Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔  تحریر: طیبہ

    حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔ تحریر: طیبہ

    حسد عربی ذبان کا لفظ ہے
    جسکے معنی ہیں جلن، کینہ پروری ،بدخواہی کے ہیں۔ اگر اس کے مفہوم کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی کی کامیابی اور خدادا صلاحیتوں کو برداشت نا کرنے کا نام ہے۔ اور دل میں یہ خیال آنا کے اس کو ہی یہ سب کچھ کیوں مل رہا ہے کیا مجھ میں ایسی کوئی کمی ہے جیسا کے کسی کی شہرت،دولت ، علم، کامیابی کو دیکھ کر جلنا کہ یہ سب میرے پاس کیوں نہیں ہے۔اصل میں ایمان کی کمزوری ہی انسان کو حسد کی طرف لے کر جاتی ہے دنیاوی چیزوں کی ہوس اور لالچ انسان کو تباہ کر دیتی ہے ۔اللہ تعالی کی دی ہوئی صلاحیتوں سے جلن کرنا بے حد بیوقوفی کی علامت ہے۔ اس طرح کے متعد سوالات جہنم لیتے ہیں جس سے دل میں بدخوی پیدا ہو جاتی ہے اور انسان حسد کرنے لگ جاتا ہے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ۔اج کل معاشرے میں حسد جیسی برائی عام ہو چکی ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا رحجان پیدا ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہتان اور الزام تراشی بھی بڑھ رہی ہے ۔زاتی زندگیوں کو نشانہ بنا یا جاتا ہے کریکٹر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس طرح کے رحجان سے معاشرے میں انتہا کی جہالت پھیل چکی ہے۔ ایک دوسرے سے سبقت لیے جانےمیں یہ بھول چکے ہیں کہ اخلاقی رویہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے ۔اسی لیے اسلام میں بھی اس پہ ذور دیا گیا ہے کہ حسد سے بچیں عقل کو کھا جاتا ہے دوسروں کا نقصان کرتے کرتے اپنا نقصان ہو جاتا ہے۔یہ بھول جاتاہے کہ عزت وذلت اور ترقی و تنزل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ۔
    اللہ تعالیٰ نے بہت صاف اور واضح طورپر ارشاد فرمایاہے
    کہو : اے اللہ! ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔(اٰل عمران
    )3:26)
    اللہ تعالی ہی کی زات ہے جو انسان کو صلاحیتوں سے نوازتی ہے ۔جس کی قدرت کیے بغیر ایک پتا تک نہیں ہل سکتا ہے ۔زوال اور عروج انسان کی زندگیوں سے جڑے ہیں۔ کبھی نعمتیں چھن بھی جاتی ہے اور کبھی انسان کے گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ کچھ مل جاتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے ۔حسد اخلاقی برائیوں کی ایک قسم ہے جس سے انسان کی شخصیت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔حسد کرنا ذہنی پستی کی علا مت ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک بہت مشہور حدیث ہے کہ ایک بار غریب و مفلس مہاجرین کی ایک جماعت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ عرض کی: یارسول اللہ! مال دارو خوش حال لوگ مرتبے میں ہم سے آگے بڑھتے جارہے ہیں۔ وہ لوگ ہماری ہی طرح نمازیں پڑھتے ہیں، ہماری ہی طرح روزے رکھتے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ چوں کہ وہ ارباب ثروت ہیں، اس لیے وہ حج بھی کرلیتے ہیں، عمرہ بھی کرلیتے ہیں اور جب جہادکا وقت آتاہے تو وہ مال و دولت سے بھرپور مدد کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر غریبوں،مفلسوں اور حاجت مندوں کی بھی امداد کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ ہم ان پر سبقت نہیں حاصل کرسکتے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی اْس جماعت کی بات سنی اور ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتادوں، جس سے تم بھی ان سب کے برابر ہوجاؤ، تم اپنے پیچھے رہنے والوں سے بہت آگے بڑھ جاؤ، اور تمھاری برابری اْن لوگوں کے سوا کوئی نہ کرسکے جو وہی عمل کریں، جو میں تمھیں بتانا چاہتاہوں؟ سب نے خوشی خوشی بہ یک زبان کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولؐ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوق وطلب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد 33، 33 مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ اور 34مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (بخاری، مسلم، بیہقی، کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقول بعد السلام، حدیث: 348)
    حسد سے بچنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اخلاقی رویوں کو درست کر نا ہے برداشت پیدا کرنی ہے ۔دوسروں کی کامیابی اور خوشیوں پہ خوش ہونا ہے ان کی خوشی میں شامل ہونا چاہیے۔جس سے انسان کے اندر مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ انسان خود بھی خوش رہتا ہے مایوسی سے بچ سکتا ہے۔اللہ تعالی پہ کامل اور بھروسے سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم محنت اور لگن سے جو چاہتے ہیں حاصل کر سکتے ہیں کوئی انسان بھی کسی سے کم نہیں ہے اللہ تعالی نے سب کو ایک جیسا دماغ دیا ہوا ہے اس کا صحیح اور درست استمال کیا جائے تو ہم تو وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتےہیں ۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    تم سے پچھلی امتوں کی بیماریوں میں سے بغض و حسد کی بیماری تمھارے اندر سرایت کرگئی ہے۔ کیا میں تمھیں کوئی ایسی چیز نہ بتاؤں، جو تمھارے اندر محبت پیداکردے؟ وہ یہ ہے کہ تم باہم سلام کو عام کرو۔

    @JeeTaiba

  • نامحرم سے دوستی۔ تحریر:  نصرت پروین

    نامحرم سے دوستی۔ تحریر: نصرت پروین

    ایک نامحرم کبھی دوست نہیں ہوتا گڑیا
    وہ قبر کا سانپ ہوتا ہے یا جہنم کا انگارہ
    گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک دل دہلا دینے والا سبق آموز واقعہ پیش آیا جس نے ہر سننے والے کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ ظاہر جعفر نامی ایک شخص اپنی نامحرم دوست "نور مقدم” کو اپنے گھر قید کر لیتا ہے۔ وہ بھاگنے کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اسے بہیمانہ طور پہ قتل کر دیتا ہے اسکا سر تن سے جدا کر دیتا ہے۔ اسطرح کے واقعات آئے روز پُر تشددقتل یا خودکشی وغیرہ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور مجرم اکثر متمول گھرانوں سے وابستگی کے باعث کیفرِ کردار نہیں پہنچ پاتے۔ اگر ایسے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی گئی تو جرائم کی روک تھام نہ ہو پائےگی۔ یہ واقعہ جہاں معاشرے کے تمام والدین کے لئے ایک نصیحت آموز درس ہے وہاں ایک بیٹی کو بھی ضرور عبرت حاصل کرنی چائیے تاکہ وہ ایسے لرزہ خیز نتائج کی زینت نہ بن سکے۔
    ‏دوستی ایک بہت پیارا انمول رشتہ ہے لیکن نا محرم سے دوستی نفس، ملمع کی ہوئی باتوں اور خواہشات کا دھوکہ ہے۔ اور قطعا حرام فعل ہے ۔ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان دوستی نام کا کوئی رشتہ نہیں۔نامحرم سے دُوستی شیطان سے دوستی کے مترادف ہے اور شیطان سے دوستی انسان کو جنت سے دور اور جہنم سے قریب کرتی ہے۔

    الله رب العزت نے اپنی کتاب میں ازواجِ مطہرات کو مخاطب کر کے قیامت تک آنے والی تمام خواتین کو تعلیم دی ہے کہ:

    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
    (سورہ الأحزاب: 32)
    الله تعالیٰ نے عورتوں کو تاکید کی ہے کہ غیر محرم سے کلام کرتے ہوئے لہجہ نرم نہ رکھیں۔ کیونکہ جب عورت نرمی یا لچک دکھاتی ہے تو یہ بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ غیر محرم کبھی آپکی حفاظت نہیں کر سکتا وہ کبھی آپکا مخلص نہیں ہو سکتا۔ غیر محرم غیر محرم ہی ہے چاہے معاملہ دینداری کا ہو یا دنیا داری کا۔
    علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "نا محرم مردوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے؛ زمانہ جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی!”
    [ روح المعاني : ١٨٧/١١ ]
    الله رب العزت نے سورہ نساء میں مومن عورتوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی کہ وہ چھپے دوست نہیں بناتی۔ تو چھپی دوستی سے مراد نامحرم کی دوستی ہے۔ آپ غور کریں جب الله پاک آپکو اسطرح غیر محرم کی دوستی سے منع کررہا ہے تو اس میں فائدہ ہی ہے نہ۔ غیر محرم اگر اتنا مخلص ہوتا تو میرا الله کبھی اس سے پردے کا حکم نہ دیتا اور عورت کو اتنے سخت لہجے کی تاکید نہ کرتا۔ غیر محرم جتنا بھی دیندار یا اعلی اخلاق ہو اسکے لئے دل کے دروازے کھولنا ذلت اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔ محبت نکاح سے پہلے چاہے زم زم سے دھلی ہو یا قرآنی آیت سے دم کی گئی ہو گمراہی ہے، فریب ہے، دھوکہ ہے، حرام ہے۔
    ایک لڑکی کے لئے معاشرے میں بدترین پہچان کسی نامحرم کی دوست (گرل فرینڈ) ہونا ہے۔ غیر محرم سے دوستی ایک ایسا فعل ہے۔ جسکا ارتکاب کرنے والا اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات انسان کو اس دنیا میں بھی زلیل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی جب تمام مخفی اعمال سامنے لائے جائیں گے تو ایسی رسوائی ہوگی کہ کسی سے نظریں نہ ملا سکیں گے۔ پھر تو پہاڑوں کے برابر کی گئی نیکیاں بھی ان پوشیدہ گناہوں کے سبب راکھ بن جائیں گی۔
    یہ بات بہت حیران کن ہے کہ لال بیگ اور چھپکلی سے ڈرنے والی حساس لڑکیاں آخر ایک غیر محرم مرد سے کیوں اکیلے ملنے سے نہیں ڈرتی؟
    حالانکہ چھپکلی اور لال بیگ نقصان نہیں پہنچاتے لیکن ایک غیر محرم آپکی روح، آپکےجسم، آپکی پاکدامنی، آپکی عزت، آپکا حسب نسب، آپکے والدین کا آپ پر اعتبار اور حتی کہ آپکی آخرت بھی برباد کر سکتا ہے۔
    یاد رکھئے گا کہ دوستی کا رشتہ گناہ نہیں ہے لیکن الله کی حدود کو پھلانگ کر غیر محرم سے دوستی گناہ ہے۔
    تو اس گناہ سے بچ جائیے۔
    جزاکم الله خیرا کثیرا
    @Nusrat_186

  • اسلامی احکامات اور لبرلز   تحریر : تقویٰ نور

    اسلامی احکامات اور لبرلز تحریر : تقویٰ نور

    دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے. جو زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے.انسانی زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل قرآن پاک میں موجود نہ ہو. قرآن پاک میں ہر چیز کے متعلق احکامات موجود ہیں. ہر نیک عمل کا اجر اور ہر گناہ کی سزا بتا دی گئی ہے اور اہل ایمان کو بار بار ان احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی تاکید کی گئی ہے.

    دنیا کی تاریخ میں پاکستان واحد ملک ہے جو کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا. پاکستان کے بانی رہنماؤں نے اس کے قیام کے دوران ہمیشہ پاکستان کو اسلامی احکامات کے مطابق چلانے کے عزم کا اظہار کیا. لیکن آج کے پاکستان میں جب بھی اسلامی احکامات یا سزاؤں کی بات کی جائے تو ایک مخصوص طبقہ جو کہ اپنے آپ کو لبرلز کہتے ہیں اس کے خلاف کمپین شروع کر دیتے ہیں.

    مثال کے طور پر اگر خواتین کے پردے کی بات کی جائے تو قرآن پاک میں متعدد مقامات پر عورت کو اپنی زینت چھپانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ دنیا کی غلیظ نظروں سے خود کو محفوظ رکھ سکے. لیکن لبرلز اسے عورت کے حقوق کا استحصال کہتے ہیں حالانکہ جتنی آزادی اسلام نے عورت کو دی ہے اتنی دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دی. افسوس صد افسوس کہ مغرب کی اندھی تقلید کرتے اور خود کو لبرلز ثابت کرتے یہ لوگ نہ صرف پردے کی مخالفت کرتے ہیں بلکہ اپنی حرکات سے اللہ کے اس حکم کا مذاق بھی اڑاتے ہیں.

    اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں زنا کے بڑھتے ہوئے واقعات قابل تشویش ہیں.اگر مرد و عورت اسلامی احکامات پر عمل کریں. اول تو یہ واقعات ہوں ہی نا اور دوسرا اگر مجرموں کو اللہ کی نافذ کردہ سزا دی جائے اور اسے عبرت کا نشان بنایا جائے تو ایسے واقعات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے.. لیکن یہاں پھر وہی لبرلز، غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی تنظیمیں اور این جی اوز شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور اسلامی سزا کو( معاذ اللہ) ظلم سے تعبیر کرتے ہیں.

    مختصر یہ کہ خود کو ماڈرن اور لبرلز ثابت کرنے کے چکر میں یہ لوگ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی برباد کر رہے ہیں کیونکہ نجات تو اسلامی احکامات پر عمل کرنے میں ہی ہے.
    @TaqwaNoorPTI

  • ‏والدین ہمارا قیمتی اثاثہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏والدین ہمارا قیمتی اثاثہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    جب ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا ،جنہوں نے ہمیں دنیا کے رسم و رواج سکھایا ، جو ہمارے لئے مشکلات کے وقت ہمارے پاس موجود تھے ، جو اچھے وقت میں ہمارے ساتھ ہنستے تھے ، جنہوں نے ہمارے لیے اپنی تمام تر خوشیاں اور خواہشات کو قربان کیا ، ہم میں سے بیشتر اپنے والدین کے بارے میں فورا ہی سوچتے ہیں۔ اور یہ سچ ہے، ہمارے والدین وہی ہیں جو ہماری زندگی میں تقریبا ہر چیز کے ساتھ ہمارے ساتھ رہے ہیں۔

    ہمارے والدین ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہمارے لیے پلاننگ کر لیتے ہیں اور کچھ چیزوں کی فہرست بھی بنالیتے ہیں ، ہماری دیکھ بھال کرتے ہیں ، ہمارے تعلیم کے اخراجات ، ہماری چھوٹی بڑی خواہشات پوری کرنا ، اور مالی اور تعلیمی لحاظ سے ہمارے لئے بہترین سہولتيں مہیا کرنا، ان کے بغیر ، ہم میں سے بیشتر ان جگہوں پر نہیں ہوتے جہاں ہم آج ہیں وہ اپنے والدین کی وجہ مگر بدقسمتی سے ، بہت سے لوگ اپنے والدین کے ساتھ اس طرح سلوک نہیں کرتے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔

    کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ نہایت ہی معمولی موضوعات پر لڑتے رہتے ہیں۔ کچھ بچے اپنے والدین کو نظرانداز کرتے ہیں ، بجائے اپنے دوستوں کے ساتھ یا آن لائن وقت گزارتے ہیں۔. جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں ، ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے والدین کو ہماری ضرورت ہیں ، اور جب ہم اپنے
    پریٹکل زندگی شروع کرتے ہیں تو انہیں سہارا دینے کے بجاٸے اولڈ ایج ہوم میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں
    اسلام میں بھی اس کی سختی سے ممانعت ہے

    اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ والدین کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ سلوک کریں ، چاہے ہم جس صورتحال میں ہوں۔ والدین دنیا کی سب سے عظیم نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی، اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی ،قران مجید میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے

    اللہ تعالیٰﷻ کا ارشاد ہے۔

    اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا ۔بنی اسرائیل:23

    شریعت ہمیں واضح طور پر اپنے والدین کا احترام کرنا حکم دیتی ہے۔ ہمیں والدین کے ساتھ احسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ،سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ہمارے والدین کی اہمیت اور مختلف آیات کو یاد کرنا چاہئے جو ہمیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی یاد دلاتے ہیں۔. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سارے حدیث بھی ہیں جو ہمیں والدین کے ساتھ احسن سلوک کا درس دیتی ہے

    قارئين!ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں کرنے کی عادت بنانی چاہئے،ہمارے والدین نے ہمارے لیے کتنی تکالیف برداشت کیں ، ہمارے والدین سے روزانہ کی بنیاد پر بات کرنی چاہیے، ان کا حال احوال پوچھیں انہیں کیسی چیز کی ضرورت تو وہ پوری کیں جاٸیں ، ان کی دیکھ بھال کرنی چاہیے، انکی ہر چھوٹی اور بڑی خواہشات کو پورا کرنا چاہیے انکی عزت کرنی چاہیے ،آخر میں بس اتنا کہوں گا اپنے والدین کی قدر کریں اور انکی خدمت کرکے دنیا اور آخرت میں کامیابیاں حاصل کریں!

    اللہ پاک ہمارے والدین کا سایہ ہم پر قاٸم و داٸم رکھے اور انکی خدمت کرنے کی توفيق عطا فرماٸے ۔آمین!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا دور آیا ہے تب سے زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے خواتین بچے چھوٹی بچیاں غرض کے ان درندوں سے تدفین ہونے والی لاشیں بھی نہیں محفوظ، پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ہمیشہ سے اس معاملے پر متحرک نظر آتے ہیں ان ایشوز پر بات کرتے ہیں آواز بلند کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں پاکستان میں جو اس معاملے پر اپنی سیاست چمکاتے یا اپنا دھندہ رکتے نہیں دیکھ سکتے ہیں ان میں اکثریت ہے ہمارے دیسی لبرلز کی جو اپنے آپ کو کہتے تو لبرل ہیں معاشرے کو دکھانے کے لئے ایک ڈھونگ بھی رچاتے ہیں مگر حقیقت میں یہ لوگ زیادتی کرنے والوں کے ساتھی ہیں۔

    کیسے ؟؟
    چلئیے میں بتاتا ہوں، آپ لوگوں کو زینب زیادتی کیس یاد ہوگا اس کیس کے بعد ملک میں ایک رائے عامہ تشکل پا گئی تھی کے زیادتی کرنے والے کو سر عام سزا دی جائے لیکن یہ لبرل کا کارنامہ ہے اور پی پی اور ن لیگ میں چھپے ان عناصر کا کارنامہ ہے کہ یہ کام نہ ہوسکا ان لوگوں نے اس کی مخالفت صرف اس لئے کی کیونکہ یہ لوگ اپنے آپ کو بیرون ممالک کے سامنے لبرلز بنا کر پیش کرتے ہیں خاص کر پیپلزپارٹی، اس کے بعد فیصل واوڈا ایک بل لے کر آئے جس میں زیادتی کرنے والے کے لئے عبرتناک سزائیں شامل تھیں جس کی مخالفت ان عناصر نے کی اور کہا گیا کے یہ سزائیں غیر انسانی سزائیں ہیں تو سوال یہ ہے کے وہ لوگ جو بچوں سے زیادتی کے بعد ان کا قتل کرتے ہیں کیا وہ انسان کہلانے کے لائق ہیں؟؟
    یہ لبرلز ان کا ساتھ کیوں دیتے ہیں ؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے؟؟ نہیں ؟

    اس کی وجہ میں بتاتا ہوں زیادتی کے واقعات کا تعلق معاشرتی بے حیائی سے ہے جسے یہ لبرلز آذادی کا نام دیتے ہیں فحاشی اس کی بڑی وجہ ہے اور یہ لبرلز اور ان کا کاروبار اس سے منسلک ہے اس لئے یہ اس بات کو سننا ہی نہیں چاہتے ابھی حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے فحاشی اور عریانی کے خلاف ایک جملہ کہا تھا جس پر لبرلز میں صف ماتم بچھ گیا تھا اب کچھ لوگوں نے اس میں اس بات پر بھی اعتراض کیا کے چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں انہوں نے کونس فحش لباس پہنا ہوتا ہے ؟؟؟ وزیر اعظم اس بات کا جواب دیں اور اس بات پر کافی مذاق بنایا گیا اس کا جواب یہ ہے ہر زیادتی کا واقعہ فحاشی سے نہیں جڑا ہوتا لیکن اگر آپ اس کی جڑ تک جائیں تو بات فحاشی پر آ کر ہی رکتی ہے، کوئی شخص اگر مسلسل غلط چیزیں دیکھ رہا ہے تو اس میں جنسی خواہشات بڑھ جاتی ہیں پھر وہ انہیں پورا کرنے کے لئے ہر حد سے گزر جاتا ہے وزیر اعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کے ایسا کرنے والا شخص بے قصور ہے بلکے وزیراعظم نے تو ان کے لئے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا جسے یہی طبقہ غیرانسانی قرار دیتا ہے۔

    ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں ایک لڑکی کا قتل ہوا ہے جو اپنے دوست کے گھر بغیر شادی نکاح کے اس کے ساتھ رہ رہی تھی،لبرل اسے آذادی کا نام دیتے ہیں کے اس کی زندگی اس کی مرضی اس لڑکی کو اس کے دوست نے قتل کر دیا آپ سوچ سکتے ہیں اگر اس پر وزیراعظم یا کوئی شخص اس بات کا مطالبہ کر دے کے یہ ہمارے معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے ایسے رشتے جنہیں رشتہ بھی نہیں کہا جا سکتا صرف مغربی معاشرے میں ہوتے ہیں اور اس سے اس معاشرے کی جو تباہی ہوئی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہیں امریکہ اور برطانیہ زیادتی اور آبارشن میں سہرفہرست ممالک میں آتے ہیں وہ الگ بات ہے ان کا میڈیا اس بات کو چھپاتا ہے۔ ایسی بات کرنے والے کا یہ لبرلز کیا حال کریں گے ؟؟؟
    کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک سزا بھی ان کی مرضی کی ہو۔۔۔ تعلقات بھی۔۔۔بیانات بھی۔۔۔قانون بھی اور سوچ بھی ان کی مرضی کی ہو یہ کہتے تو ہیں کے ہم آذادی رائے کا پرچار کرتے ہیں مگر ان کے سامنے آپ ان سے اختلاف کر کے دیکھیں ان سے بڑا انتہا پسند آپ کو نہیں ملے گا۔

    زیادتی کے خلاف سخت اقدامات کا مطلب ان کے کاروبار کی بندش ہے اس لئے یہ لوگ جانتے بوجھتے زیادتی کرنے والوں کی مدد کرنے والے بنے ہوئے ہیں، سوشل میڈیا صارفین ان کے خلاف متحد ہوں اور ملک پاکستان میں زیادتی کرنے والوں کے لئے عبرتناک اور جلد سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ ہمارا ملک ہے اور اس میں ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کے لئے قانون سازی کرانے میں ایک پریشر گروپ کا کردار ادا کرناہے۔ اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو. آمین

    @Nomysahir

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود  تحریر: ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود تحریر: ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگر انسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بے عیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگر آج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے
    ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔
     اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں
    بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    Twitter: @zulfiqar7034

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر :  ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر : ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگرانسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بےعیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگرآج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔

    اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    @zulfiqar7034

  • ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    آج کے دور کو بہت سے نام دیے جاتے ہیں گلوبل ویلیج سے ٹیکنالوجی سے لیس تیز بھاگتی دوڑتی دنیا ہمارے اس دور میں ہر شخص مصروف ہر شخص بھاگ رہا ہے اک ریس میں اک دوڑ میں۔ پیسہ بنانے کی دوڑ میں کامیاب ہونے کی دوڑ میں ۔۔ پیسہ زندگی کی ضرورت نہیں رہا بلکہ زندگی کا مقصد بن چکا ہے ۔ کوئ بھی اپنی انکم سے خوش نہیں ہر کسی کو مزید سے مزید کی تمنا ہے۔ خواہ اسکی خاطر اپنا راتوں کا آرام اپنے دن کا سکون اپنا کھانا پینا سب قربان کرنا پڑے کرنے کو تیار ہیں.

    پیدا ہوتے بچے کے مستقبل کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے مستقبل میں اس بچے کو کس پیشے سے منسلک کرنا ہے۔ کونسا پیشہ زیادہ کامیابی سے زیادہ کمانے کی اس دوڑ میں سب سے آگے ہے سکول سے کالج یونیورسٹی تک اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ اس ادارے سے پڑھایئں جسکی ڈگری پروفیشنل لائف میں ترجیحی بنیادوں پر تسلیم کی جائے جس سے ایک اچھی بھاری تنخواہ کی نوکری مل سکے ۔۔
    کچھ عرصہ پہلے تک پیسہ اتنا ضروری نہیں تھا جتنا اب ہے۔ہم اپنے رشتے اپنی دوستیاں حتی کہ اپنی اولاد تک کو فراموش کیے بیٹھے ہیں۔۔
    ہم زندہ رہنے کے لیے نہیں کماتے بلکہ کمانے کے کیے زندہ رہتے ہیں ۔ دن بدن ہماری ضروریات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے جسکے لیے مزید محنت مزید پیسہ چاہیئے۔

    پیسے کی اس دوڑ اور اس کمائ کی لت نے نوجوان نسل سے وہ کام بھی کروائے ہیں جو کچھ عرصہ قبل تک قبیح سمجھے جاتے تھے۔ ٹک ٹاک سنیک ویڈیوز بگو لایئو جیسی ایپس نے اس دوڑ میں آکر نوجوانوں کو ایک الگ ہی نشے سے متعارف کروا دیا ہے ۔ نوجوان نسل بنا کسی نقصان کے بارے میں سوچے دھڑا دھڑ ان ایپس سے منسلک ہوتے جا رہے ہیں اور اس سے ہماری مشرقی اقدار بہت بری طرح پامال ہوئ ہیں۔دوسرے الفاظ میں اپنی اقدار کا سودا چند ہزار یا لاکھ میں کیا گیا ۔

    ڈیجیٹل کرنسی کے نام پر چلنے والی کریپٹو کرنسی نے اس ریس میں مزید نوجوان اس آگ میں دھکیل دیے ہیں۔ جوے اور سود کو ایک شوگر کوٹڈ گولیبکی طرح پیش کیا جا رہا ہے جسکو نگلنے کے لے ہزاروں لاکھوں لوگ بیتاب بیٹھے ہیں۔
    بچوں کا تعلیم حاصل کرنے کا مقصد شخصیت یا معاشرے کی تعمیر نہیں بلکہ پیسہ و شہرت رہ گیا ہے ۔ کیونکہ تعلیمی اداروں کا مقصد بھی پیسہ کمانا ہے طلبا کی ذہنی و اخلاقی تربیت نہیں۔۔جتنا بڑا تعلیمی ادارہ ہو گا اتنے ہے بے حس لوگ معاشرے میں دے رہا ہو گا ان طلبا کی ذہنی گروتھ بھی اسی نہج پر کی جاتی ہے کہ کس طرح وہ مستقبل میں اپنے فانینشل سٹیٹس مزید بڑھا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے ہم دن بدن پیسے کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور اخلاقیات میں گرا ہوا معاشرہ بنا رہے ہیں اور یہی معاشرہ یہی سوچ اور یہی اقدار اپنی آنےوالی نسلوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

    ہم ایک بے حس معاشرہ تعمیر کر رہے ہیں۔ایک ایسا معاشرہ جسکا دنیا میں آنے کا مقصد ہی فقط پیسہ کمانا ہے۔ جہاں نوجوان نسل کو اس بات کی ترغیب دلائ جاتی ہے کی اگر آپ غریب پیدا ہوئے ہیں تو آپکا قصور نہیں اگر آپ غریب مر جایئں تو آپکا قصور ہے۔ اور یہی مقصد زندگی بنا دیا گیا جو ہم آج دیں گے کل اسی حال میں معاشرے کو دیکھیں گے ۔۔۔فیصلہ آج بھی ہمارا ہے ہمارے آنے والی نسلوں کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے.

    Twitter handle @ShezM__

  • عوامی کرپشن اور چھوٹی چھوٹی بے ایمانیاں . تحریر :  محمد عمران خان

    عوامی کرپشن اور چھوٹی چھوٹی بے ایمانیاں . تحریر : محمد عمران خان

    جی ہاں ہم حکمرانوں کو دن رات صبح شام کرپٹ کرپٹ کہتے نہیں تھکتے حالانکہ حکمرانوں سے کہیں زیادہ کرپٹ ہم خود عوام ہیں ۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جی عوام کیسے کرپٹ ہو سکتے ہیں؟
    تو پھر غور سے پوری تحریر پڑھ کے خود فیصلہ کیجئے کہ کیا ہم کرپٹ ہیں یا نہیں؟!
    ایک بینک کے مینیجر سے شروع کرتے ہیں، کہ ‏‎بہت سے بینک منیجر اپنے کام سے بے خبر ہیں انکے زیر انتظام کارکن کا رویہ کلائنٹ کیساتھ ہتک امیز ہوتا ہے, مگر ان صاحب کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ تو کیا ہم اسے ایک ایماندار بینک مینیجر کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    اب آتے ہیں بڑے بڑے ڈاکٹروں کی طرف، ڈاکٹر حضرات نے جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے وہ کسی بھی ذی شعور سے ڈھکا چھپا ہر گز نہیں، مریضوں کی زندگی سے کھیلنے کا تو انکا شاید معمول بن چکا ہے، دوائی وہ لکھ کر دیں گے جو انکے بتائے گئے من پسند میڈیکل کے علاوہ آپکو کہیں اور نہیں ملے گی. چاہے وہ دوائی آپ کیلئے فائدہ مند ثابت ہو یا نہیں یہ آپکی قسمت، تو کیا ہم ان جیسے نام نہاد پڑھے لکھے ڈاکٹروں کو ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    اب بات کرتے ہیں پیٹرول مافیا کی، انکی کارستانیوں کا کس کو نہیں معلوم کہ جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتو فورا بعد ہی قیمتیں بڑھا کر پچھلی قیمت پر خریدا ہوا تیل نئی قیمت پر فروخت کر کے کروڑوں روپے کماتے ہیں، لیکن اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی اعلان ہو جائے تو پہلے تو چند روز تک قیمت کم نہیں کرتے بلکہ اسی قیمت پر فروخت کرتے رہتے ہیں، پھر اگر کم کر بھی دیں تو تیل ڈالتے وقت پیمانے میں ایسی ردو بدل کرتے ہیں کہ قیمت بھی وصول ہو جاتی ہے اور گاہکوں کی جیب سے ہی وہ اپنا خسارہ پورا کر لیتے ہیں۔ سوال تو بنتا ہے نا ادھر کہ کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب سے آپ بخوبی واقف ہیں۔

    چلیں شوگر مافیا کے کارنامے بھی دیکھ لیں، چینی اگر مہنگی ہو جائے تو ان کا رکھا ہوا سٹاک فورا باہر آنا شروع ہو جاتا ہے اور دھڑا دھڑ فروخت ہونے لگتا ہے لاکھوں کروڑوں اربوں روپے کماتے ہیں۔لیکن اگرخدانخواستہ چینی سستی ہو بھی جائے کسی طرح تو یہ بالکل بھی نہیں فروخت کرتے بلکہ اسٹاک کر لیتے ہیں چینی چھپا دیتے ہیں چینی مارکیٹوں میں ناپید ہو جاتی ہے پھر مجبورا ریٹ خود بخود بڑھ جاتے ہیں اور جب ریٹ بڑھ جاتے ہیں تو وہی چینی یہ لوگ نکال کے پھر فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں اربوں روپے کروڑوں روپے کما کے یہ لوگ کہاں جاتے ہیں کدھر کرتے ہیں کیوں کرتے ہیں ایسا ؟کیا یہ ملک کے ساتھ پاکستان کی عوام کے ساتھ ہم غریبوں کے ساتھ ظلم نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟تو کیا ہم ان کو ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے ہرگز ہرگز نہیں!
    کس کس کا رونا روئیں شوگر مافیا، تیل مافیا، آٹا مافیا یا ایسے کئ مافیاز سے ہمارا ملک بھرا پڑا ہے۔

    چھوڑیں ان بڑے بڑے مافیاز کو تو آپ ذرا چھوٹے لیول پہ آجائیں ہم آپ کو ان کی کارستانیاں بھی سناتے ہیں ۔ چھوٹے سے چھوٹے پرچون والے سے شروع کرتے ہیں ایک پرچون والا دکان دار اگر کسی کو ادھار چیز دیتا ہے تو 2 نمبر چیز دے گا اور ریٹ کم از کم دس فیصد زیادہ رکھے گا۔ ناپ تول میں کمی کرے گا۔ اگر کوئی نقد چیز لینے والا آئے تو اسے اچھی چیز دے گا۔ موجودہ ریٹ لگائے گا۔ اور یہ ان پر احسان نہیں کر رہا ہو گا پھر بھی اس میں کچھ نہ کچھ ضرور گڑبڑ کرے گا پرانا خراب شدہ مال نئے مال میں مکس کرکے بیچ دیتا ہے چاول دال وغیرہ جو پہلے سے خراب ہوئی پڑی ہوتی ہیں وہ نئے مال میں مکس کرکے بیچ دیتا ہے اچھا کہے کے ،اب جو لینے آئے گا وہ ایک ایک چیز تو چیک کرے گا نہیں لیکن جب وہ گھر جائے گا دیکھے گا استعمال کرے گا تو اس کو بعد میں پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ یہاں صرف یہ چیز نہیں ہے اور بھی اس طرح کی بہت سی خرابیاں ہوتی ہیں جو وہ لوگ کرتے ہیں اور خود کو ایماندار کہتے ہیں۔ ان کو کچھ نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں خود اپنے ساتھ وہ کیا کر رہے ہیں۔
    تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں جواب ہے نہیں!

    ایک چھوٹے سے چھوٹا گنے کے رس کی ریڑھی والا وہ بھی اسی طرح کی بے ایمانی کرتا ہے گنے کے رس میں برف اتنی ڈال دے گا کہ ہر گلاس میں گنے کا رس آدھے گلاس سے بھی کم ہوگا باقی پورا گلاس پوری جگ اس کی برف سے اس کے برف والے پانی سے بھر جائے گی نمک ڈالے گا مصالحے ڈالے گا اس طرح کی چیزیں ڈالے گا پورا کرکے آپ کو گلاس یا جگ پکڑا دے گا یہ آپ کا گنے کا رس پئیں اس میں زیادہ پانی ہوگا اور معمولی سا گنے کا رس ہوگا۔ اور گنا خراب ہے اچھا ہے جیسا بھی ہے وہ اپنی جوس والی مشین میں ڈال دے گا اور آپ کو اس کا رس نکال کر دے دے گا اس میں گنے میں کیڑے تھے اچھا تھا برا تھا یہ آپ کی قسمت آپ کو بس رس پینا ہے۔ تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    شہر سے نکل کرآپ دیہات کی طرف آ جائیں جو لوگ فصلیں اگاتے ہیں کپاس، گنا ،گندم ،چاول وغیرہ جو چیز لوگ اگاتے ہیں وہ اپنی فصل کی دیکھ بھال کیسے کرتے ہیں شاید ہی کوئی ہو گا جو اچھا پانی دیتا ہوگا اپنا حلال کا پانی دیتا ہوگا اپنا ٹیوب ویل استعمال کرتا ہوگا شاید ہی کوئی قسمت والا مل جائے۔ لیکن اکثر میں نے خود دیکھا ہے کہ بے ایمانی سے کھیتوں میں پانی ڈالتے ہیں چوری کا پانی لیتے ہیں رات کو کافی کافی دیر تک جاگتے ہیں جب دیکھتے کوئی نہیں ہوتا تو چوری کا پانی کھول کے اپنی فصلوں کو دیتے ہیں چاہے وہ کپاس ہو چاہے وہ چاول ہو چاہے وہ گنے کی فصل ہو کچھ بھی ہو چوری کا پانی دے کے چوری کی فصل اگا کے حرام اس میں شامل کرکے وہ خود کو ایماندار سمجھتا ہے۔ وہ خود کے ساتھ اتنا ظلم کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کو اندازہ ہی نہیں ہوتا نہ تو وہ اپنے بچوں کو حلال کھلا رہے ہوتے ہیں نا خود کھا رہے ہوتے ہیں اور نہ آنے والی ان کی نسلیں حلال کھائیں گی ۔ سب کے سب اس میں شامل ہیں۔ تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں ؟ہر گز نہیں!

    بڑے سے بڑے وکیل کیس چاہے جیسا بھی ہو اگلے کا قتل بھی ہو چکا ہو اگلا بہت مجبور ہو لاچار ہو لاوارث ہو اس کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ وکیل نہیں کر سکتا تو اس کو انصاف نہیں ملے گا۔ لیکن دوسری طرف اگر اس نے قتل کیا ہو اس نے زیادتی کی ہو اس نے بچوں کا ریپ کیا ہو اس نے بڑی سے بڑی زیادتی بڑے سے بڑا جرم کیا ہو اور اچھے سے اچھا وکیل اتنا سارا پیسہ دے کہ اگر وہ خرید لیتا ہے تو وہ وکیل جی جان سے اس کو جتوانے کے لئے کیس لڑے گا اور آخر اس کو کیس جتوا کر کے ہی دم لے گا تو کیا وہ وکیل نے جو پیسے لیے وہ کرپشن نہیں ہے کیا وہ بے ایمانی نہیں ہے کیا وہ اپنی نسلوں کے ساتھ ظلم نہیں کر رہا جواب ہے کہ ہاں بالکل کر رہا ہے۔ تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے کہ نہیں!

    ڈیجیٹل میڈیا پربیٹھے ہوئے صحافی شاید ہی کوئی ایماندار ہو گا اکثریت دیکھنے میں آتی ہے کہ جھوٹی خبریں شیئر کرتے ہیں دوسری پارٹیوں سے پیسے لے کے حکومت پر تنقید کرتے ہیں حکومت سے پیسے لے کے دوسری پارٹیوں پر تنقید کرتے ہیں جو پارٹی ان کو پیسے دے ان کی ہر بری چیز اچھی کر کے دکھاتے ہیں اور جو پیسے نہ دے جو اپنا پیسہ حرام نہ کرے حلال کر کے اپنی قوم کو کھلائے اور ان لفافہ صحافیوں کو پیسے نہ دے وہ بیچارا ایسے ہی ذلیل ہوتا رہے گا دن رات سوشل میڈیا پر بھی اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھی یہ میں صرف ایک آدمی کی بات نہیں کر رہا،ایسے شاید کئ لوگ ہوں گے۔
    تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ بالکل بھی نہیں!

    سکول مافیا کی بات کر لیتے ہیں سکول مافیا وہ مافیا ہے جو اپنے پرائیویٹ سکولوں میں دس دس جماعت پڑھے ہوئے لوگوں کو استاد بنا کر پیش کر دیتے ہیں چند ہزار روپوں کے چکر میں آنے والی نسلوں کو بچوں کو ان سے تعلیم دلوا کے جو خود پڑھے لکھے نہیں ہوتے جن کو خود تعلیم حاصل کرنی چاہیے وہ بچوں کو پڑھا رہے ہوتے ہیں کیا پڑھا رہے ہیں؟ انہیں صرف پرائیویٹ سکول کو چلانے کے لیے ان جیسے لوگوں کو چند روپوں میں خرید کے بچوں سے پھر اس کی قیمت وصول کرتے ہیں، اربوں روپے کروڑوں روپے ان بچوں سے صرف اس مد میں وصول کیے جاتے ہیں کہ ان کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان کو تعلیم کیا دی جارہی ہے یہ نہ تو ہم جانتے ہیں نہ بچوں کے والدین جانتے ہیں اور نہ خود پڑھنے والے بچے جانتے ہیں۔ تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ یا استاد کہہ سکتے ہیں ؟جواب ہے کہ بالکل بھی نہیں!
    میری ایک چھوٹی سی تحریر سے شاید کچھ لوگ اتفاق نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے امید کروں گا کہ آپ سب کو پسند آئے گی ان شاء اللہ ۔اللہ تعالی ہم سب کو ان چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو رزق حلال کھانے اور کمانے کی توفیق عطا فرمائے ، اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو، آمین یا رب آمین!

    @Imran1Khaan

  • کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے . تحریر:‌ محسن ریاض

    کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے . تحریر:‌ محسن ریاض

    ارتقاء کے دور سے ہی کتاب نے انسانوں کا ساتھ سنبھال لیا تھا مگر اس وقت اس کا استمال بہت محدود ہوتا تھا اس وقت اس کو پتھروں کے ٹکڑوں پر کندہ کر کے ، درختوں کی چھال یا پھر پتوں پر اس کے علاوہ جانوروں کی ہڈیوں پر لکھ کر محفوظ کیا جاتا تھا آہستہ آہستہ آٹھویں صدی میں کاغذ ایجاد ہوا اور کتابوں کو نئی زندگی مل گئی اور ان کاغذوں پر سیاہی کی مدد سے ہاتھوں سے لکائی کی جاتی اور یہ سہولت صرف بادشاہوں اور امرا ء کو حاصل ہوتی تھی اوران مقاصد کے لیے انہوں نے بھاری معاوضے پر خطاط رکھے ہوتے تھے اس طرح یہ سہولت عام افراد تک نہیں پہنچ پا رہی تھی اس زمانے میں زیادہ تر مسلمان ہی کتابوں کے وارث سمجھے جاتے تھے اور ہر میدان میں عیسائیوں سے آگے تھے ابن الہیثم اس وقت ماہر طبیعات تھے جنھوں نے افلاطون کی تھیوری غلط ثابت کی اور بتایا کہ آنکھوں سے روشنی نکل کر چیزوں پر نہیں پڑتی بلکہ روشنی آنکھوں میں داخل ہوتی ہے جس سے چیزیں نظر آتی ہیں انہوں نے ریاضی کی مدد سے بھی اس چیز کو ثابت کیا- جابر بن حیان پہلے کیمیادان تھے جنھوں نے گندھک کا تیزاب ایجاد کیا اور ایسا تیزاب بھی بنایا جس سے سونا پگھلایا جا سکے –

    اس کے بعد جنگ و جدل کا دور شروع ہوا اورعیسائیوں نے بغداد اور سپین میں مسلمانوں کی لائبریریوں کو جلانا شروع کر دیا یا پھر کتابوں کو قبضے میں لے لیا -قاہرہ کی لائبریری کی کتابوں کو دریا میں پھینکا گیا جس سے دریا کا پانی سیاہ ہو گیا اس کے علاوہ کئی واقعات ہیں اس سے مسلمانوں کا زوال شروع ہوا اور عیسائی علم کے وارث بن گئے-وقت کا پہیہ ایک بار پھر گھوما اور چھاپنے والی مشین ایجاد ہو گئی اس نے کتاب کے نظریئے کو ہی بدل کر رکھ ڈالا اور چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد ہر خاص و عام کو کتاب تک رسائی مل گئی-اس کہ بعد لوگوں میں کتابوں کا ذوق پیدا ہوا اور لوگوں نے اپنی لائبریریاں بنانی شروع کر دیں دیوان غالب ہو یا کلیات میرانہوں نے لوگوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی –

    قیام پاکستان کے بعد چند سالوں تک تو لوگوں کو سنبھلنے میں وقت لگا مگر جب سنبھل چکے تو کتابوں کی طرف رخ کیا اس دور کو کتابوں کے لیے گولڈن دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ اس وقت کتابوں کی مقبولیت میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا تھا -قرۃ العین حیدر کے آگ کے دریا نے تہلکہ مچا دیا تھا اس کے علاوہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ نے اہم کردار ادا کیا -شاعر حضرات میں سے احمد فراز ،حبیب جالب اور فیض احمد فیض نے اپنا کردارادا کیا-

    اس کے بعد ٹیکنالوجی کا دورآیا اور کتابوں سے لوگ دور ہونے لگے ۔زیادہ تر لوگ معلومات کے لیے کتابوں کی بچائے انٹرنیٹ کا سہارا لینے لگے اور اس طرح ایک عہد تمام ہوا-اب تو زیادہ تر لوگ کتابوں کو پی ڈی ایف پر ہی پڑھتے ہیں تاکہ وقت کی بچت بھی کو سکے اور سرمائے کی بھی-مگر وہ چاشنی جو کتابوں کے اوراق میں چھپی ہوتی ہے وہ آنلائن پڑھنے میں کہاں ملتی ہے -مگر اس دور میں بھی فیض فیسٹیول اور دیگر اس طرح کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں تاکہ کتابوں کو زندہ رکھا جا سکے -اس وقت لائبریری میں نہ ہونے کے برابر افراد ہوتے ہیں موجودہ دور میں عرصہ دراز ہو گیا تھا کہ کتابوں کو پرموٹ کیے جانے کے حوالے سے کوئی سیمینار دیکھا گیا ہو مگر گزشتہ دنوں حسنین جمال کی طرف سے کتاب لکھی گئی اور اس کی تقریب رونمائی کے علاوہ حسنین صاحب نے جس طرح مختلف شہروں میں جا کر قارئین سے ملاقاتیں کی اور کتاب کی پروموشن کی وہ قابل دید تھی یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید یہ صدی کتابیں اپنا وجود قائم رکھ سکیں ورنہ آجکل کے مشینی دور میں طلبا کی اکثریت ایسی ہے جس نے شائد سلیبس کے علاوہ کوئی کتاب پڑھی ہو-آج کے دور میں ٹیکنالوجی بھی بے حد ضروری ہے مگر کتابوں کے ساتھ بھی رشتہ بنائے رکھنا چاہئیے۔کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے جو سعود عثمانی صاحب نے فرمایا
    کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
    یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

    mohsenwrites@