Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • پردیسوں کی عید قربان  تحریر: راشد عباسی ریاض سعودی عرب

    پردیسوں کی عید قربان تحریر: راشد عباسی ریاض سعودی عرب

    بقول غلام فرید

    عیداں والے پئے عیداں کر دے
    اساں رو رو عید لنگائی
    غلام فریدا اس عید توں صدقے
    جس عید تےملسی ماہی

    کسی نے سچ کہا ہے

    کہ پردیس ماں کے شیر پتر ہی کاٹتے ہیں بزدل نہیں
    بزدل تو اپنے باپ کے پیسے پر عیاشی کرتے ہیں.

    اج چودیویں عیدِ قرباں ہے جو میں اپنے وطنِ عزیز اور اپنے پیاروں سے دور صحرا عرب کے ریگستانوں میں منا رہا ہوں اب تو بھول ہی گیا ہو کہ عید قرباں کیسے منائی جاتی ہے

    ان چودہ سال میں ایک مشاہدہ رہا ہے کہ سب پردیسوں کی عید والے دن تقریباً ایک ہی روٹین ھوتی ہے. عید پڑھ کر واپس رہائش پر آکر باری باری سب رشتہ داروں اور دوستوں کو عید مبارک باد کے پیغامات دینے کے بعد پھر لمبی تان کر سو جاناہے

    دوپہر کے وقت آٹھ کر یا تو کمپنی کے کیفے ٹیریا پر روایتی کھانے یا پھر چند دوستوں کے ساتھ مل کر مارکیٹ سے مہنیوں سے منجمد گوشت خرید کر حسب معمول طریقے سے سالن بنا کر عید منا لیتے ہیں. اور بعض بیچارے پہلے سے فریج میں موجود سالن پر گزارا کر لیتے ہیں اور بعض کمپنی کے رحم و کرم میں ھوتے ہیں مدیر (منیجر)کی مرضی ہے منیو میں دال رکھ لیں یا سبزی .

    ایک پردیسی کے لئے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہیں جب گھر والوں کی طرف سے پاکستان سے عید کے مختلف جانوروں کی تصاویر اور وڈیوز بھیجی جاتی ہیں حالانکہ اس جانور کے پیسے ان پردیسیوں کی جیب سے ہی گۓ ہوتے ہیں.اور پھر وطن عزیز سے دوستوں اور رشتے داروں کے منہ سے قربانی کے جانور کی بڑھا چڑھا کر خوبیاں اور خصوصیات بعد میں اسکے ذبح کرنے کے واقعات اور گوشت کا لذیذ ہونے کے تبصرے (گائے کے گوشت کو ہرن کا گوشت ثابت کرتے ہیں)اور پھر اس پر مزید چٹخارے دار کھانوں بار بی کیو کے تذکروں سے پردیسوں کے دلوں پر مزید نشتر چلائے جاتے ہیں.
    لیکن ھم پردیسی اپنے پیاروں کی چہروں پر وہ خوشیاں دیکھ کر اپنے سب دردبھول جاتیں ہیں.
    واقعی پردیس کاٹنا کافی کٹھن ھوتا لیکن ہر لمحہ جب اپنے پیاروں کی خوشیاں جو ھماری قربانی کی وجہ سے میسر ھوتی ہیں اس سے ایک عجیب راحت محسوس ھوتی ہے ۔
    دعا ہے اللہ تعالیٰ ھم سب کا رزق اپنے وطن میں لکھ آمین ثم آمین

    Twitter id
    @rashidabbasy

  • ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ‏اللہ کی راہ میں صدقہ صرف یہ نہیں کہ صرف مانگنے والے فقیروں کی مدد کر دی جائے. بہت سے ایسے سفید پوش ضرورت مند لوگ ہیں جو مانگ نہیں سکتے. جن کو کوئی ادھار بھی اس لیے نہیں دیتا کہ واپس کہاں سے کریں گے. ایسے لوگ بہت زیادہ محتاج ہوتے ہیں مگر عزت دار ہونے کی وجہ سے کھُل کر کسی کے آگے اپنی محتاجی بیان نہیں کر سکتے. جب مہینہ ختم ہو رہا ہو گھر میں راشن بھی ختم ہو ابھی تنخواہ آنے میں دس دن رہتے ہوں اوپر سے بجلی کا بل آ جائے. جو اگر نہ دیا گیا تو میٹر کٹ جائے گا.
    ‏اگر کوئی اس وجہ سے ادھار مانگنے آئے کہ دوائیاں لینے جانا ہے، بجلی کا بل دینا ہے. بچے کی فیس دینی ہے. فوتگی پہ جانا ہے. گھر کا راشن لینا ہے. وائف کا آپریشن ہے. بیٹی کی شادی ہے. دو مہینے سے تنخواہ نہیں ملی دودھ اور کریانہ والے کے پیسے دینے ہیں. عید پہ بچوں کے کپڑے لینے ہیں. کوئی اچانک بیمار ہو گیا اسے ہاسپیٹل لے کر جانا ہے. ایسے لوگوں کو کبھی یہ سوچ کر انکار نہ کیا کرو کہ یہ تو واپس ہی نہیں دیتا یا یہ کہاں سے واپس کرے گا. بلکہ جتنا زیادہ ہو سکے انھیں دی دیا کریں کیونکہ وہ اس وقت بہت مجبور ہوتا ہے. اور یہ سوچ لیا کرو کہ یہ اگر واپس نہ بھی کرے تو میری طرف سے صدقہ ہو گیا. یقین کرو اللہ بندے کی ایسی نیکی کو کبھی ضائع نہیں جانے دیتا اور کئی گناہ بڑھا کر بندے کو لوٹاتا ہے.
    ‏ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں. ہم مسجد کے مینار کے لیے بڑے فخر سے پچاس ہزار دے دیتے ہیں مگر 10 غریب خاندانوں کو پانچ ، پانچ ہزار نہیں دیں گے. ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس کا اجر زیادہ ہے. کہاں اس کا فائدہ زیادہ لوگوں کو پہنچے گا. ہم یہ دیکھتے ہیں کہاں خرچ کروں کہ لوگوں میں میرا نام اونچا ہو. جبکہ اللہ بندے کی نیت دیکھ رہا ہوتا ہے کہ یہ چاہتا کیا ہے.

    @FLSARM

  • خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    قوموں کی ترقی کا انحصار ان کی عوام پر ہوتا ہے۔اگر یہ عوام دھوکے باز ہو بڑے افسروں سے لیکر چوکیداروں تک سب کے سب بےایمان ہوں تو قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ جن قوموں کی نوجوان نسل ٹک ٹاک تک محدود ہو جاۓ جس قوم کی نوجوان نسل چارسو کی خاطر اپنا ایمان تک بیچ دیں ایسی قومیں ترقی نہیں کرتی۔ آج ملک میں لوگ عارضی دنیاوی دولت کی خاطر اشرف المخلوقات کو کتوں کا گوشت کھلا رہے ہیں۔ آج ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم توجہئ کی وجہ سے سیکنڑوں مریض مر رہے ہیں۔

    مطلب ہمارے ملک میں ہر وہ کام ہو رہا ہے جس سے غریب غریب تر ہوتا جا رہا اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ایک بندے کا کام نہیں ہے چاہے وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو۔جب تک ملک میں وہ ڈاکیا(جو سڑکوں پر مارا مارا پھرتا ہے کہ کوئ خطوط کو ان کے مالک تک پہنچا سے تا کہ میرا سو روپیہ پٹرول کا بچ جاۓ گا) ٹھیک نہیں ہو گا۔

    آج ہمیں ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیراس بے حس قوم کو خواب غفلت سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسے لوگ بھی ہماری طرح انسان ہی ہیں بس فرق یہی ہے کہ وہ انسان بھی ہیں اور ان کے اندر انسانیت بھی موجود ہے۔ کیونکہ انسان اور انسانیت میں بڑا فرق ہے بظاہر تو لگتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں لیکن ان کے اندر زمین و آسمان کا فرق ہے۔انسانیت آج کی اس دنیا میں بہت کم پائی جاتی ہے۔

    عبدالستارایدھی کی طرح آج بھی ایسے بہت لوگ اُن کی طرح موجود ہیں جو بغیر کسی معاوضے و کانچ کے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمارا تعلق چاہے کسی بھی علاقے سے ہو ہمیں ان کا حصہ بننا چاہیے اور انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے نزدیکی مستحق لوگوں کی مدد کرنی چاہیے ایسے لوگ ہی جب بڑے بن جاتے ہیں تو پھر کوئی عبدالستارایدھی تو کوئی قاسم علی شاہ بن جاتا ہے تو کوئی طارق عزیز بن جاتا ہے۔
    پاکستان زندہ باد🇵🇰

    @ asad_malik333

  • بحثیت قوم .  تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم . تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم

    بحثیت قوم ہم ایک سست قوم ہیں ہم اپنی منزل کو پانے کے شارٹ کٹ طریقے ڈھونڈتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی مشقت نہ کرنی پڑے اور ہمارے کام ہو جائے ہم خود کو تبدیل نہیں کرنا آج جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کو دیکھ لیں ان کی عوام میں سستی نہیں وہ محنت کش لوگ ہیں شارٹ کٹ کے طریقے نہیں ڈھونڈتے اپنا کام پوری لگن سے کرتے ہیں ۔۔۔۔

    اور ہم بحیثیت قوم چور کرپٹ بھی ہیں بجلی چوری ہم کرتے ہیں رشوت ہم کھاتے ہیں ملاوٹ ہم کرتے ہیں سود خوری ہم کرتے ہیں کوئی ناگہانی آفت آجائے تو ذخیرہ اندوزی کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ہم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے ہم چاہتے ہیں ہم خود کو تبدیل کیے بغیر تبدیلی لے آئے حلانکہ تبدیلی ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے اور فرد سے تبدیلی کے اثرات بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں

    ایک بندہ اگر تبدیلی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے پاکستان میں تبدیلی لے آئے گا اکیلا ہاں البتہ وہ اپنے حصے کا کام کر جائے گا اگر یہ ہم سب اپنے اوپر فرض کر لیں کہ تبدیلی لانی ہے تو اس کے لیے سب کو اپنا اپنا کام کرنا ہوگا ایمانداری سے جس طرح قطرے قطرے سے سمندر بنتا ہے اسی فرد سے کارواں بنتا ہے ۔۔۔۔۔۔

    قرآن مجید میں واضح بتایا گیا ہے کہ

    اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ الرعد، آیت 11

    ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے

    خود کو بدلے ان شاءاللہ وہی ہوگا جو آپ چاہیں گے بس شروعات اپنے سے کریں ۔۔۔۔۔

    تحریر: مدثر حسن
    @MudasirWrittes

  • "لبرل ازم اور اسلام”   تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم اور اسلام” تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم” کو جہاں تک میں نے سنا، پڑھا اور جانا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لبرل ازم یہودیت سے پیدا شدہ فضلات میں سے ایک ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کا یہودیت سے ایسا سخت ترین معرکہ ہے جو صبح قیامت ہی کو ختم ہو سکتا ہے اس سے پہلے اس کا تصور ممکن نہیں ہے. مطلب اسلام کے کسی نام لیوا کے لئے "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. اور اجازت ہو بھی کیسے؟ کیونکہ یہ "لبرل ازم” زبردستی کی "حریت” اور آزادی کا قائل ہے، جبکہ اسلام ایک ایسا مکمل نظام حیات ہے جس نے انسانیت کی زندگی کے ہر شعبے، ہر موڑ اور ہر مصیبت میں دستگیری کی ہے. زندگی کا ایک حصہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں مذہب اسلام اپنے ماننے والوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا نظر آیا ہو. اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام ایک پاکیزہ، صاف و شفاف نظام حیات ہے جس میں کسی طرح کی عریانیت، عیاری، مکاری، زنا کاری، سود خوری اور دیگر صفات رذیلہ کا کوئی مقام نہیں ہے. جبکہ "لبرل ازم” لوگوں کو ایسی "حریت” کا حامی بناتا ہے جس میں عریانیت اور لادینیت کو بنیادی مقام حاصل ہے.
    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام نے قرآن کریم کے ذریعے واضح الفاظ میں خواتین کو حجاب (پردے) کا پابند بنایا ہے. جبکہ "لبرل ازم” کے بنیادی ارکان میں سے” حریت” کا مقصد یہ ہے کہ” ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہے اور اس زندگی کے طریقہ کار اور نہج کا بھی خود مختار ہے کسی کے قواعد و قوانین اس کے لئے ذرہ بے مقدار کی حیثیت رکھتے ہیں. چاہے وہ کسی سے اپنے تعلقات استوار کرے یا کسی سے بالکل بھی تعلق نا رکھے وغیرہ وغیرہ. بس اپنے اندر ودیعت کی ہوئی صفات و کمالات کو قوم کے سامنے اجاگر کرنا یہ مقصد اصلی ہے جس سے سرمایہ داری میں روز بروز اضافہ ہو اور زندگی گزارنے کے لئے تمام تر وسائل و اسباب مہیا ہوں”.
    یعنی لبرل ازم کے اندر حریت کے ذریعے مکمل آزادی کا مطالبہ ہے. جبکہ اسلام نے بھی ہر انسان کو آزاد رہنے کا مکلف بنایا ہے مگر اس آزادی کو چند امور پر مشروط کیا گیا ہے جن کی بجا آوری ضروری ہے، اور یہ شرائط بھی قیود کے طور پر نہیں ہیں بلکہ ان کے ذریعے بھی انسانیت کی دستگیری ہی مقصود ہے. مثلاً خواتین کو مکمل آزادی ہے مگر اس کے لئے پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہے. تو اب لبرلز یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ اسلام کے اندر عورتوں کو قید کر کے رکھا جاتا ہے تا آں کہ اسے اپنا چہرہ بھی دکھانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ مرد کو اس طرح کی کسی پابندی کا مکلف نہیں بنایا گیا. تو ان لوگوں کے لئے جواب یہ ہے کہ کہ آپ لوگوں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے صرف ایک ہی جہت پر محنت کی ہے جبکہ اس کی ایک جہت اور بھی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو پردے کا پابند بنایا ہے اس کے ساتھ ساتھ مردوں کو "غض بصر” (نگاہیں نیچی رکھنے) کا حکم بھی دیا ہے.
    اسلام کے اس نظام سے مساوات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح اسلام نے اس حکم کے ذریعے عریانیت اور ننگے پن کا سد باب کیا ہے جس کی وجہ سے ہر ایک شخص دوسرے کا مکمل احترام کرتا ہے. اس کے بر عکس مغربی تہذیب کا جائزہ لیا جائے تو ان کے یہاں کسی بھی طرح کی ترقی کا عریانیت کے بغیر تصور محال ہے. آپ کسی بھی شعبے (ڈپارٹمنٹ) کی جانب نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ وہاں عریانیت کا بازار گرم ہے حتیٰ کہ امور خانہ داری میں بھی اس عریانیت کو فیشن کا نام دیکر اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے زنا کاری عام سے عام تر ہوتی جا رہی ہے.
    خلاصہ یہ ہے کہ جس پردے کو اسلام نے مصلحت کے طور پر رکھا ہے اس کے فوائد کثرت سے معاشرے میں نمایاں نظر آتے ہیں. اور لبرلز کے یہاں سب سے اہم چیز "سرمایہ کاری” ہے چاہے اس کے لئے عریانیت کے لباس کو زیب تن کرنا پڑے. اور اس کے سب سے زیادہ تباہ کن اثرات خاندان پر مرتب ہوتے ہیں جہاں ماں باپ اولاد کی تربیت سے زیادہ سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ خود غرضی، لالچ، حرص اور حسد کا سیلاب پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے. عورتیں گھروں سے نکل کر بازاروں کی زینت بن جاتی ہیں اور عصمت و عفت کی چادریں چاک ہوجاتی ہیں. زنا اتنا عام ہو جاتا ہے کہ نکاح ایک نا معقول فعل نظر آتا ہے جیسا کہ ابھی چند دن قبل ایک نام نہاد بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلم لبرل خاتون نے یہ زہر نکالا تھا کہ "معاشرے میں نکاح کی ضرورت ہی کیا ہے جب سارا نظام ایسے ہی چل رہا ہے”. حرامی بچوں کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے جیسا کہ امریکہ، سویڈن اور فرانس میں ہو چکا ہے. جہاں حالیہ سرویز کے مطابق زنا سے پیدا شدہ بچوں کی تعداد جائز اولاد سے کہیں زیادہ ہے. اور اس وقت یہ رجحانات مغرب تک ہی محدود نہیں ہیں. دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں غیر ثابت النسب بچوں کی تعداد دو ہزار ایک کے مقابلے میں 367 فی صد زیادہ ہے.اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مغربی تہذیب کتنی غلیظ ترین تہذیب ہے.ایک طرف اسلام ہے کہ اس نے مرد و عورت دونوں کو پردے کا مکلف بنایا ہے اور دوسری طرف یہ نام نہاد صاف و شفاف تہذیب جس میں زنا کاری کو جائز ہی نہیں قرار دیا مزید برآں اس کے لئے مظاہرے کئے جاتے ہیں اور باقاعدہ یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ "ہر انسان خود مختار ہے، جس کے ساتھ چاہے جسمانی تعلقات استوار کر سکتا ہے”.
    خلاصہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. یہ مغربی قوم روئے زمین کی غلیظ ترین قوم ہے کوئی اسلام کا نام لیوا اس سے متاثر نہ ہو بلکہ صحیح اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ و پیراستہ ہو تاکہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں اسلام سے دامن نا چھڑائے بلکہ ان تمام غلیظ تہذیبوں سے اپنے آپ کو بچا لے.

    @The_salaar_786

  • معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    صفائی اور حفظان صحت کی اہمیت کو کسی بھی معاشرے سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہر عقیدہ اور تہذیب صفائی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے ، کسی تہذیب یا معاشرے کی ترقی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے صفائی کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جسمانی اور روحانی طور پر ، صفائی اور پاکیزگی پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ اسلام میں ، روحانی پاکیزگی جسمانی صفائی اور پاکیزگی سے منسلک ہے۔

    مزید اہم بات یہ ہے کہ صفائی ستھرائی کو ایک ناگزیر کہا جاتا ہے تاہم ، ہمارے عقیدے کا یہ بنیادی اور طاقتور اصول ، بدقسمتی سے ، ہمارے معاشرے میں عملی طور پر اس کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ اسلام کے اس قیمتی اصول کو ہماری زندگی کا حصہ بنانے کے لئے ہمارے فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی طریقوں پر بھی سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

    اسلام نے صفائی کی اہمیت پر اسے ایمان کا حصہ بنایا ہے لہذا ، لوگوں کو صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لئے شعوری کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ، متعدد سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے عقیدے کی اس قیمتی قیمت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں

    قرآن پاک میں ایسی بہت سی آیات ہیں جو صفائی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

    ارشاد ربانیﷻ ہے: اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ.

    "بے شک اﷲ بہت توبہ کرنیوالوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے”(البقرة،2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا حَتّٰی يَطْهُرْنَ ج فَاِذَا تَطَهَّرْنَ

    جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں اور جب وہ خوب پاک ہوجائیں (البقرة، 2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ ثِيَابَکَ فَطَهِّرْ

    اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں (المدثر: 4)

    نگاہ نبوتﷺ میں صفاٸی کے وسیع المعنی لفظ ہے۔
    اس لئے رسول ﷺ نے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہے

    فرمان رسول ﷺ ہے کہ الطهور شطر الايمان.

    "صفائی نصف ایمان ہے” صحيح مسلم
    قرآن مجید و حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جسم و ماحول کی صفائی کے بغیر ، کوئی شخص روحانی طور پر اللہ کی قربت حاصل نہیں کرسکتا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ صفائی اور پاکیزگی کی عدم موجودگی میں ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔

    قارئين اکرام! ہمارے معاشرے میں صفائی کے بارے میں بیان بازی سے بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق غائب ہے۔ ایک تیز مشاہدے سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ صفائی اور حفظان صحت کے حوالے سے ہم نے کتنی بے حس ثقافت تیار کی ہے۔

    توجہ فرماٸیں!!

    ہمارے معاشرے میں گلیوں ، سڑکوں یا پارکوں میں کچرا پھینکنا ایک عام سی بات بن چکی ہے

    اگر دیکھا جاٸے عوامی مقامات پر ڈسٹ بِن شاذ و نادر ہی پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ڈسٹ بنس انسٹال ہوجائے تو ، لوگ ان کا صحیح استعمال نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ، وہ باہر کوڑا کرکٹ پھینکنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کو صاف کرتے ہیں اور کچرے کو اس کے مضمرات پر غور کیے بغیر سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ایلیٹ اسکولوں کے طلباء بھی کوڑے دانوں کی موجودگی میں ہی کچرا زمین پر پھینک دیتے ہیں۔ اس سے صفائی اور حفظان صحت کے بارے میں ہمارا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح راہ چلتے ہوٸے لوگ دیواروں پہ پان تھوک دیتے ہیں ، جو نہایت ہی معیوب عمل ہے

    ایک اور شعبہ جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے عوامی بیت الخلاء کی خوفناک حالت۔ عوامی بیت الخلاء کی کمی ایک بہت بڑا چیلنج ہے ، لہذا لوگ فطرت کی آواز کا جواب دینے کے لئے کھلی جگہیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ جو بیت الخلاء موجود ہیں وہ انتہائی قابل رحم حالت میں ہیں کہ کوئی ان کو استعمال نہیں کرسکتا۔

    اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کی قابل رحم حالت کی نشاندہی کرنے کے لئے پیش کی جاسکتی ہیں۔ لہذا ، اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے شعوری کوششوں کی ضرورت ہے۔

    ہمارے عقیدے کی روشنی میں لوگوں کو صفائی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی اور حساس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں معاشرتی ادارے جیسے تعلیمی ادارے ، میڈیا اور مذہبی ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

    پاکستان ، نظام تعلیم کو اپنے طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ صفائی اور حفظان صحت سے متعلق درس و تدریسی مواد کو نصاب اور درسی کتب میں شامل کیا جانا چاہئے۔ میڈیا عوام کو صفائی کی اہمیت اور غیر صحت پسندانہ زندگی کے نقصانات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے اور اس کا احساس دلانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہےمساجد اور مدرسے جیسے مذہبی ادارے بھی لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے میں حکومت کے کردار اور عزم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    صفائی کی اہمیت کو فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک طرف تو یہ انسانی صحت اور روحانی ترقی کے لئے ایک اہم عنصر ہے۔ دوسری طرف یہ ماحولیاتی ترقی کے لئے ضروری ہے۔

    صاف ستھرا اور حفظان صحت سے متعلق طرز زندگی اپنانے سے ، جہاں صحت کے امور کا تعلق ہے وہاں ایک قیمتی رقم بھی بچائی جاسکتی ہے۔ ایک صاف ستھری اور صحتمند زندگی معاشرے کی ثقافت کو بہتر بنانے میں معاون ہے اور زندگی کے ہر پہلو جیسا کہ آرٹ ، فن تعمیر ، کھانا ، موسیقی وغیرہ کی عکاسی کرتی ہے۔ آخر کار ، یہ تہذیب کی ایک اعلی سطح کی طرف جاتا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہےکہ سماجی و فلاحی تنظیمیں مسلمانوں میں صفائی ونفاست اور خوش سلیقگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کریں اور قرآن اور حدیثﷺ کے نہج پر ایک مثالی مسلم معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنائیں

    اللہ ﷻآپکا حامی و ناصر ہو آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • ڈپریشن کا آپریشن تحریر:حُسنِ قدرت

    ڈپریشن کا آپریشن تحریر:حُسنِ قدرت

    جو لوگ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ میں ایک پر باش اور زندگی سے بھرپور لڑکی ہوں مجھ سے کل سہیلی نے یہ سوال کیا کہ کیا آپ اُداس ہوتی ہیں ،مجھےیہ سوال عجیب سا لگا میں نے کہا کہ میں بھی اداس ہوتی ہوں کیونکہ میں بھی انسان ہوں
    پھر اس نے پوچھا کہ آپ کیا کرتی ہیں اپنی پریشانی ختم کرنے کےلیے
    میں نے بتایا کہ میں اس ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
    اسکے لیے چند اسٹیپس ہیں جن پہ عمل کرکے آپ سب بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں
    1۔پریشانی کی وجہ دیکھتی ہوں کہ اسکی وجہ کیا ہے
    2۔جب وجہ جان لیتی ہوں اگر تو ہے وہ خدشہ یا بدگمانی تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں اور توبہ کرتی ہوں تاکہ اللّٰہ تعالیٰ آئندہ مجھے اس سے محفوظ رکھے
    3۔اگر واقعی وہ کوئی سیریس مسئلہ ہے تو اسکی وجہ ڈھونڈتی ہوں اور اسکے بعد حل کی طرف توجہ دیتی ہوں ،وجہ ختم مسئلہ حل عمومآ ایسا ہوتا ہے لیکن کچھ مسائل کو ہمیں گہرائی میں جاکر دیکھ کے صبر سے حل کرنا پڑتا ہے
    4۔اگر وہ کوئی ایسا مسئلہ ہے جو میں حل نہیں کر سکتی تو 2 نفل قضائے حاجات کے پڑھ کر اُسے اللّٰہ کے حوالے کر دیتی ہوں

    میں ان پوائنٹس پہ عمل کر کے اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
    کیا آپ لوگ بھی ان پوائنٹس کو اپنا کر اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرکے اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے تیار ہیں؟

    Twitter: @HusnHere

  • دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    ایک ناکام شخص نے کامیاب شخص سے پوچھا کہ کامیاب کیسے بنا جاتا ہے کامیاب شخص نے کیا ہی کمال کا جواب دیا اس نے کہا کہ کیا تمہاری زندگی میں پرابلمز ہے ناکام شخص نے کہا کہ بہت ہے تو کامیاب شخص نے کہا ان کو حل کرلو تم کامیاب بن جاؤ گے

    لوگوں کو زیادہ تر پرابلمز ہوتی ہے کہ پیسہ نہیں ہے اگر نہیں ہے تو یہ پرابلم ہے اور اس کا حل ہے کہ کمانا سیکھو ۔لوگوں کو پرابلم ہے کامیاب کیسے ہو اور سلوشن ہے کہ محنت کرکے ثابت قدم رہ کر پرابلم یہ ہے کہ ہم سولوشن سے زیادہ پروبلم پر فوکس بنا لیتے ہیں

    یاد رکھیں انسان کا فوکس جس چیز پر ہوگا اسے وہی ملے گا اگر پروبلم پر فوکس ہے تو پروبلم ہی ملے گی اگر سلیوشن پر فوکس ہے تو سلوشن ہی ملے گا میں پچھلے دنوں کالج اکیڈمی کا کام کر کر کے تھک گیا تھا میں نے فنی مووی دیکھنے کا پلان بنایا جس کا نام دھمال تھا بہت ہی اچھی مووی تھی اس مووی میں ایک سین آیا جس نے مجھے بہت بڑا سبق دیا سین یہ تھا کہ چار دوست جنگل میں پیدل جا رہے تھے کہیں سے شیر کی دھاڑ سنائی دی چاروں سہم گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے یار ڈراؤ مت مجھے پتا ہے تم میں سے ایک ایسی آوازیں نکال رہا ہے

    شیر نے پھر سے زور دار دھاڑ لگائی چاروں کو پتہ چل گیا کہ یہاں کوئی شیڑ ہے تبھی ان میں سے ایک اپنے جوتے کے تسمے باندھنے لگ پڑا ایک دوست بولا اس سے کیا ہوگا تم کیا شیر سے آگے نکل جاؤ گے پہلے دوست نے جواب دیا کہ شیڑ سے تو پتہ نہیں لیکن میں تم تینوں سے آگے ضرور نکل جاؤں گا

    زندگی میں مشکلات اور مصیبتیں بھی اچانک سے ہی شیر کی طرح ٹپک پڑتی ہے اگر ہم دوڑنے کے لیے تیار ہوں اور دوڑ پڑے تو ان لوگوں کو زندگی کے مسائل کا نوالہ بننے کے لیے پیچھے چھوڑ دیں گے جن کے دل میں کبھی دوڑنے تک کا خیال نہیں آتا

    اور کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ زندگی میں دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں ایک وہ جو سوچتے ہیں مگر کرتے کچھ نہیں اور دوسرے وہ جو کرتے ہیں مگر سوچتے کچھ نہیں

    ‎@k__Latif

  • سرداری غلامی تحریر،،محمد ابراہیم

    سرداری غلامی تحریر،،محمد ابراہیم

    اور سرداروں کے راتب خوروں کی نشانیاں۔
    الیکشن میں انھوں نے اپنے اپنے سردار کو فرشتہ ثابت کرنا ہوتا ہے اور انکی صاف دامنی کی قسمیں کھاتے ہیں اپنے آپ سے بھی بڑا حاجی نمازی ثابت کرتے ہیں۔

    الیکشن جیتنے کے بعد جس پارٹی میں سردار شامل ہوگا وہ جماعت انکی ماں باپ بن جاتی ہے اس جماعت کو وہ پاکستان کی سب سے اچھی جماعت ثابت کرینگے چاہے الیکشن سے پہلے اس جماعت کو جتنی بھی گالیاں دیتے تھے وہ سب بھول جاییگے۔

    حکومت کے پہلے تین سال اسکے خوب گن گاتے رہینگے لیکن آخری دو سال حکومت کو گالیاں دیتے ہیں تاکہ آئیندہ الیکشن میں اگر سردار(لوٹا) اس پارٹی کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے تو لوگ کارکردگی کا سوال نہ کریں اگر کریں بھی تو انکو یہی جواب دیا جایئگا کہ دیکھا نہیں ہم کہتے تھے یہ حکومت ٹھیک نہیں ہے تبھی تو سردار نے اس پارٹی کو چھوڑ دیا۔

    سردار کے ہر برے کام کا دفاع کرنا سردار کی ہر برائی کو اچھائی بتانا سرداری نظام کو اسلامی نظام کے بالکل قریب بتانا یہ انکا فن ہے۔

    مجھے یاد نہیں کہ ہمارے منتخب شدہ ان سردار نمائندوں نے کبھی اسمبلی میں اپنے وسیب کیلے آواز بلند کی ان سرداروں نے ہمارے بچوں کو قلم ،دینے کی بجائے کلاشنکوف انکے ہاتھ میں تھمائی کیوںکہ انکو پتہ ہے آگر نوجوانوں کو تعلیم جیسی سہولیات دی گئی سکول کالج انکو بنا کر دیے گئے تو کل کو یہ ہماری غلامی کرنے کے بجائے ہمارے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں،

    یہ جتنی بھی ڈیرہ غازی خان میں گینگز بنی اگر ان پر ریسرچ کی جائے تو انکے تانے بانے ہر بار ان سرداروں سے ہی کیوں جاکر ملتے ہیں ،
    چلو پچھلی گینگز کو چھوڑیں لادی گینگ جسنے ہمارے علاقے وسیب میں ظلم کا بازار سرگرم کیے رکھا اس گینگ کو 2008 میں سردار محسن عطا کی سرپرستی میں بنایا گیا سیمنٹ فیکٹری سے بھتہ لینے کی خاطر

    یہ گینگ ان سرداروں کی سرپرستی میں پروان چڑھا اور آخر میں اس گینگ نے ظلم کی وہ تاریخ رقم کی جسکی مثال نہیں ملتی ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے وزیراعظم عمران خان نے اس گینگ کے خلاف نوٹس لیا بالاآخر کچھ دن پہلے سیکورٹی فورسز کی جانب سے اس گینگ کے کمانڈر سمیت کچھ لوگوں کو مارا گیا اور کچھ نے گرفتاری دی ،

    سوال یہ ہے یہ گینگز آج ختم ہوگئی لیکن اسکے بنانے والے آج بھی موجود ہیں انکے خلاف بھی کارروائی کی جائے نہیں تو کل کو یہ سردار پھر کوئی دوسرا گینگ بنا لیں گے اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے ،
    آخر میں بات پھر وہی آتی ہے کہ اگر ہمیں سرداروں غلامی کی زندگی سے نکلنا ہے تو ان سرداروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا نہیں تو ہمیں ہمارے آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی ،

    ان سرداروں نے ہماری سوچ کی گلی سولنگ اور نالی پکی تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ہم انگریز کی غلامی سے تو نکل گئے لیکن آج بھی ہم انگریز کے اس چھوڑے ہوئے نظام سرداروں کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں

    یہ صرف میرا محمد ابراہیم کا کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ وسیب کے ہر نوجوان اور باشعور انسان کو اس سرداری غلامی کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ،پھر جاکر ہمیں آزادی حاصل ہوگی نہیں تو یہ غلامی کی زنجیریں آپکا مقدر ہونگی ،

    Twitter , @IbrahimDgk1

    .

  • بلڈ ڈونیشن اور معاشرے کے صورتحال۔   تحریر: اعزاز شوکت

    بلڈ ڈونیشن اور معاشرے کے صورتحال۔ تحریر: اعزاز شوکت

    انسان کے اندر جب احساس انسانیت ہوتا ہے تو وہ دوسروں کی مدد کرتا ہے ، مدد کرنے کے بہت سے طریقے ہیں ان میں سے ایک ” خون کا عطیہ ” ہے ۔ اس وقت پاکستان میں کافی تعداد میں والنٹیرز بلڈ سوسائیٹیز کام کر رہی ہیں ۔

    میں خود بھی اپنے چند دوستوں کے ساتھ ان بلڈ سوسائیٹیز کا حصہ ہوں ، بلڈ ارینج کرنے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں آئیں آپکو ان کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں کہ لوگوں میں شعور بیدا ہو :_

    لوگ ہمیں کال کر کہ یا میسج بھیج دیتے ہیں کہ ہمیں اس گروپ کا خون چاہیے آپ ارینج کر دیں ہم اس پہ ورک شروع کر دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ارینج کردیں ، اس میں ہمارے معاشرے کی کہاں پہ غلطی ہے آئیں آپکو بتاتے ہیں ۔

    تھیلسیمیا، کینسر اور ایکسیڈنٹ کے مریض خون کے اصل حقدار ہوتے ہیں ، تھیلیسیمیا میں تو پہلے ایک ماہ بعد خون لگتا پھر 15 دن بعد پھر 3 دن اور کبھی کبھی ہر 2 گھنٹے بعد ایک بوتل خون کی ہائے اللہ 💔۔

    جو لوگ ہمیں بلڈ کیس بھیج رہے ہوتے ہیں ان کے اپنے خاندا میں بھی افراد موجود ہوتے ہیں اور ان کا بھی کوی نہ کوی بلڈ گروپ ہوتا ہے ، لوگوں کو چاہئے کہ اگر ان کے کسی عزیز و اقارب کو خون چاہیئے تو سب سے پہلے اپنے خاندان، رشتہ داروں سے پتہ کریں اگر کسی کا بلڈ گروپ میچ نہ کرے پھر لاسٹ آپشن کے طور پہ بلڈ سوسائیٹی والوں سے رابطہ کریں ۔

    اسی طرح اکثر لوگ ڈلیوری کیسز بھیج دیتے ہیں کہ ہمیں ارینج کر دیں ، ان سب سے گزارش ہے کہ ڈلیوری میں ساری صورتحال واضح ہوتی ہے 2 خاندان کے افراد ہوتے ہیں لوگ اپنوں کو چھوڑ کر باہر والوں کو کہتے ہیں خون ڈھونڈ دیں ۔

    ایک دوست بتاتے ہیں وہ 5 بہن بھائ تھے اور وہ سب تھیلیسمیا کے مریض تھے اور صرف وہ ایک زندہ رہا ، ایک رات ہوسٹل میں تھے کال آئ کہ ہمیں چھوٹے بچے کے لیے خون چاہیے پھر وہ اور میں رات 1 بجے ہسپتال گئے ، جب خون ارینج ہو جاتا ہے تو جو مریض کے گھر والے دعائیں دیتے ہیں ویسی راحت جہاں بھر میں کہیں بھی نہیں ہوتی۔

    خدارا لوگوں دوسروں کا خیال کرو خون کے اصل حقداروں تک خون پہچانے میں اپنا کرداد ادا کرو۔
    @Zee_PMIK

    @Zee_PMIK