Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • والدین معاشرتی بگاڑ روکیں  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    والدین معاشرتی بگاڑ روکیں تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بچے من کے سچے ہوتے ہیں عقل کے بھولے ہوتے ہیں اور زہن کے کچے بھی ہوتے ہیں. بچوں کے معاملات میں بچپن سے ہی احتیاط ضروری ہوتی ہے. کیونکہ جب کوئی انوکھی چیز بچے کے زہن میں اترتی ہے تو اس کے دو اثرات ہوتے ہیں. ایک اسکے زہں میں اس حرکت واقع یا چیز کے بارے کئی نے سوالات جنم لیتے ہیں تو دوسرا اس تحقیقی عمل کو بچہ ہمیشہ کے لیے اپنے زہن میں محفوظ کر لیتا ہے. اسی وجہ سے بچوں کی پرورش میں بچپن کا دور انتہائی معنی رکھتا ہے.

    فی زمانہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کا زمہ سکول یا کوچنگ سنٹر پر ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں جو کہ قطعاً درست نہیں. دوسرا بچوں کو رواج اور فیشن میں انکی پسند پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے. دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے والدین رواج اور فیشن میں بچے کو اچھائی برائی کی پہچان کے بجائے خود اس کے پہناوے اور صحبت کو نظر انداز کرتے ہیں.
    حدیث شریف میں حضور اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے.
    تو بچے کی قربت رکھنا اور اس کی قربت میں رہنے والوں کی معلومات رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کس سے کس قسم کا اور کس حد تک تعلق اور میل جول ہے.
    فیشن انڈسٹری نے پاکستان میں جس رفتار سے پنجے گاڑے ہیں اور جس بے دردی سے موجودہ جوان نسل اور چھوٹے بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کی تیاری میں مصروف ہے آج کل کے ماں باپ اس پر توجہ دینے کی بجائے الزام تراشی اور معاشرے پر اس کا زمہ ٹھراتے اور خود کی زمہ داری سے نظریں چرا رہے ہیں.
    بچہ جب چھالیہ یا سپاری کھاتا ہے تو ماں باپ یہ کہ کر ٹال دیتے ہیں چلو ابھی بچہ ہی تو ہے. وہی بچہ عمر کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ جب سگریٹ نوشی تک ترقی پاتا ہے تو والدین کہتے ہیں زمانہ خراب ہے. بھئ زمانہ تو تب بھی ایسا ہی تھا جب اس نے چھالیہ کھایا. تب آپ اگر مطمئن تھے تو اب زمانے کو مت کوسئیے. بچے جب سکولوں میں رقص کرتے والدین شوق سے تصویریں کھنچواتے ہیں. یاد رکھیں یہ وہی تربیت کل اس کو جوانی میں بھی نچواے گی. زمانہ تو اب بھی ویسا ہی ہے تب بھی ایسا ہی ہو گا. زمانہ ایسا بنیا کس نے؟ آپ کی غیر زمہ داری نے.
    متوسط طبقہ کے ماں باپ یہ کہکر بچوں کو چست لباس پہنا دیتے کہ آج کل بازار میں ہے ہی یہی کیا کیا جائے. جس بچی کو آپ نے آج سے ہی بنا بازو شرٹ پہنا دی ہے وہ اس کے زہن میں نقش ہو چکی ہے صاحب. کل کو اسے نافرمانی کے طعنے دینے کی بجاے اپنی غلطی پر ندامت کیجئے کیوں کہ یہ سب آپ نے ہی تو سکھایا ہے.

    یاد رکھیں ایک عادت جو بچپن کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بدلتی خصوصی طور پر ہر وہ عادت جسے خود فروغ دیا جائے.
    فحاشی کا لباس بازاروں میں بکتا رہا. دوکاندار کو منافع خوری سے غرض، مل مالکان کو منافع خوری کی ہوس. کپڑے کا معیار گھٹیا سے گھٹیا کر دیا کی جسم کی رنگت دکھائی دیتی ہے. فیشن کے نام پر آدھا بدن ننگا کر دیا گیا. ایسا منافع دنیا میں بھی بیماریوں میں خرچ ہوتاہے اور آخرت میں بھی زوال کا باعث ہو گا. کیونکہ
    اس بارے سخت وعید موجود ہے.
    جو شخص چاہے قوم میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے.

    کل کو یہی نسل جو بچپن سے بے حیائی کا لباس پہنتی آئی ہو گی آج بھی پہنے گی اور اس کی نظر میں اس میں کوئی برائی والی بات نہیں. اس کی مثال حالیہ وزیراعظم عمران خان کے فحاشی کےبیان پر تلملاتے لبرل فسادیوں کی بکواسیات سے لگایا جا سکتا ہے.
    خدارا اپنی نسلوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر برباد ہونے سے بچائیے

    والدین معاشرتی بگاڑ کو روکیں اور اپنی زمہ داری نبھائیں
    1. بچوں کی صحبت پر نظر رکھیں.
    2. کردار پر نظر رکھیں.
    3. لباس پر نظر رکھیں خود سلا لیں لیکن مناسب پہنائیں اور مستقبل کی ندامت اور شرمندگی سے بچیں. تاکہ کل کو آپ کو اپنی اولاد سے لاتعلقی والی بیان بازی نہ کرنی پڑے.
    4. اپنے والدین اپنے بہن بھائیوں کا ادب سکھائیں. ان سے تعلق کیسا ہونا چاہیے سکھائیں.
    بلوغت میں یہ زمہ داری بھائی کے زمہ بھی آتی ہے کہ ماں باپ کی تربیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے.
    بہنوں کو بھی چاہیے کہ بحیثیت بیٹی باپ کی عزت، بحیثیت بہن بھائی کی غیرت بحیثیت بیوی شوہر کے وقار اور بحیثیت ماں بچوں کے مستقبل کی محافظ رہے.
    یاد رکھئیے!
    ایک مرد کا سدھرنا ایک فرد کا سدھرنا اور ایک عورت کا سدھرنا ایک نسل کا سدھرنا ہے کیونکہ عورت اپنی نسل کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے.
    حضور نبی اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل بروز قیامت عورت اپنے ساتھ چار مرد جہنم میں لے کر جاے گی. باپ بھائی شوہر اور بیٹا کہ مجھے اس نے مجھے گناہ سے نہیں روکا.
    فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    جہاں اسلام نے رشوت کو گناہ کبیرہ کہا وہاں رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا۔
    آج رشوت کا جو بازار گرم ہے اور جو طریقے رائج ہیں انکو دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
    ایک وقت تھا جب رشوت پیسے کی صورت میں یا قیمتی سامان کی صورت پیش کی جاتی تھی لیکن بدقسمتی سے پچھلی چند دہائیوں سے کچھ نئے طریقے آئے جنکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
    اپنے چھوٹے سے عہدے اور فائدے کیلئے طوائفوں کو پیش کیا جانے لگا کچھ تو اس حد کو بھی پار کر گئے اپنی ہی بیوی،بہن اور بیٹی تک کو اس گھناؤنے کام کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔
    اندازہ لگائیں کہ معاشرہ کس قدر گر گیا اور سوچیں کہ اسلام نے آخر یہ کیوں منع کیا تھا اور کیوں اس پہ سخت وعیدیں آئیں کیوں رشوت لینے اور دینے والے کو جہنمی قرار دیا۔
    رشوت سے نا صرف کمزور طبقے،مظلوم اور بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچا بلکہ اس نے تو غیرت اور شرم و حیا کو بھی بیچ بازار فروخت کر دیا۔
    رشوت نے ہماری انسانیت کو ہمارے وقار کو ہماری عزت و آبرو کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
    ہماری اسلامی تعلیمات کو تقریبا دفن کر دیا۔
    ہمارے معاشرے ہمارے نظام کو تہس نہس کر دیا۔
    ہمارے سکول کے چوکیدار سے لیکر بائیس گریڈ تک کا افسر رشوت دے کر بھرتی ہونے لگا۔
    جہاں ہمارے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں ہوا کرتے تھے اسلامی قوانین کے مطابق ہوا کرتے تھے وہ اب رشوت کی بہتی گنگا کی نظر ہونے لگے۔
    ہمارا نظام انصاف ہماری خواہشات کے تابع ہو گیا ہمارا نظام عدل پیسے کی ریل پیل کی نظر ہو گیا۔
    ہمارا مظلوم ظالم کے سامنے بے بس ہو کر خودکشیاں کرنے لگا کیونکہ اس کو عدالتیں انصاف دینے میں ناکام ہو گئیں۔
    ہمارا معاشرہ کے پورا نظام رشوت کے زہر نے زہریلہ کر دیا۔
    قاتل رشوت دے کر آزاد ہو گیا مقتول کے ورثا عدالتوں کے چکر لگا لگا کر انصاف سے مایوس ہو کر بے بس ہو گئے۔
    مظلوم مزید کمزور ہوا ظالم رشوت دے کر مزید طاقتور ہو گیا۔
    مظلوم ظالم کی فریاد عدالتوں میں لے جانے سے ڈرنے لگا۔
    گواہ رشوت لیکر سچی گواہی سے مکر گیا۔
    نوکریاں قابلیت کی جگہ رشوت کے ساتھ تلنے لگیں۔
    غریب آدمی محبت کر کے آگے آنے کی کوشش کرتا رہا اور رشوت کی شاٹ کٹ نے کئی نااہل لوگوں کو آگے لا کر کھڑا کر دیا۔
    نظام تعلیم کو رشوت نے متاثر کیا الغرض ہمارے معاشرے کے ہر کام پہ رشوت کا زنگ چڑھ گیا آج ہر کوئی اسی شاٹ کٹ کو استعمال کرتا ہے بجلی کا میٹر لگانا یا اپنا ہی پیسہ نکلوانا ہے بجلی کا بل جمع کروانا ہے یا اس کو ٹھیک کروانا ہے رشوت تو دینی پڑے گی۔
    یہاں تک کہ کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری کسی بھی دفتر میں جائیں رشوت خور ملے گا۔
    لوگ رشوت دیں گے۔
    آخر کب تک اور کیوں؟
    ہمیں اس نظام کو ختم کرنا ہے اش نظام کے کوڑھ مرض سے اپنے معاشرے کو اپنی نسل کو بچانا ہے۔
    اس نظام کے خاتمے کیلئے ہمیں مل کر کوشش کرنی ہے۔
    ہم نے اپنے اوپر لازم و ملزوم کرنا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے رشوت نہیں دینی کسی کے حق پہ ڈاکہ نہیں ڈالنا۔
    ہم نے ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں یہ زہر پھیلا رہے ہیں۔
    رشوت سے پاک پاکستان۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد کو اللہ نے ہر لحاظ سے مضبوطی عطأ کی ہے چاہے وہ ذہنی ہو یا جسمانی لیکن بعض اوقات یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ آخر کو مرد بھی ایک انسان ہے دل رکھتا ہے خواب دیکھتا ہے اور خواب پورے نا ہونے پہ درد اور تکلیف سہنے کے مرحلے سے گزرتا ہے لیکن مرد کو رونا منع ہے آہ و بکا کرنا منع ہے دکھ اور تکلیف کا اظہار کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ مرد ہے اور کٸ دفعہ یہ بات سننے کو ملتی کہ مرد بن مرد , مرد روتے نہیں 😊

    مرد کے خواب اصل میں اس کے اپنے لۓ ہوتے ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور ان کے خواب پورے کرنے اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہی ذندگی گزر جاتی ہے
    چھوٹے ہوتے سے اس پریشر میں بڑا ہوتا کہ والدین کی خواہش کے مطابق ڈاکٹر یا انجینٸر بننا ہے اور خوب پیسا کمانا ہے پھر شادی کے لۓ ماں باپ کی خواہش اور خوشی سب سے پہلے سوچنی ہے بہنوں کی شادیاں کرنی ہیں

    شادی کے بعد ذمہ داریوں کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے جب بیوی اور پھر بچوں کی خوشی کی خاطر روزی روٹی کی تگ و دو کرتا ہے اور جب کبھی قدرت کی طرف سے تنگی آجاۓ تو بہت سی باتیں سنتا ہے

    بیوی اور اپنے ماں باپ بہن بھاٸی کے درمیان ایک بیلنس رکھنا بھی ایک دشوار مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر دونوں طرف سے طرفداری کے الزام لگتے ہیں
    آندھی طوفان دھوپ بارش گرمی سردی یہ سب خود پہ سہتا ہے اور اپنے خاندان کی خواہشیں اور خوشیاں پوری کرتا ہے

    ان سب کے باوجود مرد کو ہمیشہ ظالم کے طور پہ پورٹریٹ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی پتھر سمجھ لیا جاتا ہے جسے کوٸی تکلیف یا درد نہیں ہوتا
    مجھے یقین ہے کہ اکیلے میں عورت سے ذیادہ مرد روتے ہیں کیونکہ وہ کسی کے سامنے رو نہیں سکتے آخر مرد ہے نا

    یہ سب لکھتے ہوۓ ایک ہی مرد میرے ذہن میں ہے جو میرے آٸیڈل ہیں اور وہ میرے والد صاحب ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کی خوشیوں کے لۓ نا دن دیکھا نا رات بس اپنا آپ مار کے ہمیں دنیا جہان کی سہولتیں دیں جو انہیں نہیں ملی تھی

    عورت اللہ کا ایک تحفہ تو مرد اللہ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی مٹی میں خاندان کی محبت اور ذمہ داریوں کا احساس خوب اچھے سے ملایا گیا ہے

    بیٹا , بھاٸی , باپ اور شوہر , اِن سب رشتوں کو سوچتے ہی اَن گِنت ذمہ داریوں کا سلسلہ ذہن میں آتا ہے جو کہ ذندگی کے ساتھ ہی ختم ہوتا ہے

    @ch_danishh

  • رشتوں کی قدر  تحریر: محمداحمد

    رشتوں کی قدر تحریر: محمداحمد

    رشتے جزبات اور احساسات کے ہوتے ہیں اگر ہم سب رشتوں کی قدر کریں تو کوئی بھائی ، بہن ، والدین عزیز و اقارب دکھی نہیں ہوگا ہر جگہ کہیں جائیداد کا مسئلہ ہے تو کہیں لوگ ایک دوسرے کا حق کھا رہے ہیں بہنوں کے حقوق پر سانپ سونگھ جاتا ہے کہیں اولاد نہیں ہے تو کہیں لوگوں کے تعنوں سے گھر والے آپس میں اختلافات کر کے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اولاد اللہ پاک کی دین ہے جن کی اولاد ہے وہ نیک نہیں ہے آج کل کے دور میں ماں باپ بچے کو اگر موٹر سائیکل لے کے دے دیتے ہیں وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ بچہ اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے ماں باپ یا گھر کے بڑے کا فرض ہے اس کی دیکھ بھال کرے اس کو نصیحت کرے جہاں بچہ غلط کر رہا ہے اس کو ٹھیک کرے تاکہ رشتوں میں قدر بھی رہے اور اچھی صحبت میں بھی رہے

    آج کل کے دور میں اتنی تیزی آگئی ہے کہ ہر انسان کے لئے رشتے کی قدر ایسے ہی ہے جیسے سیڑھی پر پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں جب کو اس سیڑھی کا کوئی استعمال نہیں کرتا تو اس کو کچرہ سمجھ کر کباڑ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم ہے ہر کوئی مفادات کی خاطر تعلق رکھتا ہے ۔ تعلق کو کبھی مفادات کی خاطر نہیں رکھنا چاہیے عزت اللہ پاک نے دینی ہے

    معاشرے میں کچھ لوگوں میں اپنی طرف کھینچ لانے کی طاقت ہوتی ہے مگر اپنا بنا کے رکھنے کی قوت نہیں ہوتی ایسے ہی کچھ رشتے بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر ان کا کوئی نام نہیں ہوتا ان پر ہمارا حق خود بخود اس طرح کا ہو جاتا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں اپنے ساتھ چاہئے ہوتے ہیں بغیر کسی لالچ ، کسی غرض کے ، بس ان کا ہماری زندگی میں ہونا ہی ایک سکون ایک تسلی کا باعث ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا مرد شرم محسوس کرتا تھا کہ بیوی کام کرے اُسے اپنے آپ پہ فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اپنے بچوں کے اخراجات اور گھر کے تمام اخراجات اٹھاتا تھا اب وقت کے ساتھ ساتھ ماحول بدل گیا ہے لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے معاشرے میں مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے بیٹیوں کو کام کرنے کی طرف راغب کردیا ہے بعض لوگوں کو مجبوری کی وجہ سے کام کرواتے ہیں اور بعض لوگ شوق کی وجہ سے ۔ وہی بیٹی سے بیٹا بن کر کام کرنے لگ جاتی ہے اور مرد گھر کے باہر اس کو پروٹیکشن دیتا ہے اب معاشرے میں گھر سے باہر کام کرنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جاتا ہے اس طرح لڑکیوں کا آگے بڑھنے سے نقصانات یہ ہوا کہ جو لڑکیاں نوکری کرتی ہیں ان کیلئے رشتے عام ہوگے ہیں اور جو لڑکیاں کام نہیں کرتی وہ گھر میں بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں جس گھر میں عورتیں سارا دن باہر کے کام کرتی ہیں وہی عورتیں گھر میں آکر کام کرتی ہے تو گھروں میں جھگڑے عام ہوگے ہیں اس سب کا اثر یہ ہوا کہ پہلے مرد کماتا تھا اُس کا انحصار گھر میں ہوتا تھا اب اگر عورت کماتی ہے تو وہ انحصار کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے طلاق کی ریشو بڑھ گئی ہے

    مُخلص رِشتوں کی قدر کریں کیونکہ جہاں رُوح کے رشتے قائم ھوں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ھوتے۔ اور رہ گئ بات آپ کی تو اچھے لوگوں کو کھو کر اپ نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا یہ وقت آپ کو بتاۓ گا

    @JingoAlpha

  • حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔  تحریر: طیبہ

    حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔ تحریر: طیبہ

    حسد عربی ذبان کا لفظ ہے
    جسکے معنی ہیں جلن، کینہ پروری ،بدخواہی کے ہیں۔ اگر اس کے مفہوم کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی کی کامیابی اور خدادا صلاحیتوں کو برداشت نا کرنے کا نام ہے۔ اور دل میں یہ خیال آنا کے اس کو ہی یہ سب کچھ کیوں مل رہا ہے کیا مجھ میں ایسی کوئی کمی ہے جیسا کے کسی کی شہرت،دولت ، علم، کامیابی کو دیکھ کر جلنا کہ یہ سب میرے پاس کیوں نہیں ہے۔اصل میں ایمان کی کمزوری ہی انسان کو حسد کی طرف لے کر جاتی ہے دنیاوی چیزوں کی ہوس اور لالچ انسان کو تباہ کر دیتی ہے ۔اللہ تعالی کی دی ہوئی صلاحیتوں سے جلن کرنا بے حد بیوقوفی کی علامت ہے۔ اس طرح کے متعد سوالات جہنم لیتے ہیں جس سے دل میں بدخوی پیدا ہو جاتی ہے اور انسان حسد کرنے لگ جاتا ہے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ۔اج کل معاشرے میں حسد جیسی برائی عام ہو چکی ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا رحجان پیدا ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہتان اور الزام تراشی بھی بڑھ رہی ہے ۔زاتی زندگیوں کو نشانہ بنا یا جاتا ہے کریکٹر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس طرح کے رحجان سے معاشرے میں انتہا کی جہالت پھیل چکی ہے۔ ایک دوسرے سے سبقت لیے جانےمیں یہ بھول چکے ہیں کہ اخلاقی رویہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے ۔اسی لیے اسلام میں بھی اس پہ ذور دیا گیا ہے کہ حسد سے بچیں عقل کو کھا جاتا ہے دوسروں کا نقصان کرتے کرتے اپنا نقصان ہو جاتا ہے۔یہ بھول جاتاہے کہ عزت وذلت اور ترقی و تنزل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ۔
    اللہ تعالیٰ نے بہت صاف اور واضح طورپر ارشاد فرمایاہے
    کہو : اے اللہ! ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔(اٰل عمران
    )3:26)
    اللہ تعالی ہی کی زات ہے جو انسان کو صلاحیتوں سے نوازتی ہے ۔جس کی قدرت کیے بغیر ایک پتا تک نہیں ہل سکتا ہے ۔زوال اور عروج انسان کی زندگیوں سے جڑے ہیں۔ کبھی نعمتیں چھن بھی جاتی ہے اور کبھی انسان کے گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ کچھ مل جاتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے ۔حسد اخلاقی برائیوں کی ایک قسم ہے جس سے انسان کی شخصیت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔حسد کرنا ذہنی پستی کی علا مت ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک بہت مشہور حدیث ہے کہ ایک بار غریب و مفلس مہاجرین کی ایک جماعت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ عرض کی: یارسول اللہ! مال دارو خوش حال لوگ مرتبے میں ہم سے آگے بڑھتے جارہے ہیں۔ وہ لوگ ہماری ہی طرح نمازیں پڑھتے ہیں، ہماری ہی طرح روزے رکھتے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ چوں کہ وہ ارباب ثروت ہیں، اس لیے وہ حج بھی کرلیتے ہیں، عمرہ بھی کرلیتے ہیں اور جب جہادکا وقت آتاہے تو وہ مال و دولت سے بھرپور مدد کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر غریبوں،مفلسوں اور حاجت مندوں کی بھی امداد کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ ہم ان پر سبقت نہیں حاصل کرسکتے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی اْس جماعت کی بات سنی اور ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتادوں، جس سے تم بھی ان سب کے برابر ہوجاؤ، تم اپنے پیچھے رہنے والوں سے بہت آگے بڑھ جاؤ، اور تمھاری برابری اْن لوگوں کے سوا کوئی نہ کرسکے جو وہی عمل کریں، جو میں تمھیں بتانا چاہتاہوں؟ سب نے خوشی خوشی بہ یک زبان کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولؐ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوق وطلب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد 33، 33 مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ اور 34مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (بخاری، مسلم، بیہقی، کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقول بعد السلام، حدیث: 348)
    حسد سے بچنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اخلاقی رویوں کو درست کر نا ہے برداشت پیدا کرنی ہے ۔دوسروں کی کامیابی اور خوشیوں پہ خوش ہونا ہے ان کی خوشی میں شامل ہونا چاہیے۔جس سے انسان کے اندر مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ انسان خود بھی خوش رہتا ہے مایوسی سے بچ سکتا ہے۔اللہ تعالی پہ کامل اور بھروسے سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم محنت اور لگن سے جو چاہتے ہیں حاصل کر سکتے ہیں کوئی انسان بھی کسی سے کم نہیں ہے اللہ تعالی نے سب کو ایک جیسا دماغ دیا ہوا ہے اس کا صحیح اور درست استمال کیا جائے تو ہم تو وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتےہیں ۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    تم سے پچھلی امتوں کی بیماریوں میں سے بغض و حسد کی بیماری تمھارے اندر سرایت کرگئی ہے۔ کیا میں تمھیں کوئی ایسی چیز نہ بتاؤں، جو تمھارے اندر محبت پیداکردے؟ وہ یہ ہے کہ تم باہم سلام کو عام کرو۔

    @JeeTaiba

  • نامحرم سے دوستی۔ تحریر:  نصرت پروین

    نامحرم سے دوستی۔ تحریر: نصرت پروین

    ایک نامحرم کبھی دوست نہیں ہوتا گڑیا
    وہ قبر کا سانپ ہوتا ہے یا جہنم کا انگارہ
    گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک دل دہلا دینے والا سبق آموز واقعہ پیش آیا جس نے ہر سننے والے کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ ظاہر جعفر نامی ایک شخص اپنی نامحرم دوست "نور مقدم” کو اپنے گھر قید کر لیتا ہے۔ وہ بھاگنے کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اسے بہیمانہ طور پہ قتل کر دیتا ہے اسکا سر تن سے جدا کر دیتا ہے۔ اسطرح کے واقعات آئے روز پُر تشددقتل یا خودکشی وغیرہ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور مجرم اکثر متمول گھرانوں سے وابستگی کے باعث کیفرِ کردار نہیں پہنچ پاتے۔ اگر ایسے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی گئی تو جرائم کی روک تھام نہ ہو پائےگی۔ یہ واقعہ جہاں معاشرے کے تمام والدین کے لئے ایک نصیحت آموز درس ہے وہاں ایک بیٹی کو بھی ضرور عبرت حاصل کرنی چائیے تاکہ وہ ایسے لرزہ خیز نتائج کی زینت نہ بن سکے۔
    ‏دوستی ایک بہت پیارا انمول رشتہ ہے لیکن نا محرم سے دوستی نفس، ملمع کی ہوئی باتوں اور خواہشات کا دھوکہ ہے۔ اور قطعا حرام فعل ہے ۔ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان دوستی نام کا کوئی رشتہ نہیں۔نامحرم سے دُوستی شیطان سے دوستی کے مترادف ہے اور شیطان سے دوستی انسان کو جنت سے دور اور جہنم سے قریب کرتی ہے۔

    الله رب العزت نے اپنی کتاب میں ازواجِ مطہرات کو مخاطب کر کے قیامت تک آنے والی تمام خواتین کو تعلیم دی ہے کہ:

    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
    (سورہ الأحزاب: 32)
    الله تعالیٰ نے عورتوں کو تاکید کی ہے کہ غیر محرم سے کلام کرتے ہوئے لہجہ نرم نہ رکھیں۔ کیونکہ جب عورت نرمی یا لچک دکھاتی ہے تو یہ بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ غیر محرم کبھی آپکی حفاظت نہیں کر سکتا وہ کبھی آپکا مخلص نہیں ہو سکتا۔ غیر محرم غیر محرم ہی ہے چاہے معاملہ دینداری کا ہو یا دنیا داری کا۔
    علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "نا محرم مردوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے؛ زمانہ جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی!”
    [ روح المعاني : ١٨٧/١١ ]
    الله رب العزت نے سورہ نساء میں مومن عورتوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی کہ وہ چھپے دوست نہیں بناتی۔ تو چھپی دوستی سے مراد نامحرم کی دوستی ہے۔ آپ غور کریں جب الله پاک آپکو اسطرح غیر محرم کی دوستی سے منع کررہا ہے تو اس میں فائدہ ہی ہے نہ۔ غیر محرم اگر اتنا مخلص ہوتا تو میرا الله کبھی اس سے پردے کا حکم نہ دیتا اور عورت کو اتنے سخت لہجے کی تاکید نہ کرتا۔ غیر محرم جتنا بھی دیندار یا اعلی اخلاق ہو اسکے لئے دل کے دروازے کھولنا ذلت اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔ محبت نکاح سے پہلے چاہے زم زم سے دھلی ہو یا قرآنی آیت سے دم کی گئی ہو گمراہی ہے، فریب ہے، دھوکہ ہے، حرام ہے۔
    ایک لڑکی کے لئے معاشرے میں بدترین پہچان کسی نامحرم کی دوست (گرل فرینڈ) ہونا ہے۔ غیر محرم سے دوستی ایک ایسا فعل ہے۔ جسکا ارتکاب کرنے والا اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات انسان کو اس دنیا میں بھی زلیل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی جب تمام مخفی اعمال سامنے لائے جائیں گے تو ایسی رسوائی ہوگی کہ کسی سے نظریں نہ ملا سکیں گے۔ پھر تو پہاڑوں کے برابر کی گئی نیکیاں بھی ان پوشیدہ گناہوں کے سبب راکھ بن جائیں گی۔
    یہ بات بہت حیران کن ہے کہ لال بیگ اور چھپکلی سے ڈرنے والی حساس لڑکیاں آخر ایک غیر محرم مرد سے کیوں اکیلے ملنے سے نہیں ڈرتی؟
    حالانکہ چھپکلی اور لال بیگ نقصان نہیں پہنچاتے لیکن ایک غیر محرم آپکی روح، آپکےجسم، آپکی پاکدامنی، آپکی عزت، آپکا حسب نسب، آپکے والدین کا آپ پر اعتبار اور حتی کہ آپکی آخرت بھی برباد کر سکتا ہے۔
    یاد رکھئے گا کہ دوستی کا رشتہ گناہ نہیں ہے لیکن الله کی حدود کو پھلانگ کر غیر محرم سے دوستی گناہ ہے۔
    تو اس گناہ سے بچ جائیے۔
    جزاکم الله خیرا کثیرا
    @Nusrat_186

  • اسلامی احکامات اور لبرلز   تحریر : تقویٰ نور

    اسلامی احکامات اور لبرلز تحریر : تقویٰ نور

    دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے. جو زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے.انسانی زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل قرآن پاک میں موجود نہ ہو. قرآن پاک میں ہر چیز کے متعلق احکامات موجود ہیں. ہر نیک عمل کا اجر اور ہر گناہ کی سزا بتا دی گئی ہے اور اہل ایمان کو بار بار ان احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی تاکید کی گئی ہے.

    دنیا کی تاریخ میں پاکستان واحد ملک ہے جو کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا. پاکستان کے بانی رہنماؤں نے اس کے قیام کے دوران ہمیشہ پاکستان کو اسلامی احکامات کے مطابق چلانے کے عزم کا اظہار کیا. لیکن آج کے پاکستان میں جب بھی اسلامی احکامات یا سزاؤں کی بات کی جائے تو ایک مخصوص طبقہ جو کہ اپنے آپ کو لبرلز کہتے ہیں اس کے خلاف کمپین شروع کر دیتے ہیں.

    مثال کے طور پر اگر خواتین کے پردے کی بات کی جائے تو قرآن پاک میں متعدد مقامات پر عورت کو اپنی زینت چھپانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ دنیا کی غلیظ نظروں سے خود کو محفوظ رکھ سکے. لیکن لبرلز اسے عورت کے حقوق کا استحصال کہتے ہیں حالانکہ جتنی آزادی اسلام نے عورت کو دی ہے اتنی دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دی. افسوس صد افسوس کہ مغرب کی اندھی تقلید کرتے اور خود کو لبرلز ثابت کرتے یہ لوگ نہ صرف پردے کی مخالفت کرتے ہیں بلکہ اپنی حرکات سے اللہ کے اس حکم کا مذاق بھی اڑاتے ہیں.

    اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں زنا کے بڑھتے ہوئے واقعات قابل تشویش ہیں.اگر مرد و عورت اسلامی احکامات پر عمل کریں. اول تو یہ واقعات ہوں ہی نا اور دوسرا اگر مجرموں کو اللہ کی نافذ کردہ سزا دی جائے اور اسے عبرت کا نشان بنایا جائے تو ایسے واقعات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے.. لیکن یہاں پھر وہی لبرلز، غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی تنظیمیں اور این جی اوز شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور اسلامی سزا کو( معاذ اللہ) ظلم سے تعبیر کرتے ہیں.

    مختصر یہ کہ خود کو ماڈرن اور لبرلز ثابت کرنے کے چکر میں یہ لوگ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی برباد کر رہے ہیں کیونکہ نجات تو اسلامی احکامات پر عمل کرنے میں ہی ہے.
    @TaqwaNoorPTI

  • ‏والدین ہمارا قیمتی اثاثہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏والدین ہمارا قیمتی اثاثہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    جب ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا ،جنہوں نے ہمیں دنیا کے رسم و رواج سکھایا ، جو ہمارے لئے مشکلات کے وقت ہمارے پاس موجود تھے ، جو اچھے وقت میں ہمارے ساتھ ہنستے تھے ، جنہوں نے ہمارے لیے اپنی تمام تر خوشیاں اور خواہشات کو قربان کیا ، ہم میں سے بیشتر اپنے والدین کے بارے میں فورا ہی سوچتے ہیں۔ اور یہ سچ ہے، ہمارے والدین وہی ہیں جو ہماری زندگی میں تقریبا ہر چیز کے ساتھ ہمارے ساتھ رہے ہیں۔

    ہمارے والدین ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہمارے لیے پلاننگ کر لیتے ہیں اور کچھ چیزوں کی فہرست بھی بنالیتے ہیں ، ہماری دیکھ بھال کرتے ہیں ، ہمارے تعلیم کے اخراجات ، ہماری چھوٹی بڑی خواہشات پوری کرنا ، اور مالی اور تعلیمی لحاظ سے ہمارے لئے بہترین سہولتيں مہیا کرنا، ان کے بغیر ، ہم میں سے بیشتر ان جگہوں پر نہیں ہوتے جہاں ہم آج ہیں وہ اپنے والدین کی وجہ مگر بدقسمتی سے ، بہت سے لوگ اپنے والدین کے ساتھ اس طرح سلوک نہیں کرتے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔

    کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ نہایت ہی معمولی موضوعات پر لڑتے رہتے ہیں۔ کچھ بچے اپنے والدین کو نظرانداز کرتے ہیں ، بجائے اپنے دوستوں کے ساتھ یا آن لائن وقت گزارتے ہیں۔. جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں ، ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے والدین کو ہماری ضرورت ہیں ، اور جب ہم اپنے
    پریٹکل زندگی شروع کرتے ہیں تو انہیں سہارا دینے کے بجاٸے اولڈ ایج ہوم میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں
    اسلام میں بھی اس کی سختی سے ممانعت ہے

    اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ والدین کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ سلوک کریں ، چاہے ہم جس صورتحال میں ہوں۔ والدین دنیا کی سب سے عظیم نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی، اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی ،قران مجید میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے

    اللہ تعالیٰﷻ کا ارشاد ہے۔

    اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا ۔بنی اسرائیل:23

    شریعت ہمیں واضح طور پر اپنے والدین کا احترام کرنا حکم دیتی ہے۔ ہمیں والدین کے ساتھ احسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ،سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ہمارے والدین کی اہمیت اور مختلف آیات کو یاد کرنا چاہئے جو ہمیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی یاد دلاتے ہیں۔. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سارے حدیث بھی ہیں جو ہمیں والدین کے ساتھ احسن سلوک کا درس دیتی ہے

    قارئين!ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں کرنے کی عادت بنانی چاہئے،ہمارے والدین نے ہمارے لیے کتنی تکالیف برداشت کیں ، ہمارے والدین سے روزانہ کی بنیاد پر بات کرنی چاہیے، ان کا حال احوال پوچھیں انہیں کیسی چیز کی ضرورت تو وہ پوری کیں جاٸیں ، ان کی دیکھ بھال کرنی چاہیے، انکی ہر چھوٹی اور بڑی خواہشات کو پورا کرنا چاہیے انکی عزت کرنی چاہیے ،آخر میں بس اتنا کہوں گا اپنے والدین کی قدر کریں اور انکی خدمت کرکے دنیا اور آخرت میں کامیابیاں حاصل کریں!

    اللہ پاک ہمارے والدین کا سایہ ہم پر قاٸم و داٸم رکھے اور انکی خدمت کرنے کی توفيق عطا فرماٸے ۔آمین!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا دور آیا ہے تب سے زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے خواتین بچے چھوٹی بچیاں غرض کے ان درندوں سے تدفین ہونے والی لاشیں بھی نہیں محفوظ، پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ہمیشہ سے اس معاملے پر متحرک نظر آتے ہیں ان ایشوز پر بات کرتے ہیں آواز بلند کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں پاکستان میں جو اس معاملے پر اپنی سیاست چمکاتے یا اپنا دھندہ رکتے نہیں دیکھ سکتے ہیں ان میں اکثریت ہے ہمارے دیسی لبرلز کی جو اپنے آپ کو کہتے تو لبرل ہیں معاشرے کو دکھانے کے لئے ایک ڈھونگ بھی رچاتے ہیں مگر حقیقت میں یہ لوگ زیادتی کرنے والوں کے ساتھی ہیں۔

    کیسے ؟؟
    چلئیے میں بتاتا ہوں، آپ لوگوں کو زینب زیادتی کیس یاد ہوگا اس کیس کے بعد ملک میں ایک رائے عامہ تشکل پا گئی تھی کے زیادتی کرنے والے کو سر عام سزا دی جائے لیکن یہ لبرل کا کارنامہ ہے اور پی پی اور ن لیگ میں چھپے ان عناصر کا کارنامہ ہے کہ یہ کام نہ ہوسکا ان لوگوں نے اس کی مخالفت صرف اس لئے کی کیونکہ یہ لوگ اپنے آپ کو بیرون ممالک کے سامنے لبرلز بنا کر پیش کرتے ہیں خاص کر پیپلزپارٹی، اس کے بعد فیصل واوڈا ایک بل لے کر آئے جس میں زیادتی کرنے والے کے لئے عبرتناک سزائیں شامل تھیں جس کی مخالفت ان عناصر نے کی اور کہا گیا کے یہ سزائیں غیر انسانی سزائیں ہیں تو سوال یہ ہے کے وہ لوگ جو بچوں سے زیادتی کے بعد ان کا قتل کرتے ہیں کیا وہ انسان کہلانے کے لائق ہیں؟؟
    یہ لبرلز ان کا ساتھ کیوں دیتے ہیں ؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے؟؟ نہیں ؟

    اس کی وجہ میں بتاتا ہوں زیادتی کے واقعات کا تعلق معاشرتی بے حیائی سے ہے جسے یہ لبرلز آذادی کا نام دیتے ہیں فحاشی اس کی بڑی وجہ ہے اور یہ لبرلز اور ان کا کاروبار اس سے منسلک ہے اس لئے یہ اس بات کو سننا ہی نہیں چاہتے ابھی حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے فحاشی اور عریانی کے خلاف ایک جملہ کہا تھا جس پر لبرلز میں صف ماتم بچھ گیا تھا اب کچھ لوگوں نے اس میں اس بات پر بھی اعتراض کیا کے چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں انہوں نے کونس فحش لباس پہنا ہوتا ہے ؟؟؟ وزیر اعظم اس بات کا جواب دیں اور اس بات پر کافی مذاق بنایا گیا اس کا جواب یہ ہے ہر زیادتی کا واقعہ فحاشی سے نہیں جڑا ہوتا لیکن اگر آپ اس کی جڑ تک جائیں تو بات فحاشی پر آ کر ہی رکتی ہے، کوئی شخص اگر مسلسل غلط چیزیں دیکھ رہا ہے تو اس میں جنسی خواہشات بڑھ جاتی ہیں پھر وہ انہیں پورا کرنے کے لئے ہر حد سے گزر جاتا ہے وزیر اعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کے ایسا کرنے والا شخص بے قصور ہے بلکے وزیراعظم نے تو ان کے لئے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا جسے یہی طبقہ غیرانسانی قرار دیتا ہے۔

    ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں ایک لڑکی کا قتل ہوا ہے جو اپنے دوست کے گھر بغیر شادی نکاح کے اس کے ساتھ رہ رہی تھی،لبرل اسے آذادی کا نام دیتے ہیں کے اس کی زندگی اس کی مرضی اس لڑکی کو اس کے دوست نے قتل کر دیا آپ سوچ سکتے ہیں اگر اس پر وزیراعظم یا کوئی شخص اس بات کا مطالبہ کر دے کے یہ ہمارے معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے ایسے رشتے جنہیں رشتہ بھی نہیں کہا جا سکتا صرف مغربی معاشرے میں ہوتے ہیں اور اس سے اس معاشرے کی جو تباہی ہوئی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہیں امریکہ اور برطانیہ زیادتی اور آبارشن میں سہرفہرست ممالک میں آتے ہیں وہ الگ بات ہے ان کا میڈیا اس بات کو چھپاتا ہے۔ ایسی بات کرنے والے کا یہ لبرلز کیا حال کریں گے ؟؟؟
    کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک سزا بھی ان کی مرضی کی ہو۔۔۔ تعلقات بھی۔۔۔بیانات بھی۔۔۔قانون بھی اور سوچ بھی ان کی مرضی کی ہو یہ کہتے تو ہیں کے ہم آذادی رائے کا پرچار کرتے ہیں مگر ان کے سامنے آپ ان سے اختلاف کر کے دیکھیں ان سے بڑا انتہا پسند آپ کو نہیں ملے گا۔

    زیادتی کے خلاف سخت اقدامات کا مطلب ان کے کاروبار کی بندش ہے اس لئے یہ لوگ جانتے بوجھتے زیادتی کرنے والوں کی مدد کرنے والے بنے ہوئے ہیں، سوشل میڈیا صارفین ان کے خلاف متحد ہوں اور ملک پاکستان میں زیادتی کرنے والوں کے لئے عبرتناک اور جلد سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ ہمارا ملک ہے اور اس میں ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کے لئے قانون سازی کرانے میں ایک پریشر گروپ کا کردار ادا کرناہے۔ اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو. آمین

    @Nomysahir

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود  تحریر: ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود تحریر: ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگر انسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بے عیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگر آج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے
    ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔
     اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں
    بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    Twitter: @zulfiqar7034