Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    کتنی عجیب بات ھے کہ ھم احساس کمتری کو تو بہت تذکروں میں لاتے ہیں اور فٹ سے کسی کو طعنہ بھی دے دیتے ہیں مگر ھم احساس برتری کا نہ ھی ذکر کرتے اور نہ ھی اسکو بیماری گردانتے ہیں یہ بہت خطرناک بیماری کی ایک قسم ھے احساس برتری کا شکار انسان خود کو حراست کسی سے برتر و بالا سمجھتا ھے اور اپنے عہدے اور حسب نسب پہ فخر کرتا ھے کیونکہ اس کی ذات میں کوئی صفات نہین ھوتی ہے اور اسکے اندر بےچینی اور بے سکونی ھوتی ھے تو وہ ھر وقت اپنے لباس اور اپنے گھر اور گاڑی کی تعریف ھی سُننا چاہتا ھے پھر ایسے لوگ دوسروں کی ھر وقت تضحیک کرنے سے بھی باز نہیں آتے کیونکہ اس سے انکے احساس فخر کو تسکین مل رھی ھوتی ھے ۔۔۔یہ بیماری معاشرے کے لئے پھر فساد اور بگاڑ کا سبب بنتی ھے اور بہت سے لوگوں کی دل آزاری کا ذریعہ بھی ۔۔لہذا اسکو بھی بیماری مان کر اسکا تدارک بہت ضروری ھے
    ورنہ یہ بیماری معاشرے میں ناسور کی طرح بڑھتی جارہی ہے اسکی وجوہات کو جاننا بھی ضروری ہے وجہ پتہ ھو گی تو قابو پایا جا سکتا ہے
    اس میں مبتلا لوگ اپنے ساتھ رہنے والوں اپنے کولیگز اپنے رشتہ داروں کی زندگی کو اجیرن کئے رکھتے ہیں
    بدقسمتی سے ھر دوسرے بندے میں یہ بیماری موجود ھے مادیت پرستی اور بے حسی بھی اسکی وجوہات میں شامل ہے ۔جس انسان میں تکبر نہیں ھوتا عاجزی ھوتی ھے وہ کبھی کسی کو کم تر نہیں سمجھتا اسلام میں تکبر کو شرک کے گناہ جیسا سمجھا جاتا ھے کہ جس کے دل میں رائی برابر تکبر آیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ۔۔اللہ پاک ھمین اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور انکو سدھارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @ALLAHknowbetter

  • ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک . تحریر: محمداحمد

    ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک . تحریر: محمداحمد

    انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحات ماں کے ساتھ گزارے لمحات ہے جن کے بغیر زندگی میں اندھیرا نظر آتا ہے مولانا رومی فرماتے تھے "کہ ماں باپ کے ساتھ تمہارا سلوک ایسی کہانی ہے جو لکھتے تم ہو لیکن پڑھ کر تمہاری اولاد سناتی ہے” اسی لئے اللہ پاک میں ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے.

    خداراہ ماں باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ کریں بیشک آپ کسی بھی مزہب سے ہوں معاشرے میں دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کی جب شادی ہو جاتی ہے تو ماں باپ کے ساتھ رویہ بدل جاتا ہے انسان اپنی انسانیت بھول جاتا ہے لیکن انسان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے جو آج حال ماں باپ کا ہے وہ حال کل تمہارا بھی ہوگا جو سوالات آج بچے اپنے ماں باپ سے کر رہے ہیں وہی سوالات کل آپ کے بچے آپ سے کریں گے اس لئے ماں باپ کی قدر کریں.

    قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ماں باپ کو اُف تک نہ کہو
    اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا جو بچے ماں کی خدمت کرتے ہیں ماں کی عزت کرتے ہیں ماں کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ماں کی دعا ہر رستے انسان کے ساتھ ہوتی ہے.

    اج کل کے دور میں لوگ ماں کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتے ہیں ماں کو اولڈ ایج چھوڑتے وقت ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور قرآن مجید کی تعلیم ہمیں کیا درس دیتی ہے اسلام میں ماں کے احترام کا درس دیا گیا ہے خداراہ اپنے اپنے والدین کی عزت احترام کریں جن کو والدین وفات پا گے ہیں اُن کیلئے دعا خیر کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @JingoAlpha

  • نوجوان  تحریر :عائشہ رسول

    نوجوان تحریر :عائشہ رسول


    نوجوانی اور صبر کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا… جس معاشرہ کا نوجوان خاموش ہو جائے وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے…. .وہاں ظلم وناانصافی کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا…… وہاں بلند آوازوں اور نعروں کا رواج ختم ہوجاتا ہے۔ جلسے اور جلوس نہیں ہوتے… وہاں طاقت کے پاس حکمرانی کا حق چلاجاتا ہے. قانون بے حثیت ہوجاتا ہے وہاں قوم نہیں رعایا ہوتی ہےاور رعایا کے نوجوان انقلاب نہیں لاسکتے…. .غلاموں کی اولاد آزاد نہیں ہوتی….!!
    میرے دوستوں! قوم وہی قوم ہی بنے گی جس میں نوجوان کا شعور بھڑکے گا… حق مانگنے کا جزبہ انگڑائی لے گا… جب وقت اسے بیدار کرے گا.
    جب وہ سوچے گا اس میں کیا کمی ہے کیا وہ سرمایہ داروں کے نوجوانوں جیسا نہیں ہے .. کیا جاگیرداروں کے نوجوان کسی خاص مٹی سے بنے ہیں کیا خالق نے انہیں کسی خاص طریقہ سے پیدا کیا ہے?
    نوجوانوں صبر کا دامن چھوڑو انقلاب کا دامن تھام لو. تمہاری صلاحیتوں کو انڑنیٹ کھا ریا ہے. زہنی آورگی تمہاری دشمن ہے جو تمہارے زہنوں کو منجمد کر رہی ہے خیالوں کا بنا رہی ہے. کبھی نام نہاد سیاست اور جمہوریت کے نام پر اور کبھی ملائیت کے رویوں نام پر…
    اے غریب اور نوجوانو! اپنی مردہ صلاحیتوں کو زندگی دو. میدان عمل میں نکلو اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑو..
    کون کون آپ کا استحصال کرہا ہے ان سے اپنا حق واپس لو.
    دیکھو تو تمہارے زہن کتنے آسودہ ہو اور کتنی زرخیزی آجاتی ہے. تمہارے زہن بڑے زرخیز ہیں زرا اس مٹی کو نم تو ہو لینے دو

    یہاں اقبال صاحب کا شعر یاد آیا کہ

    نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

    اے نوجوانو! تم قوم کا قیمتی سرمایہ ہو. تم لازوال قوم کے بچے ہو.. مسلم قوم ایک لازوال قوم ہے. پاکستانی قوم ایک جری اور بہادر قوم ہے اِسے ایک دلیر اور دیانتدار رہنما ملا ہے.. اے خدا تیرا شکریہ تو نے ہمیں ایک ایساعمران خان جیسا لیڈر عطا کیا جو نہ خود جھکتا ہے نہ ہمیں جکھنے دے گا. آئیں سب ملا کر اپنے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں اپنے محبوب لیڈر وزیراعظم عمران خان صاحب کا ساتھ دیں…

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • جس تن لاگے، اوہی جانڑے تحریر: مجاہد حسین

    میں 5 سال کا تھا جب ابو فوت ہوئے (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے)
    بھائیوں کے اصرار کے باوجود امی نے دوسری شادی نہیں کی،
    تین بھائی سکول میں تھے۔
    میں اور ایک چھوٹا بھائی ابھی سکول نہیں جاتے تھے۔
    ورثے میں تین کنال زمین ملی، دو کنال زرعی ایک بنجر۔
    ‏دو گائے تھیں ایک وچّھا ایک وچّھی تھی۔
    تین بکریاں تھیں۔
    شروع شروع میں رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کی طرف سے فصل کٹائی پر صدقات کی مد میں اتنی گندم جمع ہو جاتی تھی کہ سال بھر کے لئے کافی ہوتی تھی۔
    کچھ عرصے بعد بڑے بھائی کو کالج چھوڑنا پڑا اور ویک ویگن پر کنڈکٹر لگ گیا۔
    ‏وقت گزرتا گیا
    ہماری ضروریات اس زمین اور جانوروں سے پوری ہوتی رہیں۔
    بڑے تینوں بھائی کام کاج پہ لگ گئے۔ سب سے بڑے کی شادی بھی ہوگئی۔ سرکاری ملازمت بھی لگ گئی۔
    اب اس کے بچے بھی ہو گئے تھے تو شہر میں الگ گھر بھی بنا لیا،
    لیکن ماں کو کب آرام تھا۔ ہم چھوٹے تھے
    اب توجہ کا مرکز بنے۔
    ‏کسی بھی طرح میں نے سکول (اول پوزیشن سے) پاس تو کر لیا لیکن آگے کالج داخلے کے لئے اخراجات نہیں تھے۔ بڑا بھائی جو شہر میں رہتا تھا، میرے کاغذات جمع کروا دئے اور انٹریو کی تاریخ بھی آگئی۔
    سوال یہ تھا کہ پیسے کہاں سے آئیں؟؟
    ‏اماں نے ایک وچھا پال پوس کے بیل بنایا تھا، چنگا سوہنڑا۔
    بیچنا پڑا۔۔۔
    داخلہ ہو گیا
    اور میں کالج سے گریجویٹ ہو گیا۔
    اماں کی دعا سے رزلٹ سے پہلے ہی نوکری مل گئی۔
    اور آج بیرون ملک اللہ کے فضل سے اپنی سوچ سے بھی زیادہ کما رہا ہوں۔
    سب بھائی خود مختار ہیں۔
    اپنے اپنے گھر خوش ہیں۔
    ‏ہم نے ایسے بھی دن دیکھے ہیں کہ کبھی کبھی دو دو دن تک گندم کے دلیئے میں لسی ڈال کر کھا کے گزارا کرنا پڑا۔
    اس دن ہماری عید ہوتی تھی جس دن گڑ والے چاول بنتے تھے۔
    حالات کا احساس اورادراک تھا اس لئے عید اور میلوں کا شوق پیدا ہی نہیں ہوا۔
    آج الحمدللہ خود مختار ہیں۔
    ‏سوال یہ ہے کہ جناب! یہ سب ممکن کیسے ہوا۔
    تو محترم! ماں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
    نا کبھی نا شکری کی نہ ہمیں سکھائی۔
    گھر میں بندھی ان دو گائیوں، چند مرغیوں اور دو تین کنال زمین سے رب نے ماں کے وسیلے سے ایسا انتظام چلایا کہ کبھی کبھی جب آج سوچتے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ‏قصہ مختصر: عمران خان نے جو غریبوں کو بھینسیں، بکریاں یا مرغیاں دی ہیں ان کی اہمیت کا اندازہ ملاوٹ والا دودھ، پلاسٹک کے انڈے اور پانی سے بھرا گوشت کھا کر اسٹنٹڈ گروتھ کے حامل ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے بے ضمیروں کو نہیں ہوگا۔

    کیونکہ جناب!
    جس تن لاگے، اوہی جانے

    @Being_Faani

  • نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم کون تھی؟
    نور مقدم کا قاتل کون؟
    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج کیا ہے؟

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
    نور مقدم 27 سالہ نوجوان زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ نور مقدم کے والد کا نام شوکت مقدم ہے جو کہ پاکستان کے ساؤتھ کوریا میں سابق سفیر رہ چکے ہیں ۔ نور کے والد اوروالدہ بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔

    نورمقدم کو بے دردی سے قتل کرنے والے شخص کا نام ظہیرجعفر ہے ۔ ظہیر جعفرایک بہت بڑی کمپنی کا سی ای او ہے۔ اس کے علاوہ ظہیرجعفرایک نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر بھی ہے جو کہ اسلام آباد میں اپنا بہت بڑا کلینک بھی چلا رہا ہے۔ ظہیر جعفر کے ایک مریض نے بات چیت کے دوران بتایا کے علاج کے نام پر اسے بہت جسمانی طورپرتکلیف دی گئی اور اسے بلاخر وہاں سے بھاگنا پڑا۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نورمقدم کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن سپلائی کی بندش ہے رپورٹ میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقتولہ کا سردھڑسے الگ کیا گیا ۔ مقتولہ نورمقدم کی داہنی کنپٹی اورسینے پرخنجرکھونپا گیا۔ مقتولہ کے جسم پرتشدد اورتیزدھارآلے سے زخموں کے متعد نشانات پائے گئے ہیں.

    اسلام آبد پولیس کا انکشاف ہے کہ اس قتل میں ظہیرجعفرکے ساتھ کوئی اور قاتل بھی موجود ہے۔ ظہیرجعفرکا تین روزہ ریمانڈ چل رہا ہے جس میں وہ خود کو نفسیاتی مریض ظاہرکرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ظہیرجعفر اورنورمقدم لیو ریلیشن شپ میں تھے۔ مزید تحقیقات جاری ہے اسلام آباد پولیس دن رات اس کیس میں اپنی ذمی داری سرانجام دے رہی ہے۔ نورمقدم کی تدفین اسلام آبد کے قبرستان میں کردی گئی ہے۔ نورکے والد اور والدہ نہایت صدمے کی حالت میں ہے۔

    نورمقدم کو انصاف ملے گا یا نہیں؟ کب تک عورت ظلم کا نشان بنتی رہے گی؟ یہ کیس بھی پہلے کی طرح کسی امیرزادے کے حق میں چلا جائے گا؟ کب تک اسی طرح ہمارے معاشرے میں نور قتل ہوتی رہے گی؟ کہاں ہے وہ مجرم جن کو پکڑکرسخت سزا دینے کا دعوی کیا گیا تھا؟
    ان سب سوالوں کے جواب تو فی الوقت ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مگر جرم کے خلاف آوازاٹھانا ہمارا فرضِ عین ہیں۔ اس لیے اپنا فرض نبھائے اورنورکے حق میں اپنی آوازاٹھائے۔

    @Aladdin_Hu_Me

  • ‏عنوان ، خواتین بس ہوسٹس کو عزت دو۔ تحریر ۔ شاہ زیب

    ہمارے چاروں اطراف اکثر لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف ذرائع نقل و حمل استعمال ہوتے، نزدیکی سفر کے لئے رکی ٹیکسی وغیرہ اور لمبے سفر کے لئے کچھ احباب لوکل بسوں کو استعمال کرتے اور کچھ ڈائیو و بس استعمال کرتے۔
    لمبے سفر میں خاص کے ڈائیوو یا ایسی بڑی بس سروسز میں دوران سفر کچھ ایسی چیزیں دیکھیں جس پر آج بات کرنا چاہوں گا۔ ڈائیوو بس میں سفر کریں تو بس میں بس ہوسٹس اکثر خواتین ہوتی ہیں اور محنت مشقت کر کے گھر چلا رہی ہوتی ہیں ،خواتین بس ہوسٹس کو شوق نہیں ہوتا یا تو گھر کا فرد کمانے والا نہیں ہوتا یہ لاچار غربت کی ستائی ہوئی دو وقت کی روٹی کی تلاش میں گھر سے نکلتی ہیں تاکہ بوڑھے ماں باپ یا چھوٹے بچوں کا پیٹ پال سکیں تاکہ گھر کو چلا سکیں اور مینے خود اکثر سفر کیا ہے عموما مردوں سے زیادہ خواتین بس ہوسٹس بسوں میں سروس مہیا کر رہی ہوتیں۔ فرداً فرداً ہر ایک کی سیٹ پر جاکر بوتل لیز اور کچھ کھانے کی اشیاء سرو کرتی۔اس کا بس کے اندر چکر کبھی آگے کبھی پیچھے لگتا رہتا اور اسی دوران کچھ کم ظرف لوگ اسی بس ہوسٹس کو گھٹیا انداز میں ہراساں کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے کبھی ٹانگیں پھیلاتے کبھی کچھ کبھی کچھ کبھی بہانے سے جان بوجھ کر بار بار پانی منگواتے۔ ڈرائیور کو بتائے بھی تو وہ کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ دونوں کی نوکری کا سوال۔ہوتا۔ اس مجبوری میں وہ سب سہہ رہی ہوتیں۔ کہ کہیں لگی لگائی نوکری ختم ہو تو گھر کے اخراجات کا بوجھ کیسے اٹھایا جائے گا۔
    اور اکثر دیکھا سٹاپ آتے ہی مائیک سے تمام لوگوں کو اپنی کانپتی آواز مخاطب کرتیں تو اوباش آوارہ قسم کے لوگ مزاق بناتے "روندیں کیو اے” اور ہنسنے لگ جاتے۔۔
    پھر احساس ہوتا ہے ہم کس معاشرے کا حصہ ہے جہاں ایک بہن کسی کی بیٹی تک محفوظ نہیں آخر ہو کیا گیا ہے پھر سوچتا "مکافات عمل” انسان جیسا کرے گا ویسے بھرے گا۔
    کیا کبھی سوچا ہم دوسروں کی بہنوں کو تنگ کرتے کوئی ہماری بہنوں بیٹیوں کو تنگ کرے تو ہم پر کیا گزرے گی کیا بحثیت قوم اتنے بے غیرت ہیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی ۔ہم اپنی بہن کو محدود رکھتے لیکن دوسروں کی بہنوں پر گندی نظریں،
    دیکھا جائے تو اجتماعی طور پر ہم بڑے بے حس لوگ ہیں ہم تماشہ دیکھتے ہیں کوئی نہیں روکتا کہ بھائی وہ بھی کسی کی عزت ہے اپ ایسا کیو کرتے ہیں
    میں یہی کہو گا اگر خود بدلنا ہے تو اجتماعی طور پر سب کو بدلنا ہوگا کوئی بھی بہن بیٹی ہے اس کی عزت کا تحفظ دینا ہمارا فرض ہے بس ہوسٹس بھی ہماری بہنیں ہیں ہمیں ان کی عزت کو مقدم رکھنا چاہیے جیسے ہم اپنی بہنوں کی عزت کو مقدم سمجھتے ہوئے کرتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو یقین کریں بس ہوسٹس خواتین بھی فخر کریں گیں کہ ہمارے معاشرے میں انسانیت ابھی زندہ ہے اور یہی بس ہوسٹس خواتین کام کر کے اپنے اپ کو ایزی محسوس کریں گی کہ ہم محفوظ ہیں اس لیے پھر کہو گا اپنے اپ کو اور معاشرے کو بے راہ روی سے روکنا ہمارے اختیار میں ہے دیری کس بات کی کل سے کیو ابھی کیو نہیں ۔۔

    آخر پر اتنا کہو گا خدارا ان بس ہوسٹس خواتین کی عزت کیا کریں بلاوجہ تنگ کرنے سے اجتناب کریں اگر اپ کسی دوسرے کے بہن بیٹی کی عزت کریں گیں تو کل کو کوئی دوسرا شخص اپ کی بہن بیٹی کی عزت کی حفاظت کرے گا ۔۔ شکریہ۔۔

    ‎@shahzeb___

  • ساس! ماں، بہو اور بیٹی بھی . تحریر : انجینیئر مدثرحسین

    ساس! ماں، بہو اور بیٹی بھی . تحریر : انجینیئر مدثرحسین

    ساس بھی ماں اور بہو بھی بیٹی ہے
    اس سب کی وجہ کیا ہے؟
    ساس یا بہو کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
    کیا ازدواجی زندگی صرف جنسی سکون کا نام ہے؟
    مرد شادی کیوں کرتا ہے؟
    عموماً ہنستا بستا گھر کیوں ٹوٹتا ہے؟
    اس تحریر میں ان سوالات سے متعلق گفتگو کی جائے گی. تاکہ سمجھا جائے اور اپنے اپنے کردار سے منسلک کمی کو دور کیا جائے.
    سب سے پہلی بات یہ کہ آخر فی زمانہ جن رشتوں سے ہمیں روشناس کرایا جاتا ہے ہمارے بزرگوں میں انکی کیا روایات ملتی ہیں جنکی بدولت ایک کامیاب زندگی کی مثال ہمیں ماضی میں ملتی ہے اور شریعت اس بارے کیا کہتی ہے؟
    کچھ چیزیں مقامی روایات سے ملتی ہیں اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق چلتی ہیں. شریعت سے انکا کوئی تعلق نہیں ہوتا. جیسے پکارے جانے والے رشتے مثلاً ساس، بہو، دیور، بھابی، نند، جیٹھ، سالا یا سالی وغیرہ ایسے رشتے ہیں جن کا شریعت میں تزکرہ ان ناموں سے نہیں ملتا ہاں! جہاں پردے کی آیات اور احکام درج ہیں قرآن و حدیث میں وہاں ان رشتوں کی پہچان تو کرائی گئی لیکن رشتے کی اصل حیثیت کو برقرار رکھا گیا ہے. اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں سورۃ النور کی آیت نبر 31 میں ارشاد فرمایا
    اور مسلمان عورتوں کو حکم دے دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ ظاہر کریں مگر جتنا (بدن کا حصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے والد یا شوہروں کے والد یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائی کے بیٹوں یا اپنے بہن کے بیٹوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو انکی ملکیت ہوں یا مردوں میں سے وہ نوکر جو شہوت والے نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر اپنے پاؤں اسلئے زور سے نہ ماریں کہ ان کی اس زینت کا پتہ چل جائے جو انہوں نے چھپا رکھی ہے.

    معلوم ہوا کہ رشتوں میں سسر، بھتیجے، بھانجے کی پہچان انکے اصلی حیثیت شوہر کا باپ، بھائی کا بیٹا اور بہن کے بیٹے سے کرائی گئی.
    مطلب سسر کی حیثیت باپ کی اور بھانجوں اور بھتیجوں کی حیثیت بیٹوں کی ہوئی.
    اسی طرح سسر کی حیثیت باپ کی ہونے سے ساس کی حیثیت ماں کی ہوئی. اب ہم نے جو رشتوں کی پہچان سمجھنے کیلیے بنا رکھی ہے وہ سمجھنے کی حد تک ہونی چاہیے ناکہ رشتے کا اصل مقام اور حیثیت ہی بدل دی جائے.

    یاد رکھئیے ساس بھی ماں ہے اسکو ماں کا درجہ دیجئے اور ماں کی طرح خدمت کیجئے. آخر کیوں اس مقدس رشتے کو بگاڑ کر اس کی حیثیت ختم کی گئی؟ آج کی ڈرامہ انڈسٹری نے جس چالبازی سے اس رشتے کی حرمت کا تقدس پامال کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی. ہر ڈرامہ ساس بہو کی لڑائی اور تزلیل کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے. حالانکہ کی شریعت میں اس رشتے کا وجود ہی نہیں. اور اس اصول کے پیش نظر بہو بھی آپکے ماں ہونے کے ناطے بیٹی ہے جومقام آپکے گھر آپکی اپنی پیدا کی گئی بیٹی کو حاصل اپنے گھر اپنے بیٹے کے لیے لائی گئی دلہن کو بھی اس مقام اور درجہ سے نوازیں اور اسی حیثیت سے اس سے تعلق رکھیں. اصول ہر گھر کے الگ ہوتے روایات الگ ہوتی ہیں. اس بیٹی کو ان اصولوں سے اپنی پیدا کی گئی بیٹی کی طرح ترتیب کر کے روشناس کرائیں اور لعن طعن اور غلط القابات سے اجتناب کریں کیونک یہی وہ حقیقی بیٹی ہے جس نے بقیہ زندگی آپکی خدمت کرنی ہے اور اس گھر کو آشیانہ بنانا ہے. دلہن کے عہدے پر فائز ہوتے ہی اپنی انا کو فروغ دینے والی بہنوں سے بھی گزارش ہے کہ آپ کے شوہر کی ماں ہی آپکےلیے ماں کا درجہ رکھتی ہے شادی کے بعد اسی نے آپکی اگلی زندگی کے لیے آپ کو اپنے خاندان کے اصول و ضوابط سے نا صرف روشناس کرانا ہوتا ہے تربیت کرنی ہوتی ہے بلکہ آپ کو اپنے بیٹے کی طبیعت اور مزاج سے بھی روشناس کراناہوتا ہے. ہر رشتہ جب قدر اور عزت کا دامن تھامے چلتا ہے تو ہی گھر سکون کا گہوارہ بنتا ہے. یاد رکھیں ماں اگر کچھ کہ بھی دے تو بھلائی کیلئے ہی کہتی ہے اسلیے اسے ساس بنا کر تلخیوں میں بدلنے سے گریز کرنا چاہیے. چند دنوں میں مزاج ملنے لگتے اور ہر طرف خوشیاں دکھنے لگتی ہیں. یہاں ان ماؤں سے بھی گزارش ہے جو فی زمانہ بیٹی کو بیاہتے وقت تلقین کرتے نظر آتی ہیں کہ شوہر کو ہاتھ میں کرو بس. ایک سوال ان سے کہ کیا جس ماں کی محبت اور شفقت نے ایک نومولود کو 25 سال اپنے حصار میں رکھا ہر طرح کی برائی سے بچا کر آپکی بیٹی کو سونپ دیا کیا اب اس ماں باپ کا حق ختم ہو گیا؟ آپکی بیٹی چکنی چپٹی اداؤں سے اس کا وہ حصار کمزور تو کر سکتی ہے لیکن جب خمار اترتا ہے تو پھر وہی دلہن اور اسکی چالبازی اسی کے لیے تباہی کا سبب بنتی ہے لہٰذا اپنی بیٹی کو گھر بنانے اور ماں باپ کی خدمت کرنے شوہر کے لیے سکون بننے کی ترغیب دیں شوہر کو وقتی طور پٹانے کی نہیں. کیونکہ جس پودے کی بنیاد اچھی ہو وہی مضبوط بھی ہوتا اور پھل بھی اچھا دیتا ہے.

    شوہر شادی کیوں کرتا ہے کیا اس کو صرف جنسی تسکین چاہیے؟ جوکہ فی زمانہ اسے معاشرے سے بیوی کے اخراجات سے کئی گنا کم خرچ میں مل سکتی ہے. وہ زہنی سکون کے لیے کسی کو اپنی عزت بناتا اور اس عزت کو سجاتا سنوارتا اس کے نخرے اٹھاتا اس کیلیے اپنا تن من قربان کر کے اس
    کی خوشیوں پر خرچ کرتا ہے کیوں؟

    تاکہ وہ جب ہر طرح کا ظلم و ستم اپنی زات پر برداشت کر کے گھر لوٹے تو اس کا مسکرا کر گھر استقبال کیا جائے اس کی آو بھگت کی جائے. اسے زہنی سکون چاہیے. یاد رکھیں جو خواتین معاشرے میں لوگوں کی غلط نظروں اور القاب سے حراساں ہوتی ہیں ان سے پوچھئے مرد انہی مشقتوں سے اپنی بیوی اپنی عزت کو بچاتا ہے اور اس کے ناز و نرخوں کیلیے سبب سختیاں سب کچھ اپنی زات ہر برداشت کرتا کبھی موسم کی سختیاں تو کبھی پردیس کے جھمیلے سب صرف اپنی بیوی کے لیے تو اس کو زہنی سکون ملنا اس کا حق ہے. اگر وہ آپ ساس بہو کی لڑائی میں الجھے گا تو اس کو اس رشتے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا. یہ سب چیزیں ایک ہنستے بستے گھر اور ازدواجی زندگی کے کامیاب پہلو ہیں. زہنی سکون ہی نا ہوا تو گھر کا آشیانہ ٹوٹ جاتا ہے. اپنی انا کی بھینٹ اپنے رشتوں کو چڑھنے سے بچائیے. رشتوں کی اصل حیثیت کو سمجھیں آپس میں درگزر والا معاملہ رکھیں. ساس بہو نہیں ماں بیٹی بنیں. غلطی ہو جائے ماں بن کر سمجھائیں اور سکھائیں. اپنی غلطی کو سمجھیں مانیں اسے درست کریں اور اچھی بیٹی کی طرح مستقبل میں غلطی سے اجتناب کریں. گھر کو کھنڈر نہیں جنت بنائیں

    @EngrMuddsairH

  • عورت کارڈ اور مردانگی . تحریر : سیدہ ام حبیبہ

    عورت کارڈ اور مردانگی . تحریر : سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ تقسیم در تقسیم در تقسیم ہے.
    *ذات پات رنگ و نسل کی تقسیم
    *لسانیات کی بنا پہ تقسیم
    *صوبائی تقسیم
    یہ سب کسی طور قابل قبول ہیں اور تبدیل کیے جانے کی گنجائش موجود ہے مگر کوشش نہیں کی جاتیاور اگر کوشش کی جارہی ہے تو
    ناقابل تبدیلی تقسیم کو جو جنس کی بنا پہ ہے.

    مرد و زن سے معاشرے کا حسن ہے مگر یہی معاشرہ اس قدر پستی کا شکار ہو چکا ہے کہ کہیں تو صنف کی بنیاد پہ برتری کا احساس نمایاں کیے ہوئے ہے تو کہیں ہر جرم کے باوجود صنف کی آڑ میں چھپنے میں مصروف. یہ عورت کارڈ اورمردانگی دو ایسی اصطلاحات ہیں جو تقریبا روزانہ ہماری سماعتوں سے گزرتی ہیں. سیاست ہو یا نجی زندگی دونوں طرف اس کی گونج ہے.
    جہاں مرد اپنی برتری اپنی طاقت کی بنا پہ عورت پہ ہاتھ اٹھا کر ثابت کرے تو وہ مرد ہے ہی نہیں. جہاں عورت مرد کے مقابل آکر تمام وار آزمائے اور مذاحمت پہ رونا دھونا شروع ہو جائے کہ عورت ہے عورت کے ساتھ یہ ہو گیا وہ ہو گیا مرد ظالم ہے . تو جناب بلکل یہ عورت کارڈ ہے.

    بہت سی لبرل خواتین کے منہ سے سیاسی مخالفت کی بنا پہ سیاسی لیڈرز کو اور فوج کو اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں پڑتے سنا ہے.انکی ٹائم لائن پہ گالیاں اور ذومعنی گفتگو بھری ملے گی اور اظہار رائے اور مرد کی برابری کا مکمل احساس ملے گا
    مگر جونہی کسی ایک مرد نے اس کا جواب اسی انداز میں دیا تو وہی مظلومیت در آتی ہے کہ عورت ہے. عورت کی تذلیل ہو گئی تو جناب یہ "عورت کارڈ” ہے. عورت سیاستدان مرد سیاستدان کی جلسے میں تذلیل کرے اور بار بار کرے تو وہ بے باک اور نڈر کہلاتی ہے مگرمرد سیاستدان اسی عورت پہ اسی قسم کا وار واپس پلٹائے تو جن مردوں کا معاشرہ ہے عورت کی تذلیل کرتا ہے جناب یہ عورت کارڈ ہے. ایک اینکرمردوں پہ درشتی سے زبانی حملہ کرتی ہے مرد جواب میں بی بی زبان سنبھال کے کہہ دے تو عورت کی مظلومیت پہ لیکچر ہر طرف سے آتے ہیں تو جناب یہ عورت کارڈ ہے.

    جہاں مرد اختیارات کے ناجائز استعمال اور طاقت کے بل پہ صنف مخالف کا استحصال کرے تو یہ” مردانگی” نہیں ہے اسی طرح عورت بدزبانی کرنے کے بعد اپنے عورت کارڈ کے پیچھے چھپے تو یہ عورت پنا نہیں ہے.

    آفرین ہے ایک سیاستدان پہ کہ جس نے آج تک کسی عورت کو جواب نہیں دیا چاہے اس نے اس کے خلاف کیسی بھی زبان استعمال کی کیسا بھی الزام لگا اس نے خاموشی اختیار کی.عورت کو عورت کارڈ استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں دیا.مرد کو بہر حال برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ مرد ہے اسکی مضبوطی اسکی طاقت اسکے جسم نہیں برداشت سے عبارت ہے.

    @hsbuddy18

  • جدیدیت یا عریانی . تحریر : ہادی سرور

    جدیدیت یا عریانی . تحریر : ہادی سرور

    جیسے جیسے ہم ترقی کرتے جا رہے ہیں اور سائنس نئی نئی ایجادات کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے ہم دینِ اسلام اور رسول اللہﷺ کی تعلیمات کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ایمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔آج کل کچھ لوگ موڈرنزم یعنی جدیدیت کا ٹھپہ لگوا کر کہتے ہیں ہماری سوچ تو ایڈوانس ہے ہم اکیسویں صدی کے لوگ ہیں جو چاہیں کریں ۔ان لوگوں کو میں بتا دینا چاہتی ہوں یہ جدیدیت نہیں ہے یہ بغیرتی ہے۔ جس میں آج کل کے مسلمان دینِ اسلام کو بھول کر یہودی و أنصاریٰ کے نقشے قدم پر چلنا شروع ہوگے ہیں۔
    جس میں پردہ والی خواتین, داڑھی والے مرد اور سنت نبویﷺ پر چلنے والے مسلمان مرد و خواتین کو پتھر کے زمانے کا کہا جاتا ہے ۔جبکہ اگر کوئی لڑکی یا مرد آدھے کپڑے پہن لے یا مرد خواتین اور خواتین مرد کے کپڑے پہن لیں تو اس کو فیشن ایبل کہا جاتا ہے اس کی واہ واہ کی جاتی ہے ۔ایک ناچنے والے کنجر مرد و خواتین کو مختلف ٹیلی ویژن پروگرامز میں بلا کر ان کی تعریفوں کے امبار لگاۓ جاتے ہیں۔ لیکن ایک حافظ قران ایک عالم کو کبھی مدعو کر کے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ ان کے خیال میں ٹیلی ویژن میں معذرت کے ساس بہو سسر ،بھابی دیور کے افیئرز تو دیکھاۓ جاتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں دیکھایا جاتا کہ ہمارا دین اسلام گھریلو نظام پر کیا تعلیمات دیتا ہے ۔ آج کل کی کچھ نام نہاد عورتوں کو آزادی چاہیے آزادی کس سے چاہیے مذہب سے چاہیے یا بھائی شوہر باپ خاوند سے! عورت کو اسلام سے بڑھ کر عزت اور آزادی اور کون دے گا جس اسلام سے پہلے جب بیٹی پیدا ہوا کرتی تھی تو عورت کو زندہ دفن کر دیا جاتا اسی اسلام نے عورت کو عزت دی زندگی بخشی اور عورت کو اللّٰہ کی رحمت کہا۔

    اب بات کی جاۓ عورت کے حقوق کی تو عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں ۔ایک عورت کا حق ہے اس کا شوہر اس کا مکمل خیال رکھے اس بنیادی ضروریات اوراسکی خوشی اور پریشانی میں اس کا ساتھ دے۔ اگر ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ اس کا ہاتھ بٹاتا ہے تو اس میں شرم کی کوئی بات نہیں رسول اللّٰہ ﷺ بھی اپنی ازواج مطہرات ؓ کے ساتھ گھر کے کام کاج کروایا کرتے تھے۔ یہ بیغیرتی نہیں تو اور کیا جب میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگتے ہیں ان کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں ہوتا۔ سرِعام خواتین کچھ طلاق یافتہ عورتین خاندانی نظام کی دھجیاں اڑاتی پھرتی ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا جو جسم جو جان ہمارے پاس اللّٰہ تعالی کی امانت ہے ہم ایک ایک سانس تک اللّٰہ تعالی کے مہتاج ہیں اس پر ہماری مرضی کیسے ہو سکتی ہے ۔قران و حدیث میں زندگی گزارنے کے تمام اصول و ضوابط اور مکمل رہنمائی موجود ہے لیکن افسوس ہمارے قران تو الماریوں میں پڑے پڑے ان پر دھول اور مٹی چڑھ چکی ہے ہم کو یاد نہیں کہ آخری مرتبہ ہم نے قران پاک کو کب ترجمہ کے ساتھ پڑھا تھا۔

    آج کل الیکٹرانک میڈیا پر صرف فحاشی دیکھائی جاتی نوجوان نسل کے زہنوں کو گندہ اور زنگ آلود کیا جارہا ہے ۔ایسے ڈرامے بناۓ جا رہے ہیں جو ایک عزت دار بندہ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا ۔ اب تو اتنی بیغیرتی بڑھ گئی کے دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم پستی کی کس انتہا کو پہنچ گے ہیں کہ یورپ کی طرح اب یہاں بھی مرد کی مرد کے ساتھ شادی کی باتیں ہونے لگی ۔مطلب کہاں گیا ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان کیا ان کو کوئی روکنے والا نہیں ! کیا ان پر کوئی کاروائی نہیں کر سکتا ! کیا کوئی اسلامی قانون چلے گا ہمارے ملک میں !

    آج کل بہت سے ممالک اَن گنت ڈالر صرف اس پر خرچ رہے ہیں کہ ایک مسلمان لڑکی اپنا پردہ اتار دے نقاب نا پہنے آج کل مختلف کیمپئن کے نام پر پردہ کے خلاف پروپیگینڈہ کیا جاتا ہے میں یہاں اپنی بہنوں کو بتا دینا چاہتی ہوں آپ کی عزت نقاب اور پردہ میں ہے۔ جب دنیا کی سب سے عزت دار عورت جو جنت میں عورت کی سردار ہیں حضرت فاطمہ ؓ ان پر پردہ فرض تھا تو آپ اور میں کیا ان سے پاک دامن آگئی ہیں !! آج جب پردہ کی بات کی جاۓ تو جواز یہ پیش کیا جاتا ہے ہمارا زہن صاف ہے کیا آپ کا زہن حضرت فاطمہ ؓ سے صاف ہے ! کیا آپ ان سے بھی پاک ہیں ! اگر نہیں تو جب انہوں نے ساری زندگی پردے میں گزاری تو آپ اور میں کیوں نہیں !
    پرسوں ایک محترمہ نے کہا عید الضحی پر جانور قربان کرنے والے خواتین و حضرات کے علاوہ سب کو عید مبارک ۔۔میں اس محترمہ کو بتاتی چلوں آپ رکھیں اپنی مبارکباد اپنے پاس ہمیں تو قران سے یہ درس ملتا آپ کی عید الضحی اس وقت ہوگی جب آپ جانور قربان کریں گے ۔تو آپ نام نہاد کون ہوتی ہیں مسلمانوں اور عید الضحی پر تنقید اور طنز کرنے والی !
    جب کے ایف سی اور میکڈونلڈ روزانہ ملین کے حساب سے مرغیاں زبح کرتے ہیں اور آپ شوق سے کھاتی ہیں تب آپ جانوروں کے حقوق کےلیے کیوں نہیں بولتی ہیں ! جب سپین میں ایک تہوار میں لاکھوں بیلوں کو چھریوں سے کاٹ دیا جاتا ہے تب آپ کی جانوروں سے ہمدردی کہاں جاتی ہے !

    ایک اندازے کے مطابق برازیل نے صرف سال 2021 ایک اعشاریہ آٹھ ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے اسی طرح امریکہ اور انڈیا نے بھی ایک اعشاریہ چار ملین میٹرک ٹن جانور زبح کیے تب آپ کیوں نہیں بولی ! سب سے بڑھ کر جب فلسطین اور کشمیر میں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ان کو جانوروں سے بھی درد ناک طریقے سے شہید کیا جاتا ہے آپ تب کیوں نہیں بولتی ہیں؟
    یہ جانوروں سے ہمدری آپ کو صرف عید الضحی پر یاد آتی ہے جب ان غریبوں اور مستحق افراد میں گوشت تقسم کیا جاتا ہے جو سارا سال گوشت کھانے کےلیے صرف عید الضحی کا انتظار کرتے ہیں ! میں تمام مسلمان خواتین بہن بھائیوں سے التجاء کروں گی قربانی کی ہڈیا ضائع نا کریں بلکہ اس جیسے جدت پسند بیغرتوں کو ڈالیں ۔

    آخرمیں میری جسم میری مرضی اور تمام ان جدت پسند اور اسلام کو بھول کر یورپ اور یہود و نصاریٰ کی پیروی کرنے والے مرد و خواتین کو بتا دوں کامیابی جدیدت میں نہیں بلکہ چودہ سو سال پیچھے جا کر ہم سب کے پیارے رسول اللّٰہ ﷺ کی تعلیمات ان کی سنت اور قران مجید کی پیروی کرنے سے آۓ گی ۔ اللّٰہ پاک سب کو ہدایت دے.

    @iitx_hadii

  • اخلاقی دیوالیہ پن . تحریر : آصف گوہر

    اخلاقی دیوالیہ پن . تحریر : آصف گوہر

    بچے کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں آج کے بچے کل کے جوان اور قوم کے افراد بنتے ہیں ہمارا معاشرہ ایک تسلسل کے ساتھ انحطاط کا شکارہے ایسے جرائم بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کا دنیا کے دیگر ممالک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اگر ہم اپنے معاشرے کے بچوں کے احوال پر نظر ڈالیں تو بچے ہماری سوسائٹی میں غیر محفوظ نظر آتے ہیں۔

    یہاں پرکم سن بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات عام ہیں جنسی زیادتی بعد پھولوں کو موت کی نیند سلادیا جاتاہے ۔ بچوں پر تشدد اور جنسی درندگی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اضافہ کا سبب بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کو پکڑا ہی نہیں جاتا بہت سارے کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے مقامی طور پر ملزم کو صلح صفائی کے نام پر دوبارہ سفاکیت کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اور جو کیسز میدیا اور سوشل ایکٹیویزم کے باعث رپورٹ ہوجاتے ہیں ان میں بھی بہت سارے کمزور عدالتی نظام اور پراسیکیوشن کی وجہ سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

    اس ضمن میں زینب الرٹ بل ایک اچھا اقدام ہے ۔لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے بچوں پر تشدد اور جنسی جرائم کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں اور ان خصوصی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے حق کو ختم کیا جائےاور مجرموں کو معاشرے میں نشانہ عبرت بنانے کے لئے مجرم کی شناخت نہ چھپائی جائے اورایسے درندوں کی تصاویر قومی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھائی جائیں تاکہ یہ شرم سے ڈوب مریں اور اپنی فیملی برادری میں بھی منہ دیکھانے کے قابل نہ ہوں ایسے افراد کے شناختی کارڈزپر چائیلڈ ابیوزر لکھ دیا جائے۔

    اگر ہم نے بچوں کو آج محفوظ معاشرے نہ مہیا کیا تو ایسے دلخراش واقعات میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔ اگر آج بچوں کے خلاف یہ درندگی کو نہ روکا گیا تو اس استحصالی سلوک کا شکار ہونے والے بچے کل کو خود معاشرے سے انتقام لیں گے اور خود چائیلڈ ابیوزر بن جائیں گے لہذا خیال کیجئے کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔

    @EducarePak