرتا ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے اور کس قسم کے رویوں سے اجتناب کرنا ہے۔ ہمارے مذہبی اصول قران اور سنت سے اخذ ہوتے ہیں اور ان دونوں کے موضوعات کی بھاری اکثریت اخلاقی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ان اخلاقی تعلیمات پر بہت کم عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم دنیا کی کسی بھی دوسری قوم کے مقابلے میں زیادہ مذہبی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مذہب سے ہمارا شعف بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن ہم میں مذہب کا وہ پہلو زیادہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے جس کا تعلق عقیدے اور مذہبی عبادات و رسومات سے ہے اور مذہب کی اخلاقی تعلیمات کی اہمیت کا احساس کم ہوتا جارہا ہے۔ اس رجحان کو ہم حال اور ماضی قریب میں لکھنے جانے والے مذہبی لٹریچر، نیز مذہبی علماء کے خطبات میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسلامی فقہ کو ایک ٹیکنیکل فن سمجھا جانے لگا ہے جس پر بات کرتے ہوئے اخلاقی پہلؤں کو مدنظر رکھنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ حالانکہ قران مجید میں جہاں بھی کوئی قانون بیان کیا گیا ہے اس کے انفرادی یا اجتماعی اثرات کا ذکر ضرور ہے۔
    یہ رجحان اس قدرزور پکڑ چکا ہے کہ اگر کوئی اسلام کے اخلاقی تعلیمات پر زیادہ زور دے تو اس پر شک کیا جاتا ہے۔ پچھلی صدی کے ایک مشہور مصنف پر دین میں تحریف کے جو الزامات لگائے گئے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس کی ایک کتاب میں اخلاقی برائیوں سے اجتناب کو بھی عبادت قرار دیا گیا تھا۔
    حاصل کلام یہ کہ ہمارے اخلاقی نظام کی بنیاد مذہب پر ہے لیکن موجودہ دور میں مذہب کے اخلاقی پہلو پر توجہ کم ہے۔ اس سے ہمارے اخلاقی نظام کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں۔ یہ احساس وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے کہ عقیدہ درست ہو اور عبادات کا اہتمام کیا جائے تو فلاح یقینی ہے۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کے لیے لوگوں کو یقین دلانا ہوگا کہ معاشرتی ذمے داریوں کو انجام دیے بغیر ہماری فلاح ممکن نہیں، چاہے ہم کتنی ہی زیادہ عبادت کیوں نہ کریں۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • ہم مجموعی طور پر ایک شدت پسند معاشرے کا حصہ ہیں۔  تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    ہم مجموعی طور پر ایک شدت پسند معاشرے کا حصہ ہیں۔ تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    ۔۔ شدت پسندی ہمارے خمیر کا حصہ بن چکی ہے،ہمارے نظریات میں رچ بس چکی، جو کہ اب کھرچے نہیں جاتی۔۔۔!!
    ایسی شدت پسندی اور ایسی نفرت ہماری رگوں میں دوڑ رہی ہے جو ہمیں بنیادی انسانی احساسات سے بھی عاری کیے دیتی ہے۔۔۔!!

    نور مقدم کیس پر میرے لکھے گئے ارٹیکل پر بھی کئی احباب عجب تاویلات و توجیہات لیے آن وارد ہوئے جس پر بندہ حق دق رہ جاتا۔۔۔!!

    لوگوں کے نزدیک نور مقدم کا یہ بہیمانہ قتل کچھ برا نہیں۔۔کیوں۔۔؟ کیونکہ وہ فیمینسٹ یا لبرل تھی۔۔!! ایسا قتل جو رونگھٹے کھڑے کر دینے والا ہو جس کے اثرات معاشرے کی مجموعی نفسیات کو مسخ کر کے رکھ دینے والے ہوں۔۔۔ایسا قتل بھی درست ٹھہرا اگر آپکے مخالف نظریے والے کا ہوا ہے۔۔۔۔

    اچھا یہاں پر ایک بات واضح کر دوں۔۔یہ اس نور مقدم والے کیسں کے حوالے سے تحریر نہیں۔۔یہاں مدعا وہ اپروچ ہے وہ سوچ ہے وہ رویہ ہے جو بطور قوم ہم اپنائے ہوئے ہیں بطور معاشرہ جو ہم رکھتے ہیں۔۔۔!!
    اسی سوچ یا ذہنیت کی چند مثالیں مزید دوں تو

    ایسے ہی چند اذہان مذہبی فرقہ واریت اور اختلاف میں مخالف فرقے پر کفر اور گستاخی کے فتوے لگانے اور دوسرے فرقے کے سر تن سے جدا کرنے انہیں قتل کر دینے کے متمنی ہوتے ہیں ۔۔۔

    ایسے ہی ذہن کے لوگ بھارت میں کورونا کی صورتحال بگڑنے پر خوشیاں منا رہے تھے۔۔۔کہ چونکہ ہمارا دشمن ملک لہذا وہاں کی بے گناہ عوام بھی اگر کسی قدرتی آفت میں ایڈیاں رگڑ رگڑ کر مرتی ہے تو ٹھیک ہے اچھا ہے۔۔۔!!

    ایسے ہی متشدد اذہان ہوتے جو آنر کلنگ کی تاویلات کرتے کہ جب کوئی بھائی کسی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کر دے۔۔تو کہتے چونکہ اس بہن نے یہ کیا لہذاء اس کا قتل ٹھیک ہے اچھا ہوا صحیح انجام۔۔!!

    ایسی ہی ذہنیت ہوتی کہ کوئی آپکے سیاسی یا مذہبی نظریے کی مخالفت کرے تو اسے ماردو۔۔ کاٹ دو۔۔دبا دو ۔۔ اگر خود نہیں بھی۔۔۔ تو یہ خواہش ذہن میں ہو کہ اس کی نسلیں ختم ہو جائیں اس پر بہیمانہ تشدد ہو۔۔
    اسے اذیت ناک موت دے دی جائے وغیرہ وغیرہ

    یہ سب کیوں۔۔؟ کیونکہ اپ ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔۔
    یا وہ مجرم ہیں۔۔۔
    یا وہ گناہگار ہیں۔۔۔۔
    لہٰذا انہیں انسان سمجھنے کی ضرورت نہیں۔۔
    لہذا ان کے ساتھ جو بھی غلط ہو وہ صحیح ہے۔۔۔
    لہٰذا دین و قانون کی حدود بھی پس پشت سہی۔۔۔
    لہذا ان کا قتل بھی درست بس ان کے کرتوتوں کی سزا کہہ کر پلو جھاڑ لو۔۔۔
    لہذا ان کی مال،جان، اور عزت کی کوئی ہی توقیر نہیں۔۔۔۔

    اسے کہتے کم ظرفی،اسے کہتے اخلاقی گراوٹ، اسے کہتی ہیں ذہنی پستی۔۔۔
    رب تعالیٰ ہمیں کم ظرف دشمنوں سے بچائے۔۔۔!!

    ہم غلط کو ٹھیک کرنے کی پوٹینشل نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی غلط کو ٹھیک کرنا چاہتے بلکہ ہم اسے ختم کر دینا چاہتے۔۔۔اسے مار دینا چاہتے۔۔۔دبا دینا چاہتے۔۔۔!!

    دین نے گناہگار کے لیے بھی توبہ کا دروازہ رکھا۔۔۔
    قانون نے مجرم کو بھی قانونی استحقاق دیا۔۔۔
    لیکن ہم نے۔۔ مجرم اور گنہگار تو کجا اختلاف کرنے والے کے لیے بھی کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔۔کبھی سوچا ہے جو ایسے متشدد اذہان والے بااختیار ہو جائیں تو معاشرے کا کیا حشر ہو۔۔؟؟ جسٹ امیجن۔۔!!

    پھر ذہن میں رہے۔۔!! یہ معاملہ نور مقدم کا نہیں،قتل کا بھی نہیں،لبرل اور ملاں کا بھی نہیں،حتی کہ انصاف کا بھی نہیں۔۔۔یہ معاملہ سوچ کا ہے۔۔۔
    دا وے ہاو آ نیشن تھنک۔۔!

    یہ نفرت، یہ وائلنٹ اپروچ، یہ شدت پسندانہ رویہ، ہمیں بنیادی انسانی احساسات تک سے عاری کر چکا ہے۔۔۔اور ایک بات تو طے ہے کہ بنیادی احساسات سے بھی عاری معاشرہ انسانوں کا معاشرہ کبھی نہیں، قطعاً نہیں کہلا سکتا۔۔۔!!

  • فیمنزم  تحریر : اقصٰی صدیق

    فیمنزم تحریر : اقصٰی صدیق

    ویسے تو فیمنزم کی تاریخ بہت پرانی ہے مگر صحیح معنوں میں فیمنزم ایک ایسا تصور ہے جس کے مطابق مرد اور عورت دونوں یکساں انسانی حقوق، بنیادی سہولیات، معاشی اور سماجی حقوق کے حق دار ہیں۔فیمنزم اصل میں مغربی خواتین کی اپنے حقوق کے لیے کئیے جانے والی جدوجہد کی ہی ایک شکل ہے۔
    فیمنزم کا آغاز اس وقت ہوا، جب 1911 میں برطانوی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔

    دیکھا جا سکتا ہے، کہ مغربی خواتین نے اپنے حقوق کیلئے کوششیں کی جو ابھی تک جاری ہیں ۔
    مغربی خواتین نے پہلے خود کو مرد کے تسلط سے آزاد کیا، تعلیم، ملازمت، بزنس، غرض کہ ہر جگہ یکساں اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں جس کے پیش نظر انہیں حقوق کی جدوجہد میں بہت آسانیاں رہیں۔
    حال ہی میں پاکستان میں بھی فیمنزم کا نام سنا جانے لگا ہے گزشتہ کچھ سالوں سے اس میں بہت تیزی بھی آئی ہے۔ پاکستان میں فیمنزم کے حوالے سے خواتین کا کردار ہر گز مغربی خواتین والا نہیں ہے یہاں خواتین کو حقوق مغربی خواتین والے چاھئیں مگر ذمہ داریوں کے لحاظ سے پاکستان کی خواتین اتنی زمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔
    معاشرہ مرد و عورت دونوں سے مل کر بنتا ہے۔دیکھا جائے تو خواتین کے استحصال میں مردوں کا حصہ زیادہ گناجاتا ہے، یہ بات بھی قابل قبول ہے لیکن خواتین اس معاشرہ کا حصہ ہیں۔ خواتین پر ظلم نہیں کیا جاسکتا، یہ ترقی یافتہ قوموں کا دستور نہیں۔

    موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر گالی کی طرح بنا دیا گیایہ لفظ عورتوں کے اپنےحقوق کی کتنی لمبی لڑائی اور جدوجہد کے کے بعد وجود میں آیا ہے، تاریخ میں اس کے حوالے سے ہزاروں مضامین اور کتابیں موجود ہیں لیکن آج بات چیت کا موضوع وہ نہیں ہے۔

    جب ایک معاشرہ عورت کی عقل و دانش کی نفی کرتا ہے تو اسے فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا، اسے اختیارات حاصل نہیں۔ایسے معاشرے میں عورت کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی مانند ہوتی ہے جن کو انسان کچھ فائدے اٹھانے کے لیے پالتا ضرور ہے لیکن انہیں وہ اپنا جیسا نہ تو اپنے جیسا سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی ان سے برابری کا سلوک کر سکتا ہے۔

    حقوق نسواں(عورتوں کے حقوق) اور فیمنزم بھی ایک ایسا ہی موضوع ہے،
    جس پر ہمارے معاشرے میں بغیر کسی سمجھ بوجھ کے، اسکی تاریخ، اغراض و مقاصد، اور کردارکو جانے بغیر رائے دی جاتی ہے اور بعد میں یہی اختلاف رائے یا اتفاق رائے بعض اوقات بہت پیچیدہ مسائل کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔
    فیمنزم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں مردکت نقطہ نظر کو ترجیح دی جاتی ہے اور خواتین کے ساتھ غیر مساوی، امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں فیمنزم ایک ایسی جدوجہد مسلسل کا نام ہے جس میں خواتین کیلئے مردوں کے برابرتعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے حصول کی جدوجہد کرنا شامل ہے۔
    خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے مسلسل ایک تحریک فیمنسٹ موومنٹ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، اس مہم میں خواتین کا ووٹ ڈالنے کا حق، عوامی عہدے پر فائز ہونا، جائداد کی ملکیت کا حق حاصل کرنا، تعلیم حاصل کرنا، پسند کی شادی کرنے کا حق خواتین اور لڑکیوں کو عصمت دری، جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنا، من پسند لباس زیب تن کرنا اور مناسب اور قابل قبول جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حقوق شامل ہیں۔

    عورت ’’انسان ‘‘ کا نسوانی روپ ہے۔تو ظاہر ہے کہ اس کے امکانات بھی لامحدود ہیں۔

    ہم تاریخ کے تسلسل کا ایک حصہ ہیں۔برصغیر میں مسلمان معاشرے کی تاریخ ہمیں ہرگز یہ نہیں بتاتی کہ ہمارے آباؤ و اجداد عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
    زیادہ تر معاشروں میں یہ رواج نہ جانے کب سے چلا آرہا ہے کہ عورتوں کو مذہبی معاملات سے دوررکھا جاتا ہے۔ دنیاوی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے دینی تعلیم کی بھی نفی کی جاتی ہے۔
    برصغیر کے مسلم معاشرے میں عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم کرنے کے روشن شواہد موجود ہیں۔

    آج جب میں دنیا بھر کے مسلمان معاشروں میں عورت پر ظلم ہوتا دیکھتی ہوں، تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔کیونکہ میں مغرب کی آزاد و خود مختار عورت کو پس پشت ڈالتے ہوئے زمانہ جاہلیت کے دور میں زندہ دفن کر دی جانے والی عورت سے لے کر موجودہ دور میں ظلم و تشدد، جبر، غربت کی چکی میں پیستی، ہراساں کی جانے والی، تیزاب پھینک کر جلا دی جانے والی اور غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والی بنتِ حوا کو دیکھ کر خوف زدہ ہوں، اور ان کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہوں.

    @_aqsasiddique

  • ہنر سیکھے اور  فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    ہنر سیکھے اور فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    آج کل کے دور میں ہر کوئ چاہتا ہے کہ ان کے پاس بہت سارا پیسہ ہو اور وہ اسی پیسے سے اپنے دل کی ہر خواہش پوری کرے۔ لیکن کچھ لوگوں کو نہیں معلوم کہ وہ پیسے کس طریقے سے کماۓ اور اس کیلۓ کونسا پلیٹ فارم استعمال کرے جس سے وہ آسانی سے پیسا کماۓ۔
    آج کل جب کرونا کا وبا چل رہا ہے تو اس سے بہت ہی کم وقت میں بہت زیادہ ملکوں کی معیشت خراب ہوگئ جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے کاروبار خراب ہوگۓ کیونکہ وبا کے شروع ہوتے ہی بہت سے ملکوں میں لاک ڈاؤن لگ گۓ ۔ امیر سے امیرتر کی بھی بری حالت بن گئ ہے تو پھر غریب لوگوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔
    جب دنیا میں لاک ڈاؤن لگ گیا تھا اور ہر قسم کے کاروبار بند تھے اور لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے پر پابندی تھی تو اس وقت سب کچھ آنلائن ہورہا تھا اور لوگ اپنے دفاتر کے کام آنلائن کرتے تھے تو اس وقت جن لوگوں کو آنلائن کام آتا تھا اور جو لوگ فری لانسینگ کر رہے تھے وہی لوگ فائدے میں تھے ۔
    فری لانسینگ کے بہت فائدے ہے اگر کوئ بندہ فری لانسینگ کرتا ہو تو انہیں اپنی فیملی سے دور نہیں جانا پڑتا بلکہ وہ گھر بیٹھ کے بھی کام کرسکتے ہے جب کہ دوسرا بڑا فائدہ ایک ہنر ہوتا ہے اپنے ہاتھ میں اور جب بندہ چاہے وہ استعمال کرسکتے ہے ۔ تیسرا فائدہ اگر کوئ بندہ نوکری کررہا ہو تو وہ فری لانسینگ کو پھر ڈیوٹی سے آ کر بھی کرسکتا ہے
    فری لانسینگ کیلۓ دو چیزیں اہم ہے پہلا چیز ہنر سیکھنا اور دوسرا انگلش کا سمجھنا۔ جب انسان کو ایک چیز سمجھ میں آنا شروع ہوتا ہے تو اس کو اس چیز میں لگن ہوجاتی ہے اور وہ پھر اسی چیز کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اس طرح جتنے بھی ٹاپ فری لانسرز ہے وہ ہمیشہ یہی کہتے ہے کہ فری لانسنگ کا مزہ ایک بار ضرور لیں۔
    جب انسان کے پاس ہنر ہو اور انہیں پیسے کی ضرورت ہو لیکن بیچارے کو یہ نہ ہو معلوم کہ میں نے اس ہنر کو لے کے کس طرح اپنی ضروریات کو پوری کرنا ہے تو پھر اس ہنر کا فائدہ ہی کوئ نہیں۔
    میرا ایک یونیورسٹی کا دوست تھا جن کی گھریلوں حالت بہت خراب تھی ایک دن ہاسٹل میں کسی بندے کے ساتھ بیٹھ کے اپنے گھر کے حالات کا انہیں بتایا تو انہوں نے پوچھا بھائ کمپیوٹر سے متعلق کچھ آتا ہے جس پر میرے دوست نے کہا کہ ہاں مجھے گرافکس ڈیزائننگ آتی ہے اس بندے اسی ٹائم ان کو فائیور پر پروفائل بنا کر اسے فری لانسنگ کے بارے میں سمجھایا جب میرے دوست نے فری لانسینگ پر کام شروع کیا تو یقین جانے اس کے حالات بدل گۓ اور وہ اسی فری لانسینگ سے آج ایک لاکھ تک مہینہ کما رہا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہے جو کہ فری لانسینگ سے مہینے کے لاکھوں روپے کما رہے ہے ۔
    ایک طرف اگر ہم لوگ دیکھ لے تو اس سے ہمارے ملک کی معیشت کیلۓ بڑے فائدے ہے اور جتنا اگر لوگ فری لانسینگ کرینگے اتنا پیسہ آئیگا باہر کی ممالک سے اور ہمارے روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا اور ملک معیشت کے لحاظ سے مضبوط ہوگا۔
    آخر میں میں اپنے ملک کے پڑھے لکھے جوانوں س یہی کہونگہ کہ ایک دفعہ ضرور کوشش کرے اور اپنے ہنر کو چھپانے کے بجاۓ ا سے باہر لے آے اگر آپ چاہتے ہے کہ گھر بیٹھے پیسے کماۓ تو فری لانسینگ سیکھ کر اسے ایک دفعہ ضرور آزماۓ آپ کی زندگی بدل جاۓ گی۔

    Waseem khan
    Twitter id: Waseemk370

  • بے لوث محبت کی انمول داستان  ماں  تحریر : چوہدری عطا محمد

    بے لوث محبت کی انمول داستان ماں تحریر : چوہدری عطا محمد

    ایک ایسی آواز جو آپ کے کانوں میں رس گھول دے ایک ایسا لفظ جس کو بول کر آپ کا منہ مٹھاس سے بھر جاۓ ایک ایسا رشتہ جو ہر خوشی اور تکلیف میں آپ کے منہ سے بنا سوچے ہی نکل جاۓ جی بلکل آپ میں سے زیادہ تر سمجھ گے ہوں گے وہ ہے ماں کا اپنی اولاد سے رشتہ ماں کی عظمت اور ماں کی شان میں لکھنا میرے سمیت کسی کے بھی بس کی بات نہیں ماں کی شان اور عظمت پر کچھ لکھنا بلکل ایسے ہی ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کرنا ماں شفقت اور پیار اور خلوص و محبت کا ایسا بے لوث رشتہ ہے جس کی مثال کہی نہیں ملتی ماں ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے محبت و قربانی کا دوسرا نام ہے سخت دھوپ ہو یا طوفان گرمی ہو یا سردی اس کا دست شفقت ایک گھنے سایہ دار درخت کی طرح سائبان کی شکل میں اپنی اولاد کو سایہ اور سکون عطا کرتا ماں سے زیادہ اپنی اولاد سے محبت کرنے والی ہستی پیدا ہی نہیں ہوئی ماں کا رشتہ ایسا رشتہ جو نہ تو کبھی کوئی احسان جتاتی اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی بلکہ بے غرض ہر وقت ہر گھڑی اپنی اولاد کی لئے اپنے مالک سے اپنی اولاد کی خوشیاں راحتیں اور سکون کے لئے دعائیں مانگتی رہتی دامن پھیلا پھیلا کے
    اللہ تعالی نے اس کے عظیم اور بے مثال ہونے اور ماں کی عظمت بتائی کہہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی اور انسان کو یہ بات بتا دی کہہ اب جو چاۓ اس جنت کو حاصل کرے اپنی ماں سے پیار کر کے اس کی خدمت اور احترام کر کے اس جنت کو حاصل کر سکتا ہے اگر آپ بظاہر دنیاوی رشتوں کی بات کریں تو تمام رشتوں جیسے بھائی بہن چاچا ماما پھوپھی یا خالائیں ہر رشتہ میں کوئی نہ کوئی خود غرضی ہوسکتی لیکن یہ انمول رشتہ ہر غرض سے پاک بے لوث بے مثال ہے ایک بیٹا جب کہیں سےبھی آتا گھر میں باقی تمام رشتے جو کہ اس کے اپنے ہوتے ہیں ہر رشتہ آپ کی باہر اے لائی ہوئی چیزوں پر غور کرتا صرف ایک ماں ہی ہوتی جو صرف اپنے جگر کے ٹکڑے کی طرف متوجہ رہتی بغیر پلکیں جپھکے ماں کی دعائیں اپنی اولاد کا ساۓ کی طرح پیچھا کرتی ماں جہاں اور جس حال میں بھی ہو وہ اپنی اولاد کو ہمیشہ خوش وخرم دیکھنا چائیتی اولاد کس طرح بھی لاپرواہ اور دنیا کی نظر میں جتنی بھی بری کیوں نہ ہوں ماں اس کے ہر عیب پر پردہ ڈالتی

    ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا ”یارسول اللہﷺ !میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے “؟۔فرمایا ”تیری ماں “ پوچھا ”پھرکون“ فرمایا۔۔” تیری ماں “ اُس نے عرض کیا ۔۔”پھر کون “ ۔فرمایا ۔۔”تیری ماں“ تین دفعہ آپ نے یہی جواب دیا ۔چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا ۔”تیرا باپ “۔ دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیاگیا ہے      ماں اللہ رب العزت کا ایسا عطیہ اور نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل اولاد کے لئے اقوام عالم میں نہیں ہے ماں جو ہے اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دل کے اندر چھپی ہوئی خوشی اور غمی دونوں کو پہچان لیتی ہے اپنی اولاد کے دل میں کیا چل رہا ہے یہ ایک ماں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ماں کا چہرہ تسبیح کے دانوں کی طرح ہوتا
        ایک بار ایک صحابی حضور نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اپنی ماں کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ہے ، کیا میں نے ماں کا حق اداکر دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: نہیں ، تُونے ابھی اپنی ماں کی ایک رات کے دودھ کا حق بھی ادا نہیں ہوا آج کے اس فیشن زدہ دور حاضر میں ہمارے لوگ ایک دن ماں کے نام پر مناتے ہیں جس دن مدَر ڈے کہا جاتا ہے اولاد سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کچھ اچھے اچھے پیغامات اپنی ماں کے لئے لکھتے اور ہمارے ناسمجھ یہ سمجھ بیٹھتے کہہ ہم نے ماں سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے کیا یہی پورے سال میں ایک دن کے لئے چند پیغامات شئیر کرنا ہی کافی ہے کیا اوپر اسی لئے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زکر کیا ہے
    آج کی اولاد بس اتنے می ہی خوش ہوجاتی اور سمجھ بیٹھتی میں اپنی ماں سے بہت پیار کرتا ہوں
    ماں کی قدر انسان کو تب ہوتی جب یہ انمول رشتہ اللہ پاک اپنے پاس بلا لیتا خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں زندہ ہیں اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت کما رہے ہیں ماں کا چہرہ پیار سے دیکھنا بھی عبادت ہے اللہ پاک جن کی مائیں سلامت ہیں ان کو ہمیشہ سلامت محفوظ رکھے اور جن کی مائیں فوت ہوگئ ہیں اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین
    اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں

    @ChAttaMuhNatt

  • غریب کا مقام اور اسلام کے احکام تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    غریب کا مقام اور اسلام کے احکام تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    اسلام اپنے پیروکاروں کو احساس کا درس دیتا ہے. اس زمرہ میں مختلف عوامل سے کمزوروں کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے. کبھی صدقہ، کہیں خیرات کہیں فطرانہ تو کہیں زکواۃ غرض مختلف پہلو َاس احساس کے ہیں. حالیہ قربانی جیسا عظیم شعار_ اسلام اسی کی ایک کڑی ہے. جس میں 1 حصہ غریبوں کے لیے مختص کر کے احساس دلایا گیا کہ امیروں کی کمائی میں غریبوں کا رزق موجود ہے. اللہ کریم نے ایک نظام بنایا ہے. انہی عوامل میں امت کے لیے فوائد بھی رکھ دئیے تاکہ غریبوں کی امداد کا سلسلہ نہ رکے. جیسا کہ نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا.
    صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے. تو کسی کی بلائیں ٹلتی کسی کا پیٹ پلتا ہے.
    معاشرے کا سب سے کمتر دیکھا جانے والا یہ طبقہ حقیقت میں اس کا زمہ دار خود تو نہیں. یہ میرے رب کی رزق کی تقسیم ہے کسی کو دے کر آزما رہا ہے تو کسی کو محروم رکھ کر. یہ اسی کی حکمتیں ہیں.
    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
    اور اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دے.
    تو یہ تو اللہ کی تقسیم ہے.
    اسی طرح زکواۃ دیجیے اور اللہ سے تجارت کا عہدہ پائیے.
    مال کی پاکیزگی بھی حاصل کیجیے. زکواۃ کو مال کی میل کچیل قرار دے کر اپنے مال کو پاک کرنے کا حکم دیا گیا.تو کسی کا مال پاک ہوا اور کسی کا پیٹ پال دیا گیا.
    الغرض کمزور طبقے کے فروغ کے لیے جو قوانین و ضوابط اللہ رب العزت نے اس دین اسلام میں مقرر فرماے ان کی مثال کہیں نہیں ملتی.
    غریب زمانے میں تو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس کے بڑے درجے ہیں.
    جیسا کہ نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو اللہ کے دیے تھوڑے رزق پر راضی ہو گیا. اللہ کریم کل بروز قیامت اس کے تھوڑے اعمال (صالح) پر راضی ہو جاے گا.
    غریبی میں صبر بہت مشکل لیکن بہت کامل عمل ہے جو بندے کو رب سے بلاواسطہ ملاتا ہے.
    دوسری جانب جو رب العالمین کے دئیے ہوے سے خرچ نہیں کرتے ان کے لیے سخت وعید بھی ہے.
    غریب کو حقارت کی نظر سے دیکھنا کفار کا طریقہ ہے اور اللہ کریم غریبوں کے زریعے امیروں کو آزماتا ہے اللہ رب العزت نے اس بارے کچھ ہوں سورۃ الانعام میں ارشاد فرمایا
    وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(۵۳)
    یہاں آیت کی پہلے حصے میں فرمایا گیا کہ *اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی* یعنی مالدار کی غریب کو لیکر آزمائش کی جاتی ہے پہلی آیت کے حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ غریبوں کے زریعے امیروں کی آزمائش کی جاتی ہے صحابہ کے ساتھ بھی یہ ہوتا تھا کہ مالدار کفار غریب مسلمانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے اور ان کا مذاق اُڑاتے اور اسلام کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام سچا ہے تو مسلمان فقیر کیوں ہیں؟ تو یاد رکھیں غریب کو حقارت سے دیکھنا کفار کا عمل ہے. اپنے معاشرے میں توازن لانا ہماری زمہ داری ہے اسلام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی اسی لیے قرار دیتا کہ اپنے ساتھ موجود غریبوں اور کمزوروں کی مدد کی جاے یہ مسلمان کی شان ہے. غریبوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہئے کیونکہ مشاہدے کی بات ہے غریب ہوتے دیر نہیں لگتی. دروازے کے باہر غریب اور اندر دینے والا امیر ہوتا ہے میرا رب بڑا بے نیاز ہے ہو چاہے تو پل میں دروازے کا رخ بدل ڈالے (ضرورت مند کو خوشحال اور دینے والے کو ضرورت مند کر دے) سوچنے کی بات ہے دروازہ تو ایک ہی ہے. رخ بدلتے دیر نہیں لگتی. کب وہ جھکے ہوے ہاتھ کو پھیلا کر مانگنے والا بنا دے. یہ اس اللہ کریم کے فیصلے ہیں اور وہ اپنے فیصلوں میں بے نیاز ہے. اس لیے غریبوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے.
    احساس کیجیے غریب بھی میرے رب کی مخلوق ہے. اور اسلام ہمیں اس مخلوق سے پیار سے پیش آنے اور ان سے نرمی کرنے ان کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے. اللہ کریم ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @EngrMuddsairH