ہمارے معاشرے میں گھروں میں کام کرنے والی عورتوں بچیوں لڑکیوں کو نام دیا جاتا ہے ۔کام والیاں ۔۔۔۔کہ یہ تو کام والی ہے ۔۔وہ سارا دن ہمارا کام کریں گی ۔ہمارے جوٹھے برتن دھوئیں گی ۔۔خون پسینہ ایک کر دیں گی صبح سے شام کام کر کر کہ۔چاہے گھر میں سو لوگ کی دعوت ہو یا دس لوگ کی ۔برتن دھونا ان پر فرض ہو جیسے ۔۔بعد معاوضے میں انھیں ہزار پانچ سو دے کر ان کی سات نسلوں تک احسان جتانا مالکان پر فرض ہو جیسے ۔۔ایک بیوہ عورت کسی گھر کام کرتی ہے وہ بیمار ہے یا شوہر بیمار ہے وہ نہیں آتی ۔تو کہا جاتا ہے بیٹی کو بھیج دے ۔۔اپنی بچی کو کسی غیر گھر بھیجنا وہ بھی اس گھر جہاں دو عورتیں تو سات مرد ہو ۔۔بہت ہی ہمت کا کام ہوتا ہے ۔۔۔وجہ صرف دو وقت کی روٹی اور ماہانہ چند ہزار پیسے ۔اس کے علاوہ اتارے ہووے کپڑے یا بچا ہوا سالن بس ۔۔یہ بھی کوی دیتے ہیں مطلب یہ بھی گر کوی دے تو غنیمت ہے ۔ورنہ تو ان لوگوں کو ایسے دھتکارتے ہیں لوگ جیسے ان میں اور دوسروں میں مریخ اور زمین جیسا فرق ہو ۔۔ان کے ہاتھ سے بنا سپائسی کھانا کھا لینا ہے ۔۔لیکن اسی کھانے کو اگر وہ کھاے تو برابری یاد آجانی ہے ۔۔ان کے ہاتھوں کے بنے مشروب پی لینے ہے ۔لیکن وہی مشروب اگر وہ پئیں تو مشروب خراب کہلاتا ہے ۔۔ان کے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو نہلانا ان کے کپڑے پہنانا تو منظور ہے لیکن ان ہی لوگوں کے بچوں ساتھ اپنے رئیس بچے کو کھیلنے نہی دینا کہ وہ کام والی کا بچہ ہے ۔۔گھروں میں کام کرنے والی عورتوں بچیوں ساتھ کچھ لوگوں کا سلوک انتہائ بھیانک ہوتا ہے ۔۔بحثیت قوم تو ہمیں غریبی امیری کے فرق کا سبق گھروں سے والدین کے زریعے ملتا ہے ۔۔اگر بچہ خوش ہو کر کام والی کے بچے ساتھ کھیل لے گا تو ماں ڈانٹے گی سر پہ مت چڑھاو اسے ۔۔یہ لوگ سر چڑھانے کے قابل نہی ہوتے ۔۔اگر بچی خوشی میں کام والی کی بچی کو دوست یا سہیلی سمجھ کر اس کے ساتھ ایک برتن میں کھا لے گی تو گویا قیامت ہی آجاے گی پھر تو والدین خود ایسا لیکچر دیتے ہیں اولاد کو کہ کل وہی بچے ان والدین کا جوٹھا کھانا کھاتے بھی کراہت محسوس کرتے ہیں ۔۔5 سے 14 سال کے ہزاروں بچے ہیں جو ملک کے کسی نہ کسی کونے میں محنت مزدوری کررہے ہیں ۔ گھروں میں کام کرنے والے لڑکا یا لڑکی بھی جسمانی ذہنی تشدد کا سامنا کرتے ہیں ۔لاہور میں واقع عسکری نائن کے ایک گھر میں کام کرنے و الی 10 سالہ ارم کو چوری کے الزام میں ہاتھ پاؤں سے باندھ کر پلاسٹک کے پائپ سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو بعدازاں ہسپتال میں پہنچ کر دم توڑ جاتی ہے۔ ارم کی بیوہ ماں کا دکھ کون سمجھے گا۔ بیٹی مزدوری کے لئے آئی تھی زندگی سے بھی گئی۔ نواب ٹاؤن میں ننکانہ کا 15 سالہ محمد قاسم عمر خان کے گھر میں تشدد سے جان دے دیتا ہے۔ غریب باپ کی دہائی کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ لاہور ہی کے ویلنشیاء ٹاؤن میں حکم عدولی پر مالکن سعدیہ کے ہاتھوں 14 سالہ عثمان کی زندگی کا چراغ گل ہو جاتا ہے اس کے جسم پر نظر آنے والے تشدد کے نشانات سے مالکن بے خبری کا اظہار کر دیتی ہے۔ غریب کا تو مقدمہ لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ بڑی بڑی کوٹھیاں‘ محلات کتنی ننھی‘ معصوم جانیں نگل گئیں غربت نے پردہ نہ اٹھنے دیا۔ لاہور میں ایک پروفیسر سلمان کے گھر میں سیالکوٹ کی 16 سالہ لڑکی پر تشدد کیا جاتا ہے۔ جنسی زیادتی ثابت ہو جاتی ہے۔ پولیس اور ڈاکٹروں کی تصدیق کے باوجود انصاف نہیں ملتا۔یہ تو میرے ملک میں ہوتے واقعات ہے ۔۔اور آپ کو لگتا ہے کہ یہ صرف پاکستان میں ہی ایسا ہے تو ہرگز نہیں
عرب ممالک میں یہ عام ہے ۔۔وہاں آج بھی رواج ہے لڑکیوں کو تین چار پانچ سال کے ایگرمنٹ پر خرید کر لایا جاتا ہے گھروں میں کام کروانے کے لیے ۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہاں تشدد کے واقعات کم ہوتے ہیں لیکن یہ شہنشاہی سوچ ہمارے سے کئ زیادہ ان لوگوں میں بھی ہے ۔ان کے بچوں کا ہر کام ہر کام وہ کام والیاں کرتی ہے چوبیس گھنٹے ان کی تہوار سب ان بچوں کے کام کرتے ہی گرز جاتے ہیں ۔۔کسی کی غربت کا یوں فائدہ اٹھاتے ہیں ہم ۔۔کہنے کو ہم سب مسلمان ہے
آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کائنات میں بلند ترین مقام عطا فرمایا تھا۔ اور آپؐ کو ایسے خدام بھی بخشے تھے جو آپ کی خدمت پر ہمیشہ کمربستہ تھے اور آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کو تیار تھے مگر اس کے باوجود آپ اپنے لئے عام دنیاوی معاملات میں کوئی امتیازی حیثیت اختیار کرنا پسند نہ فرماتے اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے۔ اور اس میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔
اپنے خادموں کا بوجھ ہلکا کرتے اور انہیں آرام پہنچانے کی اتنی کوشش فرماتے کہ وہ آپ پر جان فدا کرنے کے لئے مستعد رہتے تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے عمل کو وقار بخشا اور ہاتھ سے کام کرنے میں عزت کی نوید سنائی۔
اس نبی کی امت ہے ہم ۔۔ گھر کے کام کاج میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ہاتھ بھی بٹاتے اور اپنی جوتی خود مرمت کرلیتے تھے اور اپنا کپڑا سی لیا کرتے تھے۔ پھر ہم میں کہاں سے آگئ یہ شہنشاہی والی سوچ ۔۔۔ملازموں سے کام کروانے والی ۔۔آپ جانتے ہو یورپ کی ترقی کا کہیں نہ کہیں یہ بھی راز ہے کہ وہ لوگ وقت کے پابند ہے وہ لوگ اپنا کام خود کرتے ہیں ان کو وزیراعظم بھی سڑک پر تھوک دے تو اپنا تھوک خود صاف کرتا ہے ۔۔ان کے آگے پیچھے لمبی گاڑیوں کے پروٹوکول نہیں ہوتے ۔۔۔وہاں ہر بندہ بندی خودمختار ہے اپنے کام کرنے میں وہاں کوی کسی کا ملازم نہیں ہوتا ۔۔یہاں تو جس کے پاس چار پیسے آجاتے وہی مالک ہے اس سے نیچے والا ملازم ۔۔۔افسوس ہوتا ہے کبھی کبھی کہ ہم نے اپنے کلچر کے ساتھ ساتھ اپنی مسلمانی والی پہچان بھی ختم کر لی
Category: معاشرہ و ثقافت
-

کام والیاں تحریر: حنا
-

غربت تحریر : شاہ زیب
ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔ غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں۔
اس تناظر میں ، غریب لوگوں کی شناخت کے لیے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات کیا ہیں۔ ان کو "بقا کے لیے ضروری” کے طور پر یا وسیع پیمانے پر "معاشرے میں مروجہ معیار زندگی کی عکاسی کرنے والے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ پہلی کسوٹی صرف ان لوگوں کا احاطہ کرے گی جو فاقہ کشی یا نمائش سے موت کی سرحد کے قریب ہیں۔ دوسرا ان لوگوں تک پھیلایا جائے گا جن کی غذائیت ، رہائش اور کپڑے ، اگرچہ زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب ہیں ، مجموعی طور پر آبادی کے لوگوں کی پیمائش نہیں کرتے ہیں۔ تعریف کا مسئلہ غیر معاشی مفہوم سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جو لفظ غربت نے حاصل کیا ہے۔ غربت کو منسلک کیا گیا ہے ، مثال کے طور پر ، خراب صحت ، تعلیم یا مہارت کی کم سطح ، کام کرنے کی نااہلی یا ناپسندیدگی ، خلل ڈالنے والے یا بے ترتیبی برتاؤ کی اعلی شرح ، اور بہتری۔ اگرچہ یہ صفات اکثر غربت کے ساتھ پائی جاتی ہیں ، ان کی غربت کی تعریف میں شمولیت ان کے مابین تعلقات اور کسی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکامی کو واضح نہیں کرتی ہے۔ جو بھی تعریف استعمال کی جاتی ہے ، حکام اور عام آدمی یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ غربت کے اثرات افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔ غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں
اگرچہ غربت انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کی اہمیت بدل گئی ہے۔ اجتماعی غربت نسبتا پائیداری کی طرح لیکن تقسیم کے لحاظ سے اس سے مختلف ، کیس غربت سے مراد کسی فرد یا خاندان کی عمومی خوشحالی کے معاشرتی ماحول میں بھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہونا ہے۔ یہ نااہلی عام طور پر کچھ بنیادی وصف کی کمی سے متعلق ہوتی ہے جو فرد کو اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ ایسے افراد ، مثال کے طور پر ، اندھے ، جسمانی یا جذباتی طور پر معذور ، یا دائمی بیمار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی معذوریوں کو عام طور پر ہمدردی کے ساتھ سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ وہ ان لوگوں کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ جسمانی وجوہات کی وجہ سے غربت میں کمی لانے کی کوششیں تعلیم ، پناہ گاہ روزگار اور اگر ضرورت ہو تو معاشی دیکھ بھال پر مرکوز ہیں۔
-

زیادہ ڈرنا چھوڑ دو تحریر: محمد بخش
یہ کہانی ہے دو دوستوں کی جو کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے ایک بار دونوں کسی کام سے شہر گئے اور واپس اپنے گاؤں لوٹ رہے تھے ان کے گاؤں تک پہنچنے کے لیے ان کو ایک گھنے جنگل سے ہو کر کے گزرنا تھا اور جب وہ اس جنگل سے گزر رہے تھے تو ایک دوست کو پیاس لگی اور وہ پانی ڈھونڈنے کے لیے راستہ بھٹک گیا تھوڑی ہی دیر بعد شام ہو گئی اور رات ہونے ہی والی تھی تو ان دونوں کی نظر ایک غفا پے پڑی جو کہ درختوں سے گھری ہوئی تھی چاروں طرف سے تو ان دونوں نے سوچا یہ ہی جگہ ٹھیک ہے رات گزارنے کے لیے تو دونوں نے کچھ لکڑیاں اکٹھی کی اور اس غفا کے اندر گئے اور آگ جلا کر کے وہاں پر بیٹھ گئے رات کا وقت تھا غفا کے اندر آگ جل رہی تھی باہر بلکل اندھیرا تھا اور کچھ جانورں کی آوازیں آرہی تھی تو ان دونوں میں سے جو ایک دوست تھا وہ اندر ہی اندر ڈرنے لگا کیونکہ اس نے جن بھوت کی بہت کہانی سنی تھی کے رات کے وقت جنگل میں کچھ بھیانک روحیں بھٹکتی ہیں اور اگر ان کو کوئی ایسا بھٹکا ہوا آدمی مل جائے تو اس کو نہیں چھوڑتی تو جب اس نے یہ جن بھوت کی بات اپنے دوست سے کی تو اس کے دوست نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا کبھی تو نے کسی جن بھوت کو دیکھا ہے تو اس نے کہ نہیں میں نے تو نہیں دیکھا لیکن میرے کچھ جان پہچان کے لوگ ہیں انہوں نے دیکھا ہے تو اس کے دوست نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ یار ایسی سنی سنائی باتوں پے یقین نہیں کرتے اب تو سوجا اور مجھے بھی سونے دے مجھے نیند آرہی ہے اور اتنا کہہ کر کے اس کا دوست وہی پر لیٹ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں سو گیا لیکن وہ جو اندر سے ڈرا ہوا تھا وہ لیٹ تو گیا لیکن اس کو نیند نہیں آرہی تھی اس کو لگا تھا کہ شاید یہاں پر کہیں کوئی ہے جو چھپ کر کے کہیں سے اس کو دیکھ رہا ہے اس آگ کی وجہ سے کچھ پرچھائیاں بن رہی تھی وہاں پتھروں پر تو ان پرچھائیوں کو بھی دیکھ کر کہ بھی وہ ڈر رہا تھا پھر کچھ گنٹھے تک ایسا ہی چلتا رہا پھر اس کے بعد میں کیونکہ وہ تھکا ہوا تھا تو اس کو نیند آگئی لیکن نیند آنے کے کچھ دیر بعد ہی اس کو ایک خواب آیا خواب میں اس کو ایک بہت ہی بھیانک پرچھائی اس کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئی اب جیسے جیسے وہ اندر سے ڈرتا چلا جارہا تھا وہ پرچھائی اس کے اور قریب آتی چلی جا رہی تھی اور بڑی ہوتی چلی جا رہی تھی اور اس پرچھائی میں اس کو ایک ہاتھ نظر آیا جس کے بڑے بڑے ناخن تھے اور وہ ہاتھ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا اور اس کے گلے تک پہنچنے ہی والا تھا کہ تب ہی وہ ڈر کر کے ایک دم سے اٹھا پھر اس نے اپنے دوست کی طرف دیکھا جو کہ سو رہا تھا اسے پکڑ کر زور سے اٹھایا پھر اس نے اپنے دوست کو بتایا کہ اس ساتھ میں کیا ہوا تو اس کا دوست پھر ہنسنے لگا پھر اس کے دوست نے اس کو کہا کہ اب اگر دوبارہ سے تجھے وہ پرچھائی دکھے تو توں وہ کہنا جو میں تجھے کہہ رہا ہوں کہنے کے لیے پھر دیکھتے ہیں وہ پرچھائی تیرا کیا کرتی ہے تجھے اپنے اندر ہی اندر بولنا ہے میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنا آ تو اس کے دوست نے ویسا ہی کیا تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ سے اس کو خواب میں وہی پرچھائی نظر آئی اور وہ پرچھائی آرام آرام سے اس کی طرف بڑھنے لگی لیکن اس بار وہ اس پرچھائی سے ڈرا نہیں بلکہ اپنی پوری طاقت سے اسے نے وہی کہا میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنے آ میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنے آ جیسے جیسے وہ یہ بولنے لگا وہ پرچھائی چھوٹی ہونے لگی اور اس سے دور ہونے لگی وہ بولتا رہا وہ پرچھائی چھوٹی ہوتی رہی اور آہستہ آہستہ وہ پرچھائی دکھنی بند ہو گئی بلکل ایسا ہی ہماری زندگی میں بھی ہوتا ہے ہمارے اندر جتنے بھی ڈر ہیں اس سے ہم جتنا ڈرتے ہیں ہم اتنا ہی چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ ڈر اتنا ہی بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن اگر ہم اپنے اندر کے ڈرو سے نہیں ڈرتے اور اس کا سامنا کرتے ہیں تو دنیا کا ایسا کوئی بھی ڈر نہیں جو کہ ہمیں ڈرا سکے۔۔
جزاک الله ! خوش رہیں اور خوش رکھیں، -

بچوں کی تعلیم اور تربیت تحریر : انجینیئر مدثر حسین
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ چند باتیں قارئین کی نظر کرنا چاہوں گا
جس معاشرے ہم رہتے ہیں اس میں بچے تب تک والدین پر انحصار کرتے ہیں جب تک وہ خود کمانے لائق نہیں ہوجاتے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں تو روزگار کمانے کے بعد بھی انکی زندگی کے فیصلے والدین ہی کرتے ہیں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں کے بارے میں جو سوچیں گے وہ بہترین ہوگا کیونکہ والدین ہی ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ بھی زیادہ خوشحال زندگی گزارے اور بہترین مقام پائے۔یہ بات بہت غور طلب ہے کہ اکثر والدین بچوں کی تعلیم کے فیصلے میں ایک غلطی کرتے ہیں اور اسکا خمیازہ بچے مستقبل میں بھگتتے رہتے ہیں ۔ اگر کسی کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنتا ہے تو والدین کی خواہش ہوتی کہ انکا بچہ بھی ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے میرے خیال میں یہ درست نہیں
بے شک اللّہ تعالٰی نے دماغ ضرور ایک جیسا دیا ہے مگر اسکو استعمال کرنے کا طریقہ ہر انسان کا مختلف ہے۔ یاد رکھیں بچے کا ذہن بننے میں آپ کی سوسائٹی اور اردگرد کے لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ بچے کا دماغ ویسے ہی تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے جیسے وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔
اگر ایک بچے کی دلچسپی اکاؤنٹنگ میں ہے تو اسے سائنس کے مضامین بہت مشکل لگیں گے۔ اسکی تازہ مثال میرے دوست کا بیٹا ہے جس نے چند دن پہلے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ میں ڈاخلہ بجھا اور وہ بہت محنت سے تیاری بھی رہا تھا۔
کل اچانک میرے سامنے آ گیا ابتدائی سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا بیٹا سناو تمہاری پڑھی کسی چل رہی ہے ۔
میرا سوال سن کر وہ پریشان سا ہو گیا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا اس کے ابو نے اسے کہا ہے کہ اب تم میڈیکل کالج میں اپنا داخلہ بجھو اور میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرو۔ تھوڑا پوچھنے پر معلوم ہوا کے اسکے ماموں کا بیٹا ڈاکٹر ہے تو اس وجہ سے ابھی اسکی والدہ بھی چاہتی کہ وہ بھی ڈاکٹر بنے۔مجھے بچے کا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ اسے یہ فیصلہ منظور نہیں ہے۔ایک لمبی آہ بھرنے کے بعد بولا انکل میں نہ اب اس امتحان کی تیاری نہیں کرنی یہ ٹیسٹ مجھ سے پاس نہیں ہو گا۔نتیجہ کیا ہوا؟
بچے کا سال برباد ہو جائے گا اور وہ بچہ ذہنی دباؤ کا شکار بھی ہو گا ۔ اگر والدین پہلے اپنے بچے سے پوچھ لیتے کہ تم کیا بننا چاہتے ہو تو کتنا اچھا ہوتا۔ تعلیم کے معاملے میں بچوں پر اپنا فیصلہ زبردستی مسلط کرنا انتہائی غلط ہے اور مستقبل تباہ ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے ۔ عدم دلچسپی کے باعث فیل ہونے سے بہتر ہے اسے وہ امتحان دینے دیا جائے جو وہ پاس کرلے۔
تمام والدین سے گزارش ہے۔رزق تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی تعلیم رائیگاں نہیں جاتی۔ اس لئے خدارا تعلیم کے معاملے میں پہلے اپنے بچے سے ضرور مشورہ کریں کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے اور کون سی ڈگری حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو
پاکستان زندہ اباد@EngrMuddsairH
-

درخت اور ان کی اہمیت تحریر : راجہ ارشد
ماہرین کے مطابق ، کسی بھی ملک کی مجموعی آبادی کا 25٪ جنگلات ہونے جائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی ملک میں ایک ملین درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہمارے ملک کو اس فیصلے کی حکومتی سطح پر اشد ضرورت تھی۔
درختوں کا وجود بھی اللہ تعالٰی کی نعمت ہیں جو موسمی تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔ درختوں کے منصوبے سے ملک کو بہت فائدہ حاصل ہوں گے ۔
درخت جہاں ہمیں سایہ فراہم کرتے ہیں وہاں ہمیں آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں جو سانس لینے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
درخت ہوا میں موجود زہریلی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ درختوں کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔موجودہ حکومت اور بالخصوص وزیراعظم عمران خان کے ایک ارب درختوں کے منصوبے سے ملک میں سیلاب کی صورت حال کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ درخت لگانے سے بہت سی قدرتی آفات سے بچا جا سکتا ہے- گزشتہ برسوں سیلابوں کی صورتحال سے تو سبھی آگاہ ہیں۔ہمارا کتنا جانی اور مالی نقصان ہوا
ان سیلابوں کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی درخت بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
درخت زیرِ زمین پانی کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور اس سے ان کی نشوونما ہوتی ہے۔ درخت ہمارے ماحول کو بھی خوشگوار بناتے ہیں درختوں کے ارد گرد بسنے والے لوگوں کی صحت پر بھی بڑا اچھا اثر پڑتا ہے بیماریاں بھی کم ہوتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے درخت لگانے کا جو شعور قوم کو دیا ہے اس کے بہت فائدے ہیں- ہمیں بھی چاہیئے کہ شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ماحول کو خوشگوار بنائیں اور آنے والی نسلوں کے لیےخوشگوار اور اچھا ماحول تیار کریں۔ ملک پاکستان کا ہر فرد کم از کم ایک درخت ضرو لگائے چاہے اپنے صحن میں ہی لگا لے۔
ہمارے شہروں میں فیکٹریوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ماحول پر بہت برا اثر پڑ ریا ہے درخت آوازوں کو بھی اپنے اندر جذب کرتے ہیں شور اور آلودگی کو بھی ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ملک میں معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے کپتان کے اس اقدام سے شہروں میں صاف فضا اور ایک آچھا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے اس ملین ٹری منصوبے سے ملک میں موجود خشک سالی بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ درخت خشک سالی کو کنٹرول کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
درختوں کی موجودگی تناؤ اور افسردگی کو کم کرتی ہے اور لوگوں کو جسمانی اور جسمانی طور پر صحت مند بناتی ہے ۔درخت لینڈ سلائیڈنگ سے بھی بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین
@RajaArshad56
-

جنسی زیادتی کا رجحان تحریر:ثمرہ مصطفی
جنسی زیادتی کا رجحان پچھلی تہذیبوں میں بھی پایا جاتا تھا.بڑھتا ہوا جنسی زیادتی کا رجحان معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا جارہا ہے.جنسی زیادتی ایک چھپا ہوا (جرم )عمل ہے جس میں کسی کی مرضی کے بغیر اسکو چھونا یا کوٸی ایسا عمل کرنا جو اگلے کو ناگوار گزرے یا اس میں اسکی رضامندی شامل نہ ہو .جنسی زیادتی جسمانی یا غیرجسمانی دو طرح کی ہوسکتی ہے.جنسی زیادتی ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ کی جاتی ہے چاہے وہ بچہ ، جوان یا بوڑھا ہو.جنسی ذیادتی کسی شخص کہ یقین کو ٹھیس پہنچانا ہے.پھر وہ شخص ساری زندگی کسی پہ یقین نہیں کرسکتا ہر کسی کو ایک ہی نظر سے دیکھتاہے. اجکل جنسی زیادتی کا رجحان بڑھتاجا رہاہے.اور اسکی وجہ سوشل میڈیا کا استعمال،غربت،بیک گراٶنڈ،اسلام سے دوری اور بہت دوسری وجوہات ہیں .یہ مسٸلہ نہ صرف ترقی پذیر ممالک میں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی پایا جاتا ہے .جنسی زیادتی کسی کی طرف سے بھی کی جاسکتی ہے چاہے وہ اپکا باپ یا بھاٸی ہی کیوں نہ ہوں اپ کو نہ صرف باہر والوں سے بلکہ اپنے گھر والوں (رشتہ داروں ) سے بھی احتیاط کرنی چاہٸے جیسا کہ ٹی وی ، نیوزپیپر میں آۓ دن دیکھایا جاتا ہے کہ باپ یا بھاٸی نے بیٹی ، بہن کے ساتھ زیادتی کی .اسکی ایک یہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے جو لوگ اپنے بچوں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں اور انکے بچے سمجھدار ہوں اور وہ لوگ انکے سامنے سیکس کریں تو اس سے انکے ذہن میں ایسے خیال آتے ہیں جو انہیں غلط کام کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور دوسری بات زیادتی کیلے عورت کو قصور وار ٹہرایا جاتاہے کبھی اسکے کپڑوں ، کبھی اسکے گھر سے باہر نکل کرکام کرنے کو . کون عورت ہوگی جو چاہے گی اسکی عزت داغ دار ہو . ظلم بھی عورت کے ساتھ ہوتا ہے اور قصور وار بھی اسے ٹہرایا جاتا ہے کیا کوٸی عورت چاہتی ہے کہ اسکی عزت کو پامال کیا جاۓ تو پھر عورت کو کیوں قصور وار ٹھرایا جاتا ہے .مرد ہمیشہ سے خود کو حاکم سمجھتا ایا ہے اور عورت کو کمتر سجمھ کر اپنے پیروں کی جوتی سمجھتا رہا ہے .شاید مرد عورت کی ترقی سے جل کر بھی انکو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں .جبکہ اسلام نے مرد کو بھی نظریں جھکانے کا حکم دیا ہے .سورت النور کی ایات نمبر٣٠ میں اللہ پاک کا فرمان ہے ”مسلمان مردوں سے کہہ دیجٸے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں“
@__fake_world __ -

تلخ معاشرتی رویٌے تحریر : زارا سیٌد
رویّہ انسان کی عادت کو کہتے ہیں۔ ہر انسان دوسرے سے جس طرح کا سلوک کرتا ھے اس کو ہم انسانوں کے معاشرتی رویّے کہہ سکتے ہیں۔ ایک انسان کے رویّوں ، اُس کی عادتوں اور اس کے طور طریقوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت سے عوامل و اسباب ہوتے ہیں ۔انسان جس گھر میں پیدا ہوتا ہے وہ اپنے والدین سے جو بھی سچ جھوٹ کچھ سنتا ہے اور پھر جو کچھ بولتا ہے ۔ اس سننے اور بولنے کے نتیجے میں عمل اوررد عمل کی جو تشکیل ہوتی ہے۔ وہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ انسان کے رویّوں کی تشکیل میں دوسرا اہم عمل اسکے علاقہ اور محلے کا ہے۔ اس کے دوست، احباب ہیں۔ جن گلیوں میں وہ پیدا بڑھتا ہے ، کھیلتا کودتا ہے تو وہاں پر جن کیفیات سے اُسے گزرنا پڑتا ہے، جیسے مشہور مقولہ ہے”انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔
آج کل کے دور کو دیکھا جائے اور عام لوگوں کے رویوں اور سوچ کا مشاہدہ کیا جائے تو پتا یہ چلتا ہے ہے کہ ہم مالی، معاشرتی اور سماجی سطح پر زوال پذیر ہیں۔ہمارے عام رویے ایک دوسرے سے بغض اور منافرت کا جذبہ لئے ہوئے ہیں۔ کہیں کہیں خلوص کی ہلکی سی جھلک نظر آ جاتی ہے اور دل کو اطمینان ہوتا ہے کہ انسان کا دل ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہے مگر اجتماعی طور پر معاشرے کے ہر فرد کے رویے سے یہ بات ظاھر ھوتی ہے کہ اب انسانوں میں وہ محبت نہیں رہی جو پہلے تھی ۔
عوام میں ایک رویہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ کسی بھی حادثہ یا غیر معمولی واقعے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے اور اپنے لوگوں کی سخت تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ رویہ عام ہوتا جارہا ہے اور ہر کوئی اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے ویڈیوز ، بلاگز، کالمز، اور ٹویٹس کا سہارا لیتا ھے ۔
یہ تنقید اگر ان عوامل کی نشاندہی کے لئے ہو جن پر توجہ دے کر ہم اجتماعی رویوں میں بہتری لا سکتے ھوں تو ایسی تنقید اصلاح کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے ۔ لیکن یہ تنقید صرف ریٹنگ حاصل کرنے ، پوسٹ کے زیادہ لائکس یا اپنے آپ کو دنیا سے الگ دکھانے کے لیے کی جاتی ہے ۔
ان سخت اور تلخ رویوں کی وجہ سے اس قدر بے یقینی کی فضا ھے کہ ھم کسی پر اعتبار ھی نہیں کرتے ھم ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بھی کتراتے ھیں۔
ھماری چھوٹی چھوٹی باتیں اور چھوٹی چھوٹی نیکیاں معاشرے کو خوبصورت بناتی ہیں اور وہی باتیں دوسروں کے لئے مثال بنتی ہیں۔ اگر ہم اچھی باتوں کو اپنائیں تو یہ معاشرہ خوبصورت نظر آئے گا اور اگر برائی پھیلائیں تو معاشرہ بدنما نظر آئے گا۔ ہمیں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے بچوں کی بہترین تربیت کرنی ھو گی تاکہ وہ بڑے ھو کر معاشرے کی خوبصورتی کا باعث بنیں۔
سکولز اور کالجز میں ایسی کلاسز ھونی چاھیے جن میں معاشرے کی رہنمائی کرنے والے لوگوں کو مدعو کیا جائے جنہوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کر کے خود کو منوایا ہو جو خود اس معاشرے کے لیے ایک مثال ہوں تاکہ بچے ان سے سیکھ سکیں اور ان کے نقش قدم پر چل کر اس معاشرے کو سنوار سکیں ۔
ٹویٹر : @Oye_Sunoo
-

مرد نہیں خراب، سسٹم خراب ہے تحریر: عتیق الرحمن
موجودہ حالات و واقعات کے پیش نظر آجکل سب کی تنقید کا مرکز مرد بنا ہوا ہے کیونکہ زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور روز کسی کی معصوم بچی یا بچہ کسی نفس کے ہاتھوں غلام کے وحشی پن کا شکار ہورہا ہے۔ حتی کہ کچھ بیمار ذہنیت کے افراد کی حرکتوں کی وجہ سے معاشرے میں مرد کو جانور سے تشبیہہ دی جانے لگی ہے۔ لیکن کیا یہ سب اب شروع ہوا ہے؟ تو جواب ہے ہر گز نہیں، یہ تمام جرائم ازل سے موجود ہیں اور ان جرائم کے پیش نظر ہم سے پہلے قومیں اللّہ کے غم و غصہ کا شکار ہوئیں اور صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں جن کے نشانات آج بھی موجود ہیں تاکہ لوگ عبرت حاصل کرسکیں
پھر سوال بنتا ہے کہ جب ہماری حرکتیں بھی ویسی ہی ہیں تو ہم پر عزاب کیوں نہیں آتا تو جواب ہے کہ اللّہ کے نبی ص کی وجہ سے اللّہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ اس امت کو قیامت تک معافی کا موقع ملے گا لیکن اسکے ساتھ ساتھ معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے اللّہ نے ہمیں ایک سسٹم دیا جو کہ قرآن پاک میں مکمل موجود ہے اور ہر پہلو کو گھیرے ہوئے ہیں تاکہ انسان خود مہذب معاشرے کی خواہش کو اور اللّہ کے حکم کو پورا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ تو اب سوال ہے کہ کیا وہ سسٹم ہم انسان رائج کرسکے تو جواب ہے بلکل نہیں ورنہ آج زنا بلجبر اور زیادتی کے کیسسز میں نمایاں کمی ہوتی
اسلام اور شریعیت نے زنا اور زیادتی پر سزائیں مقرر کی لیکن ہمارا سسٹم اتنا کمزور ہے کہ وہ سزائیں لاگو ہی نہیں ہو رہی جسکی وجہ سے معاشرے کے بیمار ذہنوں سے سزا کا خوف ختم ہوچکا ہے کیونکہ انہیں پتا ہے وہ اس کمزور سسٹم سے باآسانی نکل جائیں گے جو آج رائج ہے۔ کتنے ہی زیادتی کے کیسسز میں مجرم کو ضمانت اس لئے مل جاتی ہے کہ تفتیش ٹھیک نہیں ہوتی یا پھر سزائے موت اس لئے نہیں ملتی کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اسکے خلاف ہیں تو پھر کیسے امید کرسکتے ہیں کہ معاشرہ ٹھیک ہوگا؟
جب معاشرے کو ٹھیک کرنیوالا سسٹم ہی اتنا کمزور طریقے سے رائج ہے تو مرد کیسے خراب ہوگیا۔ مرد نہیں خراب بلکہ سسٹم کی کمزوری ہے جو گناہگاروں کو انکے کیفرکردار تک نہیں پہنچا پا رہا۔ پچھلے دنوں ایک اوباش کسی کے گھر میں زبردستی گھس گیا اور لڑکی کو برہنہ کرکے وڈیو بنائی اور پھر وائرل بھی کی اور سسٹم کو چیلنج کیا کہ ہمت ہے تو مجھے پکڑ کے دکھاؤ۔ ضرورت تو تھی کہ جیسے ہی وہ پکڑا جاتا اسے اسی وقت موقع پر سب کے سامنے سزا دی جاتی تاکہ دوبارہ کسی کی جرأت نہ ہوتی ایسی حرکت کرنے کی لیکن ابھی تک اسکی عدالتی کاروائی چل رہی اور بہت حد تک ممکن ہے یہ سالوں چلے گی اور پھر مظلوم تھک ہار کر خود ہی پیچھے ہٹ جائے گا اور وہ اوباش پھر سے کھلم کھلا کسی اور کے ساتھ یہ حرکت کرنے کی ہمت بھی کرے گا۔
حضرت عمر رض کے بیٹے سے گناہ سرزد ہوا تو آپ نے اسے سب کے سامنے سو کوڑوں کو سزا سنائی۔ اسی کوڑے لگنے پر حضرت عمر رض کے بیٹے کی موت ہوگئی تو بیس کوڑے آپ رض نے اسکی قبر پر مارے تاکہ اسلام کا حکم پورا اور کوئی یہ نہ کہے کہ کم سزا دی
کیا اس سزا کے بعد کسی کی جرأت ہوئی ہوگی دوبارہ ایسا گھٹیا کام کرنے کی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس دلدل میں دھنستا جارہا ہے اور ہم بجائے اسکا سدباب کرنے کے مرد کو جانوروں سے ملائے جارہے۔ وہی مرد ہمارا باپ بھائی بیٹا اور شوہر بھی ہے تو یہ بات انتہائی غلط ہے کہ "مرد جانور ہے” مرد جانور نہیں ہے لیکن شائد کچھ جانوروں نے مرد کا لبادھا ضرور اوڑھ لیا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں خرابیاں ہوتی ہیں لیکن انکو ختم کرنے اور روکنے کا قانون بھی ہوتا ہے تو اگر وہ قانون یا سسٹم کمزور ہو تو زیادہ قصور ان سسٹم لاگوں کرنیوالوں کا ہوتا ہے
اللّہ نے چودہ سو سال پہلے ہمیں یہ سسٹم دیا معاشرے کو بہتر کرنے کا تو اسکا مطلب تب بھی یہ خرابیاں موجود تھیں تو بنایا گیا نا ایسا نظام لیکن تب رائج ہوگیا تو معاشرہ ٹھیک ہوگیا اور اب رائج نہیں ہے تو جرم بڑھ رہے ہیں
ہمارے سامنے مثالیں ہیں جب کسی کو سزائے موت ہوتی ہے تو کیا انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان کا منفی چہرہ بنانے کی کوشش نہیں کرتی؟ وہ تو مانتے ہیں نہیں اس سزا کو کہ کسی کو سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے
کوئی بھی پیدا ہوتے ہی گناہگار نہیں ہوتا۔ ہمارا نظام اور معاشرہ اسے گناہگار بناتا ہے@AtiqPTI_1
-

نشہ ایک معاشرتی ناسور ہے تحریر: موسی حبیب راجہ
ہم ایک ایسے بیمار اور غیر صحت مند معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں دہشت گردی ،قتل عام، بدامنی، اغواکاری، بےروزگاری، ناانصافی،بد عنوانی، جنسی زیادتی اور نشہ اوری اور دوسری غیر انسانی، غیر اخلاقی اور وحشیانہ سرگرمیاں عروج پر ہیں۔اور ملکی ادارے جوکہ مختلف ادارے ہیں اور سب کا اپنا اپنا کام ہے یہ سارے ملکی حالات کو قابو کرنے میں بلکل ناکام نظر آتے ہیں۔
ویسے تو ہمارا معاشرہ بہت سے مساٸل سے دوچار ہے اور ہر مسٸلے پر الگ الگ بحث و مباحثہ تفصیلی طور پر کیاجاسکتا ہے لیکن آج میں جس مسٸلے کو قلم کی نوچ پر لا رہا ہوں وہ ہے:
"نشہ آوری اور منشیات.”
نشہ اسلامی طور پر حرام و ممنوع ہے جبکہ سماجی طور پر ایک لعنت اور ساٸینسی طور پر مضر صحت ہے ۔ ہمارے معاشرے میں سگریٹ، شراب نوشی، چرس، ہیروٸن، شیشہ، اور دوسری قسم کی زہریلی گولیاں اور انجکشنز گلی گلی، شہر شہر، مارکیٹوں اور حتی کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں استعمال ہورہے ہیں اور منشيات کو کنٹرول کرنے والے ادارے جیسے کہ انسداد منشیات فورسز، پاکستان ایکساٸز، پاکستان کوسٹ گارڈ، ایف سی اور صوبائی محکمہ پولیس شامل ہیں۔ اگر ہم ان ملکی اداروں کی کارکردگی پر نظر دوڑاۓ تو ہمارے سارے ملکی انسداد منشيات کنٹرول کرنے والے ادارے اس میں بلکل ناکام نظرآتے ہیں۔
اگر ہمارے ملکی ادارے ہمارے ملک میں بندوق اور طاقت کے بل بوتے پر گھر گھر، گلی گلی،شہر شہر اور پورے ملک میں پولیوں کے قطرے پلاسکتے ہیں تو نشہ اور منشيات اور منشيات فروخت کرنے والوں کو کیخلاف کاروائی کیوں نہیں کرسکتے؟
نشہ اووری ایک ایسا زہر ہے جو کسی کو ذہنی، جسمانی اور اخلاقی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے اور آخرکار موت کا سبب بن جاتا ہے۔ نشہ اوری کسی کو سماجی اور معاشرتی طور اکیلا، پاگل، بدکردار، ساٸل، چوری اور گداگری جیسے سرگرمیوں پر مجبور کرلیتا ہے اور نشے کے عادی لوگ ہمیشہ اپنے والدین، بیوی بچوں، رشتہ داروں، دوستوں سے غم اور خوشی میں اپنوں سے دور، لاپرواہی، لاعلمی،دینی، سماجی و معاشرتی عالم میں خوار اور ذلیل زندگی بسر کرلیتے ہیں۔
نشہ اووری اور منشیات کی سب سے بڑے وجوہات و اسباب بری صحبت، بےروزگاری اور احساس کمتری ہیں۔ایک کہاوت ہے کہ” خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے” اس سے یہ صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جو کسی معاشرے کو اپناتا ہے تو وہ اسی معاشرے میں سیکھ کر اور اسی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اگر معاشرہ مثبت اور نیک چلن ہو تو بندہ باکردار اور معاشرتی تعميرات میں ایک اہم کردار ادا کرلیتا ہے اور اگر معاشرہ منفی اور مجرمانہ ہو تو بندہ ضرور مجرم اور تخریب کار سوچ کا مالک بن جاتا ہے ۔اور دوسری طرف وہ معاشرہ جہاں کام کاج اور روزگار نہ ہو اور بندہ احساس کمتری کا شکار ہوجاۓ تو وہ معاشرے سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے اور معاشرتی مسائل جیسے منشيات، چوری ڈکیتی اور دوسرے مجرمانہ، غیر اخلاقی اور تخریب کاری جیسے سرگرمیوں میں مبتلا ہوتاہے۔
تو میرے ہم وطنوں! آٸیے کہ ہم سوشل میڈیا پر ایک مہم چلاٸیں اور وقت حکومت سے یہ اپیل کریں کہ خدارا اب ہمارے حال پر رحم کریں ہمارے نوجوان نسل پر رحم کریں ہمیں جینا ہے اور صرف جینا بھی نہیں بلکہ ہم ایک صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں جہاں یہ نشہ اور منشیات کے اڈے نہ ہوں اور آٸیے کہ ہم حکومت وقت سے یہ گزارش کریں کہ یہ جو منشيات کے اڈے ہیں اس کے خلاف کاروائی کریں اور ہماری آنے والی نسلوں کو اس معاشرتی ناسور سے بچایا جاۓ۔Writer Details

Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter
The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline
https://login.baaghitv.com/mujsa-habib-darkhty-lagye-pakistan-bachao/
t;
-

کراچی اور بھکاری تحریر: ام سلمہ
بھکاری جو کراچی میں اس وقت ایک بڑے اور آسان پیشے کا رخ اختیار کر کیا ہے بہت ہی آسان لگتا ہے حلیہ بدلنا اور سڑک پے آجانا اور بھیک مانگنا کہیں عورتیں کہیں مرد کہیں بچے کہیں بوڑھے کہیں زبردستی معذور کیئے گئے لوگ بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں.
بھکاریوں کی دن با دن بڑھتی ہوئی رفتار سے جرائم کو روکنے والے ادارے اس شک میں ہیں کہ کراچی میں بھکاری بھی بچوں کے اغوا ملوث ہیں.
اور ساتھ ساتھ پولیس نے بھکاری مافیا کے منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں شمولیت کا انکشاف کیا ہے.
پولیس کی طرف سے کراچی کی سڑکوں سے متعدد بھکاریوں کوگرفتار کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جہ سکے کے ان کے ساتھ بھیک مانگنے والے بچے شاید ان کے اپنے نہ ہوں اور ان کو اغوا کیا گیا ہو
اس شبہے کی تصدیق کے لئے پولیس پولیس بچوں اور گرفتار شدہ بالغ بھکاریوں کا کچھ طبی جانچ کرنے کا کام شروع کر رہی ہے۔
پولیس نے کچھ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر شہر میں بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے لئے مشترکہ تفتیش کا آغاز کیا ہے۔تاکہ اگر یہ کسی قسم کی جرائم میں ملوث ہیں تو اسکا پتہ لگایا جہ سکے.
کراچی پولیس چیف سے بات کرنے پے پتہ چلا کہ اس سلسلے میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کے "حکومت سندھ کے کچھ محکمہ جیسے کے سوشل ویلفیئر اور بچوں کی پروٹیکشن اتھارٹی کچھ ٹرسٹ ، ٹریفک پولیس اور کچھ ہیلپ لائن جیسے کے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ، جرائم کو روکنے کے محکمے ، اور دیگر تنظیمیں اس کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کر رہی ہیں۔”
ان کے مطابق اس بات کے کافی شواہد مل رہے ہیں کہ کراچی کے بھکاری بھتہ منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
پولیس سربراہ نے کہا ان بھکاریوں میں سے بیشتر کا تعلق شہر کی مقامی آبادی سے نہیں ہے دوسرے شھروں سے آتے ہیں. اس میں سے کچھ تو جنوبی پنجاب کی طرف کے ہیں اور کئی نسلوں سے بھیک مانگنے کے پیشے سے منسلک ہے مختلف زبانوں اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کئی غیر ملکی شہری بھی ہیں ، جن میں سے ایک بڑی تعداد افغانی بھی ہے۔
انہوں نے کہا ،مختلف تنظیموں سے ہماری ملاقات کے دوران ، ہم نے ان بھکاریوں کے ہمراہ بچوں کے بارے میں اپنے شک کا ظاہر کیا اور ان کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معلوم کریں کہ بچوں کو کہیں سے اٹھایا تو نہں گیا ہے۔
بہت سے معاملات میں ، بھکاریوں نے جان بوجھ کر اغوا کیے گئے بچوں کے اعضاء اور ہاتھ / پاؤں کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ انہیں بھیک مانگنے کے کاروبار میں بطور اوزار استعمال کرسکیں۔
کراچی پولیس چیف کے مطابق ، شہر میں محکمہ سوشل ویلفیئر کی نگرانی میں کورنگی اور ملیر میں بھکاری بچوں کے رہائش کے مراکز موجود ہیں جہاں بھکاریوں اور ان کے بچوں کو رہائش اور کھانے کی مکمل سہولت فراہم کی جائیں گی۔
پولیس کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کی صحیح طرح تشہیر کی ضرورت ہے تاکہ بکھاری مافیا کو پتہ چلے اور ساتھ ہی عوام کے بھی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے بچوں کے اغوا کے واقعات کو روکا جا سکے اور ایک معاشرہ بنانے میں ہوں پولیس کی مدد کر سکیں.
تحریر@salmabhatti111