Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں  تحریر : مسکان اشرف

    کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں تحریر : مسکان اشرف

    لفظ منافقت سے ہم سب واقف ہیں ۔
    منافقت کرنے والا منافق کہلاتا ہے ۔ اب منافقت کیا ہوتی ہے اس سوال کا جواب بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں کیونکہ ہمارے پیارے مذہب اسلام نے منافق اور منافقت کی واضح نشانیاں دیں ہیں جو چمکتے سورج کی طرح عیاں ہیں ۔ منافق کی سب سے بڑی نشانی یہ ہیں کہ وہ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہوتا ہے ۔ باالفاظ دیگر منافق کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ۔ انسان فطری طور پر گویا ہوتا ہے اور اللہ رب العزت نے اسے زبان دی ہے جس کی مدد سے وہ بولتا رہتا ہے ۔ بولتے بولتے اس کی زبان سے مختلف لہجوں میں الفاظ کی صورت میں باتیں نکلتی ہیں ۔ یہ باتیں دیگر انسان پرکھتے ہیں، جانچتے ہیں، تولتے ہیں، حتی کے چکتے بھی ہیں بعد ازاں ان ہی باتوں کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد اس انسان کے حوالے سے رائے قائم کی جاتی ہے کہ بولنے والا کیسا انسان ہے ۔ کیا اس کا قول ، فعل سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ۔ اگر رکھتا ہے تو ٹھیک، نہیں رکھتا تو منافق ٹھہرتا ہے ۔
    آئیں !!!! اب اسی فارمولے کو خود پہ آزماتے ہیں ۔ روزمرہ زندگی میں ہمارے قول و فعل میں کتنا تضاد ہوتا ہے ؟؟؟ کیا ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں؟؟؟؟ کیا رسماً، عادتاََ اور مجبوراً ہمارے قول و فعل ایک دوسرے کے برعکس نہیں ہوتے؟؟؟
    ایک دن میں ہم جتنے متعلقین سے ملتے ہیں اور ان سے ہم کلام ہوتے ہیں تو خدا کو گواہ بنا کر خود ہی کو جواب دیجیے کہ کیا ہم اُن سے ملتے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے، اُن کے ساتھ بیٹھتے ہوئے یا کھاتے ہوئے منافقت کرتے ہیں یا نہیں ؟؟؟ ہم باتوں ہی باتوں میں ان کو ورغلاتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ جس بات میں ہمارا نفع اور فائدہ نہ ہو اس بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ کیا پورے مہینے میں ہم کوئی ایسا کام نہیں کرتے کہ جس کام کے بارے میں ہمارا قول کچھ اور ہمارا فعل کچھ اور ہو ؟؟؟ جس بات کو کرنے سے ہماری شخصیت سنورتی ہے خواہ وہ جھوٹ کیوں نہ ہو اور حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو، کیا ایسی باتیں ہم کرتے ہیں یا نہیں ؟؟ ہم دوسروں کی بیگار (مدد) سے جان چھڑوانے کے لیے بے دریغ جھوٹ بولتے ہیں یا نہیں؟؟ کیا ہم اپنے ہی جگریوں کو دھوکہ دیتے ہیں یا نہیں؟؟؟؟ اگر ان جیسے اور درجنوں سوالات کا جواب آپ کا "نہیں” میں ہے تو پھر تو آپ فرشتہ ہیں لیکن اگر آپ کا جواب ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہاں میں ہے تو پھر تو آپ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔
    میرے اندازے کے مطابق پڑھنے والوں میں اکثریت کے جواب کا تعلق "ہاں” سے ہے تو پھر تو مبارک ہو کیونکہ پھر تو "واقعی میں ہم سب منافق ہیں ”

    معذرت
    Twitter @IamBlackninaj05

  • قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    قربانی…!!! . تحریر : محمد اسامہ

    الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر وله الحمد الله اكبر كبيرا والحمد كثيرا واسبحان الله بكرة وأصيلا

    کچھ ممالک میں کل عید الاضحٰی منائی گئی تھی اور کچھ ممالک میں آج عید الاضحٰی منائی جارہی ہے. اس عید کا صرف ایک ہی پیغام ہے.

    "قربانی”

    بظاہر تو ہم جانور اللّٰه کی راہ میں قربان کرتے ہیں. ان کا خون بہا کرتے ہیں. ان کا گوشت تقسیم کرتے ہیں. دعوتیں کی جاتی ہیں. غرباء و مساکین کو بھی خوشیوں میں شامل کیا جاتا ہے.

    قربانی، انا کی، رویوں کی، حق پر ہوتے ہوئے پہل کرنے کی، ناراضگی کو دور کرنے کی اور ہر اس چیز کی جس سے محبت اور ایثار کا بول بالا ہو.
    جانوروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کی قربانی بھی دی جائے تو قربانی کا مقصد پورا ہوجاتا ہے.

    الله ہمیں توفیق عطا فرمائے. آمین.

    تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال
    عید الاضحٰی🐑 مبارك

    @its_usamaislam

  • اولاد کی تعلیم و تربیت . تحریر : محمد وقار

    اولاد کی تعلیم و تربیت . تحریر : محمد وقار

    اولاد قدرت کا انمول تحفہ ہوتی ہے. جب اللہ اس نعمت سے نواز دے تو پھر اس کی پرورش کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کی ایک بھاری ذمہ داری بھی والدین پر عائد ہوتی ہے.اپنے بچوں پرورش و پرداخت کے لیے ماں باپ سے جو بن پڑتا ہے وہ کرتے ہیں. لیکن انجانے میں والدین سے اولاد کی تربیت کے حوالے سے بہت کوتاہیاں ہو جاتی ہیں.
    .اس ضمن میں سب سے پہلی غلطی ہے بے جا لاڈ پیار… تمام والدین کو اپنی اولاد عزیز از جان ہوتی ہے لیکن بچے کی ہر بات پر لبیک کہنا کوئی عقلمندی نہیں. بچے کو دل پسند چیزوں کی عدم دستیابی پر چپ رہنا سکھانا ہوگا…. موجود اشیا پر شکرگزاری کی عادت ڈالنی ہو گی.
    بے جا ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک بھی بچے کی شخصیت کو تباہ کر دیتی ہے. اس سے بچہ ضدی ہو جاتا ہے.. بچے میں اخلاقیات منتقل کرنے لیے آپ کا اپنا اخلاقی ہونا بہت ضروری ہے… مار دھاڑ، غصے اور چڑچڑے پن سے تمیز سکھانا امرِ محال ہے.
    جب بچہ سکول جانے لگتا ہے تو والدین اس پر پڑھائی بہت زیادہ بوجھ ڈال دیتے ہیں اور کھیل کود کے لیے وقت بچتا ہی نہیں، بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما کے لیے کھیل اور ورزش بہت ضروری ہے.

    اکثر والدین تعلیم پر بہت توجہ دیتے ہیں جبکہ تربیتی پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں..تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن تربیت بچے کی شخصیت کو چار چاند لگاتی ہے.. اور اچھی تربیت کا سب سے بہترین اور آسان طریقہ یہ ہے کہ جو اوصاف آپ اپنے بچے کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں وہ اپنے اندر بھی پیدا کر لیں اور جو کام پسندیدہ نہیں ہیں ان اعمال سے خود کو بھی پاک رکھیں. کیونکہ بچہ وہ نہیں سیکھتا جو آپ سکھاتے ہیں بلکہ بچہ وہی سیکھتا ہے جو آپ کرتے ہیں.

    بچہ جب لاڈ پیار سے بگڑ جاتا ہےتو اس سے جان چھڑانے کے لیے اس کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جاتا ہے جو کہ مزید تباہ کن ثابت ہوتا ہے… والدین کو چاہیے کہ بچے کو وقت دیں اور ایک دوستانہ ماحول میں ان سے گفتگو کریں تا کہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہو بچے کو سکول بھیجتے وقت یہ تا کید مت کریں کہ اپنا لنچ کسی کوبھی مت دینا بلکہ بچے کے بیگ میں ایک اضافی لنچ بھی بھیج دیں اور اسے یہ بتائیں کہ جو بچہ لنچ گھر بھول آیا ہو یہ آپ اسے دیں گے اور اس سلسلے میں اس بات کی بھی تربیت ضروری ہے کہ بچہ لنچ شیئر کرتے وقت ایسے الفاظ کا استعمال نہ کرے کہ جس سے دوسرے بچے کی عزتِ نفس مجروح ہو دنیاوی تعلیم اور کامیابی کے لیے والدین ہر وقت متفکر نظر آتے ہیں جبکہ دینی تعلیم اور اخروی نجات کی سوچ خال خال ہی نظر آتی ہے. بچوں میں دین کی فکر پیدا کرنا ہی اصل کامیابی ہے.

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کو دین و دنیا کے حقیقی مدارج سکھائیں اور انہیں محبِ وطن شہری اور اچھا مسلمان بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں..

    waqarkhan104@

  • کامیابی کا راز . تحریر : صائم مصطفیٰ

    کامیابی کا راز . تحریر : صائم مصطفیٰ

    ہم نے بچپن میں ایک مکڑی کی کہانی سنی ہوئی ہے جو جال بنتی ہے لیکن بار بار ناکام ہونے کے بعد بھی اپنی کوشش جاری رکھتی ہے اور آخر کار کامیاب ہو جاتی ہے ۔اسکی یہ کوشش سکھاتی ہے کہ جب تک مطلوبہ ہدف نہ حاصل کر لیں تب تک محنت اور لگن کو روکنا نہیں چاہیے ۔

    "If you stop learning, failure is your destiny”
    ہار کسی بھی چیز میں ہو یا کسی بھی حالات میں ، جیتنے کی لگن ہمیشہ دل میں رکھنی چاہیے ۔
    آپ تب ہارتے ہیں جب کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہو

    ایسے حالات میں ہمیشہ ذہن سازی اور مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے. ان ہارے ہوئے لوگوں کو غیر صحت مند مقابلوں میں جانے سے روکا جانا چاہیے۔
    مزید برآں، انہیں ایسے ٹاک شوز دیکھنے کے پابند بنایا جانا چاہئے جو اس بات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں کہ ناکامی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح ان کے لئے ہمت نہ ہارنے اور کوشش کو ترک نہ کرنے کے بارے آگاہی ہونی چاہیے اور ایسے طریقے جو ناکامی پر قابو پانے کے لیے مفید ہوں ان کو بتانے چاہیے ۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ ناکامی سے اس وقت تک بچا نہیں جاسکتا جب تک کوئی کسی کام کو کرنے سے بالکل گریز نہ کرے۔

    مندرجہ ذیل تین طریقے ہیں جو آپ کو شکست کے درد کو کم کرنے
    اور دوبارہ کوشش شروع کرنے میں مدد کر سکتے ہیں اپنی خامیوں کو قبول کریں
    بالکل کامل ہونے کی کوشش کرنے کے بجائے (جو کبھی بھی حاصل نہیں ہوتا)، ہمیں خامیوں میں خوبصورتی تلاش کرنا شروع کرنی چاہئے۔ ہر ایک کی خامیاں ہیں لیکن کچھ لوگ ایسا دکھاوا کرتے ہیں جیسے وہ غلط نہیں ہیں کیونکہ وہ دوسروں کو مشکل وقت دینا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی مصیبتوں پر خوش ہوتے ہیں ۔ وہ دوسروں کو یہ سوچ دے کر معاشرے کے امن کو خراب کرتے ہیں کہ ان کی خامیاں کسی گناہ سے کم نہیں۔
    اگر کوئی شخص زندگی میں "کسی” کا خاص بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی خامیوں کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی کی خامیوں کو گلے لگانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے ان کے ساتھ رہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ٹھیک کرنے کی ہمت ہو۔ اسی طرح جب کوئی شخص ناکام ہوجاتا ہے تو وہ اپنے بے عیب نفس کو ملامت کرتا ہے اور کبھی اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتا۔ اپنی کمزوری پر کام کرنے سے وہ اپنی کمزوری کو قوت میں بدل دیتا ہے۔ ایک بار جب آپ اپنی خامیوں کا سامنا کرتے ہیں تو، آپ بڑھتے ہیں۔
    مثال کے طور پر اگر آپ سست لکھتے ہیں اور کسی کاغذ کو مکمل کرنے کے لیے مطلوبہ وقت آپ کی ضرورت کے وقت سے کم ہوتا ہے تو آپ کو اس سچائی کو قبول کرنا ہوگا جو آپ کو اپنی ہینڈ رائٹنگ کو تیز کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے بھاگو نہیں۔ کسی کے کمزور پہلو کا سامنا کرنے کی ہمت ان چیزوں کو ہونے دیتی ہے جس کا کسی نے کبھی تصور بھی کیا تھا۔
    ایک کہاوت ہے ہارتا وہی ہے جو کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ بہتر ہے۔ جب آپ اس سچائی کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں تو، آپ اپنے ارد گرد پرورش کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
    آپ مضبوط اور پراعتماد ہوجاتے ہیں اور اس طرح، کائنات وہ ساری کامیابی مہیا کرتی ہے جس کا آپ مقصد رکھتے ہیں

    2. ان لوگوں کی پرواہ مت کرو جو آپ کو Judge کرتے ہیں
    ایک چیز جو سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے اور وہ آپ کو کسی بھی کوشش کرنے سے روکتی ہے وہ لوگوں کی نظر ہے جو فیصلوں اور آراء سے بھرا ہوا ہے۔ آپ کو ان لوگوں کی پرواہ بالکل نہیں کرنی چاہیے جو آپ کی غلطیوں سے آپ کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیں ہماری ناکامی کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔

    زندگی کا خاتمہ۔ وہ نہیں جانتے کہ یہ ایک سیکھنے کا موقع تھا اور اس نے ذہن کے افق کو مزید نظریات کو گلے لگانے اور اس میں ضم کرنے کو وسیع کیا۔
    جب غلطی کی جاتی ہے تو قدرت ہمیں سدھرنے کا موقع دیتی ہے۔
    ایک دوسرا مختلف طریقہ یہ ہے۔ کہ وہ لوگ جو اپنا نکتہ نظر رکھتے ہیں اس کسوٹی پر دوسروں کی ناکامی کو پرکھتے ہیں اور آوازیں کستے ہیں ۔ آپ کے اعصاب پر ان کے خیالات اور آوازوں کا اثر نہیں جانا چاہئیے بلکہ جذبات پر قابو رکھنا اور سیکھنا چاہئے۔ جب اس طرح کے لوگ تبصرے پاس، یہ آپ کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ان کی تنگ نظر، عدم تحفظ اور حدود کے بارے میں ہے۔ ان کی سوچ صرف اس تک پہنچ جاتی ہے کہ آپ کس طرح ناکام ہوئے۔ لیکن، وہ کبھی نہیں سوچ سکتے کہ آپ کتنا اچھا اور بہتر کرسکتے ہیں اور آپ کریں گے۔ کبھی کبھی، لوگ اپنی ناکامی کے مایوس کن جذبات پر قابو پا لیتے ہیں، لیکن دوسروں کے دماغ وہاں پھنس جاتے ہیں۔ وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ترقی ناکامی کے بغیر ممکن نہیں۔ زندگی میں کامیابی یہ سیکھنے کا مطالبہ کرتی ہے کہ وہ لوگ جو فیصلہ کرتے ہیں وہ حیرت انگیز کام کر گزرنے کی صلاحیت نہیں دیکھ سکتے ہیں۔

    وہ لوگ جو آپ کو قابل سمجھتے ہیں، آپ کو اپنی تنگ نظری کی کسوٹی پر نہیں پرکھتے۔
    اس وجہ سے آپ کی صلاحیتوں پر شک کرنے والوں سے جہاں تک ممکن ہو قائم رہنا ہی دانش مندی ہے۔ اپنے آپ کو ان مثبت ذہنیت رکھنے والے لوگوں کے ساتھ جوڑ لیں جو ہر بار آپ کو ناکام محسوس نہیں کراتے بلکہ اسے ترقی اور کامیابی کی طرف اپنے سفر میں ایک سنگ میل کے طور پر دیکھتے ہیں۔
    3. اپنے آپ کو حوصلہ افزائی کرنا کسی ناکامی اور ہارنے پر رونے کے بجائے آپ کو فوری طور پر اٹھنے اور اپنے محرک بننے کی ضرورت ہے۔یہ ایک بیوقوفانہ سوچ ہے کہ آپ کسی انسان کے انتظار میں ہیں جو آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو اس دلدل سے نکالے گا۔ آپ کو اس حقیقت پر اعتماد کرنا چاہئے کہ آپ اپنے لئے کافی ہیں۔

    اس سلسلے میں ایک بات جو واقعی کام کرتی ہے وہ یہ ہے کہ آرام دہ طریقے سے بیٹھ کر اپنے ساتھ ون ٹو ون گفتگو کی جائے۔ اپنے آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو جانتے ہیں، اور کوئی اور نہیں کرتا ہے۔ اب، جب آپ ناکام ہوگئے ہیں، تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کو کیا کام کرنے کی ضرورت ہے اور آپ کو کیا حوصلہ افزائی چاہیے . ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے
    ایک اور چیز جو آپ کو dustractions سے بچنے میں معاون ثابت ہو گی وہ یہ ہے کہ زہریلے لوگ، غیر متوازن خوراک ، غیر ضروری منفی باتیں اور زیادہ سوچنا ان تمام باتوں سے خود کو دور رکھا جائے ۔ آپ کو چاہیے آپ ہر وہ چیز چھوڑ دیں جو
    آپکی ہمت کو توڑتی ہے ۔

    Winston Churchill said,
    ” The pessimist sees difficulty in every opportunity ”

    جو کچھ گزر چکا ہے اس پر رونے کی بجائے، ایک دیانت دار اور وفادار جدوجہد اس سے بہتر پیدا کرسکتی ہے جو چھوٹ رہا ہے۔
    کامیابی اور ناکامی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ ایک کے حصول کے لیے دوسرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس وجہ سے ایک بابرکت اور اطمینان بخش زندگی کا راز اس حقیقت میں مضمر ہے کہ ہمیں ناکامی کو وقار کے ساتھ قبول کرنا چاہیے اور ہار ماننے کی بجائے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

    @saimmustafa9

  • خدا کی بستی اور ہم . ‏تحریر : سہیل احمد

    خدا کی بستی اور ہم . ‏تحریر : سہیل احمد

    عجیب سلسلہ چل پڑا ہے. کہاں کی بات کہاں تک آگئی. ہر دورمیں ایک مشترکہ لائعہ عمل اور مشاہدہ. ہر بشر کو گزرا زمانہ کیوں بہتر لگتا ہے. پرانی پیڑی والے اپنا رونا روتے ہیں. ایک تحقیق کے مطابق اںگریزوں کے پاس ایک سسٹم موجود ہے زندگی گزارنے کا. اور اس کو تسلیم کرکے ہنسی خوشی نظام کا حصہ بھی رہتے ہیں . لیکن عمر کی آخری حد تک ان کو بھی اگر کوئی خوف ہوتا ہے تو وہ ہے موت کا ڈر. پاکستان میں ہر بندہ نواب . جبکہ اسکولوں تعلیم یوں پڑھائی جاتی ہے کہ ہاتھ سے کمانے والا اللہ کا دوست. میرا ماننا ہے کہ تعلیم اور روزگار میں دوہرا معیار کس لیے. کیوں بچوں کو سہانا خواب دکھانے پر ترجیح دی جاتی ہے. 16 سال پڑھائی کرنے والا کم تعلیم یافتہ سیٹھ کے نیچے کیوں جاب مانگنے کیلیے سفارش ڈھونڈتا ہے.دوسری تحقیق کے مطابق شہر کی زندگی میں سرکاری نوکری کیلیے گاوں کے لوگوں کی بھرمار کیوں.

    عرف عام میں مشہور ہے کہ سرکاری ادارے صبح 8 بجے سے 2 بجے تک ناں کام کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں اور کام کرنے کی رشوت.
    غلط زرائع سے پیسا کماکر اللہ کی راہ پر خرچ کرنا کہاں کی منطق. ہم کس گلی سے نکلے اور کس طرف چل دیئے. فیصل آباد کا ایک مشہور جھول وہ بھی سرکاری ادارے میں .ہوا کچھ یوں کہ کافی سال پہلے نواز شریف کی گورنمنٹ میں رانا ثناءاللہ خان کے عہد میں چیف فوڈ انسپکٹر جناب صاحب کو پروموٹ کیا.

    نیچے پوری ٹیم دی گئی.پورے علاقے میں شور ڈالا گیا تاکہ جناب آفیسر صاحب کا کشکا اور رعب ڈالا جائے اور رشوت کے ریٹ کا تعین کیا جائے .نیچے کیش ریکوری کیلیے نام نہاد کرتے دھرتے بھی دیئے گئے. اور انکے ہاتھ میں ایک عام کمپیوٹر سے پرنٹ کروایا ہوا کھاتا بھی تھما دیا گیا جہاں جہاں جوان جاتے کاغذ دکھاتے اور روکڑا وصول کرکے صاحب نامدار اور خود بھی رکھتے. سننے میں آیا تھا کہ صاحب نامدار کی بیٹیاں بھی ڈاکٹر بن رہی تھیں . اور بہت بڑے بنگلے میں بھی رہائش پزیر تھے. پھر ایک دن وہی ہوا جس کا خطرہ لاحق تھا ات خدا دا ویرپوری ٹیم کے پیچھے کچھ رپورٹس موصول ہوئیں اور ٹیم کو لائن حاضر کر لیا گیا.انکوائری کے مطابق جناب آفسر صاحب میونسپل کارپوریشن میں ماشقی (پانی سپلائی کرنے والے) بھرتی ہوئے تھے پھر منظور نظر ہونے کے ان کو پروموٹ کیا گیا وہ بھی وہاں جہاں اوپر زکر کر دیا گیا .

    بالآخر مراعات .پروٹوکول.ہر چیز پر پانی پھر گیا. اپنے مفادات کیلیے آنکھوں پر پٹی باندھنا کیوں ضروری. ہر ایک نے اپنا فتوئ اپنی جیب میں فوٹو کاپی کروا کر رکھ لیا ہے مثال کی بنیاد یہ ہے کہ ہم اپنا احتساب کیوں نہیں کرنا چاہتے ہماری پیدائش پر تو شروعات اللہ رسول کے نام پر کی جاتی ہے حتئ کہ نام رکھنے پر بھی اور آزان بھی دی جاتی ہے. کیا ہمارے مسلمان ہونے کا تقاضا 7 سال تک کی عمر تک متعین ہے. ایک بات تو طے ہے کہ پریشانی میں خدا زیادہ یاد آتا ہے.
    لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت آجکل گھروں میں بچوں کے ہاتھ میں مسلسل موبائل چلانے کے اثرات سے ہم کیوں غافل ہو چکے ہیں کیا ہم نہیں جانتے کہ آنے والی نسلوں کو ہم سوشل میڈیا پر سہانے خواب دکھا ریے ہیں جبکہ پریکٹیکل لائف بہت مختلف ہوتی ہے. کیا ہم انکے ساتھ انصاف کر پا رہے ہیں کیا ہم انہیں بہتر مستقبل کی جانب گامزن کر پائیں گے جبکہ ہمارے اسکول کاروبار بن چکے ہیں . لاکھوں روپیہ کمانے کے بعد بھی گھروں میں بے سکونی کی کیفیت کیوں جی.
    لوگ پیسا دیکھتے ہیں سورس نہیں دیکھتے بس چڑھتے سورج کو سلام بیٹی کی شادی کیلیے داماد کے ماتھے پر محراب اور مال دولت کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جاتا ہے

    جبکہ بیٹے کی شادی پر جہیز میں ہنڈا سوک ہوجائے تو کوئی مضائکہ نہیں .الفاظ میں وزن بس یونہی . کہ زندگی تو انہوں نے گزارنی ہے
    پھر تو کون تے میں کون .روز گھروں میں طعنوں کا تڑکا اور الزامات کی دال پکتی رہتی.سمجھ سے باہر کہ قصور وار کس کو کہوں
    معاشرے کو, خود کو.حکومت کو, ایسا لگتا ہے کہاب تو گھبرا کے کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کہ بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے.

    ‎@iSohailCh

  • پاکستانیوں کے جذبات کا دوہرہ میعار .  تحریر: صالح ساحل

    پاکستانیوں کے جذبات کا دوہرہ میعار . تحریر: صالح ساحل

    گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر اس لڑکے کی ویڈیو وائرل ہوئ جس میں دیکھا گیا کے جج نے اس کو چوبیس سال کی عمر قید سنائی دل میں تجس ہوا کے معلوم کریں کے جس کے لیے پاکستان کی عوام رو رہی ہے کون ہے کیا جرم کیا پتہ کرنے پر معلوم ہوا جناب کا نام کیمرون ہے اور امریکہ کا شہری ہے جناب نے پارٹی سے واپسی پر ریس لگاتے ہوئے ایک ماں اور بچی کو کچل کر مار دیا جس کے جرم میں اس کو چوبیس سال کی قید ہوئ اس سے پہلے بھی اس کو کی دفعہ وارننگ دی جا چکی تھی سزا قانون کے مطابق دی گی مگر کسی امریکی شہری نے مجرم کے ساتھ ہمداری نہیں کی مگر جب پاکستان میں یہ خبر آئ تو ایک طوفان بد تمیزی شروع ہو گیا اس کی خوب صورتی کی وجہ سے اچانک لڑکیوں کے دلوں میں رحم پیدا ہو گیا لڑکے رقیق القلب بن گے اور رونے دھونے کا سماں سوشل میڈیا پر شروع ہوگیا تب مجھے اس بات پر یقین ہو گیا کے یہ قوم واقعی خود انصاف پسند نہیں اس قوم کو امریکہ میں پچھلے سال مرنے والے کالے نظر نہیں آئے اس قوم کو عافیہ صدیقی نظر نا آئ ان کو فلسطین میں مرنے والے نظر نا آئے غرض یہ کے دنیا میں روانہ کتنے کالے اور کم خوب صورت لوگ بے گناہ مر رہے کوئ فکر نہیں لیکن جب ایک خوب صورت کی بات آئ تو انصاف کے پیمانے بدل گیا سب سے پہلے اس قوم کو اپنے آپ کو انصاف کا قائل کرنا ہو گا دوہرا میعار رکھ کر انصاف کا سوچ ایک دیوانے کا خواب ہے جو دیکھتے رہو.

    @painandsimle334

  • شعور ہمارا مفادات،دولت اور شہرت  تحریر: راجہ ارشد

    شعور ہمارا مفادات،دولت اور شہرت تحریر: راجہ ارشد

    یہ دنیا بڑی ظالم ہے
    دنیا کا اصول ہے یہاں جو بولتا ہے اسے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔
    زور بازو کے ذریعے اس آواز کو دبا دیا جاتا ہے حق پر ڈٹ جانے والے یا تو مار دیئے جاتے ہیں یا پھر ان کو قید کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہی آواز زیادہ گونجتی اور اثر رکھتی ہے جو آواز مظلوم طبقے کے لئے ظالم کے خلاف بلند کی جاتی ہے۔

    اس سماج میں رہنے والا ہر طاقتور جب اپنی رعایا پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے تو ہمیشہ اس کے خلاف اعلان بغاوت ہوتا ہے لیکن میرا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں آواز بلند کرنے کی جرات نہیں ہے بولنے والا ہو یا پھر لکھنے والا مفادات کے سامنے اپنے ضمیر اپنے قلم اور الفاظ کا سوداگر بن جاتا ہے تاریخ کے اوراق میں جتنے بھی ظالم کو للکارنے والے اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے

    ان کی زندگیوں کو موت سے بھی مشکل بنا دیا گیا تھا دور حاضر میں شاید یہ جرات کسی کی نہیں لکھنے والے ہاتھ کانپتے ہیں تو بولنے والی زبان لڑکھڑا جاتی ہے لیکن یہ جہاد ہے کہ آپ اپنے قلم کی طاقت سے جب وقت کے خدائوں کو للکارتے ہیں تو ان کے محلات کی دیواریں بھی کانپ جاتی ہیں۔

    لیکن یاد رکھیں اس طاقت سے آپ کسی بھی معاشرے کے اندر انقلاب برپا نہیں کر سکتے میری قوم کی سوچ کو نہیں بدل سکتے کیونکہ ہماری ترجیحات میں نظام کی تبدیلی اور اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کا شعور ہی نہیں ہے ہمیں اپنے مفادات دولت اور شہرت کے لالچ سے فرصت نہیں ہے ہم خود پرسکون رہنا چاہتے ہیں اپنے ارد گرد سے بے خبر ہو کر اپنی ذات کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

    جب ظلم کی دیواروں کو گرانے کے لئے کوئی آواز کہیں دور سے گونجتی ہے تو بجائے ہم اس آواز کو روشنی کی پہلی کرن سمجھیں اسے اندھیروں میں ہی ڈبو دینے کے لیے ہر طاقتور کا بازو بن جاتے ہیں

    او آج ہم عہد کریں ہمیں ہر ظلم کا جواب اپنی بھرپور طاقت سے دینا ہے کیونکہ ہم آزاد ہیں کسی حاکم کے غلام نہیں ہیں ہم آزاد قوم ہیں دنیا کی کسی سپرپاور کے سامنے بے بس اور مجبور نہیں ہیں

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دیں ۔ آمین

    @RajaArshad56

  • اے بنت حوا کی بیٹی سنبھل کے چل  تحریر ارشاد حسین

    اے بنت حوا کی بیٹی سنبھل کے چل تحریر ارشاد حسین

    افسوس سے کہنا پڑتا ہے سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تحریریں یا تصویریں بھی دکھائی دیتی ہیں دیکھنا اور پڑھنا بھی شرم آتی ہے ۔سوشل میڈیا عمومی تاثر یہ ہے کہ بس خود کو پوشیدہ رکھنا ہی کافی ہے۔۔ شخصیت کی پردہ داری بہت ہے۔۔اسکے بعد کھلی چھٹی ھے جو مرضی کہیں اور جیسی مرضی چاہیں پوسٹس لگائیں۔۔ دراصل بدقسمتی سے ہمارے ہاں حیا کا بہت عام اور سطحی پیمانہ صرف پردے اور ساتر لباس سے ہی مشروط سمجھا جاتا ہے جبکہ ” حیا” کے لغوی معنی وقار ، سنجیدگی اور متانت کے ہیں۔۔ حیا صرف اپنی شخصیت کو پردے میں ملفوف کرنے کا نام نہیں ہے۔۔ یہ گفتار میں بھی نظر آنی چاھیئے اور تحریر میں بھی اور اپنی پبلک پوسٹوں میں بھی یہی احتیاط ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے اکثر وبیشتر کتنی ہی ایسی پوسٹس نظر سے گزرتی ہیں جس میں نوعمر بچیاں جوکہ بظاہر خود کو پردہ دار اور باحجاب کہتی ہیں اپنی تحاریر میں اپنے مستقبل ، اپنی شادی اور اپنے ہونے والے شوہر سے متعلق اپنے بہت ہی ذاتی خیالات اور خواہشات بلاجھجھک شئیر کر دیتی ہیں ۔۔۔ سپنے دیکھنا غلط نہیں ہے لیکن ان سپنوں کی اپنی وال پہ اور خصوصاً پبلک پوسٹس میں یوں تشہیر ضرور معیوب ہے ۔۔ اور اس سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب ایسی پوسٹس پر دین کی علمبردار اور بہت سی سمجھدار خواتین بھی دعائیہ ، تعریفی اور ستائشی کمنٹس پاس کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔ کیوں نہیں اس خاتون یا بچی کی مناسب انداز میں اصلاح کی جاتی کہ آپ کے لیے حیا کے تقاضے پورے کرنا تحریر میں بھی اتنا ہی لازم ہے جتنا کے لباس میں ۔۔ یہ نجی نہیں بلکہ عوامی پلیٹ فارم ہے۔۔ ایسی پبلک پوسٹس لگا کر ہزاروں لوگوں کو متوجہ کرنا بہت نامناسب اور خطرناک عمل ہے ۔۔بلاوجہ کیوں لوگوں کی آتشِ شوق بھڑکائی جائے کبھی کوئی باحجاب خاتون اپنی پوسٹس میں اپنے "گمنام فالورز” کی جانب سے ملنے والے تحائف کی فخریہ تشہیر کر دیتیں ہیں۔۔یوں باقی فالورز کو بھی اس ‘نیکی’ کی ترغیب دلاتی ہیں کوئی سیر سپاٹوں پہ جانے کے لیے اپنے محرم کی تلاش میں دعائیں کر کر ہلکان ہیں پھر بہت سی باپردہ خواتین ایسی بھی ہیں کہ مختلف بولڈ موضوعات پہ انکے بے محابا کمنٹس حیران ہی کر دیتے ہیں۔۔۔ مرد حضرات کی وال پہ اگر کوئی گرما گرم موضوع ، سوشل ایشو چھڑا ہوا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ وہاں آستینیں چڑھا کر بے دھڑک کوئی بھی بیان جاری کرنے پہنچ جائیں۔۔۔بس کہیں بھی کچھ بھی کھل کے کہہ دو کہ کونسا ہم پہچان لی جائیں گی۔۔ کیونکہ بھئی نہ تو ہم یہاں دیگر خواتین کی طرح اپنی شکل دکھانے کی بےحیائی کرتے ہیں اور نہ ہی ہم یہاں اپنے اصل نام سے موجود ہیں۔۔ لہذا پردہ داری کی آڑ میں سب کہہ دو ۔۔ دھیان رکھیئے کہ یہ ” پاپا کی پرنسس ، بنت ، ام ، اخت ، اہلیہ ، مسز ، زوجہ ، سونو ، مونو اور دیگر سوشل میڈیا ناموں کی آئی ڈیز ہیں ” یہ سب بھی صنف نازک ہونے کے حوالے ہی ہیں ۔۔۔اور آپ یہاں بہرحال ایک خاتون کی حیثیت سے ہی موجود ہیں ان سب باتوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے ہماری خواتین اپنی صنف کی نمائندگی ہی نہ کریں سوشل میڈیا پر متحرک نہ ہوں۔۔۔ پتھر کے دور میں چلی جائیں اور اپنی شخصیت کو گمنام کرلیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔
    اپنا بھرپور کردار ادا کرنا اور اپنی موجودگی یا اپنی رائے کا اظہار بھی کرنا۔۔ اور اس طاقتور پلیٹ فارم سے مثبت چیزیں سیکھنے اور سکھانے کا عمل ضرور جاری رکھنا چاھیئے لیکن ہر قدم پہ احتیاط پسندی ، نپا تلا اور باوقار انداز اولین ترجیح ہونا چاھیئے ۔۔۔ خصوصاً پبلک پوسٹ سے کیسا پیغام جا رہا ہے یہ لحاظ رکھنا اور اپنی حدود متعین کرنا بہت ضروری ہے سارا قصور مردوں ہی پر نہ ڈالیئے۔۔کچھ تو خود بھی احتیاط کیجیئے۔۔ ورنہ پھر یہ رونے بھی مت رویئے کہ لوگ فضول سے کمنٹس کر دیتے ہیں ، انباکس اپروچ کرتے ہیں ، ہمیں پریشان کرتے ہیں۔۔
    صرف باپردہ ہونا ہی عفت مآب ہونے کی دلیل نہیں ہوا کرتا۔۔اور حیاداری صرف چہرے کا پردہ کرنے سے ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ ہمارے کمنٹس اور ہماری پوسٹس بھی انکی عکاس ہوتی ہیں۔۔
    تحریر ارشاد حسین
    twitter.com/ir_Pti
    @ir_Pti

  • عید قرباں کا مقصد اور پیغام تحریر : فہد ملک

    عید قرباں کا مقصد اور پیغام تحریر : فہد ملک

    اپنے اردگرد رہنے والے مسلمانوں بھائیوں کا خیال رکھیں۔اپنے اندر خلوصِ محبت، ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔
    کیونکہ عید قرباں کا مقصد ہی یہی ہے۔جس طرح حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی سب سے قیمتی چیز کو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنا کا فیصلہ کیا۔اور آزمائش پر پورا پورا اترے۔
    اس طرح ہم بھی اللّٰہ تعالٰی کے احکامات پر عمل کر کے اپنے رب تعالٰی کی رضاوقرب حاصل کر سکتے ہیں۔

    جس طرح حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اللّٰہ تعالٰی کے حکم کے سامنے اپنا سر جھکا دیا۔
    اسی طرح ہمیں بھظ چاہیئے کہ اپنے بچوں کو بھی اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کی پابندی کرنے کی تاکید کرتے رہے
    انہیں معاشرے میں بسنے والے دیگر افراد کے ساتھ حسن سلوک ہمدردی اور پیار سے پیش آنے کا درس دیں۔ ان کی خوشی غمی میں شریک ہونے اور ان کی خاطر اپنے جل کو قربان کرنے کا سبق دیاجائے
    ‏جانور کی قربانی تو محض ایک علامت ہے اصل قربانی تو یہ ہے کہ حکام الہی اور شرعیت کو پورا کیا جائے اپنی نفسانی اور دنیاوی خواہشات کو قربان کیا جائے اپنی سہولیات کو نظر انداز کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کا خیال رکھا جائے۔ اپنی ذات کو تقوی اورایثار کا پیکر بنایا جائے۔
    قربانی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس مقصد کیلئے قربانی ہو رہی ہو وہ مقصد ضرور پورا ہو اس مینث کسی بھی قسم کا ریاکاری یا دکھاوا نہ خا لص اللہ تعالٰی کی رضا کیلئے قربانی کی جائے
    نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    ترجمہ: "جس نے خوش دلی کے ساتھ طالب ثواب ہو کر قربانی کی اس کیلئے وہ قربانی آتش جہنم کئیلے حجاب بن جائے گی”

    نماز عید کی دعا میں کفار کے ظلم وبربریت کا شکار فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آزادی کیلئے دعا کریں اللّٰہ تعالٰی ان کی عزت و ابرو کی حفاظت فرمائے اور ان کے مسائل کو خیر برکت کے ساتھ فرمائے آمین
    کیونکہ قربانی کا ایک اہم مقصد یہی ہے اور یہی اسکا تقاضا ہے

    ‎@Malik_Fahad333

  • ددھیال  ننھیال اور ماں کا کردار  تحریر :  سیدہ ام حبیبہ

    ددھیال ننھیال اور ماں کا کردار تحریر : سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم آج میرا موضوع بہت حساس ہے. تنقید اور اصلاح کی گنجائش رکھتے ہوئے لکھوں گی.
    ہمارے معاشرے میں ماں کا کردار ناقابل فراموش ہے وہیں پہ. ددھیالی رشتوں کی سازشیں ، دشمنیاں، اور انتقام بھی زبان زد عام رہتے ہیں.
    اپنی زندگی کی سیکھ کے مطابق ایک مشاہدہ آپ سب کے سامنے رکھوں گی پھر فیصلہ آپ کا
    میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جس کو ایک بھرے خاندان میں رسم و رواج سے بیاہ کے لایا گیا پہلی بہو کے چاؤ لاڈ کے ساتھ ہی اس سے گھر کی ذمہ داریوں میں تعاون کی امید بھی رکھی گئی.
    پہلی اولاد کے پیدا ہوتے ہی ہر رشتے کو ایک نیا نام ملا، دادا دادی نانا نانی چچا پھوپھو خالہ
    ہر رشتے نے بڑھ چڑھ کے پیار جتایا.
    یہاں تک سب درست بات بگڑتی ہے ماں کے کردار سے اب اس کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے.
    وہ بچے کو سہلاتی بہلاتی ہی رشتوں میں بھید بھاؤ شروع کر دیتی ہے
    چندہ ماموں کی ہی مثال لے لیجیے
    خالہ جان اور پھوپھو پہ لطیفے ..
    جہاں تک میرا مشاہدہ ہے میں نے پھوپھو سے ذیادہ مخلص اور بے لوث محبت نہیں دیکھی بے وجہ …
    ایسا کیا ہوتا ہے کہ دھدھیالی رشتے بچوں کو سمجھدار ہوتے ہی کھلنے لگتے ہیں؟
    ماں کی دادی سے مڈبھیڑ ہوئی ہے مگر وہ اس کا اور ساس کا معاملہ ہے بچوں کو کیوں فریق بنایا گیا؟
    کیا انجانے میں بچوں سے بے لوث محبتیں چھیننے والی اپنی ماں ہی نہیں؟
    ایک جملہ اکثر مائیں کہتی ہیں تمہارے باپ نے مجھے دیا ہی کیا ہے …
    جواب اگر حقیقی ہو تو جوانی کے بہترین سال مشقت کر کے رازق بنا رہا سایہ بنا رہا اور کیا دیتا..
    ماں چاہے تو بچوں کو پھوپھو پہ لطیفے بنانے کی نوبت نہ آئے
    بلکہ بچوں کے پاس ہر مشکل میں صدقے واری جانے والی پھوپھو میسر آ سکتی ہے .
    مائیں جس طرح خالہ اور ماموں اور نانا نانی سی بچوں کی محبت اور قربت بنانے کے لیے کوشش کرتی ہیں اس کا آدھا بھی ددھیالی رشتوں کو وقت دیں تو ہر گھر سے قہقہے اور خوشیاں جھلکیں.
    دوسری طرف ددھیالی رشتے جتنی محبت جتنا مان اپنی بیٹی پہ لٹاتے وہی بہو پہ بھی لٹائیں، جہاں بیٹی بی چاری لگتی وہیں بہو کو سوچیں تو بعید نہیں کہ گھر جنت بننے لگیں.
    مگر سو باتوں کی ایک بات ماں کا کردار
    ماں چاہے تو دونوں طرف توازن پیدا کر سکتی سازشیں یہ اتنے خوبصورت رشتوں کی تذلیل رک سکتی ہے

    اگر ماں چاہے تو بچوں کو فریق بنانے کی بجائے انکو رشتوں کا ادب احترام سکھائے .

    بچے جب فریق بنتے ہیں تو وہ باپ کو بھی دشمن سمجھنے لگتے ہیں.
    ماؤں سے التجا ہے. اپنے رشتوں سے لڑائیوں کو بچوں میں منتقل نہ کریں.انکو ان کی محبتوں سے محروم نہ کریں.
    سیدہ ام حبیبہ
    Hspurwa198@gmail.com
    @hsbuddy18