Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب  تحریر: بشارت حسین

    جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب تحریر: بشارت حسین

    معاشرے میں جنسی زیادتی کا بڑھتا ہوا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا۔ دور حاضر میں جنسی زیادتی کا شکار نہ صرف خواتین ہیں بلکہ کم عمر بچے اور بچیاں بھی ہونے لگیں ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ اب تو جانور بھی اس سے محفوظ نہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔
    جنسی زیادتی کہ شرح میں خطرناک حد تک کا اضافہ معاشرے میں خوف اور عدم استحکام کا سبب بن چکا ہے۔
    والدین اپنے بچوں کو گھر سے نکالتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہو گا اللہ خیر کرے۔
    لیکن ہمارے معاشرے کے وہ ناسور اور درندے کھلے عام پھرتے ہیں اپنا شکار تلاش کرتے ہیں اگر پکڑے بھی جائیں تو اکثر والدین بدنامی کے ڈر سے تھانوں کچہریوں میں جاتے ہیں نہی اگر چلے بھی جائیں تو کچھ عرصہ بعد وہ درندے پھر سے جیلوں سے بری ہو کر آ جاتے ہیں۔
    یوں یہ رحجان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
    اسباب
    معاشرے میں اس بیماری اور ناسور کے پھیلنے کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں
    جن میں سب سے پہلا انٹرنیٹ کا کردار ہے۔
    انٹرنیٹ جہاں بہت حد تک زندگی میں اسائیش لایا وہیں پورن ویب سائٹ نے ہمارے معاشرے کے خوبصورت ماحول کو تہس نہس کر دیا۔
    ایسی ویب سائیٹ پہ صرف زنا اور ہر طرح کے گندے کام دکھائے جاتے ہیں جس سے ہمارے بچے وقت سے پہلے جوان ہو جاتے ہیں اور ان میں یہ جنسی خواہشات کا رحجان بڑھ جاتا ہے اس طرح تقریبا انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے پچاس سے پینسٹھ فیصد تک اس خطرناک مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    دوسرے نمبر پہ شادی کے مسائل
    ہمارے معاشرے میں شادی کو عموما اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ اب نکاح مہنگا اور سنا سستا ہو گیا ہے۔
    جوان بچوں کی شادیوں میں اتنی دیر کر دی جاتی ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی غلط رستوں پہ چل نکلتے ہیں۔
    دین سے دوری
    اکثر ہمارے بچے اور بچیوں کو دیں سے شناسائی ہی نہیں ہوتی انکی نظر میں یہ کام کوئی زیادہ غلط نہیں ہوتا اس کو وہ تنگ نظری کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
    سدباب
    معاشرے میں اس ناسور کو روکنے کیلئے سخت قوانین کی اشد ضرورت تو ہے ہی ساتھ والدین کی چند اہم ذمہ داریاں بہت نمایاں ہیں۔
    چھوٹے بچوں کو والدین ہر وقت اپنی نظر میں رکھیں انکے ساتھ اپنے تعلقات دوستانہ رکھیں۔
    بچے کے ساتھ ملنے والے ہر شخص کے کردار کو دیکھیں اور اپنے سے بڑی عمر کے بچوں سے دور رکھیں۔
    بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں اور بند کمروں میں انٹرنیٹ سے بچائیں۔
    بچے کو کسی کے ساتھ زبردستی کہیں بھی نہ بھیجیں اور نہ بچہ کوئی بات کر رہا ہو اور اس کو روکیں ہو سکتا ہے وہ اپنی پریشانی بتا رہا ہو اور آپ اس کو نظر انداز کریں اور وہی اس کیلئے خطرناک ہو۔
    بچوں کو اکیلا دکان وغیرہ پہ مت بھیجیں بلاشبہ یہ مشکل ہے لیکن اس پہ نظر رکھیں یہ آپ کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
    میاں بیوی بچوں کے سامنے کبھی بھی کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کریں۔
    بچوں اور بچیوں کو الگ الگ سلائیں۔
    کزن وغیرہ پہ بھی اعتماد نہ کریں بچوں کے معاملے میں کسی پہ کوئی اعتماد نہ کریں۔
    بچے جوان ہوں تو کسی نیک گھرانے میں بغیر لالچ کے شادی کریں۔
    بچوں کی عمر ضائع نہ کریں اور نہ ایسا موقع دیں کہ وہ آپکی رسوائی کا سبب بنیں۔
    مذہبی تعلیم سے آراستہ کریں اور برے کاموں پہ اللہ کی پکڑ کے بارے میں بتائیں۔
    معاشرے کا پر شخص ایسے لوگوں پہ نظر رکھے اور انکو پولیس کے حوالہ کرے۔
    اپنے محلے کے بچوں اور بچیوں کی غلط حرکات سے انکے والدین کو آگاہ کریں۔
    ہم سب ایک ہوں گے تو ہمارا معاشرہ صاف ستھرا ہو گا ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تو کسی کو ہمارے ماحول کو معاشرے کو گندہ کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر : تماضر خنساء

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر : تماضر خنساء

    آج کل ہر بچے بچے کے پاس موبائل نظر آتا ہے صرف یہی نہیں تین اور چار سال کے بچے بھی اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب ان سے وعدہ کیا جائے کہ بھائی آپکو موبائل دینگے ۔۔۔۔۔
    یوں کہنا ٹھیک رہے گا کہ کرونا سے بڑا وائرس یہ موبائل ہے !!! یہ موبائل صرف انسان کو نہیں ختم کر رہا باقی سب کچھ ختم کرتا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔
    یوں تو اسکے جہاں نقصان ہیں وہاں فائدے بھی بہت ہیں ۔۔۔۔۔۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں یہاں 24 میں سے 14 گھنٹے آرام سے موبائل کو دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔بلکے یوں کہنا درست رہے گا کہ موبائل آج کے نوجوان کو دس گھنٹے دوسری مصروفیات کیلئے دے دیتا ہے ۔۔۔۔ جس میں ہمارے نوجوان سونا کھانا پینا اور اگر خرافات میں پڑ جانے کی وجہ سے انسے توفیق عبادات سلب نہیں ہوئی ہیں تو وہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔
    لوگوں کی مختلف اقسام ہیں کچھ اس موبائل کو اپنے فائدے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں یہ فائدے دنیوی بھی ہیں اور دینوی بھی ۔۔۔۔ کچھ لوگ اسکے ذریعے سے حلال رزق حاصل کر رہیں ہیں تو کچھ اپنے نامہ اعمال کو بھاری کر رہے ہیں۔ اب قارئین سوچ رہے ہونگے کہ ان دو باتوں کو ساتھ ذکر کرنے سے میرا مقصد کیا ہے؟؟ تو مختصر یہ کہ مختلف ایسی ایپلیکیشنز متعارف ہوئی ہیں جنکے ذریعے سے لوگ پیسہ بنا رہے ہیں ۔۔۔۔ اور بس یہی نہیں بلکہ اس میں اب ایک پڑھا لکھا طبقہ ملوث ہوگیا ہے ۔۔۔۔ چلیں ٹھیک ہے ایک ایپلیکیشن ہے آپ اسے انسٹال کرتے ہیں اور پھر اس پر اچھی ویڈیوز بناتے ہیں یا جیسی بھی بناتے ہیں یہ آپ پر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اپ
    اپنے ہر عمل کے زمہ دار خود ہیں مگر کیا ہم اتنے باعمل ہیں کہ دوسروں کی بداعمالیوں کا بوجھ بھی اٹھا سکیں؟ ٹک ٹاک اور اسنیپ ویڈیو آپ نے شیئر کیں اور آپکے اکاؤنٹ میں پیسے آئے اور یوں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ انوائیٹ کر کے آپ زیادہ سے زیادہ کمائینگے ۔۔۔۔۔ اور یاد رہے کہ آپ اس دنیا میں کمانے اور کھانے نہیں آئے تھے بلکہ بندگی کیلئے ہم بھیجے گئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (الملک:٢)
    جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔

    یعنی جینے کیلئے پیسے کی ضرورت ہے ہم پیسے کہ نہیں پیسہ ہمارا غلام ہے ہم نے اب جتنے لوگوں کو اس پر انوائیٹ کیا اگر وہ نیکی کرتے ہیں اسکے ذریعے تو ظاہر ہے ہمارے اس اکاؤنٹ میں بھی اضافہ ہوگا جو ہمیں روز آخرت ملے گا۔۔۔۔۔ اور جہاں کوئی برائی کرے گا تو اس کی برائی کا بوجھ بھی ہم اٹھا لیں کیا ایسا ممکن ہے؟؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
    لِیَحْمِلُوا اٴَوْزَارَھُمْ کَامِلَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَمِنْ اٴَوْزَارِ الَّذِینَ یُضِلُّونَھُمْ بِغَیْرِ علم ۔اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ (النحل:٢۵)
    "روز قیامت یہ لوگ اپنے گناہوں کا بوجھ پوری طرح اپنے دوش پر اٹھائیں گے اور ایک حصہ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی کہ جنہیں جہالت کی وجہ سے انہوں نے گمراہ کیا ہے
    جان لو کہ وہ بد ترین بوجھ اور ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا ئے ہوں گے ”
    یوں بھی آج ہم سب فرائض بمشکل انجام دیتے ہیں گناہوں سے دل سیاہ ہے اور یوں شیئرنگ کر کے گناہوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں ۔۔۔
    پھر صرف یہ ویڈیو کی ایپلیکیشنز ہی نہیں اور بھی سوشل میڈیا کی بڑی ایپلیکیشنز جو کے نوجوان نسل اپنی بربادی کیلئے استعمال کرتی ہے ۔۔۔۔ صرف اخروی ہی نہیں دنیوی بربادی کا سبب بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
    میٹرک اور انٹر کے سنہرے وقت کو جس میں انکی زندگی بنتی ہے سوشل میڈیا پر محبتوں میں برباد کردیے ہیں جب انھیں یونیورسٹی کے لئے تعین کرنا ہوتا ہے تب والدین انکے لئے سائیکالوجسٹ کا انتظام کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
    اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ دماغی صحت یہاں کہاں سے آگئی تو جناب کہا جاتا ہے کہ نسل نو کا اسمارٹ فونز اور کھانے پینے کی طرف رجحان اتنا ہے کہ وہ اپنی صحت کی طرف متوجہ نہیں ہوپاتے اور انکی جسمانی اور ذہنی صحت مسلسل گرتی جارہی ۔۔۔۔ پھر سوشل میڈیا پر مختلف باتوں پر ری ایکشن بھی ضروری سمجھا جاتا ہے جس سے عدم برداشت کے تناسب میں بھی اضافہ کوریا ہے ۔۔۔۔۔۔۔خاندان جو کبھی ساتھ ملکر بیٹھا کرتے تھے اب وہ وقت بھی موبائل کھا جاتا ہے اس وجہ سے اپنے معاملات بڑوں سے ڈسکس کرنا بھی اس نسل نے نہیں سیکھا۔۔۔۔۔ ایک ہی چیز ایک ہی معاملے کو سوچ سوچ کر مکمل ڈیپریسڈ نسل ہے یہ اور میں اگر اپنے ارد گرد کا مشاہدہ کروں تو اکثر وہ لوگ جو بس ضرورت کے تحت سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں انکی شرح ڈیپریسڈ ہونے کی ان نوجوانوں سے کم ہے جو سوشل میڈیا میں ڈوبے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔۔ اچھا ہے کہ ہم اس نعمت کو نعمت ہی کی طرح استعمال کریں اسے زحمت نہ بنائیں ۔۔۔۔

    @timazer_K

  • خود ترسی   تحریر:حُسنِ قدرت

    خود ترسی تحریر:حُسنِ قدرت

    خود ترسی ایک نفسیاتی بیماری ہے اس میں مبتلا انسان ہر وقت چاہتا ہے کہ وہ اپنے دکھڑے دوسروں کو سناتا رہے اور دوسرے لوگ اسے دلاسے دیتے رہیں
    اب میں آپ لوگوں کو یہ بتاؤں گی کہ
    *کس طرح کے لوگ اس طرح کی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں؟*
    1_کمزور ذہنیت والے لوگ: کمزور ذہنیت والے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو ذہن پہ سوار کر لیتے ہیں اور جب کوئی بڑی پریشان آتی ہے تو وہ انہیں لگتا ہے کہ دکھ کا پہاڑ ہے وہ چاہتے ہیں کوئی ہو جو مسلسل انکا دل بہلائے تاکہ انہیں ذہنی سکون ملے
    2_کمزور شخصیت والے لوگ: کمزور شخصیت والے لوگ اپنی ویلیو کو دیکھتے ہوئے ٹوٹ جاتے ہیں انہیں شدید ترین بے قدری کا احساس ہوتا ہے اور وہ خود ترسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر ایک کو درد و غم سنائیں اور آنے والا ہر بندہ انہیں دلاسہ دے
    3_ایسے لوگ جو کئی سالوں سے دکھ برداشت کر کر کے تھک گئے ہوں: جو لوگ کئی سالوں سے دکھ برداشت کر رہے ہوتے ہیں وہ انکے بوجھ سے تھک کر ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہو جو انکی اذیت سہنے کی صلاحیت کی داد دے
    *کون لوگ خود ترسی کا شکار نہیں ہوتے؟*
    •-ایک مضبوط ذہنیت کا انسان جب پریشانی یا مشکل حالات سے گزرتا ہے تو وہ اپنی دل لگی کا کوئی اور سامان یعنی مصروفیت تلاش کرتا ہے جس سے وہ اپنی پریشانی سے کچھ دیر کے لیے پیچھا چھڑا سکتا ہے جیسا کہ کتاب پڑھنا یا کوئی کھیل وغیرہ
    •- مضبوط شخصیت کا انسان اپنی ویلیو دیکھتا ہے اور اسکے بعد یہ فیصلہ کرتا ہے کچھ بھی ہو جائے وہ پریشانی کو اتنا بڑا نہیں ہونے دے گا کہ وہ اسکے سر چڑھ کر بولے اس سے بچنے کے لیے وہ کوئی اچھا مشغلہ اختیار کرتا ہے جیسا کہ باغبانی ،پرسنیلٹی ڈیویلپمنٹ کے نئے آئیڈیاز اور کتابیں وغیرہ پڑھنا
    •-اگر مضبوط ذہنیت و شخصیت کا انسان دکھ سہہ سہہ کے تھک بھی جاتا ہے تو وہ اس پریشانی یا تکلیف سے سمجھوتا کر لیتا ہے اور اسے بھی دوست سمجھ کے ساتھ رکھتا ہے اور اس سے تقویت حاصل کرتا ہے کہ میں اس سے زیادہ مضبوط ہوں اور میں نے آگے لازمی بڑھنا ہے

    Twitter:@HusnHere

  • عورتوں میں عدم برداشت   تحریر:فراز حیدر چشتی

    عورتوں میں عدم برداشت تحریر:فراز حیدر چشتی

    آج کل زیادہ تر حضرات صرف عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کے دور حاضر کے حساب سے ہمیں مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہوگا اور ہر فورم پے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے میں تو کہتا ہوں کہ مردوں کے حقوق کے لیے پاکستان کے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنا چاہیے پر اس کے برعکس سیاست دان تو دور دنیا کے بیشتر صحافی کالم نگار ادیب خواتین کے خلاف لکھنے سے قبل ہزار بار سوچتے ہے
    دور جاہلیت کے وقتوں کی بات ہے جب مرد حضرات عورتوں پر تشدد کرتے تھے عورتوں کے حقوق پورے نہیں کرتے تھے محض بیٹیاں پیدا کرنے پہ ہی طلاق دے دیتے تھے تشدد کا نشانہ بناتے تھے حقوق پورے نہیں کرتے تھے لیکن آج کا زمانہ تبدیل ہو چکا ہے آج کل مرد حضرات پے عورتیں مظالم کرتی ہے ذہنی و جسمانی طور پر شدید ٹارچر کیا جاتا ہے مردوں کے ذرائع آمدن سے زیادہ اور مہنگے مہنگے برانڈز کی فرمائشیں کرتی ہیں عورتوں میں احساس تقریباً ختم ہو چکا ہے جس کے چلتے نوبت طلاق تک چلی جاتی ہے اس بات کا اندازہ آپ ایک رپورٹ سے لگائیں کے صرف کراچی میں 2019 کی رپورٹ کے مطابق 11 ہزار 143 کیسز دائر کروائے گئے ہیں طلاق کے لیے یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ تو صرف کراچی کی رپورٹ ہے پاکستان کے باقی تمام شہر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے آج کل طلاق کی زیادہ تر منگ عورتوں کی طرف سے رکھی جاتی ہے عدالتوں میں بیشتر لڑکیاں طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں ابھی چند روز قبل کی ہی بات ہے کہ میرے ایک دوست کی ایک بیٹی ہے سارا دن موبائل پے لگی رہتی ہے اپنے خاوند کے حقوق کا ذرا خیال نہیں رکھتی آئے روز ان کا جھگڑا ہوتا رہتا تھا موبائل کی وجہ سے تو تنگ آ کر اس کے خاوند نے کہا کہ يا یہ موبائل رکھ لو یا مجھے رکھ لو اس کی بیوی نے جواب دیا کے میں طلاق لے سکتی ہوں لیکن موبائل کو نہیں چھوڑ سکتی یہ ہے آج کی بیشتر لڑکیوں کا حال میری اپنی ماؤں بہنوں سے التماس ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے اندر عدم برداشت لانا ہوگا اور بڑھتے ہوئے طلاق کے رجحان کو روکنا ہوگا گا اور مرد حضرات سے التماس ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم االلہ وجہہ الکریم کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہمارے نبی پاک ہیں معاشرہ روز بروز اپنی تباہی کی طرف گامزن ہے مردوں اور عورتوں کو اپنی بے جا خواہشات کو علیحدہ رکھتے ہوئے دین اسلام کی بہترین تعلیمات کو اپنانا ہوگا اسی میں کامیابی ہے

  • تنقید سے ڈرنا کیا  تحریر :صالح ساحل

    تنقید سے ڈرنا کیا تحریر :صالح ساحل

    دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے خیالات، نظریات اور افکار کو زمانے کی تنقید کی وجہ سے دفن کر دیتے ہیں اور ایک فضول سی زندگی گزار کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں کیوں کے جن کے پاس نظریہ نہ ہو ان کی زندگی بھی کوئ زندگی ہے یقیناَ یہ لوگ خدا کے ناشکرے ہوتے ہیں ان کو خدا نے سوچنے سمجھنے کے لیے دماغ دیا ہوتا ہے نئے نظریات کو جنم دینے کی قابلیت ہوتی ہے مگر یہ دنیا کے ڈر سے اس کو ضائع کر دیتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کو ضائع کرنا بھی تو ایک جرم ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوسرا گروہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جن کی تعداد تو کم ہوتی ہے مگر ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں یہ اپنے افکار نظریات اور خیالات کو زمانے کی فرسودہ روایات اور خوف کے نظر نہیں کرتے ان پر تنقید ہوتی ہے مگر یہ میدان سے نہیں بھاگتے یہ اس تنقید کو بھی صحیح استعمال کرتے ہیں اور اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں اس تنقید کے نتیجے میں بعض اوقات یہ اپنے راستے بدل لیتے ہیں مگر اپنے مقصد پر کمپرومائز نہیں کرتے یہ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں ان کے لیے ڈھول نہیں بجائے جاتے کئ بار تنقید ان کے کلیجہ چیر دیتی ہے مگر یہی لوگ اپنے مقصد کو پا لیتے ہیں اور اگر منزل نصیب نا بھی ہو تو پر سکون مرتے ہیں ان کا نام ان کی موت کے بعد بھی ان کو زندہ رکھتا ہے
    ———–
    اس لیے آپ اپنی زندگی میں اس بات کا خوف نا رکھیں کے آپ پر تنقید ہو رہی بلکہ کے اپنے مقصد میں لگے رہے لوگ آپ کا ساتھ نہ بھی دیں یاد رکھیں دنیا میں حق کے چاہنے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ چند لوگ تھے حضرت لوط کے ساتھ صرف دو بیٹیاں تھیں حضرت عیسیٰ کے ساتھ گیارہ لوگ تھے امام حسین کے ساتھ 72 لوگ تھے لوگوں کی تعداد کا ہونا میعار حق نہیں خدا نے آپ کو ذہن دیا ہے آپ سوچیں نئے انداز سے دنیا کو دیکھیں اپنے نظریات کو عوجے سوریا پر لے جائیں اور اپنے ذہنوں سے ڈر نکال دیں سقراط کے خیالات کو چند لوگوں نے قبول کیا اور ایتھنز کے حامی ہزاروں تھے اس لیے اپنے مقصد پر توجہ کریں
    ________

    اس سارے سفر میں آپ اپنا محاسبہ کرتے ہیں کے کہیں آپ کے نظریات کی جگہ ضد نے تو نہیں لے لی ضد اگر غالب آگی تو آپ ہار جائیں گے کیوں کے اس سارے سفر میں ضد اور انا آپ کی سب سے بڑی دشمن ہو گی خدا سے تعلق کو جوڑے رکھیں اور بڑھتے جائیں کامیابی آپ کا مقدر ہو گی اور زندگی سے گلے کم ہوں گے اور ہاں آخر میں یہ جملہ کہوں گا تنقید سے ڈرنا کیا یہ تو سوچنے کی ہمت دیتی ہے

    @painandsmile334

  • دم توڑتی سچائی تحریر: افشین

    سچائی "حقیقت” ہے اور حقیقت اپنا آپ منواتی ہے چھپتی نہیں
    سچائ اس روشنی کی مانند ہے جو چاروں اطراف منور ہوتی ہے تو ہر طرف اجالا ہوجاتا ہے سچائ حقیقت ہے اور حقیقت سے کبھی منہ نہیں پھیرا جاسکتا ہے اگرچہ سچائ کا راستہ دشوار ہے مگر کامیابی اسی میں پوشیدہ ہے
    سچائ وقتی دبائ جاسکتی ہے مگر اسکا سورج کی طرح طلوع ہونا لازم ہے انسان جھوٹ پہ جھوٹ بولتا جاتا ہے مگر جھوٹ عارضی ہوتا ہےہمیں سچائ کا ساتھ دینا چائیے اور چاہے اس کے لیے لڑتے اپنی جان بھی چلی جائے پر پیچھے ہٹنا نہیں چاہیےسچ بولنے والے سے رب بھی خوش ہوتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہےہمارے پیارے نبی پاک نے بھی سچائ کا درس دیا سچائ صداقت و ایمانت داری سے بھری ہوئ ہوتی ہےسچائ آدب ولحاظ اور دلی سکون سے منسلک ہےسچائ معاشرے میں موجود تمام برائیوں کا سد باب ہےآجکل ہر طرف جھوٹ کا بازار گرم ہے ہر پیشہ میں جھوٹ بولنا سر فہرست ہے جھوٹ کے بغیر جیسے کوئ کام چلنا ہی نہیں جھوٹ کے بغیر جیسے اپنا بچاو ہی نہیں جیسے جھوٹ کو لازم قرار دیا گیا ہوجھوٹ بولنے والا منافق شخص ہوتا ہے وہ اپنی باتوں سے جلد سب کو قائل کر لیتا ہے اور سچائ کو دبانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے مگر جھوٹ ہمیشہ قائم نہیں رہتا سچائ کھول کے سامنے آجاتی ہے دیر صحیح مگر درست صحیح ۔سچائ کا ساتھ دینے والے اس دنیا میں خوار بہت ہوتے ہیں مشکلات بہت سہتے ہیں پر آخروی کامیابی ایسے ہی لوگوں کے لیے ہےجو انسان سچا ہو اس کو کم لوگ سنتے ہیں کم لوگ اسکا ساتھ دیتے ہیں اور اکثر سچائ کے کیے لڑتے لڑتے کہیں لوگ دم توڑ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اب جھوٹ سرعام بھکتا ہے اور انصاف کے قوانین برائے نام رہ گئے ہیں
    اس میں ہمارا قصور ہے ؟ یا اس معاشرے کا جس میں ہم رہ رہے ہے آخر کیوں سچائ کو ایڑیا رگڑنی پڑتی ہیں آخر سچائ کا دم توڑنے میں ہر کوئ کیوں سر فہرست ہےجھوٹ بولنے والا انسان نا صرف خود کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے بلکہ خود سے جورے ہر انسان کو مشکل میں دھکیل رہا ہوتا ہےجھوٹے انسان کا لہجا مٹھاس اور فریب سے بھرا ہوا ہوتا ہےاپنے اپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے وہ کسی حد تک جا سکتا ہے پیشہ و تجارت ہو یا گھریلو معاملات سب میں سچائ ایک اہم جزو ہے گھر میں مسلے جھوٹ سے بنتے ہیں ادھر کی آدھر کی جھوٹ ملاوٹ کیا اور فساد برپاہ ہوگیا ایسے ہی تجارت و پیشہ میں بھی جھوٹ ملاوٹ کرنے سے سب تباہ ہوجاتا ہے اگر عدلیہ میں انصاف مہیا نہیں تو سارا نظام درہم برہم ہوجانا ہے لہذا سچائ ہر لحاظ سے اہم ہےہمیشہ سچ بولے اور سچ کا ساتھ دیں تاکہ دنیا وآخروی کامیابی پاسکے

    @Hu__rt7

  • معاشرے میں تشدد کا عنصر  تحریر:سید لعل بُخاری

    معاشرے میں تشدد کا عنصر تحریر:سید لعل بُخاری

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر جارحیت بڑھتی جا رہی ہے۔ہر آدمی عدم برداشت کا شکار نظر آتاہے۔دیگر شعبہ ہاۓ زندگی کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی گالی گلوچ کی بھرمار ہو چکی۔
    یہ سب کچھ بہت افسوسناک ہے۔کیا ہم جنگل کی زندگی کی طرف واپس جا رہے ہیں؟
    ہم ایک مہذب معاشرہ بننے کے بجاۓ پُر تشدد معاشرہ بننے کی طرف کیوں گامزن ہیں؟
    ہم چند روپوں کی خاطر ایک دوسرے کی جان کیسے لے سکتے ہیں؟
    کیا ہمارے مذہب کی یہی تعلیمات ہیں؟
    بلکل نہیں۔
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،جو ہمیں جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں تو جانوروں حتی کہ درختوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
    اس مذہب عظیم میں ایک انسان کی جان لینے کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
    اگر مذہب یہ کہتا ہے تو ہمیں اسکی تعلیمات کو اختیار کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟
    ہمارے مذہب کو لوگ اچھا مذہب اُسی وقت تسلیم کریں گے،جب ہم اچھے مسلمان اور اچھے انسان بن کے اسکا عملی نمونہ پیش کریں گے۔
    ان پر تشدد رویوں کی جو وجہ مجھے نظر آتی ہے،وہ معاشرے میں عدم مساوات اور انصاف کی عدم فراہمی ہے۔
    عام آدمی کو جب ایک بااثر آدمی کے مقابلے میں انصاف نہیں ملتا تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔
    اسی طرح عام آدمی حقوق کی جگہ جگہ پامالی بھی اسی معاشرتی تفرقے اور بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ایک عام آدمی کو چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے لائن میں لگنا پڑتا ہے،جبکہ با رسوخ افراد یہی کام گھر بیٹھے ایک فون کال پر کروا لیتے ہیں۔
    ان تباہ کُن رویوں میں اضافے کا باعث ہمارے سیاستدان بھی ہیں،جنہیں آپ روزانہ دست و گریبان ہوتےاور گالم گلوچ کرتےدیکھ سکتے ہیں۔
    ان لوگوں کے اس وطیرے کا نوٹس لینے کی بجاۓ پارٹی قیادت شاباشی دیتی ہے۔
    لوگ اپنے ان نام نہاد راہنماوں کی پیروی میں وہی نا مناسب رویہ عام زندگی میں اختیار کر لیتے ہیں۔
    ہمارے آپس کے لڑائ جھگڑوں کی ایک وجہ دوسرے کی بات کو اہمیت نہ دینا بھی ہوتا ہے۔ہم بس اپنی سُنانا چاہتے ہیں،کسی کی سننا نہیں چاہتے۔ضروری نہیں کہ ہر دفعہ ہم ہی درست ہوں یا حق پر ہوں۔
    بعض دفعہ دوسرا بھی سچائ پر ہو سکتا ہے۔اگر ہم اپنی بات کہتے ہیں،تو دوسرے کی سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔
    انصاف کی عدم مساوات کے ساتھ ساتھ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم بھی لوگوں کو زہنی مریض بنا رہی ہے،امیر ،امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔غریب ،غریب ترین۔
    یہ تفاوت اسی وقت دور ہو سکتی ہے،جب معاشرے سے کرپشن ختم ہو جاۓ۔ہر ایک کا بے رحم احتساب کیا جاۓ۔اسکا آغاز کھرب پتی افراد سے کرنا چاہیے نا کہ ایک سائیکل اور چھابڑی والے سے۔
    ہر شہری کو مواقع ،برابری کی بنیاد پر ملنے چاہییں،چاہے وہ تعلیمی یا طبی سہولیات ہوں یا کاروبار کے مواقع۔
    پرچی مافیا کا خاتمہ ہو۔
    ہر ایک کا کڑا احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    اگر ہم نے یہ سب نہ کیا تو یہی عدم برداشت کی لہر ایک طوفان کی شکل اختیار کر جاۓ گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے،
    خدانخواستہ#

    @lalbukhari

  • عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے.”
    سورة العمران 134
    ہمارے ہاں عدم برداشت کا کلچر فروغ پا چکا ہے ۔آپ سڑک پر دیکھتے ہیں کہ گاڑی والا موٹرسائیکل والے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ذرا آپ اس کی شاہی سواری کے راستے میں حائل ہو جائیں تو فوری ہارن بجا کر دور ہٹنے کا کہا جائے گا پھر اگر ذرا تاخیر ہوئی تو گاڑی کے اندر سے ہی صلواتیں سنانا شروع کردیں گےاور خواہش ہوگی کے کچل کر آگے نکل جائیں اور اسی طرح یہی سلوک موٹرسائیکل والا رکشہ یا گدھا گاڑی والے کے ساتھ کرتا ہے
    ذرا سی انیس بیس پر سڑک پر دست و گریباں افراد اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
    عدم برداشت کی یہ بیماری صرف عام آدمی تک محدود نہیں بلکہ ہمارے سیاستدانوں اور ایوانوں تک سرائیت کر چکی ہے جس کا مظاہرہ ہم نے بجٹ سیشن میں کیا اور اب آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں ایک دوسرے کو یہودی ایجنٹ اور دیگر القابات سے نوازا گیا ۔سیاسی اختلافات کی یہ جنگ کارکنوں کے درمیان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کو خوب گالیاں دے کر لڑ جاتی ہے ۔
    یہی حال عام گلی محلوں کا ہے معمولی سی بات پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور دشمنی کا یہ سلسلہ کئ نسلوں تک چلتارہتا ہےاور خاندان کے خاندان ختم ہوجاتے ہیں ۔
    یہ عدم برداشت کا کلچر ایک دم سے ہمارے معاشرے میں نہیں آیا ایک عرصہ تک پنجابی فلموں اور ہمسایہ ملک کی مادر پدر آزاد ثقافتی یلغار کا شاخسانہ ہے ۔
    ہمارے نظام تعلیم نے خوب ترقی کی لیکن تربیت اور کردار سازی کے شعبہ میں بری طرح ناکام رہا۔ اب حالات یہ ہیں کہ بارہویں جماعت کے چند طلباء نے لاہور میں پیپر بورڈ کے دفتر لے کر جانے والے استاد سےپرچوں کا بنڈل بندوق کے زور پر چھین کرآگ لگا دی اور استاد کی موٹرسائیکل بھی نظر آتش کردی۔
    میڈیا کا ایک کردار طلباء کو امتحانات ملتوی کروانے پر اکساتا رہا اور ریاست اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور کردار سازی پر بھی توجہ دی جائے رویوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی جائے لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پر سوار کرلینے سے آپ مسلسل ڈپریشن کا شکار ہوکر اپنی ہی صحت کا نقصان کر بیٹھتےہیں ۔
    میں نے سعودی عرب قیام کے دوران کا عجیب واقعہ دیکھا ایک شہری کی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئ دونوں گاڑی سے نیچے اترے میں نے حسب دستور سوچا یہ دست و گریباں ہونگے اور سڑک پر تماشا ہوگا لیکن کیا دیکھتا ہوں جس کی غلطی تھی اس نے سلام کیا اور درود پڑھا اللہم صلی وسلم علی نبینا محمد اتنا کہنا تھا کہ دوسرا مسکرایا گلے ملے اور معاملہ ختم۔
    غصہ انسان کی عقل کا دشمن ہے غصے کی حالت میں انسان وہ کچھ کر جاتا ہے کہ بعد میں ساری عمر پچھتاوا رہ جاتا ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ملاحظہ ہو اور عمل کرکے اپنی زندگیوں کو خوبصورت اور پرسکون بنائیں
    ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔”
    متفقہ علیہ ۔

    @Educarepak

  • ‏عنوان ذات پات، رنگ ونسل تحریر : شاہ زیب

    اللہ تعالی نے اس دنیا میں بہت سی مخلوقات کو بھیجا جن میں چرند ،پرند اور جن و انس شامل ہیں۔
    ان تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو ہی اشرف المخلاقات کہا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو برابری کی بنیاد پر پیدا کیابغیر کسی رنگ،ذات پات کے تفرقے کے۔
    مگر ہوا یوں کہ انسان اپنے رب کے فرمان کو خاموش کر بیٹھا۔
    پھر یوں ہوا کہ انسانوں کو جانچنے کا معیار انسانیت سےنہی بلکہ ذات پات رنگ نسل اور پیسے کی بنیاد پر ہونےلگا۔

    زیادہ مال دولت رکھنے والا شخص خود کو خدا سمجھ بیٹھا۔
    مال دولت کے ساتھ ساتھ غرور تکبر سے بھی مالا مال ہو گیا۔
    دوسروں کوحقیر خود کوحاکم سمجھنے لگا ۔ ایسے لگا جیسے کہ وہی سب کچھ ہے ۔اور پھر دولت نے انسانوں کے درمیان ایک دیوار قائم کردی۔ آج بھی کوئی بھی پیسے والا انسان کم آمدن والے شخص سے میل جول میں آر (شرم) محسوس کرتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں ذات پات کی آج بھی ہمارے درمیان بہت سے لوگ ہیں جو محصوص ذات کو ہی اعلی سمجھتے ہیں۔ وہ یہ گوارہ نہیں کرتے کہ اپنی ذات کے سوا کسی اور ذات سے کوئی بھی تعلق رکھا جائے۔اور نہ ہی اپنی ذات کے باہر شادی کرنے کا رواج ہوتا ہے۔

    پھر آتے ہیں وہ لوگ جو صرف رنگ کی بنیاد پر دوسروں کو حقیر جانتے ہیں۔کالے رنگ کے لوگوں کا مزاق بنایا جاتا ہے۔
    یا پھر اگر کسی کا قد چھوٹا رہ گیا تو اسکا الگ مزاق۔

    آخر ہم کیوں نہیں سمجھے کہ اللہ نے سب انسانوں کو برابری کی بنیاد پر ہی اس دنیا میں بھیجا ہے ۔
    ہم لوگ کیوں فرقوں اور تفرقوں میں پڑ کر رہ گئے

    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
    کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے معیار کے۔

    اللہ کے نزدیک انسانوں کو جانچنے کا ایک ہی معیار ہے وہ ہے تقوی کی بنیاد۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کے درمیان کھڑی اس دیوار کو ہٹائیں کسی بھی رنگ و نسل اور ذات پات کے اس تفرقے سے نکلنے کی کوشش کریں کریں۔ کیونکہ بے شک اللہ کے نزدیک معیار تقوی کا ہے

    ‎@shahzeb___

  • محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    قدرت کے قوانین کے مطابق کائنات کی ھر شئے اپنی معتدل اور تسکین والی حالت کے لئے ارتقاء میں رھتا ھے۔ اور جب جس وقت انکی ارتقاء جمود ھو جاتا ھے، تو وہ قدرت کے قہر کے زد میں آکر زوال پذیر ھو جاتا ھے۔ یہ دنیا اور اس میں رھنے والے مخلوقات بھی مسلسل ارتقائی حالت سے گزرتے رھتے ھیں۔ ان میں 1 مخلوق نسل انسانی ھے، جو اپنی بنیادی ضروریات زندگی کے لئے مل جل کے سماج کی شکل میں رھتے ھیں۔ اور اس سماج میں ھر انسان کی بنیادی ضروریات، ان کی محنت اور وسائل کی تقسیم ایک جیسی ھوتی ھے۔ اور جب ذرائع پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم ھوتی ھے تو سماج مختلف طبقات میں تقسیم ھو کے بگاڑ کی صورت اختیار کرنے لگتا ھے۔ موجود عہد میں ذرائع پیداوار کی اسی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے نسل انسانی کا بیشتر حصہ ناانصافی کا شکار ھے اور اپنی محنت بیچ کر اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش میں لگے ھیں۔
    اس عہد میں جہاں رجائیت پر مبنی سوچیں مقید ھوں اور جہاں سماج بدلنے کی گفتگو عام فہم میں تضحیک کا نشانہ بنتی ھو وہاں محنت کش طبقے کی بات کرنا، عمومی سوچ، سیاست اور انقلابات کی لئے جرآت اور دلیل سے کھڑے ھونا مضحکہ خیز بنا دیا جاتا ہے۔
    ھر عہد ھر دور میں محنت کش طبقہ اپنی استحصالی کے خلاف تحریکیں چلاتی ھیں۔ 1917 کا بالشویک انقلاب دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے باعث تقویت بنا۔ لیکن 1991 میں روڈ میں ‘سوشلزم کا انہدام’ عمومی طور پر نہایت ھی منفی اثرات مرتب کرنے کا موجب بنا۔ اسی طرح پاکستان میں 1968 اور افغانستان میں 1978 کاسال محنت کشوں کے لیے باعث نجات بن سکتا تھا، مگر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے وحشی اور درندہ صفت حکمرانوں کی وجہ سے محنت کشوں کو پھر سے اندھیروں کا سامنا کرنا پڑا۔
    آج دنیا بھر میں ایک نیا ھیجان، عدم استحکام اور سماجی تحریکیں پھر سے سر اٹھانے لگی ھیں ان گلے سڑے اور فرسودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جن کی ناکامی کا ذندہ مثال موجودہ کورونا کے خلاف گھٹنے ٹیکنا ھے۔
    چین، لاطینی امریکہ، برطانیہ، ایکواڈور سے ہانگ کانگ اور لبنان سے ایران تک ھر جگہ محنت کشوں کی تحریکیں ابھر ابھر کے سامنے آرھی ھیں۔ غربت، بےروزگاری، محرومی، ذلت اور مہنگائی کے نئے ریکارڈ ٹوٹ اور بن رھے ھیں۔
    مفلوج زدہ اور گلاسڑا ناتواں نظام انکی سرکشی کے ھر قسم کا ہربہ آزمانے سے ھچکچاتے نہیں۔ کبھی مذھب پرستی تو کبھی وطن پرستی جیسے کھوکھلے پروپیگنڈوں سے ان تحریکوں کو کچلنے کی ناکام کوششیں کر رھی ھیں۔
    اس نظام میں ٹیکنالوجی سے لیکر صنعت تک، سیاست سے لیکر اقتصادی نظام تک سبھی حکمران طبقاتِ کی مختلف تراکیب ھیں، جن سے محنت اور انسانیت کا استحصال جاری رکھا جا سکے۔ لیکن محنت کش اب مزید استحصال کے شکار رھنے والے نہیں۔ صرف مسئلہ اس جرآت ہمت اور اس عزم کا ھے جس کی اس انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے لیے ضرورت ھے۔ محنت کش عوام نے صبر کی انتہا کی ھے، اب انکے تحمل اور برداشت کی انتہا ھورھی ھے۔ اب انہوں یک جان یک قالب ھو کے اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینکنا ھوگا۔
    کیوں کہ
    *محنت کشوں کے پاس کھونے کے لیے صرف زنجیریں اور پانے کے لیے سارا جہاں پڑا ھے۔*

    Aziz Ul Haq

    @azizbuneri58