Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • پردیس اور اپنوں کی بے رخی تحریر:  چوہدری عطا محمد

    پردیس اور اپنوں کی بے رخی تحریر: چوہدری عطا محمد

    آپ میں سے کچھ لوگ جانتے ہوں گے کہ پردیس کیا بلا ہے اور اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کو یہ نہیں پتہ کہہ پردیس کسی اذیت کا نام ہے پردیس کا درد کیا ہے یہ صرف وہی جان سکتا ہے جو یہ سزا بھگت رہا ہوتا ہے، یقین مانیں ایسی عجیب سی تنہائی کا عالم کے بیشمار لوگوں کےاپنے آس پاس ہوتے ہوئے بھی اکیلاپن محسوس ہوتا ہے،
    ہے ناں عجیب سزا ،عام لوگ بیرون ملک دولت کمانے کو میٹھی جیل کا نام بھی دیتے ہیں ایسی جیل جس کی دیواریں تو نہیں لیکن انسان کو ہر وقت تنہائی اور دم گھٹنے کا احساس رئیتا ہے ، مگر کیا کرے حالات اور انسانی ضروریات کی وجہ سے اور اپنی فیملی جس میں اس کے بہن بھائی بوڑھے والدین اور کچھ کے بیوی و بچے ان سب کو بہتر حالات اور بہتر سہولیات دینے کے لئے اس میٹھی جیل میں اندر سے روتے ہوۓ اور سامنے سے ہنستے ہوۓ وقت گزارتا ہے ایک پردیسی
    عید الاضحی کا تیسرا اور چھٹیوں کا آخری دن تھا جمعتہ المبارک کا دن تھا جمعہ کی نماز کے بعد میرا ایک انجنئیر دوست مجھ سے عید ملنے آیا یہ بھی بتاتا چلوں میرا یہ دوست اپنی فیملی یعنی بیگم اور دو بچوں سمیت رئیتا ہے جیسے ہی وہ میرے پاس پہنچا مجھے بھی یکدم لگا کہہ عید ہوگئ ہے کیونکہ اس کو گلے مل کر بہت ہی چائیت کا احساس ہوا می ملنے کے بعد اس کو بیٹھایا اور خود جاکر اس کے لئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرنے لگا ہم بہت بے تکلف دوست ہیں اس نے آواز دی سادہ پانی کی بوتل لاؤ اور صرف دودھ والی چاۓ بناؤ اور کچھ بھی نہیں کھاؤں پیو گا مجھے پہلے ہی پتہ تھا سو می اسے پانی کی بوتل دی اور چاۓ کا سامان چولہے پر رکھ کر اس کے پاس بیٹھ گیا ہم ادھر ادھر کی باتین کرنے لگے پانچ سات منٹ ایسے ہی باتوں میں گزر گے اتنے میں چاۓ بن گئ میں نے چاۓ دوکپ میں ڈالی اور ساتھ الماری سے نمکو کا پیکٹ نکالا اور چاۓ نمکو لے کر دوست کے پاس بیٹھ گیا ہم چاۓ پیتے رہے اور پاکستان کے سیاسی معملات پر گپ شپ لگانے لگے کچھ دیر میں ہی میں محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان ہے میں اس سے پوچھا کہہ چہرے سے پریشان لگ رہے آپ بھائی تو کہتا کہہ کہہ کچھ نہیں میں دو تین بار اصرار کیا تو وہ بتانے لگا اس کی زبانی میں چاند رات فیملی کے ساتھ شاپنگ کر کے گھر کو واپس لوٹا اور تھکاوٹ سے جلدی سوگیا صبح زرا جلدی جاگنا ہوتا کیونکہ ادھر نماز فجر کے لئے جاتے تو عید کی تیاری کر کے جاتے یعنی فجر کی نماز سے ایک گنٹھہ اور کچھ منٹ بعد عید کی نماز ہوجاتی ہے می نماز عید پڑھی اور جلدی سے گھر کی طرف آیا آتے ہی موبائل کا نیٹ آن کیا کیونکہ سارے راستہ سوچتا رہا پاکستان سے پتہ نہیں عید مبارک کے لئے پوری فیملی بہن بھائی کتنی دفع کال کر چکے ہوں گے لیکن وہ شاید میری بھول تھی موبائل آن کر کے پاس رکھا ناشتہ کیا لیکن دھیان موبائل کی طرف ہی تھا کہ ابھی کال آۓ گی لیکن ناشتہ سے لنچ اور لنچ سے ڈنر تک گزر گیا می رات سونے کے لیے بیڈ پر پہنچا تو اپنے اوپر بہت رونا آیا دل میں خیال ہے کہہ کیا می اکیلا ہی ہوں میرا کوئی بہن بھائی ماں باپ رشتہ دار نہیں ہیں کیا کسی ایک فرد نہ بہن نے نہ چھوٹے یا بڑے کسی بھائی نے نہ ہی نہ والد صاحب نے کسی نے بھی عید مبارک تک کی کال تو دور کی بات ہے واٹس پر میسج تک نہیں کیا مجھے والدہ کی بہت یاد آئی کیونکہ جب وہ حیات تھی تو سب کو بول بول کے کسی نہ کسی سے کال کر وا ہی دیتی تھیں
    آپ سوچیں دوسرے دن پاکستان میں عید تھی میں نے سب کو باری باری کال کر کے مبارک باد دی لیکن کسی ایک نے بھی مجھے یہ نہیں کہا کہ سوری ہم بھول گے تھے کل آپ کی بھی عید تھی بڑی بہن کو جب کال کی تو ہلکا سا گلہ کیا تو وہ فورا بولی بھائی آپ کو پتہ ادھر کتنی مصیبتیں مجھے یاد ہی نہیں تھا کہہ آپ کی عید تھی کل آپ لو بتاتا چلوں یہ سب میرے وہی بہن بھائی ہیں جن میں سے ہر ماہ کوئی نہ کوئی اپنی مشکل بتاتا اور مجھے کہتا اتنے پیسے بھیجو می آج تک ان میں کسی کو نہ نہیں کہی ہر خوشی اور غمی میں اگر خود حاضر نہ ہوا لیکن ہر طرح کی ہر قسم کے حالات میں ان لی ضرور مدد کی جس نے جتنے پیسے کہا بیگم سے چوری یا اس کے سامنے ہر حال میں اپنے بہن بھائیوں کو بھیجے لیکن میرا خیال ہے ہم پردیسیوں کو ہمارے فیملی والے ایک اے ٹی ایم مشین ہی سمجھتے ہیں نہ تو ہمارے دئیے ہوۓ گفٹ کی ویلیو نہ ہمارے دئیے ہوۓ پیسے کی ویلیو نہ ہی ہماری اپنی یہ کہتے ہوۓ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا
    آخر میں بس اتنا ہی کہتا چلوں کہہ خدرا جن کے فیملی ممبرز یا کوئی دوست احباب پردیس میں ہیں ان سب کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کیا کریں یقین جانیں ان کی سانسیں اپنے ملک اور آپ کی خوشیوں اور پریشانیوں کے ساتھ چلتی
    اللہ پاک ارض پاک اور اس کی معشیت کو اس قدر مضبوط اور مستحکم کر دے کہہ کسی کو بھی روزگار کے لئے پردیس جیسی میٹھی جیل نہ جانا پڑے
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • پاکستان اللّٰہ کا احسان . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    پاکستان اللّٰہ کا احسان . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    دنیائے تاریخ میں دو ریاستیں ایسی ہیں جو نظرئیے کی بنیاد پر بنی ہے۔ پہلا مدینہ طیبہ اور دوسرا مدینہ ثانی یعنی پاکستان۔ مدینہِ طیبہ اور پاکستان میں ایک دلچسپ ربط ہے جو لوگ لغت سے شغف رکھتے ہیں وہ لغت اٹھا کے دیکھیں مدینہ طیبہ عربی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے مدینہ یعنی شہر یا رہنے کی جگہ جبکہ طیبہ صاف کو کہتے ہیں یعنی کہ صاف رہنے کی جگہ۔ اب آجائے پاکستان پہ تو پاکستان فارسی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے پاک یعنی صاف اور ستان یعنی رہنے کی جگہ۔ اب پاکستان کو اگر عربی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا مدینہ طیبہ، اگر مدینہ طیبہ کو فارسی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا پاکستان۔

    پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ اور پاکستان کلمۂ طیبہ کے نعرے اور نظریہِ اسلام کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا ہے۔
    قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ "ہمیں محض رہنے کیلئے ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ چاہیے جہاں ہم اسلامی قوانین کو پرکھ سکےاور اپنے پیغمبرﷺ کی سنت پر عمل کرسکے”۔
    میری خواہش ہے کہ بالعموم ہر پاکستانی اور بالخصوص ہر نوجوان کو دو غیر معمولی وجود یعنی قائد و اقبال اور ایک غیر معمولی تخلیق یعنی پاکستان کے بارے میں پتہ ہو۔

    پاکستان ایک معمولی تخلیق نہیں ہے۔ قدرت کے اشاروں کوسمجھئے اللّٰہﷻ کے ہمارے اوپر بیش بہا احسانات ہے۔ جسمیں سےایک احسانِ عظیم یہ ہے کہ ہم بغیر کسی محنت، بغیر کسی حجت اور بغیر کسی خوبی کے امتِ محمدیؐ میں پیدا ہوئے۔ دوسرا احسانِ عظیم یہ کیا کہ ہمیں سرزمینِ پاکستان میں پیدا فرمایا۔ دوسری بات سے شاید بہت سے لوگ اختلاف بھی کرے کہ پاکستان میں پیدا ہونا احسان کیسے ہوسکتا ہے کہ یہاں تو بہت سی پریشانیاں ہیں، بدامنی ہے، بے روزگاری ہے، مہنگائی ہے، بھوک ہے، ننگ ہے ناانصافی ہے

    جسکی خاطر سارے دُکھ جھیلیں
    تو پھر بھی پاکستان گھر تو آخر اپنا ہے

    پاکستان 14 اگست 1947 کو بنا جو کہ نزولِ قرآن 27ویں رمضان کی رات تھی۔ شبِ قدر کو پاکستان کابننا محض اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔
    اسلامی دنیا میں ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہے۔ یہ بھی محض ُحسنِ اتفاق نہیں ہے- یاد کریں وہ دن جب پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے چاغی کا پہاڑ پاکستان میں لال ہوا تو فلسطین میں لوگوں نے اسرائیل کوللکار کر کہا تھا کہ اب ہمارے اوپر ظلم نہیں کرنا اب ہم ایٹمی طاقت ہے۔ دُنیا میں سات ممالک کے پاس ایٹمی طاقت ہے جس میں سے 6 غیر مسلم ممالک ہیں جبکہ مسلم ممالک میں واحد پاکستان ہے جو کہ ایٹمی طاقت ہے۔ یعنی مسلمان ایٹمی طاقت ہونے سے ہمیں امت کی سرداری کاشرف بھی اللّٰہ نے بخشا۔
    قُرآنِ مجید فِرقانِ حمید کے سورۃ الرحمٰن میں جتنے بھی باغات و میوہ جات کا ذکر ہے تو گویا کہ سورۃ الرحمٰن کی تفسیر ہے پاکستان۔

    ایک روایت کے مطابق: اللہﷻ کے رسولِ مقبولﷺ نے مختلف مقامات کے بارے میں پیشنگوئیاں کی عرب کیطرف اشارہ کیا کہ یہاں سے مجھے منافقت کی بدبُو آرہی ہے پھر ایک طرف اشارہ کیا جسمیں پاکستان اور افغانستان شامل ہے کہ یہاں سے مُجھے خوشبوں آرہی ہے جبکہ دوسری روایت کے مطابق فرمایا تھا کہ یہاں سے مُجھے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہے گویا کہ پیغمبرِ خداﷺ کا پیغام اور خوشخبری ہے پاکستان۔

    پاکستان اتنا بڑا معجزہ ہے جیسا کہ صالحؑ کی اونٹنی ایک معجزہ تھی۔ اس قوم نے اس احسان کی ناقدری کی تو صفحۂ ہستی سے مٹ گئے جبکہ ہم اس تحفے کی بے توقیری کرکے دنیا میں ذلیل ورسوا ہورہے ہیں۔

    ماں کے بارے میں ہم گالی نہیں سُن سکتے کیونکہ اس نے بچپن میں سینے سے دودھ پلایا ہوتا ہے اور جوانی تک سارے مصائب اور غم اُٹھائے ہوتے ہیں لیکن ماں مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں کرسکتی اور نہ ہی اُس کا اِتنا طاقت و قُدرت ہوتا ہے۔ اِسی طرح دھرتی بھی ماں ہوتی ہے۔یہی دھرتی ماں ہمیں ساری زندگی اپنے سینے سے اناج کھلاتی ہے وطن وہ ماں ہے جو مرنے کے بعد اپنی آغوش میں دو گز زمین بھی دے دیتی ہے۔

    پاکستان کی عزت کیجئے اور عزت کروائیے۔ بے ضمیر لوگ کہتے ہیں وطن نے کیا دیا ہمیں جبکہ باضمیر اور غیور لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے وطن کو کیا دیا۔ میں ایک قدم آگے بڑھ کر بڑے ادب سے کہتا ہوں کہ ہم کیا دے سکتے ہیں وطن کو۔
    پاکستان کو ہم اگر کچھ دینا چاہتے ہیں تومیری التجاء ہے کہ وہ مرد جن کے ذمے اپنے اپنے خاندان کی کفالت کرنا ہے کم از کم اپنے شعبوں میں دیانتداری سے کام کریں اس یقین کیساتھ کہ ایک بے ایمان بندہ کم ہوجائے اور وہ بہنیں جو کہ مائیں بنی ہے یا بنے گی وہ ایک احسان کرے کہ ایک اچھی نسل دے اس قوم کو۔ اس قوم و ملت کو ضرورت ہے ایسے نسل کی جو اس ملک کو وہ مقام دلائے جس کیلئے یہ وجود میں آیا ہے۔

    کھڑے تھے ہم بھی تقدیر کے دروازے پر
    لوگ دولت پہ گرے ہم نے وطن مانگ لیا

    میں مشکور ہوں ربّ ذوالجلال کا کہ پاکستان میرے نام کا بھی حصہ ہے، میری ذات کا بھی حصہ ہے اور میری جان کا بھی حصہ ہے۔ پاکستان سے مُجھے عشق ہے۔ یہ میری لیلیٰ اور میں اسکا مجنون ہوں۔ پاکستان کا محبت میری رگ رگ میں بسا ہے۔
    پاکستان ہمیشہ قائم و دائم سلامت و آباد رہے۔
    خوش رہیں خود بھی اور خوش رکھیں اپنے ساتھ منسلک لوگوں کو۔ اپنا اور اپنے دیس کا خیال رکھیں۔
    پاکستان زندہ باد

    @IjazPakistani

  • یتیم کی تکریم     تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    یتیم کی تکریم تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    یتیمی ایک ایسا امتحان ہے جو کسی بھی شخصیت پر اس آزمائش بن کر آ پڑتا ہے. بلاشبہ اس میں اللہ رب العزت کی بے پناہ مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان پر واضح ہوتی ہیں. لیکن اس امتحان کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ حقیقی مخلص اور بناوٹی رشتوں کی اچھے سے پہچان ہو جاتی ہے. اس زمرہ میں اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں بھی زکر کیا ہے اور یتیم کی تکریم کا زکر ہے.
    1. یتیم کی تکریم کا کیا مطلب ہوا؟
    اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا.
    كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ(۱۷) سورۃ الفجر
    ترجمہ: ہرگزنہیں بلکہ تم یتیم کی عزت (تکریم) نہیں کرتے۔
    آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یتیم کی مدد کی بات نہیں بل اس کی عزت اور عزت نفس کا خیال رکھتے ہوے اس کی مدد کی بات ہے.
    اس آیت کے پہلو میں بہت سے موضوعات موجود ہیں جن میں 1. یتیم کے مال کی حفاظت اور بلوغت پر اسے لوٹانا.
    2. اس کی پرورش کے پہلو
    3. اس کے ساتھ اخلاق و اخلاص
    وغیرہ
    فی زمانہ کیمرا ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے یتیم کی عزت نفس کا قتل فرض اولین سمجھا جاتا ہے.
    اللہ کی رضا ہے تو زمانہ میں رسوا نا کر صاحب
    تیرے چند ٹکے اس کی عزت نفس بیچ نہ بیچ ڈالیں.

    یہاں فی زمانہ مال کو اس لیے تقسیم کیا جاتا ہے کہ کوئی دیکھے تو کہے صاحب بڑا رحم دل ہے. او بھائیو رحم قبول کرنے والے کا فرمان بھی سنو. آپ کا صدقے، خیرات کی نہیں یتیم کی عزت کی بات ہے. زمانے کے سامنے عزت اور گھر کی چاردیواری میں اس کی تزلیل؟
    یہ کہاں کا انصاف ہے؟
    یہ کفار کا طریقہ ہے کفار جب یتیموں کو دھکے دیتے ان کی تزلیل کرتے اللی کریم نے قرآن میں سورۃ الماعون میں ارشاد فرمایا.
    فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ: پھر وہ ایسا ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ یعنی دین کو جھٹلانے والے شخص کا اخلاقی حال یہ ہے کہ وہ یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
    فیصلہ کیجئے ہتہم کے ساتھ ظلم تو کفار کا طریقہ ہے. مسلمان کو تو یہ زیب ہی نہیں دیتا
    یتیم کی پرورش تو رب العالمین کی رضا کیلئے ہونی چاہیے پھر یہ زمانے میں دکھاوا کیسا؟
    جب رضا الہی مقصود ہو تو فرمان الہی کو مد نظر رکھنا لازم ہے. رب کریم یتیم کی تکریم کا حکم فرماتا ہے. یاد رکھیں یتیمی اس کا قصور نہیں لیکن ہاں! آپ کا امتحان ضرور ہے کہ کس طرح اس کی پرورش کی مال میں خیانت تو نہ کی. اس کی وراثت کھا تو نہیں گئے. بےشک اسلام کامل دین ہے. اللہ کریم نے خاص یتیم کا تزکرہ ہی اسی لیے فرمایا کیوں کہ کمزور پر ظلم آسان ہوتا ہے. طاقتور تو مزاحمت کر لیتے ہیں. یہاں اللہ رب العزت نے یتیم کے حق میں خود بات ارشاد فرمائی ہے. پتا چلا یہ معاملہ اتنا آسان نہیں کہ جہاں دیکھو یتیم کی تزلیل کرو اور اس کا حق کھا جاؤ.
    اللہ رب العزت نے قرآن مجید ارشاد فرمایا وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آ گ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے (سورۃ النسا.)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کے گھروں میں سب سے اچھا وہ گھر ہے جس میں یتیم سے اچھا سلوک کیا جائے جبکہ برا وہ گھر ہے جس میں یتیم سے برا سلوک کیا جائے۔ ‘‘ ( سنن ابن ماجۃ، الحدیث: ۳۶۷۹
    ایک جگہ فرمایا: بیواؤں اور مسکینوں کی پرورش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘

    ( سنن ابن ماجہ الحدیث: ۲۱۴۰)
    آئیے ہم اپنی اصلاح کریں. کمزوروں کی یتیموں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کی امداد کریں. کیمرا کی آنکھ نا بھی دیکھے رب کی آنکھ ضرور دیکھتی ہے. احسان کیجیے. اللہ رب العالمین نے سورہ الرحمن میں احسان کے بدلے احسان کا وعدہ فرمایا ہے. ہاد رکھیں یتیم ہوتے دیر نہیں لگتی. آج احسان کیجیے تاکہ کل کو اللہ آپ کے ساتھ احسان کرنے والے پیدا فرمائے.
    فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    آپ کے کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے جو آپ کو معلوم ہے یا نہیں ، دراصل آپ کے پیدا ہونے پر ہی شروع ہوا تھا! بہت سارے عوامل ہیں جو آپ کے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرتے ہیں ، بشمول آپ کی دلچسپیاں ، قابلیتیں ، اقدار ، شخصیت ، پس منظر اور حالات۔ کیریئر کونسلنگ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو کیریئر ، تعلیمی ، اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے اپنے آپ کو اور کام کی دنیا کو جاننے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    کیریئر کی ترقی صرف یہ فیصلہ کرنے سے کہیں زیادہ ہے کہ آپ فارغ التحصیل ہونے پر آپ کیا نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ واقعی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، مطلب یہ ہے کہ آپ کی ساری زندگی آپ بدلاؤ گے ، حالات بدلیں گے ، اور آپ کو کیریئر اور زندگی کے فیصلے مستقل طور پر لینے پڑیں گے۔ کیریئر کونسلنگ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نہ صرف آپ کے فیصلے کرنے میں مدد کریں ، بلکہ آپ کو مستقبل میں کیریئر اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے آپ کو ضروری علم اور صلاحیتیں فراہم کرنا ہیں۔

    میں کیا توقع کرسکتا ہوں؟

    آپ کا کیریئر کونسلر آئے گا:
    آپ یہ جاننے میں مدد کریں کہ آپ کون ہیں اور آپ اپنی تعلیم ، کیریئر اور اپنی زندگی سے کیا چاہتے ہیں۔
    آپ کے خیالات ، خیالات ، احساسات اور اپنے کیریئر اور تعلیمی انتخاب کے بارے میں خدشات کے بارے میں بات کرنے کیلئے کوئی شخص بن جائے ، جو آپ کو اپنے خیالات اور احساسات کو الگ الگ کرنے ، ترتیب دینے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اپنے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرنے والے عوامل کی نشاندہی کرنے میں آپ کی مدد کریں اور اپنی دلچسپیوں ، صلاحیتوں اور قدروں کا اندازہ کریں۔
    کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل اور ذرائع تلاش کرنے میں آپ کی مدد کریں۔ اگلے اقدامات کا تعین کرنے اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے میں مدد کریں۔

    آپ کا کیریئر کونسلر نہیں کرے گا:
    آپ کو بتائیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے ، یا آپ کو بتانا چاہئے کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے یا آپ کو کیا پیشہ اپنانا چاہئے۔ کورس کے انتخاب یا نظام الاوقات میں آپ کو مشورے دیں۔

    کس کو کیریئر کونسلنگ کی ضرورت ہے؟
    چونکہ کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، لہذا کیریئر کونسلنگ کسی کے لئے بھی موزوں ہوسکتی ہے ، بشمول تازہ افراد ، سوفومورس ، جونیئرز ، سینئرز اور یہاں تک کہ سابق طلباء بھی۔ قبل ازیں آپ اپنے مستقبل کے بارے میں جان بوجھ کر فیصلے کرنا شروع کردیتے ہیں ، تاہم ، آپ جتنا بہتر تیار ہوں گے! ہمارا مشورہ ہے کہ تمام افسران کیریئر کونسلر سے مل کر تشریف لائیں۔

    ذیل میں خدشات کی کچھ مثالیں ہیں جو طلبا کو کیریئر کونسلنگ میں لاتے ہیں۔
    کیریئر اور اہم اختیارات کی تلاش
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں کس چیز میں بڑا کام کرنا ہے۔”
    "میں نے اسے کیریئر کے ایک دو آپشنز تک محدود کردیا ہے ، لیکن مجھے ان کے درمیان انتخاب کرنے میں سخت مشکل پیش آرہی ہے۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے اندازہ نہیں ہے کہ فارغ ہونے کے بعد میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ سب سے بڑا میجر کیا ہوگا۔
    "میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں اپنے بڑے سے کس قسم کی ملازمت حاصل کرسکتا ہوں۔”
    "مجھے ایسا نہیں لگتا کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں جاننے کے لئے وہاں موجود تمام مختلف کیریئر کے بارے میں کافی جانتا ہوں۔”

    تنازعات کو حل کرنا
    "مجھے بہت سارے مختلف مضامین پسند ہیں ، اور میں اپنا اہم تبدیل کرتا رہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین نہیں ہے کہ کون سا میرے لئے سب سے بہتر ہے!”
    "میں اپنی کسی بھی جماعت کو پسند نہیں کرتا ہوں اور کوئی بڑی کمپنی مجھ سے واقعی اپیل نہیں کرتی ہے۔”
    "میرے پاس بہت سارے کام کا تجربہ ہے اور میں ایک نیا کیریئر کا راستہ تلاش کرنا چاہتا ہوں جو میں پہلے سے موجود ہنروں کو استوار کروں گا۔”
    "میں ___ پروگرام میں جانے کا ارادہ کر رہا تھا ، لیکن میں نے درخواست دی اور میں داخل نہیں ہوا۔ اب میں کیا کروں؟”
    "میں نے ہمیشہ سوچا کہ میں ___ بننا چاہتا ہوں ، لیکن میں اپنے بڑے ہو گیا اور مجھے واقعی میں یہ پسند نہیں کرتا!”
    "میں واقعی میں اپنے بڑے کو پسند کرتا ہوں ، لیکن یہ وہ نہیں ہے جو میں اپنے کیریئر کے لئے کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کس نوعیت کا کام کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے ڈر ہے کہ میں یہ کام کرنے میں زیادہ رقم کمانے کے قابل نہیں ہوں گے۔”
    "میرا کنبہ حقیقت میں چاہتا ہے کہ میں ___ بنوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ اگر میں واقعی میں یہی چاہتا ہوں تو۔”
    "میں نے ہمیشہ ___ ہونے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ میں جانتا ہوں۔”
    "میں وہاں جانے کے لئے ایک فیلڈ ڈھونڈنا چاہتا ہوں جہاں ہمیشہ ملازمت کی کافی مقدار ہوگی۔”
    "میں ایک ایسا کیریئر تلاش کرنا چاہتا ہوں جس سے مجھے اپنے کنبے کے لئے قابل قدر مالی اعانت فراہم ہوسکے۔”
    "میں اپنے کیریئر کی سمت کام کر رہا ہوں ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں واقعی میں گھر میں رہنے والے والدین بننا چاہتا ہوں۔”
    "میں نے ہمیشہ بائوس میں ہی رہنے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں جو کرنا چاہتا ہوں وہ کرنا ہے مجھے حرکت کرنا ہوگی۔”
    "مجھے نوکری نہیں مل سکتی ہے ، لہذا میں گریڈ اسکول جانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔”

    کیریئر کونسلر کون ہے؟
    کیریئر سروسز کا عملہ آپ کی مدد کرنے میں آپ کو ماسٹر ڈگری حاصل ہے اور اس میں کیریئر ڈویلپمنٹ تھیوری ، مشاورت کی تکنیک ، انتظامیہ اور تشخیص کی تشریح ، اور کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل میں مہارت حاصل ہے۔ کیریئر کونسلرز مشاورت یا کیریئر کونسلنگ میں ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں۔

    آپ کی ملازمت کی تلاش / کیریئر کے حصول کا عمل آپ کے کیریئر کی ترقی کا ایک اہم پہلو بھی ہے ، اور اسی وجہ سے ، جاب سرچ ایڈوائزیشن اور کیریئر کی صلاحکاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کے کیریئر کونسلر کو بھی آپ کی ملازمت کی تلاش کے تمام پہلوؤں کی مدد کے لئے مکمل طور پر تربیت حاصل ہے۔

    ‎@Malik_Fahad333

  • نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    ہرانسان کو زندگی گزارنے اور اپنی روزمرہ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے مستقل ذرائع آمدن کی ضرورت ہوتی ہے. ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کوئی مستقل ذریعہ آمدن ہو جس سے وہ اپنی اور اپنے خاندان کا پیٹ پال سکے اور سکون سے زندگی گزار سکے. آج کل کے دور میں جب قدرتی ذرائع کم اور انسان کی جگہ مشینری لیتی جا رہی ہے تو اور بھی مستقل ذریعہ آمدن کی فکر بڑھتی جا رہی ہے. آج کل دو ہی بنیادی ذرائع آمدن ہر جگہ زیر بحث ہوتے ہیں اور وہ ہیں نوکری اور کاروبار. ہر کوئی چاہتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک حاصل کرے اور اس کا معاشی مستقبل محفوظ ہو. یہ دونوں ذرائع بالکل الگ ہیں اور ان کا الگ قابلیت کا معیار، کام اور آمدن بھی مختلف ہیں.

    پہلے ہم نوکری کی بات کرتے ہیں. نوکری کی دو قسمیں ہیں سرکاری اور غیر سرکاری. ہمارے معاشرے میں سرکاری نوکری کو بہت ہی محفوظ معاشی مستقبل کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس کی بنیادی وجوہات مستقلی، سروس میں سرکاری مراعات، بچت اور سب سے اہم تا زندگی ملنے والی پنشن ہے. عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر آپ سرکاری نوکری سے وابستہ ہیں تو آپ کو کوئی فکر نہیں بس اب آپ تاحیات سرکار کے ‘ ذمہ’ ہیں. نوکری کے لیے اہل ہونے کے لیے سب سے بنیادی چیز جو چاہیے وہ ہے تعلیم. اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو آپ اپنی ڈگری کی کیٹگری اور شعبہ کے لحاظ سے ایک سرکاری نوکری حاصل کر سکتے. ریاست جو آپ کے کے ذمہ کام لگائے گی وہ آپ خوش اسلوبی سے سر انجام دیں گے اور آپ کو متعلقہ شعبہ کے کے قوانین کے مطابق سرکاری مراعات وغیرہ اور ماہانہ آمدن دی جائیں گی. اسلام جمہوریہ پاکستان کے قوانین کے مطابق ریٹائرمنٹ ہونے کی عمر ساٹھ سال ہے. ساٹھ سال کے بعد حکومت آپ کو ایک حساب کے مطابق آپ کو یَک مُشت رقم بھی دے گی اور بعد میں تاحیات پینشن بھی دے گی، یہی خصوصیات سرکاری نوکری کو سب سے پرکشش بناتی ہیں. لیکن اس دور میں جب سرکاری نوکریوں کی کمی اور حکومت خود نوجوانوں کو کاروبار کی طرف راغب کر رہی ہے. حکومت چاہتی ہے کہ نوجوان کاروبار کریں، با اختیار بنیں، دوسروں کے لیےبھی روزگار کے مواقع پیدا کریں اور ملک کا بھی فائدہ ہو.

    اب بات کرتے ہیں کاروبار کی، کاروبار ذاتی ہوتا ہے اور کاروبار کرنے کے لئے جس چیز کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے وہ ہےسرمایہ. آپ سرمایہ کاری کریں گے اور پھر کاروبار کی نوعیت کے حساب سے آپ کی آمدنی ہوگی. کاروبار میں یہ ہے کہ آپ کو رِسک لینا پڑتا ہے، جب آپ سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں، پیسہ لگا رہے ہوتے ہیں تو قدرتی اور ملکی حالات بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں جس سے آپ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ اب کرونا وائرس کی آفت میں کئی کاروبار ٹھپ ہوئے اور سرمایہ کاروں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا. لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کے جتنے بھی امیر ترین افراد ہیں آپ ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں سب کاروباری تھے آپ کو کوئی نوکری والا امیر ترین نہیں ملے گا. نوکری کا یہ فائدہ ہے کہ آپ کا رہن سہن اچھا ہوگا اور پرسکون یعنی نارمل زندگی گزاریں گے. اس کے برعکس کاروبار میں آپ کو کئی مشکلات بھی آئیں گی، نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہ ہے کہ منافع کے بھی کوئی حد نہیں. نوکری میں آپ کو مخصوص وقت اور قوانین کے اندر رہ کر کام کرنا پڑتا ہے، کاروبار میں وقت کی کوئی قید نہیں جتنا آپ کاروبار کو زیادہ وقت دیں گے اتنا زیادہ کمائیں گے. کاروبار ہو یا نوکری اپنی دلچسپی کے شعبہ میں کرنے چاہئیں تاکہ آپ کو زہنی سکون میسر ہو.

    ibrahimianPAK@

  • ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ماڈرن ازم کے دلدادہ ہوں یا مذہب کے ٹھیکیدار، دانشور ہوں یا فنکار، سیاستدان ہوں یا اساتذہ، سب کو جیسے سانپ سونگھ چکا ہے۔ ہر زبان خاموش، ہر دل کبیدہ خاطر ہے کیونکہ ہر کوئی جانتا کہ اس سارے معاشرتی بگاڑ میں کہیں نہ کہیں ان کا حصہ بھی ہے۔ ببول کا بیج بویا ہو تو پھول نہیں بلکہ کانٹے ہی اگتے۔ کانٹے بھی وہ جن کا زہر ہماری نئی نسل میں اس بری طرح سرایت کر چکا کہ اب کوئی تریاق بھی کام نہیں دے رہا۔ اخلاقیات کی پامالی کی ہر حد پار ہو چکی ہے۔ سماجی قدروں کا زوال پورے جوبن پر ہے اور کسی میں ان سرکش موجوں کے سامنے بند باندھنے کی جرات بھی نہیں ہورہی۔ ایک خوف و وحشت کی فضا ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا۔ نہ راہ چلتی بزرگ خاتون محفوظ ہے نہ گلی میں کھیلتی معصوم بچی، چھوٹا بچہ ہویا کوئی خاتون خانہ ہر کسی کی عصمت و جان کو خطرہ ہے۔ ہوس زدہ درندے ہر جگہ کھلے گھوم رہے، اذیتیں دے کر قتل کر رہے، کتوں کی طرح بھنبھوڑ رہے۔ جنون اور ہیجان کا یہ عالم کہ الامان الحفیظ۔ جو لوگ کبھی اپنے خاندانی ہونے پر فخر کرتے تھے خود کو معاشرے کا باوقار فرد گردانتے تھے ان کی ہی اولادیں اتنی سفاک کیسے ہو گئی ہیں؟

    آخر معاشرے میں تمام۔حدود و قیود کو پار کرتا جنسی ہیجان کیونکر پیدا ہو گیا ہے؟ کیا آج سے دو دہائیوں پہلے تک یہ سب کچھ تھا؟ نہیں بلکل نہیں۔ پھر اب ایسا کیا ہو گیا؟ جواب بہت سادہ اور واضح ہے- فحاشی و بے حیائی۔ مغربی معاشرے کی تقلید میں ہم نے بجائے تعلیم وہنر کو کاپی کرنے کے انکی تہذیب کو جوں کا توں کاپی کرلیا یہ جانے بغیر کہ اس کے مستقل اثرات کس قدر بھیانک ہوں گے۔
    قارئین کرام ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ اتنا جنون اتنی سفاکیت راتوں رات نہیں پیدا ہوتی۔ معاشرے میں تبدیلی کا عمل ہمیشہ آہستگی سے آتا ہے۔ قطرہ قطرہ، نامحسوس طریقے سے یہ زہر اترا نہیں اتارا گیا ہے۔ فحاشی وعریانی کا سیلاب ایک دم نہیں آیا بلکہ ہم نے پوری دلی رضامندی سے ماڈرن بننے کے چکر میں اس کو اپنے معاشرے میں رائج کیا ہے۔

    مغربی سیکولر و لبرل معاشرے سے متاثر ہمارے دانشوروں نے اپنی شاندار اسلامی تعلیمات کو دقیانوسی قرار دے کر پس پشت ڈال دیا۔ سیاستدانوں کو مغربی جمہوریت ہی معاشرے کا اصل حسن لگی۔ تو مذہبی رہنماؤں نے معاشرے کی ایلیٹ کلاس میں فٹ ہونے کیلئے مخلوط تعلیم سے لیکر مخلوط محافل تک سب کچھ جائز قرار دے دیا۔ برقع میں بھی ایسی جدیدیت آ گئی کہ پردے کا اصل مقصد ہی فوت ہوگیا۔ مرد و زن کا اختلاط عام ہوگیا خواہ سکول ہو یا آفس۔ بات یہاں تک بھی کنٹرول میں تھی لیکن سونے پر سہاگا الیکٹرانک میڈیا اور ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنز نے پوری قوم کو ناچ گانے پر لگا دیا۔ جب اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو پاکستانیوں نے موبائل پر پورن فلموں کو دیکھنے کے سب ریکارڈ توڑ دیے۔

    خدارا ابھی بھی وقت ہے۔ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں۔ اربابِ اختیار ہمت کریں ان جنسی درندوں کو سرعام پھانسیاں دیں تاکہ باقی لوگ عبرت پکڑیں اور اپنے گھروں میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ معاشرے کا بگاڑ سدھارا جاسکے۔ مغربی معاشرہ تو خود لبرل ازم اور الحادیت کے چکر میں تباہ ہو چکا۔ اگر کسی کو شک ہے تو بیشک ریپ کیسز، چائلڈ پورنو گرافی، عورتوں و بچوں پر تشدد کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ” اور بے شرمی کی باتوں کے قریب ہی نہ جاؤ وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوئی ہوں۔”(الانعام۔151)۔
    تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم حد سے تجاوز کر جاتی تو پہلے خدا اُسے مہلت دیتا کہ وہ اپنی اصلاح کرے اگر روش نہ بدلی جائے تو خدا کا غضب جوش میں آتا اور تباہی سب کا مقدّر بن جاتی۔

    @once_says

  • عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    مجھے آج بھی ایک لڑکی کا واٹس ایپ سٹیٹس اچھی طرح یاد ہے بلکہ میرے پاس اس کا سکرین شاٹ بھی پڑا ہے جو کہ اس کا آخری واٹس ایپ سٹیٹس تھا جس میں تحریر یہ تھی کہ "کہنے والوں کا کیا جاتا،سہنے والے کمال کرتے ہیں”یہ آج سے تقریباً تین سال قبل سہارا میڈیکل کالج نارووال کی ایم بی بی ایس کی طالبہ ڈاکٹر نرگس حیات خان کا خودکشی سے پہلے آخری رات کا سٹیٹس تھا۔ اس خودکشی کے وجہ کیا تھی وہ ایک الگ بحث ہے لیکن بتانا یہ تھا کہ حقیقت یہی ہے کہ ہم کسی بھی چیز پر بے جا تنقید اور اکثر اوقات حد سے زیادہ تنقید کر دیتے ہیں۔حالانکہ جو لوگ اس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں یعنی سہنے والے ہی جانتے ہیں ورنہ ہم کہنے والوں کا کیا جاتا جو منہ میں آئے کہہ دیں۔عورت مارچ در حقیقت ان خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی آواز ہے جو ظلم سہتی ہیں،جن کو ہراساں کیا جاتا ہے،جائیداد میں حق سے محروم رکھا جاتا ہے،جن پر ان کے شوہر تشدد کرتے ہیں،جن سے شادی کے لیے مرضی نہیں پوچھی جاتی،جن پر رشتے سے انکار پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے،اور وہ نور جو کل تک عورت مارچ میں قاتل کو لٹکانے کا مطالبہ کرتے کرتے پھر خود ایک ظالم قاتل سے قتل ہو جاتی ہے۔اب ذرا دیکھ لیجئے عورت مارچ کے مطالبات کیا ہیں۔اگر عورت مارچ میں جائیداد میں حق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کہہ دیا جاتا کہ جناب اسلام نے جائیداد میں عورت کو حق دیا ہے۔اسلام نے تو دیا ہے کیا آپ نے جائیداد میں حق دیا؟ پاکستان میں نوے فیصد سے زیادہ لوگ بیٹیوں کو جہیز تو دیتے ہیں جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔

    عورت مارچ میں شادی کے لیے عورت کی مرضی کی بات کی جاتی ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کیا اسلام نے خود یہ حق نہیں دیا؟ اگر اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ سے ان کی مرضی دریافت کرتے ہیں تو کیا پاکستان میں ایسا ہوتا ہے؟ پھر وہی شرح ہے کہ بہت کم والدین ہیں۔لہزا عورت مارچ میں پاکستان کی عورتوں کے مطالبات کو یہ کہہ کر نہ ٹھکرایا جائے کہ اسلام نے عورت کو حقوق دیئے ہیں،اسلام نے تو دیے ہیں آپ نے نہیں دیے۔اب آ جائیں باقی مطالبات پر، تو کیا پاکستان میں خواتین پر ہونے والے تشدد کی شرح باقی ممالک کی نسبت خطرناک حد تک نہیں بڑھ رہی؟ کیا اگر خواتین قانون سازی اور قانون پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہیں تو غلط کر رہی ہیں؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لفظ عورت مارچ کو ایک گالی کیوں بنا دیا گیا؟ یہ ہماری خواتین ہیں،اس ملک کی برابر کی شہری اور اس ملک کی آدھی آبادی۔یہ خواتین کا ایک پرامن مارچ ہے،ایک آواز ہے،محض ایک آواز۔ آپ اس آواز کو بند کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ آپ کو اس آواز سے اتنی الجھن کیوں ہے؟ عورت مارچ پوری دنیا میں ہوتے ہیں کیا آئین پاکستان میں عورتوں کو سڑک پر نکل کر پرامن اکٹھ یا ریلی نکالنے کا حق نہیں ہے؟ عورت مارچ نہ تو پاکستان کے خلاف ہے نا ہی اسلام کے خلاف ہے۔اور ہر گز نہیں ہے یہ صرف ظالم کے خلاف ہے اور حق نہ دینے والے غاصب کے خلاف۔آخری بات یہ ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عورت مارچ بے حیاء معاشرے کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے بتائیے کہ دو ہزار اکیس میں عورت مارچ کے تھیم لوگو میں جن خواتین کی تصاویر تھیں وہ حجاب پہنے ہوئے تھیں۔عورت مارچ بے حیائی کی آزادی کی بات یا مطالبہ نہیں بلکہ عورت کو اپنی مرضی کے مطابق جینے کا مطالبہ کرتا ہے کہ اگر وہ حجاب کرنا چاہے تو کوئی اسے روکے نہیں یا اگر وہ حجاب نہ کرنا چاہے تو بھی اسے روکا نہ جاے۔باقی شر پسند عناصر یا کچھ نعروں پر اعتراض کیا جا سکتا ہے جو کہ عورت مارچ میں زاتی طور پر کسی کے ہو سکتے ہیں اسے آپ عورت مارچ کا مجموعی طور پر نظریہ نہیں کہہ سکتے۔اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے ضرور کیجئے لیکن ان کے نظریات اور مطالبات کو بھی سنیے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک عظیم پاکستان ترقی کرے تو عورتوں کی کسی بھی آواز کو دبانے کی کوشش نہ کریں،تمام گروہوں،طبقوں اور خیالات کو سنیں اور سننے کا حوصلہ پیدا کریں کیونکہ عدم برداشت سے معاشرے ترقی نہیں کرتے۔

    @SS_Sulehri

  • عورت کا مقام اور ہمارا کردار . تحریر : بشارت حسین

    عورت کا مقام اور ہمارا کردار . تحریر : بشارت حسین

    اسلام نے عورت کو عظیم مقام دیا۔ اسلام سے پہلے عورت کو معاشرے میں ذلت و رسوائی کا کی علامت جانا جاتا تھا۔ بچی کی پیدائش پہ اس کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ معاشرے میں عورت کا وجود ذلت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسلام آیا تو اس نے عورت کو مقام دیا رتبہ دیا رفعت بخشی۔ اسلام آیا تو ماں کے قدموں میں جنت آ گئی۔ سارے رشتوں سے افضل درجہ ماں کو قرار دیا گیا۔ بیٹی کے وجود کو رحمت بنا دیا گیا بہن کو سہارا اور ہمت پیار و محبت کی تخلیق قرار دیا۔ عورت کو حقوق دیے وراثت کا حصہ دار بنایا۔ معاشرے کے بھلائی کی بنیادی تربیت کی درسگاہ بنایا۔ بیوی کے روپ کو شریک حیات بنا دیا باعث سکون بنایا.

    جب شریک حیات کا لفظ سامنے آتا ہے تو ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ کوئی میری زندگی میں خاص ہے جس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔
    جس کے ساتھ دکھ درد بانٹنے ہیں جسکی خوشیوں میں اپنے غم بھلا کر شریک ہونا جس کے غم کو اپنے غم سمجھ کر دور کرنے ہیں۔ جس کی حفاظت کرنی ہے جو آبرو ہے عزت ہے۔ اسلام نے عورت کے مقام اور تحفظ کیلئے قرآن کی آیات نازل فرما دیں۔ آج ہمارا معاشرہ کا طرف جا رہا ہے بیوی کے حقوق کو دیکھیں تو معاشرہ بلکل ان پڑھ اور جاہل لگتا ہے.

    عام طور پہ بیوی کو معاشرے میں ایک گھریلو کام کاج کرنے والی مشین سمجھا جاتا ہے جس کو نہ تنخواہ کی ضرورت ہے نہ پیار محبت کی بس شادی ہو گئی اور فری میں ایک ملازمہ مل گئی۔ اب وہ گھر کے سارے کام کرے گی ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھے گی بچے پیدا کرے انکو پالے گی بڑا کرے گی گھر کی رکھوالی کرے گی۔ اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پہ ڈانتنا،مارنا اور جھاڑنا یی روزمرہ کا معمول سمجھا جاتا ہے۔

    اس سوچ کا تعلق کہاں سے ہے؟
    یہ کوئی اسلامی سوچ نہیں یہ ایک جاہلانہ سوچ جو دور جاہلیت سے چلی آ رہی ہیں۔ خاوند بیوی سے پیار سے بات نہیں کرے گا اس کے پاس نہیں بیٹھے گا کسی کے سامنے اس کو ہاتھ نہیں ملائے گا اس کی غلطی ہو یا نہ ہو کسی کی شکایت پہ اس کو جھاڑنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب وہ کام ہیں جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب عزت اور شرم و حیا کے نام پہ بنائے ہوئے غیر شرعی کام ہیں ہیں۔
    بیوی کو ہاتھ نہیں ملا سکتے لیکن غیر محرم سے کوئی مضائقہ نہیں۔

    کسی سوچ ہے یہ؟
    اسلام نے شریک حیات کو بہت بڑا مقام دیا ہے۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ بیوی سے محبت اور احترام اس کا بنیادی حق ہے۔ اسلام نے یہ رشتہ آپ کیلئے حلال کیا ہے اس کو آپ کے ہر مشکل کا ساتھی بنایا ہے۔ اسکے قدموں میں آپ کے بچوں کی جنت ہے۔ اس کے ساتھ کھانا کھانا کوئی گناہ نہیں اس میں کوئی شرم و حیا کا مسئلہ نہیں اس کے ساتھ سب کے سامنے بات کرنے میں کوئی مذہب آڑے نہیں آتا۔ بیوی کو وہ مقام دیں وہ عزت دیں جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔ یہ سب جاہلانہ رسم و رواج ہیں جنکو اسلامی تعلیمات سے ختم کرنا ضروری ہے۔ اپنے شریک حیات کو ایسے رکھیں جیسے اسلام کہتا ہے ایسے نہیں جیسے اباو اجداد کہتے ہیں۔
    بدقسمتی سے آج ہم پھر اس مقام کی طرف لوٹ رہے ہیں جہاں سے اسلام نے ہمیں چلایا تھا۔ بیٹی کی پیدائش پہ گھر میں جیسے ماتم ہو جاتا ہے۔

    بیٹے کی پیدائش پہ دیگیں مٹھائی اور بیٹی کی پیدائش پہ سوگ منایا جاتا ہے بیوی کو طعنے دیے جاتے ہیں جبکہ یہی بچی جب بڑی ہوتی ہے تو سہارا بن جاتی ہے بچے چھوڑ جاتے ہیں لیکن بیٹیاں اپنی خوشیاں والدین کیلئے قربان کر دیتی ہیں۔ آج معاشرے میں بہن کے حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے وراثت سے نکال دیا جاتا ہے اگر حصہ مانگیں تو لالچی تک کے طعنے دیے جاتے ہیں۔

    یاد رکھیں انکو یہ حقوق اسلام نے دیے ہیں۔ جو مقام عورت کو اسلام نے دیا ہم کون ہوتے ہیں اس کو پس پشت ڈالنے والے ہمیں کوئی حق نہیں کہ عورت کے حقوق کو نظر انداز کریں اسلام نے مرد کو عورت کا محافظ بنایا۔ جب گھر سے باہر نکلے تو ساتھ محرم مرد کو لے کر نکلے اس کا مطلب مرد عورت کا محافظ ہے نا کہ اس کی عزت کو روندنے والا۔

    آج ہم کس مقام پہ کھڑے ہیں؟
    ہم نے عورتوں کے مقام کو بھلا دیا آج عورت مرد کے ساتھ کو اپنے لیئے خطرہ سمجھنے لگی ہمارے اندر سے انسانیت اور اسلام کی روشنی غائب ہو گئی ہمارے اندر جہالت اور درندگی نے بسیرا کر لیا۔ ہم نے عورت کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے اس طوائف بنا دیا۔ اسے معاشرے کی نظر میں گرا دیا اس سے اس کا وہ مقام چھیننے کی کوشش کی جو اس کو اسلام نے دیا جسکی تعلیمات ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیں۔ آج عورت گھر سے نکلتے ہوئے خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ گھر سے نکلتے ہی ہماری نظروں کے تیر اس کو گھائل کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے نے اس کی مجبوریوں کو دیکھ کر اس کا شرعی لباس چھین لیا آخر آج ہمارا رخ کا طرف ہے؟
    کیا ہم اس مقام کی طرف جا رہے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا یا ہم اب بھی اس کو ترقی کا ہی نام دیں گے جس میں عورت کے وجود کی عزت خاک میں مل کر رہ گئی۔

    Live_with_honor

  • گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری یعنی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا، ان سے مالی معاونت طلب کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ اور گھناؤنا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جہاں حقیقی مستحق، اپاہج اور معذور لوگوں کی مدد کا درس دیتا ہے وہیں بلا وجہ گداگری کو ایک برا معاشرتی فعل کہہ کر سخت ممانعت بھی کرتا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بلا وجہ مانگنے والے کو وعید سنائی ہے کہ وہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اس حال میں الله سے ملے گا کہ اس کے چہرے پہ گوشت کا ایک ٹکرا بھی نہ ہوگا۔
    "عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔
    (صحیح بخاری۱۴۲۹)”

    "رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس کو بیچے اور الله اس کے ذریعے اس کی آبرو بچائے رکھے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے کہ وہ دیں یا نہ دیں۔
    (مسند أحمد، رقم: ۱۷۱۱۵)”
    اسلام نے مانگنے سے منع کر کے رزقِ حلال کمانے پر ابھارا ہے اور اپنے ہاتھ سے کمانے کی فضیلت بھی بتائی ہے۔
    بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات پر عمل سے قاصر ہے۔ گدا گری جتنی خطرناک بیماری ہے اتنی ہی تیزی سے یہ معاشرے میں سرائیت کرتی جارہی ہے۔ گداگری کو لوگ باقاعدہ پیشہ اپنا رہے ہیں۔ اور پسِ پردہ پورا ایک نیٹ ورک کام کررہا ہے جو اس گھناؤنا فعل انجام دینے والوں کو سہولیات مہیا کررہا ہے۔ اس لت میں مبتلا افراد معاشرے کے تمام چھوٹے، بڑے شہروں، گاؤں قصبوں، ہسپتالوں، دفاتر، اداروں، شاہراؤں، ٹریفک سگنلز، اور تمام چوراہوں پر موجود پائے جاتے ہیں۔ جہاں انہیں ایک مافیا مقررہ جگہوں پر چھوڑ جاتا ہے اور پھر مقررہ وقت پر واپس لے جاتا ہے۔ اسکے علاوہ مافیا انہیں موبائل فونز وغیرہ کی سروسز بھی مہیا کر رہا ہے۔۔ اور اسطرح وہ باقاعدہ اپنی اس معاشرتی لعنت کو انجام دے رہے ہیں۔
    میرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ میں یونیورسٹی جاتے ہوئے اور یونیورسٹی سے واپسی پر پانچ سے دس منٹ سٹاپ پہ ٹھہرتی ہوں اور ان دس منٹ میں میرا تین گداگروں سے لازمی واسطہ پڑتا ہے۔ اور اکثر مقررہ وقت پہ میں مقررہ گدا گروں کو دیکھتی ہوں۔ اور وہ ہمیشہ پیسے مانگتے ہیں اگر انہیں کوئی راشن وغیرہ یا کھانے کی چیز دیں تو اکثر وہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور اسطرح یہ مافیا کئی ہتھکنڈے استعمال کر کے ناجائز پیسہ بٹور رہا ہے۔
    گداگری جہاں بذاتِ خود ایک مرض ہے وہاں اپنے ساتھ دوسری بہت سے معاشرتی برائیوں کا سبب بھی ہے۔ گدا گروں کو جب پیسے نہ ملیں تو یہ مافیا گینگ مختلف جرائم میں ملوث ہوجاتا ہے۔ جیسے بچوں کے اغواہ اور منشیات فروشی وغیرہ۔ یہ گدا گر اکثر بچوں کو اغواہ کرتے ہیں۔ ان پر ظلم و ستم کر کے انہیں اس گندی لت گدا گری کی تربیت دیتے ہیں۔ بعض کو معذور بنا کر اس لعنت میں ملوث کرتے ہیں اور بعض کو معذوری کا ڈھونگ سکھا کر گداگری کرواتے ہیں۔ کچھ روز قبل میرے ایک جاننے والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ایک گداگر جو مسلسل تین دن سے ان کی گلی میں مقررہ وقت پہ آتا تھا ان کے آٹھ سالہ معصوم بچے کو اغواہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر جھٹ سے منظرِ عام سے غائب ہوگیا۔ اور اسطرح کے بہت سے واقعات ہمارے معاشرے کا روگ بنے ہوئے ہیں۔
    یہ مافیا معاشرے کے حقیقی ضرورت مند مستحق طبقے کا مجرم بھی ہے کہ ان کی وجہ سے ان مستحق افراد کو بھی انکا حق نہیں مل پاتا۔ لوگ انہیں بھی گداگر سمجھتے ہیں۔ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں منفی نظریات قائم کر لیتے ہیں۔
    اس گھناؤنے فعل کو فوراً جڑ سے اکھاڑنا تو ممکن نہیں۔ لیکن اگر ہم بطور قوم اپنے حصے کی جدوجہد کریں تو معاشرے سے اس لعنت کا کسی حد تک سدِباب کیا جا سکتا ہے۔ لہذا ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ اس ناسور سے وابستہ لوگوں کی کوئی مدد نہ کریں۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انکی حوصلہ شکنی کریں۔ اور اپنے صدقات وغیرہ حقیقی مستحق لوگوں تک پہنچائیں۔ تاکہ وہ ہمارے کے لئے توشۂ آخرت بنیں۔
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • ہمارا معاشرہ اور فری میڈیکل کیمپ  (  ہومیوپیتھیک  )   تحریر:   عائشہ عنایت الرحمان

    ہمارا معاشرہ اور فری میڈیکل کیمپ ( ہومیوپیتھیک ) تحریر: عائشہ عنایت الرحمان

    ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ میں ریڈیو سن رہی تھی اک پروگرام چل رہا تھا ھومیو پیتھک ڈاکٹرز کے بارے میں جس کے ختم ہونے پر دوسرے کا شروع ہوگیا پھر تیسرے چھوتھےکا، اور یہ سلسلہ تقریبا سارا دن چلتا رہا ۔اور یہ ڈاکٹرز صاحبان سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج دعوے سے کر رہے تھے کہ ٹھیک ہو جائیں گی چاہے وہ کینسر ہو چاہے وہ گردے کی پتھری ہو چاہے وہ کچھ بھی ہو بغیرآپریشن کے علاج کر رہے تھے۔ایک ڈاکٹر صاحب نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایک مریضہ صاحبہ کا آپریشن ہوا تھا اس کے پیٹ میں پٹی رہ گئ تھی اور ڈاکٹر صاحب دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ پٹی بغیر آپریشن کے علاج سے ختم ہوگئی۔

    ریڈیو پر وہ باقاعدہ اشتہار دے رہے تھے فری میڈیکل کیمپ کا کا۔

    ان کا باقاعدہ ایک خاص وقت مقرر ہوتا ہے جس میں مریضوں سے براہ راست انٹرویو لیا جاتا ہے تو کوئی کرونا سےٹھیک ہوا ہوتا ہے تو کوئی کینسر سے ٹھیک ہوا ہوتا ہے تو کوئی دیگر بیماریوں سے ۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک اور انہونی دعویٰ کے اگر میرے علاج سے آپ صحت یاب نہ ہوے تو اپنے علاج کے پیسے واپس لے سکتے ہیں۔

    مسلسل ایک ہفتہ اس پروگرام کو سننے کے بعد مجھ پر بھی اتنا اثر ہوا کہ میں نے بھی ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا فری میڈیکل کیمپ کے دن۔
    چونکہ میں گاؤں سے جا رہی تھی شہر تو میں نے چھ سات ہزار روپیہ ساتھ لیں کیوں کہ کچھ ضروری سامان بھی لانا تھا۔

    جب پہنچ گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک عالیشان بلڈنگ کھڑی تھی جو کہ ہمارے سادہ لوح عوام کی لوٹ کھسوٹ سے بنی ہوئی تھی گیٹ پر باقاعدہ بندوق تھامے گارڈ کھڑا تھا اندر بہت سارے مشٹنڈے پھر رہے تھے۔ زنان خانے میں جیسے ہی داخل ہوگئی تو اک نظر خواتین پر ڈالی، زیادہ تر خواتین قبائلی تھیں جو کہ پھٹے پرانے برقعوں میں بیٹھے ہوئے تھیں۔

    یہ وہ خواتین تھیں جو فری میڈیکل کیمپ کی لالچ میں میری طرح آپہنچے تھیں۔
    جیسے ہی میں بیٹھ گئی ریڈیو کا نمائندہ بھی پہنچ گیا ایک ایک سے انٹرویو لینے لگا کہ آپ کو کیا بیماری ہے اور آپ کب سے ڈاکٹر صاحب سے علاج کر رہی ہیں لیکن سب خواتین نے یہی جواب دیا کہ ہم پہلی دفعہ آئی ہیں اور ریڈیو پر ہم نے ڈاکٹر صاحب کی بہت تعریف سنی ہیں اس لئے ہم آئے ہیں ۔ میں نے بھی یہی جواب دیا کہ میں تو پہلی دفعہ آئی ہو۔ لیکن ڈاکٹر صاحب جو ریڈیو پر انٹرویو لیتے تھے تو وہ تو کہتے تھے کہ ہمیں فلاں فلاں بیماری ہے اور ہم ٹھیک ہوگئے ہیں اور سال دو سال سے علاج کر رہے ہیں لیکن یہ تو سب پہلی دفعہ ہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب جھوٹ موٹ کا انٹرویو تھے ۔ جو میرے سامنے انٹرویو ریڈیو کے نمائندے نے لئے تو وہ نمائندہ جلدی جلدی باہر نکلا اور وہ انٹرویو میں ریکارڈ نہیں کیے۔

    میں وہاں بیٹھ کر ان غریب عورتوں کی حال پر سوچتی رہی اور افسوس کرتی رہی۔ جب لیڈی ڈاکٹر نے مجھے بلایا جیسے ہی میں اندر داخل ہو گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کالی کلوٹی نیلگوں مائل خاتون کرسی پر تشریف فرما تھی جس نے رنگ گورا کرنے کی کریم بھی ایجاد کی ہوئی ہے اور ہر بڑے سٹور پر دستیاب ہے لیکن خود اپنا رنگ گورا نہ کر سکی۔

    خیرجب ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اور ٹیسٹ کروائیں، وہ ٹیسٹ باہر پر پر سات سو 700 کے ہو جاتے ہیں لیکن ان کے فری میڈیکل کیمپ میں پندرہ سو 1500 کے ہوگئے اور دوائی انہوں نے دی پانچ ہزار 5000 کی۔ میرے پاس جانے کا کرایہ بھی باقی نہ رہا، نہ صرف میں بلکہ کہ ہر کسی سے پانچ ہزار اور چھ ہزار کا مطالبہ ہو رہا تھا ۔

    میں نے ایک چھوٹا سا احتجاج شروع کیا کہ یہ پیسے کم کر دیے جائے لیکن بے سود۔ آخر کار غصے میں آکر وہ دوائی لے لی اور سیدھے ڈاکٹر روم میں چلی گئی میں نے غصے سے دوائی کی شاپرکو ہوا میں لہرایا میں نے کہا کہ جی یہ فری میڈیکل کیمپ ہے اور یہ دوائی آپ نے 5000 کی دی ہوئی ہے، جس کی ہر ڈبے پر قیمت لکھی ہوئی ہے جو کہ ڈیڑھ سو ڈھائی سو اور ایک سو ستر سے زیادہ نہیں تھی جو بے شمار دوائیاں ملا کر سب کی قیمت دوہزار تک نہیں بنتی تھی۔

    میں نے آواز اٹھائی کہ یہ کہاں کا انصاف ہے یہ فری میڈیکل کیمپ کے نام پر ہم سادہ اور غریب عوام کو کو لوٹا جا رہا ہے ڈاکٹر صاحبہ میرے رویے سے ذرا گھبرا گئی اور جلدی سے مجھے 500 روپے واپس کر دیے اور کہا کہ بی بی ناراض نہ ہو اس سے گھر چلے جانا ۔

    مجھے بہت افسوس ہوا کہ یہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد ڈاکٹرز ہے، یہ ڈاکٹر نہیں بلکہ ڈاکو ہے جو کہ مسیحائی کے نام پر قصائی بنے ہوئے ہیں ۔ یہ ظالم ہمارے غریب عوام کو فری میڈیکل کیمپ کے نام پر بے وقوف بنا رہے ہیں۔

    یہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد ہومیوپیتھک ڈاکٹرز ہے۔ ہمیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آنا چاہیے ۔ یہ ریڈیو پر جتنے بھی اشتہار چل رہے ہوتے ہیں یہ سارے جھوٹ موٹ کےہوتے ہیں ۔ ہمیں ان سے بچنا چاہیے۔
    ان کی روک تھام ہمارے وزیر اعظم اور ہمارے پولیس کا کام نہیں ہیں بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم خود سمجھ بوجھ سے کام لے اور اس طرح کے اشتہاری ڈاکٹرز کے پاس نہ جائے تو یہ خود ہی ناکام ہو جائیں گے۔

    آئیے ہم اپنی پیارے پاکستان کو اس ناسور سے پاک کرے۔
    @koi_hmmsa_nhe