Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • عورت کی حقیقی آزادی    تحریر: تماضر خنساء

    عورت کی حقیقی آزادی تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کے نام پہ عورت کو تباہی کے دہانے پر لانے والے اصل میں عورت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اسلام نے عورت کو اسکے سارے حقوق عطاکیے ہیں کہ اگر وہ ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت ہے اگر وہ بیٹی ہے تو اسکی بہترین پرورش جنت کی کنجی ہے اگر وہ بیوی ہے تو اس سے حسن سلوک جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہے _____
    اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے عورت کو نازک آبگینوں سے تشبیہ دی، عورت کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنے کی تلقین کی، عورت کو وراثت میں حصہ دار بنایا ۔۔۔۔ان سب حقوق کے بعد بھی آخر یہ لبرل طبقہ عورت کو کونسی آزادی دینا چاہتا ہے؟
    اسلام تو دین کامل ہے
    :قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ (سورہ مائدہ: 3)
    ترجمہ: ”آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا‘ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا‘ اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔
    ایک کامل و اکمل دین نے عورت کو کیا اسکے سارے حقوق نہیں دیئے؟ جو اب بھی دین منصف کے بعد بھی عورت کو آزادی چاہیے؟
    آج کے مشرقی معاشرے میں بھی عورت کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ پڑھ سکتی ہے، جاب کرسکتی ہے، جیسے چاہے زندگی گزار سکتی ہے ۔۔۔۔۔ہم مانیں یا نہ مانیں مگر آج کا مشرقی معاشرہ بھی اب قدیم روایات والا معاشرہ نہیں رہا ۔۔۔۔یہاں نا جانے کتنی خواتین آج مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ۔۔۔۔
    تو پھر کونسی آزادی ہے جو لبرل طبقہ ان عورتوں کو دینا چاہتا ہے؟
    دراصل یہ لبرل طبقہ وہی لوگ ہیں جو اسلام سے باغی ہیں ۔۔۔انکے نزدیک میاں بیوی کا مقدس رشتہ عورت کے پاؤں کی بیڑی ہے۔۔۔یہ وہی لوگ ہیں آزادی کے نام پر عورت کو اس قدر بے مول دیکھنا چاہتے ہیں کہ کوئ بھی ان تک پہنچ سکے۔۔۔۔یہ دین بیزار لوگوں کیلیے وہ سیڑھی ہیں جن کے ذریعے ہر ایک عورت تک پہنچ رکھ سکے _______ہر کچھ عرصے بعد ایک اسلامی ملک میں ایسی سلوگنز کا پرچار ” اپنا کھانا خود گرم کرو ،میرا جسم میری مرضی آخر کیا مقصد رکھتا ہے؟
    اللہ تعالی کا بنایا ہوا نظام بلاشبہ مکمل ہے جہاں ایک عورت کو گھر کی ملکہ سمجھا جاتا ہے اور مرد کماتا ہے.گھر کا بوجھ اٹھاتا ہے، ۔۔۔۔
    اللہ کے نبی کی زندگی میں ایسے بے شمار نمونے ہیں جو ایک کامیاب زندگی جینے کا طریقہ ہمیں دیتے ہیں۔۔۔
    اللہ کے نبی تو اپنی بیویوں کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے،
    ایک دفعہ کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھاکہ رسول اللہ ص گھر میں آکر کیا کرتے تھے؟
    انہوں نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلو زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کے کام بھی کیا کرتے تھے مثلا بکری کا دودھ دوھ لینا، اپنے نعلین مبارک سی لینا (زاد المعاد)
    اپنی ازواج کے ساتھ محبت والا رویہ رکھا۔۔انکے شوق پورے کیے،
    حضرت عائشہؓ جب آپ کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر کم تھی اور انھیں اس طرح کے کھیل کا شوق تھا ، جو کم عمر بچیوں میں ہوا کرتا ہے ، ایک دفعہ عید کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ انے کپڑا اوڑھ رکھا تھا اور دو کم عمر لڑکیاں حضرت عائشہؓ کے سامنے دف بجا رہی تھیں ، حضرت ابوبکرؓ نے اس پر ناگواری ظاہر کی تو آپ نے روئے انور سے کپڑا ہٹا دیا اور حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : انھیں چھوڑ دو ، یہ عید کا دن ہے ۔۔۔آپ ص چاہتے تو منع فرمادیتے مگر آپ نے عائشہ رض کو انکا شوق پورا کرنے سے نہیں روکا ۔۔۔
    عرب میں روایت ہوا کرتی تھی کہ حبشی لوگ خوشی کے موقع پر اپنے کرتب دکھاتے تھے ، حضرت عائشہؓ کو ان کے کرتب دیکھنے کی خواہش ہوئی ، تو آپ کھڑے ہوگئے ، اورحضرت عائشہؓ آپ کے مونڈھے پر ٹیک لگاکر حبشیوں کا نیزے کا کھیل دیکھتی رہیں اور جب تک خود تھک نہ گئیں ، آپ ان کی رعایت میں کھڑے رہے ۔(مسلم ، حدیث نمبر : ۸۹۲)
    حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ خیبر سے واپسی پر ہم مدینہ کے لیے نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، آپؐ نے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے ہوئے ہیں اور حضرت صفیہؓ ان کے گھٹنوں پر پیر رکھ کر اونٹ پر سوار ہورہی ہیں۔(بخاری)
    ایک سفر میں انجشہ نامی ایک غلام اس سواری کو ہانک رہا تھا ، جس میں بعض اُمہات المومنین سوار تھیں ، انجشہ اس طرح نظم پڑھ رہے تھے کہ اونٹ بہت تیز دوڑنے لگا ، آپ انے فرمایا : انجشہ ! آہستہ آہستہ ، تم آبگینوں کو لے کر جارہے ہو (بخاری۔کتاب الادب)
    اس طرح ناجانے اور کتنے واقعات ہیں جو اللہ کے رسول ص کی زندگی سے ہمیں ملتے ہیں جو ہمارے لیے نمونہ ہیں۔۔۔۔جو کچھ اللہ کے نبی نے اپنی زندگی میں کیا اسی کا حکم ہمیں بھی دیا ۔۔۔۔اتنے عزت و اکرام کے بعد بھی کیا عورت کو کسی آزادی کی ضرورت ہے؟
    مرد کو اللہ نے عورت کا محافظ بنادیا پھر کیوں عورت تحفظ کی دیوار کو پھاند کر باہر آنا چاہتی ہے؟
    یہ آزادی کے نعرے صرف عورت کو اپنی دسترس میں کرنے کے حیلے ہیں کیونکہ اصل آزادی تو آج سے صدیوں پہلے محمد مصطفی ص عطا کر گئے۔۔۔ ہر لحاظ سے عورت کو معتبر کردیا ۔۔ اب جو مزید آزادی چاہتے ہیں تو ان کا مقصد صرف عورت کی بربادی ہے اور کچھ نہیں! اور ایک مسلمہ عورت کبھی ایسی آزادی کی چاہ نہیں کرتی جو اسکے لیے بربادی کا باعث بنے جو اسلام کے مخالف ہو ۔۔۔۔یہ آزادی کے نام پر شور مچانے والا خاص طبقہ صرف اور صرف اپنے گروہ کا نمائندہ ہے عورتوں کا نہیں کیونکہ کوئ عورت نہیں چاہتی کہ اسے بے مول کیا جائے
    عورت کی حقیقی آزادی تو دین اسلام میں ہے جسکو ہم
    مکمل اپنالیں تو ہماری زندگیاں سنور جائیں

    @timazer_K

  • نفس، شیطان اور حضرتِ انسان   تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    نفس، شیطان اور حضرتِ انسان تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    اللّٰه نے دنیا میں انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر دنیا میں بھیجا جب کہ انسان نے خود کو ظالم بنا کر ظلم کی انتہا کر دی
    آج کے دور میں ایک انسان دوسرے انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس دشمنی میں دوسرے کا نقصان کرنا اپنا فرض سمجھنے لگے ہیں اس کی سب سے بڑی اور اکلوتی وجہ انسان کا نفس ہے

    انسان بھول چکا ہے سب سے بڑا جہاد نفس کا جہاد ہے اور نفس کی کہے پر لبیک کر کے انسان ہر حد سے گِر رہا ہے

    آج کا انسان کہتا ہے کہ انسان جانور سے بدتر ہے لیکن خود کو راہِ راست پر کوئی نہیں لاتا۔ دوسرے کے عیب گننے
    میں سب ماہر ہیں لیکن خود کے عیب بھول جاتے ہیں

    نفس کی غلامی اور نفرت کے اندھیرے سے نکل کر اجالے
    میں قدم رکھیں
    کیونکہ
    ’’غلامی میں جسم تو رہتا ہے مگر اس سے روح خالی ہو جاتی ہے اور جس جسمِ میں روح نہ ہو اس سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟ دل سے ذوقِ ایجاد و ترقی رخصت ہو جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اپنے آپ سے غافل ہو جاتاہے۔ جبرائیل اگر (نفس کی) غلامی اختیار کر لے تو اسے آسمان کی بلندیوں سے نیچے گرادیا جائے۔ اسی طرح ایک غلام تقلید پرست اور بت گر ہوتا ہے اس کے نزدیک ہر جدید یا نئی بات کفر ہوتی ہے‘‘

    غور کریں کہ تاجر اپنے کاروبار پر بیٹھا تسبیح کیے جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ناقص مال کی فروخت بھی جاری ہے۔ یہی حال ہمارے علمائے کرام کا بھی ہے کہ علماء لوگوں کو تو واعظ و نصیحت کرتے ہیں لیکن اپنے آپ کو اور اپنے باطن کو نصیحت نہ کر سکے۔ ہم میں سے ہر وہ شخص جو کسی بھی کاروبارِ زندگی سے وابستہ ہے وہ ایسی ہی مثال پیش کر رہا ہے۔ ہم ان رذائل سے کیونکر چھٹکارا نہ پا سکے؟ اس لیے کہ ذکر و تسبیح جس نے کرنی ہے (یعنی قلب) اس تک بات نہیں پہنچی تو اصلاح کیسے نصیب ہو گی

    انسان کے پیدا ہوتے ہی اسے اللّٰه کا نام سکھا دیا جاتا ہے۔ اللّٰه کے نام کو سن سن کر انسان جان تو جاتا ہے کہ اللّٰه مالک ہے رازق ہے وغیرہ لیکن اس کی پہچان نہیں آتی۔ پہچان تب ہی آتی ہے جب اس قلب میں اللّٰه کےذکر کا نور کسی کامل و مکمل شیخ و رہبر کے قلب کے وسیلے سے داخل ہوتا ہے۔ یہی نور اس کو اپنے مالک کی اصل پہچان نصیب کرتی ہے اور اسے اپنے رب کا شکر گزار بندہ بناتی ہے۔ اسی نور سے "تصدیق بالقلب” میسر آتی ہے اور حقیقتِ ایمان اسی کا دوسرا نام ہے

    جب تک یہ ذکر کا نور قلب کو میسر نہیں آتا اس وقت تک صورتِ ایمان ہے۔ نماز تو پڑھ لیتا ہے لیکن وہ محض صورتِ نماز ہی ہوتی ہے یہی ذکر کا نور میسر نہ ہونے کے باعث رمضان المبارک میں محض بھوک پیاس کاٹتا ہے اور اعمالِ بد سے نہیں بچ پاتا۔ جس کسی کو یہ ذکر کا نور میسر آتا ہے تو وہ حقیقت میں حاصلِ رمضان و ایمان یعنی "لعلکم تتقون” کا نمونہ بنتا ہے

    آپ کے وجود نے ایک دن دنیا سے ختم ہو جانا ہے باقی رہے گا تو صرف ذکر. اب اس کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم نیک ذکر یا برے ذکر میں یاد ہونا ہے ہر بات کا انحصار ہمارے خود کے اوپر ہے
    اس لیے اپنے ضمیر کو جگائیں اور خود کو بدلیں دنیا آپ کو دیکھ کر بھی بدل سکتی ہے

    "نفس کی غلامی سے موت اچھی”

    @H___Malik

  • کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    قدرت نے انسان کو زندہ رہنے اور بستیاں بسانے کے لئے مختلف نشانیاں بھیجیں ہیں۔ دو جاندار خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔ ایک شہد کی مکھیاں اور دوسرا دیمک۔ دیکھنے کو دیمک ایک بے ضررسا کیڑا ہے لیکن اندرہی اندر جتنا نقصان یہ پہنچاتا ہے انسانوں کے پہنچائے ہوئے نقصان سے پھر بھی کم ہے۔ بیمار لوگوں کے بارے میں عوام الناس کہتی ہے کہ ان کو بیماری دیمک کی طرح چاٹ گئی ہے۔۔ کچھ ایسی ہی مماثلت ہماری عوام اور دیمک میں ہے۔ جب قانون بے اثرہوجائے۔ جب معاشرے کو تعلیم دینے والے بھاگ جائیں۔ جب معاشرےکی راہنمائی کرنے والے لٹیروں کا روپ دھارلیں، جب قانون امیراورغریب میں فرق کرنے لگے، جب دولت ہی سب کچھ ہو، جب اقرباء پروری کا راج ہو، تو پھرمعاشرے شترِبے مہار( ایسا اونٹ جو جنگل میں آوارہ پھرتا ہو) کی طرح جس طرح چاہے منہ اٹھا کے چل پڑتے ہیں۔

    میں جب بھی بڑے بڑے شہروں کے محلوں کی تنگ و تاریک گلیوں سے گزرتا ہوں تو مجھے دیمک کے گھروندے یاد آتے ہیں،۔ بچپن میں جب پاؤں کی ٹھوکر سے دیمک کے گھروندے کو توڑتے تھے تو مٹی کے گھرندوں کے نیچے سے ایک کالونی نظرآتی تھی۔ جس میں بے ترتیب گلیاں مکانات اور چلتے پھرتے دیمک کے کیڑے نظر آتے تھے۔ کچے گھروندے ٹوٹ جانے سے دیمک کے کیڑوں میں افراتفری مچ جاتی تھی، کوئی اناج اٹھائے بھاگ رہا ہوتا تھا، کوئی جان بچانے کے لئے، کوئی اپنے بچوں کو لئے، ہرکوئی جس سمت جس کا منہ لگتا تھا بھاگتا دکھائی دیتا تھا۔

    دیمک، شہد کی مکھیاں اور ہم ، سب ایک ہی طرح کی کالونیوں میں رہتے ہیں۔ ہماری کالونی میں ملکہ بادشاہ سپاہی اور مزدور ہوتے ہیں. ہمارے ہاں بچوں کی پیدائش و پرورش ہوتی ہے. جیسے شہد کی مکھیاں اوردیمک اپنا بادشاہ اورملکہ چنتے ہیں ایسے ہی ہم بھی چنتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بادشاہ اور ملکہ نہیں بلکہ ایم این اے اور ایم پی اے چنے جاتے ہیں۔دیمک کی ملکہ اوربادشاہ کی طرح جب ہماری ملکہ اور بادشاہ کے پر نکل آتے ہیں تو یہ آڑ کر دوسری جگہ اپنی کالونی بنا لیتے ہیں. جیسے ہمارے ہاں ایم پی اے اور ایم این اے منتخب ہونے کے بعد یورپ امریکہ اور کینیڈا میں گھر بنا لیتے ہیں، اگر ایک ہی جگہ دو بادشاہ یا ملکہ ہوں تو شہد کی مکھیوں اور دیمک کی طرح یہ نیا قبیلہ آباد کرلیتے ہیں اور اپنی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں۔

    جیسے ہمارے ہاں ایک ملک کے دو بادشاہ بن جائیں تو پھر آدھا تمھارا آدھا ہمارا کا نعرہ لگا کر تقسیم کرلیتےہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں ہماری کالونیوں کی طرح مزدور اور سپاہی چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں. انکی زندگی اسی کام میں گزرتی ہے.عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کا کام اندھیرے کا ہے. دیمک کے سپاہی اور مزدور پیدائش کے بعد سے ہی اندھے ہو جاتے ہیں. اندھیری سرنگوں میں ان کو آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اس لئے آنکھیں ہوتے ہوۓ بھی یہ اندھے ہی ہوتے ہیں۔ ہماری کالونیوں میں مزدور اور سپاہی نوکری حاصل کرنے کے بعد اندھے ہوجاتے ہیں ہمارے سپاہیوں اور مزدورکو بھی آنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ غلام معاشروں میں اندھے مزدور بہتر کام کرتے ہیں۔ جو دیکھنے والے ہوتے ہیں ان کے پر نکل آتے ہیں پھر وہ مزدور نہیں رہتے بلکہ حاکم بن کے اڑ جاتے ہیں اور کہیں اور مزدوروں سے الک تھلگ کالونیاں بنا کے رہتے ہیں۔

    دیمک کے کیڑے ہم انسانوں سے کئی لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں۔ ان میں لالچ اور الگ کرکے جمع کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔ وہ اجتماعی زندگی گزارتے ہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ دو گھروں میں لڑائی ہو اور بندوقیں نکل آئیں دو چار قتل ہوں دس پندرہ زخمی ہوں۔۔ نہ ہی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی دکان پہ سیل لگی ہو اور مادہ دیمک چھوٹے سے دروازے سے سینکڑوں کی تعداد میں دکان میں گھسنے کی کوشش کریں۔ بھگدڑ مچے اور کئی زخمی ہوجائیں۔ نہ کسی کے بچے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دیمک کی کالونیوں میں قتل بھی نہیں ہوتے۔

    دیمکوں کی ملکہ انڈے دیتی ہے جس سے بچے نکلتے ہیں اور ان بچوں کی حفاظت پولیس اور مزدور کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مزدور بچے پیدا کرکے پالتے ہیں جبکہ ملکہ اور بادشاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ مزدور دیمک اور ہمارے مزدوروں میں فرق یہ بھی ہے کہ دیمک کے مزدور بلا تفریق سب کو ایک جیسی غذا مہیا کرتے ہیں جبکہ ہمارے مزدور دوسروں کو ملاوٹ شدہ غذا فراہم کرتے ہیں۔ مزدور دیمک باہر سے غذا لا کر بغیر ملاوٹ کے تمام کارکنان میں برابر تقسیم کرتی جاتی ہے۔

    دیمک کے سپاہیوں کے سر بڑے ہوتے ہیں جبکہ ہمارے سپاہیوں کے پیٹ بڑے ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں بادشاہ کے غلام ہی رہتے ہیں۔دیمک کے سپاہی اپنی کالونیوں میں دوسرے کیڑوں کو نہیں گھسنے دیتے ایسے ہی جیسے ہمارے سپاہی سرکاری دفاتر میں عام سائل کو گھسنے نہیں دیتے۔۔۔ دونوں سپاہیوں میں ایک مہان فرق یہ ہے کہ دیمک کے سپاہی کالونی میں گھسنے والے کیڑے کو مار ڈالتے ہیں۔ جبکہ ہمارے سپاہی رشوت لے کر دفتر میں جانے دیتے ہیں۔ ایک چیز جو دونوں کالونیوں میں مماثلت رکھتی ہے وہ یہ کہ جب کوئی حملہ کرتا ہے تو دونوں کالونیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ سیلاب میں بہہ جاتی ہیں۔ تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ لیکن دیمک کی کالونی کو تباہ کرنے والے ہم انسان بھی ہوسکتے ہیں لیکن ہماری کالونیوں کو تباہ کرنے والے بھی ہم انسان ہی ہوتے ہیں۔

    پھر ہم اشرف المخلوقات کیسے ہوئے؟
    اگر ہماری کالونیاں دیمک کی کالونیوں جیسی ہی ہونی ہیں یا ان سے بھی بدتر ہونی ہیں تو پھر انسانیت ہم میں نہیں دیمک میں ہوسکتی ہے۔
    کیوں نہ ہم بھی اپنی دیمک زدہ بستی کو انسانوں کی بستی کی طرح بنالیں.

    @I_G68

  • انصاف (عدالت) اور معاشرہ  . تحریر : ذیشان علی

    انصاف (عدالت) اور معاشرہ . تحریر : ذیشان علی

    کوئی بھی معاشرہ اصول قوانین اور ضابطہ اخلاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، کسی بھی معاشرے اور ریاست میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رعایا کو انصاف دیا جائے، بحیثیت مسلمان ہمیں ظلم اور بے انصافی زیب نہیں دیتی ہمارے لیے حکم ہے کہ انصاف کے ساتھ پورا تولو اور حد سے تجاوزنہ کرو صلہ رحمی کرو بےشک اللہ رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے.

    اللہ تعالی قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے،
    "یقیناً اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف پر مبنی فیصلہ کرو یقین رکھو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے، بےشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ” سورہ نساء 58.

    مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے یہ واضح کیا ہے جب لوگوں کے درمیان کسی مقدمے کا فیصلہ کرو تو ان کا مذہب خواہ کوئی بھی ہو یا دوست ہو یا دشمن فیصلہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ تمام تعلقات سے الگ ہو کر سچائی کے ساتھ اور انصاف پر مبنی فیصلہ کریں،
    جو فیصلہ اپنے پرائے کے تعلقات پر مبنی ہو جو فیصلہ حقائق کو چھپا کر اور جو فیصلے تعلقات پر مبنی پیسہ وجائیداد کے عوض کیے جائیں وہ ظلم اور زیادتی کے زمرے میں آتے.

    انصاف پر قائم رہنا کسی حکومت اور عدالت کا ہی کام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں یہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے، یعنی دوسروں کو بھی انصاف پر قائم رہنے کی ترغیب دے، عام فہم الفاظ میں کہ انصاف کو خریدنے اور بیچنے سے بچا جائے، جو ریاست اپنی رعایا کو انصاف دیتی ہے انصاف وہ جو صاف شفاف ہو جو امیر غریب گورے کالے میں بغیر کسی فرق رکھے کیا جائے اور نہ کسی کا عہدہ یا پیسہ و جائیداد انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہو.

    جو معاشرے جو ریاستیں انصاف قائم نہیں کرسکتے پھر ان ریاستوں میں اور معاشروں میں ظلم بڑھتا ہے اور ظلم کے ساتھ فتنہ و فساد برپا ہوتا ہے کوئی بھی ریاست اور معاشرہ ظلم اور فتنوں کے ساتھ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا یعنی انصاف کا قتل معاشروں اور ریاستوں کے لئے تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے.

    چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم فرقان حمید میں ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے،
    "ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے احکام دے کر بھیجا ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) انصاف کرنے کے احکام کو نازل فرمایا،
    تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں” سورہ الحدید 25.

    ریاست اسلامی ہو یا غیر اسلامی معاشرہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی عدل کو قائم رکھنے ہی میں سب کی بھلائی ہے،
    اللہ تعالی کی کلام مسلم اورغیرمسلم تمام کے لیے ہے، اس میں کائنات کی وسعتوں کی تمام نشانیاں ہیں اس میں زندگی گزارنے کے طور طریقے ہیں، مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم کیا گیا اس کتاب کی تلاوت کرنا اور اسے سمجھنا اور اس پرعمل کرنا.
    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اور ہمارے ملک کو اور ہماری عدالتوں کو انصاف پر قائم رکھے، ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف پسند ہو انصاف پسند افراد خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں خوبصورت معاشرہ خوبصورت قوم اور خوبصورت ریاست میں بدل جاتا ہے، خوبصورت معاشرے خوبصورت ریاستیں ظلم و زیادتی سے نہیں عدل و انصاف سے ہی قائم ہو سکتی ہیں،

    @zsh_ali

  • پیسے کو سلام  تحریر:  محمد احسن گوندل

    پیسے کو سلام تحریر: محمد احسن گوندل

    شام ہوتے ہی شیخ صاحب کی بیٹھک میں گاؤں کے تقریباً تمام بڑے بڑے چوہدری بیٹھے ہوتے تھے۔کسی نے کوئی بھی کام شروع کرنا ہوتا نیا گھر بنانے سے لیکر بچوں کی شادی تک سب شیخ صاحب کے مشورے سے ہوتا۔ ان کو ایک بار اطلاع کرنی ہوتی یہ سب سامان ان کے گھر پہنچا دیتے چاہے کسی کے بچے کی شادی ہو یا کسی کا کوئی فوت ہوا ہو۔ یہ ایک قسم کے ان کے فنانس منسٹر لگتے تھے۔
    گاوں میں کسی خوشی یا غمی پر یہ خود لوگوں کے گھروں میں پہنچ جاتے اور ہر طرح کی ضروریات پوری کرتے۔
    کسی بھی محفل میں شیخ صاحب کے آنے پر ان کو خصوصی پروٹوکول دیا جاتا آؤ بگھت کی جاتی۔
    ان کے گھر اکثر ان کے رشتہ دار بچوں سمیت مہینوں رہتے تھے۔
    یہ پیشے کے لحاظ سے ایک بیوپاری تھے اپنے اور آس پاس والے گاؤں سے گندم اور مونجی (دھان) خریدتے تھے اور آگے منڈی میں بیچ دیتے ساتھ میں ایک بہت بڑی کریانے کی دوکان بھی تھی۔ پورے گاؤں کے لوگ اپنی خوشی غمی میں ان کی دوکان سے کھانے پینے کا تمام سامان لے جاتے اور پھر سال سال بعد انکو رقم لوٹاتے۔
    یہ اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے اور بچے بھی ابھی چھوٹے تھے ان کا کاروبار اتنا بڑھ چکا تھا کہ انکے لیے اکیلے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔ دو تین بڑے چوہدری جو ان کے زیادہ قریب تھے وہ ان کے کاروبار میں صلاح مشورے دینے لگے اور ہر اسی کام کا مشورہ دیتے جو ان کے اپنے مفاد میں ہوتا۔ کم پڑھے لکھے ہونے کیوجہ سے یہ احساب کتاب میں مار کھا گئے اور آستہ آہستہ یہ گھاٹے میں جانے لگے اور پھر ایک وقت آیا کہ وہ بہت بڑی رقم کے قرض دار ہوگئے۔
    یہ بات بہت جلد پورے گاؤں میں پھیل گئی اور سب سے پہلے جو ان کے زیادہ قریبی تھے جن پر شیخ صاحب کے بہت سے احسانات تھے انہی لوگوں نے اپنی فصلیں انکو بیچنے سے انکار کر دیا پھر دیکھتے ہی دیکھتے کوئی بھی ان کو اپنی فصل بیچنے کو تیار نہ ہوا۔یوں انکا پورا کاروبار بیٹھ گیا۔
    ان سب نے ایک دم سے ایسے آنکھیں پھیری کہ جیسے شیخ صاحب کو جانتے ہی نہ ہوں ۔انہی چوہدریوں نے انکوں اتنا تنگ کیا کہ اپنے بچے چھوڑ کر گاؤں سے جانا پڑا۔
    وہ جنکے بچوں کی فیسیں بھرتے تھے پھر انکی شادیوں کا خرچہ اٹھاتے تھے انہوں نے ان کے بچوں پر بھی ترس نہیں کھایا اور شیخ صاحب کے بچوں کو گھیسٹتے ہوئے گھر سے باہر نکال کر قبضہ کر لیا۔ ان کے بچے اب اسی اپنے گھر کے سامنے گودام میں رہتے ہیں۔
    اب دور کے رشتے دار تو الگ بات ان کے سگے بھی ان کے گھر کی طرف منہ نہی کرتے۔ میری ان سے ایک بار بس میں ملاقات ہوئی میں نے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذکر کیا تو کہنے لگے بس پیسے کو ہی سلام ہے پیسا تھا تو رشتے دار بھی بہت تھے اور صلاح گیر بھی اب در بدر دکھے کھا رہا ہوں کوئی پوچھتا تک نہیں۔
    یہی حقیقت ہے اس دنیا کی لوگ آج کل کسی کو اہمیت اسکی مالی حثیت دیکھ کر دیتے ہیں جس کے پاس پیسہ سب اسی کے ہیں۔
    میری دعا ہے اللہ شیخ صاحب پر اپنا خصوصی کرم فرمائے اور انکی مشکلیں آسان فرمائے۔
    آمین ثم آمین

    @ahsangondalsa

  • بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں  تحریر: سیدہ بنت زینب

    بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    ہر انسان قادر مطلق خدا کی مخلوق ہے، تمام انسانی دماغ خدا کی طرف سے تحفہ ہیں. جب اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللّٰہ کے آخری نبی ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں سے پیار کرتے تھے تو تمام انسانوں کو بیٹیوں پر مہربان ہونا چاہیے اور ان سے رحم کا معاملہ کرنا چاہیے.
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جو شخص لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے یعنی اس کے یہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور پھر وہ ان سے اچھا سلوک کرے ، انہیں بوجھ نہ سمجھے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی” (مشکوۃ شریف)
    اسلام میں بیٹیوں کو”رحمت” اور بیٹوں کو "نعمت” کہا گیا ہے. نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "خوش نصیب ہے وہ عورت جسکی پہلی اولاد بیٹی ہو” اسی طرح کسی اور جگہ پڑھا تھا کہ ” اللّٰہ پاک جس سے خوش ہوتے ہیں اسے بیٹی عطا کرتے ہیں اور جسے خوش کرنا ہو اسے بیٹا عطا کرتے ہیں”. ہم نے اکثر اپنے اردگرد دیکھا ہو گا کہ عموماً بیٹوں کی پیدائش پر بہت زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہیں جبکہ اگر انہی کے گھر بیٹی پیدا ہو جائے تو سارا گھرانہ افسوس کرتا ہے، غم مناتا ہے. ایسے لوگوں سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر آپ بیٹیوں کے پیدا ہونے پر خوشی نہیں منا سکتے تو کم از کم غم بھی نہ کریں کیونکہ بیٹیوں کو اللّٰہ کی رحمت کہا گیا ہے اور اسی رحمت کے صدقے اللّٰہ پاک اکثر اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیا کرتے ہیں.
    میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ بہت ساری وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بیٹیوں سے نفرت کی جاتی ہے. ان میں سے سب سے اہم جہیز ہے چونکہ یہ دراصل جہیز درمیانے طبقے کے گھرانوں کے لئے سب سے پریشانی والا عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کی بیٹی کی شادی کے لیے انکے پاس کوئی وسائل نہیں ہوتے، ایسے خاندانوں میں ان کی بیٹیوں کی پیدائش کے ساتھ ہی انکے قتل کا زیادہ امکان ہوتا ہے.
    جہیز صرف ایک نحوست ہے، جس کی نحوست کا شکار گھروں میں بالغ و کنواری لڑکیاں ہورہی ہیں، والدین اپنی خوشی سے جو چاہے دے سکتے ہیں لیکن مجبور کرنا یا رسم و رواج بنا دینا کہیں سے بھی درست نہیں…..!
    "ہاں! بیٹی نہیں بلکہ جہیز ایک لعنت ہے، اور جہیز کی روایت، بیٹی کے بجائے قتل کی جانی چاہئے!”
    دوسری بڑی وجہ جو بیٹیوں کو زحمت سمجھنے میں سرفرست ہے وہ مجھے یقین ہے کہ "پرانی روایتی سوچ” ہی ہے. یہی پرانی سوچ بیٹیوں اور خواتین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. "مرد ہمیشہ خواتین سے بہتر ہوتے ہیں” یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی ہے اور اسے جلد ہی معاشرے سے ختم ہوجانا چاہئے.
    میرے والدین کہتے ہیں کہ بیٹی خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انہیں آزادی، پیار، عزت، احترام سب دیا جانا چاہئے اور آزادی کی زندگی تمام مخلوقات کا حق ہے. الحمدللہ میرے والدین نے مجھے شروع سے ہی بہت پیار دیا ہے، بیٹیوں کو تمام آزادیاں دی ہیں، انہوں نے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں کی پرورش کی ہے، انہیں پیار اور مقام دیا ہے.
    خواتین ہی اگلی مضبوط اور پرجوش رہنما ہیں جن کو آزادی، عزت، پیار، احترام اور آگے بڑھنے نے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تبھی ہمارا ملک حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتا ہے. جیسا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا قول ہے: "دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں.”
    جب ہم اپنی خوشی سے بیٹیوں کو بیٹوں جتنا آگے بڑھنے کا موقع دیں گے تو یقیناً وہ آپکا نام دنیا کے ہر مقام پر اونچا کرتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں. بس آخر پر یہی کہنا چاہوں گی کہ بیٹیاں اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں، زحمت یاں لعنت نہیں.

    @BinteZainab33

  • سوشل میڈیا اور تباہی  تحریر: رانا عزیر

    سوشل میڈیا اور تباہی تحریر: رانا عزیر

    اگر آج کے حالات و واقعات پر ہم لوگ نظر دوڑائیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے سے اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے لیکن ہم پھر بھی اس معاشرے کو تہذیب یافتہ کا نام دے رہے ہیں۔
    قصہ کرنل کی بیوی ہو یا ٹی وی پر بیٹھے سیاستدان ایک دوسرے کی عزت چوکوں پر لٹکا رہے ہوں یا کوئی بھی صحافی، ان حالات میں سوشل میڈیا نے ہمیشہ آگ بھڑکائی اور ایندھن کا کردار ادا کیا

    ہم کسی کی بھی نجی وڈیو اور بلیک میل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں چاہے وہ عثمان مرزا واقعہ ہو جس میں سوشل میڈیا پر لڑکی کی تصویر کو سنسر کیے بغیر چلایا گیا اور لڑکی کی عزت کو پامال کیا گیا اس تمام صورتحال کو عکس بند بھی کیا گیا اور سوشل میڈیا صارفین انجوائے بھی کرتے رہے۔
    سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی حرکات و سکنات ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے پرتلے ہوئے ہیں
    جب معاشرے میں بڑے, پڑھے لکھے سکالر اور ایلیٹ لوگ اس طرح کے حوصلہ شکن واقعات میں ملوث ہون گے تو نئ نسل کیا سیکھے گی، رہی سہی کسر آج کے ٹک ٹاکرز نے نکال دی ہے کہ چند ٹکوں کی خاطر سب کچھ بیچنے کیلئے تیار ہیں یہ انتہائی پریشان کن ہے اور لبرل ازم کے نام پر بے حیائ پھیلائی جارہی ہے اور ہر طبقہ اب انکی تقلید کرنا شروع ہوگیا ہے لیکن نفس پر کنٹرول بھی انسانی صفت ہے اور یہی ہمارا امتحان ہے کہ ہم اس سوشل میڈیا کی جنگ کو کسیے لڑتے ہیں یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہے

    twitter.com/RanaUzairSpeaks

  • لڑکی اور لڑکے کی دوستی تحریر : محمد شہباز سرکانی

    یورپ میں لڑکی اور لڑکے کے درمیان دوستی عام سی بات ہے اور اس کے بارے کسی قسم کے شک کی بات نہیں اور نہ ہی یہ عیب ہے کیونکہ وہاں ماحول ہی ایسا ہے لیکن وہاں بھی مسلمان جو کہ اسلام کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں وہ اس بات کو عیب سمجھتے ہیں لیکن عام طور پر وہاں اس بات کو عیب نہیں سمجھا جاتا ۔ لیکن ہم بات کریں اپنے ملک پاکستان کی تو یہاں اس بات کو یہاں بھی آج کل عیب نہیں سمجھا جارہا حالنکہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اس بات کا واضع ثبوت یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور پردہ بھی ہمارے مزہب میں لازمی ہے ۔ عورت کےلیے پردہ اور مرد کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا کہا گیا ہے
    آج کل سوشل میڈیا اور بہت سے فورم پہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان فوٹو سیشن عام سی بات ہے اور اس بارے ان کے والدین بھی خاموش ہیں حالانکہ ان کو اس بات کو پتہ بھی ہے کہ ان کے بچے کیا کررہے ہیں لیکن وہ پھر بھی خاموش ہوتے ہیں ۔ اس طرح بہت سے واقعات رونما ہورہے ہوتے ہیں جس سے طلاق کی شرح پڑھے لکھے نوجوانوں میں زیادہ ہے ۔
    اس بات کو اگر اہم نہیں لیں گے تو بہت سے واقعات رونما ہوتے رہیں گے ۔ دوستی کو جب رشتہ داری میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو عام طور پر وہ رشتہ صرف ایک سال بھی مشکل سے چلتا ہے اور بہت سے مساٸل جنم لیتے ہیں ۔ ہمارے ملک پاکستان میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آذادی سے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں ۔ ان کے والدین اس بات کو اہمیت نہیں دیتے کہ ان کے بچے کہاں جارہے ہیں اتنی رات گۓ وہ کس کے ساتھ تھے اور کیا کررہے تھے اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان کی بدنامی کا باعث ہی ان کے بچے ہیں
    ہمارے وزیراعظم عمران خان نے عورت کے پردے کے بارے ایک بیان دیا اور بہت سے حلقوں نے ان پر حملے شروع کردیٸے حالانکہ ان کی بات بھی بالکل ٹھیک تھی کہ عورت اپنے آپ کو پردے میں رکھے جس سے مرد آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے ۔ تاکہ معاشرے سے بے حیاٸی کا خاتمہ ہو
    ہمارے دیہاتوں میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لیکن شہروں میں تو نہ ہونے کے برابر رات گۓ ہوٹلوں میں پارٹیاں ہورہی ہوتی ہیں اور وہاں پر حیاٸی عروج پہ ہوتی ہے اور ان کو کوٸی روکنے والا نہیں ہوتا
    اگر بات کریں قانون کی تو وہ بھی ہمارے ملک میں کتنا نافذ ہے سب کو پتہ ہے لیکن اس بات پر زور دیں کہ ہمارے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اتنی آذادی نہ دیں جس سے ان کے بچے ان کی عزت پر حرف آنے کا باعث بنتے ہوں
    ہر حلقے کی جانب سے مختلف راۓ آۓ گی لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اللہ پاک نے عورت کو پردے کے بارے واضع طور پر حکم دیا اور کیوں کہ عورت کےلیے پردہ ہی اہم چیز ہے اس لیے اسلام میں عورت کو ایک مقام دیا گیا ہے تاکہ عورت کی زندگی پرسکون گزرے اور وہ لوگوں کی بری نگاہوں سے محفوظ رہے
    ۔ https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی کے تین بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں،
    ١_اللہ سبحان وتعالی کی رضا
    ٢_سنت ابراہیمی کے مقدس فریضے کی ادائیگی
    ٣_غریب و نادار طبقہ کو تین دن مسلسل گوشت کی فراہمی شامل ہے
    اس عظیم خوشی کے موقع پر سیکولر طبقہ مختلف رائے رکھتا ہے ، اِن کے مطابق لاکھوں جانوروں کی قربانی کرنے کے بجائے انہی پیسوں کو کسی اور فلاحی کام میں لگایا جائے ، اس سے لاکھوں جانوروں کی زندگیاں بچ جائیں گی اور فلاحی کام بھی ہوسکیں گی،
    معزز قارئین! انہی لبرل و سیکولر طبقے کو کیا واقعی جانوروں سے ہمدردی ہے ، یا نشانہ دراصل اسلامی ضابطہ حیات ہے؟
    اس سوال کا مختصراً جواب یہ ہے کہ، انہی لبرل و سیکولر مافیاز کو "سپین؛ میں جانوروں کے حقوق پر کبھی بولتے نہیں پایا گیا ، جہاں ہر سال چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیلوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے ، بے زبان جانوروں کو اذیت ناک موت دے کر کہتے ہیں یہ تو بس ایک کھیل ہے.
    انہی لبرل مافیاز کے زبانوں پر اسوقت تو آبلے پڑ جاتے ہیں جب نیپال میں ہر پانچ سال بعد ہندؤں! کی جانب سے لاکھوں جانوروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے، وجہ اپنے دیوی ماتا کو راضی کرنے کے لئے.
    معزز قارئین! جب ڈنمارک میں ہر سال سینکڑوں افراد ہزاروں ڈولفنز کو قتل کر دیتے، حتیٰ کہ سمندر کا رنگ سرخ پڑ جاتا ہے لیکن نہیں یہ بھی ایک کھیل ہی ہے اور ایک تہوار ہے ، لبرل مافیاز کا اس پر خاموشی کوئی اچنبھے کی بات نہیں.
    جب یہودیوں! کی جانب سے ہرسال ہزاروں مرغیوں کو پتھروں پر مار کر ہلاک کردیا جاتا ہے تو وہاں بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ، ہاں کسی کو اعتراض ہے بھی سہی تو اسلامی اقداروں پر ہے .
    معزز قارئین! اگر اب بھی کسی کو جانوروں کی قربانی پر اعتراض ہے تو اسے اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

    @AbdullahMazari12

  • غیرت اور عورت   تحریر:   ازان حمزہ ارشد

    غیرت اور عورت تحریر: ازان حمزہ ارشد

    عورت اور غیرت کا صدیوں سے گہرا تعلق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی ہوئی عورت ہی داغدار ہوئی۔

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہے جو کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت و وقار دینے کا دعویٰ کرتا ہے یہی عورت گھر میں ہو تو اسے عزت سمجھا جاتا ہے اور اگر یہی عورت کسی دفتر یا کارخانے میں محنت مزدوری کر رہی ہو تو اسے بدکار سمجھا جاتا ہے۔ اپنے گھر کی عورت پر کوئی نظر ڈالے تو نظر ڈالنے والے کی آنکھیں نکال دی جاتی ہے اور اگر وہی نظریں خود کسی دوسرےگھر کی عورت پر ڈالی جائے تو اسے مردانگی کی اعلیٰ صفت قرار دے دیا جاتا ہے۔

    اپنی بہن کسی کے ساتھ بھاگ جائے تو عزت مٹی میں مل جاتی ہے اور اگر خود کسی کی بہن بھگا لاؤ تو اسے محبت اور جوانی کے جوش کا نام دے دیا جاتا ہے۔

    قریب ایک سال پہلے کی بات ہے میری ایک قریبی رشتہ دار 23 سالہ نوجوان 3 بچوں کی ماں کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا قتل کی وجہ گھریلو مسائل تھے ہم سب غم سے نڈھال تھے تبھی میرے کان میں میت کے قریب بیٹھے کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دی جو کہ کہہ رہے تھے کہ ضرور اس لڑکی کا کہی اور چکر ہوگا اور غیرت کے نام پر اسکے شوہر نے اسے قتل کر دیا۔
    مجھے افسوس یہ ہوا کہ ایسی باتیں کرنے والی خود عورتیں ہی تھی۔ یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اصل میں مرد نہیں عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے۔
    عورت کو غیرت کا نام لے کر قتل کیا جاتا ہے اور پھر اسی عورت کو موٹروے پر روک کر زیادتی کی جاتی ہے اور پھر اسی عورت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسکا لباس درست نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب 5 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے تو اس میں اسکے لباس کا کیا قصور تھا؟ جب عورت کو سسرال والوں کے ناجائز مطالبات پورے نہ کرنے پر جلا دیا جاتا ہے تو اس میں اسکا کیا قصور تھا؟

    قصور عورت کا نہیں ہماری سوچ کا ہے قصور ہم میں موجود اس جانور کا ہے جو عورت کو محض لطف کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ قصور اس نظر کا ہے جو گندگی سے بھرپور ہے۔

    خدارا اپنے گھر اور دوسروں کے گھر کی عورت کو برابر سمجھ کر انھیں عزت دینا شروع کر دیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہماری مائیں بہنیں ہمارے مکہ فاتح کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی عزتوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔