Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • مسئلہ کیا ہے؟        تحریر : جواد خان یوسفزئی

    مسئلہ کیا ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی

    مغرب اور اس کے نقش قدم پر چلنے والی چند دوسری اقوام دنیاوی ترقی میں ہم سے آگے ہیں تو اس کی کچھ مادی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن یہ ایک معمہ ہے کہ اخلاقی طور پر بھی ہم ان سے بہت پیچھے ہیں۔ جھوٹ، دھوکہ دہی، کینہ پروری، معاشرتی بے حسی، ظلم و جبر، بد عنوانی۔۔۔ العرض کونسی برائی ہے جس میں ہم دنیا میں نمایاں مقام نہیں رکھتے۔
    اس کی بہت سی وجوہات پیش کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی ایک وجہ واحد وجہ نہیں ہوسکتی۔ انسانی معاشرہ بہت پیچیدہ نظام ہوتا ہے اور اس کے محرکات کثیر جہتی ہوتے ہیں۔
    ہماری اخلاقی پسماندگی کی ایک وجہ کچھ یوں بھی ہوسکتی ہے:
    ہر معاشرے کا اخلاقی ڈھانچہ کسی نہ کسی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ مثلاً جدید مغربی اخلاق کی بنیاد انسان دوستی ہیومنزم پر ہے۔ اس فلسفے کی رو سے دنیا میں سب سے اہم چیز انسان کی انفرادی اور اجتماعی (دنیاوی) فلاح اور خوشی ہے۔ اسی سے لبرلزم، سیکولرزم، جمہوریت، افادیت پسندی الٹرا ہیومنزم اور سائینسی طرز فکر نے جم لے لی۔ مغربی معاشرے کے افراد بالعموم انسان دوستی سے اخذ کردہ اخلاقی اصولوں کی کڑی پاسداری کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ معاشرے کے علاوہ خود ان کی ذات کے لیے بھی مفید ہے۔
    اس کے مقابلے میں ہمارا معاشرہ اخلاقی اصول مذہبی تعلیمات سے اخذ کرتا ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے اور کس قسم کے رویوں سے اجتناب کرنا ہے۔ ہمارے مذہبی اصول قران اور سنت سے اخذ ہوتے ہیں اور ان دونوں کے موضوعات کی بھاری اکثریت اخلاقی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ان اخلاقی تعلیمات پر بہت کم عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم دنیا کی کسی بھی دوسری قوم کے مقابلے میں زیادہ مذہبی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مذہب سے ہمارا شعف بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن ہم میں مذہب کا وہ پہلو زیادہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے جس کا تعلق عقیدے اور مذہبی عبادات و رسومات سے ہے اور مذہب کی اخلاقی تعلیمات کی اہمیت کا احساس کم ہوتا جارہا ہے۔ اس رجحان کو ہم حال اور ماضی قریب میں لکھنے جانے والے مذہبی لٹریچر، نیز مذہبی علماء کے خطبات میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسلامی فقہ کو ایک ٹیکنیکل فن سمجھا جانے لگا ہے جس پر بات کرتے ہوئے اخلاقی پہلؤں کو مدنظر رکھنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ حالانکہ قران مجید میں جہاں بھی کوئی قانون بیان کیا گیا ہے اس کے انفرادی یا اجتماعی اثرات کا ذکر ضرور ہے۔
    یہ رجحان اس قدرزور پکڑ چکا ہے کہ اگر کوئی اسلام کے اخلاقی تعلیمات پر زیادہ زور دے تو اس پر شک کیا جاتا ہے۔ پچھلی صدی کے ایک مشہور مصنف پر دین میں تحریف کے جو الزامات لگائے گئے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس کی ایک کتاب میں اخلاقی برائیوں سے اجتناب کو بھی عبادت قرار دیا گیا تھا۔
    حاصل کلام یہ کہ ہمارے اخلاقی نظام کی بنیاد مذہب پر ہے لیکن موجودہ دور میں مذہب کے اخلاقی پہلو پر توجہ کم ہے۔ اس سے ہمارے اخلاقی نظام کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں۔ یہ احساس وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے کہ عقیدہ درست ہو اور عبادات کا اہتمام کیا جائے تو فلاح یقینی ہے۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کے لیے لوگوں کو یقین دلانا ہوگا کہ معاشرتی ذمے داریوں کو انجام دیے بغیر ہماری فلاح ممکن نہیں، چاہے ہم کتنی ہی زیادہ عبادت کیوں نہ کریں۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • ہم مجموعی طور پر ایک شدت پسند معاشرے کا حصہ ہیں۔  تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    ہم مجموعی طور پر ایک شدت پسند معاشرے کا حصہ ہیں۔ تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    ۔۔ شدت پسندی ہمارے خمیر کا حصہ بن چکی ہے،ہمارے نظریات میں رچ بس چکی، جو کہ اب کھرچے نہیں جاتی۔۔۔!!
    ایسی شدت پسندی اور ایسی نفرت ہماری رگوں میں دوڑ رہی ہے جو ہمیں بنیادی انسانی احساسات سے بھی عاری کیے دیتی ہے۔۔۔!!

    نور مقدم کیس پر میرے لکھے گئے ارٹیکل پر بھی کئی احباب عجب تاویلات و توجیہات لیے آن وارد ہوئے جس پر بندہ حق دق رہ جاتا۔۔۔!!

    لوگوں کے نزدیک نور مقدم کا یہ بہیمانہ قتل کچھ برا نہیں۔۔کیوں۔۔؟ کیونکہ وہ فیمینسٹ یا لبرل تھی۔۔!! ایسا قتل جو رونگھٹے کھڑے کر دینے والا ہو جس کے اثرات معاشرے کی مجموعی نفسیات کو مسخ کر کے رکھ دینے والے ہوں۔۔۔ایسا قتل بھی درست ٹھہرا اگر آپکے مخالف نظریے والے کا ہوا ہے۔۔۔۔

    اچھا یہاں پر ایک بات واضح کر دوں۔۔یہ اس نور مقدم والے کیسں کے حوالے سے تحریر نہیں۔۔یہاں مدعا وہ اپروچ ہے وہ سوچ ہے وہ رویہ ہے جو بطور قوم ہم اپنائے ہوئے ہیں بطور معاشرہ جو ہم رکھتے ہیں۔۔۔!!
    اسی سوچ یا ذہنیت کی چند مثالیں مزید دوں تو

    ایسے ہی چند اذہان مذہبی فرقہ واریت اور اختلاف میں مخالف فرقے پر کفر اور گستاخی کے فتوے لگانے اور دوسرے فرقے کے سر تن سے جدا کرنے انہیں قتل کر دینے کے متمنی ہوتے ہیں ۔۔۔

    ایسے ہی ذہن کے لوگ بھارت میں کورونا کی صورتحال بگڑنے پر خوشیاں منا رہے تھے۔۔۔کہ چونکہ ہمارا دشمن ملک لہذا وہاں کی بے گناہ عوام بھی اگر کسی قدرتی آفت میں ایڈیاں رگڑ رگڑ کر مرتی ہے تو ٹھیک ہے اچھا ہے۔۔۔!!

    ایسے ہی متشدد اذہان ہوتے جو آنر کلنگ کی تاویلات کرتے کہ جب کوئی بھائی کسی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کر دے۔۔تو کہتے چونکہ اس بہن نے یہ کیا لہذاء اس کا قتل ٹھیک ہے اچھا ہوا صحیح انجام۔۔!!

    ایسی ہی ذہنیت ہوتی کہ کوئی آپکے سیاسی یا مذہبی نظریے کی مخالفت کرے تو اسے ماردو۔۔ کاٹ دو۔۔دبا دو ۔۔ اگر خود نہیں بھی۔۔۔ تو یہ خواہش ذہن میں ہو کہ اس کی نسلیں ختم ہو جائیں اس پر بہیمانہ تشدد ہو۔۔
    اسے اذیت ناک موت دے دی جائے وغیرہ وغیرہ

    یہ سب کیوں۔۔؟ کیونکہ اپ ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔۔
    یا وہ مجرم ہیں۔۔۔
    یا وہ گناہگار ہیں۔۔۔۔
    لہٰذا انہیں انسان سمجھنے کی ضرورت نہیں۔۔
    لہذا ان کے ساتھ جو بھی غلط ہو وہ صحیح ہے۔۔۔
    لہٰذا دین و قانون کی حدود بھی پس پشت سہی۔۔۔
    لہذا ان کا قتل بھی درست بس ان کے کرتوتوں کی سزا کہہ کر پلو جھاڑ لو۔۔۔
    لہذا ان کی مال،جان، اور عزت کی کوئی ہی توقیر نہیں۔۔۔۔

    اسے کہتے کم ظرفی،اسے کہتے اخلاقی گراوٹ، اسے کہتی ہیں ذہنی پستی۔۔۔
    رب تعالیٰ ہمیں کم ظرف دشمنوں سے بچائے۔۔۔!!

    ہم غلط کو ٹھیک کرنے کی پوٹینشل نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی غلط کو ٹھیک کرنا چاہتے بلکہ ہم اسے ختم کر دینا چاہتے۔۔۔اسے مار دینا چاہتے۔۔۔دبا دینا چاہتے۔۔۔!!

    دین نے گناہگار کے لیے بھی توبہ کا دروازہ رکھا۔۔۔
    قانون نے مجرم کو بھی قانونی استحقاق دیا۔۔۔
    لیکن ہم نے۔۔ مجرم اور گنہگار تو کجا اختلاف کرنے والے کے لیے بھی کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔۔کبھی سوچا ہے جو ایسے متشدد اذہان والے بااختیار ہو جائیں تو معاشرے کا کیا حشر ہو۔۔؟؟ جسٹ امیجن۔۔!!

    پھر ذہن میں رہے۔۔!! یہ معاملہ نور مقدم کا نہیں،قتل کا بھی نہیں،لبرل اور ملاں کا بھی نہیں،حتی کہ انصاف کا بھی نہیں۔۔۔یہ معاملہ سوچ کا ہے۔۔۔
    دا وے ہاو آ نیشن تھنک۔۔!

    یہ نفرت، یہ وائلنٹ اپروچ، یہ شدت پسندانہ رویہ، ہمیں بنیادی انسانی احساسات تک سے عاری کر چکا ہے۔۔۔اور ایک بات تو طے ہے کہ بنیادی احساسات سے بھی عاری معاشرہ انسانوں کا معاشرہ کبھی نہیں، قطعاً نہیں کہلا سکتا۔۔۔!!

  • فیمنزم  تحریر : اقصٰی صدیق

    فیمنزم تحریر : اقصٰی صدیق

    ویسے تو فیمنزم کی تاریخ بہت پرانی ہے مگر صحیح معنوں میں فیمنزم ایک ایسا تصور ہے جس کے مطابق مرد اور عورت دونوں یکساں انسانی حقوق، بنیادی سہولیات، معاشی اور سماجی حقوق کے حق دار ہیں۔فیمنزم اصل میں مغربی خواتین کی اپنے حقوق کے لیے کئیے جانے والی جدوجہد کی ہی ایک شکل ہے۔
    فیمنزم کا آغاز اس وقت ہوا، جب 1911 میں برطانوی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔

    دیکھا جا سکتا ہے، کہ مغربی خواتین نے اپنے حقوق کیلئے کوششیں کی جو ابھی تک جاری ہیں ۔
    مغربی خواتین نے پہلے خود کو مرد کے تسلط سے آزاد کیا، تعلیم، ملازمت، بزنس، غرض کہ ہر جگہ یکساں اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں جس کے پیش نظر انہیں حقوق کی جدوجہد میں بہت آسانیاں رہیں۔
    حال ہی میں پاکستان میں بھی فیمنزم کا نام سنا جانے لگا ہے گزشتہ کچھ سالوں سے اس میں بہت تیزی بھی آئی ہے۔ پاکستان میں فیمنزم کے حوالے سے خواتین کا کردار ہر گز مغربی خواتین والا نہیں ہے یہاں خواتین کو حقوق مغربی خواتین والے چاھئیں مگر ذمہ داریوں کے لحاظ سے پاکستان کی خواتین اتنی زمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔
    معاشرہ مرد و عورت دونوں سے مل کر بنتا ہے۔دیکھا جائے تو خواتین کے استحصال میں مردوں کا حصہ زیادہ گناجاتا ہے، یہ بات بھی قابل قبول ہے لیکن خواتین اس معاشرہ کا حصہ ہیں۔ خواتین پر ظلم نہیں کیا جاسکتا، یہ ترقی یافتہ قوموں کا دستور نہیں۔

    موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر گالی کی طرح بنا دیا گیایہ لفظ عورتوں کے اپنےحقوق کی کتنی لمبی لڑائی اور جدوجہد کے کے بعد وجود میں آیا ہے، تاریخ میں اس کے حوالے سے ہزاروں مضامین اور کتابیں موجود ہیں لیکن آج بات چیت کا موضوع وہ نہیں ہے۔

    جب ایک معاشرہ عورت کی عقل و دانش کی نفی کرتا ہے تو اسے فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا، اسے اختیارات حاصل نہیں۔ایسے معاشرے میں عورت کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی مانند ہوتی ہے جن کو انسان کچھ فائدے اٹھانے کے لیے پالتا ضرور ہے لیکن انہیں وہ اپنا جیسا نہ تو اپنے جیسا سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی ان سے برابری کا سلوک کر سکتا ہے۔

    حقوق نسواں(عورتوں کے حقوق) اور فیمنزم بھی ایک ایسا ہی موضوع ہے،
    جس پر ہمارے معاشرے میں بغیر کسی سمجھ بوجھ کے، اسکی تاریخ، اغراض و مقاصد، اور کردارکو جانے بغیر رائے دی جاتی ہے اور بعد میں یہی اختلاف رائے یا اتفاق رائے بعض اوقات بہت پیچیدہ مسائل کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔
    فیمنزم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں مردکت نقطہ نظر کو ترجیح دی جاتی ہے اور خواتین کے ساتھ غیر مساوی، امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں فیمنزم ایک ایسی جدوجہد مسلسل کا نام ہے جس میں خواتین کیلئے مردوں کے برابرتعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے حصول کی جدوجہد کرنا شامل ہے۔
    خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے مسلسل ایک تحریک فیمنسٹ موومنٹ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، اس مہم میں خواتین کا ووٹ ڈالنے کا حق، عوامی عہدے پر فائز ہونا، جائداد کی ملکیت کا حق حاصل کرنا، تعلیم حاصل کرنا، پسند کی شادی کرنے کا حق خواتین اور لڑکیوں کو عصمت دری، جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنا، من پسند لباس زیب تن کرنا اور مناسب اور قابل قبول جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حقوق شامل ہیں۔

    عورت ’’انسان ‘‘ کا نسوانی روپ ہے۔تو ظاہر ہے کہ اس کے امکانات بھی لامحدود ہیں۔

    ہم تاریخ کے تسلسل کا ایک حصہ ہیں۔برصغیر میں مسلمان معاشرے کی تاریخ ہمیں ہرگز یہ نہیں بتاتی کہ ہمارے آباؤ و اجداد عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
    زیادہ تر معاشروں میں یہ رواج نہ جانے کب سے چلا آرہا ہے کہ عورتوں کو مذہبی معاملات سے دوررکھا جاتا ہے۔ دنیاوی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے دینی تعلیم کی بھی نفی کی جاتی ہے۔
    برصغیر کے مسلم معاشرے میں عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم کرنے کے روشن شواہد موجود ہیں۔

    آج جب میں دنیا بھر کے مسلمان معاشروں میں عورت پر ظلم ہوتا دیکھتی ہوں، تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔کیونکہ میں مغرب کی آزاد و خود مختار عورت کو پس پشت ڈالتے ہوئے زمانہ جاہلیت کے دور میں زندہ دفن کر دی جانے والی عورت سے لے کر موجودہ دور میں ظلم و تشدد، جبر، غربت کی چکی میں پیستی، ہراساں کی جانے والی، تیزاب پھینک کر جلا دی جانے والی اور غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والی بنتِ حوا کو دیکھ کر خوف زدہ ہوں، اور ان کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہوں.

    @_aqsasiddique

  • ہنر سیکھے اور  فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    ہنر سیکھے اور فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    آج کل کے دور میں ہر کوئ چاہتا ہے کہ ان کے پاس بہت سارا پیسہ ہو اور وہ اسی پیسے سے اپنے دل کی ہر خواہش پوری کرے۔ لیکن کچھ لوگوں کو نہیں معلوم کہ وہ پیسے کس طریقے سے کماۓ اور اس کیلۓ کونسا پلیٹ فارم استعمال کرے جس سے وہ آسانی سے پیسا کماۓ۔
    آج کل جب کرونا کا وبا چل رہا ہے تو اس سے بہت ہی کم وقت میں بہت زیادہ ملکوں کی معیشت خراب ہوگئ جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے کاروبار خراب ہوگۓ کیونکہ وبا کے شروع ہوتے ہی بہت سے ملکوں میں لاک ڈاؤن لگ گۓ ۔ امیر سے امیرتر کی بھی بری حالت بن گئ ہے تو پھر غریب لوگوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔
    جب دنیا میں لاک ڈاؤن لگ گیا تھا اور ہر قسم کے کاروبار بند تھے اور لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے پر پابندی تھی تو اس وقت سب کچھ آنلائن ہورہا تھا اور لوگ اپنے دفاتر کے کام آنلائن کرتے تھے تو اس وقت جن لوگوں کو آنلائن کام آتا تھا اور جو لوگ فری لانسینگ کر رہے تھے وہی لوگ فائدے میں تھے ۔
    فری لانسینگ کے بہت فائدے ہے اگر کوئ بندہ فری لانسینگ کرتا ہو تو انہیں اپنی فیملی سے دور نہیں جانا پڑتا بلکہ وہ گھر بیٹھ کے بھی کام کرسکتے ہے جب کہ دوسرا بڑا فائدہ ایک ہنر ہوتا ہے اپنے ہاتھ میں اور جب بندہ چاہے وہ استعمال کرسکتے ہے ۔ تیسرا فائدہ اگر کوئ بندہ نوکری کررہا ہو تو وہ فری لانسینگ کو پھر ڈیوٹی سے آ کر بھی کرسکتا ہے
    فری لانسینگ کیلۓ دو چیزیں اہم ہے پہلا چیز ہنر سیکھنا اور دوسرا انگلش کا سمجھنا۔ جب انسان کو ایک چیز سمجھ میں آنا شروع ہوتا ہے تو اس کو اس چیز میں لگن ہوجاتی ہے اور وہ پھر اسی چیز کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اس طرح جتنے بھی ٹاپ فری لانسرز ہے وہ ہمیشہ یہی کہتے ہے کہ فری لانسنگ کا مزہ ایک بار ضرور لیں۔
    جب انسان کے پاس ہنر ہو اور انہیں پیسے کی ضرورت ہو لیکن بیچارے کو یہ نہ ہو معلوم کہ میں نے اس ہنر کو لے کے کس طرح اپنی ضروریات کو پوری کرنا ہے تو پھر اس ہنر کا فائدہ ہی کوئ نہیں۔
    میرا ایک یونیورسٹی کا دوست تھا جن کی گھریلوں حالت بہت خراب تھی ایک دن ہاسٹل میں کسی بندے کے ساتھ بیٹھ کے اپنے گھر کے حالات کا انہیں بتایا تو انہوں نے پوچھا بھائ کمپیوٹر سے متعلق کچھ آتا ہے جس پر میرے دوست نے کہا کہ ہاں مجھے گرافکس ڈیزائننگ آتی ہے اس بندے اسی ٹائم ان کو فائیور پر پروفائل بنا کر اسے فری لانسنگ کے بارے میں سمجھایا جب میرے دوست نے فری لانسینگ پر کام شروع کیا تو یقین جانے اس کے حالات بدل گۓ اور وہ اسی فری لانسینگ سے آج ایک لاکھ تک مہینہ کما رہا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہے جو کہ فری لانسینگ سے مہینے کے لاکھوں روپے کما رہے ہے ۔
    ایک طرف اگر ہم لوگ دیکھ لے تو اس سے ہمارے ملک کی معیشت کیلۓ بڑے فائدے ہے اور جتنا اگر لوگ فری لانسینگ کرینگے اتنا پیسہ آئیگا باہر کی ممالک سے اور ہمارے روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا اور ملک معیشت کے لحاظ سے مضبوط ہوگا۔
    آخر میں میں اپنے ملک کے پڑھے لکھے جوانوں س یہی کہونگہ کہ ایک دفعہ ضرور کوشش کرے اور اپنے ہنر کو چھپانے کے بجاۓ ا سے باہر لے آے اگر آپ چاہتے ہے کہ گھر بیٹھے پیسے کماۓ تو فری لانسینگ سیکھ کر اسے ایک دفعہ ضرور آزماۓ آپ کی زندگی بدل جاۓ گی۔

    Waseem khan
    Twitter id: Waseemk370

  • بے لوث محبت کی انمول داستان  ماں  تحریر : چوہدری عطا محمد

    بے لوث محبت کی انمول داستان ماں تحریر : چوہدری عطا محمد

    ایک ایسی آواز جو آپ کے کانوں میں رس گھول دے ایک ایسا لفظ جس کو بول کر آپ کا منہ مٹھاس سے بھر جاۓ ایک ایسا رشتہ جو ہر خوشی اور تکلیف میں آپ کے منہ سے بنا سوچے ہی نکل جاۓ جی بلکل آپ میں سے زیادہ تر سمجھ گے ہوں گے وہ ہے ماں کا اپنی اولاد سے رشتہ ماں کی عظمت اور ماں کی شان میں لکھنا میرے سمیت کسی کے بھی بس کی بات نہیں ماں کی شان اور عظمت پر کچھ لکھنا بلکل ایسے ہی ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کرنا ماں شفقت اور پیار اور خلوص و محبت کا ایسا بے لوث رشتہ ہے جس کی مثال کہی نہیں ملتی ماں ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے محبت و قربانی کا دوسرا نام ہے سخت دھوپ ہو یا طوفان گرمی ہو یا سردی اس کا دست شفقت ایک گھنے سایہ دار درخت کی طرح سائبان کی شکل میں اپنی اولاد کو سایہ اور سکون عطا کرتا ماں سے زیادہ اپنی اولاد سے محبت کرنے والی ہستی پیدا ہی نہیں ہوئی ماں کا رشتہ ایسا رشتہ جو نہ تو کبھی کوئی احسان جتاتی اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی بلکہ بے غرض ہر وقت ہر گھڑی اپنی اولاد کی لئے اپنے مالک سے اپنی اولاد کی خوشیاں راحتیں اور سکون کے لئے دعائیں مانگتی رہتی دامن پھیلا پھیلا کے
    اللہ تعالی نے اس کے عظیم اور بے مثال ہونے اور ماں کی عظمت بتائی کہہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی اور انسان کو یہ بات بتا دی کہہ اب جو چاۓ اس جنت کو حاصل کرے اپنی ماں سے پیار کر کے اس کی خدمت اور احترام کر کے اس جنت کو حاصل کر سکتا ہے اگر آپ بظاہر دنیاوی رشتوں کی بات کریں تو تمام رشتوں جیسے بھائی بہن چاچا ماما پھوپھی یا خالائیں ہر رشتہ میں کوئی نہ کوئی خود غرضی ہوسکتی لیکن یہ انمول رشتہ ہر غرض سے پاک بے لوث بے مثال ہے ایک بیٹا جب کہیں سےبھی آتا گھر میں باقی تمام رشتے جو کہ اس کے اپنے ہوتے ہیں ہر رشتہ آپ کی باہر اے لائی ہوئی چیزوں پر غور کرتا صرف ایک ماں ہی ہوتی جو صرف اپنے جگر کے ٹکڑے کی طرف متوجہ رہتی بغیر پلکیں جپھکے ماں کی دعائیں اپنی اولاد کا ساۓ کی طرح پیچھا کرتی ماں جہاں اور جس حال میں بھی ہو وہ اپنی اولاد کو ہمیشہ خوش وخرم دیکھنا چائیتی اولاد کس طرح بھی لاپرواہ اور دنیا کی نظر میں جتنی بھی بری کیوں نہ ہوں ماں اس کے ہر عیب پر پردہ ڈالتی

    ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا ”یارسول اللہﷺ !میرے حُسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے “؟۔فرمایا ”تیری ماں “ پوچھا ”پھرکون“ فرمایا۔۔” تیری ماں “ اُس نے عرض کیا ۔۔”پھر کون “ ۔فرمایا ۔۔”تیری ماں“ تین دفعہ آپ نے یہی جواب دیا ۔چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا ۔”تیرا باپ “۔ دینِ اسلام میں ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیاگیا ہے      ماں اللہ رب العزت کا ایسا عطیہ اور نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل اولاد کے لئے اقوام عالم میں نہیں ہے ماں جو ہے اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دل کے اندر چھپی ہوئی خوشی اور غمی دونوں کو پہچان لیتی ہے اپنی اولاد کے دل میں کیا چل رہا ہے یہ ایک ماں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ماں کا چہرہ تسبیح کے دانوں کی طرح ہوتا
        ایک بار ایک صحابی حضور نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اپنی ماں کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ہے ، کیا میں نے ماں کا حق اداکر دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: نہیں ، تُونے ابھی اپنی ماں کی ایک رات کے دودھ کا حق بھی ادا نہیں ہوا آج کے اس فیشن زدہ دور حاضر میں ہمارے لوگ ایک دن ماں کے نام پر مناتے ہیں جس دن مدَر ڈے کہا جاتا ہے اولاد سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کچھ اچھے اچھے پیغامات اپنی ماں کے لئے لکھتے اور ہمارے ناسمجھ یہ سمجھ بیٹھتے کہہ ہم نے ماں سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے کیا یہی پورے سال میں ایک دن کے لئے چند پیغامات شئیر کرنا ہی کافی ہے کیا اوپر اسی لئے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زکر کیا ہے
    آج کی اولاد بس اتنے می ہی خوش ہوجاتی اور سمجھ بیٹھتی میں اپنی ماں سے بہت پیار کرتا ہوں
    ماں کی قدر انسان کو تب ہوتی جب یہ انمول رشتہ اللہ پاک اپنے پاس بلا لیتا خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں زندہ ہیں اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت کما رہے ہیں ماں کا چہرہ پیار سے دیکھنا بھی عبادت ہے اللہ پاک جن کی مائیں سلامت ہیں ان کو ہمیشہ سلامت محفوظ رکھے اور جن کی مائیں فوت ہوگئ ہیں اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین
    اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں

    @ChAttaMuhNatt

  • غریب کا مقام اور اسلام کے احکام تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    غریب کا مقام اور اسلام کے احکام تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    اسلام اپنے پیروکاروں کو احساس کا درس دیتا ہے. اس زمرہ میں مختلف عوامل سے کمزوروں کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے. کبھی صدقہ، کہیں خیرات کہیں فطرانہ تو کہیں زکواۃ غرض مختلف پہلو َاس احساس کے ہیں. حالیہ قربانی جیسا عظیم شعار_ اسلام اسی کی ایک کڑی ہے. جس میں 1 حصہ غریبوں کے لیے مختص کر کے احساس دلایا گیا کہ امیروں کی کمائی میں غریبوں کا رزق موجود ہے. اللہ کریم نے ایک نظام بنایا ہے. انہی عوامل میں امت کے لیے فوائد بھی رکھ دئیے تاکہ غریبوں کی امداد کا سلسلہ نہ رکے. جیسا کہ نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا.
    صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے. تو کسی کی بلائیں ٹلتی کسی کا پیٹ پلتا ہے.
    معاشرے کا سب سے کمتر دیکھا جانے والا یہ طبقہ حقیقت میں اس کا زمہ دار خود تو نہیں. یہ میرے رب کی رزق کی تقسیم ہے کسی کو دے کر آزما رہا ہے تو کسی کو محروم رکھ کر. یہ اسی کی حکمتیں ہیں.
    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
    اور اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دے.
    تو یہ تو اللہ کی تقسیم ہے.
    اسی طرح زکواۃ دیجیے اور اللہ سے تجارت کا عہدہ پائیے.
    مال کی پاکیزگی بھی حاصل کیجیے. زکواۃ کو مال کی میل کچیل قرار دے کر اپنے مال کو پاک کرنے کا حکم دیا گیا.تو کسی کا مال پاک ہوا اور کسی کا پیٹ پال دیا گیا.
    الغرض کمزور طبقے کے فروغ کے لیے جو قوانین و ضوابط اللہ رب العزت نے اس دین اسلام میں مقرر فرماے ان کی مثال کہیں نہیں ملتی.
    غریب زمانے میں تو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس کے بڑے درجے ہیں.
    جیسا کہ نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو اللہ کے دیے تھوڑے رزق پر راضی ہو گیا. اللہ کریم کل بروز قیامت اس کے تھوڑے اعمال (صالح) پر راضی ہو جاے گا.
    غریبی میں صبر بہت مشکل لیکن بہت کامل عمل ہے جو بندے کو رب سے بلاواسطہ ملاتا ہے.
    دوسری جانب جو رب العالمین کے دئیے ہوے سے خرچ نہیں کرتے ان کے لیے سخت وعید بھی ہے.
    غریب کو حقارت کی نظر سے دیکھنا کفار کا طریقہ ہے اور اللہ کریم غریبوں کے زریعے امیروں کو آزماتا ہے اللہ رب العزت نے اس بارے کچھ ہوں سورۃ الانعام میں ارشاد فرمایا
    وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(۵۳)
    یہاں آیت کی پہلے حصے میں فرمایا گیا کہ *اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی* یعنی مالدار کی غریب کو لیکر آزمائش کی جاتی ہے پہلی آیت کے حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ غریبوں کے زریعے امیروں کی آزمائش کی جاتی ہے صحابہ کے ساتھ بھی یہ ہوتا تھا کہ مالدار کفار غریب مسلمانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے اور ان کا مذاق اُڑاتے اور اسلام کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام سچا ہے تو مسلمان فقیر کیوں ہیں؟ تو یاد رکھیں غریب کو حقارت سے دیکھنا کفار کا عمل ہے. اپنے معاشرے میں توازن لانا ہماری زمہ داری ہے اسلام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی اسی لیے قرار دیتا کہ اپنے ساتھ موجود غریبوں اور کمزوروں کی مدد کی جاے یہ مسلمان کی شان ہے. غریبوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہئے کیونکہ مشاہدے کی بات ہے غریب ہوتے دیر نہیں لگتی. دروازے کے باہر غریب اور اندر دینے والا امیر ہوتا ہے میرا رب بڑا بے نیاز ہے ہو چاہے تو پل میں دروازے کا رخ بدل ڈالے (ضرورت مند کو خوشحال اور دینے والے کو ضرورت مند کر دے) سوچنے کی بات ہے دروازہ تو ایک ہی ہے. رخ بدلتے دیر نہیں لگتی. کب وہ جھکے ہوے ہاتھ کو پھیلا کر مانگنے والا بنا دے. یہ اس اللہ کریم کے فیصلے ہیں اور وہ اپنے فیصلوں میں بے نیاز ہے. اس لیے غریبوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے.
    احساس کیجیے غریب بھی میرے رب کی مخلوق ہے. اور اسلام ہمیں اس مخلوق سے پیار سے پیش آنے اور ان سے نرمی کرنے ان کا احساس کرنے کا درس دیتا ہے. اللہ کریم ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @EngrMuddsairH

  • اردو، زوال کا شکار.  تحریر: احسان الحق

    اردو، زوال کا شکار. تحریر: احسان الحق

    کہتے ہیں کہ جسمانی غلامی سے ذہنی غلامی بڑی لعنت ہے. جسمانی غلام قوم ایک نہ ایک دن آزاد ہو جاتی ہے مگر ذہنی طور پر غلام قوم نسل در نسل غلام ہی رہتی ہے. ان کے ذہنوں سے غلامی کبھی ختم نہیں ہوتی. پاکستان نے جسمانی طور پر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی مگر بدقسمتی سے آج تک انگریزی زبان کی ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکا۔ وطن عزیز میں انگریزی زبان ہی پڑھے لکھے ہونے کا معیار چانچنے کا پیمانہ بن چکی ہے. آپ اردو یا اپنی مادری زبان میں جتنی زیادہ انگریزی کی ملاوٹ کریں گے آپ اتنے ہی زیادہ پڑھے لکھے تصور کئیے جائیں گے. لوگوں پر رعب ڈالنے یا متاثر کرنے کے لئے بھی اردو میں انگریزی الفاظ کی زبردستی ملاوٹ کی جاتی ہے. دنیا میں جتنے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے انگریزی پر اپنی مقامی اور قومی زبانوں کو ترجیح دی. چین، جاپان، روس، عرب ممالک اور کوریا سمیت دنیا کے ترقی یافتہ اور بڑے ممالک اپنی قومی زبان کو بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے اور سرکاری اور قومی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں.

    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی قومی زبان اردو ہے. اردو پاکستانیوں کی صرف قومی زبان ہی نہیں بلکہ بزرگوں کی شان، شناخت اور غیرت بھی ہے. بزرگوں کی اس لئے کیوں کہ نوجوان نسل اب اردو بولنے لکھنے میں عار محسوس کرتے ہیں. اب پاکستانیوں کا خیال ہے کہ علم و فراست اور پڑھے لکھے کی نشانی یہی ہے کہ بندہ اردو کی جگہ زیادہ سے زیادہ انگریزی کا استعمال کرے. یقین جانیں ہم بھی اسی کو زیادہ پڑھا لکھا سمجھتے ہیں جو انگریزی بولنا جانتا ہو، حالانکہ انگریزی علم نہیں بلکہ زبان ہے. خاکسار کے نزدیک موجودہ میڈیا اور انٹرنیٹ کی ترقی کے دور میں خالص اردو بولنا مشکل کام ہے بلکہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے.

    سقوط ڈھاکہ میں سب سے اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. خاکسار کے مطابق پاکستان کے دو لخت ہونے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. پہلی بار ڈھاکہ میں11 مارچ 1948 کو اردو کے مقابلے میں، بنگالی زبان کے حق میں اور اردو کے خلاف ایک جلوس نکالا گیا جس کی منزل وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین کا دفتر تھی. جلوس شرکاء کا مطالبہ تھا کہ اردو کی جگہ بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے.

    اردو کی مخالفت میں مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہوتے جا رہے تھے. اسی لئے 21 مارچ 1948 کو بانی پاکستان جناب حضرت قائداعظمؒ ڈھاکہ میں تشریف لے گئے اور ریس کورس میں ایک عظیم مجمعے میں کھلے الفاظ میں فرمایا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اردو ہی رہے گی البتہ بنگال صوبائی سطح پر سرکاری زبان کے طور پر "بنگالی” زبان اختیار کر سکتا ہے. حضرت قائداعظمؒ نے فرمایا کہ
    "میں آپ سب پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ پاکستان کی قومی اور ریاستی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی، کوئی دوسری زبان نہیں. کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے اہم ہے کہ اس کی زبان ایک ہو”
    قائداعظمؒ کے رعب دار خطاب سے بنگالی خاموش اور کسی حد تک مطمئن ہو گئے. 26 جنوری 1952 میں خواجہ ناظم الدین نے بھی ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہی ہوگی. حالانکہ خواجہ ناظم الدین کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور وہ خود بنگالی تھے.

    بدقسمتی سے اب ہماری عزت، غیرت اور شناخت اردو پاکستان میں زوال پذیر ہے. ہم آہستہ آہستہ اپنی غیرت کا گلہ گھونٹ رہے ہیں. خدانخواستہ اردو جس طرح پستی کی طرف جا رہی ہے اگلی نسلیں اردو کا تذکرہ کتابوں میں پڑھیں گی کہ اردو زبان بھی ہوا کرتی تھی. ہماری آئینی، سرکاری، سیاسی، عدالتی حتیٰ کہ چھوٹے سے چھوٹے ادارے اور محکمے کی زبان انگریزی ہے. سونے پہ سہاگہ ہمارے انتہائی غیر معیاری اور کسی حد تک غیر اخلاقی ڈرامے بھی اردو کا ستیا ناس کر رہے ہیں. ایک زمانہ تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ثقافت سے بھی بھرپور ہوتے تھے جس میں اردو کے الفاظ کا بہترین انداز میں استعمال کیا جاتا اور خیال کیا جاتا تھا. مگر اب ایسا نہیں ہے. ہم نے صرف انگریزوں سے آزادی حاصل کی مگر بدقسمتی سے انگریزی سے نہیں. ہم انگریزی سے کب آزادی حاصل کریں گے؟ اردو زبان کو ہم پاکستانی عزت نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟

    @mian_ihsaan

  • صفائی نصف ایمان اور پاکستان   تحریر : محمد ماجد

    صفائی نصف ایمان اور پاکستان تحریر : محمد ماجد

    ہمارے دین اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے بھی قرآن پاک میں کئی جگہ پاکیزگی اور صفائی کا حکم فرمایا ہے مگر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی کیا ہم ان احکامات پر عمل کر رہے ہیں ؟
    پانچ وقت نماز کی پابندی تو ہم کرتے ہیں مگر اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم صفائی کا خیال نہ رکھیں اُس کو بھول جائیں ۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمارے دین اسلام نے ہمیں نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے ، حج کرنے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے وہیں دین ہمیں صفائی کا حکم بھی دیتا ہے اس لئے تو صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔
    ‎بطور افراد معاشرہ ہم لوگ اپنے گھروں کا کچرہ سڑکوں اور گلیوں پر پھینکے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔کیا اس کے لئے کسی لمبی چوڑی قانون سازی کی ضرورت ہے یا ہمیں خود احساس کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ صفائی جتنی گھر کے لئے ضروری ہے اس کے ساتھ ساتھ ہماری گلیاں اور سڑکیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔جیسے اپنے گھر کو ہم صاف رکھتے ہیں ویسے ہی ہمارا فرض ہے کہ اپنے گلی محلے اور شہر کو بھی صاف ستھرا رکھیں۔ ہمیں صفائی نصف ایمان ہے اس پیغام کو عام کرنا ہوگا اپنے معاشرے میں شعور پیدا کرنا ہوگا تب ہی ہماری عوام اس پہ سوچنے کے قابل بنے گی۔
    آج کل بارشوں کا موسم ہے پورے ملک میں ہی بارشیں ہو رہی ہیں۔نالے کوڑاکرکٹ کی وجہ سے بھرے پڑے ہیں تھوڑی سی بارش مومول سے زیادہ ہوجائے تو شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال بن جاتی ہے لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوجاتا ہے۔ پانی زیادہ دن کھڑا رہے تو بیماریاں اور مچھر پیدا ہوجاتے ہیں۔ان سب مسائل کا حل بروقت صفائی ہے جس کا خیال رکھنا پوری قوم کا فرض ہے۔ افسوس دوسری قومیں صفائی میں ہم سے آگے نکل اور ہمارے مذہب نے ہمیں حکم دیا اور ہم اُس پہ عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
    الحمدللہ پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں پاکستان کو اللہ تعالٰی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں سے ایک نعمت ہے پاکستان میں موجود خوبصورت مقامات جن کی سیر کے لئے پاکستان اور پوری دنیا سے سیاہ آتے ہیں ۔ مگر افسوس ہماری عوام ان خوبصورت جگہوں پر جاکر وہاں کی خوبصورتی کو نقصان پہنچاتے ہیں وہاں کوڑا کرکٹ پھینک آتے ہیں۔جب ایک انسان صاف ستھرا ہوگا تو سب لوگ اُس کو پسند کریں گے اور اگر کوئی صاف ستھرا نہیں رکھے گا تو سب لوگ اُس سے دور رہیں ۔ ایسے ہی جب ہم اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھیں گے تو باہر سے لوگ آکر یہاں خوش ہوں گے واپس جا کر پاکستان کی تعریف کریں گے اور پاکستان کا ایک مثبت چہرہ پوری دنیا کے سامنے جائے گااور ماحول بھی صاف ستھرا رہے گا۔حکومت کا کام ہے عوام میں شعور پیدا کرےاور تفریحی مقامات پہ کوڑادان نصب کریں اور عوام صفائی کا خیال رکھتے ہوئے کوڑا کرکٹ اُن کوڑا دانوں میں ڈال کر ایک زمیدار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
    اج کل پوری دنیا میں ایک وبا جو کورونا کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے جس سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں اس سے محفوظ رہنے کے لئے بھی صفائی پہ زور دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز بھی بار بار ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے کا مشورہ دےرہے ہیں جیسے کے ہمارا دین بھی صفائی کا حکم دیتا ہے۔
    کچھ دن ہی گزرے ہیں عیدالاضحٰی کو لوگوں نے جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد اُن کی آلائیشوں کو گلی محلوں اور سڑکوں پہ پھینک دیا جس کی وجہ سے شہریوں کا سانس لینا بھی مشکل ہوگیا تھا ہر سال ایسا دیکھنے کو ملتا ہے ہمارا فرض ہے جیسے گھر کو صاف رکھتے ویسے اپنے شہر اور پیارے ملک پاکستان کو بھی صاف رکھیں تاکہ ہم بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
    آئیں ہم سب ملکر اپنے گھر پاکستان کو صاف رکھیں اور خوبصورت بنائیں۔
    Twitter Id: @mpakiiprince

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی ٹریفک  اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔  تحریر: ثاقب محمود

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔ تحریر: ثاقب محمود

    وطن عزیز میں ٹریفک آئے روز بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی ایک مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔ جن کا حل بہت ضروری ہے اگر ان مسائل کا فوری حل کے لئے پلان ترتیب نہ دیا گیا تو مستقبل قریب میں بہت سنگین
    مسائل اور حوادث جنم لے سکتے ہیں ۔ اب جبکہ بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے دور کے ساتھ ہمیں بھی بدلنا چاہئے جس میں سب سے پہلے ٹریفک کے نظام کو بھی اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو سب سے پہلے آتے ہیں ہم گاڑیوں کے رجسٹریشن کے نظام کی طرف جس کا اپڈیٹ ہونا بہت ضروری ہے ۔مثلا” گاڑی کی رجسٹریشن بک روٹ پرمٹ وغیرہ کو ایک جدید سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے جیسے سعودی عرب میں مرور کا سسٹم ہے۔ اگر آپ گاڑی ڈرائیور کو دینا چاہتے ہیں تو بھی آنلائن اس کے آئی ڈی کارڈ کے اوپر یعنی اقامے کے اوپر ہوگی اس کا یے فائدہ ہوگا کے کوئی بھی ٹریفک چالان ہوگا تو وہ ڈائریکٹ اسی بندے کے نام جائے گا جو گاڑی کو استعمال کر رہا ہوگا۔چاہے رینٹ کی گاڑی بھی کوئی رینٹ پے لے گا تو وہ آنلائن مستخدم یعنی استعمال کرنے والے کے نام ہوگی اس کے دو فائدے ایک تو جرائم پیشہ افراد رینٹ کی گاڑی استعمال نہیں کر سکیں گے اور دوسرا حکومت کو پتا ہوگا سسٹم میں ڈیٹیل ہونگی کس نے کتنا کاروبار کیا اور ساتھ میں ٹیکس کے سسٹم سے بھی منسلک ہو جہاں ڈائریکٹ انکم ٹیکس کٹ جائے۔گاڑی کا رجسٹریشن سسٹم صرف ایک کارڈ پر ہو جو کے مالک تبدیل ہونے کے ساتھ تبدیل ہو جائے ۔اس کے علاوہ جو لوگ اوپن لیٹر پر بغیر نام کے گاڑیاں چلا رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے گاڑی نام پر کروانا اولین شرط ہونی چاہیے ۔ایک ہی کارڈ پر لکھا ہو کے گاڑی پبلک سروس ہے یا پرائیویٹ بجائے اس کے کے دو بڑی بڑی بکس اٹھائے پھرے ٹوکن پاسنگ پرمٹ الگ الگ کی بجائے ایک ہی کارڈ پر ہونی چاہیے پاسنگ کا سٹکر شیشے پر آویزاں ہو تاکہ آفیسر دور سے ہی دیکھ پائے کے گاڑی فٹنس کلئیر ہے یا نہیں سب گا ڑیوں کو ڈیجیٹل کرنے سے فائدہ یے ہوگا کے ٹریفک پولیس اگر کسی کا ای چالان کرے گا تو ڈائریکٹ اس کے موبائل پر میسج جائے گا بجائے اس کے کہ ٹریفک پولیس والے روکیں گھنٹوں بحث ہو یا رشوت لے کر چھوڑ دی جائے یا کسی رشتے دار افسر سے سفارش کروا کر چھوٹ جانے والا کلچر ختم ہو جائے گا ٹریفک سارجنٹ بغیر بحث کیے ای چالان کرے گا جو استعمال کنندہ کے کھاتے میں ڈائریکٹ جائے گا ۔گاڑی
    کےنمبر پر چالان ہوگا۔اس کے بعد انشورنس بہت ضروری ہے جو کہ تصادم ہونے کے بعد گاڑی والے دونوں فریقین میں صلح کروائے اور روڈ پر جھگڑا ختم ہو گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد تیری غلطی اور میری غلطی والا کام بھی ختم ہو اور طاقتور کا کمزور پر دھونس جمانا بھی ختم ہو ۔روڈ پر آٹومیٹک کیمراز ہوں کھلی جگہوں پر جو کے اوور سپیڈ گاڑیوں کے فوری آٹو چالان کیپچر کریں۔ اس کے علاوہ تمام مین سگنلز پر آٹو میٹک کیمراز ہونے ضروری ہیں جس سے ٹریفک وارڈن کی کھپت میں کمی ہوگی اور اچھا ریونیو اکھٹا ہوگا اور تقریبا” ایک سال کے اندر ٹریفک جرائم میں کمی واقع ہوگی ۔ اور حادثات ٹریفک جام اور دیگر مسائل میں نمایاں کمی نظر آئے گی ۔انشورنس کمپنیز میں اچھے خاصے لوگوں کو ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے ۔عوام میں شعور پیدا ہوگا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی ۔
    لیکن اس سب کے لئے ضروری ہے ایک مکمل میکنزم جو ٹریفک پولیس انشورنس کمپنیز اور دیگر
    اداروں کے مدد سے تیار ہو ۔
    خصوصا” ڈیجیٹل کیمراز اور فاسٹ نیٹ ورک موبائل ڈیوائسز کی ایک جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ۔ہم عرب امارات اور سعودی عرب کے ٹریفک نظام کو دیکھتے ہوئے اپنے ٹریفک کے نظام میں بہتری لا سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ چھوٹی دستی ٹرانسپورٹ جیسا کے موٹر سائیکل رکشہ چنگ چی وغیرہ جو کے اکثر انتہائی خطرناک اور مہلک حادثات کا باعث بنتے ہیں ۔ان کا چیک اینڈ بیلنس رکھنا ضروری ہے جن کی حد سے بڑھی تعداد بھی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے بچے ڈبل کو چھوڑیں ٹرپل سواری اور بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائکل چلاتے نظر آتے ہیں جو کے کم عمری اور ناتجربہ کاری اور تیز رفتاری کے باعث کثیر تعداد میں حوادث کا باعث بنتے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کے کم عمر بچوں کے بائک چلانے پر مکمل پابندی عائد کرے اور بغیر لائسنس کے ڈرائیو پر بھی مکمل پابندی ہو ۔جو ماں باپ اپنے 18 سال سے کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل دیں ان کے خلاف بھی سخت کاروائی اور موٹر سائیکل ضبط ہونا چاہیے ۔
    حکومت کو پتا ہو کے شہر میں
    کتنی ٹرانسپورٹ کی گنجائش ہے اور کتنی تعداد میں موجود ہے ۔
    حد سے زیادہ کوئی بھی چیز ہوگی تو وہ گزرتے وقت کے ساتھ مشکلات پیدا کرے گی۔ آپ راولپنڈی یا لاہور کے کسی چوک میں چلے جائیں آپ کو رکشوں اور موٹر سائیکل کی بھرمار نظر آئے گی اگر آپ غور کریں گے تو ٹریفک کے جنگل میں پھنسے آپ کا سر دکھ جائے گا ۔پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ میٹر پر بننا چاہئے یا کوئی معقول نظام ہو تاکہ عوام پبلک ٹرانسپورٹ سے سہی معنوں میں مستفید ہو سکے ۔
    اللہ ہماری معاشرے میں سدھار
    کے لئے اس چھوٹی سی تحریر کو پر اثر بنائے اور اس کے فوائد کے ثمر سے وطن عزیز کو نوازے آمین ۔

    @Ssatti_

  • دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    والدین زندہ ہوں تو وہ شجر سایہ دار ہوتے ہیں اللہ رب العالمین سب کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر سلامت رکھیں اور یتیمی کا دکھ کسی کو نہ دیں آمین ، دین اسلام میں یتیم کی کفالت اور دیکھ بھال پر ا للہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو نبی رحمت ﷺ کے زریعے سے بہت سی نصیحتیں کیں ہیں اور انعامات کا بھی وعدہ فرمایا ہے آج ہم کوشش کریں گے کہ یتیموں کے حقوق کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے احکامات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے
    یتیم :اردو لغت میں تنہا رہ جانے والا یا ایسا شخص جس کی طرف سےغفلت برتی جائے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بھلاگھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 559
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے اور شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان ذرا کشادگی رکھی۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 288

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 42

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سات مہلک چیزوں سے بچو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور جادو اور جس جان کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کا سوائے حق کے قتل کرنا اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جنگ کے دن پشت پھیر کر بھاگ جانا اور غافل، مومن، پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1789

    حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تجھے ضعیف ونا تو اں خیال کرتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ بننا اور نہ مال یتیم کا والی بننا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 223

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا اس کے علاوہ اور جو کوئی بھی ہو اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2968

    حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں فقیر ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے البتہ میرے پاس ایک یتیم بچہ ہے۔ آپ نے فرمایا تو اس کے مال میں سے کھا بغیر فضول خرچی کے اور بغیر ڈرے ہوئے اس کے بڑے ہوجانے سے اور بغیر پونجی بنانے کے اس کے مال سے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1105

    حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فقیر ہوں میرے واسطے کچھ بھی (مال وغیرہ) موجود نہیں ہے اور ایک یتیم بچے کا میں ولی بھی ہوں۔ آپ نے فرمایا تم اپنے یتیم کے مال میں سے کچھ کھا لیا کرو لیکن تم فضول خرچی نہ کرنا اور تم حد سے زیادہ نہ کھانا اور نہ تم دولت اکٹھا کرنا۔سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1609عون بن ابوجحیفہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عامل زکوة آیا اور اس نے مالداروں سے زکوة وصول کرنے کے بعد ہمارے غریبوں میں تقسیم کر دی ایک میں یتیم بچہ تھا پس مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 632

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے گا اللہ تعالیٰ بے شک وشبہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ مگر یہ کہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی بخشش نہ ہو۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2001

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں دو نا تو انوں کا حق (مال) حرام کرتا ہوں ایک یتیم اور دوسرے عورت ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 558

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدخلق شخص جنت میں نہ جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بتایا ہے کہ اس امت میں پہلی امتوں سے زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے ؟ (بہت ممکن ہے کہ بعض لوگ ان کے ساتھ بدخلقی کریں) فرمایا جی ہاں لیکن ان کا ایسے ہی خیال رکھو جیسے اپنی اولاد کا خیال رکھتے ہو اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا ہمیں دنیا میں کونسی چیز فائدہ پہنچانے والی ہے ؟ فرمایا گھوڑا جسے تم باندھ رکھو اس پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں لڑو تمہارا غلام تمہارے لئے کافی ہے اور جب وہ نماز پڑھے (مسلمان ہو جائے) تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 571

    نبی کریم ﷺ جہاں یتیوں کے خیال رکھنے پر انعامات کا وعدہ کیا ہے وہیں ان کے ساتھ بدسلوکی اور نا جائز ان کے مال ودولت پر قبضہ کرلینے پر سخت ترین سزا کا مستحق بھی بتایا ہے
    جس گھر میں یتیم ہو اس سے اچھا سلوک کریں تو وہ سب سے اچھا گھر کہا گیا اور جس گھر میں یتیم ہو اس سے برا سلوک کیا جائے اسے برا ترین گھر کہا
    اللہ تعالیٰ ہمیں یتیموں سے اچھا برتاو کرنے اور سنت محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے نبی مہربان ﷺکا ساتھ نصیب فرمائیں

    @mmasief