Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • "لبرل ازم اور اسلام”   تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم اور اسلام” تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم” کو جہاں تک میں نے سنا، پڑھا اور جانا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لبرل ازم یہودیت سے پیدا شدہ فضلات میں سے ایک ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کا یہودیت سے ایسا سخت ترین معرکہ ہے جو صبح قیامت ہی کو ختم ہو سکتا ہے اس سے پہلے اس کا تصور ممکن نہیں ہے. مطلب اسلام کے کسی نام لیوا کے لئے "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. اور اجازت ہو بھی کیسے؟ کیونکہ یہ "لبرل ازم” زبردستی کی "حریت” اور آزادی کا قائل ہے، جبکہ اسلام ایک ایسا مکمل نظام حیات ہے جس نے انسانیت کی زندگی کے ہر شعبے، ہر موڑ اور ہر مصیبت میں دستگیری کی ہے. زندگی کا ایک حصہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں مذہب اسلام اپنے ماننے والوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا نظر آیا ہو. اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام ایک پاکیزہ، صاف و شفاف نظام حیات ہے جس میں کسی طرح کی عریانیت، عیاری، مکاری، زنا کاری، سود خوری اور دیگر صفات رذیلہ کا کوئی مقام نہیں ہے. جبکہ "لبرل ازم” لوگوں کو ایسی "حریت” کا حامی بناتا ہے جس میں عریانیت اور لادینیت کو بنیادی مقام حاصل ہے.
    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام نے قرآن کریم کے ذریعے واضح الفاظ میں خواتین کو حجاب (پردے) کا پابند بنایا ہے. جبکہ "لبرل ازم” کے بنیادی ارکان میں سے” حریت” کا مقصد یہ ہے کہ” ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہے اور اس زندگی کے طریقہ کار اور نہج کا بھی خود مختار ہے کسی کے قواعد و قوانین اس کے لئے ذرہ بے مقدار کی حیثیت رکھتے ہیں. چاہے وہ کسی سے اپنے تعلقات استوار کرے یا کسی سے بالکل بھی تعلق نا رکھے وغیرہ وغیرہ. بس اپنے اندر ودیعت کی ہوئی صفات و کمالات کو قوم کے سامنے اجاگر کرنا یہ مقصد اصلی ہے جس سے سرمایہ داری میں روز بروز اضافہ ہو اور زندگی گزارنے کے لئے تمام تر وسائل و اسباب مہیا ہوں”.
    یعنی لبرل ازم کے اندر حریت کے ذریعے مکمل آزادی کا مطالبہ ہے. جبکہ اسلام نے بھی ہر انسان کو آزاد رہنے کا مکلف بنایا ہے مگر اس آزادی کو چند امور پر مشروط کیا گیا ہے جن کی بجا آوری ضروری ہے، اور یہ شرائط بھی قیود کے طور پر نہیں ہیں بلکہ ان کے ذریعے بھی انسانیت کی دستگیری ہی مقصود ہے. مثلاً خواتین کو مکمل آزادی ہے مگر اس کے لئے پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہے. تو اب لبرلز یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ اسلام کے اندر عورتوں کو قید کر کے رکھا جاتا ہے تا آں کہ اسے اپنا چہرہ بھی دکھانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ مرد کو اس طرح کی کسی پابندی کا مکلف نہیں بنایا گیا. تو ان لوگوں کے لئے جواب یہ ہے کہ کہ آپ لوگوں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے صرف ایک ہی جہت پر محنت کی ہے جبکہ اس کی ایک جہت اور بھی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو پردے کا پابند بنایا ہے اس کے ساتھ ساتھ مردوں کو "غض بصر” (نگاہیں نیچی رکھنے) کا حکم بھی دیا ہے.
    اسلام کے اس نظام سے مساوات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح اسلام نے اس حکم کے ذریعے عریانیت اور ننگے پن کا سد باب کیا ہے جس کی وجہ سے ہر ایک شخص دوسرے کا مکمل احترام کرتا ہے. اس کے بر عکس مغربی تہذیب کا جائزہ لیا جائے تو ان کے یہاں کسی بھی طرح کی ترقی کا عریانیت کے بغیر تصور محال ہے. آپ کسی بھی شعبے (ڈپارٹمنٹ) کی جانب نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ وہاں عریانیت کا بازار گرم ہے حتیٰ کہ امور خانہ داری میں بھی اس عریانیت کو فیشن کا نام دیکر اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے زنا کاری عام سے عام تر ہوتی جا رہی ہے.
    خلاصہ یہ ہے کہ جس پردے کو اسلام نے مصلحت کے طور پر رکھا ہے اس کے فوائد کثرت سے معاشرے میں نمایاں نظر آتے ہیں. اور لبرلز کے یہاں سب سے اہم چیز "سرمایہ کاری” ہے چاہے اس کے لئے عریانیت کے لباس کو زیب تن کرنا پڑے. اور اس کے سب سے زیادہ تباہ کن اثرات خاندان پر مرتب ہوتے ہیں جہاں ماں باپ اولاد کی تربیت سے زیادہ سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ خود غرضی، لالچ، حرص اور حسد کا سیلاب پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے. عورتیں گھروں سے نکل کر بازاروں کی زینت بن جاتی ہیں اور عصمت و عفت کی چادریں چاک ہوجاتی ہیں. زنا اتنا عام ہو جاتا ہے کہ نکاح ایک نا معقول فعل نظر آتا ہے جیسا کہ ابھی چند دن قبل ایک نام نہاد بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلم لبرل خاتون نے یہ زہر نکالا تھا کہ "معاشرے میں نکاح کی ضرورت ہی کیا ہے جب سارا نظام ایسے ہی چل رہا ہے”. حرامی بچوں کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے جیسا کہ امریکہ، سویڈن اور فرانس میں ہو چکا ہے. جہاں حالیہ سرویز کے مطابق زنا سے پیدا شدہ بچوں کی تعداد جائز اولاد سے کہیں زیادہ ہے. اور اس وقت یہ رجحانات مغرب تک ہی محدود نہیں ہیں. دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں غیر ثابت النسب بچوں کی تعداد دو ہزار ایک کے مقابلے میں 367 فی صد زیادہ ہے.اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مغربی تہذیب کتنی غلیظ ترین تہذیب ہے.ایک طرف اسلام ہے کہ اس نے مرد و عورت دونوں کو پردے کا مکلف بنایا ہے اور دوسری طرف یہ نام نہاد صاف و شفاف تہذیب جس میں زنا کاری کو جائز ہی نہیں قرار دیا مزید برآں اس کے لئے مظاہرے کئے جاتے ہیں اور باقاعدہ یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ "ہر انسان خود مختار ہے، جس کے ساتھ چاہے جسمانی تعلقات استوار کر سکتا ہے”.
    خلاصہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. یہ مغربی قوم روئے زمین کی غلیظ ترین قوم ہے کوئی اسلام کا نام لیوا اس سے متاثر نہ ہو بلکہ صحیح اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ و پیراستہ ہو تاکہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں اسلام سے دامن نا چھڑائے بلکہ ان تمام غلیظ تہذیبوں سے اپنے آپ کو بچا لے.

    @The_salaar_786

  • معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    صفائی اور حفظان صحت کی اہمیت کو کسی بھی معاشرے سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہر عقیدہ اور تہذیب صفائی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے ، کسی تہذیب یا معاشرے کی ترقی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے صفائی کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جسمانی اور روحانی طور پر ، صفائی اور پاکیزگی پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ اسلام میں ، روحانی پاکیزگی جسمانی صفائی اور پاکیزگی سے منسلک ہے۔

    مزید اہم بات یہ ہے کہ صفائی ستھرائی کو ایک ناگزیر کہا جاتا ہے تاہم ، ہمارے عقیدے کا یہ بنیادی اور طاقتور اصول ، بدقسمتی سے ، ہمارے معاشرے میں عملی طور پر اس کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ اسلام کے اس قیمتی اصول کو ہماری زندگی کا حصہ بنانے کے لئے ہمارے فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی طریقوں پر بھی سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

    اسلام نے صفائی کی اہمیت پر اسے ایمان کا حصہ بنایا ہے لہذا ، لوگوں کو صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لئے شعوری کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ، متعدد سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے عقیدے کی اس قیمتی قیمت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں

    قرآن پاک میں ایسی بہت سی آیات ہیں جو صفائی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

    ارشاد ربانیﷻ ہے: اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ.

    "بے شک اﷲ بہت توبہ کرنیوالوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے”(البقرة،2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا حَتّٰی يَطْهُرْنَ ج فَاِذَا تَطَهَّرْنَ

    جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں اور جب وہ خوب پاک ہوجائیں (البقرة، 2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ ثِيَابَکَ فَطَهِّرْ

    اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں (المدثر: 4)

    نگاہ نبوتﷺ میں صفاٸی کے وسیع المعنی لفظ ہے۔
    اس لئے رسول ﷺ نے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہے

    فرمان رسول ﷺ ہے کہ الطهور شطر الايمان.

    "صفائی نصف ایمان ہے” صحيح مسلم
    قرآن مجید و حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جسم و ماحول کی صفائی کے بغیر ، کوئی شخص روحانی طور پر اللہ کی قربت حاصل نہیں کرسکتا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ صفائی اور پاکیزگی کی عدم موجودگی میں ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔

    قارئين اکرام! ہمارے معاشرے میں صفائی کے بارے میں بیان بازی سے بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق غائب ہے۔ ایک تیز مشاہدے سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ صفائی اور حفظان صحت کے حوالے سے ہم نے کتنی بے حس ثقافت تیار کی ہے۔

    توجہ فرماٸیں!!

    ہمارے معاشرے میں گلیوں ، سڑکوں یا پارکوں میں کچرا پھینکنا ایک عام سی بات بن چکی ہے

    اگر دیکھا جاٸے عوامی مقامات پر ڈسٹ بِن شاذ و نادر ہی پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ڈسٹ بنس انسٹال ہوجائے تو ، لوگ ان کا صحیح استعمال نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ، وہ باہر کوڑا کرکٹ پھینکنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کو صاف کرتے ہیں اور کچرے کو اس کے مضمرات پر غور کیے بغیر سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ایلیٹ اسکولوں کے طلباء بھی کوڑے دانوں کی موجودگی میں ہی کچرا زمین پر پھینک دیتے ہیں۔ اس سے صفائی اور حفظان صحت کے بارے میں ہمارا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح راہ چلتے ہوٸے لوگ دیواروں پہ پان تھوک دیتے ہیں ، جو نہایت ہی معیوب عمل ہے

    ایک اور شعبہ جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے عوامی بیت الخلاء کی خوفناک حالت۔ عوامی بیت الخلاء کی کمی ایک بہت بڑا چیلنج ہے ، لہذا لوگ فطرت کی آواز کا جواب دینے کے لئے کھلی جگہیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ جو بیت الخلاء موجود ہیں وہ انتہائی قابل رحم حالت میں ہیں کہ کوئی ان کو استعمال نہیں کرسکتا۔

    اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کی قابل رحم حالت کی نشاندہی کرنے کے لئے پیش کی جاسکتی ہیں۔ لہذا ، اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے شعوری کوششوں کی ضرورت ہے۔

    ہمارے عقیدے کی روشنی میں لوگوں کو صفائی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی اور حساس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں معاشرتی ادارے جیسے تعلیمی ادارے ، میڈیا اور مذہبی ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

    پاکستان ، نظام تعلیم کو اپنے طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ صفائی اور حفظان صحت سے متعلق درس و تدریسی مواد کو نصاب اور درسی کتب میں شامل کیا جانا چاہئے۔ میڈیا عوام کو صفائی کی اہمیت اور غیر صحت پسندانہ زندگی کے نقصانات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے اور اس کا احساس دلانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہےمساجد اور مدرسے جیسے مذہبی ادارے بھی لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے میں حکومت کے کردار اور عزم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    صفائی کی اہمیت کو فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک طرف تو یہ انسانی صحت اور روحانی ترقی کے لئے ایک اہم عنصر ہے۔ دوسری طرف یہ ماحولیاتی ترقی کے لئے ضروری ہے۔

    صاف ستھرا اور حفظان صحت سے متعلق طرز زندگی اپنانے سے ، جہاں صحت کے امور کا تعلق ہے وہاں ایک قیمتی رقم بھی بچائی جاسکتی ہے۔ ایک صاف ستھری اور صحتمند زندگی معاشرے کی ثقافت کو بہتر بنانے میں معاون ہے اور زندگی کے ہر پہلو جیسا کہ آرٹ ، فن تعمیر ، کھانا ، موسیقی وغیرہ کی عکاسی کرتی ہے۔ آخر کار ، یہ تہذیب کی ایک اعلی سطح کی طرف جاتا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہےکہ سماجی و فلاحی تنظیمیں مسلمانوں میں صفائی ونفاست اور خوش سلیقگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کریں اور قرآن اور حدیثﷺ کے نہج پر ایک مثالی مسلم معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنائیں

    اللہ ﷻآپکا حامی و ناصر ہو آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • ڈپریشن کا آپریشن تحریر:حُسنِ قدرت

    ڈپریشن کا آپریشن تحریر:حُسنِ قدرت

    جو لوگ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ میں ایک پر باش اور زندگی سے بھرپور لڑکی ہوں مجھ سے کل سہیلی نے یہ سوال کیا کہ کیا آپ اُداس ہوتی ہیں ،مجھےیہ سوال عجیب سا لگا میں نے کہا کہ میں بھی اداس ہوتی ہوں کیونکہ میں بھی انسان ہوں
    پھر اس نے پوچھا کہ آپ کیا کرتی ہیں اپنی پریشانی ختم کرنے کےلیے
    میں نے بتایا کہ میں اس ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
    اسکے لیے چند اسٹیپس ہیں جن پہ عمل کرکے آپ سب بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں
    1۔پریشانی کی وجہ دیکھتی ہوں کہ اسکی وجہ کیا ہے
    2۔جب وجہ جان لیتی ہوں اگر تو ہے وہ خدشہ یا بدگمانی تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں اور توبہ کرتی ہوں تاکہ اللّٰہ تعالیٰ آئندہ مجھے اس سے محفوظ رکھے
    3۔اگر واقعی وہ کوئی سیریس مسئلہ ہے تو اسکی وجہ ڈھونڈتی ہوں اور اسکے بعد حل کی طرف توجہ دیتی ہوں ،وجہ ختم مسئلہ حل عمومآ ایسا ہوتا ہے لیکن کچھ مسائل کو ہمیں گہرائی میں جاکر دیکھ کے صبر سے حل کرنا پڑتا ہے
    4۔اگر وہ کوئی ایسا مسئلہ ہے جو میں حل نہیں کر سکتی تو 2 نفل قضائے حاجات کے پڑھ کر اُسے اللّٰہ کے حوالے کر دیتی ہوں

    میں ان پوائنٹس پہ عمل کر کے اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
    کیا آپ لوگ بھی ان پوائنٹس کو اپنا کر اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرکے اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے تیار ہیں؟

    Twitter: @HusnHere

  • دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    ایک ناکام شخص نے کامیاب شخص سے پوچھا کہ کامیاب کیسے بنا جاتا ہے کامیاب شخص نے کیا ہی کمال کا جواب دیا اس نے کہا کہ کیا تمہاری زندگی میں پرابلمز ہے ناکام شخص نے کہا کہ بہت ہے تو کامیاب شخص نے کہا ان کو حل کرلو تم کامیاب بن جاؤ گے

    لوگوں کو زیادہ تر پرابلمز ہوتی ہے کہ پیسہ نہیں ہے اگر نہیں ہے تو یہ پرابلم ہے اور اس کا حل ہے کہ کمانا سیکھو ۔لوگوں کو پرابلم ہے کامیاب کیسے ہو اور سلوشن ہے کہ محنت کرکے ثابت قدم رہ کر پرابلم یہ ہے کہ ہم سولوشن سے زیادہ پروبلم پر فوکس بنا لیتے ہیں

    یاد رکھیں انسان کا فوکس جس چیز پر ہوگا اسے وہی ملے گا اگر پروبلم پر فوکس ہے تو پروبلم ہی ملے گی اگر سلیوشن پر فوکس ہے تو سلوشن ہی ملے گا میں پچھلے دنوں کالج اکیڈمی کا کام کر کر کے تھک گیا تھا میں نے فنی مووی دیکھنے کا پلان بنایا جس کا نام دھمال تھا بہت ہی اچھی مووی تھی اس مووی میں ایک سین آیا جس نے مجھے بہت بڑا سبق دیا سین یہ تھا کہ چار دوست جنگل میں پیدل جا رہے تھے کہیں سے شیر کی دھاڑ سنائی دی چاروں سہم گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے یار ڈراؤ مت مجھے پتا ہے تم میں سے ایک ایسی آوازیں نکال رہا ہے

    شیر نے پھر سے زور دار دھاڑ لگائی چاروں کو پتہ چل گیا کہ یہاں کوئی شیڑ ہے تبھی ان میں سے ایک اپنے جوتے کے تسمے باندھنے لگ پڑا ایک دوست بولا اس سے کیا ہوگا تم کیا شیر سے آگے نکل جاؤ گے پہلے دوست نے جواب دیا کہ شیڑ سے تو پتہ نہیں لیکن میں تم تینوں سے آگے ضرور نکل جاؤں گا

    زندگی میں مشکلات اور مصیبتیں بھی اچانک سے ہی شیر کی طرح ٹپک پڑتی ہے اگر ہم دوڑنے کے لیے تیار ہوں اور دوڑ پڑے تو ان لوگوں کو زندگی کے مسائل کا نوالہ بننے کے لیے پیچھے چھوڑ دیں گے جن کے دل میں کبھی دوڑنے تک کا خیال نہیں آتا

    اور کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ زندگی میں دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں ایک وہ جو سوچتے ہیں مگر کرتے کچھ نہیں اور دوسرے وہ جو کرتے ہیں مگر سوچتے کچھ نہیں

    ‎@k__Latif

  • سرداری غلامی تحریر،،محمد ابراہیم

    سرداری غلامی تحریر،،محمد ابراہیم

    اور سرداروں کے راتب خوروں کی نشانیاں۔
    الیکشن میں انھوں نے اپنے اپنے سردار کو فرشتہ ثابت کرنا ہوتا ہے اور انکی صاف دامنی کی قسمیں کھاتے ہیں اپنے آپ سے بھی بڑا حاجی نمازی ثابت کرتے ہیں۔

    الیکشن جیتنے کے بعد جس پارٹی میں سردار شامل ہوگا وہ جماعت انکی ماں باپ بن جاتی ہے اس جماعت کو وہ پاکستان کی سب سے اچھی جماعت ثابت کرینگے چاہے الیکشن سے پہلے اس جماعت کو جتنی بھی گالیاں دیتے تھے وہ سب بھول جاییگے۔

    حکومت کے پہلے تین سال اسکے خوب گن گاتے رہینگے لیکن آخری دو سال حکومت کو گالیاں دیتے ہیں تاکہ آئیندہ الیکشن میں اگر سردار(لوٹا) اس پارٹی کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے تو لوگ کارکردگی کا سوال نہ کریں اگر کریں بھی تو انکو یہی جواب دیا جایئگا کہ دیکھا نہیں ہم کہتے تھے یہ حکومت ٹھیک نہیں ہے تبھی تو سردار نے اس پارٹی کو چھوڑ دیا۔

    سردار کے ہر برے کام کا دفاع کرنا سردار کی ہر برائی کو اچھائی بتانا سرداری نظام کو اسلامی نظام کے بالکل قریب بتانا یہ انکا فن ہے۔

    مجھے یاد نہیں کہ ہمارے منتخب شدہ ان سردار نمائندوں نے کبھی اسمبلی میں اپنے وسیب کیلے آواز بلند کی ان سرداروں نے ہمارے بچوں کو قلم ،دینے کی بجائے کلاشنکوف انکے ہاتھ میں تھمائی کیوںکہ انکو پتہ ہے آگر نوجوانوں کو تعلیم جیسی سہولیات دی گئی سکول کالج انکو بنا کر دیے گئے تو کل کو یہ ہماری غلامی کرنے کے بجائے ہمارے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں،

    یہ جتنی بھی ڈیرہ غازی خان میں گینگز بنی اگر ان پر ریسرچ کی جائے تو انکے تانے بانے ہر بار ان سرداروں سے ہی کیوں جاکر ملتے ہیں ،
    چلو پچھلی گینگز کو چھوڑیں لادی گینگ جسنے ہمارے علاقے وسیب میں ظلم کا بازار سرگرم کیے رکھا اس گینگ کو 2008 میں سردار محسن عطا کی سرپرستی میں بنایا گیا سیمنٹ فیکٹری سے بھتہ لینے کی خاطر

    یہ گینگ ان سرداروں کی سرپرستی میں پروان چڑھا اور آخر میں اس گینگ نے ظلم کی وہ تاریخ رقم کی جسکی مثال نہیں ملتی ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے وزیراعظم عمران خان نے اس گینگ کے خلاف نوٹس لیا بالاآخر کچھ دن پہلے سیکورٹی فورسز کی جانب سے اس گینگ کے کمانڈر سمیت کچھ لوگوں کو مارا گیا اور کچھ نے گرفتاری دی ،

    سوال یہ ہے یہ گینگز آج ختم ہوگئی لیکن اسکے بنانے والے آج بھی موجود ہیں انکے خلاف بھی کارروائی کی جائے نہیں تو کل کو یہ سردار پھر کوئی دوسرا گینگ بنا لیں گے اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے ،
    آخر میں بات پھر وہی آتی ہے کہ اگر ہمیں سرداروں غلامی کی زندگی سے نکلنا ہے تو ان سرداروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا نہیں تو ہمیں ہمارے آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی ،

    ان سرداروں نے ہماری سوچ کی گلی سولنگ اور نالی پکی تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ہم انگریز کی غلامی سے تو نکل گئے لیکن آج بھی ہم انگریز کے اس چھوڑے ہوئے نظام سرداروں کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں

    یہ صرف میرا محمد ابراہیم کا کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ وسیب کے ہر نوجوان اور باشعور انسان کو اس سرداری غلامی کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ،پھر جاکر ہمیں آزادی حاصل ہوگی نہیں تو یہ غلامی کی زنجیریں آپکا مقدر ہونگی ،

    Twitter , @IbrahimDgk1

    .

  • بلڈ ڈونیشن اور معاشرے کے صورتحال۔   تحریر: اعزاز شوکت

    بلڈ ڈونیشن اور معاشرے کے صورتحال۔ تحریر: اعزاز شوکت

    انسان کے اندر جب احساس انسانیت ہوتا ہے تو وہ دوسروں کی مدد کرتا ہے ، مدد کرنے کے بہت سے طریقے ہیں ان میں سے ایک ” خون کا عطیہ ” ہے ۔ اس وقت پاکستان میں کافی تعداد میں والنٹیرز بلڈ سوسائیٹیز کام کر رہی ہیں ۔

    میں خود بھی اپنے چند دوستوں کے ساتھ ان بلڈ سوسائیٹیز کا حصہ ہوں ، بلڈ ارینج کرنے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں آئیں آپکو ان کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں کہ لوگوں میں شعور بیدا ہو :_

    لوگ ہمیں کال کر کہ یا میسج بھیج دیتے ہیں کہ ہمیں اس گروپ کا خون چاہیے آپ ارینج کر دیں ہم اس پہ ورک شروع کر دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ارینج کردیں ، اس میں ہمارے معاشرے کی کہاں پہ غلطی ہے آئیں آپکو بتاتے ہیں ۔

    تھیلسیمیا، کینسر اور ایکسیڈنٹ کے مریض خون کے اصل حقدار ہوتے ہیں ، تھیلیسیمیا میں تو پہلے ایک ماہ بعد خون لگتا پھر 15 دن بعد پھر 3 دن اور کبھی کبھی ہر 2 گھنٹے بعد ایک بوتل خون کی ہائے اللہ 💔۔

    جو لوگ ہمیں بلڈ کیس بھیج رہے ہوتے ہیں ان کے اپنے خاندا میں بھی افراد موجود ہوتے ہیں اور ان کا بھی کوی نہ کوی بلڈ گروپ ہوتا ہے ، لوگوں کو چاہئے کہ اگر ان کے کسی عزیز و اقارب کو خون چاہیئے تو سب سے پہلے اپنے خاندان، رشتہ داروں سے پتہ کریں اگر کسی کا بلڈ گروپ میچ نہ کرے پھر لاسٹ آپشن کے طور پہ بلڈ سوسائیٹی والوں سے رابطہ کریں ۔

    اسی طرح اکثر لوگ ڈلیوری کیسز بھیج دیتے ہیں کہ ہمیں ارینج کر دیں ، ان سب سے گزارش ہے کہ ڈلیوری میں ساری صورتحال واضح ہوتی ہے 2 خاندان کے افراد ہوتے ہیں لوگ اپنوں کو چھوڑ کر باہر والوں کو کہتے ہیں خون ڈھونڈ دیں ۔

    ایک دوست بتاتے ہیں وہ 5 بہن بھائ تھے اور وہ سب تھیلیسمیا کے مریض تھے اور صرف وہ ایک زندہ رہا ، ایک رات ہوسٹل میں تھے کال آئ کہ ہمیں چھوٹے بچے کے لیے خون چاہیے پھر وہ اور میں رات 1 بجے ہسپتال گئے ، جب خون ارینج ہو جاتا ہے تو جو مریض کے گھر والے دعائیں دیتے ہیں ویسی راحت جہاں بھر میں کہیں بھی نہیں ہوتی۔

    خدارا لوگوں دوسروں کا خیال کرو خون کے اصل حقداروں تک خون پہچانے میں اپنا کرداد ادا کرو۔
    @Zee_PMIK

    @Zee_PMIK

  • خواجہ سرا بھی انسان ہیں  تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    خواجہ سرا بھی انسان ہیں تحریر: حافظ اسامہ ابوبکر

    ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ با حثیت قوم ہم خواجہ سراؤں کے حقوق کا ہر ممکن تحفظ کریں گے لیکن عمل درآمد ناپید
    پاکستان میں خواجہ سراؤں کو سماجی رویے سمیت تعلیم اور صحت کے میدان میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے
    ایسا کیوں کیا وہ انسان نہیں ؟
    یا ان کی پیدائش پر انکا اختیار تھا ؟
    خواجہ سرا دنیا بھر میں اپنی قابلیت سے اپنی پہچان بناتے ہیں تعلیم کے شعبے میں سائنس و ٹیکنالوجی ڈرامے فلم ماڈلنگ انجینئرز ہر شعبے میں نظر آتے ہیں لیکن ہمارے ہاں منظر یکساں تبدیل ہے
    سڑکوں پر چہروں پر میک اپ لگائے ٹریفک سگنلز پر کمر پر ہاتھ رکھے بے ہنگم آوازوں میں گانے گاتے کھڑی گاڑیوں کے ادھ کھلے شیشیوں پر جھک کر عجیب و غریب حرکات کرتے نظر آتے ہیں اور یہ سب صرف پیسہ کمانے کے لئے اپنی ذات کی تذلیل سہتے ہیں
    اس لیے کہ ان کے والدین ان کو اپنانے سے قاصر ہوتے ہیں اس معاشرے کی باتوں اور تانوں سے کہ یہ ایک خواجہ سرا کے والدین ہیں کتنی شرم کی بات ہے حالانکہ اس میں انکا کوئی اختیار نہیں یہ اختیار صرف اور صرف اللہ تعالی کے پاس ہے
    اگر انہی خواجہ سراؤں کو اچھی تعلیم و تربیت مہیا کی جائے تو یہ ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی کارآمد افراد ثابت ہوں
    پاکستان میں سب سے پہلے صوبہ خیبر پختونخوا نے پشاور میں خواجہ سراﺅں کے لئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا جسکے ذریعے ہر ایک خواجہ سرا سالانہ پانچ لاکھ چالیس ہزار تک صحت سے متعلقہ سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں
    خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے لیا جانے والا یہ اقدام پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش تھی جس سے خواجہ سرا سرکاری اور حکومت کی طرف سے منتخب پرائیویٹ ہسپتالوں سے صحت کی مفت سہولیات بلا کسی تفریق مستفید ہو سکتے ہیں اسی سلسلے کے پیش نظر جامعہ کراچی نے بار پہلی بار پورٹل پر اپ لوڈ کیے جانے والے ایم فل/پی ایچ ڈی کے داخلہ فارم میں میل اور فیمیل کے ساتھ ساتھ “ٹرانس جینڈر” transgender (خوا جہ سرا) کا کالم بھی خصوصی طور پر شامل کردیا ہے ٹرانس جینڈر کا علیحدہ کالم شامل کرنے کی سفارش پورٹل بنانے والی ٹیم نے کی تھی
    جس سے ان خواجہ سراؤں کے لئے PHD کی ڈگری حاصل کرنے میں بلا کسی امتیازی سلوک کے داخلہ آسان ہو گا اسی طرح کی ایک خوب صورت مثال کُچھ روز پہلے ملتان سے سامنے آئی باہمت خواجہ سرا نے ناچ گانے اور بھیک مانگنے کےبجائے باعزت روزگار کو ذریعہ معاش بنا کر الگ اور روشن مثال قائم کی ہے
    سائيکالوجی ميں ماسٹر خواجہ سرا شانی نے نوکری نہ ملنے پر کوئی غلط راستہ اختیار نہیں کیا ناں خود کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑا، شانی نے ملتان میں چھوٹا سا ہوٹل بنا کر خودداری کی شاندار روایت کی بنیاد رکھ کر اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ خواجہ سرا کُچھ نہیں کر سکتے شانی کےہوٹل کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کام کرنے والے تمام افراد خواجہ سرا ہیں جو پہلے بھیک مانگ کر یا ناچ گانے سے اپنی گزر بسر کرتے تھے اسی طرح 2020 میں پی ٹی آئی حکومت کی ایک اور بہترین کاوش ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی خواجہ سرا کو محکمہ پولیس راولپنڈی میں تعینات کیا گیا
    ریم شریف نامی خواجہ سرا کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد محکمہ پولیس میں شامل کیاگیا تھا ۔خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے سرگرم رہنے والی اور پولیس میں بھرتی ہونے والی ریم شریف کا اسکیل 14 ہے اور اسکی تنخواہ اس کے اسکیل کے مطابق ہے
    بی آئی ایس پی بورڈ کے 50ویں اجلاس کا اسلام آباد میں انعقاد
    اجلاس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ جن میں سے اہم فیصلہ بورڈ کی طرف سے تمام خواجہ سراوں کو احساس کفالت پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دینے کا ہے آہستہ آہستہ ہی صحیح ہم خواجہ سراوں کو انسان سمجھنے لگ گئے ہیں خدارا انسان کو انسان سمجھ کر عزت دیں ہم اس بات پر زرا برابر اختیار بھی نہیں رکھتے کوئی کالا ہے تو گورا کیوں نہیں کوئی چھوٹا قد رکھتا لمبا کیوں نہیں کوئی پتلا کیوں ہے موٹا کیوں ہے یہ مرد نہیں عورت نہیں تو کیا ہوا انسان تو ہے تو جب رب کریم کے محبوب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے حجتہ الوداع میں فرمایا
    "اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تم ایک باپ کی اولاد ہو لہذا
    کسی عربی کو کسی عجمی پر
    اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اِسی طرح کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر
    کوئی فضیلیت حاصل نہیں
    فضیلیت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ اور پرہیز گاری ہے”۔

    @AmUsamaCh

  • عید ِقرباں پہ انا کی قربانی  تحریر: محمد اسعد لعل

    عید ِقرباں پہ انا کی قربانی تحریر: محمد اسعد لعل

    مسلمان ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں۔ ایک عیدالفطر جو کہ یکم شوال کو مناتے ہیں اور دوسری عید الاضحیٰ جسے عید قربان بھی کہا جاتا ہے، دس ذی الحجہ کو مناتے ہیں۔ عید الاضحیٰ کے موقع پہ مسلمان حضرت ابراہیم کی سنت ادا کرتے ہوئے حلال جانور قربان کرتے ہیں، اسی کو قربانی کہتے ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے تھے۔ قرآن نے انہیں صادق الوعد کا لقب دیا۔ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا اباجان جو کچھ آپ کو حکم ہوا کر ڈالئے آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
    قربان جائیں اس پیغمبر زادے کی ایمانی عظمتوں پر جنہوں نے باپ کے خواب کو اللہ کا حکم سمجھتے ہوئے سر تسلیم خم کر کے تاریخ انسانیت میں ذبیح اللہ کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔
    جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے لیے لٹایا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا، اے ابراہیم (کیا خوب) تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔
    آسمان سے ایک مینڈھا آتا ہے اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کو ذبح کرتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے ابراہیم! تمہاری قربانی قبول ہوگئی۔ ہم نے اسماعیل کی ذبح کو ’’ایک عظیم ذبح،، کے ساتھ فدیہ کر دیا۔بے شک باپ کا بیٹے کے ذبح کے لئے تیار ہوجانایہ ایک بڑی صریح آزمائش تھی ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آزمائش میں پورا اترے۔
    اب ذہن انسانی میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو بچانا ہی مقصود تھا تو پھر ان کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم کیوں ہوا؟ اور اگر حکم ہوا تھا تو ان کی زندگی کو تحفظ کیوں دیا گیا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
    حکم اس لئے ہوا کہ سراپائے ایثار و قربانی پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لخت جگر سے ذبح کی تاریخ کی ابتدا ہوجائے کہ راہ حق میں قربانیاں دینے کا آغاز انبیاء کی سنت ہے اور بچا اس لئے گیا کہ اس عظیم پیغمبر کی نسل پاک میں نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہونا تھی۔ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تشریف لانا تھا اس لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذبح کو جنت سے لائے گئے مینڈھے کی قربانی کی صورت میں’’عظیم ذبح،، کے ساتھ بدل دیا گیا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام محفوظ و مامون رہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اسی قربانی کی یاد میں ہر سال مسلمان عید الاضحیٰ مناتے ہیں اور جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔
    سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا عید الاضحیٰ پرصرف جانور کو ذبح کر دینے سے قربانی کا مقصد پورا ہو جاتا ہے؟
    عید ِقرباں کے موقعے پر اپنے اندر کے جانور(انا) کو بھی قربان کرنا چاہے۔ عید کے مقدس تہوار پر انسان ’’انا ‘‘ کی قربانی بھی کر لے تو قربانی کی حقیقی روح کو پا سکتا ہے۔عید قرباں کا مقصد بھی یہ ہے کہ جانور کی قربانی کے ساتھ اپنی خواہشات و انانیت کو قربان کیا جائے۔ عید کا یہ دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کے توسط سے ہم اپنی ذاتی رنجشوں، ناراضگیوں اور ایک دوسرے کی غلطیوں وخامیوں کو نظر انداز کرکے کھلے دل سے ایک دوسرے کوگلے لگا لیں۔ اگر انسان اس مبارک موقعے پر’’انا‘‘ کی قربانی کر لے تو نہ صرف بہت سی مشکلات سے چھٹکارہ پا سکتا ہے، بلکہ خدا کی بہت قربت بھی حاصل کرسکتا ہے،کیونکہ یہ ’’انا‘‘ ہی بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔اس کی وجہ سے انسان کی زندگی دوبھر ہوجاتی ہے۔بہت سے رشتے ’’انا ‘‘ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
    آج ہمارا معاشرہ آپس میں اختلافات، تعصبات اور افرا تفری اور انتشارکا شکار ہے، اپنے علاوہ کوئی کسی دوسرے کی بات تک کو تحمل وبرداشت سے سننا نہیں چاہتا۔اس کا واحد سبب ہمارے نفس کی سرکشی ہے اور یہ تہوار ہمیں اپنے نفس کو دوسروں کے لیے قربانی دینے کا درس دیتا ہے۔ عید الاضحیٰ ہمیں آپس میں پیارومحبت اور اتحاد ویکجہتی کے ساتھ رہنے کا درس دیتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ سب ایک دوسرے کے حقوق کی پاس داری کریں اور اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔
    دوسروں کو بھی آپس کے اختلافات اور نفرتوں کو بھلانے کا درس دیں اور ایسا معاشرہ تشکیل دیں، جس کا تقاضا ہمارا دین کرتا ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائیں۔(امین)
    پاکستان زندہ آباد۔
    @iamAsadLal

  • تاخیر کی شادی اور مسائل تحریر: مجاہد حسین

    تاخیر کی شادی اور مسائل تحریر: مجاہد حسین

    موجودہ دور کی نوجوان نسل میں تاخیر سے شادی کرنے کا رجحان اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب اسے فیشن گردانا جانے لگا ہے۔ اس سب میں بالعموم ہمارا معاشرہ اور بالخصوص والدین قصور وار ہیں۔ یہ والدین کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے بلوغت کو پہچتے ہیں ان کے لئے مناسب رشتہ تلاش کر کے ان کی شادیاں کر دیں اور انہیں معاشرتی مسائل اور بے راہ روی سے محفوظ بنا لیں۔

    تاخیر سے شادی کرنے کی ہمارے معاشرے میں بہت سے وجوہات ہیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ کوئی اوسط طبقے کا خاندان اس کے خرچے اٹھانے سے پہلے سو بار سوچتا ہے۔ نکاح جیسے بہترین عمل، جسے ہمارے نبی ﷺ نے نہایت آسان اور سادہ بنایا تھا، اسے ہمارے فیشن، مقابلے بازی اور انا نے انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگے مہنگے جہیز بھی نکاح میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں۔ والدین اپنی زندگی بھر کی کمائی لگا کر بھی اپنی بیٹیوں کا نکاح نہیں کر پاتے صرف اس وجہ سے کہ بیٹی کو سسرالیوں یا محلے والوں کی باتیں نہ سننی پڑیں جس کے باعث ہزاروں بچیاں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں یا پھر بے راہ روی میں پڑ کر اپنے آپ کو خراب کر لیتی ہیں۔ کئی نوجوانوں سے جب پوچھا جاتا ہے تو وہ اچھی نوکری، اچھے گھر، اچھی گاڑی وغیرہ کے بہانے بنا کر شادی کو ٹال دیتے ہیں اور اپنی فطرتی ضروریات پوری کرنے کے لئے "گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ” کلچر کا حصہ بن کر اپنی جوانی تباہ کر لیتے ہیں۔ پھر اگر ان کی شادی ہو بھی جائے تو جوانی کی لگی عادتیں انہیں بیوی تک محدود نہیں رہنے دیتیں جس کے نتیجے میں گھر برباد ہو جاتے ہیں۔
    کئی سرویز کے مطابق پاکستان میں غیر شادی شدہ مرد و زن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ اب شادی کی عمر میں شادیاں نہیں کر پا رہے اس اس کے کئی نقصانات ہیں جن میں سر فہرست بانجھ پن ہے۔ اور بانجھ پن مرد اور عورت دونوں میں ہو سکتا ہے۔ جب بڑی عمر میں شادی کے بعد کافی عرصہ تک بچہ پیدا نہ ہو تو شادیاں ناکام ہو جاتی ہیں۔
    موجودہ دور میں جب عریانی اور فحاشی ٹی وی کے ذریعے ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے تو نوجون لڑکوں اور لڑکیوں کے بلوغت میں پہچتے ہیں ان کے جذبات اور خواہشات تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ اگر ان کی بر وقت شادی نہ کی جائے تو معاشرے میں بہت خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اور نوجون لڑکے اور لڑکیاں اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے غیر انسانی، غیر اسلام اور غیر فطری کاموں کے اندھے گڑھوں میں گر جاتے ہیں۔ اس لئے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق بچوں کے بلوغت میں پہنچتے ہیں اچھے رشتے ڈھونڈ کر ان کی شادی کر دینا ہی بہتر حل ہے۔
    نکاح کی ان پیچیدگیوں سے معاشرے کو پاک کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر اس نیک کام کو پیدا کردہ خرابیوں جیسے فضول خرچی، ڈانس پارٹیز، فنکشنز، میوزک کنسرٹس، جہیز اور غیر ضروری غیر اسلامی رسموں سے آزاد کروانا ہوگا۔ صرف اور صرف تب ہی نکاح کو نبی ﷺ کی سنت کے مطابق بروقت سادگی سے انجام دے کر اپنے بچوں کو بے راہ روی سے اور ہمارے معاشرے کو برائی اور خرابی سے بچایا جا سکتا ہے۔

    @Being_Faani

  • خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    اللّہ تعالٰی نے ہر انسان کو مختلف نعمتوں سے نوازا ہے
    جو چیز ایک انسان کے پاس ہے کافی حد تک ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے پاس نہ ہو اور اسی بات سے اللّہ آزماتا ہے کہ کیا میری عطا کی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا جو چیز نہیں ملی ابھی اس کی خواہش میں ملی ہوئی نعمتوں کی ناشکری
    ویسے ہم اپنے اعمال کا طخمینہ لگائیں تو ہماری نعمتیں اس سے کہیں بڑھ کر ہیں جنکے ہم قابل بھی نہیں تھے
    ایک بزرگ نے بہت گہری بات کی، کہتے ہیں کہ اگر اللّہ نے ہمیں کسی نعمت سے نوازہ ہے تو ضروری نہیں اسکا ذکر سب کے سامنے کرتے رہو۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ ناشکری میں آئے گا بلکہ اسکہ شکر تنہائی میں اللّہ سے کرو کیونکہ اسکا صلہ بھی اسی نے دینا ہے
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نعمت کو چھپایا جائے تو اس بات کو انہوں نے ایسے واضح کیا کہ فرض کرو جو نعمت تمہارے پاس ہے اور تم اسکا ذکر کسی ایسے انسان کے سامنے کرو جسکے پاس وہ نہ ہو اور اسے اسکی ضرورت بھی محسوس ہو رہی ہو تو اسکا دل دکھے گا اور ہوسکتا وہ اللّہ سے شکوہ بھی کر بیٹھے تو اللّہ اس کے بدلے تم سے وہ نعمت چھین لے
    اس لئے بہتر ہے نعمتوں کا ذکر یوں نہ کیا جائے کہ دوسرے انسان کو تکلیف ہو اس نعمت کے نہ ہونے سے کیونکہ بیشک یہ اللّہ کے بس میں ہے کس کو پہلے نوازنا ہے اور کس بعد میں۔

    Twitter id @AtiqPTI_1