Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر :  ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر : ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگرانسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بےعیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگرآج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔

    اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    @zulfiqar7034

  • ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    آج کے دور کو بہت سے نام دیے جاتے ہیں گلوبل ویلیج سے ٹیکنالوجی سے لیس تیز بھاگتی دوڑتی دنیا ہمارے اس دور میں ہر شخص مصروف ہر شخص بھاگ رہا ہے اک ریس میں اک دوڑ میں۔ پیسہ بنانے کی دوڑ میں کامیاب ہونے کی دوڑ میں ۔۔ پیسہ زندگی کی ضرورت نہیں رہا بلکہ زندگی کا مقصد بن چکا ہے ۔ کوئ بھی اپنی انکم سے خوش نہیں ہر کسی کو مزید سے مزید کی تمنا ہے۔ خواہ اسکی خاطر اپنا راتوں کا آرام اپنے دن کا سکون اپنا کھانا پینا سب قربان کرنا پڑے کرنے کو تیار ہیں.

    پیدا ہوتے بچے کے مستقبل کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے مستقبل میں اس بچے کو کس پیشے سے منسلک کرنا ہے۔ کونسا پیشہ زیادہ کامیابی سے زیادہ کمانے کی اس دوڑ میں سب سے آگے ہے سکول سے کالج یونیورسٹی تک اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ اس ادارے سے پڑھایئں جسکی ڈگری پروفیشنل لائف میں ترجیحی بنیادوں پر تسلیم کی جائے جس سے ایک اچھی بھاری تنخواہ کی نوکری مل سکے ۔۔
    کچھ عرصہ پہلے تک پیسہ اتنا ضروری نہیں تھا جتنا اب ہے۔ہم اپنے رشتے اپنی دوستیاں حتی کہ اپنی اولاد تک کو فراموش کیے بیٹھے ہیں۔۔
    ہم زندہ رہنے کے لیے نہیں کماتے بلکہ کمانے کے کیے زندہ رہتے ہیں ۔ دن بدن ہماری ضروریات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے جسکے لیے مزید محنت مزید پیسہ چاہیئے۔

    پیسے کی اس دوڑ اور اس کمائ کی لت نے نوجوان نسل سے وہ کام بھی کروائے ہیں جو کچھ عرصہ قبل تک قبیح سمجھے جاتے تھے۔ ٹک ٹاک سنیک ویڈیوز بگو لایئو جیسی ایپس نے اس دوڑ میں آکر نوجوانوں کو ایک الگ ہی نشے سے متعارف کروا دیا ہے ۔ نوجوان نسل بنا کسی نقصان کے بارے میں سوچے دھڑا دھڑ ان ایپس سے منسلک ہوتے جا رہے ہیں اور اس سے ہماری مشرقی اقدار بہت بری طرح پامال ہوئ ہیں۔دوسرے الفاظ میں اپنی اقدار کا سودا چند ہزار یا لاکھ میں کیا گیا ۔

    ڈیجیٹل کرنسی کے نام پر چلنے والی کریپٹو کرنسی نے اس ریس میں مزید نوجوان اس آگ میں دھکیل دیے ہیں۔ جوے اور سود کو ایک شوگر کوٹڈ گولیبکی طرح پیش کیا جا رہا ہے جسکو نگلنے کے لے ہزاروں لاکھوں لوگ بیتاب بیٹھے ہیں۔
    بچوں کا تعلیم حاصل کرنے کا مقصد شخصیت یا معاشرے کی تعمیر نہیں بلکہ پیسہ و شہرت رہ گیا ہے ۔ کیونکہ تعلیمی اداروں کا مقصد بھی پیسہ کمانا ہے طلبا کی ذہنی و اخلاقی تربیت نہیں۔۔جتنا بڑا تعلیمی ادارہ ہو گا اتنے ہے بے حس لوگ معاشرے میں دے رہا ہو گا ان طلبا کی ذہنی گروتھ بھی اسی نہج پر کی جاتی ہے کہ کس طرح وہ مستقبل میں اپنے فانینشل سٹیٹس مزید بڑھا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے ہم دن بدن پیسے کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور اخلاقیات میں گرا ہوا معاشرہ بنا رہے ہیں اور یہی معاشرہ یہی سوچ اور یہی اقدار اپنی آنےوالی نسلوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

    ہم ایک بے حس معاشرہ تعمیر کر رہے ہیں۔ایک ایسا معاشرہ جسکا دنیا میں آنے کا مقصد ہی فقط پیسہ کمانا ہے۔ جہاں نوجوان نسل کو اس بات کی ترغیب دلائ جاتی ہے کی اگر آپ غریب پیدا ہوئے ہیں تو آپکا قصور نہیں اگر آپ غریب مر جایئں تو آپکا قصور ہے۔ اور یہی مقصد زندگی بنا دیا گیا جو ہم آج دیں گے کل اسی حال میں معاشرے کو دیکھیں گے ۔۔۔فیصلہ آج بھی ہمارا ہے ہمارے آنے والی نسلوں کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے.

    Twitter handle @ShezM__

  • عوامی کرپشن اور چھوٹی چھوٹی بے ایمانیاں . تحریر :  محمد عمران خان

    عوامی کرپشن اور چھوٹی چھوٹی بے ایمانیاں . تحریر : محمد عمران خان

    جی ہاں ہم حکمرانوں کو دن رات صبح شام کرپٹ کرپٹ کہتے نہیں تھکتے حالانکہ حکمرانوں سے کہیں زیادہ کرپٹ ہم خود عوام ہیں ۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جی عوام کیسے کرپٹ ہو سکتے ہیں؟
    تو پھر غور سے پوری تحریر پڑھ کے خود فیصلہ کیجئے کہ کیا ہم کرپٹ ہیں یا نہیں؟!
    ایک بینک کے مینیجر سے شروع کرتے ہیں، کہ ‏‎بہت سے بینک منیجر اپنے کام سے بے خبر ہیں انکے زیر انتظام کارکن کا رویہ کلائنٹ کیساتھ ہتک امیز ہوتا ہے, مگر ان صاحب کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ تو کیا ہم اسے ایک ایماندار بینک مینیجر کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    اب آتے ہیں بڑے بڑے ڈاکٹروں کی طرف، ڈاکٹر حضرات نے جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے وہ کسی بھی ذی شعور سے ڈھکا چھپا ہر گز نہیں، مریضوں کی زندگی سے کھیلنے کا تو انکا شاید معمول بن چکا ہے، دوائی وہ لکھ کر دیں گے جو انکے بتائے گئے من پسند میڈیکل کے علاوہ آپکو کہیں اور نہیں ملے گی. چاہے وہ دوائی آپ کیلئے فائدہ مند ثابت ہو یا نہیں یہ آپکی قسمت، تو کیا ہم ان جیسے نام نہاد پڑھے لکھے ڈاکٹروں کو ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    اب بات کرتے ہیں پیٹرول مافیا کی، انکی کارستانیوں کا کس کو نہیں معلوم کہ جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتو فورا بعد ہی قیمتیں بڑھا کر پچھلی قیمت پر خریدا ہوا تیل نئی قیمت پر فروخت کر کے کروڑوں روپے کماتے ہیں، لیکن اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی اعلان ہو جائے تو پہلے تو چند روز تک قیمت کم نہیں کرتے بلکہ اسی قیمت پر فروخت کرتے رہتے ہیں، پھر اگر کم کر بھی دیں تو تیل ڈالتے وقت پیمانے میں ایسی ردو بدل کرتے ہیں کہ قیمت بھی وصول ہو جاتی ہے اور گاہکوں کی جیب سے ہی وہ اپنا خسارہ پورا کر لیتے ہیں۔ سوال تو بنتا ہے نا ادھر کہ کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب سے آپ بخوبی واقف ہیں۔

    چلیں شوگر مافیا کے کارنامے بھی دیکھ لیں، چینی اگر مہنگی ہو جائے تو ان کا رکھا ہوا سٹاک فورا باہر آنا شروع ہو جاتا ہے اور دھڑا دھڑ فروخت ہونے لگتا ہے لاکھوں کروڑوں اربوں روپے کماتے ہیں۔لیکن اگرخدانخواستہ چینی سستی ہو بھی جائے کسی طرح تو یہ بالکل بھی نہیں فروخت کرتے بلکہ اسٹاک کر لیتے ہیں چینی چھپا دیتے ہیں چینی مارکیٹوں میں ناپید ہو جاتی ہے پھر مجبورا ریٹ خود بخود بڑھ جاتے ہیں اور جب ریٹ بڑھ جاتے ہیں تو وہی چینی یہ لوگ نکال کے پھر فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں اربوں روپے کروڑوں روپے کما کے یہ لوگ کہاں جاتے ہیں کدھر کرتے ہیں کیوں کرتے ہیں ایسا ؟کیا یہ ملک کے ساتھ پاکستان کی عوام کے ساتھ ہم غریبوں کے ساتھ ظلم نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟تو کیا ہم ان کو ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے ہرگز ہرگز نہیں!
    کس کس کا رونا روئیں شوگر مافیا، تیل مافیا، آٹا مافیا یا ایسے کئ مافیاز سے ہمارا ملک بھرا پڑا ہے۔

    چھوڑیں ان بڑے بڑے مافیاز کو تو آپ ذرا چھوٹے لیول پہ آجائیں ہم آپ کو ان کی کارستانیاں بھی سناتے ہیں ۔ چھوٹے سے چھوٹے پرچون والے سے شروع کرتے ہیں ایک پرچون والا دکان دار اگر کسی کو ادھار چیز دیتا ہے تو 2 نمبر چیز دے گا اور ریٹ کم از کم دس فیصد زیادہ رکھے گا۔ ناپ تول میں کمی کرے گا۔ اگر کوئی نقد چیز لینے والا آئے تو اسے اچھی چیز دے گا۔ موجودہ ریٹ لگائے گا۔ اور یہ ان پر احسان نہیں کر رہا ہو گا پھر بھی اس میں کچھ نہ کچھ ضرور گڑبڑ کرے گا پرانا خراب شدہ مال نئے مال میں مکس کرکے بیچ دیتا ہے چاول دال وغیرہ جو پہلے سے خراب ہوئی پڑی ہوتی ہیں وہ نئے مال میں مکس کرکے بیچ دیتا ہے اچھا کہے کے ،اب جو لینے آئے گا وہ ایک ایک چیز تو چیک کرے گا نہیں لیکن جب وہ گھر جائے گا دیکھے گا استعمال کرے گا تو اس کو بعد میں پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ یہاں صرف یہ چیز نہیں ہے اور بھی اس طرح کی بہت سی خرابیاں ہوتی ہیں جو وہ لوگ کرتے ہیں اور خود کو ایماندار کہتے ہیں۔ ان کو کچھ نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں خود اپنے ساتھ وہ کیا کر رہے ہیں۔
    تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں جواب ہے نہیں!

    ایک چھوٹے سے چھوٹا گنے کے رس کی ریڑھی والا وہ بھی اسی طرح کی بے ایمانی کرتا ہے گنے کے رس میں برف اتنی ڈال دے گا کہ ہر گلاس میں گنے کا رس آدھے گلاس سے بھی کم ہوگا باقی پورا گلاس پوری جگ اس کی برف سے اس کے برف والے پانی سے بھر جائے گی نمک ڈالے گا مصالحے ڈالے گا اس طرح کی چیزیں ڈالے گا پورا کرکے آپ کو گلاس یا جگ پکڑا دے گا یہ آپ کا گنے کا رس پئیں اس میں زیادہ پانی ہوگا اور معمولی سا گنے کا رس ہوگا۔ اور گنا خراب ہے اچھا ہے جیسا بھی ہے وہ اپنی جوس والی مشین میں ڈال دے گا اور آپ کو اس کا رس نکال کر دے دے گا اس میں گنے میں کیڑے تھے اچھا تھا برا تھا یہ آپ کی قسمت آپ کو بس رس پینا ہے۔ تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    شہر سے نکل کرآپ دیہات کی طرف آ جائیں جو لوگ فصلیں اگاتے ہیں کپاس، گنا ،گندم ،چاول وغیرہ جو چیز لوگ اگاتے ہیں وہ اپنی فصل کی دیکھ بھال کیسے کرتے ہیں شاید ہی کوئی ہو گا جو اچھا پانی دیتا ہوگا اپنا حلال کا پانی دیتا ہوگا اپنا ٹیوب ویل استعمال کرتا ہوگا شاید ہی کوئی قسمت والا مل جائے۔ لیکن اکثر میں نے خود دیکھا ہے کہ بے ایمانی سے کھیتوں میں پانی ڈالتے ہیں چوری کا پانی لیتے ہیں رات کو کافی کافی دیر تک جاگتے ہیں جب دیکھتے کوئی نہیں ہوتا تو چوری کا پانی کھول کے اپنی فصلوں کو دیتے ہیں چاہے وہ کپاس ہو چاہے وہ چاول ہو چاہے وہ گنے کی فصل ہو کچھ بھی ہو چوری کا پانی دے کے چوری کی فصل اگا کے حرام اس میں شامل کرکے وہ خود کو ایماندار سمجھتا ہے۔ وہ خود کے ساتھ اتنا ظلم کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کو اندازہ ہی نہیں ہوتا نہ تو وہ اپنے بچوں کو حلال کھلا رہے ہوتے ہیں نا خود کھا رہے ہوتے ہیں اور نہ آنے والی ان کی نسلیں حلال کھائیں گی ۔ سب کے سب اس میں شامل ہیں۔ تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں ؟ہر گز نہیں!

    بڑے سے بڑے وکیل کیس چاہے جیسا بھی ہو اگلے کا قتل بھی ہو چکا ہو اگلا بہت مجبور ہو لاچار ہو لاوارث ہو اس کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ وکیل نہیں کر سکتا تو اس کو انصاف نہیں ملے گا۔ لیکن دوسری طرف اگر اس نے قتل کیا ہو اس نے زیادتی کی ہو اس نے بچوں کا ریپ کیا ہو اس نے بڑی سے بڑی زیادتی بڑے سے بڑا جرم کیا ہو اور اچھے سے اچھا وکیل اتنا سارا پیسہ دے کہ اگر وہ خرید لیتا ہے تو وہ وکیل جی جان سے اس کو جتوانے کے لئے کیس لڑے گا اور آخر اس کو کیس جتوا کر کے ہی دم لے گا تو کیا وہ وکیل نے جو پیسے لیے وہ کرپشن نہیں ہے کیا وہ بے ایمانی نہیں ہے کیا وہ اپنی نسلوں کے ساتھ ظلم نہیں کر رہا جواب ہے کہ ہاں بالکل کر رہا ہے۔ تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے کہ نہیں!

    ڈیجیٹل میڈیا پربیٹھے ہوئے صحافی شاید ہی کوئی ایماندار ہو گا اکثریت دیکھنے میں آتی ہے کہ جھوٹی خبریں شیئر کرتے ہیں دوسری پارٹیوں سے پیسے لے کے حکومت پر تنقید کرتے ہیں حکومت سے پیسے لے کے دوسری پارٹیوں پر تنقید کرتے ہیں جو پارٹی ان کو پیسے دے ان کی ہر بری چیز اچھی کر کے دکھاتے ہیں اور جو پیسے نہ دے جو اپنا پیسہ حرام نہ کرے حلال کر کے اپنی قوم کو کھلائے اور ان لفافہ صحافیوں کو پیسے نہ دے وہ بیچارا ایسے ہی ذلیل ہوتا رہے گا دن رات سوشل میڈیا پر بھی اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھی یہ میں صرف ایک آدمی کی بات نہیں کر رہا،ایسے شاید کئ لوگ ہوں گے۔
    تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ بالکل بھی نہیں!

    سکول مافیا کی بات کر لیتے ہیں سکول مافیا وہ مافیا ہے جو اپنے پرائیویٹ سکولوں میں دس دس جماعت پڑھے ہوئے لوگوں کو استاد بنا کر پیش کر دیتے ہیں چند ہزار روپوں کے چکر میں آنے والی نسلوں کو بچوں کو ان سے تعلیم دلوا کے جو خود پڑھے لکھے نہیں ہوتے جن کو خود تعلیم حاصل کرنی چاہیے وہ بچوں کو پڑھا رہے ہوتے ہیں کیا پڑھا رہے ہیں؟ انہیں صرف پرائیویٹ سکول کو چلانے کے لیے ان جیسے لوگوں کو چند روپوں میں خرید کے بچوں سے پھر اس کی قیمت وصول کرتے ہیں، اربوں روپے کروڑوں روپے ان بچوں سے صرف اس مد میں وصول کیے جاتے ہیں کہ ان کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان کو تعلیم کیا دی جارہی ہے یہ نہ تو ہم جانتے ہیں نہ بچوں کے والدین جانتے ہیں اور نہ خود پڑھنے والے بچے جانتے ہیں۔ تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ یا استاد کہہ سکتے ہیں ؟جواب ہے کہ بالکل بھی نہیں!
    میری ایک چھوٹی سی تحریر سے شاید کچھ لوگ اتفاق نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے امید کروں گا کہ آپ سب کو پسند آئے گی ان شاء اللہ ۔اللہ تعالی ہم سب کو ان چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو رزق حلال کھانے اور کمانے کی توفیق عطا فرمائے ، اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو، آمین یا رب آمین!

    @Imran1Khaan

  • کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے . تحریر:‌ محسن ریاض

    کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے . تحریر:‌ محسن ریاض

    ارتقاء کے دور سے ہی کتاب نے انسانوں کا ساتھ سنبھال لیا تھا مگر اس وقت اس کا استمال بہت محدود ہوتا تھا اس وقت اس کو پتھروں کے ٹکڑوں پر کندہ کر کے ، درختوں کی چھال یا پھر پتوں پر اس کے علاوہ جانوروں کی ہڈیوں پر لکھ کر محفوظ کیا جاتا تھا آہستہ آہستہ آٹھویں صدی میں کاغذ ایجاد ہوا اور کتابوں کو نئی زندگی مل گئی اور ان کاغذوں پر سیاہی کی مدد سے ہاتھوں سے لکائی کی جاتی اور یہ سہولت صرف بادشاہوں اور امرا ء کو حاصل ہوتی تھی اوران مقاصد کے لیے انہوں نے بھاری معاوضے پر خطاط رکھے ہوتے تھے اس طرح یہ سہولت عام افراد تک نہیں پہنچ پا رہی تھی اس زمانے میں زیادہ تر مسلمان ہی کتابوں کے وارث سمجھے جاتے تھے اور ہر میدان میں عیسائیوں سے آگے تھے ابن الہیثم اس وقت ماہر طبیعات تھے جنھوں نے افلاطون کی تھیوری غلط ثابت کی اور بتایا کہ آنکھوں سے روشنی نکل کر چیزوں پر نہیں پڑتی بلکہ روشنی آنکھوں میں داخل ہوتی ہے جس سے چیزیں نظر آتی ہیں انہوں نے ریاضی کی مدد سے بھی اس چیز کو ثابت کیا- جابر بن حیان پہلے کیمیادان تھے جنھوں نے گندھک کا تیزاب ایجاد کیا اور ایسا تیزاب بھی بنایا جس سے سونا پگھلایا جا سکے –

    اس کے بعد جنگ و جدل کا دور شروع ہوا اورعیسائیوں نے بغداد اور سپین میں مسلمانوں کی لائبریریوں کو جلانا شروع کر دیا یا پھر کتابوں کو قبضے میں لے لیا -قاہرہ کی لائبریری کی کتابوں کو دریا میں پھینکا گیا جس سے دریا کا پانی سیاہ ہو گیا اس کے علاوہ کئی واقعات ہیں اس سے مسلمانوں کا زوال شروع ہوا اور عیسائی علم کے وارث بن گئے-وقت کا پہیہ ایک بار پھر گھوما اور چھاپنے والی مشین ایجاد ہو گئی اس نے کتاب کے نظریئے کو ہی بدل کر رکھ ڈالا اور چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد ہر خاص و عام کو کتاب تک رسائی مل گئی-اس کہ بعد لوگوں میں کتابوں کا ذوق پیدا ہوا اور لوگوں نے اپنی لائبریریاں بنانی شروع کر دیں دیوان غالب ہو یا کلیات میرانہوں نے لوگوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی –

    قیام پاکستان کے بعد چند سالوں تک تو لوگوں کو سنبھلنے میں وقت لگا مگر جب سنبھل چکے تو کتابوں کی طرف رخ کیا اس دور کو کتابوں کے لیے گولڈن دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ اس وقت کتابوں کی مقبولیت میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا تھا -قرۃ العین حیدر کے آگ کے دریا نے تہلکہ مچا دیا تھا اس کے علاوہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ نے اہم کردار ادا کیا -شاعر حضرات میں سے احمد فراز ،حبیب جالب اور فیض احمد فیض نے اپنا کردارادا کیا-

    اس کے بعد ٹیکنالوجی کا دورآیا اور کتابوں سے لوگ دور ہونے لگے ۔زیادہ تر لوگ معلومات کے لیے کتابوں کی بچائے انٹرنیٹ کا سہارا لینے لگے اور اس طرح ایک عہد تمام ہوا-اب تو زیادہ تر لوگ کتابوں کو پی ڈی ایف پر ہی پڑھتے ہیں تاکہ وقت کی بچت بھی کو سکے اور سرمائے کی بھی-مگر وہ چاشنی جو کتابوں کے اوراق میں چھپی ہوتی ہے وہ آنلائن پڑھنے میں کہاں ملتی ہے -مگر اس دور میں بھی فیض فیسٹیول اور دیگر اس طرح کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں تاکہ کتابوں کو زندہ رکھا جا سکے -اس وقت لائبریری میں نہ ہونے کے برابر افراد ہوتے ہیں موجودہ دور میں عرصہ دراز ہو گیا تھا کہ کتابوں کو پرموٹ کیے جانے کے حوالے سے کوئی سیمینار دیکھا گیا ہو مگر گزشتہ دنوں حسنین جمال کی طرف سے کتاب لکھی گئی اور اس کی تقریب رونمائی کے علاوہ حسنین صاحب نے جس طرح مختلف شہروں میں جا کر قارئین سے ملاقاتیں کی اور کتاب کی پروموشن کی وہ قابل دید تھی یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید یہ صدی کتابیں اپنا وجود قائم رکھ سکیں ورنہ آجکل کے مشینی دور میں طلبا کی اکثریت ایسی ہے جس نے شائد سلیبس کے علاوہ کوئی کتاب پڑھی ہو-آج کے دور میں ٹیکنالوجی بھی بے حد ضروری ہے مگر کتابوں کے ساتھ بھی رشتہ بنائے رکھنا چاہئیے۔کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے جو سعود عثمانی صاحب نے فرمایا
    کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
    یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

    mohsenwrites@

  • عوامی مقامات اور ہمارا رویہ . تحریر :‌ قیصرعباس سیال

    عوامی مقامات اور ہمارا رویہ . تحریر :‌ قیصرعباس سیال

    جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
    میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

    ملکِ پاکستان وہ مملکت خداداد ہے جسے ان گنت قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا. یہ وہ وقت تھا جب عوام میں ملک حاصل کرنے کا شعور تھا اورایک قوم بن کے سوچنے کا وقت بھی. موجودہ دور میں ایک سے بڑھ کر ایک معاشرتی مسائل موجود ہیں. معاشرہ تب بگڑتا ہے جب اجتماعی برائیوں سے قطع نظر انفرادی برائیاں بڑھ جاتی ہیں. ڈاکٹر محمد اقبال یونہی نہیں "افراد” پر زور دے گئے. کیونکہ ایک فرد بذاتِ خود پورا معاشرہ ہوتا ہے. مختلف مقامات پر انسان کا رویہ مختلف ہوتا ہے اور بعض اوقات مختلف ہونا بھی چاہیے. کسی شخص کا مخصوص اوقات میں اپنایا گیا رویہ اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے. عوامی مقامات پر ہمیں کس قسم کے رویے اپنانے چاہیے؟ عوامی مقامات میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا عوامی مقامات پر منفی رویہ معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے؟ آئیے کچھ مقامات پر ہمارے رویوں کا جائزہ لیتے ہیں.

    پبلک پارک: صحت مند جسم میں ہی صحت مند ذہن ہو سکتا ہے، یہ تو ہم نے کتابوں میں پڑھ لیا. اس جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے بہت سی ضروری چیزوں میں سے پارک ایک نہایت ضروری چیز ہے. صبح و شام پارک میں چہل قدمی انسان کو جسمانی و ذہنی طور پر تر و تازہ رکھتی ہے. سوچنے کی ضروت ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے کسی رویے کی وجہ سے پارک میں موجود کوئی شخص متاثر نہ نہیں ہو رہا ہو. افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پارکس میں کچھ "نوجوان” طبقے سے تعلق رکھنے والے حضرات وہاں آئی فیملیز پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی طور پر ان رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں.

    پبلک مقامات میں زیادہ استعمال ہونے والی جگہوں میں ایک بینکوں کے اے ٹی ایم بھی ہیں. یہاں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور اندر موجود ایک شخص کچھ غیر ضروری معلومات دیکھتے دیکھتے آدھا گھنٹہ صرف کر دیتا ہے جو باہر کھڑے لوگوں کے لیے اذیت ہے. ہمیں چاہیے کہ جس بینک میں اکاؤنٹ ہے اس کی موبائل ایپلیکیشن اپنے موبائل میں رکھیں اور بیلنس معلوم کرنا، بلوں کہ ادائیگی اور فنڈز ٹرانسفر جیسے کام گھر بیٹھ کر ہی کریں تا کے اے ٹی ایم پر کم سے کم رش ہو.

    ملک کا بیشتر طبقہ آمدورفت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتا ہے. اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بس / ویگن میں موجود اخلاقی اقدار سے ناواقف کچھ لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے جو ساتھ بیٹھے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں.
    سگریٹ-نوشی، پان چبانا، تھوکنا، اونچی آواز میں فون سننا اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی ان میں سے چند ایک ہیں. یہ ضروری ہے کہ سفر کو سفر سمجھ کر ہر شخص ساتھ بیٹھے شخص کو سہولت فراہم کرنے کا شعور رکھے.

    ملک پاکستان کو اللّٰہ پاک نے جس خوبصورتی سے نوازا ہے وہ شاید ہی کسی اور ملک میں ہو. یہاں گرم و سرد علاقے ، سر سبز میدان، دریائی مقامات، سمندری نظارے اور خوبصورت پہاڑی علاقے موجود ہیں. جہاں انواع و اقسام کی جگہیں موجود ہیں جو مقامی و انٹرنیشنل سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں. مگر کچھ عرصہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم بطور سیاح جب کسی مقام پر جاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں یا وہیں سے کچھ لے کر کھاتے ہیں یا استعمال کرتے ہیں تو کوڑا کرکٹ وہیں ڈھیر کر دیتے ہیں.
    پہاڑوں میں وادیوں میں جہاں ہم کیمپ لگاتے ہیں وہاں جا کر کس نے صفائی کرنی ہوتی ہے. اس لیے اشرف المخلوقات ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم ان مقامات سے اپنے استعمال کے بعد بچنے والی چیزوں اور کوڑے کو اچھی طرح یا تو تلف کریں یا پھر اپنے ساتھ واپس لائیں اور جہاں کوڑے دان لگے ہوں وہاں ڈالیں. یہ رویہ ہمارے صحت افزا مقامات کو بحال رکھے گا.

    بھی بہت سے مقامات پر ہمارے رویے لوگوں پر منفی اثر ڈال رہے ہوتے ہیں. ان سب مسائل کا ایک ہی حل ہے. کہ ہم دوسروں کے لیے جو پریشانی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں، ہم یہ سوچیں کہ اگر یہ ہمارے لیے کوئی پیدا کرے تو کیا ہمیں ناگوار نہیں گزرے گا؟
    سوچنا شرط ہے. انفرادی تبدیلی لائیں، اجتماعی تبدیلی خود بخود آ جائے گی.

    Twitter : @Q_Asi07

  • سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر  تحریر : محمّد عثمان

    سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر تحریر : محمّد عثمان

    ………………
    عید کے تیسرے دن دوست کے ساتھ شاہ عبدالطیف بھٹائی رح کے مزار پر جانا ہوا تو وہاں موجود سات آٹھ سال کا ایک خوب صورت اور معصوم سا بچہ اچانک ہمارے پاس آ کھڑا ہوا. "انکل ہم سے بیلون خرید لیجیے نا امی کے لیے دوا لانی ہے.” میرے ساتھ میرے دوست نوید احمد (بھٹ شاہ والے ) تھے. بچے کی خوبصورتی، اس کے لہجے کی معصومیت اور بیلون بیچنے کا اس کا یہ انداز ہم دونوں کے لیے حیران کن تھا. میں نے بچے کو پیار کرتے ہوئے اس کا نام اور پتہ پوچھا. ہمیں یہ جان کر مزید حیرت ہوئی کہ بچہ( بھٹ شاہ) کا رہائشی ہے. ہم نے بچے سے بیلون لے کر اسے کچھ پیسے دے دییے اور اسے یہ کہہ کر گھر جانے کو کہا کہ ہم تمہارے گھر آئیں گے. رات جب ہم واپس آئے تو بچے کی بتائی ہوئی جگہ پر اسے ڈھونڈنے نکلے. تھوڑی سی کوشش کے بعد اس کے گھر کا پتہ چل گیا. گھر میں اس کی والدہ تھیں جو واقعی بیمار تھیں اور بیماری کی وجہ سے کام پر جانے سے معذور تھیں. انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ گھروں میں کام کرتی ہیں جس سے ان کے گھر کا خرچ چلتا ہے. انہوں نے اقرار کیا کہ بحالت مجبوری وہ اپنے بچے کو بیلون بیچنے کے لیے باہر بھیجتی ہیں تاکہ گھر کا خرچ نکل سکے اور دوا وغیرہ کا انتظام ہو سکے.
    خاتون کی بات کس حد تک صحیح ہے یہ پتہ کرنے کے لیے ہم نے آس پاس کے کچھ معتبر لوگوں سے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ عورت واقعی قابل افسوس ہے. اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے.
    اللہ عزیزی مبشر حیات خاں اور اسامہ سلمہ کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے بروقت وہاں فوری ضرورت کی چیزیں مہیا کر دی ہیں لیکن یہ سوال قابل غور ضرور ہے کہ ہم لوگ دنیا جہان کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اپنی تحریر و تقریر سے زمانے میں انقلاب لانے کا خواب دیکھتے ہیں اور ہمارے اس پاس میں ہی نہ جانے کتنے گھر ہماری توجہ کے مستحق ہوتے ہیں اور ہمیں علم تک نہیں ہوتا. ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو. آج ہمارے یہاں عبادات کے نام پر مساجد ضرور آباد ہیں، بڑے بڑے اصلاحی اجتماعات بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے خدمت خلق کے نبوی اصول کو بہت حد تک فراموش کر دیا ہے. یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں اپنے محلے کے اس گھر کی خبر نہیں جہاں غربت و افلاس کی وجہ سے دو وقت چولہا جلنا محال ہے. اللہ ہمیں معاف فرمائے.
    ………….

    Twitter @UsmanKbol
    Email MrUsmann44@gmail

  • اندھے  مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    اندھے مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ملتان سے اسلام آباد واپسی کے راستے میں ایک ایسی تحریر لکھ رہا ہو جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نہ الفاظ اکٹھے ہو رہے ہیں اور نہ ہی سوچ ۔۔۔ پنجاب کا صوبائی درالکومت لاہور اور سرزمین اولیا ملتان میں مختلف اور تاریخی مقامات کا وزٹ کر نے کے بعد ملتان سے اسلام آباد کے لمبے اور تَکا دینے والے سفر کے باعث زہن بھی ماوّف ہیں اور نیند کی غلبے کی وجہ سے لکھنے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے ۔

    چلتی ہوئی گاڑی میں یوں بھی کچھ لکھنا آسان نہیں ہوتا !
    راستوں کی نہ ہمواری کے باعث ہاتھ ایک جگہ پر ٹھہر ہو ہی نہیں پاتا۔۔اور آج تو محض ہاتھ نہیں سوچھے بھی تو کسی ایک نقطے پر ٹھہر نہیں ہو پا رہی ۔۔ کیونکہ ملتان میں جو دیکھا ہے اُس نے میرے دیکھنے اور سوچھنے کے تمام زاویوں کو بدل کر رکھ دیا ہیں ۔
    میں نےبیس برسوں میں شاید یہ پہلی بار دیکھا ہوں ۔

    یہ کہانی ” حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزار کے احاطے میں ہونے والے وہ مناظر جس پرلکھنا بھی مشکل ہے ۔ وہ مناظر آپ آخر میں اس تحریری نوٹ میں پڑھ لیں گے لیکن حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کے بارے جو قصہ مشہور ہے پہلے وہ زرا پڑھیئے گا. کہتے ہیں ملتان میں گرمی اس لیے زیادہ ہے کہ سینکڑوں برس پہلے شاہ شمس نام کے ایک بزرگ ملتان تشریف لائے تھے۔ روایت ہے کہ ایک روز اُن کا جی چاہا کہ وہ بوٹی بھون کر کھائیں۔ مورخین کہتے ہیں بوٹی بھوننے کے لئے شاہ شمس نے ملتانیوں سے آگ مانگی۔ اور اہل ملتان نے اس درویش کو آگ دینے سے انکار کردیا۔ درویش کوجلال آگیا۔ نام ان کا شمس تھا انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور شکوہ کیا کہ ملتان والے بوٹی بھوننے کے لئے مجھے آگ نہیں دے رہے۔ ایسے میں سورج شمس کی مدد کو آیا بلکہ روایات کے مطابق سورج سوا نیزے پر آ گیا۔ اورشاہ شمس نے سورج کی گرمی میں بوٹی بھون کر مزے سے کھا لی۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا اسے ملتانی زبان میں” دھپ سڑی “کہا جاتا تھا پھر یہ سورج میانی کہلایا اور جب امن محبت کا درس دینے والے ملتانی فرقوں میں تقسیم ہو گئے تو کچھ لوگ اسے شیعہ میانی بھی کہنے لگے۔ بوٹی بھوننے والی اس روایت میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں لیکن یہ کچھ سوالات کو ضرور جنم دیتی ہے۔ مثلاً یہی سوال کہ آخر ملتانیوں نے شاہ شمس کو آگ دینے سے انکار کیوں کر دیا تھا؟ اگر وہ ایسے نہ کرتے تو شاید یہ شہر اس زمانے سے اب تک اس طرح سورج کے عتاب کا شکار بھی نہ ہوتا۔ ایک خیال یہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا ملتان والے اس زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے؟ خیر روایات اور قصے کہانیوں پر ہم تو آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتے۔ ہاں جو یقین کرتے ہیں انہیں پھر یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ روادار سمجھے جانے والے ملتانی کسی زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے۔ لیکن اس تذکرے کو چھوڑیں اور آیئے وہ مناظر ملاحظہ کیجئے۔

    برصغیر کے معروف صوفی بزرگ شیخ اسلام حضرت بہاالدین زکریا اور سلسلہ سہروردیہ کے مشہور و معروف روحانی پیشوا حضرت شیخ شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ کی مزار کے بعد چند منٹ کے فاصلے پر حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزارکا رخ کرلیا۔
    ملتان کے گنجان گلیوں میں واقع شاہ شمس تبریزی کے مزار پہنچے تو مزار کے تمام داخلی راستوں پر دس زیادہ پولیس اہلکار تعینات کردی گئی تھی۔ راستے میں تین جگہ جامہ تلاشی دینے کے بعد مزار کے احاطے میں داخل ہو ۔ مزار پر زائرین کی تعداد بہت زیادہ تھی اور جو لوگ زیارت کے لیے آئے تھے وہ جوش وجذبہ سے بھرپور تھے۔

    اب میں عین اُس ہال میں کھڑا تھا جہاں پر بہت آسانی سے تمام تر ہونے والے عمل کو نوٹ کیا جاسکتا ہے ۔میری پہلی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو چہچ چہچ کر کہتا تھا کہ مولا مجھے یہاں موت نصیب کریں ۔ ساتھ میں کھڑی جوان لڑکی رو رو کر یہ دعا مانگتی تھی کہ بابا تین سال ہونے کو ہے مگر پھر بھی اولاد نہ ہوئی۔ ایک اور عمر رسیدہ شخص مزار پر چادر ڈال کر چلتے چلتے دو تین سجدے کر کے چلے گئے۔ وہاں موجود ہر دوسرا شخص ایسی ایسی حرکتے کررہے تھے جسے دیکھ کر میری اندر کی روح کانپ اُٹھی ۔کچھ لوگوں نے قبر کے ساتھ لگی ہوئی گریل کو تالا لگا کر اپنی من پسند دعائیں کی ۔۔خواتین زائرین نے سرخ اور کالا دھاگہ باندھ کر منتے مانگتی رہی۔ ایک اور اندھے مقلد نے اپنی نئی نویلی دہلن کے ساتھ اسی دعا سے رخصت ہوئے کہ شادی کی زندگی کے بعد سکون ملے۔ اس علاوہ لڑکے اور لڑکیاں مزار کے اندر ایک دوسرے کو انگوٹھی پہن کر” بابا” کو گواہ بناتے رہے۔کچھ مردوعورت اپنے محسوس انداز میں قبر کا طواف کر رہے تھے ۔ متعد افرا دیا جلا کر عجیب قسم حرکتیں کرہے تھے ۔ چند حضرات قبر کے ساتھ لیٹ کر پورے دن کی تکاوٹ دور کر رہے تھے ،سیڑ یوں میں بیٹھے چرس کے نشے میں دُھن نشائی اس کے علاوہ تھے۔

    یہ وہ مناظر تھے جو بیان کرسکا اس کے علاوہ جو ہے وہ نہ قابل بیان ہے نہ تو اس کےلیے الفاظ ہے اور نہ ہی ہمت ۔۔۔یہ تحریرلکھتے ہوئے زہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ یہ دنیا اب بھی اندھے مقلدینوں سے بَری پڑی ہے ۔مزار کی تقدس پامال کرنے میں ان اندھے مقلدینوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ جن چیزوں سے ہمیں روک دیا گیا ہے ان سے بازنہیں آتے ۔
    آج کل ہم اس قدر اندھے ہوچکے ہیں کہ ہمیں ہر مسئلہ میں آزادی چاہئے ہر معاملہ کو طبیعت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں خواہ وہ مسئلہ عین شریعت کے مطابق ہو یا نہ ہو،آج ہم جہالت میں اس طرح ڈوب چکے ہے کہ محض طبیعت کو اپنی خواہشات کا ذریعہ بنالیا ہے جو طبیعت کہتی ہے، جس کی طرف عقل چلنے کو کہتی ہے اس طرف وہ دوڑتا ہوا نظر آتا ہے خواہ وہ غلط ہو یا ٹھیک ۔ عقل وطبیعت کی لاٹھی نے ہمیں مار کر اس قدر اندھا کردیا ہے کہ غلط اور ٹھیک میں تمیز نہیں کر پاتے کہ کون سی چیز ہمارے لیے ٹھیک ہے اور کون سی چیز غلط ہے۔

    ہماری دھرتی پر سب سے زیادہ بوجھ جہالت کا ھے جو انسانوں کے دماغ کو مفلوج بنا دیتی ہے. ‏ہماری قوم ہر دوسری چیز کو قیامت کی نشانی کہہ دیتی ہے مگر مجال ہے اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی وہ اپنا قبلہ درست کرنے کو تیار نہیں !

    Jawad_Yusufzai@

  • بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری ہمارے معاشرے کا ایسا رَوگ ہے جوکہ مسلسل بےشمار برائیوں اور طرح طرح کے جرائم پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔
    بے روزگاری کو عام طورپراس صورتحال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب افراد جو ایک مخصوص عمر سے زیادہ (عام طور پر15 سال سے زیادہ) تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں اور تنخواہ یا خود ملازمت میں ملازمت نہیں رکھتے ہیں۔ وہی افراد کام کے لیے دستیاب ہوں۔ بے روزگاری ایک اہم معاشی اشارے ہے کیوں کہ اس سے فائدہ مند ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے کارکنوں کی رضامندی کا اشارہ ہوتا ہے۔ تاکہ وہ بھی قومی معیشت میں اپنا کردارادا کرسکیں ۔

    موجودہ صورتحال کی طرف دیکھا جائے تو ہمارا موجودہ نظام تعلیم کچھ حد تک پڑھے لکھے نوجوان پیدا تو کر رہا ہے مگر ایک بڑی اکثریت کو وہ تعلیم نہیں دی جا رہی جس کی شاید ان سب کو ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں ہنرمند نوجوانوں کی کمی ہے اور زیادہ تر نوجوان حکومتی نوکریوں کے منتظر ہوتے ہیں۔
    معیاری تعلیم کی ثابت دستیابی اس کا مسئلےحل ہے۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔

    عالمگیریت نے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ لیکن ثقافتی امتزاج گلوبلائزیشن کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے جس سے پوری دنیا کے لوگوں کو بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن ، ہاتھ بانٹنے کی روایتی سرگرمیاں حدود ختم ہوتے ہی معدوم ہوجاتی ہیں۔ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے . جو بے روزگاری کو کم کرسکیں۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معیشت میں سامان اور خدمات کا مطالبہ پورا روزگار نہیں دے سکتا ہے۔ یہ سست معاشی نشوونما یا زوال کے اوقات کے دوران ہوتا ہے۔ اعلی بے روزگاری سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے ، معاشی نمو کو نقصان ہوتا ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق جون 2005 میں، تمام بے روزگار افراد میں سے 33.5 فیصد چوبیس سال سے کم عمر کے افراد تھے، ان میں سے کچھ ان کے اہل خانہ کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ تھے۔ بیروزگاری پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافے کو بھی روکا جائے۔ ہمارے ہاں ہر آٹھ سیکنڈز کے بعد ایک نئے فرد کا اضافہ ہوتا ہے جو آبادی میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ترقی کی سمت دیکھتے ہوئے آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ آبادی کے بڑھنے کی موجودہ رفتار اور روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع اس ملک کو ایک سنگین سماجی مشکل سے دوچار کر سکتے ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
    امن و امان تب ہی ہو سکتا ہے اگرمعاشرے کا ہرفرد اپنا اپنا کردار ادا کرے ۔

    بیروزگاری کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے ۔ جب آپ کی معیشت میں استحکام ہوگا ۔ معیشت مضبوط ہوگی ۔ انڈیسٹریز لگیں گی ۔ سرمایہ داری ہوگی ۔ اور یہ کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں ۔ اس کے لیئے معاشرے کے ہر طبقے ، سرمایہ دار سے لیکر ایک عام فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ اس سلسلے میں حکومت کو عوام کے سامنے نئی ترجیحات کیساتھ نئی مراعات اور آسانیاں فراہم کرنی پڑیں گی ۔ اور ان تمام چیزوں میں پہلے سب سے اہم امن کا خریدنا ہے ۔ امن ہوگا تو یہ مراحل طے ہونگیں ۔ بصورتِ دیگر بنجر زمین میں آبیاری کا کوئی فائدہ نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کام میں لانے کے لئے معاشرے کو بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
    کیوں کہ ایک ملک بے روزگاری اور معاشی حیثیت کو بھی متاثر کرسکتا ہے اسی طرح بے روزگاری ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے ۔

    @_aqsasiddique

  • غلامی کی سوچ . تحریر: محمد ابراہیم

    غلامی کی سوچ . تحریر: محمد ابراہیم

    ڈیرہ غازی خان اور اس کے نواح میں دور جدید میں بھی ایک شکست خوردہ سوچ ابھی بھی زندہ ہے، ایسی سوچ جس کے ذرہ ذرہ میں غلامی پیوستہ ہے، ایسی ذہنیت جن کا یہ ماننا ہے کہ کسی بڑے آدمی/بڑی شخصیت/ سیاستدان یا ایم این اے ایم پی اے سے عام بندہ کم پڑھا لکھا آدمی یا مزدور طبقہ کسی سیاسی منتخب نمائندے سے اپنے حلقے کے بارے میں سوال نہیں کرسکتا؟

    ایسی سوچ کو واش کرنے کی ضرورت ہے، ایسی سوچ کو بڑا کرنے کی ضرورت ہے، ایسی سوچ کو وسیع ہونے کی ضرورت ہے، ایسی سوچ کو آزاد ہونے کا راستہ چاہیے کیونکہ ایسی سوچ جب تک زندہ رہے گی تب تک مسکن میں خرابی رہے گی، ایسی غلامانہ ذہنیت جب تک زندہ رہے گی تب تک معاشرہ غلام ہی رہے گا، ایسی سوچ رکھنے والے افراد کو ایک مشورہ ہے کہ جب آپ کسی ایم۔این اے یا ایم پی اے کی الیکشن کمپین کرنے کےلئے جاتے ہو تب کسی عام بندے کے پاس اپنی ارضی نہ لے کے جایا کر، جب اپنے ایم این اے یا ایم پی اے کو منتخب کرنے کا سوچ رہے ہوتے ہو تب کسی مڈل پاس کے پاس نہ جایا کرو، جب کسی پسندیدہ امیدوار کو قومی/صوبائی اسمبلی میں بھیجنے کا خواب دیکھ رہے ہوتے ہو تب کسی مزدور طبقہ کے پاس اپنے خواب کی تعبیر کےلئے مت جایا کرو، ہمارے معاشرے میں ابھی تک ایسی سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ کسی سردار سے اپنے حلقے کے بارے میں اسکا ووٹر سوال نہیں کرسکتا پھر ایسی سوچ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپنے سردار کے ساتھ دوران الیکشن کمپین اس عام آدمی کے پاس جانے سے گریز کیا کریں جن کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سوال کرنے کا اہل نہیں، ابھی جب یہ سوچ ختم ہوگی.

    اب جب یہ سوچ دم توڑے گی وہاں انشاللہ لوگ اپنے نمائندے کو منتخب کرنے کے بعد اس سے سوال کریں گے کہ ہم نے آپ کو ووٹ دیا تھا ہمارے مسائل کو حل کرنے کےلئے ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے؟. جب اس طرح کے سوال کی بوچھاڑ کی جائے گی تب آپ کے ہمارے نمائندے کچھ کرنے لائق ہونگے، اج تک ہوا کیا ہے؟ سائیں سردار کا نعرہ لگا دیا گیا اور الیکشن میں منتخب کرنے کے بعد اپنے نمائندے کو اگلے پانچ سال کےلئے اسلام آباد یا لاہور کے پر آسائش زندگی کے مزے لوٹنے کےلئے بھیج دینے والے ان کا نعرہ باآواز بلند لگاتے رہتے تھے حلقے/یونین کے کام جائیں بھاڑ میں والی صورت حال سے نکلنے کےلئے اب اس سوچ کو مرنا ہوگا، اب اپنے نمائندے کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے سوال پوچھنا ہوگا ان کو جواب دہ بنانا ہوگا تب جا کر ہمارا سسٹم بھی ٹھیک ہو گا ہمارا ملک بھی بحران سے نکلے گا، سسٹم کا بگاڑ جہاں متعلقہ ادارے ہیں اس سے زیادہ ہم عوام جو غلامانہ سوچ رکھنے والے ہیں کیونکہ جب ہم اپنے نمائندوں سے سوال نہیں کرسکتے،تب ہم کسی سسٹم کو برا بھلا نہیں کہے سکتے ہم نے ووٹ اپنے ایم پی اے/ایم این اے کو دیا ہوتا ہے جب ہم اپنے نمائندے سے سوال کریں گے تب ہمارے نمائندے میں جذبہ ہوگا وہ آگے اپنے لیڈر سے سوال کرے گا تب لیڈر اپنے وزیروں سے پوچھے گا پھر وزیر مشیر جب لیڈر کو جوابدہ ہونگے تب سسٹم میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔جب ہم اچھا ہے اپنے نمائندے کو سوال کئے بغیر اس سے حلقے کا حساب لئے بغیر اچھا ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تب وہ اپنے لیڈر کو اچھا ہے کی رپورٹ پیش کرے گا پھر وہاں سے سسٹم لیک ہونا شروع ہوتا ہے، اس سسٹم کا بگاڑ یہی سوچ ہے جو یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ کسی مڈل یا پرائمری پاس کو اپنے حلقے کے نمائندوں سے سوال کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت ہے ہمیں ایسی سوچ کو آزاد کرنےکی اور یہ سوچ آزاد ہوگی( ان شاللہ).
    پاکستان زندہ باد

    @IbrahimDgk1

  • ٹریفک اور ہمارا معاشرہ تحریر: عائشہ عنایت رحمان

    ٹریفک اور ہمارا معاشرہ تحریر: عائشہ عنایت رحمان

    بے حسی جو ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔ یہاں ہر کوئی اپنے مفاد کے لئے ایسے بھاگتا ہے کہ اپنے چھوٹے سے فایدے کیلیے باقی لوگوں بہت سے مشکلات میں ڈال رہا ہے ۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے میں ہسپتال جا رہی تھی ہمارے ایک بزرگ کی تیمارداری کے لئے ، روڈ پر تقریبا آدھے گھنٹے تک ٹریفک رہی آخر کار لوگ تنگ آ کر سواریوں سے اترنے لگے میں بھی اتر گئی اور پیدل چلنے پر مجبور ہوگئی لیکن پیدل چلنے میں بھی وہی دشواریاں ۔ کیونکہ فٹ فاٹ جو کہ پیدل چلنے والوں کے لیے ایک محفوظ راستہ ہے اس پر بھی ان بے حس لوگوں نے ریڑھیاں سجا رکھی تھی تو کسی نے چادر بچھا کر اپنی چیزوں کی نمائش لگا رکھی تھی خیر میں فٹ فاٹ سے اتر گئیں اور روڈ کے ایک سائیڈ پر چلنے لگی وہی رش تھا پیدل بھی لوگ بہت زیادہ تھے گا گاڑیاں بھی بہت زیادہ تھیں ۔تو جب آگے بڑھنے لگیں تو کیا دیکھتی ہو کہ ایک بڑے سے دکان کے باہر بالکل روڈ کے اوپر دکاندار نے ایک تخت سبزیوں کی سجا رکھی ہے اور دکان سارا خالی ہے اور یوں پیدل چلنے والے اس تخت سے ٹکرا رہے ہیں کیونکہ رش بہت زیادہ ہیں اور تخت نے تقریبا روڈ کا ایک تہائی جگہ گھیر رکھی ہے جو بالکل پیدل چلنے والوں کا حق ہے جو ان بے دکان داروں نے ناحق گھیر رکھا ہے۔
    میں نے جلدی پہنچنے کی لالچ میں ایک اندرونی بازار کا راستہ اپنایا جس سے تنگ بازار کہتا ہے جہاں صرف پیدل لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے جیسے ہی میں انٹر ہوگی کیا دیکھتی ہوں کہ تین موٹر سائیکل پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں ایک موٹر سائیکل ،جسپر تین سواریاں تھیں بالکل قریب میرے اوپر سے گزرے میں نے خود کو سمیٹ لیا۔ مجھے دل ہی دل میں بہت افسوس ہوا لیکن کچھ نہیں کہا۔دو قدم آگے چل پڑی تو کیا دیکھتی ہوں کہ لوگوں کا ایک جم گھٹا ہے ایسا لگ رہا تھا جیسے ایکسیڈنٹ ہوا ہو لیکن جیسے ہی قریب آئی کیا دیکھتی ہوں کہ گدھا گاڑی بازار کے بیچوں بیچ پھنسی ہوئی ہے اور چاروں طرف سے لوگ دیکھے لگا رہے ہیں۔
    یہ ہماری بے حسی اور خود غرضی کا عالم ہے کہ ہم کس طرح اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہے ۔ارے میرے بھائیو ہمیں تو اس بارے میں قرآن و حدیث میں واضح آگاہی دی گئی ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے ہم کیوں نہیں سمجھتے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے ان قرآن و حدیث سے ۔ وہ ایک کہانی یاد آ گئی کہ ایک بندے نے راستے میں اگھا دیا کہ یہ ایک سایہ دار درخت بن جائے اور راہ چلتے مسافر ان کی چھاؤں میں آرام کریں وہی درخت دوسرے بندے نے اس نیت سے اکھاڑ دی کہ ایسا نہ ہو کے یہ مسافروں کے لئے تکلیف کا باعث بنے تو اللہ تعالی نے ان دونوں بندوں کو برابر کا ثواب بخشا ۔
    اس میں ہمارے لئے اک سبق ہے۔ ہمیں بھی ان کی طرح بننا چاہیں تبھی تو ایک خوشحال معاشرہ بنے گا ان سارے مسائل سے پاک ۔
    اس معاشرے کے فرد کی حیثیت سے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھےنہ کہ اپنی ذاتی مفاد کی خاطر دوسروں کو یوں اذیت میں ڈالے تو یہ انسانیت کے خلاف ہے۔
    جب تک ہم میں اور آپ میں احساس ذمہ داری پیدا نہیں ہوتی تب تک یہ مسئلے حل نہیں ہوں گے کیونکہ ان مسائل نے ہم سے ہی جنم لیا ہے اور ہم ہی نے ان کو حل کرنا ہے یہ مسئلہ نہ پولیس حل کر سکتی ہے نہ فوج اور نہ وزیراعظم۔ جب بھی ٹریفک یا کوئی اس طرح کا مسئلہ پیدا ہو تو یہ لوگ نعرے لگاتی پھرتی ہے کہ بلا لو پھر وزیر اعظم صاحب کو یہ جہالت اور بے حسی کی انتہا ہے کہ یہ مسئلہ خود پیدا کرتے اور پھر سارا الزام وزیراعظم پر ڈال دیتے ہیں۔
    ہمیں چاہئے کہ ہم ایک بہترین شہری کے طور پر اس معاشرے میں اپنا کردار نبھائے اور ذاتی طور پر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں تبھی تو ایک خوشحال معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں آنے جانے والوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو ۔

    @koi_hmmsa_nhe