Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    ہرانسان کو زندگی گزارنے اور اپنی روزمرہ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے مستقل ذرائع آمدن کی ضرورت ہوتی ہے. ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کوئی مستقل ذریعہ آمدن ہو جس سے وہ اپنی اور اپنے خاندان کا پیٹ پال سکے اور سکون سے زندگی گزار سکے. آج کل کے دور میں جب قدرتی ذرائع کم اور انسان کی جگہ مشینری لیتی جا رہی ہے تو اور بھی مستقل ذریعہ آمدن کی فکر بڑھتی جا رہی ہے. آج کل دو ہی بنیادی ذرائع آمدن ہر جگہ زیر بحث ہوتے ہیں اور وہ ہیں نوکری اور کاروبار. ہر کوئی چاہتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک حاصل کرے اور اس کا معاشی مستقبل محفوظ ہو. یہ دونوں ذرائع بالکل الگ ہیں اور ان کا الگ قابلیت کا معیار، کام اور آمدن بھی مختلف ہیں.

    پہلے ہم نوکری کی بات کرتے ہیں. نوکری کی دو قسمیں ہیں سرکاری اور غیر سرکاری. ہمارے معاشرے میں سرکاری نوکری کو بہت ہی محفوظ معاشی مستقبل کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس کی بنیادی وجوہات مستقلی، سروس میں سرکاری مراعات، بچت اور سب سے اہم تا زندگی ملنے والی پنشن ہے. عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر آپ سرکاری نوکری سے وابستہ ہیں تو آپ کو کوئی فکر نہیں بس اب آپ تاحیات سرکار کے ‘ ذمہ’ ہیں. نوکری کے لیے اہل ہونے کے لیے سب سے بنیادی چیز جو چاہیے وہ ہے تعلیم. اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو آپ اپنی ڈگری کی کیٹگری اور شعبہ کے لحاظ سے ایک سرکاری نوکری حاصل کر سکتے. ریاست جو آپ کے کے ذمہ کام لگائے گی وہ آپ خوش اسلوبی سے سر انجام دیں گے اور آپ کو متعلقہ شعبہ کے کے قوانین کے مطابق سرکاری مراعات وغیرہ اور ماہانہ آمدن دی جائیں گی. اسلام جمہوریہ پاکستان کے قوانین کے مطابق ریٹائرمنٹ ہونے کی عمر ساٹھ سال ہے. ساٹھ سال کے بعد حکومت آپ کو ایک حساب کے مطابق آپ کو یَک مُشت رقم بھی دے گی اور بعد میں تاحیات پینشن بھی دے گی، یہی خصوصیات سرکاری نوکری کو سب سے پرکشش بناتی ہیں. لیکن اس دور میں جب سرکاری نوکریوں کی کمی اور حکومت خود نوجوانوں کو کاروبار کی طرف راغب کر رہی ہے. حکومت چاہتی ہے کہ نوجوان کاروبار کریں، با اختیار بنیں، دوسروں کے لیےبھی روزگار کے مواقع پیدا کریں اور ملک کا بھی فائدہ ہو.

    اب بات کرتے ہیں کاروبار کی، کاروبار ذاتی ہوتا ہے اور کاروبار کرنے کے لئے جس چیز کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے وہ ہےسرمایہ. آپ سرمایہ کاری کریں گے اور پھر کاروبار کی نوعیت کے حساب سے آپ کی آمدنی ہوگی. کاروبار میں یہ ہے کہ آپ کو رِسک لینا پڑتا ہے، جب آپ سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں، پیسہ لگا رہے ہوتے ہیں تو قدرتی اور ملکی حالات بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں جس سے آپ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ اب کرونا وائرس کی آفت میں کئی کاروبار ٹھپ ہوئے اور سرمایہ کاروں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا. لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کے جتنے بھی امیر ترین افراد ہیں آپ ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں سب کاروباری تھے آپ کو کوئی نوکری والا امیر ترین نہیں ملے گا. نوکری کا یہ فائدہ ہے کہ آپ کا رہن سہن اچھا ہوگا اور پرسکون یعنی نارمل زندگی گزاریں گے. اس کے برعکس کاروبار میں آپ کو کئی مشکلات بھی آئیں گی، نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہ ہے کہ منافع کے بھی کوئی حد نہیں. نوکری میں آپ کو مخصوص وقت اور قوانین کے اندر رہ کر کام کرنا پڑتا ہے، کاروبار میں وقت کی کوئی قید نہیں جتنا آپ کاروبار کو زیادہ وقت دیں گے اتنا زیادہ کمائیں گے. کاروبار ہو یا نوکری اپنی دلچسپی کے شعبہ میں کرنے چاہئیں تاکہ آپ کو زہنی سکون میسر ہو.

    ibrahimianPAK@

  • ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ماڈرن ازم کے دلدادہ ہوں یا مذہب کے ٹھیکیدار، دانشور ہوں یا فنکار، سیاستدان ہوں یا اساتذہ، سب کو جیسے سانپ سونگھ چکا ہے۔ ہر زبان خاموش، ہر دل کبیدہ خاطر ہے کیونکہ ہر کوئی جانتا کہ اس سارے معاشرتی بگاڑ میں کہیں نہ کہیں ان کا حصہ بھی ہے۔ ببول کا بیج بویا ہو تو پھول نہیں بلکہ کانٹے ہی اگتے۔ کانٹے بھی وہ جن کا زہر ہماری نئی نسل میں اس بری طرح سرایت کر چکا کہ اب کوئی تریاق بھی کام نہیں دے رہا۔ اخلاقیات کی پامالی کی ہر حد پار ہو چکی ہے۔ سماجی قدروں کا زوال پورے جوبن پر ہے اور کسی میں ان سرکش موجوں کے سامنے بند باندھنے کی جرات بھی نہیں ہورہی۔ ایک خوف و وحشت کی فضا ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا۔ نہ راہ چلتی بزرگ خاتون محفوظ ہے نہ گلی میں کھیلتی معصوم بچی، چھوٹا بچہ ہویا کوئی خاتون خانہ ہر کسی کی عصمت و جان کو خطرہ ہے۔ ہوس زدہ درندے ہر جگہ کھلے گھوم رہے، اذیتیں دے کر قتل کر رہے، کتوں کی طرح بھنبھوڑ رہے۔ جنون اور ہیجان کا یہ عالم کہ الامان الحفیظ۔ جو لوگ کبھی اپنے خاندانی ہونے پر فخر کرتے تھے خود کو معاشرے کا باوقار فرد گردانتے تھے ان کی ہی اولادیں اتنی سفاک کیسے ہو گئی ہیں؟

    آخر معاشرے میں تمام۔حدود و قیود کو پار کرتا جنسی ہیجان کیونکر پیدا ہو گیا ہے؟ کیا آج سے دو دہائیوں پہلے تک یہ سب کچھ تھا؟ نہیں بلکل نہیں۔ پھر اب ایسا کیا ہو گیا؟ جواب بہت سادہ اور واضح ہے- فحاشی و بے حیائی۔ مغربی معاشرے کی تقلید میں ہم نے بجائے تعلیم وہنر کو کاپی کرنے کے انکی تہذیب کو جوں کا توں کاپی کرلیا یہ جانے بغیر کہ اس کے مستقل اثرات کس قدر بھیانک ہوں گے۔
    قارئین کرام ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ اتنا جنون اتنی سفاکیت راتوں رات نہیں پیدا ہوتی۔ معاشرے میں تبدیلی کا عمل ہمیشہ آہستگی سے آتا ہے۔ قطرہ قطرہ، نامحسوس طریقے سے یہ زہر اترا نہیں اتارا گیا ہے۔ فحاشی وعریانی کا سیلاب ایک دم نہیں آیا بلکہ ہم نے پوری دلی رضامندی سے ماڈرن بننے کے چکر میں اس کو اپنے معاشرے میں رائج کیا ہے۔

    مغربی سیکولر و لبرل معاشرے سے متاثر ہمارے دانشوروں نے اپنی شاندار اسلامی تعلیمات کو دقیانوسی قرار دے کر پس پشت ڈال دیا۔ سیاستدانوں کو مغربی جمہوریت ہی معاشرے کا اصل حسن لگی۔ تو مذہبی رہنماؤں نے معاشرے کی ایلیٹ کلاس میں فٹ ہونے کیلئے مخلوط تعلیم سے لیکر مخلوط محافل تک سب کچھ جائز قرار دے دیا۔ برقع میں بھی ایسی جدیدیت آ گئی کہ پردے کا اصل مقصد ہی فوت ہوگیا۔ مرد و زن کا اختلاط عام ہوگیا خواہ سکول ہو یا آفس۔ بات یہاں تک بھی کنٹرول میں تھی لیکن سونے پر سہاگا الیکٹرانک میڈیا اور ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنز نے پوری قوم کو ناچ گانے پر لگا دیا۔ جب اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو پاکستانیوں نے موبائل پر پورن فلموں کو دیکھنے کے سب ریکارڈ توڑ دیے۔

    خدارا ابھی بھی وقت ہے۔ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں۔ اربابِ اختیار ہمت کریں ان جنسی درندوں کو سرعام پھانسیاں دیں تاکہ باقی لوگ عبرت پکڑیں اور اپنے گھروں میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ معاشرے کا بگاڑ سدھارا جاسکے۔ مغربی معاشرہ تو خود لبرل ازم اور الحادیت کے چکر میں تباہ ہو چکا۔ اگر کسی کو شک ہے تو بیشک ریپ کیسز، چائلڈ پورنو گرافی، عورتوں و بچوں پر تشدد کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ” اور بے شرمی کی باتوں کے قریب ہی نہ جاؤ وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوئی ہوں۔”(الانعام۔151)۔
    تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم حد سے تجاوز کر جاتی تو پہلے خدا اُسے مہلت دیتا کہ وہ اپنی اصلاح کرے اگر روش نہ بدلی جائے تو خدا کا غضب جوش میں آتا اور تباہی سب کا مقدّر بن جاتی۔

    @once_says

  • عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    مجھے آج بھی ایک لڑکی کا واٹس ایپ سٹیٹس اچھی طرح یاد ہے بلکہ میرے پاس اس کا سکرین شاٹ بھی پڑا ہے جو کہ اس کا آخری واٹس ایپ سٹیٹس تھا جس میں تحریر یہ تھی کہ "کہنے والوں کا کیا جاتا،سہنے والے کمال کرتے ہیں”یہ آج سے تقریباً تین سال قبل سہارا میڈیکل کالج نارووال کی ایم بی بی ایس کی طالبہ ڈاکٹر نرگس حیات خان کا خودکشی سے پہلے آخری رات کا سٹیٹس تھا۔ اس خودکشی کے وجہ کیا تھی وہ ایک الگ بحث ہے لیکن بتانا یہ تھا کہ حقیقت یہی ہے کہ ہم کسی بھی چیز پر بے جا تنقید اور اکثر اوقات حد سے زیادہ تنقید کر دیتے ہیں۔حالانکہ جو لوگ اس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں یعنی سہنے والے ہی جانتے ہیں ورنہ ہم کہنے والوں کا کیا جاتا جو منہ میں آئے کہہ دیں۔عورت مارچ در حقیقت ان خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی آواز ہے جو ظلم سہتی ہیں،جن کو ہراساں کیا جاتا ہے،جائیداد میں حق سے محروم رکھا جاتا ہے،جن پر ان کے شوہر تشدد کرتے ہیں،جن سے شادی کے لیے مرضی نہیں پوچھی جاتی،جن پر رشتے سے انکار پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے،اور وہ نور جو کل تک عورت مارچ میں قاتل کو لٹکانے کا مطالبہ کرتے کرتے پھر خود ایک ظالم قاتل سے قتل ہو جاتی ہے۔اب ذرا دیکھ لیجئے عورت مارچ کے مطالبات کیا ہیں۔اگر عورت مارچ میں جائیداد میں حق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کہہ دیا جاتا کہ جناب اسلام نے جائیداد میں عورت کو حق دیا ہے۔اسلام نے تو دیا ہے کیا آپ نے جائیداد میں حق دیا؟ پاکستان میں نوے فیصد سے زیادہ لوگ بیٹیوں کو جہیز تو دیتے ہیں جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔

    عورت مارچ میں شادی کے لیے عورت کی مرضی کی بات کی جاتی ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کیا اسلام نے خود یہ حق نہیں دیا؟ اگر اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ سے ان کی مرضی دریافت کرتے ہیں تو کیا پاکستان میں ایسا ہوتا ہے؟ پھر وہی شرح ہے کہ بہت کم والدین ہیں۔لہزا عورت مارچ میں پاکستان کی عورتوں کے مطالبات کو یہ کہہ کر نہ ٹھکرایا جائے کہ اسلام نے عورت کو حقوق دیئے ہیں،اسلام نے تو دیے ہیں آپ نے نہیں دیے۔اب آ جائیں باقی مطالبات پر، تو کیا پاکستان میں خواتین پر ہونے والے تشدد کی شرح باقی ممالک کی نسبت خطرناک حد تک نہیں بڑھ رہی؟ کیا اگر خواتین قانون سازی اور قانون پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہیں تو غلط کر رہی ہیں؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لفظ عورت مارچ کو ایک گالی کیوں بنا دیا گیا؟ یہ ہماری خواتین ہیں،اس ملک کی برابر کی شہری اور اس ملک کی آدھی آبادی۔یہ خواتین کا ایک پرامن مارچ ہے،ایک آواز ہے،محض ایک آواز۔ آپ اس آواز کو بند کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ آپ کو اس آواز سے اتنی الجھن کیوں ہے؟ عورت مارچ پوری دنیا میں ہوتے ہیں کیا آئین پاکستان میں عورتوں کو سڑک پر نکل کر پرامن اکٹھ یا ریلی نکالنے کا حق نہیں ہے؟ عورت مارچ نہ تو پاکستان کے خلاف ہے نا ہی اسلام کے خلاف ہے۔اور ہر گز نہیں ہے یہ صرف ظالم کے خلاف ہے اور حق نہ دینے والے غاصب کے خلاف۔آخری بات یہ ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عورت مارچ بے حیاء معاشرے کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے بتائیے کہ دو ہزار اکیس میں عورت مارچ کے تھیم لوگو میں جن خواتین کی تصاویر تھیں وہ حجاب پہنے ہوئے تھیں۔عورت مارچ بے حیائی کی آزادی کی بات یا مطالبہ نہیں بلکہ عورت کو اپنی مرضی کے مطابق جینے کا مطالبہ کرتا ہے کہ اگر وہ حجاب کرنا چاہے تو کوئی اسے روکے نہیں یا اگر وہ حجاب نہ کرنا چاہے تو بھی اسے روکا نہ جاے۔باقی شر پسند عناصر یا کچھ نعروں پر اعتراض کیا جا سکتا ہے جو کہ عورت مارچ میں زاتی طور پر کسی کے ہو سکتے ہیں اسے آپ عورت مارچ کا مجموعی طور پر نظریہ نہیں کہہ سکتے۔اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے ضرور کیجئے لیکن ان کے نظریات اور مطالبات کو بھی سنیے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک عظیم پاکستان ترقی کرے تو عورتوں کی کسی بھی آواز کو دبانے کی کوشش نہ کریں،تمام گروہوں،طبقوں اور خیالات کو سنیں اور سننے کا حوصلہ پیدا کریں کیونکہ عدم برداشت سے معاشرے ترقی نہیں کرتے۔

    @SS_Sulehri

  • عورت کا مقام اور ہمارا کردار . تحریر : بشارت حسین

    عورت کا مقام اور ہمارا کردار . تحریر : بشارت حسین

    اسلام نے عورت کو عظیم مقام دیا۔ اسلام سے پہلے عورت کو معاشرے میں ذلت و رسوائی کا کی علامت جانا جاتا تھا۔ بچی کی پیدائش پہ اس کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ معاشرے میں عورت کا وجود ذلت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسلام آیا تو اس نے عورت کو مقام دیا رتبہ دیا رفعت بخشی۔ اسلام آیا تو ماں کے قدموں میں جنت آ گئی۔ سارے رشتوں سے افضل درجہ ماں کو قرار دیا گیا۔ بیٹی کے وجود کو رحمت بنا دیا گیا بہن کو سہارا اور ہمت پیار و محبت کی تخلیق قرار دیا۔ عورت کو حقوق دیے وراثت کا حصہ دار بنایا۔ معاشرے کے بھلائی کی بنیادی تربیت کی درسگاہ بنایا۔ بیوی کے روپ کو شریک حیات بنا دیا باعث سکون بنایا.

    جب شریک حیات کا لفظ سامنے آتا ہے تو ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ کوئی میری زندگی میں خاص ہے جس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔
    جس کے ساتھ دکھ درد بانٹنے ہیں جسکی خوشیوں میں اپنے غم بھلا کر شریک ہونا جس کے غم کو اپنے غم سمجھ کر دور کرنے ہیں۔ جس کی حفاظت کرنی ہے جو آبرو ہے عزت ہے۔ اسلام نے عورت کے مقام اور تحفظ کیلئے قرآن کی آیات نازل فرما دیں۔ آج ہمارا معاشرہ کا طرف جا رہا ہے بیوی کے حقوق کو دیکھیں تو معاشرہ بلکل ان پڑھ اور جاہل لگتا ہے.

    عام طور پہ بیوی کو معاشرے میں ایک گھریلو کام کاج کرنے والی مشین سمجھا جاتا ہے جس کو نہ تنخواہ کی ضرورت ہے نہ پیار محبت کی بس شادی ہو گئی اور فری میں ایک ملازمہ مل گئی۔ اب وہ گھر کے سارے کام کرے گی ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھے گی بچے پیدا کرے انکو پالے گی بڑا کرے گی گھر کی رکھوالی کرے گی۔ اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پہ ڈانتنا،مارنا اور جھاڑنا یی روزمرہ کا معمول سمجھا جاتا ہے۔

    اس سوچ کا تعلق کہاں سے ہے؟
    یہ کوئی اسلامی سوچ نہیں یہ ایک جاہلانہ سوچ جو دور جاہلیت سے چلی آ رہی ہیں۔ خاوند بیوی سے پیار سے بات نہیں کرے گا اس کے پاس نہیں بیٹھے گا کسی کے سامنے اس کو ہاتھ نہیں ملائے گا اس کی غلطی ہو یا نہ ہو کسی کی شکایت پہ اس کو جھاڑنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب وہ کام ہیں جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب عزت اور شرم و حیا کے نام پہ بنائے ہوئے غیر شرعی کام ہیں ہیں۔
    بیوی کو ہاتھ نہیں ملا سکتے لیکن غیر محرم سے کوئی مضائقہ نہیں۔

    کسی سوچ ہے یہ؟
    اسلام نے شریک حیات کو بہت بڑا مقام دیا ہے۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ بیوی سے محبت اور احترام اس کا بنیادی حق ہے۔ اسلام نے یہ رشتہ آپ کیلئے حلال کیا ہے اس کو آپ کے ہر مشکل کا ساتھی بنایا ہے۔ اسکے قدموں میں آپ کے بچوں کی جنت ہے۔ اس کے ساتھ کھانا کھانا کوئی گناہ نہیں اس میں کوئی شرم و حیا کا مسئلہ نہیں اس کے ساتھ سب کے سامنے بات کرنے میں کوئی مذہب آڑے نہیں آتا۔ بیوی کو وہ مقام دیں وہ عزت دیں جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔ یہ سب جاہلانہ رسم و رواج ہیں جنکو اسلامی تعلیمات سے ختم کرنا ضروری ہے۔ اپنے شریک حیات کو ایسے رکھیں جیسے اسلام کہتا ہے ایسے نہیں جیسے اباو اجداد کہتے ہیں۔
    بدقسمتی سے آج ہم پھر اس مقام کی طرف لوٹ رہے ہیں جہاں سے اسلام نے ہمیں چلایا تھا۔ بیٹی کی پیدائش پہ گھر میں جیسے ماتم ہو جاتا ہے۔

    بیٹے کی پیدائش پہ دیگیں مٹھائی اور بیٹی کی پیدائش پہ سوگ منایا جاتا ہے بیوی کو طعنے دیے جاتے ہیں جبکہ یہی بچی جب بڑی ہوتی ہے تو سہارا بن جاتی ہے بچے چھوڑ جاتے ہیں لیکن بیٹیاں اپنی خوشیاں والدین کیلئے قربان کر دیتی ہیں۔ آج معاشرے میں بہن کے حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے وراثت سے نکال دیا جاتا ہے اگر حصہ مانگیں تو لالچی تک کے طعنے دیے جاتے ہیں۔

    یاد رکھیں انکو یہ حقوق اسلام نے دیے ہیں۔ جو مقام عورت کو اسلام نے دیا ہم کون ہوتے ہیں اس کو پس پشت ڈالنے والے ہمیں کوئی حق نہیں کہ عورت کے حقوق کو نظر انداز کریں اسلام نے مرد کو عورت کا محافظ بنایا۔ جب گھر سے باہر نکلے تو ساتھ محرم مرد کو لے کر نکلے اس کا مطلب مرد عورت کا محافظ ہے نا کہ اس کی عزت کو روندنے والا۔

    آج ہم کس مقام پہ کھڑے ہیں؟
    ہم نے عورتوں کے مقام کو بھلا دیا آج عورت مرد کے ساتھ کو اپنے لیئے خطرہ سمجھنے لگی ہمارے اندر سے انسانیت اور اسلام کی روشنی غائب ہو گئی ہمارے اندر جہالت اور درندگی نے بسیرا کر لیا۔ ہم نے عورت کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے اس طوائف بنا دیا۔ اسے معاشرے کی نظر میں گرا دیا اس سے اس کا وہ مقام چھیننے کی کوشش کی جو اس کو اسلام نے دیا جسکی تعلیمات ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیں۔ آج عورت گھر سے نکلتے ہوئے خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ گھر سے نکلتے ہی ہماری نظروں کے تیر اس کو گھائل کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے نے اس کی مجبوریوں کو دیکھ کر اس کا شرعی لباس چھین لیا آخر آج ہمارا رخ کا طرف ہے؟
    کیا ہم اس مقام کی طرف جا رہے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا یا ہم اب بھی اس کو ترقی کا ہی نام دیں گے جس میں عورت کے وجود کی عزت خاک میں مل کر رہ گئی۔

    Live_with_honor

  • گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری یعنی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا، ان سے مالی معاونت طلب کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ اور گھناؤنا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جہاں حقیقی مستحق، اپاہج اور معذور لوگوں کی مدد کا درس دیتا ہے وہیں بلا وجہ گداگری کو ایک برا معاشرتی فعل کہہ کر سخت ممانعت بھی کرتا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بلا وجہ مانگنے والے کو وعید سنائی ہے کہ وہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اس حال میں الله سے ملے گا کہ اس کے چہرے پہ گوشت کا ایک ٹکرا بھی نہ ہوگا۔
    "عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔
    (صحیح بخاری۱۴۲۹)”

    "رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس کو بیچے اور الله اس کے ذریعے اس کی آبرو بچائے رکھے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے کہ وہ دیں یا نہ دیں۔
    (مسند أحمد، رقم: ۱۷۱۱۵)”
    اسلام نے مانگنے سے منع کر کے رزقِ حلال کمانے پر ابھارا ہے اور اپنے ہاتھ سے کمانے کی فضیلت بھی بتائی ہے۔
    بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات پر عمل سے قاصر ہے۔ گدا گری جتنی خطرناک بیماری ہے اتنی ہی تیزی سے یہ معاشرے میں سرائیت کرتی جارہی ہے۔ گداگری کو لوگ باقاعدہ پیشہ اپنا رہے ہیں۔ اور پسِ پردہ پورا ایک نیٹ ورک کام کررہا ہے جو اس گھناؤنا فعل انجام دینے والوں کو سہولیات مہیا کررہا ہے۔ اس لت میں مبتلا افراد معاشرے کے تمام چھوٹے، بڑے شہروں، گاؤں قصبوں، ہسپتالوں، دفاتر، اداروں، شاہراؤں، ٹریفک سگنلز، اور تمام چوراہوں پر موجود پائے جاتے ہیں۔ جہاں انہیں ایک مافیا مقررہ جگہوں پر چھوڑ جاتا ہے اور پھر مقررہ وقت پر واپس لے جاتا ہے۔ اسکے علاوہ مافیا انہیں موبائل فونز وغیرہ کی سروسز بھی مہیا کر رہا ہے۔۔ اور اسطرح وہ باقاعدہ اپنی اس معاشرتی لعنت کو انجام دے رہے ہیں۔
    میرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ میں یونیورسٹی جاتے ہوئے اور یونیورسٹی سے واپسی پر پانچ سے دس منٹ سٹاپ پہ ٹھہرتی ہوں اور ان دس منٹ میں میرا تین گداگروں سے لازمی واسطہ پڑتا ہے۔ اور اکثر مقررہ وقت پہ میں مقررہ گدا گروں کو دیکھتی ہوں۔ اور وہ ہمیشہ پیسے مانگتے ہیں اگر انہیں کوئی راشن وغیرہ یا کھانے کی چیز دیں تو اکثر وہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور اسطرح یہ مافیا کئی ہتھکنڈے استعمال کر کے ناجائز پیسہ بٹور رہا ہے۔
    گداگری جہاں بذاتِ خود ایک مرض ہے وہاں اپنے ساتھ دوسری بہت سے معاشرتی برائیوں کا سبب بھی ہے۔ گدا گروں کو جب پیسے نہ ملیں تو یہ مافیا گینگ مختلف جرائم میں ملوث ہوجاتا ہے۔ جیسے بچوں کے اغواہ اور منشیات فروشی وغیرہ۔ یہ گدا گر اکثر بچوں کو اغواہ کرتے ہیں۔ ان پر ظلم و ستم کر کے انہیں اس گندی لت گدا گری کی تربیت دیتے ہیں۔ بعض کو معذور بنا کر اس لعنت میں ملوث کرتے ہیں اور بعض کو معذوری کا ڈھونگ سکھا کر گداگری کرواتے ہیں۔ کچھ روز قبل میرے ایک جاننے والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ایک گداگر جو مسلسل تین دن سے ان کی گلی میں مقررہ وقت پہ آتا تھا ان کے آٹھ سالہ معصوم بچے کو اغواہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر جھٹ سے منظرِ عام سے غائب ہوگیا۔ اور اسطرح کے بہت سے واقعات ہمارے معاشرے کا روگ بنے ہوئے ہیں۔
    یہ مافیا معاشرے کے حقیقی ضرورت مند مستحق طبقے کا مجرم بھی ہے کہ ان کی وجہ سے ان مستحق افراد کو بھی انکا حق نہیں مل پاتا۔ لوگ انہیں بھی گداگر سمجھتے ہیں۔ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں منفی نظریات قائم کر لیتے ہیں۔
    اس گھناؤنے فعل کو فوراً جڑ سے اکھاڑنا تو ممکن نہیں۔ لیکن اگر ہم بطور قوم اپنے حصے کی جدوجہد کریں تو معاشرے سے اس لعنت کا کسی حد تک سدِباب کیا جا سکتا ہے۔ لہذا ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ اس ناسور سے وابستہ لوگوں کی کوئی مدد نہ کریں۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انکی حوصلہ شکنی کریں۔ اور اپنے صدقات وغیرہ حقیقی مستحق لوگوں تک پہنچائیں۔ تاکہ وہ ہمارے کے لئے توشۂ آخرت بنیں۔
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • ہمارا معاشرہ اور فری میڈیکل کیمپ  (  ہومیوپیتھیک  )   تحریر:   عائشہ عنایت الرحمان

    ہمارا معاشرہ اور فری میڈیکل کیمپ ( ہومیوپیتھیک ) تحریر: عائشہ عنایت الرحمان

    ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ میں ریڈیو سن رہی تھی اک پروگرام چل رہا تھا ھومیو پیتھک ڈاکٹرز کے بارے میں جس کے ختم ہونے پر دوسرے کا شروع ہوگیا پھر تیسرے چھوتھےکا، اور یہ سلسلہ تقریبا سارا دن چلتا رہا ۔اور یہ ڈاکٹرز صاحبان سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج دعوے سے کر رہے تھے کہ ٹھیک ہو جائیں گی چاہے وہ کینسر ہو چاہے وہ گردے کی پتھری ہو چاہے وہ کچھ بھی ہو بغیرآپریشن کے علاج کر رہے تھے۔ایک ڈاکٹر صاحب نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایک مریضہ صاحبہ کا آپریشن ہوا تھا اس کے پیٹ میں پٹی رہ گئ تھی اور ڈاکٹر صاحب دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ پٹی بغیر آپریشن کے علاج سے ختم ہوگئی۔

    ریڈیو پر وہ باقاعدہ اشتہار دے رہے تھے فری میڈیکل کیمپ کا کا۔

    ان کا باقاعدہ ایک خاص وقت مقرر ہوتا ہے جس میں مریضوں سے براہ راست انٹرویو لیا جاتا ہے تو کوئی کرونا سےٹھیک ہوا ہوتا ہے تو کوئی کینسر سے ٹھیک ہوا ہوتا ہے تو کوئی دیگر بیماریوں سے ۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک اور انہونی دعویٰ کے اگر میرے علاج سے آپ صحت یاب نہ ہوے تو اپنے علاج کے پیسے واپس لے سکتے ہیں۔

    مسلسل ایک ہفتہ اس پروگرام کو سننے کے بعد مجھ پر بھی اتنا اثر ہوا کہ میں نے بھی ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا فری میڈیکل کیمپ کے دن۔
    چونکہ میں گاؤں سے جا رہی تھی شہر تو میں نے چھ سات ہزار روپیہ ساتھ لیں کیوں کہ کچھ ضروری سامان بھی لانا تھا۔

    جب پہنچ گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک عالیشان بلڈنگ کھڑی تھی جو کہ ہمارے سادہ لوح عوام کی لوٹ کھسوٹ سے بنی ہوئی تھی گیٹ پر باقاعدہ بندوق تھامے گارڈ کھڑا تھا اندر بہت سارے مشٹنڈے پھر رہے تھے۔ زنان خانے میں جیسے ہی داخل ہوگئی تو اک نظر خواتین پر ڈالی، زیادہ تر خواتین قبائلی تھیں جو کہ پھٹے پرانے برقعوں میں بیٹھے ہوئے تھیں۔

    یہ وہ خواتین تھیں جو فری میڈیکل کیمپ کی لالچ میں میری طرح آپہنچے تھیں۔
    جیسے ہی میں بیٹھ گئی ریڈیو کا نمائندہ بھی پہنچ گیا ایک ایک سے انٹرویو لینے لگا کہ آپ کو کیا بیماری ہے اور آپ کب سے ڈاکٹر صاحب سے علاج کر رہی ہیں لیکن سب خواتین نے یہی جواب دیا کہ ہم پہلی دفعہ آئی ہیں اور ریڈیو پر ہم نے ڈاکٹر صاحب کی بہت تعریف سنی ہیں اس لئے ہم آئے ہیں ۔ میں نے بھی یہی جواب دیا کہ میں تو پہلی دفعہ آئی ہو۔ لیکن ڈاکٹر صاحب جو ریڈیو پر انٹرویو لیتے تھے تو وہ تو کہتے تھے کہ ہمیں فلاں فلاں بیماری ہے اور ہم ٹھیک ہوگئے ہیں اور سال دو سال سے علاج کر رہے ہیں لیکن یہ تو سب پہلی دفعہ ہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب جھوٹ موٹ کا انٹرویو تھے ۔ جو میرے سامنے انٹرویو ریڈیو کے نمائندے نے لئے تو وہ نمائندہ جلدی جلدی باہر نکلا اور وہ انٹرویو میں ریکارڈ نہیں کیے۔

    میں وہاں بیٹھ کر ان غریب عورتوں کی حال پر سوچتی رہی اور افسوس کرتی رہی۔ جب لیڈی ڈاکٹر نے مجھے بلایا جیسے ہی میں اندر داخل ہو گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کالی کلوٹی نیلگوں مائل خاتون کرسی پر تشریف فرما تھی جس نے رنگ گورا کرنے کی کریم بھی ایجاد کی ہوئی ہے اور ہر بڑے سٹور پر دستیاب ہے لیکن خود اپنا رنگ گورا نہ کر سکی۔

    خیرجب ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اور ٹیسٹ کروائیں، وہ ٹیسٹ باہر پر پر سات سو 700 کے ہو جاتے ہیں لیکن ان کے فری میڈیکل کیمپ میں پندرہ سو 1500 کے ہوگئے اور دوائی انہوں نے دی پانچ ہزار 5000 کی۔ میرے پاس جانے کا کرایہ بھی باقی نہ رہا، نہ صرف میں بلکہ کہ ہر کسی سے پانچ ہزار اور چھ ہزار کا مطالبہ ہو رہا تھا ۔

    میں نے ایک چھوٹا سا احتجاج شروع کیا کہ یہ پیسے کم کر دیے جائے لیکن بے سود۔ آخر کار غصے میں آکر وہ دوائی لے لی اور سیدھے ڈاکٹر روم میں چلی گئی میں نے غصے سے دوائی کی شاپرکو ہوا میں لہرایا میں نے کہا کہ جی یہ فری میڈیکل کیمپ ہے اور یہ دوائی آپ نے 5000 کی دی ہوئی ہے، جس کی ہر ڈبے پر قیمت لکھی ہوئی ہے جو کہ ڈیڑھ سو ڈھائی سو اور ایک سو ستر سے زیادہ نہیں تھی جو بے شمار دوائیاں ملا کر سب کی قیمت دوہزار تک نہیں بنتی تھی۔

    میں نے آواز اٹھائی کہ یہ کہاں کا انصاف ہے یہ فری میڈیکل کیمپ کے نام پر ہم سادہ اور غریب عوام کو کو لوٹا جا رہا ہے ڈاکٹر صاحبہ میرے رویے سے ذرا گھبرا گئی اور جلدی سے مجھے 500 روپے واپس کر دیے اور کہا کہ بی بی ناراض نہ ہو اس سے گھر چلے جانا ۔

    مجھے بہت افسوس ہوا کہ یہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد ڈاکٹرز ہے، یہ ڈاکٹر نہیں بلکہ ڈاکو ہے جو کہ مسیحائی کے نام پر قصائی بنے ہوئے ہیں ۔ یہ ظالم ہمارے غریب عوام کو فری میڈیکل کیمپ کے نام پر بے وقوف بنا رہے ہیں۔

    یہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد ہومیوپیتھک ڈاکٹرز ہے۔ ہمیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آنا چاہیے ۔ یہ ریڈیو پر جتنے بھی اشتہار چل رہے ہوتے ہیں یہ سارے جھوٹ موٹ کےہوتے ہیں ۔ ہمیں ان سے بچنا چاہیے۔
    ان کی روک تھام ہمارے وزیر اعظم اور ہمارے پولیس کا کام نہیں ہیں بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم خود سمجھ بوجھ سے کام لے اور اس طرح کے اشتہاری ڈاکٹرز کے پاس نہ جائے تو یہ خود ہی ناکام ہو جائیں گے۔

    آئیے ہم اپنی پیارے پاکستان کو اس ناسور سے پاک کرے۔
    @koi_hmmsa_nhe

  • اختلاف اور مخالفت . تحریر :‌ باچا خانزادہ

    اختلاف اور مخالفت . تحریر :‌ باچا خانزادہ

    ہم جس ملک اور معاشرے میں رہتے ہیں یہاں تعلیم عام ہونے کے باوجود ہمارے اندر برداشت اور تحمل کا بہت فقدان ہے۔ عام طور پر ایک چیز جو کافی عرصے سے مسلسل میں نوٹ کر رہا ہوں وہ دو لفظ ( اختلاف اور مخالفت ) ہیں جن کا ہمارے معاشرے اور ملک کی اکثریت کو فرق شاید معلوم نہیں تب ہی تو عدم برداشت ، غصّہ اور لڑی جھگڑوں کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے حتی کہ بعض اوقات بات دشمنیوں تک پہنچ جاتی ہے فقط اس ایک فرق سے غفلت کے باعث آچھے اچھے تعلق اور رشتے کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    اختلاف کا مطلب ہے کسی معاملے سے اتفاق نہ کرنا یا کسی کی کی گئی بات سے متفق نہ ہونا اور اپنی ایک الگ رائے کا ہونا ہے یا کسی کا ہماری کی گئی بات اور مشورے سے اپنی ذاتی ایک الگ سوچ اور رائے کا ہونا جو کہ انتہائی اچھی بات بھی ہے اختلاف رائے کو گفت وشنید اور بحث کا حسن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اختلاف رائے سے کسی بھی معاملے کا ایک نیا رخ سامنے آتا ہے۔ لیکن کسی کے اختلاف کو مخالفت سمجھ بیٹھنا یہ غلط ہے۔ کیونکہ مخالفت تو ہمیشہ دشمنی اور عداوت کی راہوں پر لے جاتی ہے۔ باقی جیسے کہ واضح ہوچکا ہے کہ اختلاف کو گفت وشنید اور بحث و مباحثے کا حسن اور جان سمجھا جاتا ہے تو ہمیں سمجھ سے کام لینا چاہیے اور کسی کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے اور اسی طرح ہمیں بھی اگر کسی معاملے پر اتفاق نہ ہو تو اختلاف رائے آپ کا بھی حق ہے۔ لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ ایک چیز جو ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے وہ یہ کہ اختلاف ضرور کریں لیکن ادب کے اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ کیوں کہ جیسا کہ یہ قوم پہلے ہی عدم برداشت کا شکار ہے تو ایسے میں اگر بندہ تہذیب و گفتگو کے اصولوں کو بھی نظر انداز کر دے تو یہ چیز انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور مخالفتوں و ناراضی گیوں کی وجہ بنا سکتی ہیں۔ اختلاف تو دو بھائیوں میں ہو جاتا ہے باپ بیٹے میں ہو جاتا ہے دو دوستوں میں ہو جاتا ہے استاد شاگرد میں ہو جاتا ہے لیکن اہم چیز جو ہے وہ ہے ادب اور محبت کے راویوں کا فروغ ہے۔ آپ ادب و احترام اور اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات دوسرے کو سمجھا سکتے ہیں اور اگر آپ خود ہی غلط ہوں تو برداشت کے اصولوں پر چلتے ہوئے اگلے بندے کی بات سننے کے بعد اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ سب اس فرق کو جاننے سے ممکن ہے اور خوش مزاجی و ادب کسی بھی معاملے کو سنجیدگی و عمدگی کے ساتھ پائے تکمیل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

    ہمارے ہاں عام طور پر دو گروہ میں اختلاف اور مخالفت کا رجحان بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک ہماری سیاسی جماعتیں اور گروہ اور دوسرے ہمارا مذہبی طبقہ جو فرقوں اور گروہوں کی شکل میں موجود ہے۔ یہاں کسی کو غلط ، سہی ، حق ، باطل یا اچھا برا کہنا مقصود نہیں صرف اختلاف ، مخالفت، عدم برداشت اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا جیسے عوامل کی نشان دہی کرنا ہے۔ سیاسی جماعتیں بعض اوقات اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے بہت نازک حدتک چلی جاتی ہیں اور ایک ہی ملک اور قوم کے لوگوں کو اپنے مفادات کی خاطر لڑنے مرنے تک پہنچا دیتے ہیں ایک دوسرے کو غلط اور نیچا دکھانے اور ثابت کرنے کے چکر میں تمام اصولوں کو پسے پشت ڈال دیتے ہیں اور اختلاف و مخالفت کا فرق بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مذہبی طبقہ بھی بعض اوقات مختلف مسئلے اور چیزوں پر ایک دوسرے سے مناسب اختلاف رکھنے کی بجائے مخالفت اور ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کی حد تک چلے جاتے ہیں۔ اور یوں اس کے اثر کے طور پر عام افراد بھی باقی ماندہ زندگی ایک دوسرے کے لیے سخت مخالف پالتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ہی اگر سمجھ اور برداشت سے کام لیا جائے تو بہت سارے معاملات مناسب اختلاف رکھتے ہوئے بات چیت ، برداشت اور تحمل سے کام لیتے ہوئے حل کیے جاسکتے ہیں اور امن رواداری کی فضاء قائم کی جاسکتی ہے۔

    @bachakhanzada5

  • حوا کی بیٹیاں اور جنسی درندگی . تحریر : حسیب احمد

    حوا کی بیٹیاں اور جنسی درندگی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان میں آئے روز حوا کی بیٹیوں کو جنسی استحصال کا شکار بناتے ہیں۔ چند روز نہیں بلکہ سالوں سے یہ ہوتا ہوا آرہا ہے۔ ہمیشہ بیٹیوں بہنوں کی عزتیں نیلام کی جاتی ہیں، پاکستان وہ ملک ہے بدقسمتی سے جہاں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہوتی چاہے وہ چھوٹی زینب ہو یا نوجوان نور مقادم ہو۔ پاکستان میں جنسی زیادتی کے ملزمان کو عدالت سے رہائی دے دی جاتی ہے چند ہزاروں کے مچلکوں پر اور پھر وہی چیز بار بار دوہرائی جاتی ہے اور ہر بار نشانہ ہماری بیٹیاں بنتی ہیں۔ کاش پاکستان میں ایسا قانون آجائے جس سے جو بھی ہماری بیٹیوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالے گا تو اس کو تختہ دار پر جھولا دیا جائے۔ اور پھر دیکھیں کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ انکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔
    ہمیں خود اپنی بیٹیوں کی عزتوں کا محافظ بننا ہے اور جو کوئی ہاتھ ڈالے ہماری ماؤں بہنوں پر اس کا چہرہ نوچ دینا چاہیے۔

    ہر بار سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنتے ہیں چند روز کے لئے لیکن پھر سب خاموش ہوجاتے ہیں نئے واقعات کا انتظار کرتے ہیں اور پھر وہ واقعات جنم لیتے اور پھر ہم وہی بار بار ٹرینڈ بناتے ہیں اور پھر سب خاموش ہوجاتے ہیں اس میں کہیں نا کہیں ہماری ہی غلطیاں ہیں جو ظالم کو ڈھیل دیتے ہیں لیکن اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں وہ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ گناہ کرتا جائے اور وہ دنیا و آخرت میں رسوائی اس کا مقدر بنے۔ اللہ جب رسی کو کھینچ لیتا ہے اور ویسے بھی یہ دنیا مکافات عمل ہے جیسا گھڑا وہ کھودتا ہے ویسا وہ پاتا ہے۔ حوا کی بیٹیوں کی عزت کریں کیوں کہ آپ کی ماں بہن، بیوی سب بھی حوا کی بیٹیاں ہیں اور جب ایسا آپ سوچیں بھی تو آپ کے اگئے اپنی ماں بہن اور بیٹی اجائے۔

    ایسے گناہوں سے ہماری آنے والی نسلوں کو کیا سبق ملے گا اور ایسے غلطیاں جو بھی کرتا ہے وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے پریشانی اور رسوائی کا باحث بنتا ہے۔ بہنیں ماؤں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ رکھیں اور ان کی حفاظت کیا کریں اس سے اللہ خوش ہوتا ہے اور آپ کی آخرت کی منزلیں آسان فرماتا ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور ایسے واقعات کی روک تھام میں ہمارا وسیلہ بنے اور اللہ پاک ہماری دنیا میں رہنے والی ہر بہن بیٹی کی حفاظت فرمائے اور ان کی عزتیں محفوظ رکھے کیوں کہ بیٹیاں خدا کی رحمت ہوتی ہیں اور جب اللہ پاک خوش ہوتا ہے تو بیٹیوں سے نوازتا ہے ہمیں۔ اور اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں سے دعا لیا کریں کیوں ان کی دعا اللہ پاک بھی سنتا ہے اور فوراً قبول فرماتا ہے اور جب اس ہی ماں بہن کے ساتھ کوئی برا کرتا ہے تو ان کی بددعا فرش سے ارش تک جاتی اور خدا فوری طور پر ان کی بددعا قبول کرتا ہے اس شخص تباہ و برباد کردیتی ہے۔

    عزتوں کے محافظ بننا سیکھیں ناکہ کسی بیٹی کی بددعا لے کر برباد ہونا۔ ہمت بنیں ان کی اور ان کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا اور مجرموں کو پھانسی کے تختے تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    اللہ پاک سب کو ہمت دے اور ان کی حفاظت فرمائے بیٹیاں کسی سے کم نہیں ہوتی بیٹی کچھ بھی کرسکتی ہے کوئی چیز مشکل نہیں مثال لیں قوم کی بیٹی وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوسکتی ہے یا پاک فوج میں اعلی عہدہ پر بھی فائز رہ سکتی ہے۔
    برابری دینا سیکھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ بہادر بن سکیں اور کبھی ان کے ساتھ غلط ہو تو وہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
    فخر ہے ہمیں ہماری بیٹیوں پر اللہ ان کے نصیب اچھے کرے اور ان کا حامی و ناصر رہے اور ہماری بیٹی ہمارے لیے اور قوم کے لئے فخر کا باعث بنے۔

    @JaanbazHaseeb

  • کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    جیسے جیسے لبرل ازم ہمارے معاشرے میں فروغ پا رہا ہے ویسے ویسے اس کے بھیانک نتائج بھی سامنے آرہے ہیں اس کا ایک شاخسانہ نور مقدم کا کیس ہے نور کے ساتھ کیا ہوا یہ کہانی اب کسی سے چھپی نہیں رہی مگر ہمیں تو بات کرنا ہے کہ یہ قتل کیوں ہوا
    اس کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں جی ہاں ہم بطور معاشرہ بطور والدین بطور مسلمان ہم ہیں اصل ذمہ دار!
    ہم واقعہ ہونے کے بعد پلے کارڈ لے کر کھڑے ہونا تو جانتے ہیں مگر اس واقعے کو ہونے سے روک نہیں پاتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نور قدم کا قتل روکا جاسکتا تھا جی ہاں روکا جاسکتا تھا.

    اگرایک بارنورکے والد اور والدہ اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی بیٹی جو کہہ رہی ہے اس میں کتنی سچائی ہے پوچھنے کی کوشش کرتے کہ یکدم بغیر بتائے کوئی اولاد کیسے کسی دوسرے شہر جا سکتی ہے کیا نور کے والدین آج کے دور کی خباثتوں کو نہیں جانتے تھے کیا ان کا فرض نہیں تھا کہ بیٹی کو اپنی دینی معاشرتی اور سماجی اقدار سکھاتے۔

    نورمقدم کا قتل روکا جاسکتا تھا اگر ظاہر جعفر کا باپ ذاکر جعفر بیٹے کی کال کو سنجیدگی سے لیتا جب اس نے فون کرکے باپ سے کہا کہ نور مجھ سے شادی پے نہیں مان رہی میں اس کو قتل کرنے لگا ہوں تو کیا اسے اپنے بیٹے کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے تھا مگر دولت کی بندھی پٹی آنکھوں سے ہٹتی تو ذاکر جعفر کو اپنے بیٹے کا انداز سمجھ آتا اس نرم رویے سے تو یہی ظاہر ہے کہ بیٹے کو باپ کا بھرپور حمایت حاصل تھی اسی کی شہ تھی کہ ظاہر نے اتنی جرات کی کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔
    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ دوست جن کے سامنے ظاہر نے کہا کہ اگر میں ایک قتل کردوں تو کیا پاکستان کا قانون مجھ پر لاگو ہوگا کیونکہ میں تو امریکن شہریت رکھتا ہوں دوستوں کے اس بیان سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اچانک طیش میں آکر کیا جانے والا قتل نہیں ہے بلکہ ظاہر کے دماغ میں اس کی پلاننگ پہلے سے چل رہی تھی یہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت قتل کیا گیا اس کا ایک اور ثبوت ہے ظاہر کی اگلے دن کی امریکہ کی فلائٹ کی کروائی جانے والی سیٹ کی بکنگ۔ مطلب وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ قتل کرنا ہے اور پھر باہر بھاگ جانا ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ ملازم گیٹ کھول دیتے جب نور ان کی منتیں کر رہی تھی کہ یہ مجھے مار دے گا خدا کے لئے دروازہ کھول دو مگر نہ جانے اس گھر کی بنیادوں میں کتنے ملازم دفن ہوں گے کہ خوف کے مارے دونوں ملازم ظاہر کے باپ کو فون کرکے صورتحال بتاتے تو رہے مگر ظاہر کو روکنے کی جرات نہ کر سکے کیا خبر کل کو انہی ملازمین پر قتل کا ملبہ تھوپ دیا جائے اور ذاکر اپنے بیٹے کو لے کر صاف نکل جائے اور جس کی ہمارے عدالتی نظام سے توقع بھی کی جاسکتی ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر ہمسائے جو بہت دیر سے گھر پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے وقت پر کوئی ایکشن لیتے انہیں پولیس کو بلانا تب یاد آیا جب حادثہ رونما ہو چکا تھا اس میں ان کا قصور نہیں قصور تو اس لائف سٹائل کا ہے جس کے عادی تمام اسلام آباد کے مکین ہوچکے ہیں کہ اپنے کام سے کام رکھو کہیں کچھ غلط ہوتا دیکھو تو آنکھیں بند کر لو یہی آنکھیں بند کرنے کا انداز ہے جو ایسے حادثوں کا باعث بنتا ہے نور کے والدین نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند رکھیں ظاہر کے والدین نے دولت کی پٹی باندھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ہمارا معاشرہ آنکھیں بند کیے اقدار کی آخری سانسیں لے رہا ہے.
    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    @_Faizakhann

  • عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر:  واجد علی

    عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر: واجد علی

    شائد ہی کوئی لڑکی ہو جس کو گلی، محلے، بازار یا سکول کالج جاتے ہوئے چھیڑ چھاڑ یا کم از کم کھا جانے والی اوباش نظروں کا سامنا نا کرنا پڑا ہو اور اگر زرا خود کو اس 10 بارہ سال کی لڑکی کا سوچیں اس کے معصوم ذہن میں کتنا ڈر بیٹھ جاتا ہے کتنا سہم جاتی ہو گی اور اسکو تنگ کرنے والا بھی تو انسان ہے اسکے گھر پر بھی تو ماں بہنیں ہوں گی

    لیکن یہ احساس لوگوں میں نہیں پایا جاتا افسوس کے ساتھ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بنیادی طور پر تربیت ہی کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ انہیں اس معاملے میں تمیز نہیں سیکھائی جاتی بازاروں گلیوں اور سڑکوں پر جانے والی خواتین کو ایسے نازیبا الفاظ سننے کو ملتے ہیں جس سے وہ ذہنی طور پر خوف کا شکار ہوجاتی ہیں

    اور اجکل تو سوشل میڈیا پر بھی خواتین کو شکار بنانے کی کوشش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے خواتین کو گلیوں اور بازاروں، دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ غرض ہرجگہ ہراساں کیے جانے کا سامنا بڑھتا ہی چلا جارہا ہے یہ عمل پاکستان میں کئی سالوں سے جاری ہے عورتوں کے تحفظ کی کئی تنظمیں بن چکی مگر وہ بھی اس میں کمی نا لا سکے

    بلکہ ہمارے معاشرے میں چھیڑ چھاڑ یا انہیں ہراساں کرنا کوئی سنجیدہ جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر جس طرح ہر ایک آدمی اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو اہم سمجھتا ہے اسی طرح دوسری خواتین کے احترام کو بھی لازمی سمجھے ۔۔

    کچھ خواتین خوف کا شکار ذیادہ ہوتی ہیں اس وجہ سے شکایات نہیں کر پاتی اور اگر کوئی خاتون کسی مرد کے خلاف شکایت کرے تو اسے بدکردار سمجھا جاتا ہے افسوس ۔۔۔

    آج کل ہمارے معاشرے میں بچوں اور عورتوں سے ذیادتی بہت عام ہو چکی ھے ہر ایک روز ایک نا ایک بچی یا عورت ذیادتی کا نشانہ بنتی ھے اور دو تین دن نیوز چینل پر بریکنگ چلتی ھے اس کے بعد نیوز چینل بھی خاموش ہو جاتی ھے کیا ہم نے پھر کبھی اس مظلوم عورت یا وہ بچی جو زیادتی کا شکار ہوٸی ہم نے کبھی اس سے پوچھا ھے؟ کیا ہم نے اسے انصاف دیا ھے گزشتہ کٸی ماہ پہلے قومی اسمبلی سے یہ قانون پاس ہوا کہ ذیاتی کرنے والے ملزم کو نامرد بناٸنگے کیا اس قانون پر عمل ہوا ھے؟ ذیادتی کرنا زنا کے زمرے میں آتا ھے اور اسلام مزہب میں زنا گناہ کبیرہ ھے بلکہ حرام ھے اس کا سزا یہ ھے کہ اسے سنگسار کیا جاۓ لیکن افسوس پاکستان میں اب تک کوٸی ایسی قانون نافز نہیں ہوا جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دی جاۓ یہاں امیر کےلٸے الگ قانون اور غریب کےلٸے الگ قانون چلتا ھے اگر مظلوم امیر گھرانے کا ہو تو عدالت اس کے حق میں فیصلہ کرتا ھے اور اگر غریب ہو تو تاریخ پہ تاریخ
    کیا غریب صرف عدالتوں کے چکر کاٹینگے یا انصاف بھی ملے گا

    لیکن یہ ختم کیسے ہوگا ؟؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اس کو ختم کرنے کی شروعات ہم کرینگے؟؟ کیا کبھی آپ نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت انہیں ہر اچھے برے عمل کی تمیز سیکھائے گے تاکہ معاشرے سے ان سب کی روک تھام کی جا سکے ۔۔۔

    تحریر : واجد علی
    @Munna_Wajji (twitter)