Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اردو، زوال کا شکار.  تحریر: احسان الحق

    اردو، زوال کا شکار. تحریر: احسان الحق

    کہتے ہیں کہ جسمانی غلامی سے ذہنی غلامی بڑی لعنت ہے. جسمانی غلام قوم ایک نہ ایک دن آزاد ہو جاتی ہے مگر ذہنی طور پر غلام قوم نسل در نسل غلام ہی رہتی ہے. ان کے ذہنوں سے غلامی کبھی ختم نہیں ہوتی. پاکستان نے جسمانی طور پر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی مگر بدقسمتی سے آج تک انگریزی زبان کی ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکا۔ وطن عزیز میں انگریزی زبان ہی پڑھے لکھے ہونے کا معیار چانچنے کا پیمانہ بن چکی ہے. آپ اردو یا اپنی مادری زبان میں جتنی زیادہ انگریزی کی ملاوٹ کریں گے آپ اتنے ہی زیادہ پڑھے لکھے تصور کئیے جائیں گے. لوگوں پر رعب ڈالنے یا متاثر کرنے کے لئے بھی اردو میں انگریزی الفاظ کی زبردستی ملاوٹ کی جاتی ہے. دنیا میں جتنے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے انگریزی پر اپنی مقامی اور قومی زبانوں کو ترجیح دی. چین، جاپان، روس، عرب ممالک اور کوریا سمیت دنیا کے ترقی یافتہ اور بڑے ممالک اپنی قومی زبان کو بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے اور سرکاری اور قومی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں.

    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی قومی زبان اردو ہے. اردو پاکستانیوں کی صرف قومی زبان ہی نہیں بلکہ بزرگوں کی شان، شناخت اور غیرت بھی ہے. بزرگوں کی اس لئے کیوں کہ نوجوان نسل اب اردو بولنے لکھنے میں عار محسوس کرتے ہیں. اب پاکستانیوں کا خیال ہے کہ علم و فراست اور پڑھے لکھے کی نشانی یہی ہے کہ بندہ اردو کی جگہ زیادہ سے زیادہ انگریزی کا استعمال کرے. یقین جانیں ہم بھی اسی کو زیادہ پڑھا لکھا سمجھتے ہیں جو انگریزی بولنا جانتا ہو، حالانکہ انگریزی علم نہیں بلکہ زبان ہے. خاکسار کے نزدیک موجودہ میڈیا اور انٹرنیٹ کی ترقی کے دور میں خالص اردو بولنا مشکل کام ہے بلکہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے.

    سقوط ڈھاکہ میں سب سے اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. خاکسار کے مطابق پاکستان کے دو لخت ہونے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. پہلی بار ڈھاکہ میں11 مارچ 1948 کو اردو کے مقابلے میں، بنگالی زبان کے حق میں اور اردو کے خلاف ایک جلوس نکالا گیا جس کی منزل وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین کا دفتر تھی. جلوس شرکاء کا مطالبہ تھا کہ اردو کی جگہ بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے.

    اردو کی مخالفت میں مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہوتے جا رہے تھے. اسی لئے 21 مارچ 1948 کو بانی پاکستان جناب حضرت قائداعظمؒ ڈھاکہ میں تشریف لے گئے اور ریس کورس میں ایک عظیم مجمعے میں کھلے الفاظ میں فرمایا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اردو ہی رہے گی البتہ بنگال صوبائی سطح پر سرکاری زبان کے طور پر "بنگالی” زبان اختیار کر سکتا ہے. حضرت قائداعظمؒ نے فرمایا کہ
    "میں آپ سب پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ پاکستان کی قومی اور ریاستی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی، کوئی دوسری زبان نہیں. کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے اہم ہے کہ اس کی زبان ایک ہو”
    قائداعظمؒ کے رعب دار خطاب سے بنگالی خاموش اور کسی حد تک مطمئن ہو گئے. 26 جنوری 1952 میں خواجہ ناظم الدین نے بھی ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہی ہوگی. حالانکہ خواجہ ناظم الدین کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور وہ خود بنگالی تھے.

    بدقسمتی سے اب ہماری عزت، غیرت اور شناخت اردو پاکستان میں زوال پذیر ہے. ہم آہستہ آہستہ اپنی غیرت کا گلہ گھونٹ رہے ہیں. خدانخواستہ اردو جس طرح پستی کی طرف جا رہی ہے اگلی نسلیں اردو کا تذکرہ کتابوں میں پڑھیں گی کہ اردو زبان بھی ہوا کرتی تھی. ہماری آئینی، سرکاری، سیاسی، عدالتی حتیٰ کہ چھوٹے سے چھوٹے ادارے اور محکمے کی زبان انگریزی ہے. سونے پہ سہاگہ ہمارے انتہائی غیر معیاری اور کسی حد تک غیر اخلاقی ڈرامے بھی اردو کا ستیا ناس کر رہے ہیں. ایک زمانہ تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ثقافت سے بھی بھرپور ہوتے تھے جس میں اردو کے الفاظ کا بہترین انداز میں استعمال کیا جاتا اور خیال کیا جاتا تھا. مگر اب ایسا نہیں ہے. ہم نے صرف انگریزوں سے آزادی حاصل کی مگر بدقسمتی سے انگریزی سے نہیں. ہم انگریزی سے کب آزادی حاصل کریں گے؟ اردو زبان کو ہم پاکستانی عزت نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟

    @mian_ihsaan

  • صفائی نصف ایمان اور پاکستان   تحریر : محمد ماجد

    صفائی نصف ایمان اور پاکستان تحریر : محمد ماجد

    ہمارے دین اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے بھی قرآن پاک میں کئی جگہ پاکیزگی اور صفائی کا حکم فرمایا ہے مگر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی کیا ہم ان احکامات پر عمل کر رہے ہیں ؟
    پانچ وقت نماز کی پابندی تو ہم کرتے ہیں مگر اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم صفائی کا خیال نہ رکھیں اُس کو بھول جائیں ۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمارے دین اسلام نے ہمیں نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے ، حج کرنے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے وہیں دین ہمیں صفائی کا حکم بھی دیتا ہے اس لئے تو صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔
    ‎بطور افراد معاشرہ ہم لوگ اپنے گھروں کا کچرہ سڑکوں اور گلیوں پر پھینکے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔کیا اس کے لئے کسی لمبی چوڑی قانون سازی کی ضرورت ہے یا ہمیں خود احساس کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ صفائی جتنی گھر کے لئے ضروری ہے اس کے ساتھ ساتھ ہماری گلیاں اور سڑکیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔جیسے اپنے گھر کو ہم صاف رکھتے ہیں ویسے ہی ہمارا فرض ہے کہ اپنے گلی محلے اور شہر کو بھی صاف ستھرا رکھیں۔ ہمیں صفائی نصف ایمان ہے اس پیغام کو عام کرنا ہوگا اپنے معاشرے میں شعور پیدا کرنا ہوگا تب ہی ہماری عوام اس پہ سوچنے کے قابل بنے گی۔
    آج کل بارشوں کا موسم ہے پورے ملک میں ہی بارشیں ہو رہی ہیں۔نالے کوڑاکرکٹ کی وجہ سے بھرے پڑے ہیں تھوڑی سی بارش مومول سے زیادہ ہوجائے تو شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال بن جاتی ہے لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوجاتا ہے۔ پانی زیادہ دن کھڑا رہے تو بیماریاں اور مچھر پیدا ہوجاتے ہیں۔ان سب مسائل کا حل بروقت صفائی ہے جس کا خیال رکھنا پوری قوم کا فرض ہے۔ افسوس دوسری قومیں صفائی میں ہم سے آگے نکل اور ہمارے مذہب نے ہمیں حکم دیا اور ہم اُس پہ عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
    الحمدللہ پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں پاکستان کو اللہ تعالٰی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں سے ایک نعمت ہے پاکستان میں موجود خوبصورت مقامات جن کی سیر کے لئے پاکستان اور پوری دنیا سے سیاہ آتے ہیں ۔ مگر افسوس ہماری عوام ان خوبصورت جگہوں پر جاکر وہاں کی خوبصورتی کو نقصان پہنچاتے ہیں وہاں کوڑا کرکٹ پھینک آتے ہیں۔جب ایک انسان صاف ستھرا ہوگا تو سب لوگ اُس کو پسند کریں گے اور اگر کوئی صاف ستھرا نہیں رکھے گا تو سب لوگ اُس سے دور رہیں ۔ ایسے ہی جب ہم اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھیں گے تو باہر سے لوگ آکر یہاں خوش ہوں گے واپس جا کر پاکستان کی تعریف کریں گے اور پاکستان کا ایک مثبت چہرہ پوری دنیا کے سامنے جائے گااور ماحول بھی صاف ستھرا رہے گا۔حکومت کا کام ہے عوام میں شعور پیدا کرےاور تفریحی مقامات پہ کوڑادان نصب کریں اور عوام صفائی کا خیال رکھتے ہوئے کوڑا کرکٹ اُن کوڑا دانوں میں ڈال کر ایک زمیدار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
    اج کل پوری دنیا میں ایک وبا جو کورونا کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے جس سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں اس سے محفوظ رہنے کے لئے بھی صفائی پہ زور دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز بھی بار بار ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے کا مشورہ دےرہے ہیں جیسے کے ہمارا دین بھی صفائی کا حکم دیتا ہے۔
    کچھ دن ہی گزرے ہیں عیدالاضحٰی کو لوگوں نے جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد اُن کی آلائیشوں کو گلی محلوں اور سڑکوں پہ پھینک دیا جس کی وجہ سے شہریوں کا سانس لینا بھی مشکل ہوگیا تھا ہر سال ایسا دیکھنے کو ملتا ہے ہمارا فرض ہے جیسے گھر کو صاف رکھتے ویسے اپنے شہر اور پیارے ملک پاکستان کو بھی صاف رکھیں تاکہ ہم بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
    آئیں ہم سب ملکر اپنے گھر پاکستان کو صاف رکھیں اور خوبصورت بنائیں۔
    Twitter Id: @mpakiiprince

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی ٹریفک  اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔  تحریر: ثاقب محمود

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔ تحریر: ثاقب محمود

    وطن عزیز میں ٹریفک آئے روز بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی ایک مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔ جن کا حل بہت ضروری ہے اگر ان مسائل کا فوری حل کے لئے پلان ترتیب نہ دیا گیا تو مستقبل قریب میں بہت سنگین
    مسائل اور حوادث جنم لے سکتے ہیں ۔ اب جبکہ بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے دور کے ساتھ ہمیں بھی بدلنا چاہئے جس میں سب سے پہلے ٹریفک کے نظام کو بھی اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو سب سے پہلے آتے ہیں ہم گاڑیوں کے رجسٹریشن کے نظام کی طرف جس کا اپڈیٹ ہونا بہت ضروری ہے ۔مثلا” گاڑی کی رجسٹریشن بک روٹ پرمٹ وغیرہ کو ایک جدید سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے جیسے سعودی عرب میں مرور کا سسٹم ہے۔ اگر آپ گاڑی ڈرائیور کو دینا چاہتے ہیں تو بھی آنلائن اس کے آئی ڈی کارڈ کے اوپر یعنی اقامے کے اوپر ہوگی اس کا یے فائدہ ہوگا کے کوئی بھی ٹریفک چالان ہوگا تو وہ ڈائریکٹ اسی بندے کے نام جائے گا جو گاڑی کو استعمال کر رہا ہوگا۔چاہے رینٹ کی گاڑی بھی کوئی رینٹ پے لے گا تو وہ آنلائن مستخدم یعنی استعمال کرنے والے کے نام ہوگی اس کے دو فائدے ایک تو جرائم پیشہ افراد رینٹ کی گاڑی استعمال نہیں کر سکیں گے اور دوسرا حکومت کو پتا ہوگا سسٹم میں ڈیٹیل ہونگی کس نے کتنا کاروبار کیا اور ساتھ میں ٹیکس کے سسٹم سے بھی منسلک ہو جہاں ڈائریکٹ انکم ٹیکس کٹ جائے۔گاڑی کا رجسٹریشن سسٹم صرف ایک کارڈ پر ہو جو کے مالک تبدیل ہونے کے ساتھ تبدیل ہو جائے ۔اس کے علاوہ جو لوگ اوپن لیٹر پر بغیر نام کے گاڑیاں چلا رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے گاڑی نام پر کروانا اولین شرط ہونی چاہیے ۔ایک ہی کارڈ پر لکھا ہو کے گاڑی پبلک سروس ہے یا پرائیویٹ بجائے اس کے کے دو بڑی بڑی بکس اٹھائے پھرے ٹوکن پاسنگ پرمٹ الگ الگ کی بجائے ایک ہی کارڈ پر ہونی چاہیے پاسنگ کا سٹکر شیشے پر آویزاں ہو تاکہ آفیسر دور سے ہی دیکھ پائے کے گاڑی فٹنس کلئیر ہے یا نہیں سب گا ڑیوں کو ڈیجیٹل کرنے سے فائدہ یے ہوگا کے ٹریفک پولیس اگر کسی کا ای چالان کرے گا تو ڈائریکٹ اس کے موبائل پر میسج جائے گا بجائے اس کے کہ ٹریفک پولیس والے روکیں گھنٹوں بحث ہو یا رشوت لے کر چھوڑ دی جائے یا کسی رشتے دار افسر سے سفارش کروا کر چھوٹ جانے والا کلچر ختم ہو جائے گا ٹریفک سارجنٹ بغیر بحث کیے ای چالان کرے گا جو استعمال کنندہ کے کھاتے میں ڈائریکٹ جائے گا ۔گاڑی
    کےنمبر پر چالان ہوگا۔اس کے بعد انشورنس بہت ضروری ہے جو کہ تصادم ہونے کے بعد گاڑی والے دونوں فریقین میں صلح کروائے اور روڈ پر جھگڑا ختم ہو گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد تیری غلطی اور میری غلطی والا کام بھی ختم ہو اور طاقتور کا کمزور پر دھونس جمانا بھی ختم ہو ۔روڈ پر آٹومیٹک کیمراز ہوں کھلی جگہوں پر جو کے اوور سپیڈ گاڑیوں کے فوری آٹو چالان کیپچر کریں۔ اس کے علاوہ تمام مین سگنلز پر آٹو میٹک کیمراز ہونے ضروری ہیں جس سے ٹریفک وارڈن کی کھپت میں کمی ہوگی اور اچھا ریونیو اکھٹا ہوگا اور تقریبا” ایک سال کے اندر ٹریفک جرائم میں کمی واقع ہوگی ۔ اور حادثات ٹریفک جام اور دیگر مسائل میں نمایاں کمی نظر آئے گی ۔انشورنس کمپنیز میں اچھے خاصے لوگوں کو ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے ۔عوام میں شعور پیدا ہوگا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی ۔
    لیکن اس سب کے لئے ضروری ہے ایک مکمل میکنزم جو ٹریفک پولیس انشورنس کمپنیز اور دیگر
    اداروں کے مدد سے تیار ہو ۔
    خصوصا” ڈیجیٹل کیمراز اور فاسٹ نیٹ ورک موبائل ڈیوائسز کی ایک جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ۔ہم عرب امارات اور سعودی عرب کے ٹریفک نظام کو دیکھتے ہوئے اپنے ٹریفک کے نظام میں بہتری لا سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ چھوٹی دستی ٹرانسپورٹ جیسا کے موٹر سائیکل رکشہ چنگ چی وغیرہ جو کے اکثر انتہائی خطرناک اور مہلک حادثات کا باعث بنتے ہیں ۔ان کا چیک اینڈ بیلنس رکھنا ضروری ہے جن کی حد سے بڑھی تعداد بھی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے بچے ڈبل کو چھوڑیں ٹرپل سواری اور بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائکل چلاتے نظر آتے ہیں جو کے کم عمری اور ناتجربہ کاری اور تیز رفتاری کے باعث کثیر تعداد میں حوادث کا باعث بنتے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کے کم عمر بچوں کے بائک چلانے پر مکمل پابندی عائد کرے اور بغیر لائسنس کے ڈرائیو پر بھی مکمل پابندی ہو ۔جو ماں باپ اپنے 18 سال سے کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل دیں ان کے خلاف بھی سخت کاروائی اور موٹر سائیکل ضبط ہونا چاہیے ۔
    حکومت کو پتا ہو کے شہر میں
    کتنی ٹرانسپورٹ کی گنجائش ہے اور کتنی تعداد میں موجود ہے ۔
    حد سے زیادہ کوئی بھی چیز ہوگی تو وہ گزرتے وقت کے ساتھ مشکلات پیدا کرے گی۔ آپ راولپنڈی یا لاہور کے کسی چوک میں چلے جائیں آپ کو رکشوں اور موٹر سائیکل کی بھرمار نظر آئے گی اگر آپ غور کریں گے تو ٹریفک کے جنگل میں پھنسے آپ کا سر دکھ جائے گا ۔پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ میٹر پر بننا چاہئے یا کوئی معقول نظام ہو تاکہ عوام پبلک ٹرانسپورٹ سے سہی معنوں میں مستفید ہو سکے ۔
    اللہ ہماری معاشرے میں سدھار
    کے لئے اس چھوٹی سی تحریر کو پر اثر بنائے اور اس کے فوائد کے ثمر سے وطن عزیز کو نوازے آمین ۔

    @Ssatti_

  • دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    والدین زندہ ہوں تو وہ شجر سایہ دار ہوتے ہیں اللہ رب العالمین سب کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر سلامت رکھیں اور یتیمی کا دکھ کسی کو نہ دیں آمین ، دین اسلام میں یتیم کی کفالت اور دیکھ بھال پر ا للہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو نبی رحمت ﷺ کے زریعے سے بہت سی نصیحتیں کیں ہیں اور انعامات کا بھی وعدہ فرمایا ہے آج ہم کوشش کریں گے کہ یتیموں کے حقوق کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے احکامات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے
    یتیم :اردو لغت میں تنہا رہ جانے والا یا ایسا شخص جس کی طرف سےغفلت برتی جائے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بھلاگھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 559
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے اور شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان ذرا کشادگی رکھی۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 288

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 42

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سات مہلک چیزوں سے بچو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور جادو اور جس جان کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کا سوائے حق کے قتل کرنا اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جنگ کے دن پشت پھیر کر بھاگ جانا اور غافل، مومن، پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1789

    حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تجھے ضعیف ونا تو اں خیال کرتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ بننا اور نہ مال یتیم کا والی بننا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 223

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا اس کے علاوہ اور جو کوئی بھی ہو اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2968

    حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں فقیر ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے البتہ میرے پاس ایک یتیم بچہ ہے۔ آپ نے فرمایا تو اس کے مال میں سے کھا بغیر فضول خرچی کے اور بغیر ڈرے ہوئے اس کے بڑے ہوجانے سے اور بغیر پونجی بنانے کے اس کے مال سے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1105

    حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فقیر ہوں میرے واسطے کچھ بھی (مال وغیرہ) موجود نہیں ہے اور ایک یتیم بچے کا میں ولی بھی ہوں۔ آپ نے فرمایا تم اپنے یتیم کے مال میں سے کچھ کھا لیا کرو لیکن تم فضول خرچی نہ کرنا اور تم حد سے زیادہ نہ کھانا اور نہ تم دولت اکٹھا کرنا۔سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1609عون بن ابوجحیفہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عامل زکوة آیا اور اس نے مالداروں سے زکوة وصول کرنے کے بعد ہمارے غریبوں میں تقسیم کر دی ایک میں یتیم بچہ تھا پس مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 632

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے گا اللہ تعالیٰ بے شک وشبہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ مگر یہ کہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی بخشش نہ ہو۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2001

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں دو نا تو انوں کا حق (مال) حرام کرتا ہوں ایک یتیم اور دوسرے عورت ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 558

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدخلق شخص جنت میں نہ جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بتایا ہے کہ اس امت میں پہلی امتوں سے زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے ؟ (بہت ممکن ہے کہ بعض لوگ ان کے ساتھ بدخلقی کریں) فرمایا جی ہاں لیکن ان کا ایسے ہی خیال رکھو جیسے اپنی اولاد کا خیال رکھتے ہو اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا ہمیں دنیا میں کونسی چیز فائدہ پہنچانے والی ہے ؟ فرمایا گھوڑا جسے تم باندھ رکھو اس پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں لڑو تمہارا غلام تمہارے لئے کافی ہے اور جب وہ نماز پڑھے (مسلمان ہو جائے) تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 571

    نبی کریم ﷺ جہاں یتیوں کے خیال رکھنے پر انعامات کا وعدہ کیا ہے وہیں ان کے ساتھ بدسلوکی اور نا جائز ان کے مال ودولت پر قبضہ کرلینے پر سخت ترین سزا کا مستحق بھی بتایا ہے
    جس گھر میں یتیم ہو اس سے اچھا سلوک کریں تو وہ سب سے اچھا گھر کہا گیا اور جس گھر میں یتیم ہو اس سے برا سلوک کیا جائے اسے برا ترین گھر کہا
    اللہ تعالیٰ ہمیں یتیموں سے اچھا برتاو کرنے اور سنت محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے نبی مہربان ﷺکا ساتھ نصیب فرمائیں

    @mmasief

  • معاشرہ اور قانون  تحریر: جواد یوسفزئی

    معاشرہ اور قانون تحریر: جواد یوسفزئی

    ہمارے ملک میں جب کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے حمایتی پیدا ہوکر کہتے ہیں کہ انصاف نہیں ہوگا تو اور کیا کریں۔
    یہ بڑی غلط بات ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ملک میں انصاف کا نظام ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔ کئی مجرم پکڑے ہی نہیں جاتے۔ کچھ پکڑے جانے کے بعد جلد چھوٹ جاتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ کسی کو سزا نہیں ملتی۔ اکثریت پکڑی بھی جاتی ہے اور سزا بھی ملتی ہے لیکن ہمیں وہ کیس یاد رہتے ہیں جن میں ملزم بچ جاتا ہے۔ آپ کو ثبوت چاہیے تو جیل جا کر دیکھیں۔
    لیکن یہ ملزم سزا سے بچتے کیوں ہیں، اس میں قانون نافذ کرنے والوں کی کمزوریاں ضرور ہیں۔ پولیس بعض صورتوں میں جرم کا سراغ نہیں لگا سکتی۔ سراع لگاتی ہے تو کیس مظبوط نہیں بناتی جس سے ملزم کے خلاف عدالت میں مکمل ثبوت مہیا نہیں ہوتے۔ بعض ملزم نہایت شاطر ہوتے ہیں اور اپنے جرم کا کوئی ثبوت ہی نہیں چھوڑتے۔ کچھ کیسوں میں عدالتوں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔
    یہ سب سچ ہے لیکن پولیس اور عدالتیں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جیسی کارکردگی دوسرے شعبوں کی ہے، ان دو اداروں کی بھی کم و بیش ویسی ہی ہے۔ اس لیے ان کو خصوصی طور پر مطعون کرنے کی وجہ نہیں بنتی۔
    ادھر عوام پولیس اور عدالت کا کتنا ساتھ دیتے ہیں۔ کیا ہم ہر موقع پر سچی گواہی دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ کیا ہم ملزم کی سفارش نہیں کرتے۔ کیا ہم کوشش نہیں کرتے کہ راضی نامہ کرکے ملزم کو سزا سے بچایا جائے۔ کیا اس مقصد کے لیے مدعی پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا؟ انسانی معاشرے میں قتل شدید ترین جرم ہے اور اس کا مجرم سب سے قابل نفرت انسان ہوتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم کسی قاتل کو سزائے موت دینے کو برداشت نہیں کرتے۔ اول تو کوئی اس کے خلاف گواہی ہی نہیں دیتا۔ اگر گواہیاں مل جائیں اور عدالت اسے سزا سنا دے تو سارا معاشرہ مقتول کے وارثوں کے خلاف اتحاد کرلیتا ہے اور ہر قسم کا دباؤ ڈال کر انہیں معاف کردینے پر مجبور کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ قانون دشمن ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسی شخص پر الزام لگتے ہی بغیر کسی عدالتی کاروائی کے اسے سزا دی جائے۔ لیکن دوسری طرف کسی پر جرم ثابت ہوکر سزا سنائی جائے تو اسے بچانے کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں۔
    حقیقت پسند حضرات کچھ دیر کے لیے تصور کرلیں کہ ملک میں پولیس اور عدالتیں کام بند کردیں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMjawadKhan@Gmail.Com

  • معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار  تحریر: سید عمیر شیرازی

    معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    بقول حکیم الامت علامہ اقبال وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اگر آپ مصرع پر غور کریں تو کوزہ میں دریا کو سموسے کی مثال صادق آئے گی وجودزن ہی دراصل اس پر آشوب اور رخج و محن سے لبریز دنیا میں سکون و اطمینان کا باعث ہے۔
    اسلام سے پہلے عورتوں کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا مسیحی دنیا میں عورت کو ایک ناگزیر برائی تصور کیا جاتا تھا اور ہندو اسے ناپاک حیوان سمجھتے تھے اور شوہر کے مرنے پر اسے ستی ہونا پڑتا تھا،
    عرب کی دنیا میں بھی یہی حال تھا عرب کے لوگ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے اور انہیں جائیداد منقولہ کی طرح بازاروں میں فروخت کیا جاتا تھا باپ کے مرنے کے بعد بیٹے سوتیلی ماؤں سے نکاح کر لیتے تھے میراث میں بھی اس کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اسے حصول تعلیم کی اجازت دی اور نہ ہی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے حقوق حاصل تھے ان کا کام صرف مردوں کو آرام و سکون پہنچانے اور ان کی اولاد کی پرورش کرنا تھا۔۔
    ایک وقت میں مرد کئی کئی عورتیں رکھتے تھے
    اہل مغرب (جو اپنے آپ کو تہذیب کا علمبردار سمجھتے ہیں) عورت کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے مغربی دنیا میں عورت کو مرد کے شانہ بشانہ روزی کمانا پڑتا ہے جسے تہذیب کے یہ علمبردار مساوات سمجھتے ہیں،
    یہ مساوات نہیں بلکہ عورت کے حقوق کے غصب کی ایک صورت ہے مغربی دنیا میں آج بھی عورت کی حالت بدتر ہے اور وہ غلام بنی ہوئی ہے ۔۔۔ گویا اسلام سے پہلے عورتوں کی زندگی محرومیت کا شکار تھی اور وہ ذلت کی زندگی گزار رہی تھیں۔
    دنیا کے تمام مذاہب میں صرف دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں باعزت اور قابل احترام مقام بخشا ہے اسلامی معاشرے میں عورت ماں ہو یا بیٹی بہن یا بیوی ہر لحاظ سے باعزت اور قابل احترام ہے اس کی حیثیت اور مرتبے کے مطابق اس کے حقوق مقرر کردیا گئے ہیں اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو تاکید کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی عزت و وقار کا خیال رکھیں،
    اسلام نے معاشرے میں عورت کو اس کا جائز حق اور بلند مرتبہ عطا فرمایا بیوی کو میراث میں اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی حصہ عطا کیا۔

    "وہ رتبہ عالی کوئی مذہب نہیں دے گا
    کرتا ہے جو عورت کو عطا مذہب اسلام”

    اس سلسلے میں قرآن پاک کی بلاغت کی انتہا یہ ہے کہ اس نے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے اندر بیوی کے جملہ حقوق ارشاد فرما دیے،
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرتا ہے”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مارنے پیٹنے اور برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
    اس میں شک نہیں کہ مردوں کو اللہ تعالی نے زیادہ طاقتور توانا اور مضبوط بنایا ہے اور انہیں قوی اعضاء سے آراستہ کیا جب کہ عورتوں کو کمزور اور نرم و نازک بنایا ہے ان کے اعضاء بھی کمزور اور ان کی دماغی قوتیں بھی مردوں سے کم ہیں البتہ عورتیں بالحاظ جذبات مردوں سے زیادہ طاقتور ہیں،
    ان میں محبت،الفت، رحم،حیاء، شرم اور غصہ کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے حصول تعلیم سے ان کے جذبات میں اور بھی نکھار پیدا ہوجاتا ہے اور یہی جذبات پھر ان کے بچوں میں سرایت کرتے جاتے ہیں اور ان کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں دنیا میں جس قدر بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں ان کی تعلیم و تربیت میں اصل ہاتھ ماں کا تھا اور ماں ایک عورت ہی ہو سکتی ہے۔

    "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں”

    ‎@SyedUmair95

  • ‏منفی اور مثبت سوچ تحریر:عرفان اللہ

    ‏منفی اور مثبت سوچ تحریر:عرفان اللہ

    اس دنیا میں قابل سوچ اور سلامت ذہن والے لوگوں کے دو اقسام ہوتے ہیں جس میں منفی سوچ اور مثبت سوچ والے ہوتے ہیں۔ منفی سوچ والے لوگ ایک اچھے کام، بات، سوچ یا نظریے میں بھی صرف ان چیزوں کا نشاندہی کرتا ہے جس کا رجحان نفی کی طرف ہو اور مثبت سوچ والے لوگ کسی نفی بات یا کام میں بھی مثبت چیزوں کو ایسے سامنے لاتا ہے کہ انسان کی ذہن اس کام کیلئے مکمل تیار ہوتا ہے۔ دنیا میں پائی جانے والی تمام اشیاء کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور ایک برا۔ اب یہ انسان کی ذہنیت پر ہے کہ وہ اس چیز کا استعمال اچھائی کے ساتھ کریں یا برائی کے ساتھ۔
    مثال کہ طور پر آج کل استعمال ہونے والی ایک انٹرٹینمنٹ ایپ ٹک ٹاک دیکھے۔ ٹک ٹاک پر اپکو بہت سے کیٹگری انٹرٹینمنٹ، شوبز، سپورٹس، شاعری، مزاحیہ، ٹیلنٹ اور انفارمیٹیو سے وابستہ لوگ ملے گی۔ اب اگر ایک انسان اچھا سوچتا ہے اس کی سوچ مثبت ہے تو اس ایپ کو اچھے طریقے سے استعمال کرکے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس پر لوگوں کو تعلیم دیا جا سکتا ہے، اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو روزگار سکھایا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنا چھوٹا کاروبار کر سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنی کاروبار کو پروموٹ کر سکتا ہے، اس ایپ کی مدد سے ایک خیراتی ادارہ چلا سکتا ہے، اس ایک کے ذریعے انسانوں کو زندگی کے اصول سکھایا جا سکتا ہے، کھیل کھود اور دوسرے انٹرٹینمنٹ ویڈیو دکھا سکتا ہے، احادیث اور اقوال زرین دکھایا اور سکھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں جن کی مدد انسان معاشرے اور انسانوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
    اب ایک بندہ ہوگا جس کی سوچ منفی ہوگی ہمیشہ کیلئے ایک اچھی چیز میں بھی اس کو حامی نظر آئے گی۔ ہمیشہ کیلئے کسی چیز کا استعمال منفی طریقے سے کرے گا۔  اب وہی بندہ جس کی سوچ منفی ہے، مثبت سوچ رکھنے والے کی برعکس اسی ایپ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے۔ محتلف ایسے موضوعات پر لیکچر دے سکتا ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہو، اس ایپ کے ذریعے  فحاشی پھیلایا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے حرام کی کمائی کیا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے کسی کی پردہ پوشی کر سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنی عزت نیلام کر سکتا ہے۔
    اس ایپ کے ذریعے ڈانس، گانے بجانے یا فحاشی کے مراکز کو دکھا کر معاشرے کو تاریکی اور فحاشی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
    اس کے علاوہ منفی سوچ کی سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ نہ وہ انسان خود معاشرے کی فلاح اور اصلاح کیلئے تیار ہو سکتا ہے اور نہ دوسروں کو اس کام کیلئے تیار ہوتے دیکھ سکتا ہے۔ لقمان حکیم صاحب فرماتے ہے کہ کہ اگر آپ کے پاس کوئی انسان آئے اور اسکی ایک آنکھ کسی نے نکالی ہو اور وہ آپ سے کہے کہ فلاں نے میری آنکھ نکالی ہے تو یقین کرنے سے پہلے تحقیق کیا کرے کہ کہے اس بندے نے اسی انسان سے دو آنکھیں تو نہیں نکالے ہیں۔ معاشرے اس بات حیال ضرور رکھا کرے کہ کسی سے بھی کسی کام کیلئے مشورہ لیتے ہوئے ایسے بندے سے لے کہ اسکی سوچ مثبت اور وسیع ہو۔ تاکہ آپکی کام کیلئے ایک مشورہ ملنے کے ساتھ ساتھ آپکی حوصلہ افزائی بھی ہو جائے۔ ایک نفی سوچ والے سے اگر آپ ایک اچھے بلے کام  کیلئے مشورہ اور صلاح لینا چاہوںگے تو وہ آپکی حوصلہ افزائی کے بجائے اس میں اتنی حامیاں نکالے گی کہ آپ کام کرنا ہی چھوڑے گے۔ اس لئے اللہ تعالی سے، انسانوں سے اور چیزوں سے ہمیشہ کیلئے اچھی توقعات رکھے انشاءاللہ آپکی قسمت ہر چیز نفع بخش اور سودمند ثابت ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالی انسان کی گمان اور سوچ کی مطابق فیصلے نازل فرماتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں انسانوں اور حیوانوں کی ضرر سے محفوظ رکھے اور ہمیں اچھی اور مثبت سوچ رکھنے والے رفیق عطا فرمائے۔

    ٹویٹر: ‎@Muna_Pti

  • پیشہ ور بھکاری۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پیشہ ور بھکاری۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    دورانِ سفر کسی بھی چوک میں ٹریفک کا اشارہ سرخ ہوتے ہی لوگوں کا ایک ہجوم گاڑیوں کی طرف لپکتا ہے۔ کوئی گاڑیوں کے شیشے صاف کرنا شروع کرتا ہے اور کوئی کُچھ بیچنے کی کوشیش، اس ہجوم میں زیادہ تر بچے یا خواتین ہوتی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی ایک مخصوص لین تک ہی محدود رہتا ہے۔

    اسی طرح ہسپتالوں کے اندر اور باہر بھی لوگوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے جو لوگوں سے مدد مانگتے نظر آتا ہے۔ کسی کو گھر واپسی کے لیے کرایہ چاہیے ہوتا ہے تو کسی کے پاس دوائی لینے کے لیے پیسے کم پڑ جاتے ہیں۔

    یہ لوگ ایسی ایسی تاویلیں گھڑتے ہیں کہ کوئی بھی سننے والا ششد رہ جائے۔ خیرات ملنے کی صورت میں جہاں یہ لوگ دعاؤں کی بھرمار کر دیتے ہیں وہیں کُچھ لوگ خیرات نہ دینے پر بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

    ایسے لوگ دراصل پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں، بھیک مانگنا ہی ان کا روزگار ہوتا ہے۔ کم محنت اور زیادہ کمائی کی وجہ سے یہ محنت مزدوری کرنے کی بجائے بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    پیشہ ور بھکاری بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق بھکاری مافیا سے ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو ایسے کسی گینگ کے ساتھ منسلک ہونے کی بجائے انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ کام کرتے ہیں۔

    بھکاری مافیا سے منسلک افراد ایک گینگ کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ اغواء شدہ اور گود لیے گئے بچوں کو اپاہج بنایا جاتا ہے اور پھر اُن سے بھیک منگوائی جاتی ہے۔ کُچھ بچوں کو بھیک لینے کے لیے کتابیں بھی دی جاتی ہیں، اور انہیں سکھایا جاتا ہے کہ کتابیں بیچنے کے نام پر کس طرح غربت اور بھوک کا رونا رونا ہے کہ سامنے والا خود ہی بھیک دینے پر مجبور ہو جائے۔

    یہ گینگ بچوں کے ساتھ خواتین سے بھی بھیک منگواتا ہے۔ یہ مافیا نہ صرف ان سب بھیک مانگنے والوں کو مقررہ جگہ پر چھوڑنے اور واپس لے جانے کا انتظام کرتا ہے بلکہ ان بچوں اور خواتین کی نگرانی بھی کی جاتی ہے تا کہ کوئی ان کے مانگنے کے کام میں خلل نہ ڈالے۔

    پیشہ ور بھکاریوں کی دوسری قسم کسی گینگ یا مافیا سے تو منسلک نہیں ہوتی لیکن کام اسی طرح سے کرتے ہیں۔ بچوں اور خواتین سے چیزیں بیچنے کے نام پر بھیک منگوانا، معذوری اور غربت کے نام پر بھیک مانگنا وغیرہ۔ یہ لوگ یا تو انفرادی طور پر خود بھیک مانگتے ہیں یا اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کو بھی بھیک مانگنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔

    کسی بھی بارونق جگہ چلے جائیں، چاہے وہ کوئی بازار ہو یا مارکیٹ، ہسپتال ہو یا کوئی سرکاری ادارہ، بس سٹاپ ہو یا بس اڈے، کالج ہو یا یونیورسٹی، فوڈ سٹریٹ ہو یا کوئی ریسٹورنٹ آپ کو جگہ جگہ یہ پیشہ ور بھکاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    اگر ان بھکاریوں کی روزآنہ کی بھیک کا حساب کیا جائے تو یہ ہزاروں میں بنتی ہے۔ کُچھ عرصہ قبل ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی جو رکشہ خریدنے لاہور آیا تھا۔ رکشہ خریدنے کی وجہ پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ بھیک مانگنے کے اڈے پر آنے جانے کے لیے اُسے روزآنہ 1200 روپیہ ایک رکشے والے کو دینا پڑتا ہے۔ رکشہ خرید کر وہ نہ صرف کرائے کے پیسے بچائے گا بلکہ رکشہ رینٹ پر بھی دے دے گا۔ ماہانہ آمدنی کا پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ ہر مہینے وہ لاکھوں روپیہ بھیک اکٹھی کرتا ہے۔

    اس واقعہ کے کُچھ عرصہ بعد ایک ہسپتال میں بھی ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی، اُس نے بتایا کہ وہ روزآنہ چار سے پانچ ہزار روپیہ اکٹھا کرتا ہے، لیکن اُسے وارڈ کی آپا وغیرہ کو بھی حصہ دینا پڑتا ہے۔

    ان پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف آئے روز برائے نام کریک ڈاؤن ہوتے رہتے ہیں، لیکن اس مسئلے کا حل صرف اس طرح کی کارروائیوں سے نہیں ہو سکتا، کیوں کہ یہ لوگ پہلے ہی حصہ دے دیتے ہیں اور اگر کاروائی ہو بھی تو چائے پانی دے کر دوبارہ وہی کام شروع کر دیتے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بحثیت معاشرہ ایسے عناصر کی حوصلا شکنی کرنی چاہیے۔ جہاں اداروں کی کارروائی ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایسے پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دینے سے اجتناب کریں۔ اگر ہم ایسے افراد کو بھیک دینا بند کر دیں گے تو یہ خود ہی یہ کام چھوڑ دیں گے۔

  • انسان اور اس کی حیثیت  تحریر : اسامہ خان

    انسان اور اس کی حیثیت تحریر : اسامہ خان

    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے کبھی بھی کوئی بھی انسان بھوکا نہیں مرتا کیونکہ انسان کے رزق کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے انسان اپنا بچپن گزارا ہے اور اپنے پسندیدہ پکوان اور مشروبات استعمال کرتا ہے یہ سب اللہ تعالی کا دیا ہوا ایک تحفہ ہوتا ہے اور ہم انسان اس کی ناشکری کرتے ہیں لیکن وہ پھر بھی رحیم و کریم ہے اس نے کبھی بھی ہمارے رزق کو نہیں روکا، لیکن جب انسان کسی مقام پر پہنچتا ہے اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو وہ نہ تو اپنے اردگرد والوں کا خیال رکھتا ہے آج اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں تو بہت سی ایسی شخصیات ملیں گی جنہوں نے بہت بڑے بڑے کارنامے کیے اور اکثر نے اپنی دنیاوی زندگی کو ہی اپنی کل زندگی سمجھ لیا لوگوں پر ظلم کیے لوگوں کو قتل کیا اور جب ان کی موت کا وقت آیا تم کو دو گز زمین بھی بہت مشکل سے نصیب ہوئی، آج کا انسان کیا ہے اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں سب اپنے آپ کو نواب سمجھتے ہیں اپنے سے غریب انسان کو اپنا غلام سمجھتے ہیں یہ صرف پیسے کی ہو ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں، کیونکہ اگر اللہ ان سے بھی دولت چھین لے تو وہ بھی دو وقت کے کھانے کو ترسیں گے جب انسان مرنے لگتا ہے تو نہ تو اسکا پیسا اسکے کام آتا ہے اور نہ ہی اسکی انا، آج ہم ایک دوسرے سے طاقت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اگر دیکھا جائے تو ہم دنیا میں آئے کس لیے تھے نہ تو ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے آئے تھے اور نا ہی ایک دوسرے کی غلطی پر اپنے پاؤں پکڑوانے۔ ہم سانس اپنی مرضی سے لے نہیں سکتے پتہ نہیں پھر اشرف المخلوقات کس بات کا غرور کرتے ہیں اور وہ ایسے سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی حالانکہ یہ ان کا وہم ہے دنیا میں کئی لوگ آئے اور بہت سے چلے گئے دنیا نہیں رکھی دنیا کا نظام چلتا رہتا ہے۔ بہت سے بادشاہ آج زمین دوز ہیں اور نصیب ہوئی تو صرف دو گز زمین کی قبر، یہ انسان کی حیثیت ہے زندگی تو چل رہی ہے اور چلتی رہے گی اور ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن قبر میں نہ تو دنیاوی مال و زر کام آئیں گے اور نہ ہی میرے عزیزو وقار تو کیوں نہ اپنی زندگی کو اصل مقصد کے لئے جیا جائے اپنی دنیاوی زندگی اللہ کو راضی کرنے میں لگائی جائے تاکہ جب کل کو انسان اللہ کے سامنے جائے تو وہ اپنی عبادات اللہ کے سامنے پیش کر سکے، یہ زندگی عارضی ہے اس نے گزر جانا ہے کیوں نہ ہو وہ کام کیا جائے جس میں دنیاوی زندگی میں بھی فائدہ ہو اور آخرت میں بھی فائدہ ہو اور اگر ہم کسی کی زندگی سے مثال لینا چاہیں تو حضور پاک کی زندگی سے لے سکتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنی زندگی تقوی کے ساتھ گزار دی کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا لوگ ان پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے لیکن انہوں نے درگزر سے کام لیا بے شک ان جیسی مثال پوری دنیا میں نہیں ملے گی اور نہ ہی قیامت تک مل سکے گی، آج ہم نے ایک دوسرے پر تہمت لگاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف چالیں چلتے ہیں جیسے ہمارا اپنی زندگی پر قابو ہے کاش کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے یہ سمجھ آ جائے کہ انسان کی اصل حیثیت کیا ہے تو انسان یہ سب کام چھوڑ دے گا اور اللہ سے توبہ کرلے گا بے شک وہ رحیم و کریم ہے اور سب کو معاف کرنے والا ہے

  • ‏وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل

    ‏وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل

    جب انصاف کا معیار غریب کے لیے الگ اور امیر کے لیے الگ ہو جائے ۔ غریب مجبور اور بے بس کے ساتھ انصاف کے تقاضے اور سلوک جب انصاف پر مبنی نہ رہیں بلکہ دولت اور تعلقات کے پلڑے میں تولے ہوئے فیصلے ہوں تو بے بس غریب لاچار لوگ اللہ کی مقرر کردہ وقت کی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہیں ۔ وقت کی عدالت میں وکیل کے فرائض وہ بددعائیں ہوتی ہیں جو بے بس اور مجبور لوگوں کے دلوں سے آنسوؤں کے ساتھ نکلتی ہیں ۔ پھر اللہ کے حکم سے وقت کی عدالت سے فیصلہ جاری ہوتا ہے ۔ وہ فیصلہ اپنے مقررہ وقت پہ جاری ہوتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ اللہ جو فیصلہ وقت کی عدالت کے ذریعے کرتا ہے اس وقت کی عدالت کے فیصلے خلاف اپیل نہیں نہیں کی جا سکتی.

    وہ فیصلہ کیسا ہوتا ہے ؟
    جب ظالم ، سفاک لوگ کسی غریب کی جائیداد پہ طاقت کے بل بوتے پہ قبضہ کر لیتے ہیں اور عدالت سے فیصلہ اپنے حق میں خرید لیتے ہیں
    جب ظالم امیر لوگ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ناجائز منافع کی صورت میں غریب کی جیب پہ ڈاکہ ڈالتے ہیں۔
    جب بیوروکریٹ رشوت اور کک بیکس سے ناجائز دولت جمع کر لیتے ہیں
    جب سیاستدان اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دولت جمع کر لیتے ہیں
    جب کوئی سفاک کسی معصوم کے ساتھ درندگی کر کے اسے قتل کردیتا ہے
    جب غریب رشتے داروں کا حق مار لیا جاتا ہے
    جب بے گناہ قتل کیا جاتا ہے

    اس طرح کے ہزاروں واقعات کے گواہ ہونے کے باوجود انصاف بک جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے وقت فیصلے کرتا ہے
    ظالم اور سفاک لوگوں کے پاس دولت کے انبار ہوتے ہیں لیکن اس میں سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بیماری ایسی لگ جاتی ہے کہ زندگی صرف بستر تک رہ جاتی ہے ۔ ایک لباس ایک کمبل ایک تکیہ نہ جوتے کی ضرورت نہ استری شدہ کپڑوں کی ضرورت، نہ گاڑیوں بنگلوں کی ضرورت۔ایسا عذاب کہ جس کا علاج ممکن نہیں ہوتا
    الماریاں کپڑوں سے بھری ہوتی ہیں لیکن کپڑے پہن نہیں سکتے کہ جسم پہ خارش شروع ہوجاتی ہے ۔ یا جسم اکڑا ہوا ہوتا ہے کہ حرکت نہیں کر سکتا۔

    مخمل کے کروڑوں روپے کے نرم نرم بستر ہوتے ہیں لیکن سو نہیں سکتے ۔ نیند کی گولیاں کھاتے ہیں پھر بھی نیند نہیں آتی ۔ بے چینی ایسی رہتی ہے کہ سکون برباد ہو جاتا ہے ۔
    ہزاروں طرح کی ڈشیں ڈائننگ ٹیبل پہ ہوتی ہیں لیکن کھا نہیں سکتے
    ہر ماہ خون نکلوانا پڑتا ہے کہ بلڈ پریشر نہ بڑھ جائے اور موت واقع نہ ہو جائے
    کپڑوں میں پاخانہ نکل جاتا ہے لیکن باتھ روم جانے کی سکت نہیں ہوتی ۔ کسی کے محتاج ہو جاتے ہیں کہ گندگی کو کوئی صاف کرے ۔
    ہزاروں جوتوں کے جوڑے ہوتے ہیں لیکن شوگر سے پاؤں پھول چکے ہوتے ہیں کہ جوتے پہن نہیں سکتے بولنا چاہتے ہیں لیکن فالج زدہ زبان سے آواز نہیں نکلتی اولاد معذور پیدا ہوتی ہے جس کو دیکھ کے ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں لیکن علاج نہیں ملتا۔
    گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ایسی حرکت کرتا ہے کہ معاشرے میں سر جھک جاتے ہیں۔ اپنا گھر بار چھوڑ کے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ سب کچھ ہوتا ہے لیکن گلی کے کتے بھی سلام نہیں کرتے موت آتی ہے تو کوئی لاش کو دفنانے والا نہیں ملتا
    بیماری ایسی آتی ہے کہ تڑپ تڑپ کے روز مرتے ہیں۔ موت کی دعائیں مانگتے ہیں لیکن موت نہیں آتی۔

    بے شک اللہ کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔ جس ظالم پہ پڑ جائے اسے عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔
    وقت کی عدالت کا انصاف بہت بے رحم ہوتا ہے ۔۔ اپیل کی گنجائش نہیں ہوتی.

    @iAmir29