Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • تنقید سے ڈرنا کیا  تحریر :صالح ساحل

    تنقید سے ڈرنا کیا تحریر :صالح ساحل

    دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے خیالات، نظریات اور افکار کو زمانے کی تنقید کی وجہ سے دفن کر دیتے ہیں اور ایک فضول سی زندگی گزار کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں کیوں کے جن کے پاس نظریہ نہ ہو ان کی زندگی بھی کوئ زندگی ہے یقیناَ یہ لوگ خدا کے ناشکرے ہوتے ہیں ان کو خدا نے سوچنے سمجھنے کے لیے دماغ دیا ہوتا ہے نئے نظریات کو جنم دینے کی قابلیت ہوتی ہے مگر یہ دنیا کے ڈر سے اس کو ضائع کر دیتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کو ضائع کرنا بھی تو ایک جرم ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوسرا گروہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جن کی تعداد تو کم ہوتی ہے مگر ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں یہ اپنے افکار نظریات اور خیالات کو زمانے کی فرسودہ روایات اور خوف کے نظر نہیں کرتے ان پر تنقید ہوتی ہے مگر یہ میدان سے نہیں بھاگتے یہ اس تنقید کو بھی صحیح استعمال کرتے ہیں اور اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں اس تنقید کے نتیجے میں بعض اوقات یہ اپنے راستے بدل لیتے ہیں مگر اپنے مقصد پر کمپرومائز نہیں کرتے یہ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں ان کے لیے ڈھول نہیں بجائے جاتے کئ بار تنقید ان کے کلیجہ چیر دیتی ہے مگر یہی لوگ اپنے مقصد کو پا لیتے ہیں اور اگر منزل نصیب نا بھی ہو تو پر سکون مرتے ہیں ان کا نام ان کی موت کے بعد بھی ان کو زندہ رکھتا ہے
    ———–
    اس لیے آپ اپنی زندگی میں اس بات کا خوف نا رکھیں کے آپ پر تنقید ہو رہی بلکہ کے اپنے مقصد میں لگے رہے لوگ آپ کا ساتھ نہ بھی دیں یاد رکھیں دنیا میں حق کے چاہنے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ چند لوگ تھے حضرت لوط کے ساتھ صرف دو بیٹیاں تھیں حضرت عیسیٰ کے ساتھ گیارہ لوگ تھے امام حسین کے ساتھ 72 لوگ تھے لوگوں کی تعداد کا ہونا میعار حق نہیں خدا نے آپ کو ذہن دیا ہے آپ سوچیں نئے انداز سے دنیا کو دیکھیں اپنے نظریات کو عوجے سوریا پر لے جائیں اور اپنے ذہنوں سے ڈر نکال دیں سقراط کے خیالات کو چند لوگوں نے قبول کیا اور ایتھنز کے حامی ہزاروں تھے اس لیے اپنے مقصد پر توجہ کریں
    ________

    اس سارے سفر میں آپ اپنا محاسبہ کرتے ہیں کے کہیں آپ کے نظریات کی جگہ ضد نے تو نہیں لے لی ضد اگر غالب آگی تو آپ ہار جائیں گے کیوں کے اس سارے سفر میں ضد اور انا آپ کی سب سے بڑی دشمن ہو گی خدا سے تعلق کو جوڑے رکھیں اور بڑھتے جائیں کامیابی آپ کا مقدر ہو گی اور زندگی سے گلے کم ہوں گے اور ہاں آخر میں یہ جملہ کہوں گا تنقید سے ڈرنا کیا یہ تو سوچنے کی ہمت دیتی ہے

    @painandsmile334

  • دم توڑتی سچائی تحریر: افشین

    سچائی "حقیقت” ہے اور حقیقت اپنا آپ منواتی ہے چھپتی نہیں
    سچائ اس روشنی کی مانند ہے جو چاروں اطراف منور ہوتی ہے تو ہر طرف اجالا ہوجاتا ہے سچائ حقیقت ہے اور حقیقت سے کبھی منہ نہیں پھیرا جاسکتا ہے اگرچہ سچائ کا راستہ دشوار ہے مگر کامیابی اسی میں پوشیدہ ہے
    سچائ وقتی دبائ جاسکتی ہے مگر اسکا سورج کی طرح طلوع ہونا لازم ہے انسان جھوٹ پہ جھوٹ بولتا جاتا ہے مگر جھوٹ عارضی ہوتا ہےہمیں سچائ کا ساتھ دینا چائیے اور چاہے اس کے لیے لڑتے اپنی جان بھی چلی جائے پر پیچھے ہٹنا نہیں چاہیےسچ بولنے والے سے رب بھی خوش ہوتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہےہمارے پیارے نبی پاک نے بھی سچائ کا درس دیا سچائ صداقت و ایمانت داری سے بھری ہوئ ہوتی ہےسچائ آدب ولحاظ اور دلی سکون سے منسلک ہےسچائ معاشرے میں موجود تمام برائیوں کا سد باب ہےآجکل ہر طرف جھوٹ کا بازار گرم ہے ہر پیشہ میں جھوٹ بولنا سر فہرست ہے جھوٹ کے بغیر جیسے کوئ کام چلنا ہی نہیں جھوٹ کے بغیر جیسے اپنا بچاو ہی نہیں جیسے جھوٹ کو لازم قرار دیا گیا ہوجھوٹ بولنے والا منافق شخص ہوتا ہے وہ اپنی باتوں سے جلد سب کو قائل کر لیتا ہے اور سچائ کو دبانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے مگر جھوٹ ہمیشہ قائم نہیں رہتا سچائ کھول کے سامنے آجاتی ہے دیر صحیح مگر درست صحیح ۔سچائ کا ساتھ دینے والے اس دنیا میں خوار بہت ہوتے ہیں مشکلات بہت سہتے ہیں پر آخروی کامیابی ایسے ہی لوگوں کے لیے ہےجو انسان سچا ہو اس کو کم لوگ سنتے ہیں کم لوگ اسکا ساتھ دیتے ہیں اور اکثر سچائ کے کیے لڑتے لڑتے کہیں لوگ دم توڑ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اب جھوٹ سرعام بھکتا ہے اور انصاف کے قوانین برائے نام رہ گئے ہیں
    اس میں ہمارا قصور ہے ؟ یا اس معاشرے کا جس میں ہم رہ رہے ہے آخر کیوں سچائ کو ایڑیا رگڑنی پڑتی ہیں آخر سچائ کا دم توڑنے میں ہر کوئ کیوں سر فہرست ہےجھوٹ بولنے والا انسان نا صرف خود کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے بلکہ خود سے جورے ہر انسان کو مشکل میں دھکیل رہا ہوتا ہےجھوٹے انسان کا لہجا مٹھاس اور فریب سے بھرا ہوا ہوتا ہےاپنے اپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے وہ کسی حد تک جا سکتا ہے پیشہ و تجارت ہو یا گھریلو معاملات سب میں سچائ ایک اہم جزو ہے گھر میں مسلے جھوٹ سے بنتے ہیں ادھر کی آدھر کی جھوٹ ملاوٹ کیا اور فساد برپاہ ہوگیا ایسے ہی تجارت و پیشہ میں بھی جھوٹ ملاوٹ کرنے سے سب تباہ ہوجاتا ہے اگر عدلیہ میں انصاف مہیا نہیں تو سارا نظام درہم برہم ہوجانا ہے لہذا سچائ ہر لحاظ سے اہم ہےہمیشہ سچ بولے اور سچ کا ساتھ دیں تاکہ دنیا وآخروی کامیابی پاسکے

    @Hu__rt7

  • معاشرے میں تشدد کا عنصر  تحریر:سید لعل بُخاری

    معاشرے میں تشدد کا عنصر تحریر:سید لعل بُخاری

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر جارحیت بڑھتی جا رہی ہے۔ہر آدمی عدم برداشت کا شکار نظر آتاہے۔دیگر شعبہ ہاۓ زندگی کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی گالی گلوچ کی بھرمار ہو چکی۔
    یہ سب کچھ بہت افسوسناک ہے۔کیا ہم جنگل کی زندگی کی طرف واپس جا رہے ہیں؟
    ہم ایک مہذب معاشرہ بننے کے بجاۓ پُر تشدد معاشرہ بننے کی طرف کیوں گامزن ہیں؟
    ہم چند روپوں کی خاطر ایک دوسرے کی جان کیسے لے سکتے ہیں؟
    کیا ہمارے مذہب کی یہی تعلیمات ہیں؟
    بلکل نہیں۔
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،جو ہمیں جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں تو جانوروں حتی کہ درختوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
    اس مذہب عظیم میں ایک انسان کی جان لینے کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
    اگر مذہب یہ کہتا ہے تو ہمیں اسکی تعلیمات کو اختیار کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟
    ہمارے مذہب کو لوگ اچھا مذہب اُسی وقت تسلیم کریں گے،جب ہم اچھے مسلمان اور اچھے انسان بن کے اسکا عملی نمونہ پیش کریں گے۔
    ان پر تشدد رویوں کی جو وجہ مجھے نظر آتی ہے،وہ معاشرے میں عدم مساوات اور انصاف کی عدم فراہمی ہے۔
    عام آدمی کو جب ایک بااثر آدمی کے مقابلے میں انصاف نہیں ملتا تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔
    اسی طرح عام آدمی حقوق کی جگہ جگہ پامالی بھی اسی معاشرتی تفرقے اور بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ایک عام آدمی کو چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے لائن میں لگنا پڑتا ہے،جبکہ با رسوخ افراد یہی کام گھر بیٹھے ایک فون کال پر کروا لیتے ہیں۔
    ان تباہ کُن رویوں میں اضافے کا باعث ہمارے سیاستدان بھی ہیں،جنہیں آپ روزانہ دست و گریبان ہوتےاور گالم گلوچ کرتےدیکھ سکتے ہیں۔
    ان لوگوں کے اس وطیرے کا نوٹس لینے کی بجاۓ پارٹی قیادت شاباشی دیتی ہے۔
    لوگ اپنے ان نام نہاد راہنماوں کی پیروی میں وہی نا مناسب رویہ عام زندگی میں اختیار کر لیتے ہیں۔
    ہمارے آپس کے لڑائ جھگڑوں کی ایک وجہ دوسرے کی بات کو اہمیت نہ دینا بھی ہوتا ہے۔ہم بس اپنی سُنانا چاہتے ہیں،کسی کی سننا نہیں چاہتے۔ضروری نہیں کہ ہر دفعہ ہم ہی درست ہوں یا حق پر ہوں۔
    بعض دفعہ دوسرا بھی سچائ پر ہو سکتا ہے۔اگر ہم اپنی بات کہتے ہیں،تو دوسرے کی سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔
    انصاف کی عدم مساوات کے ساتھ ساتھ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم بھی لوگوں کو زہنی مریض بنا رہی ہے،امیر ،امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔غریب ،غریب ترین۔
    یہ تفاوت اسی وقت دور ہو سکتی ہے،جب معاشرے سے کرپشن ختم ہو جاۓ۔ہر ایک کا بے رحم احتساب کیا جاۓ۔اسکا آغاز کھرب پتی افراد سے کرنا چاہیے نا کہ ایک سائیکل اور چھابڑی والے سے۔
    ہر شہری کو مواقع ،برابری کی بنیاد پر ملنے چاہییں،چاہے وہ تعلیمی یا طبی سہولیات ہوں یا کاروبار کے مواقع۔
    پرچی مافیا کا خاتمہ ہو۔
    ہر ایک کا کڑا احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    اگر ہم نے یہ سب نہ کیا تو یہی عدم برداشت کی لہر ایک طوفان کی شکل اختیار کر جاۓ گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے،
    خدانخواستہ#

    @lalbukhari

  • عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے.”
    سورة العمران 134
    ہمارے ہاں عدم برداشت کا کلچر فروغ پا چکا ہے ۔آپ سڑک پر دیکھتے ہیں کہ گاڑی والا موٹرسائیکل والے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ذرا آپ اس کی شاہی سواری کے راستے میں حائل ہو جائیں تو فوری ہارن بجا کر دور ہٹنے کا کہا جائے گا پھر اگر ذرا تاخیر ہوئی تو گاڑی کے اندر سے ہی صلواتیں سنانا شروع کردیں گےاور خواہش ہوگی کے کچل کر آگے نکل جائیں اور اسی طرح یہی سلوک موٹرسائیکل والا رکشہ یا گدھا گاڑی والے کے ساتھ کرتا ہے
    ذرا سی انیس بیس پر سڑک پر دست و گریباں افراد اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
    عدم برداشت کی یہ بیماری صرف عام آدمی تک محدود نہیں بلکہ ہمارے سیاستدانوں اور ایوانوں تک سرائیت کر چکی ہے جس کا مظاہرہ ہم نے بجٹ سیشن میں کیا اور اب آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں ایک دوسرے کو یہودی ایجنٹ اور دیگر القابات سے نوازا گیا ۔سیاسی اختلافات کی یہ جنگ کارکنوں کے درمیان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کو خوب گالیاں دے کر لڑ جاتی ہے ۔
    یہی حال عام گلی محلوں کا ہے معمولی سی بات پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور دشمنی کا یہ سلسلہ کئ نسلوں تک چلتارہتا ہےاور خاندان کے خاندان ختم ہوجاتے ہیں ۔
    یہ عدم برداشت کا کلچر ایک دم سے ہمارے معاشرے میں نہیں آیا ایک عرصہ تک پنجابی فلموں اور ہمسایہ ملک کی مادر پدر آزاد ثقافتی یلغار کا شاخسانہ ہے ۔
    ہمارے نظام تعلیم نے خوب ترقی کی لیکن تربیت اور کردار سازی کے شعبہ میں بری طرح ناکام رہا۔ اب حالات یہ ہیں کہ بارہویں جماعت کے چند طلباء نے لاہور میں پیپر بورڈ کے دفتر لے کر جانے والے استاد سےپرچوں کا بنڈل بندوق کے زور پر چھین کرآگ لگا دی اور استاد کی موٹرسائیکل بھی نظر آتش کردی۔
    میڈیا کا ایک کردار طلباء کو امتحانات ملتوی کروانے پر اکساتا رہا اور ریاست اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور کردار سازی پر بھی توجہ دی جائے رویوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی جائے لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پر سوار کرلینے سے آپ مسلسل ڈپریشن کا شکار ہوکر اپنی ہی صحت کا نقصان کر بیٹھتےہیں ۔
    میں نے سعودی عرب قیام کے دوران کا عجیب واقعہ دیکھا ایک شہری کی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئ دونوں گاڑی سے نیچے اترے میں نے حسب دستور سوچا یہ دست و گریباں ہونگے اور سڑک پر تماشا ہوگا لیکن کیا دیکھتا ہوں جس کی غلطی تھی اس نے سلام کیا اور درود پڑھا اللہم صلی وسلم علی نبینا محمد اتنا کہنا تھا کہ دوسرا مسکرایا گلے ملے اور معاملہ ختم۔
    غصہ انسان کی عقل کا دشمن ہے غصے کی حالت میں انسان وہ کچھ کر جاتا ہے کہ بعد میں ساری عمر پچھتاوا رہ جاتا ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ملاحظہ ہو اور عمل کرکے اپنی زندگیوں کو خوبصورت اور پرسکون بنائیں
    ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔”
    متفقہ علیہ ۔

    @Educarepak

  • ‏عنوان ذات پات، رنگ ونسل تحریر : شاہ زیب

    اللہ تعالی نے اس دنیا میں بہت سی مخلوقات کو بھیجا جن میں چرند ،پرند اور جن و انس شامل ہیں۔
    ان تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو ہی اشرف المخلاقات کہا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو برابری کی بنیاد پر پیدا کیابغیر کسی رنگ،ذات پات کے تفرقے کے۔
    مگر ہوا یوں کہ انسان اپنے رب کے فرمان کو خاموش کر بیٹھا۔
    پھر یوں ہوا کہ انسانوں کو جانچنے کا معیار انسانیت سےنہی بلکہ ذات پات رنگ نسل اور پیسے کی بنیاد پر ہونےلگا۔

    زیادہ مال دولت رکھنے والا شخص خود کو خدا سمجھ بیٹھا۔
    مال دولت کے ساتھ ساتھ غرور تکبر سے بھی مالا مال ہو گیا۔
    دوسروں کوحقیر خود کوحاکم سمجھنے لگا ۔ ایسے لگا جیسے کہ وہی سب کچھ ہے ۔اور پھر دولت نے انسانوں کے درمیان ایک دیوار قائم کردی۔ آج بھی کوئی بھی پیسے والا انسان کم آمدن والے شخص سے میل جول میں آر (شرم) محسوس کرتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں ذات پات کی آج بھی ہمارے درمیان بہت سے لوگ ہیں جو محصوص ذات کو ہی اعلی سمجھتے ہیں۔ وہ یہ گوارہ نہیں کرتے کہ اپنی ذات کے سوا کسی اور ذات سے کوئی بھی تعلق رکھا جائے۔اور نہ ہی اپنی ذات کے باہر شادی کرنے کا رواج ہوتا ہے۔

    پھر آتے ہیں وہ لوگ جو صرف رنگ کی بنیاد پر دوسروں کو حقیر جانتے ہیں۔کالے رنگ کے لوگوں کا مزاق بنایا جاتا ہے۔
    یا پھر اگر کسی کا قد چھوٹا رہ گیا تو اسکا الگ مزاق۔

    آخر ہم کیوں نہیں سمجھے کہ اللہ نے سب انسانوں کو برابری کی بنیاد پر ہی اس دنیا میں بھیجا ہے ۔
    ہم لوگ کیوں فرقوں اور تفرقوں میں پڑ کر رہ گئے

    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
    کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے معیار کے۔

    اللہ کے نزدیک انسانوں کو جانچنے کا ایک ہی معیار ہے وہ ہے تقوی کی بنیاد۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کے درمیان کھڑی اس دیوار کو ہٹائیں کسی بھی رنگ و نسل اور ذات پات کے اس تفرقے سے نکلنے کی کوشش کریں کریں۔ کیونکہ بے شک اللہ کے نزدیک معیار تقوی کا ہے

    ‎@shahzeb___

  • محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    قدرت کے قوانین کے مطابق کائنات کی ھر شئے اپنی معتدل اور تسکین والی حالت کے لئے ارتقاء میں رھتا ھے۔ اور جب جس وقت انکی ارتقاء جمود ھو جاتا ھے، تو وہ قدرت کے قہر کے زد میں آکر زوال پذیر ھو جاتا ھے۔ یہ دنیا اور اس میں رھنے والے مخلوقات بھی مسلسل ارتقائی حالت سے گزرتے رھتے ھیں۔ ان میں 1 مخلوق نسل انسانی ھے، جو اپنی بنیادی ضروریات زندگی کے لئے مل جل کے سماج کی شکل میں رھتے ھیں۔ اور اس سماج میں ھر انسان کی بنیادی ضروریات، ان کی محنت اور وسائل کی تقسیم ایک جیسی ھوتی ھے۔ اور جب ذرائع پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم ھوتی ھے تو سماج مختلف طبقات میں تقسیم ھو کے بگاڑ کی صورت اختیار کرنے لگتا ھے۔ موجود عہد میں ذرائع پیداوار کی اسی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے نسل انسانی کا بیشتر حصہ ناانصافی کا شکار ھے اور اپنی محنت بیچ کر اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش میں لگے ھیں۔
    اس عہد میں جہاں رجائیت پر مبنی سوچیں مقید ھوں اور جہاں سماج بدلنے کی گفتگو عام فہم میں تضحیک کا نشانہ بنتی ھو وہاں محنت کش طبقے کی بات کرنا، عمومی سوچ، سیاست اور انقلابات کی لئے جرآت اور دلیل سے کھڑے ھونا مضحکہ خیز بنا دیا جاتا ہے۔
    ھر عہد ھر دور میں محنت کش طبقہ اپنی استحصالی کے خلاف تحریکیں چلاتی ھیں۔ 1917 کا بالشویک انقلاب دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے باعث تقویت بنا۔ لیکن 1991 میں روڈ میں ‘سوشلزم کا انہدام’ عمومی طور پر نہایت ھی منفی اثرات مرتب کرنے کا موجب بنا۔ اسی طرح پاکستان میں 1968 اور افغانستان میں 1978 کاسال محنت کشوں کے لیے باعث نجات بن سکتا تھا، مگر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے وحشی اور درندہ صفت حکمرانوں کی وجہ سے محنت کشوں کو پھر سے اندھیروں کا سامنا کرنا پڑا۔
    آج دنیا بھر میں ایک نیا ھیجان، عدم استحکام اور سماجی تحریکیں پھر سے سر اٹھانے لگی ھیں ان گلے سڑے اور فرسودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جن کی ناکامی کا ذندہ مثال موجودہ کورونا کے خلاف گھٹنے ٹیکنا ھے۔
    چین، لاطینی امریکہ، برطانیہ، ایکواڈور سے ہانگ کانگ اور لبنان سے ایران تک ھر جگہ محنت کشوں کی تحریکیں ابھر ابھر کے سامنے آرھی ھیں۔ غربت، بےروزگاری، محرومی، ذلت اور مہنگائی کے نئے ریکارڈ ٹوٹ اور بن رھے ھیں۔
    مفلوج زدہ اور گلاسڑا ناتواں نظام انکی سرکشی کے ھر قسم کا ہربہ آزمانے سے ھچکچاتے نہیں۔ کبھی مذھب پرستی تو کبھی وطن پرستی جیسے کھوکھلے پروپیگنڈوں سے ان تحریکوں کو کچلنے کی ناکام کوششیں کر رھی ھیں۔
    اس نظام میں ٹیکنالوجی سے لیکر صنعت تک، سیاست سے لیکر اقتصادی نظام تک سبھی حکمران طبقاتِ کی مختلف تراکیب ھیں، جن سے محنت اور انسانیت کا استحصال جاری رکھا جا سکے۔ لیکن محنت کش اب مزید استحصال کے شکار رھنے والے نہیں۔ صرف مسئلہ اس جرآت ہمت اور اس عزم کا ھے جس کی اس انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے لیے ضرورت ھے۔ محنت کش عوام نے صبر کی انتہا کی ھے، اب انکے تحمل اور برداشت کی انتہا ھورھی ھے۔ اب انہوں یک جان یک قالب ھو کے اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینکنا ھوگا۔
    کیوں کہ
    *محنت کشوں کے پاس کھونے کے لیے صرف زنجیریں اور پانے کے لیے سارا جہاں پڑا ھے۔*

    Aziz Ul Haq

    @azizbuneri58

  • ‏جیو اور جینے دو ۔ تحریر : سید احد علی

    آج کل ہر بندہ دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے اور اس پر تنقید کررہا ہے
    کوئی کسی کی تعریف کرکے راضی نہیں ہے ہر بندہ دوسرے کے کام کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا
    ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم دوسروں پر تنقید کا نشانہ بنائیں ، کون اچھا ہے ، کون برا ہے اس کے لیے اللہ تعالٰی ہیں ، ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم نفرتیں پیدا کریں ایک دوسرے کے لیے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ۔
    ہم سب کو اللہ نے بنایا ہے ، جب بنانے والے نے ہی کوئی فرق نہیں سمجھا تو ہمیں تو حق ہی نہیں.
    لہذا تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ دوسرے کے لیے آسانی کا ذریعہ بن جائیں اس کے خوشی غمی میں برابر کے شریک ہو جائیں حوس بھری نگاہوں سے دیکھنے سے بہتر ہے ایک سچے اور مخلص دوست بن کر رہیں اگر تنقید ہی کرنی ہو تو نرم لہجے سے تنقید کرے کیو نکہ نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے جبکہ سخت لہجہ آنا جگاتا ہے۔۔
    غیر ضروری تنقید وہ تلوار ہے جو سب سے پہلے خو بصورت تعلقات کا سر قلم کر تی ہے
    ہمیں چاہیے تنقیداگر مقصود ھے ھی تو تنقید برائے اصلاح کریں
    تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے کہ ہم کیا ھیں تنقید کرنے سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے تنقید برائے اصلاح سے ہم بہترین معاشرہ ترتیب دے سکتے ھیں ہمیں اپنے اطوار و قلم سے محبتیں بانٹنی چاہیے نہ کہ نفرتیں
    نفرت تو آگے بہت ھے اسلیے جانے جانچے اور اصلاح کریں ۔
    اگر کسی کے لیے اپنے الفاظ سے زندگی خوشگوار نہیں کرسکتے تو برباد بھی نہ کریں ہماری زبان سے نکلا ہر لفظ ہمارے لیے تو ٹھیک ہے پر دوسرے انسان کو ہماری کون سی بات بری لگی ہو ہم نہیں جانتے سب کے لیے خوشی کا ذریعہ بن جائیں جیو اور جینے دو ۔

    @S_Ali_9

  • طلباء میں منشیات کی لت    تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    طلباء میں منشیات کی لت تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    پاکستان میں 50 فیصد سے زیادہ اسکول کے طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ طلباء زیادہ تر نجی اسکولوں کے ہیں جہنیں ان کے اہل خانہ نے خراب کیا ہے اور ایسے طلبا اپنے برے دوستوں کی صحبت میں رہ کر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں ۔طلباء میں منشیات کی لت ایک تشویش ناک صورتحال ہے جو پاکستان کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے اور جلد از جلد اس سے نمٹا جانا چاہئے۔

    دیہی اسکولوں کے مقابلے شہری علاقوں کے اسکولوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر میں اسکول کے بچوں کو زیادہ آزادی حاصل ہے اور وہ منشیات کے متحمل ہونے کے لئے زیادہ سے زیادہ جیب رقم رکھتے ہیں۔ ایک این جی او کی ایک رپورٹ کے مطابق ، اسلام آباد کے مشہور نجی اسکولوں کے 53٪ طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ حیرت انگیز حد تک زیادہ ہے کیونکہ اس سے ملک کے دارالحکومت میں اسکول جانے والی نصف سے زیادہ آبادی بن جاتی ہے۔لاہور کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں ایک اور رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ملک میں اسکول جانے والے کل طلبا میں 57٪ کم از کم ایک نشہ استعمال کررہے تھے۔ ایک اور سروے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے ہر 10 میں سے ایک طالب علم منشیات کا عادی تھا اور ایلیٹ تعلیمی اداروں کے تقریبا 50 50٪ طلبا منشیات کے عادی تھے

    توجہ فرمائیں!

    بلوغت کے زمانے سے جب نوعمر نوجوان نئی چیزوں کی کھوج شروع کرتے ہیں تو ، اسکول جانے والے طلباء منشیات کی لت میں مبتلا ہوجانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ محض تفریح ​​کے لئے پارٹیوں اور حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں شروع ہوتا ہے لیکن وہ جلد ہی اپنے آپ کو مہاماری کی طرف گہرائی میں پائے جاتے ہیں

    اسکول جانے والے طلباء کو دوسرے طلباء کا مذاق اڑاتے ہیں انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ بالائی اور اشرافیہ طبقے کے بگڑے ہوئے خطوط کو اس حد تک آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنی حدود کو بھول جاتے ہیں اور دوسروں پر بھی زور دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ، وہ بچہ جس کو سب کے سامنے تنگ اور ہراساں کیا جاتا ہے ،ان کا مذاق بنایا جاتا ہے، وہ بچے بہت سے ذہنی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ جن طلباء کو ہراساں کیا جاتا ہے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے جب ان کا دماغ انہیں صحیح اور غلط کی تمیز بھلا دیتا ہے تو وہ منشیات کے عادی ہوجاتے ہیں اس کے برعکس ، وہ لوگ جو جارحانہ اور عدم رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جو ان طلباء کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں ابتدائی طور پر منشیات میں شامل ہونا شروع کردیتے ہیں۔پاکستان میں نجی اسکولوں میں بہت سے لطف اندوزیاں ، تقریبات اور پارٹیاں ہیں جہاں طلباء اپنی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے ہیں اور اسکولوں کو بھاری فیسوں کے عوض وہ ان سے بھی زیادہ آرام اور تفریحی وقت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    حکومت وقت سے گزارش ہے کہ ہمارے روشن مستقبل کو منشیات کے جان لیوا مرض سے جان چھڑاونے کے لیے منشیات پہ پابندی لگائیں جائیں اور اسکی روک تھام پر توجہ دی جاٸیں اور منشيات سمگلنگ کرنے والوں کو سخت سزاٸیں دی جاٸیں!!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • انسانیت کہاں گئی  تحریر: احسن علی بٹ

    انسانیت کہاں گئی تحریر: احسن علی بٹ

    آج کے دور میں انسان تو زندہ ہیں لیکن بد قسمتی سے انسانیت مرگئی ہے انسان دوسرے انسان کا دشمن بنا ہوا ہے احساس نام کی چیز ہم میں رہی ہی نہیں وه دور اور تھا جب انسان کو اپنے ہمساؤں رشتے داروں دوستوں کا احساس ہوتا تھا لیکن آج کل بہت کم ایسا دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کوئی کسی کی بے لوث مدد کرے اب میرا یہ کالم پڑھنے والے لوگ کہتے ہونگے کہ کیا بات کررہا ہوں یہ باتیں دل کو چب رہی ہونگی لیکن ایک دفعہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے اور یہ سب سوچیں کیا ایسا نہیں ہے
    انسانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے وابستہ رکھتا ہے اور اگر یہ احساس ختم ہو جائے تو معاشرہ اور قوم سب تباہ اور برباد ہو جاتا ہے آج کے دور میں اپنی خرابیوں کو نظر انداز کرتے ہوے ہر انسان کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہر انسان کے دل سے انسانیت کا جذبہ و احساس ختم ہوتا جارہا ہے اور اگر ’’الف‘‘ سے انڈے اور انگور کی جگہ ’’الف‘‘ سے ’’انسانیت‘‘ سکھایا جاتا تو زیادہ بہتر تھا تاکہ انسانیت دفن نہ ہوتی اور ہم حیوان نہ بنتے آج کے حالات دیکھ کر دوکھ کہ ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ انسان تو زندہ ہیں لیکن انسانیت حقیقی لفظوں میں مر چکی ہے
    ہم بیشتر واقعات سنتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں ایک موٹر سائیکل چلانے والے بندے کے ساتھ حادثہ ہوا اور وہ وہاں گڑا ہوا تھا کہ کسی نے اسکا بٹوا اور موبائل غائب کرلیا اور اسکو اٹھا کر ہسپتال لے جانے کی زحمت نہ کی کہاں گئی انسانیت اب یہ ایک چھوٹی سی بات آپکو بتائی ہے لیکن آج کے دور میں اس سے بھی بڑے بڑے واقعات ہورہے ہیں جو کہ لکھتے ہوے بھی شرم آتی ہے حالیہ اسلام آباد میں وه جو واقعہ ہوا کہ ایک جوڑے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر انکی ویڈیوز ریکارڈ کیں اور سوشل میڈیا پر پھیلا دی گئی یہ سن کر روح کانپ جاتی ہے اور انسانیت تو واقعی مر جاتی ہے یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے انسان حیوان سے بھی بدتر ہیں جو اس قدر اخلاقیات سے گڑ رہے ہیں اس طرح کے اور بھی کافی واقعات ہیں جو کہ انتہائی درد ناک ہیں جن میں لڑکیوں کو نوکری کا جانسا دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر بلیک میل کیا جاتا ہے
    ہمیں سزا اور جزا کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا جب تک ان جیسے حیوانوں کو سزا نہیں ملے گی یہ ایسے ہی آزاد گھومتے رہے گے کوئی بھی تعلیم ہمیں صرف شعور دے سکتی ہے انسانیت نہیں سیکھا سکتی اندر کے حیوان کو صرف اور صرف سزا کا خوف ہی مار سکتا ہے
    اگر ‏مذہب میں سے انسانیت اور اخلاقیات نکال دی جائے تو باقی صرف اللّه پاک کی عبادات رہ جاتیں ہیں اور رب کائنات کے پاس اپنی حمدوثنا اور عبادات کیلئے فرشتوں کی کوئی کمی نہیں اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مگر دوسروں کے لئے جینا سیکھیں اپنے اپ میں انسانیت کا جذبہ پیدا کریں اور یہ ہی اصل زندگی ہے دوسروں کے لئے جینا ہی انسانیت کی خدمت ہے انسان اپنے حسن و اخلاق اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے بھی عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر لیتا ہے پر امید انسان کی کامیابی کا راز پرسکون دماغ ہوتا ہے اور پرسکون وہ ہوتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے
    میری اللّه سے دعا ہے یارب انکی رہنمائی فرما جو سیدھے راستے سے بھٹک گے ہیں اللّه ہمارا حامی و ناصر ہو
    @AhsanAliButtPTI

  • طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس اقدام کیلئے دل خون کے آنسو روتا ہے اُس بیٹی پر کیا گزرے گی جو اس عذاب سے گزر رہی ہوگی ۔ بعض اوقات طلاق میں نا غلط عورت ہوتی ہے نا مرد.
    مرد اپنی حثیت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے لیکن اکثر اوقات عورت کی نظر میں اُس کی تمام فرمائش پوری نہیں ہوتیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مرد عورت کو اپنی عزت بناکے رکھتا ہے اُس کو میکے جانے سے بھی نہیں روکتا لیکن جب وہ بیوی اپنے میکے جاتی ہے اُس کی والدہ اسے کپڑے بناکے دیتی ہے وہاں سے تیسرے شخص کی مداخلت رشتوں میں آجاتی ہے جو طلاق کا باعث بنتی ہے ہنستا مسکراتا گھر اجڑ جاتا ہے ۔ دوسری طرف جب سے موبائل عام ہوا ہے اُس وقت سے میاں بیوی کے رشتے میں تیسرے شخص کی مداخلت زیادہ ہوگی ہے وہ چاہے کسی بھی شکل میں ہو مثلاً کوئی ہمسائ ، ساس، سالی وغیرہ وغیرہ یا اور فرد کی شکل میں رشتوں کو توڑنے میں شیطان کا کام کرتی ہیں.

    وہ عورت ہمیشہ اپنا گھر بنا لیتی ہے جسے اپنی شوہر کی حثیت کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ میں نے اپنے شوہر کا بازو بننا ہے وہ شوہر کے دل میں گھر بنا لیتی ہے جو عورت دوسروں کی باتوں کو ترجیح دے وہ اپنا ہنستا بستا ہوا گھر برباد کرلیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں مجھ سے غلطی ہوگئ ۔

    اکثر معملات میں اولاد کی نعمت سے محرومی بھی ہے اولاد اللہ پاک کی دَین ہے خداراہ ایسی باتوں کو ترجیح نا دے کے گھر آباد رکھیں اور لوگوں کی باتوں کو توجہ نا دیں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کا ساتھی بنایا ہے جو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں اُس رشتے کی قدر کریں اور مل کے رہیں اگر میں تحریر پڑھ کے کسی بھی عزیز کا دل دُکھا یا دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں میں نے وہی بیان کیا ہے جو وقت نے دیکھایا ہے.

    @JingoAlpha