Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • یہی وہ روشنی ہے

    یہی وہ روشنی ہے

    جب قدرتی آفات آتی ہیں تو صرف وہی جماعتیں انسانیت کی خدمت کا فریضہ بخوبی ادا کرتی ہیں جو حقیقی معنوں میں عوام کے درد کو محسوس کرتی ہیں،عوام کے ووٹوں سے حکمرانی کرنے والی جماعتیں صرف بیانات،وعدے اور دعوے کرتی ہیں تو وہیں کچھ جماعتیں خدمت انسانیت کے فریضہ میں مصروف عمل ہوتی ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد جس انداز میں فوری امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست صرف اقتدار کی جنگ نہیں، بلکہ خلقِ خدا کی خدمت کا نام بھی ہے۔

    راولپنڈی، چکوال، جہلم اور گردونواح کے علاقے مون سون کی شدید بارشوں سے شدید متاثر ہوئے۔ کئی گھروں کی چھتیں زمین بوس ہو گئیں، ندی نالے بپھر گئے، سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں اور متعدد خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔چکوال کے علاقے کھیوال میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا جہاں محمد افضل کا بیٹا اور پوتا بارش کے باعث چھت گرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ المیہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا لمحہ تھا۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے متاثرہ خاندان کے غم میں شریک ہو کر نہ صرف دکھ بانٹا بلکہ متاثرہ گھر کی دوبارہ تعمیر کا اعلان بھی کیا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی امدادی مہمات بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں جاری ہیں، راولپنڈی کے خیابان سیکٹر 3 میں مفت میڈیکل کیمپ کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں مریضوں کو ماہر ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے ذریعے مفت علاج و معالجہ اور ادویات فراہم کی گئیں۔ جہلم میں بھی اسی طرز کے کیمپ قائم کیے گئے جہاں خواتین، بچے اور بزرگ طبّی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں،صرف طبّی سہولتیں ہی نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے پکی پکائی خوراک کی فراہمی کا سلسلہ بھی بلا تعطل جاری ہے۔ وہ علاقے جہاں سڑکیں زیر آب آ چکی ہیں، وہاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار کشتیوں کے ذریعے خوراک، صاف پانی اور ضروریاتِ زندگی متاثرین تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ مناظر انسانیت کی معراج اور سیاسی شعور کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر کےبارش سے متاثرہ علاقوں میں پہنچے ہیں اور نہ صرف امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں سے براہِ راست ملاقات کر کے ان کے دکھ درد میں شریک بھی ہو رہے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر امدادی سرگرمیوں کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اُن کا یہ جملہ دلوں کو چھو جاتا ہے،ہماری سیاست خدمت کی سیاست ہے، اور آزمائش کی ہر گھڑی میں ہم اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مرکزی مسلم لیگ نے سیاست کو صرف انتخابی میدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک خدمت خلق کا ذریعہ بنایا۔ ان کا یہ طرزِعمل دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے کہ جب قوم پر مشکل وقت آئے، تو صرف دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔

    بارشوں کا سلسلہ تو قدرت کا حصہ ہے، مگر ان بارشوں میں بھیگتے، بلکتے، تڑپتے انسانوں کو سہارا دینا ہی اصل انسانیت ہے۔ مرکزی مسلم لیگ نے یہی پیغام دیا ہے – کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل سیاست ہے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ جب قیادت مخلص ہو، اور کارکنان خدمت کے جذبے سے لبریز ہوں تو کوئی آفت، کوئی مصیبت قوم کو زیر نہیں کر سکتی۔ قدرتی آفات عارضی ہوتی ہیں، مگر انسانیت کی خدمت کا اثر ہمیشہ قائم رہتا ہے۔یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی امید کا دیا جلاتی ہے۔

  • خدایا…ماں کو سلامت رکھ،تحریر:نور فاطمہ

    خدایا…ماں کو سلامت رکھ،تحریر:نور فاطمہ

    ماں، وہ لفظ جس میں دنیا کی ساری محبت اور شفقت سمٹ کر آتی ہے۔ ماں وہ ذات ہے جس کے قدموں تلے جنت بستی ہے، جس کی دعاؤں میں ہزاروں خوشیاں پنہاں ہوتی ہیں، اور جس کی محبت میں انسان کو زندگی کا حقیقی مطلب سمجھ آتا ہے۔ ماں کی عظمت کا اندازہ صرف ان لمحوں میں ہوتا ہے جب ہم اس کے بغیر زندگی کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    یا اللہ! میرے رب، تو ہی سب کا خالق اور سب کا مالک ہے، ماں کی صحت، اس کی سلامتی، اور اس کی زندگی میں برکت دے۔ ماں کی ہنسی کبھی ختم نہ ہو، اس کے قدموں کی تھکن دور کر، اس کے دل کو سکون دے، اور اس کی عمر دراز فرما۔ ماں کی دعاؤں کی روشنی ہماری زندگیوں کو ہمیشہ روشن رکھے، اور اسے ہر بیماری، ہر دکھ، اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھ۔ اے رب، ماں کی صحت کو اپنی رحمتوں کی چھاؤں میں رکھ، اور اسے ہمیشہ خوش و خرم رکھ۔آمین

    ماں کی محبت اور قربانی کے سامنے دنیا کی تمام نعمتیں بے رنگ ہیں۔ ماں وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے گھر کو مہکاتا ہے، وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی امید جگاتی ہے۔ ماں کے بغیر گھر خالی سا لگتا ہے، اس کی دعا کے بغیر انسان بے سہارا سا محسوس کرتا ہے۔ماں ایک ایسی مخلوق ہے جس کی ہمت، صبر، اور محبت کی کوئی حد نہیں۔ اس کی محبت بے لوث اور بے مثال ہوتی ہے۔ وہ اپنے خوابوں کو پیچھے رکھ کر اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے زندگی وقف کر دیتی ہے۔ ماں کی گود میں انسان کو سکون ملتا ہے، اس کے سینے سے چمٹ کر دنیا کی ہر پریشانی بھاگ جاتی ہے۔

    ادب اور شعور نے ہمیشہ ماں کی عظمت کو اپنی زبانوں میں پرویا ہے۔ شاعر کہتے ہیں،ماں کی دعا میں جنت بسی ہے، ماں کے قدموں تلے دنیا چھپی ہے۔اور سچ یہی ہے کہ ماں کی دعا میں جنت کی خوشبو ہے، جو ہر دکھ کو دور کر دیتی ہے۔ماں کی محبت نہ صرف ہماری زندگی کو روشن کرتی ہے بلکہ ہمیں انسانیت، اخلاقیات، اور قربانی کا درس بھی دیتی ہے۔ ماں کے بغیر زندگی ایک کتاب ہے جس کے صفحات خالی ہوں۔

    آئیے ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت مند رکھے، انہیں خوش رکھے، اور ان کی عمر میں برکت دے۔ ماں کی عظمت کو پہچانیں اور ان کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں کیونکہ ماں کی خدمت ہی خدا کی محبت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

  • اکیلے پن کی موت: کمزور رشتے، زہریلی قربت اور ہماری اجتماعی بے حسی، تحریر :صدف ابرار

    اکیلے پن کی موت: کمزور رشتے، زہریلی قربت اور ہماری اجتماعی بے حسی، تحریر :صدف ابرار

    جب سے پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی خبر سامنے آئی ہے، پورا ملک چونک گیا ہے۔ ایک زندہ دل، خوبصورت، کامیاب اداکارہ نو ماہ تک اپنے ہی گھر میں مردہ پڑی رہی اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ کچھ عرصہ پہلے مشہور اداکارہ عائشہ خان کی تنہائی میں موت نے بھی یہی سوال چھوڑا تھا آخر ہم سب اتنے تنہا کیوں ہیں؟

    نفسیاتی پہلو ٹوکسک رشتے، تنہائی کا زہر
    اکثر لوگ کہتے ہیں کہ انسان اکیلا کیوں رہتا ہے؟ اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔ بعض اوقات سب کچھ موجود ہوتا ہے — والدین، بچے، بہن بھائی، شوہر، بیوی، دوست لیکن اس کے باوجود دل اکیلا رہتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ان رشتوں میں محبت کی بجائے زہر بھر جاتا ہے۔

    ایسے رشتے جو ظاہری طور پر ساتھ ہوں لیکن اندر سے توڑ ڈالیں، انہیں نفسیات کی زبان میں ٹوکسک ریلیشن شپ کہا جاتا ہے۔ ان رشتوں میں عزت نہیں ہوتی، بس حکم اور طعنے ہوتے ہیں۔بات چیت نہیں ہوتی، صرف الزام تراشی ہوتی ہے۔احساس نہیں ہوتا، بس ضرورت پوری ہونے تک ساتھ دیا جاتا ہے۔

    ایسے ماحول میں رہنے والا انسان گھر والوں کے بیچ رہ کر بھی اکیلا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس تنہائی سے مر جانا جینا ہی زیادہ آسان لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے رشتے توڑ بھی نہیں پاتے ، کیونکہ معاشرہ، بدنامی، بچوں کا ڈر، یا مالی مجبوریاں انہیں باندھے رکھتی ہیں۔

    نفسیاتی اثرات

    ٹوکسک رشتے انسان کی ذہنی صحت کو خاموشی سے چاٹ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی زندگی کی خوشیاں اس کے اندر ہی مر جاتی ہیں۔اسے یہ بھی احساس نہیں رہتا کہ اسے مدد کی ضرورت ہے۔

    یوں ایک زندہ انسان اپنے گھر، خاندان یا فلیٹ کے اندر خاموشی سے ‘مر’ چکا ہوتا ہے جسمانی موت تو صرف ایک آخری خبر بن کر سامنے آتی ہے۔

    حل کہاں ہے؟

    ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر رشتہ ‘رشتہ’ کہلانے کے لائق نہیں ہوتا۔ زہریلے رشتوں کو ختم کرنے کی ہمت سیکھنی چاہیے۔

    اپنی ذہنی صحت کو قربان کرنا عقلمندی نہیں، ظلم ہے خود پر بھی اور معاشرے پر بھی۔ ہمیں ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جو اکیلے ہیں یا مشکل رشتوں میں پھنسے ہیں۔

    اکیلے پن کو روکنا کیسے ممکن ہے؟

    اپنے اردگرد دیکھیں، کون ہے جو بہت خاموش ہے؟ بات کریں۔
    ماں باپ ہیں تو بچوں کو صرف ڈانٹیں نہیں، ان سے دوستی کریں
    بچے ہیں تو والدین کو ‘پرانی نسل’ کہہ کر نظر انداز نہ کریں، انہیں وقت دیں۔
    دوست ہیں تو صرف پارٹیوں میں نہیں، ان کے برے وقت میں بھی ساتھ کھڑے ہوں۔
    اگر آپ خود ٹوکسک رشتے میں ہیں، تو مدد لینے میں ہچکچائیں نہیں — کوئی دوست، کونسلر، یا اعتماد والا رشتہ ڈھونڈیں۔

    حمیرا اصغر، عائشہ خان یہ کہانیاں ہمیں جگانے کے لیے کافی ہیں کہ اکیلا پن صرف اس وقت نہیں مار دیتا جب کوئی ساتھ نہ ہو، بلکہ یہ تب بھی مار دیتا ہے جب اردگرد سب ہوں مگر محبت کوئی نہ دے۔

    رشتے جیتے جاگتے انسان کی روح کو تازگی دیتے ہیں لیکن جب وہی رشتے زہر بن جائیں تو انسان اندر ہی اندر مر جاتا ہے۔

    کیا آپ کے رشتے آپ کو زندہ رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو بدلیں ورنہ زندگی آپ کو بدل دے گی۔

  • اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    دنیا ایک برق رفتاری سے بدلتی ہوئی تصویر کی مانند ہے، جہاں علم و ہنر کی تازگی کے بغیر نہ فرد زندہ رہ سکتا ہے، نہ قوم۔ ایسے میں جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کی آغوش میں پل رہی ہے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ایک بصیرت افروز اقدام کے تحت "اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” کا انعقاد کیا، جو بچوں کے لیے ایک روشن چراغ اور نئی نسل کی فکری تربیت کا عملی نمونہ ثابت ہوا۔7 جولائی سے 14 جولائی 2025 تک جاری رہنے والا یہ آن لائن تربیتی کیمپ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ آئی ٹی کے زیرِ انتظام منعقد کیا گیا۔ اس میں پاکستان بھر سے 9 سے 13 سال کے بچوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ کیمپ کا مقصد صرف جدید مہارتوں کی تعلیم دینا نہ تھا، بلکہ بچوں میں خود اعتمادی، تخلیقی شعور، اور عصری دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا بھی اس کا ایک اہم حصہ تھا۔

    اس موقع پر ملک وقاص سعید، سربراہ شعبہ آئی ٹی مرکزی مسلم لیگ، نے کہا اسمارٹ اسکلز کیمپ، بچوں کی فکری دنیا کو وسعت دینے اور ان کے اندر خود اعتمادی، تخلیق اور تجسس کے چراغ روشن کرنے کی ایک شعوری کاوش ہے۔ ایسے اقدامات مستقبل کے معماروں کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں

    کیمپ کے سات دن، ہر لمحہ علم کی روشنی سے لبریز رہے۔ یہ محض لیکچر نہیں تھے، بلکہ ایک فکری مہم تھی، جس میں بچوں نے نہ صرف سنا بلکہ محسوس کیا، سیکھا اور تخلیق کیا۔ مختلف موضوعات پر تجربہ کار ماہرین نے بچوں کو جدید دنیا کے اہم ترین اسکلز سکھائے۔ ان میں شامل تھے
    مصنوعی ذہانت اور اینیمیشن – ملک وقاص سعید: ایک دنیا جو مستقبل کی راہ دکھاتی ہے۔
    ڈی آئی وائی کریئیٹوٹی – انایا: بچوں کی تخلیقی سوچ کو عملی شکل دینے کا فن۔
    پریشر اور بُلیئنگ ہینڈلنگ – بشریٰ اقبال: نفسیاتی طاقت اور جذباتی ذہانت کی تعلیم۔
    اسپوکن انگلش – قرۃ العین: بین الاقوامی زبان میں خود اظہار کی مہارت۔
    آن لائن سیفٹی – عائشہ طارق: ڈیجیٹل دنیا میں تحفظ اور آگہی۔
    ماحولیاتی تحفظ – عروبہ سلطان: قدرت سے رشتہ استوار رکھنے کا درس۔
    انٹرپرینیورشپ – حفصہ ادریس: چھوٹی عمر میں بڑی سوچ کا آغاز۔
    کینوا ڈیزائننگ – خدیجہ نوید: جمالیاتی ذوق اور گرافک فن کی ابتدا۔
    ان موضوعات کے ساتھ ساتھ ای بُک کریئیٹنگ، پوڈکاسٹ سازی، مشین لرننگ، سائبر سیفٹی، بزنس پلاننگ جیسے شعبہ جات میں بھی بچوں نے عملی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھا۔ یہ ایک مکمل، مربوط اور تخلیقی تربیتی تجربہ تھا۔

    کیمپ کے دوران والدین نے اس بات کا بارہا اظہار کیا کہ کیمپ کا ماحول نہایت محفوظ، رہنمائی سے بھرپور، اور تربیتی لحاظ سے مؤثر تھا۔ بچوں نے جو سیکھا، وہ صرف ہنر نہ تھا بلکہ سوچنے کا نیا انداز، خود اعتمادی کی نئی روح، اور مستقبل کی بنیادوں کی نئی تعمیر تھی۔ ملک وقاص سعید نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ صرف سیاسی میدان میں سرگرم نہیں، بلکہ ہمارا مقصد ہے کہ ہم نئی نسل کو بااخلاق، باشعور اور باصلاحیت شہری بنائیں۔ ہمارا ہر قدم اسی وژن کی جانب ہے،”اپنا کماؤ انیشیئیٹو” کے تحت لاکھوں پاکستانیوں کو مفت ڈیجیٹل کورسز، ای کامرس اور فری لانسنگ کی تربیت دی گئی، تاکہ ہر فرد اپنے گھر بیٹھے خود کفیل بن سکے۔ اور اب یہی سفر بچوں سے شروع ہو رہا ہے، تاکہ آنے والی نسل اپنے ہنر اور علم سے وطن کی تعمیر کرے۔

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” نہ صرف بچوں کی فکری، تخلیقی اور ڈیجیٹل تربیت کا مظہر ہے بلکہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جس میں ہم ایک خود کفیل، باہنر، اور باوقار پاکستان کو دیکھتے ہیں۔ یہ کیمپ اس امید کا چراغ ہے جو ایک دن پورے معاشرے کو علم و شعور کی روشنی سے منور کرے گا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید پروگرامز نوعمروں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے بھی پیش کیے جائیں گے۔ مقصد ایک ہی ہے: ہنر ہر گھر تک، خود کفالت ہر فرد تک۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بھی ایسے تعلیمی اور تربیتی مواقع سے مستفید ہوں، تو مرکزی مسلم لیگ کے آئندہ پروگرامز پر نگاہ رکھیں۔

  • ادھورے خواب، مکمل چہرے،تحریر: اقصیٰ جبار

    ادھورے خواب، مکمل چہرے،تحریر: اقصیٰ جبار

    وہ مسکرا رہا تھا۔
    چہرہ تازہ، آنکھوں میں چمک، کیمرہ آن… اور دنیا واہ واہ کر رہی تھی۔

    مگر اگلے دن خبر آئی کہ وہ اب نہیں رہا۔

    وہ جس کی ہر پوسٹ پر ہزاروں کمنٹس ہوتے تھے، آج اس کی موت پر صرف ایک پوسٹ نے سب کچھ سمیٹ دیا:
    "اللّہ مغفرت فرمائے، بہت کامیاب اور اچھا انسان تھا!”

    یہ سطریں اب عام ہو گئی ہیں۔ اب کسی "اچھے اور کامیاب” انسان کا اچانک چلے جانا ہمیں چونکاتا نہیں، بس افسوس کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی رُک کر سوچا ہے کہ آخر وہ سب کچھ رکھتے ہوئے بھی ادھورا کیوں تھا؟

    ہم ایک ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں چہرہ مکمل ہونا لازم ہے — صاف، نکھرا، خوش باش — چاہے روح اندر سے کچلی ہوئی ہو۔
    جہاں خواب دکھانا ضروری ہے، چاہے وہ سچ نہ ہوں۔
    جہاں کامیابی کی تعریف صرف فالوورز، گاڑی، گھر، اور غیرملکی دوروں سے جڑی ہو۔
    اور جہاں اگر کوئی کہے کہ "مجھے مدد چاہیے”، تو ہم اسے کمزور سمجھتے ہیں، ناکام سمجھتے ہیں۔

    گزشتہ برسوں میں پاکستان میں کئی ایسے نوجوان، فنکار، انفلوئنسرز، اور کاروباری افراد موت کی وادی میں اُتر گئے، جنہیں ہم نے "کامیاب” مانا تھا۔ اُن کی زندگیاں بظاہر مکمل تھیں، مگر اندر کوئی ایسی خاموش جنگ چل رہی تھی، جو وہ ہار گئے۔

    کیا یہ محض اتفاق ہے؟
    نہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی رویّے کی وہ سنگین غلطی ہے جسے ہم نے "معمول” سمجھ لیا ہے۔

    ہم اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ وہ کچھ بنیں، آگے نکلیں، مشہور ہوں۔
    لیکن ہم یہ نہیں سکھاتے کہ دل کو کیسے سنبھالنا ہے؟
    ہم انہیں مقابلہ سکھاتے ہیں، مگر ہارنے پر گلے لگانا نہیں سکھاتے۔
    ہم انہیں خواب دکھاتے ہیں، مگر نیند چھن جانے پر خاموش ہو جاتے ہیں۔

    کامیابی اب ایک تماشہ بن چکی ہے۔
    اندر سے ٹوٹا ہوا انسان بھی اگر باہر سے "پرفیکٹ” نظر آئے، تو وہ قابلِ رشک ہے۔
    لیکن جو سچ بول دے، جو آنکھ میں آنسو لے آئے، وہ یا تو کمزور ہے یا attention seeker۔

    آج کسی کی خودکشی پر ہم افسوس تو کرتے ہیں، مگر اس سے کچھ سیکھنے کو تیار نہیں۔
    ہم اب بھی ہر نوجوان کو وہی "کامیابی کا فارمولا” تھما رہے ہیں:
    زیادہ کماؤ، مشہور ہو جاؤ، فالوورز بڑھاؤ…
    اور اگر کہیں ٹوٹنے لگو، تو خاموشی سے ٹوٹ جاؤ، لوگوں کو بتانا مت۔

    کیا ہم نے کبھی سوچا کہ وہ نوجوان جن کے خواب ہم نے دیکھے، وہ کیوں ادھورے رہ گئے؟
    کیوں ایک کامیاب چہرے کے پیچھے ہارے ہوئے انسان نے خود کو ختم کر لیا؟
    کیا صرف وہ قصوروار تھا… یا ہم سب؟

    ہمیں اب اپنے رویّے بدلنے ہوں گے۔
    کامیابی کی نئی تعریف لکھنی ہو گی۔
    ایسی کامیابی جو ذہنی سکون دے، جو رشتے نہ توڑے بلکہ جوڑے، جو انسان کو صرف اوپر نہ لے جائے بلکہ اندر سے سنوارے۔

    ہمیں "اچھا بننے” سے زیادہ "سچ بولنے” کی ہمت پیدا کرنی ہو گی۔
    کبھی کبھار صرف اتنا پوچھ لینا، "تم واقعی خوش ہو؟”،
    کسی کی جان بچا سکتا ہے۔

    قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:
    "وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ”
    "ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔” (سورۃ البلد: 4)

    زندگی کا اصل چہرہ یہی ہے — آزمائش، جدوجہد، تھکن، اور تنہائی۔
    ہم سب ان مشقتوں کا حصہ ہیں، مگر کچھ لوگ انہیں اکیلے جھیلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ہم دوسروں کی چمک دیکھ کر رشک کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ روشنی جتنا قریب آتی ہے، سایہ اتنا گہرا ہو جاتا ہے۔

    شاعر احمد فراز کے لفظوں میں:

    یہ لوگ کتنے مسافر ہیں کتنے خالی ہیں
    نظر سے دور ہیں لیکن دلوں کے ساتھ نہیں

    تو اگلی بار جب آپ کسی روشن چہرے کو دیکھیں،
    تو ذرا آنکھوں میں جھانک لیجیے گا —
    شاید وہاں کوئی ادھورا خواب مدد کا منتظر ہو…

  • اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    ہمارا معاشرہ خود کو خاندانی نظام کا محافظ کہتا ہے، لیکن اس خاندانی نظام میں اکثر والدین اپنی اولاد کو محض ایک سہارا، ایک ضمانت یا ایک سرمایہ سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ کہ ’’ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اس لیے تم پر ہمارا حق ہے‘‘ ایک زنجیر بن کر رہ گئی ہے جو نسل در نسل بچوں کو غلامی میں جکڑے رکھتی ہے۔

    اکثر والدین بچوں کو تعلیم بھی اس نیت سے دلاتے ہیں کہ کل کو یہی اولاد ان کی بڑھاپے کی لاٹھی ہو، ان کی محرومیوں کا مداوا کرے اور ان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لے۔ بچہ ہو یا بچی — کوئی اس بوجھ سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ خواہ اس کے خواب کچلے جائیں، اس کی خواہشات روندی جائیں، یا وہ ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرتا رہے — اس پر فرض ہے کہ وہ والدین کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی قیمت اپنی صحت، اپنی زندگی اور اپنی آزادی سے چکاتا رہے۔

    اس ظلم کو ’’والدین کا حق‘‘ کہہ کر جسٹیفائی کیا جاتا ہے۔ وہ والدین جو خود اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اٹھانے سے بھاگ جاتے ہیں، وہی اپنے بچوں کی قربانیوں کو اپنا حق سمجھ کر بے حسی سے تماشہ دیکھتے ہیں۔ بچے دل پر پتھر رکھ کر اپنی خوشیاں دفن کر دیتے ہیں، مگر والدین کی بھوک پھر بھی نہیں مٹتی۔

    سوال یہ ہے کہ اگر اولاد ہمارے سہارے کی ضرورت ہے تو کیا ہمیں ان پر بوجھ ڈالنے کا حق ہے؟ کیا ان کی تعلیم، ان کی محنت اور ان کا کمال صرف اس لیے ہے کہ وہ والدین کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھائیں؟ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک شخص کی پوری زندگی اس امید میں گزر جائے کہ شاید ایک دن وہ اپنی ذات کے لیے بھی جی سکے مگر وہ دن کبھی نہ آئے؟

    ہمیں ماننا ہوگا کہ اولاد پر حق محبت، تربیت اور رہنمائی کا ہے — غلامی کا نہیں۔ اولاد کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے۔ ان کی تعلیم ان کا حق ہے، اس پر والدین کی خدمت کے نام پر قبضہ نہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا کہ اگر ہم نے زندگی دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی زندگی کو اپنی خود غرضی سے برباد کر دیں۔

    اگر ہم واقعی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں انہیں محبت دینی ہوگی بوجھ نہیں۔ انہیں سہارا دینا ہوگا . سہارے کے نام پر ان کے کندھے توڑنے نہیں۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی غلامی کو اپنا مقدر سمجھ کر آگے منتقل کرتی رہیں گی، اور یہ درد کبھی ختم نہیں ہوگا۔

  • زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے،تحریر:دعا مرزا

    کل میرا زندگی سے نیا تعارف ہوا۔ فیصل ٹاون مون مارکیٹ میں میں نے ایک ایسا واقعہ دیکھا جس نے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ شاید اگر میں اس کو ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرتی تو بات کی تشریح آسان ہوجاتی مگر میں اس وقت بغیر کسی دباو کے مشاہدے کرنا چاہتی تھی۔

    رات کالی ہوچکی تھی ، لوگ کھانے کے بعد چائے کی چسکیاں لگا رہے تھے، کہیں قہقہے اور کہیں زندگی کی تلخیوں کی بات چل رہی تھی۔ مںظر وہاں رکا جب گھاس پر سوئے بچے کی اچانک آواز آئی ” ٹائم ہوگیا؟ ” اس کا تکیہ ٹوٹے جوتے تھے لیکن اس کے چہرے کے اطمینان سے لگا رہا تھا گویا وہ روئی کا گولے ہوں۔ اسکی ماں نے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا ” 10 بج گئے نیں اٹھ جا ” اور ساتھ ہی ایک ڈبہ اٹھایا۔ بچے نے ایک توڑے میں سے گولڈن جیکٹ نکالی، بٹن ٹھیک کئے اور فوری سیدھا ہوکے بیٹھ گیا۔ ماں نے ڈبے میں سے گولڈن رنگ اس کے منہ اور گردن پر ملنا شروع کیا۔ وہ ایسے بیٹھا رہا جیسے اس کو اس کا کام معلوم ہو اور کسی سیٹ پر پرفارمنس کیلئے جارہا ہو۔ اس کے فوری بعد اس نے ٹوپی پہنی اور درخت کے نیچے پڑے تھیلے میں سے لائٹوں والے جوگر نکال کر پہنے۔ مجھے وہ تھکا ہوا دکھائی دیا مگر اس نے کسی جوان مرد کی طرح خود کو تھپکی دی اور وہاں سے نکل پڑا۔ اسکی ماں دوپٹہ اوڑھ کر وہیں زمین پر سو گئی جہاں اس کا باپ پہلے سے سویا ہوا تھا۔
    میں نے گردن موڑ کر اس کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ وہ ایک ٹیبل پر گیا اور اچانک روبوٹ بن گیا۔ بچہ بہت چھوٹا تھا لوگ فوری پیسےدے رہے تھے۔ کچھ دیر میں میری باری آئی وہ ایسے ہی مخصوص انداز میں مجھ تک پہنچا میں نے اس سے پیار سے پوچھا ” تھک گئے ہو؟ اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا اور بڑی بردباری سے کہا ” نہیں ” میں نے اس کی ٹوپی کو سرکاتے ہوئے پوچھا سکول جاو گے؟ اس بار اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لیا اور ذرا اونچی آواز میں کہا ” نہیں ”

    اس کے بعد وہ خاموش کھڑا رہا وہ میرے لیے آج بہت سے سوال چھوڑ گیا تھا کیونکہ اس کی نم آنکھیں، تھکا ہوا چہرہ اور دوسری طرف سوئے ہوئے اس کے ماں باپ اور بہن بھائی اسکی ہمت نہیں آزمائش تھے۔ اسکا لہجہ بہت تکلیف دہ تھا۔
    وہ وہاں سے چلا تھا زندگی کے 5 سال نے اسکو 50 سال کا درد دیا تھا۔
    میں ہرگز نہیں کہہ رہی کہ وہ قابل ترس ہے مگر میں نے اسکے حوصلے سے سیکھا کہ زندگی ہر طور جینا ہوتی ہے۔

  • غریب کا جہاں اور امیر کا اور.تحریر:غنی محمود قصوری

    غریب کا جہاں اور امیر کا اور.تحریر:غنی محمود قصوری

    ویسے تو ارض پاکستان ایک انتہائی اعلیٰ اور متبرک نظریہ کے تحت بنایا گیا تھا اور الحمدللہ شروع میں یہ نظریہ چلتا بھی رہا اور پھر رفتہ رفتہ انگریز کی باقیات نے اپنا اثر بڑھانا شروع کیا اور اس نظریہ کو دبانا شروع کر دیا
    الحمدللہ میں مایوس نہیں نا ہی کبھی مایوسی کی باتیں کیں بلکہ جس قدر میں پاکستان سے باامید ہوں واللہ دنیا میں کسی ملک سے اتنا نہیں ہوں
    الحمدللہ قیام پاکستان کے بعد سے ابتک ترقی ہوئی ہے ضرور ہوئی ہے مگر رفتار بہت سست ہے جس کی وجہ دو قومی نظریہ اور اسلامی تعلیمات سے منہ موڑنا ہے
    ایک دو قومی نظریہ اقبال نے دیا تھا جسے قائد اعظم نے ان کی وفات کے بعد پیش کیا تھا جس کے تحت پاکستان معرض وجود میں آیا اور وہ دو قومی نظریہ قرآن و حدیث اور اسلام کے نظریہ کے تحت تھا
    مگر یہ والا دو قومی نظریہ جو آج ہم پر ہمارے حکمرانوں نے مسلط کیا ہوا ہے یہ غریب اور امیر والا ہے
    جو ہمارے حکمرانوں نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے کہ ہم یعنی وہ اشرافیہ الگ قوم ہے اور تم یعنی ان کے نزدیک ہم عوام ایک الگ قوم ہیں
    وہ صاحب عزت ہیں اور ہم اچھوت اور نیچ لوگ نہیں یقین تو ان کی مراعات اور تنخواہیں دیکھ لیں اور پھر ہماری تنخواہیں اور ہم پر لگا ٹیکس دیکھ لیں
    وہ خود ایک تو ایک اعلی و ارفع قوم ہے جسے ہر مراعات حاصل ہیں جبکہ عوام اچھوت ذات جسے کوئی مراعات میسر نہیں بلکہ سانسیں بھی پیسوں سے اپنے پلے سے خریدنی پڑتی ہیں

    ہمارے ہاں ترقی کی رفتار اس لئے سست ہے کہ غریب کا جہاں اور جبکہ امیر کا جہاں اور ہے
    ہم مسلمان ہیں الحمدللہ اسی بناء پر دو قومی نظریہ پیش کرکے آزادی حاصل کی گئی تھی
    اور پاکستان ایک ایسا ملک تھا کہ شاید بہت لمبے عرصے تک ماضی میں کسی ریاست کے قیام کیلئے اتنی قربانیاں نا پیش کی گئی ہونگی جتنی قیام پاکستان کیلئے پیش کی گئیں
    ویسے تو ہمارے ہاں ہر ادارہ موجود ہے جو کہنے کو بغیر غریب امیر کی تمیز کئے کام کرتا ہے مگر یہ بات بہت مشکل ہو چکی ہے

    ارشار باری تعالی ہے

    فَاحۡکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الۡہَوٰی

    لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا
    یہ آیت ہماری عدالتوں میں لکھی ہوتی ہے مگر آپ اور میں بخوبی جانتے ہیں انصاف سستا اور فوری امیر کیلئے ہے جبکہ غریب کیلئے اللہ کسی جج کے دل میں رحم ڈال دے تو ٹھیک وگرنہ 50 سال تک عدالتوں کے چکر لگائے بھی نہیں ملتا

    اگر بات بنیادی سہولیات کی تو ملک چلانے والوں کیلئے تعلیم ،صحت، سیکیورٹی جیسی سہولیات سب مفت ہیں جبکہ عوام کو یہ سب پیسے سے لینا پڑتا ہے
    آپ بجلی کو ہی دیکھ لیں جو پہلے سے کئی لاکھ ماہانہ لیتے ہیں ان کو بجلی مفت دی جاتی ہے جبکہ ایک مزدور کو بجلی کی قیمت اس کی ماہانہ انکم سے بھی زیادہ قیمت کی لگائی جاتی ہے جس کے باعث وہ بیچارہ چوری ڈاکہ ڈالنے پر مجبور ہوتا ہے تو پھر وہی بات عدالتوں کی ،قانون فوری حرکت میں آتا ہے اور اسے پکڑ کر اندر کر دیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس بڑے بڑے مقدموں میں نامزد لوگ ہم پر حکومت کر رہے ہوتے ہیں
    غریب عوام کو گورنمنٹ سے قرض لینے کے لئے لاکھوں جتن کرنے پڑتے ہیں جبکہ اشرفیہ کو گورنمنٹ نت نئے طریقوں سے قرض دیتی ہے اور اگر گورنمنٹ بدل جائے تو پھر وارے نیارے وہ قرض معاف بھی ہو جاتا ہے
    الغرض جتنا بھی لکھوں کم ہو گا غریب کیلئے صرف تسلیاں ہی ہیں جبکہ اشرافیہ کو اس قدر نوازہ جا رہا ہے کہ وہ پہلے سے پھلتا پھولتا جا رہا ہے
    آپ حالیہ بجٹ دیکھ لیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا
    مگر اس سب کے باوجود میں مایوس نہیں اگر یہ حکمران انصاف نہیں کر رہے تو وہ عرش والا رب کریم تو ہے نا وہ ان شاءاللہ خوب انصاف کرنے والا ہے ہماری ساری امیدیں اسی رب تعالی سے ہیں ان شاءاللہ وہ اس دنیا میں بھی انصاف کرتا ہے اور اگلے جہاں میں بھی شاید ہماری عوام کی کچھ کمیاں کوتاہیاں ضرور ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے
    اللہ رب العزت ہماری کمیاں کوتاہیاں معاف کرکے ہمیں ایک اچھی قوم بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    دریائے سوات میں پکنک منانے آئے سیاحوں کی ہولناک ہلاکتوں نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 11 افراد میں سے 8 کی نماز جنازہ ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جبکہ 2 افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ کئی سوالات چھوڑ گیا ہے جن کے جوابات لواحقین، عوام، اور سوسائٹی مانگ رہی ہے۔

    جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور عینی شاہدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں، اور جب پہنچیں تو ان کے پاس نہ کشتیاں تھیں، نہ جال۔ متاثرین بتاتے ہیں کہ ان کے عزیز دریا کے بیچ ایک ٹِیلے پر پھنسے رہے، چیختے رہے، مدد کے لیے پکارا، مگر موجیں سب کچھ بہا لے گئیں۔ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ سیاحوں کو خطرے سے خبردار کیا گیا تھا اور انہیں روکا بھی گیا، لیکن وہ نہ مانے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ فیملی صبح 8:30 پر ہوٹل کے کیفے میں ناشتے کے لیے پہنچی مگر ہوٹل بند تھا، جس کے بعد وہ پچھلے راستے سے دریا کے اندر چلے گئے۔ سیاحوں نے دریا کے اندر جا کر سیلفیاں لینا شروع کر دیں، مقامی لوگوں نے بار بار خبردار کیا کہ پانی کا ریلا آ سکتا ہے، مگر وہ باز نہ آئے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق 9:50 پر ریسکیو 1122 کو کال کی گئی، مگر حادثے کی نوعیت کا اندازہ نہ ہونے کے باعث ٹیمیں بغیر کشتی و جال کے پہنچیں۔ بعد ازاں 10 منٹ میں یہ سامان منگوایا گیا اور کارروائی شروع کی گئی۔ کارروائی کے دوران تین سیاحوں اور ایک مقامی شخص کو بچایا گیا۔

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر سوات سمیت متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے اور ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات بار ایسوسی ایشن نے احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور سانحے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ سیاحتی پوائنٹس پر تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ جس نجی ہوٹل سے سیاح دریا کی طرف گئے تھے، اسے سیل کر کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ دریائے سوات کے اندر اور اطراف غیر قانونی مائننگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ تھی، جس پر عملدرآمد پولیس کی ذمہ داری تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر پولیس جائے وقوعہ پر سب سے آخر میں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون لاگو تھا تو دریا کے اندر سیاح کیسے پہنچے؟ ہوٹل کا پچھلا راستہ کیوں کھلا تھا؟ پولیس اور انتظامیہ کہاں تھی؟

    اہم سوالات جو اب بھی جواب طلب ہیں ،اگر دفعہ 144 نافذ تھی تو سیاحوں کو دریا میں جانے سے کس نے روکا؟ریسکیو اہلکار بغیر سامان کیوں پہنچے؟حادثے کے وقت ہوٹل کھلا کیوں نہ تھا، اور پچھلا راستہ بند کیوں نہ تھا؟انتظامیہ اور پولیس موقع پر تاخیر سے کیوں پہنچے؟اگر سیاحوں نے مقامی لوگوں کی بات نہ مانی تو کیا سرکاری ادارے مزید سختی نہیں کر سکتے تھے؟

    سانحہ سوات صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک نظام کی ناکامی کی علامت بن گیا ہے۔ انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے، سب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب نہ بنے۔

  • سانحہ سوات،ذمہ دارکون، تحریر:ملک سلمان

    سانحہ سوات،ذمہ دارکون، تحریر:ملک سلمان

    بہت کوشش کے باوجود ساری رات نیند کوسوں دور رہی۔ سوشل میڈیا پر درجنوں افراد کی طرف سے اپلوڈ کی گئی سانحہ سوات کی ویڈیو کو بار بار اور مختلف زاویوں سے دیکھتا رہا۔

    دریائی گزرگاہ پر مشتمل خیبر پختونخوا کے تمام تفریحی علاقوں میں انتظامی افسران کو منتھلی دے کر تو کچھ سیاسی پشت پناہی سے دریا کنارے غیرقانونی طور پر قائم ریور ویو ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی بھرمار ہے ان غیر قانونی ہوٹلز میں سے ہی سوات کے ایک ریسٹورنٹ میں سیالکوٹ سے تفریح کی غرض سے آئے اس خاندان کے تمام چراغ بجھ گئے۔

    شروع میں جب دریا میں اچانک طغیانی آئی تو متاثرہ خاندان کے تمام افراد مطمئن تھے کہ انکو ریسکیو کرلیا جائے گا ننھے بچے اچانک آنے والے پانی کو ایڈوینچر سمجھ کر انتہائی پر امید انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے مدد کیلئے پکار رہے تھے۔ دریا میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں شدت سے بدقسمت خاندان کے چہرے پر پریشانی نمایاں ہوئی لیکن وہ پھر بھی پرامید تھے کہ وہ بچ جائیں گے، کسی مسیحا کے انتظار میں صدائیں لگاتے خاندان کو موت کا احساس اس وقت ہوا جب اس پندرہ رکنی خاندان کے تین افراد پانی برد ہوئے۔ دریا میں گرنے والے بھی اس ناگہانی افتاد کو نہیں سمجھ پارہے تھے اور باقی بھی اس سب پر یقین نہیں کر پا رہے تھے، مدد کیلے پکارتی آوازیں آنہوں اور سسکیوں میں بدل گئیں تو کچھ کے حلق خشک ہوگئے۔ بچے ماں باپ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ ہمیشہ پچانے والے انہیں بچالیں گے جبکہ بزرگ والدین بچوں سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ جوان بازو انکو موت کی آغوش میں نہیں جانے دیں گے۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا دریا برد ہونے والے اگلے کنارے پر بچ جائیں گے۔ تسلی کے الفاظ اور مسیحا کے منتظر باقی افراد بھی ایک ایک کرکے پانی میں بہتے جارہے تھے۔ قیمتی ترین انسانی جانوں کو اس طرح جاتے دیکھ کر آنکھیں پتھرا گئیں ہیں۔

    ہر وقت گاڑیاں اور وسائل مانگنے والے ڈپٹی کمشنر اور انتظامی ٹیم میں سے کسی نے بچانے کی کوشش نہیں کی۔ انتظامی اور سیاسی لیڈرشپ میں سے کسی نے کوشش نہیں کی کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے قیمتی جانوں کو بچا لیا جائے۔ یہ حادثہ نہیں قتل ہے، ایک خاندان کا نہیں، انسانیت کا قتل ہے، سوات، خیبر پختونخوا اور پاکستان میں سیاحت کا قتل ہے۔ ایسے بدترین حالات میں بیرونی سیاح تو دور مقامی افراد بھی سیاحت سے ڈر اور سہم کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران نے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر عمران خان کی فوٹو لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا ہوا ہے اور دونوں عوام کو مسائل کے سپرد کرکے مل بانٹ کر وسائل لوٹ رہے ہیں۔ اس قتل کامقدمہ سیاسی لیڈرشپ اور انتظامی افسران دونوں کے خلاف ہونا چاہئے۔

    چند روز قبل ہم گلگت بلتستان سے واپس آرہے تھے تو مشہور سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ جو سطح سمندر سے اونچائی اور تیزسرد ہواؤں کی وجہ سے سیاحوں کا لازم والا سٹاپ ہوتا ہے وہاں غیرقانونی تجاوزات اور آدھ درجن کے قریب زپ لائنز نے اس کی قدرتی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کیا ہوا تھا۔ بیچ سڑک پھل فروش سے پھل خریدتے وقت پوچھا کہ تم کتنا کرایہ دیتے ہو اس نے کہا کہ اس ریڑھی کا پچاس ہزار روپے ماہانہ، میں نے پوچھا کہ زپ لائن اور باقی بڑی شاپس کا کیا کرایہ ہوگا تو اس نے کہا کہ مختلف ہوتا ہے کوئی ماہانہ دیتا ہے تو کسی سے ڈپٹی کمشنر آفس والے سیزن کا ریٹ کرلیتے ہیں۔ ناران کاغان، مہاندری سے مانسہرہ تک سڑک کے دونوں اطراف سرکاری گزرگاہ پر غیرقانونی تعمیرات کی بھرمار۔ ایسا لگتا تھا کہ ڈپٹی کمشنر آفس کے انتظامی افسران اسی پوسٹنگ سے اتنی کمائی کرنا چاہتے ہیں کہ زندگی بھر کی محرومیاں ختم ہو جائیں۔ اپنی حرام کی کمائی سے معاشی محرومیاں ختم کرتے کرتے یہ بے رحم اور سفاک افسران بھول جاتے ہیں کہ ان کی حرام کمائی کے عوض قائم ہونے والی تجاوزات سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں جبکہ منتھلی کے عوض دریا کنارے غیر قانونی ریسٹورنٹس اچانک ہونے والی دریائی طغیانی میں ہر سال قیمتی جانی و مالی نقصاں کا باعث بنتے ہیں۔ اسی ہفتے 20جون کو تین سیاح ناران میں ہلاک ہوئے لیکن مانسہرہ اور خیبرپختونخوا کے انتظامی افسران اور سیاسی قیادت کی بے حسی میں ذرا برابر کمی نہ آئی۔ جیسی صوبائی سیاسی لیڈرشپ ہو گی ویسے ہی بے حس اور لٹیرے افسران۔ گذشتہ 12سال سے خیبرپختونخوا کرپشن اور بیڈ گوورننس کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے۔ ہیلی کاپٹر کو پشاور سے سوات پہنچنے میں صرف 40منٹ درکار ہوتے ہیں لیکن 120منٹ میں نہ تو ہیلی کاپٹر آیا اور نہ ہی کسی سیاسی لیڈر اور انتظامی افسر نے پہنچنے کی زحمت کی۔ کیونکہ سیاسی و انتظامی گٹھ جوڑ تو صوبے بھر کے وسائل لوٹنے کیلئے متحد ہے دونوں مل کر کر اسمگلنگ، منرلز، معدنیات اور ٹمبرچور ی میں مصروف ہوتے ہیں۔ چند سال قبل جب گلگت بلتستان میں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کا کار خاص بنا ایک افسر ڈپٹی کمشنر سکردو تھا مجھے وہاں کے ایک مقامی سوشل ایکٹیوسٹ نے کہا کہ ڈاؤن (پنجاب) سے آنے والے افسر تو بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن یہ والا صاحب تو اتنا لٹیرا ہے کہ اس کا بس نہیں چلتا کہ پیسے کمانے کیلئے ساری زمین بیچ دے۔ انتظامی افسران کا عوام سے رویہ سیاسی لیڈرشب طے کرتی ہے بزدار دور سے پنجاب میں تعینات افسران کی اکثریت قانون شکن اور کرپٹ پریکٹس کی عادی تھے لیکن جب سے مریم نواز شریف وزیراعلیٰ بنی ہیں ان کرپٹ افسران کی وہ والی موجیں نہیں رہیں کیونکہ انکو اندازہ ہے کہ وزیراعلیٰ تک پہنچنے والی شکایت کے بعد معافی نہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com