Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • معاشرہ اور قانون  تحریر: جواد یوسفزئی

    معاشرہ اور قانون تحریر: جواد یوسفزئی

    ہمارے ملک میں جب کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے حمایتی پیدا ہوکر کہتے ہیں کہ انصاف نہیں ہوگا تو اور کیا کریں۔
    یہ بڑی غلط بات ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ملک میں انصاف کا نظام ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔ کئی مجرم پکڑے ہی نہیں جاتے۔ کچھ پکڑے جانے کے بعد جلد چھوٹ جاتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ کسی کو سزا نہیں ملتی۔ اکثریت پکڑی بھی جاتی ہے اور سزا بھی ملتی ہے لیکن ہمیں وہ کیس یاد رہتے ہیں جن میں ملزم بچ جاتا ہے۔ آپ کو ثبوت چاہیے تو جیل جا کر دیکھیں۔
    لیکن یہ ملزم سزا سے بچتے کیوں ہیں، اس میں قانون نافذ کرنے والوں کی کمزوریاں ضرور ہیں۔ پولیس بعض صورتوں میں جرم کا سراغ نہیں لگا سکتی۔ سراع لگاتی ہے تو کیس مظبوط نہیں بناتی جس سے ملزم کے خلاف عدالت میں مکمل ثبوت مہیا نہیں ہوتے۔ بعض ملزم نہایت شاطر ہوتے ہیں اور اپنے جرم کا کوئی ثبوت ہی نہیں چھوڑتے۔ کچھ کیسوں میں عدالتوں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔
    یہ سب سچ ہے لیکن پولیس اور عدالتیں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جیسی کارکردگی دوسرے شعبوں کی ہے، ان دو اداروں کی بھی کم و بیش ویسی ہی ہے۔ اس لیے ان کو خصوصی طور پر مطعون کرنے کی وجہ نہیں بنتی۔
    ادھر عوام پولیس اور عدالت کا کتنا ساتھ دیتے ہیں۔ کیا ہم ہر موقع پر سچی گواہی دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ کیا ہم ملزم کی سفارش نہیں کرتے۔ کیا ہم کوشش نہیں کرتے کہ راضی نامہ کرکے ملزم کو سزا سے بچایا جائے۔ کیا اس مقصد کے لیے مدعی پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا؟ انسانی معاشرے میں قتل شدید ترین جرم ہے اور اس کا مجرم سب سے قابل نفرت انسان ہوتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم کسی قاتل کو سزائے موت دینے کو برداشت نہیں کرتے۔ اول تو کوئی اس کے خلاف گواہی ہی نہیں دیتا۔ اگر گواہیاں مل جائیں اور عدالت اسے سزا سنا دے تو سارا معاشرہ مقتول کے وارثوں کے خلاف اتحاد کرلیتا ہے اور ہر قسم کا دباؤ ڈال کر انہیں معاف کردینے پر مجبور کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ قانون دشمن ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسی شخص پر الزام لگتے ہی بغیر کسی عدالتی کاروائی کے اسے سزا دی جائے۔ لیکن دوسری طرف کسی پر جرم ثابت ہوکر سزا سنائی جائے تو اسے بچانے کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں۔
    حقیقت پسند حضرات کچھ دیر کے لیے تصور کرلیں کہ ملک میں پولیس اور عدالتیں کام بند کردیں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMjawadKhan@Gmail.Com

  • معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار  تحریر: سید عمیر شیرازی

    معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    بقول حکیم الامت علامہ اقبال وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اگر آپ مصرع پر غور کریں تو کوزہ میں دریا کو سموسے کی مثال صادق آئے گی وجودزن ہی دراصل اس پر آشوب اور رخج و محن سے لبریز دنیا میں سکون و اطمینان کا باعث ہے۔
    اسلام سے پہلے عورتوں کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا مسیحی دنیا میں عورت کو ایک ناگزیر برائی تصور کیا جاتا تھا اور ہندو اسے ناپاک حیوان سمجھتے تھے اور شوہر کے مرنے پر اسے ستی ہونا پڑتا تھا،
    عرب کی دنیا میں بھی یہی حال تھا عرب کے لوگ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے اور انہیں جائیداد منقولہ کی طرح بازاروں میں فروخت کیا جاتا تھا باپ کے مرنے کے بعد بیٹے سوتیلی ماؤں سے نکاح کر لیتے تھے میراث میں بھی اس کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اسے حصول تعلیم کی اجازت دی اور نہ ہی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے حقوق حاصل تھے ان کا کام صرف مردوں کو آرام و سکون پہنچانے اور ان کی اولاد کی پرورش کرنا تھا۔۔
    ایک وقت میں مرد کئی کئی عورتیں رکھتے تھے
    اہل مغرب (جو اپنے آپ کو تہذیب کا علمبردار سمجھتے ہیں) عورت کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے مغربی دنیا میں عورت کو مرد کے شانہ بشانہ روزی کمانا پڑتا ہے جسے تہذیب کے یہ علمبردار مساوات سمجھتے ہیں،
    یہ مساوات نہیں بلکہ عورت کے حقوق کے غصب کی ایک صورت ہے مغربی دنیا میں آج بھی عورت کی حالت بدتر ہے اور وہ غلام بنی ہوئی ہے ۔۔۔ گویا اسلام سے پہلے عورتوں کی زندگی محرومیت کا شکار تھی اور وہ ذلت کی زندگی گزار رہی تھیں۔
    دنیا کے تمام مذاہب میں صرف دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں باعزت اور قابل احترام مقام بخشا ہے اسلامی معاشرے میں عورت ماں ہو یا بیٹی بہن یا بیوی ہر لحاظ سے باعزت اور قابل احترام ہے اس کی حیثیت اور مرتبے کے مطابق اس کے حقوق مقرر کردیا گئے ہیں اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو تاکید کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی عزت و وقار کا خیال رکھیں،
    اسلام نے معاشرے میں عورت کو اس کا جائز حق اور بلند مرتبہ عطا فرمایا بیوی کو میراث میں اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی حصہ عطا کیا۔

    "وہ رتبہ عالی کوئی مذہب نہیں دے گا
    کرتا ہے جو عورت کو عطا مذہب اسلام”

    اس سلسلے میں قرآن پاک کی بلاغت کی انتہا یہ ہے کہ اس نے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے اندر بیوی کے جملہ حقوق ارشاد فرما دیے،
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرتا ہے”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مارنے پیٹنے اور برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
    اس میں شک نہیں کہ مردوں کو اللہ تعالی نے زیادہ طاقتور توانا اور مضبوط بنایا ہے اور انہیں قوی اعضاء سے آراستہ کیا جب کہ عورتوں کو کمزور اور نرم و نازک بنایا ہے ان کے اعضاء بھی کمزور اور ان کی دماغی قوتیں بھی مردوں سے کم ہیں البتہ عورتیں بالحاظ جذبات مردوں سے زیادہ طاقتور ہیں،
    ان میں محبت،الفت، رحم،حیاء، شرم اور غصہ کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے حصول تعلیم سے ان کے جذبات میں اور بھی نکھار پیدا ہوجاتا ہے اور یہی جذبات پھر ان کے بچوں میں سرایت کرتے جاتے ہیں اور ان کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں دنیا میں جس قدر بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں ان کی تعلیم و تربیت میں اصل ہاتھ ماں کا تھا اور ماں ایک عورت ہی ہو سکتی ہے۔

    "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں”

    ‎@SyedUmair95

  • ‏منفی اور مثبت سوچ تحریر:عرفان اللہ

    ‏منفی اور مثبت سوچ تحریر:عرفان اللہ

    اس دنیا میں قابل سوچ اور سلامت ذہن والے لوگوں کے دو اقسام ہوتے ہیں جس میں منفی سوچ اور مثبت سوچ والے ہوتے ہیں۔ منفی سوچ والے لوگ ایک اچھے کام، بات، سوچ یا نظریے میں بھی صرف ان چیزوں کا نشاندہی کرتا ہے جس کا رجحان نفی کی طرف ہو اور مثبت سوچ والے لوگ کسی نفی بات یا کام میں بھی مثبت چیزوں کو ایسے سامنے لاتا ہے کہ انسان کی ذہن اس کام کیلئے مکمل تیار ہوتا ہے۔ دنیا میں پائی جانے والی تمام اشیاء کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور ایک برا۔ اب یہ انسان کی ذہنیت پر ہے کہ وہ اس چیز کا استعمال اچھائی کے ساتھ کریں یا برائی کے ساتھ۔
    مثال کہ طور پر آج کل استعمال ہونے والی ایک انٹرٹینمنٹ ایپ ٹک ٹاک دیکھے۔ ٹک ٹاک پر اپکو بہت سے کیٹگری انٹرٹینمنٹ، شوبز، سپورٹس، شاعری، مزاحیہ، ٹیلنٹ اور انفارمیٹیو سے وابستہ لوگ ملے گی۔ اب اگر ایک انسان اچھا سوچتا ہے اس کی سوچ مثبت ہے تو اس ایپ کو اچھے طریقے سے استعمال کرکے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس پر لوگوں کو تعلیم دیا جا سکتا ہے، اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو روزگار سکھایا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنا چھوٹا کاروبار کر سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنی کاروبار کو پروموٹ کر سکتا ہے، اس ایپ کی مدد سے ایک خیراتی ادارہ چلا سکتا ہے، اس ایک کے ذریعے انسانوں کو زندگی کے اصول سکھایا جا سکتا ہے، کھیل کھود اور دوسرے انٹرٹینمنٹ ویڈیو دکھا سکتا ہے، احادیث اور اقوال زرین دکھایا اور سکھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں جن کی مدد انسان معاشرے اور انسانوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
    اب ایک بندہ ہوگا جس کی سوچ منفی ہوگی ہمیشہ کیلئے ایک اچھی چیز میں بھی اس کو حامی نظر آئے گی۔ ہمیشہ کیلئے کسی چیز کا استعمال منفی طریقے سے کرے گا۔  اب وہی بندہ جس کی سوچ منفی ہے، مثبت سوچ رکھنے والے کی برعکس اسی ایپ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے۔ محتلف ایسے موضوعات پر لیکچر دے سکتا ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہو، اس ایپ کے ذریعے  فحاشی پھیلایا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے حرام کی کمائی کیا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے کسی کی پردہ پوشی کر سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنی عزت نیلام کر سکتا ہے۔
    اس ایپ کے ذریعے ڈانس، گانے بجانے یا فحاشی کے مراکز کو دکھا کر معاشرے کو تاریکی اور فحاشی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
    اس کے علاوہ منفی سوچ کی سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ نہ وہ انسان خود معاشرے کی فلاح اور اصلاح کیلئے تیار ہو سکتا ہے اور نہ دوسروں کو اس کام کیلئے تیار ہوتے دیکھ سکتا ہے۔ لقمان حکیم صاحب فرماتے ہے کہ کہ اگر آپ کے پاس کوئی انسان آئے اور اسکی ایک آنکھ کسی نے نکالی ہو اور وہ آپ سے کہے کہ فلاں نے میری آنکھ نکالی ہے تو یقین کرنے سے پہلے تحقیق کیا کرے کہ کہے اس بندے نے اسی انسان سے دو آنکھیں تو نہیں نکالے ہیں۔ معاشرے اس بات حیال ضرور رکھا کرے کہ کسی سے بھی کسی کام کیلئے مشورہ لیتے ہوئے ایسے بندے سے لے کہ اسکی سوچ مثبت اور وسیع ہو۔ تاکہ آپکی کام کیلئے ایک مشورہ ملنے کے ساتھ ساتھ آپکی حوصلہ افزائی بھی ہو جائے۔ ایک نفی سوچ والے سے اگر آپ ایک اچھے بلے کام  کیلئے مشورہ اور صلاح لینا چاہوںگے تو وہ آپکی حوصلہ افزائی کے بجائے اس میں اتنی حامیاں نکالے گی کہ آپ کام کرنا ہی چھوڑے گے۔ اس لئے اللہ تعالی سے، انسانوں سے اور چیزوں سے ہمیشہ کیلئے اچھی توقعات رکھے انشاءاللہ آپکی قسمت ہر چیز نفع بخش اور سودمند ثابت ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالی انسان کی گمان اور سوچ کی مطابق فیصلے نازل فرماتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں انسانوں اور حیوانوں کی ضرر سے محفوظ رکھے اور ہمیں اچھی اور مثبت سوچ رکھنے والے رفیق عطا فرمائے۔

    ٹویٹر: ‎@Muna_Pti

  • پیشہ ور بھکاری۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پیشہ ور بھکاری۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    دورانِ سفر کسی بھی چوک میں ٹریفک کا اشارہ سرخ ہوتے ہی لوگوں کا ایک ہجوم گاڑیوں کی طرف لپکتا ہے۔ کوئی گاڑیوں کے شیشے صاف کرنا شروع کرتا ہے اور کوئی کُچھ بیچنے کی کوشیش، اس ہجوم میں زیادہ تر بچے یا خواتین ہوتی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی ایک مخصوص لین تک ہی محدود رہتا ہے۔

    اسی طرح ہسپتالوں کے اندر اور باہر بھی لوگوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے جو لوگوں سے مدد مانگتے نظر آتا ہے۔ کسی کو گھر واپسی کے لیے کرایہ چاہیے ہوتا ہے تو کسی کے پاس دوائی لینے کے لیے پیسے کم پڑ جاتے ہیں۔

    یہ لوگ ایسی ایسی تاویلیں گھڑتے ہیں کہ کوئی بھی سننے والا ششد رہ جائے۔ خیرات ملنے کی صورت میں جہاں یہ لوگ دعاؤں کی بھرمار کر دیتے ہیں وہیں کُچھ لوگ خیرات نہ دینے پر بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

    ایسے لوگ دراصل پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں، بھیک مانگنا ہی ان کا روزگار ہوتا ہے۔ کم محنت اور زیادہ کمائی کی وجہ سے یہ محنت مزدوری کرنے کی بجائے بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    پیشہ ور بھکاری بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق بھکاری مافیا سے ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو ایسے کسی گینگ کے ساتھ منسلک ہونے کی بجائے انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ کام کرتے ہیں۔

    بھکاری مافیا سے منسلک افراد ایک گینگ کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ اغواء شدہ اور گود لیے گئے بچوں کو اپاہج بنایا جاتا ہے اور پھر اُن سے بھیک منگوائی جاتی ہے۔ کُچھ بچوں کو بھیک لینے کے لیے کتابیں بھی دی جاتی ہیں، اور انہیں سکھایا جاتا ہے کہ کتابیں بیچنے کے نام پر کس طرح غربت اور بھوک کا رونا رونا ہے کہ سامنے والا خود ہی بھیک دینے پر مجبور ہو جائے۔

    یہ گینگ بچوں کے ساتھ خواتین سے بھی بھیک منگواتا ہے۔ یہ مافیا نہ صرف ان سب بھیک مانگنے والوں کو مقررہ جگہ پر چھوڑنے اور واپس لے جانے کا انتظام کرتا ہے بلکہ ان بچوں اور خواتین کی نگرانی بھی کی جاتی ہے تا کہ کوئی ان کے مانگنے کے کام میں خلل نہ ڈالے۔

    پیشہ ور بھکاریوں کی دوسری قسم کسی گینگ یا مافیا سے تو منسلک نہیں ہوتی لیکن کام اسی طرح سے کرتے ہیں۔ بچوں اور خواتین سے چیزیں بیچنے کے نام پر بھیک منگوانا، معذوری اور غربت کے نام پر بھیک مانگنا وغیرہ۔ یہ لوگ یا تو انفرادی طور پر خود بھیک مانگتے ہیں یا اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کو بھی بھیک مانگنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔

    کسی بھی بارونق جگہ چلے جائیں، چاہے وہ کوئی بازار ہو یا مارکیٹ، ہسپتال ہو یا کوئی سرکاری ادارہ، بس سٹاپ ہو یا بس اڈے، کالج ہو یا یونیورسٹی، فوڈ سٹریٹ ہو یا کوئی ریسٹورنٹ آپ کو جگہ جگہ یہ پیشہ ور بھکاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    اگر ان بھکاریوں کی روزآنہ کی بھیک کا حساب کیا جائے تو یہ ہزاروں میں بنتی ہے۔ کُچھ عرصہ قبل ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی جو رکشہ خریدنے لاہور آیا تھا۔ رکشہ خریدنے کی وجہ پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ بھیک مانگنے کے اڈے پر آنے جانے کے لیے اُسے روزآنہ 1200 روپیہ ایک رکشے والے کو دینا پڑتا ہے۔ رکشہ خرید کر وہ نہ صرف کرائے کے پیسے بچائے گا بلکہ رکشہ رینٹ پر بھی دے دے گا۔ ماہانہ آمدنی کا پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ ہر مہینے وہ لاکھوں روپیہ بھیک اکٹھی کرتا ہے۔

    اس واقعہ کے کُچھ عرصہ بعد ایک ہسپتال میں بھی ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی، اُس نے بتایا کہ وہ روزآنہ چار سے پانچ ہزار روپیہ اکٹھا کرتا ہے، لیکن اُسے وارڈ کی آپا وغیرہ کو بھی حصہ دینا پڑتا ہے۔

    ان پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف آئے روز برائے نام کریک ڈاؤن ہوتے رہتے ہیں، لیکن اس مسئلے کا حل صرف اس طرح کی کارروائیوں سے نہیں ہو سکتا، کیوں کہ یہ لوگ پہلے ہی حصہ دے دیتے ہیں اور اگر کاروائی ہو بھی تو چائے پانی دے کر دوبارہ وہی کام شروع کر دیتے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بحثیت معاشرہ ایسے عناصر کی حوصلا شکنی کرنی چاہیے۔ جہاں اداروں کی کارروائی ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایسے پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دینے سے اجتناب کریں۔ اگر ہم ایسے افراد کو بھیک دینا بند کر دیں گے تو یہ خود ہی یہ کام چھوڑ دیں گے۔

  • انسان اور اس کی حیثیت  تحریر : اسامہ خان

    انسان اور اس کی حیثیت تحریر : اسامہ خان

    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے کبھی بھی کوئی بھی انسان بھوکا نہیں مرتا کیونکہ انسان کے رزق کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے انسان اپنا بچپن گزارا ہے اور اپنے پسندیدہ پکوان اور مشروبات استعمال کرتا ہے یہ سب اللہ تعالی کا دیا ہوا ایک تحفہ ہوتا ہے اور ہم انسان اس کی ناشکری کرتے ہیں لیکن وہ پھر بھی رحیم و کریم ہے اس نے کبھی بھی ہمارے رزق کو نہیں روکا، لیکن جب انسان کسی مقام پر پہنچتا ہے اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو وہ نہ تو اپنے اردگرد والوں کا خیال رکھتا ہے آج اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں تو بہت سی ایسی شخصیات ملیں گی جنہوں نے بہت بڑے بڑے کارنامے کیے اور اکثر نے اپنی دنیاوی زندگی کو ہی اپنی کل زندگی سمجھ لیا لوگوں پر ظلم کیے لوگوں کو قتل کیا اور جب ان کی موت کا وقت آیا تم کو دو گز زمین بھی بہت مشکل سے نصیب ہوئی، آج کا انسان کیا ہے اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں سب اپنے آپ کو نواب سمجھتے ہیں اپنے سے غریب انسان کو اپنا غلام سمجھتے ہیں یہ صرف پیسے کی ہو ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں، کیونکہ اگر اللہ ان سے بھی دولت چھین لے تو وہ بھی دو وقت کے کھانے کو ترسیں گے جب انسان مرنے لگتا ہے تو نہ تو اسکا پیسا اسکے کام آتا ہے اور نہ ہی اسکی انا، آج ہم ایک دوسرے سے طاقت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اگر دیکھا جائے تو ہم دنیا میں آئے کس لیے تھے نہ تو ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے آئے تھے اور نا ہی ایک دوسرے کی غلطی پر اپنے پاؤں پکڑوانے۔ ہم سانس اپنی مرضی سے لے نہیں سکتے پتہ نہیں پھر اشرف المخلوقات کس بات کا غرور کرتے ہیں اور وہ ایسے سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی حالانکہ یہ ان کا وہم ہے دنیا میں کئی لوگ آئے اور بہت سے چلے گئے دنیا نہیں رکھی دنیا کا نظام چلتا رہتا ہے۔ بہت سے بادشاہ آج زمین دوز ہیں اور نصیب ہوئی تو صرف دو گز زمین کی قبر، یہ انسان کی حیثیت ہے زندگی تو چل رہی ہے اور چلتی رہے گی اور ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن قبر میں نہ تو دنیاوی مال و زر کام آئیں گے اور نہ ہی میرے عزیزو وقار تو کیوں نہ اپنی زندگی کو اصل مقصد کے لئے جیا جائے اپنی دنیاوی زندگی اللہ کو راضی کرنے میں لگائی جائے تاکہ جب کل کو انسان اللہ کے سامنے جائے تو وہ اپنی عبادات اللہ کے سامنے پیش کر سکے، یہ زندگی عارضی ہے اس نے گزر جانا ہے کیوں نہ ہو وہ کام کیا جائے جس میں دنیاوی زندگی میں بھی فائدہ ہو اور آخرت میں بھی فائدہ ہو اور اگر ہم کسی کی زندگی سے مثال لینا چاہیں تو حضور پاک کی زندگی سے لے سکتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنی زندگی تقوی کے ساتھ گزار دی کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا لوگ ان پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے لیکن انہوں نے درگزر سے کام لیا بے شک ان جیسی مثال پوری دنیا میں نہیں ملے گی اور نہ ہی قیامت تک مل سکے گی، آج ہم نے ایک دوسرے پر تہمت لگاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف چالیں چلتے ہیں جیسے ہمارا اپنی زندگی پر قابو ہے کاش کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے یہ سمجھ آ جائے کہ انسان کی اصل حیثیت کیا ہے تو انسان یہ سب کام چھوڑ دے گا اور اللہ سے توبہ کرلے گا بے شک وہ رحیم و کریم ہے اور سب کو معاف کرنے والا ہے

  • ‏وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل

    ‏وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل

    جب انصاف کا معیار غریب کے لیے الگ اور امیر کے لیے الگ ہو جائے ۔ غریب مجبور اور بے بس کے ساتھ انصاف کے تقاضے اور سلوک جب انصاف پر مبنی نہ رہیں بلکہ دولت اور تعلقات کے پلڑے میں تولے ہوئے فیصلے ہوں تو بے بس غریب لاچار لوگ اللہ کی مقرر کردہ وقت کی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہیں ۔ وقت کی عدالت میں وکیل کے فرائض وہ بددعائیں ہوتی ہیں جو بے بس اور مجبور لوگوں کے دلوں سے آنسوؤں کے ساتھ نکلتی ہیں ۔ پھر اللہ کے حکم سے وقت کی عدالت سے فیصلہ جاری ہوتا ہے ۔ وہ فیصلہ اپنے مقررہ وقت پہ جاری ہوتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ اللہ جو فیصلہ وقت کی عدالت کے ذریعے کرتا ہے اس وقت کی عدالت کے فیصلے خلاف اپیل نہیں نہیں کی جا سکتی.

    وہ فیصلہ کیسا ہوتا ہے ؟
    جب ظالم ، سفاک لوگ کسی غریب کی جائیداد پہ طاقت کے بل بوتے پہ قبضہ کر لیتے ہیں اور عدالت سے فیصلہ اپنے حق میں خرید لیتے ہیں
    جب ظالم امیر لوگ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ناجائز منافع کی صورت میں غریب کی جیب پہ ڈاکہ ڈالتے ہیں۔
    جب بیوروکریٹ رشوت اور کک بیکس سے ناجائز دولت جمع کر لیتے ہیں
    جب سیاستدان اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دولت جمع کر لیتے ہیں
    جب کوئی سفاک کسی معصوم کے ساتھ درندگی کر کے اسے قتل کردیتا ہے
    جب غریب رشتے داروں کا حق مار لیا جاتا ہے
    جب بے گناہ قتل کیا جاتا ہے

    اس طرح کے ہزاروں واقعات کے گواہ ہونے کے باوجود انصاف بک جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے وقت فیصلے کرتا ہے
    ظالم اور سفاک لوگوں کے پاس دولت کے انبار ہوتے ہیں لیکن اس میں سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بیماری ایسی لگ جاتی ہے کہ زندگی صرف بستر تک رہ جاتی ہے ۔ ایک لباس ایک کمبل ایک تکیہ نہ جوتے کی ضرورت نہ استری شدہ کپڑوں کی ضرورت، نہ گاڑیوں بنگلوں کی ضرورت۔ایسا عذاب کہ جس کا علاج ممکن نہیں ہوتا
    الماریاں کپڑوں سے بھری ہوتی ہیں لیکن کپڑے پہن نہیں سکتے کہ جسم پہ خارش شروع ہوجاتی ہے ۔ یا جسم اکڑا ہوا ہوتا ہے کہ حرکت نہیں کر سکتا۔

    مخمل کے کروڑوں روپے کے نرم نرم بستر ہوتے ہیں لیکن سو نہیں سکتے ۔ نیند کی گولیاں کھاتے ہیں پھر بھی نیند نہیں آتی ۔ بے چینی ایسی رہتی ہے کہ سکون برباد ہو جاتا ہے ۔
    ہزاروں طرح کی ڈشیں ڈائننگ ٹیبل پہ ہوتی ہیں لیکن کھا نہیں سکتے
    ہر ماہ خون نکلوانا پڑتا ہے کہ بلڈ پریشر نہ بڑھ جائے اور موت واقع نہ ہو جائے
    کپڑوں میں پاخانہ نکل جاتا ہے لیکن باتھ روم جانے کی سکت نہیں ہوتی ۔ کسی کے محتاج ہو جاتے ہیں کہ گندگی کو کوئی صاف کرے ۔
    ہزاروں جوتوں کے جوڑے ہوتے ہیں لیکن شوگر سے پاؤں پھول چکے ہوتے ہیں کہ جوتے پہن نہیں سکتے بولنا چاہتے ہیں لیکن فالج زدہ زبان سے آواز نہیں نکلتی اولاد معذور پیدا ہوتی ہے جس کو دیکھ کے ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں لیکن علاج نہیں ملتا۔
    گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ایسی حرکت کرتا ہے کہ معاشرے میں سر جھک جاتے ہیں۔ اپنا گھر بار چھوڑ کے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ سب کچھ ہوتا ہے لیکن گلی کے کتے بھی سلام نہیں کرتے موت آتی ہے تو کوئی لاش کو دفنانے والا نہیں ملتا
    بیماری ایسی آتی ہے کہ تڑپ تڑپ کے روز مرتے ہیں۔ موت کی دعائیں مانگتے ہیں لیکن موت نہیں آتی۔

    بے شک اللہ کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔ جس ظالم پہ پڑ جائے اسے عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔
    وقت کی عدالت کا انصاف بہت بے رحم ہوتا ہے ۔۔ اپیل کی گنجائش نہیں ہوتی.

    @iAmir29

  • پردیس اور اپنوں کی بے رخی تحریر:  چوہدری عطا محمد

    پردیس اور اپنوں کی بے رخی تحریر: چوہدری عطا محمد

    آپ میں سے کچھ لوگ جانتے ہوں گے کہ پردیس کیا بلا ہے اور اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کو یہ نہیں پتہ کہہ پردیس کسی اذیت کا نام ہے پردیس کا درد کیا ہے یہ صرف وہی جان سکتا ہے جو یہ سزا بھگت رہا ہوتا ہے، یقین مانیں ایسی عجیب سی تنہائی کا عالم کے بیشمار لوگوں کےاپنے آس پاس ہوتے ہوئے بھی اکیلاپن محسوس ہوتا ہے،
    ہے ناں عجیب سزا ،عام لوگ بیرون ملک دولت کمانے کو میٹھی جیل کا نام بھی دیتے ہیں ایسی جیل جس کی دیواریں تو نہیں لیکن انسان کو ہر وقت تنہائی اور دم گھٹنے کا احساس رئیتا ہے ، مگر کیا کرے حالات اور انسانی ضروریات کی وجہ سے اور اپنی فیملی جس میں اس کے بہن بھائی بوڑھے والدین اور کچھ کے بیوی و بچے ان سب کو بہتر حالات اور بہتر سہولیات دینے کے لئے اس میٹھی جیل میں اندر سے روتے ہوۓ اور سامنے سے ہنستے ہوۓ وقت گزارتا ہے ایک پردیسی
    عید الاضحی کا تیسرا اور چھٹیوں کا آخری دن تھا جمعتہ المبارک کا دن تھا جمعہ کی نماز کے بعد میرا ایک انجنئیر دوست مجھ سے عید ملنے آیا یہ بھی بتاتا چلوں میرا یہ دوست اپنی فیملی یعنی بیگم اور دو بچوں سمیت رئیتا ہے جیسے ہی وہ میرے پاس پہنچا مجھے بھی یکدم لگا کہہ عید ہوگئ ہے کیونکہ اس کو گلے مل کر بہت ہی چائیت کا احساس ہوا می ملنے کے بعد اس کو بیٹھایا اور خود جاکر اس کے لئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرنے لگا ہم بہت بے تکلف دوست ہیں اس نے آواز دی سادہ پانی کی بوتل لاؤ اور صرف دودھ والی چاۓ بناؤ اور کچھ بھی نہیں کھاؤں پیو گا مجھے پہلے ہی پتہ تھا سو می اسے پانی کی بوتل دی اور چاۓ کا سامان چولہے پر رکھ کر اس کے پاس بیٹھ گیا ہم ادھر ادھر کی باتین کرنے لگے پانچ سات منٹ ایسے ہی باتوں میں گزر گے اتنے میں چاۓ بن گئ میں نے چاۓ دوکپ میں ڈالی اور ساتھ الماری سے نمکو کا پیکٹ نکالا اور چاۓ نمکو لے کر دوست کے پاس بیٹھ گیا ہم چاۓ پیتے رہے اور پاکستان کے سیاسی معملات پر گپ شپ لگانے لگے کچھ دیر میں ہی میں محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان ہے میں اس سے پوچھا کہہ چہرے سے پریشان لگ رہے آپ بھائی تو کہتا کہہ کہہ کچھ نہیں میں دو تین بار اصرار کیا تو وہ بتانے لگا اس کی زبانی میں چاند رات فیملی کے ساتھ شاپنگ کر کے گھر کو واپس لوٹا اور تھکاوٹ سے جلدی سوگیا صبح زرا جلدی جاگنا ہوتا کیونکہ ادھر نماز فجر کے لئے جاتے تو عید کی تیاری کر کے جاتے یعنی فجر کی نماز سے ایک گنٹھہ اور کچھ منٹ بعد عید کی نماز ہوجاتی ہے می نماز عید پڑھی اور جلدی سے گھر کی طرف آیا آتے ہی موبائل کا نیٹ آن کیا کیونکہ سارے راستہ سوچتا رہا پاکستان سے پتہ نہیں عید مبارک کے لئے پوری فیملی بہن بھائی کتنی دفع کال کر چکے ہوں گے لیکن وہ شاید میری بھول تھی موبائل آن کر کے پاس رکھا ناشتہ کیا لیکن دھیان موبائل کی طرف ہی تھا کہ ابھی کال آۓ گی لیکن ناشتہ سے لنچ اور لنچ سے ڈنر تک گزر گیا می رات سونے کے لیے بیڈ پر پہنچا تو اپنے اوپر بہت رونا آیا دل میں خیال ہے کہہ کیا می اکیلا ہی ہوں میرا کوئی بہن بھائی ماں باپ رشتہ دار نہیں ہیں کیا کسی ایک فرد نہ بہن نے نہ چھوٹے یا بڑے کسی بھائی نے نہ ہی نہ والد صاحب نے کسی نے بھی عید مبارک تک کی کال تو دور کی بات ہے واٹس پر میسج تک نہیں کیا مجھے والدہ کی بہت یاد آئی کیونکہ جب وہ حیات تھی تو سب کو بول بول کے کسی نہ کسی سے کال کر وا ہی دیتی تھیں
    آپ سوچیں دوسرے دن پاکستان میں عید تھی میں نے سب کو باری باری کال کر کے مبارک باد دی لیکن کسی ایک نے بھی مجھے یہ نہیں کہا کہ سوری ہم بھول گے تھے کل آپ کی بھی عید تھی بڑی بہن کو جب کال کی تو ہلکا سا گلہ کیا تو وہ فورا بولی بھائی آپ کو پتہ ادھر کتنی مصیبتیں مجھے یاد ہی نہیں تھا کہہ آپ کی عید تھی کل آپ لو بتاتا چلوں یہ سب میرے وہی بہن بھائی ہیں جن میں سے ہر ماہ کوئی نہ کوئی اپنی مشکل بتاتا اور مجھے کہتا اتنے پیسے بھیجو می آج تک ان میں کسی کو نہ نہیں کہی ہر خوشی اور غمی میں اگر خود حاضر نہ ہوا لیکن ہر طرح کی ہر قسم کے حالات میں ان لی ضرور مدد کی جس نے جتنے پیسے کہا بیگم سے چوری یا اس کے سامنے ہر حال میں اپنے بہن بھائیوں کو بھیجے لیکن میرا خیال ہے ہم پردیسیوں کو ہمارے فیملی والے ایک اے ٹی ایم مشین ہی سمجھتے ہیں نہ تو ہمارے دئیے ہوۓ گفٹ کی ویلیو نہ ہمارے دئیے ہوۓ پیسے کی ویلیو نہ ہی ہماری اپنی یہ کہتے ہوۓ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا
    آخر میں بس اتنا ہی کہتا چلوں کہہ خدرا جن کے فیملی ممبرز یا کوئی دوست احباب پردیس میں ہیں ان سب کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کیا کریں یقین جانیں ان کی سانسیں اپنے ملک اور آپ کی خوشیوں اور پریشانیوں کے ساتھ چلتی
    اللہ پاک ارض پاک اور اس کی معشیت کو اس قدر مضبوط اور مستحکم کر دے کہہ کسی کو بھی روزگار کے لئے پردیس جیسی میٹھی جیل نہ جانا پڑے
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • پاکستان اللّٰہ کا احسان . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    پاکستان اللّٰہ کا احسان . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    دنیائے تاریخ میں دو ریاستیں ایسی ہیں جو نظرئیے کی بنیاد پر بنی ہے۔ پہلا مدینہ طیبہ اور دوسرا مدینہ ثانی یعنی پاکستان۔ مدینہِ طیبہ اور پاکستان میں ایک دلچسپ ربط ہے جو لوگ لغت سے شغف رکھتے ہیں وہ لغت اٹھا کے دیکھیں مدینہ طیبہ عربی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے مدینہ یعنی شہر یا رہنے کی جگہ جبکہ طیبہ صاف کو کہتے ہیں یعنی کہ صاف رہنے کی جگہ۔ اب آجائے پاکستان پہ تو پاکستان فارسی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے پاک یعنی صاف اور ستان یعنی رہنے کی جگہ۔ اب پاکستان کو اگر عربی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا مدینہ طیبہ، اگر مدینہ طیبہ کو فارسی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا پاکستان۔

    پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ اور پاکستان کلمۂ طیبہ کے نعرے اور نظریہِ اسلام کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا ہے۔
    قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ "ہمیں محض رہنے کیلئے ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ چاہیے جہاں ہم اسلامی قوانین کو پرکھ سکےاور اپنے پیغمبرﷺ کی سنت پر عمل کرسکے”۔
    میری خواہش ہے کہ بالعموم ہر پاکستانی اور بالخصوص ہر نوجوان کو دو غیر معمولی وجود یعنی قائد و اقبال اور ایک غیر معمولی تخلیق یعنی پاکستان کے بارے میں پتہ ہو۔

    پاکستان ایک معمولی تخلیق نہیں ہے۔ قدرت کے اشاروں کوسمجھئے اللّٰہﷻ کے ہمارے اوپر بیش بہا احسانات ہے۔ جسمیں سےایک احسانِ عظیم یہ ہے کہ ہم بغیر کسی محنت، بغیر کسی حجت اور بغیر کسی خوبی کے امتِ محمدیؐ میں پیدا ہوئے۔ دوسرا احسانِ عظیم یہ کیا کہ ہمیں سرزمینِ پاکستان میں پیدا فرمایا۔ دوسری بات سے شاید بہت سے لوگ اختلاف بھی کرے کہ پاکستان میں پیدا ہونا احسان کیسے ہوسکتا ہے کہ یہاں تو بہت سی پریشانیاں ہیں، بدامنی ہے، بے روزگاری ہے، مہنگائی ہے، بھوک ہے، ننگ ہے ناانصافی ہے

    جسکی خاطر سارے دُکھ جھیلیں
    تو پھر بھی پاکستان گھر تو آخر اپنا ہے

    پاکستان 14 اگست 1947 کو بنا جو کہ نزولِ قرآن 27ویں رمضان کی رات تھی۔ شبِ قدر کو پاکستان کابننا محض اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔
    اسلامی دنیا میں ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہے۔ یہ بھی محض ُحسنِ اتفاق نہیں ہے- یاد کریں وہ دن جب پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے چاغی کا پہاڑ پاکستان میں لال ہوا تو فلسطین میں لوگوں نے اسرائیل کوللکار کر کہا تھا کہ اب ہمارے اوپر ظلم نہیں کرنا اب ہم ایٹمی طاقت ہے۔ دُنیا میں سات ممالک کے پاس ایٹمی طاقت ہے جس میں سے 6 غیر مسلم ممالک ہیں جبکہ مسلم ممالک میں واحد پاکستان ہے جو کہ ایٹمی طاقت ہے۔ یعنی مسلمان ایٹمی طاقت ہونے سے ہمیں امت کی سرداری کاشرف بھی اللّٰہ نے بخشا۔
    قُرآنِ مجید فِرقانِ حمید کے سورۃ الرحمٰن میں جتنے بھی باغات و میوہ جات کا ذکر ہے تو گویا کہ سورۃ الرحمٰن کی تفسیر ہے پاکستان۔

    ایک روایت کے مطابق: اللہﷻ کے رسولِ مقبولﷺ نے مختلف مقامات کے بارے میں پیشنگوئیاں کی عرب کیطرف اشارہ کیا کہ یہاں سے مجھے منافقت کی بدبُو آرہی ہے پھر ایک طرف اشارہ کیا جسمیں پاکستان اور افغانستان شامل ہے کہ یہاں سے مُجھے خوشبوں آرہی ہے جبکہ دوسری روایت کے مطابق فرمایا تھا کہ یہاں سے مُجھے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہے گویا کہ پیغمبرِ خداﷺ کا پیغام اور خوشخبری ہے پاکستان۔

    پاکستان اتنا بڑا معجزہ ہے جیسا کہ صالحؑ کی اونٹنی ایک معجزہ تھی۔ اس قوم نے اس احسان کی ناقدری کی تو صفحۂ ہستی سے مٹ گئے جبکہ ہم اس تحفے کی بے توقیری کرکے دنیا میں ذلیل ورسوا ہورہے ہیں۔

    ماں کے بارے میں ہم گالی نہیں سُن سکتے کیونکہ اس نے بچپن میں سینے سے دودھ پلایا ہوتا ہے اور جوانی تک سارے مصائب اور غم اُٹھائے ہوتے ہیں لیکن ماں مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں کرسکتی اور نہ ہی اُس کا اِتنا طاقت و قُدرت ہوتا ہے۔ اِسی طرح دھرتی بھی ماں ہوتی ہے۔یہی دھرتی ماں ہمیں ساری زندگی اپنے سینے سے اناج کھلاتی ہے وطن وہ ماں ہے جو مرنے کے بعد اپنی آغوش میں دو گز زمین بھی دے دیتی ہے۔

    پاکستان کی عزت کیجئے اور عزت کروائیے۔ بے ضمیر لوگ کہتے ہیں وطن نے کیا دیا ہمیں جبکہ باضمیر اور غیور لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے وطن کو کیا دیا۔ میں ایک قدم آگے بڑھ کر بڑے ادب سے کہتا ہوں کہ ہم کیا دے سکتے ہیں وطن کو۔
    پاکستان کو ہم اگر کچھ دینا چاہتے ہیں تومیری التجاء ہے کہ وہ مرد جن کے ذمے اپنے اپنے خاندان کی کفالت کرنا ہے کم از کم اپنے شعبوں میں دیانتداری سے کام کریں اس یقین کیساتھ کہ ایک بے ایمان بندہ کم ہوجائے اور وہ بہنیں جو کہ مائیں بنی ہے یا بنے گی وہ ایک احسان کرے کہ ایک اچھی نسل دے اس قوم کو۔ اس قوم و ملت کو ضرورت ہے ایسے نسل کی جو اس ملک کو وہ مقام دلائے جس کیلئے یہ وجود میں آیا ہے۔

    کھڑے تھے ہم بھی تقدیر کے دروازے پر
    لوگ دولت پہ گرے ہم نے وطن مانگ لیا

    میں مشکور ہوں ربّ ذوالجلال کا کہ پاکستان میرے نام کا بھی حصہ ہے، میری ذات کا بھی حصہ ہے اور میری جان کا بھی حصہ ہے۔ پاکستان سے مُجھے عشق ہے۔ یہ میری لیلیٰ اور میں اسکا مجنون ہوں۔ پاکستان کا محبت میری رگ رگ میں بسا ہے۔
    پاکستان ہمیشہ قائم و دائم سلامت و آباد رہے۔
    خوش رہیں خود بھی اور خوش رکھیں اپنے ساتھ منسلک لوگوں کو۔ اپنا اور اپنے دیس کا خیال رکھیں۔
    پاکستان زندہ باد

    @IjazPakistani

  • یتیم کی تکریم     تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    یتیم کی تکریم تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    یتیمی ایک ایسا امتحان ہے جو کسی بھی شخصیت پر اس آزمائش بن کر آ پڑتا ہے. بلاشبہ اس میں اللہ رب العزت کی بے پناہ مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان پر واضح ہوتی ہیں. لیکن اس امتحان کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ حقیقی مخلص اور بناوٹی رشتوں کی اچھے سے پہچان ہو جاتی ہے. اس زمرہ میں اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں بھی زکر کیا ہے اور یتیم کی تکریم کا زکر ہے.
    1. یتیم کی تکریم کا کیا مطلب ہوا؟
    اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا.
    كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ(۱۷) سورۃ الفجر
    ترجمہ: ہرگزنہیں بلکہ تم یتیم کی عزت (تکریم) نہیں کرتے۔
    آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یتیم کی مدد کی بات نہیں بل اس کی عزت اور عزت نفس کا خیال رکھتے ہوے اس کی مدد کی بات ہے.
    اس آیت کے پہلو میں بہت سے موضوعات موجود ہیں جن میں 1. یتیم کے مال کی حفاظت اور بلوغت پر اسے لوٹانا.
    2. اس کی پرورش کے پہلو
    3. اس کے ساتھ اخلاق و اخلاص
    وغیرہ
    فی زمانہ کیمرا ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے یتیم کی عزت نفس کا قتل فرض اولین سمجھا جاتا ہے.
    اللہ کی رضا ہے تو زمانہ میں رسوا نا کر صاحب
    تیرے چند ٹکے اس کی عزت نفس بیچ نہ بیچ ڈالیں.

    یہاں فی زمانہ مال کو اس لیے تقسیم کیا جاتا ہے کہ کوئی دیکھے تو کہے صاحب بڑا رحم دل ہے. او بھائیو رحم قبول کرنے والے کا فرمان بھی سنو. آپ کا صدقے، خیرات کی نہیں یتیم کی عزت کی بات ہے. زمانے کے سامنے عزت اور گھر کی چاردیواری میں اس کی تزلیل؟
    یہ کہاں کا انصاف ہے؟
    یہ کفار کا طریقہ ہے کفار جب یتیموں کو دھکے دیتے ان کی تزلیل کرتے اللی کریم نے قرآن میں سورۃ الماعون میں ارشاد فرمایا.
    فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ: پھر وہ ایسا ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ یعنی دین کو جھٹلانے والے شخص کا اخلاقی حال یہ ہے کہ وہ یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
    فیصلہ کیجئے ہتہم کے ساتھ ظلم تو کفار کا طریقہ ہے. مسلمان کو تو یہ زیب ہی نہیں دیتا
    یتیم کی پرورش تو رب العالمین کی رضا کیلئے ہونی چاہیے پھر یہ زمانے میں دکھاوا کیسا؟
    جب رضا الہی مقصود ہو تو فرمان الہی کو مد نظر رکھنا لازم ہے. رب کریم یتیم کی تکریم کا حکم فرماتا ہے. یاد رکھیں یتیمی اس کا قصور نہیں لیکن ہاں! آپ کا امتحان ضرور ہے کہ کس طرح اس کی پرورش کی مال میں خیانت تو نہ کی. اس کی وراثت کھا تو نہیں گئے. بےشک اسلام کامل دین ہے. اللہ کریم نے خاص یتیم کا تزکرہ ہی اسی لیے فرمایا کیوں کہ کمزور پر ظلم آسان ہوتا ہے. طاقتور تو مزاحمت کر لیتے ہیں. یہاں اللہ رب العزت نے یتیم کے حق میں خود بات ارشاد فرمائی ہے. پتا چلا یہ معاملہ اتنا آسان نہیں کہ جہاں دیکھو یتیم کی تزلیل کرو اور اس کا حق کھا جاؤ.
    اللہ رب العزت نے قرآن مجید ارشاد فرمایا وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آ گ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے (سورۃ النسا.)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کے گھروں میں سب سے اچھا وہ گھر ہے جس میں یتیم سے اچھا سلوک کیا جائے جبکہ برا وہ گھر ہے جس میں یتیم سے برا سلوک کیا جائے۔ ‘‘ ( سنن ابن ماجۃ، الحدیث: ۳۶۷۹
    ایک جگہ فرمایا: بیواؤں اور مسکینوں کی پرورش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘

    ( سنن ابن ماجہ الحدیث: ۲۱۴۰)
    آئیے ہم اپنی اصلاح کریں. کمزوروں کی یتیموں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کی امداد کریں. کیمرا کی آنکھ نا بھی دیکھے رب کی آنکھ ضرور دیکھتی ہے. احسان کیجیے. اللہ رب العالمین نے سورہ الرحمن میں احسان کے بدلے احسان کا وعدہ فرمایا ہے. ہاد رکھیں یتیم ہوتے دیر نہیں لگتی. آج احسان کیجیے تاکہ کل کو اللہ آپ کے ساتھ احسان کرنے والے پیدا فرمائے.
    فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    آپ کے کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے جو آپ کو معلوم ہے یا نہیں ، دراصل آپ کے پیدا ہونے پر ہی شروع ہوا تھا! بہت سارے عوامل ہیں جو آپ کے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرتے ہیں ، بشمول آپ کی دلچسپیاں ، قابلیتیں ، اقدار ، شخصیت ، پس منظر اور حالات۔ کیریئر کونسلنگ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو کیریئر ، تعلیمی ، اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے اپنے آپ کو اور کام کی دنیا کو جاننے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    کیریئر کی ترقی صرف یہ فیصلہ کرنے سے کہیں زیادہ ہے کہ آپ فارغ التحصیل ہونے پر آپ کیا نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ واقعی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، مطلب یہ ہے کہ آپ کی ساری زندگی آپ بدلاؤ گے ، حالات بدلیں گے ، اور آپ کو کیریئر اور زندگی کے فیصلے مستقل طور پر لینے پڑیں گے۔ کیریئر کونسلنگ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نہ صرف آپ کے فیصلے کرنے میں مدد کریں ، بلکہ آپ کو مستقبل میں کیریئر اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے آپ کو ضروری علم اور صلاحیتیں فراہم کرنا ہیں۔

    میں کیا توقع کرسکتا ہوں؟

    آپ کا کیریئر کونسلر آئے گا:
    آپ یہ جاننے میں مدد کریں کہ آپ کون ہیں اور آپ اپنی تعلیم ، کیریئر اور اپنی زندگی سے کیا چاہتے ہیں۔
    آپ کے خیالات ، خیالات ، احساسات اور اپنے کیریئر اور تعلیمی انتخاب کے بارے میں خدشات کے بارے میں بات کرنے کیلئے کوئی شخص بن جائے ، جو آپ کو اپنے خیالات اور احساسات کو الگ الگ کرنے ، ترتیب دینے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اپنے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرنے والے عوامل کی نشاندہی کرنے میں آپ کی مدد کریں اور اپنی دلچسپیوں ، صلاحیتوں اور قدروں کا اندازہ کریں۔
    کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل اور ذرائع تلاش کرنے میں آپ کی مدد کریں۔ اگلے اقدامات کا تعین کرنے اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے میں مدد کریں۔

    آپ کا کیریئر کونسلر نہیں کرے گا:
    آپ کو بتائیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے ، یا آپ کو بتانا چاہئے کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے یا آپ کو کیا پیشہ اپنانا چاہئے۔ کورس کے انتخاب یا نظام الاوقات میں آپ کو مشورے دیں۔

    کس کو کیریئر کونسلنگ کی ضرورت ہے؟
    چونکہ کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، لہذا کیریئر کونسلنگ کسی کے لئے بھی موزوں ہوسکتی ہے ، بشمول تازہ افراد ، سوفومورس ، جونیئرز ، سینئرز اور یہاں تک کہ سابق طلباء بھی۔ قبل ازیں آپ اپنے مستقبل کے بارے میں جان بوجھ کر فیصلے کرنا شروع کردیتے ہیں ، تاہم ، آپ جتنا بہتر تیار ہوں گے! ہمارا مشورہ ہے کہ تمام افسران کیریئر کونسلر سے مل کر تشریف لائیں۔

    ذیل میں خدشات کی کچھ مثالیں ہیں جو طلبا کو کیریئر کونسلنگ میں لاتے ہیں۔
    کیریئر اور اہم اختیارات کی تلاش
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں کس چیز میں بڑا کام کرنا ہے۔”
    "میں نے اسے کیریئر کے ایک دو آپشنز تک محدود کردیا ہے ، لیکن مجھے ان کے درمیان انتخاب کرنے میں سخت مشکل پیش آرہی ہے۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے اندازہ نہیں ہے کہ فارغ ہونے کے بعد میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ سب سے بڑا میجر کیا ہوگا۔
    "میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں اپنے بڑے سے کس قسم کی ملازمت حاصل کرسکتا ہوں۔”
    "مجھے ایسا نہیں لگتا کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں جاننے کے لئے وہاں موجود تمام مختلف کیریئر کے بارے میں کافی جانتا ہوں۔”

    تنازعات کو حل کرنا
    "مجھے بہت سارے مختلف مضامین پسند ہیں ، اور میں اپنا اہم تبدیل کرتا رہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین نہیں ہے کہ کون سا میرے لئے سب سے بہتر ہے!”
    "میں اپنی کسی بھی جماعت کو پسند نہیں کرتا ہوں اور کوئی بڑی کمپنی مجھ سے واقعی اپیل نہیں کرتی ہے۔”
    "میرے پاس بہت سارے کام کا تجربہ ہے اور میں ایک نیا کیریئر کا راستہ تلاش کرنا چاہتا ہوں جو میں پہلے سے موجود ہنروں کو استوار کروں گا۔”
    "میں ___ پروگرام میں جانے کا ارادہ کر رہا تھا ، لیکن میں نے درخواست دی اور میں داخل نہیں ہوا۔ اب میں کیا کروں؟”
    "میں نے ہمیشہ سوچا کہ میں ___ بننا چاہتا ہوں ، لیکن میں اپنے بڑے ہو گیا اور مجھے واقعی میں یہ پسند نہیں کرتا!”
    "میں واقعی میں اپنے بڑے کو پسند کرتا ہوں ، لیکن یہ وہ نہیں ہے جو میں اپنے کیریئر کے لئے کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کس نوعیت کا کام کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے ڈر ہے کہ میں یہ کام کرنے میں زیادہ رقم کمانے کے قابل نہیں ہوں گے۔”
    "میرا کنبہ حقیقت میں چاہتا ہے کہ میں ___ بنوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ اگر میں واقعی میں یہی چاہتا ہوں تو۔”
    "میں نے ہمیشہ ___ ہونے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ میں جانتا ہوں۔”
    "میں وہاں جانے کے لئے ایک فیلڈ ڈھونڈنا چاہتا ہوں جہاں ہمیشہ ملازمت کی کافی مقدار ہوگی۔”
    "میں ایک ایسا کیریئر تلاش کرنا چاہتا ہوں جس سے مجھے اپنے کنبے کے لئے قابل قدر مالی اعانت فراہم ہوسکے۔”
    "میں اپنے کیریئر کی سمت کام کر رہا ہوں ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں واقعی میں گھر میں رہنے والے والدین بننا چاہتا ہوں۔”
    "میں نے ہمیشہ بائوس میں ہی رہنے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں جو کرنا چاہتا ہوں وہ کرنا ہے مجھے حرکت کرنا ہوگی۔”
    "مجھے نوکری نہیں مل سکتی ہے ، لہذا میں گریڈ اسکول جانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔”

    کیریئر کونسلر کون ہے؟
    کیریئر سروسز کا عملہ آپ کی مدد کرنے میں آپ کو ماسٹر ڈگری حاصل ہے اور اس میں کیریئر ڈویلپمنٹ تھیوری ، مشاورت کی تکنیک ، انتظامیہ اور تشخیص کی تشریح ، اور کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل میں مہارت حاصل ہے۔ کیریئر کونسلرز مشاورت یا کیریئر کونسلنگ میں ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں۔

    آپ کی ملازمت کی تلاش / کیریئر کے حصول کا عمل آپ کے کیریئر کی ترقی کا ایک اہم پہلو بھی ہے ، اور اسی وجہ سے ، جاب سرچ ایڈوائزیشن اور کیریئر کی صلاحکاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کے کیریئر کونسلر کو بھی آپ کی ملازمت کی تلاش کے تمام پہلوؤں کی مدد کے لئے مکمل طور پر تربیت حاصل ہے۔

    ‎@Malik_Fahad333