Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اختلاف اور مخالفت . تحریر :‌ باچا خانزادہ

    اختلاف اور مخالفت . تحریر :‌ باچا خانزادہ

    ہم جس ملک اور معاشرے میں رہتے ہیں یہاں تعلیم عام ہونے کے باوجود ہمارے اندر برداشت اور تحمل کا بہت فقدان ہے۔ عام طور پر ایک چیز جو کافی عرصے سے مسلسل میں نوٹ کر رہا ہوں وہ دو لفظ ( اختلاف اور مخالفت ) ہیں جن کا ہمارے معاشرے اور ملک کی اکثریت کو فرق شاید معلوم نہیں تب ہی تو عدم برداشت ، غصّہ اور لڑی جھگڑوں کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے حتی کہ بعض اوقات بات دشمنیوں تک پہنچ جاتی ہے فقط اس ایک فرق سے غفلت کے باعث آچھے اچھے تعلق اور رشتے کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    اختلاف کا مطلب ہے کسی معاملے سے اتفاق نہ کرنا یا کسی کی کی گئی بات سے متفق نہ ہونا اور اپنی ایک الگ رائے کا ہونا ہے یا کسی کا ہماری کی گئی بات اور مشورے سے اپنی ذاتی ایک الگ سوچ اور رائے کا ہونا جو کہ انتہائی اچھی بات بھی ہے اختلاف رائے کو گفت وشنید اور بحث کا حسن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اختلاف رائے سے کسی بھی معاملے کا ایک نیا رخ سامنے آتا ہے۔ لیکن کسی کے اختلاف کو مخالفت سمجھ بیٹھنا یہ غلط ہے۔ کیونکہ مخالفت تو ہمیشہ دشمنی اور عداوت کی راہوں پر لے جاتی ہے۔ باقی جیسے کہ واضح ہوچکا ہے کہ اختلاف کو گفت وشنید اور بحث و مباحثے کا حسن اور جان سمجھا جاتا ہے تو ہمیں سمجھ سے کام لینا چاہیے اور کسی کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے اور اسی طرح ہمیں بھی اگر کسی معاملے پر اتفاق نہ ہو تو اختلاف رائے آپ کا بھی حق ہے۔ لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ ایک چیز جو ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے وہ یہ کہ اختلاف ضرور کریں لیکن ادب کے اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ کیوں کہ جیسا کہ یہ قوم پہلے ہی عدم برداشت کا شکار ہے تو ایسے میں اگر بندہ تہذیب و گفتگو کے اصولوں کو بھی نظر انداز کر دے تو یہ چیز انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور مخالفتوں و ناراضی گیوں کی وجہ بنا سکتی ہیں۔ اختلاف تو دو بھائیوں میں ہو جاتا ہے باپ بیٹے میں ہو جاتا ہے دو دوستوں میں ہو جاتا ہے استاد شاگرد میں ہو جاتا ہے لیکن اہم چیز جو ہے وہ ہے ادب اور محبت کے راویوں کا فروغ ہے۔ آپ ادب و احترام اور اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات دوسرے کو سمجھا سکتے ہیں اور اگر آپ خود ہی غلط ہوں تو برداشت کے اصولوں پر چلتے ہوئے اگلے بندے کی بات سننے کے بعد اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ سب اس فرق کو جاننے سے ممکن ہے اور خوش مزاجی و ادب کسی بھی معاملے کو سنجیدگی و عمدگی کے ساتھ پائے تکمیل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

    ہمارے ہاں عام طور پر دو گروہ میں اختلاف اور مخالفت کا رجحان بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک ہماری سیاسی جماعتیں اور گروہ اور دوسرے ہمارا مذہبی طبقہ جو فرقوں اور گروہوں کی شکل میں موجود ہے۔ یہاں کسی کو غلط ، سہی ، حق ، باطل یا اچھا برا کہنا مقصود نہیں صرف اختلاف ، مخالفت، عدم برداشت اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا جیسے عوامل کی نشان دہی کرنا ہے۔ سیاسی جماعتیں بعض اوقات اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے بہت نازک حدتک چلی جاتی ہیں اور ایک ہی ملک اور قوم کے لوگوں کو اپنے مفادات کی خاطر لڑنے مرنے تک پہنچا دیتے ہیں ایک دوسرے کو غلط اور نیچا دکھانے اور ثابت کرنے کے چکر میں تمام اصولوں کو پسے پشت ڈال دیتے ہیں اور اختلاف و مخالفت کا فرق بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مذہبی طبقہ بھی بعض اوقات مختلف مسئلے اور چیزوں پر ایک دوسرے سے مناسب اختلاف رکھنے کی بجائے مخالفت اور ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کی حد تک چلے جاتے ہیں۔ اور یوں اس کے اثر کے طور پر عام افراد بھی باقی ماندہ زندگی ایک دوسرے کے لیے سخت مخالف پالتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ہی اگر سمجھ اور برداشت سے کام لیا جائے تو بہت سارے معاملات مناسب اختلاف رکھتے ہوئے بات چیت ، برداشت اور تحمل سے کام لیتے ہوئے حل کیے جاسکتے ہیں اور امن رواداری کی فضاء قائم کی جاسکتی ہے۔

    @bachakhanzada5

  • حوا کی بیٹیاں اور جنسی درندگی . تحریر : حسیب احمد

    حوا کی بیٹیاں اور جنسی درندگی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان میں آئے روز حوا کی بیٹیوں کو جنسی استحصال کا شکار بناتے ہیں۔ چند روز نہیں بلکہ سالوں سے یہ ہوتا ہوا آرہا ہے۔ ہمیشہ بیٹیوں بہنوں کی عزتیں نیلام کی جاتی ہیں، پاکستان وہ ملک ہے بدقسمتی سے جہاں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہوتی چاہے وہ چھوٹی زینب ہو یا نوجوان نور مقادم ہو۔ پاکستان میں جنسی زیادتی کے ملزمان کو عدالت سے رہائی دے دی جاتی ہے چند ہزاروں کے مچلکوں پر اور پھر وہی چیز بار بار دوہرائی جاتی ہے اور ہر بار نشانہ ہماری بیٹیاں بنتی ہیں۔ کاش پاکستان میں ایسا قانون آجائے جس سے جو بھی ہماری بیٹیوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالے گا تو اس کو تختہ دار پر جھولا دیا جائے۔ اور پھر دیکھیں کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ انکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔
    ہمیں خود اپنی بیٹیوں کی عزتوں کا محافظ بننا ہے اور جو کوئی ہاتھ ڈالے ہماری ماؤں بہنوں پر اس کا چہرہ نوچ دینا چاہیے۔

    ہر بار سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنتے ہیں چند روز کے لئے لیکن پھر سب خاموش ہوجاتے ہیں نئے واقعات کا انتظار کرتے ہیں اور پھر وہ واقعات جنم لیتے اور پھر ہم وہی بار بار ٹرینڈ بناتے ہیں اور پھر سب خاموش ہوجاتے ہیں اس میں کہیں نا کہیں ہماری ہی غلطیاں ہیں جو ظالم کو ڈھیل دیتے ہیں لیکن اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں وہ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ گناہ کرتا جائے اور وہ دنیا و آخرت میں رسوائی اس کا مقدر بنے۔ اللہ جب رسی کو کھینچ لیتا ہے اور ویسے بھی یہ دنیا مکافات عمل ہے جیسا گھڑا وہ کھودتا ہے ویسا وہ پاتا ہے۔ حوا کی بیٹیوں کی عزت کریں کیوں کہ آپ کی ماں بہن، بیوی سب بھی حوا کی بیٹیاں ہیں اور جب ایسا آپ سوچیں بھی تو آپ کے اگئے اپنی ماں بہن اور بیٹی اجائے۔

    ایسے گناہوں سے ہماری آنے والی نسلوں کو کیا سبق ملے گا اور ایسے غلطیاں جو بھی کرتا ہے وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے پریشانی اور رسوائی کا باحث بنتا ہے۔ بہنیں ماؤں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ رکھیں اور ان کی حفاظت کیا کریں اس سے اللہ خوش ہوتا ہے اور آپ کی آخرت کی منزلیں آسان فرماتا ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور ایسے واقعات کی روک تھام میں ہمارا وسیلہ بنے اور اللہ پاک ہماری دنیا میں رہنے والی ہر بہن بیٹی کی حفاظت فرمائے اور ان کی عزتیں محفوظ رکھے کیوں کہ بیٹیاں خدا کی رحمت ہوتی ہیں اور جب اللہ پاک خوش ہوتا ہے تو بیٹیوں سے نوازتا ہے ہمیں۔ اور اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں سے دعا لیا کریں کیوں ان کی دعا اللہ پاک بھی سنتا ہے اور فوراً قبول فرماتا ہے اور جب اس ہی ماں بہن کے ساتھ کوئی برا کرتا ہے تو ان کی بددعا فرش سے ارش تک جاتی اور خدا فوری طور پر ان کی بددعا قبول کرتا ہے اس شخص تباہ و برباد کردیتی ہے۔

    عزتوں کے محافظ بننا سیکھیں ناکہ کسی بیٹی کی بددعا لے کر برباد ہونا۔ ہمت بنیں ان کی اور ان کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا اور مجرموں کو پھانسی کے تختے تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    اللہ پاک سب کو ہمت دے اور ان کی حفاظت فرمائے بیٹیاں کسی سے کم نہیں ہوتی بیٹی کچھ بھی کرسکتی ہے کوئی چیز مشکل نہیں مثال لیں قوم کی بیٹی وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوسکتی ہے یا پاک فوج میں اعلی عہدہ پر بھی فائز رہ سکتی ہے۔
    برابری دینا سیکھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ بہادر بن سکیں اور کبھی ان کے ساتھ غلط ہو تو وہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
    فخر ہے ہمیں ہماری بیٹیوں پر اللہ ان کے نصیب اچھے کرے اور ان کا حامی و ناصر رہے اور ہماری بیٹی ہمارے لیے اور قوم کے لئے فخر کا باعث بنے۔

    @JaanbazHaseeb

  • کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    جیسے جیسے لبرل ازم ہمارے معاشرے میں فروغ پا رہا ہے ویسے ویسے اس کے بھیانک نتائج بھی سامنے آرہے ہیں اس کا ایک شاخسانہ نور مقدم کا کیس ہے نور کے ساتھ کیا ہوا یہ کہانی اب کسی سے چھپی نہیں رہی مگر ہمیں تو بات کرنا ہے کہ یہ قتل کیوں ہوا
    اس کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں جی ہاں ہم بطور معاشرہ بطور والدین بطور مسلمان ہم ہیں اصل ذمہ دار!
    ہم واقعہ ہونے کے بعد پلے کارڈ لے کر کھڑے ہونا تو جانتے ہیں مگر اس واقعے کو ہونے سے روک نہیں پاتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نور قدم کا قتل روکا جاسکتا تھا جی ہاں روکا جاسکتا تھا.

    اگرایک بارنورکے والد اور والدہ اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی بیٹی جو کہہ رہی ہے اس میں کتنی سچائی ہے پوچھنے کی کوشش کرتے کہ یکدم بغیر بتائے کوئی اولاد کیسے کسی دوسرے شہر جا سکتی ہے کیا نور کے والدین آج کے دور کی خباثتوں کو نہیں جانتے تھے کیا ان کا فرض نہیں تھا کہ بیٹی کو اپنی دینی معاشرتی اور سماجی اقدار سکھاتے۔

    نورمقدم کا قتل روکا جاسکتا تھا اگر ظاہر جعفر کا باپ ذاکر جعفر بیٹے کی کال کو سنجیدگی سے لیتا جب اس نے فون کرکے باپ سے کہا کہ نور مجھ سے شادی پے نہیں مان رہی میں اس کو قتل کرنے لگا ہوں تو کیا اسے اپنے بیٹے کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے تھا مگر دولت کی بندھی پٹی آنکھوں سے ہٹتی تو ذاکر جعفر کو اپنے بیٹے کا انداز سمجھ آتا اس نرم رویے سے تو یہی ظاہر ہے کہ بیٹے کو باپ کا بھرپور حمایت حاصل تھی اسی کی شہ تھی کہ ظاہر نے اتنی جرات کی کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔
    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ دوست جن کے سامنے ظاہر نے کہا کہ اگر میں ایک قتل کردوں تو کیا پاکستان کا قانون مجھ پر لاگو ہوگا کیونکہ میں تو امریکن شہریت رکھتا ہوں دوستوں کے اس بیان سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اچانک طیش میں آکر کیا جانے والا قتل نہیں ہے بلکہ ظاہر کے دماغ میں اس کی پلاننگ پہلے سے چل رہی تھی یہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت قتل کیا گیا اس کا ایک اور ثبوت ہے ظاہر کی اگلے دن کی امریکہ کی فلائٹ کی کروائی جانے والی سیٹ کی بکنگ۔ مطلب وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ قتل کرنا ہے اور پھر باہر بھاگ جانا ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ ملازم گیٹ کھول دیتے جب نور ان کی منتیں کر رہی تھی کہ یہ مجھے مار دے گا خدا کے لئے دروازہ کھول دو مگر نہ جانے اس گھر کی بنیادوں میں کتنے ملازم دفن ہوں گے کہ خوف کے مارے دونوں ملازم ظاہر کے باپ کو فون کرکے صورتحال بتاتے تو رہے مگر ظاہر کو روکنے کی جرات نہ کر سکے کیا خبر کل کو انہی ملازمین پر قتل کا ملبہ تھوپ دیا جائے اور ذاکر اپنے بیٹے کو لے کر صاف نکل جائے اور جس کی ہمارے عدالتی نظام سے توقع بھی کی جاسکتی ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر ہمسائے جو بہت دیر سے گھر پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے وقت پر کوئی ایکشن لیتے انہیں پولیس کو بلانا تب یاد آیا جب حادثہ رونما ہو چکا تھا اس میں ان کا قصور نہیں قصور تو اس لائف سٹائل کا ہے جس کے عادی تمام اسلام آباد کے مکین ہوچکے ہیں کہ اپنے کام سے کام رکھو کہیں کچھ غلط ہوتا دیکھو تو آنکھیں بند کر لو یہی آنکھیں بند کرنے کا انداز ہے جو ایسے حادثوں کا باعث بنتا ہے نور کے والدین نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند رکھیں ظاہر کے والدین نے دولت کی پٹی باندھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ہمارا معاشرہ آنکھیں بند کیے اقدار کی آخری سانسیں لے رہا ہے.
    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    @_Faizakhann

  • عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر:  واجد علی

    عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر: واجد علی

    شائد ہی کوئی لڑکی ہو جس کو گلی، محلے، بازار یا سکول کالج جاتے ہوئے چھیڑ چھاڑ یا کم از کم کھا جانے والی اوباش نظروں کا سامنا نا کرنا پڑا ہو اور اگر زرا خود کو اس 10 بارہ سال کی لڑکی کا سوچیں اس کے معصوم ذہن میں کتنا ڈر بیٹھ جاتا ہے کتنا سہم جاتی ہو گی اور اسکو تنگ کرنے والا بھی تو انسان ہے اسکے گھر پر بھی تو ماں بہنیں ہوں گی

    لیکن یہ احساس لوگوں میں نہیں پایا جاتا افسوس کے ساتھ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بنیادی طور پر تربیت ہی کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ انہیں اس معاملے میں تمیز نہیں سیکھائی جاتی بازاروں گلیوں اور سڑکوں پر جانے والی خواتین کو ایسے نازیبا الفاظ سننے کو ملتے ہیں جس سے وہ ذہنی طور پر خوف کا شکار ہوجاتی ہیں

    اور اجکل تو سوشل میڈیا پر بھی خواتین کو شکار بنانے کی کوشش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے خواتین کو گلیوں اور بازاروں، دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ غرض ہرجگہ ہراساں کیے جانے کا سامنا بڑھتا ہی چلا جارہا ہے یہ عمل پاکستان میں کئی سالوں سے جاری ہے عورتوں کے تحفظ کی کئی تنظمیں بن چکی مگر وہ بھی اس میں کمی نا لا سکے

    بلکہ ہمارے معاشرے میں چھیڑ چھاڑ یا انہیں ہراساں کرنا کوئی سنجیدہ جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر جس طرح ہر ایک آدمی اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو اہم سمجھتا ہے اسی طرح دوسری خواتین کے احترام کو بھی لازمی سمجھے ۔۔

    کچھ خواتین خوف کا شکار ذیادہ ہوتی ہیں اس وجہ سے شکایات نہیں کر پاتی اور اگر کوئی خاتون کسی مرد کے خلاف شکایت کرے تو اسے بدکردار سمجھا جاتا ہے افسوس ۔۔۔

    آج کل ہمارے معاشرے میں بچوں اور عورتوں سے ذیادتی بہت عام ہو چکی ھے ہر ایک روز ایک نا ایک بچی یا عورت ذیادتی کا نشانہ بنتی ھے اور دو تین دن نیوز چینل پر بریکنگ چلتی ھے اس کے بعد نیوز چینل بھی خاموش ہو جاتی ھے کیا ہم نے پھر کبھی اس مظلوم عورت یا وہ بچی جو زیادتی کا شکار ہوٸی ہم نے کبھی اس سے پوچھا ھے؟ کیا ہم نے اسے انصاف دیا ھے گزشتہ کٸی ماہ پہلے قومی اسمبلی سے یہ قانون پاس ہوا کہ ذیاتی کرنے والے ملزم کو نامرد بناٸنگے کیا اس قانون پر عمل ہوا ھے؟ ذیادتی کرنا زنا کے زمرے میں آتا ھے اور اسلام مزہب میں زنا گناہ کبیرہ ھے بلکہ حرام ھے اس کا سزا یہ ھے کہ اسے سنگسار کیا جاۓ لیکن افسوس پاکستان میں اب تک کوٸی ایسی قانون نافز نہیں ہوا جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دی جاۓ یہاں امیر کےلٸے الگ قانون اور غریب کےلٸے الگ قانون چلتا ھے اگر مظلوم امیر گھرانے کا ہو تو عدالت اس کے حق میں فیصلہ کرتا ھے اور اگر غریب ہو تو تاریخ پہ تاریخ
    کیا غریب صرف عدالتوں کے چکر کاٹینگے یا انصاف بھی ملے گا

    لیکن یہ ختم کیسے ہوگا ؟؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اس کو ختم کرنے کی شروعات ہم کرینگے؟؟ کیا کبھی آپ نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت انہیں ہر اچھے برے عمل کی تمیز سیکھائے گے تاکہ معاشرے سے ان سب کی روک تھام کی جا سکے ۔۔۔

    تحریر : واجد علی
    @Munna_Wajji (twitter)

  • جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی  تحریر:  محمد آصف شفیق

    جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    آجکل ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی برائیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک جھوٹ بھی ہے آئیں آج ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جھوٹ سے بچنے کے حوالے سے ہمیں کیا فرمایا ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤوں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، اس وقت آپ ﷺتکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے، پھر (سیدھے ہوکر ) بیٹھ گئے اور فرمایا سن لو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپ ﷺاسی طرح (بار بار) فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ آپﷺ خاموش نہ ہوں گے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 936

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا: یا آپﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کا (ناحق) قتل کرنا، والدین کی نافرمانانی کرنا، پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں اور فرمایا کہ جھوٹ بولنا یاجھوٹی گواہی دینا، شعبہ نے کہا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے جھوٹی گواہی فرمایا۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 937
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی ہدایت کرتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدیق ہوجاتا ہے اور جھوٹ بدکاری کی طرف اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کاذبین میں لکھا جاتا ہے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1047
    سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ شخص جس کو تم نے معراج کی رات میں دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جا رہے تھے وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں وہ پھیل جاتی تھیں قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1048

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1049

    مسدد نے بواسطہ بشر اس طرح حدیث بیان کی، کہ آپﷺ تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ سن لو جھوٹ سے بچو اور اس کو بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1227
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، اور جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔ یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1801
    ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو توڑ ڈالے جب وعدہ کرے تو وعدے کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہو جائے سفیان کی حدیث میں یوں ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی علامت ہو گی۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 212
    حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 261
    ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چائیے اور کوشش کرنی چائیے کہ کبھی بھی کسی بھی وجہ سے جھوٹ نہ بولیں
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں جھوٹ سے بچنے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

    جدہ ۔ سعودیہ
    @mmasief

  • آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟   تحریر: سحر عارف

    آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟ تحریر: سحر عارف

    عورت اللّٰہ تعالٰی کا سب سے انمول تحفہ ہے لیکن عورت پر تشدد ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کبھی اس پہ جنسی تشدد ہوتا ہے تو کبھی جسمانی تشدد۔ یہ بات سرے سے سمجھ میں نہیں آتی کہ جو مرد عورتوں پہ تشدد کرتے ہیں ان کے نزدیک آخر عورت کیا ہے؟ آخر مرد کی نظر میں عورت کیا ہے؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا اسے انسانوں کی طرح جینے کا حق نہیں؟ آخر کب تک عورت ظلم سہتی رہے گی؟ مرد کو اللّٰہ نے عورت سے ایک درجہ بلند اس لیے نہیں دیا کہ وہ عورت پر تشدد کر سکے بلکہ اس لیے دیا کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے۔ نکاح کی صورت میں عورت کو اللّٰہ کی امانت کے طور پر مرد کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔ پر افسوس آج پھر جہالت اپنے قدم اٹھا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ایک سے ایک واقعہ جو منظر عام میں آتا ہے دل دہلا دیتا ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو کچھ روز قبل 15 جولائی کی رات قوم کی بیٹی قرةالعین کے لیے ایک بھیانک رات ثابت ہوئی۔ کوئی قیامت نہیں آئی کوئی زمین نہیں پھٹی جب چار بچوں کی ماں کو انہیں کے سامنے ان کے باپ نے کس قدر درندگی سے تشدد کر کے قتل کردیا۔ بچے سے دہائیاں دیتے رہے قوم کی بیٹی قرةالعین اپنی زندگی کے لیے گڑگڑاتی رہی اپنے شوہر سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی پر افسوس عمر میمن جو کہ نشے کی حالت میں چور تھا کسی کی ایک نا سنی اور اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قرةالعین بلوچ کی شادی 2012 میں عمر میمن جو کہ سابق سیکرٹری آبپاشی سند خالد حیدر میمن کا بیٹا ہے اس سے ہوئی۔ شادی کے ایک دو سال تک تو سب ٹھیک رہا پر پھر جیسے جیسے شادی آگے بڑھتی گئی عمر میمن اپنے بیوی بچوں پر تشدد کرنے لگا۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا ہے کہ عمر میمن ایک شرابی ہے۔ وہ بات بات پر میری بہن کو مارتا پیٹتا اور بچوں پر بھی تشدد کرتا ان کے سر پھاڑ دیتا، ہاتھ توڑ دیتا۔ اکثر اوقات میری بہن کو مار پیٹ کے گھر سے نکال دیتا اور دوسری عورتوں کو گھر بلوا کر عیاشی کرتا۔ قاتل کے والد کو اس تمام صورتحال کا علم تھا اور وہ اکثر کہتے تھے کہ اگر میرے بیٹے کو گرفتار کروایا تو میں اسے دوبارہ باہر نکلوا لوں گا۔

    15 جولائی کی قیامت خیز رات جب عینی کا قتل ہوا تو اس کی بڑی بیٹی رامین زہرہ جس کی عمر نو سال ہے اس نے اپنی ماں کا قتل ہوتے دیکھا وہ چھوٹی سی بچی جس نے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا اس کے ننھے دماغ پر کتنا بھیانک اثر پڑا ہوگا۔ پر عمر میمن، انسان نما حیوان کو زرا ترس نا آیا۔ نشے سے چور جب گھر لوٹا تو جانوروں کی طرح اپنا شکار تلاش کرنے لگا۔ بیٹی کو کیا خبر تھی کہ شکار اس ماں بن جائے گی پر ہوش تب آیا جب عمر میمن کے ہاتھوں اپنی ماں کو پیٹتے دیکھا۔ بچی تھی نا رونے سسکنے کے علاؤہ کیا کرسکتی تھی۔ جیسے جیسے رات بڑھتی گئی عمر کے تشدد میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ عمر میمن نے تشدد کر کر کے جب تھک گیا تو بیوی پہ ٹھنڈا پانی ڈالنا شروع کردیا اور ٹھنڈے پانی سے بھگانے کے بعد اےسی کے نیچے پھینک دیا۔ اتنا سب کرنے کے بعد بھی جب اس حیوان کی حیوانگی ختم نا ہوئی تو آخر میں اپنے ہی بچوں کی ماں کا گلا دبا کے عینی سے اس کی سانسیں چھین لی۔ بچے خوف کی حالت میں اس بات سے بے خبر کھڑے تھے کہ ان کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کٹوانی چاہی تو پہلے پولیس نے منع کردیا اور اب جب ایف آئی آر درج ہوگئ ہے تو پھر بھی پولیس اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہے اور وہ مسلسل اسی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ پولیس کی یہ کوشش رہی کہ جب پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ آئے تو اس میں کسی طرح ردوبدل کر کے قتل کو خودکشی کا رنگ دے دیا جائے تاکہ مجرم کو بچایا جاسکے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ مقتولہ میں شدید تشدد ہوا تھا۔ اگر اب بھی ہم چپ کرکے بیٹھ گئے تو ہمیں انصاف نہیں ملے گا اور درندہ آزاد ہوجائے گا۔ لیکن ہم چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے ہم انصاف کی خاطر لڑیں گے۔

    اسی سلسلے میں ٹوئیٹر پر ‘جسٹس فار قرةالعین’ کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔ اس کے علاؤہ مقتولہ کے لیے موم بتیاں جلا کر کئی روز تک احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے اور عینی کو انصاف دلوائیں ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا پر موجود عوام نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملزم عمر میمن کو پھانسی دی جائے تاکہ اس جیسے باقی درندوں کے لیے سبق ہو اور دوبارہ کوئی دوسری عینی ایسی حیوانیت کا شکار نا ہو۔

    ہم سب کو مل کر خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، ہمیں عینی کے ساتھ ساتھ ان تمام عورتوں کی بھی آواز بننا ہوگا جو دنیا سے ڈر کر خود پہ چپ کرکے تشدد سہتی رہتی ہیں۔ اور پھر ماں باپ کو بھی چاہیے کہ اپنے والدین ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے جب بیٹیوں کو رخصت کریں تو انھیں یہ بات ذہن نشیں کروا کے بھیجیں کہ اگر یہ انسان نما شخص جانور نکل آئے تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے واپس چلی آنا۔ اگر ایسا ہوجائے تو یقین جانیں اس دنیا میں بہت سی عورتیں شوہر کے ہاتھوں تشدد کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ جائیں گی کیونکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ماں باپ دنیا داری کا سوچتے ہوئے اور بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر چپ سادھ لیتے ہیں اور بیٹیاں ان کی عزت کا پاس رکھتے ہوئے خود پر تشدد ہونے دیتی ہیں۔

    @SeharSulehri

  • پنجابی زبان   تحریر : مقبول حسین

    پنجابی زبان تحریر : مقبول حسین

    پنجابی زبان نہ صرف پاکستان اور ہندوستان میں بولی جاتی ہے بلکہ یہ کینیڈا ، برطانیہ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دیگر تمام ممالک میں بھی بولی جاتی ہے جہاں جہاں بھی پنجابی تارکین وطن موجود ہیں وہاں پر پنجابی زبان بولی جاتی ہے ۔ برصغیر میں ، دو بڑے گروہ ہیں جو پنجابی کو اپنی مادری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بھارت میں مشرقی پنجاب کے سکھ اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مغربی حصے میں رہنے والے پنجابی۔ ہندوستان کی ایک ریاست پنجاب میں پنجابی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیتی ہے۔ ہندوستانی پنجاب میں پنجابی زبان لکھنے کے لئے گورموکی اسکرپٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جسے مشرقی پنجاب بھی کہا جاتا ہے جبکہ اسکرپٹ جو پاکستانی پنجاب میں پنجابی زبان لکھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جسے مغربی پنجاب کہا جاتا ہے اسے "شاہ مکھی” کہا جاتا ہے ۔ مشرقی پنجاب کے رہائشیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جو سکھ ہیں ، وہ اپنی زبان کے بارے میں بہت خاص ہیں اور اسے وقار اور فخر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ سکھ برادری کے ایک عام تاثر کے مطابق ، اگر کوئی سکھ پنجابی نہیں بول سکتا ، تو اسے جعلی سکھ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے سکھوں کا تعلق رہائش پزیر بین الاقوامی برادری سے ہے اور وہ کبھی ہندوستان کے اصل مقام تک نہیں رہے ، یہاں تک کہ وہ مہارت کے ساتھ پنجابی زبان بھی بول سکتے ہیں ۔
    پاکستانی پنجابیوں کی بات کرتے ہوئے ، پنجابی پاکستان میں اکثریتی آبادی کی مادری زبان اور صوبہ پنجاب کی صوبائی زبان ہے ۔ فوج اور بیوروکریسی جیسے طاقت کے شعبوں میں پنجابی بولنے والی برادری کا غلبہ ہے۔ بدقسمتی سے ، یہ تسلط ان کی زبان کی حیثیت سے ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ خود پنجابی کے علاوہ کوئی بھی اپنی زبان کو فروغ دینے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ جیسا کہ زیدی کے مطابق ، وہ اسے رسمی ترتیبات میں استعمال نہیں کرتے ہیں ، لہذا یہ صرف غیر رسمی بات چیت جیسے معمولی کام انجام دیتا ہے۔ تاریخی بصیرت کے تناظر میں پنجابی زبان کی موجودہ کم حیثیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ انگریزوں کے آنے اور نوآبادیاتی آباد ہونے سے پہلے ہی مسلمانوں نے کافی عرصہ تک ہندوستان پر حکومت کی۔ مسلم حکمرانی کے دوران ، فارسی ہندوستان کی سرکاری زبان تھی اور انتظامیہ اور عدلیہ جیسے اقتدار کے ڈومینز میں بڑے پیمانے پر مستعمل تھی۔ اس وقت ، ہندوستان کی تمام مقامی زبانیں ترقی کر رہی تھیں کیونکہ ان میں سے کچھ جیسے پنجابی بھی تعلیم کا ذریعہ تھا۔ انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہی ، جب انہوں نے اپنا کنٹرول قائم کرنا شروع کیا تو صورتحال بدل گئی ، لہذا انہوں نے انگریزی کے ساتھ فارسی کی جگہ دفتری زبان کی جگہ لے کر ہندوستان کی تعلیمی پالیسی پر روشنی ڈالی اور انگریزی کو بھی ذریعہ تعلیم اور انتظامیہ کا ذریعہ بنایا۔ انگریزی انگریزی اخبارات کی وسیع گردش کے ساتھ اشرافیہ کی زبان کے طور پر ابھری۔ براس کے مطابق ، انگریزوں نے اردو کو شمالی ہندوستانی ریاستوں کی فارسی اور دیگر مقامی زبانوں کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا ۔ صوبہ پنجاب کی فتح کے ساتھ ہی انہوں نے پنجابی کی جگہ اردو زبان سے لے لی کیونکہ انہوں نے اردو کو صوبہ پنجاب کی سرکاری زبان قرار دیا۔ انگریزوں کا مقصد مقامی زبان کو ختم کرنا اور انگریزی کو اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لئے استعمال کرنا تھا۔ انگریز نے پس منظر میں پنجابی کو آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم اور انتظامیہ میں اردو نافذ کرکے پنجابی زبان کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے یہاں تک کہ پنجابی کو ایک آزاد زبان نہیں سمجھا اور اس کے ساتھ ، انہوں نے یہاں تک کہ پنجابی بولنے والے طبقے کی ثقافت اور ان کی انوکھی شناخت کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی ۔ اگلا قدم انگریزی زبان کو ادارہ بنانا تھا اور لارڈ میکالے نے انگریزی کو اشرافیہ اور حکمران طبقے کی زبان قرار دیا۔ انہوں نے اس کے درس اور عمل درآمد کی وکالت کرکے انگریزی زبان اور ثقافت کی فوقیت کو قائم کیا۔ جب دو قومی نظریہ نے مقبولیت حاصل کی تو ، مسلمان اردو کو اپنی مسلم شناخت کا نشان سمجھے جبکہ ہندی ہندو کی شناخت کی علامت بن کر ابھری۔ اس ہندی تنازعہ نے اس صورتحال کو مزید بڑھاوا دیا تھا کیوں کہ پنجابی زبان کو بھی پیچھے دھکیل دیا گیا تھا کیونکہ اس کو سکھوں کی شناخت سمجھا جاتا تھا ۔ صرف سکھوں کے پاس پنجابی زبان اور اس کے ادب کو فروغ دینا باقی تھا ، لہذا انہوں نے اس کو اورینٹل کالجوں میں متعارف کرایا۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں نے پنجابی زبان کو ویران کردیا اور اردو کو اپنی شناخت کا نشان بنا دیا۔ پاکستان کے آزاد ہونے سے پہلے ہی ، پنجابی زبان ایک زبان کی حیثیت سے سماجی ، سیاسی اور معاشی طور پر تکلیف میں مبتلا رہی ہے ۔ اسے کبھی بھی ہندوستان میں ترقی اور خوشحالی کا کوئی موقع نہیں ملا جس پر مغل شہنشاہوں کا راج تھا اور انہوں نے اپنی زبان فارسی کو طاقت کے ڈومین میں ترقی دی۔ اردو ایک فائدہ مند مقام پر تھی کیونکہ اس میں فارسی کے درمیان قریبی لسانی قربت تھی ، ہندی کے ساتھ باہمی رابطے اور پنجابی کے ساتھ ہم آہنگی وابستگی ۔ جب انگریزوں نے اپنی مغل انجمن کی وجہ سے فارسی زبان کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے صوبہ سندھ میں فارسی زبان کو سندھی سے بدلنے کا فیصلہ کیا ، لیکن انہوں نے فارسی کی جگہ پنجابی میں پنجابی نہیں لگایا۔ اردو ان کی ترجیحی انتخاب تھی اور انہوں نے اس دلیل کو پیش کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر زور دیا کہ پنجابی آزاد زبان نہیں ہے۔ بلکہ یہ اردو کی بولی تھی جس کی معاشرتی قدر کم تھی۔ ان کے فیصلے کی جڑ زبان کو جانچنے کے معاشرتی معیار پر ہے کیونکہ انہوں نے سماجی و سیاسی بنیادوں پر پنجابی زبان کا جائزہ لیا ۔ اگر وہ لسانی خوبیوں پر پنجابی کا جائزہ لیتے ، تو وہ پنجابی زبان کے بھر پور ادب کو نثر اور شاعرانہ دونوں ہی انداز میں اہمیت دیتے۔ وسیع و عریض عرصہ میں پنجابی زبان میں نمایاں ادب شائع ہوا تھا۔ ہیر رانجھا پنجابی زبان میں لکھی جانے والی بہت سی لافانی محبت کی کہانیوں میں سے ایک ہے ، بدقسمتی سے ، پنجابی زبان کی اعلی ادبی قدر کو اس کی کم سیاسی قدر کے خلاف سمجھوتہ کیا گیا۔ پنجابی بھی سکھ شناخت سے وابستہ ہونے کا نقصان کررہے تھے اور یہی وجہ تھی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں نے بھی کبھی بھی سیاسی بنیادوں پر اس کی اہمیت کا اعتراف نہیں کیا ۔ پاکستان تحریک کے دوران ہندی کو ہندوؤں کا شناختی نشان قرار دینے میں زبان کی سب سے آسان تقسیم کی عکاسی ہوتی ہے۔ مسلم شناخت اردو سے وابستہ تھی جبکہ پنجابی سکھ شناخت کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔

    Twitter handle
    @Maqbool_hussayn

  • گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    آپ نے اکثر سنا ہوگا گلگت بلتستان سوزیرلینڈ سے خوبصورت ہے کبھی دنیا کے کسی اور ترقی یافتہ ملک سے تشبیح دی جاتی ہے۔ اب یہ نعرے سن کے ہمارے سادی عوام واہ واہ کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان دس اضلاع اور تین ڈویژن پہ مشتمل علاقہ ہے یہاں کی آبادی تقریبا بیس لاکھ اور ایریا اٹھائیس ہزار مربع کلو میڑ ہے۔ گلگت بلتستان کا جغرافعہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین روس کی ریاست تاجکستان بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے لگتی ہیں۔ گلگت بلتستان جانے کے لیے آپ کے کے ایچ یا بابوسر روڈ کا استعمال کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ چترال سے شندور کے راستے سے بھی جاسکتے ہو۔

    یہ تھا ایک مختصر سا تعارف باقی گلگت بلتستان خوبصورتی کے لحاظ سے بیشک دنیا کے چند ایک علاقوں میں سے ہے۔ لیکن اس علاقے کے باسی اکیسیوں صدی میں بھی بنیادی انسانی ضروریات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں ۔ میں گلگت بلتستان کے چیدہ چیدہ مسائل آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ مثلا بجلی کا شدید بحران ہے صاف پانی ۔تعلیمی ادارے۔ میڈیکل کالج انجنئنرینگ یونیورسٹی ٹیکنکل کالج انٹرنیٹ صحت کا نظام یہ سب کے سب یا تو ہے ہی نہیں اگر ہے تو ناکارہ ہے۔ اب کچھ سوال اٹھائیں گے کہ گلگت بلتستان کے لوگ بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں تو ان کے تسلی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ حضور ہمارے ہاں جن علاقوں میں تعلیم بہتر ہے وہ پرائیویٹ سیکٹر کی وجہ سے ورنہ سرکاری سکول کم بھوت بنگلہ زیادہ لگتے ہیں۔ ایک اہم بات گلگت بلتستان سے شاید ایک فیصد بچہ یونیورسٹی لائف دیکھ سکتا ہے۔ باقی میڑک کے بعد یا تعلیم کو خیرباد کرکے فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں یا علامہ اقبال سے بی اے بی ایڈ کر کے استاد بھرتی ہوجاتے ہیں یا کسی اور ادارے میں۔ چونکہ میں نے پہلے بجلی کی بات کی تھی تو اس پہ آپ کو اس بابت تھوڑی تفصیل دیتا چلوں۔ گلگت بلتستان کو بجلی کی جو ضرورت ہے وہ تقریبا دوسو دس میگاواٹ تک کی ہے۔ اس وقت جو پاور ہوسسزز سرکاری کھاتوں میں ہیں وہ تو اس سے شاید زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہوں لیکن حقیقت میں اس وقت گلگت بلتستان میں بیس بیس گھنٹوں کے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے کئی علاقوں میں دو دو دن بعد نمبر اتا ہے۔ اب جب بجلی نا ہو تو ذندگی کے تمام پہیے جام ہوجاتے ہیں بجلی کا ڈاریکٹ لینک تعلیم کے ساتھ صحت کے ساتھ انڈسٹری کے ساتھ ہے انٹرنیٹ کے ساتھ یےاور صاف پانی کے ساتھ ہے۔ گلگت بلتستان کسی ایک شہر میں اگر صاف پانی بجلی انٹرنیٹ صحت اور تعلیم کا نظام موجود نہیں ۔صورت حال اس قدر ابتر ہے کہ گلگت شہر جو کے دارلخلافہ یے وہاں پہ لوگوں کو صاف تو چھوڑو گندہ پانی پینے کو نہیں مل رہا آئے روز جلسے جلوس ہوتے ہیں تو باقی شہروں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ اب یہ مت پوچھنا وہاں اتنے بڑے دریا ہے تو پانی کا مسئلہ کیوں تو یہ نالائقیاں حکمرانوں سے لیکر انتظامیہ سب کی ۔ ہمارے ہاں ایک محکمہ ہیں جس کا کام چور پیدا کرنا جیسے عرف عام میں پی ڈبلیو ڈی کہا جاتا ہے یہ محکمہ اس قدر کرپٹ ہے یہاں سیکٹری سے لیکر منشی تک سب کرپشن کرتے ہیں اب اس ادارے کے حوالے سے کسی اور دن لکھوں گا۔ تعلیم اور صحت معاشرے کے دوبنیادی ستون ہیں لیکن جی بی میں ان دونوں کے حالت قابل رحم ہے ہسپتالوں کے حالت یہ ہے کہ جہاں ڈااکٹر ہے وہاں مشنری نہیں اور جہان مشنری ہے وہاں ڈاکٹر نہیں ۔ہمارے ایک عزیز سرجن ہے ان کا دیامیر ہسپتال میں دو سال ڈیوٹی رہی ان کا کہنا ہے وہ جس شعبے کا ماہر وہاں اس کے بنیادی آلات ہی نہیں تھے مجھ سے میڈکل افسر کا کام لیا گیا ۔باقی تعلیم وہ تو ناپید ہے۔ جو پرائیویٹ فیس افورڈ کر سکتا ہے وہ بچوں کو پڑھاتا ہے ورنہ اکثر و بشتر دیہی سکول میں پڑھنے والے بچے میڑک کرنے کے کے بعد بھی درخواست نہیں لکھ پاتے ہیں ۔اب آپ فیصلہ کریں گلگت بلتستان مسائلستان ہے کہ نہیں ؟

    @rohshan_Din

  • جرم،انصاف اور معاشرہ  تحریر:فرح خان

    جرم،انصاف اور معاشرہ تحریر:فرح خان

    "اس عہد ظلم میں میں بھی شریک ہوں جیسے
    مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا”

    ہم سب دوسروں پر تنقید کرنے کے عادی ہیں مگر اپنی اصلاح کی جانب توجہ نہیں دیتے یہ ایک بنیادی خرابی ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر برائی کو جنم دے رہی ہے۔
    اگر انسان میں خوف خدا کی صفت پیدا ہوجائے تو ہم برائیوں سے خود بھاگے گے۔

    آئیے دن ہم ایک نئی ظلم کی داستان سن رہے ہوتے ہیں،در حقیقت انصاف اور گرفتاری کے تمام ہیش ٹیگز ہمارے قانونی نظام پر سوالیہ نشان ہیں ،اور اب ان مجرموں کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خود کو ظاہر کرتے ہوئے وڈیو آپ لوڈ کرتے ہیں، گرفتاری کا خوف ہی نہیں ، سزا کا ڈر نہیں ، شرمندگی کا کوئی احساس نہیں ۔

    فرسودہ تباہ شدہ قانون پہ ان کو مکمل یقین ہے کہ ان کا بال بھیگا نا ہوگا،شوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فورم پہ آواز بلند ہوتی ہے وہ گرفتار ہوتے ہیں اور خود کو ایک سلیبرٹی سمجھ کر فخر سے دھندھناتےہوئے نظر آتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ وہ جوڑ توڑ کریں گے اور انہیں آزاد کردیا جائے گا۔ کچھ دن بعد لوگ بھی بھول جائیں گے اور مخصوص تاریخوں پہ کسی چوک پہ موم بتیاں جلاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

    "امجدؔ در نگار پہ دستک ہی دیجئے
    اس بے کراں سکوت میں کچھ غلغلہ رہے”

    وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ اس شیطانی کھیل کو ختم کرنے کے لئے سخت اقدام کروائیں ،اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی فتنہ اس کھیل کو بڑھاوا دے رہے ہیں تاکہ لاپروائی اور معاشی برائیوں کا الزام حکومت پہ ڈال سکیں۔
    اس میں لبرلز اور غیر ملکی فنڈنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    عدلیہ نظام امن،خوشحال معاشرے کی تخلیق کی بنیاد ہوتا ہے پر یہاں کرپٹ اور مسلسل مجرموں کو آزاد کیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے ایک ناسور کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔
    اس نظام پہ جلد توجہ کی ضرورت ہے۔

    تمام انسانوں کو کسی رنگ و نسل ، ذات پات کی تمیز رکھے بغیر انصاف مہیا کیا جائے اور معاشی نظام میں کسی تفریق کے بغیر سب کو برابر سے حقوق ملیں تو اس معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    مثبت نتائج کے لیے اپنی ذات سے اصلاح کا کام شورع کریں تو برائیوں پر اچھائیاں حاوی ہو جائیں گی ۔عمدہ مثالی معاشرے کے لیے؛

    ●معاشرے میں انصاف کے لئے اقدامات کیے جائیں۔
    ●افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
    ●سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تاکہ دوسرے افراد عبرت حاصل کریں اور برائی جڑ نہ پکڑ سکے۔
    ●اسکول،نصاب اور والدین پر سخت ذمہ داری ہے اس لیے وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت نا کریں۔
    ●معاشرہ کو خلوص، محبت،انسانیت اور خدمت سے سنوارا جائے۔

    قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے کہ
    "برائی سے روکو اور نیکی کا حکم دو۔”

    #JusticeForNaseemBibi #JusticeForNoormukadam #JusticeForQuratulainAnnie #JusticeforSaima #JusticeForWishah #JusticeforAndaleeb
    #JusticeForKhadija
    #JusticeForAsifa
    #JusticeForZainab
    #ArrestAbdulSalamDawood
    #ArrestUsmanMirza

    اور اس طرح کئی کیس ہمارے سامنے ہیں،ہمارا معاشرہ خاکی کشکول لیے کھڑا ہے جس میں اچھائیوں،نیکی،انصاف اور حقوق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ان سب واقعات سے بچنے کے لیے اللہ کرے ہم جلد منظم فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔آمین

    @MastaniFarah

  • ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    زندگی میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے اگر میں کہوں کے ہر کوئی اس بات پر متفق ہے تو یقیناً یہ غلط نہ ہوگا۔ کامیابی حاصل کرنا اگر آسان ہوتا تو آج دُنیا میں ہر شخص ہی ہمیں کامیاب ملتا نہ کوئی مایوس ہوتا اور نہ ہی کوئی پریشان نظر آتا شاید کہ۔ اچھا تو بات کچھ یوں ہے ہر چیز کے دو رخ ہوا کرتے ہیں اب کامیابی کے متعلق بھی یہی چیز ہے کہ یا تو کوئی کامیاب ہوتا ہے یا نہیں ہو پاتا۔ اب اہم چیز یہ کہ وہ کیا ایسی چیز ہے جو کامیابی اور ناکامی میں فرق ڈالتی ہے ذرا آپ بھی سوچیں شاید کے آپکے پاس اسکا بہتر جواب ہو مگر میرے پاس تو اسکا جواب ہے ” رویہ” یہی وہ عنصر ہے جو فرق ڈالتا ہے اب میں آپکو ایک مثال دیتا ہے ہوں کہ میں اور میرا دوست ہم دونوں کی منزل ایک ہی ہے ہم نے اُس منزل کی جانب رواں ہونا ہے ہماری بہت سے چیزیں ایک جیسی ہو سکتی ہے اُن میں ہمارا رویہ بھی آتا ہے اب رویہ اگر ہمارا ایک جیسا ہے تو ہم کامیاب بھی ایک ساتھ ہونگے یا ناکام بھی ایک ساتھ ہی لیکن پھر ایک چیز اگر رویہ اس میں فرق آتا مثلاً کہ کل ہمارا بائیولوجی کا پیپر ہے میرا دوست توجہ سے پیپر کی تیاری کر رہا وہ اس میں سنجیدہ ہے اور اسکا ہدف ہے کہ 95 فیصد نمبر لینے ہیں مگر میں ہوں جو موبائل فون کا استعمال کر رہا سونے میں وقت گزار رہا اب ہمارے درمیان کس چیز کا فرق آیا رویے کا اب ہدف میرا بھی وہی ہے 95 فیصد نمبر کا مگر کیا میں اس صورت حال میں وہ ہدف پورا کر سکوں گا کبھی نہیں جب نتیجہ آئے گا تو میرے اور دوست کے نتیجے میں زمین آسمان کا فرق ہوگا شاید کہ میں پاس بھی نہ ہو سکوں۔ اب اسّی چیز کو اپنی روز مرہ زندگی میں لا کر دیکھیں ہم سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں ہمارے اہداف بھی مشترکہ ہوتے ہیں مگر جو چیز فرق ڈالنے والی ہے وہ رویہ ہی ہے لہٰذا اس پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے ہم کوئی بھی کام کر رہے ہوں تو ہمیں اپنے رویہ کو دیکھنا ہوگا سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ہر روز کہی لوگ ملتے ہیں جو اس چیز کی شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص کامیاب ہوگیا ہم کیوں نہیں ہوتے اس کے لیے آپکو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی آپکو سنجیدہ ہونا ہوگا آپکو اپنے کام سے عہد کرنا ہونا ہوگا۔ اپنا احتساب کرنا ہوگا یاد رکھیں اپنے آپ کو آئینے کے روبرو کرنے والے ہی کامیابی کا مزہ چکھ سکتے ہیں، خود میں بہتری لا سکتی ہیں۔ یہ لمبی کہانی ہو گئی ہے یہ میں نے خود کو سامنے رکھ کر لکھی ہے میں بھی اسّی فیز سے گزر رہا ہوں کامیابی کی تلاش میں لہذا خود کو جانے گے تو کچھ کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے علم میں عمل میں قلم میں برکت عطا فرمائیں۔ شکریہ

    TA : @AhtzazGillani