Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • عوامی مقامات اور ہمارا رویہ . تحریر :‌ قیصرعباس سیال

    عوامی مقامات اور ہمارا رویہ . تحریر :‌ قیصرعباس سیال

    جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
    میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

    ملکِ پاکستان وہ مملکت خداداد ہے جسے ان گنت قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا. یہ وہ وقت تھا جب عوام میں ملک حاصل کرنے کا شعور تھا اورایک قوم بن کے سوچنے کا وقت بھی. موجودہ دور میں ایک سے بڑھ کر ایک معاشرتی مسائل موجود ہیں. معاشرہ تب بگڑتا ہے جب اجتماعی برائیوں سے قطع نظر انفرادی برائیاں بڑھ جاتی ہیں. ڈاکٹر محمد اقبال یونہی نہیں "افراد” پر زور دے گئے. کیونکہ ایک فرد بذاتِ خود پورا معاشرہ ہوتا ہے. مختلف مقامات پر انسان کا رویہ مختلف ہوتا ہے اور بعض اوقات مختلف ہونا بھی چاہیے. کسی شخص کا مخصوص اوقات میں اپنایا گیا رویہ اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے. عوامی مقامات پر ہمیں کس قسم کے رویے اپنانے چاہیے؟ عوامی مقامات میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا عوامی مقامات پر منفی رویہ معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے؟ آئیے کچھ مقامات پر ہمارے رویوں کا جائزہ لیتے ہیں.

    پبلک پارک: صحت مند جسم میں ہی صحت مند ذہن ہو سکتا ہے، یہ تو ہم نے کتابوں میں پڑھ لیا. اس جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے بہت سی ضروری چیزوں میں سے پارک ایک نہایت ضروری چیز ہے. صبح و شام پارک میں چہل قدمی انسان کو جسمانی و ذہنی طور پر تر و تازہ رکھتی ہے. سوچنے کی ضروت ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے کسی رویے کی وجہ سے پارک میں موجود کوئی شخص متاثر نہ نہیں ہو رہا ہو. افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پارکس میں کچھ "نوجوان” طبقے سے تعلق رکھنے والے حضرات وہاں آئی فیملیز پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی طور پر ان رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں.

    پبلک مقامات میں زیادہ استعمال ہونے والی جگہوں میں ایک بینکوں کے اے ٹی ایم بھی ہیں. یہاں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور اندر موجود ایک شخص کچھ غیر ضروری معلومات دیکھتے دیکھتے آدھا گھنٹہ صرف کر دیتا ہے جو باہر کھڑے لوگوں کے لیے اذیت ہے. ہمیں چاہیے کہ جس بینک میں اکاؤنٹ ہے اس کی موبائل ایپلیکیشن اپنے موبائل میں رکھیں اور بیلنس معلوم کرنا، بلوں کہ ادائیگی اور فنڈز ٹرانسفر جیسے کام گھر بیٹھ کر ہی کریں تا کے اے ٹی ایم پر کم سے کم رش ہو.

    ملک کا بیشتر طبقہ آمدورفت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتا ہے. اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بس / ویگن میں موجود اخلاقی اقدار سے ناواقف کچھ لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے جو ساتھ بیٹھے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں.
    سگریٹ-نوشی، پان چبانا، تھوکنا، اونچی آواز میں فون سننا اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی ان میں سے چند ایک ہیں. یہ ضروری ہے کہ سفر کو سفر سمجھ کر ہر شخص ساتھ بیٹھے شخص کو سہولت فراہم کرنے کا شعور رکھے.

    ملک پاکستان کو اللّٰہ پاک نے جس خوبصورتی سے نوازا ہے وہ شاید ہی کسی اور ملک میں ہو. یہاں گرم و سرد علاقے ، سر سبز میدان، دریائی مقامات، سمندری نظارے اور خوبصورت پہاڑی علاقے موجود ہیں. جہاں انواع و اقسام کی جگہیں موجود ہیں جو مقامی و انٹرنیشنل سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں. مگر کچھ عرصہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم بطور سیاح جب کسی مقام پر جاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں یا وہیں سے کچھ لے کر کھاتے ہیں یا استعمال کرتے ہیں تو کوڑا کرکٹ وہیں ڈھیر کر دیتے ہیں.
    پہاڑوں میں وادیوں میں جہاں ہم کیمپ لگاتے ہیں وہاں جا کر کس نے صفائی کرنی ہوتی ہے. اس لیے اشرف المخلوقات ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم ان مقامات سے اپنے استعمال کے بعد بچنے والی چیزوں اور کوڑے کو اچھی طرح یا تو تلف کریں یا پھر اپنے ساتھ واپس لائیں اور جہاں کوڑے دان لگے ہوں وہاں ڈالیں. یہ رویہ ہمارے صحت افزا مقامات کو بحال رکھے گا.

    بھی بہت سے مقامات پر ہمارے رویے لوگوں پر منفی اثر ڈال رہے ہوتے ہیں. ان سب مسائل کا ایک ہی حل ہے. کہ ہم دوسروں کے لیے جو پریشانی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں، ہم یہ سوچیں کہ اگر یہ ہمارے لیے کوئی پیدا کرے تو کیا ہمیں ناگوار نہیں گزرے گا؟
    سوچنا شرط ہے. انفرادی تبدیلی لائیں، اجتماعی تبدیلی خود بخود آ جائے گی.

    Twitter : @Q_Asi07

  • سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر  تحریر : محمّد عثمان

    سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر تحریر : محمّد عثمان

    ………………
    عید کے تیسرے دن دوست کے ساتھ شاہ عبدالطیف بھٹائی رح کے مزار پر جانا ہوا تو وہاں موجود سات آٹھ سال کا ایک خوب صورت اور معصوم سا بچہ اچانک ہمارے پاس آ کھڑا ہوا. "انکل ہم سے بیلون خرید لیجیے نا امی کے لیے دوا لانی ہے.” میرے ساتھ میرے دوست نوید احمد (بھٹ شاہ والے ) تھے. بچے کی خوبصورتی، اس کے لہجے کی معصومیت اور بیلون بیچنے کا اس کا یہ انداز ہم دونوں کے لیے حیران کن تھا. میں نے بچے کو پیار کرتے ہوئے اس کا نام اور پتہ پوچھا. ہمیں یہ جان کر مزید حیرت ہوئی کہ بچہ( بھٹ شاہ) کا رہائشی ہے. ہم نے بچے سے بیلون لے کر اسے کچھ پیسے دے دییے اور اسے یہ کہہ کر گھر جانے کو کہا کہ ہم تمہارے گھر آئیں گے. رات جب ہم واپس آئے تو بچے کی بتائی ہوئی جگہ پر اسے ڈھونڈنے نکلے. تھوڑی سی کوشش کے بعد اس کے گھر کا پتہ چل گیا. گھر میں اس کی والدہ تھیں جو واقعی بیمار تھیں اور بیماری کی وجہ سے کام پر جانے سے معذور تھیں. انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ گھروں میں کام کرتی ہیں جس سے ان کے گھر کا خرچ چلتا ہے. انہوں نے اقرار کیا کہ بحالت مجبوری وہ اپنے بچے کو بیلون بیچنے کے لیے باہر بھیجتی ہیں تاکہ گھر کا خرچ نکل سکے اور دوا وغیرہ کا انتظام ہو سکے.
    خاتون کی بات کس حد تک صحیح ہے یہ پتہ کرنے کے لیے ہم نے آس پاس کے کچھ معتبر لوگوں سے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ عورت واقعی قابل افسوس ہے. اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے.
    اللہ عزیزی مبشر حیات خاں اور اسامہ سلمہ کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے بروقت وہاں فوری ضرورت کی چیزیں مہیا کر دی ہیں لیکن یہ سوال قابل غور ضرور ہے کہ ہم لوگ دنیا جہان کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اپنی تحریر و تقریر سے زمانے میں انقلاب لانے کا خواب دیکھتے ہیں اور ہمارے اس پاس میں ہی نہ جانے کتنے گھر ہماری توجہ کے مستحق ہوتے ہیں اور ہمیں علم تک نہیں ہوتا. ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو. آج ہمارے یہاں عبادات کے نام پر مساجد ضرور آباد ہیں، بڑے بڑے اصلاحی اجتماعات بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے خدمت خلق کے نبوی اصول کو بہت حد تک فراموش کر دیا ہے. یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں اپنے محلے کے اس گھر کی خبر نہیں جہاں غربت و افلاس کی وجہ سے دو وقت چولہا جلنا محال ہے. اللہ ہمیں معاف فرمائے.
    ………….

    Twitter @UsmanKbol
    Email MrUsmann44@gmail

  • اندھے  مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    اندھے مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ملتان سے اسلام آباد واپسی کے راستے میں ایک ایسی تحریر لکھ رہا ہو جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نہ الفاظ اکٹھے ہو رہے ہیں اور نہ ہی سوچ ۔۔۔ پنجاب کا صوبائی درالکومت لاہور اور سرزمین اولیا ملتان میں مختلف اور تاریخی مقامات کا وزٹ کر نے کے بعد ملتان سے اسلام آباد کے لمبے اور تَکا دینے والے سفر کے باعث زہن بھی ماوّف ہیں اور نیند کی غلبے کی وجہ سے لکھنے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے ۔

    چلتی ہوئی گاڑی میں یوں بھی کچھ لکھنا آسان نہیں ہوتا !
    راستوں کی نہ ہمواری کے باعث ہاتھ ایک جگہ پر ٹھہر ہو ہی نہیں پاتا۔۔اور آج تو محض ہاتھ نہیں سوچھے بھی تو کسی ایک نقطے پر ٹھہر نہیں ہو پا رہی ۔۔ کیونکہ ملتان میں جو دیکھا ہے اُس نے میرے دیکھنے اور سوچھنے کے تمام زاویوں کو بدل کر رکھ دیا ہیں ۔
    میں نےبیس برسوں میں شاید یہ پہلی بار دیکھا ہوں ۔

    یہ کہانی ” حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزار کے احاطے میں ہونے والے وہ مناظر جس پرلکھنا بھی مشکل ہے ۔ وہ مناظر آپ آخر میں اس تحریری نوٹ میں پڑھ لیں گے لیکن حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کے بارے جو قصہ مشہور ہے پہلے وہ زرا پڑھیئے گا. کہتے ہیں ملتان میں گرمی اس لیے زیادہ ہے کہ سینکڑوں برس پہلے شاہ شمس نام کے ایک بزرگ ملتان تشریف لائے تھے۔ روایت ہے کہ ایک روز اُن کا جی چاہا کہ وہ بوٹی بھون کر کھائیں۔ مورخین کہتے ہیں بوٹی بھوننے کے لئے شاہ شمس نے ملتانیوں سے آگ مانگی۔ اور اہل ملتان نے اس درویش کو آگ دینے سے انکار کردیا۔ درویش کوجلال آگیا۔ نام ان کا شمس تھا انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور شکوہ کیا کہ ملتان والے بوٹی بھوننے کے لئے مجھے آگ نہیں دے رہے۔ ایسے میں سورج شمس کی مدد کو آیا بلکہ روایات کے مطابق سورج سوا نیزے پر آ گیا۔ اورشاہ شمس نے سورج کی گرمی میں بوٹی بھون کر مزے سے کھا لی۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا اسے ملتانی زبان میں” دھپ سڑی “کہا جاتا تھا پھر یہ سورج میانی کہلایا اور جب امن محبت کا درس دینے والے ملتانی فرقوں میں تقسیم ہو گئے تو کچھ لوگ اسے شیعہ میانی بھی کہنے لگے۔ بوٹی بھوننے والی اس روایت میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں لیکن یہ کچھ سوالات کو ضرور جنم دیتی ہے۔ مثلاً یہی سوال کہ آخر ملتانیوں نے شاہ شمس کو آگ دینے سے انکار کیوں کر دیا تھا؟ اگر وہ ایسے نہ کرتے تو شاید یہ شہر اس زمانے سے اب تک اس طرح سورج کے عتاب کا شکار بھی نہ ہوتا۔ ایک خیال یہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا ملتان والے اس زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے؟ خیر روایات اور قصے کہانیوں پر ہم تو آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتے۔ ہاں جو یقین کرتے ہیں انہیں پھر یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ روادار سمجھے جانے والے ملتانی کسی زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے۔ لیکن اس تذکرے کو چھوڑیں اور آیئے وہ مناظر ملاحظہ کیجئے۔

    برصغیر کے معروف صوفی بزرگ شیخ اسلام حضرت بہاالدین زکریا اور سلسلہ سہروردیہ کے مشہور و معروف روحانی پیشوا حضرت شیخ شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ کی مزار کے بعد چند منٹ کے فاصلے پر حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزارکا رخ کرلیا۔
    ملتان کے گنجان گلیوں میں واقع شاہ شمس تبریزی کے مزار پہنچے تو مزار کے تمام داخلی راستوں پر دس زیادہ پولیس اہلکار تعینات کردی گئی تھی۔ راستے میں تین جگہ جامہ تلاشی دینے کے بعد مزار کے احاطے میں داخل ہو ۔ مزار پر زائرین کی تعداد بہت زیادہ تھی اور جو لوگ زیارت کے لیے آئے تھے وہ جوش وجذبہ سے بھرپور تھے۔

    اب میں عین اُس ہال میں کھڑا تھا جہاں پر بہت آسانی سے تمام تر ہونے والے عمل کو نوٹ کیا جاسکتا ہے ۔میری پہلی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو چہچ چہچ کر کہتا تھا کہ مولا مجھے یہاں موت نصیب کریں ۔ ساتھ میں کھڑی جوان لڑکی رو رو کر یہ دعا مانگتی تھی کہ بابا تین سال ہونے کو ہے مگر پھر بھی اولاد نہ ہوئی۔ ایک اور عمر رسیدہ شخص مزار پر چادر ڈال کر چلتے چلتے دو تین سجدے کر کے چلے گئے۔ وہاں موجود ہر دوسرا شخص ایسی ایسی حرکتے کررہے تھے جسے دیکھ کر میری اندر کی روح کانپ اُٹھی ۔کچھ لوگوں نے قبر کے ساتھ لگی ہوئی گریل کو تالا لگا کر اپنی من پسند دعائیں کی ۔۔خواتین زائرین نے سرخ اور کالا دھاگہ باندھ کر منتے مانگتی رہی۔ ایک اور اندھے مقلد نے اپنی نئی نویلی دہلن کے ساتھ اسی دعا سے رخصت ہوئے کہ شادی کی زندگی کے بعد سکون ملے۔ اس علاوہ لڑکے اور لڑکیاں مزار کے اندر ایک دوسرے کو انگوٹھی پہن کر” بابا” کو گواہ بناتے رہے۔کچھ مردوعورت اپنے محسوس انداز میں قبر کا طواف کر رہے تھے ۔ متعد افرا دیا جلا کر عجیب قسم حرکتیں کرہے تھے ۔ چند حضرات قبر کے ساتھ لیٹ کر پورے دن کی تکاوٹ دور کر رہے تھے ،سیڑ یوں میں بیٹھے چرس کے نشے میں دُھن نشائی اس کے علاوہ تھے۔

    یہ وہ مناظر تھے جو بیان کرسکا اس کے علاوہ جو ہے وہ نہ قابل بیان ہے نہ تو اس کےلیے الفاظ ہے اور نہ ہی ہمت ۔۔۔یہ تحریرلکھتے ہوئے زہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ یہ دنیا اب بھی اندھے مقلدینوں سے بَری پڑی ہے ۔مزار کی تقدس پامال کرنے میں ان اندھے مقلدینوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ جن چیزوں سے ہمیں روک دیا گیا ہے ان سے بازنہیں آتے ۔
    آج کل ہم اس قدر اندھے ہوچکے ہیں کہ ہمیں ہر مسئلہ میں آزادی چاہئے ہر معاملہ کو طبیعت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں خواہ وہ مسئلہ عین شریعت کے مطابق ہو یا نہ ہو،آج ہم جہالت میں اس طرح ڈوب چکے ہے کہ محض طبیعت کو اپنی خواہشات کا ذریعہ بنالیا ہے جو طبیعت کہتی ہے، جس کی طرف عقل چلنے کو کہتی ہے اس طرف وہ دوڑتا ہوا نظر آتا ہے خواہ وہ غلط ہو یا ٹھیک ۔ عقل وطبیعت کی لاٹھی نے ہمیں مار کر اس قدر اندھا کردیا ہے کہ غلط اور ٹھیک میں تمیز نہیں کر پاتے کہ کون سی چیز ہمارے لیے ٹھیک ہے اور کون سی چیز غلط ہے۔

    ہماری دھرتی پر سب سے زیادہ بوجھ جہالت کا ھے جو انسانوں کے دماغ کو مفلوج بنا دیتی ہے. ‏ہماری قوم ہر دوسری چیز کو قیامت کی نشانی کہہ دیتی ہے مگر مجال ہے اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی وہ اپنا قبلہ درست کرنے کو تیار نہیں !

    Jawad_Yusufzai@

  • بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری ہمارے معاشرے کا ایسا رَوگ ہے جوکہ مسلسل بےشمار برائیوں اور طرح طرح کے جرائم پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔
    بے روزگاری کو عام طورپراس صورتحال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب افراد جو ایک مخصوص عمر سے زیادہ (عام طور پر15 سال سے زیادہ) تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں اور تنخواہ یا خود ملازمت میں ملازمت نہیں رکھتے ہیں۔ وہی افراد کام کے لیے دستیاب ہوں۔ بے روزگاری ایک اہم معاشی اشارے ہے کیوں کہ اس سے فائدہ مند ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے کارکنوں کی رضامندی کا اشارہ ہوتا ہے۔ تاکہ وہ بھی قومی معیشت میں اپنا کردارادا کرسکیں ۔

    موجودہ صورتحال کی طرف دیکھا جائے تو ہمارا موجودہ نظام تعلیم کچھ حد تک پڑھے لکھے نوجوان پیدا تو کر رہا ہے مگر ایک بڑی اکثریت کو وہ تعلیم نہیں دی جا رہی جس کی شاید ان سب کو ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں ہنرمند نوجوانوں کی کمی ہے اور زیادہ تر نوجوان حکومتی نوکریوں کے منتظر ہوتے ہیں۔
    معیاری تعلیم کی ثابت دستیابی اس کا مسئلےحل ہے۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔

    عالمگیریت نے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ لیکن ثقافتی امتزاج گلوبلائزیشن کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے جس سے پوری دنیا کے لوگوں کو بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن ، ہاتھ بانٹنے کی روایتی سرگرمیاں حدود ختم ہوتے ہی معدوم ہوجاتی ہیں۔ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے . جو بے روزگاری کو کم کرسکیں۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معیشت میں سامان اور خدمات کا مطالبہ پورا روزگار نہیں دے سکتا ہے۔ یہ سست معاشی نشوونما یا زوال کے اوقات کے دوران ہوتا ہے۔ اعلی بے روزگاری سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے ، معاشی نمو کو نقصان ہوتا ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق جون 2005 میں، تمام بے روزگار افراد میں سے 33.5 فیصد چوبیس سال سے کم عمر کے افراد تھے، ان میں سے کچھ ان کے اہل خانہ کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ تھے۔ بیروزگاری پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافے کو بھی روکا جائے۔ ہمارے ہاں ہر آٹھ سیکنڈز کے بعد ایک نئے فرد کا اضافہ ہوتا ہے جو آبادی میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ترقی کی سمت دیکھتے ہوئے آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ آبادی کے بڑھنے کی موجودہ رفتار اور روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع اس ملک کو ایک سنگین سماجی مشکل سے دوچار کر سکتے ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
    امن و امان تب ہی ہو سکتا ہے اگرمعاشرے کا ہرفرد اپنا اپنا کردار ادا کرے ۔

    بیروزگاری کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے ۔ جب آپ کی معیشت میں استحکام ہوگا ۔ معیشت مضبوط ہوگی ۔ انڈیسٹریز لگیں گی ۔ سرمایہ داری ہوگی ۔ اور یہ کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں ۔ اس کے لیئے معاشرے کے ہر طبقے ، سرمایہ دار سے لیکر ایک عام فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ اس سلسلے میں حکومت کو عوام کے سامنے نئی ترجیحات کیساتھ نئی مراعات اور آسانیاں فراہم کرنی پڑیں گی ۔ اور ان تمام چیزوں میں پہلے سب سے اہم امن کا خریدنا ہے ۔ امن ہوگا تو یہ مراحل طے ہونگیں ۔ بصورتِ دیگر بنجر زمین میں آبیاری کا کوئی فائدہ نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کام میں لانے کے لئے معاشرے کو بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
    کیوں کہ ایک ملک بے روزگاری اور معاشی حیثیت کو بھی متاثر کرسکتا ہے اسی طرح بے روزگاری ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے ۔

    @_aqsasiddique

  • غلامی کی سوچ . تحریر: محمد ابراہیم

    غلامی کی سوچ . تحریر: محمد ابراہیم

    ڈیرہ غازی خان اور اس کے نواح میں دور جدید میں بھی ایک شکست خوردہ سوچ ابھی بھی زندہ ہے، ایسی سوچ جس کے ذرہ ذرہ میں غلامی پیوستہ ہے، ایسی ذہنیت جن کا یہ ماننا ہے کہ کسی بڑے آدمی/بڑی شخصیت/ سیاستدان یا ایم این اے ایم پی اے سے عام بندہ کم پڑھا لکھا آدمی یا مزدور طبقہ کسی سیاسی منتخب نمائندے سے اپنے حلقے کے بارے میں سوال نہیں کرسکتا؟

    ایسی سوچ کو واش کرنے کی ضرورت ہے، ایسی سوچ کو بڑا کرنے کی ضرورت ہے، ایسی سوچ کو وسیع ہونے کی ضرورت ہے، ایسی سوچ کو آزاد ہونے کا راستہ چاہیے کیونکہ ایسی سوچ جب تک زندہ رہے گی تب تک مسکن میں خرابی رہے گی، ایسی غلامانہ ذہنیت جب تک زندہ رہے گی تب تک معاشرہ غلام ہی رہے گا، ایسی سوچ رکھنے والے افراد کو ایک مشورہ ہے کہ جب آپ کسی ایم۔این اے یا ایم پی اے کی الیکشن کمپین کرنے کےلئے جاتے ہو تب کسی عام بندے کے پاس اپنی ارضی نہ لے کے جایا کر، جب اپنے ایم این اے یا ایم پی اے کو منتخب کرنے کا سوچ رہے ہوتے ہو تب کسی مڈل پاس کے پاس نہ جایا کرو، جب کسی پسندیدہ امیدوار کو قومی/صوبائی اسمبلی میں بھیجنے کا خواب دیکھ رہے ہوتے ہو تب کسی مزدور طبقہ کے پاس اپنے خواب کی تعبیر کےلئے مت جایا کرو، ہمارے معاشرے میں ابھی تک ایسی سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ کسی سردار سے اپنے حلقے کے بارے میں اسکا ووٹر سوال نہیں کرسکتا پھر ایسی سوچ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپنے سردار کے ساتھ دوران الیکشن کمپین اس عام آدمی کے پاس جانے سے گریز کیا کریں جن کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سوال کرنے کا اہل نہیں، ابھی جب یہ سوچ ختم ہوگی.

    اب جب یہ سوچ دم توڑے گی وہاں انشاللہ لوگ اپنے نمائندے کو منتخب کرنے کے بعد اس سے سوال کریں گے کہ ہم نے آپ کو ووٹ دیا تھا ہمارے مسائل کو حل کرنے کےلئے ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے؟. جب اس طرح کے سوال کی بوچھاڑ کی جائے گی تب آپ کے ہمارے نمائندے کچھ کرنے لائق ہونگے، اج تک ہوا کیا ہے؟ سائیں سردار کا نعرہ لگا دیا گیا اور الیکشن میں منتخب کرنے کے بعد اپنے نمائندے کو اگلے پانچ سال کےلئے اسلام آباد یا لاہور کے پر آسائش زندگی کے مزے لوٹنے کےلئے بھیج دینے والے ان کا نعرہ باآواز بلند لگاتے رہتے تھے حلقے/یونین کے کام جائیں بھاڑ میں والی صورت حال سے نکلنے کےلئے اب اس سوچ کو مرنا ہوگا، اب اپنے نمائندے کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے سوال پوچھنا ہوگا ان کو جواب دہ بنانا ہوگا تب جا کر ہمارا سسٹم بھی ٹھیک ہو گا ہمارا ملک بھی بحران سے نکلے گا، سسٹم کا بگاڑ جہاں متعلقہ ادارے ہیں اس سے زیادہ ہم عوام جو غلامانہ سوچ رکھنے والے ہیں کیونکہ جب ہم اپنے نمائندوں سے سوال نہیں کرسکتے،تب ہم کسی سسٹم کو برا بھلا نہیں کہے سکتے ہم نے ووٹ اپنے ایم پی اے/ایم این اے کو دیا ہوتا ہے جب ہم اپنے نمائندے سے سوال کریں گے تب ہمارے نمائندے میں جذبہ ہوگا وہ آگے اپنے لیڈر سے سوال کرے گا تب لیڈر اپنے وزیروں سے پوچھے گا پھر وزیر مشیر جب لیڈر کو جوابدہ ہونگے تب سسٹم میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔جب ہم اچھا ہے اپنے نمائندے کو سوال کئے بغیر اس سے حلقے کا حساب لئے بغیر اچھا ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تب وہ اپنے لیڈر کو اچھا ہے کی رپورٹ پیش کرے گا پھر وہاں سے سسٹم لیک ہونا شروع ہوتا ہے، اس سسٹم کا بگاڑ یہی سوچ ہے جو یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ کسی مڈل یا پرائمری پاس کو اپنے حلقے کے نمائندوں سے سوال کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت ہے ہمیں ایسی سوچ کو آزاد کرنےکی اور یہ سوچ آزاد ہوگی( ان شاللہ).
    پاکستان زندہ باد

    @IbrahimDgk1

  • ٹریفک اور ہمارا معاشرہ تحریر: عائشہ عنایت رحمان

    ٹریفک اور ہمارا معاشرہ تحریر: عائشہ عنایت رحمان

    بے حسی جو ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔ یہاں ہر کوئی اپنے مفاد کے لئے ایسے بھاگتا ہے کہ اپنے چھوٹے سے فایدے کیلیے باقی لوگوں بہت سے مشکلات میں ڈال رہا ہے ۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے میں ہسپتال جا رہی تھی ہمارے ایک بزرگ کی تیمارداری کے لئے ، روڈ پر تقریبا آدھے گھنٹے تک ٹریفک رہی آخر کار لوگ تنگ آ کر سواریوں سے اترنے لگے میں بھی اتر گئی اور پیدل چلنے پر مجبور ہوگئی لیکن پیدل چلنے میں بھی وہی دشواریاں ۔ کیونکہ فٹ فاٹ جو کہ پیدل چلنے والوں کے لیے ایک محفوظ راستہ ہے اس پر بھی ان بے حس لوگوں نے ریڑھیاں سجا رکھی تھی تو کسی نے چادر بچھا کر اپنی چیزوں کی نمائش لگا رکھی تھی خیر میں فٹ فاٹ سے اتر گئیں اور روڈ کے ایک سائیڈ پر چلنے لگی وہی رش تھا پیدل بھی لوگ بہت زیادہ تھے گا گاڑیاں بھی بہت زیادہ تھیں ۔تو جب آگے بڑھنے لگیں تو کیا دیکھتی ہو کہ ایک بڑے سے دکان کے باہر بالکل روڈ کے اوپر دکاندار نے ایک تخت سبزیوں کی سجا رکھی ہے اور دکان سارا خالی ہے اور یوں پیدل چلنے والے اس تخت سے ٹکرا رہے ہیں کیونکہ رش بہت زیادہ ہیں اور تخت نے تقریبا روڈ کا ایک تہائی جگہ گھیر رکھی ہے جو بالکل پیدل چلنے والوں کا حق ہے جو ان بے دکان داروں نے ناحق گھیر رکھا ہے۔
    میں نے جلدی پہنچنے کی لالچ میں ایک اندرونی بازار کا راستہ اپنایا جس سے تنگ بازار کہتا ہے جہاں صرف پیدل لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے جیسے ہی میں انٹر ہوگی کیا دیکھتی ہوں کہ تین موٹر سائیکل پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں ایک موٹر سائیکل ،جسپر تین سواریاں تھیں بالکل قریب میرے اوپر سے گزرے میں نے خود کو سمیٹ لیا۔ مجھے دل ہی دل میں بہت افسوس ہوا لیکن کچھ نہیں کہا۔دو قدم آگے چل پڑی تو کیا دیکھتی ہوں کہ لوگوں کا ایک جم گھٹا ہے ایسا لگ رہا تھا جیسے ایکسیڈنٹ ہوا ہو لیکن جیسے ہی قریب آئی کیا دیکھتی ہوں کہ گدھا گاڑی بازار کے بیچوں بیچ پھنسی ہوئی ہے اور چاروں طرف سے لوگ دیکھے لگا رہے ہیں۔
    یہ ہماری بے حسی اور خود غرضی کا عالم ہے کہ ہم کس طرح اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہے ۔ارے میرے بھائیو ہمیں تو اس بارے میں قرآن و حدیث میں واضح آگاہی دی گئی ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے ہم کیوں نہیں سمجھتے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے ان قرآن و حدیث سے ۔ وہ ایک کہانی یاد آ گئی کہ ایک بندے نے راستے میں اگھا دیا کہ یہ ایک سایہ دار درخت بن جائے اور راہ چلتے مسافر ان کی چھاؤں میں آرام کریں وہی درخت دوسرے بندے نے اس نیت سے اکھاڑ دی کہ ایسا نہ ہو کے یہ مسافروں کے لئے تکلیف کا باعث بنے تو اللہ تعالی نے ان دونوں بندوں کو برابر کا ثواب بخشا ۔
    اس میں ہمارے لئے اک سبق ہے۔ ہمیں بھی ان کی طرح بننا چاہیں تبھی تو ایک خوشحال معاشرہ بنے گا ان سارے مسائل سے پاک ۔
    اس معاشرے کے فرد کی حیثیت سے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھےنہ کہ اپنی ذاتی مفاد کی خاطر دوسروں کو یوں اذیت میں ڈالے تو یہ انسانیت کے خلاف ہے۔
    جب تک ہم میں اور آپ میں احساس ذمہ داری پیدا نہیں ہوتی تب تک یہ مسئلے حل نہیں ہوں گے کیونکہ ان مسائل نے ہم سے ہی جنم لیا ہے اور ہم ہی نے ان کو حل کرنا ہے یہ مسئلہ نہ پولیس حل کر سکتی ہے نہ فوج اور نہ وزیراعظم۔ جب بھی ٹریفک یا کوئی اس طرح کا مسئلہ پیدا ہو تو یہ لوگ نعرے لگاتی پھرتی ہے کہ بلا لو پھر وزیر اعظم صاحب کو یہ جہالت اور بے حسی کی انتہا ہے کہ یہ مسئلہ خود پیدا کرتے اور پھر سارا الزام وزیراعظم پر ڈال دیتے ہیں۔
    ہمیں چاہئے کہ ہم ایک بہترین شہری کے طور پر اس معاشرے میں اپنا کردار نبھائے اور ذاتی طور پر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں تبھی تو ایک خوشحال معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں آنے جانے والوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو ۔

    @koi_hmmsa_nhe

  • عورت کی حقیقی آزادی    تحریر: تماضر خنساء

    عورت کی حقیقی آزادی تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کے نام پہ عورت کو تباہی کے دہانے پر لانے والے اصل میں عورت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اسلام نے عورت کو اسکے سارے حقوق عطاکیے ہیں کہ اگر وہ ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت ہے اگر وہ بیٹی ہے تو اسکی بہترین پرورش جنت کی کنجی ہے اگر وہ بیوی ہے تو اس سے حسن سلوک جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہے _____
    اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے عورت کو نازک آبگینوں سے تشبیہ دی، عورت کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنے کی تلقین کی، عورت کو وراثت میں حصہ دار بنایا ۔۔۔۔ان سب حقوق کے بعد بھی آخر یہ لبرل طبقہ عورت کو کونسی آزادی دینا چاہتا ہے؟
    اسلام تو دین کامل ہے
    :قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ (سورہ مائدہ: 3)
    ترجمہ: ”آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا‘ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا‘ اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔
    ایک کامل و اکمل دین نے عورت کو کیا اسکے سارے حقوق نہیں دیئے؟ جو اب بھی دین منصف کے بعد بھی عورت کو آزادی چاہیے؟
    آج کے مشرقی معاشرے میں بھی عورت کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ پڑھ سکتی ہے، جاب کرسکتی ہے، جیسے چاہے زندگی گزار سکتی ہے ۔۔۔۔۔ہم مانیں یا نہ مانیں مگر آج کا مشرقی معاشرہ بھی اب قدیم روایات والا معاشرہ نہیں رہا ۔۔۔۔یہاں نا جانے کتنی خواتین آج مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ۔۔۔۔
    تو پھر کونسی آزادی ہے جو لبرل طبقہ ان عورتوں کو دینا چاہتا ہے؟
    دراصل یہ لبرل طبقہ وہی لوگ ہیں جو اسلام سے باغی ہیں ۔۔۔انکے نزدیک میاں بیوی کا مقدس رشتہ عورت کے پاؤں کی بیڑی ہے۔۔۔یہ وہی لوگ ہیں آزادی کے نام پر عورت کو اس قدر بے مول دیکھنا چاہتے ہیں کہ کوئ بھی ان تک پہنچ سکے۔۔۔۔یہ دین بیزار لوگوں کیلیے وہ سیڑھی ہیں جن کے ذریعے ہر ایک عورت تک پہنچ رکھ سکے _______ہر کچھ عرصے بعد ایک اسلامی ملک میں ایسی سلوگنز کا پرچار ” اپنا کھانا خود گرم کرو ،میرا جسم میری مرضی آخر کیا مقصد رکھتا ہے؟
    اللہ تعالی کا بنایا ہوا نظام بلاشبہ مکمل ہے جہاں ایک عورت کو گھر کی ملکہ سمجھا جاتا ہے اور مرد کماتا ہے.گھر کا بوجھ اٹھاتا ہے، ۔۔۔۔
    اللہ کے نبی کی زندگی میں ایسے بے شمار نمونے ہیں جو ایک کامیاب زندگی جینے کا طریقہ ہمیں دیتے ہیں۔۔۔
    اللہ کے نبی تو اپنی بیویوں کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے،
    ایک دفعہ کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھاکہ رسول اللہ ص گھر میں آکر کیا کرتے تھے؟
    انہوں نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلو زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کے کام بھی کیا کرتے تھے مثلا بکری کا دودھ دوھ لینا، اپنے نعلین مبارک سی لینا (زاد المعاد)
    اپنی ازواج کے ساتھ محبت والا رویہ رکھا۔۔انکے شوق پورے کیے،
    حضرت عائشہؓ جب آپ کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر کم تھی اور انھیں اس طرح کے کھیل کا شوق تھا ، جو کم عمر بچیوں میں ہوا کرتا ہے ، ایک دفعہ عید کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ انے کپڑا اوڑھ رکھا تھا اور دو کم عمر لڑکیاں حضرت عائشہؓ کے سامنے دف بجا رہی تھیں ، حضرت ابوبکرؓ نے اس پر ناگواری ظاہر کی تو آپ نے روئے انور سے کپڑا ہٹا دیا اور حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : انھیں چھوڑ دو ، یہ عید کا دن ہے ۔۔۔آپ ص چاہتے تو منع فرمادیتے مگر آپ نے عائشہ رض کو انکا شوق پورا کرنے سے نہیں روکا ۔۔۔
    عرب میں روایت ہوا کرتی تھی کہ حبشی لوگ خوشی کے موقع پر اپنے کرتب دکھاتے تھے ، حضرت عائشہؓ کو ان کے کرتب دیکھنے کی خواہش ہوئی ، تو آپ کھڑے ہوگئے ، اورحضرت عائشہؓ آپ کے مونڈھے پر ٹیک لگاکر حبشیوں کا نیزے کا کھیل دیکھتی رہیں اور جب تک خود تھک نہ گئیں ، آپ ان کی رعایت میں کھڑے رہے ۔(مسلم ، حدیث نمبر : ۸۹۲)
    حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ خیبر سے واپسی پر ہم مدینہ کے لیے نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، آپؐ نے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے ہوئے ہیں اور حضرت صفیہؓ ان کے گھٹنوں پر پیر رکھ کر اونٹ پر سوار ہورہی ہیں۔(بخاری)
    ایک سفر میں انجشہ نامی ایک غلام اس سواری کو ہانک رہا تھا ، جس میں بعض اُمہات المومنین سوار تھیں ، انجشہ اس طرح نظم پڑھ رہے تھے کہ اونٹ بہت تیز دوڑنے لگا ، آپ انے فرمایا : انجشہ ! آہستہ آہستہ ، تم آبگینوں کو لے کر جارہے ہو (بخاری۔کتاب الادب)
    اس طرح ناجانے اور کتنے واقعات ہیں جو اللہ کے رسول ص کی زندگی سے ہمیں ملتے ہیں جو ہمارے لیے نمونہ ہیں۔۔۔۔جو کچھ اللہ کے نبی نے اپنی زندگی میں کیا اسی کا حکم ہمیں بھی دیا ۔۔۔۔اتنے عزت و اکرام کے بعد بھی کیا عورت کو کسی آزادی کی ضرورت ہے؟
    مرد کو اللہ نے عورت کا محافظ بنادیا پھر کیوں عورت تحفظ کی دیوار کو پھاند کر باہر آنا چاہتی ہے؟
    یہ آزادی کے نعرے صرف عورت کو اپنی دسترس میں کرنے کے حیلے ہیں کیونکہ اصل آزادی تو آج سے صدیوں پہلے محمد مصطفی ص عطا کر گئے۔۔۔ ہر لحاظ سے عورت کو معتبر کردیا ۔۔ اب جو مزید آزادی چاہتے ہیں تو ان کا مقصد صرف عورت کی بربادی ہے اور کچھ نہیں! اور ایک مسلمہ عورت کبھی ایسی آزادی کی چاہ نہیں کرتی جو اسکے لیے بربادی کا باعث بنے جو اسلام کے مخالف ہو ۔۔۔۔یہ آزادی کے نام پر شور مچانے والا خاص طبقہ صرف اور صرف اپنے گروہ کا نمائندہ ہے عورتوں کا نہیں کیونکہ کوئ عورت نہیں چاہتی کہ اسے بے مول کیا جائے
    عورت کی حقیقی آزادی تو دین اسلام میں ہے جسکو ہم
    مکمل اپنالیں تو ہماری زندگیاں سنور جائیں

    @timazer_K

  • نفس، شیطان اور حضرتِ انسان   تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    نفس، شیطان اور حضرتِ انسان تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    اللّٰه نے دنیا میں انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر دنیا میں بھیجا جب کہ انسان نے خود کو ظالم بنا کر ظلم کی انتہا کر دی
    آج کے دور میں ایک انسان دوسرے انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس دشمنی میں دوسرے کا نقصان کرنا اپنا فرض سمجھنے لگے ہیں اس کی سب سے بڑی اور اکلوتی وجہ انسان کا نفس ہے

    انسان بھول چکا ہے سب سے بڑا جہاد نفس کا جہاد ہے اور نفس کی کہے پر لبیک کر کے انسان ہر حد سے گِر رہا ہے

    آج کا انسان کہتا ہے کہ انسان جانور سے بدتر ہے لیکن خود کو راہِ راست پر کوئی نہیں لاتا۔ دوسرے کے عیب گننے
    میں سب ماہر ہیں لیکن خود کے عیب بھول جاتے ہیں

    نفس کی غلامی اور نفرت کے اندھیرے سے نکل کر اجالے
    میں قدم رکھیں
    کیونکہ
    ’’غلامی میں جسم تو رہتا ہے مگر اس سے روح خالی ہو جاتی ہے اور جس جسمِ میں روح نہ ہو اس سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟ دل سے ذوقِ ایجاد و ترقی رخصت ہو جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اپنے آپ سے غافل ہو جاتاہے۔ جبرائیل اگر (نفس کی) غلامی اختیار کر لے تو اسے آسمان کی بلندیوں سے نیچے گرادیا جائے۔ اسی طرح ایک غلام تقلید پرست اور بت گر ہوتا ہے اس کے نزدیک ہر جدید یا نئی بات کفر ہوتی ہے‘‘

    غور کریں کہ تاجر اپنے کاروبار پر بیٹھا تسبیح کیے جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ناقص مال کی فروخت بھی جاری ہے۔ یہی حال ہمارے علمائے کرام کا بھی ہے کہ علماء لوگوں کو تو واعظ و نصیحت کرتے ہیں لیکن اپنے آپ کو اور اپنے باطن کو نصیحت نہ کر سکے۔ ہم میں سے ہر وہ شخص جو کسی بھی کاروبارِ زندگی سے وابستہ ہے وہ ایسی ہی مثال پیش کر رہا ہے۔ ہم ان رذائل سے کیونکر چھٹکارا نہ پا سکے؟ اس لیے کہ ذکر و تسبیح جس نے کرنی ہے (یعنی قلب) اس تک بات نہیں پہنچی تو اصلاح کیسے نصیب ہو گی

    انسان کے پیدا ہوتے ہی اسے اللّٰه کا نام سکھا دیا جاتا ہے۔ اللّٰه کے نام کو سن سن کر انسان جان تو جاتا ہے کہ اللّٰه مالک ہے رازق ہے وغیرہ لیکن اس کی پہچان نہیں آتی۔ پہچان تب ہی آتی ہے جب اس قلب میں اللّٰه کےذکر کا نور کسی کامل و مکمل شیخ و رہبر کے قلب کے وسیلے سے داخل ہوتا ہے۔ یہی نور اس کو اپنے مالک کی اصل پہچان نصیب کرتی ہے اور اسے اپنے رب کا شکر گزار بندہ بناتی ہے۔ اسی نور سے "تصدیق بالقلب” میسر آتی ہے اور حقیقتِ ایمان اسی کا دوسرا نام ہے

    جب تک یہ ذکر کا نور قلب کو میسر نہیں آتا اس وقت تک صورتِ ایمان ہے۔ نماز تو پڑھ لیتا ہے لیکن وہ محض صورتِ نماز ہی ہوتی ہے یہی ذکر کا نور میسر نہ ہونے کے باعث رمضان المبارک میں محض بھوک پیاس کاٹتا ہے اور اعمالِ بد سے نہیں بچ پاتا۔ جس کسی کو یہ ذکر کا نور میسر آتا ہے تو وہ حقیقت میں حاصلِ رمضان و ایمان یعنی "لعلکم تتقون” کا نمونہ بنتا ہے

    آپ کے وجود نے ایک دن دنیا سے ختم ہو جانا ہے باقی رہے گا تو صرف ذکر. اب اس کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم نیک ذکر یا برے ذکر میں یاد ہونا ہے ہر بات کا انحصار ہمارے خود کے اوپر ہے
    اس لیے اپنے ضمیر کو جگائیں اور خود کو بدلیں دنیا آپ کو دیکھ کر بھی بدل سکتی ہے

    "نفس کی غلامی سے موت اچھی”

    @H___Malik

  • کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    قدرت نے انسان کو زندہ رہنے اور بستیاں بسانے کے لئے مختلف نشانیاں بھیجیں ہیں۔ دو جاندار خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔ ایک شہد کی مکھیاں اور دوسرا دیمک۔ دیکھنے کو دیمک ایک بے ضررسا کیڑا ہے لیکن اندرہی اندر جتنا نقصان یہ پہنچاتا ہے انسانوں کے پہنچائے ہوئے نقصان سے پھر بھی کم ہے۔ بیمار لوگوں کے بارے میں عوام الناس کہتی ہے کہ ان کو بیماری دیمک کی طرح چاٹ گئی ہے۔۔ کچھ ایسی ہی مماثلت ہماری عوام اور دیمک میں ہے۔ جب قانون بے اثرہوجائے۔ جب معاشرے کو تعلیم دینے والے بھاگ جائیں۔ جب معاشرےکی راہنمائی کرنے والے لٹیروں کا روپ دھارلیں، جب قانون امیراورغریب میں فرق کرنے لگے، جب دولت ہی سب کچھ ہو، جب اقرباء پروری کا راج ہو، تو پھرمعاشرے شترِبے مہار( ایسا اونٹ جو جنگل میں آوارہ پھرتا ہو) کی طرح جس طرح چاہے منہ اٹھا کے چل پڑتے ہیں۔

    میں جب بھی بڑے بڑے شہروں کے محلوں کی تنگ و تاریک گلیوں سے گزرتا ہوں تو مجھے دیمک کے گھروندے یاد آتے ہیں،۔ بچپن میں جب پاؤں کی ٹھوکر سے دیمک کے گھروندے کو توڑتے تھے تو مٹی کے گھرندوں کے نیچے سے ایک کالونی نظرآتی تھی۔ جس میں بے ترتیب گلیاں مکانات اور چلتے پھرتے دیمک کے کیڑے نظر آتے تھے۔ کچے گھروندے ٹوٹ جانے سے دیمک کے کیڑوں میں افراتفری مچ جاتی تھی، کوئی اناج اٹھائے بھاگ رہا ہوتا تھا، کوئی جان بچانے کے لئے، کوئی اپنے بچوں کو لئے، ہرکوئی جس سمت جس کا منہ لگتا تھا بھاگتا دکھائی دیتا تھا۔

    دیمک، شہد کی مکھیاں اور ہم ، سب ایک ہی طرح کی کالونیوں میں رہتے ہیں۔ ہماری کالونی میں ملکہ بادشاہ سپاہی اور مزدور ہوتے ہیں. ہمارے ہاں بچوں کی پیدائش و پرورش ہوتی ہے. جیسے شہد کی مکھیاں اوردیمک اپنا بادشاہ اورملکہ چنتے ہیں ایسے ہی ہم بھی چنتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بادشاہ اور ملکہ نہیں بلکہ ایم این اے اور ایم پی اے چنے جاتے ہیں۔دیمک کی ملکہ اوربادشاہ کی طرح جب ہماری ملکہ اور بادشاہ کے پر نکل آتے ہیں تو یہ آڑ کر دوسری جگہ اپنی کالونی بنا لیتے ہیں. جیسے ہمارے ہاں ایم پی اے اور ایم این اے منتخب ہونے کے بعد یورپ امریکہ اور کینیڈا میں گھر بنا لیتے ہیں، اگر ایک ہی جگہ دو بادشاہ یا ملکہ ہوں تو شہد کی مکھیوں اور دیمک کی طرح یہ نیا قبیلہ آباد کرلیتے ہیں اور اپنی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں۔

    جیسے ہمارے ہاں ایک ملک کے دو بادشاہ بن جائیں تو پھر آدھا تمھارا آدھا ہمارا کا نعرہ لگا کر تقسیم کرلیتےہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں ہماری کالونیوں کی طرح مزدور اور سپاہی چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں. انکی زندگی اسی کام میں گزرتی ہے.عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کا کام اندھیرے کا ہے. دیمک کے سپاہی اور مزدور پیدائش کے بعد سے ہی اندھے ہو جاتے ہیں. اندھیری سرنگوں میں ان کو آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اس لئے آنکھیں ہوتے ہوۓ بھی یہ اندھے ہی ہوتے ہیں۔ ہماری کالونیوں میں مزدور اور سپاہی نوکری حاصل کرنے کے بعد اندھے ہوجاتے ہیں ہمارے سپاہیوں اور مزدورکو بھی آنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ غلام معاشروں میں اندھے مزدور بہتر کام کرتے ہیں۔ جو دیکھنے والے ہوتے ہیں ان کے پر نکل آتے ہیں پھر وہ مزدور نہیں رہتے بلکہ حاکم بن کے اڑ جاتے ہیں اور کہیں اور مزدوروں سے الک تھلگ کالونیاں بنا کے رہتے ہیں۔

    دیمک کے کیڑے ہم انسانوں سے کئی لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں۔ ان میں لالچ اور الگ کرکے جمع کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔ وہ اجتماعی زندگی گزارتے ہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ دو گھروں میں لڑائی ہو اور بندوقیں نکل آئیں دو چار قتل ہوں دس پندرہ زخمی ہوں۔۔ نہ ہی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی دکان پہ سیل لگی ہو اور مادہ دیمک چھوٹے سے دروازے سے سینکڑوں کی تعداد میں دکان میں گھسنے کی کوشش کریں۔ بھگدڑ مچے اور کئی زخمی ہوجائیں۔ نہ کسی کے بچے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دیمک کی کالونیوں میں قتل بھی نہیں ہوتے۔

    دیمکوں کی ملکہ انڈے دیتی ہے جس سے بچے نکلتے ہیں اور ان بچوں کی حفاظت پولیس اور مزدور کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مزدور بچے پیدا کرکے پالتے ہیں جبکہ ملکہ اور بادشاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ مزدور دیمک اور ہمارے مزدوروں میں فرق یہ بھی ہے کہ دیمک کے مزدور بلا تفریق سب کو ایک جیسی غذا مہیا کرتے ہیں جبکہ ہمارے مزدور دوسروں کو ملاوٹ شدہ غذا فراہم کرتے ہیں۔ مزدور دیمک باہر سے غذا لا کر بغیر ملاوٹ کے تمام کارکنان میں برابر تقسیم کرتی جاتی ہے۔

    دیمک کے سپاہیوں کے سر بڑے ہوتے ہیں جبکہ ہمارے سپاہیوں کے پیٹ بڑے ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں بادشاہ کے غلام ہی رہتے ہیں۔دیمک کے سپاہی اپنی کالونیوں میں دوسرے کیڑوں کو نہیں گھسنے دیتے ایسے ہی جیسے ہمارے سپاہی سرکاری دفاتر میں عام سائل کو گھسنے نہیں دیتے۔۔۔ دونوں سپاہیوں میں ایک مہان فرق یہ ہے کہ دیمک کے سپاہی کالونی میں گھسنے والے کیڑے کو مار ڈالتے ہیں۔ جبکہ ہمارے سپاہی رشوت لے کر دفتر میں جانے دیتے ہیں۔ ایک چیز جو دونوں کالونیوں میں مماثلت رکھتی ہے وہ یہ کہ جب کوئی حملہ کرتا ہے تو دونوں کالونیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ سیلاب میں بہہ جاتی ہیں۔ تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ لیکن دیمک کی کالونی کو تباہ کرنے والے ہم انسان بھی ہوسکتے ہیں لیکن ہماری کالونیوں کو تباہ کرنے والے بھی ہم انسان ہی ہوتے ہیں۔

    پھر ہم اشرف المخلوقات کیسے ہوئے؟
    اگر ہماری کالونیاں دیمک کی کالونیوں جیسی ہی ہونی ہیں یا ان سے بھی بدتر ہونی ہیں تو پھر انسانیت ہم میں نہیں دیمک میں ہوسکتی ہے۔
    کیوں نہ ہم بھی اپنی دیمک زدہ بستی کو انسانوں کی بستی کی طرح بنالیں.

    @I_G68

  • انصاف (عدالت) اور معاشرہ  . تحریر : ذیشان علی

    انصاف (عدالت) اور معاشرہ . تحریر : ذیشان علی

    کوئی بھی معاشرہ اصول قوانین اور ضابطہ اخلاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، کسی بھی معاشرے اور ریاست میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رعایا کو انصاف دیا جائے، بحیثیت مسلمان ہمیں ظلم اور بے انصافی زیب نہیں دیتی ہمارے لیے حکم ہے کہ انصاف کے ساتھ پورا تولو اور حد سے تجاوزنہ کرو صلہ رحمی کرو بےشک اللہ رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے.

    اللہ تعالی قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے،
    "یقیناً اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف پر مبنی فیصلہ کرو یقین رکھو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے، بےشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ” سورہ نساء 58.

    مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے یہ واضح کیا ہے جب لوگوں کے درمیان کسی مقدمے کا فیصلہ کرو تو ان کا مذہب خواہ کوئی بھی ہو یا دوست ہو یا دشمن فیصلہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ تمام تعلقات سے الگ ہو کر سچائی کے ساتھ اور انصاف پر مبنی فیصلہ کریں،
    جو فیصلہ اپنے پرائے کے تعلقات پر مبنی ہو جو فیصلہ حقائق کو چھپا کر اور جو فیصلے تعلقات پر مبنی پیسہ وجائیداد کے عوض کیے جائیں وہ ظلم اور زیادتی کے زمرے میں آتے.

    انصاف پر قائم رہنا کسی حکومت اور عدالت کا ہی کام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں یہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے، یعنی دوسروں کو بھی انصاف پر قائم رہنے کی ترغیب دے، عام فہم الفاظ میں کہ انصاف کو خریدنے اور بیچنے سے بچا جائے، جو ریاست اپنی رعایا کو انصاف دیتی ہے انصاف وہ جو صاف شفاف ہو جو امیر غریب گورے کالے میں بغیر کسی فرق رکھے کیا جائے اور نہ کسی کا عہدہ یا پیسہ و جائیداد انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہو.

    جو معاشرے جو ریاستیں انصاف قائم نہیں کرسکتے پھر ان ریاستوں میں اور معاشروں میں ظلم بڑھتا ہے اور ظلم کے ساتھ فتنہ و فساد برپا ہوتا ہے کوئی بھی ریاست اور معاشرہ ظلم اور فتنوں کے ساتھ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا یعنی انصاف کا قتل معاشروں اور ریاستوں کے لئے تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے.

    چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم فرقان حمید میں ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے،
    "ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے احکام دے کر بھیجا ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) انصاف کرنے کے احکام کو نازل فرمایا،
    تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں” سورہ الحدید 25.

    ریاست اسلامی ہو یا غیر اسلامی معاشرہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی عدل کو قائم رکھنے ہی میں سب کی بھلائی ہے،
    اللہ تعالی کی کلام مسلم اورغیرمسلم تمام کے لیے ہے، اس میں کائنات کی وسعتوں کی تمام نشانیاں ہیں اس میں زندگی گزارنے کے طور طریقے ہیں، مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم کیا گیا اس کتاب کی تلاوت کرنا اور اسے سمجھنا اور اس پرعمل کرنا.
    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اور ہمارے ملک کو اور ہماری عدالتوں کو انصاف پر قائم رکھے، ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف پسند ہو انصاف پسند افراد خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں خوبصورت معاشرہ خوبصورت قوم اور خوبصورت ریاست میں بدل جاتا ہے، خوبصورت معاشرے خوبصورت ریاستیں ظلم و زیادتی سے نہیں عدل و انصاف سے ہی قائم ہو سکتی ہیں،

    @zsh_ali