Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • تحریر : حلیمہ اعجاز ملک  وقت کی قدر کیجئے

    تحریر : حلیمہ اعجاز ملک وقت کی قدر کیجئے

    وقت کی قدر کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ ہر کوئی اس کی اہمیت کو جانتا ہے

    جو شخص اپنی زندگی کے انمول لمحات کو بے مقصد کاموں میں برباد کرتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اللّٰه نے دنیا میں کوئی بھی حقیر سی شے خواہ وہ پتھر ہی کیوں نہ ہو بے مقصد پیدا نہیں کیا تو انسان کو بھی بے مقصد پیدا کیا ہوگا

    وقت کی برباد کرنا چھوڑ کر اپنا مقصد جانیے اور اس کو مکمل کرنے کے لیے کوشش کریں

    جو لوگ دنیا میں اپنے وقت کی قدر کرتے ہیں اور منزلِ حقیقی تک پہنچنے کے لیے وافر مقدار میں زادِ راہ اکٹھا کر لیتے ہیں تو اس جہانِ فانی سے کوچ کرتے وقت انہیں کوئی افسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ تو بخوشی آگے بڑھ کر موت کو بھی اس لیے گلے سے لگاتے ہیں کہ فانی لذتوں سے جان چھڑا کر ابدی نعمتوں کے سائے میں جلد از جلد جا پہنچیں

    لہٰذا آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے ہوں یہ بات بخوبی جان لیں کہ جس مقصد کے تحت آپ نے یہ شعبہ اختیار کیا ہے وہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جب آپ اپنے اوقاتِ کار کا درست استعمال کرتے ہوئے بھرپور محنت اور لگن کے ساتھ کوشاں رہیں گے

    اس لیے کہ جو اپنے مقصد کو جس قدر زیادہ اہمیت دے گا اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرے گا اس کے کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ روشن ہوں گے اور جو اس کے برعکس اپنے اوقات کو فضولیات میں برباد کرے گا ناکامی اور نامرادی اس کا مقدر ٹھہرے گی

    Twitter Account Link

    @H___Malik

  • ہمارے نوجوانوں کا مغربی طرز معاشرت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان  تحریر ۔مدثر حسین ادلکہ

    ہمارے نوجوانوں کا مغربی طرز معاشرت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان تحریر ۔مدثر حسین ادلکہ

    جہاں ہماری روزمرہ زندگی کے استعمال کی بہت سی چیزوں میں جدت آئی ہے، وہاں ہمارے رویوں اور رہن سہن کے طریقوں میں بھی کافی بدلاؤ آ چکا ہے. ہمارے ہاں اب مغربی تہواروں کو بھی خاص اہمیت دی جانے لگی ہے. اور انہیں مغربی طور طریقوں سے منانے کا عمل ہمارے ہاں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے. ہمارے زیر استعمال چیزوں میں ایک طویل فہرست ان مصنوعات کی ہے جو مغربی دنیا کی پیداوار ہیں. ہماری تفریح سے جڑی بہت سی چیزیں مغربی پیداوار کا حصہ ہیں جن میں مغربی فلمیں اور ڈرامے قابل زکر ہیں.
    ہمارے میڈیا پہ چلائے جانے والی مغربی مصنوعات کے اشتہارات عوام الناس کو ان کو استعمال کرنے کی جانب مبذول کر رہے ہیں.
    اپنے قومی، ثقافتی تشخص کی جس قدر پامالی آج کے دور میں دیکھی جا رہی ہے ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی.
    مغربی معاشرے کے اپنائے جانے کا یہ رجحان ہماری نسل میں اپنے آبائی کلچر سے محرومی کا باعث تو بن ہی رہا ہے ساتھ ساتھ یہ مغربی نظام معاشرت کی خصلتوں کو بھی ہماری نسل میں پروان چڑھا رہا ہے. نوجوانوں کے رہن سہن کے طریقوں میں معربی فلموں میں دکھائے گئے ہیرو جیسے اوصاف دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے بیشتر اسلام کے اصولوں کے منافی ہیں.
    کھانے پینے سے لیکر اوڑھنے بچھونے تک اپنی مصنوعات کو ترک کیا جانے لگا ہے اور انکی جگہ ہمارے میڈیا پہ دکھائے جانے والی مغربی مصنوعات کو فوقیت دی جا رہی ہے. جس سے معاشی طور پہ نقصان کے ساتھ ساتھ خالص حلال کھانوں کے میسر ہونے کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے.
    اس وقت ملک میں کرونا وبا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں ملک کے بیشتر نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں آن لائن درس و تدریس کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں. انٹرنیٹ کی دستیابی اور والدین کی عدم دلچسپی کے باعث طلباء فارغ اوقات میں بھی انٹرنیٹ سے جڑے رہتے ہیں اور اس وقت انٹرنیٹ پہ موجود زیادہ تر ویب سائٹ کا تعلق معربی دنیا سے ہے جس پہ ان کی دلچسپی کے اشتہارات چلتے دکھائی دیتے ہیں ہماری نوجوان نسل ان اشتہارات کے باعث ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کی وجہ سے تشویش ناک حد تک عادی ہوتی جا رہی ہے.
    خواتین میں مغربی طرز کا لباس پہننے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے. اکثر دفعہ قابل اعتراض اور اسلام کے اصولوں کے برعکس لباس زیب تن کئے کئ ڈرامہ ایکٹرز کو ٹی وی کی سکرین پہ دیکھا جا سکتا ہے. ہمارے فلمی اداکاراؤں کا یہ رویہ ہماری نسل کو انتہائی سنگین نتائج کی طرف دھکیل رہا ہے. ملک کے چند بڑے شہروں میں انہی لباس میں ملبوس خواتین کو دیکھا جا رہا ہے جیسے لباس کو اشتہارات میں ایکٹرز کو پہنایا جاتا ہے.
    جہاں نوجوان نسل جنسی دلچسپی کی چیزوں کے باعث گمراہی کا شکار ہو رہی ہے وہاں بچوں کے دیکھنے کے پروگراموں میں بھی بچوں کو شرمناک حد تک مختصر لباس پہنا کر مختلف سرگرمیاں کرتے دکھایا جا رہا ہے.
    ہمیں اپنی نوجوان نسل اور اپنی ثقافتی اقدار کو بچانے کے لئے فوری طور پہ اقدامات کرنے ہوں گے. پاکستان اسلام کے نام پہ معرض وجود میں آیا لیکن یہاں اسلام مکمل طور پہ کبھی رائج نہیں ہو سکا. ہمیں اپنی مصنوعات سے لیکر میڈیا پہ دکھائے جانے والے پروگراموں تک اصلاحات کرنا ہوں گی تا کہ ہمارا قومی تشخص قائم رہ سکے. جس قوم کے ہاتھ سے اس کا نظریہ چھن جائے وہ قوم بہت جلد تباہی و بربادی کا شکار ہو جاتی ہے.
    ہمیں اپنی مصنوعات کا معیار بہتر بنا کر انکے استعمال کے فروغ کے لئے میڈیا اور علاقائی سطح پہ کوششیں کرنا ہوں گی تا کہ ملک کو معاشی طور پہ مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عوام میں اپنے ملک کی ترقی کا احساس اجاگر کیا جا سکے.
    اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

    @MudassirAdlaka

  • تحریر : ولید عاشق  قربانی اور اس کی فضیلت

    تحریر : ولید عاشق قربانی اور اس کی فضیلت

    حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    جس نے قربانی کی ہوگی جب وہ قبر سے نکلے گا تو اپنی قربانی کو قبر کے سرہانے کھڑا پائے گا۔
    اوراس کے بال سونے کے تاروں کے ہوں گے،آنکھ یاقوت کی اور دونوں سینگیں سونے کی ہوں گی۔
    وہ اس سے پوچھے گا میں نے تجھ سے بہتر تو کوئی شے نہیں دیکھی۔
    قربانی کہے گی میں تیری قربانی ہوں جو دنیا میں تونے کی تھی۔میری پشت پر سوار ہوجا۔وہ سوار ہوجائے گا
    اور اس کی قربانی زمین وآسمان کے درمیان عرش کے سایہ تک اسے لے کر چلی جائے گی۔

    ہمہارے پیارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے بھی امت مسلمہ کے لیے قربانی ایک بہت بری فضیلت قرار دی ،
    حضرت ابن عباس ہمہارے پیارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے چچا زاد تھے،وہ کہتے ہے ہمہارے پیارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے فرمایا فاطمہ اپنی قربانی کے قریب آجاؤ اور گواہ بن جاؤ ،اور فرمایا کے اس کے خون کا قطرہ بعد میں زمین پے گرتا ہے اور اللہ‎ پاک قربانی کرنے والے کے گناہ پہلے معاف کر دیتا ہے، حضرت فاطؓمہ پوچھتی ہے کے یا رسول اللہ‎ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم یہ صرف اہل بیت کے لیے ہے یا سارے مسلمانوں کے لیے ہے،نبی پاک صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے فرمایا نہیں فاطمہ یہ ساری امت مسلمہ کے لیے فضیلت ہے،اور فرمایا سن لو قربانی اپنے صاحب کو نجات دلانے والی ہے،یعنی قربانی کرنے والے کو دنیا اور آخرت کے شر سے نجات ہوگی۔مزید فرمایا کہ اپنی قربانیوں کی تعظیم کیا کرو کہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔قربانی خالص اللہ‎ پاک کی رضا کے لیے ہونی چاہیے اس میں تکلوفات نہ پیدا کرے ،کوشیش کرے قربانی کا سارے کا سارا گوشت غریبوں اور مستحق لوگوں میں تقسیم ہوجاۓ،
    اللہ رب العزت اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں ہمیں سنت ابراہیمی پر خلوص نیت سے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ریا کاری و نمائش سے پاک بہترین انداز میں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • انا پرستی،معاشرے کا ناسور  تحریر حمزہ احمد صدیقی

    انا پرستی،معاشرے کا ناسور تحریر حمزہ احمد صدیقی

    "اَنا پرستی” ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے۔ اَنا پرستی ہی کی وجہ سے انسان منافق، جھوٹا اور غیر شفاف ہے۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو اس عفریت نے ہر دوسرے شخص کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔

    اَنا اُس زہر كی مانند ہے، جو انسان كو تباہ وبرباد كر دیتا ہے، جب تک انسان میں اَنا نہیں ہوتی وه سكون سے رہتا ہے، لیكن جیسے ہی اس میں اَنا آجاتی ہے، اس كا سكون محال ہو جاتا ہے، اَنا پرست لوگ اپنی "میں” میں مبتلا آگے بڑھتے ہوئے نہ جانے کتنے دلوں كو اپنے تلخ جملوں سے زخمی كر چكے ہوتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس اَنا پستی کے مرض کا کمینگی کی حد تک اسیر ہو چکا ہے، یہاں دو گز زمیں پر قتل ،گاڑی سٹینڈ کی پرچی پر قتل اور متعد واقعات پر جان کا خاتمہ۔ ہم نے اپنی اقدار اور اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ہمیں اس کا ادراک تک نہیں جو کہ زیادہ ہولناک ہے۔

    لفظ” مَیں” اور” اَنا "ہر شخص میں رچ بس چکا ہے ۔چاہے وہ چھوٹا ہے ،بڑا ہے، بوڑھا ہے، غریب ہے ،امیر ہے ،سیاستدان ہے، حکمران ہے ،مذہبی اسکالر ہے ،صحافی ہے، پولیس آفیسر ہے ،مالک ہے یا ملازمکوئی شرط نہیں۔سب ” میں ” اور "اَنا” کے مرض میں مبتلا ہیں۔

    ہم سب نے ایک زعم پال رکھا ہے کہ کرہ ارض پر مجھ سے بہتر عقل و دانش کا پیکر کوئی دوسرا نہیں۔ ہم دوسروں کو خود سے کم تر اور حقیر جانتے ہیں اور ہم خود کو علم و فضل اور لیاقت کا ہمالیہ سمجھ بیٹھے ہیں اور ہمارے نزدیک دوسروں کی اہمیت محض اجڈ، گنوار، کوڑھ مغز اور زمیں پر رینگنے والے حشرات کے برابر ہے۔ اَنا پرستی کے زیر سایہ ہم اس قدر تعصب پسند اور تنگ نظر ہو چکے ہیں، کہ ہمیں اپنی ذات کے سوا دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا-

    معاشرے کو اَناٶں کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنی اَنا کی وجہ سے پھنے خاں بنا پھرتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے، جس دن انسان اپنی اَنا پرستی کو شکست دے گا، اس کے اندر اور باہر کی دنیا میں تازگی اور کشادگی نازل ہو جائے گی۔ رسوم، رواج اور دستور کچھ نہیں، یہ انسانوں کی اَناؤں کی مدد کرتے ہیں اور انسان کو اپنا قیدی بناتے ہیں۔

    قارئين اکرام! ہم عہد کرتے ہیں اس عید پہ اپنی” اَنا” کو ذبح کردوں، جو بات بات پر میں میں کرتی ہے۔ہمارا
    معاشرہ میں” اَنا” و” میں” کی بھینٹ سینکڑوں لوگ چڑھ رہے ہیں۔یہ انا عید پر ہی نہیں زندگی کے ہر معاملے میں اکڑ جاتی اور معاشرے میں ناہمواری اور عدم استحکام پیدا کرتی ہے اس لیے اس عید پر اس” اَنا” کو قربان کر دیاجائے تو معاشرہ بربادہونے سے بچ سکتا ہے ۔”اَنا” کو شکست دو اور سچ کو پالو یہی حقیقت ہے اور زندگی کی حقیقی دلکشی ہے۔۔!!

    اللہ پاکﷻ ہمیں ہدایت دے- آمین یارب العالمین!!

    @HamxaSiddiqi

  • ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    دُنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے ویسے ہی جدید ایجادات انسانی زندگی میں آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ ان جدید ایجادات میں ایک ویڈیو شیئرنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں ویڈیو اسسٹڈ کانفرنس، ویڈیو اسسٹڈ میٹنگز، ویڈیو اسسٹڈ تعلیم اور حتیٰ کہ ویڈیو اسسٹڈ سرجريز بھی ہو رہی ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بہت کچھ بدل دے گی۔ دور دراز علاقوں میں تعلیم، علاج اور کاروبار آسان ہو جائے گا۔

    لیکن ہمارا پیارا پاکستان اِس ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی سب سے آگے ہے۔ آج یہاں ہر چیز ویڈیو اسسٹڈ ہو چکی ہے۔ ہمارا معاشرہ اور تمام ادارے ویڈیو اسسٹنس کے عادی ہو چُکے ہیں۔ جب تک کسی جُرم، ظُلم یا زیادتی کی ویڈیو وائرل نہیں ہوتی مُجرم کے خلاف کوئی ریاستی ادارہ حرکت میں نہیں آتا۔

    گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مدرسے کا ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ قبیح نکلا۔ متاثرہ لڑکا ایک عرصے سے اپنے استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بن رہا تھا، لیکن جب اُس نے شکایت کرنے کی کوشش کی تو نہ ہی مدرسہ انتظامیہ نے اور نہ ہی پولیس نے کوئی ایکشن لیا۔ استاد کی گرفتاری کے لیے مجبوراً لڑکے کو ایک ویڈیو بنا کر وائرل کروانی پڑی، پھر جا کر ہمارے ادارے حرکت میں آئے۔

    ہمارے معاشرے میں پنپنے والی چھوٹی بڑی برائیوں کو اُس وقت تک بُرا نہیں سمجھا جاتا جب تک اس برائی کی ویڈیو فیس بک یا ٹویٹر کی زینت نہیں بنتی۔ کچھ عرصہ قبل ایک یونیورسٹی میں ایک لڑکے نے ایک ساتھی لڑکی کو پرپوز کیا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن پروپوزل قبول ہونے کے بعد دونوں نے سرِ عام نازیبا حرکات کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی اور جب بہت سارے مہذب شہریوں نے اس واقعے کی تنقید کی تو پھر جا کر یونیورسٹی نے ایکشن لیا۔

    ایک اور واقعہ جو کہ کچھ روز قبل ہی وقوع ہوا تھا، ایک موٹر سائیکل سوار لڑکے نے راہ چلتی لڑکی سے پرس چھینا اور دھکا دے کر گرا دیا۔ اس واقعے کی بھی ویڈیو وائرل ہوئی، ہمارے ادارے حرکت میں آئے اور ایک ہی روز میں ملزم گرفتار ہو گیا۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ملزم کافی عرصے سے یہ کام کر رہا ہے لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا۔ اگر اس واقعہ کی ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو نا جانے کتنے اور جرم ہوتے۔

    حال ہی میں ایک ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آیا۔ با اثر افراد نے ایک جوڑے (کپل) کو مارنے پینے کے ساتھ نہ صرف لڑکی کو برہنہ کیا بلکہ ان سے زبردستی نازیبا حرکات کروائی گئیں۔ اسکے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس سب کی ویڈیو بنائی گئی۔ یہ واقعہ تقریباً 8 ماہ قبل پیش آیا تھا، اتنے عرصے میں مُجرم کھلے عام گھومتے رہے اور پولیس کو اُنہیں گرفتار کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ شاید اسی لیے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی نے پولیس رپورٹ نہیں کی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں انصاف نہیں ملے گا۔ ان کی بھی داد رسی ہوئی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد۔ ویڈیو وائرل ہونے کے کچھ ہی دنوں میں نہ صرف سب مُجرم گرفتار ہو گئے بلکہ ان کے پاس سے ایسی کئی دوسری ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔

    اگر اس جوڑے کو انصاف کی تھوڑی سی بھی امید ہوتی تو شاید وہ بہت پہلے پولیس کے پاس چلے جاتے۔ لیکن انصاف ملا بھی تو رُسوا ہونے کے بعد۔ بلکہ ابھی انصاف کہاں ملا ہے۔ کچھ دن بعد ہم یہ قصہ بھول بھال کر ایک نئی ویڈیو وائرل کریں گے جیسے ہم سیالکوٹ موٹروے والے واقعے کو بھول چکے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، ظلم ہوتا رہے گا، ویڈیوز بنتی رہیں گے، ہم واویلہ کرتے رہیں گے اور کچھ دن بعد ایک نئی ویڈیو وائرل ہوتے ہی پچھلے واقعات بھولتے جائیں گے۔

  • تحریر ماریہ بلوچ  عنوان: ناشکرے ہم

    تحریر ماریہ بلوچ عنوان: ناشکرے ہم

    بحثیت انسان مسلمان قوم و امت ہم ناشکرے لوگ ہیں ۔ ہم میسر نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور الٹا جو ہمیں حکمت الہی سے دیا نہیں گیا اسکی طرف دھیان لگائے رکھتے ہیں جب ہم بھوکے ہوتے ہیں ہم خواہش کرتے ہیں بس کہیں سے کچھ بھی کھانے کو مل جائے اور کھانے کے بعد شکر ادا نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کاش ہمیں کچھ اچھا کھانے کو مل جاتا۔ اور یہی حال ہم تمام نعمتوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔
    مجھے ذاتی طور پر اسکی صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ ہم اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتے ہمیں لگتا ہے جو ہمیں دیا گیا ہے ہم اس سے بہتر کے حقدار تھے۔ نادانستہ ہم اللہ کی حکمت کے منکر ہو رہے ہوتے ہیں۔ قرآن کی ایک مختصر سی آیت میں اللہ نے بہت جامعیت سے بتایا کہ
    "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دونگا اور اگر تم نے کفر کرو گے تو عذاب شدید ہے”
    مطلب اگر شکر نہیں تو پھر وہاں کفر ہے ۔۔ کفر کس چیز کا؟؟ کفر اللہ کی نعمتوں کس انکار ہے جو اس نے دی ہیں اور پھر ایسے کفر پر عذاب بھی شدیدکہا۔۔
    بہت حیرت کی بات ہے ہمارے معاشرے میں انفرادی و اجتماعی کفر اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب ہمیں اسکا ادراک بھی نہیں ہوتا۔
    کل 100 روپیہ کمانے والا آج 1000 کما رہا ہے اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد لگثریز کا عادی ہو رہا ہے اور زبان پر ایک ہی کلمہ ہے کیا کریں اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے۔ اگر ہم قوم ہیں تو بھی ہمارا یہی حال ہے ہم اپنے ملک میں آذادی سے رہتے ہیں ہمارے جان مال و عزت کو وہ تحفظ اجتماعی طور پر حاصل ہے جس کے لیے ہم نے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر کے یہ ملک حاصل کیا تھا لیکن اب ہم اس پر بھی شاکر نہیں ہمیں ہمارے ہی ملک میں نقائص نظر آتے ہیں ہماری نظریں یورپ کے بظاہر ترقی یافتہ مگر اخلاقی اقدار میں پست ممالک پر ہیں۔اور ہم ان جیسا ہونا چاہتے ہیں ۔
    ہمیں اپنا ملک اپنا نظام دیا گیا مگر ہم اسکو نہیں اپنانا چاہتے ناشکرے پن ہی میں ہم اللہ کے نظام کو ناکافی سمجھتے ہیں ہمیں اس میں نقائص نظر آتے ہیں۔۔
    اب بھی وقت ہے ہمارے لیے شکر کو اپنانے کا اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں یہی ہمارے لیے راہ نجات و وسیلہ کامیابی ہے

    Twitter handle: @ShezM__

  • تحریر: تصوّر جٹ  ‏جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث

    تحریر: تصوّر جٹ ‏جدیدیت اسلام سے دوری کا باعث

    بے حیائی کیا ہے؟ گناہوں پر شرم نہ محسوس کرنا بلکہ ان کا کھلے عام اعتراف کرنا،  بے حیائی ہے۔

    ہمارا معاشرہ بے حیائی کے اس راستے پر چل پڑا ہے جہاں عروج نہیں بلکہ زوال ہے۔

    جدید دور کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور مسلمان اس گمراہی کو خوشی سے قبول کر رھے ھیں۔

    اگر آج کے دورِ جدید میں دیکھا جائے تو مختلف ایپس نے پوری دنیا میں فحاشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جن کی مقبولیت ایسے شیطانی ذرائع ہیں جن کی وجہ سے بے حیائی مسلمانوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ جس کی زد میں آ کر مسلمان اپنی اسلامی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    مسلمان عورتوں میں پردہ اور مردوں میں حیا کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے کسی بھی معاشرے کو زوال کا شکار ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔

    ایسے لوگ جو مسلمانوں کو دین اسلام سے دور اور ان میں بے حیائی و فحاشی کو پھیلاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ

    “جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔”
    مسلمان سمجھ رھے ھیں کہ ھم جدید دور کی طرف جا رہے ھیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ وہ اسلام سے کتنا دُور ہو گئے ہیں

    کبھی کبھی میرے ذہین میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار جانوں کے نذرانہ پیش کیے تھے۔

    ہم آج پاکستان کو بنانے کا مقصد بُھول گئے ہیں اور دین اسلام سے اتنا دُور چلے گئے ہیں یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

    ہمیں اپنے مقصد کی طرف واپس آنا ہو گا اور اللہ اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرنی ہو گی۔

    اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین۔

    @T_jutt17

  • معاشرے میں تربیت کا کردار   تحریر : اعزاز شوکت

    معاشرے میں تربیت کا کردار تحریر : اعزاز شوکت

    کوئی معاشرہ بننے میں سب سے اہم کردار تربیت کا ہوتا ہے۔اور معاشرہ اسی کی بناء پر چلتا ہے۔
    جب ایک فرد کا جنم ہوتا ہے تو وہ پہلے جانداروں کی رو میں گنا جاتا ہے ۔پھر وہ حیوانوں اور جانوروں میں گنا جاتا ہے پھر وہ ایک چیز یعنی تربیت جس سے وہ ایک انسان بنتا ہے ۔یہ اُسکی تربیت پر ہوتا ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بنے گا يا برا اور اُسکی تربیت میں معاشرے میں اچھے کام کے لیے استعمال ہو گی یا بری۔

    دوسرے جاندار بھی بالکل انسانوں کی طرح رہتے, کھاتے, سوتے اور نسل بڑھاتے ہیں۔ لیکن انسان کی عقل, تعلیم تربیت ,شعور انکو ان سے علحیدہ کرتا ہے. اسلیے اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔

    انسان کے پیدا ہونے سے شروع ہونے والی ماں کی دی گئی تربیت تا عمر انسان کے کردار کو متاثر کرتی ہے. انسان کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے جہاں سے اسکی تعلیم و تربیت شروع ہوتی ہے۔وہاں سے حاصل کی گئی تربیت آگے معاشرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔

    معاشرہ خاندانی نظام سے بنتا ہے اور خاندان ایک ایک فرد سے ملکر بنتا ہے. یعنی ایک ایک انسان کو ملا کر پورا معاشرہ تیار ہوتا ہے.اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپکو مہذب معاشرہ چاہیے تو اس کے لیے آپکو مہذب انسانوں کی ضرورت ہے. اور مہذب انسان بننے کے لیے اچھی تربیت ہونا بہت لازم ہے.
    ابتدا میں ماں معاشرے کے بنیادی جز یعنی ایک انسان کی تربیت شروع کر کے معاشرے کی تشکیل شروع کرتی ہے. اب یہ تربیت جتنی زیادہ اچھی ہو گی وہ انسان آپکو بہترین خوش اخلاق معاشرہ دے گا. لیکن اگر کچھ خامی ۔رہ گئی تو معاشرہ کی بربادی کا سبب بنے گی
    تربیت معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا کام کرتی ہے۔کسی بھی قوم کی پہچان اسکی تعلیم, تربیت اور اخلاق سے ہوتی ہیں۔
    ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ صرف تعلیم سے ہی انسان کو باشعور باکردار نہیں بنا سکتی بلکہ ساتھ ساتھ تربیت بھی لازم و ملزوم ہے. اگر تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہوگی تو کبھی کوئی معاشرہ عظیم ترین نہیں بن سکتا
    آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ کتنی اعلی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں، ڈگریوں کی قطار لگا دیتے ہیں، پھر اعلی عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں، مگر پھر وہ اخلاق طور پر پست ہوتے ہیں، مہذب نہیں ہوتے۔اتنا پڑھ لکھ کر بھی بد عنوانی بے ایمانی لوٹ مار کرتے ہیں،اور ایسے وہ معاشرے کی تباہی کا سبب بنتے ہیں. اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کتنی ضروری ہے

    انسان نہ تو پیدائشی شریف ہوتا ہے اور نہ ہی پیدائشی مجرم ،بلکہ یہ اس کی تربیت پر منحصر ہوتا ہے.۔اگر اس کے آس پاس اچھے اخلاق والے لوگ ہیں تو انکی تربیت بھی اچھی ہو گی اور وہ فطری طور پر باشعور بنے گا. اس کے برعکس اگر وہ اچھی تربیت سے عاری معاشرے میں رہے گا تو بلاشبہ وہ بد اخلاق اور برا ہوگا اور معاشرے پر منفی اثر چھوڑے گا

    نچوڑ یہ ہے کہ بہترین معاشرے کے لیے اچھی تربیت ایسے لازم ہے جیسے زندہ رہنے کے لیے سانس ,خوراک اور پانی
    تربیت کا ہمارے معاشرے پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے کہ اگر اچھی تربیت ہو گی تو معاشرے میں امن و سکون ہو گا۔اور اگر بری تربیت ہو گی تو اِس سے نہ صرف اُسکے خاندان والے بلکہ پورا معاشرہ اثر انداز ہو گا۔ہر کوئی ڈر ڈر کر زندگی گزارے گا کیونکہ ایسے لوگ برے کاموں میں ملوث ہو کر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
    اگر تربیت اچھی ہو گی تو معاشرہ بھی اچھا ہو گا۔
    لیکن اگر تربیت بری ہو گی تو معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جاۓ گا

    @Zee_PMIK

  • انسان کی میں نہیں ختم ہوتی . تحریر : احسن علی بٹ

    انسان کی میں نہیں ختم ہوتی . تحریر : احسن علی بٹ

    آج کے دور میں ہر کوئی کامیاب ہونے کیلئے آگے بڑھنے کیلئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کیلئے کوشاں ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے اگر انسان میں "میں” ختم ہوجائے تو کامیابی انسان کے قدم چومے گی لیکن یہاں سب اس کے برعکس ہے یہاں ہر کوئی صرف اپنے ہی گن گاتا ہے کہ میں ہی میں ہوں میرے سے بڑا کوئی دانش وار نہیں، انسان کو دوسروں کی محنت سے سیکھنا چاہیے نہ کہ اس سے حسد اور بعض کرنا چاہیے.

    ہمیں چاہیے ہماری جو بھی منزل ہو ہم اسکو حاصل کرنے کیلئے دل و لگن سے کام کریں اور اسکے لیے ہمیں اپنے اپ کی "میں” کو مارنا چاہیے کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہر انسان میں کوئی نہ کوئی غلطی کوتاہی ہوتی ہے اسلیے ہمیں دوسروں سے سیکھنا چاہیے اور سیکھ کر اس پر عمل کرنا چاہیے بہترین انسان وه ہی ہے جس نے سیکھا اور سیکھایا.

    ایک اور بہت اہم چیز دن بہ دن ہمارے میں برداشت اور بردباری کم ہوتی جارہی ہے انسان کو ہمشہ درگزری سے کام لینا چاہیے اور اپنی منزل کی طرف گامزن رہنا چاہیے آئیں آج اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ اپنی اندر کی میں کو ختم کر کہ دوسروں کے کام آئیں گے اور جہاں کسی ضرورت مند کو ہماری ضرورت درپیش ہوگی ہم حاضر ہونگے.

    @AhsanAliButtPTI

  • گھریلو تشدد بل کے پاکستانی معاشرے پراثرات . تحریر: عمران خان رند بلوچ

    گھریلو تشدد بل کے پاکستانی معاشرے پراثرات . تحریر: عمران خان رند بلوچ

    میرے معزز قارئین، پاکستان کا قیام دراصل ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر عمل میں آیا۔ ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح نے اپنی زندگی اس مشن کےلیے وقف کردی کہ مسلمانوں کے لیے اک الگ اسلامی فلاحی ریاست قائم ہو جس میں وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ پاکستانی معاشرے میں گھریلو تشدد بھی ایک حقیقت ہے جسے پس پردہ نہیں ڈالا جاسکتا، اس تشدد کے نتیجے میں کئی گھر ویراں ہوجاتے ہیں،تیزاب گردی کا نشانہ بنی خواتین اپنی باقی ماندہ زندگی میں اصلی صورت کو گنوا دیتی ہیں۔

    لیکن ان واقعات کی روک تھام کےلیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے۔
    پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے۔ قارئین کرام ہمارے حکمران اک طرف تو ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی باتیں کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ حکومت مغرب کی تقلید کرتی نظر آرہی ہے۔

    اسکی واضح مثال گھریلو تشدد بل کی منظوری ہے۔
    میرے معزز قارئین گھریلو تشدد بل اپریل میں محترمہ شیریں مزاری وزیر برائے انسانی حقوق نے مختلف عالمی تنظیموں کی ایماء پر اس بل کو تشکیل دیا۔اور قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل سینٹ کو بھجوایا گیا۔ ایوانِ بالا نے اس بل میں چند ترامیم کے بعد منظور کر کے واپس قومی اسمبلی کو بھجوا دیا گیا۔

    اس بل کی منظوری کے بعد سے معاشرے کے مختلف طبقات خصوصاً مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔
    اس بل میں ہر قسم کے گھریلو تشدد کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز دی گئی۔ بل میں کہا گیا کہ گھریلو تشدد کا مرتکب پائے گئے شخص کو زیادہ سے زیادہ تین سال اور کم سے کم چھ ماہ قید کی سزا ہوگی مزید مجرم کو بیس ہزارسے ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا ۔

    قارئین اس بل کی شق تین میں بیوی کو دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی یا بانجھ پن کا طعنہ دینا یا خاتون کے کردار پر شک کرنا یا بیٹے یا بیٹی کی مرضی کو ٹھکرانے یا کسی کو مارنا ، ہراسانی کرنے وغیرہ کو زیادتی قرار دیا گیا ہے۔
    مزید یہ کہ عدالت میں درخواست دائر ہونے کے سات روز کے اندر کیس کی سماعت ہوگی اور نو روز میں فیصلہ سنایا جائے گا۔
    جب اس بل کی مخالفت میں ملک میں احتجاج ہونا شروع ہوئے تو حکومت نے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے کا اعلان کیا۔
    جب اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا تو سوشل میڈیا پر چند NGO’s کی جانب سے حکومت مخالف ٹرینڈز بننا شروع ہوگئے۔
    فیمینزم اور سیکولر طبقے کی جانب سے اس اقدام کو مذہبی دباؤ کی وجہ قرار دیا گیا۔
    فیمینزم ماہر قانون اوروباستاراحمد نے ٹویٹ میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ساخت ہی غیر قانونی ہے جس میں کوئی خاتون شامل نہیں وہ کیسے خواتین کے حقوق کا دفاع کرے گی۔

    جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بل کے متن میں شامل زیادتی کی ان وضاحتوں پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ہمارے خاندانی نظام کےلیے ٹائم بم ہے جو ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کردے گا۔سینیٹر مشتاق احمد خان ان چند سینیٹرز میں شامل ہے جنہوں نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پی پی پی اور تحریک انصاف نے س بل کی حمایت میں رائے کا استعمال کیا۔

    سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات فہم سے بالا ہیں انہوں نے بل کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اک طرف تو حکومت ریاست مدینہ کے نعرے لگاتی ہے دوسری طرف مغرب کی پیروی کرتے تھکتی نہیں۔

    علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس بل کے لاگو ہونے سے مغربی بے ہودہ کلچر کو فروغ ملے گا جو کہ اسلامی معاشرے اور خاندانی روایات کے صراصر خلاف ہے۔

    معروف عالم دین مفتی طارق مسعود نے اس بل کی مخالفت میں کہا کہ ایسے قوانین ہماری آنے والی نسلوں کےلیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔
    میرے خیال میں حکومت کو چاہیے کہ جلد سے جلد اس بل کو واپس لے اور منسوخ کرنے کا اعلان کرے۔
    حکومت کو ایسے قوانین بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے جن کی کوئی واضح ساخت نہ ہو تاکہ اسکا غلط استعمال کم ہو

    @ibaloch007