Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ‏جیو اور جینے دو ۔ تحریر : سید احد علی

    آج کل ہر بندہ دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے اور اس پر تنقید کررہا ہے
    کوئی کسی کی تعریف کرکے راضی نہیں ہے ہر بندہ دوسرے کے کام کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا
    ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم دوسروں پر تنقید کا نشانہ بنائیں ، کون اچھا ہے ، کون برا ہے اس کے لیے اللہ تعالٰی ہیں ، ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم نفرتیں پیدا کریں ایک دوسرے کے لیے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ۔
    ہم سب کو اللہ نے بنایا ہے ، جب بنانے والے نے ہی کوئی فرق نہیں سمجھا تو ہمیں تو حق ہی نہیں.
    لہذا تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ دوسرے کے لیے آسانی کا ذریعہ بن جائیں اس کے خوشی غمی میں برابر کے شریک ہو جائیں حوس بھری نگاہوں سے دیکھنے سے بہتر ہے ایک سچے اور مخلص دوست بن کر رہیں اگر تنقید ہی کرنی ہو تو نرم لہجے سے تنقید کرے کیو نکہ نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے جبکہ سخت لہجہ آنا جگاتا ہے۔۔
    غیر ضروری تنقید وہ تلوار ہے جو سب سے پہلے خو بصورت تعلقات کا سر قلم کر تی ہے
    ہمیں چاہیے تنقیداگر مقصود ھے ھی تو تنقید برائے اصلاح کریں
    تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے کہ ہم کیا ھیں تنقید کرنے سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے تنقید برائے اصلاح سے ہم بہترین معاشرہ ترتیب دے سکتے ھیں ہمیں اپنے اطوار و قلم سے محبتیں بانٹنی چاہیے نہ کہ نفرتیں
    نفرت تو آگے بہت ھے اسلیے جانے جانچے اور اصلاح کریں ۔
    اگر کسی کے لیے اپنے الفاظ سے زندگی خوشگوار نہیں کرسکتے تو برباد بھی نہ کریں ہماری زبان سے نکلا ہر لفظ ہمارے لیے تو ٹھیک ہے پر دوسرے انسان کو ہماری کون سی بات بری لگی ہو ہم نہیں جانتے سب کے لیے خوشی کا ذریعہ بن جائیں جیو اور جینے دو ۔

    @S_Ali_9

  • طلباء میں منشیات کی لت    تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    طلباء میں منشیات کی لت تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    پاکستان میں 50 فیصد سے زیادہ اسکول کے طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ طلباء زیادہ تر نجی اسکولوں کے ہیں جہنیں ان کے اہل خانہ نے خراب کیا ہے اور ایسے طلبا اپنے برے دوستوں کی صحبت میں رہ کر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں ۔طلباء میں منشیات کی لت ایک تشویش ناک صورتحال ہے جو پاکستان کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے اور جلد از جلد اس سے نمٹا جانا چاہئے۔

    دیہی اسکولوں کے مقابلے شہری علاقوں کے اسکولوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر میں اسکول کے بچوں کو زیادہ آزادی حاصل ہے اور وہ منشیات کے متحمل ہونے کے لئے زیادہ سے زیادہ جیب رقم رکھتے ہیں۔ ایک این جی او کی ایک رپورٹ کے مطابق ، اسلام آباد کے مشہور نجی اسکولوں کے 53٪ طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ حیرت انگیز حد تک زیادہ ہے کیونکہ اس سے ملک کے دارالحکومت میں اسکول جانے والی نصف سے زیادہ آبادی بن جاتی ہے۔لاہور کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں ایک اور رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ملک میں اسکول جانے والے کل طلبا میں 57٪ کم از کم ایک نشہ استعمال کررہے تھے۔ ایک اور سروے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے ہر 10 میں سے ایک طالب علم منشیات کا عادی تھا اور ایلیٹ تعلیمی اداروں کے تقریبا 50 50٪ طلبا منشیات کے عادی تھے

    توجہ فرمائیں!

    بلوغت کے زمانے سے جب نوعمر نوجوان نئی چیزوں کی کھوج شروع کرتے ہیں تو ، اسکول جانے والے طلباء منشیات کی لت میں مبتلا ہوجانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ محض تفریح ​​کے لئے پارٹیوں اور حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں شروع ہوتا ہے لیکن وہ جلد ہی اپنے آپ کو مہاماری کی طرف گہرائی میں پائے جاتے ہیں

    اسکول جانے والے طلباء کو دوسرے طلباء کا مذاق اڑاتے ہیں انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ بالائی اور اشرافیہ طبقے کے بگڑے ہوئے خطوط کو اس حد تک آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنی حدود کو بھول جاتے ہیں اور دوسروں پر بھی زور دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ، وہ بچہ جس کو سب کے سامنے تنگ اور ہراساں کیا جاتا ہے ،ان کا مذاق بنایا جاتا ہے، وہ بچے بہت سے ذہنی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ جن طلباء کو ہراساں کیا جاتا ہے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے جب ان کا دماغ انہیں صحیح اور غلط کی تمیز بھلا دیتا ہے تو وہ منشیات کے عادی ہوجاتے ہیں اس کے برعکس ، وہ لوگ جو جارحانہ اور عدم رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جو ان طلباء کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں ابتدائی طور پر منشیات میں شامل ہونا شروع کردیتے ہیں۔پاکستان میں نجی اسکولوں میں بہت سے لطف اندوزیاں ، تقریبات اور پارٹیاں ہیں جہاں طلباء اپنی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے ہیں اور اسکولوں کو بھاری فیسوں کے عوض وہ ان سے بھی زیادہ آرام اور تفریحی وقت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    حکومت وقت سے گزارش ہے کہ ہمارے روشن مستقبل کو منشیات کے جان لیوا مرض سے جان چھڑاونے کے لیے منشیات پہ پابندی لگائیں جائیں اور اسکی روک تھام پر توجہ دی جاٸیں اور منشيات سمگلنگ کرنے والوں کو سخت سزاٸیں دی جاٸیں!!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • انسانیت کہاں گئی  تحریر: احسن علی بٹ

    انسانیت کہاں گئی تحریر: احسن علی بٹ

    آج کے دور میں انسان تو زندہ ہیں لیکن بد قسمتی سے انسانیت مرگئی ہے انسان دوسرے انسان کا دشمن بنا ہوا ہے احساس نام کی چیز ہم میں رہی ہی نہیں وه دور اور تھا جب انسان کو اپنے ہمساؤں رشتے داروں دوستوں کا احساس ہوتا تھا لیکن آج کل بہت کم ایسا دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کوئی کسی کی بے لوث مدد کرے اب میرا یہ کالم پڑھنے والے لوگ کہتے ہونگے کہ کیا بات کررہا ہوں یہ باتیں دل کو چب رہی ہونگی لیکن ایک دفعہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے اور یہ سب سوچیں کیا ایسا نہیں ہے
    انسانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے وابستہ رکھتا ہے اور اگر یہ احساس ختم ہو جائے تو معاشرہ اور قوم سب تباہ اور برباد ہو جاتا ہے آج کے دور میں اپنی خرابیوں کو نظر انداز کرتے ہوے ہر انسان کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہر انسان کے دل سے انسانیت کا جذبہ و احساس ختم ہوتا جارہا ہے اور اگر ’’الف‘‘ سے انڈے اور انگور کی جگہ ’’الف‘‘ سے ’’انسانیت‘‘ سکھایا جاتا تو زیادہ بہتر تھا تاکہ انسانیت دفن نہ ہوتی اور ہم حیوان نہ بنتے آج کے حالات دیکھ کر دوکھ کہ ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ انسان تو زندہ ہیں لیکن انسانیت حقیقی لفظوں میں مر چکی ہے
    ہم بیشتر واقعات سنتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں ایک موٹر سائیکل چلانے والے بندے کے ساتھ حادثہ ہوا اور وہ وہاں گڑا ہوا تھا کہ کسی نے اسکا بٹوا اور موبائل غائب کرلیا اور اسکو اٹھا کر ہسپتال لے جانے کی زحمت نہ کی کہاں گئی انسانیت اب یہ ایک چھوٹی سی بات آپکو بتائی ہے لیکن آج کے دور میں اس سے بھی بڑے بڑے واقعات ہورہے ہیں جو کہ لکھتے ہوے بھی شرم آتی ہے حالیہ اسلام آباد میں وه جو واقعہ ہوا کہ ایک جوڑے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر انکی ویڈیوز ریکارڈ کیں اور سوشل میڈیا پر پھیلا دی گئی یہ سن کر روح کانپ جاتی ہے اور انسانیت تو واقعی مر جاتی ہے یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے انسان حیوان سے بھی بدتر ہیں جو اس قدر اخلاقیات سے گڑ رہے ہیں اس طرح کے اور بھی کافی واقعات ہیں جو کہ انتہائی درد ناک ہیں جن میں لڑکیوں کو نوکری کا جانسا دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر بلیک میل کیا جاتا ہے
    ہمیں سزا اور جزا کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا جب تک ان جیسے حیوانوں کو سزا نہیں ملے گی یہ ایسے ہی آزاد گھومتے رہے گے کوئی بھی تعلیم ہمیں صرف شعور دے سکتی ہے انسانیت نہیں سیکھا سکتی اندر کے حیوان کو صرف اور صرف سزا کا خوف ہی مار سکتا ہے
    اگر ‏مذہب میں سے انسانیت اور اخلاقیات نکال دی جائے تو باقی صرف اللّه پاک کی عبادات رہ جاتیں ہیں اور رب کائنات کے پاس اپنی حمدوثنا اور عبادات کیلئے فرشتوں کی کوئی کمی نہیں اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مگر دوسروں کے لئے جینا سیکھیں اپنے اپ میں انسانیت کا جذبہ پیدا کریں اور یہ ہی اصل زندگی ہے دوسروں کے لئے جینا ہی انسانیت کی خدمت ہے انسان اپنے حسن و اخلاق اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے بھی عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر لیتا ہے پر امید انسان کی کامیابی کا راز پرسکون دماغ ہوتا ہے اور پرسکون وہ ہوتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے
    میری اللّه سے دعا ہے یارب انکی رہنمائی فرما جو سیدھے راستے سے بھٹک گے ہیں اللّه ہمارا حامی و ناصر ہو
    @AhsanAliButtPTI

  • طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس اقدام کیلئے دل خون کے آنسو روتا ہے اُس بیٹی پر کیا گزرے گی جو اس عذاب سے گزر رہی ہوگی ۔ بعض اوقات طلاق میں نا غلط عورت ہوتی ہے نا مرد.
    مرد اپنی حثیت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے لیکن اکثر اوقات عورت کی نظر میں اُس کی تمام فرمائش پوری نہیں ہوتیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مرد عورت کو اپنی عزت بناکے رکھتا ہے اُس کو میکے جانے سے بھی نہیں روکتا لیکن جب وہ بیوی اپنے میکے جاتی ہے اُس کی والدہ اسے کپڑے بناکے دیتی ہے وہاں سے تیسرے شخص کی مداخلت رشتوں میں آجاتی ہے جو طلاق کا باعث بنتی ہے ہنستا مسکراتا گھر اجڑ جاتا ہے ۔ دوسری طرف جب سے موبائل عام ہوا ہے اُس وقت سے میاں بیوی کے رشتے میں تیسرے شخص کی مداخلت زیادہ ہوگی ہے وہ چاہے کسی بھی شکل میں ہو مثلاً کوئی ہمسائ ، ساس، سالی وغیرہ وغیرہ یا اور فرد کی شکل میں رشتوں کو توڑنے میں شیطان کا کام کرتی ہیں.

    وہ عورت ہمیشہ اپنا گھر بنا لیتی ہے جسے اپنی شوہر کی حثیت کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ میں نے اپنے شوہر کا بازو بننا ہے وہ شوہر کے دل میں گھر بنا لیتی ہے جو عورت دوسروں کی باتوں کو ترجیح دے وہ اپنا ہنستا بستا ہوا گھر برباد کرلیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں مجھ سے غلطی ہوگئ ۔

    اکثر معملات میں اولاد کی نعمت سے محرومی بھی ہے اولاد اللہ پاک کی دَین ہے خداراہ ایسی باتوں کو ترجیح نا دے کے گھر آباد رکھیں اور لوگوں کی باتوں کو توجہ نا دیں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کا ساتھی بنایا ہے جو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں اُس رشتے کی قدر کریں اور مل کے رہیں اگر میں تحریر پڑھ کے کسی بھی عزیز کا دل دُکھا یا دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں میں نے وہی بیان کیا ہے جو وقت نے دیکھایا ہے.

    @JingoAlpha

  • احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑاٸی جاۓ تو یہ بات واضح ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین کےنفاذ اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کےحوالےسےہر عشرےمیں ایک یا دو منظم اور بااثر تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ چاہے 1950کی دہاٸی ہو جب 1953میں قادیانیوں کیخلاف چلنےوالی تحریک سےلیکر 2017میں ختم نبوت ﷺ کےقانون میں تبدیلی کیخلاف چلنےوالی تحریک تک کہیں نا کہیں اسلام پسند طبقہ اپنےمطالبات منوانےکیلیے احتجاج کاسہارا لیتارہاہے۔

    اگرمذہبی جماعتوں کےاحتجاج پرغور کریں تو یہ بات واضح نظر آتی ہےکہ انہوں نےاپنےمطالبات منوانےکیلیےاحتجاج کاراستہ اپنایااور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔مگر سوال یہ ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کیلیےاحتجاج کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ مختلف ادوار میں حکومتیں اسلامی جماعتوں کیخلاف متشدد رویہ کیوں اپناتی ہیں؟تیسرا سوال یہ ہےکہ اسلامی جماعتیں جن کےپاس بہت زیادہ سٹریٹ پاور ہونےکےبعدآج تک اقتدار میں نہیں آ سکیں؟
    ان تمام سوالوں کےجواب ڈھونڈنےکیلیے پاکستان میں تعلیمی نظام کوسمجھناضروری ہے۔اس وقت پاکستان میں تین قسم کےتعلیمی نظام موجود ہے۔ایک تعلیم نظام وہ ہے جس میں اشرافیہ کےبچےتعلیم حاصل کرتےہیں۔ان تعلیمی اداروں میں سرِ فہرست ایچیسن کالج لاہور ہے۔اس کالج کاقومی سیاست میں کردار کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی وزیرِدفاع پرویزخٹک سمیت بہت سےوفاقی و صوباٸی وزرا ایچیسن کےپڑھےہوۓ ہیں ایچیسن کےعلاوہ دیگر اداروں میں LUMSیونیورسٹی لارینس کالج مری سمیت بیکن ہاٶس اور لاہور گرامر سکول شامل ہیں جبکہ غیرملکی گریجوایٹس بھی شامل ہیں جن میں بلاول بھٹو سرفہرست ہیں درج بالاتعلیمی اداروں میں صرف جدید تعلیم پرتوجہ دی جاتی ہےاور سیکولرزم کی ترویج کی جاتی ہے۔ اس لیےجب یہ لوگ نظام پرقابض ہونگے جو سیکولراداروں سےپڑھےہونگےتویہ سیکولرزم کی ترویج کریں گے ناکہ اسلام کو۔دوسرا طبقہ متوسط طبقہ جو اسلام کےقریب توہوتےہیں مگر اپنی روزی روٹی کےچکرسےباہر نہیں نکل پاتےاسلام بماقبلہ سیکولرزم کی جنگ میں عملاً شریک نہیں ہوتے۔اس لیے انہیں ملکی حالات سےخاص غرض نہیں ہوتی۔

    جبکہ تیسرا طبقہ مذہبی طبقہ ہے جوحکومت کی غیراسلامی قوانین اور غیرشریعی پالیسیوں کےخلاف نکلتےہیں۔مگر چونکہ نظام پر سیکولر اشرافیہ کا قبضہ ہےاس لیےیہ اپنےمطالبات نہیں منوا پاتےاور مجبوراً پہیہ جام ہڑتال کرتےہیں اور سیکولر اشرافیہ کی حکومت مجبوراً انکےمطالبات وقتی طور پر مان لیتی ہے۔ مگر بعدمیں پھر کسی نا کسی موقع پہ سیکولر پاکیسیاں جاری رکھتی ہے۔
    اب وقت آگیاہےکہ اسلام پسند طبقےکو نظام میں اپنےپنجے گاڑھنےچاہیں اورتمام اہم اداروں خاص کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ ٗ سیاستٗ عدالتی نظام ٗ بیوروکریسی ٗ میڈیا اورصنعت و تجارت میں اپنے نوجوانوں کو شامل کرنےکیلیے جدید تعلیم پرتوجہ دینی چاہیے۔اگر ایسا نہ کیاگیا تولبرل اور سیکولر طبقہ جوپہلےہی اتنامظبوط ہوچکاہے اسے روکناناممکن ہوجاۓگا۔

    @waqasRizviJutt

  • ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی کیا ہے؟ جب ہم پریشان ہوں اور ہمیں کوئی چیز خرید کر خوشی ملے جبکہ اس چیز کی ہمیں ضرورت نہ ہو تو اسے ریٹیل تھراپی کہتے ہیں.

    اس میں کوئی بری بات نہیں بظاہر لیکن جو کام ہمیں اچھا لگتا ہے ہمیں اسکی عادت ہو جاتی ہےاور ہم اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں ریٹیل تھراپی کے کچھ نقصانات یہ ہیں اس عادت سے ہم دھڑا دھڑ خریداری کرتے ہیں اور ہماری شاپنگ کنٹرول میں نہیں رہتی
    یہ تھراپی جب عادت کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو مہنگی سے مہنگی چیزوں کی خریداری کی طرف لے جاتی ہے اور یہ غلط فہمی بڑھتی چلی جاتی ہے کہ میں نا خوش ہوں ،کیونکہ میرے پاس یہ چیز نہیں ہے یا میرے پیسے ختم ہو گئے ہیں میں نے شاپنگ نہیں کی اب میں خوش کیسے ہوں گی.

    یہ عادت ایسے شدت اختیار کرسکتی ہے جیسے کسی نشے کی لت میں مبتلا انسان کو نشے کی طلب ڈاکٹررونلڈریوڈن نے اس بارے میں تحقیق کی ہے کہ ہمارے دماغ میں موجود خوشی کے ایک ہارمون "سیروٹونین” کا تعلق خوشی سے ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہم شاپنگ کے نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں.

    جب ہم کوئی ایسی شے خریدتے ہیں جسکا تعلق دماغ کے سکون پہنچانے والے ہارمون سیروٹونین سے ہوتا ہے تو وہ شے خریدنے پر ہمیں خوشی ہوتی ہے یہ بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ سکون آور دوا کھانے پہ ہوتا ہے.

    اسلیے ہم بہت سی چیزیں بلاوجہ اور بغیر کسی ضرورت کے خود کو مختلف محسوس کرنے کےلئے خریدتے ہیں اور ہمارا بجٹ ڈسڑب ہونے لگتا ہے ہم بچت نہیں کر سکتے جسکی وجہ سے پیسے ختم ہونے پہ ہم پریشان ہوتے ہیں اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ ہم اس عادت میں خطرناک طور پہ مبتلا ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں تو ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں یہ ایک لاشعوری عادت ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات بٹھانی ہوگی کہ اس ماہ اتنے پیسے اگر میں نے بچا لیے تو میں خوش ہوں گی اس طرح آہستہ آہستہ ہم اپنی پرانی روٹین کی طرف آسکتے ہیں اور ریٹیل تھراپی کے برے اثرات سے بچ سکتے ہیں.

    Twitter: @HusnHere

  • انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    مومن کا کامل ایمان ہوتا ہے کہ تمام جہانوں کی مخلوقات کا خالق "اللہ” ہے ۔ اس نے اپنی مخلوقات کو اپنی مرضی و رضا سے تخلیق کیا۔ وہ جب جہاں جسے چاہے جیسے چاہے تخلیق کر دیتا ہے۔ میرا اللہ کامل ہے، بے شک اس میں کوئی عیب نہیں، میرا مالک ہر عیب سے پاک ہے۔ اپنی مخلوق کو پیدا کرتے ہوئے وقت،جگہ،عمر،موت یہ سب اللہ اپنی مرضی سے طے کرتا ہے۔اگر بات کی جائے اشرف لمخلوقات کی تو انسان کی جائے پیدائش میں خدا کی ہی مرضی ہوتی ہے۔ یوں تو مومن زبان سےبولتا ہے کہ اللہ کی رضا میں اس کی رضا ہے مگر کچھ لوگوں کا دل ان کی زبان کا ساتھ نہیں دیتا ۔ عموماً انسان کو یہ دیکھ کر پہچانا جاتا ہے کہ وہ کس خاندان میں پیدا ہوتا ہے اگر اونچے، اچھے خاندان سے ہو تو اس انسان کو بغیر جانے بغیر پرکھے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اس کہ  بر عکس جو شخص بُرے یا کسی نیچ خاندان میں جنم لے تو اس کہ بارے میں یہی گمان کیا جاتا ہے کہ وہ بھی گھٹیا ہی ہے۔ انسان کو جانے بغیر جو یہ اچھے اور بُرے ہونے کا پیمانہ رکھا جاتا ہے یہ بہت غلط ہے۔

    کسی کو اس بِنا پر دھتکار دینا اور اس سے دُور ہو جانا کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ہے اور اسی وجہ سے اس کی تمام اچھی باتوں کو نظر انداز کر کے اس خاندان سے جُڑی نصبت کو اپنے دل و دماغ میں رکھنا اور اس نے نفرت کرنا کیا صحیح ہے؟
    اسی طرح اگر کوئی اچھے خاندان سے ہو تو اس کی تمام تر خامیاں جانتے ہوئے بھی اس کے گُن گانا کیا صحیح ہے؟
    نہیں ہر گِذ نہیں۔

    انسان کے اچھے برے ہونے کا اندازہ اس کے خاندان کو دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ کس انسان نے کب کہاں اور کس خاندان میں پیدا ہونا ہے یہ تو میرے اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے نا۔ ہم اگر اچھے خاندان میں پیدا ہو جائیں تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں۔ تو یہ اکڑ اور انا کس بات کی ؟؟
    اسی طرح اگر ہم برے خاندان میں جنم لے لیں اور کوئی یہ سوچ کر ہم سے دور ہو جائے کہ ہمارا تعلق فلاں فلاں خاندان سے ہے، اور اس شخص کے سامنے اس کا اخلاق  اور محبت ایک طرف رکھ کہ  یہ بات بولی جائے کہ اس کے خاندان کی نسل کی نسل سے بھی دور رہنا چاہیے۔ کیا یہ سب درست ہے؟؟
    اُس شخص نے تو نہیں کہا تھا اللہ سے کہ مجھے فلاں خاندان میں پیدا کرے۔

    پیدائش کے وقت انسان خود تو اپنا خاندان پسند کر کہ پیدا نہیں ہوتا ۔اسے اگر اللہ نے نیچ خاندان میں پیدا کر دیا تو اس میں اس کا تو کوئی قصور نہیں۔ اسی طرح اچھے خاندان میں پیدا ہونےوالے شخص کا بھی اس میں کوئی کمال نہیں ۔ کوئی بھی یہ ضمانت دے کر جنم نہیں لیتا کہ وہ جس خاندان میں پیدا ہو رہا ہے بالکل اسی خاندان کے لوگوں پر جائے گا۔
    اچھےخاندان سے برے ، اور برے خاندان سے اچھے لوگ بھی موجود ہیں اس دنیا میں جنہیں ہمارا معاشرہ کھلی آنکھوں سے بھی نہیں دیکھ پاتا یا شاید دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔ خدارا اس بات کو سمجھ جائیں کہ اللہ نے اپنی مرضی سے سب کو اپنی مرضی کی جگہ پہ پیدا کیا ہے۔
    وہ چاہتا تو ہمیں جانور بنا دیتا۔ اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں کہ ہمیں انسان پیدا کیا گیا یہ خدا کی رضا تھی وہ چاھتا تو ہمیں جانور بناتا اور ہم کچھ نہ کر پاتے۔ ٹھیک اسی طرح نیچ خاندان میں پیدا ہونے والوں کا اس میں کوئی قصور نہیں، نہ ہی ان کی پیدائش سے پہلے خدا نے ان سے ان کی مرضی پوچھ کر وہاں پیدا کیا۔
    تو پھر ایسے لوگوں کا دل کیوں دکھایا جاتا ہے؟
    کیوں ان کے ہر اچھے عمل کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ صرف یہ دیکھ کر کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ۔
    دوسری جانب کسی اچھے خاندان میں پیدا ہونے والے بُرے شخص کے ہر عیب اور ہر گناہ کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟
    کیا یہی مومنوں کا طریقہ ہے ؟
    جبکہ میرا اللہ تو صاف صاف کہہ چکا ہے کہ روزِ حشر ذات پات اونچ نیچ اس سب سےکچھ نہیں ہوگا، خدا کی نظر میں اگر کچھ اہم ہے تو وہ ہے پرہیزگاری۔

    @zaynistic_13

  • انتہا پسندی اوراس کا سدِباب . تحریر : سعد طارق

    انتہا پسندی اوراس کا سدِباب . تحریر : سعد طارق

    انتہاپسندی ایک ایسی دماغی کیفیت نام ہے جس میں کوئی انسان ہر چیز اور ہر واقعہ کو ایک ہی زاویہ میں دیکھے اور اختلاف رائے کو بالکل برداشت نہ کرے۔ کسی بھی معاشرے میں انتہاپسندی کا وجود وہاں کے لوگوں کو دنیا و آخرت کی رسوائی کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اگرچہ تاریخ انسانی کے آغاز سے ہی انتہا پسندی کا بھی آغاز ہو گیا تھا، جب اللّٰہ کے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی بناء پر قتل کیا۔ ہر نبی کے دور میں مذہبی و نظریاتی اختلافات تشدد کا باعث بنتے رہے ۔ کبھی اللّٰہ کے رسولوں کی توہین ہوئی بعض دفعہ نبیوں کے ماننے والوں کو بھی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ بنی اسرائیل نے تو ایک ایک دن میں کئی انبیاء کو قتل کیا۔، حتی کہ لوگوں نے اس بناء پر حضرت محمد صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم کو اس حد تک اذیتیں دیں کہ آپ صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم نے فرمایا” اتنا کسی نبی کو نہیں ستایا گیا جتنا مجھے ستایا گیا۔”

    پس معلوم ہوا ہے کہ انسان ہر دور میں انتہا پسندی کا شکار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی معاشرے میں مختلف الخیال لوگوں نے فکری اختلاف کو ذاتی اختلاف میں تبدیل کیا، اپنی بات کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے تمام اخلاقی حدود کو عبور
    کر کے معاشرتی اقدار کو اپنے پاؤں تلے روند دیا۔ انتہا پسندی معاشرے کے امن و سکون کو غارت کر دیتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں انتہا پسندی کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

    معاشرے میں انتہا پسندی کے فروغ کے لیے سب سے بڑا ہاتھ معاشی صورتحال کا ہے ۔ تعلیم کو کسی بھی معاشرے میں قوم کی فلاح و بہبود کے لیے لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت کے لیے ایک ہی مثال کافی ہے کہ جب اللّٰہ نے اپنی محبوب ہستی حضرت محمد صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم کو پہلی وحی بھیجی تو وہ سارے علم و تعلیم پر تھی۔

    تعلیم و قلم سے انکار نہیں لیکن جس ملک کی 28 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں ، وہاں والدین اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے کیسے بھیج سکتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کو ابتدائی تعلیم کے لیے مدارس میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہمارے بیشتر دینی مدارس دین کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بہت سے دینی مدارس ملک میں انتہا پسندی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ دینی مدارس پر چھاپے مارے جاتے ہیں جہاں سے اسلحہ اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والے لڑیچر برآمد ہوتے ہیں۔

    ہمارے حکمران اور ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے جارحانہ رہی ہے۔ اس تعلیمی پالیسی کے زیر اثر تیار والی نسل کو وہ بطور ایندھن استعمال کرتے رہے ہیں۔تنگ نظری، اپنے مذہبی حریفوں سے نفرت،عدم برداشت جیسی عادتیں ہمارے مزاج کا حصہ بنتی رہیں۔ آج بھی پاکستان کا نظام تعلیم ایسا کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے کہ جس میں انسان کو سماجی شعور اور انسانی رویے فروغ پا سکیں۔ آج بھی ہمارا نصاب تعلیم رواداری ، انسان دوستی اور مسلمہ انسانی اقدار پر خاموش ہے اور ہم خطے میں امن ، سلامتی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ آج بھی ہمارے نصاب تعلیم فرسودہ ہے۔

    انتہا پسندی کی ایک اہم قانون کی عملداری نہ ہونا بھی ہے ۔ کسی بھی معاشرے میں قوانین دراصل معاشرتی جرائم کی پیشگی روک تھام کے لیے بنائے جاتے ہیں اگر اس کے باوجود کوئی جرم کر بھی لے تو اسے قانون کی مطابق سزا دی جاتی ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں قانون کی پاسداری نہ ہو تو وہاں انتہاپسندی کا فروغ یقینی ہوتا ہے ۔ایسے معاشرے میں ظالم طاقتور اور مظلوم کمزور ہوتا ہے۔
    انتہا پسندی کی ایک اور اہم وجہ مذہبی ،لسانی اختلاف کو رنگ دے نفرتوں کو فروغ دیا گیا۔ جو رسول اللہ صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم رحمت بنا کر بھیجے گئے، انہیں کی نام پر مذہبی اکثریتی طبقے کی طرف سے بعض اوقات اقلیتوں کے حقوق کو بھی روند دیا جاتا ہے ۔ ان کی عبادت گاہوں اور انسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ انتہا پسندی کے اسں تدارک سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام الناس کو شعور و آگہی دی جائے ۔ مختلف مذاہب ، لسانی اور نسلی سے تعلق رکھنے والے والوں کے مابین بامقصد مباحث کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ آپس میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کریں ۔

    رشوت اور میرٹ کا قتل انتہا پسندی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں ، اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کسی انتہا پسندی کے گروپ میں شامل ہو کے اپنی محرومیوں کا ازالہ کریں۔ انتہا پسندی کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہے۔ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنان ذرا بھی اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے ۔ ان سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی اکثریت ان کی حامی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو ہمارے نوجوان تہذیب کے دائرے سے کیوں نکل رہے ہیں؟ کیونکہ نوجوانوں کی اکثریت استحصال کا شکار ہیں اور جب کبھی کسی نے ان کو تبدیلی کا خواب دیکھایا تو وہ اس کی طرف نکل پڑتے ہیں۔

    اگر ہم معاشرے کو انتہا پسندی سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو از سر نو مرتب کرنا ہو گا اور اس میں ایسے ابواب شامل کرنے ہوں گے جس میں انتہا پسندی سے بچنے کے اصول شامل ہوں ۔ عرض یہ کہ اگر ہم سب مل کر انتہا پسندی تدارک کے لیے صدق نیت سے اقدامات کریں تو یقیناً ہر لمحہ اللّٰہ کی مدد کے حقدار ٹھہریں گے کیونکہ اللّٰہ نے سورہ مبارکہ نجم کی آیت مبارکہ 39 میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔

    @SaadTariqPTI

  • طوائف کی زندگی  تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف کی زندگی تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف تو دنیا کی تھی بے حیاء
    رہے نسبتاً ہم ہی بےباک کم

    آ پ نے اکثر دیکھا ہو گا نئی چم چماتی گاڑیاں لیکن ان گاڑیوں کا استعمال لوگ کچرہ اٹھانے کے لئے گندگی صاف کرنے کے لیے نہیں کر سکتے بلکہ اس کام کے لئے الگ سے گاڑیاں ہوتی ہیں جو کہ آ پ کو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں اور اگر آپ پاس سے گزر جائیں تا ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں کیوں؟ کراہت محسوس ہوتی ہے بدبو آ تی ہے اسی لیے نہ ؟ پر ان گاڑیوں کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ آ پ کو ہر گلی کوچے میں گندگی کے ڈھیر نظر آ ئیں گے اور آ پکا جینا مشکل ہو جائے گا۔
    بلکل اسی طرح طوائف کی بھی زندگی ہے یہ وہ عورت ہوتی ہے جو ایسے مردوں کی گندی کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے جو عیاش ہوتے ہیں حوس کے پوجاری ہوتے ہیں اور جیب میں چاندی کے سکے اور بہت سے پیسے لے کر گھومتے ہیں۔
    ایک عورت کو طوائف بنانے والے بھی مرد ہی ہوتے ہیں وہ لڑکی جو کسی مرد کے پیار میں گھر سے بھاگ جاتی ہے یا تو اسے بیچ دیا جاتا ہے یا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ لڑکی کیا کرے جس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو ایسی ہی لڑکی پھر ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور زندگی گزارنے کے لئیے غلط راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
    یقین جانیں اگر یہ طوائف نہ ہو تو مرد کی گندگی آ پ کو ہر جگہ دکھائی دے گی اور شاید حوس کا پوجاری مرد اپنے ہی گھر کی بہو بیٹیوں کے ساتھ گندہ کھیل کھیل بیٹھے اور میں ایسے واقعات سنے بھی ہیں کہ باپ نے بیٹی کے ساتھ زیادتی کی،یہاں تک کہ بے زبان جانور تک کو نہیں چھوڑتے یہ لوگ،ایک معصوم بلی کے ساتھ لڑکوں کا وحشیانہ سلوک تو سب کو یاد ہی ہو گا ۔
    جس چیز کی مانگ زیادہ ہوگی وہ تو مارکیٹ میں ضرور آئے گی اور مرد کی مانگ ہے عورت اور رنگین رات اسی لیے آ ج بھی کہیں نہ کہیں چکلہ آ پکو ملے گا اور اگر مرد اچھا ہو جائے تو یقین کیجیے یہ چکلے ہر جگہ سے خود بخود بند ہو جائیں ۔
    ایک عام عورت اور ایک طوائف میں یہ فرق ہے کہ طوائف اپنے لیے خود کماتی ہے اور عام عورت کے پاس کمانے کے بہت لوگ ہوتے ہیں اسکا باپ بھائی یا بیٹا۔
    اور ایک بات یہ کہ اچھے اور برے لوگوں میں فرق صرف ہم انسان کرتے ہیں خدا تو کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔
    میں نے دیکھا ہے نیک لوگوں کو دوسروں کا مذاق اڑاتے ہوئے ان پر ہنستے ہوئے اور گناہ میں ڈوبے لوگوں کو راتوں میں اللّٰہ کے سامنے روتے ہوئے۔ہم نہیں جانتے کون اچھا ہے کون برا تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر بھی فتوا لگانے والے۔
    یہاں آ پ کو ایک مثال سے بھی سمجھا دیتی ہوں کہ آپ کی اولاد میں سے ایک بچہ لائق اور ایک نالائق ہے تو کیا آ پ اپنے نالائق بیٹے کو اکیلا چھوڑ دیں گے نہیں بلکہ اس پر زیادہ توجہ دیں گے کہ کسی طرح یہ بھی لائق ہو جائے پر آ پ انکا موازنہ یا مقابلہ ہر گز نہیں کریں گے۔
    بلکل اسی طرح ایک عام عورت اور طوائف کا کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں بلکہ کسی ایک انسان کا دوسرے انسان سے نہیں ہے ہر انسان اپنے آ پ میں ایک ہیرا ہے کوئی نہ کوئی خوبی موجود ہے کیونکہ اللّٰہ نے کسی کو بھی فضول نہیں بنایا ہے۔
    بی
    بہت سے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آ پ سیاہ قلم ہو کڑوا لکھتی ہو تو میں کہنا چاہوں گی کہ میں معاشرے کا چہرہ دکھاتی ہوں اور اگر آپ میرا لکھا آ پ برداشت نہیں کر سکتے تو پھر یہ معاشرہ بھی بھیانک ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    نوٹ: میں نے اس تحریر میں ہر مرد کو برا نہیں کہا ہے جو برے ہیں انکو برا لکھا اور بیان کیا ہے بے شک پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ایسے ہی ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا شکریہ تحریر کیسی لگی ضرور بتائیے گا۔ خوش رہیں محبتیں بانٹتے رہیں

    @iam_FoziaCh

  • نکاح کو آسان بنائیں  تحریر:فرزانہ شریف

    نکاح کو آسان بنائیں تحریر:فرزانہ شریف

    جب ایک مڈل کلاس گھرانے میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اس کے والدین اس کی پیدائش پر وہ خوشی نہیں مناسکتے جو بیٹے کی پیدائش پر خوشی منائی جاتی ہے حالانکہ بیٹیاں بیٹوں سے بھی ذیادہ پیاری ہوتی ہیں
    والدین کو وقت سے پہلے ہی اس کو رخصت کرنے کی فکر لگ جاتی ہے ۔
    لاکھوں کا جہیز اور جہیز میں وہ قیمتی چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں جو لڑکی کے والدین کے اپنے گھر میں بھی نہیں ہوتیں
    پھر اعلی قسم کا برات کے لیے لاکھوں کا کھانا۔۔۔
    دلہے والوں کو قیمتی گفٹ دینا
    بچہ پیدا ہونے پر پھرخرچہ۔۔۔
    بیٹی ہے یا سزا ہے کوئی۔۔۔؟
    اور پھر جب مرد کہتے ہیں ہمیں چار شادیوں کی اجازت اللہ نے دے رکھی ہے یہ سنت بھی ہے
    مرد ہو ناں۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔کرو یہ سب خرچہ خود۔۔۔اور کرو چار شادیاں۔۔۔!!
    سنت کیا صرف چار شادیوں پر ہی یاد ہے۔۔؟
    باقی سنتوں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے کیا۔۔؟
    بیٹی اکثر اس لیے اپنے والدین اپنے بھائی سے فرمائشیں نہیں کرتی تھی کہ پہلے ہی اسکی شادی کا خرچ اور جہیز بناتے بناتے اس کے باپ اور بھائی نے اپنی ساری جمع پونجی لٹا دی تھی

    منگنی کے بعد اکثر لڑکے والے آتے رہتے تھے اور مہمان نوازی کرتے کرتے اس کی ماں تھک چُکی تھی۔۔۔مگر پھر بھی خالی جیب کے ساتھ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہر آنے والے کو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھلاتی اور خوش کر کے بھیجتی تھی
    ایسے میں بیٹی اپنے والدین اور بھائی کے سامنے شرمندہ سی ان کا ہرکام خوشی خوشی کر کےجیسے باپ اور بھائی کو ہمت دلا رہی ہو یا یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ سوری بابا میری وجہ سے آپ قرض لینے پر مجبور ہیں۔۔۔!!

    شادی کی تاریخ فکس کرنا ایک تہوار بن چکا ہے، لڑکی والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کتنے لوگ آئیں گے، انکے کھانے پینے کے علاوہ سب کیلئے کپڑے خرید کر رکھنے ہوتے ہیں چاہے 5 لوگ ہوں یا 100۔۔۔!!

    پھر بارات پر لڑکی کے باپ کودس بندے گھیر کر پوچھتے ہیں، جی کتنے بندے آجائیں۔۔۔؟؟؟ کیا بولے گا وہ۔۔۔؟؟؟

    اگر 100 کہے تو جواب ملتا ہے 100 تو ہمارے گھر کے قریبی رشتہ دار بن جاتے ہیں پھر محلے دار ۔۔برادری کے لوگ…!!کچھ نہیں تو 500 افراد تو مجبوراً لانے پڑیں گے ساتھ……..!!
    اب لڑکی کا باپ کیا کہے۔۔؟ مت لانا۔۔؟ سارے پیسے قیمتی جہیز خریدنے میں ہی خرچ ہوگے ہیں ۔۔۔؟؟؟

    لڑکی ہر دکھ درد سسرال میں صبر سے برداشت کرتی ہے اپنے والدین کو بھنک بھی پڑنے نہیں دیتی کہ وہ سسرال میں کتنا مشکل وقت گزار رہی ہے صرف اس لیے کہ اس کا باپ اور بھائی پریشان نہ ہوجائیں کہ شہزادیوں کی طرح رخصت کرنے پر بھی ہماری بیٹی سکھ سے نہیں رہ رہی

    آخر میں ۔مرد حضرات سے یہ کہتی ہوں کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ والدین پال پوس کے پڑھا لکھا کر اپنے جگر کا ٹکڑا آپکو سونپتے ہیں آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ شادی کرنے کی شرط ہی یہ رکھیں کہ آپ نے جس سے شادی کرنی ہے اس کے والدین سے جہیز نہیں لینا ۔۔آپ
    اپنی ہونے والی بیٹی پر ترس کھائیں جو کل کو تمہارے خراب حالات سے اتنی ہی پریشان ہوسکتی ہے جتنی آج تمہاری ہونے والی بیوی پریشان ہے….!!

    اللہ نے تمہیں مرد پیدا کیا ہے مرد بنیں خود میں اتنی ہمت پیدا کریں دوسروں کی محنت سے کمائی ہوئی دولت کے مزے لینے کے بجائے خود
    کما کر اپنی بیوی کو خوشیاں خرید کر دیں
    شوہر کی حیثیت ایک سائبان کی سی ہوتی ہے جو اپنی بیوی کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ کا احساس دیتا ہے اور بیوی اس کے لیے راحت سکون کا باعث بننے کے لیے ہر وہ اچھا کام کرتی ہے جو اس کے شوہر کو پسند ہواس طرح گھر جنت بن جاتے ہیں