Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی  تحریر:  محمد آصف شفیق

    جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    آجکل ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی برائیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک جھوٹ بھی ہے آئیں آج ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جھوٹ سے بچنے کے حوالے سے ہمیں کیا فرمایا ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤوں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، اس وقت آپ ﷺتکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے، پھر (سیدھے ہوکر ) بیٹھ گئے اور فرمایا سن لو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپ ﷺاسی طرح (بار بار) فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ آپﷺ خاموش نہ ہوں گے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 936

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا: یا آپﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کا (ناحق) قتل کرنا، والدین کی نافرمانانی کرنا، پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں اور فرمایا کہ جھوٹ بولنا یاجھوٹی گواہی دینا، شعبہ نے کہا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے جھوٹی گواہی فرمایا۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 937
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی ہدایت کرتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدیق ہوجاتا ہے اور جھوٹ بدکاری کی طرف اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کاذبین میں لکھا جاتا ہے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1047
    سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ شخص جس کو تم نے معراج کی رات میں دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جا رہے تھے وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں وہ پھیل جاتی تھیں قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1048

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1049

    مسدد نے بواسطہ بشر اس طرح حدیث بیان کی، کہ آپﷺ تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ سن لو جھوٹ سے بچو اور اس کو بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1227
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، اور جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔ یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1801
    ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو توڑ ڈالے جب وعدہ کرے تو وعدے کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہو جائے سفیان کی حدیث میں یوں ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی علامت ہو گی۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 212
    حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 261
    ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چائیے اور کوشش کرنی چائیے کہ کبھی بھی کسی بھی وجہ سے جھوٹ نہ بولیں
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں جھوٹ سے بچنے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

    جدہ ۔ سعودیہ
    @mmasief

  • آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟   تحریر: سحر عارف

    آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟ تحریر: سحر عارف

    عورت اللّٰہ تعالٰی کا سب سے انمول تحفہ ہے لیکن عورت پر تشدد ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کبھی اس پہ جنسی تشدد ہوتا ہے تو کبھی جسمانی تشدد۔ یہ بات سرے سے سمجھ میں نہیں آتی کہ جو مرد عورتوں پہ تشدد کرتے ہیں ان کے نزدیک آخر عورت کیا ہے؟ آخر مرد کی نظر میں عورت کیا ہے؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا اسے انسانوں کی طرح جینے کا حق نہیں؟ آخر کب تک عورت ظلم سہتی رہے گی؟ مرد کو اللّٰہ نے عورت سے ایک درجہ بلند اس لیے نہیں دیا کہ وہ عورت پر تشدد کر سکے بلکہ اس لیے دیا کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے۔ نکاح کی صورت میں عورت کو اللّٰہ کی امانت کے طور پر مرد کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔ پر افسوس آج پھر جہالت اپنے قدم اٹھا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ایک سے ایک واقعہ جو منظر عام میں آتا ہے دل دہلا دیتا ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو کچھ روز قبل 15 جولائی کی رات قوم کی بیٹی قرةالعین کے لیے ایک بھیانک رات ثابت ہوئی۔ کوئی قیامت نہیں آئی کوئی زمین نہیں پھٹی جب چار بچوں کی ماں کو انہیں کے سامنے ان کے باپ نے کس قدر درندگی سے تشدد کر کے قتل کردیا۔ بچے سے دہائیاں دیتے رہے قوم کی بیٹی قرةالعین اپنی زندگی کے لیے گڑگڑاتی رہی اپنے شوہر سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی پر افسوس عمر میمن جو کہ نشے کی حالت میں چور تھا کسی کی ایک نا سنی اور اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قرةالعین بلوچ کی شادی 2012 میں عمر میمن جو کہ سابق سیکرٹری آبپاشی سند خالد حیدر میمن کا بیٹا ہے اس سے ہوئی۔ شادی کے ایک دو سال تک تو سب ٹھیک رہا پر پھر جیسے جیسے شادی آگے بڑھتی گئی عمر میمن اپنے بیوی بچوں پر تشدد کرنے لگا۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا ہے کہ عمر میمن ایک شرابی ہے۔ وہ بات بات پر میری بہن کو مارتا پیٹتا اور بچوں پر بھی تشدد کرتا ان کے سر پھاڑ دیتا، ہاتھ توڑ دیتا۔ اکثر اوقات میری بہن کو مار پیٹ کے گھر سے نکال دیتا اور دوسری عورتوں کو گھر بلوا کر عیاشی کرتا۔ قاتل کے والد کو اس تمام صورتحال کا علم تھا اور وہ اکثر کہتے تھے کہ اگر میرے بیٹے کو گرفتار کروایا تو میں اسے دوبارہ باہر نکلوا لوں گا۔

    15 جولائی کی قیامت خیز رات جب عینی کا قتل ہوا تو اس کی بڑی بیٹی رامین زہرہ جس کی عمر نو سال ہے اس نے اپنی ماں کا قتل ہوتے دیکھا وہ چھوٹی سی بچی جس نے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا اس کے ننھے دماغ پر کتنا بھیانک اثر پڑا ہوگا۔ پر عمر میمن، انسان نما حیوان کو زرا ترس نا آیا۔ نشے سے چور جب گھر لوٹا تو جانوروں کی طرح اپنا شکار تلاش کرنے لگا۔ بیٹی کو کیا خبر تھی کہ شکار اس ماں بن جائے گی پر ہوش تب آیا جب عمر میمن کے ہاتھوں اپنی ماں کو پیٹتے دیکھا۔ بچی تھی نا رونے سسکنے کے علاؤہ کیا کرسکتی تھی۔ جیسے جیسے رات بڑھتی گئی عمر کے تشدد میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ عمر میمن نے تشدد کر کر کے جب تھک گیا تو بیوی پہ ٹھنڈا پانی ڈالنا شروع کردیا اور ٹھنڈے پانی سے بھگانے کے بعد اےسی کے نیچے پھینک دیا۔ اتنا سب کرنے کے بعد بھی جب اس حیوان کی حیوانگی ختم نا ہوئی تو آخر میں اپنے ہی بچوں کی ماں کا گلا دبا کے عینی سے اس کی سانسیں چھین لی۔ بچے خوف کی حالت میں اس بات سے بے خبر کھڑے تھے کہ ان کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کٹوانی چاہی تو پہلے پولیس نے منع کردیا اور اب جب ایف آئی آر درج ہوگئ ہے تو پھر بھی پولیس اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہے اور وہ مسلسل اسی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ پولیس کی یہ کوشش رہی کہ جب پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ آئے تو اس میں کسی طرح ردوبدل کر کے قتل کو خودکشی کا رنگ دے دیا جائے تاکہ مجرم کو بچایا جاسکے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ مقتولہ میں شدید تشدد ہوا تھا۔ اگر اب بھی ہم چپ کرکے بیٹھ گئے تو ہمیں انصاف نہیں ملے گا اور درندہ آزاد ہوجائے گا۔ لیکن ہم چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے ہم انصاف کی خاطر لڑیں گے۔

    اسی سلسلے میں ٹوئیٹر پر ‘جسٹس فار قرةالعین’ کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔ اس کے علاؤہ مقتولہ کے لیے موم بتیاں جلا کر کئی روز تک احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے اور عینی کو انصاف دلوائیں ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا پر موجود عوام نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملزم عمر میمن کو پھانسی دی جائے تاکہ اس جیسے باقی درندوں کے لیے سبق ہو اور دوبارہ کوئی دوسری عینی ایسی حیوانیت کا شکار نا ہو۔

    ہم سب کو مل کر خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، ہمیں عینی کے ساتھ ساتھ ان تمام عورتوں کی بھی آواز بننا ہوگا جو دنیا سے ڈر کر خود پہ چپ کرکے تشدد سہتی رہتی ہیں۔ اور پھر ماں باپ کو بھی چاہیے کہ اپنے والدین ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے جب بیٹیوں کو رخصت کریں تو انھیں یہ بات ذہن نشیں کروا کے بھیجیں کہ اگر یہ انسان نما شخص جانور نکل آئے تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے واپس چلی آنا۔ اگر ایسا ہوجائے تو یقین جانیں اس دنیا میں بہت سی عورتیں شوہر کے ہاتھوں تشدد کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ جائیں گی کیونکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ماں باپ دنیا داری کا سوچتے ہوئے اور بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر چپ سادھ لیتے ہیں اور بیٹیاں ان کی عزت کا پاس رکھتے ہوئے خود پر تشدد ہونے دیتی ہیں۔

    @SeharSulehri

  • پنجابی زبان   تحریر : مقبول حسین

    پنجابی زبان تحریر : مقبول حسین

    پنجابی زبان نہ صرف پاکستان اور ہندوستان میں بولی جاتی ہے بلکہ یہ کینیڈا ، برطانیہ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دیگر تمام ممالک میں بھی بولی جاتی ہے جہاں جہاں بھی پنجابی تارکین وطن موجود ہیں وہاں پر پنجابی زبان بولی جاتی ہے ۔ برصغیر میں ، دو بڑے گروہ ہیں جو پنجابی کو اپنی مادری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بھارت میں مشرقی پنجاب کے سکھ اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مغربی حصے میں رہنے والے پنجابی۔ ہندوستان کی ایک ریاست پنجاب میں پنجابی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیتی ہے۔ ہندوستانی پنجاب میں پنجابی زبان لکھنے کے لئے گورموکی اسکرپٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جسے مشرقی پنجاب بھی کہا جاتا ہے جبکہ اسکرپٹ جو پاکستانی پنجاب میں پنجابی زبان لکھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جسے مغربی پنجاب کہا جاتا ہے اسے "شاہ مکھی” کہا جاتا ہے ۔ مشرقی پنجاب کے رہائشیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جو سکھ ہیں ، وہ اپنی زبان کے بارے میں بہت خاص ہیں اور اسے وقار اور فخر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ سکھ برادری کے ایک عام تاثر کے مطابق ، اگر کوئی سکھ پنجابی نہیں بول سکتا ، تو اسے جعلی سکھ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے سکھوں کا تعلق رہائش پزیر بین الاقوامی برادری سے ہے اور وہ کبھی ہندوستان کے اصل مقام تک نہیں رہے ، یہاں تک کہ وہ مہارت کے ساتھ پنجابی زبان بھی بول سکتے ہیں ۔
    پاکستانی پنجابیوں کی بات کرتے ہوئے ، پنجابی پاکستان میں اکثریتی آبادی کی مادری زبان اور صوبہ پنجاب کی صوبائی زبان ہے ۔ فوج اور بیوروکریسی جیسے طاقت کے شعبوں میں پنجابی بولنے والی برادری کا غلبہ ہے۔ بدقسمتی سے ، یہ تسلط ان کی زبان کی حیثیت سے ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ خود پنجابی کے علاوہ کوئی بھی اپنی زبان کو فروغ دینے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ جیسا کہ زیدی کے مطابق ، وہ اسے رسمی ترتیبات میں استعمال نہیں کرتے ہیں ، لہذا یہ صرف غیر رسمی بات چیت جیسے معمولی کام انجام دیتا ہے۔ تاریخی بصیرت کے تناظر میں پنجابی زبان کی موجودہ کم حیثیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ انگریزوں کے آنے اور نوآبادیاتی آباد ہونے سے پہلے ہی مسلمانوں نے کافی عرصہ تک ہندوستان پر حکومت کی۔ مسلم حکمرانی کے دوران ، فارسی ہندوستان کی سرکاری زبان تھی اور انتظامیہ اور عدلیہ جیسے اقتدار کے ڈومینز میں بڑے پیمانے پر مستعمل تھی۔ اس وقت ، ہندوستان کی تمام مقامی زبانیں ترقی کر رہی تھیں کیونکہ ان میں سے کچھ جیسے پنجابی بھی تعلیم کا ذریعہ تھا۔ انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہی ، جب انہوں نے اپنا کنٹرول قائم کرنا شروع کیا تو صورتحال بدل گئی ، لہذا انہوں نے انگریزی کے ساتھ فارسی کی جگہ دفتری زبان کی جگہ لے کر ہندوستان کی تعلیمی پالیسی پر روشنی ڈالی اور انگریزی کو بھی ذریعہ تعلیم اور انتظامیہ کا ذریعہ بنایا۔ انگریزی انگریزی اخبارات کی وسیع گردش کے ساتھ اشرافیہ کی زبان کے طور پر ابھری۔ براس کے مطابق ، انگریزوں نے اردو کو شمالی ہندوستانی ریاستوں کی فارسی اور دیگر مقامی زبانوں کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا ۔ صوبہ پنجاب کی فتح کے ساتھ ہی انہوں نے پنجابی کی جگہ اردو زبان سے لے لی کیونکہ انہوں نے اردو کو صوبہ پنجاب کی سرکاری زبان قرار دیا۔ انگریزوں کا مقصد مقامی زبان کو ختم کرنا اور انگریزی کو اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لئے استعمال کرنا تھا۔ انگریز نے پس منظر میں پنجابی کو آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم اور انتظامیہ میں اردو نافذ کرکے پنجابی زبان کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے یہاں تک کہ پنجابی کو ایک آزاد زبان نہیں سمجھا اور اس کے ساتھ ، انہوں نے یہاں تک کہ پنجابی بولنے والے طبقے کی ثقافت اور ان کی انوکھی شناخت کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی ۔ اگلا قدم انگریزی زبان کو ادارہ بنانا تھا اور لارڈ میکالے نے انگریزی کو اشرافیہ اور حکمران طبقے کی زبان قرار دیا۔ انہوں نے اس کے درس اور عمل درآمد کی وکالت کرکے انگریزی زبان اور ثقافت کی فوقیت کو قائم کیا۔ جب دو قومی نظریہ نے مقبولیت حاصل کی تو ، مسلمان اردو کو اپنی مسلم شناخت کا نشان سمجھے جبکہ ہندی ہندو کی شناخت کی علامت بن کر ابھری۔ اس ہندی تنازعہ نے اس صورتحال کو مزید بڑھاوا دیا تھا کیوں کہ پنجابی زبان کو بھی پیچھے دھکیل دیا گیا تھا کیونکہ اس کو سکھوں کی شناخت سمجھا جاتا تھا ۔ صرف سکھوں کے پاس پنجابی زبان اور اس کے ادب کو فروغ دینا باقی تھا ، لہذا انہوں نے اس کو اورینٹل کالجوں میں متعارف کرایا۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں نے پنجابی زبان کو ویران کردیا اور اردو کو اپنی شناخت کا نشان بنا دیا۔ پاکستان کے آزاد ہونے سے پہلے ہی ، پنجابی زبان ایک زبان کی حیثیت سے سماجی ، سیاسی اور معاشی طور پر تکلیف میں مبتلا رہی ہے ۔ اسے کبھی بھی ہندوستان میں ترقی اور خوشحالی کا کوئی موقع نہیں ملا جس پر مغل شہنشاہوں کا راج تھا اور انہوں نے اپنی زبان فارسی کو طاقت کے ڈومین میں ترقی دی۔ اردو ایک فائدہ مند مقام پر تھی کیونکہ اس میں فارسی کے درمیان قریبی لسانی قربت تھی ، ہندی کے ساتھ باہمی رابطے اور پنجابی کے ساتھ ہم آہنگی وابستگی ۔ جب انگریزوں نے اپنی مغل انجمن کی وجہ سے فارسی زبان کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے صوبہ سندھ میں فارسی زبان کو سندھی سے بدلنے کا فیصلہ کیا ، لیکن انہوں نے فارسی کی جگہ پنجابی میں پنجابی نہیں لگایا۔ اردو ان کی ترجیحی انتخاب تھی اور انہوں نے اس دلیل کو پیش کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر زور دیا کہ پنجابی آزاد زبان نہیں ہے۔ بلکہ یہ اردو کی بولی تھی جس کی معاشرتی قدر کم تھی۔ ان کے فیصلے کی جڑ زبان کو جانچنے کے معاشرتی معیار پر ہے کیونکہ انہوں نے سماجی و سیاسی بنیادوں پر پنجابی زبان کا جائزہ لیا ۔ اگر وہ لسانی خوبیوں پر پنجابی کا جائزہ لیتے ، تو وہ پنجابی زبان کے بھر پور ادب کو نثر اور شاعرانہ دونوں ہی انداز میں اہمیت دیتے۔ وسیع و عریض عرصہ میں پنجابی زبان میں نمایاں ادب شائع ہوا تھا۔ ہیر رانجھا پنجابی زبان میں لکھی جانے والی بہت سی لافانی محبت کی کہانیوں میں سے ایک ہے ، بدقسمتی سے ، پنجابی زبان کی اعلی ادبی قدر کو اس کی کم سیاسی قدر کے خلاف سمجھوتہ کیا گیا۔ پنجابی بھی سکھ شناخت سے وابستہ ہونے کا نقصان کررہے تھے اور یہی وجہ تھی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں نے بھی کبھی بھی سیاسی بنیادوں پر اس کی اہمیت کا اعتراف نہیں کیا ۔ پاکستان تحریک کے دوران ہندی کو ہندوؤں کا شناختی نشان قرار دینے میں زبان کی سب سے آسان تقسیم کی عکاسی ہوتی ہے۔ مسلم شناخت اردو سے وابستہ تھی جبکہ پنجابی سکھ شناخت کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔

    Twitter handle
    @Maqbool_hussayn

  • گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    آپ نے اکثر سنا ہوگا گلگت بلتستان سوزیرلینڈ سے خوبصورت ہے کبھی دنیا کے کسی اور ترقی یافتہ ملک سے تشبیح دی جاتی ہے۔ اب یہ نعرے سن کے ہمارے سادی عوام واہ واہ کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان دس اضلاع اور تین ڈویژن پہ مشتمل علاقہ ہے یہاں کی آبادی تقریبا بیس لاکھ اور ایریا اٹھائیس ہزار مربع کلو میڑ ہے۔ گلگت بلتستان کا جغرافعہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین روس کی ریاست تاجکستان بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے لگتی ہیں۔ گلگت بلتستان جانے کے لیے آپ کے کے ایچ یا بابوسر روڈ کا استعمال کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ چترال سے شندور کے راستے سے بھی جاسکتے ہو۔

    یہ تھا ایک مختصر سا تعارف باقی گلگت بلتستان خوبصورتی کے لحاظ سے بیشک دنیا کے چند ایک علاقوں میں سے ہے۔ لیکن اس علاقے کے باسی اکیسیوں صدی میں بھی بنیادی انسانی ضروریات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں ۔ میں گلگت بلتستان کے چیدہ چیدہ مسائل آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ مثلا بجلی کا شدید بحران ہے صاف پانی ۔تعلیمی ادارے۔ میڈیکل کالج انجنئنرینگ یونیورسٹی ٹیکنکل کالج انٹرنیٹ صحت کا نظام یہ سب کے سب یا تو ہے ہی نہیں اگر ہے تو ناکارہ ہے۔ اب کچھ سوال اٹھائیں گے کہ گلگت بلتستان کے لوگ بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں تو ان کے تسلی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ حضور ہمارے ہاں جن علاقوں میں تعلیم بہتر ہے وہ پرائیویٹ سیکٹر کی وجہ سے ورنہ سرکاری سکول کم بھوت بنگلہ زیادہ لگتے ہیں۔ ایک اہم بات گلگت بلتستان سے شاید ایک فیصد بچہ یونیورسٹی لائف دیکھ سکتا ہے۔ باقی میڑک کے بعد یا تعلیم کو خیرباد کرکے فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں یا علامہ اقبال سے بی اے بی ایڈ کر کے استاد بھرتی ہوجاتے ہیں یا کسی اور ادارے میں۔ چونکہ میں نے پہلے بجلی کی بات کی تھی تو اس پہ آپ کو اس بابت تھوڑی تفصیل دیتا چلوں۔ گلگت بلتستان کو بجلی کی جو ضرورت ہے وہ تقریبا دوسو دس میگاواٹ تک کی ہے۔ اس وقت جو پاور ہوسسزز سرکاری کھاتوں میں ہیں وہ تو اس سے شاید زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہوں لیکن حقیقت میں اس وقت گلگت بلتستان میں بیس بیس گھنٹوں کے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے کئی علاقوں میں دو دو دن بعد نمبر اتا ہے۔ اب جب بجلی نا ہو تو ذندگی کے تمام پہیے جام ہوجاتے ہیں بجلی کا ڈاریکٹ لینک تعلیم کے ساتھ صحت کے ساتھ انڈسٹری کے ساتھ ہے انٹرنیٹ کے ساتھ یےاور صاف پانی کے ساتھ ہے۔ گلگت بلتستان کسی ایک شہر میں اگر صاف پانی بجلی انٹرنیٹ صحت اور تعلیم کا نظام موجود نہیں ۔صورت حال اس قدر ابتر ہے کہ گلگت شہر جو کے دارلخلافہ یے وہاں پہ لوگوں کو صاف تو چھوڑو گندہ پانی پینے کو نہیں مل رہا آئے روز جلسے جلوس ہوتے ہیں تو باقی شہروں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ اب یہ مت پوچھنا وہاں اتنے بڑے دریا ہے تو پانی کا مسئلہ کیوں تو یہ نالائقیاں حکمرانوں سے لیکر انتظامیہ سب کی ۔ ہمارے ہاں ایک محکمہ ہیں جس کا کام چور پیدا کرنا جیسے عرف عام میں پی ڈبلیو ڈی کہا جاتا ہے یہ محکمہ اس قدر کرپٹ ہے یہاں سیکٹری سے لیکر منشی تک سب کرپشن کرتے ہیں اب اس ادارے کے حوالے سے کسی اور دن لکھوں گا۔ تعلیم اور صحت معاشرے کے دوبنیادی ستون ہیں لیکن جی بی میں ان دونوں کے حالت قابل رحم ہے ہسپتالوں کے حالت یہ ہے کہ جہاں ڈااکٹر ہے وہاں مشنری نہیں اور جہان مشنری ہے وہاں ڈاکٹر نہیں ۔ہمارے ایک عزیز سرجن ہے ان کا دیامیر ہسپتال میں دو سال ڈیوٹی رہی ان کا کہنا ہے وہ جس شعبے کا ماہر وہاں اس کے بنیادی آلات ہی نہیں تھے مجھ سے میڈکل افسر کا کام لیا گیا ۔باقی تعلیم وہ تو ناپید ہے۔ جو پرائیویٹ فیس افورڈ کر سکتا ہے وہ بچوں کو پڑھاتا ہے ورنہ اکثر و بشتر دیہی سکول میں پڑھنے والے بچے میڑک کرنے کے کے بعد بھی درخواست نہیں لکھ پاتے ہیں ۔اب آپ فیصلہ کریں گلگت بلتستان مسائلستان ہے کہ نہیں ؟

    @rohshan_Din

  • جرم،انصاف اور معاشرہ  تحریر:فرح خان

    جرم،انصاف اور معاشرہ تحریر:فرح خان

    "اس عہد ظلم میں میں بھی شریک ہوں جیسے
    مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا”

    ہم سب دوسروں پر تنقید کرنے کے عادی ہیں مگر اپنی اصلاح کی جانب توجہ نہیں دیتے یہ ایک بنیادی خرابی ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر برائی کو جنم دے رہی ہے۔
    اگر انسان میں خوف خدا کی صفت پیدا ہوجائے تو ہم برائیوں سے خود بھاگے گے۔

    آئیے دن ہم ایک نئی ظلم کی داستان سن رہے ہوتے ہیں،در حقیقت انصاف اور گرفتاری کے تمام ہیش ٹیگز ہمارے قانونی نظام پر سوالیہ نشان ہیں ،اور اب ان مجرموں کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خود کو ظاہر کرتے ہوئے وڈیو آپ لوڈ کرتے ہیں، گرفتاری کا خوف ہی نہیں ، سزا کا ڈر نہیں ، شرمندگی کا کوئی احساس نہیں ۔

    فرسودہ تباہ شدہ قانون پہ ان کو مکمل یقین ہے کہ ان کا بال بھیگا نا ہوگا،شوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فورم پہ آواز بلند ہوتی ہے وہ گرفتار ہوتے ہیں اور خود کو ایک سلیبرٹی سمجھ کر فخر سے دھندھناتےہوئے نظر آتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ وہ جوڑ توڑ کریں گے اور انہیں آزاد کردیا جائے گا۔ کچھ دن بعد لوگ بھی بھول جائیں گے اور مخصوص تاریخوں پہ کسی چوک پہ موم بتیاں جلاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

    "امجدؔ در نگار پہ دستک ہی دیجئے
    اس بے کراں سکوت میں کچھ غلغلہ رہے”

    وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ اس شیطانی کھیل کو ختم کرنے کے لئے سخت اقدام کروائیں ،اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی فتنہ اس کھیل کو بڑھاوا دے رہے ہیں تاکہ لاپروائی اور معاشی برائیوں کا الزام حکومت پہ ڈال سکیں۔
    اس میں لبرلز اور غیر ملکی فنڈنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    عدلیہ نظام امن،خوشحال معاشرے کی تخلیق کی بنیاد ہوتا ہے پر یہاں کرپٹ اور مسلسل مجرموں کو آزاد کیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے ایک ناسور کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔
    اس نظام پہ جلد توجہ کی ضرورت ہے۔

    تمام انسانوں کو کسی رنگ و نسل ، ذات پات کی تمیز رکھے بغیر انصاف مہیا کیا جائے اور معاشی نظام میں کسی تفریق کے بغیر سب کو برابر سے حقوق ملیں تو اس معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    مثبت نتائج کے لیے اپنی ذات سے اصلاح کا کام شورع کریں تو برائیوں پر اچھائیاں حاوی ہو جائیں گی ۔عمدہ مثالی معاشرے کے لیے؛

    ●معاشرے میں انصاف کے لئے اقدامات کیے جائیں۔
    ●افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
    ●سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تاکہ دوسرے افراد عبرت حاصل کریں اور برائی جڑ نہ پکڑ سکے۔
    ●اسکول،نصاب اور والدین پر سخت ذمہ داری ہے اس لیے وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت نا کریں۔
    ●معاشرہ کو خلوص، محبت،انسانیت اور خدمت سے سنوارا جائے۔

    قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے کہ
    "برائی سے روکو اور نیکی کا حکم دو۔”

    #JusticeForNaseemBibi #JusticeForNoormukadam #JusticeForQuratulainAnnie #JusticeforSaima #JusticeForWishah #JusticeforAndaleeb
    #JusticeForKhadija
    #JusticeForAsifa
    #JusticeForZainab
    #ArrestAbdulSalamDawood
    #ArrestUsmanMirza

    اور اس طرح کئی کیس ہمارے سامنے ہیں،ہمارا معاشرہ خاکی کشکول لیے کھڑا ہے جس میں اچھائیوں،نیکی،انصاف اور حقوق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ان سب واقعات سے بچنے کے لیے اللہ کرے ہم جلد منظم فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔آمین

    @MastaniFarah

  • ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    زندگی میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے اگر میں کہوں کے ہر کوئی اس بات پر متفق ہے تو یقیناً یہ غلط نہ ہوگا۔ کامیابی حاصل کرنا اگر آسان ہوتا تو آج دُنیا میں ہر شخص ہی ہمیں کامیاب ملتا نہ کوئی مایوس ہوتا اور نہ ہی کوئی پریشان نظر آتا شاید کہ۔ اچھا تو بات کچھ یوں ہے ہر چیز کے دو رخ ہوا کرتے ہیں اب کامیابی کے متعلق بھی یہی چیز ہے کہ یا تو کوئی کامیاب ہوتا ہے یا نہیں ہو پاتا۔ اب اہم چیز یہ کہ وہ کیا ایسی چیز ہے جو کامیابی اور ناکامی میں فرق ڈالتی ہے ذرا آپ بھی سوچیں شاید کے آپکے پاس اسکا بہتر جواب ہو مگر میرے پاس تو اسکا جواب ہے ” رویہ” یہی وہ عنصر ہے جو فرق ڈالتا ہے اب میں آپکو ایک مثال دیتا ہے ہوں کہ میں اور میرا دوست ہم دونوں کی منزل ایک ہی ہے ہم نے اُس منزل کی جانب رواں ہونا ہے ہماری بہت سے چیزیں ایک جیسی ہو سکتی ہے اُن میں ہمارا رویہ بھی آتا ہے اب رویہ اگر ہمارا ایک جیسا ہے تو ہم کامیاب بھی ایک ساتھ ہونگے یا ناکام بھی ایک ساتھ ہی لیکن پھر ایک چیز اگر رویہ اس میں فرق آتا مثلاً کہ کل ہمارا بائیولوجی کا پیپر ہے میرا دوست توجہ سے پیپر کی تیاری کر رہا وہ اس میں سنجیدہ ہے اور اسکا ہدف ہے کہ 95 فیصد نمبر لینے ہیں مگر میں ہوں جو موبائل فون کا استعمال کر رہا سونے میں وقت گزار رہا اب ہمارے درمیان کس چیز کا فرق آیا رویے کا اب ہدف میرا بھی وہی ہے 95 فیصد نمبر کا مگر کیا میں اس صورت حال میں وہ ہدف پورا کر سکوں گا کبھی نہیں جب نتیجہ آئے گا تو میرے اور دوست کے نتیجے میں زمین آسمان کا فرق ہوگا شاید کہ میں پاس بھی نہ ہو سکوں۔ اب اسّی چیز کو اپنی روز مرہ زندگی میں لا کر دیکھیں ہم سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں ہمارے اہداف بھی مشترکہ ہوتے ہیں مگر جو چیز فرق ڈالنے والی ہے وہ رویہ ہی ہے لہٰذا اس پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے ہم کوئی بھی کام کر رہے ہوں تو ہمیں اپنے رویہ کو دیکھنا ہوگا سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ہر روز کہی لوگ ملتے ہیں جو اس چیز کی شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص کامیاب ہوگیا ہم کیوں نہیں ہوتے اس کے لیے آپکو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی آپکو سنجیدہ ہونا ہوگا آپکو اپنے کام سے عہد کرنا ہونا ہوگا۔ اپنا احتساب کرنا ہوگا یاد رکھیں اپنے آپ کو آئینے کے روبرو کرنے والے ہی کامیابی کا مزہ چکھ سکتے ہیں، خود میں بہتری لا سکتی ہیں۔ یہ لمبی کہانی ہو گئی ہے یہ میں نے خود کو سامنے رکھ کر لکھی ہے میں بھی اسّی فیز سے گزر رہا ہوں کامیابی کی تلاش میں لہذا خود کو جانے گے تو کچھ کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے علم میں عمل میں قلم میں برکت عطا فرمائیں۔ شکریہ

    TA : @AhtzazGillani

  • والدین معاشرتی بگاڑ روکیں  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    والدین معاشرتی بگاڑ روکیں تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بچے من کے سچے ہوتے ہیں عقل کے بھولے ہوتے ہیں اور زہن کے کچے بھی ہوتے ہیں. بچوں کے معاملات میں بچپن سے ہی احتیاط ضروری ہوتی ہے. کیونکہ جب کوئی انوکھی چیز بچے کے زہن میں اترتی ہے تو اس کے دو اثرات ہوتے ہیں. ایک اسکے زہں میں اس حرکت واقع یا چیز کے بارے کئی نے سوالات جنم لیتے ہیں تو دوسرا اس تحقیقی عمل کو بچہ ہمیشہ کے لیے اپنے زہن میں محفوظ کر لیتا ہے. اسی وجہ سے بچوں کی پرورش میں بچپن کا دور انتہائی معنی رکھتا ہے.

    فی زمانہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کا زمہ سکول یا کوچنگ سنٹر پر ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں جو کہ قطعاً درست نہیں. دوسرا بچوں کو رواج اور فیشن میں انکی پسند پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے. دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے والدین رواج اور فیشن میں بچے کو اچھائی برائی کی پہچان کے بجائے خود اس کے پہناوے اور صحبت کو نظر انداز کرتے ہیں.
    حدیث شریف میں حضور اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے.
    تو بچے کی قربت رکھنا اور اس کی قربت میں رہنے والوں کی معلومات رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کس سے کس قسم کا اور کس حد تک تعلق اور میل جول ہے.
    فیشن انڈسٹری نے پاکستان میں جس رفتار سے پنجے گاڑے ہیں اور جس بے دردی سے موجودہ جوان نسل اور چھوٹے بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کی تیاری میں مصروف ہے آج کل کے ماں باپ اس پر توجہ دینے کی بجائے الزام تراشی اور معاشرے پر اس کا زمہ ٹھراتے اور خود کی زمہ داری سے نظریں چرا رہے ہیں.
    بچہ جب چھالیہ یا سپاری کھاتا ہے تو ماں باپ یہ کہ کر ٹال دیتے ہیں چلو ابھی بچہ ہی تو ہے. وہی بچہ عمر کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ جب سگریٹ نوشی تک ترقی پاتا ہے تو والدین کہتے ہیں زمانہ خراب ہے. بھئ زمانہ تو تب بھی ایسا ہی تھا جب اس نے چھالیہ کھایا. تب آپ اگر مطمئن تھے تو اب زمانے کو مت کوسئیے. بچے جب سکولوں میں رقص کرتے والدین شوق سے تصویریں کھنچواتے ہیں. یاد رکھیں یہ وہی تربیت کل اس کو جوانی میں بھی نچواے گی. زمانہ تو اب بھی ویسا ہی ہے تب بھی ایسا ہی ہو گا. زمانہ ایسا بنیا کس نے؟ آپ کی غیر زمہ داری نے.
    متوسط طبقہ کے ماں باپ یہ کہکر بچوں کو چست لباس پہنا دیتے کہ آج کل بازار میں ہے ہی یہی کیا کیا جائے. جس بچی کو آپ نے آج سے ہی بنا بازو شرٹ پہنا دی ہے وہ اس کے زہن میں نقش ہو چکی ہے صاحب. کل کو اسے نافرمانی کے طعنے دینے کی بجاے اپنی غلطی پر ندامت کیجئے کیوں کہ یہ سب آپ نے ہی تو سکھایا ہے.

    یاد رکھیں ایک عادت جو بچپن کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بدلتی خصوصی طور پر ہر وہ عادت جسے خود فروغ دیا جائے.
    فحاشی کا لباس بازاروں میں بکتا رہا. دوکاندار کو منافع خوری سے غرض، مل مالکان کو منافع خوری کی ہوس. کپڑے کا معیار گھٹیا سے گھٹیا کر دیا کی جسم کی رنگت دکھائی دیتی ہے. فیشن کے نام پر آدھا بدن ننگا کر دیا گیا. ایسا منافع دنیا میں بھی بیماریوں میں خرچ ہوتاہے اور آخرت میں بھی زوال کا باعث ہو گا. کیونکہ
    اس بارے سخت وعید موجود ہے.
    جو شخص چاہے قوم میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے.

    کل کو یہی نسل جو بچپن سے بے حیائی کا لباس پہنتی آئی ہو گی آج بھی پہنے گی اور اس کی نظر میں اس میں کوئی برائی والی بات نہیں. اس کی مثال حالیہ وزیراعظم عمران خان کے فحاشی کےبیان پر تلملاتے لبرل فسادیوں کی بکواسیات سے لگایا جا سکتا ہے.
    خدارا اپنی نسلوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر برباد ہونے سے بچائیے

    والدین معاشرتی بگاڑ کو روکیں اور اپنی زمہ داری نبھائیں
    1. بچوں کی صحبت پر نظر رکھیں.
    2. کردار پر نظر رکھیں.
    3. لباس پر نظر رکھیں خود سلا لیں لیکن مناسب پہنائیں اور مستقبل کی ندامت اور شرمندگی سے بچیں. تاکہ کل کو آپ کو اپنی اولاد سے لاتعلقی والی بیان بازی نہ کرنی پڑے.
    4. اپنے والدین اپنے بہن بھائیوں کا ادب سکھائیں. ان سے تعلق کیسا ہونا چاہیے سکھائیں.
    بلوغت میں یہ زمہ داری بھائی کے زمہ بھی آتی ہے کہ ماں باپ کی تربیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے.
    بہنوں کو بھی چاہیے کہ بحیثیت بیٹی باپ کی عزت، بحیثیت بہن بھائی کی غیرت بحیثیت بیوی شوہر کے وقار اور بحیثیت ماں بچوں کے مستقبل کی محافظ رہے.
    یاد رکھئیے!
    ایک مرد کا سدھرنا ایک فرد کا سدھرنا اور ایک عورت کا سدھرنا ایک نسل کا سدھرنا ہے کیونکہ عورت اپنی نسل کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے.
    حضور نبی اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل بروز قیامت عورت اپنے ساتھ چار مرد جہنم میں لے کر جاے گی. باپ بھائی شوہر اور بیٹا کہ مجھے اس نے مجھے گناہ سے نہیں روکا.
    فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    جہاں اسلام نے رشوت کو گناہ کبیرہ کہا وہاں رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا۔
    آج رشوت کا جو بازار گرم ہے اور جو طریقے رائج ہیں انکو دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
    ایک وقت تھا جب رشوت پیسے کی صورت میں یا قیمتی سامان کی صورت پیش کی جاتی تھی لیکن بدقسمتی سے پچھلی چند دہائیوں سے کچھ نئے طریقے آئے جنکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
    اپنے چھوٹے سے عہدے اور فائدے کیلئے طوائفوں کو پیش کیا جانے لگا کچھ تو اس حد کو بھی پار کر گئے اپنی ہی بیوی،بہن اور بیٹی تک کو اس گھناؤنے کام کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔
    اندازہ لگائیں کہ معاشرہ کس قدر گر گیا اور سوچیں کہ اسلام نے آخر یہ کیوں منع کیا تھا اور کیوں اس پہ سخت وعیدیں آئیں کیوں رشوت لینے اور دینے والے کو جہنمی قرار دیا۔
    رشوت سے نا صرف کمزور طبقے،مظلوم اور بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچا بلکہ اس نے تو غیرت اور شرم و حیا کو بھی بیچ بازار فروخت کر دیا۔
    رشوت نے ہماری انسانیت کو ہمارے وقار کو ہماری عزت و آبرو کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
    ہماری اسلامی تعلیمات کو تقریبا دفن کر دیا۔
    ہمارے معاشرے ہمارے نظام کو تہس نہس کر دیا۔
    ہمارے سکول کے چوکیدار سے لیکر بائیس گریڈ تک کا افسر رشوت دے کر بھرتی ہونے لگا۔
    جہاں ہمارے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں ہوا کرتے تھے اسلامی قوانین کے مطابق ہوا کرتے تھے وہ اب رشوت کی بہتی گنگا کی نظر ہونے لگے۔
    ہمارا نظام انصاف ہماری خواہشات کے تابع ہو گیا ہمارا نظام عدل پیسے کی ریل پیل کی نظر ہو گیا۔
    ہمارا مظلوم ظالم کے سامنے بے بس ہو کر خودکشیاں کرنے لگا کیونکہ اس کو عدالتیں انصاف دینے میں ناکام ہو گئیں۔
    ہمارا معاشرہ کے پورا نظام رشوت کے زہر نے زہریلہ کر دیا۔
    قاتل رشوت دے کر آزاد ہو گیا مقتول کے ورثا عدالتوں کے چکر لگا لگا کر انصاف سے مایوس ہو کر بے بس ہو گئے۔
    مظلوم مزید کمزور ہوا ظالم رشوت دے کر مزید طاقتور ہو گیا۔
    مظلوم ظالم کی فریاد عدالتوں میں لے جانے سے ڈرنے لگا۔
    گواہ رشوت لیکر سچی گواہی سے مکر گیا۔
    نوکریاں قابلیت کی جگہ رشوت کے ساتھ تلنے لگیں۔
    غریب آدمی محبت کر کے آگے آنے کی کوشش کرتا رہا اور رشوت کی شاٹ کٹ نے کئی نااہل لوگوں کو آگے لا کر کھڑا کر دیا۔
    نظام تعلیم کو رشوت نے متاثر کیا الغرض ہمارے معاشرے کے ہر کام پہ رشوت کا زنگ چڑھ گیا آج ہر کوئی اسی شاٹ کٹ کو استعمال کرتا ہے بجلی کا میٹر لگانا یا اپنا ہی پیسہ نکلوانا ہے بجلی کا بل جمع کروانا ہے یا اس کو ٹھیک کروانا ہے رشوت تو دینی پڑے گی۔
    یہاں تک کہ کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری کسی بھی دفتر میں جائیں رشوت خور ملے گا۔
    لوگ رشوت دیں گے۔
    آخر کب تک اور کیوں؟
    ہمیں اس نظام کو ختم کرنا ہے اش نظام کے کوڑھ مرض سے اپنے معاشرے کو اپنی نسل کو بچانا ہے۔
    اس نظام کے خاتمے کیلئے ہمیں مل کر کوشش کرنی ہے۔
    ہم نے اپنے اوپر لازم و ملزوم کرنا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے رشوت نہیں دینی کسی کے حق پہ ڈاکہ نہیں ڈالنا۔
    ہم نے ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں یہ زہر پھیلا رہے ہیں۔
    رشوت سے پاک پاکستان۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد کو اللہ نے ہر لحاظ سے مضبوطی عطأ کی ہے چاہے وہ ذہنی ہو یا جسمانی لیکن بعض اوقات یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ آخر کو مرد بھی ایک انسان ہے دل رکھتا ہے خواب دیکھتا ہے اور خواب پورے نا ہونے پہ درد اور تکلیف سہنے کے مرحلے سے گزرتا ہے لیکن مرد کو رونا منع ہے آہ و بکا کرنا منع ہے دکھ اور تکلیف کا اظہار کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ مرد ہے اور کٸ دفعہ یہ بات سننے کو ملتی کہ مرد بن مرد , مرد روتے نہیں 😊

    مرد کے خواب اصل میں اس کے اپنے لۓ ہوتے ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور ان کے خواب پورے کرنے اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہی ذندگی گزر جاتی ہے
    چھوٹے ہوتے سے اس پریشر میں بڑا ہوتا کہ والدین کی خواہش کے مطابق ڈاکٹر یا انجینٸر بننا ہے اور خوب پیسا کمانا ہے پھر شادی کے لۓ ماں باپ کی خواہش اور خوشی سب سے پہلے سوچنی ہے بہنوں کی شادیاں کرنی ہیں

    شادی کے بعد ذمہ داریوں کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے جب بیوی اور پھر بچوں کی خوشی کی خاطر روزی روٹی کی تگ و دو کرتا ہے اور جب کبھی قدرت کی طرف سے تنگی آجاۓ تو بہت سی باتیں سنتا ہے

    بیوی اور اپنے ماں باپ بہن بھاٸی کے درمیان ایک بیلنس رکھنا بھی ایک دشوار مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر دونوں طرف سے طرفداری کے الزام لگتے ہیں
    آندھی طوفان دھوپ بارش گرمی سردی یہ سب خود پہ سہتا ہے اور اپنے خاندان کی خواہشیں اور خوشیاں پوری کرتا ہے

    ان سب کے باوجود مرد کو ہمیشہ ظالم کے طور پہ پورٹریٹ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی پتھر سمجھ لیا جاتا ہے جسے کوٸی تکلیف یا درد نہیں ہوتا
    مجھے یقین ہے کہ اکیلے میں عورت سے ذیادہ مرد روتے ہیں کیونکہ وہ کسی کے سامنے رو نہیں سکتے آخر مرد ہے نا

    یہ سب لکھتے ہوۓ ایک ہی مرد میرے ذہن میں ہے جو میرے آٸیڈل ہیں اور وہ میرے والد صاحب ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کی خوشیوں کے لۓ نا دن دیکھا نا رات بس اپنا آپ مار کے ہمیں دنیا جہان کی سہولتیں دیں جو انہیں نہیں ملی تھی

    عورت اللہ کا ایک تحفہ تو مرد اللہ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی مٹی میں خاندان کی محبت اور ذمہ داریوں کا احساس خوب اچھے سے ملایا گیا ہے

    بیٹا , بھاٸی , باپ اور شوہر , اِن سب رشتوں کو سوچتے ہی اَن گِنت ذمہ داریوں کا سلسلہ ذہن میں آتا ہے جو کہ ذندگی کے ساتھ ہی ختم ہوتا ہے

    @ch_danishh

  • رشتوں کی قدر  تحریر: محمداحمد

    رشتوں کی قدر تحریر: محمداحمد

    رشتے جزبات اور احساسات کے ہوتے ہیں اگر ہم سب رشتوں کی قدر کریں تو کوئی بھائی ، بہن ، والدین عزیز و اقارب دکھی نہیں ہوگا ہر جگہ کہیں جائیداد کا مسئلہ ہے تو کہیں لوگ ایک دوسرے کا حق کھا رہے ہیں بہنوں کے حقوق پر سانپ سونگھ جاتا ہے کہیں اولاد نہیں ہے تو کہیں لوگوں کے تعنوں سے گھر والے آپس میں اختلافات کر کے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اولاد اللہ پاک کی دین ہے جن کی اولاد ہے وہ نیک نہیں ہے آج کل کے دور میں ماں باپ بچے کو اگر موٹر سائیکل لے کے دے دیتے ہیں وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ بچہ اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے ماں باپ یا گھر کے بڑے کا فرض ہے اس کی دیکھ بھال کرے اس کو نصیحت کرے جہاں بچہ غلط کر رہا ہے اس کو ٹھیک کرے تاکہ رشتوں میں قدر بھی رہے اور اچھی صحبت میں بھی رہے

    آج کل کے دور میں اتنی تیزی آگئی ہے کہ ہر انسان کے لئے رشتے کی قدر ایسے ہی ہے جیسے سیڑھی پر پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں جب کو اس سیڑھی کا کوئی استعمال نہیں کرتا تو اس کو کچرہ سمجھ کر کباڑ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم ہے ہر کوئی مفادات کی خاطر تعلق رکھتا ہے ۔ تعلق کو کبھی مفادات کی خاطر نہیں رکھنا چاہیے عزت اللہ پاک نے دینی ہے

    معاشرے میں کچھ لوگوں میں اپنی طرف کھینچ لانے کی طاقت ہوتی ہے مگر اپنا بنا کے رکھنے کی قوت نہیں ہوتی ایسے ہی کچھ رشتے بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر ان کا کوئی نام نہیں ہوتا ان پر ہمارا حق خود بخود اس طرح کا ہو جاتا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں اپنے ساتھ چاہئے ہوتے ہیں بغیر کسی لالچ ، کسی غرض کے ، بس ان کا ہماری زندگی میں ہونا ہی ایک سکون ایک تسلی کا باعث ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا مرد شرم محسوس کرتا تھا کہ بیوی کام کرے اُسے اپنے آپ پہ فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اپنے بچوں کے اخراجات اور گھر کے تمام اخراجات اٹھاتا تھا اب وقت کے ساتھ ساتھ ماحول بدل گیا ہے لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے معاشرے میں مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے بیٹیوں کو کام کرنے کی طرف راغب کردیا ہے بعض لوگوں کو مجبوری کی وجہ سے کام کرواتے ہیں اور بعض لوگ شوق کی وجہ سے ۔ وہی بیٹی سے بیٹا بن کر کام کرنے لگ جاتی ہے اور مرد گھر کے باہر اس کو پروٹیکشن دیتا ہے اب معاشرے میں گھر سے باہر کام کرنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جاتا ہے اس طرح لڑکیوں کا آگے بڑھنے سے نقصانات یہ ہوا کہ جو لڑکیاں نوکری کرتی ہیں ان کیلئے رشتے عام ہوگے ہیں اور جو لڑکیاں کام نہیں کرتی وہ گھر میں بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں جس گھر میں عورتیں سارا دن باہر کے کام کرتی ہیں وہی عورتیں گھر میں آکر کام کرتی ہے تو گھروں میں جھگڑے عام ہوگے ہیں اس سب کا اثر یہ ہوا کہ پہلے مرد کماتا تھا اُس کا انحصار گھر میں ہوتا تھا اب اگر عورت کماتی ہے تو وہ انحصار کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے طلاق کی ریشو بڑھ گئی ہے

    مُخلص رِشتوں کی قدر کریں کیونکہ جہاں رُوح کے رشتے قائم ھوں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ھوتے۔ اور رہ گئ بات آپ کی تو اچھے لوگوں کو کھو کر اپ نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا یہ وقت آپ کو بتاۓ گا

    @JingoAlpha